اسراع (Acceleration) x-yمستوی میں متحرک شے کا اوسط اسراعaاس کی رفتار میں تبدیلی اور اس کے متطابق وقفہ وقتΔtکے تناسب کے برابر ہوتا ہے۔
اسراع (لمحاتی اسراع) اوسط اسراع کی وہ انتہائی قدر ہے جو وقفہ وقت کو صفر کے نزدیک ترکرنے پر حاصل ہوتی ہے۔
رفتار کی طرح یہاں بھی شے کی حرکت کے راستے کو ظاہر کرنے والے گراف کے ذریعے، اسراع کی تعریف کے لیے ہم گر افی طریقے سے انتہائی قدر حاصل کرنے کے عمل کو سمجھ سکتے ہیں۔ اسے شکلوں4.15(a) تا4.15 (d) میں دکھایاگیا ہے۔ کسی وقتt پر ذرے کے مقام کو نقطہPکے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔(Δt1,Δt2,Δt3 (Δt1>DΔ2>Δt3) وقت کے بعد ذرے کے مقام علی الترتیب نقاط P2, P3, P1کے ذریعہ ظاہر کیے گئے ہیں۔ شکلوں)b,a(4.15اورcمیں ان سبھی نقاط، P3،P2،P1،Pپر رفتار سمتیوں کو بھی دکھایا گیاہے۔ہر ایکΔtکے لیے سمتیے جمع کے مثلث قانون کا استعمال کرکےΔvحاصل کی گئی ہے تعریف کے مطابق، اوسط اسراع کی سمت وہی ہے جو Δ→vکی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے Δtکی قدر گھٹتی جاتی ہے ویسے ویسےΔvکی سمت بھی بدلتی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں اسراع کی بھی سمت بدلتی ہے۔آخرکارΔt→0حدمیں شکل[4.15](d)اوسط اسراع ، ساعتی اسراع ہوجاتا ہے اور اس کی سمت دکھائی گئی شکل کے مطابق ہوتی ہے۔
4.9 دوابعاد میں نسبتی رفتار
(RELATIVE VELOCITY IN TWO DIMENSIONS)
حصہ3.7میں کسی خط مستقیم پرحرکت کے لیے جس نسبتی رفتار کے تصور سے ہم متعارف ہوئے ہیں، اس کی کسی مستوی میں یا سہ ابعادی حرکت کے لیے آسانی سے توسیع کر سکتے ہیں۔ ماناکہ دواشیاAاورBرفتاروںvA اورvBسے متحرک ہیں(ہر ایک حرکت کسی مشترک حوالہ جاتی فریم جیسے زمین کے لحاظ سے)۔لہٰذا شےAکی رفتارBکی نسبت سے:
(vAB = vA – vB (4.35a
اسی طرح شے Aکی نسبت سے شےBکی رفتار درج ذیل ہوگی:
vBA = vB – vA
اس لیے، vAB = – vBA
اور،
| مثال 4.6عمودی طور پر35 m s-1کی چال سے بارش ہورہی ہے۔ کوئی خاتون مشرق سے مغرب سمت میں 12 m s-1کی چال سے سائیکل چلا رہی ہیں۔ بارش سے بچنے کے لیے انھیں چھاتا کس سمت میں لگانا چاہیے؟ |
جواب شکل4.16میں بارش کی رفتار کو vr اورخاتون کے ذریعہ چلائی جا رہی سائیکل کی رفتار کوvb سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رفتاریں زمین کی نسبت سے ہیں۔ چونکہ خاتون سائیکل چلارہی ہے، اس لیے بارش کی جس رفتار کا انھیں احساس ہوگا وہ سائیکل کی رفتار کی نسبت بارش کی رفتار ہوگی۔ یعنی، vrb = vr – vb
شکل 4.16
یہ نسبتی رفتار سمتیہ انتصاب (vertical)کے ساتھ زاویہ q بناتا ہے، جیسا شکل 4.16 میں دکھایا گیا ہے۔یہ دیا جاتا ہے:
یا، 
لہٰذا خاتون کو اپنا چھاتا انتصاب سے 190کا زاویہ بناتے ہوئے مغرب کی طرف رکھنا چاہیے۔
آپ اس سوال اور مثال 4.1کے فرق پر غور کیجیے۔ مثال 4.1 میں لڑکے کو دو رفتاروں کے حاصل (سمتیہ جمع) کا احساس ہوتا ہے جب کہ اس مثال میں خاتون کو سائیکل کی نسبت بارش کی رفتار(دونوں رفتاروں کے سمتیہ فرق)کا احساس ہوتا ہے۔
4.10 پروجکٹائل حرکت (PROJECTILE MOTION)
ْٖاس سے پہلے حصہ میں ہم نے جن تصورات کو فروغ دیا ہے ان کے اطلاق کے طورپر ہم پروجکٹائل کی حرکت کا مطالعہ کریں گے۔ جب کوئی شے اچھالنے کے بعد اڑان میں ہی ہو تو اسے پروجکٹائل کہتے ہیں۔ ایسا پروجکٹائل فٹ بال، کرکٹ کی گیند ،بیس بال یا دیگر کوئی بھی شے ہوسکتی ہے۔ کسی پروجکٹائل کی حرکت کو دوالگ الگ ہم وقتی حرکتوں کے اجزاء کا نتیجہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک جزو بغیر کسی اسراع کے افقی سمت میں ہوتا ہے اور دوسرا جز انتصابی سمت میں ہوتا ہے، جس پر کششِ زمین کے سبب مستقلہ اسراع کام کر رہا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے گیلیلو نے اپنی تحریر ڈائیلاگ آن دی گریٹ ورلڈ سسٹم(1632)میں پروجکٹائل حرکت کے افقی اور عمودی اجزا کی ایک دوسرے سے بے تعلقی یا آزادی کا ذکر کیا تھا۔
اس مطالعہ میں ہم یہ مانیں گے کہ پروجکٹائل کی حرکت پر ہوا کی مزاحمت ناقابلِ لحاظ اثر ڈالتی ہے۔ مانا کہ پروجکٹائل کو ایسی سمت میں v0رفتار سے پھینکا گیا ہے جو x-محور سے(شکل4.17کے مطابق)θº زاویہ بناتی ہے۔
یعنی،
(4.36) ax = 0, ay = – g
ابتدائی رفتارvº کے اجزاء درج ذیل ہوں گے:
v0x = v0 cos θº
v0y = v0 sin θº (4.37
شکل 4.17ایسی شے کی حرکت جسے زاویہ θº پر، رفتار

