Skip to content
Tabiyaat-I

باب 2 



اکائیاں اور پیمائش

(Units and Measurement)

2.1 تعارف
2.2 اکائیوں کا بین الاقوامی نظام
2.3 لمبائی کی پیمائش
2.4 کمیت کی پیمائش
2.5 وقت کی پیمائش
2.6 آلات کی درستیِ صحت اور دقیق پیمائش میں سہو
2.7 بامعنی اعداد
2.8 طبیعی مقداروں کے ابعاد
  2.9   ابعادی فارمولے اور ابعادی  مساواتیں
2.10 ابعادی تجزیہ اور اس کا اطلاق (استعمال)
خلاصہ
مشق
اضافی مشق

2.1   تعارف(INTRODUCTION) 

        طبیعیات ایک مقداری سائنس ہے۔ کسی بھی طبیعی مظہر کی تشریح کرنے کے لیے مختلف طبیعی مقداروں کی پیمائش نہایت ضروری ہے۔ کسی بھی طبعی مقدار کی پیمائش کے لیے اس مقدار کا مقابلہ ایک مخصوص بنیادی اختیاری بین الاقوامی معیار پرمنظورشدہ حوالہ معیار سے کیا جاتا ہے۔ اس حوالہ معیار کو اکائی(unit) کہا جاتا ہے۔ کسی بھی طبیعی مقدار کی پیمائش کو اکائی کے ساتھ ایک عدد (عددی پیمائش) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمارے پیمائش کی جانے والی طبیعی مقداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، پھر بھی سبھی طبیعی مقداروں کو ظاہر کرنے کے لیے اکائیوں کی محدود تعداد کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ مقداریں ایک دوسرے سے باہمی طورپر متعلق ہیں۔ بنیادی یا اساسی مقداروں کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی گئی اکائیوں کو بنیادی یا اساسی اکائی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سبھی طبیعی کمیتوں کی اکائیوں کو ان بنیادی یا اساسی اکائیوں کے اجتماع کے طورپر ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے حاصل کی گئی مقداروں کی اکائیوں کو ماخوذ اکائیاں (derived units)  کہتے ہیں۔ اساسی اکائیوں اور ماخوذ اکائیوں کے مکمل سیٹ کو اکائیوں کا نظام (system  of  units) کہا جاتا ہے۔

2.2   اکائیوں کا بین الاقوامی نظام      (THE INTERNATIONAL 

SYSTEM OF UNITS) 

ٖپہلے مختلف ممالک کے سائنسداں پیمائش کے لیے اکائیوں کے مختلف نظام استعمال کرتے تھے۔اس طرح  اکائیوں کے تین نظام CGS نظام، FPS نظام اور  MKS نظام حال تک استعمال ہوتے رہے ہیں۔
لمبائی،کمیت اور وقت کی اکائیاں درج ذیل تھیں۔
  • CGS نظام میں یہ بالترتیب سنیٹی میٹر، گرام اور سکینڈ ہے۔
  • FPS نظام میں یہ بالترتیب فٹ، پاؤنڈ اور سکینڈ ہے۔
  • MKS    نظام میں یہ بالترتیب میٹر، کلوگرام اور سکینڈ ہے۔

بین الاقوامی نظام (International System of Units) کا فرانسیسی ترجمہ اور اس کا مخفف SIہے۔اس SIنظام کو علامتوں، اکائیوں اورمخففوں کے ساتھ 1971میں بین الاقوامی بیورو برائے وزن پیمائش(Buereu international dospoids it measures) کے ذریعے فروغ دیا گیا تھا جس پر حال ہی میں نومبر 2018میں منعقد ہونے والی عمومی کانفرنس برائے وزن و پیمائش‘‘ میں نظر ثانی کی گئی۔اور اس کانفرنس نے پوری دنیا میں سائنسی، تکنیکی صنعتی اور کاروباری کام میں اس کے استعمال کی فرمائش کی۔کیونکہ SI اکائیوں میں اعشاریہ نظام استعمال کیا گیا ہے، اس لیے اس نظام میں ایک اکائی سے دوسری اکائی (جیسے میٹرسے سینٹی میٹر یا اس کے برعکس) میں تبدیل کرنا، بہت سادہ اور سہل ہے۔ہم اس کتاب میں SIاکائیاں ہی استعمال کریں گے۔

SI میں سات اساسی اکائیاں ہیں جو جدول 2.1میں دی گئی ہیں۔ان سات اساسی اکائیوں کے ساتھ ساتھ دو اور اکائیاں بھی ہیں جو سطح زاویہ (plane angle)Pic1 Capture2, Page2،اورٹھوس زاویہ (Ωd) کے لیے ہیں۔ ان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: سطح زاویہPic1 Capture2, Page2قوس کی لمبائیΔsاور نصف قطرΔr کی نسبت ہے۔ ٹھوس زاویہΔr،اوج (apex) ­Pic2 Capter2, Page2مرکز لیتے ہوئے، اس کے گرد کروی سطح کے قطع کیے گئے رقبے ΔA اورنصف قطرr کے مربع کا تناسب ہے۔انہیں شکل  (a) 2.1اور  (b) میں بالترتیب دکھایا گیا ہے۔

Pic3 Chapter2, Page2
شکل 2.1  (a) مستوی زوایہ dqاور (b)ٹھوس زاویہ r∇کا اظہار
 مربع کا تناسب ہے۔انہیں شکل  (a) 2.1اور  (b) میں بالترتیب دکھایا گیا ہے۔

سطح زاویہ کی اکائی ریڈین (radian) اور علامت radہے۔

جدول 2.1   SI  اساسی مقدار اور اکائیاں *
بنیادی
بنیادی
SI اکائی

نام علامت تعریف
لمبائی میٹر m روشنی کے ذریعہ خلا میں ایک سیکنڈ کے458 1/299,792, وقفہ وقت میں طے کی گئی راہ کی لمبائی میٹر ہے۔ (1983سے تسلیم شدہ)
کمیت کلوگرام kg فرانس میں پیرس کے پاس سیورس میں بین الاقوامی وزن اورپیمائش بیورو میں رکھے گئےکلوگرام(پلیٹنم اریڈیم مخلوط دھات سے بنے سلنڈر)کے بین الاقوامی نمونے کی کمیت کلوگرام ہے۔(1989سےتسلیم شدہ)
وقت سیکنڈ s ایک سیکنڈ وہ وقفہ ہے جو سیزیم133 ایٹم کی تحتی حالت کی دوباریک ترین سطحوں کے درمیان عبورمیں اشعاع ریزی کے 631,770, 9,192۔ دوری وقفوں کی مدت ہے۔( 1967) سے تسلیم شدہ)
برقی کرنٹ
 ایمپیر A ایک ایمپیروہ مستقل کرنٹ ہے جسے خلا میں1میٹر کی دوری پر واقع دو سیدھے ’لامتناہی لمبائی والے‘ متوازی اور قابل نظر انداز عمودی تراش کے موصلوں کے درمیان قائم رکھا جائے تو فی میٹر لمبائی پر7-10×2 نیوٹن قوت پیداہو۔(1948 سے تسلیم شدہ)
–حرکیاتی
درجہ حرارت
کیلون K  پانی کے ثلاثی نقطہ کے حر حرکیاتی درجہ حرارت کے 1/273.16 ویں حصے کو کیلون کہتے ہیں۔ 1967) سے تسلیم شدہ)
شے کی مقدار  مول (mole) mol مول کسی نظام میں شے کی وہ مقدار ہے جس میں اساسی ہستیوں (عناصر) کی تعداد اتنی ہے جتنی
 0.0 12 kg
کاربن 12 میں ایٹموں کی تعداد۔ 1971)سے تسلیم شدہ)
درخشاں
شدت
 کینڈیلا cd کینڈیلا، ایک دی ہوئی سمت میں، اس وسیلہ کی درخشاں شدت ہے جو 540x1012Hertz تواترکی یک رنگی شعاعیں خارج کرتا ہے اور جس کی‘ اس دی ہوئی سمت میں‘ اشعاعی شدت 1/683 واٹ فی اسٹریڈین ہے۔

جدول   2.2    SI اساسی اکائیوںمیں ظاہر کی گئی بعض ماخوذاکائیاں


                   طبیعی  مقدار                                                                                      SI اکائی
نام علامت
منٹ min 60s
گھنٹہ h 60 min = 3600s
دن d
24h = 86400s
سال y 365.25d=3. 156×107s
ڈگری °
/180(rad1º=
)1111111111111111111111111111
لیٹر L 1dm3=10-3m3
ٹن t 103kg
کیرٹ c 200mg
بار bar 0.1Mpa =105pa
کیوری Ci 1010×3.7
s-1
رونجن r 10-4×2.58 
C/Kg
کوئنٹل q 100Kg
بارن b 100fm2=10-28m2
آر a 1dam2=102m2
ہیکٹیئر ha 1hm2=104m2
میعاری  atm 101325Pa=1.013×105Pa
فضائی داب

* یہاں دی گئی قدروں کو یادکرنے کی یا امتحان میں پوچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں انہیں صرف یہ ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ انہیں کس حدتک درستگی صحت کے ساتھ ناپا جاتا ہے۔ ٹکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ پیمائش کی تکنیکیوں میں بھی سدھار ہوتا ہے اور پیمائشیں بہتر درستگی صحت کے ساتھ کی جاسکتی ہیں۔اساسی اکائیوں کی تعریفوں میں بھی اس ترقی کا ساتھ دینے کے لیے ردوبدل کی جاتی رہتی ہے

ٹھوس زاویہ کی اکائی اسٹریڈین (steradian) اور علامت srہے۔ دونوں مقداریں غیرابعادی ہیں۔

         یہ نوٹ کریں کہ جب مول (Mole)کا استعمال کریں تو اس کے بنیادی عناصر کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ یہ بنیادی عناصر ایٹم، مالیکیول، آین، الیکٹران، دیگر ذرّات یا خصوصی طور پر صراحت کیے گئے کچھ ایسے ذرّات کے گروپ ہوسکتے ہیں۔
         ضمیمہA 6.1میں کچھ SI  ماخوذ اکائیاں جو بنیادی اکائیوں کی شکل میں ہیں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ طبیعی مقداروں کے لیے ایسی اکائیاں استعمال میں لائی جاتی ہیں جو سات بنیادی اکائیوں سے اخذ کی جاسکتی ہیں۔(ضمیمہA 6)۔کچھSI ماخوذ اکائیوں کو مخصوص نام سے جاناجاتا ہے ضمیمہA 6.2.اور کچھ ماخوذSI اکائیاں ان مخصوص ناموں والی اکائیوں اورسات بنیادی اکائیوں کے استعمال سے حاصل ہوتی ہیں ضمیمہA 6.3۔ان اکائیوں کو آپ کے فوری حوالے کے لیے ضمیمہ6.2 اورضمیمہ 6.3میں دیا گیا ہے۔ عام استعمال کے لیے رکھی گئی کچھ دیگر اکائیوں کو جدول2.2میں دیا گیا ہے۔
        عامSI سابقے(prefix) اور اضعاف اور تحت اضعاف کی علامتیں  ضمیمہA2میں دی گئی ہیں۔آپ کے فوری حوالے کے لیے طبیعی مقداروں، کیمیائی عناصر اور نیوکلائیڈوں کے لیے مستعمل علامتوں کے عام رہنما اصول ضمیمہA7میں اور SI اکائیوں اور دیگر اکائیوں کے لیے ضمیمہA8میں دیے گئے ہیں۔

2.3  لمبائی کی پیمائش

(MEASUREMENT OF LENGTH)

         آپ لمبائی کی پیمائش کے کچھ براہِ راست (direct) طریقوں سے پہلے سے واقف ہیں۔ مثال کے لیےPic5 Ch2, Page4تک کی لمبائی کی پیمائش کے لیے میٹر پیمانے کا استعمال کیا جاتا ہے۔Pic6 Ch2, Page4تک کی لمبائی کو بالکل صحیح ناپنے کے لیے ورنییئرکیلیپرس(Vernier callipers)  کا استعمال کیا جاتا ہے۔Pic7 Ch2 Page4 تک کی  لمبائی ناپنے کے لیے اسکرو گیج اور اسفیرومیٹر (Spherometer) (گولائی ماپنے والا) کا استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن ان حدوں سے آگے کی دوریوں کی پیمائش کے لیے ہم کچھ خاص بالواسطہ (indirect) طریقوں کااستعمال کرتے ہیں۔

 2.3.1 بڑی دوریوں کی پیمائش: اختلافِ منظرطریقہ

(Measurement of Large Distances:Parallax Method)

       لمبی دوریاں جیسے کہ کسی سیارے یا تارے کی زمین سے دوری ہم براہِ راست  کسی میٹر پیمانے کی مدد سے نہیں ناپ سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اہم طریقہ ہے اختلاف منظر طریقہ (parallax method)۔
       جب آپ کسی پنسل کو کسی پس منظر (دیوار) کے کسی مخصوص نقطے پر اپنے سامنے رکھتے ہیں اور پنسل کو پہلے اپنی بائیں آنکھA (داہنی آنکھ بند رکھتے ہوئے) سے اور پھر اپنی داہنی آنکھ B (بائیں آنکھ کو بند رکھتے ہوئے) سے دیکھتے ہیں، آپ غور کریں گے کہ پس منظر (دیوار) کے نقطے کے لحاظ سے پنسل کی حالت تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اسے اختلاف منظر (parallax) کہا جاتا ہے۔ مشاہدے کے دونقاط کے درمیان دوری کو بنیاد  (basis) کہا جاتا ہے۔ اس مثال میں آنکھوں کے درمیان کی دوری بنیاد ہے۔
        اختلاف منظر طریقے کے ذریعہ سیارہ S کی دوری D کی پیمائش کے لیے، ہم زمین پر اسے دو مختلف مقامات (مشاہدگاہیں)  (observatories) ) 
A اور B (جن کے درمیان دوری A B = b ہے) سے ایک ہی وقت پر دیکھتے ہیں جیسا کہ شکل 2.2 میں دکھایا گیا ہے۔ ہم ان دونوں نقاط پر جن دونوں سمتوں میں سیارہ دیکھا گیا ہے ان کے درمیان زاویہ کی پیمائش کرتے ہیں۔ شکل 2.2 میں    ASB=θ7777777777777777777777777777777777کو‘ جسے علامت θسے ظاہر کیا گیا ہے۔ زاویہ اختلاف منظر (parallax angle) کہتے ہیں۔
     چونکہ سیارہ بہت زیادہ دوری پر واقع ہے یعنیPic8 Ch2, Page4اور اس لیے زاویہ θ بہت ہی چھوٹا ہے۔ ایسی حالت میں ہم AB کو مرکز S اور نصف قطر (radius)
 D والے دائرہ کی b لمبائی کا قوس مان سکتے ہیں۔  AS = BSنصف قطر،
 تب A B = b = D : θ ، جہاں θ ریڈین میں ہے۔

Pic9 Ch2, Page5
کل 2.2   اختلاف منظر طریقہ

 کے تعین کے بعد ہم اسی طریقے کے ذریعہ سیارے کا سائز یا زاویائی قطر بھی متعین کرسکتے ہیں۔ اگر کسی سیارے کا قطر d ہے اور اس کا زاویائی سائز   d)a کے ذریعہ زمین کے کسی نقطے پر بنایا گیا زاویہ) ہے، تب
(2.2) a = d /D
Dزاویہ a زمین کے اسی مقام سے ناپا جاسکتا ہے۔ یہ ان دوسمتوں کے بیچ کا زاویہ ہے جب سیارے کے کسی قطرکے دو انتہائی نقاط کو دوربین کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ چونکہ D معلوم ہے تو سیارے کا قطر  d مساوات (2.2) کی مدد سے متعین کیا جاسکتا ہے۔


