
باب 2
اکائیاں اور پیمائش
(Units and Measurement)
2.1 تعارف
2.2 اکائیوں کا بین الاقوامی نظام
2.3 لمبائی کی پیمائش
2.4 کمیت کی پیمائش
2.5 وقت کی پیمائش
2.6 آلات کی درستیِ صحت اور دقیق پیمائش میں سہو
2.7 بامعنی اعداد
2.8 طبیعی مقداروں کے ابعاد
2.9 ابعادی فارمولے اور ابعادی مساواتیں
2.10 ابعادی تجزیہ اور اس کا اطلاق (استعمال)
خلاصہ
مشق
اضافی مشق
2.1 تعارف(INTRODUCTION)
2.2 اکائیوں کا بین الاقوامی نظام (THE INTERNATIONAL
SYSTEM OF UNITS)
- CGS نظام میں یہ بالترتیب سنیٹی میٹر، گرام اور سکینڈ ہے۔
- FPS نظام میں یہ بالترتیب فٹ، پاؤنڈ اور سکینڈ ہے۔
- MKS نظام میں یہ بالترتیب میٹر، کلوگرام اور سکینڈ ہے۔
بین الاقوامی نظام (International System of Units) کا فرانسیسی ترجمہ اور اس کا مخفف SIہے۔اس SIنظام کو علامتوں، اکائیوں اورمخففوں کے ساتھ 1971میں بین الاقوامی بیورو برائے وزن پیمائش(Buereu international dospoids it measures) کے ذریعے فروغ دیا گیا تھا جس پر حال ہی میں نومبر 2018میں منعقد ہونے والی عمومی کانفرنس برائے وزن و پیمائش‘‘ میں نظر ثانی کی گئی۔اور اس کانفرنس نے پوری دنیا میں سائنسی، تکنیکی صنعتی اور کاروباری کام میں اس کے استعمال کی فرمائش کی۔کیونکہ SI اکائیوں میں اعشاریہ نظام استعمال کیا گیا ہے، اس لیے اس نظام میں ایک اکائی سے دوسری اکائی (جیسے میٹرسے سینٹی میٹر یا اس کے برعکس) میں تبدیل کرنا، بہت سادہ اور سہل ہے۔ہم اس کتاب میں SIاکائیاں ہی استعمال کریں گے۔
سطح زاویہ کی اکائی ریڈین (radian) اور علامت radہے۔
جدول 2.1 SI اساسی مقدار اور اکائیاں *
| بنیادی بنیادی |
SI اکائی |
| نام | علامت | تعریف | |
| لمبائی | میٹر | m | روشنی کے ذریعہ خلا میں ایک سیکنڈ کے458 1/299,792, وقفہ وقت میں طے کی گئی راہ کی لمبائی میٹر ہے۔ (1983سے تسلیم شدہ) |
| کمیت | کلوگرام | kg | فرانس میں پیرس کے پاس سیورس میں بین الاقوامی وزن اورپیمائش بیورو میں رکھے گئےکلوگرام(پلیٹنم اریڈیم مخلوط دھات سے بنے سلنڈر)کے بین الاقوامی نمونے کی کمیت کلوگرام ہے۔(1989سےتسلیم شدہ) |
| وقت | سیکنڈ | s | ایک سیکنڈ وہ وقفہ ہے جو سیزیم133 ایٹم کی تحتی حالت کی دوباریک ترین سطحوں کے درمیان عبورمیں اشعاع ریزی کے 631,770, 9,192۔ دوری وقفوں کی مدت ہے۔( 1967) سے تسلیم شدہ) |
| برقی کرنٹ |
ایمپیر | A | ایک ایمپیروہ مستقل کرنٹ ہے جسے خلا میں1میٹر کی دوری پر واقع دو سیدھے ’لامتناہی لمبائی والے‘ متوازی اور قابل نظر انداز عمودی تراش کے موصلوں کے درمیان قائم رکھا جائے تو فی میٹر لمبائی پر7-10×2 نیوٹن قوت پیداہو۔(1948 سے تسلیم شدہ) |
| –حرکیاتی درجہ حرارت |
