19
نظیرؔ اکبر آبادی
(1740 — 1830)
نظیرؔ کا پورا نام ولی محمد تھا۔وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ بارہ برس کی عمر میں اکبر آباد (آگرہ)چلے گئے اور اکبر آباد کو اپنا وطن بنا لیا۔وہ گھر گھر جا کر بچّوں کو پڑھاتے تھے۔انھوں نے بہت سادگی اور قلندری کے ساتھ زندگی بسر کی۔
نظیر ؔاکبر آبادی سے اردو میں عوامی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ ایک فطری شاعر تھے۔انھوں نے عوام کی زندگی کے سکھ دکھ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور انہیں کی زبان کا استعمال کیا۔
ہندوستانی موسم، میلے، تہواروں اور انسانی زندگی کے اہم پہلوؤں اور معاملات پر لکھی ہوئی ان کی نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظیر کے پاس الفاظ کا بے پناہ خزانہ ہے۔ جس کے سبب وہ موقع اور موضوعات کی مناسبت سے مناسب الفاظ استعمال کرکے کلام میں بلا کی تاثیر پیدا کردیتے ہیں۔
ان کی شاعری کا ایک اہم موضوع گنگا جمنی تہذیب اور قومی یک جہتی ہے۔
کلجُگ
دنیا عجب بازار ہے، کچھ جنس یاں کی سات لے
نیکی کا بدلہ نیک ہے، بد سے بدی کی بات لے
میوہ کِھلا، میوہ ملے، پھل پھول دے، پھل پات لے
آرام دے، آرام لے، دکھ درد دے آفات لے
کلجُگ نہیں کرجُگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہات دے، اُس ہات لے
جو چاہے لے چل اس گھڑی سب جنس یاں تیّار ہے
آرام میں آرام ہے، آزار میں آزار ہے
دنیا نہ جان اس کو میاں، دریا کی یہ منجدھار ہے
اوروں کا بیڑا پار کر، تیرا بھی بیڑا پار ہے
کلجُگ نہیں کرجُگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہات دے، اُس ہات لے
تو اور کی تعریف کر، تجھ کو ثنا خوانی ملے
کر مشکل آساں اور کی، تجھ کو بھی آسانی ملے
تو اور کو مہمان کر، تجھ کو بھی مہمانی ملے
روٹی کِھلا روٹی ملے، پانی پِلا پانی ملے
کلجُگ نہیں کرجُگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہات دے، اُس ہات لے
یاں زہر دے تو زہر لے، شکر میں شکّر دیکھ لے
نیکوں کو نیکی کا مزہ، موذی کو ٹکّر دیکھ لے
موتی دیے موتی ملے، پتّھر میں پتّھر دیکھ لے
گر تجھ کو یہ باور نہیں، تو توٗ بھی کر کر دیکھ لے
کلجُگ نہیں کرجُگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہات دے، اُس ہات لے
(نظیرؔ اکبر آبادی)
مشق
- لفظ ومعنی:
کلجُگ : برا زمانہ
جنس : چیز، سامان
کرجگ : کام کرنے کا زمانہ
بد : بُرا
آفات : آفت کی جمع، مصیبتیں
آزار : تکلیفیں،دُکھ
منجدھار : بیچ دریا
ثنا خوانی : تعریف کرنا
موذی : تکلیف دینے والا، ستانے والا
باور : قائل،یقین،ماننا
1. اس نظم میں شاعر بار بار کس بات کو دوہرا رہا ہے؟
2. شاعر نے دنیا کو کر جگ کیوں کہا ہے؟
3. ’نیکی کا بدلہ نیک ہے ،بد سے بدی کی بات لے‘سے کیا مراد ہے؟
4. دوسرے بند میں شاعر نے کن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے؟
5. چوتھے بند میں شاعر نے کیا باور کرانے کی کوشش کی ہے؟
- زبان و قواعد:
’نیکی کا بدلہ نیک ہے، بد سے بدی کی بات لے‘
اس مصرعے میں نیکی، بدی اور نیک، بد ایسے الفاظ ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔شعر میں ایسے الفاظ کا استعمال ’تضاد‘ کہلاتا ہے۔
اس نظم سے ایسے الفاط کی نشاندہی کیجیے جن میں ’’تضاد‘‘ ہو۔
- غور کرنے کی بات:
یہ نظم مسدّس کی شکل میں ہے ،جس کے ہر بند میں چھے مصرعے ہیں۔ اس نظم میں ہر چار مصرعوں کے بند کے بعد ایک شعر دوہرایا گیا ہے جسے ٹیٖپ کا شعر کہتے ہیں۔
- عملی کام:
اس نظم کے الگ الگ بندوں میں الگ الگ قافیے استعمال ہوئے ہیں،ان کی نشان دہی کیجیے۔