Skip to content
Tabiyaat-I

باب 1 

طبیعی دنیا

(PHYSICAL WORLD)




1.1 طبیعیات کیا ہے؟
1.2 طبیعیات کا دائرہ عمل اورجوش
1.3 طبیعیات، ٹکنالوجی اور سماج
1.4 فطرت میں بنیادی قوتیں
1.5 طبیعاتی قوانین کی فطرت
خلاصہ
مشق

1.1    طبیعیات کیا ہے؟           (?WHAT IS PHYSICS)

انسانوں کو ہمیشہ سے ہی اپنے گردوپیش کی دنیا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا تجسس رہا ہے۔ عہد قدیم سے ہی رات کو آسمان میں چمکنے والی فلکی اشیا انسانوں کی کشش کا باعث رہی ہیں۔ دن اور رات کا مسلسل وقوع پذیر ہونا، موسموں کے سالانہ دور، گرہن (گہن)، مدوجزر، آتش فشاں، قوس قزح ہمیشہ انسانوں کو متحیرکرتے رہے ہیں۔ اس دنیا میں پائی جانے والی اشیاء کا تنوع تعجب خیزہے اورمختلف جانداروں کی گوناگوں صفات وکردار حیران کن ہیں۔ انسان کے تخیل اور چھان بین کرنے والے ذہن نے فطرت کے ان عجوبوں اور تحیرات کے تئیں اپنے جوابی عمل کو مختلف طریقوں سے ظاہر کیا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی انسان کا ردعمل یا رویہ طبیعی ماحول کا بغور مشاہدہ کرنے، قدرتی مظاہر میں بامعنی وضع تلاش کرنے اور باہمی تعلقات کو سمجھنے اور فطرت کے ساتھ تعامل کے لیے نئے نئے اوزاروں کو بنانے اور ان کے استعمال کارہا ہے۔ ماضی میں انسان کی ان کوششوں اور جدوجہد نے ہی جدید سائنس اور ٹکنالوجی کی راہ ہموار کی۔
            لفظ سائنس (Science) لاطینی زبان کے فعل 'Scientia'سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’جاننا‘۔ سنسکرت لفظ’وگیان‘ (vigyan) اور عربی لفظ’علم‘ اسی معنی میں استعمال کیے جاتے ہیں جس کا مطلب ایک ’منظم علم‘ سے ہے۔ وسیع مفہوم میں سائنس اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود نوع انسانی۔ مصر،ہندوستان، چین، یونان،میسوپوٹامیہ اور دنیا کے دیگر متعدد ملکوں کی تہذیبوں و تمدن نے اس کی پیش رفت میں اہم اشتراک کیا ہے۔ سولہویں صدی کے بعد سے یوروپ میں سائنس کے میدان میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک سائنس حقیقی طورپر بین الاقوامی مہم جوئی بن گئی او راس کے تیزی سے ہونے والے فروغ میں متعدد ثقافتوں اور ملکوں نے اشتراک کیا ہے۔
             سائنس کیا ہے اور  سائنسی طریقہ کسے کہا جاتا ہے؟ سائنس قدرتی مظاہرکو ممکنہ حدتک گہرائی اور تفصیل کے ساتھ سمجھنے اور اس طرح حاصل ہوئی معلومات کوقدرتی مظاہرکی پیشن گوئی کرنے، ان میں سدھارکرنے اور ان پر قابوپانے کی منظم کوشش ہے۔سائنس اپنے گردوپیش کے مشاہدات کی چھان بین کرنے، ان پر تجربے کرنے اور ان کی پیش گوئی کرنے کانام ہے۔دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو اورقدرت کے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش نئی تکنیکی دریافتوں کی طرف پہلا قدم ہے۔ سائنسی طریقے میں کئی باہم منسلک اقدامات شامل ہیں، جیسے: مشاہدات، زیر قابو تجربات، کیفیتی اور مقداری استدلال، ریاضیاتی نمونہ کاری، نظریات کی پیشن گوئی اور تصدیق یا جھٹلانا وغیرہ ۔ سائنس میں تفکر اور قیاس کی بھی اپنی اہمیت ہے لیکن کسی سائنسی نظریے کے آخری شکل میں قابل قبول ہونے کے لیے لازمی ہے کہ یہ متعلقہ مشاہدات یا تجربات کے ذریعے توثیق شدہ بھی ہو۔ سائنس کی فطرت اور طریقہ کار فلسفیانہ بحث کے موضوع  ہیں لیکن ہمیں یہاں اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

             سائنس کی پیش رفت کی اصل بنیاد نظریہ اور مشاہدہ (یا تجربہ) میں ہونے والا باہمی عمل ہے۔ سائنس ہمیشہ حرکی یا متحرک ہوتی ہے۔ سائنس میں کسی بھی نظریے کو قطعی یا آخری نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی سائنس دانوں میں کوئی غیر متنازعہ اقتدار ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مشاہدات میں جامعیت اور درستگی پیدا ہوتی ہے یا تجربات کے ذریعے نئے نتائج کی توثیق ہوتی ہے تو نظریات کے لیے لازم ہے کہ وہ اگر ضروری ہوتو ان نظریات میں ترمیم کرکے ان کی اچھی طرح تشریح کریں۔ اکثر یہ ترمیم زیادہ گہری نہ ہوکر موجودہ نظریے کے ڈھانچے پرہی منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے لیے جب جو ہانیس کیپلر(JohannesKepler,1571-1630)نےٹائیکوبراہTychoBrahe,1546-1601) کے ذریعے حاصل کردہ سیّاروں سے متعلق جامع ڈاٹا کی پرکھ کی تو سیاروں کے دائری مداروں کے نکولس کاپرنکس(NicolasCopernicus,1473-1543)کے تخیلی شمس المرکز نظریے کی جگہ، اعداد وشمار کی موزوں تشریح کے لیے بیضی مداروں کو رکھنا پڑا۔ پھر بھی کبھی کبھی موجودہ نظریات جدید مشاہدات کی مناسب تشریح میں نا کام پائے جاتے ہیں اس کا سائنس پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور اس میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ بیسویں صدی کے شروع میں سائنس دانوں نے یہ محسوس کیا کہ اس وقت کا سب سے کامیاب نظریہ نیوٹنی میکانیات، ایٹمی مظاہر کی کچھ بنیادی خصوصیات کی تشریح کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ اسی طرح اس وقت مقبول ’’روشنی کی لہرتصویر ‘‘ نظریہ بھی ’’نوری برقی اثر‘‘(photoelectric effect) کی توضیح کرنے میں ناکام رہا۔ سائنس نے اس بارے میں مزید مطالعہ کیا جس کے نتیجے میں ایٹمی اورسالمیاتی مظہروں کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے بنیادی طورپر ایک نئے نظریے کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics)کو فروغ حاصل ہوا۔

        جس طرح کوئی نیا تجربہ کسی متبادل نظریاتی ماڈل کے خیال کو جنم دے سکتا ہے، اسی طرح کوئی نظری پیش رفت کسی تجربے میں ’’کیا دیکھا جائے‘‘ کے بارے میں تجویز پیش کرسکتی ہے۔ 1911میں ارنیسٹ ردرفورڈ (ErnestRutherford,1871-1937)کے ذریعے کیے گئے الفا انتشار کے تجربے نے ایٹم کا نیوکلیر ماڈل قائم کیا جو 1913 میں نیلس بور (NielsBohr,1885-1962)کے ذریعے قائم کیے گئے ہائڈروجن ایٹم کے کوانٹم نظریے کی بنیاد بن گیا۔ وہیں دوسری طرف 1930 میں پال ڈِراک(PaulDirac,1902-1984) نے سب سے پہلے نظریاتی طورپر ’’ضد ذرہ‘‘ (antiparticle) کا تصور پیش کیا جس کی تصدیق دوسال بعد کارل اینڈرسن(Carl Anderson)کے پوزی ٹران (ضد الیکٹران) کی تجرباتی دریافت کے ذریعہ ہوئی۔
        علوم طبیعی (Natural Sciences) طبیعیات کے زمرے میں ایک بنیادی مضمون ہے جس میں دیگر مضامین جیسے علم کیمیا (Chemistry) اور علم حیاتیات (Biology) بھی شامل ہیں۔ فزکس لفظ یونانی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ’فطرت‘ سے ہے۔ یہ لفظ سنسکرت کے لفظ بھوتک کے مترادف ہے جو طبیعی دنیا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مضمون کی کوئی جامع تعریف نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔وسیع طورپر ہم طبیعیات کو فطرت کے بنیادی قوانین کے مطالعہ اور ان قوانین کا مختلف قدرتی مظاہر میں ہونے والے اظہار کے مطالعے کے مضمون کے طورپر کرسکتے ہیں۔ طبیعیات کے دائرہ عمل کا مختصر بیان اگلے حصّہ میں کیا گیا ہے۔ یہاں ہم علم طبیعیات کے دواہم مرکزی خیال، یکجائی (unification) اور تقلیل (reduction) پر اپنا تبصرہ کریں گے۔
         طبیعیات کے تحت ہم متنوع طبیعی مظاہر کی تشریح چند تصورات اور اصولوں کی اصطلاحات میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مختلف میدانوں اور حالات میں طبیعی دنیا کو چند ہمہ گیرقانونوں کے اظہار کے طورپر دیکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ مثال کے لیے نیوٹن کے ذریعے دیا گیا مادی کشش کا کلیہ، سیب کے زمین پر گرنے چاند کے زمین کے چاروں طرف گردش کرنے اور سیاروں کے سورج کے گرد گردش کرنے کا بیان کرتا ہے۔ اسی طرح برق مقناطیسیت کے بنیادی قوانین (میکس ویل مساوات) سبھی (کلاں بینی) برقی اور مقناطیسی مظاہر کو منضبط کرتے ہیں۔ قدرت کی بنیادی قوتوں کو یکجا کرنے کی کوشش، یکجائی کی اسی جستجو یا تفتیش کو منعکس کرتی ہے (دیکھیے حصّہ 1.4)۔
          ایک متعلقہ کوشش کسی بڑے اور زیادہ پیچیدہ نظام کی خصوصیات کو اس کے سادہ عنصری اجزا کے تعاملات اور خصوصیات سے اخذ کرنا ہے۔ یہ راہ تقلیل پذیری (reductionism) کہلاتی ہے اور یہی دراصل طبیعیات کا مرکزی جزہے۔ مثال کے لیے انیسویں صدی میں تکمیل کو پہنچا حرحرکیات کے مضمون میں کلاں بینی مقداروں، جیسے درجۂ حرارت، اندرونی توانائی، اینٹراپی وغیرہ کی اصطلاحات میں حجمی نظام کو برتتا ہے۔ بعد میں چل کر حرکی نظریہ اور شماریاتی میکانیات کے مضامین نے حجمی نظاموں کے سالماتی اجزائے ترکیبی کی خصوصیات کی اصطلاح میں انہیں مقداروں کی تشریح کی۔ خاص طورپر یہ دیکھنے میں آیا کہ کسی نظام کا درجۂ حرارت اس نظام کے سالموں کی اوسط حرکی توانائی سے متعلق ہے۔

