Skip to content

Tabiyaat-I

باب 4 

مستوی میں حرکت

(Motion in a Plane)

4.1 تعارف
4.2 عددیے اور سمتیے
(scalars and vectors)
4.3 حقیقی اعداد سے سمتیوں کی ضرب
4.4 سمتیوں کی جمع وتفریق–گرافی طریقہ
4.5 سمتیوں کا جزتجزیہ(resolution of 
vectors)
4.6 سمتیہ جمع–تجزیاتی طریقہ
4.7 ایک مستوی میں حرکت
4.8 کسی مستوی میں مستقل اسراع کے ساتھ حرکت
4.9 دو ابعاد میں نسبتی رفتار
4.10 پروجکٹائل حرکت
(projectile motion)
4.11 یکساں دائری حرکت
خلاصہ
قابل غور نکات
مشق
اضافی مشق

4.1  تعارف(INTRODUCTION)  

پچھلے سبق میں ہم نے مقام(position)،نقل(displacement)، رفتار اور اسراع کے تصورات کو فروغ دیا تھا،جن کی کسی شے کی خط مستقیم پرحرکت کابیان کرنے کے لیے ضرورت پڑتی ہے۔ چونکہ یک بعدی حرکت میں محض دو ہی سمتیں ممکن ہیں، اس لیے ان مقداروں کے سمتی پہلوؤں کو + اور _ نشانات  سے ظاہر کرسکتے ہیں لیکن جب ہم اشیا کی حرکت دو ابعاد (two dimensions) (ایک مستوی) یا تین ابعاد (فضا) میں بیان کرنا چاہتے ہیں تب ہمیں درج بالا طبیعی مقداروں کے مطالعہ کے لیے سمتیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے ہم سمتیوں کی زبان سیکھیں گے۔ سمتیہ کیا ہے؟ سمتیوں کو کسیے جوڑا، نفی کیا یا ضرب کیا جاتا ہے؟ سمتیوں کو کسی حقیقی عدد سے ضرب کریں توہمیں کیا نتیجہ حاصل ہوگا؟ یہ سب ہم اس لیے سیکھیں گے تاکہ مستوی میں کسی شے کی رفتار اور اسراع کو معرف کرنے کے لیے ہم سمتیوں کا استعمال کرسکیں۔اس کے بعد ہم مستوی میں کسی شے کی رفتار پر بحث کریں گے۔ کسی مستوی میں حرکت کی آسان مثال کے طورپر ہم یکساں اسراعی حرکت کا مطالعہ کریں گے اور ایک پروجکٹائل حرکت کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کریں گے۔ دائری رفتار سے ہم اچھی طرح واقف ہیں جس کی ہماری روز مرہ زندگی میں خاص اہمیت ہے۔ ہم یکساں دائری حرکت کا تفصیلی بیان کریں گے۔
ہم اس باب میں جو مساواتیں حاصل کریں گے ان کی آسانی سے سہ ابعادی حرکت کے لیے توسیع کی جاسکتی ہے۔

4.2    عددیے اور سمتیے  (SCALARS AND VECTORS)

طبیعیات میں ہم طبیعی مقداروں کو عددیہ اور سمتیہ میں درجہ بند کرسکتے ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سمتیہ کے ساتھ سمت منسلک ہوتی ہے جبکہ عددیہ کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ایک عددیہ مقدار وہ مقدار ہوتی ہے جس میں محض عددی قدر(magnitude) ہوتی ہے۔ اس کو صرف  ایک واحد عدد اور موزوں اکائی کے ذریعہ مکمل طورپر معین کیاجاسکتا ہے۔ اس کی مثالیں ہیں: دو نقاط کے درمیان کی دوری، کسی شے کی کمیت (mass)،کسی جسم کا درجہ حرارت اور وہ وقت جس میں کوئی وقوعہ واقع ہوتا ہے۔ عددیہ کے اجتماع میں وہی اصول لاگو ہوتے ہیں جو عام طورپر الجبرا میں بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ عددیہ کو ہم ٹھیک ویسے ہی جمع کرسکتے ہیں، تفریق کرسکتے ہیں، ضرب یا تقسیم کرسکتے ہیں جیسے کہ ہم اعداد کے ساتھ کرتے ہیں۔ مثال کے لیے اگر کسی مستطیل کی لمبائی اور چوڑائی علی الترتیبPic1 Ch4, Page2ہے تو اس کا احاطہ (perimeter) چاروں بازوؤں کی لمبائیوں کی جمع

1.0 m + 0.5 m + 1.0 m +0.5 m =3.0 m

ہوگا۔ ہربازو کی لمبائی ایک عددیہ ہے اور احاطہ بھی ایک عددیہ ہے۔ ہم ایک دوسری مثال پر غور کریں گے: اگر کسی ایک دن کا زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت علی الترتیبPic3 Ch4, Page2ہے تو ان دونوں کا فرق 11.4oC ہوگا۔اس طرح اگر الومنیم کے کسی ہموار ٹھوس مکعب کا بازو  10cmہےاوراس کی کمیت    2.7kg ہے تو اس کا حجم

10-3 m3

 ایک عددیہ) ہوگا اور کثافت)

بھی ایک عددیہ ہے۔

2.7 × 103 kg m-3

ایک سمتیہ مقدار وہ ہے جس میں عددی قدر اور سمت دونوں ہوتے ہیں اور وہ جمع کے قانون مثلث (triangle law of addition)یا معاول طور پر جمع کے متوازی الاضلاع قانون (parallelogram law of addition)کی تعمیل کرتا ہے۔ اس طرح ایک سمتیہ کو اس کی قدر کے عدد اور سمت کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ ایسی مقداریں جو سمتیوں کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہیں: نقل(displacement) ، رفتار، اسراع اور قوت۔
سمتیہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہم اس کتاب میں موٹے حروف کا استعمال کریں گے،جیسے کہ رفتار سمتیہ کو ظاہر کرنے کے لیے v علامت کا استعمال کریں گے۔ لیکن ہاتھ سے لکھتے وقت چونکہ موٹے حروف کا لکھنا تھوڑا مشکل ہوتاہے، اس لیے ایک سمتیہ کو حرف کے اوپر تیر لگاکر ظاہر کرتے ہیں، Pic8 Ch4, Page2دونوں ہی رفتار سمتیہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ سمتیہ کی عددی قدر کو اکثر ہم اس کی مطلق قدر کہتے ہیں۔ اور اسے v ­ | =v| کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح ایک سمتیہ کو ہم موٹے حرف جیسے A یا a
 p, q, r, .... x, y سے ظاہر کرتے ہیں، جب کہ ان کی عددی قدروں کو ہم علی الترتیب A یا a, p, q, r, .... x, yکے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔

4.2.1  مقام اور نقل سمتیے

(Position and Displacement Vectors)

کسی مستوی میں متحرک شے کے مقام کو ظاہر کرنے کے لیے ہم آسانی کے لحاظ سے کسی نقطہ O کو مبدا (origin) کے طورپر چنتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ دومختلف اوقات t اور t' پر شے کے مقامات علی الترتیب P اور P' ہیں[شکل(a) [4.1]۔ ہم P کو O سے ایک خط مستقیم سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح O P وقت t پر شے کا مقام سمتیہ ہوگا۔ اس خط کے آخری سرے پر ایک تیر کا نشان لگا دیتے ہیں۔ اسے کسی علامت (مان لیجیے) r سے پیش کرتے ہیں، یعنی O P = r۔ اسی طرح نقطہ  P' کو ایک دوسرے مقام سمتیہ  O P' یعنی r' سے ظاہر کرتے ہیں۔ سمتیہ r یا r' کی لمبائی اس کی عددی قدر کو ظاہر کرتی ہے اور O سے دیکھنے پر P اورP' جس سمت میں واقع ہوں، سمتیہ کی سمت بھی وہی کہلائے گی۔  اگر شے P سے چل کر P' پر پہنچ جاتی ہے تو سمتیہ P P' (جس کی دم P پر اور چوٹی P' پر ہے) نقطہ P (وقت t ( سے P' (وقت t') تک حرکت کا نقل یا نقل سمتیہ (displacement vector) کہلاتا ہے۔
Pic9 Ch4, Page3

شکل4.1 (a) مقام اور نقل سمتیے (b) نقل سمتیہ  PQ اور حرکت کے مختلف راستے

     یہاں یہ بات اہم ہے کہ نقل سمتیہ کو ایک خط مستقیم سے ظاہر کرتے ہیں جو شے کے آخری مقام کو اس کے ابتدائی مقام سے جوڑتا ہے اور یہ اس حقیقی راستے پر انحصار نہیں کرتا جو شے کے ذریعہ نقاط کے درمیان طے کیا جاتاہے۔ مثال کے لیے، جیسا کہ شکل 4.1b میں دکھایا گیاہے، ابتدائی مقامP اور آخری مقامQ کے درمیان طے کردہ دوریاں جیسے PABCQ,PDQ اور PBEFQ الگ الگ ہیں لیکن نقل سمتیہ
Pic10 Ch4, Page3 ہرصورت میں وہی ہے۔ اس طرح، کسی بھی دو نقاط کے درمیان نقل سمتیہ کی عددی قدر یا تو متحرک شے کی راہ کی لمبائی سے کم ہوتی ہے یا اس کے برابر ہوتی ہے۔ پچھلے باب میں بھی ایک خط مستقیم پر حرکت کے ضمن میں بحث کرتے وقت اسی حقیقت پر زور دیا گیا تھا۔ 

4.2.2  سمتیوں کی مساویت   (Equality of Vectors)

دو سمتیوں A اور B کو صرف تبھی برابر کہا جاسکتا ہے جب ان کی عددی قدریں برابر ہوں اور ان کی سمت یکساں ہو**۔
*      عددیوں کی جمع وتفریق صرف انہیں مقداروں کے لیے بامعنیٰ ہوتی ہے جن کی اکائیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ تاہم، آپ مختلف اکائیوں کے سمتیوں کو ضرب اور تقسیم کرسکتے ہیں۔
* ہمارے مطالعہ میں سمتیوں کے مقامات متعین نہیں ہیں۔اس لیے جب ایک سمتیہ کو خود اس کے متوازی منتقل کرتے ہیں تو سمتیہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اس طرح کے سمتیہ کو ہم آزاد سمتیہ کہتے ہیں۔ حالانکہ طبیعی استعمال میں سمتیہ کے مقام یا اس کا اطلاقی خط اہم ہوتاہے۔ایسے سمتیوں کو ہم مقامی (localized) سمتیہ کہتے ہیں۔ (باب 7 دیکھیے)-
شکل [4.2 (a)] میں دو مساوی سمتیوں A اور Bکو دکھایا گیا ہے۔ ہم ان کی مساویت کی جانچ آسانی سے کرسکتے ہیں۔ B کو اس کے متوازی کھسکائیے تاکہ اس کی دم Q سمتیہ A کی دم پرمنطق ہوجائے۔ پھر چونکہ ان کے چوٹیاں S اور P بھی منطبق ہیں لہٰذا دونوں سمتیے برابر کہلائیں گے۔
Pic11 Ch4, Page3

شکل 4.2 (a) دو مساوی سمتیہ A اور B ، (b)  دو سمتیہ A' اور B' غیر مساوی ہیں اگرچہ ان کی لمبائیاں مساوی ہیں۔

عمومی شکل میں اس مساویت کو A = B کے طورپر لکھتے ہیں۔ اس بات پر غور کیجیے کہ شکل 4.2 (b) میں اگرچہ سمتیے A' اور B' کی عددی قدر مساوی ہے مگر پھر بھی دونوں سمتیے مساوی نہیں ہیں کیونکہ ان کی سمتیں الگ الگ ہیں۔ اگر ہم B' کو اس کے ہی متوازی کھسکائیں جس سے اس کی دم Q' A'کی دم O' سے منطبق ہوجائے تو بھی B' کی چوٹی ,S' A'کی چوٹی P' پر منطبق نہیں ہوگی۔

4.3  حقیقی اعداد سے سمتیوں کی ضرب

(MULTIPLICATION OF VECTORS BY REAL 

NUMBERS)

