
باب 5
حرکت کے قوانین (Laws of Motion)
5.1 تعارف (INTRODUCTION)
پچھلے باب میں ہمارا تعلق فضا میں کسی ذرے کی حرکت کو مقداری طورپر بیان کرنے سے تھا۔ ہم نے دیکھا کہ یکساں حرکت میں محض رفتار کے تصور کی ضرورت تھی۔ غیر یکساں حرکت میں اسراع کے اضافی تصور کی ضرورت بھی پڑی۔ اب تک ہم نے یہ سوال نہیں پوچھا ہے کہ اجسام میں حرکت کس وجہ سے پیدا ہوتی ہے؟ اس باب میں ہم اپنی توجہ طبیعیات کے اس بنیادی سوال پر مرکوز کریں گے۔
آئیے سب سے پہلے ہم اپنے عام تجربات کی بنیاد پر اس سوال کے جواب کا اندازہ لگائیں۔ کسی کھیل کے میدان میں سکون کی حالت میں موجود فٹ بال کو حرکت فراہم کرنے کے لیے کسی نہ کسی کو اس پرٹھوکر ضرور مارنی ہوتی ہے۔ ہماری ہتھیلی پر رکھے کسی پتھر کو اوپراچھالنے کے لیے ہمیںاسے اوپر کی طرف دھکیلنا پڑتا ہے ۔ ہلکی ہوا پیڑ کی شاخوں کو جھلادیتی ہے۔ طاقتور ہوا کا جھونکا تو بھاری اجسام تک کو بھی لڑھکا سکتا ہے۔ بہتی ندی کشتی نہ کھینے پر بھی کشتی کو بہادیتی ہے۔ ظاہر ہے کسی جسم کو حالتِ سکون سے حرکت میں لانے کے لیے کسی بیرونی ذریعہ، جاندار یا غیر جاندار کے ذریعے قوت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، حرکت کو روکنے یا کم کرنے کے لیے بھی بیرونی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی مائل مستوی پر نیچے کی جانب لڑھکتی ہوئی گیند کو اس کی حرکت کی مخالف سمت میں قوت لگاکر روکا بھی جاسکتا ہے۔
ان مثالوں میں قوت کا بیرونی ذریعہ (ہاتھ ، ہوا، پانی کی دھارا وغیرہ) جسم کے تماس (contact) میں ہے لیکن یہ ہمیشہ ضروری نہیں ہے۔ کسی عمارت کی چوٹی سے بغیر نچلی طرف دھکا دیے چھوڑا گیا پتھر زمین کی مادی کشش کے سبب اسراعی ہوجاتا ہے۔ کوئی مقناطیسی چھڑ لوہے کے کیلوں کو دور سے ہی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی ذریعہ (ان مثالوں میں زمینی کشش اور مقناطیسی قوت) کسی دوری سے بھی کسی جسم پر قوت فراہم کرسکتی ہے۔
مختصراً کسی رکے ہوئے جسم کو حرکت دینے اور متحرک جسم کو روکنے کے لیے قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس قوت کو فراہم کرنے کے لیے کسی بیرونی ذریعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بیرونی ذریعہ ا س جسم کے تماس میں ہو بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی۔
یہاں تک تو سب صحیح ہے لیکن تب کیا ہوتا ہے جب کوئی جسم یکساں حرکت سے چلتا ہے (مثال کے لیے برف کے افقی فرش پر یکساں چال سے سیدھے خط میں متحرک اسکیٹر)؟ کیا کسی جسم کی یکساں حرکت برقرار رکھنے کے لیے کسی بیرونی قوت کی ضرورت ہوتی ہے؟
5.2 ارسطو کا مغالطہ(ARISTOTLE'S FALLACY)
درج بالا سوال آسان سا لگتا ہے لیکن درحقیقت اس کا جواب دینے میں کئی عہد بیت گئے۔ درحقیقت سترہویں صدی میں گیلیلیو کے ذریعے دیے گئے اس سوال کا صحیح جواب نیوٹنی میکانیات کی بنیاد بنا جس نے جدید سائنس کی ابتداء کی۔
عظیم یونانی مفکر، ارسطو(384قبل مسیح تا 322قبل مسیح) نے یہ تصور پیش کیا کہ اگر کوئی جسم متحرک ہے تو اسے اس حالت میں بنائے رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی بیرونی ذریعہ ہونا چاہیے۔ ا س تصور کے مطابق، مثال کے لیے کسی کمان سے چھوڑا گیا تیر اڑتا رہتا ہے کیونکہ تیر کے پیچھے کی ہواتیر کو ڈھکیلتی رہتی ہے۔ یہ ارسطو کے ذریعے فروغ دیے گئے کائنات میں اجسام کی حرکت سے متعلق تصورات کے مفصل ڈھانچے کا ایک حصہ تھا۔ حرکت کے بارے میں ارسطو کے زیادہ تر خیالات اب غلط سمجھے جاتے ہیں اور ان کی اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے مقصد کے لیے ہم یہاں ارسطو کے حرکت کے قانون کو اس طرح لکھ سکتے ہیں: کسی جسم کو متحرک رکھنے کے لیے بیرونی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے کہ ارسطو کی حرکت کا قانون ناقص ہے لیکن یہ ایک ایسا فطری نظریہ ہے جسے کوئی بھی شخص اپنے ذاتی تجربہ کی بناپر اخذ کرسکتا ہے۔ آخر اپنی عام کھلونا کار (غیر برقی) سے فرش پر کھیلتی چھوٹی لڑکی بھی وجدانی طور رپر یہ جانتی ہے کہ کار کو چلتی رکھنے کے لیے اسے مستقل طور رپر اس سے بندھی رسّی پر کچھ قوت لگاکر برابر دھکیلنا ہوگا۔ اگر وہ اپنی رسّی چھوڑدیتی ہے اور کار کو آزاد چھوڑ دیتی ہے تو کچھ لمحہ بعد وہ رک جاتی ہے۔ زیادہ تر زمینی حرکتوں میں یہی عام تحربہ ہوتا ہے۔ اجسام کو متحرک بنائے رکھنے کے لیے بیرونی قوتوں کی ضرورت پڑتی ہے انھیں خود پر چھوڑدینے پر سبھی اشیا آخر کار رک جاتی ہیں۔
پھر ارسطو کے قانون میں کیا نقص ہے؟ اس کا جواب ہے: متحرک کھلونا کار اس لیے رک جاتی ہے کہ فرش کے ذریعے کار پر لگنے کے لیے ہمیشہ سے موجود بیرونی قوت رگڑ اس کی حرکت کی مخالفت کرتی ہے ۔ اس قوت کی مخالفت کرنے کے لیے لڑکی کو کار پر حرکت کی سمت میں بیرونی قوت (اپنے ہاتھوں سے) لگانی پڑتی ہے ۔جب کار یکساں رفتار میں ہوتی ہے تب اس پر کوئی مجموعی بیرونی قوت کام نہیں کرتی۔لڑکی کے ذریعے لگائی گئی قوت فرش کی قوت (رگڑ قوت) کو رد کردیتی ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ ہے: اگر کوئی رگڑ نہ ہو تو لڑکی کو کھلونا کار کی یکساں حرکت بنائے رکھنے کے لیے کوئی بھی قوت لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
قدرتی ماحول میں ہمیشہ ہی مخالف قوتیں جیسے رگڑ (ٹھوسوں کے درمیان) یا لزوجی قوتیں (ٹھوس اور سیال اشیاء کے لیے) موجود رہتی ہیں۔ یہ ان عملی تجربات سے ظاہر ہے جن کے مطابق اشیا میں یکساں حرکت بنائے رکھنے کے لیے رگڑ قوتوں کو رد کرنے کے لیے بیرونی عوامل کے ذریعے قوت لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ارسطو سے غلطی کہاں ہوئی۔ اس نے اپنے اس تجربے کو ایک بنیادی قانون کی شکل دی۔ حرکت اور قوتوں کے لیے فطرت کے حقیقی قانون کو جاننے کے لیے ہمیں ایک ایسی مثالی دنیا (idealised world)کا تصور کرنا ہوگا جس میں بغیر کسی مخالف رگڑ قوت لگے یکساں حرکت واقع ہوتی ہے۔ یہی گیلیلیو نے کیا تھا۔
5.3 جمود کا قانون(LAW OF INERTIA)
گیلیلیو نے اشیا کی حرکت کا مطالعہ ایک مائل مستوی (ایک جھکے ہوئے مستوی) پر کیا تھا۔جھکے ہوئے مستوی پر نیچے کی جانب متحرک اشیا اسراعی ہوتی ہیں جب اسی سطح پر اوپر کی طرف جانے والی اشیا ابطا پذیر(retardation)ہوتی ہیں۔ افقی مستوی پر حرکت ان دونوں کے درمیان کی حالت ہوتی ہے۔ گیلیلیو نے یہ نتیجہ نکالا کہ کسی بے رگڑ افقی سطح پر حرکت پذیر کسی شے میں نہ تو اسراع ہونا چاہیے اور نہ ہی ابطا ،یعنی اسے یکساں رفتار سے حرکت کرنا چاہیے (شکل 5.1 (a) ۔
گیلیلیو کے ایک دیگر تجربے سے بھی جس میں انھو ں نے دوہرے مائل مستوی کا استعمال کیا، یہی نتیجہ نکلتا ہے ۔ایک مائل مستوی پر سکون کی حالت سے چھوڑی گئی گیند نیچے لڑھکتی ہے اور دوسرے مائل مستوی پر اوپر چڑھتی ہے۔ اگر دونوں مائل مستوی ہموار (چکنے) ہیں تو گیند کی آخری اونچائی اس کی ابتدائی اونچائی کے تقریباً برابر (کچھ کم، لیکن زیادہ کبھی نہیں) ہوتی ہے۔ مثالی حالت میں جب رگڑ قوت پوری طرح خارج کردی جاتی ہے تب گیند کی آخری اونچائی اس کی ابتدائی اونچائی کے مساوی ہونی چاہیے۔

(i) (ii) (iii)
شکل 5.1 (a)
اب اگر دوسرے مستوی کے ڈھال کم کرکے تجربے کو دہرائیں تو پھر بھی گیند اس اونچائی تک پہنچے گی لیکن ایسا کرنے میں وہ زیادہ فاصلہ طے کرے گی۔ انتہائی صورت میں، جب دوسرے مستوی کا ڈھال صفر (یعنی وہ افقی مستوی ہے) ہو تب گیند لا انتہا دوری تک چلتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اس کی حرکت کبھی نہیں رکے گی۔ بلاشبہ یہ ایک مثالی صورت حال ہے۔ (شکل 5.1 (b)۔

شکل 5.1(b) دوہر ے مائل مستوی پر حرکت کے مشاہدے سے گیلیلیو نے جمود کا قانون اخذ کیا تھا
عملاً، گیند افقی سطح پر ایک متناہی دوری طے کرنے کے بعد رک جاتی ہے کیونکہ ،رگڑ کی مخالف بیرونی قوت کو کبھی بھی پوری طرح سے خارج نہیں کیا جاسکتا، کبھی بھی تاہم نتیجہ ظاہر ہے: اگر رگڑ نہ ہوتی تو گیند افقی سطح پر یکساں رفتار سے متواتر چلتی رہتی۔
اسی طرح گیلیلیو کو حرکت کے متعلق ایک نئی بصیرت حاصل ہوئی جب کہ ارسطو اور ان کے پیروکاروں کی پہنچ سے یہ چیز باہر رہی۔ سکون کی حالت اور یکساں خطی حرکت کی حالت (یعنی مستقلہ رفتار سے حرکت) معادل ہوتی ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں جسم پر کوئی کُل (net)قوت کام نہیں کررہی ہوتی۔ یہ غلط ہے کہ جسم کو یکساں حرکت میں بنائے رکھنے کے لیے ہمیں ایک مجموعی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں رگڑ قوت (جو ایک بیرونی قوت ہی ہے) کو بالکل درست طور پر ناکام کرنے کے لیے ایک بیرونی قوت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم پر لگی دونوں قوتوں کا حاصل جمع ،یعنی کل بیرونی قوت صفر ہوجائے۔
قدیم ہندوستانی سائنس میں حرکت سے متعلق تصورات
قدیم ہندوستانی مفکرین نے بھی حرکت سے متعلق تصورات کے ایک وسیع و جامع نظام کو فروغ دے لیا تھا۔قوت کو جو حرکت کا سبب بنتی ہے ،کئی قسموں کا تصور کیا گیا تھا۔ مسلسل دباؤ کے سبب قوت (جسے نو دن کہا گیا) جیسے بحری سیاحت کرتے وقت جہازوں پر لگنے والی ہوائی قوت، ٹکر(ابھیگھات) جو کمہار کے چاک کو چھڑ سے گھمانے پر لگتی ہے، لگاتار کوشش کا رجحان (سنسکار)جیسے خطِ مستقیم میں حرکت (ویگا) یا لچک دار اجسام میں اس شکل میں دو بارہ آجانے کا رجحان ڈوری، چھڑ، آگ وغیرہ سے ترسیل شدہ قوت۔ حرکت کے ویششکا، نظریے میں (ویگا) کا تصور غالباً جمود کے تصور کے قریب تر ہے۔ یہ سمجھاگیا کہ ویگا، خط مستقیم میں چلنے کے لیے رجحان کی مزاحمت تماس میں آنے والی اشیا جن میں کرہ ہوابھی شامل ہے، کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ رگڑ اور مزاحمت کے تصور کی طرح کا خیال ہے۔ ان کا یہ قیاس صحیح تھا کہ اجسام کی مختلف طرح کی حرکات (انتقالی، گردشی اور ارتعاشی) اس جسم کے اجزائی ذرات کی صرف انتقالی حرکت کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ ہوا میں گرتی کسی پتی کی کل ملاکر نچلی جانب حرکت (پتن) ہوسکتی ہے اور ساتھ ہی ا س میں گردشی اور ارتعاشی حرکت (بھرمن، اسیدن) بھی ہوسکتی ہے لیکن کسی ساعت ا س پتی کے ہر ایک ذرے میں صرف ایک معین (چھوٹا) نقل ہوتا ہے۔ حرکت کی پیمائش اور لمبائی اور وقت کی اکائیوں کے بارے میں ہندوستانی مکتب فکر میں نمایاں طور پر زور دیا گیا تھا۔ یہ معلوم تھا کہ اسپیس (فضا) میں کسی ذرے کا مقام اس کی، تین محوروں سے دوریوں کی پیمائش کرکے ظاہر کیا جاسکتا تھا۔ بھاسکر (1150) نے ساعتی حرکت (تتکالک گتی) کا تصور پیش کیا جس سے تفرقی احساء کے ساعتی حرکت کے جدید تصور کی پیش بندی ہوئی۔ لہر اور دھارا (پانی کی) کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھا جاچکا تھا۔ دھارا مادی کشش اور سیالیت کے تحت آبی ذرات کی حرکت ہے جب کہ لہرآبی ذرات کے ارتعاش کی ترسیل کا نتیجہ ہے۔
5.4 نیوٹن کا حرکت کا پہلا قانون (NEWTON'S FIRST LAW OF MOTION)
گیلیلیو کے یہ سادہ لیکن انقلابی تصورات ارسطو کی میکانیات کے زوال کا سبب ثابت ہوئے۔ اب ایک نئی میکانیات کو فروغ دیا جانا تھا۔ اس کام کو سرآئزک نیوٹن نے،جنھیں سبھی ادوار کا عظیم سائنس داں مانا جاتا ہے، تقریباً اکیلے ہی انجام دیا۔
نیوٹن نے گیلیلیو کے تصورات کی بنیاد پر حرکت کے تین قوانین پرمشتمل (جو ان کے نام سے جانے جاتے ہیں)، ایک میکانیت کی بنیاد رکھی۔ گیلیلیو کے جمود کا قانون اس کا ابتدائی نقطہ تھا جس کو نیوٹن نے حرکت کے پہلے قانون کے طور پر وضع کیا:
ہر ایک جسم تب تک اپنی سکون کی حالت میں یا خط مستقیم میں یکساں حرکت کی حالت میں رہتا ہے جب تک کوئی بیرونی قوت اسے اس کے خلاف کرنے پر مجبور نہیں کرتی۔
اب سکون کی حالت یا یکساں خطی حرکت دونوں ہی میں ’’صفرا سراع‘‘ پنہاں ہے۔ لہٰذا حرکت کے پہلے قانون کو آسان الفاظ میں اس طرح بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے:
اگر کسی جسم پر لگنے والی کل بیرونی قوت صفر ہے، تو اس کا اسراع بھی صفر ہوتا ہے۔ غیر صفرا سراع تبھی ہوسکتا ہے جب جسم پر کوئی کل بیرونی قوت لگتی ہو۔
اس قانون کے اطلاق میں ہمیں دو طرح کی حالتوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ کچھ صورتوں میں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ شے پرلگ رہی کل بیرونی قوت صفرہے۔ اس صورت میں ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ شے کا اسراع صفر ہے۔ مثال کے لیے ستاروں کے مابین فضا (interstellar) میں سبھی مادی کشش والی اشیا سے بہت دور کسی اسپیس شپ (خلائی جہاز) پر، جس کے سبھی راکٹ بند کیے جاچکے ہوں، کوئی مجموعی بیرونی قوت نہیں لگ رہی ہوتی۔ حرکت کے پہلے قانون کے مطابق اس کا اسراع صفر ہونا چاہیے۔ اگر یہ حرکت میں ہے تو اسے یکساں رفتار سے لگاتار متحرک رہنا چاہیے۔
گیلیلیو گیلیلی (1564 تا 1642 ) (Galileo Galilei 1564 - 1642)