1.2   طبیعیات کا دائرہ عمل اور جوش   (SCOPE  AND   

EXCITEMENT OF PHYSICS) 

طبیعیات کے دائرہ عمل کا اندازہ ہم اس کی مختلف ذیلی شاخوں کو دیکھ کر لگاسکتے ہیں۔ بنیادی طورپر اس کے دو ہی دلچسپی کے میدان ہیں: کلاں بینی (macro scopic) اور خورد بینی (microscopic)۔ کلاں بینی کے تحت تجربہ گاہ کے اور ارضی اور فلکیاتی پیمانے کے مظاہر آتے ہیں جب کہ خورد بینی کے تحت ایٹمی، سالماتی اور نیوکلیائی مظاہر آتے ہیں۔ *کلاسیکی طبیعیات بنیادی طورپر کلاں بینی مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے جس کے تحت میکانیات، برق حرکیات، نوریات (Optics)، حرحرکیات (Thermodynamics) جیسے مضامین آتے ہیں۔ میکانیات جو نیوٹن کے قوانین حرکت اور مادی کشش (gravitation)کے قانون پر مبنی ہے، اس کا تعلق ذرّات کی حرکت (یا توازن) ، استوار اور تخریب پذیر اجسام اور ذرّات کے عام نظاموں سے ہے۔ جیٹ سے خارج ہونے والی گیسوں کے ذریعے راکٹوں کو آگے دھکیلنے، پانی کی لہروں کی ترسیل یا ہوا میں آواز کی لہروں کے پھیلنے اور کسی وزن کے تحت جھکی چھڑکا توازن (equilibrium) میکانیات سے متعلق مسائل ہیں۔ برقی حرکیات چارج شدہ اور مقناطیسی اجسام سے منسلک برقی اور مقناطیسی مظاہر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے بنیادی قوانین کو لمب، آرسٹڈ، ایمپیراور فیراڈے کے ذریعہ پیش کیے گئے ہیں اور میکس ویل نے اپنے معروف مساوات کے مجموعوں میں ان قوانین کو سمودیا۔ کسی مقناطیسی میدان میں کرنٹ بردار موصل کی حرکت، کسی سرکٹ پر A.C.سگنل کا ردِّعمل، کسی انٹینا کی کارکردگی، آینو سفیئر (Ionosphere) میں ریڈیو لہروں کی ترسیل وغیرہ برقی حرکیات سے متعلق مسائل ہیں۔ نوریات، روشنی پر مشتمل مظاہر سے متعلق ہے۔ دوربین اور خوردبین کے عمل، پتلی فلم کے رنگ وغیرہ  نوریات کے موضوعات ہیں۔ میکانیات کے برخلاف حر حرکیات میں مجموعی طورپر اجسام کی حرکت سے متعلق مطالعہ شامل نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق نظاموں کے کلاں بینی توازن سے ہے اور بیرونی کام اور حرارت کی منتقلی کے ذریعے نظام کی اندرونی توانائی، درجۂ حرارت اور ناکارگی وغیرہ میں ہونے والی تبدیلی سے ہے۔ حرارتی انجن اور ریفریجریٹر کی استعداد، کسی طبیعی یاکیمیاوی عمل کی سمت وغیرہ 
حر حرکیات کے قابلِ غور مسائل ہیں۔
*   حال ہی میں کلاں بینی اور خورد بینی کے دائرہ عمل کے بیچ ایک درمیانی دائرہ عمل
 (So-CalledMesoscopicPhysics
جو کچھ دہوں یا کچھ سیکڑوں کے ایٹموں کے مجموعوں سے متعلق ہے، تحقیق کے ایک محرک میدان کے طورپر ابھرا ہے-
chaptur1

خورد بین، روشنی کاشعلہ، ثانوی درخشاں پردہ، انتشاری زاویہ، سونے کی پرت، پولونیم نمونہ، لیڈ بلاک

شکل 1.1 طبیعیات میں تجربہ اور نظریہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ایک دوسرے کی ترقی میں مددگار ہوتے ہیں۔ ردرفورڈ کے الفاکرنوں کے انتشاری تجربات
          طبیعیات کی خوردبینی دائرہ میں ایٹموں اور سالمات کے خفیف پیمانے پر (اور اس سے بھی کم تر لمبائیوں کے پیمانوں پر) مادے کے اجزائے ترکیبی، اس کی بناوٹ اور ساخت اور ایٹموں اور نیوکلیانوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے لیے، ان کے الیکٹران، فوٹان اور دوسرے بنیادی ذرّات سے باہم عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کلاسیکی طبیعیات اس موضوع کی وضاحت کرنے کی اہل نہیں ہے اور مائیکرواسکوپی (خورد بینی) مظاہر کی تشریح کے لیے کوانٹم نظریہ کو اب مناسب فریم ورک کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے۔ مجموعی طورپر طبیعیات کا ڈھانچہ واقعی خوبصورت اور عظیم ہے اور جیسے جیسے آپ اس کا گہرا مطالعہ کرتے جائیں گے ویسے ویسے آپ اس کی اہمیت کو سمجھ کر اس کو زیادہ سے زیادہ سراہیں گے۔
        اب آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ طبیعیات کا دائرہ عمل واقعی نہایت وسیع ہے۔ یہ لمبائی، کمیت، وقت، توانائی وغیرہ جیسی طبیعی مقداروں کی قدر ککی وسیع رینج کا احاطہ کرتاہے۔ ایک طرف تو اس کے تحت الیکٹران، پروٹان وغیرہ سے متعلق مظاہر کا لمبائی کے نہایت خفیف پیمانے پر Capture1-P2 Page 4 Aیا اس سے بھی کم) مطالعہ کیا جاتا ہے تو وہیں دوسری طرف اس کے تحت فلکیاتی مظاہرکا مطالعہ گیلیکسی کے پیمانے یا پوری کائنات کے پیمانے پرکرتے ہیں جس کی وسعتCapture1-Page4, Pictur3 B کے درجے کی ہے۔ ان دونوں پیمانوں میںCapture1, Page4, Pictur4,Cکا فرق ہے۔وقت کے پیمانے کی حدود کو حاصل کرنے کے لیے ’لمبائی‘ کے پیمانے کو روشنی کی چال سے تقسیم کیا جائے گا، یعنی:Capture1 Page4, Pictur5Dسے Capture1, Page4, Pictur5Fتک۔ طبیعیات کے تحت مطالعہ کی جانے والی کمیتوں کی حدودCapture1 Page4, Pic6G(الیکٹران کی کمیت) سے (معلوم قابل مشاہدئہ کائنات کی کمیت)Capture1, Page4, Pic7تک ہیں۔ ارضی مظاہر ان حدود کے درمیان کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔
طبیعیات کئی طرح سے جوش آفرین ہوتی ہے۔ کچھ افراد اس کے بنیادی نظریات کی جمالیت اور ہمہ گیریت سے اس حقیقت کی بنیاد پر پُرجوش ہو اٹھتے ہیں کہ طبیعیات کے چند بنیادی تصورات اور اصول ہی طبیعی مقداروں کی قدر کی جتنی زیادہ وسیع رینج کا احاطہ کرنے والے مظاہر کی تشریح کرسکتے ہیں۔ کچھ اور لوگوں کے لیے فطرت کے راز کو ظاہر کرنے کے لیے ہرتخیل نئے تجربات کرکے نظریات کی توثیق یا تردیدکرکے سیکھنے کا چیلنج سنسنی خیز ہوسکتا ہے۔ اطلاقی طبیعیات کی اہمیت بھی کسی لحاظ سے کم نہیں ہے۔ بنیادی قوانین کے استعمال اور اطلاق کے ذریعے کارآمد آلات بنانا طبیعیات کا نہایت  دلچسپ اور ولولہ انگیزجزہے اور اس کے لیے اختراعی صلاحیت اور لگاتارکوشش درکارہے۔


فرضیات، بدیہات اورماڈل
(Hypothesis, axioms and models)
ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ طبیعیات اور ریاضی کی ہرچیز کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔تمام طبیعیات اور ریاضی بھی، مفروضوں پر مبنی ہے، جس میں سے کسی کو ہم فرضیہ(hypothesis)، کسی کو بدیہہ (axiom) اور کسی کو مسلمہ (Postulate) کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مادی کشش کا ہمہ گیرقانون، جسے نیوٹن نے اپنی اختراع کی بدولت پیش کیا، ایک مفروضہ یا فرضیہ ہے۔ نیوٹن سے پہلے بھی سورج کے گرد سیاروں کی حرکت، زمین کے گرد چاند کی حرکت، پنڈولم، زمین کی طرف گرتی ہوئی اشیاء وغیرہ سے متعلق بہت سے مشاہدات، تجربات اور آنکڑے موجود تھے۔ان میں سے ہر ایک کو الگ وضاحت کی ضرورت تھی، جو کم وبیش کیفیتی تھی۔ مادی کشش کا ہمہ گیر قانون جو بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ کائنات کے کوئی بھی دوجسم ایک دوسرے کو اس قوت سے کشش کرتے ہیں جو ان کی کمیتوں کے حاصل ضرب کے راست متناسب اور ان کے درمیانی فاصلے کے مربع کے مقلوب متناسب ہے، تو ہم ان تمام مشاہدات کی وضاحت کرسکتے ہیں۔یہ نہ صرف ان مظاہر کی وضاحت کرتا ہے، یہ ہمیں مستقبل میں کیے جانے والے تجربات کے نتائج کی پیشن گوئی کرنے کے لائق بھی بناتا ہے۔
ایک فرضیہ وہ مفروضہ ہے جسے یہ فرض نہیں کیا گیا کہ وہ صادق ہے بلکہ مان لیا گیا۔کسی شخص سے یہ کہنا کہ وہ مادی کشش کے ہمہ گیر قانون کو ثابت کرے، نا انصافی ہوگی، کیونکہ اسے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے اور تجربات اور مشاہدات کے ذریعے اس کے حق میں دلائل پیش کی جاسکتی ہیں۔
ایک بدیہہ(Axiom) خودظاہر ہونے والی صداقت ہے، جبکہ ایک ماڈل، مشاہدہ کیے گئے مظہر کی وضاحت کے لیے پیش کیا گیا نظریہ ہے ۔ لیکن اس سطح پر، ان  الفاظ کے استعمال کی باریکیوں کے بارے میں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
مثال کے طور پر اگلے برس آپ ہائیڈروجن ایٹم کے بوہر ماڈل کے بارے میں سیکھیں گے، جس میں بوہر نے فرض کیا کہ ہائیڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران کچھ قاعدوں کی پابندی کرتا ہے (مسلمہpostulate)۔انہوں نے ایسا  کیوں کیا؟ ان کے سامنے طیف پیمائی سے حاصل ہوئے ایسے بہت سے آنکڑے تھے، جن کی وضاحت کوئی اور نظریہ نہیں کرسکا تھا۔اس لیے بوہر نے کہا کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ ایٹم اس طرح کا برتاؤ ظاہر کرتا ہے ، تو ہم ان سب چیزوں کی ایک ساتھ وضاحت کرسکتے ہیں۔
آئنسٹائن کا مخصوص نظریہ اضافیت بھی دومسلّموں پر مبنی ہے: برق۔مقناطیسی شعاعوں کی رفتار کی مستقلیت (constancy)اور تمام جمودی حوالہ فریموں میں طبیعاتی قوانین کا جائز ہونا۔کسی سے یہ کہنا کہ وہ ثابت کرے کہ خلاء میں روشنی کی رفتار مستقلہ ہے، چاہے روشنی کا ماخداور مشاہدکوئی بھی ہو، عقلمندی نہیں ہوگی۔
ریاضی میں بھی ہر مرحلے پر ہمیں بدیہات اور فرضیات کی ضرورت پڑتی ہے۔اقلیدس کا یہ بیان کہ متوازی خطوط کبھی نہیں ملتے، ایک فرضیہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اس بیان کو فرض کرلیں تو ہم مستقیم خطوط کی کئی خاصیتوں اور ان سے بنی ہوئی دو یاتین ابعادی شکلوں کی خاصیتوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔لیکن اگر آپ یہ فرض نہ کریں تو آپ ایک مختلف بدیہہ استعمال کرنے اور ایک نئی جیومیٹری حاصل کرنے کے لیے آزاد ہیں، جیسا کہ واقعی پچھلی چند صدیوں اور دہائیوں میں ہوا ہے۔