اگر ایک سمتیہ Aکو کسی مثبت عددl سے ضرب کریں تو ہمیں ایک سمتیہ ہی ملتا ہے جس کی عددی قدر A کی عددی قدر کیλ گنا  ہوجاتی ہے اور جس کی سمت بھی وہی ہے جو A کی ہے۔ اس حاصل ضرب کو ہم λA لکھتے ہیں۔
(اگر 0 < λ |   | λ= | A 
مثال کے لیے اگر Aکو 2 سے ضرب کیا جائے تو حاصل سمتیہ 2A ہوگا [شکل 4.3 (a)] جس کی سمت A کی سمت ہوگی اور عددی قدرçAçکی دوگنی ہوگی۔ 
سمتیہ A کو اگر ایک منفی عدد l سے ضرب کریں تو سمتیہ lA حاصل ہوتا ہے جس کی سمت A کی سمت کی مخالف ہے اور جس کی عددی قدر çAç کی (-l) گنی ہوتی ہے۔
اگر کسی سمتیہ A کو منفی اعداد −1 اور −1.5 سے ضرب کریں تو حاصل سمتیے 4.3 (b) جیسے ہوں گے۔
61
شکل 4.3  (a) سمتیہ A اور اسے مثبت عدد سے ضرب کرنے پر حاصل سمتیہ  (b) سمتیہ A اور اسے منفی اعداد1− اور1.5 − سے ضرب کرنے پر حاصل سمتیہ
جس جزضربی λ کے ذریعہ سمتیہ A کو ضرب کیا جاتاہے وہ کوئی عددیہ ہوسکتا ہے اور اس کی اپنی طبیعی ابعاد (dimension) کچھ بھی ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا λ Aکے ابعاد λ اور A  کے ابعاد کے حاصل ضرب کے برابر ہوں گے۔ مثال کے لیے اگر ہم کسی مستقلہ رفتار سمتیہ کو کسی مدت (وقت) سے ضرب کریں تو ہمیں ایک نقل سمتیہ حاصل ہوگا۔

62
63
شکل 4.4 (a) سمتیے A اور B  (b)  سمتیوں A اور B کو گرافی طریقے سے جوڑاگیا   (c) سمتیوں Bاور Aکو گرافی طریقے سے جوڑا گیا  (d)  سمتیوں کے جوڑ سے متعلق اتصالی قانون

4.4  سمتیوں کی جمع وتفریق: گرافی طریقہ

(ADDITION AND SUBTIRACTION OF VECTORS: GRAPHICAL METHOD)

جیسا کہ حصہ 4.2 میں بتایاجاچکاہے کہ تعریف کے رو سے سمتیے جمع کے قانون مثلث یا معادل طورپر جمع کے متوازی الاضلاع کے قانون کی تعمیل کرتے ہیں۔ اب ہم گرافی طریقے کے ذریعہ جمع کے اس قانون کو بیان کریں گے۔ جیسا شکل 4.4(a) میں دکھایا گیا ہے، کسی مستوی میں واقع دوسمتیوں A اور B پر غور کرتے ہیں۔ ان سمتیوں کو ظاہر کرنے والے خطی قطعات کی لمبائیاں سمتیوں کی عددی قدروں کے متناسب ہوتی ہیں۔ جمع A+B حاصل کرنے کے لیے شکل4.4(b) کے مطابق ہم سمتیہ B اس طرح رکھتے ہیں کہ اس کی دم سمتیہ A کی چوٹی پر ہو۔ پھر ہم A کی دم کو B کے سرے سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہ خط OQ حاصل سمتیہ R کو ظاہر کرتا ہے جوسمتیوں A اور B کا حاصل جمع ہے۔ چونکہ سمتیوں کے جوڑنے کے اس طریقے میں ایک سمتیہ  کی چوٹی کو دوسرے کی دم سے جوڑتے ہیں، اس لیے اس گرافی طریقے کو چوٹی سے دم (ہیڈ۔ٹو۔ٹیل) (head-to-tail) طریقے کے نام سے جاناجاتاہے۔دونوں سمتیے اور ان کا حاصل کسی مثلث کے تین ضلعے تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیے اس طریقے کو سمتیوں کی جمع کا مثلث قانون (triangle method of vector addition)بھی کہتے ہیں۔ اگر ہم B+A کا حاصل معلوم کریں تو بھی ہمیں وہی سمتیہ R حاصل ہوتاہے ]شکل 4.4(c) [ اس طرح سمتیوں کی جمع تقلیبی(commutative) ہوتی ہے۔ 
(A + B = B + A       (4.1
سمتیوں کی جمع اتصالی قانون(associative law)  کی بھی تعمیل کرتی ہے جیسا کہ] شکل 4.4(d) [میں دکھایا گیا ہے۔ سمتیوں A اور B کو پہلے جوڑ کر اور پھر سمتیہ C کو جوڑنے پر جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ وہی ہے جو سمتیوں B اور C کو پہلے جوڑ کر پھر A کو جوڑنے پر ملتا ہے، یعنی
(4.2) (A+B) + C = A + (B + C)
دومساوی اور مخالف سمتیوں کو جوڑنے پر کیا نتیجہ ملتا ہے؟ ہم دو سمتیوں A اور−A (جو A کا مساوی لیکن مخالف ہے) جنہیں [شکل 4.3 (b) ]میں دکھایا ہے، پر غور کرتے ہیں۔ ان کی جمع A + (−A) ہے کیونکہ سمتیوں کی قدریں وہی ہیں لیکن سمتیں مخالف ہیں، اس لیے حاصل کی قدر0 سے ظاہر کی جاتی ہے اور اسے معدوم (null) سمتیہ یا صفر سمتیہ (zero  vector)کہتے ہیں۔
(4.3) A _ A = 0 ,  |0| = 0
چونکہ معدوم سمتیہ کی عددی قدر صفر ہے اس لیے اس کی سمت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل جب ہم ایک سمتیہ A کے عدد کو صفر سے ضرب کرتے ہیں تو نتیجہ ہمیں ایک نل سمتیہ ہی ملے گا۔ 0کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں :
A + 0 = A
λ l0 = 0                             
(4.4) 0A = 0    
صفر سمتیہ کا طبیعی مطلب کیا ہے؟ جیسا کہ [شکل 4.1 (a) ]میں دکھایا گیا ہے۔ ہم ایک مستوی میں مقام اور نقل سمتیوں پر غور کرتے ہیں۔ مان لیجیے کہ کسی وقت t پر کوئی شے P پر ہے۔ اور وہ P' تک جاکر پھر P پر واپس آجاتی ہے۔ ایسی حالت میں شے کا نقل کیا ہوگا؟ چونکہ ابتدائی اور آخری مقام منطبق ہوجاتے ہیں، اس لیے نقل ’’معدوم سمتیہ‘‘ ہوگا۔
سمتیوں کی تفریق کوسمتیوں کی جمع کی اصطلاح میں معرف کیا جاسکتا ہے۔ دوسمتیوں A اور B کے فرق کو ہم دو سمتیوں A اور _B کی جمع کے طورپر درج ذیل سے ظاہر کرتے ہیں:
64
شکل 4.5 (a) دوسمتیے A اور B،  _B کو بھی دکھایا گیا ہے۔ (b)  سمتیہ A سے سمتیہ B کو نفی کرنے پر حاصل R2 ہے۔ موازنہ کے لیے  سمتیوںA اور B کا جوڑ یعنی R1 بھی دکھایا گیاہے
65
شکل 4.6 (a) دو سمتیے A اور B، جن کی دُمیں ایک مشترکہ مبدا پر ہیں۔ (b) متوازی الاضلاع کے طریقے کے ذریعہ A + B کا جمع حاصل کرنا  (c) دوسمتیوں کو جوڑنے کی متوازی الاضلاع کا طریقہ مثلث طریقے کے معادل ہے۔
(4.5) (A_B = A +(B)
اسے شکل 4.5 میں دکھایا گیا ہے۔ سمتیہ _B کو سمتیہ A میں جوڑ کر (R2 = (A_Bحاصل ہوتا ہے۔ موازنہ کے لیے اسی شکل میں سمتیہ R1= A+B کو بھی دکھایا گیا ہے۔ متوازی الاضلاع کے طریقے کا استعمال کرکے بھی ہم دوسمتیوں کی جمع حاصل کرسکتے ہیں۔ مان لیجیے ہمارے پاس دو سمتیہ A اور B ہیں۔ ان سمتیوں کو جوڑنے کے لیے ان کی دم کو ایک مشترک بنیادی نقطہ O پر لاتے ہیں جیسا کہ[ شکل 4.6 (a)] میں دکھایا گیا ہے۔ پھر ہم A کی چوٹی سے B کے متوازی ایک خط کھینچتے ہیں اور B کی چوٹی سے A کے متوازی ایک دوسرا خط کھینچ کر متوازی الاضلاع OQSP پورا کرتے ہیں۔ جس نقطہ پر یہ دونوں خط ایک دوسرے کوکاٹتے ہیں، اسے مبدا O سے جوڑ دیتے ہیں۔ حاصل سمتیہ R کی سمت مشترکہ مبدا O سے متوازی الاضلاع کے وتر (OS) کی سمت میں ہوگی[شکل 4.6 (b)]۔ [شکل 4.6 (c) ] میں سمتیوں A اور B کا حاصل نکالنے کے لیے قانون مثلث (triangle law)کا استعمال دکھایا گیا ہے۔ دونوں شکلوں سے ظاہر ہے کہ دونوں طریقوں سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ اس طرح دونوں طریقے مساوی ہیں۔

مثال  4.1کسی دن بارش
35 m s-1
 کی چال سے عمودی طورپر نیچے کی جانب آرہی ہے۔ کچھ دیر بعد ہوا
12 m s-1 کی چال سے مشرق سے مغرب کی سمت کی طرف چلنے لگتی ہے۔ بس اسٹاپ پر کھڑے کسی لڑکے کو اپنا چھاتا کس سمت میں پکڑنا چاہیے؟


66
جواببارش اور ہوا کی رفتاروں کو سمتیوں vr اور vw سے شکل 4.7 میں دکھایا گیا ہے۔ ان کی سمتیں سوال کے مطابق ظاہر کی گئی ہیں۔ سمتیوں کی جمع کے قانون کے مطابق vr اور vw کا حاصل R شکل میں کھینچا گیا ہے۔ R کی قدر ہوگی،

67
عمودی سمت سے R کے ذریعہ بنایا جانے والا زاویہ θ یوں دکھایا جاسکتا ہے:
68
                   یا
θ = tan -1 (0.343) = 19º

لہٰذا لڑکے کو اپنا چھاتا عمودی مستوی میں عمودی سمت سے 19o کا زاویہ بناتے ہوئے مشرق کی سمت میں رکھنا چاہیے۔

4.5 سمتیوں کا  جز تجزیہ(RESOLUTION OF           

VECTORS)

مان لیجیے کہ a اور b کسی مستوی میں مختلف سمتوں والے دو غیر صفر سمتیے ہیں اور A اسی مستوی میںکوئی دیگر سمتیہ ہے۔ تب Aکو دو سمتیوں کی شکل میں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ ایک سمتیہ aکو کسی حقیقی عدد سے حاصل ضرب کرکے اور اسی طرح دوسرے سمتیہbکو کسی دوسرے حقیقی عدد سے ضرب کرکے حاصل کیا جاسکتاہے۔ ایسا کرنے کے لیے پہلے Aکھینچیے جس کی دم O اور چوٹی P ہے۔ پھر O سے a کے متوازی ایک خط مستقیم کھینچیے اور P سے ایک خط مستقیم b کے متوازی کھینچیے۔ مان لیجیے وہ ایک دوسرے کو Q پر قطع کرتے ہیں۔ تب
(4.6) A = OP = OQ + QP
لیکن چونکہ OQ, a کے متوازی ہے اور QP, b کے متوازی ہے اس لیے
(4.7) OQ =  λ a, QP = μ b
جہاں  λ اور μحقیقی اعداد ہیں۔
(4.8) لہٰذا، A = μ a +  λ b
69

شکل 4.8 دو غیر خطی سمتیے a اور b  (a)  سمتیہ A کا a اور b کی اصطلاحات میں جزتجزیہ

