Skip to content
nawa e urdu Chapter-7

7

pic 2 chapter 7

خواجہ احمد عبّاس

 (1913 — 1987)
خواجہ احمد عبّاس کا تعلق پانی پت کے ایک معروف ادب دوست گھرانے سے تھا۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ، خواجہ غلام الثقلین، خواجہ غلام السیّدین اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
خواجہ احمد عباس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے وہ قومی آزادی کی تحریک میں شامل ہوگئے تھے۔انھوں نے صحافت، ادب، فلم سازی کی دنیا میں ایک سرگرم زندگی گزاری۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں وہ باقاعدگی کے ساتھ اخباری کالم اور مضامین لکھتے تھے۔ انھوں نے کئی فلمیں بنائیں۔
فلم سازی کے ساتھ ساتھ خواجہ احمد عباس کا تعلق اسٹیج سے بھی رہا۔ ہندوستانی تھیٹر کے فروغ میں ان کا رول بہت اہم رہا ہے۔ خواجہ احمد عباس کی کہانیاں، ڈرامے اور ناول ایک واضح سماجی نصب العین رکھتے ہیں۔ ’دیا جلے ساری رات‘، ’اننّاس اور ایٹم بم،، ’گیہوں اور گلاب‘، ’زبیدہ‘، ’انقلاب‘ ان کی معروف کتابیں ہیں۔ ان کی خود نوشت No Man is an Island انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں مقبول ہوچکی ہے۔


کھدّر کا کفن

تیس برس کی بات ہے جب میں بالکل بچّہ تھا۔ ہمارے پڑوس میں ایک غریب بوڑھی رہتی تھی۔ اس کا نام تو حکیمن تھا مگر لوگ اُسے حکوّکہہ کر پُکارتے تھے۔ اس وقت شاید ساٹھ برس کی عمر ہوگی، جوانی میں ہی ودھوا ہوگئی تھی اور عمر بھر اپنے ہاتھ سے کام کرکے اپنے بچوں کو پالا تھا۔ بوڑھی ہوکر بھی وہ سورج نکلنے سے پہلے اٹھتی تھی۔ گرمی ہو یا جاڑا۔ ابھی ہم اپنے اپنے لحافوں میں دبکے پڑے ہوتے کہ اس کے گھر سے چکیّ کی آواز آنی شروع ہوجاتی۔ دن بھر وہ جھاڑو دیتی، چرخہ کاتتی، کپڑا بنتی، کھانا پکاتی، اپنے لڑکے لڑکیوں،پوتے نواسوں کے کپڑے دھوتی۔ اس کا گھر بہت ہی چھوٹا تھا۔ ہمارے اتنے بڑے آنگن والے گھر کے مقابلے میں وہ جوتے کے ڈبّے جیسا لگتا تھا۔ دو کوٹھریاں، ایک پتلا سا دالان اور نام کے واسطے دو تین گز لمبا چوڑا صحن مگر اتنا صاف ستھرا اور ایسا لِپا پُتا رکھتی تھی کہ سارے محلے میں مشہور تھا کہ حکوّ کے گھر کے فرش پر کھیٖلیں بکھیر کر کھاسکتے ہیں۔
pic 3 chapter 7
صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک وہ کام کرتی تھی پھر بھی جب کبھی حکوّ  ہمارے گھر آتی ہم اسے ہشّاش بشّاش ہی پاتے۔ بڑی ہنس مکھ تھی وہ۔ مجھے اس کی صورت اب تک یاد ہے۔ گہرا سانولا رنگ جس پر اُس کے سفید بگلا سے بال خوب کھلتے تھے۔ اس کی کاٹھی بڑی مضبوط تھی۔ اس کی کمر مرتے دم تک نہیں جھکی۔ آخری دنوں میں کئی دانت ٹوٹ گئے تھے جس سے بولنے میں پوپلے پن کا انداز آگیا تھا۔ بڑے مزے کی باتیں کرتی تھی اور جب ہم بچّے اسے گھیر لیتے تو کبھی تین شہزادوں، کبھی سات شہزادوں، کبھی جِنوں اور پریوں کی کہانی سناتی … وہ پردہ نہیں کرتی تھی۔ اپنا سارا کاروبار خود چلاتی تھی۔ حکوّ پڑھی لکھی بالکل نہیں تھی، نہ اُس نے عورتوں مردوں کی برابری کا اصول سنا تھا، نہ جمہوریت نہ اشتراکیت کا، پھر بھی حکوّ نہ کسی مرد سے ڈرتی تھی نہ کسی امیر، رئیس، افسراور داروغہ سے ڈرتی تھی۔
حکوّ ننے عمر بھر محنت کرکے اپنے بال بچّوں کے لیے تھوڑے بہت پیسے جمع کیے تھے۔ بے چاری نے بینک کا تو نام بھی نہ سنا تھا۔ اس کی ساری پونجی (جو شاید سو دو سو روپے ہو،) چاندی کے گہنوں کی شکل میں اس کے کانوں، گلے اور ہاتھوں میں پڑی ہوئی تھی۔ چاندی کی بالیوں سے اُس کے جھکے ہوئے کان مجھے اب تک یاد ہیں۔ ان گہنوں کو وہ جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی تھی۔ کیوں کہ یہ ہی اُس کے بڑھاپے کا سہارا تھے۔ مگر ایک دن سب محلے والوں نے دیکھا نہ حکوّ کے کان میں بالیاں ہیں، نہ اُس کے گلے میں ہنسلی، نہ اُس کے ہاتھوں میں کڑے اور چوڑیاں پھر بھی اُس کے چہرے پر وہی پرانی مسکراہٹ تھی اور کمر میں نام کو بھی خم نہیں۔
ہوا یہ کہ ان دنوں مہاتما گاندھی، علی برادران کے ساتھ پانی پت آئے۔ ہمارے نانا کے مکان میں انھوں نے تقریریں کیں ترکِ موالات اور سوراج کے بارے میں ،حکو بھی ایک کونے میں بیٹھی ہوئی سنتی رہی۔ بعد میں چندہ جمع کیا تو اس نے اپنا سارا زیور اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیا اور اس کی دیکھا دیکھی اور عورتوں نے بھی اپنے اپنے زیور اتار کر چندے میں دے دیے۔
اس دن سے حکوّ’’خلافتی‘‘ ہوگئی۔ ہمارے ہاں آکر نانا ابّا سے خبریں سنا کرتی اور اکثر پوچھتی … ’’یہ انگریزوں کا راج کب ختم ہوگا؟‘‘ خلافت یا کانگریس کے جلسے ہوتے تو ان میں بڑے چاؤ سے جاتی اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سیاسی تحریک کو سمجھنے کی کوشش کرتی … مگر عمر بھر کی محنت سے اس کا جسم کھوکھلا ہوچکا تھا۔ پہلے آنکھوں نے جواب دیا، پھر ہاتھ پاؤں نے … حکوّنے گھر سے نکلنا بند کردیا مگر چرخہ کا تنا نہ چھوڑا۔ عمر بھر کی مشق کے سہارے آنکھوں بغیر بھی کپڑا بُن لیتی۔ بیٹوں، پوتوں نے منع کیا تو اس نے کہا کہ وہ یہ کھدّر اپنے کفن کے لیے بُن رہی ہے۔
پھر حکوّ مر گئی ۔ اس کی آخری وصیت یہ تھی کہ ’’مجھے میرے بنے ہوئے کھدر کا کفن دینا،اگر انگریزی کپڑے کا دیا تو میری روح کو کبھی چین نصیب نہ ہوگا۔‘‘ ان دنوں کفن لٹھّے کے دیے جاتے تھے کھدّر کا پہلا کفن حکو کو ہی ملا۔ اس کا جنازہ اٹھا تو اس کے چند رشتے دار اور دو تین پڑوسی تھے۔ نہ جلوس نہ پھول نہ جھنڈے بس ایک کھدّر کا کفن۔

