Skip to content
Tabiyaat-I

باب 8

تشاکل

(Gravitation)



8.1 تعارف
8.2 کیپلر کے قانون
8.3 مادی کشش کا ہمہ گیر قانون
8.4 مادی کشش مستقلہ
8.5 زمین کی مادی کشش قوت کے ذریعہ پیدا

ہونے والااسراع

8.6 زمینی سطح سے نیچے اور اوپرمادی کشش اسراع
8.7 مادی کشش توانائی بالقوۃ
8.8 چال فرار
8.9 زمینی ذیلی سیارہ
8.10 ایک مدار میں طواف کرتے ہوئے سیارچے

کی توانائی

8.11 قائم ارضی اور قطبی ذیلی سیارے
8.12 بے وزنی

خلاصہ

قابل غورنکات
مشق
اضافی مشق

8.1    تعارف  (Introdution)

ہم اپنی ابتدائی زندگی میں یہ جانکاری حاصل کر چکے ہیں کہ زمین اپنی طرف ساری چیزوں کی کھینچتی ہے۔ کوئی شئے اگر اوپر پھینکی جائے تو نیچے کی جانب آجاتی ہے۔ اوپر کی جانب پہاڑی پر جانا کافی مشکل ہوتا ہے جبکہ اترنا آسان ہوتا ہے۔ اوپر بادل سے برستے پانی کا قطرہ زمین کی طرف آتا ہے اور اسی طرح بہت سارے واقعات ہیں۔ تاریخی طور پر یہ سہرا اٹلی کے ایک مشہور طبیعات داں گیلیلو(1574-1642)کے سر ہے جس نے یہ مانا کہ سارے ہی اجسام خواہ اسکی کمیت کچھ بھی ہو زمین کی طرف ایک مستقل اسراع کے ساتھ اسراع پذیرہوتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کا عوام کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اسکی صداقت کے لیے انہوں نے مائل مستوی پر نیچے کی جانب لڑھکتے ہوئے دو اجسام پر یہ تجربہ بھی کیا اوراس سے زمینی کشش اسراع کی قدر معلوم کی جوبعد میں معلوم کی جو بعد میں معلوم کی گئی اس کی زیادہ درست قدر کے کافی نزدیک تھی۔
ابتدا سے ہی کئی ملکوں کے لیے بہ ظاہر ایک غیرمتعلق مظاہرہ، سیاروں اور ستاروں کی حرکت، ایک اہم موضوع رہا ہے۔ابتدائی دور سے ہی آسمان میں نظرآنے والے ایسے تاروں کو پہچان لیا گیا تھا جو سالوں سال ایک دوسرے کی نسبت اپنا مقام نہیں تبدیل کرتے ہیں۔ ان سے بھی زیادہ دلچسپی کا باعث سیارے ہیں جو تاروں کے پس منظرمیں مستقل حرکت پذیر ہیں۔ سیاروں کی حرکت کے لیے سب سے پرانا ماڈل ٹالیمی (Ptolemy)نے تقریبا 2000سال قبل دیا تھا جسے ارض مرکزی (جیوسینٹرک) (geocentric)ماڈل کہا گیا۔ اسکے مطابق سبھی فلکیاتی اشیا سورج، تارے، سیارے، زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سمجھا گیا کہ فلکیاتی اشیاء کے لیے صرف ایک ہی طرح کی حرکت کرسکنا ممکن ہےجو کہ ایک دائرہ میں کی جانے والی حرکت ہے۔سیاروں کی مشاہدہ کی گئی حرکت کی وضاحت کرنے کے لیے ٹالیمی نے حرکت کی پیچیدہ اسکیمیں پیش کیں۔یہ کہا گیا کہ سیارے دائرہ میں حرکت کرتے ہیں، جبکہ ان دائروں کے مراکز خود بڑے دائروں میں حرکت کرتے ہیں۔ ہندستانی ماہرین فلکیات نے بھی 400سال قبل اسی طرح کے (ارض مرکزی) نظریے پیش کیے۔ بہرحال آریا بھٹ(5 ویں A.D.) نے ایک بہترین ماڈل پیش کیا جس کے مطابق سورج کو مرکزمانا گیا اور اس کے گرد سیاروں کو حرکت کرتاہوا مانا گیا۔اس ماڈل کو شمس مرکزی (heliocentric) ماڈل کہا گیا۔ ایک ہزار سال کے بعد پولینڈ کے ایک راہب نکولس کو پرنکس (1543-1473)نے یہ بتایا کہ سورج اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور سبھی سیارے سورج کے گرد دائروں میں حرکت کرتے ہیں۔ ان دائروں کا مرکزسورج ہوتا ہے۔کوپرنکس کے نظریے کو چرچ نے رد کردیا، لیکن کوپرنکس کے نظریے کے حامیوں میں ایک اہم نام گیلیلوکا ہے، جن پر اس نظریے کی حمایت کرنے کے جرم میں اس وقت کی ریاست نے مقدمہ بھی چلایا۔
گیلیلوکے عہد میں ہی ڈنمارک کے ٹائیکو برا ہے (1546-1601)نے اپنی پوری زندگی ننگی آنکھ سے سیاروں کا مشاہدہ کرنے میں گذاری۔ ان کے ذریعے اکٹھا کیے گئے آنکڑوں کا تجزیہ بعد میں اس کے ایک معاون جان یا جوہانس (1604-1730)نے کیپلرنے ان آنکڑوں سے تین اہم قانون اخذ کیے جو اب ان کے نام پر ’’کیپلرقانون‘‘ کہلاتے ہیں۔یہ قانون نیوٹن کے علم میں تھے اور ان کی مدد سے نیوٹن نے ایک اہم سائنسی کارنامہ، اپنا ’’مادی کشش کا کائناتی قانون‘‘ پیش کرکے، انجام دیا۔

8.2کیپلر کے قانون   (Kepler's laws)

کپلیر کے تینوں قانونوں کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے 
1.  مداروں کا قانون(Law of orbits) : تمام سیارے ناقص مدار (Elipical orbits)میں حرکت کرتے ہیں اور سورج کے اس کے ناقص دونوں ماسکوں (فوسائی) میں سے کسی ایک پر واقع ہوتا ہے (شکل8.1(a))۔ یہ قانون کوپرنکس ماڈل، جو صرف دائری مدار ہی بتاتا ہے، سے انحراف کرتا ہے ۔ ناقص کی شکل ہم اس طرح بنا سکتے ہیں۔
1
شکل 8.1(a) ایک سیارہ کے ذریعے سورج کے گرد تشکیل دیا گیا ناقص۔ناقص کا سورج سے نزدیک ترین نقطہ Pاور دورترین نقطہA ہے۔ نقطہ Pاور Aکو علی الترتیب قریب آفتاب (perihelin)اور اوج شمس (aphelion) کہتے ہیں ۔ نصف اکبرمحورAPکا نصف ہے
2
شکل8.1(b) ایک ناقص کھینچنا ۔ ایک دھاگے کے سرےF1  اورF2  پر نصب کردیے گئے ہیں۔پنسل کی نوک دھاگے کو تنا ہوا رکھتی ہے اور اسے دھاگے کے سہارے گھمایا جاتا ہے۔

دو نقطے F1اور F2لیں ۔ F1 F2 لمبائی کا ایک دھاگہ لیں اور اس دھاگہ کا ایک سرا F1پر اور دوسراF2 پر پنوں کے ذریعے نصب کردیں۔پنسل کی نوک کے ذریعے دھاگے کو اس طرح کھینچیں کہ وہ پورا تن جائے۔دھاگہ کو تنا ہوا رکھتے ہوئے پنسل کو حرکت دیتے ہوئے ایک منحنی کھینچیں۔]شکل[8.1(b)۔ اس طرح آپ کو جو بند منحنی حاصل ہوگا، وہ ناقص (بیضہ Ellipse) کہلاتا ہے۔ ناقص شکل کے کسی بھی نقطہ TسےF1اور F2کے فاصلوں کا حاصلِ جمع مستقل عدد ہوگا۔ F1 اور F2 فوسائی کہلاتے ہیں ۔ اب F1اورF2نقطہ کو ملائیں اور اس خط کو اتنا آگے بڑھائیں کہ یہ خط ناقص شکل کو شکل کے نقطے Pاور Aپر قطع کرے۔ (شکل(8.1(b) خطPAکا وسطی نقطہ ناقص شکل کا مرکز Oہے اور لمبائی P0=A0 ناقص شکل کا نصف اکبرمحور  
(semi major axis)
ہے ایک دائرہ کے لئے یہ دونوں ماسکے ایک ہی نقطہ پر منطبق ہوتے ہیں اور نصف اکبر محور دائرہ کا نصف قطر ہوجاتا ہے۔

2  رقبوں کا قانون (Law of areas) : سورج سے کسی بھی سیارے کو ملانے والا خط مساوی و قفہ وقت میں مساوی رقبہ طے کرتا ہے (شکل 8.2)۔ اس قانون کی بنیادیہ مشاہدہ ہے کہ سیارے جب سورج کے مقابلتاً قریب ہوتے ہیں تو وہ مقابلتاً تیز چلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔اور جب سورج سے ان کا فاصلہ زیادہ ہوتا ہے تو وہ مقابلتاً آہستہ چلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

3
شکل   8.2 سیارہ Pسورج کے گرد ناقص مدار میں حرکت کرتا ہے۔ سایہ کیا ہوا رقبہΔA  وقفہ مدت Δtمیں طے کیا ہوا رقبہ ہے۔

دوری وقفوں کا قانون (Law of periods)  : ایک سیارے کے دوری وقفہ کامربع سیارہ کے ذریعے تشکیل دیے گئے، ناقص کے نصف اکبرمحورکے مکعب کے متناسب ہوتاہے ۔
درج ذیل جدول میں سورج کے گرد نو سیاروں کی گردش کا تقریبی دوری وقفہ اور نصف اکبرمحور کی قدر یں دی گئی ہیں۔
جدول 1سیاروں کی حرکت کی پیمائش سے حاصل کیے گئے درجِ ذیل آنکڑے کیپلرکے دوری وقفوں کے قانون کی تصدیق کرتے ہیں۔
a= نصف محواکبر (1010mکی اکائی میں)
t= سیارہ کی گردش کا دوری وقفہ (سال میں)
Q= حاصل تقسیم
 10-34 y-2 m-3) (T2/a2)
(کی آکائی میں

