11
ڈراما
ڈراما ادب کی اہم صنف ہے۔اس کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں مگر اس کی ایک سادہ سی تعریف یہ ہے کہ ’’ڈراما کسی قصّے یا واقعے کو ادا کاروں کے ذریعے ،ناظرین کے روبرو عملاً پیش کرنے کا نام ہے۔‘‘ اس سے واضح ہوا کہ ڈراما ناول یا افسانے کی طرح صرف لکھنے یا پڑھے جانے تک محدود نہیں ہوتا ،اس کے لیے پیش کش ضروری ہے۔یہ مکمل تب ہوتا ہے جب اسے عملاً اسٹیج پر پیش کر دیا جائے۔ناول اور افسانے کی طرح ڈرامے میں بھی پلاٹ،کردار، مکالمہ اور کوئی نہ کوئی مرکزی خیال ہوتا ہے۔
ڈرامے کو دو حصّوںمیں تقسیم کیا گیاہے۔1۔المیہ(Tragedy)اور2۔طربیہ(Comedy)۔ ان دونوں عناصر، یعنی الم وطرب کے امتزاج سے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں۔
اردو ڈرامے کی ابتدا 1844 سے 1855 کے دوران واجد علی شاہ کی ڈرامائی پیش کش اور امانت ومداری لال کی اندر سبھاؤں سے لکھنؤ میں ہوئی مگر اسے عروج حاصل ہوا پارسی اسٹیج کے ڈراموں سے۔ جس زمانہ میں لکھنؤ اور اس کے گرد ونواح میں اندر سبھاؤں کی دھوم مچی ہوئی تھی،اسی زمانے میں ممبئی میں مغربی اثرات کے تحت ایک نئے قسم کا ڈراما وجود میں آرہا تھا جسے پارسی اسٹیج کا نام دیا گیا۔ یہ نام اسے اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کی ابتدا اور ترقی میں پارسیوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا تھا۔
پارسی اسٹیج کے ڈرامے بھی ابتدائی اردو ڈراموں کی طرح منظوم ہوتے تھے۔ ان میں رقص، موسیقی اور گانوں کا استعمال بھی ویسا ہی تھا مگر پیش کش کا انداز ابتدائی ڈراموں سے مختلف تھا۔اب اسٹیج کی پچھلی دیوار پر سین سینریوں والے پردے لگائے جانے لگے۔ہر ذیلی سین پر بھی پردہ گرنے اور اٹھنے لگا۔ اسٹیج پر طرح طرح کی مشینوں کا استعمال ہونے لگا۔ مکالموں میں دھیرے دھیرے نثر کا استعمال بڑھا۔ گانے کم ہو گئے۔فوق فطری واقعات اور کرداروں کے بجائے روز مرّہ زندگی کے واقعات اور مسائل ڈرامے کا موضوع بننے لگے۔
آغا حشر کا شمیری
(1876/1879 - 1931/1935)
آغا حشر بنارس میں پیدا ہوئے۔اصل نام محمد شاہ تھا۔انھوں نے عربی،فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔انگریزی تعلیم کے لیے اسکول بھی بھیجے گئے مگر پڑھنے لکھنے سے زیادہ ان کا دل سیر وتفریح اور شعر وشاعری کی محفلوں میں لگتا تھا۔وہ بہت ذہین تھے۔ جو کچھ پڑھتے حرف بہ حرف یاد ہو جاتا تھا۔
اس دور میں پارسی تھیڑ کی کمپنیاں شہر شہر گھوم کر ڈرامے دکھایا کرتی تھیں۔1897میں ’’الفریڈ جوبلی کمپنی‘‘ بنارس پہنچی۔ اس کے اہم ڈراما نگار احسن لکھنوی تھے۔ آغاحشر ڈرامے دیکھنے جاتے تو احسن سے ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ایک روز کسی بات پر احسن سے الجھ گئے اور یہ کہہ کر چلے آئے کہ ایسے ڈرامے تو میں ایک ہفتے میں لکھ سکتا ہوں۔ لہٰذا اپنا پہلا ڈراما ’’ آفتابِ محبّت‘‘ لکھا۔اس ڈرامے کی اشاعت سے ان کی بہت ہمّت افزائی ہوئی۔
ڈراما نگاری کے شوق میں آغا حشر ممبئی پہنچے تو وہاں ان کا مقابلہ کئی تجربہ کار ڈراما نگاروں سے ہوا۔چنانچہ انھوں نے ڈرامے لکھنے اور ادبی وعلمی لیاقت بڑھانے کے لیے خوب محنت کی۔ انھیں ڈراما نگار کی حیثیت سے پہلی ملازمت ’’ الفریڈ تھیئٹریکل کمپنی ‘‘ میں ہی ملی۔یہاں انھوں نے پہلا ڈراما ’’مریدشک‘‘ لکھا۔اس ڈرامے نے آغاحشر کو بہت جلد شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
فلمی کہانیوں کو شامل کرکے ان کے ڈراموں کی کل تعداد اڑتیس (38)ہے۔ ان کے ڈراموں میں تین طرح کے پلاٹ پائے جاتے ہیں جو مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں یا تاریخی اور نیم تاریخی واقعات پر مبنی ہیں۔’یہودی کی لڑکی‘ ’رستم و سہراب ‘ اور ’صیدِ ہوس‘ ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔
صیدِ ہوس
(آخری دربار)
(پردہ اُٹھتا ہے۔)
(نادر کا دربار لگا ہونا۔ نادر کا تخت پر بیٹھے نظر آنا۔ سنجر کو پابہ زنجیر دربار میں لایا جانا)
نادر : اخّاہ! بادشاہ سلامت تشریف لائے۔ حضور، تاج کو کیا ہوا جو ننگے سر آئے!
