باب 1
طبیعی دنیا
(PHYSICAL WORLD)
1.1 طبیعیات کیا ہے؟ (?WHAT IS PHYSICS)
سائنس کی پیش رفت کی اصل بنیاد نظریہ اور مشاہدہ (یا تجربہ) میں ہونے والا باہمی عمل ہے۔ سائنس ہمیشہ حرکی یا متحرک ہوتی ہے۔ سائنس میں کسی بھی نظریے کو قطعی یا آخری نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی سائنس دانوں میں کوئی غیر متنازعہ اقتدار ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مشاہدات میں جامعیت اور درستگی پیدا ہوتی ہے یا تجربات کے ذریعے نئے نتائج کی توثیق ہوتی ہے تو نظریات کے لیے لازم ہے کہ وہ اگر ضروری ہوتو ان نظریات میں ترمیم کرکے ان کی اچھی طرح تشریح کریں۔ اکثر یہ ترمیم زیادہ گہری نہ ہوکر موجودہ نظریے کے ڈھانچے پرہی منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے لیے جب جو ہانیس کیپلر(JohannesKepler,1571-1630)نےٹائیکوبراہTychoBrahe,1546-1601) کے ذریعے حاصل کردہ سیّاروں سے متعلق جامع ڈاٹا کی پرکھ کی تو سیاروں کے دائری مداروں کے نکولس کاپرنکس(NicolasCopernicus,1473-1543)کے تخیلی شمس المرکز نظریے کی جگہ، اعداد وشمار کی موزوں تشریح کے لیے بیضی مداروں کو رکھنا پڑا۔ پھر بھی کبھی کبھی موجودہ نظریات جدید مشاہدات کی مناسب تشریح میں نا کام پائے جاتے ہیں اس کا سائنس پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور اس میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ بیسویں صدی کے شروع میں سائنس دانوں نے یہ محسوس کیا کہ اس وقت کا سب سے کامیاب نظریہ نیوٹنی میکانیات، ایٹمی مظاہر کی کچھ بنیادی خصوصیات کی تشریح کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ اسی طرح اس وقت مقبول ’’روشنی کی لہرتصویر ‘‘ نظریہ بھی ’’نوری برقی اثر‘‘(photoelectric effect) کی توضیح کرنے میں ناکام رہا۔ سائنس نے اس بارے میں مزید مطالعہ کیا جس کے نتیجے میں ایٹمی اورسالمیاتی مظہروں کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے بنیادی طورپر ایک نئے نظریے کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics)کو فروغ حاصل ہوا۔
1.2 طبیعیات کا دائرہ عمل اور جوش (SCOPE AND
EXCITEMENT OF PHYSICS)
* حال ہی میں کلاں بینی اور خورد بینی کے دائرہ عمل کے بیچ ایک درمیانی دائرہ عمل
(So-CalledMesoscopicPhysics
جو کچھ دہوں یا کچھ سیکڑوں کے ایٹموں کے مجموعوں سے متعلق ہے، تحقیق کے ایک محرک میدان کے طورپر ابھرا ہے-
خورد بین، روشنی کاشعلہ، ثانوی درخشاں پردہ، انتشاری زاویہ، سونے کی پرت، پولونیم نمونہ، لیڈ بلاک
شکل 1.1 طبیعیات میں تجربہ اور نظریہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ایک دوسرے کی ترقی میں مددگار ہوتے ہیں۔ ردرفورڈ کے الفاکرنوں کے انتشاری تجربات
فرضیات، بدیہات اورماڈل
(Hypothesis, axioms and models)
ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ طبیعیات اور ریاضی کی ہرچیز کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔تمام طبیعیات اور ریاضی بھی، مفروضوں پر مبنی ہے، جس میں سے کسی کو ہم فرضیہ(hypothesis)، کسی کو بدیہہ (axiom) اور کسی کو مسلمہ (Postulate) کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مادی کشش کا ہمہ گیرقانون، جسے نیوٹن نے اپنی اختراع کی بدولت پیش کیا، ایک مفروضہ یا فرضیہ ہے۔ نیوٹن سے پہلے بھی سورج کے گرد سیاروں کی حرکت، زمین کے گرد چاند کی حرکت، پنڈولم، زمین کی طرف گرتی ہوئی اشیاء وغیرہ سے متعلق بہت سے مشاہدات، تجربات اور آنکڑے موجود تھے۔ان میں سے ہر ایک کو الگ وضاحت کی ضرورت تھی، جو کم وبیش کیفیتی تھی۔ مادی کشش کا ہمہ گیر قانون جو بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ کائنات کے کوئی بھی دوجسم ایک دوسرے کو اس قوت سے کشش کرتے ہیں جو ان کی کمیتوں کے حاصل ضرب کے راست متناسب اور ان کے درمیانی فاصلے کے مربع کے مقلوب متناسب ہے، تو ہم ان تمام مشاہدات کی وضاحت کرسکتے ہیں۔یہ نہ صرف ان مظاہر کی وضاحت کرتا ہے، یہ ہمیں مستقبل میں کیے جانے والے تجربات کے نتائج کی پیشن گوئی کرنے کے لائق بھی بناتا ہے۔
ایک فرضیہ وہ مفروضہ ہے جسے یہ فرض نہیں کیا گیا کہ وہ صادق ہے بلکہ مان لیا گیا۔کسی شخص سے یہ کہنا کہ وہ مادی کشش کے ہمہ گیر قانون کو ثابت کرے، نا انصافی ہوگی، کیونکہ اسے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے اور تجربات اور مشاہدات کے ذریعے اس کے حق میں دلائل پیش کی جاسکتی ہیں۔
ایک بدیہہ(Axiom) خودظاہر ہونے والی صداقت ہے، جبکہ ایک ماڈل، مشاہدہ کیے گئے مظہر کی وضاحت کے لیے پیش کیا گیا نظریہ ہے ۔ لیکن اس سطح پر، ان الفاظ کے استعمال کی باریکیوں کے بارے میں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
مثال کے طور پر اگلے برس آپ ہائیڈروجن ایٹم کے بوہر ماڈل کے بارے میں سیکھیں گے، جس میں بوہر نے فرض کیا کہ ہائیڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران کچھ قاعدوں کی پابندی کرتا ہے (مسلمہpostulate)۔انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ ان کے سامنے طیف پیمائی سے حاصل ہوئے ایسے بہت سے آنکڑے تھے، جن کی وضاحت کوئی اور نظریہ نہیں کرسکا تھا۔اس لیے بوہر نے کہا کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ ایٹم اس طرح کا برتاؤ ظاہر کرتا ہے ، تو ہم ان سب چیزوں کی ایک ساتھ وضاحت کرسکتے ہیں۔
آئنسٹائن کا مخصوص نظریہ اضافیت بھی دومسلّموں پر مبنی ہے: برق۔مقناطیسی شعاعوں کی رفتار کی مستقلیت (constancy)اور تمام جمودی حوالہ فریموں میں طبیعاتی قوانین کا جائز ہونا۔کسی سے یہ کہنا کہ وہ ثابت کرے کہ خلاء میں روشنی کی رفتار مستقلہ ہے، چاہے روشنی کا ماخداور مشاہدکوئی بھی ہو، عقلمندی نہیں ہوگی۔