سیارہ                                                                        Q          T                      a
مرکری (عطارد)
وینس (زہرہ)
(ارتھ) زمین
مارس (مریخ)
جیو پیٹر (مشتری)
سیٹرن (زحل)
یورینس (ادرانوس)
نیچچون (تپتون)
پلوٹو (پلاٹو)
579.
10.8
15.0
22.8
77.8
143
287
450
590
0.25
0.615
1
1.88
11.9
29.5
84
165
248
2.95
3.00
2.96
2.98
3.01
2.98
2.98
2.99
2.99


دوری وقفوں کے قانون کو ہم زاویائی معیارِحرکت کی بقا کے نتیجے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جو کسی بھی مرکزی قوت کے لئے لاگو ہو سکتا ہے ۔ مرکزی قوت، سیارہ پر لگ رہی وہ قوت ہے جو سورج اور سیارہ کو ملانے والے سمتیہ کی سمت میں ہوتی ہے ۔ مان لیجئے سورج مبدا پر ہے اور سیارہ کا مقام اورمعیارِحرکت بالترتیبr اور pہیں۔ سیارہ کے ذریعہ طے گیا رقبہEAجس کی کمیتmاور وقفہ Δtہے
(شکل (8.2تو
5
جہاںvرفتار ہے، Lزاویائی معیارِحرکت (r×p)ہے۔ ایک مرکزی قوت کے لیے جو rکی سمت میں ہے ، سیارہ کی گردش کے دوران Lایک مستقلہ ہوتا ہے اس طرح آخری مساوات کے مطابق218 ایک مستقلہ ہے۔ یہ رقبوں کا قانون ہے۔ مادی کشش قوت ایک مرکزی قوت ہے اس لئے رقبوں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔

john yajo
جان یا جوہانس (1630 تا 1604)
جان یا جوہانس (1630 تا 1604) جرمن نژاد سائنس داں تھے۔ انہوں نے ٹائیکو بریہہ اور معاونین کی جفاکش محنت سے حاصل کیے ہوئے مشاہدات پر مبنی سیاری حرکت سے متعلق تین قوانین کو وضع کیا۔ کیپلر خود بریہہ کے ایک معاون تھے۔ انہیں سیاری حرکت کے تین قوانین کی تدوین میں بیس سال لگ گئے۔ انہیں جیومتریائتی بصریات کا بانی بھی مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ پہلے سائنس داں تھے جنہوں نے یہ دریافت کیا کہ کسی دوربین میں داخل ہونے کے بعد روشنی پر کیا گزرتی ہے۔

مثال 8.1 مان لیجئے شکل 8.1(a)میں سیارہ کی چال قریب آفتابPپر vPہے اور سورج سیارہ دوری rP'SPہے۔ (rP'vP) کاقریب آفتاب BAC پران کی بالترتیب مقداروں سے رشتہ معلوم کریں۔ کیا سیارہ کوBAC اورCPB طے کرنے کے لیے یکساںوقت لگے گا؟

جواب  Pپر زاویائی معیارِحرکت کی عددی قدر:  Lp=Mp rp Vpہے، کیونکہ مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہrpاور vp آپس میں عمود ہیں۔ اسی طرح : LA=mprAvA زوایائی معیارِحرکت کی بقا سے  :

                               219
یا
                                    220
جبکہ      
 
                                    221
اس لیے
                                     222

ناقص SBAC،اورنصف قطرسمیتوںSBاور SC سے گھرا ہوا رقبہ SBAC،SBPC سے بڑا ہے (شکل 8.1)۔کیپلر کے دوسرے قانون کے مطابق یکساں مدت میں یکساں رقبہ طے ہوتا ہے۔ اس لیے سیارہCPBکے بالمقابل BACطے کرنے میں زیادہ وقت لگاتا ہے۔

8.3 مادی کشش کا ہمہ گیر قانون(Universal Law of Gravitation)

مشہوریہی قصہ ہے کہ درخت سے گرتے ہوئے سیب کے مشاہدہ سے نیوٹن نے مادی کشش کے ہمہ گیر قانون تک پہنچنے کے لیے وجدان حاصل کیا۔اس قانون کے ذریعے زمینی کشش اور کیپلرکے قوانین کی وضاحت کی جاسکی۔ نیوٹن کا یہ کہنا تھا کہ چاند جونصف قطر Rm کے مدار میں گردش کرتا ہے اس پر زمینی قوت کشش کے ذریعہ مرکز جو(centripetal)اسراع لگتا ہے جس کی عددی قدر ہے ۔
7
جہاںVچاند کی چال ہے، جس کا دوری وقفہ Tسے رشتہ ہے: 12،دوری وقفہ Tتقریبا 27.3دن ہے اور Rmکی اس وقت معلوم قدر تقریباً
 3.84×108 m  
تھی۔ا گر ہم ان اعداد کو مساوات (8.3)میں رکھیں تو ہمیں amکی قدر حاصل ہوتی ہے وہ سطح زمین پر زمین کی مادی کشش کی وجہ سے پیدا ہونے والے زمینی کشش اسراع g  کی قدر سے بہت کم ہے۔



مرکزی قوتیں(Central Forces) 
ہم جانتے ہیں کہ مبدا کے گرد ایک ذرہ کے زاویائی معیارِحرکت میں وقت کے ساتھ تبدیلی کی شرح9 ہوتی ہے۔ اگر ذرّہ پر قوت Fکے ذریعے لگ رہا قوتِ گردشہt صفر ہو تو ذرّے کے زاویائی معیارِحرکت کی بقا ہوتی ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جبFصفر ہو یاF،r) (کی سمت میں ہو۔ ہم اسی قوت میں دلچسپی رکھتے ہیں جو بعد والی شرط کے مطابق ہو۔ مرکزی قوتیں اسی شرط کومطمئن کرتی ہیں۔ ایک مرکزی قوت ہمیشہ ایک متعین نقطہ کی جانب یا اس سے دور کی طرف ہوتی ہے یعنی متعین نقطہ کے لحاظ سے، جس نقطہ پر قوت لگ رہی ہے اس کے مقام سمیتہ کی جانب۔ تاہم مرکزی قوت Fکی عددی قدرRکے تابع ہے یعنی متعین نقطہ سے اِس نقطہ کی دوری کے تابع ہے جس پر قوت لگ رہی ہے۔ F=F(r)(شکل نیچے دکھائی گئی ہے)
مرکزی قوت کے تحت حرکت میں زاویائی معیارِحرکت کی ہمیشہ بقا ہوتی ہے۔ اس سے دو اہم نتائج برآمد ہوتے ہیں
(1)مرکزی قوت کے تحت ذرہ کی حرکت ہمیشہ ایک مستوی میں ہی محدود ہوتی ہے۔
(2)قوت کے مرکز کے لحاظ سے (یعنی متعین نقطہ) ذرہ کے مقام سمتیہ کی ہمیشہ ایک مستقل رقبی رفتار (Areal Velocity)ہوتی ہے۔ دیگر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ذرہ مرکزی قوت کے زیر اثر حرکت کرتا ہے تو مقام سمیتہ یکساں وقفہ وقت میں یکساں رقبہ طے کرتا ہے۔
ان دونوں نتیجوں کو ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ رقبی رفتار : dA/dt = ½ r v sin a سے دی جاتی ہے۔
درج  بالا گفتگو کو ہم سورج کی قوت کشش کے تحت ہونے والی سیاروں کی حرکت کے مطالعہ میں استعمال کر سکتے ہیں۔ آسانی کے لیے سورج کو اس قدر وزنی مانا جا سکتا ہے کہ یہ حالت سکون میں ہو۔ سیارہ پر سورج کی قوت کشش سورج کی جانب ہوتی ہے۔ یہ قوت اس شرط کو بھی مطمئن کرتی ہے کہ
F=F(r)چونکہF=Gm1 m2/r2جہاں m1اور m2 بالترتیب سورج اور سیارہ کی کمیت ہے اور Gہمہ گیرمادی کشش مستقلہ ہے۔ اوپر
بیان کئے گئے دونوں نتیجے (1)اور(2)اسی لیے سیارہ کی حرکت میں لاگو ہوتے ہیں۔ درحقیقت نتیجہ(2)کیپلر کا دوسرا قانون ہے

8
Trمرکزی قوت کے تحت ذرہ کا حرکت خط (Trajectory)ہے۔ Pپر قوتOPکی جانب لگتی ہے۔O قوت کا مرکز ہے جسے مبدہ مانا گیا ہے۔ وقفہΔt میں ذرہ PسےP'تک حرکت کرتا ہے .
:  PP' = Δs  = Δt
 قوس۔ خط حرکت کے نقطہ Pپر کھینچا گیا خط مماسPQ،'P پررفتار کی سمت دکھاتا ہے ۔ وقفہtΔ میں طے کیا گیا رقبہ سیکڑ POP'کا رقبہ ہے۔ POP'/2 = (r v sin a) Δt/210سیکڑ POP'کا رقبہ 


یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ زمینی کشش کے ذریعہ لگی قوت فاصلے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر کوئی یہ مان لے کہ زمین کی قوت کشش، مرکزِ زمین سے دوری کے معکوس مربع (Inverse Square)کے تناسب میں کم ہوتی ہے تو ہم پاتے ہیں13اور اس لیے
14
 g~9.8.ms2 اورamکی مساوات (8.3)سے لی گئی قدرسے موافقت رکھتا ہے۔جو ان مشاہدات کی بناء پر نیوٹن نے درج ذیل مادی کشش کا ہمہ گیر قانون تجویزکیا۔
اس کائنات میں ہر ایک جسم ہر دوسرے جسم کو ایک ایسی قوت کے ساتھ کھینچتا ہے جو ان کی کمیتوں کے حاصل ضرب کے راست متناسب اور ان کے درمیان کی دوری کے مربع کے معکوس متناسب ہوتی ہے۔
یہ قول دراصل نیوٹن کی شاہکار کتاب متھیمٹکل پرنسپلس آف نیچرل فلاسفی )مختصرا پرنسپیا(Principia سے لیا گیا ہے۔
اسے ہم ریاضیاتی طور پر اس طرح ظاہر کرسکتے ہیں ۔ ایک نقطہ کمیت M2پر دوسرے نقطہ کمیت M1کے ذریعہ لگائی گئی قوت Fکی عددی قدر ہوگی
15
مساوات (8.5)کوسمیتہ شکل میں اس طرح لکھا جا سکتا ہے۔
16
جہاں Gہمہ گیرمادی کشش مستقلہ ہےru m1سے m2تک اکائی سمیتہ ہے اور r=r2-r1 ،جیسا کہ شکل 8.3میں دکھایا گیا ہے۔
17
شکل 8.3 M1 پرM2کے ذریعہ لگی مادی کشش rکی سمت میں ہے جہاں سمتیہ r سمیتہ (r2–r1) ہے۔
ارضی کشش قوت کششی ہوتی ہے یعنی قوت,18کی سمت میں ہے۔ نقطہ کمیت m1پر، m2کے ذریعہ لگی قوت ، نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق –Fہوگی اس طرح جسم 1پر 2کے ذریعہ لگی ارضی کشش قوتF12اور جسم 2پر1کے ذریعہ لگی قوتF21میں رشتہ  :  F12=F21ہوگا۔
        کسی بھی جسم پر مساوات( 8.5)کے اطلاق سے قبل ہمیں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ یہ قانون نقطہ کمیت کی بات کرتا ہے جب کہ ہمارا واسطہ متناہی سائز کی اشیاء سے ہوتا ہے ۔ اگر ہمارے پاس نقطہ کمیتوں کا مجموعہ ہے تو کسی ایک نقطہ کمیت پر لگی قوت اس پر دوسری تمام نقطہ کمیتوں کے ذریعہ لگائی گئی مادی کشش قوتوں کے سمتیہ جمع کے برابر ہوگی جیسا کہ شکل 8.4میں دکھایا گیا ہے۔

