6
عبدالاحد خاں تخلّص بھوپالی
(1918 — 1976)
عبدالاحد خاں تخلص بھوپالی، بھوپال کے ضلع رائے سین میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعدوہ رائل انڈین ملیٹری میں ملازم ہو گئے۔انھوں نے 1952کے آس پاس لکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک گیر شہرت حاصل کر لی۔1960 میں مزاحیہ اخبار’ بھوپال پنج‘ نکالنا شروع کیا جو تین سال تک مسلسل پابندی سے نکلتا رہا۔اس اخبار میں انھوں نے قسط وارکئی مضامین لکھے جو ان کے مجموعوں ’پوسٹ مارٹم رپورٹ‘ ،’شیطان جاگ اٹھا‘، ’غفور میاں‘ اور’ پاندان والی خالا ‘ میں شامل ہیں۔
تخلص بھوپالی نے اپنی تحریروں میں اپنے زمانے کے بھوپال کی تہذیبی اور سماجی زندگی اور سیاسی حالات کی بے اعتدالیوں کو طنزو مزاح کا موضوع بنایا ہے۔ تخلص کی تحریروں کی سب سے نمایاں خصوصیت بھوپالی اردو کا بے تکلّفانہ استعمال ہے۔ بھوپالی اردو جو مقامی لسانی اثرات اور وہاں بولے جانے والے محاوروں، روزمرہ، کہاوتوں کے استعمال اور منفرد انداز تلفظ کی وجہ سے معیاری اردو سے الگ ایک امتیازی حیثیت اختیار کر چکی تھی، تخلص بھوپالی نے اپنی تحریروں میں اس سے مزاح بھی پیدا کیا ہے اور اسے محفوظ بھی کر دیا ہے۔
خالا نے خط لکھوایا
صبح آٹھ بجے کا وقت ہے۔ خالا جانماز پر بیٹھی ہوئی تسبیح چلا رہی ہیں کہ ایک مرتبہ اپنے سینے پر سر کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھُما کر دم کیا اور اپنی بہو کو مخاطب کرکے زبان چلانا شروع کردی ’’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا،یہ بھی کوئی بات ہے چھتّیس دن خدا کے، کون کون سی بات بتاؤں؟ اللہ رکھے لکھی پڑھی ہو، علم دار ہو، مگر جب دیکھو مرغے کی ایک ٹانگ۔ میں کہوں بیوی اگر شکر میں کیڑے پڑگئے ہیں تو کیا گھر میں گڑ بھی روزی نہیں ہے؟ وہی گھول گھال کے لے آؤ۔ تسبیح چلاتے چلاتے صبح سے یہ وقت ہوگیا۔ کلیجہ بھی کھُرچنے لگا، اُنگلئیں بھی دُکھنے لگیں۔ دھوپ دیکھو تو صحن میں جا پہنچی مگر چائے کی ایک پیالی نہ آئی تو نہ آئی، توبہ ہے!‘‘
’’امّاں! بس لائی۔ گُڑ گرمی کرتا ہے اس وجہ سے گُڑ کی چائے نہیں بنائی۔‘‘ خالا کی بہو نے باورچی خانے میں بیٹھے بیٹھے اندیشہ ظاہر کیا۔
’’اے چلو بھی دُلہن! کدھر کی گرمی؟ چمڑا ہڈّی سے جالگا، جسم سوکھ کے چھوارا ہوگیا، ہر چیز میں یزید کی اولاد بھیل ملا رہے ہیں۔ آگ لگوں نے انسانوں کا جینا دشوار کردیا ہے۔‘‘
’’لیجیے امّاں گُڑ کی ہی بنا لائی۔‘‘ بہونے چائے کی پیالی سامنے رکھی۔
’’شکر ہے بائی۔ خدا خدا کرکے چائے تو نصیب ہوئی۔ اب ذرا پاؤں بڑھا کے روٹی کا ٹکڑا پارچہ اور لے آؤ تو اس دوزخ میں چائے اتارلوں، کورے کلیجے کیسے پی لوں؟‘‘
بہو تیزی سے باورچی خانے میں گئی اور ایک روٹی رکابی میں رکھ کر پیش کردی۔
