Skip to content
nawa e urdu Chapter-12

12


سید مبارزالدّین رفعت

(1918 — 1976)

  سید مبارزالدّین نام ’رفعت عرفیت‘ حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نظام الدین، محکمہ جنگلات میں ملازم تھے۔ اس لیے ان کا بیشتر وقت سفر میں گُزرتا تھا۔ مبارزالدین ان کے ساتھ رہتے تھے اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم مختلف مقامات     پر ہوئی۔انھوں نے 1936 میں میٹرک اور بعد میں بی۔ اے کیا۔ 1943 میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے فارسی میں ایم۔ اے کیا۔وہ تمام عُمر درس و تدریس کے کام سے وابستہ رہے۔
اُن کی تقریباً 30 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں تراجم بھی شامل ہیں۔

اجنتا اور ایلورا

آپ نے پہاڑ دیکھے ہوں گے لیکن ایسے پہاڑ بہت کم ہیں جن کے اندر انھیں سے تراشی ہوئی مورتیاں ہوں، چاروں طرف تصویریں بنی ہوں اور ان کی شکل بھی غار کی سی ہو۔ مہاراشٹر میں اورنگ آباد کے قریب اجنتا اور ایلورا کے غار ایسے ہی ہیں۔ یہ قدرتی نہیں ہیں بلکہ چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں۔ یہ غار بہت پرانے ہیں لیکن دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں آج ہی بنایا گیا ہے۔
pic 2 chap[ter 12
اجنتا میں سب سے پرانے غار تو وہ ہیں جو آج سے تقریباً بائیس سو سال پہلے بنائے گئے تھے۔ پھر آخری غار وہ ہیں جو چھٹی صدی عیسوی میں بنے تھے۔ اس طرح یہ غار تقریباً آٹھ سو سال میں بنے ہیں۔ ان کے بنانے میں کئی نسلوں نے حصّہ لیا۔
ایک وسیع ہال میں مہاتما بدھ کا ایک بڑا مجسمہ بنا ہوا ہے۔ دیواروں پر مہاتما بدھ کے پچھلے جنموں کی کہانیاں تصویروں کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ چھتوں پرنازک نازک بیل بوٹوں کے نقش ونگار ہیں۔ یہاں ایک استوپ ہے جس میں مہاتما بدھ کا مقدّس بال اور چتا کی راکھ محفوظ ہے۔ یہاں بھکشو عبادت کرتے تھے، ساتھ ساتھ تصویریں بنانے کا کام بھی کرتے تھے۔ غاروں میں اندھیرا تو تھا ہی، اس لیے تصویریں بنانے میں خاصی مشکل پیش آتی تھی۔ چنانچہ غار کے منھ پر فولاد کے صیقل کیے ہوئے بڑے بڑے آئینے رکھ دیے جاتے۔ جب اُن پر سورج کی کرنیں پڑتیں تو اُن کا عکس غاروں کے اندر پڑتا اور یہی نہیں بلکہ غار کے اندر بھی اس طرح کے اور آئینے رکھ دیے جاتے پھر اُن پر باہر کے آئینوں کا عکس پڑتا اور یوں غار میں ہر طرف روشنی ہوجاتی تھی۔ یوں تو مشعل جلاکر بھی روشنی کی جاسکتی تھی لیکن مشعل کے دھوئیں سے بنی ہوئی تصویریں خراب ہوسکتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے مشعلیں استعمال نہیں کیں۔
اجنتا میں تقریباً ایک ہزار برس تک بڑی پُر سکون زندگی رہی۔ بھکشوؤں کی کئی نسلیں آئیں اور گزر گئیں۔ اجنتا میں غار بنتے رہے۔ مشہور چینی سیّاح ہیون سانگ ساتویں صدی عیسوی میں یہاں آیا تھا، اُس نے اپنے سفر نامے میں ان غاروں کی بہت تعریف کی ہے۔
pic 3 chap[ter 12
زمانہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ دھیرے دھیرے ہندوستان میں بدھ مت کے ماننے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اجنتا میں بھی کوئی باقی نہ رہا۔ لوگوں کے دلوں سے بھی آہستہ آہستہ اس کی یاد مٹ گئی اور سیکڑوں برس تک لوگوں کو ان غاروں کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہ چل سکا۔ جب انگریز ہندوستان آئے اور 1819میں انگریزوں اور مرہٹوں کے درمیان انھیں پہاڑیوں کے آس پاس لڑائی چھڑی تو انگریزی فوج کے سپاہی اس وادی کو ایک اچھا مورچہ جان کر اس کے اندر اتر گئے۔ یہاں پہنچے تو انھیں غاروں کا بیرونی حصہ نظر آیا۔ یہ غار مٹی سے اٹے پڑے تھے۔ کچھ سپاہی ان غاروں میں گھس گئے اور ان کے اندر تصویریں دیکھ کر حیران ہوئے اور پھر جلدی ہی ان کی شہرت پھیل گئی۔ بڑے بڑے مصورّوں نے ان کی تصویریں تیار کیں۔ ان تصویروں کی لندن اور پیرس میں نمائش ہوئی، غاروں کو صاف کیا گیا تاکہ لوگ ان کو دیکھنے کے لیے آسکیں۔
ایلورا کے غار بنانے والوں کو اجنتا کے غاروں جیسا دل کش منظر تو نہ مل سکا، تاہم قدرتی مناظر کے لحاظ سے یہ مقام بھی اچھّا ہے۔ ایلورا میں کل ملا کر چونتیس غار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایلورا کے غار بنانے والوں کے ہاتھ میں پتھر بھی موم ہوگیا تھا۔ پتھر کو انھوں نے جس طرح چاہا تراشا، بنایا، سنوارا اور اپنے جذبے کی آنچ اس میں شامل کردی۔ کیلاش کا مندر ایلورا کے غاروں کی جان ہے۔ یہ مندر راشٹر کوٹ کے راجا کرشنا کی سرپرستی میں بنا تھا۔ اس کے پرکھوں نے یہاں ایک مندر بنوایا تھا۔ راجا کرشنا کو یہ بہت پسند آیا۔ اُس نے حکم دیا کہ ایسا ہی مندر بنایا جائے۔ چناں چہ ایک بہت بڑی چٹان کاٹ کر اس میں کیلاش مندر کو بنانے میں کئی لاکھ ٹن پتھر باہر نکالنا پڑا۔
ایلورا کے مندر بھی کئی سو برس میں بن پائے۔ یہ غار اجنتا کی طرح نظروں سے اوجھل تو نہیں ہوئے لیکن ان کی اہمیت ختم ہوگئی تھی۔ جگہ جگہ مورتیاں ٹوٹ پھوٹ گئی تھیں۔محکمۂ آثار قدیمہ کی توجہ کے سبب اب اس جگہ کی رونق بڑھ گئی ہے۔