19
شکل  8.4 نقطہ کمیت m1پر لگی مادی کشش قوت، اس پر m3'm2اور m4 کے ذریعہ لگائی گئی مادی کشش قوتوں کے سمتیہ جمع کے برابر ہے
mپر کل قوت
20

مثال  8.2ایک مساوی مثلث ABCکی ہر راس پر مساوی کمیت mkg کی ایک ایک کمیت رکھی ہوئی ہے۔ 
(a)  مثلث کے وسطانی مرکز Gپر رکھی گی2mکمیت پر کتنی قوت لگ  رہی ہے ۔  
(b)   اگر راسAکی کمیت کو دوگنا کر دیا جائے تو کتنی قوت لگے گی ؟

مان لیجئے کہ AG=BG=CG=1m(شکل 8.5 دیکھیے)
21

شکل  8.5 تین مساوی کمیتیں مساوی الاضلاع مثلث ABCeکی راسوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ ایک2mکی کمیت وسطانی مرکز  پر ہے۔


نیوٹن کا پرنسپیا (Newton's Principia) 

کیپلر نے اپنے تیسرے قانون کو 1619 میں وضع کیا تھا۔ مادی کشش کے ہمہ گیر قانون کا اعلان تقریباً 70 سال بعد 1687 میں تب ہوا جب نیوٹن نے اپنے شاہکار فلاسفی نیچرالس پرنسپیا میتھمیٹکا (Philosophiae Naturalis Principia Mathematica) جسے مختصراً پرنسپیا کہتے ہیں شائع کیا ۔
       1685 کے آس پاس ایڈمنڈ ہیلی (جن کے نام پر مشہور ہیلی دمدارتارے کا نام پڑا) نیوٹن سے ملنے کیمبرج آئے اور ان سے پوچھا کہ مقلوب مربع قانون کے تحت متحرک کسی جسم کے خطِ حرکت (trajectory) کی فطرت کیا ہوگی؟ نیوٹن نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا کہ راہ کی شکل ناقص ہی ہوسکتی ہے۔درحقیقت ایسا نتیجہ انہوں نے بہت پہلے (1665 میں) اس وقت نکال لیا تھا جب طاعون پھیلنے کے سبب مجبور ہو کر وہ کیمبرج سے اپنے فارم ہاؤس آرام کے لیے چلے گئے تھے۔ بدقسمتی سے نیوٹن سے وہ صفحات گم ہو گئے تھے جن پر انہوں نے اس کا حل لکھ لیا تھا۔ لیکن ہیلی نے نیوٹن کو اس بات کے لیے قائل کر لیا کہ وہ اپنے کام کو کتاب کی شکل میں شائع کریں اور اشاعت کے اخراجات وہ (ہیلی) خود برداشت کریں گے۔ نیوٹن نے اپنی فوق الانسانی کوششوں سے یہ کارنامہ 18 مہینوں میں پورا کرلیا۔ پرنسپیا بے مثال سائنسی شاہکار ہے اور لیگرینج کے الفاظ میں ’’انسانی دماغ کی سب سے عمدہ تخلیق ہے‘‘۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے فلکیاتی طبیعیات داں اور نوبل انعام یافتہ ایس چندر شیکھر نے پرنسپیا پر کتاب لکھنے میں 10 سال کا وقت لگایا۔ ان کی کتاب عام قارئین کے لیے پرنسپیا میں نیوٹن کے طریقوں میں پنہا ں خو بصورت، باریک اور حیرت انگیز کفایتی اسلوب کی طرف توجہ مرکوز کرتی ہے۔

جواب  (a)
  GCاورمثبت-xمحور کے بیچ کا زاویہ30ºہے اور اتنا ہی زاویہGBاور منفی -xمحور کے درمیان بنتا ہے۔ سمتیہ ترقیم (vector notation)  میں انفرادی قوتیں ہیں :
                       22
انطباق اصول اور سمتیوں کے جمع کے قانون سے 2mکمیت پر لگنے والی ماحصل مادی کشش قوتFR
23
(b)  اب اگر راس Aکی کمیت کر دگنا کر دیا جائے ۔تو 
24

         ایک متناہی سائز کی شے ( جیسے زمین) اور نقطہ کمیت کے درمیان مادی کشش قوت کے لیے مساوات(8.5)کو براہِ راست استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ متناہی سائز کے جسم کی ہر نقطہ کمیت دی گئی نقطہ کمیت پر قوت لگاتی ہے اور یہ سب قوتیں ایک ہی سمت میں نہیں ہوتی ہیں۔ ہمیں متناہی سائز کے جسم کی تمام نقطہ کمیتوں کے ذریعے دی گئی نقطہ کمیت پر لگ رہی قوتوں کی سمتیہ جمع کرنا ہوگی، تب ہی ہم دی گئی نقطہ کمیت پر لگ رہی کل قوت حاصل سکیں گے۔ دومخصوص حالتیں ایسی ہیں، جن میں جب آپ سمیتہ جمع کرتے ہیں تو ایک آسان نتیجہ برآمد  ہوتا ہے۔
(1) یکساں کثافت کے ایک کھوکھلے کرّی والے شیل اور شیل سے باہر  واقع ایک نقطہ کمیت کے درمیان قوت کشش ٹھیک اس طرح ہوتی ہے جیسے کہ شیل کی کل کمیت شیل کے مرکز پر مرکوزہوتی ہے۔
اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔ شیل کے مختلف حصوں کے ذریعہ شیل کے باہر رکھی نقطہ کمیت پر لگ رہی مادی کشش قوتوں میں سے ہر ایک قوت کا ایک جز نقطہ کمیت کو مرکزسے ملانے والے خط کی سمت میں ہوگا اور دوسرا جز اس خط پر عمود خط کی سمت میں ہوگا۔جب ہم  سارے حصوں کے ذریعے لگ رہی قوتوں کی سمتیہ جمع کریں گے تو اس خط پر عمود خط کی سمت میں جو اجزاء ہوں گے وہ ایک دوسرے کی تنسیخ کردیں گے اور اس طرح ماحصل قوت صرف اسی خط کی سمت میں ہوگی جو نقطہ کمیت کو مرکزسے ملاتا ہے۔اس ماحصل قوت کی عددی قدر وہی حاصل ہوتی ہے جو اوپر بتائی گئی ہے۔
(2) یکساں کثافت والے کرّی شیل کے ذریعہ شیل کے اندررکھی نقطہ کمیت پر لگ رہی قوت کشش صفر ہوتی ہے ۔اس نتیجہ کو بھی ہم کیفیتی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔شیل کے مختلف حصّے، شیل کے اندر رکھی نقطہ کمیت کومختلف سمتوں میں کشش کرتے ہیں۔یہ قوتیں ایک دوسرے کی مکمل طور پر تنسیخ کردیتی ہیں۔

8.4  مادی کشش مستقلہ

(The Gravitational   Constant)

مادی کشش کے ہمہ گیر قانون میں شامل مادی کشش مستقلہ Gکی قدر تجربہ کے بنیاد پر معلوم کی جاسکتی ہے اور یہی سب سے پہلے انگریز سائنسداں ہنری کیونڈش نے1798میں کیا۔ ان کے ذریعے استعمال کیا گیا تجرباتی آلہ شکل8.6میں دکھایا گیا ہے۔
25

شکل  8.6 کیونڈ ش کے تجربہ کا خاکہ: S1اورS2دو بڑے کرّے  ہیں جن میں ایک کو Aاور Bپر رکھی کمیتوں کی ایک جانب اور دوسرے کو دوسری جانب رکھا گیا ہے۔(ان کرّوں کو سایہ سے ظاہر کیا گیا ہے) ان بڑے کرّوں کو کمیتوں کی دوسری جانب لے جایا جاتا ہے (ٹوٹے ہوئے خط کے ذریعے دکھائے گئے ہیں) تو چھڑ ABتھوڑی گھوم جاتی ہے کیونکہ قوت گرد شہ اپنی سمت تبدیل کرتا ہے۔ گردشی زادیہ کو تجربہ کے ذریعے ناپا جاسکتا ہے۔

