9
عبدالحلیم شرر
(1860 — 1926)
عبدالحلیم شرر لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والد کا نام تفضل حسین تھا۔ شرر نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ تلاشِ معاش کے لیے بہت پریشانیاں اٹھائیں۔ شرر بلند ہمّت، محنتی، انسان دوست اور ہمدرد شخص تھے۔ شررکو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ انھوں نے بہت سی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔
اردو میں شرر کو تاریخی ناول کا بانی کہا جاتا ہے۔انھوں نے کئی تاریخی ناول لکھے جن میں ’فردوسِ بریں‘ ،’حسن انجلینا‘ ، ’فلورا فلورنڈا‘ اور مُلک العزیز و ورجینا، بہت مشہور ہیں۔ شرر نے بے شمار مضامین لکھے جن میں انشائیے معلوماتی، معاشرتی، تاثراتی مضامین اور سفر نامے شامل ہیں۔ ’مضامینِ شرر‘ کی آٹھ جلدیں منظر عام پر آئیں۔ ان میں ’گذشتہ لکھنؤ‘سب سے اہم ہے۔ ان کے چار شعری مجموعے شائع ہوئے۔
شرر ایک کامیاب صحافی بھی تھے۔انھوں نے کئی رسالے نکالے جن میں ’دلگداز‘ سب سے اہم ہے۔
مغرور جوٗتا
میں اپنے ٹوٹے ہوئے جوتے کو اتار رہا تھا کہ اس نے دانت نکال دیے۔ میں ایسا جھنجھلایا کہ نوچ کر پھینک دیا۔ میری یہ برہمی اسے ناگوار گزری اور وہ زبانِ حال سے بولا، ’’آپ کو میری ضرورت نہیں رہی ہے تو نکال دیجیے مگر یوں ذلیل کرکے تو نہ نکالیے۔‘‘
اُس کے اِس غرو ر پر مجھے ہنسی آگئی اور کہا، ’’کیا دنیا میں تجھ سے بھی زیادہ کوئی ذلیل شے ہے؟ ہر وقت پاؤں سے کچلا اور روندا جاتا ہے اور ہمیشہ راستے کی نجاستوں میں آلودہ رہتا ہے۔ ہم جب کبھی کہتے ہیں کہ ہماری جوتیوں کا صدقہ ہے اس وقت تجھے انتہا درجے کی نفرت سے دیکھتے ہیں۔ کسی کو ذلیل کرنا ہو تو اُسے تیری مار ماری جاتی ہے۔ اس لیے کہ تو نہایت حقیر اور ذلیل ہے لیکن باوجود ان سب باتوں کے تجھے اپنی عزّت کا خیال ہے۔‘‘
میں سمجھتا تھا کہ یہ باتیں اس سرکش جوتے کو خاموش کردیں گی مگر اُس پر کچھ اثر نہ ہوا اور بولا، ’’یوں تو آپ کو اختیار ہے کہ اپنے نزدیک جسے چاہیں معزّز خیال کریں، جسے چاہیں ذلیل کریں، لیکن خدائی فیصلہ آپ کی تجویز اور مرضی سے نہیں ہوسکتا۔ خدا نے ہر چیز کو اور ہر شخص کو اپنے مقام پر فضیلت اور خصوصیت عطا کی ہے جس پر وہ جس قدر ناز کرے بجا ہے۔ مجھے آپ اپنے گھر میں ذلیل سمجھا کریں لیکن اپنی جگہ پر غور کرتا ہوں تو اپنے میں کوئی ذلّت اور حقارت کی بات نہیں پاتا۔ میں جس سے بنا ہوں اسی سے آپ کا جسم بنا ہے۔ یہی نرمی، یہی حِس، یہی خوبی جو آپ کی کھال میں ہے کبھی مجھ میں بھی تھی۔ مرنے کے بعد میری حالت آپ سے اچھّی رہی۔میں تو گلنے سڑنے سے بچ کر آپ کے پاؤں کا لباس بن گیا۔ آپ کے جسم کے کسی حصے کو خلق اللہ کی خدمت کا کوئی موقع ملے، اس کی کوئی امید نہیں۔ ممکن تھا کہ میں ایک پر تکلّف ٹوپی کا استر بن کر آپ کے سر پر جاپہنچتا۔ پوستین کی شکل میں نمودار ہوکے آپ کے جسم سے لپٹ جاتا۔ پیٹی بن کر آپ کی کمر میں بندھا رہتا اور ممکن تھا کہ میں کوئی ایسی خوب صورت چیز بن جاتا جسے آپ نہایت عزیز رکھتے۔‘‘