ریاضی میں بھی ہر مرحلے پر ہمیں بدیہات اور فرضیات کی ضرورت پڑتی ہے۔اقلیدس کا یہ بیان کہ متوازی خطوط کبھی نہیں ملتے، ایک فرضیہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اس بیان کو فرض کرلیں تو ہم مستقیم خطوط کی کئی خاصیتوں اور ان سے بنی ہوئی دو یاتین ابعادی شکلوں کی خاصیتوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔لیکن اگر آپ یہ فرض نہ کریں تو آپ ایک مختلف بدیہہ استعمال کرنے اور ایک نئی جیومیٹری حاصل کرنے کے لیے آزاد ہیں، جیسا کہ واقعی پچھلی چند صدیوں اور دہائیوں میں ہوا ہے۔
|
1.3 طبیعیات، ٹکنالوجی اور سماج
(PHYSICS, TECHNOLOGY AND SOCIETY)
| نام | اہم اشتراک ⁄ دریافت | پیدائشی ملک |
| آرشمیدس | شنائیت (buoyancy) کا اصول، لیور کا اصول | یونان |
| گیلیلیو گیلیلی | جمودکا قانون (Law of inertia) | اٹلی |
| کرسچین ہائی گینس | روشنی کا نظریہ لہر | ہالینڈ |
| آئزک نیوٹن | مادّی کشش کا ہمہ گیر قانون: قوانین حرکت، انعکاسی دور بین | نگلینڈ |
| مائیکل فیراڈے | برق مقناطیسی امالیت کے قوانین | انگلینڈ |
| جیمس کلارک میکس ویل | برق مقناطیسی نظریہ، روشنی؛ ایک برق مقناطیسی لہر | نگلینڈ |
| ہینرک روڈ ولف ہرٹز | برق۔مقناطیسی لہریں پیدا کرنا | جرمنی |
| جے۔سی۔بوس | بالامختصر ریڈیائی لہریں | ہندوستان |
| ڈبلو۔کے۔رونجن | ایکس شعاعیں | جرمنی |
| جے۔جے۔تھامسن | الیکٹران کی دریافت | انگلینڈ |
| میری اسکلوڈ وسکا کیوری | ریڈیم اور پولونیم کی دریافت؛ قدرتی تابکاری کا مطالعہ | پولینڈ |
| البرٹ آئنسٹائن | نوری برقی اثر کا وضاحت؛ نظریہ اضافیت | جرمنی |
| وکٹرفرانسس ہیس | آفاقی اشعاع | آسٹریا |
| آر۔اے۔ملیکن | الیکٹرانک چارج کی پیمائش | امریکہ |
| ارنیسٹ ردرفورڈ | ایٹم کانیوکلیر ماڈل | نیوزی لینڈ |
| نیلس بور | ہائڈروجن ایٹم کا کوانٹم ماڈل | ڈنمارک |
| سی۔ وی۔ رمن | سالموں کے ذریعے روشنی کا غیر لچک دار انتشار | ہندوستان |
| لوئس وکٹرڈی براگلی | مادے کی لہری طبع | فرانس |
| ایم۔این۔سہا | حرارتی رواں سازی | ہندوستان |
| ایس۔این۔بوس | کوانٹم شماریات | ہندوستان |
| وولف گانگ پالی | اصولِ استثنیٰ | آسٹریا |
| انیرکوفرمی | قابو کیا گیا نیوکلیائی تعامل | اٹلی |
| ورنرہائزنبرگ | کوانٹم میکانات، عدم یقینی قانون | جرمنی |
| پال ڈراک | الیکٹرون کا اضافی اصول، کوانٹم شماریات | انگلینڈ |
| ایڈون ہبل | توسیعی کائنات | امریکہ |
| ارنیسٹ آرلینڈولارنس | سائیکلوٹران | امریکہ |
| جیمس چاڈوک | نیوٹران | برطانیہ |
| ہدیکی یوکاوا | نیوکلیائی قوتوں کا نظریہ | جاپان |
| ہومی جہانگیربھابھا | آفاقی اشعاع کا کیسکیڈعمل | ہندوستان |
| لیو ڈیوی ڈووک لینڈو | تکثیف شدہ مادّہ کا نظریہ؛ سیال ہیلیئم | روس |
| ایس۔چندرشیکھر | چندرشیکھرحد، تاروں کی بناوٹ اور ارتقا | ہندوستان |
| جوہن بارڈین | ٹرانسسٹر، اعلیٰ مواصلیت کا نظریہ | امریکہ |
| سی۔ایچ۔ٹوونس | میزر، لیزر | امریکہ |
| عبدالسلام | کمزور اور برق مقناطیسی تعاملات کی یکجائی | پاکستان |
