Skip to content
Tabiyaat-I

باب 7 

ذرات کے نظام اور گردشی حرکت

(Systems of Particles and

Rotational Motion)


7.1 تعارف
7.2 مرکزکمیت
7.3 مرکزکمیت کی حرکت
7.4 ذرّات کے نظام کا خطی میعار حرکت
7.5 دوسمیتوں کاسمتی حاصلِ ضرب
7.6 زاویائی رفتار اورخطی رفتارسے اس کا رشتہ
7.7 قوت گردشہ اور زاویائی میعارِ حرکت
7.8 استوار جسم کا توازن
7.9 جمودگردشہ
7.10 عمودی اور متوازی محور کے تھیوریم
7.11 ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردشی حرکت
کا مجرد حرکیاتی عمل
7.12 ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردشی حرکت
کی حرکیاتِ عمل
7.13 ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردشی حرکت
میں زاویائی معیارِ حرکت
7.14 لڑھکن حرکت
خلاصہ
قابل غور نکات
مشق
اضافی مشق

7.1     تعارف  (Introduction) 

پچھلے ابواب میں ہم نے بنیادی طور پر ایک واحد ذرّہ کی حرکت کے بارے میں مطالعہ کیا تھا۔(ذرہ کو ’کامل طور پر‘نقطہ کمیت سے ظاہر کرتے ہیں ، جس کا کوئی سائز نہیں ہوتا)۔اس مطالعہ سے حاصل نتیجہ کو ہم نے متناہی سائز کے اجسام کی حرکت میں یہ مانتے ہوئے لاگو کیا تھا کہ اس طرح کے اجسام کی حرکت کو ہم ذرّہ کی حرکت کی شکل میں بیان کرسکتے ہیں۔
روز مرہ کی زندگی میں جتنی بھی اشیا ہمارے رابطے میں آتی ہیں سب کا ایک متناہی سائز ہوتا ہے۔متناہی جسم کی حرکت کے مطالعہ میں اکثرذرّہ کا مثالی نمونہ غیرموزوں ثابت ہوا ہے۔ اس باب میں ہم اس غیر موزوں مفروضے سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ان توسیعی(متنا ہی سائز کے) اجسام کی حرکت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ یہی متنا ہی سائز کے اجسام دراصل ذرات کے نظام ہیں۔ ہمیں اپنا مطالعہ پورے نظام کی حرکت سے شروع کرنا چاہیے۔ ذرات کے نظام کا کمیت مرکز(Centre of mass)یہاں ایک کلیدی تصور ہے۔ اب ان اجسام کی حرکت کے مطالعہ کے لیے ہمیں ذرات کے نظام کے کمیت مرکز کی حرکت سے بحث کرنا ہوگی اور متناہی سائز کے اجسام کی حرکت کے مطالعے میں اس تصور کی افادیت کو سمجھنا ہوگا۔
متناہی سائز کے اجسام کی حرکت سے متعلق بہت سارے مسائل انھیں استوار جسم مان کر حل کیے جاسکتے ہیں۔ ایک مثالی استوار جسم وہ جسم ہے جس کی کامل طور پر متعین اور نہ تبدیل ہوسکنے والی شکل ہوتی ہے۔ ایسے جسم کے ذرات کے مختلف جوڑوں کے درمیانی فاصلے تبدیل نہیں ہوتے۔ استوار جسم کی اس تعریف سے واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی حقیقی جس کبھی بھی مکمل طور پر استوار جسم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حقیقی اجسام کی شکلوں میں بیرونی قوت کے زیرِ اثر تخریب ہوجاتی ہے۔ لیکن بہت سی صورتوں میں یہ تخریب نظر انداز کی جاسکتی ہے۔ اس لیے بہت سی ایسی صورتوں میں ، جن میں پہیّیے، لٹو،فولادی چھڑیں، مالیکیول اور سیارے وغیرہ جیسی اشیاء شامل ہوں ہم اجسام کا اینٹھنا(شکل کا بگڑ جانا)، مڑ جانا یا ارتعاش کرنا نظر انداز کر سکتے ہیں اور انھیں استوار جسم مان سکتے ہیں۔

  7.1.1 ایک استوار جسم میں کس طرح کی حرکت ہوتی ہے؟

اب ہم اس سوال کے جواب کے لیے استوار جسم کی حرکت کی کچھ مثالیں لیتے  ہیں۔ ہم سب سے پہلے ایک مستطیل نما بلاک لیتے ہیں جو نیچے کی طرف ایک ڈھلواں سطح پربغیردائیں بائیں حرکت کیے، پھسل رہا ہے۔  یہ بلاک استوار جسم ہے۔مستوی پر ، نیچے کی جانب’ اس کی حرکت اس طرح ہے کہ جسم کے تمام ذرات ایک ساتھ حرکت کر رہے ہیں، یعنی کہ کسی بھی ساعت پر ہرذرّے کی رفتار یکساں ہے۔  یہ استوار جسم خالص خطی انتقالی (Translational)حرکت کی مثال ہے (شکل  7.1)۔


1
شکل  7.1 مائل مستویسے نیچے آتے  بلاک کی انتقالی خطی حرکت(کوئی بھی نقطہ جیسے P1 یاP2 کسی بھی وقت ایک ہی رفتار سے حرکت کر رہا ہے)

 خطی انتقالی حرکت میں جسم کا ہر ذرّہ کسی بھی ساعت پر یکساں رفتار سے حرکت کرتا ہے۔
اب اگر ہم دھات یا لکڑی کے ٹھوس استوانے کو مائل مستوی پر نیچے کی طرف لڑھکائیں (شکل7.2  )،اس صورت میں یہ استوارِ جسم یعنی کہ استوانہ، مائل مستوی کی چوٹی سے’ اس کے پیندے پرمنتقل ہو جاتا ہے اور اس لیے استوانہ کی حرکت ایک خطّی انتقالی حرکت معلوم ہوتی ہے۔ مگر شکل 7.2کے مطابق ایک دی ہوئی ساعت پر ہر ذرّہ کی رفتار یکساں نہیں ہے۔اس لیے یہ جسم خالص خطّی انتقالی حرکت میں نہیں کہا جائے گا۔اس حرکت میں خطّی انتقال کے علاوہ اور بھی کچھ ہے۔

2

شکل  7.2 ایک استوانہ کی لڑھکن حرکت ۔یہ خالص خطّی انتقالی نہیں ہے۔نقاطP3،P2،P1 اورP4کی ایک ساعت پر، یکساں رفتار نہیں ہے۔ (جسے تیر کے نشانوں سے دکھایا گیا ہے)۔ درحقیقت لمس نقطہ P3 پر کسی بھی ساعت پر  رفتار صفر ہے، اگر بیلن بغیر پھسلے  لڑھکتا ہے۔

اب یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ’’اور بھی کچھ‘‘ کیا ہے ہم ایک ایسااستواری جسم لیتے ہیں  جس کے حرکت کرنے پر یہ پابندی عائد کردی گئی ہے کہ اس کی حرکت خطّی انتقالی حرکت نہ ہو۔ ایک استوار جسم پر یہ پابندی، کہ اس کی حرکت خطّی انتقالی حرکت نہ ہو، عائد کرنے کا ایک سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ اسے ایک خطِ مستقیم سے جَڑ دیا جائے۔ اب ایسا استوار جسم صرف گردشی حرکت ہی کرسکتاہے۔ وہ خط یا جامد محور جس کے گرد جسم گردشی حرکت کرتا ہے ، گردش کا محور (Axis of rotation)کہلاتا ہے۔
   اگر آپ اپنے چاروں طرف دیکھیں تو محور کے گرد گردش کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں جیسے چھت سے لٹکا ہوا پنکھا، کمہار کا چاک، بڑاپہیہ،چرخ وغیرہ (شکل 7.3 (a) اور 7.3(b) ۔

3
4

شکل 7.3 متعین محورکے گرد گردشی حرکت
(a)    چھت سے لٹکا ہوا پنکھا
 (b)  کمہار کا چاک
5





شکل 7.4 ایک متعین محور کے گرد گردشی حرکت دکھاتا ہے۔ مانا P1ذرّہ متعین گردشی محورسے r1 دوری پر ہے۔ذرّہ  P1  یہ بتاتا ہے کہ دائرہ کا نصف قطر r1 اوراسکا مرکز c1 ہے ۔یہ بھی دائرہ محور کے عمودی سمت میں واقع ہے۔یہ نوٹ کریں کہ ذرہ  p1 اور p2 الگ الگ سطح مگرمحور کے عمودی سمت میں ہیں۔کسی ذرّہ سے p3 کے لیے اگرr=0 ہے-

اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’گردش‘‘ ہے کیا۔ گردش کی خاصیتیں کیسے متعین ہوتی ہیں؟ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک متعین محور کے گرد استواری جسم کی گردشی حرکت کے دوران جسم کا ہر ذرہ ایک دائرہ میں گھومتا ہے اور یہ دائرہ ایسے متسوی میں ہوتا ہے جو محور پر عمود ہے اور اس دائرہ کا مرکز محور پر ہوتا ہے۔شکل 7.4 میں ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردشی حرکت دکھائی گئی ہے ۔(حوالہ فریم کے––zمحور کے گرد)  مانا P1استوار جسم کا ایک ذرہ ہے جو متعین محورسے r1 دوری پر ہے۔ذرّہ  P1  ایک دائرہ بناتا ہے جس کا نصف قطر r1 اورمرکز c1 ہے ۔یہ دائرہ محور کے عمودی مستوی میں واقع ہے۔شکل میں استوارِجسم کا دوسرا ذرّہ  P2 بھی دکھایا گیا ہے، P2جامد محورسے r2فاصلہ پر ہے۔یہ ذرّہ P2نصف قطرr2 کے دائرہ میں حرکت کرتا ہے، جس کا مرکز، محور پر، C2ہے۔ یہ دائرہ بھی محورپر عمود مستوی میں ہوتا ہے۔یہ نوٹ کریں کہ ذرّے P1 اورP2الگ الگ مستوی میں ہوسکتے ہیں، مگر دونوں مستوی جامد محور پر عمود ہیں۔کسی ذرّہ  p3 کے لیے اگرr=o ہے تو یہ ذرّہ جسم کی گردشی حرکت کے دوران حالت سکون میں ہوگا۔یہ اس لیے امید کی جاتی ہے کیونکہ محور جامد ہے۔
7


شکل 7.5 (a) گھومتا ہوا لٹو (لٹو زمین کے ساتھ نقطہ لمس، لٹور کی نوٹ O،پر جامد ہے)
اھترازات کا محور،پنکھے کے پروں کی گردش کا محور
8

شکل 7.5 (b) اہتراز کرتا ہوا میٹر کا پنکھامع گردشی پر۔پنکھے کی دھوری نقطہ O جامد ہے۔پنکھے کے پر گردشی حرکت کر رہے ہیں۔ جبکہ پنکھے کے پروں کا گردشی محور اہتراذی حرکت کر رہا ہے ۔

کچھ گردش کی مثالوں میں محور جامد نہیں بھی ہوسکتا ہے۔گھومتا ہوا لٹو اس کی ایک مثال ہے (شکل 7.5 (a))۔اس میں ہم یہ مانتے ہیں کہ لٹو ایک مقام سے دوسرے مقام پر پھسلتا اور اس لیے خطی انتقالی حرکت نہیں ہے ہم اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ ایسے گھومتے ہوئے لٹو کا محور، اس کے زمین سے نقطہ تماس (pointof contact)سے گذرتے ہوئے عمودی خط کے گرد گھومتا ہے اور ایک مخروط (cone)رقبہ طے کرتا ہے، جیسا کہ شکل 7.5 (a) میں دکھایا گیا ہے۔(لٹوکے محور کی عمودی خط کے گرد یہ حرکت ’’جھومتا‘‘ یا جھوم (precession)کہلاتی ہے)۔ نوٹ کریں کہ زمین کے ساتھ لٹوکا نقطہ تماس جامد ہے۔کسی بھی ساکتِ وقت پر لٹوکا گردشی محور نقطہ تماس سے گذرتا ہے۔اس قسم کی حرکت کی دوسری آسان مثال اہتراز کرتا ہوا ٹیبل پنکھا ہے۔یہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اہترازی حالت میں پنکھے کا گردشی محور افقی مستوی میں اس عمود خط کا گرد اہتزازی شکل (اِدھراُدھر) حرکت کرتا ہے جو اس نقطہ سے گذر رہا ہے جس پر محور جڑا ہوا ہے۔ (شکل 7.5 (b) میں نقطہ O)۔
جب پنکھا گردش میں کرتا ہے اور اسکا محور ادھرادھر گھومتا ہے جب بھی یہ نقطہ متعین (جامد) ہوتا ہے۔اس طرح گردشی حرکت کی زیادہ عمومی صورتوں میں، جیسے ایک لٹو یا کی مثال میں استواری جسم کا ایک نقطہ نہ کہ خط جامد ہوتا ہے۔ایسی صورت میں محور جامد نہیں ہوتا لیکن یہ ہمیشہ ایک جامد نقطے سے گذرتا ہے۔لیکن ہم اپنے مطالعے میں وہ مخصوص صورتیں ہی شامل کریں گے جن میں ایک خط (یعنی کہ محور) جامد ہے۔اس لیے ہمارے لیے گردش صرف ایک جامد محور کے برخلاف وضاحت نہ کی جائے۔

1
شکل 6۔7 (a) ایک اتوار جسم کی ایسی حرکت جو خالص خطی انتقالی ہے
2
شکل 76 (b) ایک استوار جسم کی ایک ایسی حرکت ہے جو خط انتقالی حرکت اور گردشی حرکت کا مجموعہ ہے۔

شکل 7.6 (a)اور 7.6 (b) میں ایک ہی جسم کی مختلف حرکتیں دکھائی گئی ہیں۔نوٹ کریں کہ نقطہ Pجسم کا کوئی بھی اختیاری طور پر منتخب کیا گیا نقطہ ہے، Oجسم کا کمیت مرکز ہے، جس کی تعریف اگلے حصّے میں کی گئی ہے۔یہاں یہ کہہ دینا مناسب ہے کہ Oکے خطوطِ حرکت، جسم کے خطی انتقالی خطوطِ حرکت Tr1 اور Tr2 ہیں۔ تین مختلف لمحاتِ وقت پر، Oاور Pکے مقامات، دونوں شکلوں [7.6 (a), 7.6 (b)]میں، بالترتیب نقاط O1، O2اورسے دکھائے گئے ہیں۔ جیسا کہ شکل 7.6 (a)سے دیکھا جاسکتا ہے، کسی بھی لمحہ وقت پر جسم کے کسی بھی ذرّے، جیسے OیاP، کی رفتاریں، خالص خطی انتقالی میں یکساں ہوتی ہیں۔نوٹ کریں کہ اس صورت میں OPکی تشریق (orientation)، یعنی کہ ایک متعین سمت، جسے افقی خط، سے OPجو زاویہ بناتا ہے وہ یکساں رہتا ہے۔یعنی کہ  :  [a1 = a2 = a3] شکل 7.6 (b)میں خطی انتقالی اور گردشی حرکتوں کے مجموعے کی صورت دکھائی گئی ہے۔اس صورت میں، کسی بھی لمحہ وقت پر، Oاور Pکی رفتاریں مختلف ہوتی ہیں۔مزید یہ کہ a1،a2 ،a3 تینوں مختلف ہوسکتے ہیں۔
ایک ڈھلواں سطح پراستوانے کی لڑھکن حرکت میں ایک متعین (جامد) محور نقطہ کے گرد گردش اور انتقالی خطی حرکت دونوں حرکتیں شامل ہیں۔
اس لحاظ سے شکل 7.6(a)اور شکل 7.6(b)دونوں اس تصور کو سمجھنے میںآپ کے لیے مددگار ہوں گی۔ان دونوں شکلوں میں ایک ہی جسم کی مثماثل خطی انتقالی خطوطِ راہ (identical translational trajectories)پر حرکت دکھائی گئی ہے۔ایک صورت میں،]شکل [7.6 (a) ،حرکت خالص خطی انتقالی ہے، اور دوسری صورت میں ]شکل [7.6 (b) حرکت خطی انتقالی حرکت اور گردشی حرکت کا مجموعہ ہے۔]آپ ایک کسی اور استوارِجسم ، جیسے کتاب، میں ان دونوں طرح کی حرکتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔[

اب ہم اس حصہ کے اہم ترین نقات دہراتے ہیں: ایسا استواری جسم جو کسی طور پر جڑا ہوا یا جامد نہ ہو، اس کی حرکت یا تو خالص خطی انتقالی ہوتی ہے یا خطی انتقالی اور گردشی حرکتوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔جب کہ استواری جسم اگر کسی طور پر جڑا ہوا یا جامد ہو تو اس کی حرکت گردشی ہوتی ہے۔حرکت کسی ایسے محور کی گرد ہوسکتی ہے جو جامد ہو (مثلاً چھت کا پنکھا) یا حرکت کررہا ہو (مثلاً اہترازی میز پنکھا)۔ ہم اس باب میں صرف جامد محور کے گرد گردش کا ہی مطالعہ کریں گے۔

7.2   مرکز کمیت   (CENTRE OF MASS)

ہم سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک ذرّات کے نظام کا مرکزکمیت ہے کیااور پھر اس کی اہمیت سے بحث کریں گے۔آسانی کے لیے ہم دو ذرّوں کے نظام سے شروع کرتے ہیں۔دونوں ذرّوں کو ملانے والے خط کو ہم -xمحور مانتے ہیں۔

10
مانا کہ دونوں ذرّات کی کسی مبدا نقطہ Oسے، دوریاں بالترتیب، x1  اور x2 ہیں۔مانا  m1 اورm2 ، بالترتیب ،ان کی کمیتیں ہیں۔نظام کا مرکزکمیت  نقطہ C پر مبدا نقطہ Oسے × دوری پر واقع ہے۔
جہاں ×کی قدر دی جاتی ہے:
11
مساوات (7.1)میں xکو ہم x1 اور x2 کا کمیت وزنیاتی اوسط(Mass weighted mean) کہہ سکتے ہیں۔اگر دونوں ذرّات کی کمیت یکساں ہو تو

12
اس لیے مساوی کمیت کے ذرّات کے لیے مرکزکمیت ان دونوں کے بالکل وسط میں ہوگا۔
اگر n ذرّات ہوں جن کی بالترتیب کمیتیں  m2،m1،۔۔۔۔۔mn ہوںاور جو ایک ہی خط مستقیم پر ہوں،جسے -xمحور لیا گیا ہے ، تو ذرات  کے نظام کے کمیت مرکز کی تعریف  ہوگی ۔
13
 جہاں x1،x2  xn------x ذرّات کی نقطہ Oسے دوریاں ہیں ۔ اور xبھی اسی مبدے سے ناپا گیا ہے۔علامت Σ (یونانی لفظ سیگما) حاصل جمع کو ظاہرکرتا ہے، اس مثال میں یہ جمعnذرات پر ہے۔
یہ حاصل جمع:    14 
 نظام کی کل کمیت ہے۔
فرض کیجئے ہمارے پاس تین ذرّات ہیں جو کہ ایک خط مستقیم میں نہیں ہیں۔ہم اس مستوی میں جس میں وہ ذرّہ واقع ہے -xمحور اور-yمحور کو معرف کر سکتے ہیں اور ان کی نسبت سے تینوں ذرّات کے مقام کو بالترتیب کو آرڈی نیٹوں
(x1, y1)،(x2, y2)،(x3, y3)
سے ظاہر کرسکتے ہیں۔مانا کہ کمیتیں بالترتیب m1،m2اورm3ہیں۔یہاں اس تین ذرات کے نظام کے مرکزکمیت Cکی تعریف ، جو کوآرڈی نیٹوں (x,y)پر واقع ہے، اس طرح کی جاتی ہے:
15
 یکساں وزن کے ذرّات  کے لیے:  m1= m2= m3= m 
16
اس لیے، اگر تینوں ذرّات کی کمیتیں یکساں ہوں تو مرکزکمیت  ذرات کے ذریعہ بنائے گئے مثلث کے وسطی مرکز(centroid)پر واقع ہوتا ہے۔
مساوات (7.3 a) اور(7.3 b)سے ہم nذرّات، جو ایک ہی مستوی میں نہ ہوں بلکہ فضا میں پھیلے ہوئے ہوں، کے لیے بھی عموی نتیجہ اخذکرسکتے ہیں۔اس طرح کے نظام کامرکزکمیت (x,y,z)پر ہوگا، جہاں!
17
یہاں M =ΣMi  نظام کی کل کمیت ہے۔اشاریہ i کی قیمت 1 سے n تک ہے، mi،ith ذرّہ کی کمیت ہے اور ithذرّہ کا مقام(xi,yi,–zi) ہے۔
مساوات (7.4 a)، (7.4 b) اور (7.4 c) کو ہم ایک ہی مساوات میں مقام سمتیہ کے ذریعہ دکھا سکتے ہیں۔مانا ri ،ith ذرے کا مقام سمیتہ ہے اور Rکمیت مرکز کا مقام سمیتہ ہے۔
18
دائیں ہاتھ کی طرف حاصل جمع سمتیہ حاصل جمع ہے۔
نوٹ کریں کہ سمتیوں کے استعمال سے ہمیں کتنی مختصر ریاضیاتی عبارت حاصل ہوتی ہے۔ اگر حوالہ جاتی فریم(کوآرڈی نیٹ نظام) کے مبدے کوکمیت مرکز منتخب کرلیاجائے تو دیے ہوئے ذرات کے نظام کے لیے
: Σmi ri = O 
ایک استوار جسم جیسے میٹر چھڑ یا پرداری پہیہ ذرّات کا نظام ہوتا ہے۔اس لیے مساوات (7.4 a) ،(7.4 b) ،(7.4 c) اور(7.4 d) کو استوار جسم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح کے جسم میں ذرّات کی تعداد (ایٹم یاما لیکیول) اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انفرادی ذرّہ کے لیے مساوات کا استعمال کرکے حاصل جمع نکالنا مشکل کام ہے۔ چونکہ ذرّات کی درمیان کی جگہ بہت ہی کم ہے اس لیے اس طرح کے جسم کو ہم کمیت کے لگاتار پھیلاؤ والا جسم مان سکتے ہیں۔جسم کو nکمیت اجزا(Mass elements) میں بانٹا جاتا ہے۔کمیت englem1 ، englemn---------englem2 اور ithجزکی کمیت miengle ہے جو نقطہ (xi, yi,zi) کے گرد واقع ہے۔ پھر مرکزکمیت کے کوآرڈی نیٹ (نزدیکی طور پر) اس طرح ہوں کے:
19
جیسے جیسے nزیادہ ہوتا جائے گااور miengleکم ہوتا جائیگا یہ مساواتیں زیادہ  درست نتیجہ دیں گے۔اس حالت میں ہم i کمیتوں کا حاصل جمع تکملہ (انٹگرل) کے ذریعہ لکھ سکتے ہیں
20
یہاں Mجسم کی کل کمیت ہے۔مرکز کمیت کے کوآرڈی نیٹس اب ہوں گے:
21
ان تینوں عدد یہ عبارتوں کی متطابق سمیتہ عبارت ہے:(7.5 a)