         پچھلی کچھ صدیوں میں طبیعیات کے میدان میں ہوئی غیر معمولی پیش رفت کے پس پردہ کیا راز چھپا ہوا ہے؟ اہم پیش رفت کے ہمراہ اکثر ہمارے بنیادی ادراک میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ محسوس کیا گیا کہ سائنسی پیش رفت کے لیے صرف کیفیتی فکر(Qualitative thinking) اگرچہ یقینا اہم ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔چونکہ قدرت کے اصول درست(Precise) ریاضیاتی مساوات کے ذریعے ظاہر کیے جاسکتے ہیں لہٰذا سائنس اور خاص طورپر طبیعیات کے فروغ کے لیے مقداری پیمائش کی مرکزی حیثیت ہوتی ہے۔ دوسری نہایت اہم بصیرت یہ تھی کہ طبیعیات کے بنیادی اصول ہمہ گیر ہیں: یکساں قوانین وسیع طورپر مختلف سیاق وسباق میں لاگو ہوتے ہیں۔ آخر میں تقریبیت(approximation) کی حکمت عملی نہایت کامیاب ثابت ہوئی۔ روز مرّہ کی زندگی کے زیادہ ترمشاہدے میں آئے مظاہر بڑی حدتک بنیادی قوانین کے پیچیدہ اظہار ہی ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے کسی مظہر کی اہم خصوصیات کواس کی نسبتاً کم اہم خصوصیات سے اخذکرنے کی اہمیت کو پہچانا۔ کسی مظہر کی سبھی پیچیدگیوں کو ایک ساتھ ایک ہی بار میں واضح کرپانا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایک اچھی حکمت عملی یہی ہے کہ پہلے مظہرکی نہایت ضروری خصوصیات پر توجہ مرکوز کی جائے، بنیادی نظریات کو دریافت کیا جائے، اس کے بعد درستگی یا اصلاح کے ذریعے اس مظہرکے اصولوں کو مزید سنوارا جائے۔ مثال کے لیے یکساں اونچائی سے گرائے جانے پر ایک پتھر اور ایک پنکھ زمین پر ایک ساتھ نہیں پہنچتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مظہر کے نہایت اہم پہلو، کشش ارضی (Gravity)کے تحت آزادانہ طورپر گرنا، میں ہوا کی مزاحمت کی موجودگی سے پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ارضی کشش کے تحت آزادانہ گرنے سے متعلق قانون دریافت کرنے کے لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے جس میں ہوا کی مزاحمت تقریباً صفر ہو۔ مثال کے لیے ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ ایک لمبی خلاء کی ہوئی نلی میں پتھر اور پنکھ کو ایک ساتھ آزادانہ گرنے دیں۔ اس صورت میں دونوں اشیا یکساں شرح سے نیچے گریں گی جس سے یہ بنیادی قانون دریافت ہوگا کہ ارضی کشش کے سبب پیدا ہونے والا اسراع، شے کی کمیت پر منحصر نہیں ہوتا۔ اس طرح حاصل بنیادی قانون سے ہم واپس پنکھ پر جاسکتے ہیں، ہوا کی مزاحمت کے سبب اس میں تصحیح کرسکتے ہیں اور زمینی کشش کے تحت آزادانہ طورپر گرتی اشیا کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ نظریہ کی تخلیق کی کوشش کرسکتے ہیں۔

1.3  طبیعیات، ٹکنالوجی اور سماج

(PHYSICS, TECHNOLOGY AND SOCIETY)

   طبیعیات، ٹکنالوجی اور سماج کے درمیان باہمی تعلق کو بہت سی مثالوں کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔ حر حرکیات مضمون کی ابتدا، بھاپ انجنوں کے طریقۂ عمل کو سمجھنے اور اس میں اصلاح کرنے کی ضرورت کے سبب ہوئی۔ جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھاپ انجن اٹھارہویں صدی میں انگلینڈ میں ہوئے صنعتی انقلاب کا ناگزیرجزو تھا، جو انسانی تہذیب وتمدن پر کافی اثرانداز ہوا۔ کبھی ٹکنالوجی نئی طبیعیات کو جنم دیتی ہے، تو کبھی طبیعیات سے نئی ٹکنالوجی جنم لیتی ہے۔ طبیعیات کے ذریعے نئی ٹکنالوجی پیدا ہونے کی ایک مثال ہے بے تار ترسیلی ٹکنالوجی (wireless communication) جس  کو انیسویں صدی میں بجلی (برق) اور مقناطیسیت کے بنیادی قوانین کی دریافت کے سبب فروغ حاصل ہوا۔ طبیعیات کے اطلاق کے بارے میں پہلے سے ہی جان لینا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ 1933کے آخر تک مشہور طبیعیات داں ارنیسٹ رور فورڈ (Ernest Rutherford) ایٹموں سے توانائی کے حصول کے امکانات کو اپنے ذہن سے پوری طرح نکال چکے تھے۔ لیکن کچھ ہی سالوں کے بعد 1938 میں ہان اور مائٹنر(Hahn and Meitner) نے یورینیم کے نیوٹران مائل انشقاق(fission) کے مظہر کو دریافت کیا جس کے سبب نیوکلیر پاور ری ایکٹر اور نیوکلیر ہتھیاروں کی بنیاد فراہم ہوئی۔ طبیعیات سے ٹکنالوجی پیدا ہونے کی ایک اور مثال سلی کان ’چپ‘(Silicon chip) ہے جس نے بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں ’’کمپیوٹر انقلاب‘‘ کو تحریک دی۔  توانائی کے متبادل وسائل کا فروغ ایک ایسا اہم میدان ہے جس میں طبیعیات کا ہمیشہ اشتراک رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس کا اشتراک قائم رہے گا۔ ہمارے کرہ ارض کے رکازی ایندھنوں(fossil fuels) میں نہایت تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ لہٰذا نئے اور قابل استطاعت توانائی وسائل کی دریافت نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ہی قابلِ لحاظ پیش رفت ہوچکی ہے۔ (مثال کے لیے شمسی توانائی اور ارضی حرارتی توانائی وغیرہ کی برقی توانائی میں منتقلی) لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

                                    جدول 1.1  دنیا کے مختلف ملکوں کے کچھ طبیعیات دانوں کے نام اور ان کا اشتراک
نام اہم اشتراک  ⁄ دریافت پیدائشی  ملک
آرشمیدس شنائیت (buoyancy) کا اصول، لیور کا اصول یونان
گیلیلیو گیلیلی جمودکا قانون (Law of inertia)   اٹلی
کرسچین ہائی گینس روشنی کا نظریہ لہر ہالینڈ
آئزک نیوٹن مادّی کشش کا ہمہ گیر قانون: قوانین حرکت، انعکاسی دور بین نگلینڈ
مائیکل فیراڈے برق مقناطیسی امالیت کے قوانین انگلینڈ
جیمس کلارک میکس ویل برق مقناطیسی نظریہ، روشنی؛ ایک برق مقناطیسی لہر نگلینڈ
ہینرک روڈ ولف ہرٹز برق۔مقناطیسی لہریں پیدا کرنا جرمنی
جے۔سی۔بوس بالامختصر ریڈیائی لہریں ہندوستان
ڈبلو۔کے۔رونجن  ایکس شعاعیں جرمنی
جے۔جے۔تھامسن الیکٹران کی دریافت انگلینڈ
میری اسکلوڈ وسکا کیوری ریڈیم اور پولونیم کی دریافت؛ قدرتی تابکاری کا مطالعہ پولینڈ
البرٹ آئنسٹائن نوری برقی اثر کا وضاحت؛ نظریہ اضافیت جرمنی
وکٹرفرانسس ہیس آفاقی اشعاع آسٹریا
آر۔اے۔ملیکن الیکٹرانک چارج کی پیمائش امریکہ
ارنیسٹ ردرفورڈ ایٹم کانیوکلیر ماڈل نیوزی لینڈ
نیلس بور  ہائڈروجن ایٹم کا کوانٹم ماڈل ڈنمارک
سی۔ وی۔ رمن سالموں کے ذریعے روشنی کا غیر لچک دار انتشار ہندوستان
لوئس وکٹرڈی براگلی مادے کی لہری طبع فرانس
ایم۔این۔سہا حرارتی رواں سازی ہندوستان
ایس۔این۔بوس کوانٹم شماریات ہندوستان
وولف گانگ پالی اصولِ استثنیٰ آسٹریا
انیرکوفرمی قابو کیا گیا نیوکلیائی تعامل اٹلی
ورنرہائزنبرگ کوانٹم میکانات، عدم یقینی قانون جرمنی
پال ڈراک الیکٹرون کا اضافی اصول، کوانٹم شماریات انگلینڈ
ایڈون ہبل توسیعی کائنات امریکہ
ارنیسٹ آرلینڈولارنس سائیکلوٹران امریکہ
جیمس چاڈوک نیوٹران برطانیہ
ہدیکی یوکاوا نیوکلیائی قوتوں کا نظریہ جاپان
ہومی جہانگیربھابھا آفاقی اشعاع کا کیسکیڈعمل ہندوستان
لیو ڈیوی ڈووک لینڈو تکثیف شدہ مادّہ کا نظریہ؛ سیال ہیلیئم روس
ایس۔چندرشیکھر چندرشیکھرحد، تاروں کی بناوٹ اور ارتقا ہندوستان
جوہن بارڈین ٹرانسسٹر، اعلیٰ مواصلیت کا نظریہ امریکہ
سی۔ایچ۔ٹوونس میزر، لیزر امریکہ
عبدالسلام کمزور اور برق مقناطیسی تعاملات کی یکجائی پاکستان