جدول 1.2 ٹکنالوجی اور طبیعیات کے درمیان تعلق
| ٹکنالوجی | سائنسی اصول |
| بھاپ انجن | حرحرکیات کے قوانین |
| نیو کلیرری ایکٹر |
قابو کیا ہوا نیو کلیر انشقاق |
| ریڈ یو اور ٹیلی وژن | برق مقناطیسی لہریں پیدا کرنا، ان کی ترسیل اورشناخت |
| کمپیوٹر |
ہندی منطق |
| لیزر |
اشعار ریزی کے مہیچ اخراج کے ذریعے روشنی کی افزائش |
| اعلیٰ بالائ مقناطیسی میدانوں کی تشکیل | اعلیٰ درجے کی موصولیت (Super Conductivity) |
| راکٹ کوآگے دھکیلنا (Propulsion) |
ٹیوشن کےحرکت کے قوانین |
| بر قی جنریٹر |
برق مقناطیسی امالیت کافیراڈے کاقانون |
| آبی برقی پاور |
ارضی کشش توانائ بالقوۃ کی برقی توانائ میں منتقلی |
| ہوائ جہاز | سیال حرکات میں برنولی کا اصول |
| ذرہ سرعت کار (Particl Acceleratorg) |
برق مقناطیسی میدانوں میں چارج شدہ ذات کی حرکت |
| سونار | بالا صوتی لہروں کاانعکاس |
| آپٹیکل فائبر (نوری ریشے) |
روشنی کا مکمل داخلی انعکاس |
| غیرر انعکاسی قلعی |
باریک فلم نوری مداخلت |
| الیکٹران خورد بین |
الیکٹرون کی لہر طبع |
| فوٹو سیل |
نوری برقی اثر |
| فیوزن جانچ رئیکٹر (ٹوکامک) |
ازمہ کی مقناطیسی طریقے سے علائ محدودیت |
| عظیم میٹر لہر ریڈیو ٹیلی اسکوپ (GMRT) | آفاقی ریڈیائ لہروں شناخت |
| بوس آئنسائن کنڈنسیٹ | زر ربیم اور مقناطیسی میدان کے ذریعہ ایٹموں کی دام شد گی اور انہیں ٹھنڈا کرنا۔ |
1.4 فطرت میں بنیادی قوتیں* (FUNDAMENTAL
FORCES IN NATURE
* 1.4 اور 1.5حصّے کئی ایسے تصورات اور خیالات کے حامل ہیں جن کو ایک بار پڑھنے پر آپ ہوسکتا ہے پوری طرح انھیں ذہنی گرفت میں نہ لا سکیں۔ لیکن ہم آپ کو صلاح دیں گے کہ انھیں بہت غور سے پڑھیں تاکہ آپ کے ذہن میں طبیعیات کے کچھ بنیادی پہلوؤں کی نشوونما کا احساس پیدا ہوسکے۔یہ کچھ ایسے عنوانات ہیں جوآج بھی طبیعیات دانوں کی توجہ کا باعث ہیں-
1.4.1 قوت ثقل (The Gravitational Force)
البرٹ آئنسٹائن (1955-1879)
البرٹ آئنسٹائن1879 عیسوی میں جرمنی میں الم (Ulm) نام کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار دنیا کے آج تک کے سب سے زیادہ عظیم طبیعیات دانوں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی حیرت انگیز سائنسی زندگی ان کے 1905 میں شائع تین انقلابی تحقیقی مقالات سے شروع ہوئی۔ انھوں نے اپنے پہلے تحقیقی مقالے میں نوری کو انٹا (اب فوٹان کہا جاتا ہے) کے تصور کو پیش کیا اوراسے استعمال کرکے نوری برقی اثر کی ان خصوصیات کی تشریح کی جنہیں اشعاع ریزی کا کلاسیکی نظریہ لہر نہیں سمجھا سکا تھا۔ اپنے دوسرے تحقیقی مقالے میں انھوں نے براؤنی حرکت کے نظریہ کو فروغ دیا جس کی کچھ سالوں کے بعد تجرباتی توثیق ہوئی اور جس نے مادّے کی ایٹمی تصویر پربد یہی شہادت فراہم کی۔ ان کے تیسرے تحقیقی مطالعہ نے اضافیت کے مخصوص نظریے کو جنم دیا جس نے انھیں زندگی میں ہی معروف کردیا۔ اگلی دہائی میں انھوں نے اپنے نئے نظریے کے نتائج کا گہرا مطالعہ کیا جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ کمیت اور توانائی کا معاولیت، ان کی معروف مساوات E = mc2 سے ظاہر ہوئی۔ انھوں نے اضافیت کے عام بیان (اضافیت کا عمومی نظریہ) کی بھی تخلیق کی جو مادی کشش کا جدید نظریہ ہے۔ آئنسٹائن کے بعض دیگر اشتراک ہیں: محرک اخراج کا تصور جوپلانک سیاہ جسم اشعاع قانون کے ایک متبادل مشتق میں پیش کیا گیا ہے، کائنات کا ساکن ماڈل جس نے جدید تکوِینیات کی ابتداکی، بھاری بوسانوں پر مشتمل گیس کی کوانٹم شماریات اور کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics) کی بنیادوں کا تنقیدی تجزیہ۔
آئنسٹائن کے طبیعیات میں اہم حصّے کو محسوس کرتے ہوئے، جس میں 1905ءمیں انہوں نے ایسے انقلابی سائنسی تصورات پیش کیے جو جب سے اب تک جدید طبیعیات پر اثراندازہورہے ہیں، برس 2005ء کو طبیعیات کے بین الاقوامی سال کے طورپرمنایا گیا۔
1.4.2 برق مقناطیسی قوت (Electromagnetic Force)
ستیندرناتھ بوس 1894عیسوی میں کلکتّہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ان عظیم ہندوستانی طبیعیات دانوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے بیسویں صدی میں سائنس کی ترقی میں بنیادی اشتراک کیا۔ بوس اپنے تعلیمی دور میں ہمیشہ ایک غیر معمولی ذہین طالب علم رہے۔ انھوں نے 1916 میں اپنی عملی زندگی کلکتّہ یونیورسٹی میں طبیعیات کے لکچرر کے طورپر شروع کی۔ پانچ سال کے بعد انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کردیا۔ 1924 میں اپنی بصیرت سے انھوں نے پلانک قانون کو نئے طریقے سے مشتق کیا۔ جس میں انھوں نے اشعاع ریزی کو فوٹانوں کی گیس کے طورپر مانا اور فوٹان حالتوں کے شمار کے لیے نیا شماریاتی طریقہ اپنایا۔ انھوں نے اس موضوع پرایک مختصر تحقیقی مقالہ لکھ کر آئنسٹائن کو بھیجا جنھوں نے فوراً اس کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کرکے اشاعت کے لیے بھیج دیا۔ آئنسٹائن نے پھراسی طریقے کوسالموں کی گیس کے لیے اپنایا۔
بوس کے کاموں میں نیاکلیدی تصوراتی عنصر یہ تھا کہ ذرّات کو ناقابل تفریق مانا گیا جو کلاسیکی میکس ویل ۔بولٹزمان شماریات کو بنیادفراہم کرنے والے مفروضے سے یکسرالگ تھا۔ جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ نئی بوس– آئنسٹائن شماریات صرف صحیح عددی اسپن والے ذرّات پر ہی لاگو ہوتی ہے اور نصف صحیح عددی اسپن والے ذرّات کے لیے، جو پاولی استثنیٰ اصول کی شرط پوری کرتے ہیں، ایک نئی کوانٹم شماریات (فرمی ڈیراک شماریات) کی ضرورت ہے۔ بوس کے اعزاز میں صحیح عددی اسپن والے ذرّات بوسان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
