باب 6
کام، توانائی اور طاقت
(WORK, ENERGY AND POWER)
6.2 کام اور حرکی توانائی کے تصورات:
کام –توانائی مسئلہ
6.3 کام
6.4 حرکی توانائی
6.5 متغیر قوت کے ذریعے کیا گیا کام
6.6 تغیر قوت کے لیے کام– توانائی
مسئلہ
6.7 توانائی بالقوۃ کا تصور
6.8 میکانیکی توانائی کی بقا
6.9 اسپرنگ کی توانائی بالقوۃ
6.10 توانائی کی مختلف شکلیں : بقائے توانائی
کا قانون
6.11 طاقت
6.12 تصادمات
خلاصہ
قابل غور نکات
مشق
اضافی مشق
ضمیمہ 6.1
6.1 تعارف(Introduction)
روز مرّہ کی بول چال میں ہم اکثر کام، توانائی اور طاقت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔کسان کھیت میں ہل چلاتا ہے، مزدور اینٹ ڈھوتا ہے، طالب علم امتحان کی تیاری کرتا ہے، مصوّر مناظر کی تصویر کشی کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ سب کام کررہے ہیں۔طبیعات میں لفظ کام کی ایک خاص متعین تعریف ہے۔اگر کوئی 14سے 16گھنٹہ فی دن کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو کہا جاتا ہے اس میں کافی سکت (جان) (stamina)یا توانائی ہے۔ہم زیادہ دور تک دوڑنے والے کی تعریف اس کی توانائی یا سکت کی بنا پر کرسکتے ہیں۔اس طرح توانائی کسی کام کرنے کی استعداد ہے۔طبیعات میں بھی اصطلاح توانائی،کام سے اسی طرح منسلک ہے، لیکن جیسا کہ اوپرکہاجاچکاہے کام کی اپنی تعریف کہیں زیادہ دقیق طورپرکی جاتی ہے۔ عام طور پر ہم لفظ طاقت (power)کا استعمال روز مرّہ کی زندگی میں مختلف طرح سے کرتے ہیں۔کراٹے اور مکّے بازی میں ہم طاقتور مکّے کی بات کرتے ہیں۔ طاقتور مکّا وہی مانا جاتا ہے جو تیزرفتار سے مارا جاتا ہے۔طبیعیات میں لفظ طاقت کے معنی اس سے ملتے جلتے ہیں۔ہم یہ دیکھیں گے کہ ان اصطلاحات کی طبیعی تعریف اور ان الفاظ کے ذریعہ ہمارے ذہنوں میں تخلیق ہوئی تصویروں کے درمیان کمزورسی ہم رشتگی پائی جاتی ہے۔اس باب کا اصل مقصد ان تینوں طبیعی مقدار کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔اب آگے بڑھنے سے پہلے ہم دوسمتی مقداروں کے غیرسمتی حاصلِ ضرب کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔
6.1.1 غیر سمتی حاصلِ ضرب (The Scalar Product)
ہم سمتیہ کے بارے میں باب 4میں پڑھ چکے ہیں۔طبیعی مقداریں جیسے نقل، رفتار، اسراع، قوت وغیرہ یہ سب سمتیہ ہیں۔ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح سمتیہ کو جوڑا اور گھٹایا جاتا ہے۔اب ہمیں سمتیہ کے ضرب کے بارے میں مطالعہ کرنا ہے۔سمتیہ کے ضرب کے لیے دوطریقے ہیں۔ایک طریقہ جسے غیر سمتی حاصلِ کہاجاتا ہے اس میں دو سمتیہ، غیر سمتی مقدار بناتے ہیں۔دوسرا طریقہ جسے سمتی حاصلِ ضرب کہا جاتا ہے اس میں دو سمتیہ،سمتی مقدار بناتے ہیں۔اسے ہم باب 7میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔یہاں اب ہم دو سمتیہ کے غیرسمتی حاصلِ ضرب کی مثال لیتے ہیں۔دوسمتی مقدار Aاور Bکا غیرسمتی ضربیہ یا ڈاٹ پراڈکٹ، جسے A.Bسے ظاہرکیا جاتا ہے (A ڈاٹBپڑھا جاتا ہے)، اس طرح ہوگا۔
(A.B = ABCosθ (6.1 a
یہاں θ دوسمتی مقداروں کے بیچ کا زاویہ ہے جسے ہم شکل6.1(a)میں دیکھ سکتے ہیں۔چونکہ A،B، cosθ غیرسمتی مقداریں ہیں اس لیے ڈاٹ پراڈکٹ بھی غیر سمتی مقدار ہوگا۔AاورBدونوں میں سے ہر ایک سمتیہ کی متعین سمت ہے لیکن ان کے عددی حاصل ضرب (scalar product) کی کوئی سمت نہیں ہے۔
مساوات(a 6.1(aسے
(A.B = A (B cosθ
(B (A cosθ=
جیومیٹری کے مطابق Acosθ،Aپر
کا ظل(prjoction) ہے(شکل
اور Acosθ،B پر
کا ظل ہے(شکل
۔اس لیے A,A.Bکی عددی قدر اور Aکی سمت میں Bکے جز کا حاصل ضرب ہے۔متبادل طور پر، یہ Bکی عددی قدر اور Bکی سمت میں Aکے جزکا حاصلِ ضرب ہے۔
مساوات (6.1a)سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ عددیہ حاصلِ ضرب (scalar product) تقلیبی قانون(commutative law) کی تعمیل کرتا ہے۔
A.B = B.A

![]()
عددیہ حاصلِ ضرب تقسیمی قانون (distributive law)کی بھی تعمیل کرتا ہے۔
![]()
یہاں lایک حقیقی نمبر ہے۔
درج بالا مساوات کی تصدیق آپ کے لیے چھوڑ دی گئی ہے۔
اکائی سمتیوں
کے لیے ہم پاتے ہیں
![]()
دئیے گئے دو سمتیوں

کا عددیہ حاصلِ ضرب ہے :

غیرسمتی ضربیہ کے تعریف اور مساوات (6.1 b)کے مطابق
A.A = Ax Ax+AyAy+AzAz

کیونکہ
![]()
(ii) اگر AاورBعمودی ہوں تو

جواب ![]()
![]()
اکائی 16=
اس لیے (اکائی) ![]()
اب

6.2کام اورحرکی توانائی کے تصورات : کام –توانائی مسئلہ
(NOTIONS OF WORK AND KINETIC ENERGY: THE WORK-ENERGY THEOREM)
باب 3 میں مستقل اسراع a کے تحت مستقیم حرکت کے لیے آپ درج ذیل رشتہ پڑھ چکے ہیں۔
![]()
جہاں u اور vعلی الترتیب ابتدائی اور آخری چال اور 's' شے کے ذریعے طے کی گئی دوری ہے۔دونوں اطراف کو m/2 سے ضرب کرنے پر
![]()
جہاں آخری قدم نیوٹن کے دوسرے قانون سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح سمتیوں کے استعمال کے ذریعے مساوات (6.1) کی سہ ابعادی عمومی شکل حاصل کی جاسکتی ہے :
![]()
ایک بار پھر دونوں اطراف کو m/2 سے ضرب کرنے پر ہم حاصل کرتے ہیں،
![]()
درج بالا مساوات کام اور حرکی توانائی کی تعریفوں کے لیے تحریک(motivation) فراہم کرتی ہے۔ مساوات (6.2) میں بائیں جانب شے کی کمیت کے نصف اور ا س کی چال کے مربع کے حاصل ضرب کی آخری اور ابتدائی قدروں کا فرق ہے۔ ہم ان میں سے ہر ایک مقدار کو ’حرکی توانائی‘ کہتے ہیں اور علامت K سے ظاہر کرتے ہیں۔ مساوات میں دائیں جانب نقل اور نقل کی سمت میں قوت کے جز کا حاصلِ ضرب ہے۔ اس مقدار کو ’کام‘ کہتے ہیں اور اسے علامت W سے ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا مساوات (6.2) کو درج ذیل طرح لکھ سکتے ہیں:
(6.3) ![]()
جہاں
شے کی ابتدائی اور آخری حرکی توانائیاں ہیں۔ کام کسی شے پر لگنے والی قوت اور اس کے ذریعے ہونے والے نقل کے مابین رشتے کو بتاتا ہے۔ لہٰذا ایک جسم پر ایک خاص نقل کے دوران، ایک قوت کے ذریعے کام کیا جاتا ہے۔
مساوات (6.2) کام –توانائی (WE) مسئلہ کی ایک خاص حالت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک ذرّے کی حرکی توانائی میں ہونے والی تبدیلی، کُل قوت کے ذریعے اس ذرّہ پر کیے گئے، کام کے مساوی ہوتی ہے۔ایک تبدیل ہوتی ہوئی قوت کے لیے مندرجہ بالا استخراج (derivation)کی عمومی شکل ، ہم بعد کے حصّہ میں حاصل کریں گے۔
مثال 6.2 ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بارش کی بوند نیچے کی طرف لگنے والی ارضی کشش قوت اور بوند کے گرنے کی سمت کے خلاف لگنے والی مزاحمتی قوت کے اثر کے تحت گرتی ہے۔ مزاحمتی قوت بوند کی چال کے متناسب لیکن غیر متعین ہوتی ہے۔ مانا کہ 1.00g کمیت کی بارش کی بوند 1.00 km اونچائی سے گررہی ہے۔ یہ زمین پر 50.0 m s-1 کی چال سے گرتی ہے۔(a) ارضی کشش قوت کے ذریعہ کیا گیا کام کیا ہے؟(b) نامعلوم مزاحمتی قوت کے ذریعے کیا گیا کام کیا ہے؟
جواب(a) بارش کی بوند کی حرکی توانائی میں تبدیلی

یہاں ہم نے یہ فرض کرلیا ہے کہ بوند سکون کی حالت سے گرنا شروع کرتی ہے۔
مان لیجیے کہ g ایک مستقلہ ہے، جس کی قدر10ms2ہے۔ ارضی کشش قوت کے ذریعے کیا گیا کام

(b)کام – توانائی مسئلہ کی رو سے
جہاں ,W بوند پر مزاحم قوت کے ذریعے کیا گیا کام ہے۔ لہٰذا
منفی ہے۔
6.3 کام (WORK)
درج بالا سیکشن میں آپ نے دیکھا کہ کام کا تعلق قوت اور اس قوت کے ذریعے ہونے والی شے کی نقل سے ہوتا ہے۔ مانا کہ ایک مستقلہ قوت F، کسی m کمیت کے جسم پر لگ رہی ہے جس کے سبب مثبت x-سمت میں ہونے والا، جسم کا نقل d ہے جیساکہ شکل 6.2 میں دکھایا گیا ہے۔

شکل6.2 کسی جسم میں ہونے ولا، لگائی گئی قوتF کے سبب، نقل d۔
لہٰذا کسی قوت کے ذریعے کیا گیا کام، ’’قوت کے نقل کی سمت میں جزو اور نقل کی عددی قدر کے حاصل ضرب کی شکل میں‘‘ معرف کیا جاتا ہے۔ لہٰذا
![]()
ہم دیکھتے ہیں کہ اگر شے کا نقل صفر ہے تو قوت کی قدر کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، شے کے ذریعے کیا گیا کام صفر ہوتا ہے۔ جب کبھی آپ کسی اینٹوں کی مضبوط دیوار کو دھکا دیتے ہیں تو آپ کے ذریعے دیوارپر لگائی گئی قوت کوئی کام نہیں کرتی۔ اس عمل میں آپ کے عضلات متبادل طورپر سکڑ اور پھیل رہے ہیں۔ اور اندرونی توانائی لگاتار ضائع ہورہی ہے اور آپ تھک جاتے ہیں۔ طبیعیات میں کام کا مطلب اس کے روز مرّہ بول چال کے استعمال کے معنی سے مختلف ہے۔
کوئی بھی کام تب تک انجام ہو انہیں مانا جاتا ہے جب تک کہ:
(i) شے کا نقل صفر ہے، جیسا کہ پچھلی مثال میں آپ نے دیکھا۔ کوئی ویٹ لفٹر 150 kgکمیت کے وزن کو 30s تک اپنے کندھے پر لگاتار اٹھائے ہوئے کھڑا ہے تو وہ اس دوران کوئی کام نہیں کررہا ہے۔
(ii) قوت صفر ہے۔ کسی ہموار افقی میز پر متحرک بلاک پر کوئی افقی قوت (کیونکہ یہاں رگڑ نہیں ہے) کام نہیں کرتی ہے، لیکن جسم کے نقل کی قدر بڑی ہوسکتی ہے۔
(iii) اگر قوت اور نقل باہمی طورپر عمودی ہیں تو کام صفر ہوگا کیونکہ:
![]()
ہموار افقی میز پر متحرک جسم پر ارضی کشش mgکوئی کام نہیں کرتی ہے کیونکہ یہ نقل کے عمودی لگی ہوتی ہے۔ زمین کے گرد چاند کا محور تقریباً دائری ہے۔ اگر ہم چاند کے محور کو پوری طرح سے دائری مان لیں تو زمین کی مادی کشش قوت کوئی کام نہیں کرتی ہے کیونکہ چاند کی ساعتی نقل مماسی ہے جب کہ زمین کی قوت اندر کی جانب نصف قطری سمت میں (radially inwards) ہے، یعنی
θ = n/2۔
کام مثبت ومنفی دونوں طرح کا ہوسکتا ہے۔اگرoº، θ اور90º کے درمیان ہے تومساوات (6.4) میں Cos θ کی قدر مثبت ہے اور θاگر ، 0º اور90º اور180ºکے درمیان ہے تو مساوات میں cos θ کی قدر منفی ہوگی۔ متعدد مثالوں میں رگڑ قوت نقل کی مزاحمت کرتی ہے اور θ = 180º ہوتا ہے تب رگڑ قوت کے ذریعے کیا گیا کام منفی ہوتا ہے۔(cos180º=_ 1)۔
مساوات (6.4) سے ظاہر ہے کہ کام اور توانائی کے ابعاد یکساںہیں [ML²T‾²]۔ برطانوی طبیعیات داں جیمس پریس کاٹ جول (1811 تا 1869) کے اعزاز میں ان کی SI اکائی جول(Joule, J) کہلاتی ہے۔ چونکہ کام اور توانائی طبیعی تصورات کی شکل میں بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کی بہت سی متبادل اکائیاں ہیں، جن میں سے کچھ جدول 6.1 میں درج فہرست ہیں۔
جدول 6.1 کام /توانائی کی متبادل اکائیاں (جول میں)
| ارگ(erg) | 10-7J |
| الیکٹران وولٹ(electron-volt (eV) | 1.6×10-12 J |
| کیلوری(calorie- (cal) | 4.186J |
| کلوواٹ گھنٹہ(kilowatt-hour (kWh) | 3.6×106 J |
مثال 6.3کوئی سائیکل سوار بریک لگانے پر پھسلتا ہوا 10 m دور جاکر رکتا ہے۔ اس عمل کے دوران سڑک کے ذریعے سائیکل پر لگائی گئی قوت 200 N ہے جو اس کی حرکت کے مخالف ہے۔ (a) سڑک کے ذریعے سائیکل پر کتنا کام کیا گیا؟ (b) سائیکل کے ذریعے سڑک پر کتنا کام کیا گیا؟
جواب :سڑک کے ذریعے سائیکل پر کیا گیا کام، سڑک کے ذریعے سائیکل پر لگائی گئی روکنے کی قوت (رگڑ کی قوت) کے ذریعے کیا گیا کام ہے۔ (a) یہاں روکنے والی قوت اور سائیکل کے نقل کے درمیان زاویہ 1800 (یا p rad) ہے۔ لہٰذا سڑک کے ذریعے کیا گیا کام ہے.
یہی وہ منفی کام ہے جو سائیکل کو روک دیتا ہے۔یہ W-Eمسئلہ سے ہم آہنگ ہے۔
(b) نیوٹن کے حرکت کے تیسرے قانون کے مطابق سائیکل کے ذریعے سڑک پر ایک مساوی اور مخالف قوت لگتی ہے۔لیکن سڑک میں کوئی نقل نہیں ہوتا۔اس لیے سڑک پر سائیکل کے ذریعے کیا گیا کام صفر ہے۔
اس مثال سے یہ سبق ملتا ہے کہ جسم AپرجسمBکے ذریعہ لگائی گئی قوت جسم Bپر جسمAکے ذریعہ لگائی گئی قوت کے برابر اور مخالف ہوتی ہے۔(نیوٹن کاتیسراقانون) لیکن AپرBکے ذریعہ کیا گیا کام BپرAکے ذریعہ کیے گئے کام کے برابر اور مخالف ہو یہ ضروری نہیں ہے۔
6.4 حرکی توانائی (KINETIC ENERGY)
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، اگر کسی جسم کی کمیت m اور رفتار v ہے تو اس کی حرکی توانائی ہوگی۔