کے ساتھ پھینکا (اچھالا) گیا ہے۔
اگر شکل4.17کے مطابق شے کا ابتدائی مقام حوالہ جاتی فریم کے مبدا پر ہو،تو
x0 = 0, y0 = 0
اس طرح مساوات(4.34b)درج ذیل طور پر لکھیں گے:
x = v0x t = (v0 cos θ0 ) t
اور
(4.38) y = (v0 sin q0 ) t – ( ½ )g t2
کسی وقتtپر رفتار کے اجزا، مساوات(4.33b)کو استعمال کرکے حاصل کیے جا سکتے ہیں:
vx = vox = vo cos θo
vx = vo sin θº - g t (4.39)
مساوات(4.38)سے ہمیں کسی ساعت t پر پروجکٹائل کے-x اور -yکوآرڈی نیٹ دوپیرامیٹروں–ابتدائی رفتار v0 اور ظل زاویہ (projection angle) کی شکل میں حاصل ہوجائیں گے۔ اس بات پر غور کیجیے کہxاور yسمتوں کے باہم عمودی ہونے کے انتخاب سے پروجکٹائل حرکت کے تجزیہ میں کافی آسانی ہوگئی ہے۔ رفتار کے دواجزا میں سے ایک،-xجزو، حرکت کی پوری مدت میں مستقل رہتا ہے جب کہ دوسرا،-yجز،اس طرح تبدیل ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شے انتصابی سمت میں آزادی سے نیچے گر رہی ہو۔ شکل4.18 میں مختلف ساعتوں کے لیے اسے گرافی طریقہ سے دکھایا گیا ہے۔ غور کیجیے کہ اعظم اونچائی(maximum height) والے نقطے کے لیے: vy=0اور
θ = tan–1 vy /vx = 0
پروجکٹائل کی راہ کی مساوات
(Equation of path of a projectile)
پروجکٹائل کے ذریعہ طے کردہ راہ کی شکل کیا ہوتی ہے؟ اس کے لیے ہمیںراہ کی مساوات نکالنی ہوگی۔ مساوات(4.38)میں دی گئی xاور yعبارتوں سے tکو معدوم کرنے سے درج ذیل مساوات حاصل ہوتی ہے:
(4.40)

چونکہθ0،gاورv0مستقلے ہیں، مساوات(4.40)کو درج ذیل طور پر ظاہر کر سکتے ہیں: y = a x + b x2 اس میںaاورbمستقلے ہیں۔یہ ایک پیرابولا(مکاف) کی مساوات ہے یعنی پروجکٹائل کی راہ مکافی ہوتی ہے۔(شکل 4.18 )

شکل 4.18 پروجکٹائل کی راہ مکافی (پیرابولا) ہوتی ہے۔
اعظم اونچائی کا وقت (Time of maximum height)
پروجکٹائل اعظم اونچائی تک پہنچنے کے لیے کتنا وقت لیتا ہے؟ مان لیجیے کہ یہ وقتtmہے ۔ چونکہ اس نقطے پرvy=0اس لیے مساوات(4.39)سے ہمtm کی قدر نکال سکتے ہیں:
vy = v0 sin θ0 – g tm = 0
یا
tm = v0 sin θ0/g (4.41a)
پروجکٹائل کی اڑان کی مدت میں لگا کل وقت Tfہم مساوات(4.38) میںy=0 رکھ کر نکال سکتے ہیں۔ اس لیے
(Tf = 2 (v0 sin θ0)/g (4.41b
Tfکو پروجکٹائل کا اڑان وقت (time of flight)کہتے ہیں۔ غور کرنے کی بات ہے کہ Tf=2tm۔مکافی راہ کے تشاکل (symmetry) سے ایسے ہی نتیجے کی توقع کی جاتی ہے۔
پروجکٹائل کی اعظم اونچائی
(Maximum height of a projectile)
مساوات(4.38)میںt=tm رکھ کر پروجکٹائل کے ذریعہ حاصل اعظم ترین اونچائیhm کا حساب لگایا جاسکتا ہے:
یا
(4.42)
پروجکٹائل کی افقی سِعت
(Horizontal range of a Projectile)
ابتدائی مقام(x=y=0)سے چل کر اس مقام تک جب y=0 ہوپروجکٹائل کے ذریعہ چلی گئی دوری کو افقی سِعت (horizontal range,R) کہتے ہیں۔ افقی سِعت اڑان مدت Tfمیں چلی گئی دوری ہے اس لیے رینجRہوگی:
(R = (v0 cos q0) (Tf
(v0 cos θ0) (2 v0 sin θ0)/g =
یا
(4.43 a)
مساوات (a4.43 )سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دی ہوئی ظلّی رفتار (projection velocity) v0کے لیے، Rکی قدر اس وقت اعظم(maximum) ہوگی، جب sin 2q0 کی قدر اعظم ہو، یعنی کہ جب: θ = 45
| مثال 4.7گیلیلیو نے اپنی کتاب ٹونیوسائنسیز(two new sciencesمیں کہا ہے کہ’’ ان ارتفاعات ے لیے جن کی قدر 45º سے برابر مقداروں میں کم یا زیادہ ہوتی ہیسعتیں (ranges) برابر ہوتی ہیں‘‘۔ اس بیان کو ثابت کیجیے۔ |
جواب اگر کوئی پروجکٹائل θ0 زاویہ پر ابتدائی رفتار v0 سے پھینکا جائے، تو اس کی سِعت ہوگی:
اب زاویوں (45º+ a) اور (45º - a) کے لیے 2θ0 کی قدر علی الترتیب (90º + 2a) اور (90º - 2a) ہوگی۔sin (90º + 2a) اور sin(90º - 2a) دونوں کی قدر یکساں یعنی cos 2a ہوتی ہے۔ لہٰذا ان ارتفاعات کے لیے جن کی قدر 45º سے برابر مقدار میں کم یا زیادہ ہے، افقی سعتیں برابر ہوتی ہیں۔
| مثال 4.8 ایک کوہ پیما(hiker) کسی کھڑی چٹان کے کونے پر کھڑا ہے۔ چٹان زمین سے 490 m اونچی ہے۔ وہ ایک پتھر کو افقی سمت میں 15 m s-1 کی ابتدائی چال سے پھینکتا ہے۔ ہوائی مزاحمت نظر انداز کرتے ہوئے یہ معلوم کیجیے کہ پتھر کو زمین تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا اور زمین سے ٹکراتے وقت اس کی چال کتنی تھی؟ |
جواب ہم کھڑی چٹان کے کونے کو-x اور -y محور کے بنیادی نقطے اور پتھر پھینکے جانے کے وقت کو t = 0 مانیں گے۔ x- محور کی مثبت سمت ابتدائی رفتار کی طرف اور -y محور کی مثبت سمت عمودی اوپر کی جانب منتخب کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ حرکت کے x- اور -y اجزا ایک دوسرے کے تابع نہیں ہیں، اس لیے
x(t) = x0 + v0x t
y(t) = y0 + v0y t + (1/2) g t2
یہاں
,x0=y0=0, v0y=0, ay= – g = - 9.8 m s-2
v0x = 15 m s-1
پتھر اس وقت زمین سے ٹکراتا ہے جب y(t) =_ 490 m ہے۔
–490 m =_ (1/2) (9.8)t2
یعنی t = 10 s
رفتار کے اجزا vx = v0x اور vy = v0y_ g t ہوں گے۔
لہٰذا،جب پتھر زمین سے ٹکراتا ہے، تب
vox = 15 m s-1
voy = 0 - 9.8 × 10 = – 98 m s-1
اس لیے پتھر کی چال ہوگی
مثال4.9 افقی طور پر اوپر کی جانب30º کا زاویہ بناتے ہوئے ایک کرکٹ گیند28m s-1کی چال سے پھینکی جاتی ہے۔ (a)زیادہ سے زیادہ اونچائی کا حساب لگائیے،(b)اسی سطح پر واپس پہنچنے میں لگے وقت کا حساب لگائیے، اور(c)پھینکنے والے نقطے سے اس نقطے کی دوری جہاں گیند اسی سطح پر پہنچی ہے، کی تحسیب کیجیے۔
|
جواب (a) اعظم اونچائی
(b)اسی سطح پر واپس آنے میں لگا وقت
Tf = (2 vo sin qo )/g = (2× 28 × sin 30° )/9.8
= 28/9.8 s = 2.9 s
(c)پھینکنے والے نقطے سے اس نقطے کی دوری جہاں گیند اسی سطح پر پہنچتی ہے،