سنجر : تاج کی تم ایسے محتاجوں کو ضرورت ہے۔ ہمارا تاج ہماری شاہانہ صورت ہے۔
نادر : احمق یوں ہی اپنی عزّت، ذلّت میں دکھلاتے ہیں، کانٹے جتنے آگ میں جلتے ہیں وہ چٹخے جاتے ہیں۔
سنجر : مصیبت ہی میں پڑ کر شرافت اور شجاعت آشکار ہوتی ہے۔ تلوار کو جس قدر گھسو اتنی ہی چمک دار ہوتی ہے۔
نادر : سبحان اللہ! جتنی زبان چلتی ہے اگر اتنی تلوار چلائی ہوتی تو آج تجھے قسمت اِس ذلیل حالت سے میرے سامنے نہ لائی ہوتی۔
سنجر : انقلاب، زمانے کا دستور ہے۔ بہار کے بعد خزاں کا آنا ضرور ہے۔
نادر : باعثِ ذلّت ہے نخوت، گردشِ عالم نہیں
دم نہیں اور پھر سمجھنا میں کسی سے کم نہیں
سنجر : ٹھہر جا کیوں گھبراتا ہے۔ اب تیری بربادی کا وقت قریب آتا ہے۔
نادر : بد زبانوں کی طرح بد زبانی
سنجر : شیطانوں کی طرح بے ایمانی
نادر : عقل ہے تو انجام پر نظر کر
ٍسنجر : بندہ ہے تو خدا سے ڈر
نادر : دیکھ تو، قیدی ہے اور لاچار ہے۔
سنجر : لاچاروں کی مدد کرنے والا پروردگار ہے۔
نادر : اس نے مجھے تم پر قابو دیا ہے۔
سنجر : وہی موت اور جہنّم کو تجھ پر قابو دے گا۔
نادر : ادب کر، ورنہ بے رحم چھری تیری جان لے لے گی۔ یہ زبان میرے قدموں کے آگے کٹ کر پڑی ہوگی۔
سنجر : گر یہی ناپاک ارادے ہیں دلِ سفّاک کے
تیرے بھی وہ حال ہوں گے جو ہوئے ضحّاک کے
آج جن ہاتھوں سے میری کاٹتا ہے تو زباں
کل انھیں کو کاٹ کر کھائیں گے کیڑے خاک کے
نادر : بس بے ادب، خاموش!
سنجر : دِکھا بزدلوں کو یہ جوش وخروش!
نادر : نادان، مت اتنا گرم ہو۔
سنجر : نامرد ہے جو نرم ہو۔
(کئی سردار تلواریں لیے داخل ہوتے ہیں)
نادر : یہ آگئی تیری قضا۔
ایک سردار: بس ٹھہر جا اور پا سزا۔
(سرداروں کا چاروں طرف سے سنجر کو تلواروں میں گھیر لینا۔ سنجر کا خنجر نکالنا)
نادر : باغی، خود سر!
دوسرا سردار: پھینک خنجر!
(اچانک زار اور قزل کا مع چند افسروں کے آنا، سرداروں سے لڑنا اور نادر کو گرفتار کرنا)
قزل : بند رکھ اپنی زباں او بد گہر!
زار : ہو ذرا جنبش اگر
تو کاٹ دو ناپاک سر
نادر : او آنکھو ںمجھے یہ کیا نظر آتا ہے؟
سنجر : دیکھا، خدا اپنے لاچار بندوں کو اس طرح بچاتا ہے۔
نادر : افسوس صد ہزار افسوس!