جدول 6.2 مخصوص حرکی توانائیاں (K)
| شے | کمیت(kg) | (ms-1 )جال | (K (J |
| کار | 2000 | 25 | 6.3×105 |
| دوڑتا ہوا کھلاڑی | 70 | 10 | 3.5×103 |
| گولی | 5×10-2 | 200 | 103 |
| 10mکی اونچائی سے گرایا گیا پتھر | 1 | 14 | 102 |
| انتہائی رفتار سے گرتی بارش کی بوند | 3.5×10-5 | 9 | 1.4×10-3 |
| ہوا کا سالمہ | ≅10-26 | 500 | ≅10-21 |

حرکی توانائی ایک عددیہ مقدار(scalar quantity) ہے۔ کسی جسم کی حرکی توانائی، اس جسم کے ذریعے کیے جاسکنے والے اس کام کی پیمائش ہوتی ہے جو وہ اپنی حرکت کے سبب کرسکتا ہے۔ حالانکہ اس تصور کی بصیرت کافی وقت سے ہے۔ تیز رفتار سے بہنے والے پانی کی دھار کی حرکی توانائی کا استعمال اناج پیسنے میں کیا جاتا رہا ہے۔پانی کے جہاز ہوا کی حرکی توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔
جدول 6.2 میں مختلف اجسام کی حرکی توانائیاں درج فہرست ہیں۔
مثال6.4کسی بیلاسٹک مظاہرے میں ایک پولیس افسر 50g کمیت کی گولی کو 2.00 cmنرم پرت دار لکڑی (پلائی ووڈ) پر 200 ms-1 کی چال سے فائرکرتا ہے (ملاحظہ ہو جدول 6.2)۔ نرم لکڑی کو چھیدنے کے بعد گولی کی حرکی توانائی، ابتدائی توانائی کی %10 رہ جاتی ہے۔ لکڑی سے برآمد ہونے والی گولی کی چال کیا ہوگی؟
جواب گولی کی ابتدائی حرکی توانائی
![]()
گولی (بلیٹ) کی آخری حرکی توانائی 0.1 × 1000 = 100 Jہے۔ اگر گولی کی نرم لکڑی سے برآمد ہونے پر (emergent) چال vf ہے تو
![]()

نرم لکڑی کو چھیدنے کے بعد گولی کی چال تقریباً 68% کم ہوگئی ( %90 نہیں)
6.5 متغیر قوت کے ذریعے کیا گیا کام
(WORK DONE BY A VARIABLE FORCE)
کسی مستقل قوت سے شاذ ونادر ہی واسطہ پڑتا ہے۔ اکثر متغیر قوت کی مثال ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ شکل 6.3 میں یک سمتی متغیر قوت کا گراف ہے۔
اگر نقل ΔXقلیل ہے تب ہم قوت (F (x کو بھی تقریباً مستقل لے سکتے ہیں اور تب کیا گیا کام
![]()
اسے شکل6.2 (a) میں سمجھایا گیا ہے۔ شکل 6.2 (a) میں متواتر مستطیلی رقبوں کو جمع کرنے پر ہمیں کل کیا گیا کام حاصل ہوتا ہے جسے اس طرح لکھا جاتا ہے۔
![]()
جہاں علامت ’Σ‘ کا مطلب ہے جمع(summation) جب کہ ’xi‘ شے کا ابتدائی مقام اور
شے کے آخری مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
اگر نقل کو نہایت قلیل (صفر تک) مان لیا جائے تو حاصل جمع میں ارکان کی تعداد لا محدود طورپر بڑھ جاتی ہے لیکن حاصل جمع ایک متعین قدر کے قریب پہنچ جاتا ہے جو شکل 6.2 (b) میں منحنی کے نیچے کے رقبے کے مساوی ہوتی ہے۔ لہٰذا کیا گیا کام ہے،

جہاں ‘lim’ کا مطلب ہے ’جمع کی حد‘ جب کہ Δx صفر کے نہایت نزدیک ہے۔ اس طرح متغیرہ قوت کے لیے کیے گئے کام کو قوت کے نقل پر معین تکملہ کے طورپر ظاہر کرسکتے ہیں (ضمیمہ 6 A بھی دیکھیں)۔

شکل(a)
6.3 غیر قوت (F (x) کے ذریعے قلیل نقل
میں کیا گیام کام
سیاہ کیے گئے مستطیل کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔
کے لیے سبھی مستطیلوں کے رقبوں کو جوڑنے پر ہم پاتے ہیں کہ
کے لیے منحنی کے تحت سیاہ کیا گیا رقبہ، قوت (F (x کے ذریعے کیے گئے کام کے بالکل مساوی ہے۔
مثال 6.5 کوئی عورت کھردری سطح والے ریلوے پلیٹ فارم پر صندوق کو کھسکاتی ہے۔ وہ 10 m کی دوری تک 100 Nکی قوت لگاتی ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ تھک جاتی ہے اور اس کے ذریعے لگائی گئی قوت فاصلے کے ساتھ خطی طورپر کم ہوتی ہوئی 50 N ہوجاتی ہے۔ صندوق کو کل 20 m کی دوری تک کھسکایا جاتا ہے۔ عورت کے ذریعے صندوق پر لگائی گئی قوت اور رگڑ قوت جوکہ 50 N ہے کو پلاٹ کیجیے۔ دونوں قوتوں کے ذریعے 20 m تک کیے گئے کام کا حساب لگائیے۔

شکل6.4 عور ت کے ذریعے لگائی جانے والی قوت Fاور مخالفت کرنے والی رگڑ کی قوت f کا گراف
جواب شکل 6.4 میں لگائی گئی قوت کا پلاٹ ظاہر کیا گیا ہے۔ x = 20 m پر (F = 50 N (≠ 0 ہے ۔ ہمیں قوت رگڑ f دی گئی ہے جس کی عددی قدر ہے،
f| = 50 N|
یہ حرکت کی مخالفت کرتی ہے اور لگائی گئی قوت F کی مخالف سمت میں کام کرتی ہے۔ اس لیے، اسے قوت محور کی منفی سمت کی طرف ظاہر کیا گیا ہے۔
عورت کے ذریعے کیا گیا کام
[منحرف( ٹرپیزیم )CEIDکا رقبہ] +(مستطیل ABCD کا رقبہ) →WF

قوت رگڑ کے ذریعے کیا گیا کام ہے
مستطیل AGHI کا رقبہ →Wf
Wf = (–50) x 20
1000J– =
یہاں قوت محور کی منفی سمت کی طرف کے رقبے کی علامت منفی ہے۔
6.6 متغیر قوت کے لیے کام- توانائی مسئلہ
(THE WORK-ENERGY THEOREM FOR A VARIABLE FORCE)
ہم متغیرہ قوت کے لیے کام توانائی مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کام اور حرکی توانائی کے تصورات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہاں ہم کام-توانائی مسئلہ کے یک بُعد تک ہی محدود رہیں گے۔ حرکی توانائی کی وقت کے ساتھ تبدیلی کی شرح ہے،
(نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق)Fv=
لہٰذا ، dk = Fdx
ابتدائی حالت
سے آخری حالت
تک تکملہ کرنے پر،
ہمیں حاصل ہوگا

جہاں xi اور xf کے مطابق Ki اور Kf علی الترتیب ابتدائی اور آخری حرکی توانائیاں ہیں۔ لہٰذا

مساوات (6.7) سے حاصل ہوتا ہے،
![]()
اس طرح متغیر قوت کے لیے کام توانائی مسئلہ کی تصدیق ہوجاتی ہے۔
حالانکہ کام توانائی مسئلہ متعدد طرح کے سوالوں کو حل کرنے میں مفید ہے لیکن یہ نیوٹن کے دوسرے قانون کی مکمل حرکیاتی اطلاعات کو شامل نہیں کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ نیوٹن کے دوسرے قانون کی تکملی شکل (integral form)ہے۔ نیوٹن کا دوسرا قانون کسی بھی ساعت وقت پر اسراع اور قوت کے مابین رشتہ دیتا ہے۔کام–توانائی مسئلہ میں وقفہ وقت پر تکملہ شامل ہے۔اس لحاظ سے زمانی اطلاع (وقت سے متعلقtemporal )جو نیوٹن کے دوسرے قانون کے بیان میں شامل ہوتی ہے، اس کا تکملہ ہوجاتا ہے اور یہ اطلاع واضح طور پر نہیں حاصل ہوپاتی۔دوسری بات یہ ہے کہ دویا تین ابعادوں کے لیے نیوٹن کا دوسرا قانون سمتیہ شکل میں ہے جبکہ کام–توانائی مسئلہ عددیہ شکل میں ہے۔عددیہ شکل میں ہونے کی وجہ سے، نیوٹن کے دوسرے قانون سے سمتوں کے متعلق حاصل ہونے والی اطلاع اب نہیں مل پاتی.
مثال6.6: (m (=1kgکمیت کا ایک بلاک افقی سطح پر vi=2m/sکی چال سے چلتے ہوئے mx=0.10سےx=2.01کے کھردرے حصے میں داخل ہوتا ہے۔ بلاک پر لگنے والی ابطائی قوت(retarding force,Fr)اس سعت میں xکے مقلوب متناسب ہے،![]()
کے لیے)x>2.01mاورx<0.1m(جہاں k=0.5J)بلاک جیسے ہی کھردرے حصے کو پار کرتا ہے، اس کی آخری حرکی توانائی اور چال vfکا حساب لگائیے۔
جواب مساوات (6.8) سے

غور کیجیے کہ ln اساس e پر کسی عدد کے فطری لوگارتھم کی علامت ہے نہ کہ اساس 10 پر کسی عدد کی
![]()
6.7 توانائی بالقوۃ کا تصور (THE CONCEPT OF
POTENTIAL ENERGY)
لفظ قوۃ کسی کام کو کرنے کے امکان یا استعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ توانائی بالقوۃکی اصطلاح ہمارے ذہن میں ’ذخیرہ شدہ‘ توانائی کا تصورپیدا کرتی ہے۔ کسی کھینچے ہوئے تیر کمان کے تار (ڈوری) میں توانائی بالقوۃ ہوتی ہے۔ جب اسے ڈھیلا چھوڑا جاتا ہے تو تیر تیز چال سے دور چلا جاتا ہے۔ زمین کا قشر یکساں نہیں ہوتا بلکہ اس میں عدم تسلسل اور نظامی خلل ہوتا ہے جسے ناقص خطوط (fault lines) کہا جاتا ہے۔ یہ ناقص خطوط زمین کے قشر میں ’دبی ہوئی کمانیوں‘ کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی توانائی بالقوۃ (جمع توانائی) بہت زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔ جب ان ناقص خطوط کا ازسرنو تطابق ہوجاتا ہے تو زلزلہ آتا ہے۔ اس طرح کسی بھی جسم کی توانائی بالقوۃ (جو کہ جمع توانائی ہے) اس کے مقام یا تشکیل کے سبب ہوتی ہے۔ جسم کو آزادانہ چھوڑنے پر اس میں جمع توانائی، حرکی توانائی کی شکل میں رِہا (release)ہوتی ہے۔ آئیے اب ہم توانائی بالقوۃ کے تصور کو مقابلتاً ایک ٹھوس شکل دیتے ہیں۔
m کمیت کی ایک گیند پر لگ رہی زمینی کشش mgہے۔زمین کی سطح کے قریب gکو ایک مستقلہ مانا جاسکتاہے۔ یہاں قریب سے مرادیہ ہے کہ گیند کی زمین کی سطح سے اونچائی h زمین کے نصف قطر (h << RE) RE کے مقابلے نہایت قلیل ہے۔ لہٰذا ہم زمین کی سطح کے نزدیک g کی قدر میں تبدیلی کو نظر انداز کرسکتے ہیں*۔ حسب ذیل بحث میں ہم نے نیچے کی جانب سمت کو مثبت مانا ہے۔ ماناکہ گیند کو h اونچائی تک اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا بیرونی عامل کے ذریعے ارضی کشش کے خلاف کیا گیا کام mgh ہوگا۔ یہ کام توانائی بالقوۃ کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے۔ کسی جسم کی h اونچائی پر ارضی توانائی بالقوۃ، جس کو (V(h سے ظاہر کیا گیا ہے، جسم کو اس اونچائی تک اٹھانے میں ارضی کشش کے ذریعے کیے گئے کام کی منفی قدر کے برابر ہوتی ہے۔
V (h) = mgh
اگر h کو متغیرہ کے طورپر لیا جاتا ہے تو بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ ارضی کشش قوت F، h کی مناسبت سے V (h) کے منفی مشتق کے برابر ہوتی ہے۔
![]()
یہاں منفی علامت ظاہر کرتی ہے کہ ارضی کشش قوت نیچے کی جانب ہے۔ جب گیند کو چھوڑا جاتا ہے تو یہ بڑھتی ہوئی چال سے نیچے آتی ہے۔ زمین کی سطح سے تصادم سے قبل اس کی چال مجرد حرکیات رشتہ کے ذریعے درج ذیل طورپر دی جاتی ہے،
v2 = 2 gh
* g (ارضی کشش اسراع) کی قدر میں اونچائی کے ساتھ تبدیلی پر بحث باب 8 میں ثقل کے موضوع پر کریں گے۔
اس مساوات کو درج ذیل طرح سے بھی لکھا جاسکتا ہے،
mv2 = mgh![]()
جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب جسم (شے) کو آزادانہ رِہا کیا جاتا ہے تو جسم کی h اونچائی پر ارضی توانائی بالقوۃ زمین پر پہنچنے پر جسم کی حرکی توانائی کے بہ طور تبدیل ہوجاتی ہے۔
طبیعی طورپر توانائی بالقوۃ کا تصور صرف انہیں قوتوں کے زمرے میں لاگو ہوتا ہے جہاں قوت کے خلاف کیا گیا کام، توانائی کے طوپر جمع ہوجاتا ہے۔ بیرونی عوامل جب ہٹادیے جاتے ہیں تو یہ خود کو شے کی حرکی توانائی کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ ریاضیاتی طورپر توانائی بالقوۃ (V(x کی تعریف (آسانی کے لیے یک بعد میں) اس طرح کی جاتی ہے: اگر قوت(F (x کودرج ذیل شکل میں لکھا جاتا ہے:
![]()
تو اس کا مطلب ہے۔

