13
کرشن چندر
(1977 – 1914)
کرشن چندر وزیر آباد، ضلع گجراں والا،پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پونجھ،کشمیر میں ہوئی۔1930ء کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لا ہور گئے۔ 1934ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے پھر ممبئی کی فلمی دنیا سے منسلک ہو کر آخری وقت تک ممبئی ہی میں رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ترقی پسند تحریک سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے، ان میں ایک اہم نام کرشن چندر کا بھی ہے۔
کرشن چندر بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن انھوں نے ناول، ڈرامے،رپورتاژ اور مضامین بھی لکھے ہیں۔
ان کی مقبولیت کا سبب ان کی حقیقت پسندی، رومانیت اور خوب صورت اندازِ بیان ہے۔’یوکلپٹس کی ڈالی‘ ،مہا لکشمی کا پُل‘ ’اَن داتا‘ ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔
ان کے ناولوں میں ’’شکست‘‘،’’جب کھیت جاگے‘‘اور ’’آسمان روشن ہے‘‘کے علاوہ ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔
جامن کا پیڑ
رات کو بڑے زور کا جھکّڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گِر پڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑا ہے۔
مالی دوڑادوڑا چپراسی کے پاس گیا۔چپراسی دوڑادوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا دوڑا لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع اکھٹا ہو گیا۔
’’بے چارا جامن کا پیڑ، کتنا پھل دار تھا۔ایک کلرک بولا۔’’اور اس کی جامنیں کتنی رسیلی تھیں!‘‘ دوسرا کلرک یاد کرتے ہوئے بولا۔
’’میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر کے لے جاتا تھا۔میرے بچّے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔‘‘ تیسرا کلرک تقریباً آب دیدہ ہو کر بولا۔
’’مگر یہ آدمی؟‘‘ مالی نے دبے ہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہاں یہ آدمی!‘‘ سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔
’’پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا؟‘‘ ایک چپراسی نے پوچھا۔
’’مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جس کی پیٹھ پر گِرے وہ بچ کیسے سکتا ہے؟‘‘ دوسرا چپراسی بولا۔
’’نہیں میں زندہ ہوں۔‘‘دبے ہوئے آدمی نے بہ مشکل کراہتے ہوئے کہا۔
’’زندہ ہے‘‘ ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔
’’درخت کو ہٹا کر اسے جلدی سے نکال لینا چاہیے۔‘‘مالی نے مشورہ دیا۔
’’مشکل معلوم ہوتاہے‘‘ ایک کا ہل اور موٹا چپراسی بولا۔’’ درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔‘‘
’’کیا مشکل ہے‘‘مالی بولا’’اگر سپرنٹنڈنٹ صاحب حکم دیں تو ابھی پندرہ بیس مالی چپراسی اور کلرک لگا کر درخت کے نیچے سے دبے ہوئے آدمی کو نکالا جا سکتا ہے۔‘‘
’’مالی ٹھیک کہتا ہے‘‘بہت سے کلرک ایک دم بول پڑے۔ ’’لگاؤ زور ہم سب تیار ہیں۔‘‘
ایک دم بہت سے لوگ درخت اٹھانے پر تیار ہو گئے۔’’ٹھہرو!‘‘ سپرنٹنڈنٹ بولا ’’ میں انڈر سکریٹری سے مشورہ کر لوں۔‘‘
سپرنٹنڈنٹ انڈر سکریٹری کے پاس گیاانڈر سکریٹری ڈپٹی سکریٹری کے پاس گیا۔ ڈپٹی سکریٹری جوائنٹ سکریٹری کے پاس گیا۔جوائنٹ سکریٹری چیف سکریٹری کے پاس گیا۔چیف سکریٹری منسٹر کے پاس گیا۔منسٹر نے چیف سکریٹری سے کچھ کہا۔چیف سکریٹری نے جوائنٹ سکریٹری سے کچھ کہا۔ جائنٹ سکریٹری نے ڈپٹی سکریٹری سے کچھ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نے انڈر سکریٹری سے کچھ کہا۔فائل چلتی رہی، اسی میں آدھادن گذر گیا۔
دوپہر کے کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ ہو گئی تھی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ وہ حکومت کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر درخت کو خود ہٹا دینے کا تہیّہ کر رہے تھے کہ اتنے میں سپرنٹنڈنٹ فائل لیے بھاگابھاگا آیا۔بولا’’ہم لوگ خود سے اس درخت کو یہاں سے نہیں ہٹا سکتے ،ہم محکمہ تجارت سے متعلق ہیں اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمۂ زراعت کی تحویل میں ہے۔اس لیے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کر کے محکمۂ زراعت میں بھیج رہا ہوں۔وہاں سے جواب آتے ہی اس درخت کو ہٹوا دیا جائے گا۔‘‘ دوسرے دن محکمۂ زراعت سے جواب آیا کہ درخت محکمۂ تجارت کے لان میں گرا ہے،اس لیے اس درخت کو ہٹوانے کی ذمہ داری محکمۂ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔
یہ جواب پڑھ کر محکمۂ تجارت کو غصہ آگیا۔انہوں نے فوراً لکھا کہ پیڑوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمۂ زراعت پر عائد ہوتی ہے ،محکمۂ تجارت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔ شام کو جواب آگیا۔ہم اس معاملے کو ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ کے سپر دکر رہے ہیں کیوں کہ یہ پھل دار درخت کا معاملہ ہے اور ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملوں میں فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ جامن کا پیڑ ایک پھل دار پیڑ ہے۔ اس لیے یہ پیڑ ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال بھات کھلایا۔حالانکہ لان کے چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا کہ کہیں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر درخت کو خود سے ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔مگر ایک پولیس کا نسٹبل کو رحم آگیا اور اس نے مالی کو دبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔
مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا،’’تمہاری فائل چل رہی ہے۔امید ہے کہ کل تک فیصلہ ہو جائے گا۔‘‘
دبا ہوا آدمی کچھ نہ بولا۔
مالی نے پیڑ کے تنے کو غور سے دیکھ کر کہا’’ خیریت گذری کہ تنا تمھارے کولھے پر گرا اگر کمر پر گرتا تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔‘‘
دبا ہوا آدمی پھر بھی کچھ نہ بولا۔
مالی نے پھر کہا،’’تمھارے یہاں کوئی وارث ہے تو مجھے اس کا اتا پتا بتاؤ میں انہیں خبر دینے کی کوشش کروں گا۔‘‘
’’میں لاوارث ہوں۔‘‘ دبے ہوئے آدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔ مالی افسوس ظاہر کرتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔
تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آگیا۔ بڑا کڑا جواب تھا اور طنز آمیزہارٹی کلچرل سکریٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔اس نے لکھا تھا ۔حیرت ہے اس سمے جب ہم درخت اگاؤ مہم بڑے پیمانے پر چلا رہے ہیں، ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درختوں کو کاٹنے کا مشورہ دیتے ہیں اور وہ بھی پھل دار درخت کو، اور وہ بھی جامن کے درخت کو جس کے پھل عوام بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔
ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھل دار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
’’اب کیا کیا جائے؟ ایک من چلے نے کہا‘‘ اگر درخت کاٹا نہیں جا سکتا تو آدمی کو کاٹ کر نکال لیا جائے۔ ’’یہ دیکھیے۔‘‘ اس آدمی نے اشارے سے بتایا’’اگر اس آدمی کو عین بیچ میں سے یعنی دھڑ کے مقام سے کاٹا جائے توآدھا آدمی ادھر سے نکل جائے گا آدھا آدمی ادھر سے باہر آجائے گااور درخت وہیں رہے گا!
’’مگر اس طرح سے میں مر جاؤں گا۔‘‘دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔
’’یہ بھی ٹھک کہتا ہے۔‘‘ایک کلرک بولا۔
آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزوراحتجاج کیا۔’’آپ جانتے نہیں ہیں آج کل پلاسٹک سرجری کتنی ترقی کر چکی ہے؟میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر اس آدمی کو بیچ سے کاٹ کر نکال لیا جائے تو پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سے جوڑا جا سکتا ہے۔‘‘
اب کے فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے فوراً اس پر ایکشن لیا اور جس دن فائل ان کے محکمے میں پہنچی ، اس کے دوسرے ہی دن انھوں نے اپنے محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کے لیے بھیج دیا۔ سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول کر، اس کی صحت دیکھ کر خون کا دباؤ، سانس کی آمد ورفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ کرکے رپورٹ بھیج دی کہ اس آدمی کا پلاسٹک آپریشن تو ہو سکتا ہے اور آپریشن کا میاب ہو جائے گا مگر آدمی مر جائے گا۔
لہٰذا یہ تجویز بھی ردّ کر دی گئی۔
رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منہ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے بتایا۔’’اب معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔ سنا ہے کہ کل سکریٹریٹ کے سارے سکریٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمھارا بھی کیس رکھا جائے گا۔امید ہے سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
دبا ہوا آدمی ایک آہ بھر کر آہستہ سے بولا۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
مالی نے اچنبھے سے منہ میں انگلی دبائی۔حیرت سے بولا۔’’ کیا تم شاعر ہو؟‘‘
دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا۔
چپراسی نے کلرک کو، کلرک نے ہیڈ کلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سکریٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے۔ بس پھر کیا تھا لوگ جوق درجوق شاعر کو دیکھنے آنے لگے۔اس کی خبر شہر میں پھیل گئی اور شام تک محلّے محلّے سے شاعر جمع ہونا شروع ہو گئے۔سکریٹریٹ کا لان بھانت بھانت کے شاعروں سے بھر گیا اور دبے ہوئے آدمی کے گرد ایک مشاعرہ بپا ہو گیا۔سکریٹریٹ کے کئی کلرک اور انڈر سکریٹری تک جنھیں ادب اور شعر سے لگاؤتھا،رک گئے۔ کچھ شاعر دبے ہوئے آدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔کئی کلرک اس سے اپنی غزلوں پر اصلاح لینے پر مصر ہونے لگے۔
جب پتا چلا کہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے تو سکریٹریٹ کی سب کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چوں کہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے لہٰذا اس فائل کا تعلق نہ ایگر یکلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے بلکہ صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے۔ کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعا کی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکے بدنصیب شاعر کو اس شجرِ سایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔
فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گذرتی ہوئی ادبی اکیڈمی کے سکریٹری کے پاس پہنچی۔بیچارہ سکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہو کر سکریٹریٹ پہنچا اور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا!
’’ تم شاعر ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جی ہاں‘‘ دبے ہوئے آدمی نے جواب دیا۔
کیا تخلص کرتے ہو؟
’’اوسؔ‘‘
’’کیا تم وہی اوسؔ ہو،جس کا مجموعۂ کلام ’اوس کے پھول‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے؟‘‘
دبے ہوئے شاعر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
کیا تم ہماری اکیڈمی کے ممبر ہو؟‘‘
’’نہیں‘‘
’’حیرت ہے‘‘! سکریٹری زور سے چیخا۔‘‘اتنا بڑا شاعر، ’’اوس کے پھول‘‘ کا مصنّف اور ہماری اکیڈمی کا ممبر نہیں ہے، اف اف کیسی غلطی ہو گئی ہم سے۔ کتنا بڑا شاعر اور کیسے گوشۂ گم نامی میں دبا پڑا ہے۔‘‘
’’گم نامی میں نہیں، ایک درخت کے نیچے دبا ہوں،براہ کرم مجھے اس پیڑ کے نیچے سے نکالیے۔‘‘
’’ابھی بند وبست کرتا ہوں۔‘‘ سکریٹری فوراً بولا اور فوراً جا کر اس نے اپنے محکمے میں رپورٹ کی۔
دوسرے دن سکریٹری بھاگا بھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا۔’’مبارک ہو مٹھائی کھلاؤ، ہماری سرکاری اکیڈمی نے تمھیں اپنی مرکزی کمیٹی کا ممبر چن لیا ہے۔یہ لو پروانۂ انتخاب۔‘‘
’’مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تو نکالو۔‘‘دبے ہوئے آدمی نے کراہ کر کہا۔’’ اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ شدید تشنّج اور کرب میں مبتلا ہے۔‘‘
’’یہ ہم نہیں کر سکتے۔‘‘ سکریٹری نے کہا اور جو ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کر دیا ہے بلکہ ہم تو یہاں تک کر سکتے ہیں کہ اگر تم مر جاؤ تو تمھاری بیوی کو وظیفہ دے سکتے ہیں۔اگر تم درخواست دو تو ہم وہ بھی کر سکتے ہیں۔‘‘
’’میں ابھی زندہ ہوں۔‘‘ شاعر رک رک کر بولا۔’’مجھے زندہ رکھو۔‘‘
’’مصیبت یہ ہے کہ‘‘ سرکاری ادبی اکیڈمی کا سکریٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا،’’ ہمارا محکمہ صرف کلچر سے متعلق ہے۔ درخت کاٹنے کا معاملہ قلم دوات سے نہیں آری کلہاڑی سے متعلق ہے۔ اس کے لیے ہم نے فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کو لکھ دیا ہے اور ارجنٹ لکھا ہے۔‘‘
فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی نے آکر دبے ہوئے آدمی کو بتایا کہ کل فاریسٹ ڈپاٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں گے اور تمھاری جان بچ جائے گی۔
مالی بہت خوش تھا ۔دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لیے لڑے جا رہا تھا۔کل تک صبح تک کسی نہ کسی طرح اسے زندہ رہنا تھا۔
دوسرے دن جب فارسٹ ڈپاٹمنٹ کے آدمی آری کلہاڑی لے کر پہنچے تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا۔ معلوم ہوا محکمۂ خارجہ سے یہ حکم آیا تھا کہ درخت نہ کاٹا جائے۔ وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹوٹیہ کے وزیر اعظم نے سکریٹریٹ کے لان میں لگایا تھا۔ اب اگر اس درخت کو کاٹا گیا تو اس امر کا شدید اندیشہ تھا کہ حکومت پی ٹوٹیہ سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لیے بگڑ جائیں گے۔
مگر ایک آدمی کی جان کا سوال ہے۔ ایک کلرک غصّے سے چلّایا۔
’’دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے۔‘‘ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا۔اور یہ بھی تو سمجھو کہ حکومت پی ٹوٹیہ ہماری حکومت کو کتنی مدد دیتی ہے۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کر سکتے۔
شاعر کو مر جانا چاہیے۔
’’بلا شبہ‘‘
انڈر سکریٹری نے سپرِ نٹنڈنٹ کو بتایا۔آج صبح وزیر اعظم دورے سے واپس آگئے ہیں۔ آج چار بجے محکمۂ خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنے پیش کرے گا۔جو فیصلہ وہ دیں گے وہی سب کو منظور ہوگا۔
شام کے پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لے کر ان کے پاس آیا ’’سنتے ہو؟‘‘
آتے ہی وہ خوشی سے فائل کو ہلاتے ہوئے چلّایا’’وزیر اعظم نے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ اس واقعے کی ساری قومی ذمّہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ کل یہ درخت کاٹ دیا جائے گا اور تم مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لوگے۔
سنتے ہو آج تمھاری فائل مکمل ہو گئی‘‘ ۔سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلا کر کہا۔
مگر شاعر کا ہاتھ سر د تھا۔ آنکھوں کی پتلیاں بے جان اور چیو نٹیوں کی ایک لمبی قطار اس کے منہ میں جا رہی تھی۔
اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہو چکی تھی۔
(کرشن چندر)
مشق
جھکّڑ : تیزہوا کا جھونکا
مجمع : بھیڑ،ہجوم
آب دیدہ : آنسوؤں سے بھری آنکھیں
تہیّہ : پکّا ارادہ
تحویل : قبضہ،سپردگی،حوالہ
محکمۂ زراعت : کھیتی باڑی کا محکمہ
عائد ہونا : لاگو ہونا
مجاز : اختیار حاصل ہونا
وارث : حق دار
لاوارث : جس کا کوئی وارث نہ ہو
طنز آمیز : طنز سے بھرا
ادبی مزاج : ادبی ذوق رکھنے والا
مہم : مشکل کام،بڑا کام، مِشن
رغبت : شوق
احتجاج کرنا : کسی بات کے خلاف آواز اٹھانا
تجویز : رائے
تحقیقات : تحقیق کی جمع،چھان بین
تغافل : بے پرواہی ، غفلت
خاک ہونا(محاورہ) : مٹّی میں مل جانا،مرنا
جوق در جوق : گر وہ کے گروہ
بپا ہونا : برپا ہونا
مُصر : اصرار کرنے والا
اِستدعا : در خواست
شجر سایہ دار : سایہ دار پیڑ
مجموعہ کلام : شاعری کا مجموعہ
اِثبات : اقرار ،ہاں
گوشہ : کونا
براہ کرم : مہربانی کرکے
پروانۂ انتخاب : کسی بھی ملازمت کے لیے منتخب ہونے کا اطلاعی خط
تشنج : تناؤ
کرب : درد، تکلیف
اندیشہ : خطرہ،ڈر
1. پیڑ کے نیچے دبے ہوئے آدمی کو فوراً کیوں نہیں نکالا گیا؟
2. پیڑ کاٹنے کے لیے ایک محکمے سے دوسرے محکمے کا چکّر کیوں کاٹا جا رہا ہے؟
3. یہ پتا چلتے ہی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے، وہاں بھیڑ کیوں لگ گئی ؟
4. فائل محکمہ خارجہ میں کیوں بھیجی گئی؟
5. ادبی اکیڈیمی کے سکریٹری نے دبے ہوئے آدمی کی کیا مدد کی؟
6. کرشن چندر نے اس افسانے میں کس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے؟
- زبان و قواعد:
(الف) اس سبق سے اسم فعل اور ضمیر تلاش کرکے لکھیے۔
(ب) نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
فوراً تقریباً درخت جوق درجوق فیصلہ
- عملی کام:
کرشن چندر کے دوسرے افسانوں کا مطالعہ کیجیے۔