کیلون | K | پانی کے ثلاثی نقطہ کے حر حرکیاتی درجہ حرارت کے 1/273.16 ویں حصے کو کیلون کہتے ہیں۔ 1967) سے تسلیم شدہ) |
| شے کی مقدار | مول (mole) | mol | مول کسی نظام میں شے کی وہ مقدار ہے جس میں اساسی ہستیوں (عناصر) کی تعداد اتنی ہے جتنی 0.0 12 kg
کاربن 12 میں ایٹموں کی تعداد۔ 1971)سے تسلیم شدہ) |
| درخشاں شدت |
کینڈیلا | cd | کینڈیلا، ایک دی ہوئی سمت میں، اس وسیلہ کی درخشاں شدت ہے جو 540x1012Hertz تواترکی یک رنگی شعاعیں خارج کرتا ہے اور جس کی‘ اس دی ہوئی سمت میں‘ اشعاعی شدت 1/683 واٹ فی اسٹریڈین ہے۔ |
جدول 2.2 SI اساسی اکائیوںمیں ظاہر کی گئی بعض ماخوذاکائیاں
| طبیعی مقدار SI اکائی |
| نام | علامت | |
| منٹ | min | 60s |
| گھنٹہ | h | 60 min = 3600s |
| دن | d |
24h = 86400s |
| سال | y | 365.25d=3. 156×107s |
| ڈگری | ° | /180(rad1º=
)
|
| لیٹر | L | 1dm3=10-3m3 |
| ٹن | t | 103kg |
| کیرٹ | c | 200mg |
| بار | bar | 0.1Mpa =105pa |
| کیوری | Ci | 1010×3.7 s-1 |
| رونجن | r | 10-4×2.58 C/Kg |
| کوئنٹل | q | 100Kg |
| بارن | b | 100fm2=10-28m2 |
| آر | a | 1dam2=102m2 |
| ہیکٹیئر | ha | 1hm2=104m2 |
| میعاری | atm | 101325Pa=1.013×105Pa |
| فضائی داب |
2.3 لمبائی کی پیمائش
(MEASUREMENT OF LENGTH)
2.3.1 بڑی دوریوں کی پیمائش: اختلافِ منظرطریقہ
(Measurement of Large Distances:Parallax Method)
مثال 2.1 ریڈین میں زاویہ معلوم کریں 10(a)
(ڈگری) 1'/(b) (قوس کا ایک منٹ1"(c)(قوس کا ایک سکینڈ)۔استعمال کریں ریڈین 3600 = 2p ،10=60'، 1' = 60" |
| مثال 2.2 ایک آدمی اپنے قریبی مینار کی دوری معلوم کرنا چاہتا ہے۔ وہ مینار Cکے سامنے نقطہAپر کھڑا ہے۔ اورخطAcکے سمت میں کافی دور کی شے Oکو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد ACکے عمودی سمت میں Bنقطہ تک چلتا ہے جس کی دوری 100میٹر ہے اور دوبارہOاور Cکو دیکھتا ہے۔ چونکہOکافی دور ہے اس لیے سمتBO اورAO یکساں معلوم ہوتی ہیں۔لیکن اسے معلوم ہوتا ہے کہ C کا خط اب آغازی خطِ نگاہC سے θ)=θ400اختلاف منظر ہے)بنا رہا ہے۔ معلوم کریں کہ مینار کی دوری آغازی مقام Aسے کتنی ہے۔ |
| مثال 2.3 زمین کے کسی قطرکے دوانتہائی نقاط Aاور Bسے چاند کو دیکھا گیا۔ مشاہدہ کی دوسمتوں کے درمیان چاند پر بننے والا زاویہ θ 1o54' ہے۔ زمین کا قطر تقریباً |


2.3.2 نہایت چھوٹی دوریوں کی پیمائش : مالیکیول کا سائز
(Estimation of Very Small Distances: size of a Molecule)
مثال 2.5 اگر کسی نیوکلیس کے سائز (جو 15-10سے 14-10 تک کی سعت میں ہوتا ہے) کو اتنے گنا بڑا کردیا جائے کہ اسے ایک تیز پن کی نوک کے برابر مانا جاسکے، تو ایک ایٹم کا سائز تقریباً کتنا ہوگا؟ مان لیجیے کہ پن کی نوک