کسی برقراری قوت کے ذریعے کیا گیا کام جسم کی صرف ابتدائی اور آخری حالت پر انحصار کرتا ہے۔ پچھلے باب میں ہم نے مائل مستوی سے متعلق مثالوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اگر mکمیت کا کوئی جسمh اونچائی کے ہموار (بے رگڑ) مائل مستوی کی چوٹی سے سکونی حالت سے چھوڑا جاتا ہے تو مائل مستوی کی تہہ (پیندا) پر اس کی چال مائل زاویہ جھکاؤ (angle of inclination) کا لحاظ کیے بغیر
ہوتی ہے۔ اس طرح یہاں پر جسم mghحرکی توانائی حاصل کرلیتا ہے۔ اگر کیا گیا کام یا حرکی توانائی دوسرے عوامل جیسے جسم کی رفتار یا اس کے ذریعے چلی گئی خصوصی راہ کی لمبائی پر منحصر ہوتی ہے تو یہ قوت غیر برقراری (non conservative) کہلاتی ہے۔
کام یا حرکی توانائی کی طرح توانائی بالقوۃ کی کے ابعاد بھی [ML2T-2]ہیں اور SI اکائی جول (J) ہے۔ یاد رکھیے کہ برقراری قوت کے لیے توانائی بالقوۃ میں تبدیلی V
قوت کے ذریعے کیے گئے کام کی منفی قدر کے برابر ہوتی ہے۔
![]()
اس حصّہ میں گرتی ہوئی گیند کی مثال میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح گیند کی توانائی بالقوۃ اس کی حرکی توانائی میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہ میکانیات (mechanics) میں بقا کے ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی جانچ اب ہم کریں گے۔
6.8 میکانکی توانائی کی بقا (CONSERVATION OF
MECHANICAL ENERGY)
آسانی کے لیے ہم اس اہم اصول کی یک جہتی حرکت کے لیے تصدیق کررہے ہیں۔ مان لیجیے کہ کسی جسم میں، برقراری قوت F کے سبب، نقل Dx ہوتا ہے۔ کام توانائی مسئلہ سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
![]()
اگرقوت برقراری ہے تو توانائی بالقوۃ تفاعل V(x)کی تعریف درج ذیل طورپر کی جاسکتی ہے:
![]()
درج بالا مساواتیں ظاہر کرتی ہیں کہ:

اس کامطلب ہے کہ کسی جسم کی حرکی اور بالقوۃ توانائیوں کی جمع (K +V) مستقل ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مکمل راہ xi سے xf کے لیے
![]()
یہاں مقدار
نظام کی کل میکانکی توانائی کہلاتی ہے۔ انفرادی طورپر حرکی توانائی K اوربالقوۃ توانائی (V(x) ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک تبدیل ہوسکتی ہیں، لیکن ان کی جمع مستقلہ ہوتی ہے۔ درج بالا وضاحت سے اصطلاح ’برقراری قوت‘ (conservative force) کی موزونیت واضح ہوتی ہے۔
آئیے، اب ہم مختصراً برقراری قوت کی مختلف تعریفوں کو دہراتے ہیں۔
• کوئی قوت(F(x برقراری ہے اگر اسے مساوات (6.9) کے استعمال کے ذریعے عددیہ مقدار(V(x سے حاصل کرسکتے ہیں۔سہ ابعادی عمومی شکل کے لیے سمتیہ مشتق طریقے کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کہ اس کتاب کے دائرے سے باہر ہے۔
• برقراری قوت کے ذریعے کیا گیا کام صرف سرے کے نقاط پر منحصر ہوتا ہے جو درج ذیل رشتہ سے ظاہر ہے:
![]()
• تیسری تعریف کے مطابق اس قوت کے ذریعے بند راہ میں کیا گیا کام صفر ہوتا ہے۔ یہ ایک بار پھر مساوات (6.11) سے ظاہر ہے کیونکہ
ہے۔
لہٰذا میکانکی توانائی کی بقاکا قانون اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے :
کسی بھی نظام کی کُل میکانکی توانائی کی بقا ہوتی ہے اگر اس پر کام کرنے والی قوتیں برقراری ہیں۔
درج بالا بحث کوزیادہ ٹھوس بنانے کے لیے ایک بار پھر مادی کشش قوت کی مثال پر غور کرتے ہیں اور اسپرنگ قوت کی مثال پر اگلے حصّہ میں غور کریں گے۔ شکل 6.5، H اونچائی کی کسی چٹان سے گرائی ہوئی m کمیت کی گیند کی تصویر کشی کرتی ہے۔

شکل 6.5 H اونچائی سے گرائی گئی m کمیت کی گیند کی بالقوۃ توانائی کی حرکی توانائی میں تبدیلی
دکھائی گئی اونچائیوں، صفر (زمینی سطح)، h اور H پر گیندکی کل میکانکی توانائیاں Eh، E0 اور EH ہیں۔

مستقلہ قوت، مکانی طورپر منحصر قوت F(x) کی ایک خصوصی مثال ہے۔ لہٰذا میکانکی توانائی برقراری ہے۔ اس طرح
EH = E0
یا
یا، ![]()
![]()
یہ وہی نتیجہ ہے جو حصّہ3.7 میں آزادانہ طورپر گرتے ہوئے جسم کی رفتار کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ
EH = Eh
جس سے حاصل ہوتا ہے :
![]()
یہ مجرد حرکیات کا ایک معروف نتیجہ ہے۔
H اونچائی پر، جسم کی توانائی صرف توانائی بالقوۃ ہے۔ یہ h اونچائی پر جزوی طورپر حرکی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور زمین کی سطح پر پوری طرح حرکی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس طرح درج بالامثال میکانکی توانائی کی بقا کے اصول کو واضح کرتا ہے۔
مثال 6.7 m کمیت کا ایک کرہ (L (bob لمبائی کی ہلکی ڈوری سے لٹکایا گیا ہے۔ اس کے سب سے نچلے نقطہ A پر افقی رفتار v0 اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ عمودی مستوی میں نصف دائری خطِ حرکت کو اس طرح طے کرتا ہے کہ ڈوری صرف اعلا ترین نقطہ C پر ڈھیلی ہوتی ہے جیسا کہ شکل 6.6 میں دکھایا گیا ہے۔ درج ذیل کے لیے ریاضیاتی عبارت حاصل کیجیے:
v0،
نقاط B اور C پر چال اور (iii) نقطہ B اور C پر حرکی توانائیوں کی نسبت
۔ کرّہ کے نقطہ C پر پہنچنے کے بعدخطِ حرکت کی نوعیت پر تبصرہ کیجیے۔

شکل 6.6
جواب (i) یہاں کرہ پر لگنے والی دو بیرونی قوتیں ہیں: ارضی کشش اور ڈوری میں تناؤ (T)۔ آخرالذکرقوت کوئی کام نہیں کرتی ہے کیونکہ کرہ کا نقل ہمیشہ ڈوری کے عمودی ہوتا ہے۔ لہٰذا کرہ کی توانائی بالقوۃ صرف ارضی کشش کی قوت سے منسلک ہے۔ نظام کی کل میکانکی توانائی Eکی بقا ہوتی ہے۔ ہم نظام کی بالقوۃ توانائی نچلے ترین نقطہ A پر صفرلے لیتے ہیں۔ لہٰذا نقطہ A پر :
(6.12) 
(نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق) 
یہاں TA، نقطہ A پر ڈوری کا تناؤ ہے۔ اعلا ترین نقطہ C پر ڈوری ڈھیلی ہوجاتی ہے؛ کیونکہ نقطہ C پر ڈوری کا تناؤ Tc = 0ہوجاتاہے۔ لہٰذا نقطہ C پر ہمیں حاصل ہوتا ہے،
(6.13) 
(6.14) (نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق) 
جہاں vc نقطہ c پر کرہ کی چال ہے۔ مساوات) (6.13 اور (6.14) سے حاصل ہوتا ہے،

اسے نقطہ A پر توانائی کے مساوی کرنے پر

یا
![]()
(ii) مساوات (6.14) سے یہ ظاہر ہے کہ
![]()
لہٰذا نقطہ B پر توانائی ہے،
![]()
اسے نقطہ A پر توانائی کی عبارت کے برابر رکھنے پر اور (i) سے حاصل نتیجے
کواستعمال میں لانے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے،
(iii) نقطہ B اور C پرحرکی توانائیوں کی نسبت :

نقطہ C پر ڈوری ڈھیلی ہوجاتی ہے اور کرہ کی رفتار افقی اور بائیں طرف ہوجاتی ہے۔ اگر اس ساعت پر ڈوری کو کاٹ دیا جائے توکرہ ایک پروجکٹائل حرکت کرے گا جس کا افقی ظل ویسا ہی ہوگا جیسے کہ ایک کھڑی چٹان کے کسی پتھر کو افقی سمت میں ٹھوکر ماردی جائے۔اس کے علاوہ ہر نقطہ پر کرہ اپنے دائری راستے پر حرکت جاری رکھیّ گا اور اپنا چکّرپورا کرے گا۔
6.9 اسپرنگ کی توانائی بالقوۃ
(THE POTENTIAL ENERGY OF A SPRING)
اسپرنگ قوت ایسی متغیرہ قوت کی ایک مثال ہے جو برقراری ہوتی ہے۔ شکل 6.7 اسپرنگ سے منسلک کسی بلاک کو دکھاتی ہے جو کسی ہموار افقی سطح پر سکونی حالت میں ہے۔ اسپرنگ کا دوسرا سرا کسی مضبوط دیوار سے جڑاہے۔ اسپرنگ ہلکا ہے اور بے کمیت مانا جاسکتا ہے۔ کسی مثالی اسپرنگ میں اسپرنگ قوت Fs،xکے متناسب ہوتی ہے جہاں x بلاک کا مقامِ توازن سے نقل ہے۔یہ نقل مثبت ]شکل 6.7(b) [یا منفی ]شکل) 6.7(c [ہوسکتا ہے۔ اسپرنگ کے لیے قوت کا قانون، ہک (Hook) کا قانون کہلاتا ہے اور ریاضیاتی طورپر اس طرح ظاہر کیا جاسکتا ہے،



شکل 6.7
کسی اسپرنگ کے آزاد سرے سے جڑی ہوئی شے پر اسپرنگی قوت کی تشریح ۔ (a) جب مقام توازن سے نقل x صفر ہے تو اسپرنگ قوت Fs بھی صفر ہے (b) کھنچی ہوئی اسپرنگ کے لیے x > 0 اور Fs < 0 (c) دبی ہوئی اسپرنگ کے لیے x < 0 اور Fs > 0 (d) Fs اور x کے درمیان کھینچا گیا گراف۔ شیڈشدہ مثلث کا رقبہ اسپرنگی قوت کے ذریعے کیے گئے کا م کا اظہار کرتا ہے۔ Fs اور x کی مخالف علامتوں کے سبب کیا گیا کام منفی ہے۔

جہاں مستقلہ K ایک اسپرنگ مستقلہ ہے جس کی اکائیN m-1 ہے۔ اگر Kکی قدر بہت زیادہ ہے، تب اسپرنگ کو مضبوط کہا جاتا ہے۔ اگر Kکی قدر کم ہے تب اسے نرم کہا جاتا ہے۔
مان لیجیے کہ ہم بلاک کو باہر کی طرف، جیسا کہ شکل 6.7 (b) میں دکھایا گیا ہے کھینچتے ہیں۔ اگر اسپرنگ کی لمبائی میں توسیع
ہے تو اسپرنگ قوت کے ذریعے کیا گیا کام ہوگا

اس عبارت کو ہم شکل 6.7 (d) میں دکھائے گئے مثلث کے رقبے سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ غور کیجیے کہ بیرونی کھنچاؤ قوت کے ذریعے کیا گیا کام مثبت ہے کیونکہ یہ اسپرنگ قوت کی مخالف سمت میں ہے۔

اگر اسپرنگ نقل
کے ساتھ دبائی جاتی ہے تب بھی درج بالا عبارت صحیح ہے۔ اسپرنگ قوت کے ذریعے کیا گیا کام :
ے، جبکہ باہری قوت Fکے ذریعے کیا گیا کام :
ہے۔
اگر بلاک کو اس کے ابتدائی نقل
سے آخری نقل
ک حرکت دی جاتی ہے تو اسپرنگ قوت کے ذریعے کیا گیا کام Ws ہے :
(6.17) 
لہٰذا اسپرنگ قوت کے ذریعے کیا گیا کام صرف سرے کے نقاط پر منحصر ہوتا ہے۔ خاص طورپر جب بلاک کو مقام xi سے کھنچا گیا ہو اور واپس xi مقام تک آنے دیا گیا ہوتو:
لہٰذا اسپرنگ قوت کے ذریعے کسی دائری عمل میں کیا گیا کام صفر ہوتا ہے۔ ہم نے یہاں واضح طورپر مظاہرہ کیا ہے کہ (i) اسپرنگ قوت صرف مقام یا حالت پر منحصر ہوتی ہے جیسا کہ ہُک کے قانون کے ذریعے پہلے کہا گیا ہے،
یہ قوت جو کام کرتی ہے وہ صرف ابتدائی اور آخری حالتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر مساوات (6.17)۔ لہٰذا اسپرنگ قوت ایک برقراری قوت ہے۔
جب بلاک اوراسپرنگ نظام حالتِ توازن میں ہے یعنی مقام تعادل سے اس کی نقل صفرہے تو اسپرنگ کی توانائی بالقوۃ (V(x کو ہم صفر مانتے ہیں۔ کسی کھنچاؤ (یا دباؤ) x کے لیے درج بالا تجزیہ تجویز کرتاہے :
![]()
اس کی تصدیق آسانی سے کی جاسکتی ہے کہ
جو کہ اسپرنگ قوت ہے۔ جب m کمیت کے بلاک کو شکل 6.7 کے مطابق xm تک کھینچا جاتا ہے اور پھرسکونی حالت سے چھوڑا جاتا ہے تب اس کی کل میکانکی توانائی، منتخب کیے گئے کسی بھی نقطے x پر درج ذیل طورپر دی جائے گی جہاں x کی قدر xm− -سے xm +کے درمیان ہے۔
![]()
جہاں ہم نے میکانکی توانائی کی بقاکے قانون کا استعمال کیا ہے۔ اس کے مطابق بلاک کی چال vm اور حرکی توانائی مقامِ توازن x = 0 پر بیش ترین ہوئی
![]()
جہاں vmبیش ترین چال ہے۔