’’چلو بس کام کرو اپنا۔ روٹی بھی باسی تواسی ہے۔ دنیا کی بہو بیٹیوں کا قاعدہ دیکھا کہ صُبح اُٹھ کر دو چار تازہ روٹئیں پکادیں مگر میرے گھر کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ اب سختی کرو تو دنیا مجھ بڈّھی خیلا کو نام رکھے گی کہ بہو کو دن رات چھیدے کھاتی ہے اور منھ بند کرلو تو منھ میں پانی ڈالنے والا کوئی نہیں۔‘‘
’’بیگم نسیم کو امّاں ابھی آپ خط لکھوائیں گی یا ناشتے سے فارغ ہولوں۔‘‘ بہو نے بریک لگایا۔
’’ہاں بائی سب کاموں سے فارغ ہولو۔ باورچی خانے کا پھیلاوا سمیٹو۔ ننّے بھی اب پلنگ چھوڑتا ہوگا۔ اُسے ناشتہ کرا دو، پھر آؤ، سب باتوں سے فراغت کر کے۔‘‘ خالا نے روٹی کا نوالہ بناتے ہوئے کہا۔ ’’یہ بیٹھے بٹھائے ایک کام سر پہ اور آگیا۔ خط کیا ہے شیطان کی آنت ہوگیا۔ خدائیوں میں ختم نہیں ہو پاتا۔ ایسے دوچار خط مہینے میں آجائیں تو گھر والے پاگل ہوکے سڑکوں پہ جانکلیں۔‘‘
’’امّاں پرسوں بھی ایک خط آیا تھا۔ بیگم نسیم کا۔‘‘ بہو نے مسکراتے ہوئے اور نیچا سرکیے کیے باورچی خانے سے ایک اور انجکشن مارا۔
’’توبہ ہے!‘‘ خالا نے چائے کا گھونٹ اتار کر کہا ’’گھر کا ہے کوہے ڈاک خانہ ہوگیا۔ روزانہ ایک ڈاک چلی آرہی ہے اور کیوں دلہن یہ شوکت بیوی کو اللہ جیتا رکھے اور بھی کچھ دنیا میں کام ہے یاروز اٹھائی اور ایک ڈاک بھیج دی۔ ابھی پہلا خط ہی کھایا پیانکالے لے رہا ہے کہ اب دوسرا آپہنچا۔ کیوں دلہن‘‘ خالا نے خالی پیالی سامنے رکھ کر کہا ’’تم تو بیٹی جیسے تیسے آج ختم کردو اور ذرا سمجھا کے لکھ دو کہ اللہ رکھے تین چار بچّے ہیں۔ ان کی دیکھ ریکھ زیادہ کرو۔ مجھ جھاڑو پھری کو روز تیس دن خدا کے ڈاک بھیجنے سے کیا فائدہ؟ آج کو ہمارے ماں باپ بھی لکھا پڑھا دیتے تو کاہے کو بیچاری کے خط وبال ہوجاتے۔‘‘
’’امّاں، سرکار نے اعلان کیا ہے کہ سب کو سونے کے زیورات کا حساب دینا پڑے گا۔‘‘ ننّے نے اپنے کمرے سے برآمد ہوکر خالا کو نیا موضوع دیا۔
’’ہاں رکھے ہیں زیور! جس کے پاس ہیں وہ تو حساب دیتے نہیں۔‘‘ خالا نے اپنی بہو کے سامنے بیٹھ کر کہا۔ ’’چل بائی یہ بھی لکھ دے اس بیچاری کو خبر دے دے۔ کب کیا معلوم اپنی سرکار کو زیوروں کی ضرورت پڑجائے۔‘‘
’’امّاں لکھ دیا کہ زیورات کا حساب رکھنا۔ قاعدے میں سب۔‘‘ بہو نے خالا کو اصل موضوع کی طرف گھیرا۔
’’ملک کو خطرہ ہے، چوکس رہو۔ پنڈت جی نے اعلان کیا ہے امّاں۔‘‘ننّے نے ہاتھ منہ دھوتے ہوئے خالا کو پھر مخاطب کیا۔
’’بس کر بیٹا ننّے! کہاں بیچ میں بول اٹھتا ہے۔ سب دماغ سے نکل جاتا ہے۔وہ اللہ بخشے ہماری دادی امّاں کہا کرتی تھیں، ہر دوسرے تیسرے دن انگریز بھی کہا کرتا تھا۔ بھاگو دوڑو روس والا آیا۔‘‘
’’امّاں ایسی بات انگریز کیوں کہتا تھا۔‘‘ بہونے دلچسپی لے کر پوچھا۔
’’اے بیوی۔ بس یوں کہ رعیّت اس کی طرف اپنے دماغ لگالے تو حاکموں کی جان کو آرام ملے۔ چل خیر بائی۔ کالامنہ نیلے ہاتھ پاؤں۔ انگریز کیا گیا، چلتے چلتے سب اپنے چالے بتا گیا۔ خدا اُسے محمدؐ کی شفاعت نصیب نہ کرے۔ ہاں لکھو بائی کہ تمھارے میاں کا سہاگ قائم رکھے اور انھیں تمھارے سر پہ رکھے۔‘‘