مثال  2.1 ریڈین میں زاویہ معلوم کریں 10(a)
(ڈگری) 1'/(b) (قوس کا ایک منٹ1"(c)(قوس کا ایک سکینڈ)۔استعمال کریں ریڈین  3600 = 2p ،10=60'، 1' = 60"  
Pic11 Ch2, Page5

مثال 2.2  ایک آدمی اپنے قریبی مینار کی دوری معلوم کرنا چاہتا ہے۔ وہ مینار Cکے سامنے نقطہAپر کھڑا ہے۔ اورخطAcکے سمت میں کافی دور کی شے Oکو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد ACکے عمودی سمت میں Bنقطہ تک چلتا ہے جس کی دوری 100میٹر ہے اور دوبارہOاور Cکو دیکھتا ہے۔ چونکہOکافی دور ہے اس لیے سمتBO اورAO یکساں معلوم ہوتی ہیں۔لیکن اسے معلوم ہوتا ہے کہ C کا خط اب آغازی خطِ نگاہC
سے θ)=θ400اختلاف منظر ہے)بنا رہا ہے۔ معلوم کریں کہ مینار کی دوری آغازی مقام Aسے کتنی ہے۔


Pic12 Ch2, Page5

مثال  2.3  زمین کے کسی قطرکے دوانتہائی نقاط Aاور Bسے چاند کو دیکھا گیا۔ مشاہدہ کی دوسمتوں کے درمیان چاند پر بننے والا زاویہ θ 1o54' ہے۔ زمین کا قطر تقریباً Pic13 Ch2, Page5 ہے۔ زمین سے چاند کی دوری کا شمار کیجیے

مکنک۸ےنجبدفد214
اس لیے مساوات (2.1) سے زمین اور چاند کے درمیان دوری
21کجئودم98

2.3.2  نہایت چھوٹی دوریوں کی پیمائش : مالیکیول کا سائز

(Estimation of Very Small Distances: size of a Molecule)

سالمہ کے سائز Pic15 Ch2, Page6 جیسی بہت ہی چھوٹی ناپوں کی پیمائش کے لیے ہمیں خاص طریقے اپنا نے پڑتے ہیں۔ اس کے لیے ہم اسکروگیج یا اس طرح کے دیگر آلات کا استعمال نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ مائیکرو اسکوپ (خور دبین)کی بھی کچھ حدیں ہیں۔ کسی نظام کی جانچ کے لیے نوری خردبین (optical microscope)میں بصری روشنی (visible light)کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ روشنی میں لہرجیسی خاصیتیں ہوتی ہیں، اس لیے وہ جزتجزیہ (Resolution)جس تک ایک نوری خردبین استعمال کی جاسکتی ہے، روشنی کی طولِ لہر ہے۔(اس کی تفصیلی وضاحت کلاس XII کی طبیعیات کی درسی کتاب میں دی گئی ہے)۔بصری روشنی کی طول لہر کی وسعت (رینج) تقریباً 4000 Å سے 7000 Å  تک ہے Pic16 Ch2, Page6 لہٰذا کوئی نوری خردبین اس سے چھوٹی ناپوں کے ذرات کا جزوی تجزیہ نہیں کر سکتی ہے۔ بصری روشنی کے بجائے ہم الیکٹران شعاع کو استعمال کرسکتے ہیں۔الیکٹران شعاعوں کو مناسب طور پر وضع کی گئی برقی اور مقناطیسی میدانوں کے ذریعہ فوکس کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کے الیکٹران مائیکرو اسکوپ کا تجزیہ جزآخر کار اس حقیقت کے سبب محدود ہوتاہے کہ الیکٹران بھی ایک لہر کی طرح برتاؤ کرتا ہے! (اس سلسلے میں زیادہ معلومات آپ کلاسXII میں حاصل کریں گے)۔کسی الیکٹران کی طول لہر ایک اینگسٹرام کی کسی کسر کے برابر تک کم ہو سکتی ہے۔ 0.6 Åتک کے تجزیہ جزصلاحیت والے الیکٹران مائیکرو اسکوپ بنائے جاچکے ہیں۔ ان کے ذریعہ کسی مادے میں ایٹموں، مالیکولوں کا تقریباً تجزیہ جز کیاجا سکتا ہے۔حال ہی میں ایجاد کی گئی سرنگائی خوردبینیات (Tunnelling microscopy) میں تجزیہ جز کی حد ایک اینگسٹرام سے بھی زیادہ بہتر ہے۔اس سے بھی مالیکولوں کے سائزوں کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔اولیک ایسڈ(Oleic acid)کی تقریبی مالیکولی سائز معلوم کرنے کے لیے ایک سہل طریقہ درج ذیل ہے۔ اولیک ایسڈایک صابن کے محلول جیسا مائع ہے جس کا مالیکولی سائزPic17 Ch2, Page6کے درجے کا ہے۔
            مالیکولی سائز کو ناپنے کے لیے سب سے پہلے پانی کی سطح پر اولیک ایسڈ کی یک مالیکولی سطح بنانی ہوگی۔
                                        20cm3 الکوحل 1cm3 اولیک ایسڈ ملائیے۔ پھر اس محلول کے 1cm3حصہ کو 20cm3 الکوحل میں گھولیے۔تب محلول کا ارتکازPic20 Ch2, Page6 کے برابر ہے۔ اب پانی سے بھرے بڑے ٹب میں تھوڑا لائیکوپوڈیم پاوڈر چھڑکیے اور پانی کی سطح پر اولیک ایسڈ اور الکوحل کے اس محلول کی ایک بوند ڈالیے۔ جلد ہی اولیک ایسڈ کا قطرہ پانی کی سطح  پر ایک یک مولیکیولیائی موٹائی کی تقریباً کروی فلم کی شکل میں پھیل جاتا ہے۔پھر ہم اس پتلی فلم کا جلدی سے قطر معلوم کرکے اس کا رقبہ حاصل کرلیتے ہیں۔مانا کہ ہم نے پانی کی سطح پر محلول کیnبوندیں ڈالی ہیں۔ شروع میں ہم ہر ایک بوند کا تخمینی حجم(Vcm3)معلوم کرتے ہیں۔

n V cm3 =  محلول کی nبوندوں کا حجم
اس محلول میں اولیک ایسڈ کی مقدار 
 nV[1/(20×20]cm3
      اولیک ایسڈ کا یہ محلول پانی کی سطح پر نہایت تیزی سے پھیلتا ہے اور موٹائی t  کی ایک بہت پتلی پرت بناتا ہے۔اگر یہ پھیل کر Acm2 رقبہ کی پرت بناتا ہے۔تو پرت کی موٹائی
پرت کا حجم
t = ———
پرت کا رقبہ
 یا3212132133

        اگر ہم یہ مان لیں کہ پرت ایک مالیکولی موٹائی کی ہے تو یہ موٹائی اولیک (Oleic)ایسڈ کے مالیکول کے قطر کی ناپ کی ہوگی۔ اس کی موٹائیPic23 Ch2, Page7درجے کی ہوتی ہے۔

        مثال 2.5  اگر کسی نیوکلیس کے سائز (جو 15-10سے 14-10 تک کی سعت میں ہوتا ہے) کو اتنے گنا بڑا کردیا جائے کہ اسے ایک تیز پن کی نوک کے برابر مانا جاسکے، تو ایک ایٹم کا سائز تقریباً کتنا ہوگا؟ مان لیجیے کہ پن کی نوک Pic24 Ch2, Page7  تک کی سعت میں ہوتی ہے۔

       جواب نیوکلیس کا سائزPic25 Ch2, Page7تک کی سعت (رینج) میں ہوتا ہے۔ پن کی تیز نوک کوPic26 Ch2, Page7کے رینج میں مانا جاسکتاہے۔ اس طرح ہم نیوکلیس کے سائز کو1010 کے جزو ضربی(factor)  سے بڑھارہے ہیں۔ لہٰذا ایٹم جس کا سائز Pic27 Ch2, Page7ہوتا ہے تقریباً Pic28 Ch2, Page7سائز کا ظاہر ہوگا۔اس لیے ایک نیوکلیس ایک ایٹم میں سائز کے لحاظ سے اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے جتنی کہ تقریباً ایک میٹر سائز کے کرے کے مرکز پر رکھی ہوئی ایک سوئی کی تیز نوک اس دائرے کے مقابلے میں چھوٹی ہوگی۔

2.3.3  لمبائیوں کی وسعت (Range of Lengths) 

کائنات میں اشیا کے سائزوں کی سعت نہایت وسیع ہے۔ ان کی سعت کسی ایٹم کے ایک خورد ترین (tiny)  نیوکلیس کے سائزPic29 Ch2, Page7سے قابل مشاہدہ کائنات (observable universe)کی حدPic30 Ch2, Page7تک ہوسکتی ہے۔ جدول 2.3  میں کچھ اشیا کے سائزوں اور لمبائیوں کے درجے اورسعت دیے گئے ہیں۔
نہایت خورد اور نہایت بڑی دوریوں کی پیمائش کے لیے کچھ اور خاص اکائیاں درج ذیل ہیں:

77777777777777777777777777777777777777777777777777777777777 فری
01 اینگسٹرم
(سورج کی زمین سے اوسط دوری) 02 فلکیاتی اکائ
03
04 نوری سال روشنی کے ذریعے ایک سال میں طے کی گئ دوری)
05 پارسیک
پارسیک وہ فاصلہ ہے جس پر زمین کے مدار کا اوسط نصف قطر 1 arc second کا زاویہ بناتا ہے۔

2.4 کمیت کی پیمائش (MEASUREMENT OF MASS) 

      کمیت مادے کی بنیادی خصوصیت ہے۔ یہ شے کے درجہ حرارت دباؤ یا خلا میں اس کے مقام کے تابع نہیں ہوتا۔ کمیت کی SI اکائی کلوگرام (kg) ہے۔

اس کی تعریف پلانک مستقلہ (h) کی مستقل عددی قدر کو34-10×6.62607015طے کر کے کی جاتی ہے ۔ جب کہ اسے Jsاکائیوں میں ظاہر کیا جاتا ہے ۔ جو  kg m2s–1کے مساوی ہے ، جہاں میٹر اور سیکنڈ کی تعریف Cاور Vcs Δکی اصطلاح میں کی جاتی ہے۔

        ایٹموں اور سالمات کی کمیت کی پیمائش کے لیے کلوگرام ایک غیرموزوں اکائی ہے۔ لہٰذا ایٹموں کی کمیت کو ظاہر کرنے کے لیے کمیت کی ایک خصوصی معیاری اکائی، متحدہ ایٹمی کمیت اکائی (unified atomic mass unit,u) کا استعمال کرتے ہیں جس کے مطابق  اکائی=1u  
       =کاربن 12 ہم جا (isotope) 06 کے ایک ایٹم کی کمیت کا (1/12 واں) حصہ، جس میں الیکٹرانوں کی کمیت بھی شامل ہے۔
kg 07
       عام طور پردستیاب اشیاء کی کمیت معلوم کرنے کے لیے دوکانوں میں استعمال ہونے والا ترازواستعمال کیاجاسکتا ہے۔بڑی کمیتوںوالی اشیاء جیسے سیارے، ستارے وغیرہ کی کمیتیں، نیوٹن کے مادی کشش کے قانون پر مبنی مادی کشش کے طریقے (دیکھیے باب 8 ) کے ذریعے ناپی جاسکتی ہیں۔ بہت ہی کم کمیت والی اشیاء جیسے ایٹمی تحت ایٹمی ذرّات وغیرہ کی کمیتوں کی پیمائش کے لیے کمیت طیف نگار (mass spectrograph) استعمال کیا جاتا ہے، جس میں ایک یکساں برقی ومقناطیسی میدان میں حرکت کررہے چارج شدہ ذرّے کے خطِ حرکت کا نصف قطر اس کی کمیت کے راست متناسب ہوتاہے۔

2.4.1کمیتوں کی وسعت  (Range of Masses)

پورے عالم میں پائی جانے والی اشیا کی کمیتوں کی سعت کا پیمانہ کافی بڑے پیمانے پر ہے۔جو کسی الیکٹران کی خفیف کمیت (درجہ
Kg
 30-10 ) سے معلوم کائنات کی عظیم کمیت کے درجہ تقریباً 1055Kg تک پھیلی ہوئی ہے۔

جدول  2.3   لمبائیوں کی سعتیں اور درجات

شے کے ناپ یا فاصلے لمبائی (m)
پروٹان کاناپ 15-10
ایٹمی نیوکلیس کا سائز 14-10
ہائیڈروجن ایٹم کا سائز 10-10
کسی مثالی (typical)وائرس کی لمبائی 10-8
روشنی کی طول لہر 10-7
سرخ دموی جسیمے(red blood corpuscle) کا سائز 10-5
کسی کاغذ کی موٹائی 10-4
سمندر کی سطح سے ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 104
زمین کا نصف قطر 107
زمین سے چاند کی دوری 108
زمین سے سورج کی دوری 1011
سورج سے پلوٹو کی دوری 1013
ہماری گیلکسی کا سائز 1021
زمین سے اینڈروموئیڈا(Andromeda)  گیلکسی کی دوری 1022
قابل مشاہدہ کائنات کی سرحد تک دوری 1026

جدول2.4میں مختلف اشیا کی مخصوص کمیتوں کے درجے اوروسعت دیے گئے ہیں۔

جدول 2.4 کمیتوں کی وسعتیں اور درجات


شے کمیت (کلو گرام)
الیکٹران 10-30
پروٹان 10-27
یورینیم ایٹم 10-25
سرخ دموی خلیہ 10-13
دھول کے ذرے 10-9
بارش کی بوند 10-6
مچھر 10-5
انگور 10-3
انسان 102
آٹو موبائیل (سواریاں) 103
بوئنگ 747 ہوائی جہاز 108
چاند 1023
زمین 1025
سورج 1030
کہکشاں( گیلکسی) 1041
قابل مشاہدہ کائنات 1055


2.5  وقت کی پیمائش   (MEASUREMENT OF TIME)