غور کیجیے کہ k/m کے ابعاد [T-2] ہیں اور یہ مساوات ابعادی طورپر صحیح ہے۔ یہاں نظام کی حرکی توانائی، توانائی بالقوۃ میں اور توانائی بالقوۃ، حرکی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے، تاہم کل میکانکی توانائی مستقل رہتی ہے۔ شکل 6.7 میں اس کا گرافی اظہار کیا گیا ہے۔
مثال 6.8 کار کے حادثے کو دکھانے کے لیے موٹر کار بنانے والے مختلف اسپرنگ مستقلوں کے اسپرنگوں کا فریم چڑھا کر چلتی ہوئی کاروں کے تصادم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مان لیجئے کسی علامتی حادثے میں کوئی 1000 kgکمیت کی کار ایک ہموار سڑک پر 18km/hکی چال سے چلتی ہوئی، افقی لگائے گئے فریم پر چڑھائے گئے اسپرنگ سے لگاتار تصادم کرتی ہے جس کا اسپرنگ مستقلہ1- 6.25x103Nmہے تو اسپرنگ کا زیادہ سے زیادہ دباؤ کیا ہوگا؟

شکل 6.8 کسی ایسے اسپرنگ سے جڑے ہوئے بلاک کی توانائی بالقوۃV اور حرکی توانائی K کے پیرا بولی (مکافی) پلاٹ جو ہک کے قانون کی تعمیل کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے تکملہ ہیں یعنی ان میں جب ایک گھٹتا ہے تو دوسرا بڑھتا ہے لیکن کل میکانکی توانائی E = K + V مستقل رہتی ہے۔
جواب کار کی حرکی توانائی بیش ترین دباؤ پر مکمل طورپر اسپرنگ کی توانائی بالقوۃ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
متحرک کار کی حرکی توانائی:

جہاں کار کی چال 18 km h-1کو اس کی SI قدر 5 m s-1 میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ )یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ (یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ 36kmh1=10ms1)۔ میکانکی توانائی کی بقا کے قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ دباؤ xm پر اسپرنگ کی توانائی بالقوۃ Vمتحرک کار کی حرکی توانائی (K)کے برابر ہوتی ہے۔

حل کرنے پر ہم حاصل کرتے ہیں کہ
![]()
غور کریں یہاں اس حالت کو ہم نے مثالی طورپر پیش کیا ہے۔ یہاں اسپرنگ کو بے کمیت مانا ہے اور سڑک کی رگڑ کو برائے نام مانا ہے۔
ہم برقراری قوتوں پر کچھ تبصرہ کرتے ہوئے اس حصّہ کو ختم کرتے ہیں۔
(i) درج بالا بحث میں وقت کے سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس مثال میں ہم دباؤ کا شمار کرسکتے ہیں لیکن اس وقفہ وقت کا شمار نہیں کرسکتے جس میں یہ دباؤ واقع ہوا ہے۔ لہٰذا زمان اطلاع حاصل کرنے کے لیے اس نظام کے لیے نیوٹن کے دوسرے قانون کے حل کی ضرورت ہے۔
(ii) سبھی قوتیں برقراری نہیں ہیں۔ مثال کے لیے رگڑ ایک غیر برقراری قوت ہے۔ اس حالت میں، توانائی کی بقا کے قانون میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ اسے مثال 6.8 میں واضح کیا گیا ہے۔
(iii) قوۃ توانائی کا صفر اختیاری طورپر لیا گیا ہے جسے آسانی کے لیے متعین کرلیا جاتا ہے۔ اسپرنگ قوت کے لیے، ہم x = 0 پر v (x)= 0 لیتے ہیں، یعنی بغیر کھنچے اسپرنگ کی قوۃ توانائی صفر مانتے ہیں۔ مستقلہ ارضی کشش قوت mg کے لیے زمین کی سطح پر v = 0 لیتے ہیں۔ باب 8 میں ہم دیکھیں گے کہ مادّی کشش قوت کے ہمہ گیر قانون کے مطابق قوت کے لیے صفرمادّی کشش کے وسیلہ سے لا انتہا دوری پر عمدہ طریقے سے معین ہوتا ہے۔ تاہم کسی مباحثہ میں توانائی بالقوۃ کے لیے ایک بار صفر کے مقام کو طے کرنے کے بعد، شروع سے آخر تک مباحثہ میں اس قانون کی تعمیل کرنی چاہیے۔
مثال 6.9 مثال 6.7 میں رگڑ کے ضربیہ m کی قدر0.5 لے کر کمانی کے بیش ترین دباؤ کا شمار کیجیے۔
جواب رگڑ قوت کی موجودگی میںاسپرنگ قوت اور رگڑ قوت دونوں ہی دباؤ کی مخالفت کرنے میں متحدہ طورپر کام کرتے ہیں،جیسا کہ شکل 6.9میں دکھایا گیا ہے۔

شکل 6.9 کار پر لگ رہی قوتیں
لہٰذا یہاں ہم میکانیکی توانائی کی بقا کے اصول کے بجائے کام–توانائی مسئلہ کا استعمال کرتے ہیں۔
حرکی توانائی میں تبدیلی ہے:

کل قوت کے ذریعے کیا گیا کام
![]()
k
اور W کومتوازن کرنے پر ہم حاصل کرتے ہیں،

درج بالا مساوات کو مرتب کرنے پر ہمیں نامعلوم xm کے لیے درج ذیل دودرجی مساوات حاصل ہوتی ہے۔

جہاں ہم نے xm مثبت ہونے کے سبب اس کا مثبت مربع جذر (square root)لے لیا ہے۔ ہندسی قدروں کو مساوات میں رکھنے پر ہم حاصل کرتے ہیں،
xm = 1.35 m
جو امید کے مطابق مثال 6.8 میں حاصل نتیجے سے کم ہے۔
اگر مان لیں کہ جسم پر لگنے والی دونوں قوتوں میں ایک برقراری قوت Fc اور دوسری غیر برقراری قوت Fnc ہے تو میکانیکی توانائی بقاکی فارمولے میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ کام توانائی تھیورم سے:
![]()
لیکن ![]()
اس طرح ![]()
![]()
جہاں Eکل میکانیکی توانائی ہے۔ پورے راستے پر درج ذیل شکل اختیار کرلیتی ہے۔
![]()
جہاںWnc غیر برقراری قوت کے ذریعے کسی راہ پر کیا گیا کل کام ہے۔غور کیجیے کہ برقراری قوت کے برخلاف، غیربرقراری قوت کے ذریعے کیا گیا کام
تک ا ختیار کی گئی راہ پر انحصار کرتا ہے۔
6.10 توانائی کی مختلف شکلیں: بقائے توانائی کا قانون
(VARIOUS FORMS OF ENERGY : THE LAW OF CONSERVATION OF ENERGY)
پچھلے حصّہ میں ہم نے میکانیکی توانائی پر بحث کی اور یہ پایا کہ اس کی دومختلف زمروں میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ پہلا حرکت پر مبنی ہے یعنی حرکی توانائی اوردوسرا تشکیل (مقام) پر مبنی یعنی توانائی بالقوۃ۔ توانائی کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں اور توانائی کو ایک شکل سے دوسری شکل میں کئی طریقوں سے منتقل کیا جاتا ہے جو اکثر ہمارے لیے غیر واضح ہوسکتے ہیں۔
6.10.1 حرارت(Heat)
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ رگڑ قوت کو برقراری قوتوں کے زمرے سے ہٹادیا گیا ہے۔ لیکن کام، رگڑ قوت سے منسلک ہے۔ کوئی mکمیت کا بلاک کھردری افقی سطح پر v0 چال سے پھسلتا ہوا x0 دوری چل کر رک جاتا ہے۔ x0 پر حرکی رگڑ قوت f کے ذریعے کیا گیا کام f x0− ہے۔ کام توانائی تھیورم سے mv20 /2= f x0حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے مواد کو میکانیات تک ہی محدود رکھیں تو ہم کہیں گے کہ بلاک کی حرکی توانائی رگڑ قوت کے سبب ضائع ہوگئی ہے۔ میز اوربلاک کی جانچ کرنے پر ہمیں پتہ چلے گا کہ ان کا درجہ حرارت معمولی سا بڑھ گیا ہے۔ رگڑ قوت کے ذریعے کیا گیا کام ضائع نہیں ہوا ہے بلکہ حرارتی توانائی کی شکل میں میز اوربلاک کو منتقل ہوگیا ہے جوبلاک اور میز کی اندرونی توانائی کو بڑھا دیتاہے۔ سردی میں ہم اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں زور سے رگڑ کر حرارت پیدا کرتے ہیں۔ ہم بعد میں دیکھیں گے کہ اندرونی توانائی سالموں کی متواتر،اکثرنا ترتیب ،حرکت سے منسلک ہے۔ حرارتی توانائی کی منتقلی کا مقداری تصور اس خصوصیت سے حاصل کیا جاسکتا ہے کہ 1 kg پانی کے درجہ حرارت میں 10ocکمی کرنے پر 42000 J توانائی خارج ہوتی ہے۔
6.10.2 کیمیائی توانائی(Chemical Energy)
نوع انسانی کی عظیم ترین تکنیکی حصولیابی اس وقت واقع ہوئی جب ہمیں یہ پتہ لگا کہ آگ کو کیسے روشن کیا جاتا ہے اور اس پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ ہم نے دو خشک پتھروں کو آپس میں رگڑنا (میکانکی توانائی)، انہیں گرم ہونے دینا اور پتیوں کے ڈھیر کو سلگانا (کیمیائی توانائی) سیکھا جس کے سبب ہم مسلسل حرارت حاصل کرپائے۔ ماچس کی ایک تیلی جب خاص طورپر تیار کی گئی کیمیائی سطح پر رگڑی جاتی ہے تو ایک چمکیلے شعلے کے طورپر روشن ہوتی ہے۔ جب سلگائی گئی ماچس کی تیلی پٹاخے میں لگائی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں آواز اور روشنی کا شاندار مظاہرہ ہوتا ہے۔
کیمیائی توانائی، کیمیائی تعامل میں حصہ لینے والے سالموں کی مختلف بندشی توانائیوں کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ ایک مستحکم کیمیائی مرکب کی توانائی اس کے الگ الگ اجزا کی نسبت کم ہوتی ہے۔ کیمیائی تعامل بنیادی طورپر ایٹموں کی ازسرنو ترتیب ہے۔ اگر متعاملات کی کل توانائی تعامل کے ماحصلات کی توانائی سے زیادہ ہوتی ہے تو حرارت رہا ہوتی ہے یعنی تعامل کو حرارت زا (exo thermic) تعامل کہتے ہیں اور اگر اس کے برعکس صحیح ہے تو حرارت جذب ہوگی یعنی تعامل حرارت خور (endothermic) ہوگا۔ کوئلے میں کاربن ہوتا ہے اور اس کے 1 kg کے جلنے سے
توانائی رہا ہوتی ہے۔
کیمیائی توانائی ان قوتوں سے متعلق ہوتی ہے جو اشیا کو استحکام فراہم کرتی ہیں۔ یہ قوت ایٹموں کو سالموں میں اور سالموں کو پالی مری سلسلے (polymeric chains)وغیرہ میں باندھ دیتے ہیں۔ کوئلہ، کوکنگ گیس، لکڑی اور پٹرولیم کے احتراق (جلنے) سے پیدا کیمیائی توانائی ہمارے روز مرہ کے وجود کے لیے ضروری ہے۔
6.10.3 برقی توانائی(Electrical Energy)
برقی رو (کرنٹ) کے بہاؤ کے سبب بلب روشن ہوتے ہیں، پنکھے گھومتے ہیں اور گھنٹیاں بجتی ہیں۔ چار جوں اوربرقی کرنٹوں کے کشش کرنے اور دفع (ہٹاؤ) سے متعلق قوانین ہم بعد میں سیکھیں گے۔ توانائی برقی رو سے بھی منسلک ہے۔ ایک ہندوستانی شہری کنبہ اوسطاً 200J/sتوانائی صرف کرتا ہے۔
6.10.4 کمیت اور توانائی کی معادلت
(The Equivalence of Mass and Energy)
انیسویں صدی کے آخر تک ماہرین طبیعیات یقین کرتے تھے کہ ہر ایک طبیعی اور کیمیائی عمل میں جدا نظام کی کمیت برقرار رہتی ہے۔ مادہ اپنی ہیئت (فیز) تبدیل کرسکتا ہے۔ مثال کے طورپر برفانی برف پگھل کر ایک تیزدھار میں بہہ سکتا ہے لیکن مادہ نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فنا کیا جاسکتا ہے۔ تاہم البرٹ آئنسٹائن (1879 تا 1955) نے یہ ظاہر کیا کہ کمیت اور توانائی ایک دوسرے کے معادل ہوتے ہیں اوران میں درج ذیل رشتہ ہے :
(6.20) E = m c2
جہاں c خلا میں روشنی کی چال ہے جو تقریباً
کے برابر ہے۔ اس طرح محض ایک کلوگرام مادے کی توانائی میں تبدیلی سے حاصل ہونے والی توانائی کی مقدار حیرت زدہ کردینے والی ہے :
![]()
یہ ایک بہت بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھر کی سالانہ پیداوار کے مساوی ہے۔
6.10.5 نیوکلیر توانائی(Nuclear Energy)
ایک طرف جہاں نوع انسانی کے ذریعے بنائے گئے نہایت تباہ کن ہتھیار انشقاق (fission) اور گداخت (fusion) بم درج بالا کمیت۔توانائی کی معادلت ]مساوات (6.20) [کا اظہار ہیں، وہیں دوسری طرف سورج کے ذریعے پیدا ہوئی زندگی کی پرورش کرنے والی توانائی کی تشریح بھی بالا مساوات پر ہی مبنی ہے۔
جدول 6.3 مختلف مظاہرسے منسلک کی قریب ترین قدریں
| بیان | توانائی(J) |
| بگ بینگ | 1068 |
| گیلکسی کے ذریعے اپنے عہد حیات میں خارج ریڈیو توانائی | 1055 |
| کہکشاں (Milky way)کی گردشی توانائی | 1052 |
| سوپرنوا دھماکے میں خارج شدہ توانائی | 1044 |
| بحراعظم کی ہائیڈروجن کا گداخت | 1034 |
| زمین کی گردشی توانائی | 1029 |
| زمین پر واقع سالانہ شمسی توانائی | 5×1024 |
| زمین کی سطح کے قریب سالانہ ہوا توانائی اسراف | 1022 |
| انسان کے ذریعے دنیا میں استعمال کی گئی سالانہ توانائی | 3×1020 |
| مدجزر کے ذریعے سالانہ توانائی اسراف | 1020 |
| 15میگاٹن گداخت بم کے ذریعے رہاشدہ توانائی | 1017 |
| کسی بڑے برقی پیداوار پلانٹ کی سالانہ برقی پیداوار | 1016 |
| طوفان برق و باراں کی توانائی | 1015 |
| 1000kgکوئلے کے جلنے سے رہا شدہ توانائی | 3×1010 |
| کسی بڑے جیٹ جہاز کی حرکی توانائی | 109 |
| 1لیٹر گیسولین کے جلنے سے رہاشدہ توانائی | 3×107 |
| کسی بالغ انسان کی یومیہ غذائی خوراک | 107 |
| انسان کے دل کے ذریعے فی دھڑکن کیا گیا کام | 0.5 |
| اس کتاب کے صفحے کو پلٹنے میں کیا گیا کام | 10-3 |
| پھسو کا پھدکنا | 10-7 |
| کسی نیوران کے خروج(ڈسچارج) میں ضروری توانائی | 10-10 |
| اس نیوکلیس میں پروٹان کی مخصوص توانائی | 10-13 |
| کسی ایٹم الیکٹران کی مخصوص توانائی | 10-18 |
| ڈی۔این۔اے۔کے ایک بندھ کو توڑنے کے لیے ضروری توانائی | 10-20 |
اس میں ہائیڈروجن
کے چار ہلکے نیوکلیسوں کے گداخت کے ذریعے ایک ہیلم نیوکلیس بنتا ہے جس کی کمیت ہائیڈروجن کے چاروں نیوکلیوں کی کل کمیتوں سے کم ہوتی ہے۔ یہ کمیت فرق جسے کمیتی نقص (Δm (mass defect، کہتے ہیں، توانائی (Δm c2) کا ذریعہ ہے۔ انشقاق میں ایک بھاری نیوکلیسوں، جیسے یورینیم
،ایک نیوٹران کے ذریعے ہلکے میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں بھی آخری کمیت، ابتدائی کمیت سے کم ہوتی ہے اور یہ کمیتی نقص (یا فرق) توانائی میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس توانائی کا استعمال جہاں قابو یافتہ نیوکلیائی انشقاق تعامل پر مبنی نیوکلیر قوت پلانٹوں کے ذریعے برقی توانائی فراہم کرانے میں کیا جاتا ہے۔ وہیں دوسری جانب اسے ناقابو یافتہ نیوکلیر انشقاق تعامل پر مبنی تباہ کن نیوکلیر ہتھیاروں کے بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صحیح معنی میں کسی کیمیائی تعامل میں رہا شدہ توانائی ΔEکوکمیتی خرابی (نقص) Δm = ΔE/c2 سے بھی وابستہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی کیمیائی تعامل میں کمیت نقص نیوکلیر تعامل میں ہونے والے کمیت نقص سے بہت کم ہوتاہے۔ جدول 6.3 میں الگ الگ واقعات اور مظاہر سے متعلق کل توانائیوں کو درج فہرست کیاگیا ہے۔
مثال 6.10 جدول 6.1 سے 6.3 تک کی جانچ کیجیے اور بتائیے (a) ڈی۔این۔اے۔ کے ایک بند کو توڑنے کے لیے درکار توانائی الیکٹران وولٹ میں؛ (b) ہوا کے ایک مالیکول کی حرکی توانائی(1021J) الیکٹران وولٹ میں، (c)کسی بالغ انسان کی یومیہ خوراک کلوکیلوری میں۔
جواب (a) ڈی۔این۔اے کے ایک بند کو توڑنے کے لیے درکار توانائی ہے:

جہاں علامت ’≅ ‘ سے مرا د تقریباًسے ہے۔
غور کیجیے (100 ملی الیکٹران وولٹ)0.1eV = 100 meV
(b) ہوائی سالمہ کی حرکی توانائی ہے:

جوکہ 6.2 meV کے برابر ہے۔
(c) بالغ انسان کی اوسط یومیہ خوراک کا صرف ہے:

یہاں ہم اخبارات ورسائل کے ذریعے پیش کیے جانے والے غلط العام تصورات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ وہ غذا کی مقدار کا کیلوری میں ذکر کرتے ہیں اور ہمیں 2400 کیلوری سے کم خوراک لینے کی تجویز دیتے ہیں۔ جب کہ انہیں کہنا چاہیے کہ وہ کلو کیلوری (kcal) ہے نہ کہ کیلوری۔ 2400 کیلوری ہردن استعمال کرنے والا شخص جلد ہی بھوکوں مرجائے گا! یا 1 غذائی کیلوری عام طورپر 1کلوکیلوری ہی ہے۔
6.10.6 بقائے توانائی کا اصول (The Principle of
Conservation of Energy)
ہم نے یہ دیکھا ہے کہ کسی بھی نظام کی میکانیکی توانائی برقرار رہتی ہے اگر اس پر عمل کرنے والی قوتیں برقراری ہیں۔ اگرکچھ عمل پذیر قوتیں غیر برقراری ہیں تو میکانیکی توانائی کا حصہ دوسری شکلوں جیسے حرارت، روشنی اور آواز میں بدل جاتا ہے۔ تاہم توانائی کی سبھی شکلوں پر توجہ دینے پر ہم پاتے ہیں کہ ایک جدا نظام کی کل توانائی تبدیل نہیں ہوتی۔ توانائی ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے لیکن کسی علاحدہ نظام کی کل توانائی مستقل رہتی ہے۔ توانائی نہ تو پیدا کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ضائع۔
چونکہ پوری کائنات کو ایک جدا نظام کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے لہٰذا کائنات کی کل توانائی مستقل ہے۔ اگر کائنات کے ایک حصے میں توانائی کا نقصان ہوتا ہے تو دوسرے حصے میں یکساں مقدار میں توانائی کا اضافہ ہونا چاہیے۔
توانائی کی بقا کے اصول کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، اس اصول کی خلاف ورزی کی کوئی صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ توانائی کی بقا اور مختلف شکلوں میں توانائی کی منتقلی کے تصور طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات وغیرہ سائنس کی مختلف شاخوں کو باہمی طورپر وابستہ کردیتے ہیں۔ یہ سائنسی دریافت یا جستجو میں یکجائی اور استحکام کے عنصر فراہم کرتا ہے۔ انجینئرنگ کے لحاظ سے سبھی برقی، مواصلاتی اور میکانکی آلات، توانائی تبدیلی کی کسی نہ کسی شکل پر انحصار کرتے ہیں۔
6.11 طاقت (POWER)
اکثر صرف یہ جاننا ہی کافی نہیں ہے کہ کسی جسم یا شے پر کتناکام کیا گیا بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ کام کسی شرح سے کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف کسی عمارت کی چار منزلوں تک چڑھ ہی نہیں جاتا ہے بلکہ وہ ان پر تیزی سے چڑھ جاتا ہے توہم کہتے ہیں کہ وہ شخص جسمانی طورپر صحت مند ہے۔ لہٰذا طاقت کی تعریف اس شرح وقت سے کرتے ہیں جس سے کام کیا گیا یا توانائی منتقل ہوئی۔
کسی قوت کی اوسط طاقت اس قوت کے ذریعے کیے گئے کام W اور اس میں لگے وقت t کے تناسب سے معین کرتے ہیں۔لہٰذا:
![]()
ساعتی طاقت کی تعریف اوسط طاقت کی انتہائی قدر کے طورپر کرتے ہیں جب کہ وقت صفرکے نزدیک تر ہو۔
![]()
جہاں نقل dr میں قوت F کے ذریعے کیا گیا کام dW = F.dr ہوتا ہے۔ ساعتی طاقت کو درج ذیل طورپربھی ظاہر کرسکتے ہیں،

جہاں v ساعتی رفتار ہے جب کہ قوت F ہے۔
کام اور توانائی کی طرح طاقت بھی ایک عددیہ مقدار ہے۔ اس کی SI اکائی واٹ (W) اور ابعاد [ML2T-3] ہیں۔ 1W کی مقدار 1J s-1 کے برابر ہوتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے بھاپ انجن کے موجد ین میں سے ایک، جیمس واٹ کے نام پرطاقت کی اکائی واٹ (W) رکھی گئی ہے۔
طاقت کی بہت پرانی اکائی ہارس پاور (hp) ہے۔
1hp=746W
یہ اکائی آج بھی کار، موٹر بائیک وغیرہ کے آوٹ پٹ (برآمد) صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
جب ہم برقی سامان جیسے بلب، ہیٹر اور ریفریجریٹر وغیرہ خریدتے ہیں تو ہمیں اکائی واٹ سے بھی سامنا پڑتا ہے۔ ایک 100 واٹ کا بلب 10گھنٹے میں ایک کلو واٹ گھنٹہ برقی توانائی کا اسراف کرتا ہے۔
یعنی 100 (واٹ) + 10 (گھنٹے)
=1000 واٹ گھنٹہ
=1 کلوواٹ گھنٹہ (kWh)

ہمارے بجلی کے بِلوں میں توانائی کا خرچ kWhکی اکائی میں دکھایا جاتا ہے۔غور کریں کہ kWhتوانائی کی اکائی ہے نہ کہ طاقت کی۔
مثال 6.11 کوئی لفٹ جوزیادہ سے زیادہ کمیت (لفٹ + سواری) 1800 kg اٹھاسکتی ہے، اوپر کی طرف 2ms-1 کی مستقل چال سے متحرک ہے۔ 4000N کی رگڑ قوت اس کی حرکت کی مخالفت کرتی ہے۔ لفٹ کو موٹر کے ذریعے فراہم کی گئی طاقت کی تحسیب واٹ اور ہارس پاور میں کیجیے۔
جواب لفٹ نیچے کی جانب لگنے والی قوت
![]()
موٹر کے ذریعے کم سے کم اتنی طاقت فراہم کی جانی چاہیے جو اس قوت کو متوازن رکرسکے۔
![]()
6.12 تصادمات (COLLISIONS)
طبیعیات میں ہم حرکت (مقام میں تبدیلی) کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہم ایسی طبیعی مقداروں کو دریافت کرتے ہیں جو ایک طبیعی عمل میں تبدیل نہیں ہوتی ہیں۔ توانائی اور تحرک کی بقا کے قانون اس کی اچھی مثالیں ہیں۔ اس حصّہ میں ہم ان قوانین کو ان اکثر سامنے آنے والے مظاہر میں، استعمال کریں گے جنھیں تصادم(collision)کہتے ہیں۔ مختلف کھیلوں جیسے بلیرڈ، ماربل یا کیرم وغیرہ میں تصادم ایک ضروری عنصر ہے۔ اب ہم کسی دو کمیتوں کے مثالی تصادم کا مطالعہ کریں گے۔
مان لیجیے کہ دو کمیتیں m1 اور m2 ہیں جس میں ذرہ m1 چالv1i سے متحرک ہے جہاں نیچے لکھا ہوا ‘i’ ابتدائی چال کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری کمیت m2 کو ہم حالتِ سکون میں فرض کرسکتے ہیں۔ اس انتخاب سے کسی بھی عام ضابطہ کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اس صورت میں کمیت m1 دوسری کمیت m2 سے جو سکون کی حالت میں ہے تصادم کرتا ہے۔ اس کوشکل 6.10 میں دکھایاگیا ہے۔

شکل 6.10 ایک متحرک کمیت m1 کا کمیت m2 (جوحالتِ– سکون میں ہے) سے تصادم
تصادم کے بعد کمیت m1 اور m2 مختلف سمتوں میں حرکت کرتے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ کمیتوں اور ان کے معیارِحرکت اور حوالیہ فریم کے لحاظ سے زاویوں میں ایک متعین رشتہ ہے ۔
6.12.1 لچک دار اور غیر لچک دار تصادمات (Elastic and
Inelastic Collisions)
سبھی تصادموں میں نظام کے کل خطیم معیارِحرکت کی بقا ہے یعنی نظام کا ابتدائی معیارِحرکت اس کے آخری معیارِحرکت کے برابر ہوتا ہے۔ اسے درج ذیل طورپر ثابت کیا جاسکتا ہے۔ جب دو جسم (شے) تصادم کرتے ہیں تو تصادم وقت tΔمیں عمل پذیر باہمی جھٹکا لگانے والی قوتیں(Impulsive)، ان کے باہمی معیارِحرکت میں تبدیلی لانے کا باعث ہوتی ہیں۔ یعنی