            ہم کہہ سکتے ہیں کہ A کو a اور b کی سمت دو اجزا، علی الترتیب سمتیہ a  λ اورسمتیہ μ b میں جز تجزیہ کردیا گیا ہے۔ اس طریقے کا استعمال کرکے ہم کسی سمتیہ کو دو سمتی اجزا میں جز تجزیہ کرسکتے ہیں اس طرح کہ یہ تینوں ایک ہی مستوی میں واقع ہوں۔ اکائی عددی قدر کے سمتیوں کی مدد سے مستطیل نما کارتیزی نظام کے مطابق کسی سمتیہ کا جز تجزیہ آسان ہوتا ہے۔ ایسے سمتیوں کو اکائی سمتیہ (unit vector)کہتے ہیں۔ جس پر اب ہم غور کریں گے۔ اکائی سمتیہ(Unit Vector) : اکائی سمتیہ وہ سمتیہ ہوتا ہے جس کی عددی قدر ایک ہو اور جو کسی خصوصی سمت میں ہو۔ نہ تو اس کے کوئی ابعاد ہوتی ہیں اور نہ ہی کوئی اکائی۔ محض سمت کا تعین کرنے کے لیے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ شکل 4.9(a) میں دکھائے گئے ایک مستطیل نما کارتیزی  نظام کے x, y اور z محوروں کے موافق اکائی سمتیوں کو ہم علی الترتیب 70 اور 71 کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سبھی اکائی سمتیہ ہیں، اس لیے
(4.9) 72
             یہ اکائی سمتیے ایک دوسرے پر عمود ہیں۔ دوسرے سمتیوں سے ان کی الگ شناخت کے لیے ہم نے اس کتاب میں موٹے ٹائپ کے اوپر ایک کیپ (^) لگا دیا ہے۔ کیونکہ اس باب میں ہم صرف دو ابعادی حرکت کا مطالعہ کررہے ہیں لہٰذا ہمیں صرف دو اکائی سمتیوں کی ضرورت ہوگی۔اگر کسی اکائی سمتیہ 73N کو ایک عددیہ λ سے ضرب کریں تو حاصل ایک سمتیہ  73N λ =λ ہوگا۔ عام طورپر کسی سمتیہ A کو درج ذیل سے ظاہر کرسکتے ہیں:
(4.10) 74
جہاں 73N ،A کی سمت میں ایک اکائی سمتیہ ہے۔
       ہم کسی سمتیہ A کو دو ایسے جز تجزیوں میں تحلیل کرسکتے ہیں جو  78i اور77j کی سمت میں ہیں۔ مان لیجیے کہ جیسا [ شکل 4.9 (b) ]میں دکھایا گیا ہے، Aمستوی x-y میں واقع ہے۔  A کی چوٹی سے ہم ایسے خطوط کھنچتے ہیں جو کارتیزی محوروں پر عمود ہیں جیسا شکل[ 4.9(b) ] میں دکھایا گیا ہے اس سے ہمیں دو سمتیہ A1 اور A2 حاصل ہوتے ہیں اس طرح کہ A1 + A2 = A چونکہ A1 اکائی سمتیہ 78iکے متوازی ہے اور A2 اکائی سمتیہ 77j کے متوازی ہے۔
(4.11) 84
یہاں Ax  اور Ayحقیقی اعداد ہیں۔
(4.12)   اس طرح 85
اسے [شکل 4.9(c) ]میں دکھایا گیا ہے۔مقداروں  Ax اور Ay کو ہم سمتیہ A کے x اور yاجزا کہتے ہیں۔ یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ خود  Ax سمتیہ نہیں ہے لیکن   78i Ax ایک سمتیہ ہے اسی طرح77j Ay  ایک سمتیہ ہے۔سادہ ٹرگنومیٹری کا استعمال کرکے Ax اور Ayکو Aکی عددی قدر اور اس کے ذریعہ x محور کے ساتھ بننے والے زاویہ θ کی اصطلاح میں ظاہر کرسکتے ہیں:
  Ax = A cos θ
(4.13)     Ay = A sin θ
مساوات 4.13 سے ظاہر ہے کہ کسی سمتیہ کا جزو، زاویہ q پر منحصر ہوتا ہے اور وہ مثبت، منفی یا صفر ہوسکتا ہے۔
کسی مستوی میں ایک سمتیہ Aکو ظاہر کرنے کے لیے اب ہمارے پاس دو طریقے ہیں۔
(i) اس کی عددی قدر A اور اس کے ذریعہ -x محور کے ساتھ بنائے گئے زاویہ θ کے ذریعہ، یا
(ii) اس کے اجزا Ax اور Ay کے ذریعہ
اگر A اور θ ہمیں معلوم ہیں تو Ax اور Ay کی قدر یں مساوات (4.13) سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔ اگر Ax اور Ay معلوم ہوں تو A اور qکی قدر درج ذیل سے معلوم کی جاسکتی ہے:

80
                    یا
       (4.14)              81
                اور
                       (4.15)          82
83
شکل4.9 (a) اکائیسمتیے78i 77j اور 86k،y،x ،  اور z–  محوروں پر ہیں (b) ایک سمتیہ Aکا، اس کے اجزاء A1اور A2  کو78i اور 77j کی شکل  میں ظاہر کیاگیاہے۔ ،x  اورy محوروں پر، جزتجزیہ کیا گیا ہے۔ (d)سمتیہ A کا -y x اور  zمحوروں کے مطابق اجزا میں جزتجزیہ
* اس بات پر غور کیجیے کہ β، a اور y فضا(space) میں زاویے ہیں۔ یہ ایسے دو خطوں کے جوڑے کے درمیان کے زاویے ہیں جو ہم سطح (coplanar)نہیں ہیں
         
      ابھی تک اس طریقے میں ہم نے ایک x-y مستوی میں کسی سمتیہ کو اس کے اجزا میں جز تجزیہ کیا ہے لیکن اسی طریقے کے ذریعہ کسی سمتیہ Aکا تین ابعاد میں، x،y اور zمحوروں کے مطابق، تین اجزا میں جز تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر A اور y, x اور z محوروں کے درمیان* زاویہ علی الترتیب a،b اورgہوں [شکل 4.9 (d)] تو

                    Ax=A cos a, Ay=A cos β, A= A cosy              [4.16 (a) ] 

عمومی شکل میں
A = Ax 78i + Ay 77j+Az 86k         (4.16b)
سمتیہ A کی عددی قدر
                    87                         (4.16c)
ہوگی۔
ایک مقام سمتیہ r (position vector) کو درج ذیل طورپر ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
 r = x78i + y77j + z 86k          (4.17)
یہاں y, x اور z سمتیہ r کے محوروں z, -y ,-x  -پر اجزا ہیں۔

4.6  سمتیہ جمع: تجزیاتی طریقہ       (VECTOR 

ADDITION : ANALYTICAL METHOD)

اگرچہ سمتیوں کو جوڑنے کا گرافی طریقہ ہمیں سمتیوں اور ان کے حاصل سمتیہ کو واضح طورپر سمجھنے میں مددگار ہوتا ہے، کبھی کبھی یہ طریقہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اس کی صحت و درستی بھی محدود ہوتی ہے۔ سمتیوں کو ان کے متطابق اجزا کو ملاکر جوڑنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ مان لیجیے کہ کسی مستوی x-yمیں دو سمتیہ A اور B ہیں جن کے اجزا  Ay, Ax  اور Bx اور By ہیں تو
A = Ax 78i + Ay77j                      (4.18)
B = Bx i + By77j                                 
مان لیجیے کہ R ان کا حاصل جمع ہے، تو
R = A+B      
(4.19a) 88
     کیونکہ سمتیہ تقلیبی اور اتصالی قوانین کی تعمیل کرتے ہیں، اس لیے مساوات (4.19) میں ظاہر کیے گئے سمتیوں کو درج ذیل طورپر ازسرنو مرتب کرسکتے ہیں:s
      (4.19b)          89
(4.20) کیونکہ               90
(4.21) اس لیے Rx = Ax + Bx, Ry = Ay + By
اس طرح حاصل سمتیہ R کا ہر ایک جزو سمتیوں A اور Bکے متطابق اجزا کی جمع کے برابر ہوتا ہے۔
تین ابعاد (dimensions) میں ، ہمارے پاس ہے:
 91 
اور 
                          Rx = Ax + Bx
                          Ry = Ay + By
(4.22) Rz = Az + Bz
اس طریقہ کو سمتیوں کی کسی بھی تعداد کو جوڑنے اور نفی کرنے کے لیے استعمال میں لاسکتے ہیں۔مثال کے لیے، اگر a, b اور c تینوں سمتیے درج ذیل طرح سے دیے گئے ہوں:

       92 
(4.23a)
                         
تو سمتیہ T = a + b _ c کے اجزا درج ذیل ہوں گے:
    Tx = ax + bx _ cx 
    Ty = ay + by _ cy
                                                                                                        Tz = az + bz _ cz     (4.23b)         

مثال 4.2 شکل 4.10 میں دکھائے گئے دو سمتیوں A اور Bکے درمیان کا زاویہ θ ہے۔ ان کے حاصل سمتیہ کی عددی قدر اور سمت ان کی عددی قدروں اور θ کی اصطلاحات میں نکالیے۔
93
شکل 4.10 
جواب شکل 4.10 کے مطابق مان لیجیے کہ OP اور OQ دوسمتیوں A اور B کو ظاہر کرتے ہیں، جن کے درمیان کا زاویہ θ ہے۔ تب سمتیہ جمع کے متوازی الاضلاع کے قانون کے ذریعہ ہمیں حاصل سمتیہ R حاصل ہوگا جسے شکل میں OS کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔
 اس طرح R = A + B
شکل میں SN, OP پر عمود ہے اور PM، OS پر عمود ہے۔
OS2 = ON2 + SN2
لیکن ON = OP + PN = A + B cos θ
94
شکل4.11

SN = B sin θ
OS2 = (A+B cos q)2 + (B sin q )2
یا R2 = A2 + B2 + 2AB cos θ
(R = √ —————————A2 + B2 + 2AB cos q     (4.24a
مثلث  OSN میں،
SN = OS sin a = R sin a
اور مثلث  PSN میں،
SN = PS sin θ = B sin θ
اس لیے، R  sin a = B sin θ
یا
 (4.24b)
اسی طرح     PM = A sin a = B sin β              
یا 
(4.24c)  95        
مساوات (4.24b) اور (4.24c) کے اتحاد سے ہمیں حاصل ہوتا ہے،
                                                                                                  96             (4.24d)
مساوات (4.24d) استعمال کرتے ہوئے، ہم حاصل کرتے ہیں،
                                                                                                              97        (4.24e)
یہاں R کی قدر مساوات  (4.24a) میں دی گئی ہے۔
                                                                                          98        (4.24f) یا
مساوات (4.24a) سے حاصل Rکی عددی قدر اور مساوات (4.24e) سے اس کی سمت معلوم کی جاسکتی ہے۔ مساوات (4.24a) کو کو سائن کاقانون(Law of cosines)کے طورپر جانا جاتا ہے اورمساوات (4.24 d)کو سائن کا قانون (Law of sines)کہا جاتا ہے۔

مثال 4.3  ایک موٹر بوٹ شمال کی جانب 25 km/h کی رفتار سے متحرک ہے اوراس خطے میں پانی کی دھارا کی رفتار 10 km/h ہے۔ پانی کی دھارا کی سمت جنوب سے مشرق کی طرف 60º پر ہے۔ موٹر بوٹ کی حاصل رفتار دریافت کیجیے۔

جواب شکل 4.11 میں سمتیہ vb موٹر بوٹ کی رفتار کو اور vc پانی کی دھارا کی رفتار کو ظاہر کرتے ہیں۔ سوال کے مطابق شکل میں ان کی سمتیں دکھائی گئی ہیں۔ سمتیہ جمع کے متوازی الاضلاع طریقہ کے مطابق حاصل Rکی سمت شکل میں دکھائی گئی ہے۔ کو سائن قانون کا استعمال کرکے ہمRکی عددی قدر نکال سکتے ہیں۔
               99
Rکی سمت معلوم کرنے کے لیے ہم سائن قانون کا استعمال کرتے ہیں۔
یعنی
           100

4.7  ایک مستوی میں حرکت

(MOTION IN A PLANE)

اس حصّہ میں ہم یہ دیکھیں گے کہ سمتیہ کے استعمال سے  دوابعاد میں حرکت کو کس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

4.7.1    مقام سمتیہ اور نقل      (Position Vector and   

Displacement)

کسی مستوی میں واقع ذرے Pکا، x-yحوالہ جاتی فریم کے مبدے کے مطابق مقام سمتیہr ]شکل [4.12 درج ذیل مساوات سے ظاہر کرتے ہیں:
                          101
یہاںx اورy،xاورyمحوروں کے مطابقrکے اجزاہیں۔ انہیں ہم شے کے کوآرڈی نیٹس بھی کہہ سکتے ہیں۔

