
باب 8
تشاکل
(Gravitation)
ہونے والااسراع
کی توانائی
خلاصہ
8.1 تعارف (Introdution)
8.2کیپلر کے قانون (Kepler's laws)



| سیارہ Q T a |
| مرکری (عطارد) وینس (زہرہ) (ارتھ) زمین مارس (مریخ) جیو پیٹر (مشتری) سیٹرن (زحل) یورینس (ادرانوس) نیچچون (تپتون) پلوٹو (پلاٹو) |
579. 10.8 15.0 22.8 77.8 143 287 450 590 |
0.25 0.615 1 1.88 11.9 29.5 84 165 248 |
2.95 3.00 2.96 2.98 3.01 2.98 2.98 2.99 2.99 |

![]() جان یا جوہانس (1630 تا 1604)
جان یا جوہانس (1630 تا 1604) جرمن نژاد سائنس داں تھے۔ انہوں نے ٹائیکو بریہہ اور معاونین کی جفاکش محنت سے حاصل کیے ہوئے مشاہدات پر مبنی سیاری حرکت سے متعلق تین قوانین کو وضع کیا۔ کیپلر خود بریہہ کے ایک معاون تھے۔ انہیں سیاری حرکت کے تین قوانین کی تدوین میں بیس سال لگ گئے۔ انہیں جیومتریائتی بصریات کا بانی بھی مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ پہلے سائنس داں تھے جنہوں نے یہ دریافت کیا کہ کسی دوربین میں داخل ہونے کے بعد روشنی پر کیا گزرتی ہے۔
|
| مثال 8.1 مان لیجئے شکل 8.1(a)میں سیارہ کی چال قریب آفتابPپر vPہے اور سورج سیارہ دوری rP'SPہے۔ (rP'vP) کاقریب آفتاب BAC پران کی بالترتیب مقداروں سے رشتہ معلوم کریں۔ کیا سیارہ کوBAC اورCPB طے کرنے کے لیے یکساںوقت لگے گا؟ |
8.3 مادی کشش کا ہمہ گیر قانون(Universal Law of Gravitation)

| مرکزی قوتیں(Central Forces) ہم جانتے ہیں کہ مبدا کے گرد ایک ذرہ کے زاویائی معیارِحرکت میں وقت کے ساتھ تبدیلی کی شرح
مرکزی قوت کے تحت حرکت میں زاویائی معیارِحرکت کی ہمیشہ بقا ہوتی ہے۔ اس سے دو اہم نتائج برآمد ہوتے ہیں
(1)مرکزی قوت کے تحت ذرہ کی حرکت ہمیشہ ایک مستوی میں ہی محدود ہوتی ہے۔
(2)قوت کے مرکز کے لحاظ سے (یعنی متعین نقطہ) ذرہ کے مقام سمتیہ کی ہمیشہ ایک مستقل رقبی رفتار (Areal Velocity)ہوتی ہے۔ دیگر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ذرہ مرکزی قوت کے زیر اثر حرکت کرتا ہے تو مقام سمیتہ یکساں وقفہ وقت میں یکساں رقبہ طے کرتا ہے۔
ان دونوں نتیجوں کو ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ رقبی رفتار : dA/dt = ½ r v sin a سے دی جاتی ہے۔
درج بالا گفتگو کو ہم سورج کی قوت کشش کے تحت ہونے والی سیاروں کی حرکت کے مطالعہ میں استعمال کر سکتے ہیں۔ آسانی کے لیے سورج کو اس قدر وزنی مانا جا سکتا ہے کہ یہ حالت سکون میں ہو۔ سیارہ پر سورج کی قوت کشش سورج کی جانب ہوتی ہے۔ یہ قوت اس شرط کو بھی مطمئن کرتی ہے کہ
F=F(r)چونکہF=Gm1 m2/r2جہاں m1اور m2 بالترتیب سورج اور سیارہ کی کمیت ہے اور Gہمہ گیرمادی کشش مستقلہ ہے۔ اوپر
بیان کئے گئے دونوں نتیجے (1)اور(2)اسی لیے سیارہ کی حرکت میں لاگو ہوتے ہیں۔ درحقیقت نتیجہ(2)کیپلر کا دوسرا قانون ہے
![]() Trمرکزی قوت کے تحت ذرہ کا حرکت خط (Trajectory)ہے۔ Pپر قوتOPکی جانب لگتی ہے۔O قوت کا مرکز ہے جسے مبدہ مانا گیا ہے۔ وقفہΔt میں ذرہ PسےP'تک حرکت کرتا ہے .
: PP' = Δs = Δt
قوس۔ خط حرکت کے نقطہ Pپر کھینچا گیا خط مماسPQ،'P پررفتار کی سمت دکھاتا ہے ۔ وقفہtΔ میں طے کیا گیا رقبہ سیکڑ POP'کا رقبہ ہے۔ POP'/2 = (r v sin a) Δt/2
|




| مثال 8.2ایک مساوی مثلث ABCکی ہر راس پر مساوی کمیت mkg کی ایک ایک کمیت رکھی ہوئی ہے۔ (a) مثلث کے وسطانی مرکز Gپر رکھی گی2mکمیت پر کتنی قوت لگ رہی ہے ۔ (b) اگر راسAکی کمیت کو دوگنا کر دیا جائے تو کتنی قوت لگے گی ؟ |