       
      جدول1.1 میں کچھ عظیم طبیعیات دانوں، ان کےنام، ان کے اہم اشتراک اور ان کےوطن کی فہرست دی گئ ہے۔اس جدول سے ااپ سائنسی مہمات کے کثیر ثقافتی اور عالمی کردارکو سمجھ سکیں گے۔جدول 1.2میں کچھ اہم ٹکنالوجی اور جن اصولوں پر وہ منحصرہیں، ان کی فہرست دی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ جدول مکمل نہیں ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے اساتذہ، دیگرکتابوں اور سائنس کی ویب سائٹوں کی مدد سے ان میں مزیدناموں اور دیگرامور کا اضافہ کریں۔آپ دیکھیں گے کہ ایسا کرنے میں آپ کو بہت لطف آئے گا اور یہ تعلیمی اعتبار سے بھی بہت مفید ہوگا، اور یقینا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔سائنس کی ترقی کو روکا نہیں جاسکتا۔
         طبیعیات قدرت اور قدرتی مظاہر کا مطالعہ ہے۔طبیعیات داں، مشاہدات، تجربات اورتجزیات کی بنیاد پر قدرت میں کام کررہے اصولوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔طبیعیات قدرتی دنیا کو چلانے والے خاص بنیادی قاعدوں،قوانین کا مطالعہ ہے۔طبیعیاتی قوانین کی طبع کیا ہے؟ اب ہم ان بنیادی قوتوں اور قوانین پر بحث کریں گے جو طبعی دنیا کے گوناگوں مظاہر میں کارفرما ہیں۔
جدول 1.2  ٹکنالوجی اور طبیعیات کے درمیان تعلق

ٹکنالوجی سائنسی اصول
بھاپ انجن حرحرکیات کے قوانین
نیو کلیرری ایکٹر
قابو کیا ہوا نیو کلیر انشقاق
ریڈ یو اور ٹیلی وژن برق مقناطیسی لہریں پیدا کرنا، ان کی ترسیل اورشناخت
کمپیوٹر
ہندی منطق
لیزر
اشعار ریزی کے مہیچ اخراج کے ذریعے روشنی کی افزائش
اعلیٰ بالائ مقناطیسی میدانوں کی تشکیل اعلیٰ درجے کی موصولیت (Super Conductivity)
راکٹ کوآگے دھکیلنا (Propulsion)
ٹیوشن کےحرکت کے قوانین
بر قی جنریٹر
برق مقناطیسی امالیت کافیراڈے کاقانون
آبی برقی پاور
ارضی کشش توانائ بالقوۃ کی برقی توانائ میں منتقلی
ہوائ جہاز سیال حرکات میں برنولی کا اصول
ذرہ سرعت کار (Particl Acceleratorg)
برق مقناطیسی میدانوں میں چارج شدہ ذات کی حرکت
سونار بالا صوتی لہروں کاانعکاس
آپٹیکل فائبر (نوری ریشے)
روشنی کا مکمل داخلی انعکاس
غیرر انعکاسی قلعی
باریک فلم نوری مداخلت
الیکٹران خورد بین
الیکٹرون کی لہر طبع
فوٹو سیل
نوری برقی اثر
فیوزن جانچ رئیکٹر (ٹوکامک)
ازمہ کی مقناطیسی طریقے سے علائ محدودیت
عظیم میٹر لہر ریڈیو ٹیلی اسکوپ (GMRT) آفاقی ریڈیائ لہروں شناخت
بوس آئنسائن کنڈنسیٹ زر ربیم اور مقناطیسی میدان کے ذریعہ ایٹموں کی دام شد گی اور انہیں ٹھنڈا کرنا۔
 

 1.4 فطرت میں بنیادی قوتیں* (FUNDAMENTAL    

FORCES IN NATURE 

                ہم سبھی قوت سے متعلق ایک وجدانی نظریہ یا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے تجربے کی بنیاد پر کسی شے کو توڑنے مروڑنے، پھینکنے، دھکیلنے اور لانے لے جانے کے لیے قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم کسی چرخی جھولے میں گھوم رہے ہوتے ہیں یا کوئی متحرک شے ہم سے ٹکراتی ہے تو اس وقت بھی ہم اپنے اوپر قوت کی ضرب کا احساس کرتے ہیں۔ قوت کے اس وجدانی نظریے سے قوت کے موزوں سائنسی نظریہ یا تصور کی طرف بڑھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ارسطو جیسے ابتدائی مفکرین کے اس سلسلے میں غلط تصورات تھے۔ قوت کا صحیح تصور نیوٹن نے اپنے معروف ’حرکت کے قوانین ‘ کے ذریعے پیش کیا۔ انھوں نے دو اجسام کے درمیان مادی کشش کے لیے بھی قوت کی واضح شکل پیش کی۔ ہم ان امور کا مطالعہ اگلے ابواب میں کریں گے۔
            کلاں بینی دنیا میں مادی کشش کے ساتھ ساتھ ہمارا سامنا کئی دیگر قسم کی قوتوں سے ہوتا ہے۔ عضلاتی قوت، اجسام کے درمیان تماسی قوتیں، رگڑقوت (جو کہ تماسی سطحوں کے متوازی لگنے والی تماسی قوت ہی ہے)، دابی گئی اور کھنچی ہوئی کمانیوں کے ذریعے لگنے والی قوت اور کسی ہوئی رسی یا ڈوری کی قوت (تناؤ)، جب ٹھوس اشیا کسی سیال کے تماس میں آتی ہیں تو اچھال یا لزوجی قوتیں، سیال کے دباؤ سے پیدا ہونے والی قوت اور کسی سیال کے سطحی تناؤ کے سبب پیدا ہونے والی قوت وغیرہ۔ چارج شدہ اور مقناطیسی اجسام پرمشتمل قوتیں بھی ہوتی ہیں۔ خورد بینی (مائیکرواسکوپی) میدان میں ہم برقی اور مقناطیسی قوت، پروٹانوں اور نیوٹرانوں کے درمیان نیوکلیائی قوتوں اور بین ایٹمی اور بین سالماتی قوتوں کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اس طرح کی بعض قوتوں کے بارے میں بعد کے حصوں میں واقفیت حاصل کرسکیں گے۔
            بیسویں صدی کی طبیعیات سے ایک اہم بصیرت یہ حاصل ہوئی کہ مختلف سیاق وسباق میں پیدا ہونے والی مختلف قوتیں دراصل فطرت کی صرف کچھ ہی بنیادی قوتوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے لیے لچکدار کمانی (اسپرنگ) قوت، جب کمانی کو کھینچا یا دبایا جاتا ہے تو کمانی میں پاس واقع ایٹموں کے درمیان کل کشش/دفع یا ہٹاؤ کے ذریعے پیدا ہوتی ہے اور اس کل کشش / ہٹاؤ کو ایٹموں کے چارج شدہ ترکیبی اجزا کے درمیان  برقی قوتوں (غیر متوازن) کے حاصل جمع کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ 
              اصولی طورپر، اس سے مراد ہے ماخوذ قوتیں (جیسے کمانی قوت، رگڑ) فطرت کی بنیادی قوتوں کے قوانین کے غیرتابع نہیں ہیں۔ اگرچہ ان ماخوذ قوتوں کی بنیاد نہایت پیچیدہ ہے۔
              اپنے فہم کی موجودہ سطح کے مطابق ہم مانتے ہیں کہ فطرت میں چار بنیادی قوتیں ہیں جن کے بارے میں یہاں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔

* 1.4 اور 1.5حصّے کئی ایسے تصورات اور خیالات کے حامل ہیں جن کو ایک بار پڑھنے پر آپ ہوسکتا ہے پوری طرح انھیں ذہنی گرفت میں نہ لا سکیں۔ لیکن ہم آپ کو صلاح دیں گے کہ انھیں بہت غور سے پڑھیں تاکہ آپ کے ذہن میں طبیعیات کے کچھ بنیادی پہلوؤں کی نشوونما کا احساس پیدا ہوسکے۔یہ کچھ ایسے عنوانات ہیں جوآج بھی طبیعیات دانوں کی توجہ کا باعث ہیں-

1.4.1  قوت ثقل   (The Gravitational Force)

       قوت ثقل دو اجسام کے درمیان ان کی کمیتوں کی وجہ سے باہمی کشش کی قوت ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر قوت ہے۔ دنیا میں واقع ہر شے کائنات کی دوسری ہرایک شے کی وجہ سے اس قوت کا احساس کرتی ہے۔ مثال کے لیے زمین پر واقع سبھی اشیا زمین کے سبب ارضی کشش قوت کا احساس کرتی ہیں۔ کشش ثقل، بالخصوص، زمین کی چاند اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے کی جانے والی گردش، سیاروں کی سورج کے اطراف کی جانے والے گردش اور بلا شبہہ، زمین پرگرنے والی اجسام کی حرکت معین کرتی ہے۔ یہ کائنات میں واقع ہونے والے بڑے پیمانے کے مظاہرجیسے تاروں، گیلیکسی اور گیلکٹی گچھوں (galactic clusters)کے بننے اور ان کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Capture1 Page10, Pic9

البرٹ آئنسٹائن   (1955-1879)