’’امّاں غلط ہوگیا۔ مردوں کا سہاگ کیا؟‘‘ بہو نے گرفت کی۔ ’’اے تو تم ہاتھ میں قلم دوات لیے بیٹھی ہو دلہن۔ میں کہیں غلطی کردوں تو تم سنبھال دو۔‘‘
’’لیجیے امّاں غلطی ٹھیک کردی۔ اللہ تمھارے میاں کو قائم رکھے۔‘‘
’’توبہ ہے دلہن۔ میاں کیا ہوا، کوئی گھر مکان ہوگیا قائم رہے۔ اللہ سر پہ زندہ رکھے، سیدھی بات لکھونا!‘‘
’’اللہ سر پہ زندہ رکھے۔ ‘‘ بہو نے دہرایا۔
’’اچھّا اب لکھو کہ وہ تم نے جو بارہ کتابیں اپنے میاں کی بھیجی تھیں میں نے رات بھر میں پڑھ ڈالیں۔‘‘
’’نہیں امّاں۔ بڑی موٹی کتابیں ہیں۔ ایک رات میں کیسے پڑھ لیں آپ نے؟‘‘
’’تو چلو کچھ کم کرکے لکھ دو ’چھے‘ کر دو بس قصّہ ختم ہوا۔‘‘
’’چھے بھی امّاں بہت ہوتی ہیں۔‘‘
’’توبہ ہے بیوی بال کی کھال نکالتی ہو۔ ایک کا لکھ دو کہ روز ایک کتاب میں اپنی قبر بنائی تھی۔‘‘
’’کیوں امّاں یہ لکھ دوں کہ اپنی بہو سے پڑھوا کے سُن لیں سب کتابیں؟‘‘
’’کیا خوب بیوی! قربان جاؤں تمھارے اس مشورے سے گھر کے گیڑے سے آنکھ پھوٹی جارہی ہے۔ اب نہ معلوم ہو تو دنیا کو معلوم ہوجائے کہ خالا نگوڑی ماری جاہل جٹ رکھی ہے۔‘‘
’’کیوں بہو رانی؟‘‘ خالا کی لڑکی زینت نے کوٹھری سے باہر آکر اپنی بھاوج سے پوچھا۔ ’’یہ میرا کرتا تمھارے میلے کپڑوں میں کیسے پہنچ گیا۔ اب نہ نظر پڑتی تو تمھارا ہوگیا تھا! مجھے کم بخت مارے کپڑوں کی یوں ہی ضروت رہتی ہے۔‘‘
’’نہیں بائی کسی بچّے وچّے نے ڈال دیا ہوگا میلے کپڑوں میں۔ میں کیوں ہاتھ لگانے لگی آپ کے کرتے سے۔‘‘
’’ذرا دلہن دماغ ٹھیک رکھو نہیں تو ہم پھر دوسری طبیعت کے ہیں۔ واہ وا! کیا خوب! جو، جی میں آتا ہے بک دیتی ہو۔ ہمیں معلوم ہے کون کیا ہے۔ ایسی ہماری امّاں ہیں کہ سامنے بٹھا کر سب گھر کے عُقدے کھول رہی ہیں غیروں کے سامنے۔‘‘
’’خدا تجھے زمین کا پیوند بنادے زینت۔ تیرا کہنا تو دیکھ موٹی۔ بات ایسی کرتی ہے یزیدنی، کلیجے پہ تیر لگتے ہیں۔‘‘ خالانے بپھر کر کہا۔ ’’غیر تو اب تو ہے جو دوسرے کے گھر کی ہوئی۔ یہ تو ہمارے گھر میں آئی ہے تو اپنوں سے اچھّی ہے، سمجھی کچھ جاہل۔ اچھّا ہٹ سامنے سے۔ تجھے دیکھ کے اب تو میرا جی جلتا ہے۔‘‘ خالا نے منھ پھیر کر سلسلۂ کلام جاری رکھا۔ ’’اللہ لڑکی دے تو زبان کی اچھّی اور قاعدے سلیقے کی۔‘‘
’’ہاں امّاں اور کیا لکھ دوں۔ بس دو چار باتیں اور بتادیجیے تو خط پورا کروں۔‘‘ بہو نے رفع شر کے لیے خالا کو مخاطب کیا۔
’’ٹھہر جاؤ دلہن ذرا ابھی ۔ کدھر کا جھاڑو پھرا خط۔ اس زینت سے آج مجھے نپٹ لینے دو۔ اَس نے ایسی بات کہی آج کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اچھا دیکھ زینت! ابھی اپنے سُسرال جانے کی تیاری کر یا پھر آج میں ہی اس گھر سے نکلتی ہوں۔ سمجھ لے آج سے تیری ماں مرگئی ہے۔ مجھے یہ بات باکل پسند نہیں ہے۔‘‘ اور خالامنہ پھیر کر رونے لگیں۔ اُدھر زینت نے بھی بِلک بِلک کر رونا شروع کردیا اور ساتھ ہی بددعائیں بھی کہ خُدا میرے دشمنوں کے کلیجے میں چھُریاں چلائے کہ ماں کو بیٹی سے جُدا کیے دیتے ہیں۔ بہو غریب نے یہ ہیّا کال اور کوسنے سُنے تو اپنا لکھا پڑھی کا سامان لے کے کمرے میں جاگھُسی۔ سنا ہے کہ نصف گھنٹے کے انٹرول کے بعد زینت اور اس کا بھائی ننّے، خالا کو منانے میں مشغول ہوگئے۔ راوی بے چارہ اس ہنگامے کو دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بیگم نسیم کا خط پھر ادھورا رہ گیا۔
(عبدالاحد خاں تخلص بھوپالی)
مشق
- لفظ ومعنی:
اندیشہ : شک،شُبہ
دشوار : مشکل
بھیل ملانا : ملاوٹ کرنا
فارغ : فرصت
چھیدے کھانا : طعنے دینا
کورے کلیجے : خالی پیٹ
شیطان کی آنت ہونا(محاورہ) : بہت لمبا ہو جانا
شفاعت : سفارش
پارچہ : پوشاک،ریشمی کپڑا، ٹکڑا
موضوع : مضمون
رعیت : عوام، اسامی
جھاڑو پھرنا : معمولی،غیر اہم
تن بدن میں آگ لگنا(محاورہ) : بہت زیادہ غصّہ کرنا
عقدہ : راز، بھید
زمین کا پیوند ہونا(محاورہ) : مرجانا
مشغول : مصروف
بال کی کھال نکالنا(محاورہ) : معمولی باتوں پر اعتراض کرنا
نصف : آدھا
رفع شر : شر کو دور کرنا
کلیجے پر چھریاں چلانا(محاورہ) : سخت تکلیف پہنچانا
ہیاّ کال : شور، ہنگامہ
راوی : بیان کرنے والا
1. جانماز پربیٹھے بیٹھے خالا نے اپنی بہو سے کیا کہا؟
2. خالا کے کہنے سے بہو نے بیگم نسیم کو خط میں کیا لکھا؟
3. زینت کس بات پر بھاوج سے ناراض ہوگئی؟
4. خالا نے زینت کو کس طرح ڈانٹا؟
5. بیگم نسیم کا خط ادھورا کیوں رہ گیا؟
- زبان و قواعد:
• ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا مرغ کی ایک ٹانگ
عام بول چال کے یہ وہ الفاظ ہیں جو اپنے لفظی معنی سے ہٹ کر کچھ اور معنی ادا کرتے ہیں اور انھیں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔انھیں ضرب المثل /کہاوت کہتے ہیں۔
• آپ جانتے ہیں کہ ایسے الفاظ جو اپنے اصل معنی کے بجائے دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور فعل پر ختم ہوتے ہیں ’محاورہ‘ کہلاتے ہیں۔
محاورہ اور کہاوت میں فرق ہے۔محاورہ مصدرسے بنتا ہے جبکہ ضرب المثل /کہاوت کے لیے مصدر کی شرط نہیں۔محاورہ مکمل جملہ نہیں ہوتا مگر صرب المثل ایک مکمل جملہ ہوتا ہے۔محاورہ جملے میں استعمال ہوکر ہی اپنا مفہوم ادا کرتا ہے مگر صرب المثل میں پہلے کوئی بات کہی جاتی ہے پھر اس کی مزید وضاحت کے لیے کہاوت کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔
• اس سبق کے محاوروں اور ضرب المثل کی نشاندہی کیجیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
دو کرداروں کے درمیان ہونے والی گفتگو مکالمہ کہلاتی ہے۔اس سبق میں عورتوں کے درمیان نوک جھونک کو دل چسپ انداز اور بامحاورہ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
اپنے دوست کو خط لکھتے ہوئے اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہ کیجیے۔