22
اگرہم مرکز کمیت کو اپنے محوری نظام کامبدا نقطہ O مان لیں تو
23

اکثر ہمیں باقاعدہ شکل والے متجانس اجسام کے کمیت مراکز معلوم کرنے ہوتے ہیں۔ جیسے رِنگ (چھلّہ)، ڈسک،(قرص)،کرہ، چھڑ وغیرہ (متجانس جسم کا مطلب ہے وہ جسم جس کی کمیت یکساں طور پر پورے جسم پر تقسیم ہو)۔ تشاکل (Symmetry)کا لحاظ رکھتے ہوئے ہم یہ آسانی سے دکھاسکتے ہیں کہ اس طرح کے جسم کا مرکزکمیت جسم کے جیومیٹریائی مرکز پر ہوتا ہے۔

24

ایک پتلی چھڑمان لیں جس کی چوڑائی اور موٹائی (اگر چھڑ کا تراشہ مستطیل نما ہے) یا نصف قطر(اگرچھڑ کا تراشہ استوانی ہے) لمبائی کے مقابلہ میں کافی کم ہے۔مبدانقطہ کو اگر ہم جیومیٹریائی مرکز پر رکھیں اور -xمحور لمبائی دکھائے تو ہم انعکاسی تشاکل(Reflechan Symmetry)کی بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھڑ کے کسی بھی کمیت جز dmکے لیے جو xپر ہے، (-x)پر بھی ایک یکساں کمیتdmکا کمیت جز ہوگا۔ (شکل 7.8)

اس لیے اس مثال میں ایسے ہر جوڑے کا تکملہ میںحصّہ صفر ہوگا اور تکملہƒxdm  کی قیمت صفر ہوگی۔مساوات (7.6) سے وہ نقطہ جہاں کمیت کاƒdm  صفرہوگا وہ کمیت مرکز کہلاتا ہے۔
اس لیے ایک متجانس پتلی چھڑ کا کمیت مرکز اس کے جیومیڑیائی مرکز پر منطبق ہے۔اتشاکل کی یہی دلیل متجانس چھلّوں، قرصوں، کروں اور دائری یا مستطیل نما تراشہ والی موٹی چھڑوں کے لیے بھی درست ہے۔اس طرح کے ہر جسم کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہرجز dmجو نقطہ (x,y,z)پر واقع ہے اس کے لیے یکساں کمیت کا ایک جز نقطہ (-x,-y,-z) پربھی واقع ہوتا ہے۔ (یعنی ،ان اجسام کے لیے مبدا انعکاس تشاکل کا نقطہ ہے)۔اس لیے مساوات (7.5 a)میں ہر تکملہ کی قیمت صفر ہوگی۔اس کا مطلب ہے اوپر دیے ہوئے ہر جسم کے لیے کمیت مرکزجیومیٹریائی مرکز پر ہی واقع ہوتا ہے۔

مثال 7.1 ایسے تین ذرات کا کمیت مرکز معلوم کیجئے جو ایک مساوی الاضلاع مثلث کی راسوں پر رکھّے ہوئے ہیں۔ذرّات کی کمیت 100g،150gاور 200g بالترتیب ہے۔ مثلث کے ہر ضلع کی لمبائی 0.5ہے۔


جواب
26



شکل 7.9کے مطابق اگر ہم محورx-اور محورy-منتخب کریں تو مساوی الاضلاع مثلثOABتشکیل دینے والے نقاط A،OاورBکے کوآرڈی نیٹس بالترتیب
(0,0) ،(0.5,0)
اور
(0.25, 0.25pr3)
ہیں۔فرض کیجئے کمیتیں 150 g،100 gاور 200gبالترتیب نقطہA،OاورB پرہیں۔تب

25
شکل میں مرکزکمیت Cدکھایا گیا ہے۔یہ نوٹ کریں کہ یہ نقطہ مثلث OAB کا جیومیٹریائی مرکز نہیں ہے۔کیوں؟

مثال 7.2  مثلث ورقہ (triangular lamina) کا  کمیت مرکز معلوم کریں۔


جواب ورقہ(LMNengle) کو ہم چھوٹی چھوٹی پٹیوں میں تقسیم کرسکتے ہیں جس میں ہر پٹی قاعدہ،MNکے متوازی ہے (شکل 7.10 )۔

27
تشاکل کے لحاظ سے ہر حصہ کا کمیت مرکز اس کے وسطی نقطہ پر ہوگا۔اگر ہم سارے حصوں کے وسطی نقطوں کو ملائیں تو وسطی خط(Median) LPملے گا۔مثلث کا کمیت مرکزاسی  وسطی خط LPپرMQ واقع ہوگا۔ اسی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کمیت مرکز، وسطی خطMQاور وسطی خط NRپر واقع ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمیت مرکز وسطی خطوط کے نقطہ تقاطع(point of intersection)پر ہوگا، یعنی مثلث کے وسطانی مرکز(Centroid) G پر

مثال 7.3  ریکساں -Lشکل ورقہ (ایک پتلی چپٹی پلیٹ) جس کے ابعاد نیچے دیے گئے ہیں ، کا مرکز کمیت معلوم کریں۔ورقہ کی کمیت 3Kg ہے۔


جواب شکل7.11  کے مطابق xاور y محور کا انتخاب کرنے پر -Lشکل ورقہ کی راسوں کے کوآرڈی نیٹس معلوم کیے جاسکتے ہیں جو شکل 7.11میں دکھائے گئے ہیں۔۔ہم  -Lشکل ورقہ کو تین مربع شکلوں پر مشتمل مان سکتے ہیں، جن میں سے ہر مربع کے ضلع کی لمبائی 1mہے۔ ہر مربع کا وزن1 kg ہے۔کیونکہ ورقہ ہموار ہے۔مربعوں کے مرکز کمیت، C1،C2 ،C3تشاکل  کے ذریعے، ان کے جیومیڑیائی مراکز ہوں گے۔ جن کے کوآرڈی نیٹں، بالترتیب،28ہیں۔ہر مربع کی کمیت کو ہم اسی نقطہ پر مرکوز سمجھتے ہیں ۔اب پوری شکل کے لیے کمیت مرکز(x,y)ہوگا۔

29

-Lشکل کا کمیت مرکزخط ODپر واقع ہوگا۔یہ ہم بغیرحساب کے بھی  انداز کر سکتے تھے ۔آپ بتاسکتے ہیں کیوں؟ مان لیجئے تین مربعے جو -L شکل کاورقہ بناتے ہیں (شکل 7.11)اور ان کی کمیتیں الگ الگ ہوں، تب آپ کس طرح کمیت مرکزمعلوم کریں گے؟

7.3   مرکزکمیت کی حرکت(MOTION OF CENTRE 

OF MASS)  

مرکزکمیت کا مطالعہ کرنے کے بعد اب ہم اس مقام پر ہیں  nذرات کے نظام کے لیے اس کی طبیعی اہمیت پر بحث کرسکتے ہیں۔ہم دوبارہ مساوات (7.4 d) کو اس طرح لکھ سکتے ہیں
30
مساوات کے دونوں طرف وقت کے ساتھ تفرق (differentiate)کرنے پر
31
جہاںv1(dr1/dt=) پہلے ذرّہ کی رفتار ہے.v2(=dr2/dt دوسرے ذرہ کی رفتار ہے اورV=dR/dt کمیت مرکزکی رفتار ہے۔یہ خیال رہے کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ کمیتیں: ......m1, m2  وقت کے ساتھ سے نہیں بدلتی ہیں۔اس لیے تفرق کے وقت انھیں ہم نے مستقلہ عدد مانا ہے۔
مساوات (7.8)کو وقت کے ساتھ تفرق کرنے پر
3
یا
MA= m1a1+m2a2+....+mnan (7.9)
جہاں a1(= dv1/dt)پہلے ذرّہ کا اسراع ہے اور a2(= dv2/dt) دوسرے ذرّہ کا اسراع ہے اور A(=dv/dt) ذرّات کے نظام کے مرکز کمیت  کا اسراع ہے۔
اب نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق پہلے ذرّہ پرلگ رہی قوت F1=m1a1ہے۔ دوسرے ذرہ پر لگ رہی قوت F2=m2a2 ہے۔اور اسی طرح اور آگے بھی ۔مساوات (7.9) کو ہم اس طرح لکھ سکتے ہیں۔
MA = F1+ F2+ --------- + Fn      (7.10)
اس لیے ذرّات کے نظام کی کل کمیت اور کمیت مرکز کے اسراع کا حاصل ضرب ذرّات کے نظام پر لگ رہی تمام قوتوں کا سمتیہ جوڑ ہوتا ہے۔
نوٹ کریں جب ہم پہلے ذرّہ پر قوت  F1 کی بات کرتے ہیں تو یہF1 کوئی ایک قوت نہیں ہوتی بلکہ پہلے ذرے پر لگ رہی  تمام قوتوں کا سمتیہ جوڑ ہوتا ہے۔اسی طرح دوسرے ذرے کے لیے بھی ۔ ہر ذرے پرلگ رہی قوتوں میں یہاں نظام کے باہر کے اجسام کے ذریعے ذرے پر لگائی گئی بیرونی قوتیں اور ذرات کے ذریعے ایک دوسرے پر لگائی گئی اندرونی قوتیں دونوں شامل ہیں۔ ہم نیوٹن کے تیسرے قانون سے جانتے ہیں کہ یہ اندرونی یہ قوتیں مساوی اور مخالف جوڑوں میں ہوتی ہیں اور مساوات (7.10)میں دیے گئے قوتوں کے حاصل جمع میں ان کا حصّہ صفر ہوتا ہے۔ ایسی لیے مساوات(7.10)میں صرف باہری قوتوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ اب ہم مساوات (7.10) کو دوبارہ لکھ سکتے ہیں
MA = Fext                           (7.11)
جہاںFext ان تمام بیرونی قوتوں کا مجموعہ ہے جو ذرّات کے نظام پرلگ رہی ہیں۔ مساوات (7.11) کی تعریف اس طرح ہوگی۔ ذرّات کے نظام کا  کمیت مرکز اس طرح حرکت کرتا ہے جیسے تمام کمیت ،کمیت مرکز پر مرتکز ہواور تمام بیرونی قوت بھی اسی نقطہ پر لگ رہی ہو۔
مساوات (7.11)حاصل کرنے کے لیے ہمیں ذرّات کے نظام کی فطرت کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ نظام ذرّات کا مجموعہ بھی ہوسکتا ہے۔ جس میں ہر طرح کی داخلی حرکت شامل ہو اور ایک استواری جسم جس میں صرف خطی انتقالی حرکت یا خطی انتقالی اور گردشی حرکت دونوں شامل ہوں ۔نظام کچھ بھی ہو اور انفرادی ذرّات کی حرکت خواہ کسی بھی طرح کی ہو مرکز کمیت مساوات (7.11) کے مطابق ہی حرکت کریگا۔
توسیعی (متناہی سائزکے) اجسام کو واحد ذرّات کے بہ طور برتنے کے بجائے (جیسا کہ ہم پچھلے ابواب میں کرتے رہے ہیں)، اب ہم انہیں ذرّات کے نظام کے بہ طور برت سکتے ہیں۔پورے نظام کی کمیت کو کمیت مرکزکہتے ہیں۔پورے نظام کی کمیت کو کمیت مرکز پر مرتکزمان کر اور نظام پر لگ رہی تمام باہری قوتوں کو کمیت مرکز پر کام کرتا ہوا مان کر، ہم ان اجسام کی حرکت کا خطی انتقالی جز، یعنی کہ، نظام کے کمیت مرکز کی حرکت، حاصل کرسکتے ہیں۔

یہی وہ طریقہ ہے جو ہم نے پہلے بھی اجسام پر لگ رہی قوتوںکا تجزیہ کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا،گوکہ ہم نے نہ تو طریقے کی الفاظ کے ذریعے وضاحت کی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا تھا۔اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلے مطالعے میں ہم نے یہ فرض کرلیا تھا، حالانکہ کہا نہیں تھا کہ ہم فرص کررہے ہیں، کہ گردشی حرکت اور ذرّات کی اندرونی حرکت یا تو شامل نہیں ہیں یا ناقابلِ لحاظ ہیں۔اب ہمیں اس مفروضے کی ضرورت نہیں ہے۔اب ہم نے نہ صرف یہ کہ پہلے استعمال کیے گئے طریقے کا جواز حاصل کرلیا ہے بلکہ ہم نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ اگر (i)ایک استوارِجسم خطی انتقالی حرکت کے ساتھ گردشی حرکت بھی کررہا ہو (ii)ایک ذرّات کے نظام میں ہر قسم کی اندرونی حرکت شامل ہو، تو اس کی خطی انتقالی حرکت کو کیسے بیان کریں اور علیحدہ کریں۔
شکل (7.12) مساوات (7.11) کو بہ خوبی واضح کرتی ہے۔ایک پروجکٹائل جو ایک پیرابولک (مکافی) راستہ پر چل رہا ہوتا ہے درمیان میں ہوا میں دھماکہ سے مختلف حصوں میں بکھر جاتا ہے۔وہ قوتیں جن کی وجہ سے دھماکہ ہوا، داخلی قوتیں ہیں۔یہ قوتیں کمیت مرکز کی حرکت میں کوئی حصہ نہیں لیتیں۔ اس لیے جسم پر لگ رہی کل بیرونی قوت، یعنی کہ مادی کشش قوت، دھماکہ سے پہلے اور بعد میں ایک ہی ہوگا۔اس لیے باہری قوت کے زیرِاثر، مرکز کمیت، اسی مکافی حرکت خط پر حرکت کرنا جاری رکھتا ہے، جس پر وہ اگر دھماکہ نہ ہوا ہوتا تو حرکت کرتا۔
35

شکل 7.12 پراجکٹائل کے ٹکڑوں کا کمیت مرکز اسی مکافی حرکت خط پر حرکت کرنا جاری رکھتا ہے، جس پر اگر دھماکہ نہ ہوا ہوتا تو وہ حرکت کرتا۔

7.4  ذرات کے نظام کا خطی میعارِ حرکت

 ہم یاد کریں کہ خطی میعارِ حرکت کی تعریف ہے:
p = mv                                                (7.12)
اگر ہم نیوٹن کے دوسرے  قانون کو یاد کریں تو ایک ذرّہ کے لیے
36
 جہاںFذرہ پر لگی ہوئی قوت ہے۔اگر ہمn  ذرّات کا نظام مان لیں، جس میں ذرات کی کمیتیں بالترتیب m1,m2----mn اوران کی رفتاریں بالترتیب v1,v2----vn  ہیں۔ ہوسکتا ہے، ذرات آپس میں باہم عمل کریں اور ان پر باہری قوتیں بھی لگ رہی ہوں۔ پہلے ذرّہ کا خطی میعارِحرکت m1,v1 ہے، دوسرے ذرّہ کا m2v2 اور اسی طرح n+th ذرّہ کا mnvnہے۔
nذرّات کے نظام کے لیے خطی میعار حرکت انفرادی ذرّات کے میعار حرکت کا سمتیہ حاصل جمع ہوتا ہے۔لہٰذا
p=p1+p2+...+pn
=m1v1+m2v2+...+m2vn   (7.14)
مساوات (7.8)سے تقابل کرنے پر
P = Mv            (7.15)
اس لیے ذرّات کے نظام کا کل میعارِ حرکت  نظام کی کل کمیت Mاور اس کے کمیت مرکزکی رفتار vکا حاصل ضرب ہوتا ہے۔مساوات(7.15)کو وقت کے ساتھ تفرق کرنے پر
 dp    dv
-- M -- MA (7.17)
dt
مساوات (7.16)اور (7.11) کا مقابلہ کرنے پر
39
یہ نیوٹن کے دوسرے قانون کی ہی ایک شکل ہے جس کی توسیع ذرات کے نظام کے لیے کی گئی ہے۔
مان لیجئے ذرّات کے نظام پر لگ رہی بیرونی قوتوں کا حاصل جمع صفر ہے۔تب مساوات  (7.17)
4 = 0  or  p=constant    (7.18 a)
اس لیے جب ذرّات کے نظام پر لگائی گئی کل بیرونی قوت صفر ہے تو اس حالت میں نظام کا کل میعارِ حرکت ایک مستقلہ ہوگا۔یہ ذرّات کے نظام کے کل خطی میعارِ حرکت کی بقا کا قانون بھی کہلاتا ہے۔مساوات (7.15)کی رو سے جب لگائی گئی کل بیرونی قوت صفرہے تو کمیت مرکزکی رفتار بھی مستقلہ ہوگی۔اس باب میں ذرات کے نظام سے کی جانے والی پوری بحث میں ہم یہ فرض کر رہے ہیں کہ نظام کی کل کمیت مستقلہ رہتی ہے۔
یہ خیال رہے کہ داخلی قوتوں یعنی کہ ذرات کے ذریعے ایک دوسرے پر لگائی گئی قوتوں کی وجہ سے  ہر ذرّہ پیچیدہ خط راہ (trajectory) اختیار کرسکتا ہے۔لیکن، پھر بھی اگر نظام پر لگ رہی کل بیرونی قوت صفر ہے تو کمیت مرکز ایک ہی متعین رفتار سے حرکت کرتا ہے۔ یعنی ایک خط مستقیم میں یکساں رفتار سے آزاد ذرّہ کی طرح حرکت کرتا ہے ۔سمتیہ مساوات (7.18 a)تین غیرسمتی مساواتوں کے برابر ہے۔
Px = c1, Py = c2 اور Pz = c3 (7.18 b)
یہاں  Px،  Py ،Pz  کلمیعارِ حرکتPکے اجزاء ہیں جو بالترتیب x,yاور z سمتوں میں ہیں۔c2, c1اور c3مستقلہ ہیں۔
41
شکل(a) 7.13  ایک بھاری نیوکلیسں (Ra)ایک ہلکے  نیوکلیس (Rn) اور ایک الفا پارٹیکل (He)میں ٹوٹ جاتا ہے۔نظام کا کمیت مرکز  یکساں حرکت میں ہے
(b) بھاری نیوکمیں(Ra)کا ویسے ہی ٹوٹنا جبکہ کمیت مرکز حالتِ شکون میں ہے۔ دونون ماحصل ذرات غالف سمتوں میں (آگے پیچھے) جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم کسی متحرک غیرمستحکم(unstable) ذرے کے ریڈیوایکٹو تنزل (decay) کو لیتے ہیں جیسے ریڈیم کا نیوکلیس ۔ایک ریڈیم نیوکلیس ٹوٹ کر ایک ریڈان نیوکلیس اور ایک الفا ذرّہ بنتا ہے۔اس تنزل میں عامل قوتیں نظام کی داخلی قوتیں ہوتی ہیں اور نظام پر لگ رہی باہری قوتیں نا قابلِ لحاظ ہوتی ہیں۔ اس لیے نظام کا کل خطی میعارِ حرکت تنزل سے پہلے اور بعد میں یکساں ہوتا ہے۔ تنزل میں پیدا ہونے والے  دونوں ذرے، ریڈ ان نیوکلیس اور -aذرّہ مختلف سمتوں  میں اس طرح حرکت کرتے ہیں کہ انکاکمیت مرکز اسی راستے پر حرکت کرتا ہے، جس پر وہ ریڈیم نیوکلیس حرکت کررہا تھا،جس کا تنزل  ہوا ہے۔ (شکل 7.13 (a))۔

اگر ہم اس حوالہ فریم سے مشاہدہ کریں، جس میں کمیت مرکز حالتِ سکون میں ہے۔توتنزل میں شامل ذرّات کی حرکت نسبتاً سادہ معلوم ہوتی ہے۔ماحصل ذرات مخالف سمتوں میں (آگے پیچھے) اس طرح کرتے ہیں کہ ان کا کمیت مرکز حالتِ سکون میں ہی رہتا ہے۔ 
 (شکل 7.13 (b))۔
درج بالاریڈیو ایکٹوتنزل کی طرح کئی دیگرمسائل کے حل میں بھیسہولت رہتی ہے اگرتجربہ گاہ حوالہ جاتی فریم کے بجائے کمیت مرکز حوالہ فریم میں کام کیا جائے۔
42

شکل  7.14 (a) دوتاروں s1(ٹوٹا ہوا خط) اور s2 (مسلسل خط) کے خطوطِ راہ، جو ایک دوتائی نظام تشکیل دیتے ہیں اور ان کا کمیت مرکز C یکساں حرکت کررہا ہے۔

(b) یہی دوتائی نظام، کمیت مرکز حالتِ سکون میں ہے۔

ُؑفلکیات میں دوتائی ستارہ (binary or double) ایک عام واقعہ ہے۔اگر کوئی بیرونی قوتیں نہیں ہیں توکسی دوتائی ستارہ کا کمیت مرکز ایک آزاد ذرّے کی طرححرکت کرتا ہے، جیسا کہ(شکل 7.14 (a) )میں دکھایا گیا ہے۔یکساں کمیت کے دو تاروں کے خطوطِ راہ بھی دکھائے گئے ہیں، جو پیچیدہ معلوم ہوتے ہیں۔ اگر ہم کمیت مرکز فریم پر جاتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ دونوںتارے ایسے مرکز کمیت کے گرد ایک دائرہ میں حرکت کررہے ہیں، جبکہ کمیت مرکز خود حالت سکون میں ہے۔یہ خیال رہے کہ تاروں کے مقام آپس میں مخالف قطری سمت میں ہیں (شکل 7.14 (b))۔اس طرح ہمارے حوالہ جاتی فریم میں تاروں کے خط راہ میں دوحرکتوں کا اتحاد ہے (i)کمیت مرکز کی ایک خط مستقیم میں یکساں حرکت اور (ii) تاروں کے کمیت مرکزکے گرد دائری مدار۔
جیسا کہ مندرجہ بالادونوں مثالوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نظام کے مختلف اجزاء کی حرکت کو ’’کمیت مرکز کی حرکت‘‘ اور ’’مرکزکمیت کے گرد حرکت‘‘ میں حلیحدہ کرنا ایک بہت ہی کارآمد تکنیک ہے جس سے ہم نظام کی حرکت کو سمجھ سکتے ہیں۔

7.5  دوسمتیوں کاسمتی حاصلِ ضرب

PRODUCT  (VECTOR OF TWO VECTORS)

ہم پہلے ہی سمتیوں اورطبیعات میں اس کے استعمال کے بارے میں مطالعہ کرچکے ہیں۔ باب 6 (کام، توانائی اور طاقت) میں ہم دوسمتیوں کے غیرسمتی حاصل ضرب کی تعریف کرچکے ہیں۔ایک اہم طبیعی مقدار ’کام‘ کو دوسمتیہ  مقداروں قوت اور ہٹاؤ کے غیرسمتی حاصل ضرب کے طور پر معرف کیا جاتا ہے۔
اب ہم دوسمتیوں کے ایک اور قسم کے حاصل ضرب کی تعریف کریں گے۔یہ حاصل ضرب سمتیہ ہے۔ گردشی حرکت کے مطالعہ میں دواہم مقداروں کو، جن کے نام ہیں،قوت کی نقل و حرقت (moment of a force) اور زاویائی معیارِرکت (angular momentum)،سمتیہ حاصل ضرب کے ذریعے معرف کیا جاتا ہے۔

سمتیہ حاصل ضرب کی تعریف   (Definition of Vector Products)