102
شکل 4.12 (a) ایک ذرّے کے مقام سمتیہ (b)  rنقلΔrاور  اوسط رفتارv ہے۔
  مان لیجیے کہ ایک ذرّہ شکل4.12میں موٹے خط سے ظاہر کیے گئے مخنی پر حرکت کرتا ہے۔ کسی وقتtپر اس کا مقامPہے اور دوسرے وقت't پر اس کا مقام'Pہے۔ذرے کے نقل کو ہم درج ذیل طور پر لکھیں گے:
   (Δr  = r' – r                   (4.25
جوP سے 'P کی سمت میں ہے۔
مساوات 4.25کو ہم سمتیوں کے اجزا کی شکل میں درج ذیل طورپر ظاہر کرسکتے ہیں:
104
جہاں،                    (4.26)  Δx = x' – x, Dy = y' – y    
رفتار(Velocity) 
شے کے نقل اور اس کے متطابق وقفہ وقت کی نسبت کو ہم اوسط رفتار (average speed,v–)کہتے ہیں، لہٰذا:
      106
یا                                   107          
چونکہ108 ،اوسط رفتار کی سمت وہی ہوگی، جوΔrکی ہے۔ (شکل4.12) متحرک شے کی رفتار(ساعتی رفتار) اوسط رفتار کی انتہائی قدر(limiting value)جبکہ وقفہ وقت صفر کے نزدیک تر ہو، سے دی جاتی ہے۔
              (4.28)       109
       شکل4.13 (a) تا 4.13 (d)کی مدد سے اس انتہائی قدر کو معلوم کرنے کے عمل کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان شکلوں میں موٹا خط آلے کے ذریعے اختیار کی گئی راہ کو ظاہر کرتا ہے جو وقتtپرنقطہPپر ہے۔اس شے کے مقامات،Δt1,Δt2, Δt3 وقتوں کے بعد علی الترتیب،  P1, P2 P3سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان وقتوں میں ذرے کا نقل علی الترتیبΔr1,Δr2,Δr3 ,ہے۔ شکلوں(a),(b),c)میں، علی الترتیب، Dtکی تنزلی قدروں یعنیΔt1،Δt2اورΔt3کے لیے ذرّہ کی اوسط رفتار–vکی سمت کو دکھایا گیا ہے ۔ یعنی (Δt1>Δt2>Δt3) جیسے ہیΔt→0،Δr→0اوسط رفتار کی سمت راہ کے مماس(tangent)کی سمت ہوجاتی ہے]شکل[4.13(d)۔راہ کے کسی بھی نقطے پر، ایک شے کی رفتار کی سمت، اس نقطہ پر ، راستہ پر مماسی ہوتی ہے اور حرکت کی سمت میں ہوتی ہے۔
ہم اجزاء کی شکل میں 110کو لکھ سکتے ہیں :
                                       (4.29)      111        
                                                 112  
113
شکل4.13 جیسے جیسے وقفہ وقتΔt، صفرکے نزدیک تر ہوتا جاتا ہے، اوسط رفتار، رفتار110 کے نزدیک تر ہوتی جاتی ہے۔ 110کی سمت اس خط کے متوازی ہے جو راستہ پر مماس ہے۔
جہاں،     (4.30a) 114 
       لہٰذا اگر وقت کے تفاعل کے طور پر ہمیں کوآرڈی نیٹس (x(coordinaters اورyکی ریاضیاتی عبارتیں معلوم ہیں تو ہم درج بالا مساواتوں کا استعمال vxاورvyنکالنے میں کر سکتے ہیں۔
سمتیہvکی عددی قدر درج ذیل ہوگی،
                                                                                                              115             (4.30b)
اورv کی سمت زاویہ θ کے ذریعہ درج ذیل طور پرظاہر ہوگی:
                                                                                            116            (4.30 c)    
ایک رفتار سمتیہv کے لیے،vy ،vx اورθ شکل 4.14 میں دکھائے گئے ہیں۔
117
رفتار v کے جزو vy , vx اور زاویہ جو یہ x محور سے بناتاہے۔ نوٹ کریں کہ
vx = v cos θ, vy = v sin θ
اسراع  (Acceleration)   x-yمستوی میں متحرک شے کا اوسط اسراعaاس کی رفتار میں تبدیلی اور اس کے متطابق وقفہ وقتΔtکے تناسب کے برابر ہوتا ہے۔
 (4.31a)            118                 
یا،                         119
(4.31b)    
اسراع (لمحاتی اسراع) اوسط اسراع کی وہ انتہائی قدر ہے جو وقفہ وقت کو صفر کے نزدیک ترکرنے پر حاصل ہوتی ہے۔
(4.32 a)              120
چونکہ                              121 ہمارے پاس 
                         122
(4.32 b)                       123  
جہاں،
(4.32 c)         124

     125 
شکل  4.15 تین وقفہ وقت(a) Δt1, (b)Δt2, (c) Δt3, (Δ1>Δt2>Δt3)کے لیے اوسط اسراع(Δt→0 (d)حد کے تحت اوسط اسراع شے کا اسراع ہوجاتا ہے۔ 
∗ x اور y معاملے میں ،a اور a کو اس طرح ظاہر کیاجاسکتاہے۔
  رفتار کی طرح یہاں بھی شے کی حرکت کے راستے کو ظاہر کرنے والے گراف کے ذریعے، اسراع کی تعریف کے لیے ہم گر افی طریقے سے انتہائی قدر حاصل کرنے کے عمل کو سمجھ سکتے ہیں۔ اسے شکلوں4.15(a) تا4.15 (d) میں دکھایاگیا ہے۔ کسی وقتt پر ذرے کے مقام کو نقطہPکے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔(Δt1,Δt2,Δt3 (Δt1>DΔ2>Δt3) وقت کے بعد ذرے کے مقام علی الترتیب نقاط P2, P3, P1کے ذریعہ ظاہر کیے گئے ہیں۔ شکلوں)b,a(4.15اورcمیں ان سبھی نقاط، P3،P2،P1،Pپر رفتار سمتیوں کو بھی دکھایا گیاہے۔ہر ایکΔtکے لیے سمتیے جمع کے مثلث قانون کا استعمال کرکےΔvحاصل کی گئی ہے تعریف کے مطابق، اوسط اسراع کی سمت وہی ہے جو Δ→vکی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے Δtکی قدر گھٹتی جاتی ہے ویسے ویسےΔvکی سمت بھی بدلتی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں اسراع کی بھی سمت بدلتی ہے۔آخرکارΔt→0حدمیں شکل[4.15](d)اوسط اسراع ، ساعتی اسراع ہوجاتا ہے اور اس کی سمت دکھائی گئی شکل کے مطابق ہوتی ہے۔
 غور کریں کہ ایک بُعد میں شے کی رفتار اور اسراع ہمیشہ ایک ہی خطِ مستقیم پر ہوتے ہیں (وہ یا تو ایک ہی سمت میں  ہوتے ہیں یا مخالف سمت میں) لیکن دو یا تین ابعاد میں  حرکت کے لیے رفتار اور اسراع سمتیوں کے درمیان0ºسے 180ºکے درمیان کوئی بھی زاویہ ہوسکتا ہے۔
مثال4.4کسی ذرے کا مقام 128ہے جہاںtسکینڈ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ دیگر ضربیوں کی اکائی اس طرح ہیں کہ rمیٹر میں ظاہر ہو۔(a)ذرے کاv(t)اور a(t)معلوم کیجیے ؛ t =1 s (b)پرv(t)کی عددی قدر اور سمت معلوم کیجیے

جواب

         129
(y کی سمت)     130
اس کی قدر 131
اس کی سمت ہے،
محور-x کے ساتھ  132

4.8 کسی مستوی میں مستقل اسراع کے ساتھ حرکت

 (MOTION IN A PLANE WITH CONSTANT ACCELERATION)

مان لیجیے کہ کوئی شے ایک مستویx-yمیں حرکت کررہی ہے اور اس کے اسراع یعنی aکی قدر مستقلہ ہے۔کسی وقفہ وقت میں اوسط اسراع اس مستقل اسراع کے برابر ہوگا۔مان لیجیے کسی وقتt=0 پر شے کی رفتارvº اور وقتt پر اس کی رفتارvہے۔
تب تعریف کے مطابق،
133

یا
 (4.32 a)                 134
درج بالا مساوات کو سمتیوں کے اجزاء کی شکل میں درج ذیل طور پر ظاہر کرتے ہیں:
                        
(4.33 b) 135
اب ہم دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ مقام سمتیہ rکس طرح بدلتا ہے۔ یہاں یک بُعدی رفتار کے لیے بتائیے گئے طریقے کا استعمال کریں گے۔ مان لیجیے کہ0اورtوقت پر ذرّے کے مقام سمتیے136 اور  137 ہیں اور ان ساعتوں پرذرے کی رفتارvº اورv ہیں تب وقفہ وقت t-0=tکے دوران ذرے کی اوسط رفتار138ہوگی۔نقل r-r0ہوگا۔ کیونکہ نقل اوبسط رفتار اور وقفہ وقت کا ضربیہ ہوتا ہے:
139
                       
                                       یا
(4.34 a)               139a
یہ بات آسانی سے ثابت کی جا سکتی ہے کہ مساوات (4.34a)کا مشتق(derivative)یعنی dr/dt مساوات(4.33a)دیتا ہے اور ساتھ ہی t=0وقت پرr=rºکی شرط کو بھی پورا کرتا ہے۔ مساوات (4.34a)کو اجزا کی شکل میں درج ذیل طورپر ظاہر کر سکتے ہیں:
(4.34 b)    140      
(4.34b)کی ایک فوری تشریح یہ ہے کہxاورyسمتوں میں حرکات ایک دوسرے پر منحصر نہیں ہوتی ہیں۔ یعنی کسی مستوی (دوابعاد) میں حرکت کو دو الگ الگ ہم وقتی یک بُعدی مستقلہ اسراعی حرکتوں، جو باہمی عمودی سمتوں میں ہوں، کے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ایک اہم نتیجہ ہے جو دوابعاد میں شے کی حرکت کے تجزیے میں کار گر ہوتا ہے۔یہ نتیجہ تین ابعادی حرکت کے لیے بھی ہے۔ بہت سے طبیعی حالات میں دوعمودی سمتوں کاانتخاب آسان ہوتا ہے جیسا کہ پروجکٹائل حرکت کے لیے حصہ(4.10) میں دیکھیں گے۔

مثال4.5وقتt=0پر کوئی ذرہ مبدا سے5.078i m/sکی رفتار سے چلنا شروع کرتاہے۔ x-yمستوی میں اس پر ایک ایسی قوت لگتی ہے جو اس میں مستقل اسراع148پیدا کرتا ہے۔ (a)جس وقت پر ذرے کا   xکوآرڈی نیٹ 8.4m  ہوا اس ساعت پراس کا y کوآرڈی نیٹ کیا ہوگا؟(b)اس ساعت پر ذرے کی چال کیا ہوگی؟

جواب  مسا وات (4.34a) سے 0=rºکےلیےذرے کا مقام دیا جاتا ہے:
149
          اس لیے، 150
دیاہے،           143
اب رفتار کےلیے، 144
t = 6s پر         145
اور چال، 146

4.9 دوابعاد میں نسبتی رفتار

(RELATIVE VELOCITY IN TWO DIMENSIONS)

    حصہ3.7میں کسی خط مستقیم پرحرکت کے لیے جس نسبتی رفتار کے تصور سے ہم متعارف ہوئے ہیں، اس کی کسی مستوی میں یا سہ ابعادی حرکت کے لیے آسانی سے توسیع کر سکتے ہیں۔ ماناکہ دواشیاAاورBرفتاروںvA اورvBسے متحرک ہیں(ہر ایک حرکت کسی مشترک حوالہ جاتی فریم جیسے زمین  کے لحاظ سے)۔لہٰذا شےAکی رفتارBکی نسبت سے:
           (vAB = vA – vB              (4.35a          
اسی طرح شے Aکی نسبت سے شےBکی رفتار درج ذیل ہوگی:
                                  vBA = vB – vA  
اس لیے،                                vAB  = – vBA   
اور،                                    151                                   

مثال 4.6عمودی طور پر35 m s-1کی چال سے بارش ہورہی ہے۔ کوئی خاتون مشرق سے مغرب سمت میں 12 m s-1کی چال سے سائیکل چلا رہی ہیں۔ بارش سے بچنے کے لیے انھیں چھاتا کس سمت میں لگانا چاہیے؟