اٹلی کے پیسا نام کے شہر میں 1564 عیسوی میں پیدا ہوئے گیلیلیو گیلیلی تقریباً چار صدی قبل یوروپ میں ہوئے سائنسی انقلاب کے اہم ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اسراع کا تصور پیش کیا۔ اجسام کے ڈھلواں مستوی پر حرکت یا آزادانہ گرتے اجسام کی حرکت کے تجربات کے ذریعے انہوں نے ارسطو کے تصور کی تردید کی جس کے تحت کسی جسم کو حرکت پذیر رکھنے کے لیے کسی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی بھاری جسم زمینی کشش کے زیر ِ اثر مقابلتاً ہلکے جسم کے مقابلے میں تیزی سے گرتاہے، اس طرح انہوں نے جمود کا قانون دریافت کیا جو آئزک نیوٹن کے دور جدید کے کام کا ابتدائی نقطہ تھا۔
گیلیلیو کے ذریعے فلکیاتی میدان میں کیے گئے انکشافات بھی اتنے ہی انقلابی تھے۔ 1609 عیسوی میں انھوں نے اپنی (دور بین) (جس کی ایجاد پہلے ہالینڈ میں ہوئی تھی) خود بنائی اور اس کے استعمال سے انہوں نے اپنے کئی چونکا دینے والے مشاہدات کیے: چاند کی سطح پر پہاڑ اور گڈھے؛ سورج پر کالے دھبے؛ مشتری کے چاند اور زہرہ کی ہیئتیں ۔ انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ کہکشاں (آکاش گنگا) اپنی درخشانیت ننگی آنکھوں سے نہ دکھائی دے سکنے والے لا تعداد تاروں سے حاصل کرتی ہے۔ اپنی سائنسی استدلال کی نہایت عمدہ تخلیق ’’ڈائیلاگ آن دی ٹوچیف ورلڈ سسٹمس‘‘ میں گیلیلیو نے کاپرنکس کے ذریعے پیش کیے گئے نظام شمسی کے ’’سورج مرکزی نظریہ‘‘ کی تائید کی اور آخرکار اسی نظریے کو ہمہ گیر قبولیت حاصل ہوئی۔
گلیلیلیو کے ساتھ سائنسی جانچ کے طریقہ کار میں ایک موڑ آیا۔ اب سائنس محض قدرتی ماحول کامشاہدہ اور ان مشاہدات کی بنیاد پر منطقی اندازہ لگانا ہی نہیں رہ گیا تھا۔ اب سائنس سے مراد نئی نئی تراکیب پیش کرکے تجربات کے ذریعے نظریات کو پیش کرنا یا تردید کرنا بن گیا تھا۔ سائنس کے معنی طبیعی مقداروں کی پیمائش اور ان کے درمیان ریاضیاتی رشتوں کی تحقیق بن گیا تھا۔ اس منفرد اہلیت کے سبب ہی گیلیلیو کو جدید سائنس کا مورث اعلامانا جاناجاتا ہے۔
اب ایک افقی سطح جیسے ہموار میز پر سکون کی حالت میں رکھی ایک کتاب پر غور کرتے ہیں (شکل(a) 5.2 )۔اس کتاب پر دو بیرونی قوتیں عمل پذیر ہیں: مادی کشش قوت (یعنی کتاب کا وزن W) عمودی طور پر نیچے کی سمت میں عمل پذیر ہے اور میز کے ذریعے کتاب پر عمودی طورپر اوپر کی سمت میں عمودی قوت R عمل کرتی ہے۔ R ایک ازخود درست ہوجانے والی (self adjusting) قوت ہے۔ یہ اوپر مذکورہ دوسری طرح کی حالت کی ایک مثال ہے کہ قوتوں کے بارے میں پورا علم نہیں لیکن حرکت کی حالت معلوم ہے۔ ہم کتاب کو سکون کی حالت میں دیکھتے ہیں لہٰذا حرکت کے پہلے قانون کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ R کی عددی قدر W کی عددی قدر کے مساوی ہے۔ اکثر اس قسم کے بیان ہمارے سامنے آتے ہیں:’’چونکہ W=R، قوتیں ایک دوسرے کی تنسیخ کرتی ہیں اور اس لیے کتاب سکون کی حالت میں ہے‘‘۔ یہ استدلال درست نہیں ہے۔ صحیح بیان یہ ہونا چاہیے ’’چونکہ کتاب سکون کی حالت میں دکھائی دیتی ہے اس لیے حرکت کے پہلے قانون کے مطابق اس پر کل بیرونی قوت صفر ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ عمودی قوت R کتاب کے وزن W کے مساوی اور مخالف ہونا چاہیے‘‘۔

شکل a) 5.2) میز پرسکون کی حالت میں رکھی کتاب ،اور (b) یکساں رفتار سے متحرک کار، ان دونوں ہی معاملوں میں کل بیرونی قوت صفر ہے
اب ہم ایک کارکی حرکت پر غور کرتے ہیں جس میں یہ کار سکون کی حالت سے حرکت شروع کرکے اپنی چال میں اضافہ کرتی ہے اور پھر ہموار سیدھی سڑک پر پہنچ کر یکساں رفتار سے حرکت کرتی ہے (شکل 5.2(b)۔ جب یہ سکون کی حالت میں ہوتی ہے تب اس پر کوئی مجموعی قوت نہیں ہوتی۔ چال میں اضافے کے وقت اس میں اسراع ہوتا ہے۔کل بیرونی قوت کے سبب ایسا ہونا چاہیے۔ غور کیجیے کہ یہ ایک بیرونی قوت ہی ہونی چاہیے۔ کار کے اسراع کی وضاحت کسی بھی لیے اندرونی قوت کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ سننے میں یہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے۔ اگر یہاں سڑک پر کسی بیرونی قوت کے بارے میں غور کیا جاتا ہے تو یہ رگڑ کی قوت ہی ہے۔ سب باتوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کار کی حرکت میں اسراع کا سبب رگڑ قوت ہی ہے (رگڑ کے بارے میں آپ حصّہ 5.9 میں پڑھیں گے)۔ جب کار یکساں رفتار سے حرکت کرتی ہے تب پھر اس پر کوئی مجموعی بیرونی قوت نہیں ہوتی۔
حرکت کے پہلے قانون میں شامل جمود کی خاصیت بہت سی حالتوں میں سیدھے طورپر دکھائی پڑتی ہے۔ مان لیجیے ہم کسی رکی ہوئی بس میں غیر محتاط طورپر کھڑے ہیں اور اچانک بس کا ڈرائیور بس کو چلا دیتا ہے۔ ہم جھٹکے کے ساتھ پیچھے کی طرف گر پڑتے ہیں۔ کیوں؟ہمارے پیربس کے فرش کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ اگر رگڑ نہ ہوتی تو ہم وہیں رہتے جہاں پہلے تھے جب کہ ہمارے پیروں کے نیچے بس کا فرش صرف آگے کی سمت میں سرکتا اور بس کا پیچھے کا حصہ ہم سے آکر ٹکراتا۔ لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پیر اور فرش کے درمیان کچھ رگڑ ہوتی ہے۔ اگر بس بالکل اچانک چلنا نہیں شروع کردیتی ہے، یعنی اسراع درمیانی درجہ کا ہے تو رگڑ قوت ہمارے پیروں کو بس کے ساتھ اسراع کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن درحقیقت ہمارا جسم ایک قطعی استوار (Rigid) شے نہیں ہے۔ یہ قابل تخریب (Deformable) ہے، یعنی اس کے مختلف حصوں کے درمیان کچھ نسبتی نقل ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہمارے پیر بس کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو جسم کا باقی حصہ جمود کے سبب وہیں رہتا ہے جہاں تھا، اس لیے بس کی نسبت ہم پیچھے کی طرف ڈھکیل دیے جاتے ہیں۔ جیسے ہی یہ واقعہ ہوتا ہے، جسم کے باقی حصوں پر عضلاتی قوتیں (پیروں کے ذریعے) کام کرنے لگتی ہیں جو نسبتی نقل کی مزاحمت کرتی ہیں اور جسم کے باقی حصے کو بس کے ساتھ حرکت میں لے آتی ہیں او رہم چوٹ کھانے سے بچ جاتے ہیں۔ اسی طرح کا واقعہ تیزی کے ساتھ حرکت سے چلتی بس کے اچانک رکنے پر بھی ہوتا ہے۔ ہمارے پیر رگڑ کے سبب رک جاتے ہیں کیونکہ رگڑ قوت پیروں اور بس کے فرش کے درمیان نسبتی حرکت نہیں ہونے دیتی۔ لیکن جسم کا باقی حصہ جمود (inertia) کے سبب آگے کی طرف حرکت کرتا رہتا ہے۔ نتیجتاً ہم آگے کی طرف پھینک دیے جاتے ہیں۔ بحالی عضلاتی قوتیں (restoring muscular forces) پھرفعال ہوجاتی ہیں اور جسم کو حالتِ سکون میں لے آتی ہیں۔
مثال 5.1 کوئی خلائی مسافر خلا میں اپنے چھوٹے خلائی جہاز میں سے حادثاتی طورپر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ خلائی جہاز اس وقت 100 ms-2 کے اسراع سے اسراع پذیرہے۔ جس ساعت خلائی مسافر خلائی جہاز سے باہر آجاتا ہے، اس کے فوری بعد خلائی مسافر کا اسراع کیا ہے؟(فرض کریں کہ نزدیک میں کوئی تارے نہیں ہیں جو اس شخص پر مادی کشش قوت لگائیں)
جواب جس ساعت وہ مسافر جہاز سے باہر آتا ہے، اس ساعت پر خلائی مسافر پر کوئی بیرونی قوت عمل پذیر نہیں رہتی (ہم نے یہ مانا ہے کہ مسافر پر مادی کشش قوت لگانے کے لیے اس کے قریب کوئی تارہ نہیں ہے اور چھوٹا ہونے کے سبب خلائی جہاز کے ذریعے مسافر پر لگ رہی مادی کشش قوت قابلِ نظرانداز ہے)۔ حرکت کے پہلے قانون کے مطابق خلائی مسافر کا اسراع صفر ہے۔
5.5 نیوٹن کا حرکت کا دوسرا قانون (NEWTON'S SECOND LAW OF MOTION)
حرکت کا پہلا قانون اس سادہ صورت سے تعلق رکھتا ہے جس میں کسی جسم پر کل بیرونی قوت صفر ہے۔ حرکت کا دوسرا قانون اس عمومی صورت سے تعلق رکھتا ہے جس میں جسم پر ایک مجموعی بیرونی قوت لگ رہی ہو۔ یہ قانون کل بیرونی قوت اور جسم کے اسراع میں رشتہ بتاتا ہے۔
معیار حرکت (Momentum)
کسی جسم کے معیار حرکت (Momentum) کو اس کی کمیت m اور رفتار v کے حاصل ضرب کے ذریعے معرف کیا جاتاہے۔ اسے pکے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔
(5.1) p = mv
واضح طورپر معیار حرکت ایک سمتیہ مقدار ہے۔ روز مرہ زندگی کے مندرجہ ذیل عام تجربات سے اجسام کی حرکات پر قوتوں کے اثر پر غور کرتے وقت ہمیں معیار حرکت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔
مان لیجیے ایک کم وزن کی گاڑی (جیسے چھوٹی کار) اور ایک زیادہ وزن کی گاڑی (جیسے سامان سے لدا ٹرک) دونوں ہی کسی افقی سڑک پر کھڑے ہیں ۔ہم سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یکساں وقفہ وقت میں دونوں گاڑیوں کو یکساں چال سے حرکت کرانے میں کار کے مقابلے ٹرک کو ڈھکیلنے کے لیے نسبتاً زیادہ قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک ہلکا جسم اور ایک بھاری جسم دونوں یکساں چال سے متحرک ہیں تو یکساں وقفۂ وقت میں دونوں اجسام کو روکنے میں ہلکے جسم کے مقابلے بھاری جسم میں نسبتاً زیادہ قدر کی مخالف قوت کی ضرور ہوتی ہے۔
اگر دو پتھر، ایک ہلکا اور دوسرا بھاری ایک ہی عمارت کی چوٹی سے گرائے جاتے ہیں تو زمین پر کھڑے کسی شخص کے لیے بھاری پتھر کے مقابلے ہلکے پتھر کو لپکنا آسان ہوتا ہے۔ اس طرح کسی جسم کی کمیت ایک اہم پیرا میٹر ہے جو حرکت پر قوت کے اثر کو متعین کرتا ہے۔
قابل غور ایک دیگر اہم پیرا میٹر ہے چال۔ بندوق سے چھوڑی گئی کوئی گولی رکنے سے پہلے انسانی بافت کو آسانی سے چھید سکتی ہے، نتیجتاً حادثہ ہوجاتا ہے۔ اگر اسی گولی کو عام چال سے پھینکیں تو زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔ لہٰذا کسی دی گئی کمیت کے لیے اگرچال زیادہ ہوتو اسے ایک متعین وقفہ وقت میں روکنے کے لیے زیادہ قدر کی مخالف قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ساتھ لینے پر، کمیت اور رفتار کا حاصل ضرب، یعنی معیار حرکت (momentum) واضح طورپر حرکت کا ایک اہم متغیرہ ہے۔ اگر معیارحرکت میں زیادہ تبدیلی کی ضرورت ہے توزیادہ قوت لگانے کی ضرورت ہوگی۔