بوس- آئنسٹائن شماریات کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ مخصوص متعین درجۂ حرارت سے نیچے سالموں کی کسی گیس کی ہئیت منتقلی(Phase transition) کسی ایسی حالت میں ہوگی جس میں زیادہ تر ایٹم اسی کم ترین توانائی حالت میں رہیں گے۔ بوس کے اولین تصورات کی جنھیں آئنسٹائن نے مزید فروغ دیا، تقریباً سترسال کے بعد اس وقت ڈرامائی طور پر تصدیق ہوئی جب بالاخنک الکلی ایٹموں کی ہلکی گیس میں مادّے کی ایک نئی حالت کا مشاہدہ کیا گیا، جو بوس۔آئنسٹائن کنڈ نسیٹ حالت کہلاتی ہے۔
1.4.3 قوی نیوکلیر قوت(The Strong Nuclear Force)
1.4.4 کمزور نیوکلیر قوت ( Weak Nuclear Force)
1.4.5 قوتوں کی یکجائی کی جانب
(Towards Unification of Forces)
| نام | اضافی طاقت | سعت | جن کے درمیان کام کرتی ہے |
| قوت ثقل(Gravitational Force) | 10-38 | لامتناہی | کائنات کی سبھی اشیا |
| کمزور نیوکلیر قوت | 10-13 | بہت خفیف، تحت نیوکلیائی سائز (∼10-16m)
میں |
کچھ بنیادی ذرّات،خصوصاً الیکٹران اورنیوٹرینو |
| برق-مقناطیسی قوت | 10-2 | لامتناہی | چارج شدہ ذرّات |
| قوی نیوکلیائی قوت | بہت خفیف، تحت نیوکلیائی سائز (∼10-15m)
میں
|
نیوکلیون، بھاری بنیادی ذرّات |
1.5طبیعی قوانین کی فطرت
(NATURE OF PHYSICAL LAWS)
| طبیعیات داں کا نام | سال | یکجائی میں حصول |
| آئزک نیوٹن | 1687 | ارضی اور آفاقی میکانیات کو یکجا کیا ثابت کرکے کہ حرکت کے اور مادی کشش کے یکساں قانون دونوں علاقوں میں لاگو ہوتے ہیں۔ |
| ہینس کرسٹین اورسٹڈ مائیکل فیراڈے |
1820 1830 |
ثابت کیا کہ برقی اور مقناطیسی مظاہر ایک یکجا متحدہ علاقے کے دو ایسے پہلو ہیں جنھیں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے :بر ق مقنا طیسیت |
| جیمس کلارک میکس ویل | 1873 | متحدہ برق، مقنا طیسیت اور نوریات: ثابت کرتے ہیں کہ روشنی ایک برقی -مقنا طیسی لہر ہے۔ |
| شیلڈن گلاشو عبدالسلام اسٹیون وائن برگ |
1979 | ثابت کیا کہ کمزور نیوکلیائی قوت اوربرق مقناطیسی قوت کو واحد برقی۔کمزور قوت کے مختلف پہلوؤں کے بطور سمجھاجاسکتاہے۔ |
| کارلو روبیا سائمن ونیڈرمیر |
1984 | برقی۔ کمزور قوت کے نظریہ کی پیشین گوئیوں کی تجرباتی تصدیق کی۔ |

سرسی وی رمن (1888-1970)
چندرشیکھر وینکٹ رمن کی پیدائش07نومبر1888ء میں تھیرووینا کا ول میں ہوئی۔انھوں نے اپنی اسکول کی تعلیم گیارہ سال کی عمر میں مکمل کر لی تھی۔ اور ڈگری کورس مدراس کے پریسڈ ینسی کالج سے مکمل کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ حکومتِ ہندکے سرکاری مالیاتی ادارہ میں کام کرنے لگے۔
جب وہ کلکتہ میں تھے تو انہوں نے اپنی پسند کے میدان میں کام کرنا شروع کردیا۔ وہ شام کے وقت روزانہ ڈاکٹر مہندرلال سرکارکے ذریعہ قائم شدہ ادارہ انڈین الیسوسی ایشن فارکلٹی ویشن آف سائنس میں وقت صرف کرتے۔ ان کے پسند کے میدان ارتعاش،مختلف آلات موسیقی ،الٹراسونک (بالاصوتیات)، انصراف وغیرہ تھے۔
1917 میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں پروفیسر کا عہدہ دیا۔ 1924ء میں برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے فیلو منتخب کیے گئے اور1930ء میں انہیں ان کی دریافت جواب رمن اثر کہلاتا ہے، پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔
رمن اثر واسطہ کے سالمہ کے ذریعہ روشنی کے انتشار کے بارے میں، جب انہیں ارتعاشی توانائی سطح تک پہنچایا جاتا ہے،جانکاری دیتا ہے۔اس کام سے ایک ایسے مضمون کا جنم ہوا جس نے مستقبل کے سائنسدانوں کےلیے تحقیق کا ایک نیا باب کھول دیا۔
انہوں نے اپنا آخرکا وقت بنگلور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں اور پھر رمن ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ میں صرف کیا۔ ان کے کام نے نئی نسل کے طلبا میں ولولہ پیدا کیا۔
طبیعیات میں بقائی قوانین
توانائی‘ خطی تحرک‘ زاویائی تحرک‘ چارج وغیرہ کی بقا کے قوانین‘ طبیعیات میں بنیادی قوانین مانے جاتے ہیں۔اس وقت تک ایسے کئی بقائی قوانین دریافت ہوچکے ہیں۔اوپر بیان کیے گئے چاروں بقائی قوانین کے علاوہ، اور بھی کئی بقائی قوانین ہیں جو زیادہ تر ایسی مقداروں سے متعلق ہیں جو نیوکلیائی اور ذرّاتی طبیعیات میں شامل ہیں۔ان میں سے کچھ بقائی مقداریں ہیں:اسپن،بارین نمبر ،انوکھاپن (strangeness) ، ہائپرچارج وغیرہ ، لیکن آپ کو ان کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک بقائی قانون ایک مفروضہ ہے جو مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہوتا ہے۔یہ یادر رکھنا اہم ہے کہ ایک بقائی قانون کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔تجربات کے ذریعے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے یا اسے غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔ایک تجربہ جس سے حاصل ہونے والا نتیجہ قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے، قانون کی تصدیق کرتا ہے یا قانون کے حق میں ایک اور دلیل فراہم کرتا ہے، اسے ثابت نہیں کرتا۔ دوسری طرف ایک واحد تجربہ سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی اگر قانون کے خلاف جاتا ہے تو وہ قانون کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
کسی سے یہ کہنا کہ وہ توانائی کے بقا کے قانون کو ثابت کرے، درست نہیں ہوگا۔یہ قانون ہمارے صدیوں کے تجربات کا ماحصل ہے اور میکانیات، حرحرکیات، برق۔مقناطیسیت، نوریات، ایٹمی اور نیوکلیائی طبیعیات یا کسی دیگر میدان میں کیے گئے تمام تجربات میں درست پایا گیا ہے۔
کچھ طالب علم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک جسم کے کششِ زمین کے تحت گرنے کے عمل میں‘ مختلف نقاط پر اس کی حرکی اور توانائی بالقوۃ کو جمع کرکے اور یہ دکھاکر کہ حاصلِ جمع مختلف نقاط پر مستقلہ ہے، میکانیکی توانائی کی بقا کے قانون کو ثابت کرسکتے ہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے یہ قانون کی صرف ایک تصدیق ہے، اس کا ثبوت نہیں۔
خلاصہ
مشقیں
طلباء کے لیے نوٹ
مدرس کے لیے نوٹ
(j)کلوننگ (cloning)