چھڑ ABکے سروں پر دو چھوٹے سیسہ کے کرّے جڑے ہوئے ہیں۔ چھڑ کو ایک استوار ٹیک سے پتلی تا ر کے ذریعہ لٹکایا گیاہے۔ دو بڑے سیسے کے کرّوں کو ان چھوٹے کرّوں کے قریب لا یا گیا ہے لیکن مخالف سمتوں میں (جیسا دکھایا گیا ہے) بڑے کرّے نزدیکی چھوٹے کرّوں کو مساوی اور مخالف قوت کے ساتھ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ چھڑ پر کوئی کل قوت نہیں لگ رہی ہے بلکہ صرف قوت گرد شہ کام کررہا ہے جو چھڑ کی لمبائی اور F کے حاصلِ ضرب کے برابر ہے جہاں Fبڑے کرّے اور اس کے نزدیکی چھوٹے کرّے کے درمیان قوت کشش ہے ۔اس قوت گرد شہ کی وجہ سے لٹکی ہوئی تار اتنی دیر کے لیے گھومنے لگتی ہے جب تک تار کا بحالی قوت گرد شہ مادی کشش کے قوتِ گردشہ کے برابر نہ ہوجائے۔ اگرqلٹکی ہوئی تار کا مروڑ(Twist)زوایہ ہے تو بحالی قوت گرد شہ q کے متناسب اور tq کے برابر ہوگا۔ جہاںt بحالی قوت گرد شہ فی اکائی مروڑ زاویہ ہے۔ tکوآزادنہ طور ناپا جا سکتا ہے جیسے ایک معلوم گرد شہ لگا کر مروڑ زاویہ ناپا جائے۔ کرّوں کے درمیان لگ رہی مادی کشش قوت اتنی ہی جیسے کہ ان کی کمیتیں ان کے مرکز پر مرکوز ہیں۔ اس لیے اگر dبڑے اور اسکے نزدیکی چھوٹے کرّے کے مراکز کے درمیان کی دوری ہے، Mاور mانکی کمیتیں ہیں تو بڑے اور نزدیکی چھوٹے کرّوں کے درمیان مادی کشش قوت ہوگی
26
اگر Lچھڑ ABکی لمبائی ہے تو Fکے ذریعہ پیدا شد قوت گرد شہ Fاور Lکا حاصل ضرب ہوگا۔
متوازن حالت میں یہ بحالی قوت گرد شہ کے برابر ہوتا ہے اور اس لیے
27
qکی پیمائش کرکے ہمGکی قدر اس مساوات کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں
کیونڈش کے تجربہ کے بعد Gکی پیمائش میں درستگی لائی گئی ہے آجکل اس کی قدر لی جاتی ہے
28

8.5 زمین کی مادی کشش قوت کے ذریعہ پیدا ہونے والا اسراع

(Acceleration Due To Gravity of The Earth)

زمین کو ہم ایک ایسا کرہ تصور کر سکتے ہیں جو کہ کثیر ہم مرکزی کروی شیلوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں سب سے چھوٹا شیل زمین کے مرکز پر اور سب سے بڑا شیل زمین کی سطح پر ہوتا ہے ۔ جو نقطہ زمین کے باہرہے، ظاہر ہے کہ وہ ہر شیل کے باہر ہے۔ اس لیے ہر شیل اس نقطہ پر جو ان کے باہر ہے مادی قوت ٹھیک اسی طرح لگاتا ہے جیسے کہ اس کی تمام کمیت ان کے مشترکہ مرکزپر مرکوز ہو، جیسا کے پچھلے حصہ میں ہم نے مطالعہ کیا ہے۔ تمام شیلوں کی کل کمیت  زمین کی کمیت ہے اس لیے زمین سے باہر ایک نقطہ پر لگیمادی کشش قوت ٹھیک وہی ہوگی جیسے کہ زمین کی کل کمیت اپنے مرکز پر مرکوز ہو۔
ایک نقطہ جو زمین کے اندر ہے اس کے لیے حالت مختلف ہوتی ہے۔ یہ شکل 8.7میں دکھایا گیا ہے
29
شکل8.7 کمیت mکسی کان میں زمین (کمیت ME اور نصف قطرRE) کی سطح سے dگہرائی پر واقع ہے۔ زمین کو ہم کروی طور پر متشاکل (Spherically symmentric) مانتے ہیں۔

           دوبارہ مان لیں کہ زمین پہلے کی طرح ہم مرکزی کروی شیلوں پر مشتمل ہے اور ایک نقطہ کمیت mمرکز سے rدوری پر واقع ہے۔ایسے شیل کے لیے جس کا نصف قطرr سے زیادہ ہے نقطہ Pاندر کی جانب واقع ہوگا۔ اس لیے پچھلے حصہ کے نتیجہ کے مطابقPپر واقع کمیت Mپر کوئی بھی مادی کشش قوت نہیں لگائے گی۔ وہ شیل جن کا نصف قطر <rہیں، نصف قطرrکا کرہ تشکیل دیتے ہیں اور نقطہ P اس کرہ کیسطح پر واقع ہوتا ہے ۔ یہ چھوٹا کرہ Pپر واقع mکمیت پر جو قوت لگاتا ہے وہ ایسی قوت ہے جیسے کہ اس کی کمیت Mr اس کے مرکز پر مرکوز ہے اس لیے Pپر کمیت m پر لگ رہی قوت کی عددی قدر ہے  :
30
ہم مانتے ہیں ہیں کہ کل زمین کی کثافت یکساں ہے اس لیے زمین کی کمیت31 ہوگی۔جہاں MEزمین کی کمیت ہے، REاس کا نصف قطر ہے اوراس کی کثافت ہے۔ دوسری جانب  rنصف قطر والے کرّے کی کمیت Mrہوگی32،اس لیے
33
اگر کمیت mزمین کے سطح پر واقع ہو تو r=REاور اس پر لگی مادی کشش قوت مساوات (8.10)سے
34
کمیت  mکے ذریعہ محسوس کیا گیا اسراع، جسے عام طور پرgسے ظاہر کرتے ہیں، نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق Fسے منسلک ہے : اس طرح
36
اسراع gبہ آسانی ناپا جا سکتا ہے۔ REایک معلوم قدر ہے، کیونڈش کے یا دیگر تجربہ کے بنیاد پر Gکی پیمائش اورgاور REکی معلومات سے مساوات (8.12)کے ذریعہ MEکا تخمینہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے کیونڈش کے بارے میں مشہور قول ہے کہ ‘کیونڈش نے زمین کا وزن کر لیا۔

8.6  زمینی سطح سے نیچے اور اوپر مادی کشش اسراع

(Acceleration Due to Gravity Below and Avove the Source of Earth)

مان لیجئے ایک نقطہ کمیت mزمینی سطح سے hاونچائی پر ہے جیسا کہ شکل (8.8(a)میں دکھایا گیا ہے۔ زمین کا نصف قطرREہے۔ چونکہ یہ زمین سے باہر ہے اس لیے اس کی دوری زمین کے مرکز سے (RE+h)ہوگی۔ اگر

35
 شکل8.8 (a) زمینی سطح سے hاونچائی پر g
 (F(h نقطہ کمیت m پرقوت کی عددی  قدر ہے  تو ہم مساوات (8.5)سے پاتے ہیں
37
نقطہ کمیت کے ذریعہ محسوس کیا گیا اسراع (F(h)/m = g(hہے اور ہم پاتے ہیں کہ
38
صاف ظاہر ہے کہ یہ سطح زمین پر gکی قدر : 39سے کم ہےh<<Rکے لیے ہم مساوات(8.14)کو اس طرح پھیلاسکتے ہیں
40
41 کے لیے دورکنی ریاضیاتی عبارت کے استعمال سے 
42
مساوات (8.15)یہ بتاتی ہے کہ اونچائی hکے لیے gکی قدر
.(1-2h/RE)
جزوضربی کے ذریعہ کم ہو نے لگتی ہے
اب ہم زمینی سطح سے نیچےdگہرائی پر نقطہ کمیتmلیتے ہیں (شکل8.8(b))۔ اس طرح اس کی دوری زمین مرکز سے (RE – d) ہے۔ زمین کے بارے میں یہ سوچا جا سکتا ہے کہ یہ نصف قطر(RE – d)والے چھوٹے کرّے اور موٹائی dکے کرّوی شیل پر مشتمل ہے۔ باہری شیل کے ذریعہ m پر لگی قوت پچھلے حصہ کے نتیجہ کے مطابق صفر ہوگی۔ جہاں تک (RE – d)نصف قطر والے چھوٹے کرہ کی بات ہے، نقطہ کمیت  اس کے باہر ہے۔ اس لیے پچھلے حصہ کے نتیجہ کے مطابق اس چھوٹے کرہ کے ذریعہ لگی قوت ٹھیک اسی طرح ہوگی جیسے کہ چھوٹے کرہ کی کل کمیت مرکز پر مرکوز ہو۔ اگر Msنسبتاً چھوٹے کرہ کی کمیت ہے تب
(Ms/ME = (RE – d)3/RE3        ( 8.16
          چونکہ کرہ کی کمیت اس کے نصف قطر کے مکعب کے متناسب ہے  اس لیے نقطہ کمیت پر لگی قوت 
           (F (d) = G Ms m/(RE – d)2       (8.17)
  درج بالا سے Msکی قدر رکھنے پر ہم پاتے ہیں
(F (d) = G ME m (RE – d)/RE3 (8.18
اور اس لیے گہرائی d پرمادی کشش اسراع:g (d) = F(d)/mہوگا۔
46
شکل 8.8(b) گہرائی d پر g اس صورت میں(RE-d) نصف قطر والا مقابلتاً چھوٹا کرّہ ہی gکو قدر فراہم کرنے میں شاکل ہوتا ہے۔
47
        اس لیے جیسے جیسے ہم زمینی سطح سے نیچے کی جانب جاتے ہیں مادی کشش اسراع (1–d/RE)جزوضربی کے ذریعہ کم ہونے لگتا ہے۔ زمینی کشش کے ذریعہ اسراع کے متعلق اہم بات یہ ہے کہ یہ سطح پر سب سے زیادہ ہوتا ہے اور خواہ اوپر جائیں یا نیچے، یہ کم ہونے لگتا ہے

8.7 مادی کشش توانائی بالقوۃ(Grivitational Potential Energy)