تک کی سعت میں ہوتی ہے۔
2.3.3 لمبائیوں کی وسعت (Range of Lengths)
2.4 کمیت کی پیمائش (MEASUREMENT OF MASS)
2.4.1کمیتوں کی وسعت (Range of Masses)
جدول 2.3 لمبائیوں کی سعتیں اور درجات
| شے کے ناپ یا فاصلے | لمبائی (m) |
| پروٹان کاناپ | 15-10 |
| ایٹمی نیوکلیس کا سائز | 14-10 |
| ہائیڈروجن ایٹم کا سائز | 10-10 |
| کسی مثالی (typical)وائرس کی لمبائی | 10-8 |
| روشنی کی طول لہر | 10-7 |
| سرخ دموی جسیمے(red blood corpuscle) کا سائز | 10-5 |
| کسی کاغذ کی موٹائی | 10-4 |
| سمندر کی سطح سے ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی | 104 |
| زمین کا نصف قطر | 107 |
| زمین سے چاند کی دوری | 108 |
| زمین سے سورج کی دوری | 1011 |
| سورج سے پلوٹو کی دوری | 1013 |
| ہماری گیلکسی کا سائز | 1021 |
| زمین سے اینڈروموئیڈا(Andromeda) گیلکسی کی دوری | 1022 |
| قابل مشاہدہ کائنات کی سرحد تک دوری | 1026 |
جدول2.4میں مختلف اشیا کی مخصوص کمیتوں کے درجے اوروسعت دیے گئے ہیں۔
جدول 2.4 کمیتوں کی وسعتیں اور درجات
| شے | کمیت (کلو گرام) |
| الیکٹران | 10-30 |
| پروٹان | 10-27 |
| یورینیم ایٹم | 10-25 |
| سرخ دموی خلیہ | 10-13 |
| دھول کے ذرے | 10-9 |
| بارش کی بوند | 10-6 |
| مچھر | 10-5 |
| انگور | 10-3 |
| انسان | 102 |
| آٹو موبائیل (سواریاں) | 103 |
| بوئنگ 747 ہوائی جہاز | 108 |
| چاند | 1023 |
| زمین | 1025 |
| سورج | 1030 |
| کہکشاں( گیلکسی) | 1041 |
| قابل مشاہدہ کائنات | 1055 |
2.5 وقت کی پیمائش (MEASUREMENT OF TIME)
2.6 آلات کی درستیِ صحت اوردقیق پیمائش میں سہو
(ACCURACY, PRECISION OF INSTRU- MENTS AND ERRORS IN MEASURE- MENT)
جدول 2.5وقفہ وقت کی سِعت
| واقعہ | وقفہ وقت(s) |
| نہایت غیر پائیدار ذرے کی مدت حیات | 10-24 |
| روشنی کے لیے نیوکلیردوری کو طے کرنے میں لگا وقت | 10-22 |
| x-کرنوں کا دور | 10-19 |
| ایٹمی ارتعاش کا دور | 10-15 |
| روشنی لہر کا دور | 10-15 |
| کسی ایٹم کی اشتعالی حالت کی مدت حیات |
10-8 |
| ریڈیو لہر کا دور |
10-6 |
| آواز لہر کا دور |
10-3 |
| آنکھ کے جھپکنے میں لگاوقت |
10-1 |
| انسانی دل کی دو متواتر دھڑکنوں کادرمیانی وقفہ |
100 |
| روشنی کا چاند سے زمین تک آنے میں لگاوقت |
100 |
| روشنی کا سورج سے زمین تک آنے میں لگاوقت |
102 |
| کسی مصنوعی سیارچے کا دوری وقت |
104 |
| زمین کی گردش کا دور |
105 |
| چاند کا گردشی اور طواف کا دور |
106 |
| زمین کے طواف کا دور |
107 |