البرٹ آئنسٹائن1879 عیسوی میں جرمنی میں الم (Ulm) نام کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار دنیا کے آج تک کے سب سے زیادہ عظیم طبیعیات دانوں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی حیرت انگیز سائنسی زندگی ان کے 1905 میں شائع تین انقلابی تحقیقی مقالات سے شروع ہوئی۔ انھوں نے اپنے پہلے تحقیقی مقالے میں نوری کو انٹا (اب فوٹان کہا جاتا ہے) کے تصور کو پیش کیا اوراسے استعمال کرکے نوری برقی اثر کی ان خصوصیات کی تشریح کی جنہیں اشعاع ریزی کا کلاسیکی نظریہ لہر نہیں سمجھا سکا تھا۔ اپنے دوسرے تحقیقی مقالے میں انھوں نے براؤنی حرکت کے نظریہ کو فروغ دیا جس کی کچھ سالوں کے بعد تجرباتی توثیق ہوئی اور جس نے مادّے کی ایٹمی تصویر پربد یہی شہادت فراہم کی۔ ان کے تیسرے تحقیقی مطالعہ نے اضافیت کے مخصوص نظریے کو جنم دیا جس نے انھیں زندگی میں ہی معروف کردیا۔ اگلی دہائی میں انھوں نے اپنے نئے نظریے کے نتائج کا گہرا مطالعہ کیا جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ کمیت اور توانائی کا معاولیت، ان کی معروف مساوات E = mc2 سے ظاہر ہوئی۔ انھوں نے اضافیت کے عام بیان (اضافیت کا عمومی نظریہ) کی بھی تخلیق کی جو مادی کشش کا جدید نظریہ ہے۔ آئنسٹائن کے بعض دیگر اشتراک ہیں: محرک اخراج کا تصور جوپلانک سیاہ جسم اشعاع قانون کے ایک متبادل مشتق میں پیش کیا گیا ہے، کائنات کا ساکن ماڈل جس نے جدید تکوِینیات کی ابتداکی، بھاری بوسانوں پر مشتمل گیس کی کوانٹم شماریات اور کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics) کی بنیادوں کا تنقیدی تجزیہ۔
                          آئنسٹائن کے طبیعیات میں اہم حصّے کو محسوس کرتے ہوئے، جس میں 1905ءمیں انہوں نے ایسے انقلابی سائنسی تصورات پیش کیے جو جب سے اب تک جدید طبیعیات پر اثراندازہورہے ہیں، برس 2005ء کو طبیعیات کے بین الاقوامی سال کے طورپرمنایا گیا۔

1.4.2   برق مقناطیسی قوت        (Electromagnetic Force)  

        برق مقناطیسی قوت چارج شدہ ذرّات کے درمیان لگنے والی قوت ہے۔ سادہ صورتوں میں جب چارج ساکن ہوتے ہیں تو ان کے درمیان باہمی قوت کو کولمب کے اصول کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں: غیر یکساں چارجوں کے بیچ کشش اور یکساں چارجوں کے درمیان دفع–متحرک چارج مقناطیسی اثر پیدا کرتے ہیں اور مقناطیسی میدان متحرک چارج پر ایک قوت پیدا کرتا ہے۔ برقی اور مقناطیسی اثرعمومی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیے جاسکتے۔اس لیے برق– مقناطیسی قوت کا نام دیا گیا ہے۔ مادی کشش کی طرح ہی برق مقناطیسی قوت بھی لمبی دوریوں تک عمل پذیر رہتی ہے اور اس کےلیے بھی کسی مداخلت ذریعے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مادّی کشش کے مقابلے یہ قوت کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک متعین دوری کےلیے دو پروٹانوں کے درمیان برقی قوت ان کے بیچ کی مادی کشش کی قوت کی 1036 گنا ہوتی ہے۔
    مادّہ، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، الیکٹران اور پروٹان جیسے ابتدائی چارج شدہ اجزاے ترکیبی پر مشتمل ہوتا ہے۔ چونکہ برق مقناطیسی قوت، مادی کشش کی قوت سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے اس لیے یہ ایٹمی اور سالماتی پیمانوں پر سبھی مظاہر میں فوقیت رکھتی ہے (دیگر دو قوتیں جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے، صرف نیوکلیائی پیمانے پر عمل پذیر ہوتی ہیں)۔ اس طرح یہ صرف برق مقناطیسی قوت ہی ہے جو ایٹموں اور سالموں کی ساخت، کیمیاوی تعاملات کی حرکیات اور مادوں کی میکانکی، حری اور دیگر خصوصیات کو معین کرتی ہے۔ یہ کلاں بینی قوتوں جیسے ’تناؤ‘، ’رگڑ‘، ’عام قوتوں‘ اور’کمانی قوت‘ وغیرہ کی بنیادہے۔ مادّی کشش کی قوت، ہمیشہ کششی ہوتی ہے جب کہ برق مقناطیسی قوت، کششی یا دفع ہوسکتی ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کمیت صرف ایک ہی طرح کی ہوتی ہے ( کوئی منفی کمیت نہیں ہوتی) جب کہ چارج دوطرح کے ہوتے ہیں، مثبت اور منفی۔ اسی وجہ سے سارا فرق پیدا ہوتا ہے۔  مادہ زیادہ تر برقی اعتبار سے معادل ہوتا ہے (کل چارج صفر ہے)۔ اس لیے برقی قوت زیادہ تر صفر ہوتی ہے اور مادی کشش کی قوت ہی زیادہ تر ارضی مظاہر میں فوقیت رکھتی ہے۔برقی قوت، فضا میں اس وقت رونما ہوتی ہے، جب ایٹم رواں شدہ ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے بجلی کڑکتی ہے۔اگر ہم تھوڑا غور کریں تو ہم اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں ارضی کشش کی قوت کے مقابلے برق مقناطیسی قوت کی نہایت زیادہ طاقت واضح طورپر دیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے ہاتھ میں ایک کتاب پکڑتے ہیں تو ہم اپنے ہاتھ کی ’’عام قوت‘‘ کے ذریعے کتاب پر زمین کی ضخیم کمیت کے سبب لگ رہی ارضی کشش کی قوت کو متوازن کررہے ہوتے ہیں۔ یہ ’عام قوت‘ اور کچھ نہیں بلکہ تماس میں آئی سطح پر، کتاب اور ہمارے ہاتھ کے چارج شدہ اجزاے ترکیبی کے درمیان کی کل برق مقناطیسی قوت ہی ہے۔ اگر برق مقناطیسی قوت، ارضی کشش قوت سے داخلی طورپر اتنی طاقتور نہ ہوتی تو ایک مضبوط شخص کا ہاتھ بھی ایک پنکھ کے وزن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ درحقیقت ایسی حالت میں ہم خود ہی اپنے وزن (weight) سے ٹوٹ جاتے۔

Capture1 Page11, Pic10
ستیندرناتھ بوس     1974-1894)
                ستیندرناتھ بوس 1894عیسوی میں کلکتّہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ان عظیم ہندوستانی طبیعیات دانوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے بیسویں صدی میں سائنس کی ترقی میں بنیادی اشتراک کیا۔ بوس اپنے تعلیمی دور میں ہمیشہ ایک غیر معمولی ذہین طالب علم رہے۔ انھوں نے 1916 میں اپنی عملی زندگی کلکتّہ یونیورسٹی میں طبیعیات کے لکچرر کے طورپر شروع کی۔ پانچ سال کے بعد انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کردیا۔ 1924 میں اپنی بصیرت سے انھوں نے پلانک قانون کو نئے طریقے سے مشتق کیا۔ جس میں انھوں نے اشعاع ریزی کو فوٹانوں کی گیس کے طورپر مانا اور فوٹان حالتوں کے شمار کے لیے نیا شماریاتی طریقہ اپنایا۔ انھوں نے اس موضوع پرایک مختصر تحقیقی مقالہ لکھ کر آئنسٹائن کو بھیجا جنھوں نے فوراً اس کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کرکے اشاعت کے لیے بھیج دیا۔ آئنسٹائن نے پھراسی طریقے کوسالموں کی گیس کے لیے اپنایا۔
                بوس کے کاموں میں نیاکلیدی تصوراتی عنصر یہ تھا کہ ذرّات کو ناقابل تفریق مانا گیا جو کلاسیکی میکس ویل ۔بولٹزمان شماریات کو بنیادفراہم کرنے والے مفروضے سے یکسرالگ تھا۔ جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ نئی بوس– آئنسٹائن شماریات صرف صحیح عددی اسپن والے ذرّات پر ہی لاگو ہوتی ہے اور نصف صحیح عددی اسپن والے ذرّات کے لیے، جو پاولی استثنیٰ اصول کی شرط پوری کرتے ہیں، ایک نئی کوانٹم شماریات (فرمی ڈیراک شماریات) کی ضرورت ہے۔ بوس کے اعزاز میں صحیح عددی اسپن والے ذرّات بوسان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 
       بوس- آئنسٹائن شماریات کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ مخصوص متعین درجۂ حرارت سے نیچے سالموں کی کسی گیس کی ہئیت منتقلی(Phase transition) کسی ایسی حالت میں ہوگی جس میں زیادہ تر ایٹم اسی کم ترین توانائی حالت میں رہیں گے۔ بوس کے اولین تصورات کی جنھیں آئنسٹائن نے مزید فروغ دیا، تقریباً سترسال کے بعد اس وقت ڈرامائی طور پر تصدیق ہوئی جب بالاخنک الکلی ایٹموں کی ہلکی گیس میں مادّے کی ایک نئی حالت کا مشاہدہ کیا گیا، جو بوس۔آئنسٹائن کنڈ نسیٹ حالت کہلاتی ہے۔

1.4.3 قوی نیوکلیر قوت(The Strong Nuclear Force)    

     ’قوی نیوکلیر قوت‘ نیوکلیس میں پروٹانوں اور نیوٹرانوں کو باندھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی کشش قوت کی غیر موجودگی میں نیوکلیس اپنے پروٹانوں کے برقی وافع کے سبب غیر مستحکم ہوگا۔ یہ قوت کشش، کشش ثقل نہیں ہوسکتی کیونکہ قوت ثقل برقی قوت کے مقابلے برائے نام ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک نئی بنیادی قوت ضرور ہونی چاہیے۔ قوی نیوکلیر قوت سبھی بنیادی قوتوں میں سب سے زیادہ قوی ہے۔ یہ برق مقناطیسی قوت سے تقریباً 100 گنا قوی ہے۔ یہ چارج کے غیرتابع ہے اور پروٹان اور پروٹان، نیوٹران اور نیوٹران اور پروٹان ونیوٹران کے درمیان یکساں طورپر عمل کرتی ہے۔اگرچہ اس کی سِعت بہت ہی کم ہے، یعنی تقریباً  نیوکلیس کے (15–10میٹر)سائز کے موافق لیکن  نیوکلیس کے استحکام کے لیے ذمہ دار ہے  یہ خیال رکھنا چاہیے کہ الیکٹران اس قوت کا احساس نہیں کرتے ہیں۔
     حال ہی میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجوں سے یہ نشاندہی ہوئی ہے کہ پروٹان اور نیوٹران ’کوارکس‘(quarks) نام کے اور بھی زیادہ بنیادی اجزا سے بنے ہیں۔

1.4.4  کمزور  نیوکلیر  قوت         ( Weak Nuclear Force)

     کمزور نیوکلیر قوت صرف کچھ نیوکلیر عمل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے جیسے نیوکلیس کاβ-تنزل-βتنزل میں نیوکلیس ایک الیکٹران اور غیر چارج شدہ ذرہ جسے نیوٹرینو کہتے ہیں، خارج کرتا ہے۔ کمزور نیوکلیر قوت اتنی کمزور نہیں ہوتی جتنی کہ مادی کشش لیکن قوی نیوکلیائی قوت اور برق مقناطیسی قوتوں کے مقابلے کمزور ہوتی ہے۔ کمزور نیوکلیرقوت کی سعت نہایت ہی کم ہے یعنی Capture1 Page12, Pic11 کی۔