ہم اس سے پہلے ہی توانائی بالقوۃ کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ وہ توانائی ہے جو جسم کے اندراس کے مقام حالت کی مناسبت سے محفوظ ہوتی  ہے ۔ اگر ذرہ کے مقام حالت میں عامل قوت کے ذریعے تبدیلی آتی ہے تو توانائی بالقوۃ میں تبدیلی قوت کے ذریعہ جسم پرکام ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے تذکرہ کیا ہے وہ قوتیں جن کے لیے کیا گیا کام راہ کے تابع نہیں ہوتا، برقراری قوتیں (Conservative Force)کہلاتی ہیں۔
              قوت مادی کشش بھی ایک برقراری قوت ہے۔ ہم اس قوت سے پیدا شدہ جسم کی توانائی بالقوۃ کا تخمینہ لگا سکتے ہیں جسے مادی کشش توانائی بالقوۃ کہتے ہیں۔ زمینی سطح کے نزدیک کچھ نقاط مان لیجئے جن کی سطح سے دوری زمین کے نصف قطر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایسی صورت میں مادی کشش عملی طور پر مستقلہ ہوگی، جس کی عددی قدر ایک مستقلہ mgکے برابر اور سمت زمین کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔ اگر ہم زمین کی سطح سےh1اونچائی پر ایک نقطہ لیتے ہیں اور دوسرا نقطہ ٹھیک اوپر عمودی سمت میں سطح سے h2اونچائی پر ہے تو پہلے سے دوسرے مقام تک mکمیت والے ذرہ کو لے جانے میں کیا گیا کامW12ہوگا۔
           نقل×قوت   W12 =
= mg(h2–h1)                (8.20)
             اگر ہم سطح کے اوپرhاونچائی پر ایک نقطہ سے توانائی بالقوۃ w(h)منسلک کرتے ہیں
W(h)=mgh+W0      (8.21)
جہاںWº  مستقلہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے  :
W12 = W(h2) – W(h1)          (8.22)
      ذرہ کی حرکت میں کیا گیا کام ابتدائی اور آخری حالت کے درمیان توانائی بالقوۃ کا فرق ہے۔غورکریں کہ مساوات (8.22)میں مستقلہW0ختم ہو جاتا ہے۔مساوات (8.21) میں اگر h=0رکھا جائے تو W(h=0)=W0ہوگا۔h=0 کا مطلب ہے کہ نقطہ زمین کے سطح پر ہے اس لیے زمین کے سطح پر توانائی بالقوۃ W0ہے
اگر ہم زمین کے سطح سے کسی بھی دوری پر ایک نقطہ لیں تو درج بالا نتیجہ صحیح نہیں ہوگا۔ کیونکہ مفروضہ، مادی کشش mgمستقلہ ہے، درست نہیں ہوگا۔ بہرحال ہم اپنی اس بحث سے یہ جانتے ہیں کہ زمین سے باہر ایک نقطہ پر لگی مادی کشش قوت جو زمین کے مرکز کی جانب ہوتی، ہے:
223                    (8.23)
     جہاں MEزمین کی کمیت ،mذرہ کی کمیت ہے اورrزمین کے مرکز سے دوری ہے۔ اگر ہم ایک ذرہ کو1 r =rسے r2>r1) r=r2) تک ایک عمودی سمت میں لے جانے میں کیے گئے کام کا حساب لگائیں تو بجائے مساوات (8.20)کے
49
مساوات (8.21)کی جگہ r دوری پر توانائی بالقوۃ(W(r اب
          50
            جوr>Rکے لیے درست ہے۔(W12 = W(r2)–W(rآخری مساوات میں rکو لامتناہی رکھنے پر =W1(لامتناہی(r= Wہوگا اس لیےW1 لامتناہی rپر توانائی بالقوۃ ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ دو نقطوں کے درمیان توانائی بالقوۃ کا صرف فرق ہی ایک متعین معنی کے ساتھ مساوات (8.22)اور مساوات (8.24)میں استعمال ہوا ہے ہم عام طور سےW1کو صفرمان لیتے ہیں، اس طرح کسی نقطہ پر توانائی بالقوۃ، ذرہ کو لاانتہا سے اس نقطہ تک منتقل کرنے میں کیا گیا کام ہے۔
           ہم نے مادی کشش کی قوتوں کے ذریعے، ایک ذرے کی ایک نقطہ پر، توانائی بالقوۃ کی تحسیب کی ہے۔زمین کی مادی کشش کی وجہ سے پیدا ہونے والے مادی کشش بالقوۃ کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اس نقطہ پر ایک اکائی کمیت کے ذرے کی توانائی بالقوۃ ہے پچھلی گفتگو سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ m1اور m2کمیت والے دو ذرات جن کی درمیانی دوری r ہے، کے لیے مادی کشش توانائی بالقوۃ ہوگی  :
51
                       یہ خیال رہے کہ ذرات کے ایک جداگانہ نظام کی کل توانائی بالقوۃ اس کے سبھی ممکنہ جوڑوں کے درمیان کی توانائی بالقوۃ کی جمع ہوتی ہے ۔ یہ انطباق کے اصول(Superposition Principle) کی ایک مثال ہے۔


مثال 8.3ضلع lوالے مربع کے راسوں پر چار ذرے رکھے ہوئے ہیں۔ اس نظام کی توانائی بالقوٖۃ معلوم کیجئے۔ مربع کے مرکز پر بھی توانائی بالقوۃ کی تحسیب کیجئے

جواب مان لیجئے mکمیت کی چار کمیتیں ضلع l والے مربع کی راسوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ (دیکھیں شکل (8.9ہمارے پاس lدوری والے چار اور r2 دوری والے دو جوڑے ہیں اس لیے
                                52
                                                          225
شکل 8.9

226
مربع کے مرکز پر مادی کشش توانائی بالقوہ 227 ہوگی
                              228

8.8  چال فرار  (Escape Speed)

اگر ایک پتھر کو ہاتھ سے پھینکا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ زمین پرواپس آجاتا ہے۔ مشین کے ذریعہ ایک چیز کو ہم بہت زیادہ ابتدائی چال سے بہت زیادہ اونچائی تک پھینک سکتے ہیں۔ ایک قدرتی بات جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتی ہے وہ درج ذیل ہے : کیا ہم کسی چیز کو اتنی زیادہ ابتدائی چال سے اوپر پھینک سکتے ہیں کہ وہ واپس زمین پر نہ آئے؟
            توانائی کی بقاء کا اصول اس سوال کے جواب کے حصول میں ہماری  مدد کرتا ہے ۔ مان لیجیے چیزلاانتہاہی تک پہنچ گئی اور اس وقت اس کی چال V1ہے۔ کسی چیز کی کل توانائی، اس کی بالقوۃ اور حرکی توانائیوں کاحاصلِ جمع  ہوگا ۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے W1کسی چیز کا لاانتہا پر مادی کشش توانائی بالقوۃ ہے لاانتہا پر وجیکٹائل کی کل توانائی ہوگی۔
 229                       (8.26)
اگر شے کو ایک نقطہ سے جو زمین کے مرکز سے (h+RE)دوری پر ہے V1چال سے اوپر کی جانب پھینکا جائے تو اس کی ابتدائی توانائی تھی:
                                                                                     230                     (8.27)
جہاں REزمین کا نصف قطر ہے۔ توانائی کی بقاء کے اصول کے مطابق مساوات (8.26)اور (8.27)دونوں برابر ہیں اس لیے 

(8.28)           57
            اس مساوات میں دائیں ہاتھ کی جانب ایک مثبت مقدارہے جس کی کم از کم قیمت صفر ہو سکتی ہے اور یہی بائیں ہاتھ کی جانب بھی ہوگا۔ اس طرح ایک چیز لانتہا تک جب ہی پہنچ سکتی ہے جب کہ Vاس طرح ہو
231               (8.29)
           
           Viکی کم از کم قدر اس وقت ہوگی جب مساوات (8.29)کے بائیں ہاتھ کی جانب صفر کے برابر کر دی جائے گی۔ اس لیے ایک چیز کو لاانتہا تک لے جانے کے لیے کم از کم درکارچال (یعنی زمین سے فرار) ہوگی
59      
اگر ایک چیززمین کی سطح سے اوپر کی جانب پھینکی گئی ہے تو h=0ہوگا یعنی

232                  (8.31)
ہم جانتے ہیں                 233
                                                                                                           234                (8.32)                
g اورREکی عددی قیمت رکھنے پر،
(Vi)min»11.2 km/s
 یہ چال فرار یا رفتارفرار (دراصل چال کہنا مناسب ہے)کہلاتی ہے۔
مساوات(8.32)کا استعمال ایک چیز کوچاند کی سطح سے پھینکے جانے کے لیے بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں gچاند کی مادی کشش قوت کے ذریعہ اس کی سطح پر پیدا ہونے والا اسراع ہے اور rEچاند کا نصف قطر ہے۔ یہ دونوں زمین کے مقابلے کم ہیں اور چاند کے لیے چال فرار 2.3 km/s ہے جو کہ تقریبا پانچ گنا کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ چاند پر کوئی کرہ باد نہیں ہے۔ چاند کے سطح پر گیس سالمہ اگر بنتا ہے اور اس کی رفتار اس سے زیادہ ہو تو وہ چاند کی مادی کشش قوت سے فرار ہو جائے گا۔

مثال 8.4دو مساوی نصف قطرRلیکن کمیت mاور 4mوالے یکساں ٹھوس کرے اس طرح رکھے ہیں کہ ان کے مراکز کے بیچ کی دوری شکل 8.10کے مطابق 6Rہے۔ دونوں کروں کو قائم کر دیا گیا ہے۔Mکمیت والے کرہ کی سطح سے mکمیت کا کوئی پروجکٹائل دوسرے کرہ کے مرکز کی طرف سیدھا پھینکا کیا گیا ہے پروجکٹائل کی اس کم ترین چال Vکے لیے ریاضیاتی عبارت  حاصل کیجئے کہ جس سے وہ دوسرے کرے کی سطح تک پہونچ جائے۔
                                         61


 
جواب پروجکٹائل پر دونوں کروں کے سبب ، ایک دوسرے کی باہمی مخالف، دومادی کشش قوتیں کام کر رہی ہیں ۔ تعدیلی نقطہN (شکل8.10) ایک ایسا نقطہ ہے جہاں دونوں قوتیں ایک دوسرے کومکمل طور پر رد کر دیتی ہیں ۔ اگر ON=rہے تو 
62
اس مثال میں تعدیلی نقطہ r=–6Rکی ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے اس طرح ON=r=2R،لہٰذا ذرے کو اتنی چال سے پھینکناکافی ہوگاکہ وہ Nنقطے پر پہنچ جائے۔ اس کے آگے کمیت 4Mکی نسبتاً زیادہ مادی قوت کشش کافی ہوگی۔ Mکی سطح پر میکانکی توانائی 

                   63
تعدیلی نقطہNپر چال صفرکے نزدیک تر پہنچ جاتی ہے ۔ نقطہNپر میکانکی توانائی خالصتاً بالقو ۃ ہوتی ہے۔

                            64
میکانکی توانائی کی بقا کے اصول کے مطابق

235
یا
       236

           یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ Nنقطے پر پر و جکٹائل کی چال صفر ہوتی ہے لیکن جب وہ بھاری کرہ 4Mسے ٹکراتا ہے تو چال صفر نہیں ہوتی ۔ اس چال کا شمار ہم طلبا کو ایک مشق کے طور پر کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔

8.9  زمینی ذیلی سیارہ   (Earth Satellites)