جواب شکل4.16میں بارش کی رفتار کو vr اورخاتون کے ذریعہ چلائی جا رہی سائیکل کی رفتار کوvb سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رفتاریں زمین کی نسبت سے ہیں۔ چونکہ خاتون سائیکل چلارہی ہے، اس لیے بارش کی جس رفتار کا انھیں احساس ہوگا وہ سائیکل کی رفتار کی نسبت بارش کی رفتار ہوگی۔ یعنی، vrb = vr – vb 

152
شکل  4.16
یہ نسبتی رفتار سمتیہ انتصاب (vertical)کے ساتھ زاویہ q بناتا ہے، جیسا شکل 4.16  میں دکھایا گیا ہے۔یہ دیا جاتا ہے:
                153
یا،        154
      لہٰذا خاتون کو اپنا چھاتا انتصاب سے 190کا زاویہ بناتے ہوئے مغرب کی طرف رکھنا چاہیے۔
آپ اس سوال اور مثال 4.1کے فرق پر غور کیجیے۔ مثال 4.1 میں لڑکے کو دو رفتاروں کے حاصل (سمتیہ جمع) کا احساس ہوتا ہے جب کہ اس مثال میں خاتون کو سائیکل کی نسبت بارش کی رفتار(دونوں رفتاروں کے سمتیہ فرق)کا احساس ہوتا ہے۔

4.10  پروجکٹائل حرکت  (PROJECTILE MOTION)

ْٖاس سے پہلے حصہ میں ہم نے جن تصورات کو فروغ دیا ہے ان کے اطلاق کے طورپر ہم پروجکٹائل کی حرکت کا مطالعہ کریں گے۔ جب کوئی شے اچھالنے کے بعد اڑان میں ہی ہو تو اسے پروجکٹائل کہتے ہیں۔ ایسا پروجکٹائل فٹ بال، کرکٹ کی گیند ،بیس بال یا دیگر کوئی بھی شے ہوسکتی ہے۔ کسی پروجکٹائل کی حرکت کو دوالگ الگ ہم وقتی حرکتوں کے اجزاء کا نتیجہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک جزو بغیر کسی اسراع کے افقی سمت میں ہوتا ہے اور دوسرا جز انتصابی سمت میں ہوتا ہے، جس پر کششِ زمین کے سبب مستقلہ اسراع کام کر رہا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے گیلیلو نے اپنی تحریر ڈائیلاگ آن دی گریٹ ورلڈ سسٹم(1632)میں پروجکٹائل حرکت کے افقی اور عمودی اجزا کی ایک دوسرے سے بے تعلقی یا آزادی کا ذکر کیا تھا۔
اس مطالعہ میں ہم یہ مانیں گے کہ پروجکٹائل کی حرکت پر ہوا کی مزاحمت ناقابلِ لحاظ اثر ڈالتی ہے۔ مانا کہ پروجکٹائل کو ایسی سمت میں v0رفتار سے پھینکا گیا ہے جو x-محور سے(شکل4.17کے مطابق)θº زاویہ بناتی ہے۔
                   155         
                                 یعنی،            
 (4.36)                 ax = 0, ay = – g                         
ابتدائی رفتارvº کے اجزاء درج ذیل ہوں گے:
                                         v0x = v0 cos θº
v0y = v0 sin θº                 (4.37

156
شکل 4.17ایسی شے کی حرکت جسے زاویہ θº پر، رفتار 157teer V کے ساتھ پھینکا (اچھالا) گیا ہے۔

اگر شکل4.17کے مطابق شے کا ابتدائی مقام حوالہ جاتی فریم کے مبدا پر ہو،تو
x0 = 0, y0 = 0
اس طرح مساوات(4.34b)درج ذیل طور پر لکھیں گے:
x = v0x t = (v0 cos θ0 ) t        
اور
(4.38)        y = (v0 sin q0 ) t – ( ½ )g t2
کسی وقتtپر رفتار کے اجزا، مساوات(4.33b)کو استعمال کرکے حاصل کیے جا سکتے ہیں:
vx = vox = vo cos θo
                                                                                                  vx = vo sin θº - g t              (4.39)
        
    مساوات(4.38)سے ہمیں کسی ساعت t پر پروجکٹائل کے-x اور -yکوآرڈی نیٹ دوپیرامیٹروں–ابتدائی رفتار v0 اور ظل زاویہ (projection angle) کی شکل میں حاصل ہوجائیں گے۔ اس بات پر غور کیجیے کہxاور yسمتوں کے باہم عمودی ہونے کے انتخاب سے پروجکٹائل حرکت کے تجزیہ میں کافی آسانی ہوگئی ہے۔ رفتار کے دواجزا میں سے ایک،-xجزو، حرکت کی پوری مدت میں مستقل رہتا ہے جب کہ دوسرا،-yجز،اس طرح تبدیل ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شے انتصابی سمت میں آزادی سے نیچے گر رہی ہو۔ شکل4.18 میں مختلف ساعتوں کے لیے اسے گرافی طریقہ سے دکھایا گیا ہے۔ غور کیجیے کہ  اعظم اونچائی(maximum height) والے نقطے کے لیے: vy=0اور
θ = tan–1 vy /vx = 0

پروجکٹائل کی راہ کی مساوات

(Equation of path of a projectile)

پروجکٹائل کے ذریعہ طے کردہ راہ کی شکل کیا ہوتی ہے؟ اس کے لیے ہمیںراہ کی مساوات نکالنی ہوگی۔ مساوات(4.38)میں دی گئی xاور yعبارتوں سے tکو معدوم کرنے سے درج ذیل مساوات حاصل ہوتی ہے:
(4.40)                             158
چونکہθ0،gاورv0مستقلے ہیں، مساوات(4.40)کو درج ذیل طور پر ظاہر کر سکتے ہیں: y = a x + b x2 اس میںaاورbمستقلے ہیں۔یہ ایک پیرابولا(مکاف) کی مساوات ہے یعنی پروجکٹائل کی راہ مکافی ہوتی ہے۔(شکل 4.18 )

159
شکل  4.18    پروجکٹائل کی راہ مکافی (پیرابولا) ہوتی ہے۔

اعظم اونچائی کا وقت  (Time of maximum height)

پروجکٹائل اعظم اونچائی تک پہنچنے کے لیے کتنا وقت لیتا ہے؟ مان لیجیے کہ یہ وقتtmہے ۔ چونکہ اس نقطے پرvy=0اس لیے مساوات(4.39)سے ہمtm کی قدر نکال سکتے ہیں:
vy = v0 sin θ0 – g tm = 0
یا
tm = v0 sin θ0/g                  (4.41a)
پروجکٹائل کی اڑان کی مدت میں لگا کل وقت Tfہم مساوات(4.38) میںy=0 رکھ کر نکال سکتے ہیں۔ اس لیے
(Tf = 2 (v0 sin θ0)/g                          (4.41b
Tfکو پروجکٹائل کا اڑان وقت (time of flight)کہتے ہیں۔ غور کرنے کی بات ہے کہ Tf=2tm۔مکافی راہ کے تشاکل (symmetry) سے ایسے ہی نتیجے کی توقع کی جاتی ہے۔

پروجکٹائل کی اعظم اونچائی

(Maximum height of a projectile)

مساوات(4.38)میںt=tm رکھ کر پروجکٹائل کے ذریعہ حاصل اعظم ترین اونچائیhm کا حساب لگایا جاسکتا ہے:
                   160
یا
(4.42) 161 

پروجکٹائل کی  افقی سِعت

 (Horizontal range of a Projectile)

ابتدائی مقام(x=y=0)سے چل کر اس مقام تک جب y=0 ہوپروجکٹائل کے ذریعہ چلی گئی دوری کو افقی سِعت (horizontal range,R) کہتے ہیں۔ افقی سِعت اڑان مدت Tfمیں چلی گئی دوری ہے اس لیے رینجRہوگی:
(R  = (v0 cos q0) (Tf
   (v0 cos θ0)  (2 v0 sin θ0)/g =
یا
(4.43 a)                                           162              
مساوات (a4.43 )سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دی ہوئی ظلّی رفتار (projection velocity)  v0کے لیے، Rکی قدر اس وقت اعظم(maximum) ہوگی، جب sin 2q0  کی قدر اعظم ہو، یعنی کہ جب: θ = 45 

مثال 4.7گیلیلیو نے اپنی کتاب ٹونیوسائنسیز(two new sciencesمیں کہا ہے کہ’’ ان ارتفاعات  ے لیے جن کی قدر 45º سے برابر مقداروں میں کم یا زیادہ ہوتی ہیسعتیں (ranges) برابر ہوتی ہیں‘‘۔ اس بیان کو ثابت کیجیے۔

جواب اگر کوئی پروجکٹائل θ0 زاویہ پر ابتدائی رفتار v0 سے پھینکا جائے، تو اس کی سِعت ہوگی:
                                                                                                 163
اب زاویوں (45º+ a) اور (45º - a) کے لیے 2θ0 کی قدر علی الترتیب (90º + 2a) اور (90º - 2a) ہوگی۔sin (90º + 2a) اور sin(90º - 2a) دونوں کی قدر یکساں یعنی cos 2a ہوتی ہے۔ لہٰذا ان ارتفاعات کے لیے جن کی قدر 45º سے برابر مقدار میں کم یا زیادہ ہے، افقی سعتیں برابر ہوتی ہیں۔

مثال 4.8   ایک کوہ پیما(hiker) کسی کھڑی چٹان کے کونے پر کھڑا ہے۔ چٹان زمین سے 490 m اونچی ہے۔ وہ ایک پتھر کو افقی سمت میں 15 m s-1 کی ابتدائی چال سے پھینکتا ہے۔ ہوائی مزاحمت نظر انداز کرتے ہوئے یہ معلوم کیجیے کہ پتھر کو زمین تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا اور زمین سے ٹکراتے وقت اس کی چال کتنی تھی؟

جواب ہم کھڑی چٹان کے کونے کو-x اور -y محور کے بنیادی نقطے اور پتھر پھینکے جانے کے وقت کو t = 0 مانیں گے۔ x- محور کی مثبت سمت ابتدائی رفتار کی طرف اور -y محور کی مثبت سمت عمودی اوپر کی جانب منتخب کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ حرکت کے x- اور -y اجزا ایک دوسرے کے تابع نہیں ہیں، اس لیے
x(t) = x0 + v0x t
y(t) = y0 + v0y t + (1/2) g t2        
یہاں
,x0=y0=0, v0y=0, ay= – g = - 9.8 m s-2 
v0x = 15 m s-1
پتھر اس وقت زمین سے ٹکراتا ہے جب y(t) =_ 490 m  ہے۔
–490 m =_ (1/2) (9.8)t2          
یعنی         t = 10 s
رفتار کے اجزا   vx = v0x اور vy = v0y_ g t ہوں گے۔
لہٰذا،جب پتھر زمین سے ٹکراتا ہے، تب
vox = 15 m s-1
voy = 0 - 9.8 × 10 = – 98 m s-1
اس لیے پتھر کی چال ہوگی
164
 
مثال4.9 افقی طور پر اوپر کی جانب30º کا زاویہ بناتے ہوئے ایک کرکٹ گیند28m s-1کی چال سے پھینکی جاتی ہے۔ (a)زیادہ سے زیادہ اونچائی کا حساب لگائیے،(b)اسی سطح پر واپس پہنچنے میں لگے وقت کا حساب لگائیے، اور(c)پھینکنے والے نقطے سے اس نقطے کی دوری جہاں گیند اسی سطح پر پہنچی ہے، کی تحسیب کیجیے۔

جواب  (a) اعظم اونچائی
                       165
(b)اسی سطح پر واپس آنے میں لگا وقت

 Tf  = (2 vo sin qo )/g = (2× 28 × sin 30° )/9.8
      = 28/9.8 s = 2.9 s
(c)پھینکنے والے نقطے سے اس نقطے کی دوری جہاں گیند اسی سطح پر پہنچتی ہے،
166

فضائی مزاحمت کو نظر انداز کرنا۔ مفروضے کی حقیقت کیا ہے؟
       ہوا کی مزاحمت کو نظرانداز کرنا۔ اس مفروضہ کے معنی دراصل کیا ہیں؟ پروجکٹائل حرکت کا مطالعہ کرنے کے دوران ہم نے یہ فرض کرلیا تھا کہ ہوا کی مزاحمت، پروجکٹائل حرکت پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس بیان (مفروضہ) کا دراصل مطلب کیا ہے۔رگڑ، مزوجت  (viscosity)کی قوت‘ ہوا کی مزاحمت، یہ سب اسرافی قوتیں (Dissipative) ہیں۔ان، حرکت کی مخالفت کرنے والی، قوتوں میں سے کسی بھی قوت کی موجودگی میں، شے کی شروعاتی توانائی، اور نتیجتاً شروعاتی معیارِ حرکت، کا کچھ حصّہ ضائع ہوجاتا ہے۔اس لیے ایک پروجکٹائل، جس کا راستہ مکافی ہوتا ہے، وہ بھی ہوا کی مزاحمت کی موجودگی میں اپنے اس مثالی راستے سے کچھ نہ کچھ یقینی طور پر منحرف ہوجائے گا۔زمین سے واپس ٹکراتے وقت اس کی چال بالکل اتنی ہی نہیں ہوگی جس چال سے اسے پھینکا گیا تھا۔