1.4.5 قوتوں کی یکجائی کی جانب

(Towards Unification of Forces)

       ہم نے حصّہ 1.1 میں تبصرہ کیا تھا کہ یکجائی، طبیعیات کی بنیادی جستجو ہے۔ طبیعیات میں ہورہی اہم پیش رفت اکثر مختلف نظریات اور دائرہ اثر کی یکجائی کے سلسلے میں ہوتی ہے۔ نیوٹن نے ارضی اور فلکیاتی میدانوں کو مادی کشش کے عام قانون کے تحت یکجا کیا ہے۔ اورسٹڈاور فیراڈے کی تجرباتی دریافتوں نے ظاہر کیا ہے کہ برقی اور مقناطیسی مظاہر عمومی طورپرایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ میکس ویل نے برق مقناطیس اور نوریات کو اس دریافت کے ساتھ یکجا کردیا کہ روشنی ایک برق–مقناطیسی لہرہے۔ آئنسٹائن نے مادی کشش اور برق مقناطیسیت کو بھی یکجاکرنے کی کوشش کی لیکن اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ لیکن اس ناکامی نے طبیعیات دانوں کی قوتوں کی یکجائی کے مقصد کی تکمیل میں نہایت پُرجوش طورپر آگے بڑھنے کی حوصلہ شکنی نہیں کی۔
           پچھلی کچھ دہائیوں میں اس میدان میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ برق  مقناطیسی اور کمزور نیوکلیر قوت کو اب یکجا کردیا گیا ہے اور انھیں واحد’برق۔ کمزور‘ قوت کے مختلف رخوں کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔ درحقیقت اس یکجائی کے کیا معنی ہیں، یہاں یہ بتا پانامشکل ہے۔برق-کمزوراورقوی نیوکلیائی اور یہاں تک کہ مادّی کشش قوت کو بھی دیگر باقی بچی بنیادی قوتوں سے یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اب بھی کی جارہی ہے۔ اس طرح کے متعدد تصورات اب بھی خیالی اور غیر فیصلہ کن ہیں۔ جدول 1.4 کے تحت قدرت کی ان قوتوں کی یکجائی کی سمت میں حاصل ہوئی پیش رفت کے اہم سنگِ میل کاخلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

نام اضافی طاقت سعت جن کے درمیان کام کرتی ہے
 قوت ثقل(Gravitational  Force) 10-38 لامتناہی کائنات کی سبھی اشیا
کمزور نیوکلیر قوت 10-13 بہت خفیف، تحت نیوکلیائی سائز
(∼10-16m)
 میں
کچھ بنیادی ذرّات،خصوصاً الیکٹران اورنیوٹرینو
برق-مقناطیسی قوت 10-2 لامتناہی چارج شدہ ذرّات
قوی نیوکلیائی قوت بہت خفیف، تحت نیوکلیائی سائز 
 (∼10-15m)
میں
نیوکلیون، بھاری بنیادی ذرّات


1.5طبیعی قوانین کی فطرت

(NATURE OF PHYSICAL LAWS)

                طبیعیات داں کائنات کی کھوج کرتے ہیں۔ان کی تفتیش، جو سائنسی طریقوں پر مبنی ہوتی ہے، کی وسعت سائز میں ایٹموں سے بھی چھوٹے ذرّات سے لے کر ان ستاروں تک کا احاطہ کرتی ہے جو بہت دور ہیں۔مشاہدات اور تجربات کے ذریعے حقیقتوں کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ طبیعیات داں، ان قوانین کو بھی دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں (اکثر ریاضیاتی مساواتوں کی شکل میں) جو ان حقیقتوں کا خلاصہ ہیں۔
              کسی بھی طبعی مظہر میں، جس میں مختلف قوتیں کام کررہی ہوتی ہیں، وقت کے ساتھ کئی مقداریں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ کچھ مخصوص طبعی مقداریں ایسی بھی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ مستقل رہتی ہیں۔یہ فطرت کی بقائی مقداریں ہیں۔مشاہدہ میں آئے مظاہر کو مقداری شکل میں بیان کرنے کے لیے ان بقائی اصولوں کوسمجھنا نہایت اہم ہے۔
            ایک باہری بقائی قوت کے تحت ہونے والی حرکت کے لیے، کل میکانیکی توانائی، یعنی کہ ایک جسم کی حرکی اور بالقوۃ توانائیوں کا مجموعہ ایک مستقلہ ہے۔ اس کی ایک عام مثال زمین کی کشش کے زیراثر کسی شے کا آزادانہ کرنا ہے۔ایسی صورت میں شے کی حرکی اور بالقوۃ دونوں توانائیاں وقت کے ساتھ لگاتار تبدیل ہوتی ہیں،لیکن ان کا حاصل جمع معین رہتا ہے۔اگر ایک جسم کو حالتِ سکون سے نیچے گرایاجاتا ہے تو اسکی آغازی توانائی بالقوۃجسم کے زمین پرٹکرانے سے پہلے پوری طرح سے حرکی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔یہ قانون جوصرف بقائی قوت کےلیے ہے اسے ایک جدانظام کے لیے توانائی کی بقا کے عمومی قانون سے خلط ملط  نہیں کرناچاہیے (جوکہ حرحرکیات کےپہلے قانون کی بنیادہے)۔

طبیعیات داں کا نام سال یکجائی میں حصول
آئزک نیوٹن 1687 ارضی اور آفاقی میکانیات کو یکجا کیا ثابت کرکے کہ حرکت کے اور مادی کشش کے یکساں قانون دونوں علاقوں میں لاگو ہوتے ہیں۔
ہینس کرسٹین اورسٹڈ 
مائیکل فیراڈے
1820
1830
ثابت کیا کہ برقی اور مقناطیسی مظاہر ایک یکجا متحدہ علاقے کے دو ایسے پہلو ہیں
جنھیں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے :بر ق مقنا طیسیت 
جیمس کلارک میکس ویل 1873 متحدہ برق، مقنا طیسیت اور نوریات: ثابت کرتے ہیں کہ روشنی ایک برقی -مقنا طیسی لہر ہے۔
شیلڈن گلاشو
عبدالسلام
اسٹیون وائن برگ
1979 ثابت کیا کہ کمزور نیوکلیائی قوت اوربرق مقناطیسی قوت کو واحد برقی۔کمزور قوت کے مختلف پہلوؤں کے بطور سمجھاجاسکتاہے۔
کارلو روبیا
سائمن ونیڈرمیر
1984 برقی۔ کمزور قوت کے نظریہ کی پیشین گوئیوں کی تجرباتی تصدیق کی۔


        توانائی کا تصور طبیعیات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ہرنظام کے لیے توانائی کی ریاضیاتی عبارت لکھی جاسکتی ہے۔جب توانائی کی تمام شکلوں، مثلاً، حرارت، میکانیکی توانائی، برقی توانائی وغیرہ کا شمار کیا جاتا ہے، تو یہ پتہ چلتا ہے کہ توانائی کی بقا ہوتی ہے۔توانائی کی بقا کی عمومی قانون، تمام قوتوں اور توانائی کی مختلف شکلوں کے درمیان کسی بھی قسم کی منتقلی کے لیے صادق ہے۔زمین پر گرتی ہوئی شے کی مثال میں، اگر ہم گرنے کے دوران لگ رہی ہوا کی مزاحمت کو بھی شامل کرلیں اور اس صورت پر غورکریں جب شے زمین سے ٹکراتی ہے اور پھر وہیں رکی رہتی ہے، تو کل میکانیکی توانائی کی ظاہر ہے کہ بقا نہیں ہوتی۔لیکن توانائی کی بقا کا عمومی قانون اب بھی لاگو ہوتا ہے۔پتھر کی آغازی توانائی بالقوۃ توانائی کی دوسری شکلوں : حرارت اور آواز (آخرکار ، آواز اور اس کے جذب ہونے کے بعد حرارت)‘ میں منتقل ہوجاتی ہے۔نظام کی کل توانائی (پتھر جمع ماحول) تبدیل نہیں ہوتی۔
توانائی کی بقا کے قانون کو، قدرت کے تمام علاقوں، کلاں بینی سے لے کر خوردبینی تک، کے لیے درست تصور کیا جاتا ہے۔اسے ایٹمی، نیوکلیائی اور بنیادی ذرّات کے عملوں میں عام طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔دوسری طرف، کائنات میں ہر وقت دھماکہ خیزمظاہر واقع ہوتے رہتے ہیں۔پھر بھی کائنات کی کل توانائی (کائنات ممکنہ طور پر حاصل ہوسکنے والا مثالی جدا نظام ہے) کو تبدیل نہ ہونے والی ہی تصور کیا جاتا ہے۔
آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کے سامنے آنے سے پہلے تک کمیت کی بقا کے قانون کو قدرت کا ایک دوسرا بنیادی بقا کا قانون مانا جاتا تھا کیونکہ مادہ کو ناقابلِ فنا سمجھا جاتا تھا۔یہ استعمال کیا جانے والا ایک اہم اصول تھا (اور اب بھی ہے) جیسے کہ کیمیائی تعاملات کے تجزیے کے لیے۔ایک کیمیائی تعامل، بنیادی طور پر مختلف سالمات میں ایٹموں کی ازسرنو ترتیب ہے۔ اگر متعامل سالمات کی کل بندش توانائی، ماحصل سالمات کی کل بندش توانائی سے کم ہوتی ہے تو توانائی کا یہ فرق حرارت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور تعامل حرارت زا (exothermic)ہوتا ہے۔توانائی جذب ہونے والے حرارت خور (endothermic)  تعاملات کے لیے  اس کے برخلاف درست ہے۔لیکن کیونکہ ایٹم صرف ازسرنوترتیب پاتے ہیں اور فنا (ضائع) نہیں ہوتے، اس لیے متعاملات کی کل کمیت، ایک کیمیائی تعامل میں، ماحصلات کی کل کمیت کے مساوی ہوتی ہے۔بندش توانائی میں ہونے والی تبدیلیاں اتنی خفیف ہوتی ہیں کہ ان کی پیمائش بہ طور کمیت میں ہونے والی تبدیلیوں کے نہیں کی جاسکتی ۔
raman

سرسی وی رمن (1888-1970)

