5
کولکتہ
کلکتّے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیٖر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
مرزا غالبؔ کے اس شعر سے کولکتہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔کولکتہ کو پہلے کلکتّہ کہا جاتا تھا۔ ہگلی ندی کے کنارے آباد، ہندوستان کا یہ سب سے بڑا شہر ہے۔ آج اسے ریاستِ مغربی بنگال کی راجدھانی کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ شہر 1912تک برٹش حکومت کا دار السّلطنت رہ چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کولکتہ کا قیام ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جوب چارناک کے زمانے میں عمل میں آیا۔ انھوں نے ہگلی میں موجود کارخانے کو ستا ناری گاؤں میں منتقل کرکے 1638میں مغلیہ حکومت سے گوند پور گاؤں خرید لیا تھا۔ کارخانے کی ترقی کے ساتھ آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اس طرح ایک بڑے شہر کولکتہ کی بنیاد پڑی۔
کولکتہ صرف مخصوص تہذیبی اور تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے ہی نہیں، بلکہ کئی وجہوں سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ انگریزوں کا بنایا ہوا قلعہ ’’فورٹ ولیم‘‘ آج فوجی چھاؤنی ہے۔ بہت پہلے اس عمارت میں ایک ایسے کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے مشرقی علوم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کولکتہ میں آج بھی انگریزوں کی یاد گاریں موجود ہیں۔ ان کا بنایا ہوا ’’ڈلہوزی اسکوائر‘‘ سیاحت کا اہم مرکز ہے۔ اس کے چاروں جانب کئی تاریخی عمارتیں ہیں۔ ’’رائٹرس بلڈنگ‘‘ جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے کلرکوں کی رہائش گاہ تھی آج مغربی بنگال حکومت کا سیکریٹریٹ ہے۔ ڈلہوزی اسکوائر کے مشرق میں کولکتہ کا تجارتی مرکز، جنوب میں راج بھون، عقب میں سبھا بھون، ہائی کورٹ اور مغرب میں جنرل پوسٹ آفس کی شاندار عمارتیں ہیں۔
سنگ مرمر سے بنی ہوئی وکٹوریہ میموریل کولکتہ کی سب سے خوب صورت عمارت ہے۔ اس عمارت میں ملکہ وکٹوریہ کی تصویر اور دیگر قیمتی اشیا کے ساتھ ساڑھے تین ہزار انوکھی تصویریں محفوظ ہیں۔ یہ تصویریں تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہیں۔1874میں بنائی گئی سینٹ پال کی گرجا گھر کی عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ کولکتہ کی قابل دید چیزوں میں وہ عظیم پُل بھی شامل ہے جسے ’’ہاؤڑا برج‘‘ کہا جاتا تھا لیکن اب اس کا نام روندر ناتھ ٹیگور کے نام پر ’’روندر سیتو‘‘ رکھا گیا ہے۔ بغیر ستون کے بنا ہوا یہ عظیم پل تکنیکی فن کا ایسا بے مثال نمونہ ہے جسے دیکھ کر سیّاح دنگ رہ جاتے ہیں۔ کولکتہ کا ماربل پیلیس فن تعمیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہاں برلا برادران کا بنوایا ہوا برلا تارا گھر (Planetarium) ہے جس کا شمار ایشیا کے سب سے بڑے تارا گھروں میں ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سیّاروں اور ستاروں سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
1875 میں اٹلی کی طرز پر بنا ہوا ’’انڈین میوزیم‘‘ ہندوستان کا سب سے بڑا عجائب گھر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف فنون سے متعلق بے شمار حیرت انگیز نمونے موجود ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا چڑیا گھر ’’زولو جیکل گارڈن‘‘ اور ’’اسٹیڈیم ’’ایڈن گارڈن‘‘ کولکتہ میں ہی واقع ہیں۔ چڑیا گھر 1876میں ویلس نے قائم کیا تھا جس میں موجود بے شمار چرند، پرند اور جانور سیاحوں کا دل جیت لیتے ہیں۔ یہاں کی نیشنل لائبریری مختلف زبانوں کی لاکھوں کتابوں سے آراستہ ہے۔ ’’سائنس سٹی‘‘ میں سیر وتفریح کے ساتھ ساتھ سائنسی معلومات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اکواٹکا (Aquatica) سیاحوں کی تفریح کا خاص مرکز ہے۔ بیلور مٹھ بین الاقوامی رام کرشن مشن کا مرکزی دفتر یہیں پر ہے جسے 1899 میں سوامی رام کرشن پرم ہنس کے شاگرد، سوامی وویکانند نے تعمیر کرایا تھا۔ اس عمارت کی خوبی یہ ہے کہ مختلف زاویوں سے دیکھنے پر کبھی چرچ، کبھی مسجد اور کبھی مندر دکھائی دیتی ہے۔
شہر سے باہر شیو پور میں مغربی بنگال حکومت کے ذریعے بنائے گئے وسیع ’’باٹا نیکل گارڈن‘‘ میں طبی اہمیت کے حامل چالیس ہزار سے زیادہ پیڑ پودے ہیں۔ یہ گارڈن سیاحوں کے ساتھ ساتھ تحقیقی کام کرنے والوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس باغ میں برگد کا ایسا درخت بھی ہے جو ایک ہزار فٹ کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔
نہرو میوزیم، سینٹرل ٹیلی گراف آفس، ہاؤڑا ریلوے اسٹیشن کا شمار بھی کولکتہ کی قابل دید عمارتوں میں ہوتا ہے۔ یہاں کے باغات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ٹیگور کے شانتی نکیتن کی وجہ سے بھی یہ شہر ساری دنیا میں مشہور ہے۔ شانتی نکیتن نے اب وشو بھارتی یونیورسٹی کی شکل اختیار کرلی ہے جس میں مختلف علوم وفنون کی تعلیم وتدریس کا معقول انتظام ہے۔ یہاں چلنے والی ٹرامیں اور میٹرو ٹرین جہاں سیاحوں کی دل چسپی کا خاص سامان ہیں، وہیں کولکتہ کے باشندوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کا آسان ذریعہ بھی ہیں۔
کالی گھاٹ روڈ پر واقع چورنگی یہاں کا بڑا اور مشہور بازار ہے۔ اس علاقے میں بنے ہوئے جدید سنیما گھر اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کی فلک بوس عمارات شہر کے حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔ چورنگی بازار سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہری گھاس کا میدان ہے جو کھلاڑیوں اور سیرتفریح کرنے والوں کے لیے مناسب ہے۔ اسی میدان کے ارد گرد بنے ہوئے ریس کورس، جادو گھر، رنجی اسٹیڈیم، روندر سدن، للت کلا اکادمی اور شہید مینار دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ چورنگی کے علاوہ نیو مارکیٹ، شری رام مارکیٹ،فینسی مارکیٹ ایسے مشہور بازار ہیں جہاں ضرورت کا ہر سامان مل جاتا ہے۔
ٹالی گنج میں جو اب ٹالی ووڈ کہلاتا ہے، بڑے بڑے اسٹوڈیوز ہیں جن میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی طرح فلموں کی شوٹنگ ہوتی ہے۔ چترنجن ایونیو، باربن روڈ، ڈلہوزی اسکوائر، پارک اسٹریٹ، دھرم تلا، اسٹرینڈ روڈ، فیرلی پلیس، اولڈ کورٹ روڈ، بینک، دفاتر،ایشیاٹک سوسائٹی اور تجارتی مراکز ہونے کے سبب ان علاقوں کو شہر کا اہم حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
کولکتہ ہندوستان میں جوٹ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ یہاں چمڑا، لوہا، کاغذ، تیل، جوتے چپّل اور پلاسٹک کے سامان کے بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ بڑے اشاعتی اداروں کے سبب بھی یہ اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ڈاب یعنی ناریل، کھجور اور چمڑے کا سامان یہاں کی مشہور اشیا ہیں۔ (ادارہ)
مشق
ہم نشیں : ساتھی، دوست
دارالسلطنت : راجدھانی
بین الاقوامی : مختلف قوموں کے درمیان،انٹرنیشنل
علوم : علم کی جمع
فنون : فن کی جمع، آرٹ
زاویہ : طریقہ،پہلو
قیام : قائم
منتقل : تبدیل کرنا
فروغ : ترقّی
سیاحت : سیر و تفریح
رہائش گاہ : رہنے کی جگہ، گھر
عقب : پیچھے
سیّاح : سیر و تفریح کرنے والا
طبّی : علاج معالجے سے متعلق
ستون : کھمبا
جدید : نیا
حسن کو دوبالا کرنا : حسن کو بڑھانا
مراکز : مرکز کی جمع
دفاتر : دفتر کی جمع
اشاعتی ادارہ : جہاں کتابیں چھاپی جاتی ہیں
حیرت انگیز : حیرت میں ڈالنے والا
عظیم : بڑا
آراستہ : سجا ہوا
قابلِ دید : دیکھنے کے لائق
فلک بوس : آسمان کو چومتی ہوئی، مراد بلند
اشیا : شے کی جمع، چیزیں
- سوالات:
1. شہر کولکتہ کا قیام کب اور کس طرح عمل میں آیا؟
2. کولکتہ کن باتوں کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہے؟
3. کولکتہ میں انگریزوں نے کون سی یاد گار عمارتیں بنوائیں؟
4. کولکتہ کی ایسی کون سی چیزیں ہیں جو آپ کو حیران کرتی ہیں؟
- زبان و قواعد:
• ’’کولکتہ ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔یہاں شان دار اور قابلِ دید عمارتیں ہیں۔’ہاوڑا برج‘،’روندر سیتو‘ عظیم پُل ہے۔فن تعمیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ چورنگی یہاں کا بڑا ا ور مشہور بازار ہے۔جدید سنیماگھر ہیں۔فلک بوس عمارتیں ہیں۔ہری گھاس کا میدان ہے۔‘‘
ان سبھی جملوں میں اسم کے ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی خوبی/خصوصیت کا ذکر ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ لفظ جس سے کسی اسم کی اچھائی ،برائی یا خصوصیت ظاہر ہو اسے صفت کہتے ہیں۔
ان جملوں میں ان الفاظ کی نشاندہی کیجیے جو صفت ہیں۔
• نیچے دیے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:
عمل، ریاست، سیر وتفریح، عجائب گھر، جدید، آراستہ
- غور کرنے کی بات:
’’انگریزوں کا بنا یا ہوا قلعہ فورٹ ولیم آج فوجی چھاؤ نی ہے۔بہت پہلے اس عمارت میں ایک ایسے کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے مشرقی علوم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
سبق میں شامل انگریزی لفظوں کی فہرست تیار کیجیے۔