دوسمتیہ aاور bکا سمتی حاصل ضرب، سمتیہ cاس طرح ہے
(i) cکی عددی مقدار: C=c=absinqجہاں aاورb عددی مقداریں ہیں اورqدونوں سمتیوں کا درمیانی زاویہ ہے(ii) aاور b جس مستوی میں ہیں، Cاس مستوی پر عمود ہے۔
(ii)  اگر ہم دائیں ہاتھ والا اسکرواس طرح لیں کہ اسکا سر aاور b کے مستوی میں ہوا اور اسکرو اس کی عمودی سمت میں ہو۔ اگر ہم اسکرو کے سر کو aسے bکے سمت میں گھمائیں تو اسکرو کا سرا cکے سمت میں حرکت کرے گا یہ دائیں ہاتھ والا اسکرو قاعدہ شکل 7.15 (a)  میں دکھایا گیا ہے۔
اگر ہم اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک ایسے خط کے گرد موڑیں جو a اورb  کے مستوی پر عمود ہے اور اگر ہماری انگلیاں  a سےb  کی سمت میں مڑی ہوں، تو ہمارا باہرنکلا ہوا انگوٹھا، c کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، جیسا کہ شکل 7.15(a)میں دکھایا گیا ہے۔
43

شکل 7.15 (a)دائیں ہاتھ والے اسکروکا قاعدہ جو دوسمتیوں کے سمتیہ حاصل ضرب کی سمت کی تعریف کرتا ہے۔

(b)دائیں ہاتھ کا قاعدہ جو سمتیہ حاصل ضرب کی سمت کی تعریف کرتا ہے۔


دائیں ہاتھ کے طریقہ کو بہ آسانی اس طرح سمجھا جاسکتا ہے۔دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو کھولیں اور انگلیوں کو aسے bکی طرف توڑیں۔آپ کا اٹھا ہوا انگوٹھاcکی سمت میں ہوگا۔
یہ سمجھنا چاہئے کہ کن ہی دوسمتیوںaاور bکے درمیان دو زاویے ہوں گے۔ شکل7.15 (a)اور 7.15 (b)میں یہ زاویے qاور (360-q) ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے وقت گردش کوa  اورb کے درمیان نسبتاً چھوٹے استعمال زاویہ(1800º<)کے ذریعہ لینا چاہیے۔ یہاں یہ زاویہqہے۔
چونکہ اس سمتیہ حاصل ضرب کی نشاندہی کرنے کے لیے کراس کا نشان استعمال کرتے ہیں اس لیے اسے کراس پراڈکٹ بھی کہتے ہیں۔
نوٹ کریں کہ دو سمتیوں کا غیرسمتی حاصل ضرب تقلیبی (commutative)ہوتا ہے یعنی a.b¹b.a ، جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے۔
لیکن سمتیہ حاصل ضرب تقلیبی نہیں ہوتا ۔یعنیb×a a×b
a×bاور b×a دونوں کی عددی مقداریکساں (absinq)ہوتی ہے اور دونوں aاور bکی عمودی سمت میں ہوتے ہیں۔ لیکن دائیں ہاتھ والے اسکرو میں a×bکا مطلب aسے bکی طرف گھمائو ہے جب کہ b×aکا مطلب bسےaکی طرف گھماؤ ہے۔اس کا مطلب ہے دونوں سمتیے ہمیشہ مخالف سمت میں ہیں ۔اس لیے
 a × b = – b × a
سمتیہ حاصل ضرب کی ایک اور صفت انعکاس میں ان کا برتاؤ ہے۔ انعکاس میں (یعنی کہ آئینہ سے عکس لینے پر) ہمیں حاصل ہوتا ہے: y↔-y,x↔-x ،   ، اور  .z↔-z اس لیے ایک سمتیے کے تمام جزسمتیہ اپنی سمت تبدیل کرلیتے ہیں اورb↔-b,a↔-a۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ انعکاس میں a×bمیں کیا ہوتا ہے
axb↔(-a)+(-b)=axb
اس لیے انعکاس میں a×b اپنی سمت تبدیل نہیں کرتا۔
غیرسمتیہ اور سمتیہ دونوں حاصل ضرب سمتیہ جمع کے لحاظ سے تقسیمی (distributive) ہوتے ہیں۔اس لیے
a.(b+c)=a.b+a.c
a+(b+c)=a+b+a+c
· ہم c=a×bکو اجزائی شکل میں بھی لکھ سکتے ہیں۔اس کے لیے ہمیں پہلے کچھ ابتدائی کراس حاصل ضرب کے بارے میں جاننا ہوگا۔
(i)
  a×a=0
 (0ایک نَل سمتیہ ہے یعنی ایک سمتیہ جس کی عددی قدر صفر ہے) یہ اس لیے ہوتا ہے کہ a×aکی عددی قدر: a2 sin00=0 ہے اس سے ہم پاتے ہیں کہ :
47

یہ نوٹ کریں کہ 48کی عددی قدر sin 900 یا1ہے کیونکہ i  اور j دونوں کی عددی قدر اکائی ہے اور ان کا درمیانی زاویہ 90o ہے۔ ایک ایسااکائی سمتیہ جوi  اورj کے مستوی کی عمودی سمت میں، دائیں ہاتھ کے اسکرو طریقہ کے مطابق، ہوk ہوگا۔ اس طرح ہم درج بالا نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ آپ اسی طرح تصدیق کرسکتے ہیں کہ:

j+=iاورk+i=j
کراس پراڈکٹ کے تقلیبی اصول کے مطابق
j+i=k.k+j=-i.i+=-j
نوٹ کریں کہ اگرi.j.k سمتیے مندرجہ بالا سمتیہ حاصل ضرب میں دائری ترتیب میں ہیں تو سمتیہ حاصل ضرب مثبت ہوتا ہے اوراگرi.j.kسمتیہ حاصل ضرب میں دائری ترتیب میں نہیں ہے تو سمتیہ حاصل ضرب منفی ہوتا ہے۔
اب،
a+b=(axi+ayi+a2k)+(bxi+byi+b2k)
=axbyk - axbzj-aybxk+aybxi+azbxi-axbyi
=(ayb2-a2by)i+(azbx--axby)j+(axby -aybx)k

درج بالا تعلق قائم کرنے کے لیے ہم نے آسان کراس پراڈکٹ کا استعمال کیا ہے۔a×bکے اس تعلق کو ہم ڈٹرمنٹ(مقطعہ) (determinant) کی شکل میں بھی دکھاسکتے ہیں، جسے یادرکھنا آسان ہے۔
5
مثال 4۔7 دو سمتیوںbاور کا سمتی حاصل ضرب اور غیر سمتی حاصل ضرب حاصل کریں-
a=(3i -4j +5k) اورb= (-2i+j-3k
= - 6 - 4 - 15
= - 25
6
خیال رہے
b + a = 7 i +j+5k

7.6  زاویائی رفتار اور خطی رفتار سے اس کا رشتہ   (Angular Velocity and Its Relation with Linear Velocity)

اس حصّہ میں ہم یہ مطالعہ کرینگے کہ زاویائی رفتار کیا ہے اور اس کی گردشی حرکت میں کیا اہمیت ہے۔ ہم نے دیکھا کہ گردش کرتے ہوئے جسم کا ہر ذرہ ایک دائرہ میں حرکت کرتا ہے۔ذرہ کی خطی رفتار کا تعلق زاویائی رفتار سے ہے۔ان دونوں مقداروں کے درمیان رشتہ میں ایک سمتیہ حاصل ضرب شامل ہے جس کے بارے میں ہم نے پچھلے حصّہ میں سیکھا ہے۔
اب ہم پیچھے حصّہ 7.4میں جاتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاچکا ہے ایک متعین (جامد) محور کے گرد استواری جسم کی گردشی حرکت میں، جسم کا ہر ذرّہ ایک دائرہ میں حرکت کرتا ہے، جس کا مرکزC،محورپر ہوتا ہے۔دائرہ کا نصف قطرr ہوتا ہے، جو کہ نقطہ Pکا محور سے عمودی فاصلہ ہے۔ہم Pپر ذرّہ کے خطی رفتار سمتیہ کو بھی دکھارہے ہیں۔یہ Pپر دائرہ پر مماس کی سمت میں ہے۔

54
شکل 7.16 ایک متعین محور کے گرد گردشی حرکت(استواری جسم کا ایک ذرہ (P)متعین محور (z)کے گرد دائرہ میں گردش کرتا ہے جب کہ اس کا مرکز(c)محور پر ہوتا ہے۔

فرض کیجیے کہ وقفہ t∆کے بعد ذرّہ کا مقام P' ہے (شکل 7.16 )۔ زاویہ PCP'، ذرّہ کا وقفہ et میں زاویائی نقلe0 ظاہر کرتا ہے۔وقفہ et پر، ذرّہ کی اوسط زاویائی رفتار55ہے۔ جیسے جیسےetصفر کی جانب جاتا ہے (یعنی کہ، اس کی قدر کم سے کم ہوتی جاتی ہے)، نسبت55ایک انتہا پر پہنچتی ہے، جو ذرّہ کی مقام Pپر ساعتی زاویائی رفتار56ہے۔ ہم ساعتی زاویائی رفتار کو(1) (یونانی حرف اومیگا) سے ظاہر کرتے ہیں۔ہم دائری حرکت کے مطالعہ سے جانتے ہیں کہ دائرہ میں حرکت کرتے ہوئے ذرّہ کی خطی رفتار کی عددی قدر اور اس کی زاویائی رفتار w میں ایک سادہ رشتہ ہے:v = wr  ، جہاں rدائرہ کا نصف قطر ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی دی ہوئی ساعت پر v = w r رشتہ استوار جسم کے ہر ذرّہ کے لیے درست ہے۔ اس لیے ایک ذرہ جو متعین محور سے عمودی دوری riپر ہے، اس کی خطی رفتار viاس طرح ہوگی  :
vi = w ri      (7.19)
اشاری عدد  i کی قیمت 1 سے nتک ہے جہاں nجسم میں کل ذرَّات کی تعداد ہے۔
وہ ذرّات جو محور پر ہیں، ان کے لیے : r=0، اس لیے v = wr = 0 اس لیے وہ ذرّات جو محور پر ہیں حالت سکون میں ہوں گے۔ اس سے یہ تصدیق ہوجاتی ہے کہ محور متعین ہے (حرکت نہیں کرتا ہے)۔
یہ خیال رہے کہ ہم اسی زاویائی رفتار wکوسارے ذرّات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مکمل جسم کی زاویائی رفتار wہے۔
ہم نے ایک جسم کی خالص خطی انتقالی حرکت کی خاصیت یہ بتائی تھی کہ اس حرکت میں کسی بھی دی ہوئی ساعت پر جسم کے تمام اجزاء کی رفتار یکساں ہوتی ہے۔اسی طرح ایک جسم کی خالص گردشی حرکت کی خاصیت یہ ہے کہ کسی بھی ساعت پر جسم کے تمام اجزاء کی زاویائی رفتار یکساں ہوتی ہے۔نوٹ کریں کہ کسی نصب کئے ہوئے محور کے گرد، ایک استوارِجسم کی گردش کی یہ تعریف اسی بات کو کہنے کا دوسرا طریقہ ہے، جو ہم نے حصّہ7.1میں کہی تھی۔یعنی کہ جسم کا ہر ذرّہ ایک ایسے دائرہ میں حرکت کرتا ہے جو محورپر عمودمستوی میں ہوتا ہے اور جس کا مرکز محورپر ہوتا ہے۔
ہماری اب تک کی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ زاویائی رفتارغیرسمتیہ ہے۔ دراصل یہ ایک سمتیہ ہے۔ہم اسے ثابت نہیں کریں گے، لیکن ہم یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں۔ایک متعین (نصب شدہ) محور کے گرد گھومنے پر زاویائی رفتارسمتیہ گردش کے محور کی طرف ہوتا ہے اور اس سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس طرف دائیں ہاتھ والا اسکروآگے بڑھتا ہے اگر اسکرو کے سر کو جسم کے ساتھ گھمایا جائے (شکل 7.17)۔
اس سمتیہ کی عددی قدر: 57ہے۔
7

شکل (a) 17۔7  اگر دائیں ہاتھ والے اسکرو کا سر جسم کے ساتھ گردش کرتا ہے تو اسکرو زاویائی رفتار(i) کی سمت میں آگے بڑھتا ہے - اگرجسم کی گردش کی سمت (جو گھڑی سوئی کی سمت یا مخالف سمت میں ہو سکتی ہے) تبدیل ہو جائے تو (i) بھی اپنی سمت تبدیل کرلیتا ہے-

8

شکل (b) 17۔7  زاویائی رفتار سمتیہ (i) متعین (نصف شدہ) محور کی سمت میں ہے- جیسا کہ دکھایا گیا ہے-p پر ذرہ کی خطی رفتار 9 ہے- یہ (i) اور r دونوں پر عمود ہے اور اس کی سمت ڈرہ کے ذریعہ بنائے گئے دائرہ کی مماس کی سمت میں ہے-

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ سمتیہ حاصل ضرب w×r کس سے مطابقت رکھتا ہے۔ شکل 7.17(b)، جو شکل 7.16کا حصہ ہے، ذرہ Pکے راستہ کو دکھاتی ہے۔جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے، سمتیہ w متعین (جامد) (-z) محور کی سمت میں ہے اور نقطہ P پر استوارِجسم کے ذرّے کا، مبداO  کی مناسبت سے مقام سمتیہ: OP ®r= ہے۔ نوٹ کریں کہ مبدا گردش کے محور پر منتخب کیا گیا ہے۔
×r=w ×OP=w ×(OC+CP)
 لیکن
  w×  OC  = O کی سمت میں ہے۔)OC ،w (\
اس لیے
(i) + r = (i) cp
سمتیہ �،(i) ,(i) x cpپر عمود ہے۔یعنی کہ سمتیہw× CP، -zمحور،CP اور Pپر ذرّے کے ذریعے بنائے گئے دائرے کے نصف قطرپر عمود ہے۔اس لیے اس کی سمت،Pپر دائرہ کے مماس کی سمت میں ہے CP  کی عددی قدر : (CP) w ہے کیونکہw اور CPدونوں ایک دوسرے کی عمودی سمت میں ہیں۔ہم CPکو �سے دکھائیں گے نہ کہ rسے۔
اس لیے10عددی قدر کا ایک سمتیہ ہے، جس کی سمت Pپر ذرّہ کے ذریعے بنائے گئے دائرہ پر مماس کی سمت میں ہے۔P پر خطّی رفتارسمتیہ کی عددی قدر اور سمت بھی وہی ہیں۔اس لیے  :
v = (i) x r
دراصل، (مساوات 7.20)، استوارجسم کی اس گردشی حرکت کے لیے بھی درست ہے جو ایک متعین (نصب شدہ) نقطے کے گرد کی جاتی ہے، جیسے کہ ایک لٹّوکی گردشی حرکت ] شکل 7.6 (a) [ ۔اس صورت میں  ®r، متعین (نصب شدہ) نقطہ کی مناسبت سے، جسے مبدا منتخب کیا جاتا ہے، ذرّہ کے مقام سمتیہ کو ظاہر کرتا ہے۔
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ متعین محور کے گرد گردش میں w کی سمت وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی ہے۔اس کی عددی قدر وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔ ایک زیادہ عمومی گردشی حرکت میں، wکی عددی قدر اور سمت دونوں وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہیں۔

7.6.1  زاویائی اسراع(Angular acceleration)  

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ ہم گردشی حرکت کا مطالعہ انہیں مماثل خطوط پر آگے بڑھا رہے ہیں، جن پر ہم نے خطی انتقالی حرکت کا مطالعہ کیا تھا اور جس سے ہم واقفیت حاصل کرچکے ہیں۔خطی انتقالی حرکت کے حرکی متغیرات خطی نقل (ہٹائو) اور رفتار (v)کے مماثل، گردشی حرکت میں زاویائی نقل اور زاویائی رفتار(w) ہیں۔ اس لیے گردشی حرکت کو بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زاویائی اسراع کو معرف کیا جائے جو خطی انتقالی حرکت میں خطی اسراع کا مماثل ہے۔جس طرح خطی انتقالی حرکت میں خطی رفتار کی وقت کے ساتھ تبدیلی ِ شرح کو بہ طور خطّی اسراع معرف کیا جاتا ہے، اسی طرح زاویائی رفتار کی وقت کے ساتھ تبدیلی کی شرح زاویائی اسراع (a) کہلاتی ہے۔اس لیے
                                    (7.21)   11
اگرگردشی محور متعین (جامد) ہو توw اورaکی سمت بھی متعین ہوگی۔اس طرح یہ سمتیہ مساوات غیرسمتیہ مساوات میں بدل جاتی ہے۔
                            (7.22)   11

7.7  قوت گردشہ اور زاویائی معیارِحرکت

(Torque and Angular Momentum)
اس حصّہ میں ہم دو طبیعی مقداروںسے تعرف حاصل کریں کے جنہیں دوسمتیوں کے سمتی حاصل ضرب کی شکل میں معرف کیا جاتا ہے۔ مقداریں یہ ذرات کے نظام کی حرکت کے مطالعہ میں کافی اہم ہیں خاص طورپر  استوار جسم کی حرکت کے مطالعہ میں۔

7.7.1  قوت گردشہ   [Moment of Force (Torque)]

ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کسی استوار جسم کی حرکت، عمومی شکل میں، گردشی اور خطی انتقالی حرکت کا مجموعہ ہوتی ہے۔اگر جسم کسی ایسے نقطہ یا محورکے گرد،گردش کررہا ہو جو متعین (جامد) ہوتو صرف گردشی حرکت ہوتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جسم کی خطی انتقالی حالت کو بدلنے کے لیے،یعنی کہ خطی اسراع پیدا کرنے کے لیے، قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔اب آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ گردشی حرکت میں قوت کی مماثل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ایک عملی مثال لیتے ہیں : دروازہ کا کھولنا یا بند کرنا۔دروازہ ایک استوارجسم ہے جو قبضوں سے گذرتے ہوئے جامد عمودی محور کے گرد گردش کرسکتا ہے۔دروازہ کو کون گھماتا ہے؟ یہ صاف ہے کہ جب تک کہ کوئی قوت نہیں لگائی جائے گی دروازہ نہیں گھومے گا۔لیکن ہر قوت یہ کام نہیں کرسکتی۔کوئی قوت جو قبضہ خط پر لگائی گئی ہو کوئی گردشی حرکت نہیں دیتی۔جبکہ دی ہوئی عددی قدر کی وہ قوت جودروازہ کے عمودی سمت میں اس کے کنارے پر لگائی جائے گردشی حرکت پیدا کرنے میں سب سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔اس لیے گردشی حرکت کے لیے، صرف لگائی گئی قوت ہی نہیں بلکہ قوت کس طرح اور کہاں لگائی گئی ہے، بھی اہم ہیں۔

قوت کا گردشی مماثل قوت کا معیارِاثر(Moment of force) ہے۔ اسے قوتِ گردشہ(Torque)بھی کہتے ہیں۔(ہم الفاظ،قوت کا معیارِاثراور قوتِ گردشہ ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر، استعمال کریں گے)۔ہم پہلے ایک واحد ذرّہ (مخصوص صورت) کے لیے قوت کے معیارِاثر کی تعریف کریں گے۔پھرہم اس تصور کی توسیع ذرّات کے نظام، جس میں استوارِ جسم بھی شامل ہے، کے لیے کریں گے۔پھر ہم قوت کے معیارِاثر اور گردشی حرکت کی حالت میں ہونے والی تبدیلی، یعنی کہ استوارجسم کے اسراع میں رشتہ معلوم کریں گے۔

12
شکل 7.18  t = r × F، اس مستوی کے، جس میں rاور Fواقع ہیں، عمودی سمت میں ہے اور اس کی سمت دائیں ہاتھ والے اسکروکے  قاعدہ کے مطابق دی جاتی ہے۔
اگر قوت کسی ایک ذرہ  پرلگتی ہے جو مبدا Oکے مطابق نقطہPپر ہے اور اس کا مقام سمتیہ rہے (شکل7.18) تو ذرے پرلگ رہے قوت کے میعارِ اثر کی تعریف، مبداOکے مطابق، سمتیہ حاصلِ ضرب سے کی جاتی ہے۔
t = r × F                        (7.23)
قوت میعارِ اثر یا قوت گردشہ ایک سمتی مقدار ہے۔علامت tیونانی حرف ٹائو ہے۔ tکی عدوی قدرہے:   (7.24 a)                         t = r F sinq
جہاں rمقام سمتیہ rکی عدوی قدر ہے یعنی لمبائیOP،  Fقوت Fکی عددی قدر ہے اور q  rاور Fکے درمیان زاویہ ہے۔
قوت میعارِ اثر(قوت گردشہ)کے ابعاد ML2 T-2ہیں۔ جو کام یا توانائی کے ابعاد ہیں۔جب کہ یہ کام سے بالکل ہی الگ قسم کی طبعی مقدار ہے۔قوت گردشہ سمتیہ ہے جب کہ کام غیرسمتیہ ہے ۔قوت گردشہ کی SIاکائی نیوٹن میٹر (Nm)ہے۔قوت گردشہ کی عددی  قدرلکھی جاسکتی ہے۔
l = r p یا r1p (7.26b)
جہاں (= r sinø)�،Fجس خط پر لگ رہی ہے، مبدے سے اس خط کا عموی فاصلہ ہے۔ اور �قوت Fکا وہ جزہے جو rکے عمودی سمت میں ہے۔خیال رہے کہ اگر x=O ، x=O  یا 1800 یا  ø=O ہوتو t=Oہوگا۔
اس لیے قوت گردشہ صفر ہوتی ہے جب یا تو عامل قوت کی قدر صفر ہو یا جس خط پر قوت لگ رہی ہے وہ مبدا سے گذرتا ہو۔
 r×Fسمتی حاصل ضرب ہے اس لیے دوسمتیہ کے حاصل ضرب والی خصوصیت یہاں بھی لاگو ہوگی۔اگر Fکی سمت مخالف کردی جائے تو قوت گردشہ کی سمت بھی مخالف ہوجائے گی۔اگر دونوں سمتیہ rاورFمخالف سمت میں کردلیے جائیں تو قوت گردشہ کی سمت وہی رہے گی۔

7.7.2  ایک ذرہ کا زاویائی میعارِ حرکت

 (Angular Momentum of a Particle)

