14
محمد حسین آزاد
(1829 – 1910)
محمد حسین آزاد اردو کے اہم ادیب اور شاعر تھے۔ وہ مشہور شاعر استاد ذوق کے شاگرد اور دہلی اردو اخبار کے مدیر مولوی محمد باقر کے بیٹے تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ابتدامیں انھوں نے ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ آخر میں وہ لاہور میں محکمۂ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔
لاہور میں انھوں نے انجمن پنجاب کی زیرنگرانی ایک نئے انداز کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی جس میں شاعروں کو عنوانات دیے جاتے تھے اور انھیں عنوانات پر شعرا نظمیں سناتے تھے۔یہیں سے اردو جدید نظم نگاری یا جدید شاعری کا آغاز ہوا۔
محمد حسین آزاد ایک اچھے شاعر،ایک مشہور نثرنگار اور تذکرہ نگار تھے۔انھوں نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ’آبِ حیات‘،’درباراکبری‘،’نیر نگ خیال‘،’سخن دان فارس‘ وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔محمد حسین آزاد صاحب طرز ادیب ہیں۔ان کی نثر شگفتہ اور سجی سنوری ہوتی ہے۔
اس کتاب میں شامل سبق ’خانِ خاناں کی فیّاضی‘ ان کی کتاب ’دربارِ اکبری‘ سے لیا گیا ہے۔
خانِ خاناں کی فیّاضی
خانِ خاناں جوٗد وکرم کے باب میں بے اختیار تھا۔ ہمّت اور حَوصلے کے جوش فوّارے کی طرح اُچھلے پڑتے تھے اور عطا اور انعام کے لیے بہانہ ڈھونڈتے تھے۔ اس کی امیرانہ طبیعت بلکہ شاہانہ مزاج کی تعریفوں میں شعراء اور مصنّفوں کے لب، خُشک ہیں۔ علما، صلحا، فقرا، مشائخ وغیرہ سب کو ظاہر اور خُفیہ ہزاروں روپیے اور اشرفیاں، دولت ومال دیتا تھا اور شعرا اور اہلِ کمال کا تو مائی باپ تھا۔ جو آتا ان کی سرکار میں آکر اِس طرح اُترتا جیسے اپنے گھر میں آگیا اور اتنا کُچھ پاتا تھا کہ بادشاہ کے دربار میں جانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔
اس کی سخاوتوں کے کارنامے اکثر لطیفوں اور حکایتوں کے رنگ وبو میں محفلوںاور جلسوں پر پھوٗل برساتے ہیں۔ میں بھی اس کے گل دستوں سے دربارِ اکبریؔ کو سجاؤں گا۔ شعرا نے جتنے قصیدے اس کی تعریف میں کہے ہیں، اکبرؔہی کی تعریف میں کہے ہوں تو کہے ہوں، اور اس نے بھی انھیں لاکھوں انعام دیے۔ گُنوان پنڈت، کوی بلکہ بھاٹ، ہزاروں اشلوک، دوہرے، کبت کہہ کرلاتے تھے اور ہزاروں لے جاتے تھے۔ انعام میں بھی وہ نزاکت ولطافت کے انداز دکھاگیا کہ آئندہ دینے والوں کے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں۔
خانِ خاناں کا دستر خوان نہایت وسیع ہوتا تھا۔ کھانے رنگا رنگ کے تکلّفات سے رنگین اور اس کے فیضِ سخاوت کی طرح اہلِ علم کے لیے عام تھے۔ جب دسترخوان پر بیٹھتا تھا، مکانوں میں درجہ بدرجہ بندگانِ خدا بیٹھتے تھے اور لذّت سے کامیاب ہوتے تھے۔ اکثر کھانوں کی رکابیوں میں کسی میں کچھ روپیے، کسی میں کچھ اشرفیاں رکھ دیتے تھے جو جس کے نوالے میں آئے، اُس کی قسمت۔