چندرشیکھر وینکٹ رمن کی پیدائش07نومبر1888ء میں تھیرووینا کا ول میں ہوئی۔انھوں نے اپنی اسکول کی تعلیم گیارہ سال کی عمر میں مکمل کر لی تھی۔ اور ڈگری کورس مدراس کے پریسڈ ینسی کالج سے مکمل کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ حکومتِ ہندکے سرکاری مالیاتی ادارہ میں کام کرنے لگے۔
             جب وہ کلکتہ میں تھے تو انہوں نے اپنی پسند کے میدان میں کام کرنا شروع کردیا۔ وہ شام کے وقت روزانہ ڈاکٹر مہندرلال سرکارکے ذریعہ قائم شدہ ادارہ انڈین الیسوسی ایشن فارکلٹی ویشن آف سائنس میں وقت صرف کرتے۔ ان کے پسند کے میدان ارتعاش،مختلف آلات موسیقی ،الٹراسونک (بالاصوتیات)، انصراف وغیرہ تھے۔
            1917 میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں پروفیسر کا عہدہ دیا۔ 1924ء میں برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے فیلو منتخب کیے گئے اور1930ء میں انہیں ان کی دریافت جواب رمن اثر کہلاتا ہے، پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔
                 رمن اثر واسطہ کے سالمہ کے ذریعہ روشنی کے انتشار کے بارے میں، جب انہیں ارتعاشی توانائی سطح تک پہنچایا جاتا ہے،جانکاری دیتا ہے۔اس کام سے ایک ایسے مضمون کا جنم ہوا جس نے مستقبل کے سائنسدانوں کےلیے تحقیق کا ایک نیا باب کھول دیا۔
                    انہوں نے اپنا آخرکا وقت بنگلور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں اور پھر رمن ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ میں صرف کیا۔ ان کے کام نے نئی نسل کے طلبا میں ولولہ پیدا کیا۔

آئنسٹائن کے نظریے کے مطابق، کمیت m مندرجہ ذیل رشتے کے مطابق دی جانے والی توانائی Eکے مساوی ہے: E=mc2جہاں cخلاء میں روشنی کی رفتار ہے۔
 ایک نیوکلیائی عمل میں کمیت، توانائی میں تبدیل ہوتی ہے (یا اس کے برخلاف) یہی وہ توانائی ہے جو ایک نیوکلیائی پاور پیدا کرنے یا نیوکلیائی دھماکوں میں خارج ہوتی ہے۔
توانائی غیر سمتی مقدار ہے۔لیکن ضروری نہیں ہے کہ تمام بقائی مقداریں غیرسمتی (عددی) ہوں۔کسی جدا نظام کا کل خطی تحرک(Total Linear momentum) اورکل زاویائی تحرک (Total angular momentum) بھی(دونوں سمتیہ ہی بقائی مقداریں ہیں۔میکانیات میں ان قوانین کو نیوٹن کے حرکت کے قوانین سے اخذ کیا جاسکتاہے۔لیکن یہ میکانیات کے علاوہ دوسرے میدانوں کے لیے بھی درست ہیں۔سبھی میدانوں میں قدرت کے بقا کے بنیادی قوانین لاگوہوتے ہیں۔وہاں بھی جہاں نیوٹن کےقانون لاگونہیں ہوتے۔
اپنی نہایت سادگی اور عمومیت کے علاوہ ، قدرت کے بقائی قوانین عملی طورپر بھی بہت کارآمد ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ذرّات ا ور قوتوں پر مشتمل ایک پیچیدہ مسئلے کی مکمل حرکیات کو ہم حل نہیں کرپاتے۔ ایسی صورت  میں بھی بقائی قوانین کارآمد نتائج مہیا کرتے ہیں۔مثلاً ہم دو سواریوں کے تصادم کے دوران لگ رہی پیچیدہ قوتوں کو ہوسکتا ہے نا جانتے ہوں، پھر بھی بقائی قانون ہمیں اس لائق بناتے ہیں کہ ہم پیچیدگیوں کو نظرانداز کرکے تصادم کے نتائج کی پیشن گوئی کرسکیں یا کچھ امکانات کو خارج  کرسکیں۔نیوکلیائی اور بنیادی ذرّاتی عملوں میں بھی، بقائی قوانین، تجزیے کے کارآمد آلات ہیں۔-βتنزل میں توانائی اور تحرک کے بقائی قوانین کو استعمال کرکے ہی،وولفگانگ پالی(1958-1990)نے 1931 میں ایک نئے ذرّے(جواب نیوٹرینو کہلاتا ہے) کی موجودگی کی پیشن گوئی کی‘۔جو کہ-βتنزل میں الیکٹران کے ہمراہ خارج ہوتا ہے۔

طبیعیات میں بقائی قوانین

     توانائی‘ خطی تحرک‘ زاویائی تحرک‘ چارج وغیرہ کی بقا کے قوانین‘ طبیعیات میں بنیادی قوانین مانے جاتے ہیں۔اس وقت تک ایسے کئی بقائی قوانین دریافت ہوچکے ہیں۔اوپر بیان کیے گئے چاروں بقائی قوانین کے علاوہ، اور بھی کئی بقائی قوانین ہیں جو زیادہ تر ایسی مقداروں سے متعلق ہیں جو نیوکلیائی اور ذرّاتی طبیعیات میں شامل ہیں۔ان میں سے کچھ بقائی مقداریں ہیں:اسپن،بارین نمبر ،انوکھاپن (strangeness) ، ہائپرچارج وغیرہ ، لیکن آپ کو ان کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
        ایک بقائی قانون ایک مفروضہ ہے جو مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہوتا ہے۔یہ یادر رکھنا اہم ہے کہ ایک بقائی قانون کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔تجربات کے ذریعے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے یا اسے غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔ایک تجربہ جس سے حاصل ہونے والا نتیجہ قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے، قانون کی تصدیق کرتا ہے یا قانون کے حق میں ایک اور دلیل فراہم کرتا ہے، اسے ثابت نہیں کرتا۔ دوسری طرف ایک واحد تجربہ سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی اگر قانون کے خلاف جاتا ہے تو وہ قانون کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
          کسی سے یہ کہنا کہ وہ توانائی کے بقا کے قانون کو ثابت کرے، درست نہیں ہوگا۔یہ قانون ہمارے صدیوں کے تجربات کا ماحصل ہے اور میکانیات، حرحرکیات، برق۔مقناطیسیت، نوریات، ایٹمی اور نیوکلیائی طبیعیات یا کسی دیگر میدان میں کیے گئے تمام تجربات میں درست پایا گیا ہے۔
            کچھ طالب علم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک جسم کے کششِ زمین کے تحت گرنے کے عمل میں‘ مختلف نقاط پر اس کی حرکی اور توانائی بالقوۃ کو جمع کرکے اور یہ دکھاکر کہ حاصلِ جمع مختلف نقاط پر مستقلہ ہے، میکانیکی توانائی کی بقا کے قانون کو ثابت کرسکتے ہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے یہ قانون کی صرف ایک تصدیق ہے، اس کا ثبوت نہیں۔

بقائی قوانین کا قدرت کے تشاکلات (symmetries)کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جو آپ طبیعیات کے زیادہ اعلیٰ نصاب میں پڑھیں گے۔مثال کے طور پر ایک اہم مشاہدہ یہ ہے کہ قدرت کے قوانین وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے۔اگر آپ اپنی تجربہ گاہ میں ایک تجربہ آج کریں اور وہی تجربہ (اسی شے پر، متماثل شرائط کے ساتھ) ایک سال بعد دہرائیں، تو نتائج یقینی طور پر یکساں ہوں گے۔یہ معلوم ہوا ہے کہ وقت کے نقل (translation) یا ہٹاؤ (displacement)کی مناسبت سے قدرت کا یہ تشاکل، توانائی کی بقاکے قانون کے مساوی ہے۔اسی طرح، فضا (space) متجانس  (homogenous)ہے اور ( بنیادی طور پر) کائنات میں کوئی فوقیت یافتہ مقام نہیں ہے۔اسے واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاتا ہے کہ کائنات میں ہر جگہ قدرت کے قانون یکساں ہیں۔(احتیاط: مظہر ایک مقام سے دوسرے مقام پر تبدیل ہوسکتا ہے، اگر مختلف مقاموں پر شرائط (حالات) مختلف ہوں۔مثلاً زمین کی کشش کا اسراع، چاند پر زمین کے مقابلے میںCapture1 Page16, Pic17ہے،لیکن مادی کشش کا قانون، زمین اور چاند، دونوں کے لیے یکساں ہے۔فضا میں منتقلی کی مناسبت سے قوانینِ قدرت کا یہ تشاکل‘ خطی تحرک کی بقا کا سبب ہے۔اسی طرح فضا کی ہم سمتیت (فضا میں بنیادی طور پر کسی فوقیت یافتہ سمت کی عدم موجودگی)، زاویائی تحرک کی بقا کے پیچھے کارفرما ہے۔چارج اور بنیادی ذرّات کی دوسری خاصیتوں کے بقائی قوانین، مخصوص تجریدی (abstract) تشاکلات سے منسلک کیے جاسکتے ہیں۔فضا اور وقت کے تشاکلات اور دوسرے تجریدی تشاکلات قدرت کی بنیادی قوتوں کے جدید نظریے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

خلاصہ

طبیعیات میں قدرت کے بنیادی قوانین اور ان کے مختلف مظاہر (manifestation)میں اظہار کا مطالعہ کرتے ہیں۔ طبیعیات کے بنیادی قوانین ہمہ گیرہیں اور جامع طور پر مختلف سیاق وسبا ق اور حالات میں لاگو ہوتے ہیں۔
طبیعیات کا میدان وسیع ہے جس میں طبیعی مقداورں کی قدر کی سعت بہت وسیع ہے۔
طبیعیات اور ٹکنالوجی ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ کبھی ٹکنالوجی نئی طبیعیات کو جنم دیتی ہے اور کبھی طبیعیات نئی ٹکنالوجی کو جنم دیتی ہے۔ دونوں کا سماج پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔
خوردبینی اور کلاں بینی دنیا کے متنوع مظاہر کے نظام قدرت میں چار بنیادی قوتیں ہوتی ہیں، یعنی’قوت ثقل، برق مقناطیسی قوت، قوی نیوکلیر قوت، اور کمزور نیوکلیر قوت۔طبیعیات  میں قدرت کی ان مختلف قوتوں کی یکجائی کی بنیادی تلاش جاری ہے۔
کسی عمل میں جو طبیعی مقداریں غیر تبدیل رہتی ہیں، بقائی مقدار یں کہلاتے ہیں۔ فطرت کے عام بقائی قوانین میں کمیت، توانائی، خطی تحرک، زاویائی تحرک، چارج، مماثلت (parity) وغیرہ کے بقائی قوانین شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ بقائی قوانین کسی ایک بنیادی قوت کے لیے صادق ہیں لیکن دوسری کے لیے نہیں۔
بقائی قوانین کا فطرت میں تشاکلات سے گہرا تعلق ہے۔فطرت میں بنیادی قوتوں کے جدید نظریے میں فضااور وقت کے تشاکل اور دیگر قسم کے تشاکل (Symmetry)کا اہم کردار ہے۔

مشقیں

طلباء کے لیے نوٹ

اس سبق میں مشق کے لیے دیے گئے سوالوں کا مقصد آپ کو سائنس ،ٹکنالوجی اور سماج سے متعلق مسائل سے واقف کرانا اور ان کے بارے میں سوچنے اور اپنے خیالات کو واضح کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔یہاں دیے گئے سوالات ممکن ہے بالکل واضح معروضی جوابات والے نہ ہوں۔