جس طرح قوت گردشہ خطی حرکت میں ، قوت کا گردشی مماثل ہے اسی طرح زاویائی میعارِ حرکت بھی خطی میعارِ حرکت کا گردشی مماثل ہے۔ہم سب سے پہلے ایک ذرہ کے لیے زاویائی میعارِ حرکت کی تعریف بیان کریں گے اور ایک ذرہ کی  حرکت میں اس کا استعمال دیکھیں گے۔ اس کے بعد اسی زاویائی میعارِ حرکت کی توسیع ذرّاتی نظام بہ شمولیت استوار جسم کے لیے کریں گے۔
قوت گردشہ کی طرح زاویائی معیارِحرکت بھی سمتیہ حاصل ضرب ہے۔ اسے خطی معیارِحرکت میعارِ اثر بھی کہا جاتا ہے۔اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زاویائی معیارِحرکت کی تعریف کیا ہے۔
ہم ایک ذرہ لیتے ہیں جس کی کمیت m اور، خطی معیارِحرکت pہے ،جو مبداOسے rمقام پر ہے۔ذرہ کا زاویائی معیارِحرکت  lہے تو
l = r × p (7.25a) 
زاویائی معیارِحرکت سمتیہ کی عددی قدر
l = r psinø
جہاں pخطی معیارِpکی عددی قدر ہے اور r، øاور Pکے درمیان زاویہ ہے۔ہم لکھ سکتے ہیں
l = r p یا r1 (7.26b)
جہاں (= rsinø) �مبدا سے pکے سمتی خط کی عمودی دوری ہے اور =(= p sinq)�، pکا وہ جزہے جو rسے عمودی سمت میں ہے۔ہم یہ امید کرتے ہیں کہ زاویائی میعارِ حرکت صفر ہوگا اگر خطی میعارِ حرکت صفر (p = O) ہے یا ذرہ مبدا پر (r=O) ہے یا pکا سمتیہ خط مبدا سے گذرتا ہے  1800)یا(ø = 00 ۔
طبعی مقداروں، قوت کا میعارِ حرکت اور زاویائی میعارِ حرکت میں ایک اہم رشتہ ہے۔یہ قوت اور خطی معیارِ حرکت کے رشتے کا گردشی مماثل ہے۔ 
ایک ذرہ کے لیے یہ رشتہ حاصل کرنے کے لیے ہم وقت کے اعتبار سے l = r × p کا تفرق کرتے ہیں۔
13
اب دائیں طرف کا تفرق معلوم کرنے کے لیے حاصل ضرب قاعدہ لگانے پر
14
 اب ذرہ کی رفتار v = dr/dt  اورp = mvہے۔
اس لیے 15 کیونکہ دو متوازی سمتیوں کاحاصل ضرب صفر ہوتا ہے۔
 چونکہ dp / dt = F,  اس لیے
16
اس لیے
17
یا
18
اس لیے، کسی ذرہ کے زاویائی میعارِ حرکت میں وقت کے ساتھ تبدیلی کی شرح ذرہ پر لگ رہے قوتِ گردشہ کے مساوی ہے۔یہ مساوات F = dp/dtکا گردشی مماثل ہے جو ایک ذرہ کی خطی انتقالی حرکت کے لیے نیوٹن کے دوسرے قانون کو ظاہر کرتی ہے۔ 

ذرّات کے نظام کے لیے قوت گردشہ اور زاویائی میعارِ حرکت

(Torque and angular momentum for a system of particles)

ایک دیے ہوئے نقطہ کے گردذرّات کے نظام کاکل زاویائی میعارِ حرکت حاصل کرنے کے لیے ہمیں انفرادی ذرات کے زاویائی میعارِ حرکت کا سمتیہ جمع کرنے کی ضرورت ہے۔اس لیے n ذرّات کے نظام کے لیے
19
ith  ذرّہ کا زاویائی میعارِ حرکت ہوگا
li = ri × pi
جہاںri  ، کے مطابقith  ذرہ کا مقام سمیتہ ،کسی دئیے گئے مبدا سے ہے اور  Pi = (mi vi)اس ذرّہ کا خطی میعارِ حرکت ہے۔ذرّہ کی کمیت mi ہے (اور رفتارvi ہے)۔ہم لکھ سکتے ہیں کہ ذرّات کے نظام کے لیے کل زاویائی میعارِ حرکت ہوگا
20
یہ ایک ذرے کے زاویائی میعارِ حرکت کی تعریف (مساوات 7.25 a )کی ذرت کے نظام کے میعارِ حرکت کے لیے توسیع ہے ۔
مساوات (7.23)اور (7.25 b)استعمال کرنے پر ہم پاتے ہیں
(a 28۔7)21
جہاں ti thذرہ پر لگ رہا قوتِ گردشہ ہے۔
t 1=r +F

سائیکل پہیہ پر ایک تجربہ

22

ایک سائیکل پہیہ لیجیے اور اسکی دھوری کو دونوں طرف بڑھائیے۔دونوں کنارے Aاور B پرایک ایک دھاگہ باندھئے۔ دونوں دھاگوں کو ایک ساتھ ایک ہاتھ سے اس طرح پکڑیں کہ پہیہ سیدھا کھڑا ہو۔اگرآپ دھاگہ چھوڑیں گے تو پہیہ جھک جائے گا۔ ایک ہاتھ سے دونوں دھاگے پکڑکرپہیہ کو سیدھا کھڑا رکھیں اور دوسرے ہاتھ سے خوب زور سے پہیہ کو دھوری کے گرد دوسرے ہاتھ سے گھمائیں۔ اب ایک دھاگہ مانا Bکو چھوڑ دیجیے اور مشاہدہ کیجیے کہ کیا ہوتا ہے۔

پہیہ عمودی سطح میں گھومتا رہتا ہے اور گردشی مستوی دھاگہ Aکے گردجھک جاتا ہے جسے آپ نے پکڑرکھا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ پہیہ کا گردشی محور یا اسکا زاویائی تحرک دھاگہ Aکے گرد ہے۔

گھومتا ہوا پہیہ زاویائی معیارِحرکت پیدا کرتا ہے۔اس زاویائی معیارِحرکت کی سمت معلوم کریں۔جب آپ نے گھومتے ہوئے پہیہ کو دھاگہ Aسے پکڑرکھا ہے اس حالت میں ایک قوت گردشہ پیدا ہوتا ہے (اب ہم اسے آپکے لیے چھوڑتے ہیں کہ قوت گردشہ کس طرح پیدا ہوتا ہے اور اس کی سمت کیا ہوتی ہے)۔قوت گردشہ کا اثر زاویائی تحرک پر یہ ہوتا ہے کہ قوت گردشہ اور زاویائی معیارِحرکت پر یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک ایسے محور کے گرد جھوما دیتا ہے جو محور زاویائی معیارِرحرکت اور قوت گردشہ دونوں پر عمودہے۔اُن تمام بیانات کی تصدیق کیجیے۔

قوت Fi ، ith  ذرّہ پرلگ رہی تمام بیرونی قوتوں Fiextاور نظام کے دوسرے ذرات کے ذریعے ithذرہ  پر لگائی جا رہی تمام داخلی قوتوں Fiintکا سمتیہ جمع ہے۔اس لیے ہم کل قوت گردشہ میں بیرونی اور داخلی قوتوںکا حصّہ الگ الگ کر کے اس طرح لکھ سکتے ہیں
23
ہمیں نیوٹن کے صرف تیسرے قانون (یعنی کن ہی دو ذرّات کے مابین کام کر رہی قوتیں یکساں اور مخالف ہوتی ہیں) کو ہی نہیں ماننا ہے بلکہ یہ بھی ماننا ہے کہ یہ قوتیں دو ذرّات کو ملانے والے خط کی سمت میں بھی ہیں۔اس حالت میں کل قوت گردشہ میں داخلی قوت کا حصّہ صفر ہوگا۔ کیونکہ ہر عمل۔ ردِعمل قوتوں کے جوڑے سے حاصل ہونے والا قوت گردشہ صفر ہوگا۔ اس لیے  tint = 0  اور  t  = text
چونکہ25 مساوات (a7.28 سے
(7۔28 b)   26
اس لیے کسی نقطہ کے گرد ذرّات کے نظام کے کل زاویائی میعارِ حرکت کی شرح وقت(حوالہ فریم کے مبدے کو مبدا مانا گیا ہے) اسی نقطہ کے گرد نظام پرلگ رہے تمام بیرونی قوت گردشہ کے حاصل جمع کے برابر ہوتی ہے۔مساوات (7.28 b) مساوات (7.23) کی ہی ایک توسیع ہے۔یہ خیال رہے کہ اگر صرف ایک ہی ذرّہ ہے تو کوئی داخلی قوت یاداخلی قوت گردشہ نہیں ہوگی۔مساوات (7.28 b) درج ذیل کی گردشی مماثل ہے
(17۔7)  27
یہ خیال رہے کہ مساوات (7.17) کی طرح، مساوات (7.28 b) بھی ذرّات کے کسی بھی نظام کے لیے لاگو ہوتی ہے خواہ وہ استوار جسم ہو یا اس کے انفرادی ذرّات میں ہر طرح کی داخلی حرکت ہو۔

زاویائی میعارِ حرکت کی بقا

 (Conservation of angular momentum)

اگرtext = 0 ہے تو مساوات (7.28 b)اس طرح ہوگی
یا
(7.29 a)                          مستقلہ قدر=L 
اس لیے اگر ذرّات کے نظام کا کل بیرونی قوت گردشہ صفر ہے تو اس حالت میں نظام کا کل زاویائی میعارِ حرکت مستقلہ ہوگا۔مساوات (7.29 a)تین غیرسمتی مساواتوں کے مساوی ہے۔
   (7.29 b)          Lz = K3    اور    Lx = K1, Ly = K2
یہاں K2،K1 اورK3  مستقلہ قدریں ہیں۔Ly  ،Lx اورLz کل زاویائی میعارِ حرکتLکے بالترتیبx ،  y اور zمحوروں پراجزاء ہیں۔ اس قول کاکہ کل زاویائی میعارِحرکت کی بقا ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ ان تینوں اجزاء میں سے ہر ایک کی بقا ہوتی ہے۔
مساوات (7.29 a)مساوات (7.18 a) کا گردشی مماثل ہے جو کہ ذرّات کے نظام کے لیے کل خطی میعارِ حرکت کے بقا کا قانون   ہے۔مساوات (7.18 a)کی طرح یہ بھی کئی حالات میں استعمال ہوتا ہے۔ اس باب کے آخر میں ہم اس کے کچھ دلچسپ  استعمالات بھی سیکھیں گے۔

مثال 7.5  مبدا  کے گرد ایک قوت 7i^+3j^–5k^ کا قوت گردشہ معلوم کریں۔قوت جس ذرّہ پر لگ رہی ہے، اس کا مقام سمتیہ i^–j^+k^ ہے۔

جواب  یہاں        r = i^- j^ + k^ 
اور                 F = 7i^+3j^–5k^
قوت گردشہ t = r × F  معلوم کرنے کے لیے ہمیں ڈِٹرمننٹ طریقہ کا استعمال کرنا چاہئے۔
28

مثال 7.6  یہ دکھاہئے کہ ایک ایسے ذرے کا زاویائی معیارِحرکت جو متعین رفتار سے چل رہا ہے کسی بھی نقطے کے گرد پوری حرکت میں ایک مستقلہ رہتا ہے۔

جواب  مانا کہ ذرّہ جس کی رفتار vہے کسی لمحہtپر نقطہ Pپر ہے۔ہم ذرّہ کا زاویائی میعارِ حرکت کسی نقطہ Oکے گرد معلوم کرنا چاہتے ہیں۔
29

شکل  7.19

زاویائی میعارِ حرکت l = r × mv ہے۔اس کی عددی قدر mvr sinø ہے۔ جہاں r،ø اور vکے درمیان کا زاویہ ہے (شکل  7.19)۔گرچہ ذرّہ وقت کے ساتھ مقام تبدیل کرتا ہے مگر v کا سمتی خط وہی رہتا ہے۔اس لیے OM=rsinø ایک مستقلہ ہے۔
lکی سمت  rاور vکے مستوی پر عمود ہے۔یہ شکل میں صفحہ کے اندر کے طرف ہے۔یہ سمت وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔
اس طرح lکی عددی قدر اور سمت یکساں رہتی ہے۔ اس لیے اس کی بقا ہوتی ہے۔کیا کوئی بیرونی قوت گردشہ ذرہ پر لگ رہا ہے؟

7.8 استوارِ جسم کا توازن    (EQUILIBRIUM OF A RIGID BODY)

اب ہم ذرّات کے عمومی نظاموں کی حرکت کے بجائے استوار جسم کی حرکت پر غورکرتے ہیں۔
آیئے دہرائیں کہ استوارجسم پر بیرونی قوتیں کیا اثرڈالتی ہیں (اب آگے ہم لفظ ’بیرونی‘ استعمال نہیں کریں گے ۔ جب تک مخصوص طور پر کہا نہ جائے، ہم صرف بیرونی قوتوں اور بیرونی قوت گردشہ کا ہی مطالعہ کریں گے)۔قوتیںاستوار جسم کی خطی انتقالی حرکت کی حالت کو تبدیل کرتی ہیں۔ یعنی یہ کل خطی میعارِ حرکت کو مساوات (7.17)کے مطابق تبدیل کرتی ہیں۔لیکن قوتوں کا صرف یہی اثر نہیں ہوتا۔ جسم پر لگی کل قوت گردشہ ہوسکتا  ہے صفر نہیں ہو۔اس طرح کی قوت گردشہ، استوارجسم کی گردشی حالت کو بدل دیتی ہے۔یعنی یہ کل زاویائی میعارِ حرکت کو مساوات (7.28 b) کے مطابق، تبدیل کردیتی ہے۔
ایک استوارجسم کو ہم میکانکی توازن میں اس وقت کہہ سکتے ہیں جب اس کے کل خطی میعارِ حرکت اور زاویائی میعارِ حرکت وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے، یا اسی کے مساوی ،جسم میں نہ تو خطی اسراع ہے اور نہ ہی زاویائی - اس کا مطلب ہے
(1) خطی توازن  (translational equilibrium) کے لیے جسم پر عمل پذیر سبھی قوتوں کا سمتیہ حاصل جمع صفر ہونا چاہئے۔
F1+F2+...+Fn=   30(7.30 a)
اگر جسم پر لگ رہی کل قوت صفر ہے توجسم کا کل خطّی میعارِ حرکت، وقت کے    ساتھ تبدیل نہیںہوگا۔مساوات (730a)جسم کے خطّی انتقالی توازن کی شرط ہے۔جسم پر لگ رہی کل قوتِ گردشہ ، یعنی کہ جسم پر لگ رہی ہر قوتِ گردشہ کا سمتیہ حاصلِ جمع، صفر ہے۔
31
اگراستوارجسم پر کل قوت گردشہ صفر ہے تو جسم کا کل زاویائی میعارِحرکت وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوگا۔مساوات (7.30 b) جسم کے گردشی توازن کی شرط بتاتی ہے۔
کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا گردشی توازن کی شرط یا (مساوات7.30 (b) )برقرار رہ سکتی ہے اگروہ مبدا جس کی نسبت سے قوت گردشہ لیا گیا ہے اسے تبدیل کردیا جائے۔یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اگر خطی انتقالی توازن کی شرط (مساوات 7.30 (a) )استوارجسم کے لیے صحیح ہے تو مبدا کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا یعنی گردشی توازن شرط، قوت گردشہ جس کے گرد لیا گیا ہے اس مبدے کے طابع نہیں ہے اور مبدے کی تبدیلی  سے فرق نہیں پڑتا۔ مثال 7.7سے ایک خاص صورت میں، ایک جفت(Couple)،کے لیے، اس کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ یعنی کہ، اس صوت میں جبکہ دو قوتیں استوار جسم پر لگ رہی ہوں اور خطی توازن برقرار ہو۔nقوتوں کے لیے، اس کی عموی صورت میں تصدیق آپ کے لیے بہ طور مشق چھوڑی جارہی ہے۔
مساوات (7.30 a)اور مساوات(7.30 b) دونوں سمتیہ مساواتیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تین غیرسمتی مساواتوں کے برابرہے۔مساوات (7.30 a)مماثل ہے:
32
جہاںFty،Ftx  اورFtzبالترتیب قوت  Fi کے y, x اورz جز ہیں۔اسی طرح مساوات(7.30 b) تین غیرسمتی مساواتوں کے برابرہے
33
جہاںrty,rix اورtizبالترتیب قوت گردشہti کے y،xاورzاجزاء ہیں۔
مساوات (7.31a)اور(7.31 b)استوارجسم کے میکانکی توازن کے لیے چھ ایسی شرطیں ہیں، جو ایک دوسرے کے تابع نہیں ہیں۔ بہت سارے سوالوں میں ایک جو جسم پر لگ رہی تمام قوتیںہم مستوی (coplanar)  بھی ہوسکتی ہیں ۔ایسی صورت میں میکانیکی توازن کے لیے صرف3شرطوں کو ہی مطمئن کرنا کافی ہوتا ہے۔ ان میں سے دو شرطیں خطّی انتقالی توازن سے متعلق  ہیں، یعنی کہ، مستوی میں کن ہی دو عموی محوروں کی سمت میں، قوتوں کے اجزاء کاحاصل جمع صفر ہونا لازمی ہے۔اور تیسری شرط گردشی توازن سے متعلق ہے، یعنی کہ، قوتوں کے مستوی پر عمود، کسی محور کے گرد لگ رہے تمام قوت گردشہ کے اجزاء کا حاصل جمع صفر ہونا لازمی ہے۔
ایک استوار جسم کے توازن کی شرائط کا مقابلہ ایک ذرہ کے توازن کی شرائط سے، جنھیں ہم پچھلے ابواب میں پڑھ چکے ہیں، کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ گردشی حرکت کا اطلاق ایک واحد ذرہ پر نہیں کیا جاسکتا، اس لیے ایک واحد ذرے کے توازن کے لیے صرف خطی انتقالی توازن کی شرائط ہی لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے، ایک واحد ذرے کے توازن کے لیے، اس پر لگ رہی تمام قوتوں کا سمتیہ حاصلِ جمع صفر ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ یہ تمام قوتیں ایک واحد ذرے پرلگ رہی ہیں، اس لیے یہ یقیناً ہم نقطہ (Concurrent)ہوںگی۔ ہم نقطہ قوتوں کے تحت توازن سے پچھلے ابواب میں بحث کی جاچکی ہے۔
ایک جسم جزوی توازن (Partial quitibrium)میں بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی کہ جسم خطی انتقالی توازن میں تو ہو مگر گردشی توازن میں نہ ہو یا گردشی توازن میں ہو اور خطّی انتقالی توازن میں نہ ہو۔
 ایک ہلکی چھڑ(جسکی کمیت نظراندازکی جاسکتی ہو)ABلیجئے۔اس کے دونوں سروں AاورBپر دومتوازی یکساں عددی قدر کی قوتیں،جو یکساں سمت میں کام کر رہی ہوں،چھڑ کی عمودی سمت میں لگائیں (شکل 7.20 (a)۔
34

شکل (a) 7.20 

مان لیجئے AB.Cکا وسطی نقطہ ہے یعنی CA=CB=a۔AاورB پر لگ رہی قوتوں کے میعارِ اثر کی عددی قدریں(af)مساوی ہوں گی لیکن سمتیں مخالف ہوںگی۔ چھڑپرکل میعارِاثر صفر ہوگا۔نظام گردشی توازن میں تو ہوگا مگرخطی انتقالی توازن میں نہیں ہوگا، اگر35
36

شکل (b) 7.20 

شکل 7.20(b) میں Bپر لگی قوت شکل 7.20 (a) کے مقابلے میں مخالف سمت میں ہے۔اس طرح اب اسی چھڑ پر دو مساوی اور مخالف سمتوں میں قوتیں لگ رہی ہیں جن کی سمت چھڑ کی عمودی سمت میں ہے ۔ایک قوت نقطہAپر اور دوسری نقطہ B پر لگ رہی ہے۔ یہاں دونوں قوتوں کے میعارِاثر برابر ہیں مگر مخالف سمت میں نہیں ہیں۔دونوں میعارِ اثر گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی سمت کے لحاظ سے ایک ہی سمت میں ہیں اور چھڑ کو گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کرنے کی سمت کی مخالف سمت میں گردش دیتے ہیں۔ جسم پر لگی کل قوت صفرہے۔اس لیے جسم خطی انتقالی توازن میں ہوگا جب کہ یہ گردشی توازن میں نہیں ہے۔حالانکہ چھڑکو کہیں بھی جَڑا نہیں گیا ہے پھربھی اس میں خالص گردشی حرکت (بغیرخطی انتقالی حرکت کے) ہوگی۔
ایسی مخالف سمتوں میں اور مساوی قوتوں کا جوڑا،جن کے کام کرنے کے خطوط الگ الگ ہوں جفت (couple)کہلاتا ہے۔ایک جفت خطّی انتقال کے بغیر گردش پیدا کرتا ہے۔
جب ہم بوتل کے ڈھکن کو گھماکر کھولتے ہیں ہماری انگلیاں ڈھکن پر جفت فراہم کرتی ہیں (شکل 7.2 (a))۔دوسری مثال زمین کے مقناطیس میدان میں رکھّے قطب نما(Compass needle) کی ہے (شکل 7.21 (b))۔شمالی اور جنوب قطب پر زمین کا مقناطیسی میدان یکساں قوت لگاتی ہے۔قطب شمال پر لگی قوت شمال کی جانب ہوتی ہے اور قطب جنوب پر لگی قوت جنوب کی جانب ہوتی ہے۔جب سوئی شمال–جنوب سمت میں ہوتی ہے توصرف اس وقت ہی دونوں قوتیں ایک ہی خط پر لگ رہی ہوتیں ہیں، ورنہ ہمیشہ دونوں قوتیں الگ الگ خطوط پر لگی ہیں۔س لیے سوئی پر زمینی مقناطیسی میدان کے باعث جفت پیدا ہوتا ہے۔
37
شکل 7.21 (a) ہماری انگلیاں ڈھکن کو گھمانے پر جفت فراہم کرتی ہیں۔
38
شکل  7.21 (b) کمپاس سوئی کے قطب پر زمینی مقناطیسی میدان مخالف اور مساوی قوت لگاتی ہے۔یہ دونوں قوتیں جفت بناتی ہیں۔

مثال 7.7  دکھائیے کہ جفت کا گردشہ اس نقطہ پر منحصر نہیں کرتا جس نقطہ کے گرد گردشہ (moment)لیا جاتا ہے۔

جواب
39

شکل  7.22

مان لیجیے جفت ایک استوارجسم پر لگ رہی ہے (شکل 7.22)۔قوت Fاور (–F)بالترتیب نقطہ Bاور Aپر لگ رہا ہے۔لفظوں کے مقام سمتیے مبدا سے r¹اور r²ہیں۔اب اگر ہم قوت کا گردشہ مبدا کے گرد لیں۔
جفت کا گردشہ   =  دوقوتوں کے گردشہ کا جوڑ جو جفت بناتا ہے
r1 × (–F) + r2 × F=
r2 × F – r1 × F =
(r2–r1) × F =
لیکن
40
اور، اس لیے
41
اس  لیے جفت کا گردشہ  AB×F  ہوگا۔
صاف طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مبدا کے تابع نہیں ہے۔مبدا وہ نقطہ ہے جس کے گرد ہم نے قوت کا گردشہ لیا ہے۔

7.8.1   گردشہ کا اصول  (Principle of moments) 

ایک مثالی لیور عام طورپر ہلکی (نظراندازکی جاسکنے والی کمیت) ڈنڈی کا بنا ہوتا ہے جو لمبائی کے ایک نقطہ پر جڑی ہوتی ہے۔اس نقطہ کو ٹیک (fulcurm) کہتے ہیں۔بچوں کے کھیل کے میدان میں سی سا(see-saw) لیور کی ایک عمدہ مثال ہے۔دو قوتیںF1اور F2آپس میں متوازی ہوتی ہیں اورعام طور پر لیور کے عمودی سمت میں ہوتی ہیں۔ یہ قوتیں ٹیک سے بالترتیب  دوری d1اور d2بناتی پر لگ رہی ہیں۔ (شکل 7.23)۔
42

