17
گیت
گیت ہندی شاعری کی ایک صنف ہے جو اردو میں بھی بہت مقبول ہے۔گیت کی زبان سادہ اور عام فہم ہوتی ہے۔ عام طور پر گیت میں مقامی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ گیتوں کا تعلق موسموں،فصلوں اور مختلف رسموں سے ہے۔شادی بیاہ کے گیت بہت مقبول ہیں۔ زبان اور آہنگ کے اعتبار سے گیت میں دل کے تاروں کو چھو لینے والی کیفیت ہوتی ہے۔ گیت صرف لکھے اور پڑھے ہی نہیں جاتے رہے ہیں بلکہ وہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل بھی ہوتے رہے ہیں۔گیت کی فضا رومانی ہوتی ہے۔موسموں کے رنگ،پیارکی ترنگ، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، الجھنیں اور معاشرے کے مختلف روپ، یہ تمام چیزیں مل کر گیت کی ست رنگی دھنک بناتے ہیں۔
اُردو میں ایسے بے شمار گیت ہیں جو ہر جگہ گائے جاتے ہیں۔ اُردو کے گیت نگاروں میں عظمت اللہ خاں،اختر شیرانی، حفیظ جالندھری، آرزو لکھنوی، شاد عارفی، میرا جی ، مخدوم ،سلام مچھلی شہری ،راجہ مہدی علی خاں ، قتیل شفائی،جمیل الدین عالی، ندا فاضلی اور زبیر رضوی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
حفیظؔ جالندھری
(1900-1982)
عبدالحفیظ نام اور حفیظؔ تخلص تھا۔ پنجاب کے ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔وہ مولانا گرامی کے شاگرد تھے اور فارسی واردو میں مہارت رکھتے تھے۔ حفیظؔ جالندھری نے کئی اہم جریدوں اور رسالوں کی ادارت کی۔ 1938 میں انھوں نے یوروپ کا سفر کیا اور وہاں قیام کے دوران ’’افرنگ کی دنیا ‘‘ اور ’’اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے‘‘ مشہور نظمیں کہیں۔ چھوٹی بحروں اور سادہ لفظوں میں گیت اور نظمیں لکھنا حفیظ ؔکا خاص انداز ہے۔ان کے گیتوں میں قدرتی مناظر کی عکاسی ملتی ہے۔
حفیظؔ جالندھری کا شمار اردو کے معروف شاعروں میں ہوتا ہے۔ ’’نغمۂ زار‘‘، ’’سوزوساز‘‘ اور ’’تلخابۂ شیریں‘‘ ان کے کلام کے اہم مجموعے ہیں۔
حفیظؔ کا شاہکار’’ شاہنامۂ اسلام‘‘ ہے جو چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ بیانیہ شاعری کی اچھّی مثال ہے۔
لو پھر بسنت آئی
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پہ رنگ لائی
چلو بے درنگ
لبِ آبِ گنگ
بجے جل ترنگ
من میں امنگ چھائی
پھولوں پہ رنگ لائی
لو پھر بسنت آئی
لڑکوں کی جنگ دیکھ
ڈور اور پتنگ دیکھ
کوئی مار کھائے
کوئی کھِلکھلائے
کوئی مسکرائے
طفلی کے رنگ دیکھ
ڈور اور پتنگ دیکھ
لڑکوں کی جنگ دیکھ
کھیتوں کا ہر چرندہ
باغوں کا ہر پرندہ
کوئی گرم خیز
کوئی نغمہ ریز
سبک اور تیز
پھر ہوگیا ہے زندہ
باغوں کا ہر پرندہ
کھیتوں کا ہر چرندہ
پھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
نہیں کچھ بھی یاد
یوں ہی بامراد
یوں ہی شاد شاد
گویا رہے گی برسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
(حفیظؔ جالندھری)
مشق
- لفظ ومعنی:
بسنت : بہار کا موسم
بے درنگ : بے خوف، بلا جھجک
لبِ آبِ گنگ : گنگا ندی کا کنارہ
جل ترنگ : موسیقی کا ایک آلہ جس میں پیالے بنے ہوتے ہیں ان میں پانی بھر کر بجا یا جاتا ہے۔
امنگ : جوش،خوشی
طفلی : بچپن
گرم خیز : تیز، چست
نغمہ ریز : نغمگی سے بھرا ہوا
سبک : نازک
چرندہ : چرنے والا جانور
بامراد : اپنے مقصد میں کامیاب
شاد : خوش
- سوالات:
1. بسنت کا باغوں اور پھولوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟
2. دریا کے کنارے جل ترنگ بجنے سے کیا مراد ہے؟
3. چرندا ور پرند پر بسنت کا کیا اثر ہوتا ہے؟
4. سرسوں کے پھولنے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
• نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:
جل ترنگ امنگ طفلی چرند پرند سبک
- عملی کام:
موسم بہار سے متعلق کچھ گیت تلاش کیجیے اور انھیں یاد کیجیے۔