                                                               (سیّد مبارزالدّین رفعت)

                                        مشق

  • لفظ ومعنی:
  • نقش ونگار                    :      بیل بوٹے
    بِھکشو                          :      بدھ مت کا درویش
    صیقل کرنا                    :     پالش کرنا،چمکانا
    عکس                           :     سایہ، پرچھائیں
    وسیع                           :     پھیلا ہوا
    وادی                          :      گھاٹی، پہاڑوں کے درمیان کی جگہ
    بیرونی                         :      باہری
    سیّاح                           :      سیر کرنے والا
    مناظر                          :      منظر کی جمع، نظارے
    دل کش                      :       دل کو کھینچنے والا، خوب صورت
    اوجھل ہونا                  :       نظر سے غائب ہونا
    محکمہ آثار قدیمہ           :       حکومت کا وہ شعبہ جو پرانی عمارتوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

    • سوالات:

    1.   اجنتا اور ایلورا کے غار کہاں واقع ہیں؟
    2.   اجنتا کے غار بنانے میں کتنا عرصہ لگا؟
    3.  بھکشو استوپ عبادت کے ساتھ اور کیا کام کرتے تھے؟
    4.   غاروں میں روشنی کے لیے کیا انتظام کیا گیا؟
    5.   کس سیاح نے اپنے سفر نامے میں ان غاروں کاذکر کیا ہے؟
    6.   ان غاروں کا پتہ کب اور کیسے چلا؟
    7.   ایلورا کے غاروں میں مشہور مندر کون سا ہے؟

    • زبان و قواعد:

    ’کیلاش کا مندر ایلورا کے غاروں کی جان ہے۔‘
    اس جملے میں کیلاش ،مندر،ایلورا،غار یہ چاروں اسم ہیں لیکن کیلاش کا مندر اور ایلورا کے غار کہہ کر مندر اور غار کو خاص کر دیا۔ایسا لفظ جو کسی خاص شے ،خاص جگہ،یا خاص شخص کے لیے استعمال ہو اسے اسمِ خاص کہتے ہیں۔اس جملے میں کیلاش کا مندر اور ایلورا کے غار ’’اسم خاص‘‘ ہیں۔
    اس کے برخلاف وہ لفظ جو کسی عام شے،عام جگہ اور عام شخص کے لیے استعمال ہو، اُسے اِسم عام کہتے ہیں۔جیسے کتاب، شہر،لڑکاآپ بھی ’اسم خاص‘ اور ’اسم عام‘ کی چار مثالیں پیش کیجیے۔

    •   نیچے دیے گئے جملوں کی وضاحت کیجیے:

    1.   زمانہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔
    2. ایلورا کے غار بنانے والوں کے ہاتھ میں پتھّر بھی موم ہوگیا تھا۔
    3. پتھروں کو انھوں نے جس طرح چاہا تراشا، بنایا اور سنوارا اور اپنے جذبے کی آنچ اس میں شامل کردی۔

    نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

                      مجسّمہ نقش و نگار مقدّس صیقل عکس   مشعل    آثار

    • غور کرنے کی بات:

    اجنتا، ایلورا کے غار قدرتی نہیں ہیں بلکہ چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں۔ جنھیں ہم انسانی ہنر مندی کا اعلیٰ نمونہ کہہ سکتے ہیں۔

    • عملی کام:

    اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی خصوصیات کے بارے میں چند جملے لکھیے۔