فضائی مزاحمت کو نظر انداز کرنا۔ مفروضے کی حقیقت کیا ہے؟ ہوا کی مزاحمت کو نظرانداز کرنا۔ اس مفروضہ کے معنی دراصل کیا ہیں؟ پروجکٹائل حرکت کا مطالعہ کرنے کے دوران ہم نے یہ فرض کرلیا تھا کہ ہوا کی مزاحمت، پروجکٹائل حرکت پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس بیان (مفروضہ) کا دراصل مطلب کیا ہے۔رگڑ، مزوجت (viscosity)کی قوت‘ ہوا کی مزاحمت، یہ سب اسرافی قوتیں (Dissipative) ہیں۔ان، حرکت کی مخالفت کرنے والی، قوتوں میں سے کسی بھی قوت کی موجودگی میں، شے کی شروعاتی توانائی، اور نتیجتاً شروعاتی معیارِ حرکت، کا کچھ حصّہ ضائع ہوجاتا ہے۔اس لیے ایک پروجکٹائل، جس کا راستہ مکافی ہوتا ہے، وہ بھی ہوا کی مزاحمت کی موجودگی میں اپنے اس مثالی راستے سے کچھ نہ کچھ یقینی طور پر منحرف ہوجائے گا۔زمین سے واپس ٹکراتے وقت اس کی چال بالکل اتنی ہی نہیں ہوگی جس چال سے اسے پھینکا گیا تھا۔
ہوا کی مزاحمت کی غیرموجودگی میں، رفتار کا -xجز مستقلہ رہتا ہے اور صرف -y جز میں ہی لگاتار تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔لیکن ہوا کی مزاحمت کی موجودگی میں، یہ دونوں اجزاء متاثر ہوں گے۔ اس کا مطلب ہوا کہ سعت کی قدر اس قدر سے کم ہوگی جو مساوات (4.43) سے حاصل ہوتی ہے۔حاصل ہونے والی اعظم اونچائی کی قدر بھی اس قدر سے کم ہوگی جس کی پیشن گوئی مساوات (4.42) کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔اب آپ کیا اڑان وقت میں تبدیلی کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔
ہوا کی مزاحمت سے بچنے کے لیے ہمیں یہ تجربہ خلاء میں یا کم دباؤ کے تحت کرنا ہوگا، جو آسان نہیں ہے۔جب ہم یہ فقرہ استعمال کرتے ہیں: ’’ہوا کی مزاحمت نظرانداز کردیجیے‘‘، تو ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ سِعت، اعظم اونچائی وغیرہ جیسے پیرامیٹروں میں تبدیلی، ان کی اس قدر کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ہوا کی مزاحمت کی غیرموجودگی میں حاصل ہوتی ہے۔ہوا کی غیرموجودگی میں تحسیب، ہوا کی موجودگی میں تحسیب کے مقابلے میں بہت سادہ ہے۔
|
4.11 یکساں دائری حرکت
(UNIFORM CIRCULAR MOTION)
جب کوئی شے دائری راہ پر مستقلہ چال سے چلتی ہے توشے کی حرکت کو یکساں دائری حرکت کہتے ہیں۔ لفظ’’ یکساں اس چال کے ضمن میں استعمال ہواہے جو شے کی حرکت کی پوری مدت میں یکساں (مستقل) رہتی ہے۔مانا کہ ایک شے نصف قطرRکے دائرہ پر یکساں چال(uniform speed)سے حرکت کررہی ہے، جیسا کہ شکل 4.19میں دکھایا گیا ہے۔کیونکہ شے کی رفتار میں، سمت کے لحاظ سے، لگاتار تبدیلی ہورہی ہے، لہٰذا اس میں اسراع پیدا ہورہا ہے۔ آئیے اس اسراع کی سمت اوراس کی عددی قدر معلوم کریں۔
مانا r اور 'r اور v اور 'v ذرے کے مقام اور حرکت سمتیہ ہیں جب وہ حرکت کے دوران علی الترتیب نقاطP اور 'P پر ہے ]شکل [4.22(a)۔ تعریف کے مطابق، کسی نقطے پر ذرے کی رفتار اس نقطے پر مماس کے موافق حرکت کی سمت میں ہوتی ہے۔ شکل (4.19 a1) میں رفتار سمتیوں v اور 'v کو دکھایا گیا ہے۔ شکل (4.19 a2) میں سمتیہ جمع کے مثلث قانون کا استعمال کرکے Δv حاصل کیا گیا ہے۔ کیونکہ راہ دائری ہے، اس لیے شکل میں ظاہر ہے v,r پر اور v',r' پر عمودہیں، اس لیے Δv, Δr کے عمودی ہوگا۔ چونکہ اوسط اسراع Δv کی سمت میں ہے، (a= Δv—Δt) اس لیے –a بھی Δr کے عمودی ہوگا۔ اب اگر ہم Δv کو اس خط پر رکھیں جو r اور 'r کے درمیان کے زاویے کی تصنیف(bisect) کرتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ اس کی سمت دائرے کے مرکزکی جانب ہوگی۔ انہیں مقداروں کو ]شکل 4.19 b) [میں مقابلتاً چھوٹے وقفہ وقت کے لیے دکھایا گیا ہے۔ Δv، لہٰذاaکی سمت پھر مرکز کی جانب ہے۔ ]شکل 4.19(c) [میں Δ→0 ہے، اس لیے اوسط اسراع، ساعتی اسراع کے برابر ہوجاتا ہے۔ اس کی سمت مرکز کی جانب ہوتی ہے*۔ اس طرح یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یکساں دائری حرکت کے لیے شے کی اسراع کی سمت ہمیشہ دائرے کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ اب ہم اس اسراع کی عددی قدر نکالیں گے۔