شکل 5.3 قوت صرف معیار حرکت میں تبدیلی پر ہی منحصر نہیں ہوتی بلکہ وہ اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ یہ تبدیلی کتنی تیزی سے واقع ہوئی ہے۔ ایک مشاق کھلاڑی گیند لپکتے وقت اپنے ہاتھوں کو پیچھے کی طرف کھینچتا ہے جس سے گیند کو روکنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، جس کے لیے نسبتاً کم قوت کی ضرورت ہوتی ہے
- کرکٹ کا کوئی ماہر کھلاڑی تیز چال سے آتی گیند کو ایک نئے سیکھنے والے کھلاڑی کے مقابلے کہیں زیادہ آسانی سے لپک لیتا ہے جب کہ نیا کھلاڑی اسی گیند کو لپکنے میں ہاتھوں میں چوٹ کھا لیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مشاق کھلاڑی اپنے ہاتھوں سے گیند کو لپک کر، اسے روکنے میں زیادہ وقت لگاتا ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ مشاق کھلاڑی گیند کو لپکنے کے عمل میں اپنے ہاتھوں کو پیچھے کی طرف کھینچتا ہے (شکل 5.3)جب کہ نو آموز کھلاڑی اپنے ہاتھوں کو اسی جگہ قائم رکھتا ہے اور گیند کو تقریباً فوری طورپر لپکنے کی کوشش کرتا ہے۔ گیند کو فوری روکنے کے لیے اسے نسبتاً کافی زیادہ قوت لگانی پڑتی ہے نتیجتاً اس کے ہاتھوں میں چوٹ لگ جاتی ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے: قوت صرف معیار حرکت میں تبدیلی پر ہی منحصر نہیں ہوتی وہ اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ کتنی تیزی سے یہ تبدیلی کی جاتی ہے۔ معیار حرکت میں یکساں تبدیلی اگر نسبتاً کم وقت میں کی جاتی ہے تو نسبتاً زیادہ قوت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختصراً معیار حرکت سمتیہ کی تبدیلی کی شرح زیادہ ہے، تو لگائی گی قوت زیادہ ہوتی ہے۔

پچھلے مشاہدات سے معیار حرکت کا سمتیہ کردار نمایاں نہیں ہوتا۔ اب تک کی مثالوں میں معیار حرکت اور معیار حرکت کی تبدیلی دونوں یکساں سمتوں میں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ مان لیجیے، کسی ڈوری کے ذریعے ایک پتھر کو افقی مستوی میں یکساں چال سے گردش کرایا جاتا ہے۔ اس میں معیار حرکت کی عددی قدر قائم رہتی ہے، لیکن اس کی سمت تبدیل ہوتی ہے۔ (شکل 5.4 ) معیار حرکت سمتیہ میں یہ تبدیلی کرنے کے لیے قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پتھر کویہ قوت ڈوری کے ذریعے ہمارے ہاتھ فراہم کرتے ہیں۔ تجربات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگر پتھر کو نسبتاً زیادہ چال اور/یا چھوٹے نصف قطروالے دائرے میں گردش کرایا جائے تو ہمارے ہاتھوں کے ذریعے زیادہ قوت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات نسبتاً زیادہ اسراع یا معادلانہ طورپر معیار حرکت سمتیہ میں نسبتاً زیادہ تبدیلی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر معیارِحرکت سمتیہ میں تبدیلی کی شرح زیادہ ہوگی تو لگائی گئی قوت زیادہ ہوگی۔
یہ کیفیتی مشاہدات ہمیں حرکت کے دوسرے قانون کی طرف لے جاتے ہیں، جسے نیوٹن نے اس طرح ظاہر کیا تھا:
کسی جسم میں معیار حرکت کی تبدیلی کی شرح لگائی گئی قوت کے راست متناسب ہوتی ہے اور اسی سمت میں ہوتی ہے جس سمت میں قوت کام کرتی ہے۔
اس طرح اگر m کمیت کے کسی جسم پر کوئی قوت F وقفہ وقت Δtتک لگانے پر اس جسم کی رفتار میں v سے v+Δv کی تبدیلی ہوجاتی ہے، یعنی جسم کے ابتدائی معیار حرکت p=mv میں (Δp = m Δv)کی تبدیلی ہوجاتی ہے۔ تب حرکت کے دوسرے قانون کے مطابق،
F = k ∆p/∆t یعنی F∝ ∆p/∆t
![]()
یہاں k متناسبیت کا مستقلہ ہے۔ اگر انتہا 0→ Δt، لیں اصطلاح
، tکی مناسبت سے pکا تفرقی ضریب (differential co-efficient) یا مشتق(derivative) بن جاتا ہے، جسے dp/ dt
کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح
F = k dp /dt
(5.2)
F = k
کسی معین کمیت m کے جسم کے لیے
(dp/dt = d/dt (m v
(m dv/dt = m a (5.3=
یعنی دوسرے قانون کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں۔
(5.4) F = k m a
جو یہ دکھاتا ہے کہ قوت F، کمیت m اور اسراع a کے حاصل ضرب کے متناسب ہوتی ہے۔
ہم نے قوت کی اکائی کی اب تک تعریف نہیں کی ہے۔ دراصل، قوت کی اکائی کی تعریف کے لیے ہم مساوات (5.4) کا استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم k کے لیے کوئی بھی مستقلہ قدر چننے کے لیے آزاد ہیں۔ آسانی کے لیے، ہم k = 1 چنتے ہیں۔ تب دوسرا قانون اس طرح ہوجاتا ہے،
(5.5) F =
= ma
SI اکائیوں میں، ایک اکائی قوت وہ ہوتی ہے جو 1kg کے جسم میں 1m s-2 کا اسراع پیدا کردیتی ہے۔ اس اکائی قوت کو نیوٹن کہتے ہیں۔ اس کی علامت N ہے۔ 1N = 1kg m s-2 ۔اس سطح پر حرکت کے دوسرے قانون کے کچھ اہم نکات پر غور کرتے ہیں:
1۔ حرکت کے دوسرے قانون میں F = 0 سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ a = 0۔ صاف طورپر دوسرا قانون پہلے قانون کے ہم آہنگ ہے۔
2۔ حرکت کا دوسرا قانون ایک سمتیہ قانون ہے۔ یہ درحقیقت تین مساواتوں کے معادل ہے، سمتیوں کے ہر ایک جزو کے لیے ایک مساوات:
ٖFx = dpx/dt = max
Fy = dpx/dt = may
Fz = dpz/dt = m az

(5.6) 
اس کامطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی قوت جسم کی رفتار کے متوازی نہیں ہے، بلکہ وہ رفتار سے کوئی زاویہ تشکیل دیتی ہے تو اس سے صرف یہ ہوتا ہے کہ قوت کی سمت میں واقع، رفتار کا جزوہی تبدیل ہو پاتا ہے۔ رفتار کاوہ جزو جو قوت کی عمودی سمت میں ہے غیرتبدیل شدہ ہی رہتا ہے۔ مثال کے لیے عمودی ارضی کشش قوت کے تحت کسی پروجکٹائل کی حرکت میں رفتار کا افقی جزو غیرتبدیل شدہ ہی رہتا ہے۔
3۔ مساوات (5.5) سے حاصل حرکت کا دوسرا قانون دراصل واحد نقطہ ذرہ (single point particle) پر لاگو ہوتا ہے۔ قانون میں F کی علامت ذرہ پرکل بیرونی قوت کو ظاہر کرنے اور علامت a ذرہ کے اسراع کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔ تاہم یہ پتہ چلا ہے کہ یہ قانون اسی شکل میں استوار (rigid) اجسام پریا زیادہ عمومی صورت میں ذرات کے نظام پر بھی لاگو ہوتاہے۔ اس صورت میں، F نظام پر لگی کل قوت ہے جب کہ a مجموعی طور پرنظام کا اسراع ہے۔ زیادہ درست طورپر، a نظام کے کمیت مرکز(centre of mass) کا اسراع ہے۔ نظام کی کسی بھی اندرونی قوتوں کو F میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

شکل 5.5 کسی ساعت پر اسراع کا تعین اسی ساعت پر لگ رہی قوت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگر ہوائی مزاحمت کو نظرانداز کردیں تو جس لمحہ کسی ایسی ٹرین سے پتھر باہر پھینکا جاتا ہے کہ جس میں (ٹرین میں) اسراع واقع ہورہا ہے اس لمحہ پر پتھر میں کوئی افقی اسراع یا قوت موجود نہیں ہوتی۔ اس طرح ایک لمحہ پہلے کے، ٹرین کی مناسبت سے اسراع کا کوئی اثر پتھر پر باقی نہیں رہتا۔
4. حرکت کا دوسرا قانون ایک مقامی رشتہ ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ فضا (space) میں کسی نقطہ (نقطہ کا فضا میں جائے قیام) پرکسی بھی خاص نقطہ اور لمحہ پر لگنے والی قوت F کا a سے جو بھی تعلق ہوتا ہے وہ اسی خاص نقطہ اور لمحہ کے لیے ہوتا ہے، یعنی جہاں کہیں بھی اسراع دریافت کرنا ہوتا ہے، اس کا تعلق اس مقام اور اس لمحہ سے ہوتا ہے، یعنی ذرہ کی پوری حرکت میں کسی اور مقام اور کسی اور لمحہ سے نہیں ہوتا۔(دیکھیں شکل 5.5)۔
مثال 5.2 90ms-1 چال سے حرکت پذیر اور 0.04kg کمیت کی کوئی گولی لکڑی کے بھاری بلاک میں گھس کر 60cm دوری چل کر رک جاتی ہے۔ بلاک کے ذریعے گولی پر لگنے والی اوسط مزاحمتی قوت کیا ہے؟
جواب گولی کا ابطا (مستقل مانتے ہوئے) ہے
α = -u2/2s = -90 × 90/2× 0.6 ms-2 = -6750 m s-2
![]()
حرکت کے دوسرے قانون کے ذریعے ابطائی قوت
= 0.04 kg × 6750 ms-2 = 270 N
![]()
حقیقی مزاحمتی قوت اور اسی لیے گولی کا ابطا ضروری نہیں ہموار ہوں۔ اس لیے، جواب صرف اوسط مزاحمتی قوت کو ظاہر کرتاہے۔
مثال 5.3 کسی ذرّہ کی کمیت mہے جس کی حرکت ½+gt² y=ut سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔اس حالت میں اس ذرّہ کے اوپر لگنے والی قوت کا پتہ لگائیں۔
جواب ہم جانتے ہیں
y = ut + 1/2 gt2
v = dv/dt = g
α = dv/dt = g

اس لئے مساوات (5.5)سے قوت حاصل ہوتی ہےF=ma=mg اس لیے، دی ہوئی مساوات ایک ذرّے کی زمینی کشش اسراع کے تحت کی جانے والی حرکت کو بیان کرتی ہے اور g،y کی سمت میں مقام کوآرڈی نیٹ ہے۔
جھٹکا (Impulse)
کبھی کبھی ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی ہیں جن میں کسی جسم پر کوئی بڑی قوت، بہت کم وقت کے لیے عمل پذیر رہ کر اس جسم کے معیار حرکت میں ایک متناہی تبدیلی پیدا کردیتی ہے ۔مثال کے لیے، جب کوئی گیند کسی دیوار سے ٹکراکر واپس آتی ہے، تب دیوار کے ذریعے گیند پر لگنے والی قوت بہت کم وقت کے لیے (جتنے وقت تک دونوں رابطے میں ہوتے ہیں) عمل پذیر رہتی ہے تو بھی یہ قوت گیند کے معیار حرکت کی سمت بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اکثر ان حالات میں قوت اور دوران وقت کو الگ الگ متعین کرنا مشکل ہوتاہے۔ لیکن قوت اور وقت کا حاصل ضرب، جوجسم کے معیار حرکت کی تبدیلی ہے، ایک پیمائش کے لائق قدر ہے۔ اس حاصل ضرب کو جھٹکا یا دھکّا کہتے ہیں۔
قوت × مدت =جھٹکا
(5.7) معیار حرکت میں تبدیلی =
معیار حرکت میں ایک متناہی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے، کم وقت کے لیے عمل پذیر رہنے والی بڑی قوت کو دھکا پیدا کرنے والی قوت کہتے ہیں۔ اگرچہ سائنس کی تاریخ میں جھٹکا دینے والی قوتوں کو تصوراتی طورپر عام قوتوں سے الگ زمرے میں رکھا گیامگر نیوٹنی میکانیات میں ایسا کوئی امتیاز نہیں کیا گیا ہے۔ دیگر قوتوں کی طرح جھٹکا پیدا کرنے والی قوت بھی قوت ہی ہے مگر یہ بڑی قوت ہوتی ہے اور کم وقت کے لیے عمل کرتی ہے۔
مثال 5.4 ایک بلّے باز 12m s-1 کی رفتار سے اپنی طرف آتی ہوئی گیند پر ہٹ لگاتا ہے اور گیند کی ابتدائی چال میں تبدیلی پیدا کیے بغیر سیدھے باؤلر کی جانب واپس بھیج دیتا ہے، اگر گیند کی کمیت 0.15kg ہوتو گیند پر لگنے والے جھٹکے کو دریافت کیجیے۔ (گیند کی حرکت کو خطی تصور کریں)۔
جواب معیارِحرکت میں تبدیلی
= 0.15 × 12 - (- 0.15 ×12) = 3.6 Ns
3.6Ns = جھٹکا
بلّے باز سے گیند باز کی سمت میں
یہ ایک ایسی مثال ہے جس میں بلے باز کے ذریعے گیند پر لگی قوت اور گیند اوربلے کے درمیان رابطے کا وقت معلوم کرنا ایک مشکل کام ہے جب کہ جھٹکے (impulse) کی تحسیب فی الفور کی جاسکتی ہے۔
5.6 نیوٹن کا حرکت کا تیسرا قانون (NEWTON'S THIRD LAW OF MOTION)
حرکت کا دوسرا قانون کسی جسم پر لگی بیرونی قوت اور اس میں پیدا اسراع میں رشتہ بتاتا ہے۔ جسم پر لگنے والی بیرونی قوت کا ماخذ کیا ہے؟ کون سا ذریعہ بیرونی قوت فراہم کرتا ہے؟ نیوٹنی میکانیات میں ان سوالوں کا سادہ جواب یہ ہے کہ کسی جسم پر لگنے والی بیرونی قوت ہمیشہ ہی کسی دوسرے جسم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔دو اجسام Aاور Bکا ایک جوڑا تصور کیجیے۔ مان لیجیے کہ جسم B، جسم A پر کسی بیرونی قوت کو پیداکرتا ہے، تب یہ سوال بھی فطری ہے: کیا جسمAبھی جسم B پر کسی بیرونی قوت کوپیداکرتا ہے؟ کچھ مثالوں میں جواب واضح معلوم ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی مرغولی (لچھے دارcoiled) کمانی کو اپنے ہاتھوں سے دبائیں تو وہ کمانی آپ کے ہاتھوں کی قوت سے دب جاتی ہے۔ دبی ہوئی کمانی بھی آپ کے ہاتھوں پر قوت لگاتی ہے: آپ اس قوت کومحسوس کرسکتے ہیں؟ لیکن تب کیا ہوتا ہے جب اجسام رابطے میں نہیں ہوتا؟ ارضی کشش کے سبب زمین کسی پتھر کو نچلی سمت میں کھینچتی ہے۔ کیا پتھر زمین پر کوئی قوت لگاتا ہے؟ اس کا جواب واضح نہیں ہے، کیونکہ ہم پتھر کے ذریعے زمین پر لگی قوت کے اثر کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن نیوٹن کے مطابق اسی سوال کا جواب ہے: ہاں، پتھر بھی زمین پر ایک مساوی مخالف قوت لگاتا ہے۔ ہمیں اس قوت کا احساس نہیں ہوپاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ نہایت بھاری ہونے کے سبب زمین کی حرکت پر پتھر کے ذریعے لگنے والی کم قوت کا اثر ناقابلِ لحاظ ہوتا ہے۔
اس طرح، نیوٹنی میکانیات کے مطابق، قدرتی ماحول میں قوت کبھی بھی اکیلی نہیں پائی جاتی۔ دواجسام کے درمیان واقع باہمی بین عملی (interaction) کو ہی قوت کہا جاتا ہے۔ قوت ہمیشہ جوڑوں میں واقع ہوتی ہے۔ ساتھ ہی دواجسام کے درمیان باہمی قوتیں ہمیشہ مساوی اور مخالف سمتوں میں ہوتی ہیں۔ نیوٹن نے اس تصور کو حرکت کے تیسرے قانون کے طورپر پیش کیا۔
ہر ایک عمل کا ہمیشہ ایک مساوی اور مخالف رد عمل ہوتا ہے۔
نیوٹن کی حرکت کے تیسرے قانون کی زبان اتنی واضح اور دلچسپ ہے کہ یہ عام زبان کا حصہ بن گئی ہے۔ شاید اسی وجہ سے حرکت کے تیسرے قانون کے بارے میں غلط تصورات بھی بہت پائے جاتے ہیں۔ آئیے حرکت کے تیسرے قانون کے اہم نکات پر غور کریں، خاص طورپر عمل اور ردعمل اصطلاح کے استعمال کے معاملے میں۔
1۔ حرکت کے تیسرے قانون میں استعمال شدہ اصطلاحات یعنی عمل اور ردعمل کا مطلب ’’قوت‘‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ایک طبیعی تصور کے لیے مختلف اصطلاحات کا استعمال کبھی کبھی مغالطے میں ڈال سکتا ہے۔ تیسرے قانون کو آسان اور واضح الفاظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے:
قوت ہمیشہ جوڑوں (pairs) میں واقع ہوتی ہے۔ جسم A پر B کے ذریعے لگائی گئی قوت جسم B پر A کے ذریعے لگائی گئی قوت کے مساوی اور مخالف ہوتی ہے۔
آئزک نیوٹن (1642 تا 1727) (Isaac Newton 1642 - 1727)