زمینی ذیلی سیارے وہ اجسام ہیں جو زمین کے گرد طواف کرتے ہیں ۔ ان کی حرکت سورج کے گرد سیاروں کی حرکت کے مشابہ ہے۔ اس لیے سیاری حرکت کے کپیلر کے قانون یہاں بھی لاگو ہوں گے۔خاص بات یہ ہے کہ  زمین کے گرد ان کا مدار دائری یا ناقص ہوتا ہے۔ چاند زمین کا واحد قدرتی ذیلی سیارہ ہے، جس کا مدارتقریبا دائری ہے دوری وقفہ 27.3دن ہے۔اور تقریباًیہی چاند کا گردشی دور خود اپنے محور کے گرد ہے 1957سے آج تک نئی ٹکنالوجی کی ترقی کی بناء پر ہندوستان سمیت دیگر ممالک نے بھی مصنوعی زمینی ذیلی سیارے خلا میں بھیجے ہیں۔ انہیں اطلاعات ، زمینی تحقیقات اور موسمیات وغیرہ جیسے میدانوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہم ایک ذیلی سیارہ کو دائری مدار میں زمین کے مرکز سے (RE+h)دوری پر فرض کیے لیتے ہیں جہاں REزمین کا نصف قطرہے ۔ اگر mذیلی سیارہ کی کمیت اور Vاس کی چال ہے تو اس مدار کے لیے درکار مرکز جو قوت مرکز کی جانب ہو گی اور اس کی عددی قدر ہوگی:
66
یہ مرکز جو قوت مادی کشش قوت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، جو ہے:

67
جہاں MEزمین کی کمیت ہے۔ مساوات(8.33)اور(8.34) کے دائیں ہاتھ والے حصے برابر کرنے پر

668
اس طرحhبڑھانے پر Vکم ہو جائیگی۔ مساوات(8.35) سے h=0پر چال Vہو گی 

669
جہاں ہم نے رشتہ :70=g استعمال کیا ہے ۔ ہر مدار میں ذیلی سیارہ vچال کے ساتھ 2p(RE+h)دوری طے کرتا ہے ۔ اس لیے اس کا دوری وقت Tہوگا۔
71
مساوات (8.25)سےVکی قدر رکھنے پر اور مساوات (8.37)کو دونوں جانب مربع کرنے پر 
(8.38)               T2 = k  (RE + h)3  
          جہاں k = 4pr2/GMEہے۔ یہی کپیلر کے دوری وقتوں کے قانون کی وہ شکل ہے جو زمین کے گرد ذیلی سیاروں کی حرکت میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک ذیلی سیارہ جو زمینی سطح سے بہت ہی قریب ہو اس کے لیے hکو REکے مقابلہ میں نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔(مساوات(8.38 اس لیے اس ذیلی سیارہ  کے لیےT0'Tبن جاتا ہے۔ جہاں
237              (8.39)
اگر ہم g اور RE قیمتیں رکھیں تو g = 9.8ms-2 اور RE=6400km
                 238
جو تقریبا 85منٹ کے برابر ہے


مثال  8.5  سیارہ مریخ کے دو چاند ہیں جن کے نام فوبوس اور ڈپیلوس ہیں (i)فوبوس کا دور7گھنٹے 39منٹ ہے اور مداری نصف قطر

9.4×103km

 ہے۔ سیارہ مریخ کی کمیت تحسیب کیجئے۔  (ii)مان لیجئے کہ زمین اور مریخ سورج کے اطراف دائری مداروں میں طواف کرتے ہیں اور مریخ سیارے کا مدار زمین کے مدار کے نصف قطر کا1.52گنا ہے ۔ مریخ سال کی مدت دنوں میں تحسیب کیجئے۔


جواب (i)مساوات(8.38)میں سورج کی کمیت کا بدل سیارہ مریخ کی کمیتMmسے کرنے پر 

73
74
(ii)کپیلر کے تیسرے قانون کا استعمال کرکے ہم درج ذیل طریقے سے Tmکی قدر معلوم کر سکتے ہیں۔
75
یہاں RMSمریخ سورج کی درمیانی دوری اور RESزمین سورج کی درمیانی دوری ہے۔
76
یہاں غور کرنے کی بات ہے عطارد، مریخ اور پلوٹو کو چھوڑ کر دیگر سبھی سیاروں کے مدار تقریبا دائری ہیں۔ مثال کے لیے زمین کے نصف اصغر اور نصف اکبر محوروں کا تناسب b/a=0.99986

مثال 8.6 زمین کو تولنا:آپ کو درج ذیل اعداد شمار د یے گئے ہیں RE=6.37×106m,g = 9.81 ms-2زمین کے مرکز سے چاند کی دوری، R=3.84×108mاور چاند کے طواف کا دور27.3 دن۔دو مختلف طریقوں کے ذریعہ زمین کی کمیت ME معلوم کیجئے۔

جواب مساوات8.12سے

77
چاند زمین کا ایک ذیلی سیارہ ہے۔ کیپلر کے تیسرے قانون سے (مساوات 8.38) دیکھیں)

78

ان نتیجوں میں%1سے بھی کم فرق ہے۔ لہٰذا دونوں طریقوں سے تقریباً ایک ہی جواب حاصل ہوتا ہے۔

مثال 8.7 مساوات (8.38)کی مستقلہ Kکو دنوں اور کلو میٹر میں ظاہر کیجئے۔دیا ہے کہ چاند زمین سے

 3.84×105 km 

دوری پر ہے۔ اس کے طواف کا دور (دنوں میں ) معلوم کیجئے

جواب  دیا ہوا ہے۔
79
مساوات(8.38)اورkکی دی ہوئی قدرکا استعمال کرنے پر چاند کا طوافی دور

T2=(1.33X1014)3.84X1.)3
T=27.3d
غور کیجئے کہ اگر(RE+h)کو ہم ناقص کا نصف محور اکبر مان لیں  تومساوات 8.38ناقص مدار کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں زمین اس ناقص کے ایک ماسکہ پر واقع ہوگی۔

8.10   ایک مدار میں طواف کرتے ہوئے سیارچہ کی توانائی

(Energy of An Orbiting Satellite)

مساوات(8.35)کے استعمال سے ایک دائری مدار میں Vچال سے حرکت کرتا ہوا ذیلی سیارہ (سیارچے) کی حرکی توانائی ہوگی
81
مان لیجئے لاانتہا پر مادی کشش توانائی بالقوۃ صفر ہے ۔ زمین کے مرکز سے (R+h)دوری پر توانائی بالقوۃ ہوگی

82      
حرکی توانائی مثبت ہے جب کہ توانائی بالقوۃ منفی ہے۔ بہرحال عددی قدر کے اعتبار سے حرکی توانائی، توانائی بالقوۃ کی نصف ہے۔ اس لیے کل توانائی
83
دائری مدار میں حرکت کرتے ہوئے سیارچے کی کل توانائی منفی ہے، کیونکہ توانائی بالقوۃ جو حرکی توانائی کی، عددی قدر کی مناسبت سے دگنی ہے، منفی ہے۔
جب سیارچے ناقص مدار میں ہوتے ہیں تو دونوں توانائیوں K.Eاور P.Eایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک بدلتی رہتی ہیں ۔ دائری مدار کی طرح ناقص مدار میں بھی کل توانائی مستقلہ اور منفی ہوتی ہے۔ یہ جو ہمارا  اندازہ بھی ہے چونکہ پچھلے حصہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اگر کل توانائی مثبت یا صفر ہو تو شے لا انتہا تک فرار ہو جاتی ہے ۔ سیارچے ہمیشہ ہی زمین سے ایک محدود دوری پر ہوتے ہیں اور ان لیے اس کی توانائی مثبت یا صفر نہیں ہو سکتی۔

مثال 400kg 8.8 کا کوئی ذیلی سیارہ زمین کے اطراف 2REنصف قطر والے کسی دائری مدار میں طواف کر رہا ہے اسے 4REنصف قطر والے دائری مدار میں منتقل کرنے کے لیے کتنی توانائی کی ضرورت ہوگی؟ اس کی حرکی توانائی اور توانائی بالقوۃ میں کتنی تبدیلی ہوگی؟
جواب شروع میں
84
جب کہ آخر میں
85
لہٰذا توانائی میں کل تبدیلی
86
1
حرکی توانائی میں کمی آجاتی ہے اور DEکے مشابہ ہو جاتی ہے ۔ یعنی
AK=Kf-ki=-3.13x109J
توانائی بالقوۃ میں تبدیلی کل توانائی میں تبدیلی کی دوگنی ہوتی ہے۔ یعنی
AV=Vf-vi=-6.25x109J

 خلا میں ہندوستان کی چھلانگ

1975میں نچلی مداری ذیلی سیارہ آریہ بھٹ کو لانچ کرنے کے ساتھ ہندوستان خلائی دور میں داخل ہوا۔ پروگرام کے کچھ پہلے برسو ں میں سابق سویت یونین نے لانچ گاڑیاں فراہم کی تھیں ۔ ملکی لانچ گاڑیوں کا استعمال، 1980کے دہے کے شروعات میں روہنی سلسلے کے ذیلی سیاروں کو خلا میں بھیجنے میں کیا۔ قطبی سیاروں کو خلا میں لانچ کرنے کا پروگرام1980کی دہائی کے آخر ی سالوں میں شروع کیا گیا۔ ذیلی سیاروں کا ایک سلسلہ، جسے آئی آر ایس (انڈین ریموٹ سینسنگ سیٹلاسیٹس) کا نام دیا گیاہے، لانچ کیا جانا  شروع ہو چکا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ پروگرام مستقبل میں بھی چلتا رہے گا۔ ان ذیلی سیاروں کا استعمال سروے، موسم کی پیش گوئی اورخلاء میں تجربات کو انجام دینے میں ہو رہا ہے۔ مواصلات اور موسم کی پیش گوئی کے مقصد سے انسیٹ (انڈین نیشنل سیٹلائٹ(INSAT سلسلے  کے ذیلی سیاروں کے پروگرام کی شروعات1982میں ہوئی۔ انسیٹ سلسلے کے ذیلی سیاروں کی لانچنگ میں یوروپی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ ہندوستان نے2001میں اس اپنی سرزمین پر قائم ارضی سیارچہ کے لانچ کی استعداد کی جانچ تب انجام دی جب اس نے ایک تجرباتی مواصلاتی ذیلی سیارہ(GSAT-I)کو خلا میں بھیجا۔1984میں راکیش شرما کو پہلا ہندوستانی خلائی مسافر بننے کی خوشی نصیبی حاصل ہوئی۔ ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم)انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(ISRO وہ سرپرست تنظیم ہے جس کے ذریعہ متعدد مراکز چلائے جا رہے ہیں ۔ اس کا اہم لانچ مرکز شری ہری کوٹا((SHAR)ہے جو چنئی سے 100kmشمال میں واقع ہے۔ نیشنل ریموٹ سینسنگ ایجنسی (NRSA)حیدرآباد کے  قریب واقع ہے۔ خلائی اور متعلقہ سائنس سے متعلق تحقیق کے لیے اس کا قومی مرکز احمد آباد میں واقع فزیکل ریسرچ لیبارٹری (PRL)ہے۔