شکل4.19 یکساں دائری حرکت کرتی ہوئی شے کےلیے رفتار اور اسراع۔شکل (a) سے (c) تک وقفے Δt گھٹتاجاتاہے (شکل c میں صفر ہو جاتاہے) دائری راہ کے ہر نقطے پر، اسراع کی سمت مرکز کی جانب ہوتی ہے۔
تعریف کے مطابق، a کی عددی قدر درج ذیل فارمولے سے ظاہر ہوتی ہے۔
مان لیجیے r اور 'r کے درمیان کا زاویہ Δθ ہے۔ چونکہ رفتار سمتیے v اور v' ہمیشہ مقام سمتیوں کے عمودی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے درمیان کا زاویہ بھی Δθ ہوگا۔ لہٰذا مقام سمتیوں کے ذریعہ بنا مثلث (DCPP') اور رفتار سمتیوں v,v' اور Δv کے ذریعہ بنا مثلث (DGHI)مماثل (مشابہ) (similar) مثلث ہیں ]شکل [4.19(a)۔ اس طرح ایک مثلث کے اساس کی لمبائی اور ضلع کی لمبائی کی نسبت دوسرے مثلث کی متطابق لمبائیوں کی نسبت کے برابر ہوگی۔
یعنی
یا
اس لیے،
اگر Δt چھوٹا ہے تو Δθ بھی چھوٹا ہوگا۔ ایسی حالت میں قوس 'PP کو تقریباً Δr کے برابر لے سکتے ہیں:
یعنی

یا
اس طرح مرکز جو اسراع (centripetal acceleration ac) کی عددی قدر درج ذیل ہوگی،
(ac = (v / R ) v = v2/R (4.44
اس طرح کسی R نصف قطروالے دائرہ پر vچال سے متحرک شے کے اسراع کی قدر v2/R ہوتی ہے جس کی سمت ہمیشہ دائرہ کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے اسراع کو مرکز جو اسراع (centripetal acceleration)کہتے ہیں (اس اصطلاح کی تجویز نیوٹن نے پیش کی تھی)۔ مرکز جو اسراع سے متعلق مکمل تجزیہ سب سے پہلے 1673 میں ایک ڈچ سائنس داں کرسچیان ہائی گینس(Christiaan Huygens) (1629 تا 1695) نے شائع کروایا تھا لیکن غالباً نیوٹن کو بھی کچھ سال قبل ہی اس کا علم ہوچکا تھا۔ مرکز جو یعنی ‘‘centripetal’’ لفظ گریک لفظ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب مرکز رخی یا مرکز کی جانب ہے۔ چونکہ v اور R دونوں مستقلے ہیں اس لیے مرکز جو اسراع کی عددی قدر بھی مستقلہ ہوتی ہے۔ تاہم سمت بدلتی رہتی ہے اور ہمیشہ مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ اس طرح مرکز جو اسراع مستقلہ سمتیہ نہیں ہوتا۔
کسی شے کی یکساں دائری حرکت میں رفتار اور اسراع کو ہم ایک دوسرے طریقے سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ شکل 4.22 کے مطابق (Δt (= t'_t) وقفہ وقت میں جب ذرہ P سے 'Pپر پہنچ جاتا ہے تو خط CP زاویہ Δθ سے گھوم جاتا ہے۔Δθ کو ہم زاویائی فاصلہ کہتے ہیں۔ زاویائی رفتار (1) (گریک حرف، اومیگا) کو ہم زاویائی نقل کی وقت کے ساتھ شرحِ تبدیلی کے طورپر معرف کرتے ہیں۔ اس طرح
(4.45)
اب اگر Δt وقت میں ذرے کے ذریعہ طے کی گئی دوری کو Δs سے ظاہر کریں (یعنی'Δs = PP) تو،
لیکن Δs = RΔθ, اس لیے
(4.46) لہٰذا v = wR
مرکز جو اسراع کو ہم زاویائی
چال کی شکل میں بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔ یعنی،
دائرہ کا ایک چکر لگانے میں شے کو جو وقت لگتاہے اسے ہم اس کا دور T کہتے ہیں۔ ایک سکینڈ میں شے جتنے چکر لگاتی ہے (طواف کرتی ہے) اسے ہم شے کا تعدد (frequency)
کہتے ہیں۔ لیکن اتنے وقت میں جس میں شے ایک چکر لگاتی ہے شے کے ذریعہ چلی گئی دوری R
ہوتی ہے،
(4.48)
اس طرح w,v اور ac کو ہم تعداد v کی اصطلاح میں ظاہر کر سکتے ہیں،یعنی
(4.49)
مثال 4.10 ایک کیڑا،cm 12 نصف قطر کے دائرے کھانچے میں پھنس گیا ہے۔وہ اس کھانچے پر یکساں چال سے چلتارہتا ہے اور 100 سکینڈ میں 7 چکر لگالیتا ہے (a) کیڑے کی زیاویاتی چال اور خطی چال کتنی ہوگی ؟ (b) کیا اسراع سمتیہ ایک مستقل سمتیہ ہے۔ اس کی قدر کتی ہوگی؟ |
جواب
یہ یکساں دائری حرکت کی مثال ہے۔ یہاں
12 cm = R
ہے۔ زاویائی چال (1) کی قدر:
اور خطی چال v ہے:
v = w R = 0.44 s-1 × 12 cm = 5.3 cm s-1
دائرے کے نقطے پر رفتار v کی سنت اس نقطہ پر مماسی خط کی سمت میں ہوگی اور اسراع کی سمت دائرے کے مرکز کی جانب ہوگی۔چونکہ یہ سمت لگاتاتار بدلتی رہتی ہے، اس لیے اسراع ایک مستقل سمتیہ نہیں۔
لیکن اسراع کی عددی قدر مستقلہ ہے، یہ عددی قدر ہے:
خلاصہ
1۔ عددیہ مقداریں وہ مقدار یں ہیں جن میں صرف عددی قدریں (magnitudes) ہوتی ہیں۔ دوری ،چال، کمیت اور درجہ حرارت عددیہ مقداروں کی کچھ مثالیں ہیں۔
2۔ سمتیہ مقداریں وہ مقداریں ہیں جن میں قدر اور سمت دونوں ہوتی ہیں۔ نقل، رفتار، اسراع وغیرہ اس طرح کی مقداروں کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ مقداریں سمتیہ الجبرا کے کچھ مخصوص اصولوں کی تعمیل کرتی ہیں۔
3۔ اگر کسی سمتیہ Aکو کسی حقیقی عددλ سے ضرب کریں تو ہمیں ایک دوسرا سمتیہ B حاصل ہوتا ہے جس کی عددی قدر A کی عددی قدر کی λ گنا ہوتی ہے۔ نئے سمتیہ کی سمت یا تو A کے سمت ہوتی ہے یا اس کے مخالف۔ سمت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ λ مثبت ہے یا منفی۔
4۔ دوسمتیوں Aاور B کو جوڑنے کے لیے گرافی طریقہ بروئے کار لایا جاتا ہے جس کے لیے یا تو سرسے دُم (head to tail) یا پھرمتوازی الاضلاع طریقے کا استعمال کرتے ہیں۔
5۔ سمتیوں کی جمع تقلیبی (commutative)ہوتی ہے:
A + B = B + A
یہ اتصالی قانون (associative law)کی بھی تعمیل کرتا ہے:
(A + B) + C = A + (B + C)
6۔ معدوم (Null) یا صفر سمتیہ ایسا سمتیہ ہوتا ہے جس کی عددی قدر صفر ہوتی ہے۔ کیونکہ عددی قدر صفر ہوتی ہے، اس لیے اس کی سمت معین کرنا ضروری نہیں ہے۔
اس کی درج ذیل خاصیتیں ہوتی ہیں:
A + 0 = A
λ0 = 0
0A = 0
7۔ سمتیہ B کو A سے نفی کرنے کے عمل کو ہم A اور B− کو جوڑنے کے طورپر معرف کرتے ہیں:
(A _ B = A + (−B
8۔ کسی سمتیہ A کو کسی مستوی میں واقع دو سمتیوں a اور b کی سمت میں جز تجزیہ (resolve)کرسکتے ہیں:
A = λa + μb
یہاں λ اور μ حقیقی اعداد ہیں۔
9۔ کسی سمتیہ A سے وابستہ اکائی سمتیہ وہ سمتیہ ہے جس کی عددی قدر1 ہوتی ہے اور وہ A کی سمت میں واقع ہوتا ہے۔ اکائی سمتیہ
اکائی سمتیے