جہاں F12 دوسرے جسم کے ذریعے پہلے جسم پر لگائی گئی قوت ہے۔ اسی طرح F21 پہلے جسم کے ذریعے دوسرے جسم پر لگائی گئی قوت ہے۔ نیوٹن کی حرکت کے تیسرے قانون کے مطابق F12 = –F21 ہوتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ
![]()
گوکہ قوتیں تصادم وقت tΔکے دوران پیچیدہ طورپر تبدیل ہوتی ہیں پھر بھی درج بالا نتیجہ صحیح ہے۔ چونکہ نیوٹن کا تیسرا قانون ہر ایک ساعت پر صحیح ہے لہٰذا پہلے جسم پر لگا کل جھٹکا دوسرے جسم پرلگے جھٹکے کے برابراور مخالف سمت میں ہوگا۔
دوسری طرف نظام کی کل حرکی توانائی کی لازمی طورپر بقا نہیں ہوتی ہے۔ تصادم کے دوران ٹکر اور تخریب سے حرارت اور آواز پیدا ہوسکتی ہے۔ ابتدائی حرکی توانائی کا کچھ حصہ توانائی کی دوسری شکلوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔’ دبی ہوئی اسپرنگ‘ کی اصطلاح میں تصادم کے دوران تخریب کی تصویر کشی ایک مفید طریقہ ہے۔ اگر درج بالا دونوں کمیتوں کو جوڑنے والی اسپرنگ بغیر کسی توانائی نقصان کے اپنی اصل شکل حاصل کرلیتی ہے تو اجسام کی ابتدائی حرکی توانائی ان کی آخری حرکی توانائی کے برابر ہوگی۔لیکن تصادم وقت Dt کے دوران حرکی توانائی مستقلہ نہیں رہتی۔ اس طرح کے تصادم کو لچکدار تصادم (elastic collision)کہتے ہیں۔ دوسری طرف اگر تخریب دور نہیں ہوتی ہے اور تصادم کے بعددونوں اجسام حرکت کریں تو اس طرح کے تصادم کو مکمل طورپر غیر لچکدار تصادم (completely inelastic collision)کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام طورپر درمیانی حالت دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب تخریب جزوی طورپر کم ہوجاتی ہے اور ابتدائی حرکی توانائی کا جزوی طورپر نقصان ہوجاتا ہے تو اسے مناسب طورپر غیر لچکدار تصادم (inelastic collision) کہتے ہیں۔
ہیڈ آن تصادم پر ایک تجربہ
افقی سطح پر تصادم کے تجربہ میں ہم تین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ رگڑکی وجہ سے جسم یکساں رفتار میں نہیں ہوتا۔دوسرا یہ کہ اگر دومختلف سائز کے جسم آپس میں ٹکراتے ہیں تو ہیڈ آن تصادم کے لیے اسے ترتیب دینا بہت مشکل ہوتا ہے جب تک کہ ان کے کمیت کے مراکز سطح سے یکساں اونچائی پر نہ ہوں۔تیسرا یہ کہ تصادم سے پہلے اور بعد میں دونوں اجسام کی رفتار کی جانکاری کافی مشکل ہوتی ہے۔
اسی تجربہ کو عمودی سمت میں کرنے سے یہ تینوں مشکلات آسانی سے حل ہوجاتی ہیں۔ دوگیندیں لیں،جس میں ایک وزنی ہو (باسکٹ بال، فٹ بال، والی بال) اور دوسری ہلکی ہو(ٹینس بال، ربربال، ٹیبل ٹینس گیند)۔پہلے وزنی بال لیں اور کچھ اونچائی (مانا 1 m)سے گرائیں اور سطح سے کتنا اوپر اٹھتی ہے اسے نوٹ کرلیں۔اس سے سطح کے قریب ٹکرانے سے فوراً پہلے اور فوراً بعد رفتاریں معلوم ہوجائیں گی۔ (استعمال کریںV2=2gh)۔اس طرح بحالی مستقلہ (coefficient of restritution)کا پتہ چل جائے گا۔
اب ہم ایک بڑی اور چھوٹی گیند اپنے ہاتھ میں ایک اوپر اور دوسری نیچے رکھتے ہیں۔وزنی گیند نیچے اور ہلکی گیند اوپر ہے۔دونوں کو ایک ساتھ اس طرح گراتے ہیں کہ دونوں ساتھ رہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ وزنی گیند جسے علاحدہ گرایا گیا تھا اس کے بالمقابل کم اونچائی تک جاتا ہے جبکہ ہلکی گیند تقریباً 3mتک اوپر چلی جاتی ہے۔ تھوڑی سی مشق سے آپ گیندوں کو مناسب طورپر ہاتھ میں پکڑسکیں گے، تاکہ مقابلتاً ہلکی گیند ٹکرانے کے بعد عمودی سمت میں اوپرآئے اور دائیں بائیں نہ جائے۔یہی ہیڈآن تصادم کی مثال ہے۔

اس طرح ہم اچھے نتیجہ کے لیے اور بہتر گیندوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ان کی کمیت ہم معیاری ترازو سے معلوم کرسکتے ہیں۔اب اسے ہم آپ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ آپ کس طرح گیند کی ابتدائی اور آخری رفتار معلوم کرتے ہیں۔
6.12.2 یک جہتی تصادمات (Collisions in One
Dimenion)
سب سے پہلے ہم یک بعد میں مکمل غیر لچکدار تصادم کی حالت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اب، شکل 9.10میں :
![]()
[معیارِ حرکت بقا کے قانون سے] ![]()
![]()
تصادم میں حرکی توانائی کا نقصان
![]()
(مساوات (6.23) کے ذریعے)

جو کہ توقع کے مطابق ایک مثبت مقدار ہے۔
آئیے، اب لچکدار تصادم کی حالت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ درج بالا علمی اصطلاحات کے استعمال کے ساتھ
لینے پر، خطی معیارِحرکت اور حرکی توانائی کی بقا کی مساواتیں درج ذیل ہیں۔

مساوات (6.24) اور مساوات (6.25) سے ہم حاصل کرتے ہیں،
![]()
یا

اسے مساوات (6.24) میں رکھنے پر ہم حاصل کرتے ہیں،
(6.27) 
(6.28) اور 
اس طرحـ ’نا معلوم‘ مقداریں
،’ معلوم ‘مقدار وں (m1, m2, v1i) کی اصطلاحات میں حاصل ہوگئی ہیں۔ آئیے، اب دیکھتے ہیں کہ درج بالا تجزیے سے خصوصی حالات میں دلچسپ نتیجے حاصل ہوتے ہیں۔
حالتI : اگر دونوں کمیتیں مساوی ہیں یعنی m1 = m2 تب
![]()
یعنی پہلی کمیت سکون کی حالت میں آجاتی ہے اور تصادم کے بعد دوسری کمیت، پہلی کمیت (جو پہلے حالتِ سکون میں تھی) کی ابتدائی رفتار حاصل کرلیتی ہے۔
حالت II : اگر ایک جسم کی کمیت دوسرے جسم کی کمیت سے بہت زیادہ ہے، یعنی m2 >> m1؛ تب
![]()
بھاری کمیت کی حالت ویسی ہی رہتی ہے جب کہ ہلکی کمیت کی رفتار کی سمت پلٹ جاتی ہے۔
مثال 6.12 نیوٹران کی سست رفتاری: کسی نیوکلیرری ایکٹر میں تیز چال کے نیوٹران (خصوصی رفتار107ms-1) کو 103ms-1 کی رفتار تک سست کردی جانی چاہیے تاکہ نیوٹران کا یورینیم کے ہم جا
سے بین عمل کرنے کا احتمال زیادہ ہوجائے اورنیوکلیرانشقاق تعامل (Nuclear Fission Reaction) ہوجائے۔ثابت کیجیے کہ نیوٹران ایک ہلکے نیوکلیس جیسے ڈیو ٹیریم یا کاربن جس کی کمیت نیوٹران کی کمیت کا محض کچھ گنا (تقریباً برابر) ہے،سے لچکدار تصادم کرنے میں اپنی زیادہ ترحرکی توانائی کا نقصان کردیتا ہے۔ ایسی اشیاکو، جیسے بھاری پانی (D2O) یا گریفایٹ، جو نیوٹرانوں کی حرکت کو سست کردیتے ہیں ’ماڈریٹر‘ کہتے ہیں۔
جواب نیوٹران کی ابتدائی حرکی توانائی ہے
![]()
جب کہ مساوات (6.27) سے اس کی آخری حرکی توانائی ہے،

کسری حرکی توانائی کا نقصان ہے،

جب کہ ماڈریٹرنیوکلیانوں کی حرکی توانائی K2f /K1l کے ذریعے کسری حرکی توانائی میں اضافہ درج ذیل مساوات سے حاصل ہوتاہے:
(لچکدارتصادم)

درج بالا نتیجے کی مساوات (6.28) کے ذریعے بھی توثیق کی جاسکتی ہے۔
ڈیوٹیریم کے لیے، m2 = 2 m1 اور ہم حاصل کرتے ہیں
ہے۔ لہٰذا نیوٹران کی تقریباً %90 توانائی ڈیوٹیریم کو منتقل ہوجاتی ہے۔ کاربن کے لیے
اور
ہے۔ حالانکہ عملاً سیدھا تصادم شاذونادر ہونے کے سبب یہ عدد کافی کم ہوتا ہے۔
اگر دونوں اجسام کی ابتدائی و آخری رفتار ایک ہی خط مستقیم میں ہو تو اسے ہم یک ابعادی تصادم یا ہیڈ آن تصادم کہتے ہیں۔چھوٹے کرّوی نما جسم میں جب جسم 1 دوسرے جسم 2جو حالت سکون میں ہے، کے مرکز سے گذرے تبھی یہ تصادم ممکن ہوتا ہے۔عام طور پر تصادم دوابعادی ہوتا ہے جب ابتدائی رفتار اور آخری رفتار ایک ہی مستوی میں ہوتی ہیں۔
6.12.3دو جہتی تصادمات (Collisions in Two
Dimensions)
شکل 6.10کمیت m2 سے جو حالتِ سکون میں ہے، متحرک کمیت m1 کے تصادم کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اس طرح کے تصادم میں خطی معیار حرکت برقرار رہتا ہے۔ چونکہ معیار حرکت ایک سمتیہ مقدار ہے، لہٰذا یہ تین سمتوں {x, y, z} کے لیے تین مساوات کا اظہار کرتا ہے۔ تصادم کے بعد m1 اور m2 کی آخری رفتاروں کی سمتوں کی بنیادپر مستوی کا تعین کیجیے اور مان لیجیے کہ یہ x-y مستوی ہے۔ خطی معیار حرکت کے z جزو کی برقراری یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکمل تصادم x-y مستوی میں ہے۔ -x جز اور y -جز کی مساواتیں درج ذیل ہیں،

زیادہ ترحالتوں میں یہ ماناجاتاہے کہ{m1, m2,v1i}، معلوم ہیں۔ لہٰذا تصادم کے بعد ہمیں چار نامعلوم مقداریں
حاصل ہوتی ہیں جب کہ ہمارے پاس محض دو مساواتیں ہیں۔ اگر
ہم پھر یک جہتی تصادم کے لیے مساوات (6.24) حاصل کرلیتے ہیں۔
اب اگر تصادم لچکدار ہے تو
![]()
یہ ہمیں مساوات (6.29)اور(6.30)کے علاوہ ایک اور مساوات دیتا ہے۔ لیکن ابھی بھی ہمارے پاس سبھی نامعلوم مقداروں کا پتہ لگانے کے لیے ایک مساوات کم ہے۔ لہٰذا مسئلہ کو حل کرنے کے لیے، چار نا معلوم قدروں میں سے کم سے کم ایک اور قدر(فرض کیجیے θ)معلوم ہونی چاہیے۔ مثال کے لیے زاویہ θ1 کا تعین ایک شناخت کار(detector)کو زاویائی طرز میں x –محور سے –yمحور تک گھما کر کیا جاسکتا ہے۔ دئیے گئے {m1, m2, V1i, θ1} کی معلوم قدروں سے ہم مساوات (6.31) (6.29)– کا استعمال کرکے
کا تعین کرسکتے ہیں۔
مثال 6.13 مان لیجیے کہ شکل 6.10 میں دکھایا گیا تصادم بلیرڈ کی یکساں کمیت (m1 = m2) والی دو گیندوں کے درمیان ہوا ہے جس میں پہلی گیند کیو (ڈنڈا) کہلاتی ہے اور دوسری گیند ہدف کہلاتی ہے۔ کھلاڑی ہدف گیند کو θ2 = 37º کے زاویے پر کونے میں لگی تھیلی میں گرانا چاہتا ہے۔ جو کہ37o θ کے زاویے پر ہے یہاں مان لیجیے کہ تصادم لچکدار ہے اور رگڑ اور گردشی حرکت اہم نہیں ہیں۔ زاویہ θ1 معلوم کیجیے۔
جواب چونکہ کمیت مساوی ہیں لہٰذامعیارِحرکت کی بقا مطابق

![]()
(6.32) ![]()
چونکہ تصادم لچکدار ہے اور کمیت m1 = m2 ہے، حرکی بقائے توانائی کی مساوات (6.31) سے ہمیں حاصل ہوتاہے،
(6.33) ![]()
درج بالا دونوں مساوات (6.32) اور (6.33) کاموازنہ کرنے پرہمیں حاصل ہوتاہے

اس طرح ![]()
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب برابرکمیت کے دو اجسام جن میں سے ایک حالتِ سکون میں ہے، سرسری طورپر(glancing) لچکدار تصادم کرتے ہیں توتصادم کے بعد دونوں ایک دوسرے سے زاویہ قائمہ بناتے ہوئے حرکت کریں گے۔
اگرہم یہ مان لیں کہ کمیتیں کرّوی ہیں اور ان کی سطحیں چکنی ہیں اور تصادم تب ہی ہوتاہے جب دونوں اجسام ایک دوسرے کے تماس میں آتے ہیں، تو معاملہ کافی آسان ہوجاتا ہے۔ماربل، کیرم اوربلّیرڈکھیل میں یہی ہوتا ہے۔
ہم روزمرّہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ تصادم اُسی وقت عمل میں آتے ہیں جب دواجسام میں آپس میں تماس(contact)میں ہوتے ہیں۔لیکن اگر ہم ایک دم دار تارہ کی مثال لیں جو کافی دوری سے سورج کی طرف آتا ہے یاa–ذرّہ جو نیوکلیس کی طرف آکر کسی دوسری سمت میں چلا جاتا ہے۔یہاں ہمیں ایسی قوتوں کی بات کرنی ہوگی جو دور سے ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔اس طرح کے واقعہ کو انتشار (Scattering) کہتے ہیں۔دو ذرّات کی تبدیل شدہ سمت اور رفتار، ان کی ابتدائی رفتاروں، تصادم کی قسم، ان کی کمیتوں، شکلوں اور سائز وں پر منحصر ہوتی ہیں۔
خلاصہ
1۔ کام۔ توانائی تھیوریم کے مطابق کسی جسم کی حرکی توانائی میں تبدیلی اس پر لگائی گئی کل قوت کے ذریعے کیا گیا کام ہے۔
Kf _ Ki = Wnet
2۔ کوئی قوت برقراری کہلاتی ہے اگر (a) اس کے ذریعے کسی جسم پر کیا گیا کام راہ پر منحصر نہ ہوکر صرف سرے کے نقاط {xi xj} پر منحصر ہوتا ہے، یا (b) قوت کے ذریعے کیا گیا کام صفرہوتا ہے، جب جسم اختیاری طورپرمنتخب بند راہ پر اس طرح حرکت کرتا ہے کہ اپنی ابتدائی حالت پر واپس آجاتا ہے۔
3۔ یک بعد میں برقراری قوت کے لیے قوۃ توانائی تفاعل (V(x کی تعریف اس طرح کرسکتے ہیں،

یا

4۔ میکانیکی توانائی کی بقا کے اصول کے مطابق، اگر کسی جسم پر صرف برقراری قوتیں کام کرتی ہیں تو جسم کی کل میکانیکی توانائی مستقل رہتی ہے۔
5۔ m کمیت کے کسی ذرے کی زمین کی سطح سے x اونچائی پر مادی کشش توانائی بالقوۃ V(x) = mg x ہوتی ہے، جہاں اونچائی کے ساتھ g کی قدر میں تبدیلی قابل نظر انداز ہے۔
6۔ k قوت مستقلہ والے اسپرنگ، جس میں کھنچاؤ x ہے، کی لچکدار توانائی بالقوۃ ہوتی ہے،
![]()
![]()
۔دوسمتیوں کا عددیہ حاصلِ ضرب کو ایک سمتیہ کی عددی قدر اور دوسرے سمتیہ کے، پہلے سمتیہ کی سمت میں جز کے حاصلِ ضرب کے بہ طور بھی سمجھا جاسکتا ہے۔اکائی سمتیوں کے لیے
![]()
غیرسمتی (عددیہ) حاصلِ ضرب تقلیبی اور تقسیمی قانونوں کی پابندی کرتا ہے
| طبیعی مقدار | علامت | ابعاد | اکائی | تبصرہ |
| کام | W | (M L2 T-2) | جول(J) | W=F.d |
| حرکی توانائی | K | (M L2 T-2) | جول(J) | |
| توانائی بالقوۃ | V(x) | (M L2 T-2) | جول(J) | |
| میکانیکی توانائی | E | (M L2 T-2) | جول(J) | E=K+V |
| اسپرنگ مستقلہ | k | (M T-2) | نیوٹن(N m-1) | ![]() |
| طاقت | P | (M L2 T-3) | واٹ(W) | ![]() |