         ہوا کی مزاحمت کی غیرموجودگی میں، رفتار کا -xجز مستقلہ رہتا ہے اور صرف -y جز میں ہی لگاتار تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔لیکن ہوا کی مزاحمت کی موجودگی میں، یہ دونوں اجزاء متاثر ہوں گے۔ اس کا مطلب ہوا کہ سعت کی قدر اس قدر سے کم ہوگی جو مساوات (4.43) سے حاصل ہوتی ہے۔حاصل ہونے والی اعظم اونچائی کی قدر بھی اس قدر سے کم ہوگی جس کی پیشن گوئی مساوات (4.42) کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔اب آپ کیا اڑان وقت میں تبدیلی کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

      ہوا کی مزاحمت سے بچنے کے لیے ہمیں یہ تجربہ خلاء میں یا کم دباؤ کے تحت کرنا ہوگا، جو آسان نہیں ہے۔جب ہم یہ فقرہ استعمال کرتے ہیں: ’’ہوا کی مزاحمت نظرانداز کردیجیے‘‘، تو ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ سِعت، اعظم اونچائی وغیرہ جیسے پیرامیٹروں میں تبدیلی، ان کی اس قدر کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ہوا کی مزاحمت کی غیرموجودگی میں حاصل ہوتی ہے۔ہوا کی غیرموجودگی میں تحسیب، ہوا کی موجودگی میں تحسیب کے مقابلے میں بہت سادہ ہے۔

4.11 یکساں دائری حرکت

(UNIFORM CIRCULAR MOTION)

جب کوئی شے دائری راہ پر مستقلہ چال سے چلتی ہے توشے کی حرکت کو یکساں دائری حرکت کہتے ہیں۔ لفظ’’ یکساں اس چال کے ضمن میں استعمال ہواہے جو شے کی حرکت کی پوری مدت میں یکساں (مستقل) رہتی ہے۔مانا کہ ایک شے نصف قطرRکے دائرہ پر یکساں چال(uniform speed)سے حرکت کررہی ہے، جیسا کہ شکل 4.19میں دکھایا گیا ہے۔کیونکہ شے کی رفتار میں، سمت کے لحاظ سے، لگاتار تبدیلی ہورہی ہے، لہٰذا اس میں اسراع پیدا ہورہا ہے۔ آئیے اس اسراع کی سمت اوراس کی عددی قدر معلوم کریں۔
مانا r اور 'r اور v اور 'v ذرے کے مقام اور حرکت سمتیہ ہیں جب وہ حرکت کے دوران علی الترتیب نقاطP اور 'P پر ہے ]شکل [4.22(a)۔ تعریف کے مطابق، کسی نقطے پر ذرے کی رفتار اس نقطے پر مماس کے موافق حرکت کی سمت میں ہوتی ہے۔ شکل (4.19 a1) میں رفتار سمتیوں v اور 'v کو دکھایا گیا ہے۔ شکل (4.19 a2) میں سمتیہ جمع کے مثلث قانون کا استعمال کرکے Δv حاصل کیا گیا ہے۔ کیونکہ راہ دائری ہے، اس لیے شکل میں ظاہر ہے v,r پر اور v',r' پر عمودہیں، اس لیے Δv, Δr کے عمودی ہوگا۔ چونکہ اوسط اسراع Δv کی سمت میں ہے، (a= Δv—Δt) اس لیے –a بھی Δr کے عمودی ہوگا۔ اب اگر ہم Δv کو اس خط پر رکھیں جو r اور 'r کے درمیان کے زاویے کی تصنیف(bisect) کرتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ اس کی سمت دائرے کے مرکزکی جانب ہوگی۔ انہیں مقداروں کو ]شکل 4.19 b) [میں مقابلتاً چھوٹے وقفہ وقت کے لیے دکھایا گیا ہے۔ Δv، لہٰذاaکی سمت پھر مرکز کی جانب ہے۔ ]شکل 4.19(c) [میں Δ→0 ہے، اس لیے اوسط اسراع، ساعتی اسراع کے برابر ہوجاتا ہے۔ اس کی سمت مرکز کی جانب ہوتی ہے*۔ اس طرح یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یکساں دائری حرکت کے لیے شے کی اسراع کی سمت ہمیشہ دائرے کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ اب ہم اس اسراع کی عددی قدر نکالیں گے۔
            167
شکل4.19 یکساں دائری حرکت کرتی ہوئی شے کےلیے رفتار اور اسراع۔شکل (a) سے (c) تک وقفے Δt گھٹتاجاتاہے (شکل c میں صفر ہو جاتاہے) دائری راہ کے ہر نقطے پر، اسراع کی سمت مرکز کی جانب ہوتی ہے۔
تعریف کے مطابق، a کی عددی قدر درج ذیل فارمولے سے ظاہر ہوتی ہے۔
                         168
        مان لیجیے r اور 'r کے درمیان کا زاویہ Δθ ہے۔ چونکہ رفتار سمتیے v اور v' ہمیشہ مقام سمتیوں کے عمودی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے درمیان کا زاویہ بھی Δθ ہوگا۔ لہٰذا مقام سمتیوں کے ذریعہ بنا مثلث (DCPP') اور رفتار سمتیوں v,v' اور Δv کے ذریعہ بنا مثلث (DGHI)مماثل (مشابہ) (similar) مثلث ہیں ]شکل [4.19(a)۔ اس طرح ایک مثلث کے اساس کی لمبائی اور ضلع کی لمبائی کی نسبت دوسرے مثلث کی متطابق لمبائیوں کی نسبت کے برابر ہوگی۔
یعنی
             174
                   یا
            173
اس لیے،
    170
اگر Δt چھوٹا ہے تو Δθ بھی چھوٹا ہوگا۔ ایسی حالت میں قوس 'PP کو تقریباً Δr کے برابر لے سکتے ہیں:
یعنی 171
              یا
     172                      
اس طرح مرکز جو اسراع (centripetal acceleration ac) کی عددی قدر درج ذیل ہوگی،
 (ac  =   (v / R ) v = v2/R           (4.44
اس طرح کسی R نصف قطروالے دائرہ پر vچال سے متحرک شے کے اسراع کی قدر v2/R ہوتی ہے جس کی سمت ہمیشہ دائرہ کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے اسراع کو مرکز جو اسراع (centripetal acceleration)کہتے ہیں (اس اصطلاح کی تجویز نیوٹن نے پیش کی تھی)۔ مرکز جو اسراع سے متعلق مکمل تجزیہ سب سے پہلے 1673 میں ایک ڈچ سائنس داں کرسچیان ہائی گینس(Christiaan Huygens) (1629 تا 1695) نے شائع کروایا تھا لیکن غالباً نیوٹن کو بھی کچھ سال قبل ہی اس کا علم ہوچکا تھا۔ مرکز جو یعنی ‘‘centripetal’’ لفظ گریک لفظ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب مرکز رخی یا مرکز کی جانب ہے۔ چونکہ v اور R دونوں مستقلے ہیں اس لیے مرکز جو اسراع کی عددی قدر بھی مستقلہ ہوتی ہے۔ تاہم سمت بدلتی رہتی ہے اور ہمیشہ مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ اس طرح مرکز جو اسراع مستقلہ سمتیہ نہیں ہوتا۔
       کسی شے کی یکساں دائری حرکت میں رفتار اور اسراع کو ہم ایک دوسرے طریقے سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ شکل 4.22 کے مطابق (Δt (= t'_t) وقفہ وقت میں جب ذرہ P سے 'Pپر پہنچ جاتا ہے تو خط CP زاویہ Δθ سے گھوم جاتا ہے۔Δθ کو ہم زاویائی فاصلہ کہتے ہیں۔ زاویائی رفتار (1) (گریک حرف، اومیگا) کو ہم زاویائی نقل کی وقت کے ساتھ شرحِ تبدیلی کے طورپر معرف کرتے ہیں۔ اس طرح
(4.45)
اب اگر Δt وقت میں ذرے کے ذریعہ طے کی گئی دوری کو Δs سے ظاہر کریں (یعنی'Δs = PP) تو،
                          175
لیکن Δs = RΔθ, اس لیے
                  176
(4.46) لہٰذا       v = wR
مرکز جو اسراع کو ہم زاویائی 
چال کی شکل میں بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔ یعنی،
      
دائرہ کا ایک چکر لگانے میں شے کو جو وقت لگتاہے اسے ہم اس کا دور T کہتے ہیں۔ ایک سکینڈ میں شے جتنے چکر لگاتی ہے (طواف کرتی ہے) اسے ہم شے کا تعدد (frequency) 178 کہتے ہیں۔ لیکن اتنے وقت میں جس میں شے ایک چکر لگاتی ہے شے کے ذریعہ چلی گئی دوری R179 ہوتی ہے،

180 (4.48)
اس طرح w,v اور ac کو ہم تعداد v کی اصطلاح میں ظاہر کر سکتے ہیں،یعنی
                    181
(4.49)

مثال 4.10 ایک کیڑا،cm  12 نصف قطر کے دائرے کھانچے میں پھنس گیا ہے۔وہ اس کھانچے پر یکساں چال سے چلتارہتا ہے
 اور 100 سکینڈ میں 7 چکر لگالیتا ہے (a) کیڑے کی زیاویاتی چال اور خطی چال کتنی ہوگی ؟ (b) کیا اسراع سمتیہ ایک مستقل سمتیہ ہے۔ اس کی قدر کتی ہوگی؟

جواب
یہ یکساں دائری حرکت کی مثال ہے۔ یہاں
12 cm = R
ہے۔ زاویائی چال (1) کی قدر:
182
اور خطی چال v ہے:
v = w R = 0.44 s-1 × 12 cm = 5.3 cm s-1
دائرے کے نقطے پر رفتار v کی سنت اس نقطہ پر مماسی خط کی سمت میں ہوگی اور اسراع کی سمت دائرے کے مرکز کی جانب ہوگی۔چونکہ یہ سمت لگاتاتار بدلتی رہتی ہے، اس لیے اسراع ایک مستقل سمتیہ نہیں۔
لیکن اسراع کی عددی قدر مستقلہ ہے، یہ عددی قدر ہے:

183

خلاصہ

عددیہ مقداریں وہ مقدار یں ہیں جن میں صرف عددی قدریں (magnitudes) ہوتی ہیں۔ دوری ،چال، کمیت اور درجہ حرارت عددیہ مقداروں کی کچھ مثالیں ہیں۔
سمتیہ مقداریں وہ مقداریں ہیں جن میں قدر اور سمت دونوں ہوتی ہیں۔ نقل، رفتار، اسراع وغیرہ اس طرح کی مقداروں کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ مقداریں سمتیہ الجبرا کے کچھ مخصوص اصولوں کی تعمیل کرتی ہیں۔
اگر کسی سمتیہ Aکو کسی حقیقی عددλ سے ضرب کریں تو ہمیں ایک دوسرا سمتیہ B حاصل ہوتا ہے جس کی عددی قدر A کی عددی قدر کی λ گنا ہوتی ہے۔ نئے سمتیہ کی سمت یا تو A کے سمت ہوتی ہے یا اس کے مخالف۔ سمت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ  λ مثبت ہے یا منفی۔
دوسمتیوں Aاور B کو جوڑنے کے لیے گرافی طریقہ بروئے کار لایا جاتا ہے جس کے لیے یا تو سرسے دُم (head to tail) یا پھرمتوازی الاضلاع طریقے کا استعمال کرتے ہیں۔
سمتیوں کی جمع تقلیبی (commutative)ہوتی ہے:
                                                      A + B = B + A  
یہ اتصالی قانون (associative law)کی بھی تعمیل کرتا ہے:
        (A + B) + C = A + (B + C)
معدوم (Null) یا صفر سمتیہ ایسا سمتیہ ہوتا ہے جس کی عددی قدر صفر ہوتی ہے۔ کیونکہ عددی قدر صفر ہوتی ہے، اس لیے اس کی سمت معین کرنا ضروری نہیں ہے۔
اس کی درج ذیل خاصیتیں ہوتی ہیں:
    A + 0 = A
      λ0 = 0  
    0A = 0     
سمتیہ B کو A سے نفی کرنے کے عمل کو ہم A اور B− کو جوڑنے کے طورپر معرف کرتے ہیں:
(A _ B = A + (−B
کسی سمتیہ A کو کسی مستوی میں واقع دو سمتیوں a اور b  کی سمت میں جز تجزیہ (resolve)کرسکتے ہیں:
 A =  λa + μb
یہاں  λ اور μ حقیقی اعداد ہیں۔
کسی سمتیہ A سے وابستہ اکائی سمتیہ وہ سمتیہ ہے جس کی عددی قدر1 ہوتی ہے اور وہ A کی سمت میں واقع ہوتا ہے۔ اکائی سمتیہ
184
اکائی سمتیے  185  اکائی عددی قدر والے ایسے سمتیے ہیں جو داہنے ہاتھ والے کوآرڈی نیٹ نظام میں بالترتیب y، x اور z محوروں کی سمت میں واقع ہوتے ہیں۔
10۔ سمتیہ A کو ہم درج ذیل شکل میں ظاہر کرسکتے ہیں:
186
یہاں Ax اور Ay علی الترتیب –x، –y محوروں کی سمت میں A کے اجزاہیں۔ اگر سمتیہ  −x ،A محور کے ساتھ θ زاویہ بناتا ہے تو
187
11۔ تجزیاتی طریقے سے بھی سمتیوں کو آسانی سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اگر x-y مستوی میں دو سمتیوں A اور B کی جمع R ہو، تو:
                 188
12۔ مستوی میں کسی شے کے مقام سمتیہ 'rکو اکثر درج ذیل طور پر ظاہرکرتے ہیںr = × ^i+y^j   مقام سمتیوں rاور r'کے درمیان نقل (displacement)کو درج ذیل طورپر لکھتے ہیں 
                 190
13۔ اگر کوئی شے وقفہ وقت Δt میں Δr نقل کرتی ہے تو اس کی اوسط رفتار v= Δr— Δt   ہوگی۔ کسی ساعت t پرشے کی رفتار اس کی اوسط رفتار کی اُس انتہائی  قدر کے برابر ہوتی ہے جب Dt صفر کے قریب تر ہوجاتا ہے۔ یعنی
189
اکائی سمتیہ علامتوں میں اس طرح لکھ سکتے ہیں  191
جہاں 192
جب کسی کوآرڈی نیٹ نظام میں کسی شے کے مقام کو دکھایا جاتا ہے تو vکی سمت ہمیشہ اس شے کا راستہ دکھانے والے منحنی پر کھینچی گئی مماس کی سمت میں ہوتی ہے۔
14۔ اگر شے کی رفتار، Dt وقفہ وقت میں ،v سے v' ہوجاتی ہے تو اس کا اوسط اسراع  193 ہوگا۔
کسی ساعت tپر اسراع a  اوسط اسراع –a کی وہ انتہائی قدر ہے، جب کہ0 → Δt
    194
اجزاء کی شکل میں اسے درج ذیل طورپر ظاہر کیا جاسکتا ہے:
195
یہاں،   196
15۔ اگر ایک شے کسی مستوی میں یکساں (مستقل) اسراع 197 سے متحرک ہے اور ساعت t = 0 پر اس کا مقام سمتیہ ro ہے، تو کسی دیگر ساعت t پر اس کا مقام سمتیہ r = r0 + vo t + 1/2  a t2
ہوگا اور اس کی رفتارv = v0 +a t ہوگی۔
رفتار t a+ ov = v ہوگی۔
یہاںv0،t=o ساعت پر شے کے رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
اجزاء کی شکل میں  : 
198
                  199
         vx = v0x + ax t        
                             vy = v0y  + ay t   
کسی مستوی میں حرکت کو دو الگ الگ ہم وقتی یک بُعدی اور باہمی عمودی حرکات کے انطباق کے طورپر مان سکتے ہیں۔
16۔ پھینکے جانے  کے بعد جب کوئی شے اڑان میں ہوتی ہے تو اسے پروجکٹائل کہتے ہیں۔ اگر ایک شے کو -xمحور سے q زاویہ بناتے ہوئے، ابتدائی رفتارv0 سے پھینکا جائے اور ہم یہ فرض کرلیں کہ اس کا آغازی مقام، کوآرڈی نیٹ نظام کے مبدے پر منطبق ہے تو  t ساعت کے بعد پروجکٹائل کے مقام اور رفتار سے متعلق مساواتیں درج ذیل ہوں گی:
        x = (v0 cos θ0) t
y = (v0 sin θ0) t −(1/2) gt2
                                     vx = v0x = v cos θ0
       vy = v0 sin θ0 − gt        
پروجکٹائل کی راہ مکافی (parabolic) ہوتی ہے جس کی مساوات ہوگی:
 200
پروجکٹائل کی اعظم اونچائی 
201 
اوراس اونچائی تک پہنچنے میں لگا وقت ہوگا:
202 
پروجکٹائل کے ابتدائی مقام اور اسکے نیچے گرنے کے اس مقام، جہاں y = o  ہوتا ہے، کے درمیان کے افقی فاصلہ کو پروجکٹائل کی  سِعت (range) Rکہتے ہیں ۔ اسے درج ذیل طور پر ظاہر کرتے ہیں :  203
17۔ جب کوئی شے مستقل چال سے ایک دائری راہ میں چلتی ہے تو اسے یکساں دائری حرکت کہتے ہیں۔ اگر شے کی چال v ہو اور دائرہ کا نصف قطر R ہو، تو اسراع کی عددی قدر ac= v2/Rہوگی اوراس کی سمت ہمیشہ مرکز کی جانب ہوگی۔
زاویائی چال (1) زاویائی دوری کی تبدیلی کی شرح ہے۔ خطی رفتار v = w R ہوگی اور اسراع ac=w2R= ہوگا۔
اگر T طواف کا دور اور vاس کا تعددہوتو w,v اور ac کی قدر درج ذیل ہوں گی:
204
طبیعی مقدار

طبیعی مقدار علامت ابعاد اکائی تبصرہ
مقام سمتیہ [L] سمتیہ۔ اسے کسی دیگر علامت سے
 بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔ 
نقل [L] ,,
رفتار
(a) اوسط
(b) ساعتی
[LT-1]    Δr/Δt = ،  سمتیہ
  dr/Δt = ،  سمتیہ
اسراع
(a) اوسط
(b) ساعتی

[LT-2]

Δv/Δt = ،  سمتیہ
dv/dt = ،  سمتیہ
پروجکٹائل حرکت
(a) اعظم اونچائی تک پہنچے
میں لگا وقت
(b)  اعظم اونچائی
(c)  افقی سِعت
[T]
[T]
[T]
             205
دائری حرکت
(a) زاویائی چال
(b) مرکز جو اسراع
[LT-1]
[LT-2]
            206


قابل غور نکات
کسی شے کے ذریعہ دو نقاط کے درمیان کی راہ لمبائی عام طورپر، نقل کی عددی قدر کے برابر نہیں ہوتی۔ نقل صرف راہ کے انتہائی نقاط پر منحصر ہوتا ہے جب کہ راہ لمبائی (جیسا کہ نام سے ہی ظاہرہے) حقیقی راہ پر منحصر ہوتی ہے۔ دونوں مقداریں تبھی برابر ہوں گی جب شے حرکت کے راستے میں اپنی سمت نہیں بدلتی۔ دیگر دوسرے حالات میں راہ لمبائی نقل کی عددی قدر سے زیادہ ہوتی ہے۔
درج بالا نقطہ 1 کے لحاظ سے شے کی اوسط چال کسی دئیے گئے وقفۂ وقت میں یا تو اس کی اوسط رفتار کی عددی قدر کے برابر ہوگی یا اس سے زیادہ ہوگی۔ دونوں برابر تب ہوں گی جب راہ لمبائی نقل کی عددی قدر کے برابر ہو۔
3۔سمتیہ مساوات (4.46a) اور (4.47 a اور c) میں محوروں کا انتخاب شامل نہیں ہوتا۔ بلا شبہہ آپ انہیں کن ہی دو آزاد محوروں کی سمت میں جز تجزیہ کرسکتے ہیں۔
مستقل اسراع کے لیے مجرد حرکیاتی مساوات یکساں دائری حرکت میں لاگو نہیں ہوتیں کیونکہ اس میں اسراع کی عددی  قدر تو مستقلہ رہتی ہے لیکن اس کی سمت مستقل بدلتی رہتی ہے۔
اگر کسی شے کی دو رفتاریں v1 اور v2 ہوں تو ان کی حاصل رفتار v = v1 + v2 ہوگی۔ اس بات کا دھیان رکھیں کہ شے نمبر2 کی مناسبت سے شے نمبر1 کی رفتار مذکورہ بالا بیان سے مختلف ہوتی ہے جسے یوں لکھا جاتا ہے v12 = v1 _ v2 جہاں v1 اور v2کسی مشترکہ حوالہ جاتی فریم کے مطابق رفتاریں ہیں۔
دائری حرکت میں شے کے حاصل اسراع کی سمت دائرے کے مرکز کی طرف صرف جب ہی ہوتی ہے اگر اس کی چال مستقلہ ہے۔
کسی شے کا حرکت کا خط(trajectory) صرف اسراع سے ہی متعین نہیں ہوتا بلکہ وہ حرکت کی ابتدائی شرائط (ابتدائی مقام اور ابتدائی رفتار) کے بھی تابع ہے۔ مثال کے لیے، ارضی کشش اسراع کے تحت حرکت کررہی ایک حرکت خط مستقیم بھی ہوسکتا ہے اور مکانی بھی، جو ابتدائی شرائط پر منحصر ہے۔