آئزک نیوٹن 1642 عیسوی میں انگلینڈ کے وولس تھارپے نام کے شہر میں پیدا ہوئے، اتفاق سے اسی سال گیلیلیو کا انتقال ہوا۔ اسکولی زندگی میں ان کی غیر معمولی ریاضیاتی اہلیت اور میکانکی میلان دیگر لوگوں سے چھپا رہا۔ 1662 میں گریجویشن سے قبل مطالعہ کے لیے وہ کیمبرج گئے۔ 1665 میں طاعون پھیلنے کے سبب یونیورسٹی بند کرنی پڑی اور نیوٹن اپنے وطن واپس آگئے۔ ان دوبرسوں کی گوشہ نشینی کی زندگی میں ان کی سوئی ہوئی تخلیقی قوت بیدار ہوئی۔ ان کی ریاضی اور طبیعات کی بنیادی دریافتیں ہیں: منفی اور کسری قوت نماؤں کی بائی نومیل تھیورم، کیل کولس (احصا) کی ابتدا، ثقل کا مقلوب مربعی قانون، سفید روشنی کے اسپیکٹرم وغیرہ ۔ کیمبرج واپس ہونے پرانھوں نے بصریات میں اپنی دریافتوں کو آگے بڑھایا اور انعکاسی دوربین کا اختراع کیا۔
1684 عیسوی میں اپنے دوست ایڈ منڈ ہیلی کی حوصلہ افزائی پر نیوٹن نے اپنے سائنسی کاموں کو لکھنا شروع کیا اور ’’دی پرنسپیا میتھمیٹکا‘‘ (The Principia Mathematica) نام کی عظیم کتاب کی تخلیق کی جو کسی بھی دور میں تخلیق کی گئی عظیم کتابوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ اسی کتاب میں انھوں نے حرکت کے تینوں قوانین اور ثقل کے آفاقی قانون کو واضح طورپر پیش کیا جو کیپلرکے سیاری مداروں کے تین قوانین کی باقاعدہ تشریح کرتے ہیں۔ یہ کتاب نئی نئی غیر معمولی رہنما حصولیابیوں سے بھرپور تھی جن میں کچھ اہم اس طرح ہیں: سیال میکانیات کے بنیادی اصول، امواجی حرکت کی ریاضیات، زمین، سورج اور دیگر سیاروں کی کمیتوں کی تحسیب، تقویمۂ اعتدالین کی تشریح، مدوجزر کا نظریہ وغیرہ۔ 1704 عیسوی میں نیوٹن نے ایک دیگر منفرد کتاب ’’آپٹکس(Opticks) ‘‘ پیش کی جس میں ان کے روشنی اور رنگ سے متعلق کام کا خلاصہ پیش کیا گیا تھا۔
کاپرنکس نے جس سائنسی انقلاب کو حرکت دی اور جسے کیپلر اور گیلیلیو نے تیزی سے آگے بڑھایا اسی کی نیوٹن نے شاندار تکمیل کی ۔نیوٹنی میکانیات نے ارضی اور فلکیاتی مظاہر کو یکجا کیا۔ ایک ہی ریاضی مساوات زمین پر سیب کے گرنے اور زمین کے چاروں طرف چاند کے طواف کرنے کو معین کرسکتی تھی۔ اب دلیل ومنطق کا دور شروع ہوچکا تھا۔
3۔ عمل اور رد عمل قوتیں دو مختلف اجسام پر عمل کرتی ہیں۔ ایک ہی شے پر نہیں۔ دواجسام A اور B کے جوڑے پر غور کیجیے۔ تیسرے قانون کے مطابق،
(5.8) FAB = - FBA
(B پر A کے ذریعے لگائی گئی قوت) – = (A پرB کے ذریعے لگائی گئی قوت)
اس طرح، اگر ہم کسی ایک جسم (A یا B) کی حرکت پر غور کرتے ہیں تو دونوں قوتوں میں سے جسم کے لیے صرف ایک ہی قوت بامعنی ہوتی ہے۔ دونوں قوتوں کو جمع کرکے دعویٰ کرنا کہ کل قوت صفر ہے، ایک غلطی ہے۔ پھر بھی، اگر آپ دو اجسام کے کسی نظام کو ایک مجموعی جسم مان کر اس پر غور کرتے ہیں تو FAB اور FBA اس نظام (A+B) کی اندرونی قوتیں ہیں۔ یہ دونوں مل کر ایک صفر قوت فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے جو دوسرے قانون کو کسی جسم یا ذرات کے نظام پر قابل اطلاق بناتی ہے (دیکھیے باب7)۔
مثال 5.5 وومتماثل (identical) بلیرڈ گیندیں کسی مضبوط دیوار سے یکساں چال سے، لیکن مختلف زاویوں پر ٹکراتی ہیں اور نیچے دکھائی گئی شکل کی طرح چال میں بغیر کسی تبدیلی کے، واپس ہوجاتی ہیں (شکل 5.6) ۔ (i) ہر ایک گیند کے سبب دیوار پر لگنے والی قوت کی سمت کیا ہے؟ اور (ii) دیوار کے ذریعے دونوں گیندوں پر لگے جھٹکوں (impulse) کی عددی قدروں کی نسبت کیا ہے؟

شکل 5.6
جواب فطری طورپر ان سوالوں کے جواب اس طرح ہوں گے۔ (i) یہ ہوسکتا ہے کہ (a) میں گیند کے سبب دیوار پر لگی قوت دیوار کے عمودی ہو جب کہ (b) میں گیند کے سبب دیوار پر لگی قوت دیوار پر عمود کے ساتھ 30o کا زاویہ بناتی ہو۔ یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ دونوں ہی معاملوں میں دیوار پر لگی قوت دیوار کے عمودی ہے۔
دیوار پر لگی قوت کو کیسے معلوم کریں؟ اس کے لیے ایک گر اپناتے ہیں جس میں پہلے ہم دوسرے قانون کا استعمال کرکے دیوار کے سبب گیند پر لگی قوت (یا جھٹکے) پر غور کرتے ہیں اور اس کے بعد (i) کا جواب دینے کے لیے تیسرے قانون کا استعمال کرتے ہیں۔ مان لیجیے ہر ایک گیند کی کمیت m ہے اور دیوار سے ٹکرانے سے قبل اور ٹکرانے کے بعد دونوں گیندوں کی چال u ہے۔ شکل کے مطابق x- اور y- محوروں کا انتخاب کیجیے، اور ہر ایک معاملے میں گیند کے معیار حرکت میں تبدیلی پر غور کیجیے:
معاملہ (a)
(px)initial = mu (py) initial = 0
(px) initial = -mu (py) initial = 0

معیار حرکت سمتیہ میں تبدیلی کو جھٹکا کہتے ہیں لہٰذا
2mu-= جھٹکے کا x-
0 جھٹکے کا y- جزو
جھٹکا اور قوت ایک ہی سمت میں ہیں، درج بالا بات سے یہ واضح ہے کہ دیوار کے سبب گیند پر لگی قوت دیوار کے عمودی اور حرکت کے منفی x- سمت کے مطابق ہے۔ نیوٹن کے حرکت کے تیسرے قانون کا استعمال کرنے پر دیوار کے سبب گیند پر لگی قوت دیوار کے عمودی اور منفی -x سمت میں ہے۔ چونکہ اس مسئلے میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ دیوار سے ٹکرانے میں لگا مختصر وقت کتنا ہے، لہٰذا قوت کی عددی قدر نہیں معلوم کی جاسکتی۔
معاملہ (b)
(px)initial=mu cos 30° , (py)initial=-mu sin 30°
(py)final =-mu cos 30° , (py)initial=-mu sin 30°

غور کیجیے، ٹکرانے کے بعد px کی علامت تبدیل ہوجاتی ہے، جب کہ py کی نہیں ہوتی۔
لہٰذا،
- 2 mu cos 30°
جھٹکے کا x- جز=
0 =جھٹکے کا y- جزو
جھٹکا (یاقوت) کی سمت وہی ہے جو (a) میں تھی۔ یہ دیوار کے عمودی منفی x- سمت کے مطابق ہے۔ پہلے کی ہی طرح نیوٹن کے تیسرے قانون کا استعمال کرنے پر گیند کے سبب دیوار پرلگی قوت دیوار کے عمودی مثبت x سمت کے مطابق ہے۔ عمل (a) اور عمل (b) میں گیند کو دیوار کے ذریعے فراہم کیے گئے جھٹکوں کی قدر کی نسبت ہے:
2 mu / 2mu cos 30° = 2/3 = 1.2

5.7 معیار حرکت کی بقا (CONSERVATION OF MOMENTUM)
نیوٹن کے حرکت کے دوسرے اور تیسرے قانون سے ایک نہایت اہم نتیجہ اخذ ہوتا ہے: یعنی معیار حرکت کی بقا کا قانون۔ایک جانی پہچانی سی مثال پر غور کیجیے۔ کسی بندوق سے ایک گولی چھوڑی جاتی ہے۔ اگر بندوق کے ذریعے گولی پر لگی قوت F ہے تو نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق گولی کے ذریعے بندوق پرلگنے والی قوت -F ہے۔ دونوں قوت یکساں وقفہ وقت Δt تک عمل کرتی ہیں۔ دوسرے قانون کے مطابق گولی کے معیار حرکت کی تبدیلی FΔt ہے اور بندوق کے معیار حرکت کی تبدیلی -FΔt ہے۔ چونکہ شروع میں دونوں سکون کی حالت میں ہیں، لہٰذا ابتدائی معیار حرکت کی تبدیلی آخری معیار حرکت کے برابر ہے۔ اس طرح اگر چھوڑنے کے بعد گولی کا معیارِ حرکت pb ہے اور بندوق کا پسپا معیار حرکت pg ہے، تو pg= – pb ، یعنی 0= pb + pg،یعنی گولی+بندوق نظام کے کل معیار حرکت کی بقا ہوتی ہے۔
اس طرح کسی جدا نظام میں (یعنی کوئی نظام جس پر کوئی بیرونی قوت نہیں لگتی ہے)۔ نظام کے جوڑوں کے درمیان باہمی قوت انفرادی ذرات کی معیار حرکت میں تبدیلی کرسکتی ہے، لیکن چونکہ ہر ایک جوڑے کے لیے باہمی قوت مساوی اور مخالف ہے اس لیے معیار حرکت تبدیلی جوڑوں میں رد ہوجاتی ہے اور کل معیار حرکت تبدیل نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو معیارِ حرکت کی بقا کا قانون کہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق:
بین عملی کرنے والے ذرات کے کسی جدا کیے ہوئے(isolated) نظام میں کل معیار حرکت کی بقا ہوتی ہے۔
معیار حرکت کی بقا کے قانون کے اطلاق کی ایک اہم مثال دو اجسام میں تصادم ہے۔ دو اجسام A اور B پر غور کیجیے جن کے ابتدائی معیار حرکت pA اور pB ہیں۔ دونوں میں تصادم ہوتا ہے اوروہ علاحدہ ہوجاتے ہیں۔ اگر علاحدہ ہونے کے بعد ان کے آخری معیار حرکت علی الترتیب P'A اور P'B ہیں، تو دوسرے قانون کے ذریعے
اور
FAB ∆t = p'A - pΑ
FBA ∆t = p'B - pB

یہاں ہم نے دونوں قوتوں کے لیے یکساں وقفۂ وقت Δt مانا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں دونوں جسم تماس(contact) میں رہتے ہیں۔
چونکہ FAB = _ FBA (تیسرے قانون کے ذریعے)
p'A - pA = -(p;B - pB)اس لیے
![]()
p'A + p'B= (pA + pB)
(5.9)
جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدا نظام (A+B) کا کل آخری معیار حرکت اس کے ابتدائی معیار حرکت کے برابر ہے۔ غور کیجیے کہ یہ قانون دونوں معاملوں میں صحیح ہے خواہ تصادم لچکدار ہے یا غیر لچکدار۔ لچکدار تصادموں میں مزید اور بھی شرط ہے کہ نظام کی کل ابتدائی حرکی توانائی نظام کی کل آخری حرکی توانائی کے برابر ہوتی ہے (دیکھیے باب 6)۔
5.8 ایک ذرّے کا توازن (EQUILIBRIUM OF A PARTICLE)
میکانیات میں کسی ذرے کوہم تب حالتِ توازن میں کہتے ہیں جب ذرّے پرکل بیرونی قوت صفرہوتی ہے۔ پہلے قانون کے مطابق اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو ذرہ سکون کی حالت میں ہے یا یکساں حرکت میں ہے۔ اگر کسی ذرے پر دوقوتیں F1 اور F2 عمل کرتی ہیں تو توازن کے لیے ضروری ہے۔
(5.10) F1 = _ F2
یعنی ذرے پر عمل پذیر دونوں قوتیں مساوی اور مخالف ہونی چاہیے۔ تین ہم نقطہ قوتوں F2 ، F1 اور F3 کے تحت توازن کے لیے ان تینوں قوتوں کا سمتی حاصل جمع صفر ہونا چاہیے۔
F1 + F2 + F3 = 0 (5.11)