                                                                (خواجہ احمد عباس)

                                         مشق

  • لفظ ومعنی:

ودھوا                   :      بیوہ
صحن                    :     آنگن
ہشّاش بشّاش         :     خوش وخرّم
کاٹھی                  :    جسم کی بناوٹ
خلافت                :    ایک سیاسی تحریک کا نام جس کے سربراہ علی برادران تھے۔
جمہوریت            :  وہ نظام حکومت جس میں عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کی اکثریت رکھنے والی سیاسی  جماعت 
                            حکومت چلاتی ہے۔
اشتراکیت            :     ساجھا، شرکت،وہ سیاسی نظام جس میں سبھی کو برابری کا حق حاصل ہوتا ہے۔
خلافتی                  :      خلافت تحریک کو تسلیم کرنے والی/والا
ترکِ موالات      :      ایک تحریک جس کے تحت انگریزی سامان استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔

  • سوالات:

1.   حکوّ کون تھی، اس کا اصل نام کیا تھا؟
2.    اس افسانے میں حکوّ کی کیا کیا خوبیاں بتائی گئی ہیں؟
3.   حکوّ نے اپنے زیور کیوں دے دیے؟
4.   کہانی میں حکو کو ’’خلافتی‘‘ کیوں کہا گیا ہے؟
5.   حکوّکی آخری وصیت کیا تھی؟

  • زبان و قواعد:
  • نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:

          چرخا، صحن،  ہشّاش بشّاش،  جمہوریت، تقریر،  وصیت

  • غور کرنے کی بات:
  •  حکوّ کا کردار ہمیں آمادہ کرتا ہے کہ اپنے ملک وقوم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینا ہمارا اوّلین فرض ہونا چاہیے۔ وطن پر کوئی آنچ آئے اور ہم اپنی آرائش وزیبائش کے سامان کو اہمیت دیں، یہ وطن سے محبت کی علامت نہیں ہوسکتی۔

  • عملی کام:
  • حکّو کی شخصیت پر مختصر نوٹ لکھیے۔