         کسی بھی وقفہ وقت کی پیمائش کے لیے ہمیں گھڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کی پیمائش کے لیے  بہتر معیار کی ضرورت کے تحت ایٹمی گھڑی کو فروغ دیا گیا ہے۔ اب ہم وقت کی پیمائش کے لیے ایٹمی معیاروقت (atomic standard of time) کا استعمال کرتے ہیں جو سیزیم ایٹم میں پیدا ہونے والے دوری ارتعاش کو مبنی ہے۔ قومی معیاروں میں استعمال کی جانے والی سیزیم گھڑی جسے ایٹمی گھڑی بھی کہتے ہیں، کی یہی بنیاد ہے۔ ایسے معیار کئی تجربہ گاہوں میں دستیاب ہیں۔ سیزیم ایٹمی گھڑی میں ایک سیکنڈ سیزیم -133 ایٹم کے اس کی تحت حالت (ground state) کی دو باریک ترین سطحوں (hyper fine levels) کے درمیان عبور (transition) سے مطابقت رکھنے والے 9,192,631,770 ارتعاش کے لیے مطلوبہ وقت کے مساوی لیا جاتا ہے۔سیزیم ایٹم کے ارتعاش سیزیم ایٹمی گھڑی کے شرح ارتعاش کو ٹھیک اسی طرح منضبط (regulate) کرتے ہیں جیسے کہ توازنی پہیے (balance wheel) کے ارتعاش ایک عام کلائی گھڑی کو منضبط کرتے ہیں یا ایک چھوٹے کوارٹز کرسٹل کے ارتعاش کسی کوارٹز کلائی گھڑی کو منضبط کرتے ہیں۔ 
             سیزیم ایٹمی گھڑیاں نہایت درست وصحیح ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر یہ گھڑیاں آسانی سے لے جا سکنے والے (portable) میعارفراہم کراتی  ہیں۔وقفہ وقت کے قومی میعار سکینڈ، اور ساتھ ساتھ تواترکو چارسیزیم  ایٹمی گھڑیوں کے ذریعہ قائم رکھا جاتا ہے۔نیشنل فزیکل لیباریٹری (NPL)، نئی دہلی میں ہندوستانی میعاری وقت قائم رکھنے  کے لیے سیزیم ایٹمی گھڑی استعمال کی جارہی ہے۔
ہمارے ملک میں، تواتر اور وقت کے طبیعی معیاروں کی دیکھ بھال (نگرانی)  اور ان میں اصلاح وغیرہ کی ذمہ داری  NPL، نئی دہلی کی ہے۔ غور کریں کہ ہندوستانی معیاری وقت (IST)ان ایٹمی گھڑیوں کے مجموعے سے متعلق ہے۔ سیزیم ایٹمی گھڑیاں اتنا درست وقت بتاتی ہیں کہ پیمائش وقت میں غیر یقینیت(uncertainty) +1×1015) یعنی 1015 میں 1حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان گھڑیوں میں 1سال میں us3+ سے زیادہ وقت کی کمی بیشی نہیں ہوگی۔ وقت کی پیمائش میں بہت زیادہ درستیِ صحت کے سبب لمبائی کی SI اکائی کو روشنی کے ذریعہ متعین وقت کے وقفے (1/299,792,458 ویں سیکنڈ) میں طے کی گئی راہ لمبائی (path length) کی اصطلاح میں ظاہر کیا گیا ہے۔
       دنیا میں مختلف واقعات کے وقفہ وقت کی وسعت کافی وسیع ہے۔ جدول2.5میں کچھ اہم وقفہ وقت کے درجے اور وسعتیں ظاہر کی گئی ہیں۔
       جدول2.3اور2.5کا مشاہدہ کرنے پر آپ دیکھیں گے کہ مختلف  پیمائشوں کے اعداد اور ان میں فرق کے درمیان یکسانیت ایک دلچسپ اتفاق ہے۔ غور کریں کہ دنیا میں اشیا کی سب سے بڑی لمبائی اور مختصر ترین لمبائی  کی پیمائش  کی نسبت تقریباً1041ہے۔ اسی طرح ہماری دنیا میں اشیا اور واقعات سے متعلق زیادہ سے زیادہ اور مختصر ترین وقفہ وقت کا تناسب بھی 1041ہے۔اشیا کی کمیتوں کے جدول2.4میں عدد1041پھر سے ظاہر ہوتا ہے۔ کائنات کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کمیتوں کا تناسب  2(1041) ہے۔ کیا اعداد کے وسیع گروپ میں یہ غیر معمولی ہم آہنگی محض اتفاق ہے؟

2.6   آلات کی درستیِ صحت اوردقیق پیمائش میں سہو

(ACCURACY, PRECISION OF INSTRU- MENTS AND ERRORS IN MEASURE- MENT)

پیمائش ہر تجرباتی سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد ہے۔  کسی بھی پیمائشی آلے سے لی گئی ہر ایک پیمائش کے نتیجہ میں کچھ غیر یقینیت ہوتی ہے یہ غیر یقینیت (سہو یا غلطی )(error)کہلاتی ہے۔ ہر ایک تحسیب کی گئی مقدار میں جو پیمائش کی گئی قدروں پر مبنی ہوتی ہے،کچھ نہ کچھ سہو ہوتا ہے۔ یہاںہمیں دواصطلاحات درستی صحت(accuracy) اور دقیق پیمائش  (precision) میں امتیاز کرنا ہوگا۔ کسی قدرکی درستیِ صحت وہ پیمائش ہے جو یہ بتاتی ہے کہ کسی مقدار کی پیمائش کی گئی قدر اس کی حقیقی قدر کے کتنی قریب ہے جب کہ پیمائش کا دقیق ہونا (دقیق ہونا) ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کسی مقدار کی کس جزتجزیہ یا حد تک پیمائش کی گئی ہے۔ 
پیمائش کی درستگی کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے جس میں آلہ پیمائش کی حد یا جزتجزیہ بھی شامل ہے۔ مثال کے لیے مان لیجیے کہ کسی شے کی لمبائی کی صحیح قدر 3.678cm ہے۔ کسی تجربے میں 0.1cm جز تجزیہ کے پیمائشی آلے کے ذریعہ خاص شے کی لمبائی کی پیمائشی قدر 3.5cm اور کسی دوسرے تجربے میں زیادہ جزتجزیہ0.01cm والے پیمائشی آلے کے ذریعہ حاصل اسی لمبائی کی پیمائشی قدر 3.38cm ہے۔ لہٰذا پہلے پیمائشی طریقے سے حاصل شدہ پیمائش زیادہ درست ہے۔ (کیونکہ یہ حقیقی قدر کے زیادہ قریب ہے) لیکن کم دقیق (کیونکہ اس کا جز تجزیہ صرف 0.1cm ہے) جب کہ دوسرے پیمائشی طریقے کے ذریعہ حاصل شدہ پیمائش کم درست لیکن زیادہ دقیق ہے۔ لہٰذا پیمائش میں غلطیوں (سہو) کے سبب ہر ایک پیمائش قریبی پیمائش ہے۔ عام طورپر پیمائش میں سہو کی درجہ بندی درج ذیل طورپر کی جاسکتی ہے۔

جدول 2.5وقفہ وقت کی سِعت


واقعہ وقفہ وقت(s)
 نہایت غیر پائیدار ذرے کی مدت حیات 10-24
روشنی کے لیے نیوکلیردوری کو طے کرنے میں لگا وقت 10-22
x-کرنوں کا دور 10-19
ایٹمی ارتعاش کا دور 10-15
روشنی لہر کا دور 10-15
کسی ایٹم کی اشتعالی حالت کی مدت حیات
10-8
ریڈیو لہر کا دور
10-6
آواز لہر کا دور
10-3
آنکھ کے جھپکنے میں لگاوقت
10-1
انسانی دل کی دو متواتر دھڑکنوں کادرمیانی وقفہ
100
روشنی کا چاند سے زمین تک آنے میں لگاوقت
100
روشنی کا سورج سے زمین تک آنے میں لگاوقت
102
کسی مصنوعی سیارچے کا دوری وقت
104
زمین کی گردش کا دور
105
چاند کا گردشی اور طواف کا دور
106
زمین کے طواف کا دور
107
روشنی کا قریبی تارے سے زمین تک آنے میں لگا وقت
108
انسان کی اوسط مدت حیات
109
مصر کے احراموں کی عمر
1011
ڈائنا سور کے معدوم ہونے کے بعد گزرا وقت
1015
کائنات کی عمر 1017

(a)   بانظام سہو  (systematic errors)

(b)   بے ترتیب سہو(random errors) 

بانظام سہو(Systematic errors)  

نظام سے وابستہ سہو وہ سہو ہیں جو کسی بھی ایک سمت، خواہ مثبت یا منفی، کی طرف مائل ہوتے ہیں۔اس قسم کے سہو کے کچھ اسباب درج ذیل ہیں:

(a) آلاتی سہو :(Instrumental errors)

      یہ غلطیاں پیمائشی آلے کے ناقص ڈیزائن یا پیمانہ بندی کے سبب، صفر سہوکی موجودگی وغیرہ کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے لیے ہوسکتا ہے کہ کسی تھرمامیٹر میں درجۂ حرارت کی نشان بندی درست نہ ہو (جس کے سبب STP پر پانی کے نقطہ جوش کو وہ تھرمامیٹر 1040C دکھا سکتا ہے جب کہ اسے 1000C پڑھا جانا چاہیے)، کسی ورنیر کیلیپرس میں ورنیر پیمانے کا صفر نشان خاص پیمانے کے صفر نشان کی سیدھ میں نہ ہو یا کسی عام میٹر پیمانے کا ایک سرا گھسا ہوا ہو۔

(b) تجرباتی تکنیک یا طریقہ عمل کا نقص(Imperfection       

:(in experimental procedure) 

مثال کے لیے کسی انسانی جسم کے درجہ حرارت کی پیمائش کے لیے جب تھرمامیٹر کو بغل میں لگایا جاتاہے تو یہ جسم کے اصل درجہ حرارت سے کم درجہ حرارت دکھاتا ہے۔ تجربے کے دوران کچھ دیگر خارجی حالات (جیسے درجہ حرارت، رطوبت، ہوا کی رفتار وغیرہ میں تبدلیاں) پیمائش کو منظم طورپر متاثر کرسکتے ہیں۔

(c) انفرادی سہو:(Personal errors)

       یہ غلطیاں تجربہ کرنے والے فرد کے میلان، سازوسامان کی مناسب ترتیب میں کمی یا مشاہدہ سے متعلق مناسب احتیاطی تدابیر کے بغیر مشاہدات لینے میں کسی شخص کی لاپروائی وغیرہ کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے لیے اگر آپ اپنی عادت کے مطابق پیمانے پر سوئی کے مقام کو پڑھتے وقت اپنے سر کو دائیں جانب کچھ زیادہ دور تک رکھتے ہیں تب آپ اختلاف منظر (parallax) کے سبب غلطی کر بیٹھیں گے۔

بے ترتیب سہو(Random errors) 

        یہ سہو وہ سہو ہیں جوبے قاعدہ طورپر ہوتے ہیں اور اس لیے علامت اور سائز کے لحاظ سے یہ بے ترتیب ہوتے ہیں۔ یہ تجرباتی حالات (درجہ حرارت، وولٹیج سپلائی، تجرباتی بندوبست کے میکانکی ارتعاش وغیرہ) میں بے ترتیب اور غیر متوقع اُتار چڑھاؤ، مشاہد کے ذریعہ مشاہدہ اور اندراجات کے دوران کی گئی ذاتی غلطیاں (ذاتی میلان) وغیرہ کے سبب پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے لیے جب ایک ہی شخص کسی مشاہدے کو کئی بار دہراتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ ہر بار وہ ان کی مختلف قدریں حاصل کرے۔

کم ترین شمار سہو (Least count error)     

      کم ترین شمار سہو (یا خطا) وہ خطا ہے جو آلے کے جز تجزیے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ مثال کے لیے، کسی ورنیر کیلیپرس کا کم ترین شمار0.01cm ہے یا ایک اسفیرومیٹر میں کم ترین شمار 0.001ہوسکتا ہے۔ کم ترین شمارسہوبے ترتیب سہو کے زمرے میں شامل ہیں لیکن ان کا سائز محدود ہوتا ہے۔ یہ سہو منظم اور بے ترتیب دونوں قسموں کا ہوسکتا ہے۔ اگر ہم لمبائی کی پیمائش کے لیے میٹر پیمانے کا استعمال کرتے ہیںتو میٹر پیمانے کی نشان بندی 1mm کے فاصلے یا وقفے پر ہوسکتی ہے۔ نسبتاً دقیق آلات کے استعمال اور تجرباتی تکنیک میں بہتری لانے وغیرہ سے کم ترین شمار سہو کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مشاہدات کو کئی بار دہرا نے اورپھر ان کا حسابی درمیانہ لینے پر یہ درمیانہ قدر پیمائش کی گئی مقدار کی حقیقی قدر کے بہت ہی قریب ہوگی۔ 

2.6.1 مطلق سہو، نسبتی سہو اور فی صد سہو

(Absolute error, Relative error and Percen- tage error) 

(a) مان لیجیے کہ کئی پیمائشوں کی قدر یںa1, a2, a3,........, an ہیں۔ ان کا حسابی درمیانیہ، پیمائش کے دئیے ہوئے حالات میں، مقدار کی سب سے بہتر ممکن قدر مانی جاتی ہے،
amean = (a1+a2+a3+...+an ) / n (2.4)
                                               یا
                                       Pic44 Ch2, Page12
اس کی وجہ یہ ہے (جیسا کہ پہلے تشریح کی گئی ہے) کہ یہ فرض کرنا معقول ہے کہ انفرادی پیمائش کے ذریعے حاصل کیے گئے تخمینے کا صحیح قدر سے جتنا زیادہ ہونے کاامکان ہے اتنا ہی امکان کم ہونے کا بھی ہے۔

مقدار کی صحیح قدر اورانفرادی پیمائش قدر کے درمیان کے فرق کی عددی قدر کو پیمائش کا مطلق سہو (absolute error) کہا جاتا ہے۔

 اسے  |Δa| کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے (کیونکہ ہم کسی مقدار کی حقیقی قدر نہیں جانتے اس لیے حسابی درمیانے کو صحیح قدر تسلیم کرلیتے ہیں) تب انفرادی پیمائش کی قدروں میں سہو اس طرح  ہیں،
Δa1 = amean _ a1
Δa2 = amean _ a2
... ... ...
... ... ...
Δan = an _ amean 
اوپر دیے ہوئے مشاہدات میں، کچھ مشاہدات کے لیے Δaکی تحسیب شدہ عدد مثبت ہوسکتی ہے اور کچھ کے لیے منفی۔ لیکن مطلق سہو|Δa| ہمیشہ مثبت ہوگا۔
(b) سبھی  مطلق سہو کے حسابی درمیانے کو طبیعی مقدارa کی قدر میں حتمی یا درمیانہ مطلق سہو مانا جاتا ہے۔ اسے Δamean سے ظاہر کیا جاتا ہے 
اس طرح:
(Δamean=(|Δa1|+|Δa2|+|Δa3|+...+|Δan|)/n (2.6)
Pic45 Ch2, Page12
اگر ہم صرف ایک ہی پیمائش لیں تو اس کی قدر  amean + Δamean کی وسعت میں ہو سکتی ہے۔یعنیa = amean + Δamean
یا
(2.8) amean _Δamean = a = amean + Δamean
اس کا مطلب ہوا کہ طبیعی مقدار a کی کسی بھی پیمائش کا (amean+Δamean) اور (amean _Δamean) کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔
(c) مطلق سہو کے بجائے اکثر ہم نسبتی سہو یا فی صد سہو (a℘) کا بھی استعمال کرتے ہیں۔  نسبتی سہو درمیانہ مطلق سہو Δamean اورپیمائش کی گئی شے کی درمیانہ قدر amean کی نسبت ہے۔

 (2.9) مطلق سہو    (relative error) =amean/Δamean 

جب نسبتی سہو کو فی صد میں ظاہر کیا جاتا ہے تو اسے فی صد سہو (δa)کہتے ہیں۔ لہٰذا فی صد
δa  = (Δamean/amean) × 100%                  (2.10)

آئیے ایک مثال لیتے ہیں :

مثال 2.6  دو گھڑیوں کی کسی قومی لیباریٹری میں رکھی ایک معیاری گھڑی کے ساتھ جانچ کی جارہی ہے۔ جس وقت معیاری گھڑی میں دو پہر کے 12:00:00 بجتے ہیں اس وقت ان دو گھڑیوں کی ریڈنگ اس طرح ہیں۔