شکل 5.7 ہم نقطہ قوتوں کے زیرِاثر توازن
دوسرے لفظوں میں’کن ہی دو قوتوں F1 اور F2 کا حاصل ‘ جو قوتوں کے متوازی الاضلاع قانون کے ذریعے نکا لا جائے گا، کسی تیسری قوت F3 کے مساوی اور مخالف ہونا چاہیے۔ جیسا کہ شکل 5.7میں دیکھاجاسکتا ہے، ایسی صورت میں جس میں ایک نقطہ پر تین قوتیں کام کرہی ہوں اور نقلہ حالت توازن میں ہو، ان تینوں قوتوں کو ایک مثلث کے تین اضلاع کے ذریعے ظاہر کیاجاسکتا ہے، جس میں سمتیہ تیرنشان یکساں سمت کی نشاندہی کریں (گھڑی کی سمت میں یا گھڑی مخالف سمت میں) اس نتیجے کوعمومی شکل میں قوتوں کی کسی بھی تعداد کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔ لگائی جانے والی قوتوں F1, F2, F3....Fn کے تحت کوئی ذرہ توازن میں ہوگا اگر ان قوتوں کو n اضلاع کے بند کثیر الاضلاع کے ضلعوں کے ظاہرکیا جاسکے، جب کہ سمتیہ تیرنشان یکساں سمت (گھڑی کی سمت میں یا گھڑی مخالف سمت میں) کی نشاندہی کریں۔
مساوات (5.11)کے مطابق
F1x + F2x + F3x = 0
FIy + F2y + F3y =0
F1x + F2z + F3z =0

جہاں، F1z، F1y، F1x قوت F1 کے اجزاء بالترتیب y،xاورzسمت میں ہیں۔
مثال 6kg 5.6 کمیت کے کسی جسم کو چھت سے 2m لمبی ڈوری سےلٹکایا گیا ہے۔ ڈوری کے وسطی نقطے P پر شکل میں دکھائے گئے انداز میں افقی سمت میں50N قوت لگائی گئی ہے۔ توازنی حالت میں ڈوری عمود سے کتنا زاویہ بناتی ہے؟
(g = 10 m s-2 لیجیے) ڈوری کی کمیت کو نظر انداز کردیں(دیکھیں شکل 5.8 )۔

شکل 5.8
* کسی جسم کے توازن کے لیے صرف انتقالی توازن (صفرمجموعی بیرونی قوت) ہی ضروری نہیں ہے بلکہ گردشی توازن (صفرمجموعی بیرونی قوت گردشہ) بھی ضروری ہے۔ یہ ہم باب 7 میں دیکھیں گے۔
جواب شکل (b)5.8
اور (c)5.8
آزاد جسم شکل کہلاتی ہیں۔ شکل5.8 (b)W
کی آزاد–جسم شکل اور شکل
نقطہ Pکی آزادجسم شکل ہے۔ سب سے پہلے وزن W کے توازن پر غورکیجیے۔ ظاہر ہے، 6x10 =60NT2 =۔ اب تینوں قوتوں - تناؤ T1 اور T2، اور 50N افقی قوت کے عمل کے سبب نقطہ P پرجو توازن قائم ہوگا اس پر غور کریں۔ حاصلِ قوت کے افقی اور عمودی اجزا کو الگ الگ صفر ہونا چاہیے۔
T1 cos θ = T2 = 60 N
T1 sin θ = 50 N
=tan θ یا θ = tan-1(
) = 40o
غور کیجیے، جواب نہ تو ڈوری (جس کی کمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے) کی لمبائی پر منحصر ہوتا ہے اور نہ ہی اس نقطے کے مقام پر منحصر ہوتا ہے جس پر افقی قوت لگائی گئی ہے۔
5.9 میکانیات میں کی عام قوتیں (COMMON FORCES IN MECHANICS)
میکانیات میں ہمارا سامنا کئی طرح کی قوتوں سے ہوتا ہے۔کششِ ارضی قوت ہمہ گیر ہے۔ زمین پر واقع سبھی اشیا زمین کی قوت کشش کا تجربہ کرتی ہیں۔ زمین کی کشش فلکیاتی اجسام کی حرکات کو قابو میں رکھتی ہے۔ ارضی کشش کسی بھی دوری پر بغیرکسی درمیانی ذریعہ کے کام کرسکتی ہے۔
میکانیات عام طورپرجن قوتوں کا احاطہ کرتی ہے، ان میں ارضی کشش کے علاوہ دیگر سبھی قوتیں، تماسی قوتیں* ہوتی ہیں۔ جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے، کسی جسم پر تماسی قوت کسی دیگر ٹھوس جسم یا سیال کے تماس کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ جب جسم تماس میں ہوتے ہیں، (مثال کے لیے میز پر رکھی کوئی کتاب، چھڑوں، قبضوں اور سہاروں سے منسلک استواراجسام کا کوئی نظام)، تب وہاں تیسرے قانون کو مطمئن کرنے والی (اجسام کے ہر ایک جوڑے کے لیے) باہمی قوتیں تماسی ہوتی ہیں۔ تماسی قوت کا وہ جز جو تماس میں آئی سطحوں پر عمود ہوتا ہے عمودی ردِّعمل(normal reaction) کہلاتا ہے اور تماسی قوت کا وہ جز جو تماس میں آئی سطحوں کے متوازی ہوتا ہے، رگڑکہلاتا ہے۔ تماسی قوت تب بھی پیدا ہوتی ہے جب ٹھوس اشیا سیالوں کے تماس میں آتی ہیں۔ مثال کے لیے کسی ٹھوس کو کسی سیال میں ڈبوتے ہیں تو اوپر کی جانب ایک قوت (اچھال قوت) لگتی ہے جو اس ٹھوس کے ذریعے ہٹائے گئے سیال کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔ لزوجی قوت، ہوائی مزاحمت وغیرہ بھی تماسی قوتوں کی مثالیں ہیں۔

شکل5.9 میکانیات میں تماسی قوتوں کی کچھ مثالیں
* آسانی کے لیے ہم یہاں چارج شدہ اور مقناطیسی اجسام پر غور نہیں کررہے ہیں۔ ان کے لیے ارضی کشش قوت کے علاوہ برقی اور مقناطیسی غیر تماسی قوتیں بھی ہیں۔
باب1 میں ہم نے یہ سیکھا تھا کہ قدرتی ماحول میں صرف چار بنیادی قوتیں ہیں۔ ان چار قسموں میں کمزور اور مضبوط قوت ایسے دائرہ اثر میں ظاہر ہوتی ہیں، جن کا یہاں ہم سے تعلق نہیں ہے۔ میکانیات کے ضمن میں صرف ارضی کشش کی اور برقی قوتیں ہی آتی ہیں۔ میکانیات کی مختلف تماسی قوتیں جن کا ہم نے ابھی بیان کیا ہے، بنیادی طورپر برقی قوتوں سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی حیرت انگیز لگ سکتی ہے کیونکہ میکانیات میں ہم غیرچارج شدہ اور غیر مقناطیسی اجسام کی بات کررہے ہیں۔ لیکن خورد بینی سطح پر سبھی اجسام چارج شدہ اجزائے ترکیبی (نیوکلیس اور الیکٹرانوں) سے مل کر بنے ہیں۔ سالماتی تصادم اور ٹکر اجسام کی لچک وغیرہ کے سبب پیدا ہونے والی مختلف تماسی قوتوں کی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار یہ مختلف اجسام کے چارج شدہ اجزا کے درمیان برقی قوتیں ہی ہیں۔ ان قوتوں کی تفصیلی خورد بینی ابتدا کے بارے میں معلومات کلاں بینی پیمانے پر میکانیات میں مسائل کو حل کرنے کے لحاظ سے پیچیدہ اور غیر متعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں مختلف قوتوں کی شکل میں مانا جاتا ہے اور ان کی امتیازی خصوصیات کا تجرباتی تعین کیا جاتا ہے۔
5.9.1 رگڑ (Friction)
آئیے، پھر سے افقی میز پر رکھے ّ m کمیت کے جسم والی مثال پر غور کریں۔ نیچے کی جانب لگنے والی ارضی کشش قوت (mg) کو میز کی عمودی قوت (R) رد کردیتی ہے۔ اب مانیے کہ جسم پر کوئی بیرونی قوت F افقی طورپر لگائی جاتی ہے۔ تجربے سے ہمیں یہ علم ہے کہ چھوٹی قوت کااطلاق کرنے پر جسم متحرک نہیں ہوگا۔ اگر اطلاقی قوت ہی جسم پر لگی صرف ایک بیرونی قوت ہے، تو یہ قوت قدر میں چاہے کتنی بھی چھوٹی کیوں نہ ہو، جسم کو F/m اسراع سے متحرک کردے گی۔ ظاہر ہے کہ جسم سکون کی حالت میں ہے کیونکہ جسم پر کوئی دیگر بیرونی قوت افقی سمت میں کام کرنے لگتی ہے، جو اطلاقی قوت F کی مخالفت کرتی ہے، نتیجتاً جسم پرکل قوت صفر ہوجاتی ہے۔ یہ مخالف قوت fs، جو میز کے تماس میں جسم کی سطح کے متوازی لگتی ہے، رگڑ قوت یا صرف رگڑ کہلاتی ہے۔ یہاں زیریں علامت sکو سکونی رگڑ کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ ہم حرکی رگڑ fk، جس کے بارے میں بعد میں غور کریں گے، سے فرق کرسکیں۔ غورکیجیے، سکونی رگڑ کا اپناکوئی وجود نہیں ہوتا۔ جب تک کوئی بیرونی اطلاقی قوت نہیں ہوتی، تب تک سکونی رگڑ بھی نہیں ہوتی۔ جس ساعت کوئی قوت اطلاقی ہوتی ہے، اسی ساعت رگڑ قوت بھی لگنے لگتی ہے۔ جسم کوسکون کی حالت میں رکھتے ہوئے جب اطلاقی قوت F بڑھتی ہے،یکساں اور مخالف سمت میں fs بھی بڑھتی ہے (ایک خاص حدتک)، اور اس طرح جسم حالتِ سکون میں رہتا ہے۔اس لیے اسے سکونی رگڑ کہتے ہیں۔سکونی رگڑ قریب الوقوع (impending) حرکت کی مخالفت کرتی ہے۔ قریب الوقوع حرکت سے مراد ایسی حرکت سے ہے (لیکن حقیقت میں ہوتی ہیں)جب اگر رگڑ کسی اطلاقی قوت کے تحت رگڑ موجود نہ ہوگی۔

شکل 5.10 سکونی اور پھسلن رگڑ: (a) سکونی رگڑ جسم کی قریب الوقوع حرکت کی مخالفت کرتی ہے ۔جب بیرونی قوت سکونی رگڑ کی بیش ترین انتہا سے بڑھ جاتی ہے تو حرکت شروع ہوتی ہے۔ (b) ایک بار جب جسم متحرک ہوجاتاہے تو اس پر پھسلن یا حرکی رگڑ کا م کرنے لگتی ہے جو تماسی سطحوں کے درمیان نسبتی حرکت کی مخالفت کرتی ہے۔ حرکی رگڑ اکثر سکونی رگڑ کی بیش ترین قدر سے کم ہوتی ہے
ہم تجربے سے یہ جانتے ہیں کہ جیسے اطلاقی قوت ایک متعین حد سے بڑھتی ہے، جسم حرکت شروع کردیتا ہے۔ تجربات کے ذریعے یہ پایا گیا ہے کہ ساکن رگڑ کی انتہائی قدر (fs)max تماس سطح کے رقبہ پر منحصر نہیں ہوتی اور عمودی قوت (N) کے ساتھ تقریباً اس طرح تبدیل ہوتی ہے:
(5.13) ƒsmax = μsN
یہاں μs متناسبیت طورپر مستقلہ ہے، جو صرف تماسی سطحوں کے جوڑے کی فطرت کے تابع ہے۔ اس مستقلہmsکو سکونی رگڑ ضربیہ (co-efficient of static friction)کہتے ہیں۔ سکونی رگڑ کا قانون اس طرح لکھا جاسکتا ہے:
اگر اطلاقی قوت F کی قدر ƒs) max) سے زیادہ ہوجاتی ہے تو جسم سطح پر سے سرکنا شروع کردیتا ہے۔ تجربات کے ذریعے یہ پایا گیا ہے کہ جب نسبتی حرکت شروع ہوجاتی ہے تو رگڑ کی قوت بیش ترین قدر ƒs)max) سے کم ہونے لگتی ہے ۔ جو رگڑ کی قوت دو سطحوں کے درمیان نسبتی حرکت کی مخالفت کرتی ہے حرکی یا پھسلن رگڑ کہلاتی ہے اور ƒk کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے۔ سکونی رگڑ کی طرح حرکی رگڑ بھی تماسی سطحوں کے رقبے کے تابع نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی یہ نسبتی حرکت کی رفتار کے بھی تقریباً غیرتابع ہوتی ہے۔ یہ ایک قانون جو سکونی رگڑ کے قانون جیسا ہے، کو مطمئن کرتی ہے:
(5.15) ƒk = μk N
یہاں μk، حرکی رگڑ ضربیہ ہے جو صرف تماسی سطحوں کے جوڑے پرکے تابع ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ μs،μk سے کم ہوتا ہے۔ جب نسبتی حرکت شروع ہوجاتی ہے تو، دوسرے قانون کے مطابق، اسراع (F–ƒk)/m) ہوتاہے۔ یکساں رفتار سے متحرک جسم کے لیے F = ƒk، اگر جسم سے اطلاقی قوت کو ہٹالیں تو اس کا اسراع –ƒk/m ہوتا ہے اور انجام کار جسم رک جاتا ہے۔
اوپر بیان کیے گئے رگڑ کے قوانین کو بنیادی قوانین کے اس درجے میں نہیں مانا جاتا جس میں ارضی کشش، برقی اور مقناطیسی قوتوں کو مانا جاتا ہے۔ یہ تجرباتی رشتے ہیں جو صرف بنیادی قوانین میں تقریباً صحیح ہیں۔ پھر بھی یہ قانون میکانیات میں عملی تحسیب میں بہت مفید ہیں۔
اس طرح، جب دو اجسام تماس میں ہوتے ہیں تب ہر ایک جسم دیگر جسم کے ذریعے تماسی قوت کا احساس کرتا ہے۔ تعریف کے مطابق، رگڑ قوت، تماسی قوت کا تماسی سطحوں کے متوازی جزو ہوتا ہے، جو دو سطحوں کے درمیان قریب الوقوع یا حقیقی نسبتی حرکت کی مخالفت کرتی ہے۔ غور کیجیے رگڑ قوت حرکت کی نہیں بلکہ نسبتی حرکت کی مخالفت کرتی ہے۔اسراعی حرکت سے متحرک ریل گاڑی کے کسی ڈبے میں رکھے باکس پر غور کیجیے۔ اگر باکس ریل گاڑی کی نسبت ساکن ہے، تو حقیقت میں وہ ریل گاڑی کے ساتھ اسراع ہورہا ہے تب وہ کون سی قوت ہے جو باکس کے اسراع کا سبب ہے؟ ظاہر ہے کہ افقی سمت میں ایک ہی قابل تصور قوت ہے اور وہ ہے قوت رگڑ۔ اگر کوئی رگڑ نہیں ہے تو ریل گاڑی کے ڈبے کا فرش تو آگے کی طرف سرکے گا اور جمود کے سبب باکس اپنے ابتدائی مقام پر ہی رہے گا۔ (اور ریل گاڑی کے ڈبے کی پچھلی دیوار سے ٹکرائے گا) اس قریب الوقوع نسبتی حرکت کی ساکن رگڑ fs کے ذریعے مخالفت کی جاتی ہے۔ یہاں ساکن رگڑ، باکس کو ریل گاڑی کے اسراع کے فراہم کرتی ہے اورباکس ریل گاڑی کی نسبت ساکن رکھتا ہے۔
مثال 5.7 کوئی باکس ریل گاڑی کے فرش پر ساکن رکھا جاتا ہے۔ اگر باکس اور ریل گاڑی کے فرش کے درمیان ساکن رگڑ کا ضربیہ 0.15 ہے، تو ریل گاڑی کا وہ بیش ترین اسراع معلوم کیجیے جس کے ساتھ ریل کی حرکت میں باکس ریل گاڑی کے فرش پر ساکن رہے گا۔
جواب چونکہ باکس میں اسراع ساکن رگڑ کے سبب ہی ہے،
لہٰذا
m α = fs < μs N = μs mg
α < μs g یعنی
∴αmax =μs g = 0.15 × 10 m s-2
= 1.5 m s-2
یعنی، 
مثال5.8 u4kg کا کوئی بلاک ایک افقی مستوی پرحالتِ سکو ن میں رکھا ہے۔ مستوی کو دھیرے دھیرے تب تک جھکایا جاتا ہے جب تک کہ وہ بلاک، افقی زاویہ θ = 15º، پر سرکنا شروع نہیں کردیتا۔ سطح اور بلاک کے درمیان سکونی رگڑ ضربیہ کیا ہے؟(دیکھیں شکل 5.11)