مدرس کے لیے نوٹ

یہاں دیے گئے سوال کسی بھی رسمی امتحان کے مقصد سے نہیں دیے گئے ہیں۔
1.1 سائنس کی فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ سنجیدہ بیانوں میں کچھ بیان عظیم سائنس داں البرٹ آئنسٹائن نے پیش کیے ہیں۔
آپ کیا سوچتے ہیں کہ آئنسٹائن کا کیا مطلب تھا جب انھوں نے کہا:’’ دنیا کے بارے میں سب سے نا سمجھی کی بات یہ ہے کہ اسے سمجھا جا سکتا ہے؟‘‘
1.2 ’’ ہر عظیم طبیعی نظریہ غیرمروجہ رائے سے یا کسی سنی سنائی بات سے شروع ہوتا ہے اور آخر میں یہ عقیدہ بن جاتا ہے‘‘ ۔ سائنس کی تاریخ سے اس تلخ تبصرے کی معقولیت کے لیے کچھ مثالیں دیجیے۔
1.3 ’’ امکانیت کے فن کا نام سیاست ہے‘‘۔ اسی طرح’’ حل پذیری کے فن کانام سائنس کی فطرت اور عمل اور اس خوبصورت ضرب المثل کی تشریح کیجیے۔
1.4 اگر ہندوستان میں سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد کافی وسیع ہے اور اس کے فروغ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے، پھر بھی اسے سائنس کے میدان میں عالمی قائد بننے کے امکان کو پورا کرنے کے لیے کافی فاصلہ طے کرنا ہے،کچھ اہم وجہ بتایئے جو آپ کے خیال میں ہندوستان میں سائنس کی پیش رفت میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔
1.5 کسی بھی ماہر طبیعیات  نے کبھی بھی الیکٹران کو نہیں’’ دیکھا‘‘ پھربھی سبھی ماہرین طبیعیات  مانتے ہیں کہ الیکٹران کا وجود ہے۔ کوئی بھی ذہن لیکن اوہام پرست شخص بھی اسی بات کی دلیل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ بھوت پریت کا وجود ہے لیکن کسی نے انھیں’’ دیکھا نہیں ‘‘ہے۔آپ اس کی دلیل کو رد کیسے کریں گے؟
1.6 جاپان کے خاص سمندری ساحل میں پائے جانے والے کیکڑے کی کھال زیادہ تر کسی روایت سمورئی (Samurai)کے پہرے سے ملتی جلتی ہے۔ نیچے اس مشاہدہ کی حقیقت کی دو تشریحات دی گئی ہیں۔ اس میں کون سی سائنسی تشریح لگتی ہے؟
(a)کئی صدی پہلے کسی خطرناک سمندری حادثے میں نوجوان سمورئی ڈوب گیا۔اس کی بہادری کو خراج تحسین کے طور پر قدرت نے اپنے پُراسرارڈھنگ سے اس علاقے کے کیکڑوں کے خولوں پر اس کاچہرہ نقش کرکے اسے لافانی کردیا۔
(b)سمندری حادثے کے بعد اس علاقے کے ماہی گیر اپنے پکڑے گئے کیکڑوں کے ہر اس خول کو اپنے مردہ لیڈر کے اعزاز میں واپس پھینک دیتے تھے جن پر اتفاق سے سورائی سے ملتی جلتی شکل بنی ہوتی تھی۔ اس کے نتیجے میں کیکڑوں کی یہ مخصوص شکل زیادہ وقت تک قائم رہی اور اس لیے وقت کے ساتھ سای شکل کی افزائش نسل ہوتی رہی۔ یہ مصنوعی انتخاب کے ذریعے ارتقا کی ایک مثال ہے۔
(نوٹ:یہ دلچسپ مثال کا رل ساگن (Carl Sagan's)کی کتاب’’ دی کاس‘‘ سے لی گئی ہے اور یہ اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے کہ اکثر انوکھی اور ناقابل تشریح  حقیقت ایک نظر ڈالنے پر’’ مافوق الفطرت‘‘(inexplicable fact) لگتی ہیں لیکن درحقیقت ان کی عام سائنسی تشریح ہوتی ہے۔ اس طرح کی دیگر مثالوں پر غور کیجیے۔ 
1.7 دو صدیوں سے بھی پہلے انگلینڈ اور مغربی یورپ میں صنعتی انقلاب کچھ اہم سائنسی اور تکنیکی حصولیابیوں کے سبب شروع ہوا تھا۔ یہ حصولیابیاں کیا تھیں؟
1.8 اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا اب دوسرے صنعتی انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے جو سماج میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کر دے گی، جیسا کہ پچھلے انقلاب میں ہوا تھا سائنس اور ٹکنالوجی کے کچھ عصری میدانوں کے بارے میں بتائیے جو اس انقلاب کے لیے ذمہ دار تھے۔
1.9 بائیسویں صدی کی سائن اور ٹکنالوجی کے بارے میں اپنا اندازہ لگا تے ہوئے تقریباً 1000الفاظ میں ایک چھوٹی سی خیالی کہانی لکھیے۔
1.10سائنس کے عمل پر اپنا’’ اخلاقی‘‘ نظریہ وضح کرنے کی کوشش کیجیے۔ تصور کیجیے کہ آپ خود ایک دریافت کر رہے ہیں جو تعلیمی طور پر تو بہت دلچسپ ہے لیکن اس کے نتائج انسانی سماج کے لیے خطرناک ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوں گے۔ آپ اس پس وپیش کی حالت سے کیسے نکلنا چاہیں گے؟
1.11کسی بھی علم کی طرح سائنس کو بھی اچھے یا برے کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہوتا ہے۔سائنس کے کچھ اطلاق نیچے دیے گئے ہیں۔ اپنے خیالات واضح کیجیے کہ کوئی مخصوص اطلاق اچھا ہے یا خراب یا پھر اسے بالکل واضح طور پر درجہ بند نہیں کیا جا سکتا۔
(a)عام  لوگوں کو چیچک کے ٹیکے لگانا تاکہ اس بیماری کو دبادیا جاسکے اور آخر کار عوام کو اس سے نجات دلائی جاسکے (ایسا ہندوستان میں پہلے ہی کامیابی کے ساتھ انجام دیا جا چکا ہے)
(b) ناخواندگی کو دور کرنے اور خبروں اور خیالوں کی ترسیل کے لیے ٹیلی ویثرن
(c) قبل پیدائش جنس کا تعین
(d) کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کے لیے کمپیوٹر
(e) زمین کے چاروں طرف مختلف مداروں میں مصنوعی سیاروں کو چھوڑنا
(f) نیوکلیر ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ
(g) کیمیاوئی اور حیاتیاتی جنگ کے لیے نئی و مضبوط تکینکوں کو فروغ
(h) پینے کے پانی کو صاف کرنا
(i) پلاسٹک سرجری

     (j)کلوننگ (cloning)

1.12 ہندوستان میں ریاضی ،فلکیات، لسانیات، منطق اور اخلاقیات میں عظیم علم و کمال کی طویل اور نہ ٹوٹنے والی ردایت رہی ہے۔پھر بھی اس کے متوازی ہمارے سماج میں متعداد اوہام اور دقیانوسی نظریے اور روایات بھی پھلی پھولی ہیں اور بدقسمتی سے ابھی بھی جاری ہیں یہاں تک کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی۔ ان زاویہ نگاہ کی مخالفت کرنے کے لیے آپ سائنس کے علم کا استعمال اپنی حکمت عملی کو فروغ دینے میں کس طرح کریں گے۔
1.13 اگرچہ ہندوستان میں قانون میں خواتین کو مساوات کا حق دیا گیا ہے پھر بھی متعداد اشخاص کے ،خواتین کی خلقی فطرت، استعداد وذہانت کے بارے میں غیر سائنسی خیالات ہیں اور عملاً انھوں نے عورتوں کو دوسرا مقام اور کردار دیا ہے۔ سائنسی دلیلوں کا استعمال کرتے ہوئے اور سائنس ودیگر شعبوں میں عظیم خواتین کی مثال دیتے ہوئے اس خیال کو رد کیجیے اور خود کو اور دوسروں کو سمجھائیے کہ اگر خواتین کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ خود کو مردوں کے برابر ثابت کریں گی۔
1.14 ’’ طبیعیات میں مساوات کے تجربات سے متفق ہونے سے کہیں زیادہ  ان کی خوبصورتی اہم ہے۔‘‘ یہ بیان عظیم برٹش ماہر طبیعیات پی ۔اے۔ایم۔ڈیراک(P.A.M Dirac) کا تھا۔اس بیان پر تنقید کیجیے۔ ا سکتا ب میں ان مساوات اور نتائج کو دریافت کیجیے جو آپ کو خوبصورت لگیں۔
1.15 اگرچہ مندرجہ بالا بیان متنازعہ ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر ماہرین طبیعیات یہ کہتے ہیں کہ طبعیات کے عظیم اصول سادے اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ ڈیراک کے علاوہ جن مشہور طبیعیات دانوں نے ایسا محسوس کیا ہے ان کے نام ہیں:آئنسٹائن، بور، ہاینرن برگ،چندر شیکھر اور فائن مین۔ آپ سے استدعا ہے کہ آپ طبیعیات کے ان ماہرین اور دیگر عظیم عالموں کی کتابوں اور تحریروں تک رسائی کے لیے خصوصی کوشش کریں۔(اس کتاب کے آ خر میں دی گئی کتابیات دیکھیں)۔ان کی تحریریں واقعی تخلیقی تحریک پیدا کرتی ہیں۔
1.16 سائنس کی درسی کتابوں کو پڑھنے پر آپ یہ غلط نظریہ قائم کرسکتے ہیں کہ سائنس خشک اور نہایت سنجیدہ مضمون ہے اور سائنس دان اکثر روز مرہ کی زندگی غیر حاضر دماغ اور اپنی دنیامیں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں ،جو نہ کبھی ہنستے ہیں، نہ کبھی مسکراتے ہیں۔سائنس اور سائنس دانوں کی یہ تصور کُشی بالکل بے بنیاد ہے۔  انسانوں کی دیگر گروپوں کی طرح سائنس داں بھی پرمذاق (ہنس مکھ) ہوتے ہیں اور انھوں نے مسرت اور اولوالعزمی کے ساتھ اپنی زندگی گزراری ہے اور ساتھ ہی اپنے سائنسی کام کو بھی بڑی سنجیدگی کے ساتھ پورا کیا ہے۔ ان صفات کے حامل دو عظیم طبیعیات داں  ہیں:گاماؤ (Gamow) اور فائن مین (Feynman)۔ان کی لکھلی ہوئ کتابیں فہرستِ کتابیات میں دی گئی ہیں جنہیں پڑھ کر آپ کو مزا آئے گا۔