| روشنی کا قریبی تارے سے زمین تک آنے میں لگا وقت |
108 |
| انسان کی اوسط مدت حیات |
109 |
| مصر کے احراموں کی عمر |
1011 |
| ڈائنا سور کے معدوم ہونے کے بعد گزرا وقت |
1015 |
| کائنات کی عمر | 1017 |
(a) بانظام سہو (systematic errors)
(b) بے ترتیب سہو(random errors)
بانظام سہو(Systematic errors)
(a) آلاتی سہو :(Instrumental errors)
(b) تجرباتی تکنیک یا طریقہ عمل کا نقص(Imperfection
:(in experimental procedure)
(c) انفرادی سہو:(Personal errors)
بے ترتیب سہو(Random errors)
کم ترین شمار سہو (Least count error)
2.6.1 مطلق سہو، نسبتی سہو اور فی صد سہو
(Absolute error, Relative error and Percen- tage error)
مقدار کی صحیح قدر اورانفرادی پیمائش قدر کے درمیان کے فرق کی عددی قدر کو پیمائش کا مطلق سہو (absolute error) کہا جاتا ہے۔
(2.9) مطلق سہو (relative error) =amean/Δamean
آئیے ایک مثال لیتے ہیں :
| گھڑی 1 | گھڑی 2 | |
| دوشنبہ | 12:00:05 | 10:15:06 |
| منگل | 12:01:15 | 10:14:59 |
| بدھ | 11:59:08 | 10:15:18 |
| جمعرات | 12:01:50 | 10:15:07 |
| جمعہ | 11:59:15 | 10:14:53 |
| سنیچر | 12:01:30 | 10:15:24 |
| اتوار | 12:01:19 | 10:15:11 |
| اگر آپ کوئی تجربہ کررہے ہیں جس میں وقفہ وقت کی دقیق پیمائشوں کی ضرورت ہے تو آپ ان دونوں میں سے کون سی گھڑی کاانتخاب کریں گے؟ |

2.6.2 غلطیوں کا اجتماع(Combinatio
آپ ایک خط کی لمبائی کیسے معلوم کریں گے؟
(How will you measure the length of a line?)
کیسا مہمل سوال ہے؟ہوسکتا ہے آپ اب یہ کہیں۔ لیکن اگر خط، خطِ مستقیم (straight line) نہ ہو تو؟ ایک ٹیرھا میڑھا خط اپنی کاپی یا تختہ سیاہ پر کھینچے۔ جی ہاں، اب بھی کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔آپ ایک دھاگہ لے کر اسے خط پر اس طرح رکھیے کہ وہ خط کو پوری طرح ڈھک لے، پھر دھاگہ کو کھولیے اور اسکی لمبائی ناپ لیجیے۔
اب تصور کیجیے کہ آپ ایک قوی شاہ راہ کی لمبائی ناپنا چاہتے ہیں یا ایک دریا کی یا دو اسٹیشنوں کے درمیان بچھی ہوئی ریل کی پٹری کی یا دو صوبوں یا ملکوں کے درمیان سرحد کی لمبائی ناپنا چاہتے ہیں۔ اب اگر آپ ایک میٹر یا سومیٹر لمبا دھاگہ،رسّی لیں، اسے خط پر رکھیں، پھر جہاں اس کا اگلا سرا تھا وہاں پچھلا سرا رکھیں اور اس طرح دھاگے کے مقام کو بدلتے جائیں تو اس کام کے لیے جتنے گھنٹوں کی محنت درکار ہوگی اور جتنا خرچ آئے گا، اس کے مقابلے میں حاصل بہت چھوٹی سی بات ہوگی۔مزید یہ کہ اس اتنے لمبے کام میں غلطیاں ہونے کے امکان تقریباً یقینی ہیں۔اس کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقی واقعہ ہے۔ فرانس اور بیلجیم کی ایک مشترکہ بین الاقوامی سرحد ہے، جس کی دونوں ملکوں کی سرکاری دستاویزوں میں درج لمبائی میں قابلِ لحاظ فرق ہے۔
