Skip to content
nawa e urdu Chapter-8

8

pic 1 chapter 8

سیّد عابد حسین

(1896 — 1978)
ڈاکٹر سیّد عابد حسین کا وطن داعی پور، ضلع فرخ آباد( اترپردیش) تھا۔ عابد حسین کی پیدائش بھوپال میں ہوئی۔ان کا بچپن داعی پور اور لکھنؤ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں پائی۔ ثانوی تعلیم بھوپال میں مکمل کرنے کے بعد الٰہ آباد یونیورسٹی سے بی۔اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ اور برلن یونیورسٹی، جرمنی میں حاصل کی۔ سیّد عابد حسین نے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جرمنی سے واپس آکر ڈاکٹر ذاکر حسین اور پروفیسر محمد مجیب کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔
ڈاکٹر عابد حسین اچھے ادیب اور مترجم تھے ۔انھوں نے جرمن زبان کی کئی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جن میں گوئٹے کی ’فاؤسٹ‘ سب سے اہم ہے۔ ڈاکٹر عابد حسین نے مہاتما گاندھی کی خودنوشت’مائی ایکسپری منٹ وتھ ٹرتھ‘ کا ترجمہ ’تلاشِ حق‘ کے نام سے اور پنڈت جواہر لال نہرو کی ’ڈسکوری آف انڈیا‘ کا ترجمہ ’تلاشِ ہند‘ کے نام سے کیا۔ انھوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں ’قومی تہذیب کا مسئلہ‘ اور ’ہندوستانی مسلمان آئینۂ ایام میں‘ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوئیں۔انھوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔’پردۂ غفلت‘ ان کا مشہور ڈراما ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’پدم شری‘ سے نوازا گیا۔یہ مضمون مہاتما گاندھی کی آپ بیتی کے اردو ترجمے ’تلاشِ حق‘ سے لیا گیا ہے۔

