16
نظم
نظم کے معنی ’انتظام، ترتیب یا آرائش‘ کے ہیں۔نظم شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی خیال کو تسلسل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
نظم کے لیے نہ تو ہیئت کی کوئی قید ہے اور نہ موضوعات کی۔ غزل اور مثنوی کی ہیئت میں بھی نظمیں کہی گئی ہیں۔
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہیں:
1۔ پابند نظم
ایسی نظم جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو، پابند نظم کہلاتی ہے۔
2۔ نظم معرّا
ایسی نظم جس کے تمام مصرعے برابر ہوں مگر ان میں قافیے کی پابندی نہ ہو،نظمِ معرّا کہلاتی ہے۔
3۔ آزاد نظم
ایسی نظم جس میں نہ تو قافیے کی پابندی کی جاتی ہے،نہ مصرعے برابر ہوتے ہیں تاہم بحر کی پابندی کی جاتی ہے۔
4۔ نثر ی نظم
نثری نظم چھوٹی بڑی نثر ی سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔اس میں نہ تو ردیف اور قافیے کی پابندی ہوتی ہے اورنہ ہی وزن کی۔نثری نظم کا رواج دُنیا کی تمام زبانوں میں عام ہے۔
افسرؔ میرٹھی
(1898 - 1974)
افسرؔ میرٹھی کا پورا نام حامد اللہ تھا وہ میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد 1930میں میرٹھ کالج میرٹھ سے بی۔ اے اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل۔ ایل۔ بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ جُبلی کالج، لکھنؤ میں اردو کے استاد مقرّر ہوئے اور ترقّی پاکر وہیں وائس پرنسپل ہوگئے۔ 1950 میں وہاں سے سبک دوش ہوئے۔ ان کا انتقال لکھنؤ میں ہوا۔ان کے موضوعات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔وہ بچّوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے۔
انھوں نے بچّوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔بچّے ان کی نظمیں دل چسپی سے پڑھتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور عام فہم ہوتی ہے۔ انھوں نے بچّوں کے لیے سولہ کتابیں لکھی ہیں جن میں ’آسمان کا ہم سایہ‘،’ لوہے کی چپّل‘، ’درسی کتب‘، ’پیامِ روح‘اور’ نقد الادب‘ بہت مقبول ہیں۔فطرت اور حبّ الوطنی ان کے خاص موضوعات ہیں۔
خواہشیں
درد جس دل میں ہو، میں اُس کی دوا بن جاؤں
کوئی بیمار اگر ہو تو ، شِفا بن جاؤں
دُکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دُعا بن جاؤں
ہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے
اُف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلے
میں اُس آنسو کو سُکھانے کو ہوا بن جاؤں
دوٗر منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئی
جب مسافرکہیں رستے میں بھٹک جائے کوئی
خِضر کا کام کروں راہ نُما بن جاؤں
نور سے عیش و مسرّت کے وطن کو بھردوں
غم سے تاریک جو دل ہو اُسے روشن کر دوں
ہر اندھیرے کے لیے ایک دِیا بن جاؤں
عُمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیں
ناتوانی سے جو ہر روز جُھکے جاتے ہیں
اُن ضعیفوں کے سہارے کو عصابن جاؤں
خِدمتِ خلق کا ہر سمت میں چرچا کردوں
مادرِ ہند کو جنّت کا نمونا کر دوں
گھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدابن جاؤں
(افسرؔ میرٹھی)
مشق
- لفظ و معنی
شفا : صحت یاب ہونا
دیدۂ تر : بھیگی آنکھ
خضر : بھولے بھٹکوں کو راستہ بتانے والے ایک بزرگ
راہ نما : راستہ دکھانے والا
عیش : آرام
مسرّت : خوشی
ناتوانی : کمزوری
ضعیف : بوڑھا
عصا : لاٹھی ،چھڑی
خلق : پیدا کیا ہوا مراد عوام
دل میں گھر کرنا(محاورہ) : دل میں بس جانا
- سوالات:
1. شاعر کس دل کی دوا بننا چاہتا ہے؟
2. شاعر کو ہوا بن جانے کی خواہش کیوں ہے؟
3. شاعر وطن کو کس نور سے بھرنے کی خواہش کرتا ہے؟
4. شاعر نےضعیفوں کے سہارے کے لیے عصا بننے کی خواہش کیوں کی ہے؟
5. ’مادرِ ہند کو جنّت کا نمونہ کر دوں‘ اس سے کیا مراد ہے؟
- زبان و قواعد:
(الف) خضر کا کام کروں راہ نما بن جاؤں
اس مصرعے میں اشارہ حضرتِ خضر کی طرف ہے۔حضرتِ خضر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک روحانی شخصیت ہیں جو بھولے بھٹکے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کسی جملے، مصرعے یا شعر میں اگر کسی تاریخی واقعہ شخص یا جگہ کی طرف اشارہ کیا جائے تو اسے ’’تلمیح‘‘ کہتے ہیں۔
اپنے استاد سے معلوم کرکے دو ایسے شعر لکھیے جس میں ’تلمیح‘ کا استعمال ہو۔
(ب) اس نظم سے ان تراکیب کی نشاندہی کیجیے جن میں اضافت کا استعمال ہوا ہے۔
- غور کرنے کی بات:
یہ نظم چھے بندوں پر مشتمل ہے۔ ہر بند میں شاعر نے کسی نہ کسی خواہش کا اظہار کیا ہے۔نظم میں پیش کردہ خیالات پریشان حال انسانوں کی خدمت اور بھلائی سے تعلق رکھتے ہیں۔
- عملی کام:
انسانوں کی بھلائی کے لیے جو خواہشیں آپ کے دل میں پیدا ہوتی ہیں، انھیں لکھیے۔