گھڑی  1 گھڑی  2
دوشنبہ 12:00:05 10:15:06
منگل 12:01:15 10:14:59
بدھ 11:59:08 10:15:18
جمعرات 12:01:50 10:15:07
جمعہ 11:59:15 10:14:53
سنیچر 12:01:30 10:15:24
اتوار 12:01:19 10:15:11
اگر آپ کوئی تجربہ کررہے ہیں جس میں وقفہ وقت کی دقیق پیمائشوں کی ضرورت ہے تو آپ ان دونوں میں سے کون سی گھڑی کاانتخاب کریں گے؟

      جواب سات دنوں کے مشاہدات میں تغیرات کی رینج گھڑی 1 کے لیے 162s ہے اور گھڑی 2 کے لیے 31s ہے۔ گھڑی 1 کی اوسط ریڈنگ گھڑی  2 کی اوسط ریڈنگ کے مقابلے معیاری وقت کے زیادہ قریب ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گھڑی کا صفر سہو (zero error) دقیق کام کے لیے اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ریڈنگ کا آپسی فرق کیونکہ ’صفر سہو‘ کو ہمیشہ آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے ۔اس لیے گھڑی 1 کے بجائے گھڑی 2 کو ترجیح دی جائے گی۔

مثال 2.7  ہم کسی سادہ پینڈولم کے اہتزاز (oscillation) کے دوری وقت کی پیمائش کرتے ہیں۔ متواتر پیمائشوں میں ریڈنگ ہیں2.63s 2.63s , 2.56 s, 2.42 s, 2.71  اور2.80 s۔ مطلق سہو، نسبتی سہو یا فی صد سہو کا شمار کیجیے۔  
جواب  پینڈولم کے اہتزاز کا وسط دور
08

کیونکہ ہر دور کی پیمائش 0.01s  کے جزتجزیہ (علاحدگی) تک  ہوئی ہے، اس لیے سبھی وقت دوسرے اعشاریہ تک ہیں۔ اس لیے وسط دور کو بھی دوسرے اعشاریہ مقام تک لکھنا مناسب ہے۔
پیمائشوں میں مطلق سہو ہیں:
2.63 s _ 2.62 s = 0.01 s  
2.56 s _ 2.62 s = _0.06 s
2.42 s _ 2.62 s = _0.20 s
2.71 s _ 2.62 s = 0.09 s
2.80 s _ 2.62 s = 0.18 s 
یہ نوٹ کیجیے کہ مطلق سہو کی بھی وہی اکائیاں ہیں جو پیمائش کی جانے والی مقدار کی ہیں۔
سبھی مطلق سہو کی عددی قدروں کا حسابی درمیانہ (حسابی درمیانہ  کے لیے ہم صرف عددی قدر (magnitude) لیتے ہیں)۔
Pic47 Ch2, Page13
اس کا مطلب یہ ہے کہ سادہ پینڈولم کے اہتزاز کا دور،
،(2.62 + 0.11) s
اس کا مطلب یہ ہے کہ سادہ پینڈولم کے اہتزاز کا دور،
ہے  یا
 (2.62 + 0.11)s
اور
(2.62 _ 0.11) s
یا 2.73s اور
 2.51 s
کے درمیان ہے۔ کیونکہ سبھی مطلق سہو کا حسابی درمیانہ
 0.11 s ہے، اس لیے سیکنڈ کے دسویں حصے میں پہلے ہی کوئی غلطی ہے۔ لہٰذا وقفہ وقت کو سویں حصے تک ظاہر کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ لہٰذا لکھنے کا صحیح طریقہ ہے،
T = 2.6 + 0.1 s
یہ نوٹ کیجیے کہ آخری عدد 6 غیر معتبر ہے کیونکہ یہ 5 اور 7 کے درمیان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم یہ کہہ کر اس کا اشارہ دیتے ہیں کہ اس پیمائش کے دو با معنی اعداد (significant figures)ہیں۔ اس معاملے میں دوبامعنی عدد ہیں:2،جو معتبر ہے، اور 6 ہے جس سے کوئی غلطی یا سہو منسلک ہے۔ آپ بامعنی اعداد کے بارے میں زیادہ تفصیل سے حصّہ 2.7 میں پڑھیں گے۔
اس مثال کے لیے نسبتی سہو یا فی صد سہو ہے،
09

2.6.2  غلطیوں کا اجتماع(Combinatio

اگر ہم کوئی ایسا تجربہ کریں جس میں مختلف پیمائشیں شامل ہوں تو ہمیں یہ ضرور ہی جاننا چاہیے کہ سبھی پیمائشوں میں ہونے والے سہو کس طرح جمع ہوتے ہیں۔ مثال کے لیے کمیتی کثافت شے کی کمیت اور اس کے حجم کی نسبت

آپ ایک خط کی لمبائی کیسے معلوم کریں گے؟

(How will you measure the length of a line?)

کیسا مہمل سوال ہے؟ہوسکتا ہے آپ اب یہ کہیں۔ لیکن اگر خط، خطِ مستقیم (straight line) نہ ہو تو؟ ایک ٹیرھا میڑھا خط اپنی کاپی یا تختہ سیاہ پر کھینچے۔ جی ہاں، اب بھی کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔آپ ایک دھاگہ لے کر اسے خط پر اس طرح رکھیے کہ وہ خط کو پوری طرح ڈھک لے، پھر دھاگہ کو کھولیے اور اسکی لمبائی ناپ لیجیے۔
      اب تصور کیجیے کہ آپ ایک قوی شاہ راہ کی لمبائی ناپنا چاہتے ہیں یا ایک دریا کی یا دو اسٹیشنوں کے درمیان بچھی ہوئی ریل کی پٹری کی یا دو صوبوں یا ملکوں کے درمیان سرحد کی لمبائی ناپنا چاہتے ہیں۔ اب اگر آپ ایک میٹر یا سومیٹر لمبا دھاگہ،رسّی لیں، اسے خط پر رکھیں، پھر جہاں اس کا اگلا سرا تھا وہاں پچھلا سرا رکھیں اور اس طرح دھاگے کے مقام کو بدلتے جائیں تو اس کام کے لیے جتنے گھنٹوں کی محنت درکار ہوگی اور جتنا خرچ آئے گا، اس کے مقابلے میں حاصل بہت چھوٹی سی بات ہوگی۔مزید یہ کہ اس اتنے لمبے کام میں غلطیاں ہونے کے امکان تقریباً یقینی ہیں۔اس کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقی واقعہ ہے۔ فرانس اور بیلجیم کی ایک مشترکہ بین الاقوامی سرحد ہے، جس کی  دونوں ملکوں کی سرکاری دستاویزوں میں درج لمبائی میں قابلِ لحاظ فرق ہے۔
      ایک قدم آگے بڑھیے اور اس ساحلی خط کا تصور کیجیے جہاں زمین، سمندر سے ملتی ہے۔سڑکوں اور دریاؤں میں ساحلی خط کے مقابلے میں بہت کم گہرے موڑ ہوتے ہیں۔تب بھی تمام دستاویزوں میں، جن میں ہماری درسی کتابیں بھی شامل ہیں، گجرات یا آندھرا پردیش کے ساحلِ سمندر یا دو صوبوں کی مشترکہ سرحد وغیرہ کی لمبائی کے مطعلق معلومات شامل ہوتی ہے۔ریل کے ٹکٹوں پر دو اسٹیشنوں کا درمیانی فاصلہ چھپا ہوتا ہے۔سڑک کے کنارے کنارے ہر جگہ میل کے پتھر لگے ہوتے ہیں جو مختلف بستیوں کے فاصلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔پھر یہ کیسے کیا جاتا ہے؟
      ہمیں یہ  فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس حدتک پیمائش میں سہو (error) برداشت کریں گے اور پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کم ازکم خرچ کیسے آئے گا۔اس کے لیے اعلیٰ ٹکنالوجی اور بڑا خرچ درکار ہے۔یہ کہنا کافی ہوگا کہ اس کے لیے اچھی خاصی اعلیٰ درجہ کی طبیعات، ریاضی انجینیرنگ اور ٹکنالوجی درکار ہوگی۔ یہ فریکٹلس (Fractals) سے متعلق ہے جو حال ہی میں نظریاتی قبولیت اختیار کرنے والی طبیعات کی شاخ ہے۔پھربھی ہم یہ نہیں جان سکتے کہ جو اعداد ہمارے سامنے آئے ہیں وہ کس حد تک قابلِ بھروسہ ہیں، جیسا کہ فرانس اور بیلجیم کے قصّے سے ظاہر ہوتا ہے۔آپ کی دلچسپی کے لیے یہ بتادیں کہ فرانس اور بیلجیم کے درمیان لمبائی کی پیمائش کا یہ تناقص (Discrepancy) ، فریکٹلس اور بے نظمی (chaos) کے موضوع پر طبیعات کی ایک اعلیٰ نصاب کی کتاب کے پہلے صفحے پر درج کیا گیا ہے۔

 اگر کمیت اور ناپ یا ابعاد کی پیمائش میں سہو ہیں تو ہمیں یہ ضرور جاننا چاہیے کہ کثافت میں کتنی غلطی ہوگی۔ اس طرح کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ مختلف ریاضیاتی عملوں میں سہو کس طرح مجتمع ہوتے ہیں۔اس کے لیے ہم درج ذیل طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

فرض کیجیے کہ دوطبعی مقداروں Aاور Bکی پیمائش کی ’قدریں‘ بالترتیب A+ΔA اورB+ΔB ہیں، جہاں ΔA اورΔBان کے مطلق سہو ہیں–ہم چاہتے ہیں کہ حاصلِ جمع :z– = A + B میں سہو معلوم کریں۔جمع کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
10
11 میں از حدممکنہ سہوz
حاصلِ تفریق :
z=A - Bکےلیے 
12
یا
13



لہٰذا اصول یہ ہے: 

جب دو مقداروں کو جمع یا تفریق کیا جاتا ہے تو آخری نتیجے میں مطلق سہو انفرادی  مقداروں کے مطلق سہو کا حاصل جمع ہوتا ہے۔

مثال 2.8 دو اجسام کے درجہ حرارت کی تھرمامیٹر سے ناپنے پر قدریں ہیں: t1= 20ºC+ 0.5ºCاورtº= 500C+0.5ºC   درجہ حرارت کا فرق اوراس میں سہو معلوم کریں۔
جواب  :t' = t2-t1 
(5º0C+0.5ºC)-(200C+0.5ºC)=
 3º0C+1ºC=

(b)  حاصل ضرب یا حاصل تقسیم (خارج قسمت) میں سہو

(Errors of a product or a quotient)  

مان لیجیے Z=AB اور A اور Bکی پیمائش کی گئی قدر A + ΔA اور B + ΔB ہیں تب
14
LHS کوzسے اور RHS کو AB سے تقسیم کرنے پر
15
کیوں کہ ΔA اور ΔB کی قدر بہت کم ہے لہذا ہم ان کے حاصل ضرب کو نظرانداز کریں گے۔
لہذا z میں زیادہ سے کسری سہو،
16
آپ یہ آسانی سے تصدیق کرسکتے ہیں کہ یہ مساوات تقسیم کے لیے بھی صحیح ہے۔ لہٰذا اصول یہ ہے:

 جب دو مقداروں کو ضرب یا تقسیم کیا جاتا ہے تو نتیجے میں کسری سہو، ضاربوں میں کسری غلطیوں کی جمع کے برابر ہوتا ہے۔

مثال 2.9  مزاحمت  R = V/I جہاں  = (5+100)  V اور (A)  I =(10 + 0.2) ہے۔ R میں فی صد سہو معلوم کیجیے۔

جواب V میں فی صد سہو %5ہے I میں %2ہے۔ لہٰذا R  کی قدر میں کل سہو %7 + %2 = %5ہوگا۔

مثال2.10دومزاحموں کی مزاحمتیںR1= 100 + 3 ohm  اورohm R2=200+4 ہیں جو کہ (a) سلسلہ وار ترتیب (b) متوازی ترتیب میں جڑے ہوئے ہیں۔ معاول مزاحمت کا پتہ لگائیں۔ استعمال کریں(a)کے لیے رشتہ R= R1+R2 اور (b)کے لیے
17 اور
18

جواب (a)معاول مزاحمت، سلسلہ وار ترتیب کے لیے
R = R1+R2 =(100 + 3) ohm + (200 + 4) ohm
= 300 + 7 ohm
(b)معاول مزاحمت متوازی ترتیب کے لیے
19     
سے ہمیں حاصل ہوتا ہے

20

تب        21       

(c) پیمائش کی گئی مقدار کی قوت کے سبب سہو(Eror in case of a measured quantity raised to power)

مان لیجئےZ = a2 
(ΔZ/Z = (ΔA/A)+ (ΔA/A
لہٰذاA2میں کسری سہوAمیں سہو کی دوگنی ہے۔
عمومی شکل میں، اگرZ=Ap Bq /Cr     تب 
ΔZ/Z = P (ΔA/A) + q(ΔB/B) + (ΔC/C)
لہٰذا اصول یہ ہے۔کسی طبعی مقدار جس پر قوت kتک بڑھائی  گئی ہو،میں کسری سہو، اس نفرادی مقدار میں کسری سہو کو قوت نماR سے ضرب دینے پر حاصل ہوتا ہے۔

مثال Z 2.11میں کسری سہو معلوم کیجیے اگر Z=A4B1/3/CD3/2

جواب   Zمیں کسری سہو ہے: 22
23

مثال2.12 ایک سادہ پینڈولم کے اہتراز کا دورہے۔ جس میںL  کی پیمائش کی گئی قدر تقریباً 20.0cmہے اور اس کی درستگی 1mm تک ہے۔ ایک گھڑی سے جس کا جزتجزیہ Isہے، 100اہتراز کے لیے پیمائش کیا گیا وقت90سکینڈ ہے۔gکی قدر معلوم کرنے میں کتنی درستگی ہے؟
جواب 24
یہاں ،  24
اور ،   25
اس لیے،  26
L اور t دونوں میں سہو، کم ترین شمار سہوہیں۔ اس لیے
27
اس لیے،g میں فی صد سہو ہے:

2.7     بامعنی اعداد(SIGNIFICANT FIGURES)   

       جیسا کہ اوپر بتایا گیاہر ایک پیمائش میں سہو شامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی پیمائش کا نتیجہ اس طرح پیش کیا جانا چاہیے کہ یہ پیمائش کس حد تک دقیق ہے اس کی نشاندہی ہوجائے۔ عام طورپر کسی پیمائش کا پیش کیا گیا نتیجہ وہ عدد ہے جس میں اس عدد کے سبھی معتبر ہندسے اور پہلاغیر معتبرہندسہ (غیر یقینی) شامل ہوتاہے۔ کسی عدد کے معتبر ہندسوں اورشامل غیر یقینی ہندسے کو بامعنی ہندسے  (significant digits) کہتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ ایک سادہ پینڈولم کے اہتزاز کا دور1.62 s ہے تو اس میں ہندسہ1 اور6 معتبر اور یقینی ہیں جب کہ ہندسہ 2 غیر یقینی ہے۔ لہٰذاپیمائش کی گئی قدر میں تین بامعنی ہندسے ہیں۔ اگر پیمائش کے بعد کسی شے کی لمبائی 287.5 لکھی گئی ہے جس میں چار بامعنی ہندسے ہیں۔ اس عدد میں ہندسہ 2،  8 ،  7، یقینی ہیں جب کہ ہندسہ 5 غیر یقینی ہے۔ ظاہر ہے، پیمائش کے نتیجے میں بامعنی ہندسوں سے زیادہ ہندسہ لکھنا غیر ضروری اور گمراہ کن ہوگا کیونکہ یہ پیمائش کے دقیق ہونے کی حد (precision) کے بارے میں غلط تصور پیدا کرے گا۔ 
              کسی بھی عدد میں بامعنی ہندسوں کی تعدادمعلوم کرنے کے قاعدے درج ذیل مثالوں سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ بامعنی ہندسے کسی پیمائش کی دقیق ہونے کی حد (باریکی) کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیمائشی آلے کے کم ترین شمار(least count) پر منحصر ہوتی ہے۔