شکل  7.23

لیور، میکانکی توازن میں ایک نظام ہے۔مان لیں کہ Rٹیک پر سہارے کا ردِّعمل ہے۔Rکی سمت، قوتF1اور F2کے مخالف ہے۔خطی توازن کے لیے
R – F1–F2= 0 (i)
گردشی توازن کے لیے ہم ٹیک کے گرد گردشہ لیتے ہیں۔ گردشہ کا حاصل جوڑصفرہونی چاہیے
d1F1– d2 F2= 0 (ii)
عام طور پر گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی مخالف سمت والے معیارِحرکت کو ہم مثبت مانتے ہیںے اور گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی سمت والے معیارِاثر کو منفی۔یہ خیال رہے کہ R، ٹیک پر لگتا ہے اور ٹیک کے گرد صفرگردشہ دیتا ہے۔
عام طور پر لیور قوت میں F1 میں کچھ وزن اٹھایا جانا ہے۔ یہ بار (Load) کہلاتا ہے اور اس کی ٹیک سے دوری d1 کو باربازو (load arm) کہتے ہیں۔قوت F2 بار اٹھانے کے لیے لگائی گئی کوشش (effort) ہے۔ٹیک سے کوشش کی دوری d2 کو کوشش بازو(effort arm) کہتے ہیں۔
مساوات  (ii) کو ہم لکھ سکتے ہیں
d1F1 = d2F2    (7.32 a)
یا
کوشش  × کوشش بازو   =   بار  × بار بازو 
درج بالا مساوات لیور کے لیے معیارِاثر کا اصول ظاہر کرتی ہے۔43تناسب کو میکانکی فائدہ (Mechanical advantage, MA) کہتے ہیں۔
44
اگر کوشش بازو d2، باز بازو سے زیادہ ہے تو میکانکی فائدہ ایک سے زیادہ ہوگا۔میکانکی فائدہ کے ایک سے زیادہ ہونے کا مطلب ہے کہ بہت تھوڑی کوشش پر زیادہ بار اٹھاسکتے ہیں۔آپ کے گردلیور کی بہت ساری مثالیں سی سا کے علاوہ بھی ہیں۔ترازو کی بیم (beam)بھی ایک لیور ہے۔اس طرح کی بہت ساری مثالیں پتہ لگائیں اور ٹیک، کوشش اورکوشش بازو، بار اور باربازو کو پہچاننے کی کوشش کریں۔
آپ اس طرح دکھا سکتے ہیں کہ گردشہ کا اصول اس وقت بھی لاگو ہوتا ہے جب قوت F1اورF2 دونوں عمود سمت میںنہیں ہیں لیکن لیور پر کوئی زاویہ بنا رہا ہے۔

7.8.2  مادی کشش مرکز   (Centre of gravity) 

آپ میں سے بہت ساروں کو ایک انگلی کے نوک پر اپنی کاپی کو متوازن حالت میں رکھنے کا تجربہ ہوسکتا ہے۔
شکل 7.24 ایک ایسا ہی تجربہ بتاتی ہے جسے آپ بآسانی کرکے دیکھ سکتے ہیں۔آپ بے قاعدہ شکل کا ایک کارڈ بورڈ اورپتلی نوک والی پنسل لیں۔ آپ ایک نقطہ Gایسا معلوم کرسکتے ہیں جہاں اگر پنسل کی نوک رکھی جائے تو یہ کارڈ بورڈ متوازی حالت میں ہوگا۔یہی نقطہ جس پر کارڈ بورڈ حالت توازن میں ہے کارڈ بورڈ کا مادی کشش مرکز (CG)کہلاتا ہے۔ پنسل کی نوک اوپر کی جانب ایک قوت لگاتی ہے جس سے کارڈ بورڈ میکانیکی توازن  ہوتا ہے (شکل 7.24)۔نوک کا ردِّعمل کارڈ بورڈ کے کل وزن (کارڈ بورڈ پر لگ رہی کل مادی کشش قوت) Mg کے مساوی اور مخالف ہے۔ا س لیے کارڈ بورڈ خطی انتقالی توازن میں ہوگا۔ یہ گردشی توازن میں بھی ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو غیرمتوازن قوت گردشہ کی وجہ سے ایک طرف جھک کر نیچے گر جائیگا۔ کارڈ بورڈ جن ذرّات سے بنا ہے، ان میں ہر ذرّے پر مادی کشش قوتیں :m2g ، m1g  لگ رہی ہیں اور اس لیے کارڈ بورڈ کے ہر نقطہ پر قوتِ گردشہ وغیرہ کے ذریعہ قوت گردشہ (Torques)لگیں گے۔
45

شکل  7.24 پنسل کی نوک پر کارڈ بورڈ کی متوازن حالت۔ٹیک نقطہ G مادی کشش مرکز ہے۔

کارڈ بورڈ کا مادی کشش مرکزایسے مقام پر ہے جہاں قوتوںm2g ، m1g وغیرہ کی وجہ سے لگ رہا کل قوتِ گردشہ صفر ہے۔
اگرایک توسیعی جسم کے ithذرہ کا، اس کے CG کی مناسبت سے، مقام سمتیہ �riہے تب اس ذرّہ پر لگ رہی مادی کشش قوت کی وجہ سے CGکے گرد اس ذرّہ پر لگ رہا قوت گردشہ ہے :ti = ri × mi g  ہوگا۔ CGکے گرد کل ثقلی قوت گردشہ صفرہے۔یعنی
46
اس لیے ہم جسم کے CGکی تعریف اس طرح کرسکتے ہیں کہ وہ نقطہ جہاں جسم پر کل ثقلی قوت گردشہ صفر ہو۔
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مساوات (7.33) میں gسارے ہی ذرّات کے لیے یکساں ہے۔اس لیے اسے تجمع (summation)سے باہر کیا جاسکتا ہے۔اس لیے 48ہوگا چونکہ gغیرصفرعدد ہے۔یہ خیال رہے کہ مقام سمتیےri ،CGکی مناسبت سے لیے گئے ہیں۔حصہ (7.2)میں مساوات (7.4 a)کے نیچے دی گئی دلیل کی بنیاد پر، اگر حاصلِ جمع صفر ہے، تو مبدا لازمی طور پر جسم کا کمیت مرکز ہوگا۔اس لیے جسم کا مادی کشش مرکز،جسم کے کمیت مرکز پر منطبق ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اس لیے صحیح ہے کیونکہ جسم چھوٹا ہے اور gکی قدر جسم کے اندر ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک تبدیل نہیں ہوتی۔اگر یہی جسم اتنی بڑی ہوکر gکی قدر ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ کی طرف تبدیل ہوجاتی ہو تب مادی کشش مرکز، کمیت مرکزپر منطبق نہیں ہوگا۔بنیادی طور پر یہ دونوں مختلف تصورات ہیں۔کمیت مرکزکا مادی کشش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ صرف جسم میں کمیت کی تقسیم کے تابع ہے۔
حصّہ7.2 میں ہم نے کئی قاعدہ(regular)، ہم قسم (homogeneous) اشکال میں کمیت مرکز کا مقام معلوم کیا ہے۔وہاں استعمال کیے گئے طریقے سے ان اجسام کا مادی کشش مرکز بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اجسام چھوٹے ہوں۔
49
شکل 25۔7 بے قاعدہ شکل کے اجسام کشش معلوم کرنا -مادی کشش مرکز G,جسم میں نقطہ A پر لٹکا ہے،اس سے گذرے تنصیبی خط پر ہے۔

جواب

شکل 7.25 میں باقاعدہ جسم جیسے کارڈبورڈ کے مادی کشش مرکز معلوم کرنے کا دوسرا طریقہ بتایا ہے۔اگر آپ جسم کو کسی ایک نقطہ جیسے Aسے لٹکائیں تو Aسے گذرنے والا انتصابی خط CGسے ہوکر گذرے گا۔ہم AA1کا انتصابی خط کھینچتے ہیں۔اب ہم جسم کو کچھ دوسرے نقطوں Bاور Cپر لٹکاتے ہیں۔ان نقطوں سے گذر رہے انتصابی خطوط کا تقاطع (intersection)’مادی کشش ‘CG  فراہم کرتا ہے۔بتائیں کہ یہ طریقہ کیوں صحیح ہے؟ چونکہ جسم چھوٹا ہے یہی طریقہ استعمال کرکے ہم کمیت مرکز بھی معلوم کرسکتے ہیں۔

مثال 7.8 ایک دھات کی چھڑ جس کی لمبائی70 cm اور کمیت 4.00 kg ہے، دو دھاردار ٹیکوں(knife edges) پر ٹکی ہوئی ہے، جن میں سے ہر ایک کا فاصلہ چھڑکے کنارے سے 10 cm  ہے،چھڑکے ایک کنارے سے 30 cmکے فاصلے پر ایک 6 kgکی کمیت لٹکائی گئی ہے۔دھاردارٹیکوں پر ردِّعمل معلوم کیجیے۔ (چھڑکو ہموار تراشہ والی اور متجانس مانیے)

50

شکل 7.26 

جواب

شکل 7.26 میں چھڑABدکھائی گئی ہے۔دھار دارٹیکس k1اور k2مقام پر ہے۔مادی کشش مرکز Gپر ہے اور لٹکایا گیا وزن Pنقطہ پر ہے۔
یہ خیال رہے کہ چھڑکا وزن W مادی کشش مرکز Gپر لگ رہا ہے۔چھڑ کا تراشہ (Cross Section)یکساں اور متجانس ہے۔اس لیے Gچھڑکے مرکز پر ہے۔
,AP=30cm ,AG =35 cm , AB= 70cm
K1G =K2G=325cm اور AK1=BK2=10cm,PG=5cm
 w = 4.00 kg چھڑ کا وزن اور 6.00 kg =w1=لٹکایا گیا وزن R1 اور R2دونوں دھار دار ٹیکوں پر ردِّعمل ہیں۔
 چھڑ کے خطی انتقالی توازن کے لیے
R1+ R2 –W1 –W = 0                 (i)
خیال رہے کہ W1اور Wیہ دونوں انتصابی نیچے کی جانب لگے رہے ہیں اور R1اور R2انتصابی اوپر کی جانب لگ رہے ہیں۔
گردشی توازن دیکھنے کے لیے ہم قوتوں کے معیارِاثر لیتے ہیں۔ایک آسان نقطہ جس کے گردمعیارِاثر لیے جاسکتے ہیں وہ Gہے۔ R2اور W1کے معیارِاثر کی سمت گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کے مخالف (+ve)ہے جب کہ R1کے معیارِ اثر کی سمت گھڑی سوئیوں کی حرکت کی سمت (–ve)ہے۔
گردشی توازن کے لیے
   R1 (K1G) + W1 (PG) + R2 (K2G) = 0                    (ii)
یہ دیا گیا کہ W= 4.00 gN، W1=6.00 gN
جہاںg، مادی کشش اسراع ہے۔ہم g = 9.8 m/s2 لیتے ہیں
مساوات (i) سے
R1 + R2 – 4.00g N – 6.00g N = 0
           یا  R1 + R2 = 10.00g  N                             (iii)
                            = 98.00 N
مساوات   (ii) سے– 0.25 R1+ 0.05 W1+ 0.25 R2 = 0  
R2 – R1 = 1.2g  N = 11.76 N                   (iv)
مساوات (ii) اور (iv) سے            R1 = 54.88 N
               R2 = 43.12 N 
اس لیے ٹیک کا ردِّعمل k1پر تقریباً 55Nہے اور k2پر 43Nہے۔

مثال 7.9 ایک 3m لمبی سیڑھی جس کا وزن 20 kgہے ایک چکنی دیوار جھکی ہوئی ہے۔اس کا نچلا حصّہ فرش پر دیور سے 1mکی دوری پر حالت سکون میں ہے (شکل 7.27)۔دیوار اور فرش کا ردِّعمل قوت معلوم کریں۔

جواب

51
شکل 27

جواب

سیڑھی AB، 3mلمبی ہے۔اس کا نچلا حصّہ Aدیوار سے AC=1mکی دوری پر ہے۔پیتھا غورس مسئلہ کے مطابق53BC=2.سیڑھی پر لگی قوتیں: اس کا وزنWجومادی کشش مرکز Dپر ہے،F1اورF2 بالترتیب دیوار اور فرش کی ردِّعمل قوتیں۔چونکہ دیوارچکنی بے رگڑ ہے اس لیے قوت F1دیوارہے قوت پر عمود ہے۔ قوت F2کو ہم دواجزاء میں تحلیل کرسکتے ہیں۔عمودی ردِّعمل Nاور رگڑقوت F۔خیال رہے کہ Fسیڑھی کو پھسلنے سے بچاتی ہے اور اسکی سمت دیوار کی طرف ہوتی ہے۔
خطی توازن کے لیے، قوتوں کو عمودی سمت میں لینے پر
N – W = 0                      (i)
 افقی سمت میں قوتوں کو لینے پر
F – F1 = 0                  (ii)  
گردشی توازن کے لیے، قوت کا گردشہ Aکے گرد لینے پر
54
اب W = 20 g = 20 × 9.8 N = 196.0 N          
مساوات (i)   سے  N = 196.0
مساوات (iii)سے
55
مساوات (ii)سے
56
قوت F2افقی سطح سے زاویہ a بناتا ہے۔
57

7.9   جمودگردشہ   (Moment of Inertia)

ہم پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ خط انتقال حرکت کے متوازی گردش حرکت کے بارے میں جانکاری حاصل کررہے ہیں۔اس سلسلے میں ہمیں ابھی بھی ایک اہم سوال کا جواب دینا ہے۔گردش حرکت میں کمیت کا مماثل کیا ہے؟ ہم اس سوال کا جواب اس حصّہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔گفتگوکو آسان بنانے کے لیے ہم صرف جامد محور کے گرد گردش لیں گے اور گردشی جسم کی حرکی توانائی معلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔ہم جانتے ہیں کہ جامد محور کے گرد گردش کرتے ہوئے جسم کا ہرذرّہ ایک دائرہ میں حرکت کرتا ہے جس کی خطی رفتارمساوات (7.19)سے دی جاتی ہے۔ (شکل 7.16 )۔ایک ذرّہ جو محور سےri دوری پر واقع ہے اس کی خطی رفتارu¹=r¹w ہے۔ اس ذرّہ کی حرکی توانائی
60
جہاںmiذرّہ کی کمیت ہے۔ جسم کی کل حرکی توانائی Kانفرادی ذرّات کی کل حرکی توانائی کا جوڑ ہوتا ہے۔
61
یہاں n جسم کے اندر ذرّات کی تعداد ہے۔خیال رہے کہ wہر ذرّہ کے لیے یکساں ہے۔اس لیے wکو تجمیع سے باہر لے سکتے ہیں۔
62
ہم استوار جسم کے لیے ایک نئی مقدار جمود گردشہ (I)لیتے ہیں۔
                 (7.34)        63  
تعریف کے مطابق
                  (7.35)          64
خیال رہے کہ Iزاویائی رفتار کے قدر پر منحصر نہیں کرتا ۔یہ استوارجسم کی ایک صفت ہے اور جس محور کے گرد یہ گھومتا ہے ،اس کی صفت ہے۔
مساوات (7.35)کو گردشی جسم کی حرکی توانائی کا خطی حرکت کی حرکی توانائی سے موازنہ کرنے پر
65
یہاں mجسم کی کمیت ہے اور vرفتار ہے۔ہم پہلی ہی دیکھ چکے ہیں کہ زاویائی رفتار w(ایک جامدمحور کے گرد گردشی حرکت میں) اورخطی رفتار v (خطی حرکت میں) میں ایک مماثلت ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمودگردشہ Iکمیت کا گردشی مماثل ہے۔ایک جامد محور کے گرد گردش میں جمود گردشہ وہی کردار ادا کرتا ہے جو خطی حرکت میں کمیت کا ہے۔
اب دو سادہ صورتوں میںجمودگردشہ معلوم کرنے کے لیے مساوات (7.34) کا استعمال کرتے ہیں۔
 (a) Rنصف قطراور Mکمیت کے کسی پتلے چھلے پر غورکیجیے جو اپنے مرکزکے اطراف اپنے مستوی میں زاویائی رفتار wسے گردش کررہا ہے۔چھلے کی ہر ایک کمیت عنصر (mass element)محور سے Rدوری پر ہے اور وہ چال Rwسے حرکت کررہا ہے۔لہٰذا حرکی توانائی
66
اس کا مساوات (7.35)سے موازنہ کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
I = MR2
67
شکل 28۔7 ایک ہلکی چھڑ، جسکی لمبائی1ہے کمیتوں کے چوڑے کے کے ساتھ محور کے گرد نظام کے مرکزکمیت کے گرد گھوم رہی ہے جو چھڑسے عمودی سمت میں ہے۔نظام کی کل کمیت M ہے
(b) اب لمبائی lکی کوئی بے کمیت ایسی استوار چھڑلیجیے جس کے سروں پر Mکمیت کا کوئی جوڑا جڑا ہو اوراس محور کے اطراف گردش کرتا ہو جو کمیت مرکز سے گذرتا ہے اور چھڑ پر عمود ہے۔ہر ایک کمیت M/2محور سے R=l/2 دوری پر ہے۔لہٰذا اس چھڑکا جمود گردشہ
(M/2) (l/2)2 + (M/2)(l/2)2
اس طرح چھڑکے عمودی محور کے اطراف گردش کرنے والی کمیتوں کے جوڑے کے لیے
I = Ml2/4
جدول 7.1میں کچھ مخصوص شکلوں کے اجسام کے جمودگردشہ دیے گئے ہیں۔جس طرح کسی جسم کی کمیت اس جسم کی خطی حرکت میں ہونے والی تبدیلی کا مزاحمت کرتی ہے اور خطی حرکت میں اس جسم کے جمود کی پیمائش ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح کسی دئیے گئے محور کے اطراف کسی جسم کا جمودگردشہ اس جسم کی گردشی حرکت میں ہونے والی تبدیلی کی مزاحمت کرتی ہے اور اسے اس جسم کے گردشی جمود کی پیمائش کے طور پر مانا جاسکتا ہے۔یہ اس ڈھنگ کی پیمائش ہے جس کے مطابق جسم کے مختلف حصّے گردشی محور سے مختلف دوریوں پر پھیلے ہیں۔کمیت کے برخلاف کسی جسم کا جمودگردشہ ایک متعین مقدار نہیں ہوتا بلکہ اس کی قدر کل جسم کی بہ نسبت گردشی محور کے مقام اور تشریق (orientation) کے تابع ہوتی ہے۔اس ڈھنگ کی پیمائش کے لیے گردش کرتے ہوئے کسی استوار جسم کی کمیت گردشی محور کی بہ نسبت کس طرح تقسیم ہے، ہم ایک دیگر نئے پیرامیٹر جائریشن (گھوم) کے نصف قطر (radius of gyration) کو معرف کرسکتے ہیں۔یہ جسم کی کل کمیت اور اس کے جمود گردشہ سے منسلک ہے۔
جدول 7.1 پر غور کیجیے۔اس میں سبھی معاملوں میں ہمI=Mk2لکھ سکتے ہیں۔یہاںkکا بُعد لمبائی کے بُعد جیسا ہے۔کسی چھڑکے لیے اس کے درمیانی نقطہ پر عمودی محور کے اطراف½/k2=l2یعنی 68=k2
ہے۔اسی طرح اپنے قطرکے اطراف کسی دائری ڈسک کے لیے k=R/2 ہوتا ہے۔ لمبائی kگردشی محور اور جسم کی جیومیٹریائی خصوصیت ہوتی ہے۔اسے گھوم نصف قطر کہتے ہیں۔جسم کی گھوم نصف قطر کسی محور کے گرد اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ محور سے اس کمیت نقطہ کا فاصلہ ہے، جس کمیت نقطہ کی کمیت کل جسم کی کمیت کے مساوی ہو اور جس کا، اس محور کے گرد، جمودگردشہ، کل جسم کے، اس محور کے گرد، جمودگردشہ کے مساوی ہو۔
اس طرح کسی استوار جسم کا جمود گردشہ، جسم کی کمیت، اس کی شکل اور سائز، گردشی محورکے اطراف کمیت کی تقسیم اور گردشی محور کے مقام اور تشریق کے تابع ہے۔
تعریف، مساوات (7.34)، سے اخذ کرسکتے ہیں کہ جمودگردشہ کے ابعاد [M L2] ہیں اور اس کی SIاکائی kg-m2  ہے۔
جسم کے گردشی جمود کی پیمائش کی شکل میں اس نہایت اہم مقدار Iکی خصوصیت کا نہایت عملی استعمال کیا جاتا ہے۔بھاپ انجن،آٹو موبائل انجن وغیرہ مشینیں جن کا استعمال گردشی حرکت پیدا کرنے میں کیا جاتا ہے، ان میں زیادہ جمود گردشہ کی ڈسک لگی ہوتی ہے جنہیں پروازی رفتار پہیہ (flywheel) کہتے ہیں۔زیادہ جمودگردشہ ہونے کے سبب پروازرفتارپہیہ، گاڑی کی چال میں اچانک کمی یا زیادتی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ گاڑیوں میں دھیرے دھیرے تبدیلی ہونے دیتا ہے اور جھٹکے دار حرکتوں سے بچائو کرتا ہے۔اس طرح یہ گاڑی میں سفر کرنے والے مسافروں کو پرسکون اور بے رکاوٹ (smooth ride)حرکت فراہم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

7.10  عمودی اور متوازی محور کے تھیوریم (THEOREMS    

 OF PERPENDICULAR AND PARALLEL AXES)

یہ دوکافی کارآمد تھیوریم جمودگردشہ سے متعلق ہیں۔ہم پہلے عمودی محور کے تھیوریم کے بارے میں گفتگو کریں گے اور کچھ باقاعدہ شکل والے اجسام پر سوالات حل کریں گے۔

جسم محور شکل 1
پتلا دائری چھلا،
نصف قطرR
قطر 69 77
پتلا دائری چھلا، 
نصف قطرR
قطر 70 78
پتلی چھڑ، لمبائیL چھڑ کے عمودی وسطی نقطے پر 71 79
دائری ڈسک (قرص)۔
نصف قطرR
قطر 72 80
دائری ڈسک،
نصف قطرR
مرکز پر ڈسک کے عمودی 73 81
کھوکھلا استوانہ،
نصف قطرR
مرکزپر ڈسک کے عمودی 74 82
ٹھوس سلینڈر،
نصف قطرR
استوانہ کا محور 75 83
گول کرہR
نصف قطرR
قطر 76
84

7.10.1 عمودی محور کا تھیوریم (Theorem of Perpendicular axes)

یہ تھیوریم مستوی اجسام پر لاگوہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے یہ تھیوریم ایسے سپاٹ اجسام پر لاگو ہوتی ہے، جن کی موٹائی دوسرے ابعاد کے مقابلے کافی کم ہو (جیسے لمبائی، چوڑائی یا نصف قطر)۔شکل 7.29 اس تھیوریم کی وضاحت کرتی ہے۔ اس تھیوریم کا بیان ہے کہ ایک مسطح جسم )ورقہ(laminaکا  جمودگردشہ کسی محور کے گرد جو اس کے سطح سے عمودی سمت میں ہے دو دیگر ایسے محوروں کے گرد جمودگردشہ کے مجموعہ کے برابر ہوتا ہے جسم کے مستوی میں ہوں اور عمودی محور سے ہم نقطہ ہوں۔
85

شکل  7.29 مستوی جسم کے لیے عمودی محور کا تھیوریم ۔xاور yعمودی محور ایک سطح میں ہیں اور zمحور اسکے عمود میں ہے۔