سچیّ زندگی، روحانی خوشی

میں نے سوچا کہ بمبئی کے سِلے ہوئے کپڑے جو میں پہنے ہوں انگلستان کی سوسائٹی کے قابل نہیں ہیں اس لیے میں نے آرمی اینڈنیوی کی کوٹھی سے نئے کپڑے خریدلیے۔ ایک لمبی ریشمی ہیٹ بھی19  شلنگ میں خریدی جو اُس زمانے کے لحاظ سے بڑی قیمتی تھی۔ مجھے اس پر بھی قناعت نہ ہوئی بلکہ دس پاؤنڈ ضائع کرکے ایک ایوننگ سوٹ ’بونڈ اسٹریٹ‘ میں جو اس زمانے میں فیشن کا مرکز سمجھی جاتی تھی، سلوایا اور اپنے بھائی سے گھڑی کے لیے سونے کی دہری زنجیر منگوائی۔ بندھی بندھائی ٹائی لگانا فیشن کے خلاف تھا۔ اس لیے میں نے خود ٹائی باندھنے کی صنعت سیکھی۔ ہندوستان میں تو آئینہ میرے لیے بڑے تکلّف کی چیز تھی۔ مجھے آئینہ دیکھنا صرف اُس دن نصیب ہوتا تھا جس دن گھر کا نائی میری ڈاڑھی مونڈتا تھا۔ یہاں میں روزدس منٹ ایک بڑے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر ٹائی ٹھیک کرنے اور مانگ نکالنے میں ضائع کرتا تھا۔ بدقسمتی سے میرے بال بھی نرم نہ تھے اور انھیں جمانے میں برش سے خاصی کشتی لڑنا پڑتی تھی۔ جب کبھی میں سر پر ٹوپی رکھتا تھا یا اتارتا تھا تو میرا ہاتھ خود بخود بال د رست کرنے کے لیے سر پر پہنچ جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مہذّب عادت یہ تھی کی شائستہ سوسائٹی میں بیٹھا ہوتا تھا تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ سر پر جاکر مشین کے پرزے کی طرح یہی عمل کر آتا تھا۔
مگر ان سب باتوں کے باوجود جو ایک جنٹل مین کے لیے ضروری ہیں،مجھ سے کہا گیا کہ ناچ، فرانسیسی زبان اور خطابت سیکھنا میرے لیے ضروری ہے۔ فرانسیسی نہ صرف ہم سایہ ملک کی زبان تھی بلکہ سارے برِّاعظم یورپ میں سمجھی جاتی تھی جس کی سیاحت کا میں قصد رکھتا تھا۔ میں نے طے کیاکہ ایک رقّاصہ کی کلاس میں ناچ سیکھوں گا۔ تین پاؤنڈ ایک ٹرم کی فیس اد ا کروں گا۔ میں تین ہفتے میں کوئی چھے بار کلاس میں گیا لیکن یہ میرے بس کی بات نہ تھی کہ جسم کی حرکت میں موزونیت پیدا کروں۔ میں پیانو سمجھ نہیں سکتا تھا اس لیے تال کے ساتھ قدم رکھنا میرے لیے ناممکن تھا۔ اب میں کرتا تو کیا کرتا۔
ایک سادھو کا قصہ مشہور ہے کہ اس نے چوہوں کوبھگانے کے لیے بلی پالی، بلّی کو دودھ پلانے کے لیے گائے رکھی، گائے چَرانے کے لیے آدمی رکھا۔ غرض اسی طرح سلسلہ بڑھتا گیا۔ میرے حوصلے بھی اس سادھو کے خاندان کی طرح بڑھتے گئے۔ میں نے سوچا کہ مغربی موسیقی کا مذاق پیدا کرنے کے لیے وایلن بجانا سیکھوں۔اس لیے میں نے تین پاؤنڈ کا ایک وایلن خریدا اور سکھانے والے کی فیس  میں بھی کچھ خرچ کیا۔ میں ایک تیسرے استاد کے پاس خطابت سیکھنے گیا اور ایک گنّی ابتدائی فیس ادا کی۔ انھوں نے بیلؔ کی کتاب ’کامل خطیب‘ نصاب کے طور پر مقرّر کی اور میں نے اسے خرید لیا۔ پِٹؔ کی ایک اسپیچ سے میں نے ابتدا کی۔
لیکن بیلؔ کی کتاب نے صدائے جرس بن کر مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔ میں نے دل میں کہا ’مجھے کچھ انگلستان میں اپنی عمر تو گزارنا نہیں پھر آخر خطابت سیکھنے سے کیا فائدہ؟ اور ناچ سیکھ کر میں جنٹل مین کیسے بن جاؤں گا؟ رہا وائلن تو وہ میں ہندوستان میں بھی سیکھ سکتا ہوں۔ میں طالب علم ہوں، مجھے اپنی پڑھائی کی فکر کرنا چاہیے۔ اگر میں اپنی سیرت کی بدولت جنٹل مین بن جاؤں تو فبہا! ورنہ مجھے اس حوصلے سے ہاتھ دھو لینا چاہیے۔
اس قسم کے خیالات کا میرے دل میں ہجوم تھا اور میں نے انکار کا اظہار اپنے خطابت کے استاد کے نام ایک خط میں کیا جس میں ان سے یہ درخواست کی تھی، مجھے آیندہ حاضری سے معذور رکھیں۔ میں نے اب تک صرف دو یا تین سبق سیکھ لیے تھے۔ اسی طرح کا خط میں نے ناچ سکھانے والی کو لکھا اور وایلن سکھانے والی کے پاس خود جاکر میں نے درخواست کی کہ میرا وایلن جس قیمت پر بکے، بیچ دیں۔ وہ مجھ پر مہربان تھیں اس لیے میں نے ان سے کہہ دیا کہ مجھے یکایک یہ محسوس ہوا ہے کہ میں ایک جھوٹے نصب العین کی پیروی کررہا ہوں۔ انھوں نے میرے طرزِ عمل کی کامل تبدیلی میں میری ہمّت افزائی کی۔
pic 3 chapter 8
یہ سودا مجھے کوئی تین مہینے رہا۔ لباس میں اہتمام اور تکلف برسوں باقی رہا لیکن اُس وقت سے میں طالب علم بن گیا۔
کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ زمانہ جس میں میں نے ناچ وغیرہ کے تجربے کیے، میری زندگی میں عیش پرستی کا زمانہ تھا۔ اُن دنوں بھی میرے ہوش وحواس قائم تھے۔ میں فیشن کی ترنگ میں مست سہی مگر کبھی کبھی مشاہدۂ نفس سے بھی کام لیتا تھا۔ میں پیسے پیسے کا حساب رکھتا تھا اور سمجھ بوجھ سے خرچ کرتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں مثلاً اومنی بس کا کرایا یا خط کے ٹکٹ یا اخبار کے پیسے بھی درج کرلیتا تھا اور شام کو سونے سے پہلے میزان دے کر باقی نکال لیتا تھا۔ یہ عادت مجھے ہمیشہ رہی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ باوجود یہ کہ میرے ہاتھ میں قومی کاموں کے لیے لاکھوں روپیہ رہا مگر میں نے اس کے خرچ کرنے میں نہایت کفایت شعاری برتی اور جتنی تحریکیں میری نگرانی میں تھیں، ان میں سے کسی پر کبھی قرض نہیں رہا بلکہ ہمیشہ بچت ہی رہی۔ ہر نوجوان مجھ سے سبق حاصل کرے اور جتنا روپیہ اس کے ہاتھ میں آئے اور خرچ ہو ،سب کا حساب رکھے۔ اس سے آگے چل کر بڑا فائدہ ہوگا۔
میں اپنی زندگی کا سختی سے احتساب کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ محسوس ہوگیا کہ کفایت شعاری برتنے کی ضرورت ہے۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اپناخرچ آدھا کروں گا۔ حساب سیکھنے سے معلوم ہوا کہ بس وغیرہ کے کرایے میں کافی خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی خاندان کے ساتھ رہنے میں ہر مہینے اچھّی خاصی رقم کا بل ادا کرنا پڑتا تھا۔ پھر اخلاق کا تقاضا تھا کہ خاندان کے ارکان کو کبھی کبھی کھانا کھلانے لے جاؤں اور ان کے ساتھ دعوتوں میں جاؤں۔ ان باتوں میں سواری کا بہت خرچ تھا۔ خصوصاً اگر کوئی خاتون ساتھ ہو تو دستور کے مطابق کل مصارف مجھی کو ادا کرنا پڑتے تھے۔ کھانے کے لیے باہر جانا ایک جدا گانہ مد تھی۔ کیوں کہ گھر پر نہ کھانے کی بنا پر ہفتہ وار بل میں کوئی رقم مُجرا نہیں ہوتی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ سب رقمیں بچائی جاسکتی ہیں اور رسمی معاشرت کی بے جا پابندی سے جو بار میرے جیب خرچ پر پڑتا ہے، وہ روکا جاسکتا ہے۔
اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ الگ کمرے لے کر رہوں اور اپنے کام کے لحاظ سے تبدیلِ مقام کرتا رہوں تاکہ کفایت بھی ہو اور تجربہ بھی بڑھے۔ کمروں کا انتخاب میں اس طرح کرتا تھا کہ جہاں مجھے کام کرنا ہو، وہاں پیدل چل کر آدھ گھنٹے میں پہنچ جایا کروں۔ اس سے پہلے جب مجھے باہر جانا ہوتا تو مجبوراً سواری پر جاتا تھا اور ٹہلنے کے لیے الگ وقت نکالنا پڑتا تھا۔ نئے انتظام میں ورزش اور کفایت شعاری کا ساتھ ہوگیا۔ کرائے کا کرایہ بچتا تھا اور آٹھ دس میل چل بھی لیتا تھا۔ زیادہ تر اسی پیدل چلنے کی عادت کی بدولت میں قیامِ انگلستان کے زمانے میں بیماری سے محفوظ رہا اور میرا جسم خاصا مضبوط ہوگیا۔
غرض میں نے دو کمرے کرایے پر لیے، ایک سونے کا کمرہ اور ایک نشست کا کمرہ۔ یہ میری زندگی کی تبدیلی کی دوسری منزل تھی۔ تیسری ابھی آنے کو تھی۔
رہن سہن کی اس تبدیلی سے میرا خرچ آدھا ہوگیا۔ اب یہ سوال تھا کہ وقت کو کس طرح کام میں لاؤں۔ مجھے معلوم تھا کہ بیرسٹری کے امتحانوں کے لیے زیادہ مطالعے کی ضرورت نہیں، اس لیے میرے پاس وقت کی کمی نہ تھی۔ میری انگریزی کمزور تھی اور اس کی مجھے ہمیشہ فکر رہتی تھی۔ میں نے سوچا کہ مجھے بیرسٹری کے علاوہ کوئی ادبی سند بھی لینا چاہیے۔ میں نے آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب کے متعلق دریافت کیا اور چند دوستوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا کہ اگر میں ان دونوں یونیورسٹیوں میں سے کسی میں جاؤں تو بہت خرچ پڑے گا اور انگلستان میں بہت دن ٹھہرنا ہوگا جس کے لیے میں تیار نہ تھا۔ ایک دوست نے کہا ’’اگر تمھیں واقعی مشکل امتحان دینے کا شوق ہے تو لندن کا میٹریکولیشن پاس کرلو۔ اس میں محنت بھی کافی ہے۔ تمھاری عام استعداد بھی بڑھ جائے گی اور کچھ ایسا زاید خرچ بھی نہیں۔‘‘ میں نے اس تجویز کو بہت پسند کیا لیکن اس امتحان کے نصاب نے مجھے مار ڈالا۔ لاطینی اور کوئی جدید یوروپی زبان (علاوہ انگریزی) لازمی تھی۔ میں نے کہا ’بھلا میں لاطینی کیسے سیکھ پاؤں گا؟‘ میرے دوست نے اس کے فوائد پر بہت زور دیا ’’لاطینی زبان وکیلوں کے لیے بڑے کام کی چیز ہے۔ قانون کی کتابوں کے سمجھنے میں اس سے بڑی مدد ملتی ہے اور بیرسٹری کے امتحان میں رومی قانون کا پورا پرچہ لاطینی میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لاطینی جاننے سے انگریزی زبان پر عبور ہوجاتا ہے۔‘‘ یہ بات میرے دل میں کُھب گئی اور میں نے طے کیا کہ لاطینی چاہے جتنی مشکل ہو میں اسے سیکھ کر رہوں گا۔ فرانسیسی میں پہلے ہی شروع کر چکا تھا۔
میں میٹریکولیشن کی ایک پرائیویٹ کلاس میں شریک ہوگیا۔ امتحان سال میں دوبار ہوا کرتا تھا اور اب اگلے امتحان کو پانچ مہینے باقی تھے۔ اتنے عرصے میں تیاری کرلینا میرے لیے قریب قریب ناممکن امر تھا۔ مگر انگریز جنٹل مین بننے کا شایق اب محنتی طالب علم بننے پر تیار ہوگیا۔ لیکن نہ تو میری ذہانت سے اور نہ میرے حافظے سے یہ توقع تھی کہ اتنے دن میں امتحان کے دوسرے مضامین کے ساتھ لاطینی اور فرانسیسی دونوں قابو میں آجائیں گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاطینی میں فیل ہوگیا۔ مجھے بہت افسوس ہوا مگر میں نے ہمّت نہ ہاری۔ مجھے لاطینی کا مذاق پیدا ہوگیا تھا۔ میں نے سوچا کہ دوسری بار کوشش کروں گا تو فرانسیسی اور اچھی ہوجائے گی اور اب کی میں سائنس کے میدان میں بھی کوئی نیا مضمون لے لوں گا۔ کیمیا میرا مضمون تھا لیکن تجربات کا موقع نہ ملنے سے اس میں جی نہیں لگتا تھا۔ یہ میرے ہندوستان کے امتحان میں بھی لازمی مضامین میں سے تھا، اس لیے میں نے ضداً میٹریکولیشن میں بھی اسی کو لے لیا تھا۔ مگر اس بار میں نے بجائے کیمیا کے ’’روشنی اور حرارت‘‘ کا انتخاب کیا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ مضمون آسان ہے اور مجھے بھی آسان معلوم ہوا۔
دوبارہ امتحان کی تیاری کے ساتھ ساتھ میں نے کوشش کی کہ اپنی زندگی کو اور سادہ بناؤں۔ مجھے یہ احساس تھا کہ میری زندگی کا معیار ابھی تک میرے خاندان کی محدود آمدنی کی نسبت سے اونچا ہے۔ جب مجھے اپنے بھائی کی مشکلوں کا خیال آتا تھا جو دریا دلی سے میرے متواتر مالی امداد کے مطالبے پورے کرتے تھے تو مجھے بہت دکھ ہوتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ جو لوگ آٹھ پاؤنڈ سے لے کر پندرہ پاؤنڈ ماہوار تک خرچ کرتے تھے، ان میں سے اکثر کو وظیفے کی امداد ملتی تھی۔ میرے سامنے انتہائی سادگی کی مثالیں تھیں۔ مجھے متعدد غریب طالب علم ملے جو مجھ سے زیادہ تنگی سے بسر کرتے تھے۔ ان میں سے ایک بے چارہ غریبوں کے محلے میں دوشلنگ ہفتہ وار کے کمرے میں رہتا تھا اور لوکہارٹ کی سستی کوکو کی دکان میں دن میں چند بار دو پینی کی کوکو اور روٹی سے پیٹ بھر لیتا تھا۔ میں اس کمرے سے کام چلا سکتا ہوں اور ایک وقت کا کھانا گھر پر پکا سکتا ہوں۔ اس میں چار پانچ پاؤنڈ ماہوار بچ جائیں گے۔ میں نے سادہ زندگی کے متعلق بعض کتابیں بھی پڑھیں۔ میں نے یہ کمرا چھوڑ کر ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ ایک گیس کا چولھا خریدا اور اپنا کھاناگھر پر پکانا شروع کیا۔ اس میں مجھے بیس منٹ سے زیادہ نہیں لگتے تھے کیوں کہ صرف جئی کا دلیا پکاتا تھا اور کوکو بناتا۔ دوپہر کا کھانا میں باہر کھاتا تھا اور شام کو گھر آکر روٹی اور کوکو پر گزر کرتا تھا۔ اس طرح میرا روزانہ خرچ ایک شلنگ تین پنس رہ گیا۔ یہی زمانہ محنت سے پڑھائی کرنے کا بھی تھا۔ سادہ زندگی کے سبب میرا بہت وقت بچتا تھا۔ چنانچہ میں خوب پڑھائی کرکے اپنے امتحان میں پاس ہوگیا۔
پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ اس طرح رہنے میں میری زندگی بے لطفی سے گزرتی تھی بلکہ اس کے برعکس اس تبدیلی کی بدولت میری بیرونی اور اندرونی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہوگئی اور یہ طریقہ خاندان کی آمدنی کے لحاظ سے بھی مناسب تھا۔ میری زندگی زیادہ سچی بن گئی اور میری روحانی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
مہاتما گاندھی(ترجمہ : سیّد عابد حسین)