مشق

4.1 درج ذیل طبیعی مقداروں میں بتائیے کہ کون سی سمتیہ ہے اور کون سی عددیہ  : 
حجم، کمیت، چال، اسراع، کثافت، مول کی تعداد، رفتار، زاویائی تعدد، نقل، زاویائی رفتار۔
4.2 درج ذیل فہرست میں دوعددیہ مقداروں کو چنیے۔
قوت، زاویائی معیار حرکت، کام، برقی رو، خطی معیار حرکت  (linear momentum)، برقی میدان، اوسط رفتار، مقناطیسی معیار اثر (moment)، نسبتی رفتار۔
4.3 درج ذیل فہرست میں صرف ایک سمتیہ مقدارشامل ہے۔اسے چنیے:
درجہ حرارت، دباؤ، دھکّا (impulse) ، وقت، پاور، پوری راہ لمبائی، توانائی،مادی کشش قوۃ، رگڑ کا ضربیہ، چارج۔
4.4 اسباب کے ساتھ بیان کیجیے کہ عددیہ اور سمتیہ طبیعی مقداروں کے ساتھ کیا درج ذیل الجبری عمل بامعنی ہیں؟
(a)  دو عددیوں کو جوڑنا (b) یکساں ابعاد کے ایک سمتیہ اور ایک عددیہ کو جوڑنا (c) ایک سمتیہ کو عددیہ سے ضرب کرنا (d) دو عددیوں کا ضرب (e) دو سمتیوں کو جوڑنا (f) کسی سمتیے کے ایک جزو کو اسی سمتیے میں جوڑنا۔
4.5 درج ذیل ہر ایک بیان کو غور سے پڑھیے اور وجہ کے ساتھ بتائیے کہ یہ صحیح ہے یا غلط:
(a) کسی سمتیہ کی عددی قدر ہمیشہ ایک عددیہ ہوتی ہے، (b) کسی سمتیے کا ہر ایک جزو ہمیشہ عددیہ ہوتا ہے۔(c)  کل راہ لمبائی ہمیشہ ذرّے کے نقل سمتیہ کی عددی قدر کے برابر ہوتی ہے۔  (d) کسی ذرے کی اوسط چال (راہ طے کرنے میں لگے وقت کے ذریعہ تقسیم کی گئی کل راہ لمبائی) وقت کے یکساں وقفے میں ذرے کی اوسط رفتار کی عددی قدر سے زیادہ یا اس کے برابر ہوتی ہے
(e) ان تین سمتیوں کا جوڑ، جو ایک مستوی میں نہیں ہیں،کبھی بھی صفر سمتیہ نہیں ہوتا۔ 
4.6 درج ذیل سمتیہ لا مساواتوں کو جیومیٹریائی  طریقے یا کسی دیگر طریقے سے ثابت کیجیے:
          207
درج بالا مساواتی  علامت کا کب اطلاق ہوتا ہے؟
4.7 دیا ہے a + b + c + d = 0,  ،نیچے دئیے گئے بیانات میں سے کون سا صحیح ہے:
(a) a, b, c اور d میں سے ہر ایک صفر سمتیہ ہے۔
(b) (a + c) کی عددی قدر (b + d) کی عددی  قدر کے برابر ہے۔
(c) a کیعددی قدر b, c اور d کی عددی قدروں کی حاصل جمع سے کبھی بھی زیادہ نہیں ہوسکتی۔
(d) اگر a اور d ہم خطی نہیں ہے تو b+c ضرور ہی a اور d کی مستوی میں ہوگا اور a اور 
d کی سمت میں ہوگا اگر وہ ہم خطی ہیں۔
4.8 تین لڑکیاں 200 m نصف قطروالی دائری برفیلی سطح پر اسکیٹنگ کررہی ہیں۔ وہ سطح کے کنارے کے نقطے P سے چلنا شروع کرتی ہیں اور P سے قطری طورپر مخالف نقطہ Q پر مختلف راہوں سے ہوکر پہنچتی ہیں جیسا کہ شکل (4.23) میں دکھایا گیا ہے۔ ہر ایک لڑکی کے نقل سمتیہ کی عددی قدر کتنی ہے؟ کس لڑکی کے لیے حقیقت میں یہ اسکیٹ کی گئی حقیقی راہ کی لمبائی کے برابر ہے؟
4.9 کوئی سائیکل سوار کسی دائری پارک کے مرکز O سے چلنا شروع کرتا ہے اور پارک کے کنارے P پر پہنچتا ہے۔ پھر وہ پارک کے محیط پر سائیکل چلاتا ہوا QO کے راستے ]جیسا (شکل4.24) میں دکھایا گیا ہے سے0 [ پر واپس آجاتا ہے۔ پارک کا نصف قطر 1km ہے۔ اگر پورے چکر میں 10 منٹ لگتے ہوں تو سائیکل سوار کی (a) کل نقل (b) اوسط رفتار اور (c) اوسط چال کیا ہوگی؟
                                         208
شکل   4.21
4.10 کسی کھلے میدان میں کوئی موٹر ڈرائیور ایک ایسا راستہ اپناتا ہے جو ہر ایک 500 m کے بعد اس کے بائیں جانب 600 کے زاویے پر مڑ جاتا ہے۔ کسی دئیے ہوئے موڑ سے شروع ہوکر موٹر ڈرائیور کا تیسرے، چھٹے اور آٹھویں موڑ پر نقل بتائیے۔ ہر ایک صورت میں موٹر گاڑی کے ذریعہ موڑوں پر طے کی گئی کل راہ لمبائی کے ساتھ نقل کی عددی قدر کا موازنہ کیجیے۔
4.11 کوئی مسافر کسی نئے شہر میں آیا ہے اور وہ اسٹیشن سے کسی سیدھی سڑک پر واقع کسی ہوئل تک جو 10 km دور ہے، جانا چاہتا ہے۔ کوئی بے ایمان ٹیکسی ڈرائیور 23 km کے گھماؤ دار راستے سے اسے لے جاتا ہے اور 28 منٹ میں ہوٹل میں پہنچتا ہے۔
(a) ٹیکسی کی اوسط چال، اور (b) اوسط رفتار کی عددی قدر کیا ہوگی؟ کیا وہ برابر ہیں؟
4.12 بارش کا پانی 30 m s-1 کی چال سے عمودی طورپر نیچے گررہا ہے۔ کوئی خاتون شمال سے جنوب کی طرف 10 m s-1 کی چال سے سائیکل چلا رہی ہیں۔ انہیں اپنا چھاتا کسی سمت میں رکھنا چاہیے؟
4.13 کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں4 km/h کی چال سے تیر سکتا ہے۔ اسے 1 km چوڑی ندی کو پار کرنے میں کتنا وقت لگے گا اگر ندی 3 km/hکی چال سے یکساں طور پر بہہ رہی ہو اور وہ ندی کے بہاؤ کے عمودی تیر رہا ہو۔ جب وہ ندی کے دوسرے کنارے پہنچتا ہے تو وہ ندی کے بہاؤ کی جانب کتنی دور پہنچے گا؟
4.14 کسی بندرگاہ میں 72 km/h کی چال سے ہوا چل رہی ہے اور بندرگاہ میں کھڑی کسی ناؤ کے اوپر لگا جھنڈا N-E سمت میں لہرا رہا ہے۔ اگر وہ ناؤ شمال کی جانب 51 km/h چال سے حرکت کرنا شروع کردے تو ناؤ پر لگا جھنڈا کس سمت میں لہرائے گا؟
4.15 کسی لمبے ہال کی چھت 25 m اونچی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ افقی دوری کتنی ہوگی جس میں 40 m s-1 کی چال سے پھینکی گئی کوئی گیند چھت سے ٹکرائے بغیر گزر جائے؟
4.16 کرکٹ کا کوئی کھلاڑی کسی گیند کو 100 m کی زیادہ سے زیادہ افقی دوری تک پھینک سکتا ہے۔ وہ کھلاڑی اسی گیند کو زمین سے اوپر کتنی اونچائی تک پھینک سکتا ہے؟
4.17 80 cm لمبے دھاگے کے ایک سرے پر ایک پتھر باندھا گیا ہے اور کسی یکساں چال کے ساتھ کسی افقی دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔ اگر پتھر 25 s میں 14 چکر لگاتا ہے تو پتھر کے اسراع کی عددی قدر اور اس کی سمت کیا ہوگی؟
4.18 کوئی ہوائی جہاز 900 km/hکی یکساں چال سے اڑ رہا ہے اور 1km نصف قطر کا کوئی افقی لوپ بناتا ہے۔ اس کے مرکز جو اسراع کا مادی کشش اسراع کے ساتھ موازنہ کیجیے۔
4.19 نیچے دئیے گئے بیانوں کو غور سے پڑھیے اور وجہ کے ساتھ بتائیے کہ وہ صحیح ہیں یا غلط:
(a) دائری حرکت میں کسی ذرے کاکل اسراع ہمیشہ دائرے کی نصف قطر کی سمت میں مرکز کی جانب ہوتا ہے۔
(b) کسی نقطے پر کسی ذرے کا رفتار سمتیہ ہمیشہ اس نقطے پر ذرے کی راہ کے مماسی ہوتا ہے۔
(c) کسی ذرے کی یکساں دائری حرکت میں ایک دور میں لیا گیا اوسط اسراع سمتیہ ایک صفر یا نل سمتیہ ہوتا ہے۔
4.20 کسی ذرے کا مقام سمتیہ درج ذیل ہے:
                                       209
وقت t سیکنڈ میں ہے اور r کے سبھی ضریب میٹر میں ہیں تو
(a) ذرے کا v اور a نکالیے۔
(b) t = 2s پر ذرے کی رفتار کی عددی قدر اور سمت کیا ہوگی؟
4.21 کوئی ذرہ t = 0 ساعت پر مبدا سے 210 کی رفتارسے چلنا شروع کرتا ہے اور x-y مستوی میں یکساں اسراع
211سے حرکت کرتا ہے تو
(a) کس ساعت ذرے کا   -x  کوآرڈی نیٹ 16m ہوگا؟ اسی وقت اس کا -y کوآرڈی نیٹ کتنا ہوگا؟
(b) اس ساعت ذرے کی چال کتنی ہوگی؟
4.22 78iاور 77j علی الترتیب -x اور -y محوروں کی سمت میں اکائی سمتیہ ہیں۔ سمتیوں 212  اور 213کی عددی قدر اور سمت کیا ہوگی؟ سمتیہ214کی سمتوں کی سمت میں ا جزاء نکالیے۔
4.23 فضا میں کی جاسکنے والی کسی بھی حرکت کے لیے درج ذیل رشتوں میں کون سا صحیح ہے:
                                                                            215
یہاں ’اوسط‘ سے مراد وقفہ وقت t2 اور t1 کے دوران طبیعی مقدار کی اوسط قدر سے ہے۔
4.24 نیچے دیے ہوئے ہر بیان کو غور سے پڑھیے اوروجہ اور مثالوں کے ساتھ بتائیے کہ بیان درست ہے یا نہیں۔
ایک عددیہ مقدار وہ ہے
(a)  جس کی ایک عمل کے دوران بقا ہوتی ہے (b)  جس کی قدر کبھی منفی نہیں ہوسکتی
(c)  جس کے لیے غیرابعادی ہونا لازمی ہے (d)  فضا میں ایک نقطے سے دوسرے نقطے پر تبدیلی نہیں ہوتی۔
(e)  ایسے مشاہدوں کے لیے جن کے محوروں کے رخ مختلف ہوں، اس کی قدر یکساں ہوتی ہے۔
4.25 کوئی جہاز زمین سے 3400m  کی اونچائی پر پرواز کررہا ہے اگر جہاز کے ذریعہ 10سیکنڈ میں طے کردہ فاصلہ زمین پر واقع کسی مقام مشاہدہ پر 30º کا زاویہ ثبت کرتا ہو تو جہاز کی چال کتنی ہے؟

اضافی مشق

4.26 کسی سمتیہ میں عددی قدر اور سمت دونوں ہوتے ہیں۔ کیا فضا میں اس کا کوئی متعین مقام ہوتا ہے؟ کیا یہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتا ہے؟ کیا فضا میں مختلف مقامات پر واقع دوبرابر سمتیوں a اور b کا یکساں طبیعی اثر پڑنا ضروری ہے۔ اپنے جواب کی تائید میں مثال دیجیے۔
4.27 کسی سمتیہ میں عددی قدر اور سمت دونوں ہوتے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شے جس کی عددی قدر اور سمت ہو، وہ ضرور ہی سمتیہ ہوگی؟ کسی شے کے گردش کی تشریح گردش محور کی سمت اور محور کے گرد گردش زاویہ کے ذریعہ کی جاسکتی ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی بھی گردش ایک سمتیہ ہے؟
4.28 کیا آپ درج ذیل کے ساتھ کوئی سمتیہ متعلق کرسکتے ہیں:
(a)  ایک لوپ میں موڑی گئی تار کی لمبائی  (b)  ایک ہموار رقبہ   (c) ایک کرہ، تشریح کیجیے۔
4.29 کوئی گولی افق سے 30o کے زاویے پر داغی گئی ہے اور وہ زمینی سطح پر 3 km دور گرتی ہے۔ اس کے پروجیکشن کے زاویے کو موافق کرکے کیا 5 km دور واقع کسی نشانے پر مارنے کی امید کی جاسکتی ہے؟ نالی کے منہ سے نکلتے وقت گولی کی چال کو متعین مانیے اور ہوائی مزاحمت کو نظر انداز کرئیے۔
4.30 کوئی لڑاکو جہاز 1.5km کی اونچائی پر 720 km/h کی چال سے افقی سمت میں اڑرہا ہے اور کسی اینٹی ایئرکرافٹ گن کے ٹھیک اوپر سے گزرتا ہے۔ عمودی طورپر توپ کی نال کا کیا زاویہ ہو جس سے 600ms-1  کی چال میں داغا گیا گولا جہاز پر وار کرسکے۔ جہاز کے پائلٹ کو کسی کم ترین اونچائی پر جہاز کو اڑانا چاہیے جس سے گولا لگنے سے بچ سکے؟ [g = 10 m s-2]
4.31 ایک سائیکل سوار 27 km/h کی چال سے سائیکل چلارہا ہے۔ جیسے ہی سڑک پر وہ 80m نصف قطر کے دائری موڑ پر پہنچتا ہے، وہ بریک لگاتا ہے اور اپنی چال 0.5 m/s کی یکساں شرح سے کم کرلیتا ہے۔ دائری موڑ پر سائیکل سوار کے کل اسراع کی عددی قدر اور اس کی سمت نکالیے۔
(a)  ثابت کیجیے کہ کسی پروجکٹائل کے –x محور اور اس کی رفتار کے درمیان کے زاویے کو وقت کے تفاعل کے طورپر درج ذیل طورپر ظاہر کرسکتے ہیں،
                                                          216
(b)  ثابت کیجیے کہ مبدا سے پھینکے گئے پروجیکٹائل کے لیے پروجکشن زاویے کی قدر217سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔ یہاں استعمال کی گئی علامتوں کے معنی معمول کے مطابق ہیں۔