شکل5.11
جواب مائل مستوی پر سکون کی حالت میں رکھے m کمیت کے بلاک پر عمل پذیر قوتیں ہیں (i) بلاک کا وزن mg عمودی نیچے کی جانب، (ii) بلاک پر مستوی کے ذریعے لگائی گئی عمودی قوت N اور (iii) قریب الوقوع حرکت کی مخالفت کرنے والی ساکن رگڑ قوت ƒs- بلاک کی توازنی حالت میں ان قوتوں کا حاصل صفر قوت ہونی چاہیے۔ وزن mg کو شکل کے مطابق دوسمتوں میں تحلیل کرنے پرہمیں حاصل ہوتا ہے،
mg sin θ = ƒs
mg cos θ=N
جیسے جیسے θ بڑھتا ہے ویسے ویسے ہی خودمطابقت پیدا کرنے والی رگڑقوت ƒs تب تک بڑھتی ہے جب تک θ =θmax پر یہ اپنی اعظم قدر نہیں حاصل کرلیتی۔ -ƒs)max = μs N) ، جہاں μs بلاک اور مستوی کے درمیان رگڑ ضربیہ ہے۔
لہٰذا
tan θmax = μs یا θmax = tan-1 μs
جب θ کی قدر θmax سے صرف کچھ ہی زیادہ ہوتی ہے تو بلاک پر ایک چھوٹی مجموعی قوت لگتی ہے اور بلاک سرکنا شروع کردیتا ہے۔ غور کیجیے θmax صرف μs کے ہی تابع ہے، یہ بلاک کی کمیت کے تابع نہیں ہے۔
θmax = 15 کے لیے،
μs = tan 15º
0.27 =
مثال 5.9 شکل 5.12(a)میں دکھائے گئے بلاک اور ٹرالی نظام کا اسراع کیاہے، اگر ٹرالی اور سطح کے درمیان حرکی رگڑ ضربیہ 0.04 ہے؟ ڈوری میں تناؤ کیا ہے؟ (g = 10 m s-2 لیجیے) ڈوری کی کمیت کو نظر انداز کیجیے۔

شکل 5.12
جواب چونکہ ڈوری ناقابلِ توسیع (inextensible)ہے اور گراری (pulley)چکنی ہے، 3kg کے بلاک اور 20 kg کی ٹرالی دونوں کے اسراع کی عددی قدر یکساں 'a' ہے۔ بلاک کی حرکت پر دوسرے قانون کا اطلاق کرنے پر (شکل 5.12 (c) ۔
![]()
ٹرالی کی حرکت پر دوسرے قانون کا اطلاق کرنے پر(شکل 5.12 (c) ۔
T _ ƒk = 20a
اب ƒk = μk N
جہاں μk = 0.04 اور
.N = 20 × 10 = 200N
اس طرح ٹرالی کی حرکت کے لیے مساوات ہے
T _ 0.04 × 200 = 20 a
یا
T _ 8 = 20 a
ان مساواتوں سے ہمیں حاصل ہوتا ہے،
a = 22/23 m s-2 = 0.96 m s-2
اور T = 27.1 N
لڑھکن رگڑ (Rolling Friction)
اصولی طورپر، افقی سطح پر کسی چھلے ّ یا کر ّے جیسے جسم پر جو ایک افقی سطح پر بغیر سرکے صرف لڑھک رہا ہو، کسی طرح کی کوئی رگڑ قوت نہیں لگے گی۔ لڑھکن حرکت میں کسی جسم پرہر لمحہ سطح اور جسم کے درمیان صرف ایک ہی نقطہ تماس ہوتا ہے اور یہ نقطہ تماس مستوی کی نسبت کوئی حرکت نہیں کرتا۔ اس مثالی حالت میں حرکی یا سکونی رگڑ صفر ہوتی ہے اور جسم کو یکساں رفتار سے متواتر لڑھکن حرکت کرتے رہنا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ عملاً ایسا نہیں ہوگا، اور حرکت میں کچھ نہ کچھ مزاحمت (لڑھکن رگڑ) ضرور ہوگی، یعنی جسم کو متواتر حرکت کرتے رہنے کے لیے اس پر کچھ قوت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یکساں وزن کے جسم کے لیے لڑھکن رگڑ ہمیشہ ہی سکون یا پھسلن رگڑ کے مقابلے بہت کم (یہاں تک کہ عددی قدر کے 2 یا 3 درجے تک) ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں پہیے کی دریافت ایک اہم سنگ میل مانا گیا ہے۔

شکل5.13 رگڑ کو کم کرنے کے کچھ طریقے (a) کسی مشین کے متحرک حصوں کے درمیان رکھّے گئے بال بیرنگ (b) نسبتی حرکت کرتی ہوئی، سطحوں کے درمیان، دبائی ہوئی ہوا کا تکیہ۔
لڑھکن رگڑ کی بھی ابتدا پیچیدہ ہے۔ اگر چہ یہ سکونی اور پھسلن رگڑ سے کسی حدتک مختلف ہے۔ لڑھکن حرکت کے دوران تماسی سطحوں میں لمحے بھر کے لیے تخریب ہوتی ہے او راس کے نتیجے میں جسم کا کچھ متناہی رقبہ (نہ کہ کوئی نقطہ) لڑھکن حرکت کے وقت سطح کے تماس میں ہوتا ہے۔ اس کا کل اثر یہ ہوتا ہے کہ تماسی قوت کا ایک جزو، جو سطح کے متوازی ہوتا ہے، حرکت کی مخالفت کرتا ہے۔
ہم اکثر رگڑ کو غیرپسندیدہ قوت مانتے ہیں۔ بہت سے حالات میں، جیسے کسی مشین، جس میں مختلف کل پرزے حرکت کرتے ہوں، رگڑ کا کردار منفی ہوتا ہے۔ یہ نسبتی حرکتوں کی مخالفت کرتا ہے جس کے نتیجے میں حرارت وغیرہ کی شکل میں توانائی کا اسراف ہوتا ہے۔ مشین میں چکنائی کار (lubricants) حرکی رگڑ کو کم کرنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ رگڑ کو کم کرنے کی ایک دیگر تدبیر مشین کے دو متحرک حصوں کے درمیان بال بیرنگ لگانابھی ہے (شکل 5.13(a))کیونکہ دو تماسی سطحوں اور بال بیرنگ کے درمیان رگڑ بہت کم ہوتی ہے، لہٰذا پاور اسراف کم ہوجاتا ہے۔ نسبتی حرکت کرتی دو ٹھوس سطحوں کے درمیان ہوا کی پتلی پرت بنائے رکھ کر بھی موثر طورپر رگڑ کو کم کیا جاسکتا ہے(شکل 5.12(a))۔
تاہم، بہت سی عملی صورتوں میں، رگڑ نہایت ضروری ہوتی ہے۔ حرکی رگڑ میں توانائی کا اسراف ہوتا ہے پھر بھی نسبتی حرکت کو جلد ختم کرنے میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ مشینوں اور آلات میں بریک کے طورپر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سکونی رگڑ بھی ہماری روزمرہ زندگی میں نہایت اہم ہے۔ ہم رگڑ کے سبب ہی فرش پر چل پاتے ہیں۔ زیادہ پھسلن والی سڑک پر کار کو چلا پانا ناممکن ہوتا ہے۔ کسی عام سڑک پر ٹائروں اور سڑک کے درمیان رگڑ کار کو اسراع کرنے کے لیے ضروری بیرونی قوت فراہم کرتی ہے۔
5.10 دائری حرکت(CIRCULAR MOTION)
ہم نے باب 4 میں یہ دیکھا کہ R نصف قطر کے کسی دائرے میں یکساں چال vسے حرکت پذیر کسی جسم کا اسراع v2/R ہوتا ہے اور دائرے کے مرکز کی جانب ہوتا ہے۔ دوسرے قانون کے مطابق اس اسراع کو فراہم کرنے والی قوت ہے:
(5.16)
f = mv2/R![]()
جہاں m جسم کی کمیت ہے۔ مرکز کی جانب رخ والی اس قوت کو مرکز جو (centripetal) قوت کہتے ہیں۔ ڈوری کی مدد سے دائرے میں گردش کرنے والے پتھر کو مرکز جو قوت ڈوری کا تناؤفراہم کرتا ہے۔ سورج کے چاروں جانب کسی سیارے کی حرکت کے لیے ضروری مرکز جو قوت سورج کے سبب اس سیارے پر لگی مادی کشش قوت سے حاصل ہوتی ہے۔ کسی افقی سڑک پر کارکو دائری موڑ لینے کے لیے ضروری مرکز جو قوت رگڑ قوت فراہم کرتی ہے۔

شکل 5.14 کار کی (a) ہموار سڑک اور (b) ڈھلواں سڑک پر دائری حرکت
کسی ہموار سڑک پر کار کی حرکت
کار پرتین اطلاقی قوتیں ہیں۔ ( شکل
اس کا وزن ii) mg)عمودی ردِّعمل N اور (iii) رگڑ قوت ƒ چونکہ عمودی سمت میں کوئی اسراع نہیں ہے۔
N – mg = 0
(5.17) N = mg
دائری حرکت کے لیے ضروری مرکز جو قوت سڑک کی سطح کے ہمراہ ہے۔ یہ قوت کار کے ٹائروں اور سڑک کی سطح کے درمیان سطح کے متوازی قوت تماس کے جز، جو تعریف کے مطابق قوت رگڑ ہی ہے، کے ذریعے فراہم کی جانی چاہیے۔ غور کیجیے یہاں سکونی رگڑ ہی مرکز جو اسراع فراہم کرتی ہے۔ سکونی رگڑ، رگڑ کی غیر موجودگی میں دائرے سے دور جاتی کار کی قریب الوقوع حرکت کی مخالفت کرتی ہے:
مساوات(5.14) اور(5.16)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
f ≤ μs N = mv2/R
v2 ≤ μs RN/m = μs Rg
[∴ N=mg]

یہ رشتہ کار کی کمیت کے تابع نہیں ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ms اور R کی دی ہوئی قدر کے لیے دائری حرکت کی کوئی ممکنہ بیش ترین چال ہوتی ہے جسے اس طرح ظاہر کیا جاسکتا ہے:
(5.18)
vmax = μs Rg![]()
کسی ڈھلواں سڑک پر کار کی دائری حرکت
اگر سڑک ڈھلوان ہے [شکل() 5.14]
، تو ہم کار کی دائری حرکت میں رگڑ کے اشتراک کو کم کرسکتے ہیں کیونکہ یہاں عمودی سمت میں کوئی اسراع نہیں ہے، اس لیے اس سمت میں کل قوت یقینی طورپر صفر ہوگی۔N
N cos θ = m g + f sin θ (5.19 a)
![]()
N اور ƒ کے افقی اجزا کے ذریعے مرکز جو قوت مہیا ہوتی ہے۔
N sin θ + f cos θ = mv2/R (5.20 a)

یہاں ، پہلے کی طرح
f < μs N
اس طرح umax حاصل کرنے کے لیے ہم رکھتے ہیں
ƒ= μs N
مساوات (5.19)اور (5.20)سے
N Cosθ = mg + μs N sin θ (5.19 b)
N Sin θ + μs N Cosθ = mv2/R (5.20 b)

ہم پاتے ہیں کہ
N = mg / Cosθ - μ Sinθ

N کی قیمت مساوات (5.20 b)میں رکھنے پر
mg( sinθ - μs cosθ/cosθ - μs sinθ = mv2 max/R

اس طرح،
vmax = [Rg μs + tanθ/1 - μs tanθ]1/2 (5.21)

اس کا موازنہ مساوات (5.18) سے کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک پھسلواں سڑک پر کار کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ چال، ہموار سڑک پر کار کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ چال سے زیادہ ہے۔مساوات (5.21) میں μs = 0 کے لیے
(5.22) vº = (Rg tan θ)1/2
اس چال پر ضروری مرکز جو قوت فراہم کرنے کے لیے رگڑ قوت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس چال سے ڈھلواں سڑک پر کار چلانے پر کار کے ٹائروں کی کم سے کم گھسائی ہوتی ہے۔ اس مساوات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ v < vº کے لیے رگڑ قوت ڈھلان کے اوپرکی جانب ہوگی اور کسی کار کو ساکن حالت میں تبھی کھڑا کیا جاسکتا ہے جب tan θ < μs ہو۔
مثال 5.10 18km/h کی چال سے ہموار سڑک پر متحرک کوئی سائیکل سوار بغیر چال کو کم کیے 3m نصف قطر کا تیز دائری موڑ لیتا ہے۔ ٹائروں اور سڑک کے درمیان ساکن رگڑ ضربیہ 0.1 ہے۔ کیا سائیکل سوار موڑ لیتے وقت پھسل کر گرجائے گا؟
جواب ہموار سڑک پرصرف رگڑ قوت ہی سائیکل سوار کو بغیر پھسلے دائری موڑ لینے کے لیے ضروری مرکز جو قوت فراہم کرسکتی ہے۔ اگر چال بہت زیادہ ہے، یا اگرموڑ یکدم مڑنے والا (sharp) ہے، یعنی نصف قطر بہت کم ہے، تب رگڑ قوت ان حالات میں مطلوبہ مرکز جو قوت فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی اور سائیکل سوار موڑکاٹتے وقت پھسل کر گر جاتا ہے۔ سائیکل سوار کے نہ پھسلنے کی شرط مساوات (5.18) کے ذریعے اس طرح ہے:
v² < μs Rg
اب یہاں اس سوال میں R=3 m, g=9.8 m s-² اورμs = 0.1 یعنی،
μsRg = 2.94 m²s-²؛ v = 18 km/h = 5 m s-1 شرط v² = 25 m² s-² یعنی شرط کی تعمیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا سائیکل سوار تیز دائری موڑ لیتے وقت پھسل کر گرے گا۔
مثال 5.11 300m نصف قطر والے کسی دائری دوڑ کے میدان کی مینڈھ 15o پر جھکی ہے۔ اگر میدان اور ریس کار کی پٹیوں کے درمیان رگڑ ضربیہ 0.2 ہے تو (a) ٹائروں کو گھسنے سے بچانے کے لیے ریس کار کی موافق ترین چال اور (b) پھسلنے سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قابلِ اختیار چال کیا ہے؟
جواب مینڈھ بردار (banked) سڑک پر بغیر پھسلے متحرک ریس کار کو دائری موڑ لینے کے لیے ضروری مرکز جو قوت فراہم کرنے میں رگڑ قوت اور عمودی قوت کے افقی اجزا کا اشتراک ہوتا ہے۔ ریس کار کی موافق ترین چال پر حرکت کے لیے قوت کا عمودی جزو ہی ضروری مرکز جو قوت فراہم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، قوت رگڑ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ مساوات (5.21) کے ذریعے ریس کار (موافق ترین) چال v0 کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں:
v0 = (Rg tan θ)1/2
R = 300 m, θ = 15º, g = 9.8 m s²
vº = 28.1 m s-¹
مساوات (5.20) کے ذریعے ریس کار کی زیادہ سے زیادہ قابلِ اختیار چال کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں:
vmax = (Rg μs + tanθ / 1 - μs tanθ)1/2 = 38.1 m s-1