ایک قدم آگے بڑھیے اور اس ساحلی خط کا تصور کیجیے جہاں زمین، سمندر سے ملتی ہے۔سڑکوں اور دریاؤں میں ساحلی خط کے مقابلے میں بہت کم گہرے موڑ ہوتے ہیں۔تب بھی تمام دستاویزوں میں، جن میں ہماری درسی کتابیں بھی شامل ہیں، گجرات یا آندھرا پردیش کے ساحلِ سمندر یا دو صوبوں کی مشترکہ سرحد وغیرہ کی لمبائی کے مطعلق معلومات شامل ہوتی ہے۔ریل کے ٹکٹوں پر دو اسٹیشنوں کا درمیانی فاصلہ چھپا ہوتا ہے۔سڑک کے کنارے کنارے ہر جگہ میل کے پتھر لگے ہوتے ہیں جو مختلف بستیوں کے فاصلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔پھر یہ کیسے کیا جاتا ہے؟
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس حدتک پیمائش میں سہو (error) برداشت کریں گے اور پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کم ازکم خرچ کیسے آئے گا۔اس کے لیے اعلیٰ ٹکنالوجی اور بڑا خرچ درکار ہے۔یہ کہنا کافی ہوگا کہ اس کے لیے اچھی خاصی اعلیٰ درجہ کی طبیعات، ریاضی انجینیرنگ اور ٹکنالوجی درکار ہوگی۔ یہ فریکٹلس (Fractals) سے متعلق ہے جو حال ہی میں نظریاتی قبولیت اختیار کرنے والی طبیعات کی شاخ ہے۔پھربھی ہم یہ نہیں جان سکتے کہ جو اعداد ہمارے سامنے آئے ہیں وہ کس حد تک قابلِ بھروسہ ہیں، جیسا کہ فرانس اور بیلجیم کے قصّے سے ظاہر ہوتا ہے۔آپ کی دلچسپی کے لیے یہ بتادیں کہ فرانس اور بیلجیم کے درمیان لمبائی کی پیمائش کا یہ تناقص (Discrepancy) ، فریکٹلس اور بے نظمی (chaos) کے موضوع پر طبیعات کی ایک اعلیٰ نصاب کی کتاب کے پہلے صفحے پر درج کیا گیا ہے۔
اگر کمیت اور ناپ یا ابعاد کی پیمائش میں سہو ہیں تو ہمیں یہ ضرور جاننا چاہیے کہ کثافت میں کتنی غلطی ہوگی۔ اس طرح کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ مختلف ریاضیاتی عملوں میں سہو کس طرح مجتمع ہوتے ہیں۔اس کے لیے ہم درج ذیل طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

جب دو مقداروں کو جمع یا تفریق کیا جاتا ہے تو آخری نتیجے میں مطلق سہو انفرادی مقداروں کے مطلق سہو کا حاصل جمع ہوتا ہے۔
(Errors of a product or a quotient)

جب دو مقداروں کو ضرب یا تقسیم کیا جاتا ہے تو نتیجے میں کسری سہو، ضاربوں میں کسری غلطیوں کی جمع کے برابر ہوتا ہے۔
| مثال 2.9 مزاحمت R = V/I جہاں = (5+100) V اور (A) I =(10 + 0.2) ہے۔ R میں فی صد سہو معلوم کیجیے۔ |
| مثال2.10دومزاحموں کی مزاحمتیںR1= 100 + 3 ohm اورohm R2=200+4 ہیں جو کہ (a) سلسلہ وار ترتیب (b) متوازی ترتیب میں جڑے ہوئے ہیں۔ معاول مزاحمت کا پتہ لگائیں۔ استعمال کریں(a)کے لیے رشتہ R= R1+R2 اور (b)کے لیے |