اکائی عددی قدر والے ایسے سمتیے ہیں جو داہنے ہاتھ والے کوآرڈی نیٹ نظام میں بالترتیب y، x اور z محوروں کی سمت میں واقع ہوتے ہیں۔
10۔ سمتیہ A کو ہم درج ذیل شکل میں ظاہر کرسکتے ہیں:
یہاں Ax اور Ay علی الترتیب –x، –y محوروں کی سمت میں A کے اجزاہیں۔ اگر سمتیہ −x ،A محور کے ساتھ θ زاویہ بناتا ہے تو
11۔ تجزیاتی طریقے سے بھی سمتیوں کو آسانی سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اگر x-y مستوی میں دو سمتیوں A اور B کی جمع R ہو، تو:
12۔ مستوی میں کسی شے کے مقام سمتیہ 'rکو اکثر درج ذیل طور پر ظاہرکرتے ہیںr = × ^i+y^j مقام سمتیوں rاور r'کے درمیان نقل (displacement)کو درج ذیل طورپر لکھتے ہیں
13۔ اگر کوئی شے وقفہ وقت Δt میں Δr نقل کرتی ہے تو اس کی اوسط رفتار v= Δr— Δt ہوگی۔ کسی ساعت t پرشے کی رفتار اس کی اوسط رفتار کی اُس انتہائی قدر کے برابر ہوتی ہے جب Dt صفر کے قریب تر ہوجاتا ہے۔ یعنی
اکائی سمتیہ علامتوں میں اس طرح لکھ سکتے ہیں

جہاں

جب کسی کوآرڈی نیٹ نظام میں کسی شے کے مقام کو دکھایا جاتا ہے تو vکی سمت ہمیشہ اس شے کا راستہ دکھانے والے منحنی پر کھینچی گئی مماس کی سمت میں ہوتی ہے۔
14۔
اگر شے کی رفتار، Dt وقفہ وقت میں ،v سے v' ہوجاتی ہے تو اس کا اوسط اسراع

ہوگا۔
کسی ساعت tپر اسراع a اوسط اسراع –a کی وہ انتہائی قدر ہے، جب کہ0 → Δt
اجزاء کی شکل میں اسے درج ذیل طورپر ظاہر کیا جاسکتا ہے:
یہاں،

15۔
اگر ایک شے کسی مستوی میں یکساں (مستقل) اسراع

سے متحرک ہے اور ساعت t = 0 پر اس کا مقام سمتیہ r
o ہے، تو کسی دیگر ساعت t پر اس کا مقام سمتیہ r = r
0 + v
o t + 1/2 a t
2
ہوگا اور اس کی رفتارv = v0 +a t ہوگی۔
رفتار t a+ ov = v ہوگی۔
یہاںv0،t=o ساعت پر شے کے رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
اجزاء کی شکل میں :
vx = v0x + ax t
vy = v0y + ay t
کسی مستوی میں حرکت کو دو الگ الگ ہم وقتی یک بُعدی اور باہمی عمودی حرکات کے انطباق کے طورپر مان سکتے ہیں۔
16۔ پھینکے جانے کے بعد جب کوئی شے اڑان میں ہوتی ہے تو اسے پروجکٹائل کہتے ہیں۔ اگر ایک شے کو -xمحور سے q زاویہ بناتے ہوئے، ابتدائی رفتارv0 سے پھینکا جائے اور ہم یہ فرض کرلیں کہ اس کا آغازی مقام، کوآرڈی نیٹ نظام کے مبدے پر منطبق ہے تو t ساعت کے بعد پروجکٹائل کے مقام اور رفتار سے متعلق مساواتیں درج ذیل ہوں گی:
x = (v0 cos θ0) t
y = (v0 sin θ0) t −(1/2) gt2
vx = v0x = v cos θ0
vy = v0 sin θ0 − gt
پروجکٹائل کی راہ مکافی (parabolic) ہوتی ہے جس کی مساوات ہوگی:
پروجکٹائل کی اعظم اونچائی
اوراس اونچائی تک پہنچنے میں لگا وقت ہوگا:
پروجکٹائل کے ابتدائی مقام اور اسکے نیچے گرنے کے اس مقام، جہاں y = o ہوتا ہے، کے درمیان کے افقی فاصلہ کو پروجکٹائل کی سِعت (range) Rکہتے ہیں ۔ اسے درج ذیل طور پر ظاہر کرتے ہیں :