قزل : خود غرض اب کیوں پچھتا تا ہے، جو دغا دیتا ہے وہی دغا پاتا ہے۔
سنجر : کلجگ نہیں کر جگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوٗب سودا نقد ہے اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے
زار : سنجر! اب کیا انتظار ہے۔ سانپ بھی موجود ہے اور یہ لوہے کی لاٹھی بھی سر کچلنے کے لیے تیار ہے۔
وہ سزا دیجیے کہ عبرت ہو زمانے کے لیے۔
نادر : رحم! رحم!
قزل : حضور! آپ اس پر رحم نہ کیجیے۔ اگر آپ کی مرضی ہے کہ دنیا کچھ دِن آرام سے جیے تو اس کو مرنے دیجیے۔
نادر : نہیں نہیں، خدا نے تمھیں رحم دل پیدا کیا ہے۔ تم ضرور بخش دو گے۔
سنجر : بخش دو اس کی جان۔
زار : سنجر،اِس کا قصور قابلِ معافی نہیں ہے۔
سنجر : بس آج سے یہ اپنی باقی زندگی قید میں کاٹے یہی سزا کافی ہے۔ ہٹاؤ میرے سامنے سے اسے، لے جاؤ۔
نادر : قسمت نے دی تھیں آنکھیں پر کچھ نہ دیکھا بھالا
لعنت ہو اس ہوس پر جس نے قفس میں ڈالا
زار : زینتِ عالم آئیے، یہ عزت کا تاج پہن کر تخت پر بیٹھیے اور انصاف کا سکّہ چلائیے۔
(سنجر کو تاج پہنانا)
سنجر : جن ہاتھوں سے تاج عنایت کیا ہے، ان ہاتھوں کو خدا سلامت رکھے۔
(پردہ گرتا ہے)
(آغا حشر کا شمیری)
مشق
- لفظ ومعنی:
صید ہوس : ہوس کا شکار
پابہ زنجیر : زنجیروں سے جکڑے ہوئے پاؤں
محتاج : لاچار، ضرورت مند
احمق : بے وقوف
شجاعت : بہادری
آشکار : ظاہر
سبحان اللہ : اللہ پاک ہے،مراد تعریفی کلمہ
دائم : ہمیشہ قائم رہنے والا
باعث : سبب
نخوت : غرور
ضحاک : ایک ظالم بادشاہ جس کے شانوں پر دو سانپ مسلّط رہتے تھے۔یہ کردار فردوسی کے
شاہنامہ میں ہے۔
گردشِ عالم : زمانے کا اُلٹ پھیر
پرور دگار : پالنے والا، مراد خدا
قضا : موت
دلِ سفّاک : سخت دل
باغی : بغاوت کرنے والا
خودسر : مغرور
بدگہر : مراد بد قسمت
جنبش : حرکت
صد : سو
عبرت : سیکھ،سبق
قفس : پنجرا،قید خانہ
زینتِ عالم : دنیا کو رونق بخشنے والا
عنایت : مہربانی
سلامت رکھنا : محفوظ رکھنا
1. ننگے سر آنے پر سنجر نے نادر کو کیا جواب دیا؟
2. سنجر نے یہ کیوں کہا کہ انقلاب زمانے کا دستور ہے؟
3. نادر نے سنجر کو بے ادب کیوں کہا؟
4. کلجگ اور کرجگ میں کیا فرق ہے؟
5. آخر میں سنجر نے نادر کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
- زبان و قواعد:
(الف) مصیبت ہی میں پڑ کر شرافت اور شجاعت آشکار ہوتی ہے۔
تلوار کو جس قدر گھِسو،اتنی ہی چمکدار ہوتی ہے۔
(ب) انقلاب زمانے کا دستور ہے،بہار کے بعد خزاں کا آنا ضرور ہے۔
ان جملوں میں آشکار اور چمکدار ،دستور اور ضرور
ایسے الفاظ ہیں جو ایک ہی آواز اور ایک ہی وزن پر ختم ہوتے ہیں۔ انھیں ’ قافیہ ‘کہتے ہیں۔
نثر کے جملوں میں ہم قافیہ الفاظ سے سجی عبارت ’’مقفّیٰ نثر ‘‘ کہلاتی ہے۔
- غور کرنے کی بات:
(الف) مصیبت ہی میں پڑ کر شرافت اور شجاعت آشکار ہوتی ہے۔
(ب) انقلاب زمانے کا دستور ہے۔ بہار کے بعد خزاں کا آنا ضرور ہے۔
- سعملی کام:
اسکول کے کسی جلسے میں اس ڈرامے کو اسٹیج کیجیے۔