(c) پیمائش کی گئی مقدار کی قوت کے سبب سہو(Eror in case of a measured quantity raised to power)
| مثال Z 2.11میں کسری سہو معلوم کیجیے اگر Z=A4B1/3/CD3/2 |
| مثال2.12 ایک سادہ پینڈولم کے اہتراز کا دورہے۔ جس میںL کی پیمائش کی گئی قدر تقریباً 20.0cmہے اور اس کی درستگی 1mm تک ہے۔ ایک گھڑی سے جس کا جزتجزیہ Isہے، 100اہتراز کے لیے پیمائش کیا گیا وقت90سکینڈ ہے۔gکی قدر معلوم کرنے میں کتنی درستگی ہے؟ |
جواب 

2.7 بامعنی اعداد(SIGNIFICANT FIGURES)
کسی پیمائش میں مختلف اکائیوں کے انتخاب سے بھی بامعنی ہندسوں کی تعداد تبدیل نہیں ہوتی ۔
یہ اہم تبصرہ درج اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔
- سبھی غیر صفر ہندسے بامعنی ہیں۔
- کن ہی دو غیر صفر ہندسوں کے درمیان سبھی صفر بامعنی ہندسے ہیں چاہے اعشاریہ نقطہ کا کوئی بھی مقام ہو اور چاہے اعشاریہ نقطہ ہو یا نہ ہو۔
- اگر کوئی عدد 1 سے چھوٹا ہو تو اعشاریہ نقطہ کے دا ہنی جانب کے صفر جو پہلے غیر صفر ہندسے کے بائیں جانب ہیں، بامعنی ہندسے نہیں ہوتے ہیں۔[0.002308 میں خط کشیدہ صفر بامعنی ہندسے نہیں ہیں]۔
- کسی بھی ایسے عدد میں جس میں اعشاریہ نقطہ ہو، پس رو صفر بامعنی ہندسے نہیں ہوتے ہیں۔
- کسی بھی عدد میں جس میں اعشاری نقطہ ہو، پس رو صفر بامعنی ہندسے ہوتے ہیں۔ ⌊جیسے اعداد 3.500 یا 0.06900 میں چار بامعنی ہندسے ہیں۔
(3) بامعنی ہندسوں کے اعداد کے تعین میں اوپر بتائے گئے ابہام کو دور کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے کہ ہر ایک پیمائش کو سائنسی ترقیم (10 کی قوت) میں لکھا جائے۔ اس ترقیم میں ہر ایک عدد کو a× 10b کے طورپر ظاہر کیا جاتا ہے جہاں
1،a
سے 10 کے درمیان کوئی عدد ہے اور
10,b
کا کوئی بھی مثبت یا منفی قوت نما (exponent) ہے۔عدد کاایک تقربی تصور حاصل کرنے کے لیے، ہم عدد aکو 1(a<5 کے لیے) یا
10 (10›a<5)
کی تقریبی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔اس طرح عدد کو تقریبی شکل میں 10b کی صورت میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جس میں 10 کا قوت نما b،اس طبعی مقدار کا، عددی قدر کا درجہ (order of magnitude)کہلاتا ہے۔ جب صرف ایک تخمینہ درکار ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مقدار 10b کے درجہ کی ہے۔ مثلاً، زمین کا قطر
(107m،(1.28×107m)
کے درجہ کاہے، جس میں عددی قدر کا درجہ7ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم کا قطر(1.06×10-10m)، 10-10m کے درجہ کاہے، جس میں عددی قدر کا درجہ –10ہے۔ زمین کا قطر، ہائیڈرجن ایٹم کے قطر سے 17عددی قدر کے درجے زیادہ ہے۔