5.11 میکانیات میں مسائل کو حل کرنا (SOLVING PROBLEMS IN MECHANICS)
حرکت کے جن تین قوانین کے بارے میں آپ نے اس باب میں مطالعہ کیا ہے وہ میکانیات کی بنیاد ہیں۔ اب آپ میکانیات کے مختلف قسم کے مسائل کو حل کرنے میں اہل ہیں۔ عام طورپر میکانیات کے کسی مثالی مسئلے میں قوتوں کے زیر اثر صرف ایک جسم کی شمولیت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر معاملوں میں ہم مختلف اجسام کے ایسے مجموعے پر غور کرتے ہیں جن میں جسم باہمی طورپر ایک دوسرے پر مختلف طرح کے سہاروں یا وابستگیوں (قبضوں، کمانیوں، ڈوریوں وغیرہ) رگڑ، وغیرہ کے ذریعے قوت لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعے کا ہر ایک جسم ارضی کشش قوت بھی محسوس کرتا ہے۔اس طرح کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے وقت ہمیں ایک واضح حقیقت یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ مسئلے کا حل کرنے کے لیے اس مجموعے کے کسی بھی حصے کو چنا جاسکتا ہے اور اس حصے پر حرکت کے قوانین کو اس شرط کے ساتھ لاگو کیا جاسکتا ہے کہ چنے گئے حصے پر مجموعے کے باقی حصوں کے ذریعے اطلاقی سبھی قوتوں کو شامل کرنا یقینی بنالیا گیا ہے۔ مجموعے کے چنے گئے حصے کو ہم نظام کہہ سکتے ہیں اور مجموعے کے باقی حصے (نظام پر اطلاقی قوتوں کے دیگر ذرائع کو شامل کرتے ہوئے) کو ماحول کہہ سکتے ہیں۔ اس طریقے کو درحقیقت ہم نے پہلے بھی کئی مثالوں میں اپنایا ہے۔ میکانیات کے کسی مثالی مسئلے کو منظم ڈھنگ سے حل کرنے کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کو اپنانا چاہیے:
(i) مجتمع اجسام کے مختلف حصوں اور ان کی وابستگیوں، سہاروں وغیرہ کو ظاہر کرنے والے ڈائیگرام بنانا۔
(ii) مجموعے کے کسی آسان حصے کو نظام کی شکل میں منتخب کرنا۔
(iii) ایک علاحدہ ڈائیگرام کھینچنا، جس میں صرف اس نظام کو اورمجموعے کے مختلف حصوں کے ذریعے اس نظام پر اطلاقی سبھی قوتوں کو شامل کرکے دکھایا گیا ہو۔ نظام پر ان سبھی دیگر عوامل کے ذریعے اطلاقی قوتوں کو بھی شامل کیجیے جو اس نظام کے بالواسطہ رابطے میں نہیں ہے، لیکن نظام کے ذریعے ماحول پر اطلاقی قوتوں کو اس میں شامل نہیں کیجیے۔ اس طرح کے ڈائیگرام کو آزاد جسم ڈائیگرام(free body diagram) کہتے ہیں۔ (غور کیجیے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زیر غور نظام آزاد ہے یعنی اس پر کوئی مجموعی قوت نہیں ہے)۔
(iv) کسی آزاد جسم ڈائیگرام میں قوتوں سے متعلق صرف وہی اطلاعات (قوتوں کی عددی قدر اور سمت) شامل کیجیے جو یاتو آپ کو دی گئی ہیں یا جو بلاشبہہ یقینی ہیں۔ (مثال کے لیے، کسی پتلی ڈوری میں تناؤ کی سمت ہمیشہ ڈوری کی لمبائی کی سمت ہوتی ہے) باقی ان سبھی کو نامعلوم مانا جانا چاہیے جنھیں حرکت کے قوانین کے اطلاق کے ذریعے معلوم کیا جاناہے۔
(v) اگر ضروری ہوتو مجموعے سے کوئی دیگر نظام چن کر اس کے لیے بھی یہی طریقہ اپنایا جائے۔ ایسا کرنے کے لیے تیسرے قانون کا استعمال کیجیے۔ یعنی A کے آزاد جسم ڈائیگرام میں B کے سبب A پر قوت کو F کے ذریعے دکھایا گیا ہے تو B کے آزاد جسم ڈائیگرام میں A کے سبب B پر قوت کو F- کے ذریعے دکھایا جانا چاہیے۔
درج ذیل مثال درج بالا طریقہ کو واضح کرتی ہے:
مثال 5.12 کسی ملائم افقی فرش پر 2kg کمیت کا لکڑی کا بلاک رکھا ہے۔ جب اس بلاک کے اوپر 25kg کمیت کا لوہے کا استوانہ رکھا جاتا ہے تو فرش قائم حرکت سے نیچے دھنستا ہے اوربلاک استوانہ ایک ساتھ0.1m s-² اسراع سے نیچے جاتے ہیں۔ بلاک کا فرش پر عمل (a) فرش کے دھنسنے سے قبل اور (b) فرش کے دھنسنے کے بعد کیا ہے؟ g =10 m s-² لیجیے۔ مسئلے میں عمل۔ ردعمل جوڑے کو پہچانیے(شکل 5.15)۔
R
20 N
بلاک کا آزاد جسم ڈائگرام
R'
270 N
بلاک استوانہ نظام کا آزاد جسم ڈائیگرام
0.1 m s-2

شکل 5.15
جواب
(a) فرش پر بلاک سکون کی حالت میں ہے۔ اس کا آزاد جسم ڈائیگرام گٹکے پر دوقوتوں کو ظاہر کرتاہے، زمین کے ذریعے کششِ زمین کی قوت :
اور بلاک پر فرش کی عمودی قوت R، پہلے قانون کے ذریعے بلاک پر اطلاقی کل قوت صفر ہونی چاہیے،یعنی: R = 20 N تیسرے قانون کا استعمال کرنے پر بلاک کا عمل یعنی بلاک کے ذریعے فرش پرلگائی گئی قوت عددی قدر میں 20N کے برابر ہے اور اس کی سمت عمودی نیچے کی جانب ہے۔
(b) نظام (بلاک + بیلن) نیچے کی جانب 0.1m s-² اسراع سے دھنس بھی رہاہے۔ اس کا آزاد جسم ڈائیگرام نظام پر دوقوتوں کا اظہار کرتا ہے۔ زمین کے سبب ارضی کششِ قوت ( 270N=) اور فرش کی عمودی قوت R'، غور کیجیے نظام کا آزاد جسم ڈائیگرام بلاک اور استوانے کے درمیان اندرونی قوتوں کو نہیں دکھاتا۔ نظام پر دوسرے قانون کا اطلاق کرنے پر
یعنی
270 - R' = 27 × 0.1
R' = 267.3 N

تیسرے قانون کے مطابق فرش پر نظام کا عمل 267.3N کے برابر ہے اور یہ عمودی طورپرنیچے کی جانب ہے۔
عمل-رد عمل جوڑے (Action - reaction pairs)
(a) کے لیے (i) زمین کے ذریعے بلاک پر زمینی کشش قوت (20N=) (عمل) اور بلاک کے ذریعے زمین پر لگی مادی کشش قوت (رد عمل) 20N کے برابر اوپر کی جانب (شکل میں نہیں دکھایا گیا ہے)۔
(ii) بلاک کے ذریعے فرش پر لگی قوت (عمل)؛ فرش کے ذریعے بلاک پر لگی قوت (ردعمل)
(b) کے لیے (i) نظام کے ذریعے زمین پر لگی مادی کشش قوت (270N) (عمل) ؛ زمین کے سبب نظام پر لگی ارضی کشش قوت (رد عمل) جس کی قدر بھی 270N کے برابر اوپر کی جانب ہے(شکل میں نہیں دکھا یا گیا ہے)۔
(ii) نظام کے ذریعے فرش پر لگی قوت (عمل)؛ فرش کے ذریعے نظام پر لگی قوت (رد عمل) ۔ اس کے علاوہ (b) کے لیے استوانہ کے ذریعے بلاک پر لگی قوت اور بلاک کے ذریعے استوانہ پر لگی قوت بھی عمل - رد عمل کا ایک جوڑا بناتے ہیں۔
یاد رکھنے لائق ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی عمل–ردعمل جوڑے دو اجسام کے درمیان باہمی قوتوں ،جو ہمیشہ مساوی اور سمت میں مخالف ہوتی ہیں، پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک ہی جسم پر دو قوتوں، جو کسی مخصوص صورت حال میں مساوی (عددی قدر میں) اور مخالف (سمت) ہوسکتی ہیں، سے کسی عمل– ردعمل جوڑے کی تشکیل نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح مثال کے لیے (a) یا (b) میں جسم پر مادی کشش قوت اور فرش کے ذریعے جسم پر لگی عمودی قوت کوئی عمل– ردعمل جوڑا نہیں ہے۔ یہ قوتیں اتفاق سے مساوی اور مخالف ہیں کیونکہ (a) کے لیے جسم سکون کی حالت میں ہے۔ لیکن معاملہ (b) کے لیے ایسا نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ہی دیکھ لیا ہے۔ جسم کا وزن 270N ہے جب کہ عمودی قوت R' = 267.3N ہے۔
میکانیات میں مسائل کو حل کرنے میں آزاد جسم ڈائیگرام کھینچنے کی مشق کافی مددگار ہے۔ یہ آپ کو اپنے نظام کی تعریف کرنے اور ان سبھی اجسام کے سبب جو خود جسم کے حصے نہیں ہیں، نظام پر لگی سبھی مختلف قوتوں پر غور کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ اس باب اور اگلے ابواب میں دیے گئے مشقی سوالوں کے ذریعے آپ یہ مشق بہ خوبی کرسکیں گے۔
خلاصہ
(c) یہ ایک ذرّہ پر لاگو ہوتا ہے اور کسی جسم یا ذرّات کے نظام پر بھی لاگو ہوتا ہے، بہ شرطیکہ ہم F کے معنی نظام پر لگی کل بیرونی قوت اور a کا مطلب پورے نظام کا اسراع مانیں۔
(d) ایک متعین ساعت پر فضا میں کسی نقطے پر اطلاقی قوت F اسی ساعت اور اسی نقطے پر a کا تعین کرتی ہے ،یعنی دوسرا قانون ایک مقامی قانون ہے۔ کسی ساعت پر a حرکت کی تاریخ پر نہیں منحصر ہوتا ہے۔
6۔ نیوٹن کا حرکت کا تیسرا قانون:
فطرت میں قوتیں ہمیشہ ہی دو اجسام کے جوڑوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ کسی جسم A پر جسم B کے ذریعے لگی قوت جسم B پر جسم A کے ذریعے لگی قوت کے مساوی اور مخالف ہوتی ہے۔
7۔ معیار حرکت کی بقاکا قانون (Law of Conservation of Momentum)
| مقدار | علامت | اکائیاں | ابعاد | تبصرہ |
| معیار حرکت قوت جھٹکا سکونی رگڑ حرکی رگڑ |
P F fs fk |
kg m s-1 یا Ns N kg m s-1 یا Ns N N |
[MLT-1] [MLT-2] [MLT-1] [MLT-2] [MLT-2] |
سمتیہ دوسرا قانونa F = m دھکّا = قوت × وقت =معیار حرکت تبدیلی fs < ms N fk = mk N |
قابل غور نکات
1۔ قوت ہمیشہ حرکت کی سمت میں نہیں ہوتی۔ حالات پر منحصر ,F کبھی v کی سمت میں، کبھی vکی مخالف سمت میں کبھی v کے عمودی یا v سے کوئی دیگر زاویہ بناتے ہوئے لگ سکتی ہے۔ ہر ایک معاملے میں یہ اسراع کے متوازی ہوتی ہے۔
2۔ اگر کسی ساعت v = o ہے یعنی اگر کوئی جسم عارضی طورپر سکون کی حالت میں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس ساعت پر قوت یا اسراع ضروری طورپر صفر ہوں۔ مثال کے لیے جب عمودی طورپر اوپر پھینکی گئی کوئی گیند اپنی اعظم اونچائی پر پہنچتی ہے توv = 0 ہوتاہے، لیکن اس جسم کے وزن mg کے برابر قوت اس پر متواتر لگی رہتی ہے یا اسراع صفر نہیں ہوتا، یہ g ہوتاہے۔
3۔ کسی دیے گئے وقت پر کسی جسم پر لگی قوت اس وقت اس جسم کے مقام کی صورت حال کے ذریعے معلوم کی جاتی ہے۔ کسی جسم پر قوت، اس کی حرکت کی سابقہ تاریخ کے اعتبار سے نہیں لگتی۔ جس ساعت کوئی پتھر کسی اسراعی ریل گاڑی سے باہر گرادیا جاتا ہے، اس ساعت کے فوری بعد اگر چاروں طرف کی ہوا کے اثرات کو نظرانداز کیا گیا ہے تو اس پتھر پر کوئی افقی قوت (یا اسراع) عمل پذیر نہیں رہتی۔ تب پتھر پر صرف زمین کی عمودی کشش کی قوت کام کرتی ہے۔
5۔ مرکز جو قوت کو کوئی دیگر طرح کی قوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ محض ایک نام ہے جو اس قوت کو دیاگیا ہے جوکسی جسم پر دائری حرکتوں میں اندرونی نصف قطری اسراع فراہم کرتی ہے ۔ ہمیشہ ہی ہمیں مرکز جو قوت کے طورپر کچھ مادی قوتوں، جیسے تناؤ، مادی کشش قوت، برقی قوت، رگڑ قوت وغیرہ کو دریافت کرنا چاہیے۔
7. میزپر رکھے جسم کے لیے معروف مساوات mg = R صرف تبھی صحیح ہے، جب جسم توازن میں ہو۔ یہ دونوں قوتیں mg اور R مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ (جیسا کہ اسراعی لفٹ میں رکھے جسم کی مثال میں) mg اور R میں مساویت کا تیسرے قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
8. حرکت کے تیسرے قانون میں اصطلاح ’عمل‘ اور ’ردعمل‘ کا مطلب اجسام کے کسی جوڑے کے درمیان ہم وقتی باہمی قوتوں سے ہے۔ لسانی معنی کے برخلاف عمل نہ تو رد عمل سے پہلے واقع ہوتا ہے اور نہ ہی رد عمل کا سبب ہوتا ہے۔ عمل اور رد عمل دو مختلف اجسام پر عمل کرتے ہیں۔
9. مختلف اصطلاحات جیسے ’رگڑ‘ ، ’عمودی ردعمل‘، ’تناؤ‘ ’ہوائی مزاحمت ‘ ’لزوجی کھنچاؤ‘’دھکا‘ ، ’اچھال‘ ’وزن‘ ، ’مرکز جو قوت ان سبھی کا مطلب مختلف سیاق وسباق میں قوت ہی ہوتاہے۔ صراحت کے لیے میکانیات میں حاصل ہونے والی ہر ایک قوت اور حرکیات میں اس کی معادل اصطلاحات کو " A پر B کے ذریعہ لگائی جانے والی قوت "میں تبدیل کرنا چاہیے۔
10. حرکت کے دوسرے قانون کو لاگو کرنے کے لیے جاندار اور غیر جاندار اجسام کے درمیان کوئی نظریاتی امتیاز نہیں ہوتا۔ کسی جاندار جسم، جیسے کسی انسان کو اسراع کرنے کے لیے بیرونی قوت چاہیے۔ مثال کے لیے رگڑ کی بیرونی قوت کے بغیر ہم زمین پر چل نہیں سکتے۔
مشق
(تحسیب کرتے وقت آسانی کی خاطر g = 10 m s-² لیجیے)
5.2 0.05kg کمیت کا کوئی کنکر عمودی طورپر اوپر پھینکا گیا ہے۔ نیچے دی گئی ہر ایک صورت حال میں کنکر پر لگ رہی کل قوت کی عددی قدر اور اس کی سمت معلوم کیجیے۔
5.3 01kgکے پتھر پر لگ رہی کل قوت کی عددی قدراور اس کی سمت معلوم کیجیے۔
درج بالا سبھی صورتوں حال میں ہوا کی مزاحمت کو نظرانداز کردیجیے۔
5.5 15m s-¹ کی ابتدائی چال سے متحرک 20kg کمیت کے کسی جسم پر 50N کی مستقل ابطائی قوت (retarding)لگائی گئی ہے۔ جسم کو رکنے میں کتنا وقت لگے گا؟
5.6 3.0kg کمیت کے کسی جسم پر اطلاقی کوئی قوت 25s میں اس کی چال کو 2.0m s-¹ سے 3.5m s-¹ کردیتی ہے۔ جسم کی حرکت کی سمت غیر تبدیل رہتی ہے۔ قوت کی عددی قدر اور سمت کیا ہے؟
5.8 36km/h کی چال سے متحرک کسی آٹو رکشہ کا ڈرائیور سڑک کے درمیان ایک بچے کو کھڑا دیکھ کر اپنی گاڑی کو ٹھیک 4.0s میں روک کر اس بچے کو بچا لیتا ہے۔ اگر آٹو رکشہ بچے کے ٹھیک قریب رکتا ہے تو گاڑی پر لگی اوسط ابطاقوت کیا ہے؟ آٹو رکشہ اور ڈرائیور کی کمیتیں علی الترتیب 400kg اور 65kg ہیں۔
5.9 20000kg لفٹ آف (lift - off) کمیت کے ساتھ کسی راکٹ میں 5.0m s-² کے ابتدائی اسراع کے ساتھ اوپر کی جانب دھماکہ کیا جاتا ہے۔ دھماکے کا ابتدائی دھکا (قوت) تحسیب کیجیے۔
5.10 شمال کی جانب 10m s-¹ کی یکساں چال سے متحرک 0.40kg کمیت کے کسی ذرے جنوبی سمت کے موافق 8.0N کی مستقل قوت کا اطلاق 30s کے لیے کیا گیاہے۔ جس ساعت قوت کا اطلاق کیا گیا(t = 0) پر اس پر ذرہ کا مقام x = 0 لیجیے۔ t= –5s, 25s, 100s پر اس ذرے کے مقام کی پیشن گوئی کیجیے۔
5.11 کوئی کار سکون کی حالت سے حرکت شروع کرکے 2.0m s-² کے یکساں اسراع سے متحرک رہتی ہے۔ t = 10 s پر، کارکی چھت پر کھڑا ایک شخص کوئی پتھر باہرگراتاہے۔(چھت زمین سے 6m اونچی ہے) t = 11 s پراس پتھر کی (a) رفتار، اور (b) اسراع کیا ہے؟ (ہوائی مزاحمت کو نظرانداز کیجیے)۔
5.13 کسی شخص کی کمیت 70kg ہے۔ وہ ایک متحرک لفٹ میں وزن کرنے والے ترازو پر کھڑا ہے جو
ہر ایک حالت میں ترازو کے پیمانے کی ریڈنگ کیا ہوگی؟
5.14 شکل 5.16 میں 4 kg کمیت کے کسی جسم کامقام– وقت گراف دکھایا گیا ہے۔
(صرف یک بعدی حرکت پر غور کیجیے)۔