شکل 8.5 تین مساوی کمیتیں مساوی الاضلاع مثلث ABC
کی راسوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ ایک2mکی کمیت وسطانی مرکز پر ہے۔
نیوٹن کا پرنسپیا (Newton's Principia)کیپلر نے اپنے تیسرے قانون کو 1619 میں وضع کیا تھا۔ مادی کشش کے ہمہ گیر قانون کا اعلان تقریباً 70 سال بعد 1687 میں تب ہوا جب نیوٹن نے اپنے شاہکار فلاسفی نیچرالس پرنسپیا میتھمیٹکا (Philosophiae Naturalis Principia Mathematica) جسے مختصراً پرنسپیا کہتے ہیں شائع کیا ۔
1685 کے آس پاس ایڈمنڈ ہیلی (جن کے نام پر مشہور ہیلی دمدارتارے کا نام پڑا) نیوٹن سے ملنے کیمبرج آئے اور ان سے پوچھا کہ مقلوب مربع قانون کے تحت متحرک کسی جسم کے خطِ حرکت (trajectory) کی فطرت کیا ہوگی؟ نیوٹن نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا کہ راہ کی شکل ناقص ہی ہوسکتی ہے۔درحقیقت ایسا نتیجہ انہوں نے بہت پہلے (1665 میں) اس وقت نکال لیا تھا جب طاعون پھیلنے کے سبب مجبور ہو کر وہ کیمبرج سے اپنے فارم ہاؤس آرام کے لیے چلے گئے تھے۔ بدقسمتی سے نیوٹن سے وہ صفحات گم ہو گئے تھے جن پر انہوں نے اس کا حل لکھ لیا تھا۔ لیکن ہیلی نے نیوٹن کو اس بات کے لیے قائل کر لیا کہ وہ اپنے کام کو کتاب کی شکل میں شائع کریں اور اشاعت کے اخراجات وہ (ہیلی) خود برداشت کریں گے۔ نیوٹن نے اپنی فوق الانسانی کوششوں سے یہ کارنامہ 18 مہینوں میں پورا کرلیا۔ پرنسپیا بے مثال سائنسی شاہکار ہے اور لیگرینج کے الفاظ میں ’’انسانی دماغ کی سب سے عمدہ تخلیق ہے‘‘۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے فلکیاتی طبیعیات داں اور نوبل انعام یافتہ ایس چندر شیکھر نے پرنسپیا پر کتاب لکھنے میں 10 سال کا وقت لگایا۔ ان کی کتاب عام قارئین کے لیے پرنسپیا میں نیوٹن کے طریقوں میں پنہا ں خو بصورت، باریک اور حیرت انگیز کفایتی اسلوب کی طرف توجہ مرکوز کرتی ہے۔
|



8.4 مادی کشش مستقلہ
(The Gravitational Constant)



8.5 زمین کی مادی کشش قوت کے ذریعہ پیدا ہونے والا اسراع
(Acceleration Due To Gravity of The Earth)

،اس لیے

8.6 زمینی سطح سے نیچے اور اوپر مادی کشش اسراع
(Acceleration Due to Gravity Below and Avove the Source of Earth)







8.7 مادی کشش توانائی بالقوۃ(Grivitational Potential Energy)



| مثال 8.3ضلع lوالے مربع کے راسوں پر چار ذرے رکھے ہوئے ہیں۔ اس نظام کی توانائی بالقوٖۃ معلوم کیجئے۔ مربع کے مرکز پر بھی توانائی بالقوۃ کی تحسیب کیجئے |


8.8 چال فرار (Escape Speed)
(8.26)
(8.29)
(8.31)مثال 8.4دو مساوی نصف قطرRلیکن کمیت mاور 4mوالے یکساں ٹھوس کرے اس طرح رکھے ہیں کہ ان کے مراکز کے بیچ کی دوری شکل 8.10کے مطابق 6Rہے۔ دونوں کروں کو قائم کر دیا گیا ہے۔Mکمیت والے کرہ کی سطح سے mکمیت کا کوئی پروجکٹائل دوسرے کرہ کے مرکز کی طرف سیدھا پھینکا کیا گیا ہے پروجکٹائل کی اس کم ترین چال Vکے لیے ریاضیاتی عبارت حاصل کیجئے کہ جس سے وہ دوسرے کرے کی سطح تک پہونچ جائے۔
![]() |


8.9 زمینی ذیلی سیارہ (Earth Satellites)



=g استعمال کیا ہے ۔ ہر مدار میں ذیلی سیارہ vچال کے ساتھ 2p(RE+h)دوری طے کرتا ہے ۔ اس لیے اس کا دوری وقت Tہوگا۔