4.700 m = 4.700 × 102 cm = 4.700 × 103 mm
= 4.700 × 10-3 km
یا 2.0000 لکھا جاسکتا ہے۔اسی طرحمیں، nایک قطعی عدد ہے۔
2.7.1 بامعنی اعداد کے ساتھ حسابی عمل کے لیے اصول
(Rules for Arithmetic operation with significant figures)
(1) اعداد کے ضرب یا تقسیم کرنے سے حاصل نتیجے میں صرف اتنے ہی با معنی ہندسے رکھنے چاہییں جتنے کہ سب سے کم بامعنی اعداد والے بنیادی عدد میں ہیں۔
(2) اعداد کے جوڑنے یا تفریق کرنے سے حاصل آخری نتیجے میں اعشاریہ کے بعد اتنے ہی بامعنی ہندسے رکھنے چاہیئں جتنے کہ جوڑی یا تفریق کی جانے والی مقداروں سے اس عدد میں ہوں جس میں اعشاریہ کے سب سے کم مقام ہیں۔
2.7.2 غیر یقینی ہندسوں کی قریبی قدر لینا
(Rounding off the Uncertain Digits)
اگر بے معنی ہندسے (اس معاملے میں کشیدہ خط ہندسہ) 5 سے زیادہ ہے تو اس سے پہلے والے ہندسے میں 1 کا اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر بے معنی ہندسے 5 سے کم ہوتے ہیں تو پیش رو ہندسہ غیر تبدیل رکھا جاتا ہے۔
اگر پیش رو ہندسہ جفت (even)ہے تو بے معنی ہندسے کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اگر یہ طاق(odd) ہے تو پیش رو ہندسے میں 1 کا اضافہ کردیتے ہیں۔
مثال 2.13کسی مکعب کے ہر ایک بازو کی پیمائش 7.203mکی گئی ہے۔ موزوں بامعنی ہندسوں تک مکعب کا کل سطح رقبہ اور حجم کیا ہے؟
مکعب کاسطح رقبہ
مکعب کاحجممثال 2.14کسی شے کے 5.74gکا حجم1.2cm3ہے۔اس کی کثافت کو بامعنی ہندسوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ظاہر کیجیے۔
2.7.3 حسابی عملیات کے نتائج میں عدم یقینی کے تعین کے لیے اصول
(Rules for determining the uncertainty in the results of Arithmetic operations)
(2) اگر کسی تجرباتی اعداد وشمار کے مجموعے میں n بامعنی ہندسے متعین ہیں تو اعدادوشمار کے اجتماع سے حاصل نتیجہ بھی n با معنی ہندسوں تک جائز ہوگا۔
(3) ایک عدد، جس میں بامعنی ہندسوں کی تعداد 'n'متعین ہو، اس کا نسبتی سہو نہ صرف nکے بلکہ خود عدد کے بھی تابع ہوتا ہے۔
مثال کے لیے،1.02g کی کمیت کی پیمائش میں درستگیg10.0+کی ہے جب کہ دوسری پیمائش 9.89g بھی +0.01g تک درست ہے۔
2.8 طبیعی مقداروں کے ابعاد
(DIMENSIONS OFPHYSICAL QUANTITIES)
کسی طبیعی مقدار کے ابعاد ان قوت نماؤں کو کہتے ہیں جنہیں اس مقدار کی اکائی کو ظاہر کرنے کے لیے بنیادی مقداروں پر چڑھاتے ہیں۔
2.9 ابعادی فارمولے اور ابعادی مساواتیں
(DIMENSIONAL FORMULAE AND DIMENSIONAL EQUATIONS)