شکل 7.29 مسطح جسم دکھاتی ہے۔-z محور نقطہ Oسے گذرتا ہوا جسم کا عمودی محور ہے۔-xمحور اور -y محور جو جسم میں واقع ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر عمود ہیں اور -zمحور کے ہم نقطہ ہیں۔ اس تھیوریم کے مطابق
12=1x+y
اب ہم اس تھیوریم کا استعمال ایک مثال سے لیتے ہیں

مثال 7.10   ڈسک کا جمودگردشہ اس کے اپنے قطرکے گرد کیا ہے

86

شکل 7.30 قطرکے گرد ڈسک کا جمود گردشہ جب کہ اس کے مرکز سے گذرتے ہوئے عمودی محور کے گرد جمودِ گردشہ دیاہوا ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ ڈسک کا جمودگردشہ ایک ایسے محور کے گرد جو اس کے عمودی سمت میں ہے اور مرکز سے گذرتا رہا ہے، MR2/2 ہے۔ جہاں Mڈسک کی کمیت ہے اور Rاس کا نصف قطر ہے (جدول  7.1)
ڈسک کومسطح جسم مانا جاسکتا ہے۔اس لیے عمودی محور کی تھیوریم یہاں لاگوہوگی۔جیسا کہ شکل 7.30میں دکھایا گیا ہے ہم تین محورx، yاور zلیتے ہیں جو مرکزO سے گذرتے ہیں۔x،yمحور ڈسک کے مستوی میں ہیں اور -zمحور اس سے عمودی سمت میں ہے۔عمودی محور کی تھیوریم سے
12=1x+ly
اب xاورyمحور ڈسک کے دوقطرکی جانب ہیں اور تشاکل کے ذریعے جمودگردشہ کسی بھی قطرکے گرد ایک ہی ہے۔اس لیے
   Ix = Iy
اور
Iz = 2Ix
 لیکن
        Iz = MR2/2
          Ix = Iz/2 = MR2/4
اس لیے
اس لیے ڈسک کا جمود گردشہ کسی بھی قطرکے گرد MR2/4ہے۔
اسی طرح رنگ (چھلّہ)کا جمودگردشہ کسی قطرکے گرد معلوم کریں۔کیا یہ تھیوریم ایک ٹھوس استوانہ کے لیے بھی لاگو ہوگی؟
87

شکل 7.31 متوازی  محور کی  تھیوریم  z   اور  z'  دو  متوازی محورہیںجوaدوری پر ہیں۔ Oجسم کا مرکز کمیت ہیں 00'=a

7.10.2 متوازی محاورکی تھیوریم (Theorem of Parallel axes) 

یہ تھیوریم ہر شکل کے جسم کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔ہم اس تھیوریم کو بغیرثبوت پیش کئے ہوئے بیان کریں گے۔ ہم بحرحال اسے کچھ آسان حالات میں استعمال بھی کرکے دکھائیں گے۔یہ تھیوریم اس طرح بیان کی جاسکتی ہے۔
کسی محور کے گردجمود گردشہ، اس کے متوازی کمیت مرکزسے گذرتے ہوئے محورکے گردجمودگردشہ اور اس کی کمیت اور دونوں متوازی محوروں کے درمیان کی دوری کے مربع کے حاصل ضرب کے جوڑکے برابر ہوتا ہے۔جیسا کہ شکل7.31میں دکھایا گیا ہے،zاور'zدومتوازی محاور ایک دوسرے سے aدوری پرواقع ہے۔-zمحوراستوارجسم کے مرکزکمیت Oسے گذرتا ہے۔تب متوازی محاور کے تھیوریم کے مطابق
Iz' = Iz + Ma2 (7.37)
جہاں Izاور Iz' بالترتیب zاورz'کے گردجسم کے جمود گردشہ ہیں۔Mجسم کی کل کمیت ہے اور aدونوںمتوازی محاور کے درمیان کی عمودی دوری ہے۔

مثال  7.11 M کمیت اور lلمبائی کی کسی چھڑکا، اس کے ایک سرے سے عمودی گزرنے والے محورکے اطراف جمودگردشہ کیا ہے؟

جواب  M کمیت اور lلمبائی کے لیے I = Ml2/12
 متوازی محاور تھیوریم کے استعمال سے I'=I+Ma2 جس  میں a = l/2 
88
ہم اسے علاحدہ طورپر بھی جانچ سکتے ہیں۔چونکہ Iایسی چھڑکا، جس کی کمیت2Mاور لمبائی 2lہے۔اس کے وسطی نقطہ کے گرد، جمودگردشہ کا نصف ہے
89

مثال 7.12 ایک رنگ (چھلّہ) کا جمودگردشہ رنگ کے دائرہ کے خط مماس کے گرد کیا ہے؟

جواب  رنگ کی سطح میں رنگ پر خط مماس رنگ کے ایک قطرکے متوازی ہوتاہے۔دونوں متوازی محوروں کے درمیان دوری Rہے۔متوازی محورکا تھیوریم استعمال کرنے پر
90
شکل 32۔7
91

7.11  ایک متعین (جامد) محورکے گردگردشی حرکت کا 

مجردحرکیاتی عمل (Kinematics of 

Rotational Motion About a fixed Axis)

ہم پہلے گردشی حرکت اور خطی انتقالی حرکت کے درمیان مماثلت کا مطالعہ کرچکے ہیں۔مثال کے طورپر، گردشی حرکت میں زاویائی رفتار wکی وہی ااہمیت ہے جو خطی انتقالی حرکت میں خطی رفتارvکی ہے۔ ہم اس مماثلت کو  مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ایسا کرنے پر ہمیں اپنی گفتگومحض ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردش پر ہی رکھنی چاہیے۔اس طرح کی حرکت میں صرف واحد آزادی درجہ (degree of freedom)ہوتا ہے یعنی ایسی حرکت کو بیان کرنے کے لیے صرف ایک غیرتابع متغیرہ (variable) کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ انتقالی حرکت میں خطی حرکت سے مطابقت رکھتا ہے۔یہ حصّہ صرف مجردحرکیات کی بحث تک محدود ہے۔ہم حرکی حرکیات کا مطالعہ اگلے حصہ میں کریں گے۔
گردشی جسم کے زاویائی نقل کے لیے ہم جسم پر ایک نقطہ Pلیتے ہیں (شکل 7.33)۔جس مستوی میں جسم حرکت کررہا ہے، اسی مستوی میں اس کا زاویائی نقل qمکمل جسم کا زاویائی نقل کہلاتا ہے۔q،Pکی حرکت کے مستوی میں ایک متعین سمت سے ناپا جاتا ہے جسے ہم -x'محور کہہ سکتے ہیں جو -xمحورکے متوازی منتخب کیا گیا ہے۔یہ خیال رہے کہ گردش کا محور-zمحور ہے اور حرکت x-yمستوی میں ہے۔شکل 7.33بھی یہی دکھاتی ہے کہ=0 t پر زاویائی نقل θθ ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ زاویائی رفتار، زاویائی نقل میں تبدیلی کی شرح ہے یعنی  w = dq/dt ۔یہ یاد رہے کہ چونکہ گردش کا محور متعین (جامد) ہے اس لیے زاویائی رفتارکو ایک سمتیہ کی طرح ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔زاویائی اسراعa = dw/dt  ہوگا۔
گردشی حرکت میں مجرد حرکیاتی مقداریں: زاویائی نقل (q)، زاویائی رفتار (w) اور زاویائی اسراع (a) بالترتیب خطی حرکت میں مجردحرکیاتی مقداریں، نقل (x)، رفتار(v) اوراسراع(a) کے متطابق ہیں۔ہم خطی حرکت میں یکساں اسراع والی مجردحرکیاتی مساواتیں جانتے ہیں۔
92
جہاں، ابتدائی نقلx0=،ابتدائی رفتار=  v0۔ابتدائی کا مطلب ہے کہ  t=0پر ان کی مقداروں کی یہ قدر ہے۔
اسی طرح بالترتیب یکساں زاویائی اسراع کے ساتھ گردشی حرکت کے لیے مجردحرکیاتی مساوات ہیں
93
جہاں، گردشی جسم کے لیے ابتدائی زاویائی نقل =  q0 
جسم کی ابتدائی زاویائی رفتار θ0
94
شکل 7.33     ایک استوار جسم کا زاویائی مقام دکھاتا ہے

مثال  7.13  پہلے اصول (First Principle) سے مساوات (7.38)حاصل کریں۔

جواب  چونکہ زاویائی اسراع کے لیے ہے اس لیے
(i)       مستقلہ95
اس مساوات کا تکملہ (Integration)لینے پر
(i) = J adt +c
(جہاں a  ایک متعین عدد ہے)                =at+ c
= 0 پر،  w=w0   (دیا ہوا ہے)
(i)  سے ہم پاتے ہیں کہ  t=0 پر،w = c = w0 
اس لیے 
w = at + w0 
تعریف : w = dq/dt کے مطابق ہم مساوات (7.38)کا تکملہ کرنے پر مساوات (7.39) پاتے ہیں مساوات (7.39) اور مساوات(7.40)کی تصدیق ہم آپ کے لیے بہ طور مشق چھوڑ رہے ہیں۔

مثال  7.14  ایک موٹرپہیہ کی زاویائی چال16  سیکنڈمیں 1200 rpm سے بڑھاکر 3120 rpmکردی گئی ہے۔ (i)اسراع کو یکساں مانتے ہوئے یہ بتائیں کہ اس کی زاویائی اسراع کیا ہے؟ (ii) اس وقفۂ مدت میں انجن کتنی بار چکر لگائے گا؟

جواب  (i)  ہمیں  w = w0 + at   استعمال کرنی چاہئے
=  ابتدائی زاویائی چال( rad/s) میںw0 = 
زاویائی چال ( rev/s  میں) = 2p ×
زاویائی چال   (rev/min میں)= 2p ×
60 s/min
96
=n 40 rad/s
اس طرح    w =   آخری زاویائی چال  (rad/s میں) w = 
97
=2n x 52 rad/s
104r = rad/s
زاویائی اسراع :   rad/s2   a = (w-w0)/t = 4p 
= 4p rad/s2انجن کا زاویائی اسراع 
(ii)  وقفہ  t میں زاویائی ہٹائو
98

7.12   ایک متعین محور (جامد )کے گرد گردشی حرکت کی حرکیاتی عمل (Dynamics of Rotational Motion About a Fixed Axis)

جدول 7.2میں خطی حرکت سے منسلک کی مقداروں اور ان کے مماثل گردشی حرکت سے منسلک مقداروںکی ایک فہرست دی گئی ہے۔ہم پہلے ہی دونوں قسم کی حرکتوں کی مجردحرکیات کا موازنہ کرچکے ہیں۔ہم جانتے ہیں گردشی حرکت میں جمودگردشہ اور قوت گردشہ کی وہی اہمیت ہے جو خطی حرکت میں، بالترتیب، کمیت اور قوت کی ہے۔ہمیں جدول کی مدد سے یہ اندازہ لگالینا چاہئے کہ دیگر مماثل مقداریں کیا ہیں۔مثال کے طورپر ہم جانتے ہیں کہ خطی حرکت میں کیا گیا کام Fdx ہے، ایک متعین (جامد) محورکے گرد گردشی حرکت � ہونا چاہیے چونکہ ہم جانتے ہیں �اور�۔ لیکن  پھر بھی یہ ضروری ہے کہ یہ مماثلتیں ٹھوس حرکی لحاظ سے حاصل کی جائیں۔ اب ہم ایسا ہی کریں گے۔
شروع کرنے سے پہلے ہم یہ نوٹ کرسکتے ہیں کہ ایک متعین (جامد) محورکے گردگردشی حرکت کی حالت میں مسئلہ مقابلتاً سادہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ محورمتعین(جامد) ہے اس لیے قوت گردشہ کے صرف اسی جز پر گفتگوکی ضرورت ہے جو محور کی سمت میں ہے۔صرف یہی جزمحور کی گرد گردش پیدا کرتا ہے۔قوت گردشہ کا وہ جز جو گردش کے محور کے عمودی سمت میں ہے، محورکو گھمانے کی کوشش کرتا ہے۔ہم خاص طور پر یہ مانتے ہیں کہ کچھ ایسی قوتیں بھی پیداہونا لازمی ہیں جو قوت گردشہ (بیرونی)کے عمودی جز کے اثر کو ختم کرسکتی ہیں تاکہ محور کی متعین(جامد) حالت برقرار رہے۔اس لیے ابھی قوت گردشہ کے عمودی اجزا پر دھیان دیتے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کا مطلب ہے کہ استوار جسم کے قوت گردشہ کے تخمینہ کے لیے
(1) ہمیں صرف انھیں قوتوں کا لحاظ کرنے کی ضرورت ہے جو محورکے عمودی مستوی میںواقع ہیں۔وہ قوتیں جو محور کے متوازی ہیں محور کی عمود ی سمت میں قوت گردشہ دیتی ہیں اور انھیں قوتِ گردشہ کی تحیب میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
(2) ہمیں صرف انھیں مقام سمتیہ کے اجزاء کو معلوم کرنے کی ضرورت ہے جو محور کے عمودی ہیں۔محور کی سمت میں مقام سمتیہ کے اجزاء جو ہیں، ان کے ذریعے قوت گردشہ پیدا ہونے والے محور کے عمودی ہیں اور انھیںبھی شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

قوت گردشہ کے ذریعہ کیا گیاکام   (Workdone by a torque)

99

شکل  7.34 ایک متعین(جامد)  محور کے گرد گردش کرتا ہوا ایک جسم جس کے ایک ذرہ پر لگی قوت F1کے ذریعہ کیا گیا کام دکھایاگیا ہے۔ذرّہ دائری راستہ پر حرکت کرتا ہے جس کا مرکز محور پر نقطہ Cہے۔چاپ P1P1  (ds1) ذرّہ کا نقل بتاتا ہے۔

شکل 7.34استوارجسم کا ترشہ دکھاتا ہے جو ایک متعین(جامد) محور کے گردگردش کررہاہے ،جسے ہم نے محور -z لیا ہے(صفحہ کے مستوی پر رعمود ہے دیکھیں شکل7.33 )۔جیسا کہ اوپربیان کیا جاچکا ہے ہمیں صرف انھیں قوتوں کو لینے کی ضرورت ہے جو محور کے عمودی مستوی میں واقع ہیں۔مان لیجیے F1 ایک ایسی قوت ہے جو ذرّہ کے اوپر نقطہ P1 پر لگ رہی ہے اور اس کا خطِ عمل(Line of action)جس مستوی میں ہے وہ محور پر عمود ہے۔ آسانی کے لیے اسے ہم x'-y' مستوی (صفحہ کا مستوی) کہتے ہیں۔P1پر ذرّہ ایک دائری راستہ طے کرتا ہے جس کا نصف قطرr1ہے، مرکز Cہے۔ اس لیے CP1= r1 
وقفہ dt میں یہی نقطہ مقام P1' پر حرکت کر جاتا ہے۔اس لیے ذرّہ   کے نقل ds1 کی عددی قدر:  ds1=r1 dqہوگی۔ اوراس کی سمت نقطہ P1 پردائری راستے کے خط مماس کی سمت میں ہوگی۔یہاں dθذرہ کا زاویائی نقل ہے۔dθ>p1cp1ہے۔ ذرّہ پر لگی قوت کے ذریعہ کیا گیا کام
dW1 = F1 ds1= F1ds1cosf1= F1 (r1 dq) sina1
جہاں، f1، قوت F1اور نقطہ P1 پر خط مماس کے درمیان زاویہ ہے  اورa قوتF1 اور نصف قطر سمتیہ OP1کے درمیان زاویہ ہے: f1+a1900 ۔
F1  کے ذریعہ قوت گردشہ مبدے کے گردOP1×F1 ہے۔ اب OP1=OC+OP1 (دیکھیں شکل 7.17 (b))۔ چونکہOCمحورکی سمت میں ہے اس لیے اس سے پیدا شدہ قوت گردشہ کو ہم شامل نہیں کریں گے۔ F1کے ذریعہ موثر قوت گردشہ t1= CP × F1 ہے۔ یہ گردش کے محور کی سمت میں ہے جس کی عددی قدرt1 = r1F1 sin a اس لیے
dW = t1dθ
اگر ایک سے زیادہ قوتیں جسم پر لگ رہی ہوں تو ان سب کے ذریعے  کیے گئے کاموں کو جوڑکر کل کام حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اگر ہم مختلف قوتوں کے قوتِ گردشہ کی نشاندہی علامتوں  t1,t2 سے کریں تو
dw= (r1+r2+...)dθ   (7.41)
خیال رہے کہ قوتیںجو قوت گردشہ پیدا کرتی ہیں مختلف ذرّات پر عامل ہوتی ہیں لیکن زاویائی نقل dq سب ذرات کے لیے ایک ہی ہے۔ چونکہ شامل کیے گئے سبھی قوت گردشہ متعین(جامد) محور کے متوازی ہیں اس لیے کل قوت گردشہ tکی عددی قدر انفرادی قوت گردشہ کی عددی قدروں کے الجبرائی جوڑ کے برابر ہوتی ہے۔ یعنی کہ ،  t = t1,t2  اس لیے
dW= rdθ
یہ مساوات جسم پرلگے کل (بیرونی) قوت گردشہ tکے ذریعہ، ایک متعین محور کے گرد گردش کررہے جسم پر کیے گئے کام کا پتا دیتا ہے۔اس کی مماثلث خطی حرکت میں کیے گئے کام کی عبارت ریاضیاتی عبارت سے واضح ہے۔
dw = Fds

مساوات (41۔7) کے دونوں طرف dtسے تقسیم کرنے پر
100

جدول 7.2  1.خطی انتقالی حرکت اور گردشی حرکت کے موازنے میں مماثلت


خطی انتقالی حرکت گردشی حرکت
1-نقلx زاویائی نقل θ
2 رفتار u=dx/dt زاویائی رفتار (i)=dθ/dt
3-اسراع a=du/dt زاویائی اسراع a=dο/dt
4۔کمیت M جمودگردشہ 1
5۔قوت F=Ma قوت گردشہ r = la
6۔کام dW =Fds کام W=rdθ
حرکی توانائی k=Mu2/2 حرکی توانائی k=lΦ2/2
8۔طاقت p =Fu طاقتp=1Φ
خطی معیار حرکت p=Mu زاویائی معیار حرکت L =lΦ
جسم کی کمیت تبدیل نہیں ہوتی۔ جسم استوار رہتاہے اور جسم کے کی مناسبت سے محور اپنا مقام نہیں بدلتا ہے۔
چونکہ  a=dw/dt ،ہم پاتے ہیں
101
کیے گئے کام اور حرکی توانائی میں اضافہ کی شرحوں کو برابر کرنے پر
t w =Iwa 
t =Ia     (7.43)

مساوات  (7.43) خطی حرکت میں نیوٹن کے دوسرے کلیہ کے جیسا ہی ہے،جیسے علامتی طور پر ظاہر کرتے ہیں:

F = ma
ٹھیک اسی طرح جس طرح قوت اسراع پیدا کرتی ہے، قوت گردشہ زاویائی اسراع پیدا کرتا ہے۔زاویائی اسراع ، لگائے گئے قوت گردشہ کے راست متناسب اور جمود گردشہ کے معکوس متناسب ہوتا ہے۔ مساوات (7.43) کو ہم ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردش کے لیے نیوٹن کا دوسرا کلیہ کہہ سکتے ہیں۔

مثال 7.15 ایک رسّی جس کی کمیت تقریباً صفر ہے پروازی پہیہ کے دھری پر لپٹی گئی ہے جس کی کمیت 20 kg  اور نصف قطر 20cmہے۔ رسّی پر25Nکی کھچائو قوت لگائی گئی ہے (شکل7.35 )۔ پروازی پہیہ بغیررگڑوالے بیرنگ کے ساتھ افقی دھری پر اچھی طرح جما ہوا ہے۔

(a) پہیہ کا زاویائی اسراع معلوم کریں (b) جب 2mرسی لپٹی ہو توکھچائو قوت کے ذریعہ کیا گیا کام معلوم کریں۔ (c) اس نقطہ پر پہیہ کی حرکی توانائی بھی معلوم کریں۔یہ مان لیجیے کہ پہیہ حالت سکون سے حرکت کرنا شروع کرتا ہے۔ (d) حصّہ (b) اور (c)کے جواب کا موازنہ کریں۔ جواب   
102

شکل  7.35

(a)   ہم استعمال کرتے ہیں                 I a
قوت گردشہ                                        t = FR 
= 25 × 0.2 NM  (R = 0.20 m)
= 5.0 Nm          
 = MR2/2 اپنے محورکے گرد ،پروازی پہیہ کا جمودگردشہ  I =
= 0.4 kg m2 103
زاویائی اسراع     a =
 = 5.0 N m/0.4 kg m2 = 12.35 s-2
(b) بغیرلپٹی 2 mرسّی کے اوپر لگی کھچائو قوت کے ذریعہ کیا گیا کام
(c) مان لیجیے w اختتامی زاویائی رفتار ہے۔ Iw2 چونکہ پہیہ حالت سکون سے حرکت کرنا شروع کرتا ہے۔اب
104
بغیر لپٹی رسّی کی لمبائی  پہیے کا نصف قطر  8زاوئی نقل
= 2m/0.2 m = 10 rad
r2=2x12.5x10.0=250(rad)/s2