17۔ جب کوئی شے مستقل چال سے ایک دائری راہ میں چلتی ہے تو اسے یکساں دائری حرکت کہتے ہیں۔ اگر شے کی چال v ہو اور دائرہ کا نصف قطر R ہو، تو اسراع کی عددی قدر ac= v2/Rہوگی اوراس کی سمت ہمیشہ مرکز کی جانب ہوگی۔
زاویائی چال (1) زاویائی دوری کی تبدیلی کی شرح ہے۔ خطی رفتار v = w R ہوگی اور اسراع ac=w2R= ہوگا۔
اگر T طواف کا دور اور vاس کا تعددہوتو w,v اور ac کی قدر درج ذیل ہوں گی:
طبیعی مقدار
| طبیعی مقدار |
علامت |
ابعاد |
اکائی |
تبصرہ |
| مقام سمتیہ |
|
[L] |
|
سمتیہ۔ اسے کسی دیگر علامت سے بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔ |
| نقل |
|
[L] |
|
,, |
رفتار (a) اوسط (b) ساعتی |
|
[LT-1] |
|
Δr/Δt = ، سمتیہ dr/Δt = ، سمتیہ
|
اسراع (a) اوسط (b) ساعتی
|
|
[LT-2]
|
|
Δv/Δt = ، سمتیہ dv/dt = ، سمتیہ
|
پروجکٹائل حرکت (a) اعظم اونچائی تک پہنچے میں لگا وقت (b) اعظم اونچائی (c) افقی سِعت
|
|
[T]
[T]
[T]
|
|
 |
دائری حرکت (a) زاویائی چال (b) مرکز جو اسراع |
|
[LT-1]
[LT-2]
|
|
 |
قابل غور نکات 1۔ کسی شے کے ذریعہ دو نقاط کے درمیان کی راہ لمبائی عام طورپر، نقل کی عددی قدر کے برابر نہیں ہوتی۔ نقل صرف راہ کے انتہائی نقاط پر منحصر ہوتا ہے جب کہ راہ لمبائی (جیسا کہ نام سے ہی ظاہرہے) حقیقی راہ پر منحصر ہوتی ہے۔ دونوں مقداریں تبھی برابر ہوں گی جب شے حرکت کے راستے میں اپنی سمت نہیں بدلتی۔ دیگر دوسرے حالات میں راہ لمبائی نقل کی عددی قدر سے زیادہ ہوتی ہے۔ 2۔ درج بالا نقطہ 1 کے لحاظ سے شے کی اوسط چال کسی دئیے گئے وقفۂ وقت میں یا تو اس کی اوسط رفتار کی عددی قدر کے برابر ہوگی یا اس سے زیادہ ہوگی۔ دونوں برابر تب ہوں گی جب راہ لمبائی نقل کی عددی قدر کے برابر ہو۔ 3۔سمتیہ مساوات (4.46a) اور (4.47 a اور c) میں محوروں کا انتخاب شامل نہیں ہوتا۔ بلا شبہہ آپ انہیں کن ہی دو آزاد محوروں کی سمت میں جز تجزیہ کرسکتے ہیں۔ 4۔ مستقل اسراع کے لیے مجرد حرکیاتی مساوات یکساں دائری حرکت میں لاگو نہیں ہوتیں کیونکہ اس میں اسراع کی عددی قدر تو مستقلہ رہتی ہے لیکن اس کی سمت مستقل بدلتی رہتی ہے۔ 5۔ اگر کسی شے کی دو رفتاریں v1 اور v2 ہوں تو ان کی حاصل رفتار v = v1 + v2 ہوگی۔ اس بات کا دھیان رکھیں کہ شے نمبر2 کی مناسبت سے شے نمبر1 کی رفتار مذکورہ بالا بیان سے مختلف ہوتی ہے جسے یوں لکھا جاتا ہے v12 = v1 _ v2 جہاں v1 اور v2کسی مشترکہ حوالہ جاتی فریم کے مطابق رفتاریں ہیں۔ 6۔ دائری حرکت میں شے کے حاصل اسراع کی سمت دائرے کے مرکز کی طرف صرف جب ہی ہوتی ہے اگر اس کی چال مستقلہ ہے۔ 7۔ کسی شے کا حرکت کا خط(trajectory) صرف اسراع سے ہی متعین نہیں ہوتا بلکہ وہ حرکت کی ابتدائی شرائط (ابتدائی مقام اور ابتدائی رفتار) کے بھی تابع ہے۔ مثال کے لیے، ارضی کشش اسراع کے تحت حرکت کررہی ایک حرکت خط مستقیم بھی ہوسکتا ہے اور مکانی بھی، جو ابتدائی شرائط پر منحصر ہے۔
|
مشق
4.1 درج ذیل طبیعی مقداروں میں بتائیے کہ کون سی سمتیہ ہے اور کون سی عددیہ :
حجم، کمیت، چال، اسراع، کثافت، مول کی تعداد، رفتار، زاویائی تعدد، نقل، زاویائی رفتار۔
4.2 درج ذیل فہرست میں دوعددیہ مقداروں کو چنیے۔
قوت، زاویائی معیار حرکت، کام، برقی رو، خطی معیار حرکت (linear momentum)، برقی میدان، اوسط رفتار، مقناطیسی معیار اثر (moment)، نسبتی رفتار۔
4.3 درج ذیل فہرست میں صرف ایک سمتیہ مقدارشامل ہے۔اسے چنیے:
درجہ حرارت، دباؤ، دھکّا (impulse) ، وقت، پاور، پوری راہ لمبائی، توانائی،مادی کشش قوۃ، رگڑ کا ضربیہ، چارج۔
4.4 اسباب کے ساتھ بیان کیجیے کہ عددیہ اور سمتیہ طبیعی مقداروں کے ساتھ کیا درج ذیل الجبری عمل بامعنی ہیں؟
(a) دو عددیوں کو جوڑنا (b) یکساں ابعاد کے ایک سمتیہ اور ایک عددیہ کو جوڑنا (c) ایک سمتیہ کو عددیہ سے ضرب کرنا (d) دو عددیوں کا ضرب (e) دو سمتیوں کو جوڑنا (f) کسی سمتیے کے ایک جزو کو اسی سمتیے میں جوڑنا۔
4.5 درج ذیل ہر ایک بیان کو غور سے پڑھیے اور وجہ کے ساتھ بتائیے کہ یہ صحیح ہے یا غلط:
(a) کسی سمتیہ کی عددی قدر ہمیشہ ایک عددیہ ہوتی ہے، (b) کسی سمتیے کا ہر ایک جزو ہمیشہ عددیہ ہوتا ہے۔(c) کل راہ لمبائی ہمیشہ ذرّے کے نقل سمتیہ کی عددی قدر کے برابر ہوتی ہے۔ (d) کسی ذرے کی اوسط چال (راہ طے کرنے میں لگے وقت کے ذریعہ تقسیم کی گئی کل راہ لمبائی) وقت کے یکساں وقفے میں ذرے کی اوسط رفتار کی عددی قدر سے زیادہ یا اس کے برابر ہوتی ہے
(e) ان تین سمتیوں کا جوڑ، جو ایک مستوی میں نہیں ہیں،کبھی بھی صفر سمتیہ نہیں ہوتا۔
4.6 درج ذیل سمتیہ لا مساواتوں کو جیومیٹریائی طریقے یا کسی دیگر طریقے سے ثابت کیجیے:
درج بالا مساواتی علامت کا کب اطلاق ہوتا ہے؟
4.7 دیا ہے a + b + c + d = 0, ،نیچے دئیے گئے بیانات میں سے کون سا صحیح ہے:
(a) a, b, c اور d میں سے ہر ایک صفر سمتیہ ہے۔
(b) (a + c) کی عددی قدر (b + d) کی عددی قدر کے برابر ہے۔
(c) a کیعددی قدر b, c اور d کی عددی قدروں کی حاصل جمع سے کبھی بھی زیادہ نہیں ہوسکتی۔
(d) اگر a اور d ہم خطی نہیں ہے تو b+c ضرور ہی a اور d کی مستوی میں ہوگا اور a اور
d کی سمت میں ہوگا اگر وہ ہم خطی ہیں۔
4.8 تین لڑکیاں 200 m نصف قطروالی دائری برفیلی سطح پر اسکیٹنگ کررہی ہیں۔ وہ سطح کے کنارے کے نقطے P سے چلنا شروع کرتی ہیں اور P سے قطری طورپر مخالف نقطہ Q پر مختلف راہوں سے ہوکر پہنچتی ہیں جیسا کہ شکل (4.23) میں دکھایا گیا ہے۔ ہر ایک لڑکی کے نقل سمتیہ کی عددی قدر کتنی ہے؟ کس لڑکی کے لیے حقیقت میں یہ اسکیٹ کی گئی حقیقی راہ کی لمبائی کے برابر ہے؟
4.9 کوئی سائیکل سوار کسی دائری پارک کے مرکز O سے چلنا شروع کرتا ہے اور پارک کے کنارے P پر پہنچتا ہے۔ پھر وہ پارک کے محیط پر سائیکل چلاتا ہوا QO کے راستے ]جیسا (شکل4.24) میں دکھایا گیا ہے سے0 [ پر واپس آجاتا ہے۔ پارک کا نصف قطر 1km ہے۔ اگر پورے چکر میں 10 منٹ لگتے ہوں تو سائیکل سوار کی (a) کل نقل (b) اوسط رفتار اور (c) اوسط چال کیا ہوگی؟
شکل 4.21
4.10 کسی کھلے میدان میں کوئی موٹر ڈرائیور ایک ایسا راستہ اپناتا ہے جو ہر ایک 500 m کے بعد اس کے بائیں جانب 600 کے زاویے پر مڑ جاتا ہے۔ کسی دئیے ہوئے موڑ سے شروع ہوکر موٹر ڈرائیور کا تیسرے، چھٹے اور آٹھویں موڑ پر نقل بتائیے۔ ہر ایک صورت میں موٹر گاڑی کے ذریعہ موڑوں پر طے کی گئی کل راہ لمبائی کے ساتھ نقل کی عددی قدر کا موازنہ کیجیے۔
4.11 کوئی مسافر کسی نئے شہر میں آیا ہے اور وہ اسٹیشن سے کسی سیدھی سڑک پر واقع کسی ہوئل تک جو 10 km دور ہے، جانا چاہتا ہے۔ کوئی بے ایمان ٹیکسی ڈرائیور 23 km کے گھماؤ دار راستے سے اسے لے جاتا ہے اور 28 منٹ میں ہوٹل میں پہنچتا ہے۔
(a) ٹیکسی کی اوسط چال، اور (b) اوسط رفتار کی عددی قدر کیا ہوگی؟ کیا وہ برابر ہیں؟
4.12 بارش کا پانی 30 m s-1 کی چال سے عمودی طورپر نیچے گررہا ہے۔ کوئی خاتون شمال سے جنوب کی طرف 10 m s-1 کی چال سے سائیکل چلا رہی ہیں۔ انہیں اپنا چھاتا کسی سمت میں رکھنا چاہیے؟
4.13 کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں4 km/h کی چال سے تیر سکتا ہے۔ اسے 1 km چوڑی ندی کو پار کرنے میں کتنا وقت لگے گا اگر ندی 3 km/hکی چال سے یکساں طور پر بہہ رہی ہو اور وہ ندی کے بہاؤ کے عمودی تیر رہا ہو۔ جب وہ ندی کے دوسرے کنارے پہنچتا ہے تو وہ ندی کے بہاؤ کی جانب کتنی دور پہنچے گا؟
4.14 کسی بندرگاہ میں 72 km/h کی چال سے ہوا چل رہی ہے اور بندرگاہ میں کھڑی کسی ناؤ کے اوپر لگا جھنڈا N-E سمت میں لہرا رہا ہے۔ اگر وہ ناؤ شمال کی جانب 51 km/h چال سے حرکت کرنا شروع کردے تو ناؤ پر لگا جھنڈا کس سمت میں لہرائے گا؟
4.15 کسی لمبے ہال کی چھت 25 m اونچی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ افقی دوری کتنی ہوگی جس میں 40 m s-1 کی چال سے پھینکی گئی کوئی گیند چھت سے ٹکرائے بغیر گزر جائے؟
4.16 کرکٹ کا کوئی کھلاڑی کسی گیند کو 100 m کی زیادہ سے زیادہ افقی دوری تک پھینک سکتا ہے۔ وہ کھلاڑی اسی گیند کو زمین سے اوپر کتنی اونچائی تک پھینک سکتا ہے؟
4.17 80 cm لمبے دھاگے کے ایک سرے پر ایک پتھر باندھا گیا ہے اور کسی یکساں چال کے ساتھ کسی افقی دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔ اگر پتھر 25 s میں 14 چکر لگاتا ہے تو پتھر کے اسراع کی عددی قدر اور اس کی سمت کیا ہوگی؟
4.18 کوئی ہوائی جہاز 900 km/hکی یکساں چال سے اڑ رہا ہے اور 1km نصف قطر کا کوئی افقی لوپ بناتا ہے۔ اس کے مرکز جو اسراع کا مادی کشش اسراع کے ساتھ موازنہ کیجیے۔
4.19 نیچے دئیے گئے بیانوں کو غور سے پڑھیے اور وجہ کے ساتھ بتائیے کہ وہ صحیح ہیں یا غلط:
(a) دائری حرکت میں کسی ذرے کاکل اسراع ہمیشہ دائرے کی نصف قطر کی سمت میں مرکز کی جانب ہوتا ہے۔
(b) کسی نقطے پر کسی ذرے کا رفتار سمتیہ ہمیشہ اس نقطے پر ذرے کی راہ کے مماسی ہوتا ہے۔
(c) کسی ذرے کی یکساں دائری حرکت میں ایک دور میں لیا گیا اوسط اسراع سمتیہ ایک صفر یا نل سمتیہ ہوتا ہے۔
4.20 کسی ذرے کا مقام سمتیہ درج ذیل ہے:
وقت t سیکنڈ میں ہے اور r کے سبھی ضریب میٹر میں ہیں تو
(a) ذرے کا v اور a نکالیے۔
(b) t = 2s پر ذرے کی رفتار کی عددی قدر اور سمت کیا ہوگی؟
4.21
کوئی ذرہ t = 0 ساعت پر مبدا سے