مثال 8.5 سیارہ مریخ کے دو چاند ہیں جن کے نام فوبوس اور ڈپیلوس ہیں (i)فوبوس کا دور7گھنٹے 39منٹ ہے اور مداری نصف قطر
9.4×103km
ہے۔ سیارہ مریخ کی کمیت تحسیب کیجئے۔ (ii)مان لیجئے کہ زمین اور مریخ سورج کے اطراف دائری مداروں میں طواف کرتے ہیں اور مریخ سیارے کا مدار زمین کے مدار کے نصف قطر کا1.52گنا ہے ۔ مریخ سال کی مدت دنوں میں تحسیب کیجئے۔




مثال 8.6 زمین کو تولنا:آپ کو درج ذیل اعداد شمار د یے گئے ہیں RE=6.37×106m,g = 9.81 ms-2زمین کے مرکز سے چاند کی دوری، R=3.84×108mاور چاند کے طواف کا دور27.3 دن۔دو مختلف طریقوں کے ذریعہ زمین کی کمیت ME معلوم کیجئے۔


مثال 8.7 مساوات (8.38)کی مستقلہ Kکو دنوں اور کلو میٹر میں ظاہر کیجئے۔دیا ہے کہ چاند زمین سے
3.84×105 km
دوری پر ہے۔ اس کے طواف کا دور (دنوں میں ) معلوم کیجئے

8.10 ایک مدار میں طواف کرتے ہوئے سیارچہ کی توانائی
(Energy of An Orbiting Satellite)





خلا میں ہندوستان کی چھلانگ
1975میں نچلی مداری ذیلی سیارہ آریہ بھٹ کو لانچ کرنے کے ساتھ ہندوستان خلائی دور میں داخل ہوا۔ پروگرام کے کچھ پہلے برسو ں میں سابق سویت یونین نے لانچ گاڑیاں فراہم کی تھیں ۔ ملکی لانچ گاڑیوں کا استعمال، 1980کے دہے کے شروعات میں روہنی سلسلے کے ذیلی سیاروں کو خلا میں بھیجنے میں کیا۔ قطبی سیاروں کو خلا میں لانچ کرنے کا پروگرام1980کی دہائی کے آخر ی سالوں میں شروع کیا گیا۔ ذیلی سیاروں کا ایک سلسلہ، جسے آئی آر ایس (انڈین ریموٹ سینسنگ سیٹلاسیٹس) کا نام دیا گیاہے، لانچ کیا جانا شروع ہو چکا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ پروگرام مستقبل میں بھی چلتا رہے گا۔ ان ذیلی سیاروں کا استعمال سروے، موسم کی پیش گوئی اورخلاء میں تجربات کو انجام دینے میں ہو رہا ہے۔ مواصلات اور موسم کی پیش گوئی کے مقصد سے انسیٹ (انڈین نیشنل سیٹلائٹ(INSAT سلسلے کے ذیلی سیاروں کے پروگرام کی شروعات1982میں ہوئی۔ انسیٹ سلسلے کے ذیلی سیاروں کی لانچنگ میں یوروپی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ ہندوستان نے2001میں اس اپنی سرزمین پر قائم ارضی سیارچہ کے لانچ کی استعداد کی جانچ تب انجام دی جب اس نے ایک تجرباتی مواصلاتی ذیلی سیارہ(GSAT-I)کو خلا میں بھیجا۔1984میں راکیش شرما کو پہلا ہندوستانی خلائی مسافر بننے کی خوشی نصیبی حاصل ہوئی۔ ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم)انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(ISRO وہ سرپرست تنظیم ہے جس کے ذریعہ متعدد مراکز چلائے جا رہے ہیں ۔ اس کا اہم لانچ مرکز شری ہری کوٹا((SHAR)ہے جو چنئی سے 100kmشمال میں واقع ہے۔ نیشنل ریموٹ سینسنگ ایجنسی (NRSA)حیدرآباد کے قریب واقع ہے۔ خلائی اور متعلقہ سائنس سے متعلق تحقیق کے لیے اس کا قومی مرکز احمد آباد میں واقع فزیکل ریسرچ لیبارٹری (PRL)ہے۔
8.11 قائم ارضی اور قطبی ذیلی سیارے
(Geostationary And Polar Satellites)


8.12 بے وزنی (Weightlessness)
خلاصہ







| طبعی مقدار | علامت | ابعاد | اکائی | تبصرہ |
| مادی کشش مستقلہ | G | (M1L3T-2) | N m-2kg-2 | (6.67x10-11) |
| مادی کشش توانائی بالقوہ | V (r) | (ML2T-2) | j | GMm ------- r |
| ثقلی مضمر | )U (r | (L2 T2) | jkg-1 | GM ------ r (عددیہ) |
| مادی کشش شدت | gیا E | (LT-2) | ms-2 | GM ------r r2 (سمتیہ) |
قابل غور نکات

مشق
8.1۔ درج ذیل کا جواب دیجیے:
8.2 صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:
سے زیادہ/ کم درست ہے۔