جوتے کی ان واعظانہ باتوں سے میں دل میں کانپ گیا۔ مگر یہ اچھّا نہ معلوم ہوا کہ ایک ذلیل سی شے سے قائل ہوجاؤں۔ جواب دیا، ’’ان صورتوں میں سے جو تمھاری صورت ہوتی ویسی ہی تمھاری قدر بھی کی جاتی مگر اب تو تم ہو اور ٹوٹے ہوئے جوتے ہو ایسی حالت میں عزّت کا نام لیتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی۔‘‘
مگر وہ جوتا بھی کچھ ایسا جھنجھلایا ہوا تھا کہ کسی طرح جان نہ چھوڑی اور کہا، ’’کوئی وجہ نہیں پاتا۔ جوتا ہونے سے کیا کوئی ذلیل ہوجاتا ہے؟ اگر میں آپ کے بادشاہ یا کسی معمولی حاکم کا جوتا ہوتا تو آپ زمین پر سر رکھ کر مجھے چومتے۔ اگر میں آپ کے مرشد یا ولی اللہ کا جوتا ہوتا تو آپ مجھے باوجود شکستگی کے آنکھوں سے لگاتے۔ اگر میں آپ کے استاد یا کسی بزرگ کا جوتا ہوتا تو آپ اپنی سعادت مندی تصوّر کرکے مجھے سیدھا کرتے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ جوتا ہونے سے میری کیا آبرو گھٹ گئی؟ہاں! البتّہ اس بات کو مان لوں گا کہ آپ جیسے حق ناآشنا کی پاپوش بننے سے میری آبرو جاتی رہی اور مجھ میں ذلّت وحقارت جو کچھ ہے آپ سے ملنے، آپ کے پاس آنے اور آپ کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے ہے۔‘‘
اب گفتگو نے ایسی صورت اختیار کرلی تھی کہ اپنی کمزوری ظاہر کرنا درکنار، مجھے یہ نظر آرہا تھا کہ میرا ہی جوتا مجھے کمالِ بے باکی سے ذلیل کررہا تھا۔ برہمی کے ساتھ کہا، ’’تیری حقارت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ جب مقدس دربارِ الٰہی میں پہنچے تو حکم ہوا کہ اپنی جوتیاں اُتار ڈالو۔‘‘
جوتے نے کہا، ’’بے شک! اس مقام پر حضرت موسی ؑ کو جوتیاں اُتارنی پڑیں مگر جس منزل تک وہ جوتیاں پہنے چلے گئے اور جہاں تک اُن کا اور میرا ساتھ رہا وہاں آپ کیا بڑے بڑے ائمّۂ دین کی بھی رسائی نہیں ہوسکتی۔‘‘
آخر میں نے تنگ آکر پوچھا، ’’کیا تو سچ مچ اپنے آپ کو مجھ سے افضل سمجھتا ہے؟ یا یہ فقط تیری سخن پروری ہے؟‘‘
’’اپنے فرائض ادا کرنے کی دُھن میں کبھی مجھے اس مسئلے پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔میں کیا جانوں کہ آپ افضل ہیں یا میں؟ ہاں ایک بات البتّہ خیال میں آتی ہے۔ مگر آپ شاید نہ مانیں۔‘‘
میں نے گھبرا کر پوچھا، ’’وہ کون سی بات ہے؟‘‘