8.11  قائم ارضی اور قطبی ذیلی سیارے

(Geostationary And Polar Satellites)

ایک دلچسپ بات جب پیدا ہوتی ہے اگر (RE+h)کی قدر اس طرح تطبیق (adjust)کی جائے کہ مساوات(8.37)میں Tکی قدر 24 گھنٹے ہوجائے۔ اگر دائری مدار زمین کی استوائی(equatorial) سطح میں ہو  تو ایسے ذیلی سیارہ کی مداری مدت زمین کے لیے اپنے محور کے گرد گردشی مدت کے برابر ہوگی اور زمین سے دیکھنے پر یہ ساکت حالت میں نظر آئے گا۔ اس کے لیے (RE+h)کا تخمینہ  REسے کافی زیادہ ہوتا ہے:
90
اگرگھنٹہ T=24 ہوتوh=35800 kmکلو میٹر ی حاصل ہوتا ہے جو  REسے کافی زیادہ ہے۔ اس طرح کے ذیلی سیارے کو جوزمین کی استوائی سطح میں ہوتا ہے اور جس کے لیے،گھنٹہT= 24، ہوتا ہے قائم ارضی سیارہ کہتے ہیں ۔ ظاہر ہے چونکہ زمین بھی اسی دوری وقت سے گھومتی ہے اس لیے زمین سے دیکھنے پر یہ ذیلی سیارہ ساکت حالت میں نظر آئے گا۔ اس طرح کے ذیلی سیاروں کو طاقتور راکٹ کی مدد سے زمین سے اوپر اتنی اونچائی تک لانچ کرایا جاتا ہے۔ ان سیاروں کے استعمال سے بہت سارے فائدہ حاصل ہوتے ہیں۔
یہ معلوم ہے کہ ایسی برق مقناطیسی لہر (Electromegnetic Wave) جس کا تعددایک متعین تعدد(Frequency)سے زیادہ ہو آئنوسفیر سے ٹکرا کر منعکس نہیں ہوتی۔ ریڈیو نشریات کے لیے استعمال ہونے والی ریڈیولہروں کا تعدد 2Mhz سے 10Mhzتک ہوتا ہے جو متعین تعدد سے کم ہے اس لیے یہ آئینو سفیر سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہیں۔ اس طرح انٹیناسے نشر کی گئی ریڈیو لہریں بہت دوری پر کسی بھی جگہ حاصل کی جا سکتی ہیں جو کہ کسی بھی براہِ راست لہر کے لیے زمینی انحنا (curvature)کے باعث حاصل کر پانا ممکن نہیں ہے۔ ٹیلی ویـژن نشریات میں اور دیگر مواصلات میں  استعمال کی گئی لہروں کا تعدد کہیں زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں خط بصارت (Line of Sight)کے باہر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک قائم ارضی سیارہ نشریاتی اسٹیشن کے اوپر متعین کر دیا جا تا ہے جو ان سگنل کو حاصل کرکے زمین کے بڑے رقبہ میں واپس بھیج دیتا ہے۔ ہندوستان کے ذریعہ اوپر بھیجا گیا INSATذیلی سیارہ ایک قائم ارضی ذیلی سیارہ ہی ہے جسے مواصلات اور موسم کی پیش گوئی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

91
شکل8.11 ایک قطبی ذیلی سیارہ :  زمینی سطح پر ایک پٹی ایک دور کے دوران ذیلی سیارہ سے دکھائی دیتی ہے۔ ذیلی سیارہ کے دوسرے دور کے لیے زمین اپنی محور پر تھوڑی گھوم جاتی ہے تاکہ اس کے بعد والی پٹی دکھا ئی دے سکے

دوسری طرح کا ذیلی سیارہ قطبی ذیلی سیارہ (شکل(8.11 کہلاتا ہے۔ یہ کم اونچائی 800 km)سے (h » 500والا ذیلی سیارہ ہے یہ شمال و جنوب سمت میں زمین کے قطبین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ جب کہ زمین اپنے محور کے گرد مشرق و مغرب سمت میں گھومتی ہے۔ چونکہ اس کا دوری وقت تقریبا100 منٹ ہے اس لیے ایک دن میں ایک ہی اونچائی کو کئی بار پار کرتا ہے۔ بحرحال چونکہ اس کی اونچائیHزمین سے اوپر تقریبا 800-500کلو میٹر ہے اس لیے اس پر متعین کیا گیا کیمرہ ایک متعین مدار میں زمین کی ایک چھوٹی پٹی ہی دیکھ پائے گا ۔ اس کے بعد والی پٹی دوسرے مدار میں نظر آئیگی۔ اس طرح پوری زمین کو دن بھر میں پٹی بہ پٹی کے سہارے  دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ذیلی سیارے قطبی اور استوائی علاقے کو بہت ہی قریب سے اور صاف دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے ذیلی سیاروں کے ذریعہ حاصل کی گئی خبریں ریموٹ سینسینگ، موسم کی جانکاری ، آب و ہوا سے متعلق مطالعہ میں کافی کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔

8.12 بے وزنی  (Weightlessness)

ایک چیز کاوزن وہ قوت ہے جس سے زمین اس کو کھینچتی ہے۔ جب ہم زمین کی سطح پر کھڑے ہوتے ہیں تو اپنا وزن محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ زمین مخالف سمت میں ایک قوت ہمارے وزن پر لگاتی ہے تاکہ ہم حالت سکون میں رہیں ۔ یہی اصول وہاں بھی لاگو ہوگا جب ہم کمانی دار ترازو کو ایک متعین نقطہ(جسے چھت) سے لٹکا کر کسی چیز کا وزن معلوم کریں ۔ چیز نیچے کی طرف گرجائے گی جب تک کوئی قوت زمین کی قوت کشش کے مخالف سمت میں نہ ہو۔ یہی قوت کمانی چیز پر لگاتی ہے۔
یہ تصور کریں کہ ترازو کا اوپری حصہ کمرہ کی کسی چھت سے لٹکا ہوا نہیں ہے ۔ ترازو کے دونوں کنارے اوررکھی ہوئی چیز یکساں اسراع g کے ساتھ حرکت کریں گے۔ ترازوکی کمانی چونکہ تنی ہوئی نہیں ہے اور کوئی قوت اوپر کی جانب نہیں لگ رہی ہے اس لیے ترازو کی ریڈنگ صفر ہوگی ۔ اگر اسی چیز کی جگہ کوئی انسان ہو تو اسے اپنا وزن محسوس نہیں ہوگا اس لیے جب کوئی چیز آزادانہ گرتی ہے تو بے وزن معلوم ہوتی ہے۔ اسی کو بے وزنی کہتے ہیں۔
زمین کے گرد ذیلی سیارہ میں ذیلی سیارہ کا ہر حصہ زمین کے مرکز کی جانب اسراع کرتا ہے جو زمین کی قوت کشش کے ذریعہ اسراع کے برابر ہے۔ اس لیے ذیلی سیارہ کے اندر ہر چیز آزادنہ طور پر گرے گی۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح ہم کسی اونچائی سے زمین کی جانب آزادانہ اگرتے ہیں ۔ اس طرح گردش کرتے ہوئے ذیلی سیارہ کے اندر انسان کوئی مادی کشش محسوس نہیں کریگا۔ مادی کشش ہمارے لیے عمودی سمت میں ہوتی ہے جب انکے لیے افقی یاعمودی سمت میں ہوتی ہے۔ ایک ذیلی سیارہ کے اندر تیرتے ہوئے خلاء باز کی  تصویر اس کی تصدیق کرتی ہے۔

خلاصہ

نیوٹن کا مادی کشش کا ہمہ گیر قانون یہ بتاتا ہے کہ ایک دوسرے سے r دوری پر واقعm1 اورm2 کمیت کے دو ذرات کے درمیان لگنے والی ثقلی کشش  قوت کی قدر مندرجہ ذیل ہوتی ہے۔
92
جہاں  G ہمہ گیر مادی کشش مستقلہ ہے جس کی قدر
 6.672 × 10-11 N m2 kg-2
ہوتی ہے۔
اگر ہم کئی کمیتوں M1, M2, ...... Mn وغیرہ کے سبب m کمیت کے کسی ذرے پر حاصل قوت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ہم انطباق کے اصول کا استعمال کرتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ مادی کشش کے قانون سے M1, M2, ...... Mnکمیتوں میں ہر ایک کے سبب m کمیت پر لگی الگ الگ قوتF1 FFn ہیں۔ تب انطباق کے اصول کے مطابق ہر ایک قوت آزادانہ کام کرتی ہے تو دیگر جسم اسے متاثر نہیں کرتے۔ لہٰذا حاصل قوت FRکو ہم سمتیہ جمع طریقے کے ذریعہ معلوم کرلیتے ہیں،
93
یہاں  نشانΣ جمع کو ظاہر کرتا ہے۔
کیپلر کے سیاری حرکت کے قانون بتاتے ہیں کہ 
(a) سبھی سیارے ناقص مداروں میں حرکت کرتے ہیں اور سورج ان مداروں کے دو میں سے کسی ایک ماکسی نقطے پر واقع ہوتا ہے۔
(b) سورج سے کسی سیارے تک کھینچا نصف قطر سمتیہ مساوی وقفہ وقت میں مساوی رقبہ طے کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ کسی سیارے پر لگنے والی مادی کشش قوت مرکزی قوت ہوتی ہے۔ لہٰذا زاویائی معیار حرکت کی بقا ہوتی ہے۔
(c) کسی سیارے کے مداری دور کا مربع اس کے ناقص مدار کے نصف محور اکبر  کے مکعب کا متناسب ہوتا ہے۔
سورج کے اطراف دائری مدار میں طواف کر رہے سیارے کا دور T اور اس کے نصف قطر میں درج ذیل رشتہ ہوتا ہے۔
94
یہاںMs سورج کی کمیت ہے۔ زیادہ تر سیاروں کی راہ سورج کے اطراف تقریباً دائری مدار میں ہوتی ہے۔ اگر R کو نصف محور اکبر a سے بدلیں تو ناقص مداروں کے لیے درج بالا مساوات لاگو ہوگی،
مادی کشش کے سبب پیدا ہونے والے اسراع کی قدر
 (a)  زمین کی سطح سے h اونچائی پر
95