قابل غور نکات
1۔ جزو جملہ ’کیے گئے کام کا شمار کیجیے‘ نا مکمل ہے۔ ہمیں خصوصی قوت یا قوتوں کے مجموعے کے ذریعے کسی جسم کے متعین نقل میں کیے گئے کام کو واضح طورپر بیان کرنا چاہیے (یا حوالہ دیتے ہوئے صاف اشارہ دینا چاہیے)۔
2۔ کیا گیا کام ایک عددیہ مقدار ہے۔ یہ طبیعی مقدار مثبت یا منفی ہوسکتی ہے، جب کہ کمیت اور حرکی توانائی مثبت عددیہ مقداریں ہیں۔ کسی جسم پر رگڑ یا مزوجی قوت کے ذریعے کیا گیا کام منفی ہوتا ہے۔
3۔ نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق، دو اجسام کے درمیان باہمی طور پر ایک دوسرے پر لگائی قوتوں کی جمع صفر ہوتی ہے۔
![]()
لیکن یہ لازمی نہیں ہے کہ دونوں قوتوں کے ذریعے کیے گئے کام ایک دوسری کی تنسیخ کردیں۔یعنی
![]()
4۔ لیکن یہ کبھی صحیح بھی ہوسکتا ہے۔
کبھی کبھی ایک قوت کے ذریعے کیے گئے کام کی تحسیب کرنا اس وقت بھی ممکن ہوتا ہے جب ہمیں قوتوں کی درست طبع نہیں بھی معلوم ہو۔یہ مثال 6.1 سے واضح ہوجاتا ہے جہاں ایسی صورت میں کام–توانائی مسئلہ استعمال کیا گیا ہے۔
5۔ کام– توانائی تھیوریم نیوٹن کے دوسرے قانون کے غیر تابع نہیں ہے ۔کام توانائی مسئلہ کو، نیوٹن کے دوسرے قانون کی عددیہ شکل میں سمجھاجاسکتا ہے۔ میکانکی توانائی کی بقا کے اصول کو، برقراری قوتوں کے لیے کام– توانائی مسئلہ کے ایک اہم نتیجے کی شکل میں سمجھا جاسکتا ہے۔
6۔ کام– توانائی تھیوریم سبھی جمودی فریموں(inertial frames) میں لاگو ہوتی ہے۔ اسے غیرجمودی فریموں (non inertial frames)میں بھی لاگو کیا جاسکتا ہے اگر زیر غور جسم پر لگائی گئی کل قوتوں کے شمار میں بناوٹی قوت کے اثر کو بھی شامل کرلیا جائے۔
7۔ برقراری قوتوں کے تحت کسی جسم کی توانائی بالقوۃ ہمیشہ کسی مستقلہ تک غیر متعین رہتی ہے۔ مثال کے لیے، کسی جسم کی توانائی بالقوۃ کس نقطہ پر صفر لینی ہے، یہ صرف اختیاری طورپر چنے گئے نقطے پر منحصر ہوتا ہے۔ جیسے مادی کشش توانائی بالقوۃ mgh کے لیے حالت میں صفر نقطہ زمین کی سطح پر لیا گیا ہے۔ اسپرنگ کے لیے جس کی توانائی بالقوۃ
ہے، صفر نقطہ، اہتزازی کمیت کے مقامِ توازن کولیاگیاہے۔
8۔ میکانیات میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک قوت سے وابستہ ایک بالقوۃ توانائی ہو۔ مثال کے لیے، رگڑ قوت کے ذریعے کسی بند راہ میں کیا گیا کام صفر نہیں ہے اور نہ ہی رگڑ قوت سے توانائی بالقوۃ کو منسلک کیا جاسکتا ہے۔
9۔ کسی تصادم کے دوران: (a) تصادم کے ہر ایک لمحے میں جسم کا کل خطی معیار حرکت برقرار رہتا ہے، (b) حرکی توانائی کی بقا (خواہ تصادم لچکدار ہی ہو) تصادم کے ختم ہونے کے بعد ہی لاگو ہوتی ہے اور تصادم کی ہر ایک ساعت کے لیے لاگو نہیں ہوتا ہے۔ درحقیقت تصادم کرنے والے دونوں اجسام تخریبی ہوجاتے ہیں اورہوسکتا ہے ساعت بھر کے لیے ایک دوسرے کی نسبت سکون کی حالت میں ہوں۔
مشق
6.1 کسی شے پر کسی قوت کے ذریعے کیے گئے کام کی علامت سمجھنا اہم ہے۔ سوچ کر بتائیے کہ درج ذیل مقداریں مثبت ہیں یا منفی:
(a) کسی شخص کے ذریعے کسی کنویں میں سے بالٹی کو رسی کے ذریعے باہر نکالنے میں کیا گیا کام،
(b) درج بالا حالت میں ارضی کشش قوت کے ذریعے کیا گیا کام،
(c) کسی مائل مستوی پر پھسلتی ہوئی کسی شے پر رگڑ کے ذریعے کیا گیا کام،
(d) کسی کھردری افقی سطح پر یکساں رفتار سے متحرک کسی شے پر لگائی گئی قوت کے ذریعے کیا گیا کام،
(e) کسی مرتعش پنڈولم کو سکون کی حالت میں لانے کے لیے ہوا کی مزاحم قوت کے ذریعے کیا گیا کام،


شکل6.11
6.2 2kg کمیت کی کوئی شے جو شروع میں سکونی حالت میں ہے ، 7 N کی کسی افقی قوت کے اثر سے ایک میز پر حرکت کرتی ہے۔ میز کی حرکی رگڑ کا ضربیہ 0.1 ہے۔ درج ذیل کا شمار کیجیے اور اپنے نتائج کی تشریح کیجیے:
(a) لگائی گئی قوت کے ذریعے 10 s میں کیا گیا کام،
(b) رگڑ کے ذریعے 10 s میں کیا گیا کام،
(c) شے پر کل قوت کے ذریعے 10 s میں کیا گیا کام،
(d) شے کی حرکی توانائی میں 10 s میں تبدیلی،
اپنے جوابات کی وضاحت کیجیے۔
6.3 شکل 6.11 میں کچھ یک جہتی توانائی بالقوۃ تفاعلات کی مثالیں دی گئی ہیں۔ ذرے کی کل توانائی عمودی محور پر کراس کے ذریعے ظاہر کی گئی ہے۔ ہر ایک حالت میں، ایسے خطوں کی نشاندہی کیجیے، اگر کوئی ہیں تو، جن میں دی گئی توانائی کے لیے ذرے کو نہیں پایا جاسکتا۔ اس کے علاوہ ذرے کی اس کل کم ترین توانائی کی بھی نشاندہی کیجیے جو ذرّہ میں ہوگی ہی کچھ ایسے طبیعی حوالوں کے بارے میں بھی غور کیجیے جن کے لیے یہ توانائی بالقوۃ کی شکلیں موزوں ہوں۔

6.4 ایک خطی سادہ ہارمونک حرکت (linear simple harmonic motion)کررہے ذرے کا توانائی بالقوۃ تفاعل V(x) = 1—2 k x2 ہے جہاں Kاہتزاز کار کا قوت مستقلہ ہے۔ k = 0.5 N m-1 کے لیے V(x)اور x کے درمیان گراف شکل 6.12 میں دکھائی گئی ہے۔ یہ دکھائیے کہ اس قوۃ کے تحت متحرک کل 1J توانائی والے ذرے کو ضرور ہی’واپس آنا‘ چاہیے جب یہ x = + 2 پر پہنچتاہے۔
6.5 درج ذیل کا جواب دیجیے:

(a) کسی راکٹ کا بیرونی غلاف اڑان کے دوران رگڑ کے سبب جل جاتا ہے۔ جلنے کے لیے ضروری حرارتی توانائی کس کی توانائی سے حاصل ہوتی ہے؟ راکٹ کی یا ماحول کی؟
(b) دم دار سیارے سورج کے چاروں طرف بہت زیادہ بیضوی مداروں میں گھومتے ہیں۔ عمومی طورپر دم دار ستارہ (comet) پر سورج کی ارضی کشش قوت دم دار سیارے کی رفتارکے عمودی نہیں ہوتی۔ پھر بھی دم دار سیارے کے پورے مدار میں مادی کشش قوت کے ذریعے کیا گیا کام صفر ہوتا ہے۔ کیوں؟
(c) زمین کے چاروں طرف بہت ہی باریک کرہ ہوا میں گھومتے ہوئے کسی مصنوعی سیارے کی توانائی دھیرے دھیرے کرہ ہوا کی مزاحمت (چاہے وہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو) کے خلاف کام کرنے کے سبب کم ہوتی جاتی ہے پھر بھی جیسے جیسے مصنوعی سیارہ زمین کے قریب آتا ہے تو اس کی چال میں لگاتار اضافہ کیوں ہوتا ہے؟
(d) شکل 6.13(i) میں ایک شخص اپنے ہاتھوں میں 15kg کی کمیت لے کر 2 m چلتا ہے۔ شکل 6.13(ii) میں وہ اتنی ہی دوری اپنے پیچھے رسی کو کھینچتے ہوئے چلتا ہے۔ رسی گھرنی پر چڑھی ہوئی ہے اور اس کے دوسرے سرے پر 15kg کی کمیت لٹکا ہوا ہے۔ تحسیب کیجیے کہ کس حالت میں کیا گیا کام زیادہ ہے؟
6.6 صحیح متبادل کے نیچے لائن کھینچیے :
(a) جب کوئی برقراری قوت کسی شے پر مثبت کام کرتی ہے تو شے کی توانائی بالقوۃ بڑھتی ہے /گھٹتی ہے/غیر تبدیل رہتی ہے۔
(b) کسی شے کے ذریعے رگڑ کے خلاف کیے گئے کام کا نتیجہ ہمیشہ اس کی حرکی /بالقوۃ توانائی میں نقصان ہوتا ہے۔
(c) ذرّات کی کثیرتعداد پر مشتمل نظام کے کُل معیارِ حرکت کی شرحِ تبدیلی(Rate of change)نظام پر لگ رہی بیرونی قوت/ اندرونی قوتوں کے جوڑ کے متناسب ہوتی ہے۔
(d) دو اجسام کے غیر لچکدار تصادم میں وہ مقداریں جو تصادم کے بعد نہیں بدلتی ہیں؛ نظام کی کل حرکی توانائی /کل خطی معیار حرکت/کل توانائی ہیں۔
6.7 یہ بتائیے کہ درج ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط۔ اپنے جواب کے لیے سبب بھی بتائیے۔
(a) دو اجسام کے لچکدار تصادم میں ہر ایک جسم کے معیارِ حرکت اوراس کی توانائی دونوںکی بقا ہوتی ہے۔
(b) کسی جسم پر چاہے کوئی بھی اندرونی اور بیرونی قوتیں کیوں نہ لگ رہی ہوں، نظام کی کل توانائی کی ہمیشہ بقاہوتی ہے۔
(c) کسی بند لوپ میں کسی جسم کی حرکت میں کیا گیا کام ہرقدرتی قوت کے لیے صفر ہوتا ہے۔
(d) کسی غیر لچکدار تصادم میں کسی نظام کی آخری حرکی توانائی، ابتدائی حرکی توانائی سے ہمیشہ کم ہوتی ہے۔
6.8 درج ذیل کا جواب مع اسباب کے دیجیے :
(a) دو بلیرڈگیندوں کے لچکدار تصادم میں، کیا گیندوں کے تصادم کی قلیل مدت میں (جب وہ تماس میں ہوتی ہیں) کل حرکی توانائی
برقرار رہتی ہے؟
(b) دو گیندوں کے لچکدار تصادم کی قلیل مدت میں کل خطی معیارِحرکت(total linear momentum) برقرار رہتاہے۔
(c) کسی غیر لچکدار تصادم کے لیے سوال (a) اور (b) کے لیے آپ کے جواب کیا ہیں؟
(d) اگر دوبلیرڈ گیندوں کی توانائی بالقوۃ صرف ان کے مراکز کے درمیان کی دوری پر منحصر ہوتی ہے توکیا تصادم
لچکدار ہوگا یا غیر لچکدار۔ (غور کیجیے کہ یہاں ہم تصادم کے دوران قوت کے موافق توانائی بالقوۃ کی بات کررہے
ہیں، نہ کہ مادّی کشش قوۃتوانائی کی)
6.9 کوئی جسم سکون کی حالت سے مستقل اسراع سے یک جہتی حرکت کرتا ہے۔ اس کی وقت t میںدی گئی طاقت متناسب ہے،
![]()
6.10 ایک جسم مستقلہ طاقت کے وسیلے کے اثر سے ایک ہی سمت میں متحرک ہے۔ اس کا t وقت میں نقل، متناسب ہے،
![]()
6.11 کسی جسم پر مستقل قوت F لگاکر اسے کسی سمتی نظام کے مطابق z –محور کی سمت میں حرکت کرنے کے لیے پابند کیا گیا ہے جو اس طرح ہے،
![]()
جہاں
علی الترتیب x,–y –اور z –محور کی سمت میں اکائی سمتیہ ہیں۔ اس شے کو z –محورپر 4m کی دوری تک حرکت کرنے کے لیے لگائی گئی قوت کے ذریعے کیا گیا کام کتنا ہوگا؟
6.12 کسی کا سمک رے تجربے میں ایک الیکٹران اور ایک پروٹان کی دریافت ہوتی ہے جس میں پہلے ذرے کی حرکی توانائی 10keV ہے اور دوسرے ذرے کی حرکی توانائی 100keV ہے۔ ان میں کون سا تیز ترین ہے،الیکٹران یا پروٹان؟ ان کی چالوں کا تناسب معلوم کیجیے۔
الیکٹران کی کمیت ،
پروٹان کی کمیت، 
6.13 2mm نصف قطر کی بارش کی کوئی بوندزمین سے 500m کی اونچائی سے زمین پر گرتی ہے۔ یہ اپنی ابتدائی اونچائی کے آدھے حصے تک (ہوا کے لزوجی مزاحمت ہونے کے سبب) گھٹتے اسراع کے ساتھ گرتی ہے اور اپنی زیادہ سے زیادہ (حدی) چال حاصل کرلیتی ہے اور اس کے بعد یکساں چال سے حرکت کرتی ہے۔ بارش کی بوند پر اس کے سفر کے پہلے دوسرے نصف حصوں میں ارضی کشش قوت کے ذریعے کیا گیا کام کتنا ہوگا؟ اگر بوند کی چال زمین تک پہنچنے پر
ہے تو مکمل سفر میں مزاحم قوت کے ذریعے کیا گیا کام کتنا ہوگا؟
6.14 ایک گیس سے بھرے برتن میں کوئی سالمہ 200 ms-1 کی چال سے، عمود کے ساتھ 30o کا زاویہ بناتا ہو، دیوار سے ٹکراکر پھر اسی چال سے واپس ہوجاتا ہے۔ کیا اس تصادم میں معیارِ حرکت کی بقا ہوتی ہے؟ یہ تصادم لچکدار ہے یا غیر لچکدار؟
6.15 کسی عمارت کی زمینی سطح پر لگاکوئی پمپ 30 m3 حجم کی پانی کی ٹنکی کو 15 منٹ میں بھر دیتا ہے۔ اگر ٹنکی زمینی سطح سے 40 m اوپر ہو اور پمپ کی استعداد(efficiency 30% )ہو تو پمپ کے ذریعے کتنی برقی طاقت کا استعمال کیا گیا؟
6.16 دو مماثل بال بیرنگ ایک دوسرے کے تماس میں ہیں اور کسی بے رگڑ میز پرسکون کی حالت میں ہیں۔ ان کے ساتھ یکساں کمیت کی کوئی اوردوسری بال بیرنگ جو V چال سے متحرک ہے، سامنے سے تصادم کرتی ہے۔ اگر تصادم لچکدار ہے تو تصادم کے بعد درج ذیل (شکل 6.14) میں کون سا نتیجہ ممکن ہے؟
�
شکل6.14�
6.17 ایک پینڈولم کا بوب A ، جو عمود سے 30º کا زاویہ بناتا ہے، چھوڑے جانے پر میز پر، سکون کی حالت میں رکھّے، یکساں کمیت کے بوب B سے ٹکراتا ہے جیسا کہ شکل6.15 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ معلوم کیجیے کہ تصادم کے بعد بوب A کتنا اونچا اٹھتا ہے؟ بوب کے سائز کو نظرانداز کیجیے اور مان لیجیے کہ تصادم لچکدار ہے۔