5.15 600N کی کوئی افقی قوتFکسی بے رگڑ میز پر رکھے 10 kg اور 20 kg کے دواجسام کو، جو کسی پتلی ڈوری کے ذریعے آپس میں جڑے ہیں، کھینچ رہی ہے۔ ڈوری میں تناؤ کیا ہے؟ (i) جب قوت 10 kg سے بندھے سرے پر لگائی جاتی ہے (ii) جب قوت20 kg سے بندھے سرے پر لگائی جاتی ہے۔
5.17 تجربہ گاہ کے حوالہ جاتی فریم میں کوئی نیوکلیس سکون کی حالت میں ہے اگر یہ نیوکلیس دو چھوٹے نیوکلیسوں میں ٹوٹ جاتا ہے تو ثابت کیجیے کہ حاصل نیوکلیسوں کو مخالف سمتوں میں خارج ہونا چاہیے۔
5.18 دو بلیرڈ گیندیں جن میں ہر ایک کی کمیت 0.05kg ہے، 6m s-¹ کی چال سے مخالف سمتوں میں حرکت کرتی ہوئی تصادم کرتی ہیں اور تصادم کے بعد اسی چال سے واپس ہوتی ہیں۔ ایک گیند نے دوسری گیند پر کتنا دھکا لگایا؟
5.19 100 kg کمیت کی کسی بندوق کے ذریعے 0.020kg کی گولی داغی گئی ہے۔ اگر بندوق کی نالی میں گولی کی چال 80m s-¹ ہے تو بندوق کی پسپا چال (recoil)کیا ہے؟
5.20 کوئی بلے باز کسی گیند کو 45º کے زاویے پر منحرف (deflect) کردیتا ہے۔ ایسا کرنے میں وہ گیند کی ابتدائی چال جو 54 k/h ہے، میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔ گیند کو کتنا جھٹکا(impulse) دیا جاتا ہے؟ (گیند کی کمیت 0.15kgہے) ۔
5.21 کسی ڈوری کے ایک سرے سے بندھا 0.25kg کمیت کا کوئی پتھر افقی مستوی میں 1.5m نصف قطر کے دائرے پر 40 rev/min کی چال سے چکر لگاتا ہے؟ ڈوری میں تناؤ کتنا ہے، اگر ڈوری 200N کے اعظم تناؤ کو برداشت کرسکتی ہے، تو وہ زیادہ سے زیادہ چال معلوم کیجیے جس سے پتھر کو گھمایا جاسکتا ہے؟
5.22 اگر سوال 5.21 میں پتھر کی چال کو زیادہ سے زیادہ تسلیم شدہ حد سے بھی زیادہ کردیا جائے اور ڈوری اچانک ٹوٹ جائے تو ڈوری کے ٹوٹنے کے بعد پتھر کے حرکت خط (trajectory) کا صحیح بیان درج ذیل میں سے کون کرتاہے؟
5.23 واضح کیجیے کہ کیوں:
اضافی مشق

5.25 شکل 5.18 میں کوئی شخص 1m s-² اسراع سے متحرک افقی موصل پٹے کے لحاظ سے ساکن کھڑا ہے۔ اس شخص پر اطلاقی کل قوت کیا ہے؟ اگر شخص کے جوتوں اور پٹے کے درمیان سکونی رگڑ ضربیہ 0.2 ہے، تو پٹے کے کتنے اسراع تک وہ شخص اس پٹے کی نسبت مقیم رہ سکتا ہے؟ (شخص کی کمیت = 65kg )

5.26 m کمیت کے پتھر کو کسی ڈوری کے ایک سرے سے باندھ کر R نصف قطر کے عمودی دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔ دائرے کے کم ترین اوراعلا ترین نقاط پر عمودی نشیبی سمت میں کل قوت ہے: (صحیح متبادل چنیے)
یہاں T²، T¹ ڈوری میں تناؤ (اور v²،v¹) علی الترتیب پتھر کم ترین اور اعلا ترین نقاط پر چال دکھاتے ہیں۔
5.27 1000kg کمیت کا کوئی ہیلی کاپٹر 15m s-² کے عمودی اسراع سے اوپر اٹھتا ہے۔ اس کا عملہ اور مسافروں کی کمیت 300 kg ہے۔ درج ذیل قوتوں کی عددی قدر اور سمت لکھیے:
5.28 15m s-¹ چال سے افقی طورپر بہتی ہوئی کوئی پانی کی دھارا
عمودی تراش رقبہ (cross sectional area) کی کسی نلی سے زورسے باہر نکلتی ہے اور قریب کی کسی عمودی دیوار سے ٹکراتی ہے۔ پانی کی ٹکرکے ذریعے یہ مانتے ہوئے کہ پانی کی دھارا ٹکرانے پر واپس نہیں ہوتی دیوار پر اطلاقی قوت معلوم کیجیے۔
5.30 کوئی ہوائی جہاز اپنے پنکھوں کو افقی طورپر 150º کے جھکاؤ پررکھتے ہوئے 720km/h کی چال سے ایک افقی چھلّہ پورا کرتاہے۔ چھلّہ کا نصف قطر کیا ہے؟
5.31 کوئی ریل گاڑی بغیر ڈھلواں والے 30m نصف قطر کے دائری موڑ پر 54 km/h چال سے چلتی ہے۔ ریل گاڑی کی کمیت 106 kg ہے۔ اس کام کے کرنے لیے ضروری مرکز جو قوت کون فراہم کرتا ہے؟ انجن یا پٹریاں؟ پٹریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے موڑ کاڈھلواں زاویہ کتنا ہونا چاہیے؟

5.33 40 kg کمیت کا کوئی بندر 600 N کا زیادہ سے زیادہ تناؤ برداشت کرسکنے لائق کسی رسی پر چڑھتا ہے (شکل 5.20)۔ نیچے دیے گئے حالات میں سے کس حالت میں رسی ٹوٹ جائے گی:

5.34 دو اجسام A اور B، جن کی کمیت 5 kg اور 10 kg ہیں۔ ایک دوسرے کے رابطے میں ایک میزپر کسی مضبوط تقسیمی دیوار کے سامنے سکون کی حالت میں رکھے ہیں (شکل 5.21)۔ اجسام اور میز کے درمیان رگڑ ضربیہ 0.15 ہے۔ 200 N کی کوئی قوت کاافقی طورپر A پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ (a) تقسیمی دیوار کا ردعمل، (b) A اور B کے درمیان عمل۔ ردعمل قوت کیا ہیں؟ تقسیمی دیوار ہٹانے پر کیا ہوتا ہے؟ اگر اجسام متحرک ہیں تو کیا (b) کاجواب بدل جائے گا؟ ms اور mk کے درمیان فرق کو نظر انداز کیجیے۔

شکل 5.21
5.35 15 kg کمیت کا کوئی بلاک کسی لمبی ٹرالی پر رکھا ہے۔ بلاک اور ٹرالی کے درمیان سکونی رگڑ ضربیہ 0.18 ہے۔ ٹرالی آرام کی حالت سے 20s کے لیے 0.2m s-² کے اسراع سے اسراعی ہونے کے بعد یکساں رفتار پر حرکت کرنے لگتی ہے۔(a) زمین پر ساکن کھڑے کسی مشاہد کو، اور (b) ٹرالی کے ساتھ متحرک کسی دیگر مشاہد کو، بلاک کی حرکت کیسی دکھائی دے گی، اس کی تشریح کیجیے۔
5.36 شکل 5.22 کے مطابق کسی ٹرک کا پچھلا حصہ کھلا ہے اور 40 kg کمیت کا ایک صندوق کھلے سرے سے 5 m دوری پر رکھا ہے۔ ٹرک کے فرش اور صندوق کے درمیان رگڑ ضربیہ 0.15 ہے۔ کسی سیدھی سڑک پر ٹرک سکون کی حالت سے ابتدا کرکے 2 m s-2 سے اسراعی ہوتا ہے۔ ابتدائی نقطے سے کتنی دوری چلنے پر وہ صندوق ٹرک سے نیچے گرجائے گا؟ (صندوق کی سائز کو نظر انداز کیجیے)۔

شکل 5.22
5.37 15 cm نصف قطر کا کوئی بڑا گراموفون ریکارڈ
33 1/3 rev/ min
کی چال سے گردش کررہا ہے۔ ریکارڈ پر اس کے مرکز سے 4cm اور 14cm کی دوریوں پر دوسکے رکھے گئے ہیں۔ اگر سکے اور ریکارڈ کے درمیان رگڑ ضربیہ 0.15 ہے تو کون ساسکہ ریکارڈ کے ساتھ طواف کرے گا؟
5.38 آپ نے سرکسوں میں موت کے کنویں (ایک کھوکھلا جال سمیت گول چیمبر تاکہ اس کے اندر کی سرگرمیوں کو ناظرین دیکھ سکیں) میں موٹر سائیکل سوار کو عمودی طورپر لوپ میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ واضح کیجیے کہ وہ موٹر سائیکل سوار نیچے سے کوئی سہارا نہ ہونے پر بھی گولے کے اعلا ترین نقطے سے نیچے کیوں نہیں گرتا۔ اگر چیمبر کا نصف قطر 25 cm ہے تو عمودی لوپ کو پوراکرنے لیے موٹر سائیکل کی کم ترین چال کتنی ہونی چاہیے؟
5.39 70kg کمیت کا کوئی شخص عمودی محور پر 200rev/min کی چال سے گردش کرتی 3m نصف قطر کی کسی استوانی شکل کی دیوار کے ساتھ تماس میں کھڑا ہے۔ دیوار اور اس کے کپڑوں کے درمیان رگڑ ضربیہ 0.15 ہے۔ دیوار کی وہ اقل ترین گردشی چال معلوم کیجیے، جس سے فرش کو اچانک ہٹالینے پربھی وہ شخص بغیر گرے دیوار سے چپکا رہ سکے۔
5.40 Rنصف قطر کا پتلا دائری تار اپنے عمودی قطر کے گرد زاویائی تعدد w سے گردش کررہا ہے۔ یہ دکھائیے کہ اس تار میں ڈالا ہوا کوئی منکا،
w < g/R
کے لیے اپنے نچلے نقطے پر رہتا ہے۔
w = 2g/R
کے لیے مرکز سے منکے کو جوڑنے والا نصف قطر سمتیہ عمودی نشیبی سمت سے کتنا زاویہ بناتا ہے۔ (رگڑ کو نظر انداز کیجیے)۔