 کسی پیمائش میں مختلف اکائیوں کے انتخاب سے بھی بامعنی ہندسوں کی تعداد تبدیل نہیں ہوتی ۔

 یہ اہم تبصرہ درج اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔

(1) مثال کے لیے، لمبائی Pic58 Ch2, Page17 میں چار بامعنی ہندسے ہیں۔ لیکن مختلف اکائیوں میں اس قدر کو علی الترتیبPic59 Ch2, Page17یاPic60 Ch2, Page17لکھا جاسکتا ہے۔
              ان سبھی اعداد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد چار ہے (ہندسے 8, 0, 3, 2)۔ یہ ظاہر ہے کہ اعشاری نقطہ کے مقام کی بامعنی ہندسوں کی تعداد کے تعین میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ درج بالا مثال درج ذیل اصول فراہم کرتی ہے :
  • سبھی غیر صفر ہندسے بامعنی ہیں۔
  • کن ہی دو غیر صفر ہندسوں کے درمیان سبھی صفر بامعنی ہندسے ہیں چاہے اعشاریہ نقطہ کا کوئی بھی مقام ہو اور چاہے اعشاریہ نقطہ ہو یا نہ ہو۔
  • اگر کوئی عدد 1 سے چھوٹا ہو تو اعشاریہ نقطہ کے دا ہنی جانب کے صفر جو پہلے غیر صفر ہندسے کے بائیں جانب ہیں، بامعنی ہندسے نہیں ہوتے ہیں۔[0.002308 میں خط کشیدہ صفر بامعنی ہندسے نہیں ہیں]۔
  • کسی بھی ایسے عدد میں جس میں اعشاریہ نقطہ ہو، پس رو صفر بامعنی ہندسے نہیں ہوتے ہیں۔
[اس طرح 123mm=12300cm=123000 میں تین بامعنی ہندسے ہیں۔ پس رو صفر بامعنی ہندسے نہیں ہیں۔ پھر بھی آپ اگلے اصول کو دیکھ سکتے ہیں]۔
  • کسی بھی عدد میں جس میں اعشاری نقطہ ہو، پس رو صفر بامعنی ہندسے ہوتے ہیں۔ ⌊جیسے اعداد 3.500 یا 0.06900 میں چار بامعنی ہندسے ہیں۔
[جیسے اعداد 3.500 یا 0.06900 میں چار با معنیٰ ہند سے ہیں]
(2)  پس رو صفر بامعنی ہندسے ہیں یا نہیں اس بارے میں غلط فہمی ہوسکتی ہے۔ مان لیجیے کسی شے کی لمبائی4.700mلکھی گئی ہے۔ اس مشاہدہ سے ظاہر ہے کہ یہاں صفر کا مقصد پیمائش کی درستگی ظاہر کرتا ہے لہٰذا یہاں یہ صفر بامعنی ہندسے ہیں۔ [اگر یہ صفر با معنی ہندسے نہیں ہیں تو ان صفروں کو صاف طورپر لکھنا غیر ضروری ہے اور لکھی گئی پیمائش کو ہم4.7m لکھ سکتے ہیں]۔ اب اگر ہم اکائیوں میں تبدیلی کرتے ہیں تب،
4.700 m = 470.0 cm = 4700 mm = 0.004700 km
     کیونکہ آخری سے پہلے والے عدد میں پس رو صفر بغیر اعشاریہ ہیں، یہاں ہم اوپر دیے گئے اصول (1) کی بنیادپر، اعداد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد  دو بتائیں گے جب کہ اصل میں اس عدد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد 4ہے اور اکائیوں میں محض تبدیلی کردینے سے ہی کسی عدد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے۔

       (3)  بامعنی ہندسوں کے اعداد کے تعین میں اوپر بتائے گئے ابہام کو دور کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے کہ ہر ایک پیمائش کو سائنسی ترقیم (10 کی قوت) میں لکھا جائے۔ اس ترقیم میں ہر ایک عدد کو a× 10b کے طورپر ظاہر کیا جاتا ہے جہاں

1،a

سے 10 کے درمیان کوئی عدد ہے اور

10,b

کا کوئی بھی مثبت یا منفی قوت نما (exponent) ہے۔عدد کاایک تقربی تصور حاصل کرنے کے لیے، ہم عدد aکو 1(a<5 کے لیے) یا 

10 (10›a<5)

 کی تقریبی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔اس طرح عدد کو تقریبی شکل میں  10b کی صورت میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جس میں 10 کا قوت نما b،اس طبعی مقدار کا، عددی قدر کا درجہ (order of magnitude)کہلاتا ہے۔ جب صرف ایک تخمینہ درکار ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مقدار 10b کے درجہ کی ہے۔ مثلاً، زمین کا قطر

(107m،(1.28×107m)

کے درجہ کاہے، جس میں عددی قدر کا درجہ7ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم کا قطر(1.06×10-10m)، 10-10m کے درجہ کاہے، جس میں عددی قدر کا درجہ –10ہے۔ زمین کا قطر، ہائیڈرجن ایٹم کے قطر سے 17عددی قدر کے درجے زیادہ ہے۔

عام طورپر کسی بھی عدد میں اعشاریہ پہلے ہندسے کے بعد لکھا جاتا ہے جس سے اوپر بیان کیے گئے ابہام دور ہوجاتے ہیں:

4.700 m = 4.700 × 102 cm = 4.700 × 103 mm

= 4.700 × 10-3 km  

       یہاں بامعنی ہندسوں کے تعین میں 10 کا پاور غیر اہم ہے۔ تاہم سائنسی ترقیم میں اساسی یا بنیادی عدد میں آنے والے سبھی صفر با معنی ہندسے ہیں۔ لہٰذا اوپر لکھے گئے اعداد میں سے ہر ایک عدد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد چار ہے۔
اس طرح سائنسی ترقیم میں بنیادی عدد a میں پس رو صفر کے بارے میں کوئی ابہام پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ وہ ہمیشہ با معنی ہندسے ہیں۔
     (4)  کسی بھی پیمائش کی رپورٹ کرنے میں سائنسی ترقیم ایک مثالی طریقہ ہے۔ لیکن اگر یہ طریقہ نہیں اپنایا جاتا ہے تو پہلی والی مثال میں اپنائے گئے اصول کو اپناتے ہیں:

  • اگر دیے ہوئے بغیر اعشاریہ کے عدد 1 سے بڑے ہیں تو پس رو صفر با معنی ہندسے نہیں ہیں۔
  •   اعشاریہ والے عدد میں پس رو صفر بامعنی ہندسے ہیں۔
  •         (5)  کسی 1 سے چھوٹے عدد (جیسے 0.1250) میں اعشاریہ سے پہلے لکھا جانے والا صفر کبھی بھی بامعنی ہندسہ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم کسی پیمائش میں ایسے اعداد کے آخر میں آنے والے صفر بامعنی ہندسے ہوتے ہیں۔
           (6)  ضرب تقسیم کرنے والے ایسے جزء ضربی جو نہ تو تقریبی عدد ہیں اورنہ ہی پیمائش کی گئی قدروں کو ظاہر کرنے والے عدد ہیں، قطعی (بالکل درست) ہوتے ہیں اور ان کے بامعنی ہندسوں کی تعداد لامتناہی ہے۔مثلاً، r=d/2 یاs=228r  میں، جزء ضربی 2ایک قطعی عدد (exact number)ہے اور اسے‘ ضرورت کے مطابق‘
    2.00،2.0

     یا  2.0000 لکھا جاسکتا ہے۔اسی طرحPic65 Ch2, Page18میں، nایک قطعی عدد ہے۔

    2.7.1   بامعنی اعداد کے ساتھ حسابی عمل کے لیے اصول

    (Rules for Arithmetic operation with significant figures)

                کسی تحسیب کا نتیجہ جس میں مقداروں کی تقریبی پیمائش کی گئی قدریں شامل ہیں (یعنی وہ قدر جن میں بامعنی ہندسوں کے اعداد محدود ہیں) اسے اصلیت میں پیمائش کی گئی قدروں کی عدم یقینی دکھانی چاہیے۔ یہ تحسیبی نتیجہ پیمائش کی گئی ان قدروں سے جن پر نتیجہ مبنی ہے، زیادہ درست نہیں ہوسکتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی نتیجے میں بامعنی ہندسوں کی تعداد، بنیادی اعدادوشمار جن سے یہ حاصل کیا گیا ہے، سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی شے کی پیمائش کی گئی کمیت، مان لیا کہ 4.237g (چار بامعنی ہندسے) اور اس کے پیمائش کیے گئے حجم کی قد2.51cm3رہو تو محض حسابی تقسیم کے ذریعہ اس کی کثافت1.68804780876g⁄cm3ہوگی۔ یہاں کثافت کی اس قدرکو اتنی دقیق شکل میں (precision) لکھنا پوری طرح غیر متعلق یا بے محل ہوگاکیونکہ پیمائشیں جن پر کثافت کی قدر مبنی ہے، وہ اس کے مقابلے میں بہت کم دقیق ہیں۔ با معنی ہندسوں کے ساتھ حسابی عمل کے لیے مندرجہ ذیل اصول اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کسی تحسیب کا آخری نتیجہ اتنا ہی دقیق ہو جتنی درآمد (input) دقیق ہیں، یعنی کہ، دونوں میں ہم آہنگی ہو۔
    (1)   اعداد کے ضرب یا تقسیم کرنے سے حاصل نتیجے میں صرف اتنے ہی با معنی ہندسے رکھنے چاہییں جتنے کہ سب سے کم بامعنی اعداد والے بنیادی عدد میں ہیں۔
    لہٰذا مذکورہ بالا مثال میں کثافت کو تین بامعنی ہندسوں تک ہی لکھا جانا چاہیے۔
    29 کثافت
    اسی طرح اگر روشنی کی چال
     3×108m⁄s
      (ایک با معنیٰ ہند سے)
    30 اور ایک سال
    میں 31
    (پانچ ہند سے) ہیں تو ایک نوری سال میں 32
    (تین با معنیٰ ہند سے) ہونگے۔

    (2)  اعداد کے جوڑنے یا تفریق کرنے سے حاصل آخری نتیجے میں اعشاریہ کے بعد اتنے ہی بامعنی ہندسے رکھنے چاہیئں جتنے کہ جوڑی یا تفریق کی جانے والی مقداروں سے اس عدد میں ہوں جس میں اعشاریہ کے سب سے کم مقام ہیں۔

    مثال کے طور پر اعداد 436.32 g   227.2 g, اور 0.301 g کا حاصل جمع 663.821 g ہے۔ لیکن کم سے کم دقیق پیمائش (227.2 g) اعشاریہ کے صرف ایک مقام تک ہی درست ہے۔ لہٰذا آخری نتیجے کو 663.8 g تک پورا درج کیا جانا چاہیے۔
    اسی طرح لمبائیوں میں فرق کو درج ذیل طرح سے ظاہر کرسکتے ہیں۔
    0.307 m - 0.304 m = 0.003 m = 3 × 10-3 m
    خیال رہے کہ ہمیں اصول (1) جو ضرب اور تقسیم کے لیے لاگو ہوتا ہے اسے جمع کی مثال میں استعمال کرکے 
    664g
     اور تفریق کی مثال میں بھی 
    3.00×10-3m
    نہیں لکھنا چاہیے۔ 
     یہ پیمائش کتنی دقیق ہے اسے ٹھیک طر ح سے ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ جوڑنے اور تفریق کرنے کے لیے اصول اعشاریہ کے مقام کی اصطلاح میں ظاہر کیاجاتا ہے۔

    2.7.2  غیر یقینی ہندسوں کی قریبی قدر لینا

    (Rounding off the Uncertain Digits)

    اعداد، جن میں ایک سے زیادہ غیر یقینی ہندسے ہوتے ہیں، کی تحسیب کے نتیجہ کو قریب تر کیا جانا چاہیے۔ اعداد کے موزوں با معنی ہندسوں تک قریب تر کرنے کے لیے اصول زیادہ ترحالات میں واضح ہیں۔ عدد 2.746 کو تین بامعنی ہندسوں تک قریب ترکرکے 2.75 لکھتے ہیں جب کہ عدد 2.743 کو 2.74 لکھا جائے گا۔ قراردادکے مطابق اصول یہ ہے۔

    اگر بے معنی ہندسے (اس معاملے میں کشیدہ خط ہندسہ) 5 سے زیادہ ہے تو اس سے پہلے والے ہندسے میں 1 کا اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر بے معنی ہندسے 5 سے کم ہوتے ہیں تو پیش رو ہندسہ غیر تبدیل رکھا جاتا ہے۔

    لیکن اگر کسی عدد جیسے 2.745 میں بے معنی ہندسہ 5 ہے، تو روایت کے مطابق 

    اگر پیش رو ہندسہ جفت (even)ہے تو بے معنی ہندسے کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اگر یہ طاق(odd)  ہے تو پیش رو ہندسے میں 1 کا اضافہ کردیتے ہیں۔

    تب عدد 2.745 کو تین بامعنی ہندسوں تک قریب تر کرنے پر 2.74 حاصل ہوگا۔ دوسری طرف عدد 2.735کوتین بامعنی ہندسوں تک قریب ترکرنے کے بعد 2.74 حاصل ہوتا ہے کیونکہ پیش رو ہندسہ طاق ہے۔
             کسی بھی کثیراقدامات پرمشتمل پیچیدہ تحسیب میں، درمیانی اقدامات میں بامعنی ہندسوں سے ایک زیادہ  ہندسہ رکھنا چاہیے اورتحسیب کے آخر میں مناسب بامعنی ہندسوں تک قریب ترکردینا چاہیے۔ اسی طرح روشنی کی خلا میں چال جوکئی بامعنی ہندسوں تک معلوم ہے-
    جیسے
    2.99792458×108m⁄s
    کو ایک تقریبی قدر
    3×108m⁄s
     تک قریب کردیتے ہیں جسے اکثر تحسیب میں استعمال کرتے ہیں۔ آخر میں خیال رکھیں کہ فارمولوں میں جو قطعی اعداد(exact numbers) آتے ہیں جیسے 33میں34بامعنی ہندسوں کی تعداد بہت زیادہ (لامتناہی) ہے۔35کی قدر
    (3.1415926...)
     لامحدود بامعنی ہندسوں تک معلوم ہے لیکن ہم پیمائش کی گئی مقدار میں بامعنی ہندسوں کی بنیاد پر 35 کی قدر 3.142 یا 3.14 بھی لے سکتے ہیں۔

    مثال 2.13کسی  مکعب  کے  ہر  ایک  بازو  کی  پیمائش 7.203mکی گئی ہے۔ موزوں بامعنی ہندسوں تک مکعب کا کل سطح رقبہ اور حجم کیا ہے؟

    جواب پیمائش کی گئی لمبائی میں بامعنی ہندسوں کی تعداد 4ہے۔ اس لیے تحسیب کیے گئے رقبے اور حجم کی قدر کو بھی 4بامعنی ہندسوں تک قریب تر کردیا جانا چاہیے۔
    36مکعب کاسطح رقبہ
    37مکعب کاحجم

    مثال 2.14کسی شے کے 5.74gکا حجم1.2cm3ہے۔اس کی کثافت کو بامعنی ہندسوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ظاہر کیجیے۔