6.18کسی پینڈولم کے بوب کوافقی حالت A سے چھوڑا گیا ہے جس کوشکل 6.17 میں دکھایاگیاہے۔ اگر پینڈولم کی لمبائی 1.5 m ہے تو نچلے نقطے B پر آنے پر بوب کی چال کیا ہوگی؟ یہ دیا گیا ہے کہ اس کی ابتدائی توانائی کا% 5 حصہ ہوا مزاحمت کے خلاف صرف ہوجاتا ہے۔
6.19 300kg کمیت کی کوئی ٹرالی 25kg ریت کا بورا لیے ہوئے کسی بے رگڑ راہ پر 27 kmhکی یکساں چال سے متحرک ہے۔ کچھ وقت کے بعد بورے میں کسی سوراخ سے ریت0.05kgs1 کی شرح سے نکل کر ٹرالی کی فرش پر رسنے لگتی ہے۔ ریت کا بورا خالی ہونے کے بعد ٹرالی کی چال کیا ہوگی؟
6.20 0.5kg کمیت کا ایک ذرہ v = a x3/2 چال سے خط مستقیم پرحرکت کرتاہے جہاں
ہے۔x=0x=2mتک اس کے نقل میں کل قوت کے ذریعے کیا گیا کام کتنا ہوگا؟
6.21 کسی ہوا چکی کی پنکھڑیاں(blades)، رقبہ A کے دائرے جتنا رقبہ طے کرتی ہیں؎۔ (a) اگر ہوا v رفتار سے دائرے کی عمودی سمت میں بہتی ہے تو t وقت میں اس سے گزرنے والی ہوا کی کمیت کیا ہوگی؟ (b) ہوا کی حرکی توانائی کیا ہوگی؟ (c) مان لیجیے ہوا چکی ہوا کی 25% توانائی کو برقی توانائی میں منتقل کر دیتی ہے اور
اور ہوا کی کثافت 1.2kg m-3 ہے۔ پیداہوئی برقی طاقت کا شمار کیجیے۔
6.22 کوئی شخص وزن کم کرنے کے لیے 10kgکمیت کو 0.5 m کی اونچائی تک 1000 بار اٹھاتا ہے۔ مان لیجیے کہ ہر بار کمیت کو نیچے لانے میں کھوئی ہوئی توانائی بالقوۃکا تنزل ہوجاتا ہے۔ (a) وہ مادّی کشش قوت کے خلاف کتنا کام کرتا ہے؟ (b) اگر چربی 3.8x107j توانائی فی کلوگرام فراہم کرتی ہو جو کہ %20دادکی شرح سے میکانیکی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے تو وہ کتنی چربی صرف کرے گا؟
6.23 کوئی بڑا کنبہ 8kW برقی طاقت کااستعمال کرتا ہے۔ (a) کسی افقی سطح پر سیدھے واقع ہونے والی شمسی توانائی کی اوسط شرح 200W m-2ہے۔ اگر اس توانائی کا %20 حصہ مفید برقی توانائی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے تو 8kW کی برقی توانائی فراہمی کے لیے کتنے رقبے کی ضرورت ہوگی؟ (b) اس رقبے کا موازنہ کسی مخصوص عمارت کی چھت کے رقبے سے کیجیے۔
اضافی مشق
6.24 0.012kg کمیت کی کوئی گولی 70ms-1 کی افقی چال سے چلتی ہوئی 0.4kg کمیت کے لکڑی کے بلاک سے ٹکراکربلاک کے موافق فوری طورپر سکون کی حالت میں آجاتی ہے۔بلاک کو چھت سے پتلے تاروں کے ذریعے لٹکایا گیا ہے۔ شمار کیجیے کہ بلاک کس اونچائی تک اوپراٹھتا ہے؟بلاک میں پیدا ہوئی حرارت کی مقدار کا بھی تخمینہ لگائیے۔
6.25 بے رگڑ مائل مستوی، جن میں سے ایک کی ڈھلان زیادہ ہے اور دوسرے کی ڈھلان کم ہے، نقطہ A پر ملتی ہیں۔ جہاں نقطہ A سے ہر ایک پر ایک ایک پتھر کو سکون کی حالت سے نیچے سرکایا جاتا ہے (شکل 6.16)۔ کیا وہ پتھر ایک ہی وقت پر نیچے پہنچیں گے؟ کیا وہ وہاں ایک ہی چال سے پہنچیں گے؟ تشریح کیجیے۔ اگر
دیا ہے تو دونوں پتھروں کی چال اور ان کے ذریعے نیچے پہنچنے میں لیے گئے وقت کیا ہیں؟

شکل 6.16
6.26 ایک کھردری مائل مستوی پر رکھا ہوا 1 kgکمیت کا بلاک ایک 100N m-1 اسپرنگ بلاک کو مستقلہ والے اسپرنگ سے منسلک ہے۔ بلاک کو سکون کی حالت سے چھوڑا جاتا ہے جبکہ اسپرنگ اس وقت بغیر کھنچی ہوئی حالت میں ہے۔ بلاک سکون کی حالت میں آنے سے پہلے مائل مستوی پر 10cm نیچے کھسک جاتا ہے۔بلاک اور مائل مستوی کے درمیان رگڑ ضربیہ معلوم کیجیے۔ مان لیجیے کہ اسپرنگ کی کمیت برائے نام ہے اور گھرنی بے رگڑ ہے۔(شکل 6.17)

شکل 6.17
6.27 0.3kg کمیت کا کوئی بولٹ 7ms-1 کی یکساںچال سے نیچے آرہی کسی لفٹ کی چھت سے گرتا ہے۔ یہ لفٹ کے فرش سے ٹکراتا ہے۔ (لفٹ کی لمبائی=3m)اور واپس نہیں ہوتا ہے۔ ٹکرکے ذریعے کتنی حرارت پیدا ہوئی؟اگر لفٹ ساکن ہوتی تو کیا آپ کا جواب اس سے مختلف ہوتا؟
6.28 200kg کمیت کی کوئی ٹرالی کسی بے رگڑ راہ پر 36 km h-1 کی یکساں چال سے متحرک ہے۔ 20 kg کمیت کا کوئی بچہ ٹرالی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک (10 m دور) ٹرالی کی مناسبت سے4ms-1 کی چال سے ٹرالی کی حرکت کی مخالف سمت میں ڈوڑتا ہے اور ٹرالی سے باہر کود جاتا ہے۔ ٹرالی کی آخری چال کیا ہے؟ دوڑ شروع کرنے کے وقت سے ٹرالی نے کتنی دوری طے کی؟
6.29 نیچے دی گئی شکل 6.18 میں دیے گئے توانائی بالقوۃخطوطِ منحنی (potential energy curves)میں سے کون سا منحنی ممکنہ طورپر دو بلیرڈ گیندوں کے لچکدار تصادم کو بیان نہیں کرے گا؟ یہاں rگیندوں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔

شکل 6.18
6.30 سکونی حالت میں کسی آزاد نیوٹران کے تنزل پر غور کیجیے:¯n→p+e
ظاہر کیجیے کہ اس طرح کے دو جسمی تنزل سے مستقل توانائی کا کوئی الیکٹران ضرور فراہم ہونا چاہیے اور اس لیے یہ کسی نیوٹران یا کسی نیوکلیس کے b تنزل میں مشاہدہ شدہ مسلسل توانائی تقسیم کی وضاحت نہیں کرسکتا (شکل 6.19)۔
نوٹ : اس مشق کا سادہ نتیجہ ان متعدد جوازوں میں سے ایک تھا جو ڈبلو–پالی نے b تنزل کے ماحصلات میں ایک تیسرے ذرّے کی موجودگی کی پیشیں گوئی کرنے کے لیے پیش کیے تھے۔یہ ذرّہ نیوٹرنیوکہلاتا ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ذرّہ ہے جس کی ذاتی اسپن (intrinsic spin)
ہوتی ہے )¯p,eکی طرح) اور جس کی کمیت صفر ہوتی ہے یا بہت ہی کم ہوتی ہے، (الیکٹران کی کمیت کے مقابلے میں) اور جو مادہ سے بہت ہی کمزور باہم عمل کرتا ہے۔نیوٹران کا درست تنزل عمل ہے:
ضمیمہ 6.1 ٹہلنے میں صرف ہونے والی پاور کی کھپت
نیچے دیے گئے جدول میں 60 kg کمیت کے بالغ انسان کے ذریعے مختلف روز مرہ کی سرگرمیوں میں صرف کی گئی تقریبی طاقت درج فہرست کی گئی ہے۔
میکانیکی کام کا مطلب روزمرہ بول چال میں رائج لفظ ’کام‘ سے مختلف ہے۔ اگر کوئی عورت سرپر بھاری بوجھ لیے کھڑی ہے تو وہ تھک جائے گی لیکن اس عمل میں عورت نے کوئی میکانیکی کام نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ انسان کے ذریعے عام سرگرمیوں میں کیے گئے کام کا تخمینہ لگا پانا ممکن نہیں ہے۔
جلدول 6.4 صرف کی گئی تقریباً فوت
| سرگرمی | طاقت(W) |
| حالت نیند | 75 |
| آہستہ خرامی | 200 |
| سائیکل چلانا | 500 |
| دل کی دھڑکن | 1.2 |
غور کیجیے کہ کوئی شخص مستقل چال v0 سے پیدل سیر کررہا ہے۔ اس کے ذریعے کیے گئے میکانیکی کام کا تخمینہ، کام –توانائی تھیوریم کے ذریعے آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ مان لیجیے:
(a) پیدل سیر میں کیے گئے کام میں اہم حصّہ ہر قدم کے ساتھ ٹانگوں کے اسراع اور ابطاء (decelerate) کا ہے۔ (شکل 6.10دیکھیے)
(b) ہوائی مزاحمت نظرانداز کردیں۔
(c) ٹانگوں کو زمینی کشش قوت کے خلاف اٹھانے میںکیا گیا تھوڑا سا کام نظرانداز کریں۔
(d) ٹہلنے میں ہاتھوں کا ہلانا جو ایک عام بات ہے، اسے بھی نظرانداز کریں۔
جیسا کہ ہم شکل 6.20 میں دیکھ سکتے ہیں کہ ہر ایک قدم بھرنے میں ٹانگ سکون کی حالت سے کچھ چال اختیار کرتی ہے (جو ٹہلنے کی چال کے تقریباً برابر ہے) اور پھر سکون کی حالت میں لائی جاتی ہے۔
خارج ہونے والےß۔ذرہ کی حرکی توانائی
خارجßذرہ کی حرکی توانائی

شکل6.19

دوسرا پیر
پہلا پیر
ایک قدم
شکل 6.20 ٹہلنے میں کسی ایک قدم کی تشریح جب کہ ایک ٹانگ زمین کی سطح سے زیادہ سے زیادہ دور اور دوسری ٹانگ زمین پر ہوتی ہے اور اس کے برعکس بھی یہ بات درست ہے۔
لہٰذا کام– توانائی مسئلہ سے ہر ایک لمبا قدم بھرنے میں ہر ایک ٹانگ کے ذریعے کیا گیا کام m1 v20 ہوگا۔ یہاں ٹانگ کی کمیت ہے۔نوٹ کریں کہ
انگ کے عضلات کے ذریعے پیر کو سکون کی حالت سے چال v0تک لانے میں خرچ کی گئی توانائی ہے جب کہ تکمیلی ٹانگ کے عضلات کے ذریعے دوسرے پیر کی چال v0 سے سکون کی حالت میں لانے میں خرچ کی گئی اضافی توانائی
ہے۔ لہٰذا دونوں ٹانگوں کے ذریعے ایک قدم بھرنے میں کیا گیا کام ہے۔ (شکل 6.10 کا غور سے مطالعہ کریں)
(6.34) ![]()
مان لیجیے
ور دھیمی رفتار سے 9 منٹ میں 1 میل دوڑنا، یعنی SIاکائی میں
لہٰذا
قدم /جول Ws = 180
اگر ہم ایک قدم میں طے کی گئی راہ کی لمبائی 2 m لیتے ہیں تب کوئی شخص 3 ms-1 کی چال سے 1.5 قدم فی سیکنڈ بھرتا ہے۔ اس طرح صرف کی گئی طاقت
یہاں ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ صرف کی گئی طاقت کا تخمینہ حقیقی قدر سے کافی کم ہے کیونکہ اس طریقہ میں طاقت کے نقصان کے مختلف عوامل جیسے ہاتھوں کا ہلنا، ہوا مزاحم وغیرہ کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے متوقع مختلف قوتوں کو بھی شمار میں کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ ان قوتوں میں سے خاص طورپر قوت رگڑ اور جسم کے دیگر عضلات کے ذریعے ٹانگ پر لگنے والی قوتوں کا شمار کر پانا مشکل ہے۔ ساکت رگڑ یہاںکوئی کام نہیں کرتا ہے اور ہم کام– توانائی تھیوریم کا استعمال کرکے عضلات کے ذریعے کیے گئے کام کے شمار کے نہایت مشکل کام سے باہر نکل آتے ہیں۔اس طرح، ہم پہیے کا فائدہ دیکھ سکتے ہیں۔ پہیہ انسان کو بغیر کسی شروعات کے بے رکاوٹ حرکت فراہم کرتا ہے۔