ایک دفعہ پیش خدمتوں میں کوئی نیا شخص ملازم ہوا تھا۔ دسترخوان آراستہ ہوا۔جب خانِ خاناں آکر بیٹھا، سیکڑوں امرا اور صاحبانِ کمال موجود تھے، کھانے میں مصروف ہوئے۔ اُس وقت وہی پیش خدمت خانِ خاناں کے سر پر رومال ہلا رہا تھا۔ یکایک رونے لگا۔ سب حیران ہوگئے۔ خان خاناں نے حال پوچھا۔ عرض کی کہ میرے بزرگ صاحبِ امارت اور دست گاہ تھے، میرے باپ کو بھی مہمان نوازی کا بڑا شوق تھا، مجھ پر زمانے نے یہ وقت ڈالا۔ اِس وقت آپ کا دسترخوان دیکھ کر وہ عالم یاد آگیا۔ خانِ خاناں نے بھی افسوس کیا۔ ایک مُرغِ بریاں سامنے رکھا تھا، اُس پر نظر جا پڑی، پوچھا بتاؤ مُرغ میں کیا چیز مزے کی ہوتی ہے؟ اُس نے کہا، پوست۔ خانِ خاناں نے کہا سچ کہتا ہے۔ لُطف ولذّت سے باخبر ہے۔ مُرغ کی کھال اُتار کر پکاؤ تو کیسا ہی تکلف سے پکاؤ وہ لذت اور نمکینی نہیں رہتی۔ بہت خوش ہوا۔ دسترخوان پر بٹھا لیا، دِل جوٗئی کی اور مصاحبوں میں داخل کر لیا۔
دوسرے دن دسترخوان پر بیٹھے تو ایک اور خدمت گار رونے لگا۔ خانِ خاناں نے اس سے بھی پوچھا۔ اس نے جو سبق کل پڑھا وہی سُنادیا۔ خانِ خاناں ہنسا اور ایک اور جانور کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ اس میں کیا چیز مزے کی ہوتی ہے؟ اُس نے کہا، پوست۔ سب لعنت ملامت کرنے لگے۔ خانِ خاناں بہت ہنسا۔ اُسے کچھ انعام دے کر کسی اور کارخانے میں بھیج دیا کہ ایسا شخص حضور کی خدمت کے قابل نہیں۔
ایک دن مُلازموں کی چٹھّیوں پر دستخط کررہے تھے، کسی پیادے کی ایک چٹھّی پر ہزار دام کی جگہ ہزار روپیے لکھ دیے۔ دیوان نے عرض کی۔ کہا اب جو قلم سے نکل گیا، اس کی قسمت۔
ایک دِن نظیریؔ نیشاپوری نے کہا کہ نواب میں نے لاکھ روپیے کا ڈھیر کبھی نہیں دیکھا کہ کتنا ہوتا ہے۔ اُنھوں نے خزانچی کو حکم دیا۔ اُس نے سامنے انبار لگادیا۔ نظیریؔ نے کہا شکرِ خدا آپ کی بدولت آج لاکھ روپیے دیکھے۔ خانِ خاناں نے کہا اللہ جیسے کریم کا اتنی سی بات کا کیا شکر کرنا۔ روپیے اسی کو دے دیے اور کہا کہ شکر الٰہی کرو تو ایک بات بھی ہے۔
جہانگیر بادشاہ ایک دن تیر اندازی کررہا تھا۔ کسی بھاٹ کی یاوہ گوئی پر خفا ہوکر حکم دیا کہ اسے ہاتھی کے پاؤں تلے پامال کریں۔ خانِ خاناں پاس کھڑا تھا۔ شخص مذکور کی حاضر جوابی اس کی زبان درازی سے بھی بڑھی ہوتی ہے۔ اس نے عرض کی حضور ذرّۂ ناچیز کے لیے ہاتھی کیا کرے گا، ایک چوٗہے چڑیے کا پاؤں بھی بہت ہے۔ ہاتھی کا پاؤں خانِ خاناں کے لیے چاہیے کہ بڑا آدمی ہے۔ جہانگیر نے اس کی طرف دیکھا کہ اس لفظ نے دل پر کیا اثر کیا۔ پوچھا کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا کچھ نہیں۔ داروغہ سے پوچھا کہ بتادے۔ خانِ خاناں خود بولے کہ حضور کے تصدُّق سے خدا نے مجھ ناچیز کو ایسا کیا، یہ بڑا آدمی سمجھتا ہے۔ میں نے اِس وقت خدا کا شکر کیا اور کہا کہ جب اس کی خطا معاف ہو تو پانچ ہزار روپیے دے دینا، حضور کی جان ومال کو دعا دے گا۔
ایک بھوکا برہمن خانِ خاناں کے دروازے پر آیا۔ دربان نے روکا۔ اس نے کہا کہ کہہ دو آپ کا ہم زُلف ملنے آیا ہے اور اس کی بیوی ساتھ ہے۔ خدمت گار نے عرض کی۔ اُسے بُلایا، پاس بٹھایا اور رشتہ کا سلسلہ کھولا۔ اُس نے کہا کہ بپتا اور سنپتا دو بہنیں ہیں۔ پہلی میرے گھر گئی، دوسری آپ کے گھر آئی ہے۔ آپ اور میں ہم زُلف نہیں تو اور کیا ہیں؟ نواب بہت خوش ہوا، خِلعت دیا، خاصہ کے گھوڑے پر طلائی ساز سجوا کر سوار کیا اور بہت کچھ نقدوجنس دے کر رُخصت کیا۔
خان خاناں ایک دن دربار میں بیٹھا تھا، اہالی موالی، اہلِ غرض، اہلِ مطلب حاضر تھے۔ ایک غریب شکستہ حال آکر بیٹھا اور جوں جوں جگہ پاتا گیا پاس آتا گیا۔قریب آیا تو ایک توپ کا گولہ بغل سے نکال کر لُڑکایا کہ خانِ خاناں کے زانو سے آکر لگا۔ نوکر اس کی طرف بڑھے، اس نے روکا اور حکم دیا کہ گولہ کے برابر سونا تول دو۔ مصاحبوں نے پوچھا۔ کہا یہ قولِ شاعر کو کسوٹی پر لگاتا ہے۔
ایک دن سواری میں انھیں کسی نے ڈھیلا مارا۔ سپاہی دوڑ کر پکڑ لائے۔ انھوں نے کہا ہزار روپیے دے دو۔ سب حیران رہ گئے۔ عرض کی کہ جونالائق، قابلِ دُشنام بھی نہ ہو اسے انعام دینا آپ ہی کا کام ہے۔ انھوں نے کہا لوگ پھلے درخت پر پتھر مارتے ہیں۔ جو میرا پھل ہے وہ مجھے دینا واجب ہے۔
ایک دن سواری سے اترتے تھے، ایک بڑھیا برابر آئی۔ ایک توا اس کی بغل میں تھا۔ نکال کر اُن کے بدن سے ملنے لگی۔ نوکر ہاں ہاں کرکے دوڑے۔ انھوں نے سب کو روکا اور حکم دیا کہ اسی کے برابر سونا تول دو۔ مصاحبوں نے سبب پوچھا۔ کہا دیکھتی تھی کہ بزرگ جو کہا کرتے تھے کہ بادشاہ اور اُن کے امیر پارس ہوتے ہیں یہ بات سچ ہے یا نہیں اور اب ویسے لوگ ہیں یا کوئی رہا نہیں۔
خان خاناں امیروں سے سوا فقیروں اور غریبوں کے یار تھے۔ ان کی سرکار میں فقیر، امیر، جوگی، سب برابر تھے۔
(محمد حسین آزاد)
مشق
- لفظ ومعنی:
جود وکرم : سخاوت
خفیہ : چُھپا ہوا
اہلِ کمال : ہنرمند
مصنّفوں : مصنف کی جمع،کتاب لکھنے والا
طلائی : سونے کا
علما : عالم کی جمع،علم رکھنے والا
صلحا : صالح کی جمع،نیک لوگ
فقرا : فقیر کی جمع، بزرگ لوگ
مشائخ : شیخ کی جمع،بزرگ
نقد وجنس : نقدی اور سامان
عالَم : دنیا
دل جوئی : دل رکھنا
مصاحب : ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے
یا وہ گوئی : بے کار باتیں
مرغِ بریاں : تندوری مرغ
پامال : پائوں سے کچل دینا
خلعت : انعام میں دیا جانے والا لباس
ہم زلف : سالی کا شوہر
بپتا : پریشانی
سنپتا : خوشحالی
دشنام : گالی گلوچ
تصدق : صدقہ
ناچیز : کم تر
صاحبِ امارت : دولت مند
صاحبِ دست گاہ : مہارت رکھنے والا
عالمَ : منظر،حالت،کیفیت
لعنت ملامت کرنا : برا بھلا کہنا
شکستہ حال : برے حال والا
زانو : ران
واجب : ضروری
قصیدہ : اردو شاعری کی ایک صنف جس میں کسی کی تعریف کی جاتی ہے۔
حکایت : قصّہ کہانی
گُن وان : خوبیوں والا
بھاٹ : تعریف کرنے والا
اشلوک : سنسکرت یا ہندی کاشعر
دوہرے : ہندی شاعری کی ایک قسم جس میں دو معنی نکلتے ہیں۔
وسیع : پھیلا ہوا
فیض : فائدہ
کبت : شاعری کی ایک قسم
تکلفات : تکلف کی جمع
پیش خدمت : ملازم،ایک عہدے کا نام
امرا : ا میر کی جمع
بند گانِ خدا : خدا کے بندے
درجہ بہ درجہ : حیثیت کے مطابق
1. سبق میں خانِ خاناں کی فیاضی کے بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ آپ کو کس واقعے نے سب سےزیادہ متاثر کیا اور کیوں؟
2. خانِ خاناں کے دسترخوان کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟
3. برہمن نے خود کو خان خاناں کا ہم زلف کیوں کہا؟
4. خانِ خاناں نے ڈھیلے مارنے والے کو انعام کیوں دیا؟
5. بڑھیا نے توانکال کر خانِ خاناں کے بدن پر کیوں مَلا؟
- زبان و قواعد:
• ان لفظوں کو پڑھیے:
دربارِ اکبری خانِ خاناں مُرغِ بریاں
جب دو با معنی لفظوں کو زیر /ہمزہ/ ے لگا کر ایک نیا بامعنی لفظ بناتے ہیں تو اسے ہم’ ترکیب‘ کہتے ہیں۔دو لفظوں کے درمیان زیر /ہمزہ /ے لگانے کو اضافت کہتے ہیں۔
جیسے : خیالِ دوست صبحِ چمن
جذبۂ دل سلسلۂ کلام
رہنمائے قوم دعائے خیر
اس طرح آپ بھی چار تراکیب لکھیے۔
• نیچے لکھے ہوئے جملوں کی وضاحت کیجیے:
٭ میں بھی اس کے گل دستوں سے دربار اکبری کو سجاؤں گا۔
٭ آئندہ دینے والوں کے ہاتھ کاٹ ڈالے۔
٭ شخصِ مذکور کی حاضر جوابی اس کی زبان درازی سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔
٭ لوگ پھلے درخت پر پتھر مارتے ہیں۔
• نیچے دیے ہوئے لفظوں کے واحد لکھیے:
شعرا، علما، صلحا، فقرا، مشائخ، امرا، تکلفات
- غور کرنے کی بات:
٭ جو آتا ان کی سرکار میں آکر اس طرح اُترتا جیسے اپنے گھر میں آگیا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ بادشاہ کے دربارمیں جانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔
٭ انعام میں بھی وہ نزاکت وہ لطافت کے انداز دکھا گیا کہ آئندہ دینے والوں کے ہاتھ کاٹ ڈالے۔
- عملی کام
٭ سبق میں شامل اضافت والے الفاظ کی نشاندہی کیجیے۔
٭ سبق میں جن شعری اضاف کا ذکر کیا گیا ہے ان کے نام لکھیے۔