 حاصل شدہ حرکی توان105
(d)دونوں جواب ایک ہی ہیں یعنی پہیہ کے ذریعہ حاصل شدہ حرکی توانائی = قوت کے ذریعہ کیا گیا کام، رگڑکے ذریعہ توانائی ضائع نہیں ہورہی ہے۔
7.13    ایک متعین (جامد) محورکے گرد گردشی حرکت میں زاویائی میعارِحرکت
(Angular Momentum in case of Rotation about a fixed axis)
ہم نے حصّہ7.7میں ذرّات کے نظام کے زاویائی میعارِحرکت کا مطالعہ کیا ہے۔ہم وہاں سے جانتے ہیں کہ ایک نقطہ کے گرد ذرّات کے نظام کے کل زاویائی میعارِ حرکت کی شرح وقت اسی نقطہ کے لیے کیے گئے کل بیرونی قوت گردشہ کے برابر ہوتی ہے۔جب کل بیرونی قوت گردشہ صفر ہوتا ہے تو نظام کے کل زاویائی میعارِ حرکت کی بقا ہوتی ہے۔
اب ہم ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردش کی مخصوص صورت میں زاویائی میعارِ حرکت کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔نظام کے کل زاویائی میعارِ حرکت کے لیے عمومی ریاضیاتی عبارت ہے:
106
پہلے گردش کر رہے استوار جسم کے ایک ذرہ کا زاویائی میعارِ حرکت لیتے ہیں۔پھر ہم مکمل جسم کا Lحاصل کرنے کے لیے سبھی ذرّات کے انفرادی میعارِ حرکت کو جمع کرتے ہیں۔
ایک مخصوص ذرّہ کے لیے l = r × p ہے۔جیسا کہ پچھلے حصّہ میں ہم نے دیکھا ہے r = OP = OC + CP ]شکل 7.17 (b) [ اورp = mv 
l = (OC × mv) + (CP × mv)
نقطہP پر ذرّہ کی خطی رفتار vکی عددی قدرv = wr^  ہوگی۔جہاں r^،CP کی لمبائی یا گردشی محور سے P کی عمودی دوری ہے۔مزید، v، نقطہ Pپراس دائرہ کا خط مماس ہے جو ذرہ طے کرتا ہے۔دائیں ہاتھ والے طریقہ کے ذریعہ یہ تصدیق کی جاسکتی ہے کہ CP×v متعین(جامد) محور کے متوازی ہے۔متعین محور کی جانب اکائی سمتیہ (-zمحورماننے پر) k^ ہے۔اس لیے
107
(چونکہ  v = wr^ )  
108
اسی طرح ہم جانچ کرسکتے ہیں کہ OC×Vمتعین (جامد)محور پر عمود ہے۔ متعین محور) -z محور(کی سمت میںl کو lzسے دکھانے پر
l2=cpxmv=mr21rk
اور
1= 1z+oc+mv
lzمتعین(جامد) محورکے متوازی ہے جب کہ lنہیں ہے۔ عمومی طورپر ذرّہ کے لیے زاویائی میعارِ حرکتl گردشی محور کی سمت میں نہیں ہوتا۔یعنی ایک ذرّہ کے لیے lاور w لازمی طور پر متوازی نہیں ہوتے ۔ خطّی انتقالی حرکت میں اس کی مماثل حقیقت سے موازنہ کیجیے۔ ایک ذرّہ کے لیے  pاورv  ہمیشہ ہی آپس میں متوازی ہوتے ہیں۔
پورے استوارِ جسم کے کل زاویائی معیارِحرکت کی تحسیب کے لیے ہم جسم کے ہر ذرّہ کی زاویائی معیارِحرکت کو جوڑتے ہیں۔
اس لیے
109
ہمL1اورL2سے بالترتیب -zمحور کے عمودی اور متوازی سمت میں Lکے اجزاء کو ظاہر کرتے ہیں۔
110
جہاں mi اور viبالترتیب ithذرّہ کی کمیت اور رفتار ہے اور Ci ذرّے کے ذریعے طے کیے گئے دائرہ کا مرکز ہے۔
111
یا
Lz =lrk  (7.44b)
 یہ اس لیے کہ محور سے ithذرّہ کی عمودی دوری riہے اورتعریف کے مطابق گردشی محور کے گرد جسم کا جمودگردشہ112ہے
L =Lz+L1
استوار جسم، جن سے ہم نے اس باب میں خاص طور پر بحث کی ہے،  گردشی محورکے گردمتشاکل (Symmetric)ہوتے ہیں، یعنی کہ گردش کا محوران کے تشاکل محاور میں سے ایک محور ہوتا ہے۔®OCi  کے لیے، ہراس ذرّے کے لیے جس کی رفتار®vi ہے،–®vi رفتار کا ایک دوسرا ذرہ ہے، جو ذرّہ کے ذریعے طے کیے گئے مرکز Ciکے دائرہ پر قطری مخالف مقام پر ہوتا ہے۔اس طرح کے جوڑوں کاL^ میں مجموعی حصہ صفر ہوتا ہے۔اس وجہ سے متشاکل اجسام کے لیے L^صفر ہوتا ہے۔اس طرح
L=Lz=Irk                (7.22 d)�  
ایسے اجسام کے لیے، جوگردشی محور کے گرد متشاکل نہیں ہیں  Lاور Lz دونوںبرابرنہیں ہونگے۔اسی لیے Lگردشی محور کی سمت میں واقع نہیں ہوگا۔
جدول 7.1 کے حوالہ سے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کن صورتوں میں L=Lz  نہیں ہوگا؟
مساوات (7.44 b) کا تفرق لینے پر، جس میں k^ ایک متعین (مستقلہ) سمتیہ ہے۔
113
اب مساوات (7.28 b)کے مطابق
114
جیسا کہ ہم نے پچھلے حصہ میں دیکھا ہے متعین (جامد) محور کے گرد گردش میں، بیرونی قوت گردشہ کے صرف انھیں اجزا (components)کو لینے کی ضرورت ہے جو گردشی محور کی سمت میں ہیں۔اس کا مطلب ہےr=rkچونکہ L=Lz+L1اورLz کی سمت (سمتیہ  k^ ) متعین ہے اس لیے متعین (جامد) محورکے گرد گردش کے لیے
115
اس طرح ، متعین (جامد) محور کے گرد گردش کے لیے متعین محور کی عمودی سمت میں زاویائی معیارِحرکت کے اجزا مستقلہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ Lz=lrkہم مساوات (7.45 a)سے پاتے ہیں
      (7.45 c 116
اگر جمودگردشہ Iوقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا،
117
ور ہم مساوات (7.45 c)سے پاتے ہیں
     (7.43) r=l a
ہم پہلے ہی یہ مساوات کام–حرکی توانائی کے ذریعہ حاصل کرچکے ہیں۔

7.13.1  زاویائی تحرک کی بقا   (Conservation of angular momentum)

اب ہم اس مقام پر ہیں کہ ایک زاویائی معیارِحرکت کی بقا کے اصول کا مطالعہ متعین (جامد) محور کے گرد گردشی حرکت میں کرسکتے ہیں۔ مساوات (7.45 c) سے، اگر بیرونی قوت گردشہ صفر ہے تو
(7.46)         مستقلہ  Lz = Iw =
متشاکل کل اجسام کے لیے، مساوات (7.44 d) سے، Lzکو  Lسے تبدیل کرسکتے ہیں (L اور Lz بالترتیب L  اورLz کی عددی قدریں ہیں)
یہ مساوات (7.29 a)کی جامد محور کے گرد گردش کے لیے مطلوبہ شکل ہے جو ذرّات کے نظام کے زاویائی معیارِحرکت کی بقا کے اصول کو دکھاتی ہے۔مساوات (7.46)کو ہم بہت ساری ایسی جگہوں پر استعمال کرسکتے ہیں جو روز مرّہ کی زندگی میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مندرجہ ذیل تجربہ آپ اپنے دوست کے ساتھ کرسکتے ہیں۔آپ ایک گھومنے والی کرسی پر اپنے بازؤں کو موڑ کراور پیروں کو بغیرزمین پر لگائے بیٹھ جائیں۔آپ اینے دوست سے کہیں کہ وہ کرسی تیزگھمائیں۔جب کرسی کچھ زیادہ زاویائی چال سے گھومنے لگے آپ اپنے بازو کو افقی سمت میں پھیلائیے۔کیا ہوتا ہے؟ آپ کی زاویائی چال کم ہونے لگتی ہے۔اگرآپ اپنے بازو کو اپنے جسم کے قریب لائیں تو زاویائی چال دوبارہ بڑھ جاتی ہے۔یہ وہ حالت ہے جہاں زاویائی معیارِحرکت کی بقا کے اصول کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔اگرگردشی نظام میں رگڑکو نہ لیا جائے تو کرسی کے گردشی محورکے گرد کوئی بیرونی قوت گردشہ نہیں ہوگا اور اس لیے Iwمستقلہ ہوگا۔بازو کوبازو کو پھیلانے پر گردشی محور کے گرد Iبڑھ جاتا ہے جس سے زاویائی چال wکم ہوجاتی ہے۔بازوکو جسم کے قریب لانے پر مخالف اثر ہوتا ہے۔

118

شکل  7.36  (a)  زاویائی معیارِحرکت کی بقا کا مظاہرہ ۔ایک لڑکی گھومتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر اپنے بازو کو پھیلاتی ہے موڑکراپنے جسم کے قریب لاتی ہے۔

ایک سرکس کرتب باز اور غوطہ خور اس اصول کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اسکیٹنگ، کلاسیکی؍ہندوستانی یا مغربی انداز کے رقاص ایک پیر کے انگوٹھے سے اپنے فن کا مظاہرہ اس اصول کی بنیاد پر ہی کرتے ہیں۔کیا آپ اس کی تشریح کرسکتے ہیں؟

7.14  لڑھکن حرکت(Rolling Motion) 

ایک بہت ہی عام حرکت جسے ہم روزمرّہ کی زندگی میں اکثرمشاہدہ کرتے رہتے ہیں وہ لڑھکن حرکت ہے۔سواری میں استعمال ہورہے سارے ہی پہیے لڑھکن حرکت میں ہوتے ہیں۔اسے سمجھنے کے لیے ہم ایک ڈسک کی مثال لیتے ہیں۔لیکن یہ نتیجہ ان سارے ہی ہموار اجسام پر لاگو ہوتا ہے جو ایک مستوی میں لڑھکن حرکت کرتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ڈسک بغیرپھسلن کے لڑھکتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ کسی ساعت میں ڈسک کا نچلا حصّہ جو سطح کو چھو رہا ہے سطح پر حالت سکون میں ہے۔
119
شکل   7.36 (b)  ایک کرتب بازاپنا تماشہ دکھاتے ہوئے معیارِحرکت کی بقا کے قانون کا استعمال کررہا ہے۔ 
ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لڑھکن حرکت میں گردشی اور خط انتقال حرکت ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ذرّات کے نظام کی خط انتقال حرکت مرکز کمیت کی حرکت ہے۔
120

شکل   7.37  ہموار مستوی پر ڈسک کی لڑھکن حرکت (بغیرپھسلن کے)۔خیال رہے کہ کسی ساعت پر سطح کے ساتھ ڈسک کا نقطہ اتصال P0 حالت سکون میں ہے۔ڈسک کا کمیت مرکز vcmرفتار سے چل رہا ہے۔ڈسک محورکے گرد زاویائی چال wکے ساتھ گردش کرتی ہے جو C سے گذرتا ہے۔vcm = Rw ، جہاں Rڈسک کا نصف قطر ہے۔

مان لیجیے  vcmکمیت مرکز کی رفتار ہے اور اس لیے ڈسک کی خطی رفتار ہے۔چونکہ لڑھکن کرتی ہوئی ڈسک کاکمیت مرکزاس کے جیومیٹریائی مرکزC(شکل 7.37) پر ہے۔vcm، Cکی رفتار ہے۔ یہ ہموار سطح کے متوازی ہے۔ڈسک کی گردشی حرکت متاشاکل محورکے گرد ہے جو Cسے گذرتا ہے۔اس لیے ڈسک کے کسی بھی نقطہ کی رفتار جیسے P0،P1 یاP2 کی رفتاراجزا پر مشتمل ہوتی ہے۔ایک خطی انتقالی رفتار vcmہے اور دوسری گردش کی وجہ سے خطی رفتار vr ہے۔ vrکی عددی قدر vr=rwہے جہاں wڈسک کی محورکے گرد زاویائی رفتار ہے اور rمحورسے دوری ہے) C سے(۔ رفتار vr کی سمت نصف قطر سمتیہ کے عمود میں ہے۔شکل7.37  میں نقطہ P2کی رفتار (v2)اور اس کے اجزاء vrاور vcm  دکھائے گئے ہیں۔vr  ، CP2  پر عمود ہے۔ یہ دکھانا آسان ہے کہ vz  خط  P0 P2 پرعمود ہے۔اس لیے وہ خط جو  P0  سے گذرہا ہے اور wکے متوازی ہے، گردش کا لمحاتی محور کہلاتا ہے۔
 P0  پر، خط انتقال رفتا  vr  سے گردش کی وجہ سے  خطی رفتارvcm  کے بالکل مخالف سمت میں ہے۔مزید،  vr  کی عددی قدر Rwہے۔جہاں Rڈسک کا نصف قطرہے۔ اس لیے، ڈسک کے بنا پھسلن کے لڑھکنے کی شرط
vcm = Rw                                                 (7.47)
اس کا مطلب ہے کہ ڈسک کے اوپری حصّہ پر نقطہP1 کی رفتار ) v1 ( کی عددی قدر vcm + Rw یا 2vcm  ہوگی اور اس کی سمت ہموار مستوی کے متوازی ہوگی۔ شرط (7.47) ساری لڑھکن حرکت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

7.14.1 لڑھکن حرکت کی حرکی توانائی (Kinetic Energy of Rolling Motion)

ہمارا دوسرا کام یہی ہوگا کہ لڑھکن حرکت کرتے ہوئے جسم کے لیے حرکی توانائی کے لیے ایک فارمولہ حاصل کریں۔لڑھکن جسم کی حرکی توانائی کو ہم خطی حرکی توانائی اور گردشی حرکی توانائی میں الگ کرسکتے ہیں۔یہ ذرّات کے نظام کے لیے ایک مخصوص حالت ہے جس کے مطابق ذرّات کے نظام کی حرکی توانائی  (K) کو مرکزکمیت کی حرکی توانائی (mv2/2) اور ذرّات کے نظام کے مرکزکمیت کے گرد گردشی حرکت کی حرکی توانائی (K')میں الگ کرسکتے ہیں۔اس لیے
 K = K' + Mv2/2                 (7.48)
ہم اس عام نتیجہ کو مان لیتے ہیں (دیکھیں مشق 7.31)اور اسے لڑھکن حرکت کی حالت میں استعمال کرتے ہیں۔مرکز کمیت کی حرکی توانائی یعنی لڑھکن جسم کی خطی حرکی توانائی mv2cm/2 ہوگی۔ جہاں mجسم کی کمیت  اورvcm مرکزکمیت رفتار ہے۔چونکہ مرکزکمیت کے گرد لڑھکن جسم کی حرکت گردشی حرکت ہے اس لیے K'جسم کی گردشی حالت کی حرکی توانائی بتاتا ہے اور K'=Iw2/2 جہاں Iمناسب محور کے گرد جمودگردشہ ہے جو لڑھکن جسم کا  متاشاکل محور ہے۔لڑھکن جسم کی حرکی توانائی
121
I=m k2 رکھنے پر جہاں k جسم کا گھوم نصف قطراور vcm = Rw  ہے۔اب
122
مساوات (7.49 b) کسی بھی لڑھکن جسم ڈسک، استوانہ، رنگ (چھلّہ) یا کرّہ کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

مثال  7.16 تین اشیاء ایک رنگ، ایک ٹھوس سلنڈر اور ایک ٹھوس کرّہ ایک مائل سطح پر بغیرپھسلن کے نیچے کی طرف لڑھک رہے ہیں۔یہ حالت سکون سے حرکت میں آتے ہیں۔ان کے نصف قطر ایک جیسے ہیں۔کون سی شئے زمین پر سب سے تیزرفتار کے ساتھ پہنچے گی؟

جواب  ہم لڑھکن جسم کے توانائی کی بقا کے اصول کا استعمال کرتے ہیں یعنی رگڑوغیرہ کے ذریعہ کوئی توانائی ضائع نہیں ہورہی ہے۔مائل سطح پر نیچے کی طرف لڑھکتے ہوئے جسم کے ذریعہ توانائی بالقوۃ کا نقصان (= mgh)حرکی توانائی کے فائدہ کے برابر ہونا چاہئے (شکل 7.38)۔چونکہ جسم حالت سکون سے حرکتشروع کرتے ہیں۔چونکہ جسم حالت سکون سے حرکت شروع کرتے ہیں اس لیے حرکی توانائی میں فائدہ جسم کی افتتای حرکی توانائی کے برابر ہوگا۔مساوات (7.49 b) سے،
123  جہاں vجسم کی (کمیت مرکز کی) اختتای رفتار ہے۔ اب k اورmgh کو برابر کرنے پر
124

شکل 38۔7

125
نوٹ کریں یہ لڑھکن جسم کی کمیت کے تابع نہیں ہے۔
رنگ (چھلہ) کے لیے k2 =R2 رکھنے پر
126
ڈسک کے لیےk2 =R2 رکھنے پر
127
ٹھوس کرنے کے لیےK2 =2R2/5رکھنے پر
128
حاصل شدہ نتائج سے صاف ظاہر ہے کہ تینوں اجسام میں درمیان کرہ کے کمیت مرکز کی سب سے زیادہ اور رنگ کی سب سے کم رفتار مائل سطح کے نچلے حصہ پر ہے مان لیجیے جسم کی کمیت یکساں ہے تو کون سی شئے جسم کی سب سے زیادہ گردشی حرکی توانائی ہو گی جب مائل سطح سے لڑھک کر بالکل نیچے سطح پر پہنچ چکی ہے 

خلاصہ

ایک مثالی استوارِ جسم وہ ہوتا ہے جس کے مختلف ذرّات کی آپسی دوریوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، گرچہ ان ذرّات پر قوتیں لگ رہی ہوتی ہیں۔
ایک استوارِ جسم جب ایک نقطہ پر یا ایک خط پر جڑا ہوتا ہے تو صرف گردشی حرکت ہی عمل میں آتی ہے۔اگراستوارِجسم کسی طرح جڑا ہوا نہ ہو تو یا تو خالص خطی انتقال یا خطی انتقال اور گردش دونوں ہونگے۔
متعین (جامد) محور کے گرد گردش میں استوارِ جسم کا ہر ذرّہ ایک دائرہ میں حرکت کرتا ہے ایسے مستوی میںواقع ہوتا ہے جو محورکے عمودی ہو اور اس دائرہ کا مرکز محور پر ہوتا ہے۔گردشی استوار جسم کے ہر نقطہ کسی بھی ساعت پر، زاویائی رفتار یکساں ہوتی ہے۔
خالص خطی انتقال میں جسم کا ہرذرّہ کسی بھی ساعت پر یکساں رفتار سے حرکت کرتا ہے۔
زاویائی رفتار سمتیہ ہے۔اس کی عددی قدر : w=dq/dtہے اوراس کی سمت گردشی محور کی جانب ہوتی ہے۔ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردش کے لیے سمتیہwایک متعین سمت میں ہوتا ہے۔
دوسمتیہ a اور bکا سمتی یا کراس حاصلِ ضرب a×bلکھا جاتا ہے۔اس کی عددی قدر ab sinq ہے اور سمت دائیں ہاتھ والے اصول سے معلوم کی جاتی ہے۔
ایک متعین (جامد) محور کے گرد گردش کرتے ہوئے استوارِ جسم کے ذرّہ کی خطی رفتار v = w × r ہے جہاں r،متعین (جامد) محور پرایک مبدا کے لحاظ سے ذرّہ کا مقام سمتیہ ہے۔یہ استوارِ جسم کے لیے بھی لاگو ہوتا ہے جو ایک جامد نقطہ کے گرد گردش کررہاہے۔اس حالت میں rذرّہ کا مقام سمتیہ ہے جومبدہ سے ناپا جاتا ہے۔
ذرّات کے نظام کے کمیت مرکز کی تعریف ہے:مرکزکمیت کو اس طرح کہا جاتا ہے وہ نقطہ جس کا مقام سمتیہ ہے:
129
ذرّات کے نظام کے مرکز کمیت کی رفتار  v = p/M ہوتی ہے، جہاں P نظام کا خطی معیارِحرکت ہے۔مرکزکمیت اس طرح حرکت کرتا ہے جیسے نظام کی پوری کمیت اس نقطہ پر مرکوز ہو اور اس پر ساری بیرونی قوتیں لگ رہی ہوں۔ اگرنظام پر کل بیرونی قوت صفر ہو تو نظام کا کل خطی معیارِحرکت مستقلہ ہوتا ہے۔
10۔ n ذرّات کے نظام کے لیے مبدہ کے گرد معیارِحرکت ہوتا ہے۔
130
 n ذرّات کے نظام کے لیے منبع کے گرد قوتِ گردشہہوتا ہے
131
قوت Fi  جو ith  ذرّہ پر لگ رہی ہے اس میں بیرونی اور داخلی قوتیں شامل ہیں۔یہ فرض کرتے ہوئے نیوٹن تیسرا کلیہ لاگوہوتا ہے اور دو ذرّات کے بیچ لگی قوت ان کو سمت میں ہوتی ہے ملانے والے خط کی ہم دکھاسکتے ہیںrint=oاور132
11۔ ایک استوارِ جسم میکانکی توازن میں ہوتا ہے اگر
(i)  یہ خطی توازن میں ہے یعنی کل بیرونی قوت صفر ہے،  133
(ii)   یہ گردشی توازن میں ہے یعنی کل بیرونی قوت گردشہ صفر ہے134
12۔ جسم کا مادی کشش مرکز وہ نقطہ ہے جہاں جسم پر کل مادی کشش قوت گردشہ صفر ہے۔
13۔ ایک متعین محور کے گرداستوارِ جسم کے جمودگردشہ 135سے دکھایا جاتا ہے۔ جہاں ri، ithذرّہ کی محور سے عمودی دوری ہے۔ گردش کی حرکی توانائی136ہے
14۔ متوازی محورکا تھیورم Iz' = Iz + Ma2 ، ہمیں استوارِجسم کا جمود گردشہ ایک محورکے گردبتاتا ہے۔ کسی بھی محور کے گردجسم کا جمودِگردشہ جسم کے مرکزکمیت سے گذرتے ہوئے محور جمودگردشہ جو متوازی محورکے گرد جمودِگردشہ اورکمیت اور دونوں محوروںکے بیچ کی عمودی دوری کے مربع کے حاصل ضرب کے جوڑ کے برابر ہوتا ہے۔
15۔ ایک متعین محورکے گردگردش اور خطی حرکت میں بہت مماثلت تجردحرکیات اور حری حرکیات عمل کے لحاظ سے۔
16۔ ایک متعین محور کے گردگردش کرتے ہوئے استوارِجسم کی زاویائی اسراعIa =t  ہے۔ اگربیرونی قوت گردشہ صفر ہے تو زاویائی تحرک کے اجزاء ایک متعین محورکے گرد (Iw)ایسی گردشی جسم کے لیے مستقل ہوتا ہے۔
17۔ بغیرپھسلن کے لڑھکن حرکت میں vcm = Rw  ہوتا ہے۔جہاں vcm  خطی رفتار ہے (یعنی مرکز کمیت کا)، R  نصف قطرہے اور mجسم کی کمیت ہے۔اس طرح کے لڑھکن جسم کے لیے حرکی توانائی خطی اور گردشی حرکی توانائی کا جوڑ ہوتا ہے۔

طبیعی مقدار علامت ابعاد اکائی تبصرہ
زاویائی رفتار r (T-1) rad s-1 v=wxr
زاویائی تحرک r (ML2T-1) j s L=rxp
قوت گردشہ T (ML2T-2) N  m T=rx F
جمودی گردشہ 1 (ML2) kg m2 137