                                                مشق

  • لفظ ومعنی:

صنعت                             :       ہنر، کاری گری
تکلّف                               :       وہ بات یا کام جس کے کرنے میں کوشش یا اہتمام کرنا پڑے
قصد                                 :       ارادہ
خطابت                             :      تقریر کا فن
 پِٹ                                 :      سر ولیم پِٹ (1759 - 1806) انگلستان کے وزیر اعظم جو اپنی خطابت کے                                                   لیے مشہورتھے اور جن کی ایک تقریر ،مسٹر بیل کی ترتیب دی ہوئی                                                             کتاب ’کامل خطیب‘ میں شامل تھی 
گنیّ                                    :      اُنیسویں صدی میں رائج انگلستان کا سونے کا سکّہ
صدائے جرس                     :      گھنٹی کی آواز
فَبِہا                                   :     بہت خوب ،بہتر
ہاتھ دھولینا(محاورہ)             :    اُمید چھوڑدینا
حاضری سے معذور رکھیں    :    غیر حاضر رہنے یا کلاس چھوڑ دینے کی اجازت دیں
نصب العین                       :    مقصد
پیروی کرنا                         :    تقلید کرنا،کسی کی بات یا عمل کو رہنما مان کر چلنا
سودا                                  :    جنون،دیوانگی
مشاہدۂ نفس                       :    اپنی ذات پر غور و فکر کرنا
میزان دینا                         :    جمع خرچ کا حساب جوڑنا
احتساب                             :     حساب لینا
مصارف                             :   صرف کی جمع ،خرچ، اخراجات
مجرا رقم                             :    خرچ کے بعد بچی ہوئی رقم
معاشرت                           :    رہن سہن
کُھب جانا                            :      پسند آنا،دل میں اُترجانا
شائق                                 :    شوق رکھنے والا
مذاق                                 :    ذوق، پسند
متواتر                                 :     لگاتار
ہم آہنگی                             :   تال میل
امرکام
بیرونی                                 :     باہری
استعداد                               :     قابلیت، صلاحیت
ارکان                                  :    رکن کی جمع،ممبر

  • سوالات:
  • 1.    گاندھی جی کے انگلستان کے قیام کے ابتدائی دنوں میں کیا کیا شوق تھے؟
    2.    کون سی کتاب نے گاندھی جی کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا؟
    3.    گاندھی جی نے کفایت شعاری کے لیے کیا کیا؟
    4.    لاطینی زبان سیکھنے سے کیا کیا فائدے ممکن تھے؟
    5.    سادہ زندگی کو گاندھی جی نے کیوں پسند کیا؟

    • زبان و قواعد:

    (الف)  نیچے دیے ہوئے لفظوں میں صفت کی مختلف اقسام کی نشاندہی کیجیے۔

             فرانسیسی زبان مغربی موسیقی چند دوست رومی قانون
             دوچار سبق بعض کتابیں چھوٹی چھوٹی چیزیں سادہ زندگی روحانی خوشی

    (ب)  نیچے دیے ہوئے لفظوں میں اسمِ عام اور اسم خاص کی نشاندہی کیجیے۔

               زبان انگریزی کھانا ناشتہ
                      ملک ہندوستان بیماری بخار
             گاڑی بس کپڑا ٹوپی

    l.  عملی کام:

          گاندھی جی کی شخصیت پر ایک مضمون لکھیے۔