کی رفتارسے چلنا شروع کرتا ہے اور x-y مستوی میں یکساں اسراع
سے حرکت کرتا ہے تو
(a) کس ساعت ذرے کا -x کوآرڈی نیٹ 16m ہوگا؟ اسی وقت اس کا -y کوآرڈی نیٹ کتنا ہوگا؟
(b) اس ساعت ذرے کی چال کتنی ہوگی؟
4.22

اور

علی الترتیب -x اور -y محوروں کی سمت میں اکائی سمتیہ ہیں۔ سمتیوں

اور

کی عددی قدر اور سمت کیا ہوگی؟ سمتیہ

کی سمتوں کی سمت میں ا جزاء نکالیے۔
4.23 فضا میں کی جاسکنے والی کسی بھی حرکت کے لیے درج ذیل رشتوں میں کون سا صحیح ہے:
یہاں ’اوسط‘ سے مراد وقفہ وقت t2 اور t1 کے دوران طبیعی مقدار کی اوسط قدر سے ہے۔
4.24 نیچے دیے ہوئے ہر بیان کو غور سے پڑھیے اوروجہ اور مثالوں کے ساتھ بتائیے کہ بیان درست ہے یا نہیں۔
ایک عددیہ مقدار وہ ہے
(a) جس کی ایک عمل کے دوران بقا ہوتی ہے (b) جس کی قدر کبھی منفی نہیں ہوسکتی
(c) جس کے لیے غیرابعادی ہونا لازمی ہے (d) فضا میں ایک نقطے سے دوسرے نقطے پر تبدیلی نہیں ہوتی۔
(e) ایسے مشاہدوں کے لیے جن کے محوروں کے رخ مختلف ہوں، اس کی قدر یکساں ہوتی ہے۔
4.25 کوئی جہاز زمین سے 3400m کی اونچائی پر پرواز کررہا ہے اگر جہاز کے ذریعہ 10سیکنڈ میں طے کردہ فاصلہ زمین پر واقع کسی مقام مشاہدہ پر 30º کا زاویہ ثبت کرتا ہو تو جہاز کی چال کتنی ہے؟
اضافی مشق
4.26 کسی سمتیہ میں عددی قدر اور سمت دونوں ہوتے ہیں۔ کیا فضا میں اس کا کوئی متعین مقام ہوتا ہے؟ کیا یہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتا ہے؟ کیا فضا میں مختلف مقامات پر واقع دوبرابر سمتیوں a اور b کا یکساں طبیعی اثر پڑنا ضروری ہے۔ اپنے جواب کی تائید میں مثال دیجیے۔
4.27 کسی سمتیہ میں عددی قدر اور سمت دونوں ہوتے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شے جس کی عددی قدر اور سمت ہو، وہ ضرور ہی سمتیہ ہوگی؟ کسی شے کے گردش کی تشریح گردش محور کی سمت اور محور کے گرد گردش زاویہ کے ذریعہ کی جاسکتی ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی بھی گردش ایک سمتیہ ہے؟
4.28 کیا آپ درج ذیل کے ساتھ کوئی سمتیہ متعلق کرسکتے ہیں:
(a) ایک لوپ میں موڑی گئی تار کی لمبائی (b) ایک ہموار رقبہ (c) ایک کرہ، تشریح کیجیے۔
4.29 کوئی گولی افق سے 30o کے زاویے پر داغی گئی ہے اور وہ زمینی سطح پر 3 km دور گرتی ہے۔ اس کے پروجیکشن کے زاویے کو موافق کرکے کیا 5 km دور واقع کسی نشانے پر مارنے کی امید کی جاسکتی ہے؟ نالی کے منہ سے نکلتے وقت گولی کی چال کو متعین مانیے اور ہوائی مزاحمت کو نظر انداز کرئیے۔
4.30 کوئی لڑاکو جہاز 1.5km کی اونچائی پر 720 km/h کی چال سے افقی سمت میں اڑرہا ہے اور کسی اینٹی ایئرکرافٹ گن کے ٹھیک اوپر سے گزرتا ہے۔ عمودی طورپر توپ کی نال کا کیا زاویہ ہو جس سے 600ms-1 کی چال میں داغا گیا گولا جہاز پر وار کرسکے۔ جہاز کے پائلٹ کو کسی کم ترین اونچائی پر جہاز کو اڑانا چاہیے جس سے گولا لگنے سے بچ سکے؟ [g = 10 m s-2]
4.31 ایک سائیکل سوار 27 km/h کی چال سے سائیکل چلارہا ہے۔ جیسے ہی سڑک پر وہ 80m نصف قطر کے دائری موڑ پر پہنچتا ہے، وہ بریک لگاتا ہے اور اپنی چال 0.5 m/s کی یکساں شرح سے کم کرلیتا ہے۔ دائری موڑ پر سائیکل سوار کے کل اسراع کی عددی قدر اور اس کی سمت نکالیے۔
(a) ثابت کیجیے کہ کسی پروجکٹائل کے –x محور اور اس کی رفتار کے درمیان کے زاویے کو وقت کے تفاعل کے طورپر درج ذیل طورپر ظاہر کرسکتے ہیں،
(b) ثابت کیجیے کہ مبدا سے پھینکے گئے پروجیکٹائل کے لیے پروجکشن زاویے کی قدر

سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔ یہاں استعمال کی گئی علامتوں کے معنی معمول کے مطابق ہیں۔