جواب ملا، ’’اپنے فرائضِ زندگی کو جو شخص جتنی عمدگی اور مستعدی سے بجا لائے اُسی قدر اسے افضل ہونا چاہیے۔ اپنے فرائض ادا کرنے میں ، میں نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے جب اور جو کام لینا چاہا میں نے عذر نہیں کیا۔ آپ برے کاموں کے لیے گئے، ایزا رسانی اور مخلوق کو آزار پہنچانے کے لیے روز روانہ ہوئے اور ہمیشہ مجھے پہن کر گئے۔ میری طرف سے آپ کی فرماں برداری میں ذرا بھی کمی ہوئی ہو تو فرمائیے۔ مجھے ان باتوں سے تکلیف ہوئی مگر میں نے اطاعت سیمنہ نہ موڑا۔ میں نے ہر طرح سے مصیبتیں جھیلیں مگر آپ کی نافرمانی نہیں کی۔ اب اس کے مقابلے میں آپ اس کا ثبوت دیں کہ آپ بھی اپنے فرائضِ زندگی کو بے عذر وبے تامّل ادا کرتے رہے؟‘‘
اب میں بالکل لاجواب تھا۔ اس کے یاد دلانے سے زندگی بھر کے گناہ اور قصور میری آنکھوں کے سامنے پھر رہے تھے۔ کمال بے اختیاری سے قبول کرلینا پڑا کہ میں ہاراا ور تم جیتے۔ واقعی تم مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہو اور میں نے جو تمھاری تحقیر کی اسے معاف کرو۔
(عبدالحلیم شرر)
مشق
- لفظ ومعنی:
برہمی : ناراضگی
زبانِ حال : موجودہ حالت کے مطابق
ناگوار : ناپسند
حقیر : کم تر
نجاست : ناپاکی
آلودہ : گندہ، ناپاک
سرکش : باغی، مغرور، نافرمان
معزّز : عزّت والا
تجویز : رائے، مشورہ
فضیلت : بزرگی
نمودار : ظاہر
خلق اللہ : اللہ کی مخلوق
واعظانہ : نصیحت والی باتیں
مرشد : پیر
ولی اللہ : اللہ کے ولی
شکستگی : خراب حالت
سعادت مندی : فرماں برداری
حق نا آشنا : سچّائی نہ جاننے والا
درکنار : ایک طرف کر دینا
رسائی : پہنچ
مستعدی : چُستی پھُرتی، تیاری
سخن پروری : باتیں بنانے کی مہارت
تحقیر : بے عزّتی
پوستین : کھال کا کوٹ
واعظ : وعظ کرنے والا
پاپوش : جوتا
حقارت : ذلّت
ائمّہ : امام کی جمع
کوتاہی : غلطی
ایذا رسانی : تکلیف پہنچانا
اطاعت : فرماں برداری
عُذر : بہانہ
افضل : بزرگ، برتر
1. مصنّف جوتے پر کیوں جھنجھلایا؟
2. مصنّف کی برہمی پر جوتے نے کیا جواب دیا؟
3. مصنّف نے جوتے کو ذلیل شے کیوں کہا؟
4. جوتے کی کون سی باتیں واعظانہ تھیں؟
5. مصنف نے جوتے کو حقارت کی سب سے بڑی دلیل کیا بتائی؟
6. جوتے نے کن فرائضِ زندگی کا حوالہ دے کر مصنف کو لاجواب کر دیا؟
(الف) نیچے لکھے لفظوں کے متضاد لکھیے۔
ناگوار ناآشنا بے اختیار حقیر افضل ذلّت آبرو
(ب) نیچے دیے ہوئیمحاورں سے جملے بنائیے۔
دانت نکالنا عزیز رکھنا آنکھوں سے لگانا منھ نہ موڑنا
آبرو گھٹنا آنکھوں کے سامنے پھرنا
(ج) اس سبق میں جو تراکیب اضافت کے ساتھ آئی ہیں،ان کی نشاندہی کیجیے۔
- غور کرنے کی بات:
اس سبق کا عنوان ’مغرور جوتا‘ ہے لیکن جوتے نے کہیں بھی غرور کی بات نہیں کی ہے۔ اس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ زندگی کے فرائض انجام د ینے میں بغیر کسی صلے کے لگا رہا ہے۔جوتے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی چیز حقیر نہیں ہے۔برتری اور افضلیت اسی کو حاصل ہے جو اپنے فرائض انجام د ینے میں کوتاہی نہیں کرتا۔
- عملی کام:
سبق میں مصنف اور جوتے کے کچھ مکالموں کو اپنی زبان میں لکھیے۔