    جواب کمیت میں 3بامعنی ہندسے ہیں جب کہ حجم میں صرف 2بامعنی ہندسے ہیں۔ اس لیے کثافت کو صرف 2بامعنی ہندسوں تک ظاہر کیا جانا چاہیے۔

     = 5.74/1.2 g cm- کثافت 
    = 4.8 g cm-3          

    2.7.3 حسابی عملیات کے نتائج میں عدم یقینی کے تعین کے لیے اصول

    (Rules for determining the uncertainty in the results of Arithmetic operations)

     حسابی عملیات میں اعداد کی عدم یقینی کے تعین کے اصول مندرجہ ذیل مثالوں سے سمجھے جاسکتے ہیں۔
     (1)  اگر کسی پتلی مستطیل نما شیٹ کی لمبائی اور چوڑائی  بالترتیبPic77 Ch2, Page20 اورPic78 Ch2, Page20پیمائش کی گئی ہے جس میں ہر ایک پیمائش میں تین بامعنی ہندسے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حقیقی لمبائی lاور چوڑائی bکو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے۔
    l = 16.2 + 0.1 cm
                 = 16.2 cm + 0.6%            
           
    اسی طرح چوڑائی bکو لکھا جاسکتا ہے:
    b = 10.1 + 0.1cm
                      = 10.1 cm + 1%              
    دو (یادو سے زیادہ) تجرباتی قدروں کے حاصل ضرب میں سہو، سہوکے اجتماع کا قاعدہ استعمال کرتے ہوئے، ہوگا 
    l b = 163.62 cm2 + 1.6%
    = 163.62 cm2 + 2.6% cm
    لہٰذا آخری نتیجہ ہوگا
    lb = 164 + 3 cm2             
    یہاں،Pic79 Ch2, Page20مستطیل نما شیٹ کے رقبے کے تخمینہ میں عدم یقینی یا سہو ہے۔

    (2)   اگر کسی تجرباتی اعداد وشمار کے مجموعے میں n بامعنی ہندسے متعین ہیں تو اعدادوشمار کے اجتماع سے حاصل نتیجہ بھی n با معنی ہندسوں تک جائز ہوگا۔

    تاہم، اگر اعداد نفی کیے جاتے ہیں تو بامعنی ہندسوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔
     مثال کے لیے،Pic80 Ch2, Page21 دونوں تین بامعنی ہندسوں تک مخصوص ہیں لیکن ان کے فرق کوPic81 Ch2, Page21نہیں لکھا جاسکتا بلکہ صرفPic82 Ch2, Page21لکھا جاسکتا ہے کیونکہ تفریق یا جوڑنے میں عدم یقینی کا اجتماع مختلف طریقے سے ہوتا ہے (کسی جمع کیے جانے والے یا تفریق کیے جانے والے اعداد میں کم سے کم بامعنی ہندسوں کی تعداد کی جگہ  ان میں اعشاریہ کے بعد کم سے کم بامعنی ہندسوں کی تعداد کی بنیاد پر)۔

    (3)  ایک عدد، جس میں بامعنی ہندسوں کی تعداد 'n'متعین ہو، اس کا نسبتی سہو نہ صرف nکے بلکہ خود عدد کے بھی تابع ہوتا ہے۔

    مثال کے لیے،1.02g کی کمیت کی پیمائش میں درستگیg10.0+کی ہے جب کہ دوسری پیمائش 9.89g بھی +0.01g تک درست ہے۔

    لہٰذاPic86 Ch2, Page21 میں کسری سہو ہے:
    =  (+ 0.01/1.02) × 100%
    =  + 1%                                         
    دوسری طرف 9.89g میں کسری سہو ہے:
    =  (+ 0.005/9.89) × 100%
    = + 0.1%                                        
    آخر میں خیال رہے کہ متعددا قدام ہرمشتمل تحسیب میں درمیانی نتائج کی تحسیب اس میں شامل پیمانوں میں کم سے کم دقیق پیمائشی ہندسوں کی تعداد کی نسبت ایک زائد بامعنی ہندسے تک کی جانی چاہیے۔ پہلے یہ آنکڑوں کے ذریعہ توجیہہ کرلی جانی چاہیے اور تب ہی حسابی عملیات کو پورا کرسکتے ہیں ورنہ قریبی سہو (rounding error)ہوسکتا ہے۔ مثال کے لیے، 9.58 کے مقلوب کی اگر یکساں (اس صورت میں تین)بامعنی ہندسوں تک تحسیب کی جائے اور پھر تقریبی عدد حاصل کیا جائے تو وہ عدد 0.104ہے۔ لیکن تین بامعنی ہندسوں تک تحسیب کیا گیا 0.104کا مقلوب 9.62ہے۔لیکن اگر ہم نےPic88 Ch2, Page21لکھا  ہوتا اور پھر0.1044 کا مقلوب تین بامعنی ہندسوں تک تحسیب کرتے تو ہمیں اصل قدر9.58دوبارہ حاصل ہوجاتی۔
    مذکورہ بالا مثال پیچیدہ متعددقدم پرمشتمل تحسیب میں درمیانی قدموں میں ایک زاید ہندسہ(کم سے کم دقیق پیمائش میں ہندسوں کی تعدادکی نسبت)رکھنے کے تصور کا جوازپیش کرتی ہے جس سے کہ اعداد کوقریب ترکرنے کے عمل میں اس مزیدسہو سے بچا جاسکے۔

    2.8  طبیعی مقداروں کے ابعاد  

      (DIMENSIONS OFPHYSICAL QUANTITIES) 

    کسی بھی طبیعی مقدار کی طبع کوبیان کرنے کے لیے اس کے ابعاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماخوذ اکائیوں کے ذریعے ظاہر کی جانے والی سب ہی طبعی مقداریں سات بنیادی یا اساسی مقداروں کے کسی اجتماع کی شکل میں ظاہر کی جاسکتی ہیں۔ ہم ان سات طبیعی مقداروں کو طبیعی دنیا کے سات ابعاد کہتے ہیں، جنہیں مربع بریکٹ [    ] میں ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح لمبائی کا بعُد[L]،کمیت کا[M]  ، وقت کا [T]، برقی رو کا [A]، حرحرکیاتی درجۂ حرارت کا[K] ، درخشانی شدت کا [cd] اور شے کی مقدارکا [mol] ہیں۔ 

    کسی طبیعی مقدار کے ابعاد ان  قوت نماؤں کو کہتے ہیں جنہیں اس مقدار کی اکائی کو ظاہر کرنے کے لیے بنیادی مقداروں پر چڑھاتے ہیں۔

    غور کیجیے کہ کسی مقدار کو مربع بریکٹ [    ] میں رکھنے سے مراد ہے کہ ہم اس مقدار کے ابعاد سے متعلق عمل کررہے ہیں۔
           میکانیات میں سبھی طبیعی مقداروں کے ابعاد [M] ،  [L]،  اور [T] کی اصطلاح میں ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے لیے کسی شے کے ذریعہ گھیرے گئے حجم کو اس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی یا تین لمبائیوں کے حاصل ضرب کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا حجم کے ابعاد [L] x [L] x [L] = [L]3 = [L3] ہیں۔ چونکہ حجم، کمیت اور وقت پر منحصر نہیں ہوتا ہے-
     لہٰذا یہ کہاجاسکتاہے کہ اس کی کمیت،کا بعد صفر:[Mo]، اس کے وقت کا بُعد صفر:[To]اور لمبائی کے ابعاد تین [L3] ہیں۔
     اس طرح، قوت، جو کمیت اور اسراع (acceleration)کا حاصل ضرب ہے، کے ابعاد کو اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔
    اسراع×کمیت= قوت 
    38
    قوت کے ابعاد ہیں: 39

    اس طرح قوت میں کمیت کا 1 بعد، لمبائی کا 1بعد اور وقت کے (_2) ابعاد ہیں۔ دیگر سبھی بنیادی مقداروں کے ابعاد صفر ہیں۔
            غور کریں کہ اس طرح کے اظہار میں مقداروں کی عددی قدروں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس میں طبیعی مقدار کی خاصیت کی قسم کو شامل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں رفتار میں تبدیلی، ابتدائی رفتار، اوسط رفتار، آخری رفتار اور چال سبھی مترادف ہیں۔ کیونکہ یہ سبھی مقداریںPic90 Ch2, Page22کی اصطلاح میں ظاہر کی جاسکتی ہیں، لہٰذا ان کے ابعادPic91 Ch2, Page22ہیں۔

    2.9    ابعادی فارمولے اور ابعادی مساواتیں

    (DIMENSIONAL FORMULAE AND DIMENSIONAL EQUATIONS)

    کسی دی ہوئی طبیعی مقدار کا    ابعادی فارمولا  (dimensional  formula) وہ اظہار ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ کسی طبیعی مقدار کے ابعاد کی کون کون سی بنیادی مقداریں اور کس طرح نمائندگی کررہی ہیں۔ مثال کے لیے حجم ،چال یا رفتار، اسراع اور کمیت– کثافت کے ابعادی فارمولے بالترتیب [M1 L-3 To],[Mo LT-2],[Mo LT-2],[Mo L3 To] ہیں۔

           وہ مساوات جو طبیعی مقدار کو اس کے ابعادی فارمولے سے مساوی کرنے پر حاصل ہوتی ہے اس طبیعی مقدار کی ابعادی مساوات (dimensional equation)کہلاتی ہے۔ لہٰذا ابعادی مساوات وہ مساوات ہیں جو کسی طبیعی مقدار کے ابعاد کو بنیادی مقداروں کی شکل میں ظاہرکرتی ہیں۔ مثال کے لیے، حجم [V] ،چال [v] ،قوت [F] اور کمیت کثافت [ρ] کی ابعادی مساواتیں درج ذیل طور پر ظاہر کی جاسکتی ہیں۔
    [V]  =  [Mo L3 To]
        [v]  =  [Mo LT-1
               [F]  =  [MLT-2]
        [ρ]  =  [M L-3 To]
               ابعادی مساوات طبیعی مقداروں کے درمیان رشتوں کی نمائندگی کرنے والی مساوات سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ بہت ساری اور طرح طرح کی طبیعی مقداروں کے ابعادی فارمولے جو دیگر مقداروں کے درمیان رشتوں کی نمائندگی کرنے والی مساواتوں سے اخذ کیے گئے ہیں اور بنیادی مقداروں کی اصطلاح میں ظاہر کیے گئے ہیں، آپ کی رہنمائی اور فوری حوالے کے لیے ضمیمہ 9 میں دیے گئے ہیں۔

    2.10    ابعادی تجزیہ اور اس کا اطلاق (استعمال)

    (DIMENSIONAL ANALYSIS AND ITS APPLICATIONS)

    ابعاد کے تصورات کو پہچاننا جو ابعاد کے طبیعی برتاؤ کے بیان کی رہنمائی کرتا ہے، بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ صرف ایک یکساں ابعاد  والی طبیعی مقداریں جمع یا نفی کی جاسکتی ہیں۔ ابعادی تجزیہ کا تفصیلی علم بعض طبیعی مقداروں کے درمیان متعین رشتوں کے استخراج (deducing) میں مدد کرتا ہے اور مختلف حسابی عبارتوں کے اشتقاق، صحت و درستی اور ابعادی ہم اہنگی یا متجانس ہونے کی جانچ کرنے میں مدد گار ہے۔ جب دو یا زیادہ طبیعی مقداروں کی عددی قدروں کو ضرب کیا جاتا ہے تو ان کی اکائیوں کو عام الجبرا کی علامتوں کی طرح استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہم شمار کنندہ اور نسب نما میں مماثل اکائیوں کو رد کرسکتے ہیں۔ یہ اصول کسی طبیعی مقدار کی ابعادوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ اسی طرح کسی ریاضیاتی مساوات کے دونوں جانب علامتوں کے ذریعہ نمائندگی کی گئی طبیعی مقداروں کے ابعاد یکساں ہونا چاہیں۔

     2.10.1   مساواتوں کی ابعادی ہم آہنگی کی جانچ

    (Checking the Dimensional Consistency of  Equations)

    کسی بھی طبیعی مقداروں کی قدریں تبھی جمع یا تفریق کی جاسکتی ہیں اگر ان کے ابعاد یکساں ہوں۔ یعنی ہم صرف یکساں طبیعی مقداروں کو ہی جمع یا نفی کر سکتے ہیں۔ اس طرح رفتار کو قوت کے ساتھ یا برقی رو کو درجہ حرارت سے جوڑا یا نفی  نہیں کیا جاسکتا۔ اس سہل اصول کو ابعاد کی متجانسیت کا اصول (the principle of homogeneity of dimensions)کہا جاتاہے۔ لہٰذا کسی مساوات کی درستگی کی جانچ کے لیے اس مساوات میں ابعاد کی متجانسیت کا اصول نہایت مفید ہے۔اگر کسی مساوات میں سارے ارکان (terms) یکساں ابعاد کے نہیں ہیں تو مساوات غلط ہے۔ لہٰذااس طرح جب ہم کسی شے کی لمبائی (یا دوری) کی عبارت اخذکرتے ہیں تو ریاضی کے شروعاتی رشتے میں آنے والی علامتوں کو ذہن میں رکھے بغیر، جب سبھی ابعادکو سادہ بنایا جاتا ہے توسہل کرنے  کے بعد حاصل ابعاد ، لمبائی کے ابعاد ہی ہونا چاہئیے۔ اسی طرح اگر ہم چال (speed) کی مساوات اخذ کرتے ہیں تو مساوات کے دونوں جانب کی ابعاد سہل کرنے  کے بعد،Pic92 Ch2, Page23 ہی ہونا چاہئیں۔
              اگر کسی مساوات کے صحیح ہونے میں شبہہ ہوتو ابعادی طریقہ (dimensional method) اس مساوات کی ہم آہنگی کی جانچ کے لیے ایک ابتدائی جانچ ہے لیکن ابعادی ہم آہنگی کسی مساوات کے صحیح ہونے کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ غیر ابعادی مقداروں یا تفاعلوں کی حدتک غیر یقینی ہے۔ ٹرگنومیٹریائی(trigonometric)، لوگارتمی اور قوت نمائی (exponential) وغیرہ جیسے مخصوص تفاعلات (functions) کے حامل زاویہ یقینی طورپرغیرابعادی ہونے چاہیے۔ اسی طرح خالص عدد ،یکساں طبیعی مقداروں کی نسبت جیسے زاویے، تناسب (لمبائی/ لمبائی)، انعطاف اشاریہ(:refractive index) Pic93 Ch2, Page23وغیرہ غیر ابعادی ہیں۔
    آئیے ہم درج ذیل مساوات کی ابعادی ہم آہنگی یا متجانسیت کی جانچ کریں-
    Pic94 Ch2, Page23
             جہاں کسی شے یا ذرے کے ذریعہ t وقت میں چلی گئی دوری x ہے جو t = o وقت پرx0  کے مقام سے ابتدائی رفتار v0 سے حرکت کی سمت میں یکساں اسراعa سے چلنا شروع کرتی ہے۔دونوں جانب کے رکن کے ابعاد اس طرح ہیں۔
    [x] = [L]         
    [x0 ] = [L]           
    [v0 t] = [L T-1]  [T] 
                         = [L]                  
         [1/2 a t2] = [L T-2] [T2
                         = [L]                