قابل غورنکات

نظام کے مرکز کمیت کی حرکت معلوم کرنے کے لیے نظام کے داخلی قوتوں کی جانکاری ضروری نہیں ہے۔اس مسئلہ کے لیے ہمیں جسم پر صرف بیرونی قوتوں کا جاننا ضروری ہے۔
ذرّات کے نظام کی حرکت کو الگ کرنے پر مرکز کمیت کی حرکت، نظام کی خطی حرکت اور نظام کے مرکزکمیت کے گردحرکت ملتی ہے جو ذرّات کے نظام کے حری حرکیاتی عمل کو سمجھنے کے لیے ایک موزوں طریقہ ہے۔
ایک اس کی مثال ذرات کے نظام کی حرکی توانائی kکو الگ کرنے پر مرکزکمیت کے گردحرکی توانائی k'اور مرکز کی حرکی توانائی MV2/2 ملتی ہے۔
ایک مخصوص شکل جسم (یا ذرّات کے نظام) کے لیے نیوٹن کا دوسرا کلیہ منحصرکرتا ہے نیوٹن کے دوسرے کلیہ اور تیسرے کلیہ پر۔
ذرّات کے نظام کے کل زاویائی تحرک میں تبدیلی کی شرح نظام میں کل بیرونی قوت گردشہ کے برابر ہوتی ہے۔اس لیے ہمیں نیوٹن کا دوسرا اور تیسرا کلیہ کی ضرورت پڑتی ہے جس کے مطابق دو ذرّات کے بیچ لگی قوت ذرّات کو ملانے والی لائن کے سمت میں ہی ہوتی ہے۔
کل بیرونی قوت اور کل بیرونی قوت گردشہ صفر کرنے پر ایک آزاد شرط ملتا ہے۔ ہم ایک شرط کا استعمال دوسرے کے بغیرکرسکتے ہیں ۔ کسی قوت جفت میں، کل بیرونی صفرہوتی ہے لیکن کل قوت گردشہ غیرصفر ہوتی ہے۔
6۔ذرّات کے نظام پر لگی کل قوت گردشہ منبع سے آزاد ہوگی اگر کل بیرونی قوت صفر ہو۔
جسم کا مرکزثقل، مرکزکمیت سے ہی ہوتا ہے اگرثقلی میدان میں کوئی تبدیلی جسم کے ایک ۔۔۔؟
زاویائی تحرک Lاور زاویائی رفتار wضرورطورپر متوازی سمتیہ نہیں ہیں۔بحرحال ایک آسان حالت میں جب ایک متعین محورکے گرد گردش ہو جو استوارِ جسم کا ہم شکل محورہے اس میں تعلق L=Iw  گو ہوگا۔ جہاں Iجسم کا جمودِگردشہ گردشی محورکے گرد ہے۔

مشق

7.1 یکساں کمیت کثافت کے درج ذیل اجسام میں ہر ایک کی کمیت مرکز کا وقوع لکھیے (a) گولا (کرہ) (b) سلنڈر (c) چھلّا اور (d)مکعب۔ کیا کسی جسم کا کمیت مرکز لازمی طورپر اس جسم کے اندر واقع ہوتا ہے؟
7.2 HCl مالیکول میں دو ایٹموں کے نیوکلیس کے درمیان علاحدگی تقریباً (1Å = 10-10 m)1.27 Åہے۔ اس مالیکول کا کمیت مرکز کا تقریبی وقوع معلوم کیجیے۔ یہ معلوم ہے کہ کلورین کا ایٹم ہائیڈروجن کے ایٹم کے مقابلے 35.5 گنا بھاری ہوتا ہے اور کسی ایٹم کی کل کمیت اس کے نیوکلیس پر مرتکز ہوتی ہے۔
7.3 کوئی بچہ کسی ہموار افقی فرش پر یکساں چال v سے متحرک کسی لمبی ٹرالی کے ایک سرے پر بیٹھا ہے۔ اگر بچہ کھڑا ہوکر ٹرالی پر کسی بھی طرح سے دوڑنے لگتاہے، تب (ٹرالی + بچہ) نظام کی کمیت مرکز کی چال کیا ہے؟ 
7.4 ثابت کیجیے کہ سمتیہ aاور bکے درمیان مثلث کا رقبہ a×bکے مقدار کا آدھا ہوتا ہے۔
7.5 ثابت کیجیے کہ a.(b×c) کی مقدار اور تین سمتیہ a؛b اور c سے مبنی متوازی بیلن (parallelopiped)کا حجم دونوں ایک ہی ہے۔
7.6 ذرّات کے زاویائی تحرک lکے اجزاء x ،y،zمحورمیں ہیں اور تحرک pاجزاء px، pyاور pzہیں۔ یہ دکھائیں کہ اگر ذرّات صرف x-yسطح میں ہی حرکت کرتے ہیں تو زاویائی تحرک صرف -z اجزاء کی ہی ہوگی۔
7.7 دو ذرّات جس کی کمیت m اور رفتارvہے۔متوازی لائن کی طرف مخالف سمت میںچل رہے ہیں اور dدوری پر واقع ہیں۔یہ دکھائیں کہ دو ذرّات کے نظام کا سمتیہ زاویائی تحرک ایک ہی ہے خواہ کسی بھی بقطہ کے گرد زاویائی تحرک لی جائے۔
7.8 ایک غیر یکساں چھڑجسکا وزن w  حالت سکون میں دو دھاگہ (کمیت تقریباً صفر)کے ذریعہ لٹکایا گیا (شکل 7.39 )۔دھاگہ کے ذریعہ بنایا گیا زاویہ عمود سے بالترتیب 36.9o اور53.1o ہے۔چھڑ 2 m لمبی ہے چھڑ کا مرکز ثقل بائیں ہاتھ کی طرف سے دوری dمعلوم کریں۔
138

شکل 39۔7

7.9 ایک کار کی کمیت 1800 kg ہے۔اس کے اگلے اور پچھلے دھوری کی درمیانی دوری 1.8 m  ہے۔اس کا مرکز ثقل اگلے دھوری سے پیچھے کی جانب 1.05 ہے۔ہموار میدان کے ذریعہ لگی قوت اگلے اورپچھلے پہیہ پر کیا ہوگی۔
7.10 (a) ایک گولا کا جمود گردشہ گولا کے خط مماس کے گرد معلوم کریں۔ دیا گیا ہے کہ گولا کا جمود گردشہ قطر کے گرد2 MR2/5 ہے جہاں Mگولا کی کمیت ہے اور Rگولا کا نصف قطر ہے۔
(b)  ایک ڈسک کا جمود گردشہ کسی بھی قطر کے گرد MR2/4ہے جہاں Mکمیت اور  R نصف قطر ہے اس کا جمودگردشہ ایک محورجو ڈسک سے عمودی سمت میں ہے اور اس کے کنارہ پر واقع نقطہ سے گذرتی ہے، معلوم کرو۔
7.11 ایک ٹھوس گولا اور ایک کھوکھلا سلنڈر جس کی کمیت اور نصف قطر یکساں ہے، پر برابر مقدار کی قوت گردشہ لگ رہی ہے۔سلنڈر اپنے ہم شکل محور کے گرد گردش کے لیے آزاد ہے اور گولا ایک محور جو مرکز سے گذرتا ہے کے گرد گردش کے لیے آزاد ہے۔ان دونوں میں سے کون ایک وقفہ مدت کے بعد زیادہ زاویائی چال حاصل کرے گی۔
7.12 20 kg کمیت کا کوئی ٹھوس سلنڈر اپنے محور کے اطراف 100 rad s-1 کی زاویائی چال سے گردش کررہا ہے۔ سلنڈر کا نصف قطر 0.25 m ہے۔ سلنڈر کی گردش سے متعلق حرکی توانائی کیا ہے؟ سلنڈر کے اپنے محور کے اطراف زاویائی تحرک کی قدر کیا ہے؟
7.13 (a) کوئی بچہ کسی ٹرن ٹیبل کے مرکزپر اپنے دونوں بازوؤں کو باہر کی جانب پھیلا کر کھڑا ہے۔ ٹرن ٹیبل کو 40 rev/min کی زاویائی چال سے گردش کرائی جاتی ہے۔ اگر بچہ اپنے ہاتھوں کو واپس سکوڑ کر اپنا جمود گردشہ اپنے ابتدائی جمود گردشہ سے 2/5 گنا کر لیتا ہے تو اس صورت میں اس کی زاویائی چال کیا ہوگی؟ یہ مانیے کہ ٹرن ٹیبل کی گردشی حرکت رگڑ سے پاک ہے۔
(b)یہ دکھائیے کہ بچے کی گردش کی نئی حرکی توانائی اس کی ابتدائی گردش کی حرکی توانائی سے زیادہ ہے۔ آپ حرکی توانائی میں ہوئے اس اضافے کی تشریح کس طرح کریں گے؟
7.14 3 kgکمیت اور 40 cm نصف قطر کے کسی کھوکھلے سلنڈر پر نظرانداز کمیت کی رسی لپیٹی گئی ہے۔ اگر رسی کو 30 N قوت سے کھینچا جائے تو سلنڈر کا زاویائی اسراع کیا ہوگا؟ رسی کا خطی اسراع کیا ہے؟ یہ مانیے کہ اس معاملے میں کوئی پھسلن نہیں ہے۔
7.15 کسی روٹر(rotor) کی 200 rad s-1 کی یکساں زاویائی چال بنائے رکھنے کے لیے ایک انجن کے ذریعے 180 N m کا قوت گردشہ ترسیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انجن کے لیے ضروری طاقت معلوم کیجیے۔ (نوٹ: رگڑ کی غیر موجودگی میں یکساں زاویائی رفتار ہونا اس بات کی دلالت
7.16 نصف قطر Rوالے یکساں ڈسک سے ایک گول سوراخ جس کا نصف قطر R/2ہے مانا گیا ہے۔سوراخ کا مرکز اصل ڈسک کے مرکز سے R/2دوری پر ہے۔اس جسم کا مرکز ثلق معلوم کریں۔
7.17 ایک میٹرچھر اپنے مرکز پر دھاری دار چیز پر متوازن حالت میں ٹکاہوا ہے۔ جب 5 g  کا دوسکہّ ایک کے اوپر ایک 12 cmنشان پر رکھا گیا ہے تو چھڑ اس حالت میں 45.0 cm پر متوازن ہوتا ہے۔میٹر چھڑ کی کمیت کیا ہے۔
7.18 ایک ٹھوس گولا دو مختلف مائل سطح سے برابر اونچائی مگر مختلف جھکائو زاویہ سے نیچے کی طرف لڑھک رہا ہے (a)کیا ہر حالت میں یہ دونوں ایک ہی رفتار سے نیچے پہونچے گی؟ (b)  کیا ایک سطح کے مقابلہ میں دوسرے سطح پر پہنچنے کی جانب لڑھکنے میں زیادہ وقت لگے گا؟ (c)اگر ایسا ہے، تو کون سا اور کیوں؟
7.19 ایک 2 m نصف قطر والے گولائی کا وزن 100 kg ہے۔ یہ افقی سطح کے سمت میں اس طرح لڑھکتا ہے کہ اس کی مرکز کمیت کی چال 20cm/s ہے۔اسے روکنے کے لیے کتنے کام کی ضرورت ہوگی؟
7.20 آکسیجن سالمہ کی کمیت 5.30×10-26 ہے اور اس کا جمودگردشہ ایک محور کے گرد جو مرکز سے گذرتا ہے اور دوجوہروں کو ملانے والی لائن کے عمود میں ہے وہ 1.94×10-46 ہے۔مان لیجیے کہ اس سالمہ کی اوسط چال گیس میں  500 m/s ہے اور اسکی گردشی حرکی توانائی خطی توانائی کے دوتہائی ہے۔سالمہ کی اوسط زاویائی رفتار معلوم کریں۔
7.121 ایک ٹھوس سلنڈر مائل مستوری پر اوپر کی جانب لڑھک رہا ہے جس کا جھکائو زاویہ 300ہے۔مائل مستوی کے بالکل نیچے سلنڈر کی مرکز کمیت کی چال  5 m/sہے۔
(a) سلنڈر مستوی پر کتنی دور اوپر جائے گا؟
(b)  نیچے آنے میں کتنا وقت لگے گا؟

اضافی مشقیں

7.22 جیسا کہ شکل 7.40میں دکھایا گیا ہے سیڑھی نما کے دونوں کنارے BAاور CA 1.6 میٹر لمبی ہے اور نقطہ Aپرپِن ہے۔ایک رسّیDE ، 0.5 m لمبی درمیان میں بندھی ہوئی ہے۔40 kg کا وزن نقطہ F سے لٹکایا گیا ہے جو سیڑھی BAکے سمت میں ہے اور Bسے 1.2 m  دور ہے۔سطح کو بغیر رگڑکا ماننے پر اور سیڑھی کے وزن کو نظرانداز کرنے پر رسّی کے اندر کھینچائو اور سطح کے ذریعہ سیڑھی پر لگی قوت معلوم کریں۔ (لیجیے g = 9.8 m/s2)۔
(اشارہ  :  سیڑھی کے ہر طرف متوازن حالت مان لیجیے)
139

شکل  7.40

7.23 ایک آدمی گھمائو دار پلیٹ فارم پر اپنے بازو کو افقی سمت میں پھیلائے ہوئے کھڑا ہے اور ہر ہاتھ میں 5 kg وزن پکڑے ہوئے ہے۔پلیٹ فارم کی زاویائی چال 30 rev/min ہے۔آدمی اس کے بعد اپنے بازو کو قریب کرتا ہے اس طرح کہ ہر وزن کی دوری محور سے 90 cm سے گھٹ کر 20 cm رہ جاتی ہے آدمی کا جمودگردشہ پلیٹ  فارم کے ساتھ ایک مستقل عدد 7.6 g m2  ہے۔
(a)  اس کی نئی زاویائی چال کیا ہے (رگڑ کو نظرانداز کریں)
(b)  کیا اس عمل میں حرکی توانائی کی بقا لاگو ہوگا۔اگر نہیں، تو تبدیلی کہا سے آتی ہے۔
7.24 بندوق کی ایک گولی جس کی کمیت 10 g  اور چال 500 m/s ہے دروازہ پر چھوڑی گئی ہے اور دروازے کے بالکل درمیان میں گھس گئی ہے۔دروازہ 1 m  چوڑی اور وزن 12 kg ہے۔اس کے ایک کنارہ پر پن لگی ہوئی ہے اور عمودی محور کے گرد بغیررگڑ کے گھومتی ہے۔دروازہ کی زاویائی چال ٹھیک گولی کے گھسنے کے بعد کیا ہوگی۔
(اشارہ  ۔  دروازہ کا جمودگردشہ عمودی محور کے گرد ایک کنارہ پر ML2/3  ہے)
7.25 دوڈسک جس کا جمودگردشہ بالترتیب اپنے محور کے گرد I1  اورI2 ہے (ڈسک سے عمود میں ہے اور مرکز سے گذرتا ہے) اور زاویائی چال w1 اورw2سے گھوم رہی ہے۔اسے قریب اس طرح لایا گیا ہے کہ اس کی گردشی محور آپ میں مل جاتی ہے۔(a)  ان دونوں ڈسک نظام کی زاویائی چال اب کیا ہوگی؟ (b)  یہ دکھائیں کہ متحدہ نظام کی حرکی توانائی دونوں ڈسک کے ابتدائی حرکی توانائی کے مجموعہ سے کم ہوگی۔آپ اس میں توانائی کے نقصان کو اس طرح لیں گے۔لیجیے
7.26 (a)  عمودی محورکے تھیورم کو ثابت کریں
(اشارہ  :  ایک نقطہ ، x,y)کے دوری کا مربع x-yسطح میں ایک محور سے جو منبع سے گذرتا ہے اور x2+y2 سطح کے عمود میں ہے)
(b)  متوازی محور کے تھیورم کو ثابت کریں
(اشارہ  :  nذرات کے کسی نظام کا مرکز کمیت اگر منبع منتخب کیا گیا ہے تو140
7.27 لڑھکن جسم کی خطی حرکت کی رفتار vہے (جسم جسے رنگ، ڈسک، سلنڈر یا گولا)۔ثابت کیجیے کہ vمائل مستوی (اونچائی h)کے سب سے نیچے ہوگی

141
حری حرکیاتی عمل کے استعمال سے (قوت اور قوت گردشہ کے ماننے پر)۔ یہ خیال رہے کہ kجسم کا ہم شکل محور کے گرد گھوم نصف قطر ہے اور Rجسم کا نصف قطر ہے۔جسم حالت سکون سے سب سے اوپر کی جانب سے شروع ہوتی ہے۔
7.28 اپنے محورw0 زاویائی چال کو گردش کرنے والے کسی ڈسک کو دھیرے سے (انتقالی دھکادیے بغیر) کسی مکمل بے رگڑ میز پر رکھا جاتا ہے۔ڈسک کا نصف قطرRہے۔شکل 7.41میں دکھائے گئے ڈسکوں کے نقاط B,Aاور Cپر خطی رفتار کیا ہے؟ کیا یہ ڈسک شکل میں دکھائی سمت میں لڑھکنے کی حرکت کرے گی؟
142

شکل  7.41

7.29 واضح کیجیے کہ شکل 7.18میں دکھائی گئی سمت میں ڈسک کی لڑھکن حرکت کے لیے رگڑ ہونا ضروری کیوں ہے؟
(a)  B پر رگڑقوت کی سمت اور کامل لڑھکن شروع ہونے سے قبل رگڑقوت گردشہ کی سمت کیا ہے؟
(b)  کامل لڑھکن حرکت شروع ہونے کے بعد رگڑقوت کیا ہے؟
7.30 10 cm نصف قطر کی کوئی ٹھوس ڈسک اور اتنے ہی نصف قطر کا کوئی چھلا کسی افقی میز پر ایک ہی ساعت 10 p rad s-1 کی زاویائی چال سے رکھا جاتا ہے۔ ان میں سے کون پہلے لڑھکن حرکت شروع کردے گا۔ حرکی رگڑ ضربیہ  mk = 0.2 ہے۔
7.31 10 kgکمیت اور  15 cm نصف قطر کا کوئی سلنڈر کسی 30o جھکاؤ کے مستوی پر کامل لڑھکن حرکت کررہا ہے۔ ساکن رگڑ ضربیہ  ms × = 0.25 ہے۔
(a)   سلنڈر پر کتنی قوت رگڑ عمل پذیر ہے؟
(b) لڑھکن کی مدت میں رگڑ کے خلاف کتنا کام کیا جاتا ہے؟
(c) اگر مستوی کا جھکاؤ q میں اضافہ کردیا جائے تو qکی کس قدر پر سلنڈر کامل لڑھکن حرکت کرنے کے بجائے پھسلنا               (skid)            شروع کردے گا؟
7.32 نیچے دئیے گئے ہر ایک بیان کو غور سے پڑھیے اور اسباب کے ساتھ جواب دیجیے کہ ان میں کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط۔
(a) لڑھکن حرکت کرتے وقت رگڑ قوت اسی سمت میں عمل پذیر ہوئی ہے جس سمت میں جسم کا سمت مرکز کمیت حرکت کرتا ہے۔
(b) لڑھکن حرکت کرتے وقت نقطہ لمس کی ساعتی چال صفر ہوتی ہے۔
(c) لڑھکن حرکت کرتے وقت نقطہ لمس کااسراع صفر ہوتا ہے۔
(d) کامل لڑھکن حرکت کے لیے رگڑ کے خلاف کیا گیا کام صفر ہوتا ہے۔
(e) کسی کامل بے رگڑ مائل مستوی پر نیچے کی طرف حرکت کرتے پہیے کی حرکت پھسلن حرکت (لڑھکنے کی حرکت نہیں) ہوگی۔
7.33 ذرّات کے نظام کی حرکت کو جدا کرنے پر مرکز کمیت کی حرکت اور مرکز کمیت کے گرد حرکت ملتی ہے۔
(a)  دکھائیں کہ p = pi' + mi v 
جہاں  pi، ith' ذرہ(کمیت mi )کا تحرک ہے اور  pi = pi' + mi vi'   ہے ۔خیال رہے کہ vi' ، ith'ذرہ کی رفتار مرکز کمیت کے نسبت سے ہے۔
مرکزکمیت کی تعریف کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھی ثابت کردیں کہ143
(b) دکھائیںK=K+½MV2جہاں kذرات کے نظام کی حرکی توانائی ہے، k'نظام کی کل حرکی توانائی ہے جب ذرّات کی رفتار مرکز کمیت کے لحاظ سے لی جاتی ہے اور Mv2/2 پورے نظام کے خطی حرکت کی حرکی توانائی ہے (یعنی نظام کے مرکز کمیت کے حرکت کی)۔اس نتیجہ کو سیکشن 7.14میں استعمال کیا گیا ہے۔
(c) یہ دکھائیں L=L.+R+MV جہاں 145 L-L مرکزکمیت کے گرد نظام کا زاویائی تحرک ہے۔اسکی رفتار مرکزکمیت کے لحاظ سے لی جاتی ہے۔یہ یادرکھیںr1=r1-Rباقی سارے علامت اسی باب کے مطابق ہیں۔خیال رہے L'اورMR×V بالترتیب زاویائی تحرک ذرّات کے نظام کے مرکز کمیت کی اور اسکے گرد ہے۔
دکھائیں 146
آگے دیکھے کہ 147
جہاں �مرکزکمیت کے گرد نظام پر لگے تمام بیرونی قوت گردشہ کا مجموعہ ہے۔
(اشارہ  : rext مرکز کمیت کی تعریف اورحرکت کا تیسرا کلیہ استعمال کریں۔ یہ مانیں گے کہ دوذرّات کے درمیان لگی داخلی قوت ذرّات کو ملانے والی لائن کے سمت میں ہوتی ہے۔)

پلوٹو : ایک بونا سیارہ 

چیک جمہوریہ کے پراگ میں  24 اگست 2006 کومنعقد اجرام فلکی کی بین الاقوامی یو نین ، آ ئی اے یو کی جنرل اسمبلی میں ہمارے نظام شمسی کے سیاروں کی ایک نئی تشریح پیش کی ہے ۔ نئی تعریف کے مطابق پلوٹو ایک سیارہ نہیں ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ نظام شمسی میں اب آٹھ سیارے ہیں جن میں عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون شامل ہیں۔ آئی اے یو نے ہمارے نظام شمسی میں سیارچوں(سیٹلائٹ)کو چھوڑ کر ’’سیاروں‘‘ اور دیگر اجرام فلکی کو تین الگ الگ زمروں میں تقسیم کیا ہے ۔ جو مند درجہ ذیل ہے :
 (1)        ایک ’سیارہ’ ایک ایک ایسا جَرم فلکی ہے جو (الف ) سورج کے گرد گھومتا ہے (ب) اتنی وسعت رکھتا ہے کہ جو کسی ٹھوس مادے کی قوت پر اپنی کشش کے ذریعہ حاوی ہو کر مائع توازن سے (تقریباً گول) شکل اختیار کر لیتا ہے اور (ج)اپنے مدار کے آس پاس کسی کو داخل نہیں ہونے دیتا ۔ 
(2)        ایک  ’ بونا سیارہ ‘ (Dawrf Planet) ، ایک ایسا جَرم فلکی ہے جو (الف) سورج کے گرد گھومتا ہے (ب) اتنی وسعت رکھتا ہے جو کسی ٹھوس مادے کی قوت پر اپنی کشش کے ذریعہ حاوی ہوکر مائع کے توازن سے (تقریباً گول) شکل اختیار کر لیتا ہے  (ج) اپنے مدار کے آس پاس کسی کے داخلے کو نہیں روک سکتا اور (د) یہ ایک سیار چہ نہیں ۔ 
(3)      سیارچوں کو چھوڑ کر دیگر تمام اجرام ، جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں،کو مجموعی طور پر’’نظام شمسی کے چھوٹے اجرام ‘‘ کہا جانا چاہیے۔نظام شمسی کے دیگر آٹھ سیاروں کے بر خلاف پلوٹو کے مدار میں ’’دیگر اجرام‘‘ اور نیپچون سیارہ بھی آ جاتا ہے۔ فی الحال ’’ دیگر اجرام‘‘ میں زیادہ تر نظام شمسی کے گرد گھومنے والے بہت چھوٹے سیارے نیپچون سے گزرنے والے اجرام (TNOs) شہابِ ثاقب اور دیگر چھوٹے اجرام شامل ہیں۔ 
مذکورہ بالا تعریف کے مطابق پلوٹو ایک ’’بوناسیارہ ‘‘ ہے اور اسے نیپچون سے گذرنے والے اجرام کے نئے زمرے کے ابتدائی جَرم کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے ۔