کسی دی ہوئی طبیعی مقدار کا ابعادی فارمولا (dimensional formula) وہ اظہار ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ کسی طبیعی مقدار کے ابعاد کی کون کون سی بنیادی مقداریں اور کس طرح نمائندگی کررہی ہیں۔ مثال کے لیے حجم ،چال یا رفتار، اسراع اور کمیت– کثافت کے ابعادی فارمولے بالترتیب [M1 L-3 To],[Mo LT-2],[Mo LT-2],[Mo L3 To] ہیں۔
2.10 ابعادی تجزیہ اور اس کا اطلاق (استعمال)
(DIMENSIONAL ANALYSIS AND ITS APPLICATIONS)
2.10.1 مساواتوں کی ابعادی ہم آہنگی کی جانچ
(Checking the Dimensional Consistency of Equations)
اگر کوئی مساوات اس ہم آہنگی کی جانچ میں کھری نہیں اُترتی ہے تو وہ غلط ثابت ہوجاتی ہے، لیکن اگر وہ جانچ میں کھری اُترتی ہے تو اس سے وہ صحیح ثابت نہیں ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کوئی ابعادی طورپر صحیح مساوات لازمی طورپر درست مساوات نہیں ہوتی جب کہ ابعادی طورپر غیر ہم آہنگ مساوات غلط ہوتی ہے۔
مثال 2.15 اس مساوات پر غور کرتے ہیں
جہاںmشے کی کمیت ہے،vاس کی رفتارہے،gارضی کشش کےسبب اسراع ہے اورhاونچائی ہے۔یہ پتہ لگائیےکہ کیا یہ مساوات ابعادی طورپردرست ہے۔
| مثال2.16توانائی کی SI اکائی J = kg m2 s-2،چالvکms-1اوراسراع α کیms-2 ہے۔نیچے دیے گئے حرکی توانائی(K.E)کے فارمولوں میں سے آپکس کوابعادی دلیلوں کے ذریعہ غلط بتائیں گے (m شے کی کمیت ہے)؟ a) K = m2 v3) b) K = (1/2) mv2) c) K = m a) d) K = (3/16) mv2) e) K = (1/2) mv2 + m a) |
جواب
2.10.2 طبیعی مقداروں کے درمیان رشتہ اخذ کرنا
(Deducing Relation among the Physical Quantities)
| مثال 2.17 کسی سادہ پینڈولم پر غور کیجیے۔ فرض کیجیے کہ سادہ پینڈولم کے اہتزاز کا دوراس کی لمبائی ، باب کی کمیت اور ارضی کشش کے اسراع کے تابع ہوتا ہے۔ اس کے اہتزاز کے دورکے لیے ریاضیائی عبارت، ابعاد کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے، حاصل کیجیے |
جواب

خلاصہ
مشق
نوٹ : عددی جوابات لکھتے وقت، بامعنی ہندسوں کا خیال رکھیے
2.1 خالی جگہوں کو بھرئیے:
2.8 درج ذیل کے جواب دیجیے:
2.23 سورج گرم پلازما(آئن شدہ مادہ)ہے جس کے اندرونی قالب(core)کادرجہ حرارت107Kسے زیادہ اوربیرونی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6000Kہے۔اتنے زیادہ درجہ حرارت پر کوئی بھی مادہ ٹھوس یا مائع شکل میں نہیں رہ سکتا۔ سورج کی کمیت–کثافت کے کس رینج میں ہونے کی آپ کو توقع ہے؟ کیا یہ ٹھوسوں کی کثافت کے رینج میں ہے یا مائع یا گیسوں کی؟ اپنے اندازے کی درستگی کی جانچ آپ درج ذیل اعداد وشمار کی بنیادپر کیجیے: سورج کی کمیتسورج کا قطر=
جب سیارہ مشتری زمین سے 8.24.7 ملین (دس لاکھ) کلو میٹر دور ہوتا ہے تو اس کے زاویائی قطر کی پیمائش ایک قوس کا "35.72ہے۔مشتری کے قطرکا حساب لگائیے۔