    کیونکہ اس مساوات میں دائیں جانب کے رکن کے ابعاد لمبائی کے ابعاد ہیں جو بائیں جانب کے رکن کے ابعادہیں لہٰذا ابعادی طورپر یہ مساوات صحیح ہے۔
             یہاں یہ غور کرنے کی بات ہے کہ ابعاد کی ہم آہنگی کی جانچ اکائیوں کی ہم آہنگی جانچ کے علاوہ کچھ نہیں بتاتی ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم کسی مخصوص اکائی کے انتخاب کے لیے مجبور نہیں ہیں اور نہ ہمیں اکائیوں کے اضعاف اور اجزائے ضربی (factor multiple)  کے درمیان بدل کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ

     اگر کوئی مساوات اس ہم آہنگی کی جانچ میں کھری نہیں اُترتی ہے تو وہ غلط ثابت ہوجاتی ہے، لیکن اگر وہ جانچ میں کھری اُترتی ہے تو اس سے وہ صحیح ثابت نہیں ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کوئی ابعادی طورپر صحیح مساوات لازمی طورپر درست مساوات نہیں ہوتی جب کہ ابعادی طورپر غیر ہم آہنگ مساوات غلط ہوتی ہے۔

        مثال 2.15  اس مساوات پر غور کرتے ہیں                                                           Pic95 Ch2, Page24                                                           جہاںmشے کی کمیت ہے،vاس کی رفتارہے،gارضی کشش کےسبب اسراع ہے اورhاونچائی ہے۔یہ پتہ لگائیےکہ کیا یہ مساوات ابعادی طورپردرست ہے۔


    جواب   LHS (بائیں جانب) کے ابعاد ہیں
    [M] [LT-1]2 [L]= [M][L2 T-2]
    = [ML2 T-2]   
    RHS (دائیں جانب) کے ابعاد ہیں                    
    [M] [LT-2] [L] = [M][L2 T-2]
    = [ML2 T-2]   
    دونوں جانب کی ابعاد یکساں ہیں اور اس لیے ابعادی طورپر مساوات صحیح ہے۔

    مثال2.16توانائی کی SI اکائی J = kg m2 s-2،چالvکms-1اوراسراع α کیms-2 ہے۔نیچے دیے  گئے حرکی توانائی(K.E)کے فارمولوں میں سے آپکس کوابعادی دلیلوں کے ذریعہ غلط بتائیں گے (m شے کی کمیت ہے)؟
    a)                K = m2 v3)
    b)                K = (1/2) mv2)
    c)                K = m a)
    d)                K = (3/16) mv2)
    e)               K = (1/2) mv2 + m a)

    جواب  

    ہر صحیح فارمولے یا مساوات کے دونوں جانب کے ابعادیکساں ہونے چاہئیں اور پھر صرف انہیں مقداروں کو جوڑا یا نفی کیاجاسکتا ہے جن کے طبیعی ابعاد یکساں ہوتے ہیں۔ دائیں جانب کی مقدار کے ابعاد (a) کے لیے [M2 L3 T-3]، (b) اور (d) کے لیے [ML2 T-2]، (c) کے لیے [MLT-2] ہیں۔ مساوات (e) کے دائیں جانب کے کوئی مناسب ابعاد نہیں ہیں کیونکہ اس میں مختلف ابعاد کی دو مقداروں کو جوڑا گیا ہے۔ چونکہ K کے ابعاد ہیں [ML2 T-2] اس لیے فارمولا (a)، (c) اور (e) غلط ہیں۔
    یہ نوٹ کیجیے کہ ابعادی دلیلوں سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ (b) یا (d) میں کون سا فارمولا صحیح ہے۔ اس کے لیے حرکی توانائی کی حقیقی تعریف کو دیکھنا پڑے گا (باب 6 دیکھیں) ۔ حرکی توانائی کے لیے صحیح فارمولا (b) میں دیا گیا ہے۔

    2.10.2  طبیعی مقداروں کے درمیان رشتہ اخذ کرنا

    (Deducing Relation among the Physical Quantities)

    کبھی کبھی ابعادی طریقہ طبیعی مقداروں کے درمیان رشتہ اخذ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دی ہوئی طبیعی مقدار کن کن مقداروں کے تابع ہے۔ آئیے، ہم درج ذیل مثال پر غور کریں۔


    مثال 2.17 کسی سادہ پینڈولم پر غور کیجیے۔ فرض کیجیے کہ سادہ پینڈولم کے اہتزاز کا دوراس کی لمبائی ، باب کی کمیت اور ارضی کشش کے اسراع کے تابع ہوتا ہے۔ اس کے اہتزاز کے دورکے لیے ریاضیائی عبارت، ابعاد کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے، حاصل کیجیے

    جواب 

    اگردوری وقت Tکےg ،1 اور mکے حاصل ضرب کے تابع ہونے کو مندرجہ ذیل طور پر لکھا جاسکتا ہے:
    T = k lx gy mz
    جہاں kایک غیرابعادی مستقلہ ہے اور x،yاور– z قوت نما ہیں۔ دونوں طرف ابعاد ملاحظہ کرتے ہوئے، ہمیں حاصل ہوتا ہے:
    [Lo Mo T1] = [L1]x [LT-2]y [M1]2
    = Lx+y T-2y  M–z
    دونوں طرف ابعاد مساوی کرتے ہوئے؛ ہمیں حاصل ہوتا ہے:
    40
    اس طرح 
                              41
                                       اور
                                     z = o
    تب،
                               43
                                       یا
                                 44 

    نوٹ کریں کہ، مستقلہ kکی قدر ابعادی طریقے سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔اگر اس فارمولے کی دائیں سمت کو کسی بھی عدد سے ضرب کردیا جائے تو یہاں کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اس سے ابعاد متاثر نہیں ہوتے۔دراصل،
    Pic97 Ch2, Page25
    ایسی طبعی مقداریں، جو ایک دوسرے کے تابع ہوں، ان کے درمیان رشتہ حاصل کرنے کے لیے ابعادی طریقہ ایک کارآمد ذریعہ ہے۔لیکن اس طریقے سے غیرابعادی مستقلے نہیں حاصل کیے جاسکتے۔ ابعادی طریقہ مساوات میں صرف ابعادی درستی کی جانچ کرسکتا ہے لیکن اس کے ذریعے مساوات میں شامل طبیعی مقداروں کا قطعی رشتہ نہیں حاصل کیا جاسکتا۔ یہ یکساں ابعاد والی طبیعی مقداروں میں فرق نہیں کرسکتا۔
    اس باب کے آخر میں دیے گئے کئی مشقی سوالات، ابعادی تجزیہ میں مہارت پیدا کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

    خلاصہ

    علم طبیعیات، طبیعی مقداروں کی پیمائش پر مبنی ایک مقداری سائنس ہے۔ کچھ مخصوص طبیعی مقداروں کو  [لمبائی، کمیت، وقت، برقی رو،حرحرکیاتی درجہ حرارت، شے کی مقدار اور درخشاں شدت (luminous intensity) ]بنیادی یا اساسی مقداروں کے بہ طورمنتخب کیا گیاہے۔
    ہر ایک بنیادی مقدار کی تعریف کسی بنیادی معیاری حوالہ کی اصطلاح میں کی گئی ہے۔ جسے اختیاری طورپر منتخب لیکن مناسب طورپر معیار بند کیا گیا ہے۔ یہ معیاری حوالہ اکائی ہوتی ہیں (جیسے میٹر، کلوگرام، سیکنڈ، ایمپیر، کیلون، مول اور کینڈیلا)۔ بنیادی مقداروں کے لیے منتخب کی گئی اکائیوں کو بنیادی اکائی کہا جاتا ہے۔ 
    بنیادی مقداروں سے ماخوذ دیگر طبیعی مقداروں کو بنیادی اکائیوں کے مجموعے کے طورپر ظاہر کرسکتے ہیں جنہیں ماخوذ اکائی کہا جاتا ہے۔ بنیادی اور ماخوذ دونوں اکائیوں کے مکمل سیٹ کو اکائیوں کا نظام کہا جاتا ہے۔
    سات بنیادی اکائیوں پر مبنی اکائیوں کا بین الاقوامی نظام (SI) آج کل بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ نظام ہے۔ یہ نظام پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتاہے۔
    بنیادی مقداروں اور ماخوذ مقداروں سے حاصل سبھی طبیعی پیمائشوں میں SI اکائیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ ماخوذ اکائیوں کو SI اکائیوں کے ذریعے خصوصی ناموں (جیسے جول، نیوٹن، واٹ وغیرہ) سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
    SI اکائیوں کی معین (well defined)اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اکائی علامات ہیں جیسے میٹر کے لیے m، کلوگرام کے لیے kg، سیکنڈکے لیے s، ایمپیر کے لیے A، نیوٹن کے لیے N وغیرہ۔
    اکثر چھوٹی وبڑی مقداروں کی طبیعی پیمائشوں کو سائنسی ترقیم میں 10 کی قوت کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ پیمائش کی علامتوں اور ہندسی تحسیب کی آسانی کے لیے سائنسی  علامتوں اور سابقوں (prefixes) کا
      استعمال کیا جاتا ہے، جن سے یہ نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ اعداد کتنے دقیق ہیں۔
    طبیعی مقداروں کی ترقیم، SI اکائیوں اور کچھ دیگر اکائیوں کے استعمال ،طبیعی مقداروں اور پیمائشوں کو مناسب طورپر ظاہر کرنے میں سابقوں کے استعمال کے لیے کچھ عام اصولوں اور ہدایات کی پابندی کرنی چاہیے۔
    کسی بھی طبیعی مقدار کی تحسیب میں اس کی مطلوبہ اکائیوں کو حاصل کرنے کے لیے شامل ماخوذ مقداروں کی اکائیوں کو الجبری مقداروں کی طرح سمجھنا چاہیے۔
    10۔ طبیعی مقداروں کی پیمائش کے لیے براہ راست اوربالواسطہ دونوں طریقوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پیمائش کی گئی مقداروں کے نتیجے کے اظہار مندرجہ ذیل باتوں کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے: پیمائش کے آلات کی درستی صحت (Accuracy) (ii)  پیمائش کتنی دقیق(Precise) ہے (iii)  پیمائش میں ہونے والے سہو
    11۔ پیمائش کی گئی اورتحسیب کی گئی مقداروں میں صرف مناسب بامعنی ہندسوں کو ہی رکھنا چاہیے۔ کسی بھی عدد میں بامعنی ہندسوں کی تعداد کا تعین، ان سے حسابی فعل (arithmetic operation) اور غیر یقینی ہندسوں کو قریب تر کرنے کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔
    12۔ بنیادی مقداروں کے ابعاد اور ان ابعادوں کے مجموعے طبیعی مقداروں کی فطرت بیان کرتے ہیں۔ مساوات کی ابعادی ہم آہنگی جانچ اور طبیعی مقداروں میں رشتہ قائم کرنے کے لیے ابعادی تجزیہ کا استعمال کرناچاہیے۔ کوئی ابعادی طورپر ہم آہنگ مساوات حقیقت میں صحیح ہو، ضروری نہیں ہے لیکن ابعادی طورپر غلط یا غیر ہم آہنگ مساوات غلط ہی ہوگی۔

    مشق

    نوٹ  :  عددی جوابات لکھتے وقت، بامعنی ہندسوں کا خیال رکھیے

    2.1 خالی جگہوں کو بھرئیے:

    Pic98 Ch2, Page25
    Pic99 Ch2, Page25
    2.3 حرارت (بہتی ہوئی توانائی) کی اکائی کیلوری ہے اور تقریباًPic100 Ch2, Page25کے برابر ہے جہاں 1J = 1 kgm2 s-2۔  مان لیجیے ہم اکائیوں کے کسی ایسے نظام کا استعمال کرتے ہیں جس میں کمیت کی اکائی a kg کے برابر ہے، لمبائی کی اکائی β m کے برابر ہے، وقت کی اکائی ϒ s کے برابر ہے۔ یہ ظاہر کیجیے کہ نئی اکائیوں کی بنیاد پر کیلوری کی عددی قدر Pic101 Ch2, Page25 ہے۔
    2.4 اس بیان کی واضح تشریح کیجیے: 
    ’’موازنہ کے لیے معیار کی صراحت کے بغیرکسی ابعادی مقدار کو ’بڑا ‘ یا ’چھوٹا‘ کہنا بے معنی ہے۔‘‘ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے نیچے دئیے گئے بیانوں کو جہاں کہیں بھی ضروری ہو، دوسرے لفظوں میں ظاہر کیجیے:
    (a) ایٹم بہت چھوٹی شے ہوتی ہے۔
    (b) جیٹ ہوائی جہاز نہایت تیز رفتار ہے۔
    (c) مشتری (Jupiter) کی کمیت بہت زیادہ ہے۔
    (d) اس کمرے کے اندر ہوا میں سالموں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
    (e) الیکٹران کے مقابلے پروٹان بہت بھاری ہوتا ہے۔
    (f) آواز کی  رفتار روشنی کی رفتار سے بہت ہی کم ہوتی ہے۔
    2.5 لمبائی کی کوئی نئی اکائی منتخب کی گئی ہے تاکہ خلامیں روشنی کی چال کی قدر1(ایک اکائی) ہو۔نئی اکائی کی بنیادپر سورج اورزمین کے درمیان فاصلہ کتنا ہوگا،اگرروشنی اس فاصلے کوطے کرنے میں8منٹاور20سیکنڈ لگائے؟
    2.6 لمبائی کی پیمائش کے لیے درج ذیل میں سے کون سا سب سے زیادہ دقیق (Precise)ہے
    (a) ایک ورنیر کیلیپرس جس کے ورنیرپیمانے پر 20 نشان ہیں۔
    (b) ایک اسکرو گیج جس کی چوڑی فصل 1 mm (pitch) اور دائری پیمانے پر 100 نشان ہیں۔
    (c) کوئی نوری آلہ جو لمبائی کی پیمائش روشنی کی طول لہر کی حد تک کرسکتا ہے۔
    2.7 کوئی طالب علم 100 تکبیر (magnification) کے ایک مائیکرواسکوپ (خوردبین) کے ذریعہ دیکھ کر انسان کے بال کی موٹائی کی پیمائش کرتا ہے۔ وہ 20 بار مشاہدہ کرتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ خوردبین کے نظر خطہ (field view)میں بال کی اوسط موٹائی 3.5 mm ہے۔ بال کی موٹائی  کے بارے میں کیا تخمینہ ہے؟

    2.8 درج ذیل کے جواب دیجیے:

    (a) آپ کو ایک دھاگہ اور میٹر پیمانہ دیا جاتا ہے۔ آپ دھاگے کے قطر کا تخمینہ کس طرح لگائیں گے؟
    (b) ایک اسکرو گیج کی چوڑی فصل 1.00 mm ہے اور اس کے دائری پیمانے پر 200 نشان ہیں۔ کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ 
    دائری پیمانے پر نشانوں کی تعداداختیاری طورپر بڑھادینے پر اسکروگیج کی درستگی میں کتنا بھی اضافہ کرنا ممکن ہے؟
        (c)ورنیر کیلیپرس کے ذریعہ پیتل کی کسی پتلی چھڑ کے اوسط قطر کی پیمائش کی جانی ہے۔ صرف 5 پیمائشوں کے سیٹ کے مقابلے 
    میں قطر(diameter)کی 100 پیمائشوں کے سیٹ کے ذریعہ زیادہ معتبر اندازہ حاصل ہونے کا امکان کیوں ہے؟
    کسی مکان کا فوٹو گراف 35 mm سلائیڈ پر 1.75 cm2 کا رقبہ گھیرتا ہے۔ سلائیڈ کو کسی اسکرین پر پروجکٹ کیا جاتا ہے اور 
    اسکرین پر مکان کا رقبہ 1.55 m2 ہے۔ پروجکٹر-اسکرین بندوبست کی خطی تکبیر (linear magnification)کیا ہے؟
    2.10 درج ذیل میں با معنی ہندسوں کی تعداد بتائیے :
    (a) 0.007 m2
    (b) 2.64 ´ 1024 kg
    (c) 0.2370 g cm-3
    (d) 6.320 J
    (e) 6.032 N m-2
    (f) 0.0006032 m2
    2.11 دھات کی کسی مستطیل چادر کی لمبائی، چوڑائی وموٹائی  بالترتیب 4.234 m، 1.005 m اور 2.01 cm ہیں۔ صحیح با معنی ہندسوں تک چادر کا رقبہ اور حجم معلوم کیجیے۔
    2.12 پنساری کی ترازو کے ذریعہ پیمائش کیے گئے ڈبے کی کمیت 2.3 kg ہے۔ سونے کے دو ٹکڑے جن کی کمیت  20.15 g اور 20.17g ہے، ڈبے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ (a) ڈبے کی کل کمیت کتنی ہے، (b) صحیح بامعنی ہندسوں تک ٹکڑوں کی کمیتوں میں کتنا فرق ہے؟
    2.13 ایک طبیعی مقدار P، کاچار قابل مشاہدہ مقداروں a   c, b,  اور d سے رشتہ ہے:
                     45
    , b,a  اورd کی پیمائش میں فی صد سہو بالترتیب %1، %3، %4، اور %2ہیں۔ مقدار P میں فی صد سہو کتنا ہے؟  
    مذکورہ  بالا رشتہ کا استعمال کرکے P کی قیمت  3.763 نکلتی ہے تو آپ نتیجے کو کس قدر تک قریب تر (round off)کریں گے؟ 
    2.14 کسی کتاب میں جس میں چھپائی کی متعدد غلطیاں ہیں، ایک دوری حرکت (periodic motion)کررہے ذرے کے نقل کے لیے چار مختلف فارمولے دئیے گئے ہیں:

    (a) y = a sin 2p t/T
    (b) y = a sin vt
    (c) y = (a/T) sin t/a
    46 (d)
    (= a ذرے کا زیادہ سے زیادہ نقل (منتقلی)،  = v ذرے کی چال، = T حرکت کا دوری وقت)۔ ابعادی بنیاد پر غلط فارمولوں کو نکال دیجیے۔
    2.15 طبیعیات میں ایک مشہور رشتہ کسی ذرے کی ’متحرک کمیت‘  (moving mass, m)  ’سکونی کمیت‘   (rest mass,m0)  اس کی چال  v، روشنی کی چال  c کے درمیان ہے۔ (یہ رشتہ سب سے پہلے البرٹ آئنسٹائن کے خصوصی اضافیت کے نظرئیے کے نتیجے کے طورپر حاصل ہوا) کوئی طالب علم اس تعلق کو تقریباً صحیح یاد کرتا ہے لیکن مستقلہ cکو لگانا بھول جاتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: 47قیاس کیجیے کہ c کہاں لگے گا۔
    2.16 ایٹمی پیمانے پرلمبائی کی آسان اکائی اینگسٹرام ہے اوراسےAo کے ذریعہ ظاہرکیا جاتا ہے1Ao =10-10 m:۔ہائیڈروجن کے ایٹم کا سائزتقریباً 0.5oA ہے۔
     ہائیڈروجن کے ایک مول ایٹموں کا m3 میں کل ایٹمی حجم کتنا ہوگا؟
    2.17 کسی مثالی گیس کا ایک مول (جوہری گرام) معیاری درجہ حرارت اور دباؤ پر 22.4 L حجم (مولر حجم) گھیرتا ہے۔ ہائیڈروجن کے ایک مول کے مولر حجم اور اس کے ایک مول کے ایٹمی حجم کا تناسب کیاہے؟
     (ہائیڈروجن کے ایٹم کے سائز کو تقریباً 1Ao مانیے)۔ یہ تناسب اتنا زیادہ کیوں ہے؟
    2.18 اس عام مشاہدہ کی صاف طورپر تشریح کیجیے: اگر آپ تیز جارہی کسی ریل گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھیں تو قریب کے پیڑ، مکان وغیرہ ریل گاڑی کی حرکت کی مخالف سمت میں تیزی کے ساتھ حرکت کرتے
     دکھائی دیتے ہیں لیکن دور کی اشیا (پہاڑی،چاند،تارے) وغیرہ ساکن لگتے ہیں۔(درحقیقت،چونکہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ چل رہے ہیں اس لیے یہ دورکی اشیاآپ کو اپنے ساتھ چلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں)۔
    2.19 نہایت دور کے تاروں کی دوریاں معلوم کرنے کے لیے سیکشن 2.3.1 میں دیے گئے ’اختلاف منظر ‘(parallax)کے اصول کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سورج کے گرد اپنے مدار میں چھ مہینوں کے وقفے پر زمین کے دو مقامات کو ملانے والے خط کو بنیادی خط (base line) کہتے ہیں یعنی بنیادی خط زمین کے مدار کے قطر=Pic106 Ch2, Page29 کے تقریباًبرابر ہے۔ لیکن، چونکہ قریب ترین تارے بھی اتنی دور ہیں کہ اتنا طویل بنیادی خط ہونے پر بھی ان کے اختلاف منظر کا  درجہ قوس کے1" (سکنڈ) کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ فلکیاتی پیمانے پر لمبائی کی سہل اکائی پارسیک (parsec) ہے۔ یہ کسی شے کی وہ دوری ہے جو زمین سے سورج تک کی دوری کے برابر لمبائی کے بنیادی خط کے دو مخالف کناروں سے قوس کے "1 اختلاف منظر ظاہر کرتی ہے۔ میٹروں کی اصطلاح میں ایک پارسیک کتنا ہے؟
    2.20 ہمارے نظام شمسی سے قریب ترین تارا  4.29 نوری سال دور ہے۔ پارسیک کی اصطلاح میں یہ دوری کتنی ہے؟ یہ تارا ]الفا سنٹوری(Alpha Centauri) نام کا[ تب کتنا اختلاف منظر ظاہر کرے گا جب اسے سورج کے گرد اپنے مدار میں زمین کے دو مقامات سے جو چھ مہینے کے وقفے پر ہیں، دیکھا جاتا ہے؟

    2.21 سائنس کی ضرورت ہے کہ طبیعی مقداروں کی دقیق پیمائش کی جائے۔ مثال کے لیے کسی جہاز کی چال کا پتہ لگانے کا کوئی ایسا بالکل درست طریقہ ہونا چاہیے جس سے دو نہایت ہی قلیل مدت کے وقفہ پر جہاز کے مقامات (position) کا تعین کیا جا سکے۔ دوسری عالمی جنگ میں رڈار کی دریافت کے پس پردہ حقیقی مقصد یہی تھا۔ جدید سائنس کی ان مختلف مثالوں کے بارے میں سوچیے جن میں لمبائی، وقت، کمیت وغیرہ کی دقیق پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے۔جہاں آپ بتا سکتے ہوں وہاں یہ بھی بتائیے کہ پیمائش کس حد تک دقیق (تقریباً عددی قدر) ہونا چاہیے۔
    2.22 جیسے سائنس میں بہتر دقیق کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ابتدائی تصورات اور عام مشاہدات کا استعمال کرتے ہوئے مقداروں کے موٹے طورپر تخمینہ لگانے کا اہل ہونا بھی ضروری ہے۔ ان طریقوں کو سوچیے جن کے ذریعے آپ درج ذیل کا اندازہ لگاسکتے ہیں: (جہاں تخمینہ لگانا مشکل ہے، وہاں مقدار کی اوپری حد (upper bound) کا پتہ لگانے کی کوشش کیجیے)
    (a) مانسون کے دوران  ہندوستان کے اوپر چھائے ہوئے بارش والے بادلوں کی کل کمیت
    (b) کسی ہاتھی کی کمیت
    (c) کسی طوفان کے دوران ہواکی چال
    (d) آپ کے سرکے بالوں کی تعداد
    (e) آپ کی کلاس کے کمرے میں ہوا کے سالموں کی تعداد

    2.23 سورج گرم پلازما(آئن شدہ مادہ)ہے جس کے اندرونی قالب(core)کادرجہ حرارت107Kسے زیادہ اوربیرونی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6000Kہے۔اتنے زیادہ درجہ حرارت پر کوئی بھی مادہ ٹھوس یا مائع شکل میں نہیں رہ سکتا۔ سورج کی کمیت–کثافت کے کس رینج میں ہونے کی آپ کو توقع ہے؟ کیا یہ ٹھوسوں کی کثافت کے رینج میں ہے یا مائع یا گیسوں کی؟ اپنے اندازے کی درستگی کی جانچ آپ درج ذیل اعداد وشمار کی بنیادپر کیجیے: سورج کی کمیتPic107 Ch2, Page30سورج کا قطر=Pic108 Ch2, Page30

    جب سیارہ مشتری زمین سے 8.24.7 ملین (دس لاکھ) کلو میٹر دور ہوتا ہے تو اس کے زاویائی قطر کی پیمائش ایک قوس کا "35.72ہے۔مشتری کے قطرکا حساب لگائیے۔

    اضافی مشق

    2.25 ایک شخص بارش میں تیز چال vکے ساتھ چلا جارہاہے۔ اسے پانی سے بچنے کے لیے اپنے چھاتے کو ٹیڑھا کرکے عمود کیساتھθزاوریہ بنانا پڑتا ہے۔ایک طالب علم θ اور vکے درمیان درجِ ذیل رشتہ اخذ کرتا ہے : v=tanθ اور جانچ کرتا ہے کہ اس رشتہ کی حد درست ہے: جب v→0 تو θ→0 جیسی کہ امید تھی۔ (ہم فرض کررہے ہیں کہ تیز ہوا نہیں چل رہی ہے اور ایک ساکن شخص کے لیے بارش عمودی طور پر پڑرہی ہے۔) کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ رشتہ درست ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں، تو درست رشتہ کا اندازہ لگائیے۔

    2.26 یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر بغیر کسی رکاوٹ کے 100 سالوں تک دوسیزیم گھڑیوں کو چلنے دیا جائے تو ان کے وقت میں صرف 0.02s  کا فرق ہوسکتا ے۔ معیاری سیزیم گھڑی کے ذریعہ 1s کے وقفہ وقت کی پیمائش میں درستگی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
    2.27 ایک سوڈیم ایٹم کا سائز تقریباً 2.5Ao مانتے ہوئے اس کے ا وسط کمیت –کثافت کا اندازہ لگائیے۔ (سوڈیم کی ایٹمی کمیت اور آوگاڈرو کے عدد کی معلوم قیمت کا استعمال کیجیے)۔ کرسٹل کی حالت میں سوڈیم کی کمیت کثافت
     970 kg m-3 
    کے ساتھ اس کا موازنہ کیجیے۔ کیا ان دونوں کثافتوں کی مقدار ایک ہی درجہ (order)کی ہے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟
    2.28 نیوکلیر پیمانے پر لمبائی کی موزوں اکائی فرمی ہے:
    (1 f = 10-15m)  
    نیوکلیر سائز درج ذیل آزمائشی رشتے(emperical relation) کی موٹے طورپر تعمیل کرتے ہیں:
                                                         48
          جہاں r نیوکلئس کا نصف قطر، A اس کا کمیت عدد اور r0کوئی مستقلہ ہے جو تقریباً 1.2 f  کے برابر ہے۔ یہ ثابت کیجیے کہ اس اصول سے مراد ہے کہ مختلف نیوکلیس کے لیے نیوکلیائی کمیت – کثافت تقریباً مستقل ہے۔ سوڈیم نیوکلیس کی کمیت –کثافت (mass density)کا اندازہ لگائیے۔ سوال 2.27 میں معلوم کیے گئے سوڈیم ایٹم کی اوسط کمیت–کثافت کے ساتھ اس کا موازنہ کیجیے۔
    2.29 لیزر(LASER) روشنی کی نہایت شدید، یک رنگی اور یک سمتی شعاع کا ذریعہ ہے۔ لیزر کی ان خوبیوں کا استعمال لمبی دوریوں کی پیمائش میں کیا جاسکتا ہے۔ لیزر کو روشنی کے ذریعہ کے طورپر استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی چاند کی زمین سے دوری دقیق طورپر معلوم کی جاچکی ہے۔ کوئی لیزرشعاع چاند کی سطح سے منعکس ہوکر2.56sمیں واپس آجاتی ہے۔ زمین کے گرد چاند کے مدار کا نصف قطر کتنا ہے؟
    2.30 پانی کے نیچے کی اشیا کو ڈھونڈنے اوران کے مقام کا پتہ لگانے کے لیے سونار(sound navigation and ranging,SONAR)میں بالا صوتی لہروں (ultrasonic waves)کا استعمال ہوتا ہے۔ کوئی آبدوز کشتی سونار (صوتی جہازرانی اور رینجنگ) سے لیس ہے۔ اس کے ذریعے پیدا ہوئی تحقیقی لہریں اور دشمن کی آبدوز کشتی سے منعکس اس کی بازگشت (echo) کے وصول ہونے کے درمیان وقت تاخیرPic110 Ch2, Page31پایا گیا ہے۔ دشمن کی آبدوز کشتی (پن ڈبی) کتنی دور ہے؟ (پانی میں آواز کی چالPic111 Ch2, Page31
    2.31 ہماری کائنات میں جدید ماہرین فلکیات کے ذریعہ دریافت کی گئی سب سے دور کی اشیا اتنی دور ہیں کہ ان کے ذریعہ خارج کی گئی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں اربوں سال لگتے ہیں۔ ان اشیا ]جنہیں کواسار(quasar) کہا جاتا ہے[ کی پراسرار خصوصیات ہیں، جن کی ابھی تک اطمینان بخش تشریح نہیں کی جاسکی ہے۔ کسی ایسے کواسار کی km میں دوری معلوم کیجیے جس سے خارج روشنی کو ہم تک پہنچنے میں 300 کروڑ سال لگتے ہوں۔
    2.32یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ مکمل سورج گرہن کے دوران چاندکی ڈسک سورج کی ڈسک کو پوری طرح ڈھک لیتی ہے۔اس حقیقت اور مثال 2.1اور 2.2 سے جمع معلومات کی بنیادپرچاندکے قطر(تقریباً) کاتعین کیجیے۔
    2.33 اس صدی کے ایک عظیم طبیعیات داں (پی۔اے۔ایم۔ڈیریک) فطرت کے بنیادی مستقلوں (fundamental constants of nature) کے ہندسوں کی قیمتوں کے ساتھ کھیلنے میں لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس سے انہوں نے ایک بہت ہی دلچسپ مشاہدہ کیا۔ ایٹمی فزکس کے بنیادی مستقلوں (c ،e ، الیکٹران کی کمیت، پروٹون کی کمیت )اور قوت مادی کشش مستقلہ G سے انہیں پتہ لگا کہ وہ ایک ایسے عدد پر پہنچ گئے ہیں جس کے ابعاد وقت کے ابعاد ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا عدد ہے جس کی قدر کائنات کی عمر کے موجودہ تخمینے (15 ~کروڑ سال) کے قریب ہے۔ اس کتاب میں دئیے گئے بنیادی مستقلہ کے جدول میں دیکھیے کہ کیا آپ بھی اس عدد (یا اور کوئی عدد جسے آپ سوچ سکتے ہیں) کو بناسکتے ہیں۔ اگر کائنات کی عمر سے اس کا انطباق ہونا بامعنی ہے تو بنیادی مستقلوں کی ہم آہنگی کے لیے اس سے کیا اشارہ ملتا ہے؟