مادی کشش قوت ایک بقائی قوت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی توانائی بالقوۃتفاعل کو معرف کیا جاسکتا ہے۔ ایک دوسرے سے r دوری پر واقع دو ذرات سے منسلک مادی کشش توانائی بالقوۃ 
96
دوری r کے لا انتہا کی طرف بڑھنے ∞→r پر V کی قدر صفر ہو جاتی ہے۔ ذرات کے نظام کی کل توانائی ذرات کے سبھی جوڑوں کی توانائی کی جمع کے برابر ہوتی ہے۔ جب کہ ہر ایک جوڑے کو مذکورہ بالا مساوات کی اصطلاح میں ظاہر کیا گیا ہے۔یہ تعین انطباق کے اصول کا نتیجہ ہے۔
اگر کسی جدا نظام میں m کمیت کا کوئی ذرہ M کمیت کے کسی بھاری جسم کے قریب V چال سے متحرک ہے تو نظام کی کل توانائی درج ذیل فارمولے کے ذریعہ ظاہر کی جاتی ہے:
97
یعنی کل میکانکی توانائی حرکی اور بالقوۃ توانائیوں کی حاصل جمع ہے۔ کل توانائی حرکت کی مستقلہ ہوتی ہے۔ 
اگر کمیت M کے اطراف a نصف قطر کے دائری مدار میں m کمیت کا کوئی جسم طواف کر رہا ہے، اور M >> m ہے تو نظام کی کل توانائی 
98
اس میں اختیاری مستقلہ کا انتخاب درج بالا نقطہ (5) کے مطابق ہے۔ کسی مقید نظام، یعنی ایسا نظام جس میں مدار بند ہو جیسے کہ ایک ناقص مدار، کے لیے توانائی منفی ہوتی ہے۔حرکی اور بالقوۃ  توانائیاں درج ذیل ہوتی ہیں،
 99
زمین کی سطح سے چالِ فرار ہے۔
100
اور اس کی قیمت
 11.2 km s-1 
ہے۔
اگر کوئی ذرہ کسی یکساںکرّوی خول یا ٹھوس کرّے، جس کے اندر کمیت کی تقسیم میں کرّوی تشاکل ہو،کے باہر واقع ہے، تو وہ کرّہ ذرہ کو اس طرح کشش کرتا ہے جیسے کہ کرّہ کی کل کمیت اس کے مرکز پر مرتکز ہو۔
10۔ اگر کوئی ذرہ کسی یکساں کرّوی خول کے اندر ہے، تو ذرہ کے اوپر لگنے والی مادی کشش قوت صفر ہوگی۔ اگر ذرہ کسی متجانس ٹھوس کرّے کے اندر ہے تو ذرہ پر لگنے والی قوت کرّے کے مرکز کی طرف ہوتی ہے۔ ذرے کے اوپر لگنے والی قوت کرّے کے اندرونی کمیت کے سبب ہوتی ہے۔ (آپ اس کے ثبوت کے لیے ضمیمہ دیکھ سکتے ہیں۔
11۔ ایک قائم ارضی ذیلی سیّارہ (ارضی ہم وقت ترسیل) زمین کے مرکز سے تقریباً
4.22 × 104
 کی دوری پر خطِ استوائی سطح پر دائری مدار میں گردش کرتا ہے۔

طبعی مقدار علامت ابعاد اکائی تبصرہ
مادی کشش مستقلہ G (M1L3T-2) N m-2kg-2 (6.67x10-11)
مادی کشش توانائی بالقوہ V (r) (ML2T-2) j GMm
-------

ثقلی مضمر )U (r (L2 T2) jkg-1 GM
------
r
(عددیہ)
مادی کشش شدت gیا E (LT-2) ms-2 GM
------r
 r2
(سمتیہ)

قابل غور نکات

کسی دیگر جسم کی مادی کشش کے اثر کے تحت کسی جسم کی حرکت کے بارے میں غور کریں تو درج ذیل مقداریں بقائی رہتی ہیں:
(a) زاویائی معیار حرکت 
(b) کل میکانکی توانائی
خطی معیار حرکت بقائی نہیں رہتا
زاویائی معیار حرکت کی بقا سے کیپلر کا دوسرا قانون حاصل ہوتا ہے۔ لیکن یہ صرف مادی کشش کے مقلوب مربع قانون کے لیے مخصوص نہیں بلکہ یہ کسی بھی مرکزی قوت کے لیے لاگو ہوتا ہے۔
کیپلر کے تیسرے قانون ]مساوات (8.1) دیکھیں[ میںT2 = Ks R3 مستقلہ۔ Ks دائری مداروں والے سبھی سیاروں کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ اس کی قدرسیاروں کے مطابق نہیں بدلتی۔ زمین کا طواف کرنے والے ذیلی سیاروں پر بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے]مساوات(8.38) [۔
خلائی ذیلی سیاروں کے اندر کوئی خلاباز بے وزنی کا تجربہ کرتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے نہیں ہوتا ہے کہ خلا میں اس مقام پرمادی کشش قوت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلا باز اور ذیلی سیارہ دونوں ہی زمین کی طرف آزادانہ گر رہے ہیں۔
ایک دوسرے سے r دوری پر واقع دو ذرات سے متعلق  مادی کشش توانائی بالقوۃ کو دکھایا جاسکتا ہے:
مستقلہ  102  
یہاں مستقلہ کی قدر کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ اسے صفر ماننا سب سے آسان انتخاب ہے۔ اس انتخاب سے
103
اس انتخاب میں یہ پنہاں ہے کہ جب ∞→rتو0→V ہوتا ہے۔مادی کشش توانائی کی صفر کے وقوع کا انتخاب توانائی بالقوۃ میں اختیاری مستقلہ کے انتخاب کی طرح ہے۔ غور کیجیے کہمادی کشش قوت اس مستقلہ کے انتخاب سے تبدیل نہیں ہوتی۔
کسی شے کی کل توانائی اس کی حرکی توانائی (جو ہمیشہ مثبت ہوتی ہے) اور اس کی توانائی بالقوۃ کا حاصلِ جمع ہے۔لاانتہا کی مناسبت سے (یعنی اگر ہم فرض کرلیں کہ لاانتہاپر شے کی توانائی بالقوۃ صفر ہے) تو کسی شے کی مادی کشش توانائی بالقوۃ منفی ہوتی ہے۔ایک سیارچہ کی کل توانائی منفی ہوتی ہے۔
اکثر توانائی بالقوۃ کی جس عبارت mgh سے ہمارا سامنا ہوتا ہے وہ درحقیقت درج بالا نقاطہ (6) میں بیان کیے گئے مادی کشش توانائی بالقوۃ کے فرق کے تقریبی ہے۔
اگرچہ دو ذرات کے درمیانی مادی کشش قوت مرکزی قوت ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ کن ہی دو منتہی استوار اجسام کے درمیان لگنے والی قوت ان کمیتوں کے مراکز کو ملانے والے خط کے موافق ہو۔ تاہم کسی کرّوی متشاکل جسم کے لیے اس جسم سے باہر واقع کسی ذرے پر لگی قوت ایسی ہوتی ہے جیسے کہ جسم کی کمیت اس کے مرکز پر مرتکز ہو اور یہ قوت اسی لیے مرکزی قوت ہوتی ہے۔
کسی کرّوی خول کے اندر کسی ذرے پر ثقلی قوت صفر ہوتی ہے تاہم (کسی دھاتی خول کے برعکس جو برقی قوتوں کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے) وہ خول اپنے سے باہر واقع دوسرے اجسام سے اپنے اندر کے کسی ذرے پر لگنے والی ثقلی قوت سے ڈھال نہیں مہیا کرتے  (Shield) نہیں ہوتا۔ ثقلی ڈھال  ممکن نہیں ہے۔

مشق

8.1۔ درج ذیل کا جواب دیجیے:

(a) آپ کسی چارج کو کسی کھوکھلے موصل (Conductor) کے اندر رکھ کر برقی قوتوں سے اس کو ڈھال مہیا کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کسی شے کو کسی کھوکھلے کرہ کے اندر رکھ کر یا کسی دیگر طریقہ  سے کسی قریبی شے کی مادی کشش قوت کے اثر سے بچنے کے لیے ڈھال مہیا کر سکتے ہیں؟
(b) زمین کے اطراف طواف کر رہے کسی چھوٹے اسپیس شپ میں خلا باز مادی کشش کا تجربہ نہیں کرسکتا۔ اگر زمین کے اطراف طواف کر رہے اسپیس اسٹیشن کا سائز بڑا ہو تو کیا اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اسے مادی کشش کا احساس ہو جائے گا؟
(c) اگر آپ زمین پر سورج کے سبب مادی کشش قوت کا مقابلہ چاند کے سبب مادی کشش قوت کے ساتھ کریں تو آپ پائیں گے کہ سورج کی کشش چاند کی کشش سے زیادہ ہے۔ اگلی مشق میں دیے گئے اعداد و شمار سے آپ خود اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔ تاہم چاند کی کشش کا مدوجزری اثر سورج کے مدوجزری اثر سے زیادہ ہے۔ کیوں؟

8.2 صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:

(a) مادی کشش کے سبب پیدا ہونے والا  اسراع اونچائی بڑھنے کے ساتھ بڑھتا/گھٹتا ہے۔
(b) مادی کشش کے سبب پیدا ہونے والا اسراع /گہرائی بڑھنے کے ساتھ بڑھتا /گھٹتا ہے۔ (زمین کو یکساں کثافت کا کرّہ  مانیے)
(c) مادی کشش کے سبب پیدا ہونے والا اسراع زمین کی کمیت/جسم کی کمیت پر منحصر نہیں ہوتا۔
(d) زمین کے مرکز سے r2اورr1 کی دوری پر دو نقاط کی توانائی بالقوۃ کے فرق کے لیے فارمولا mg (r2 – r1 کے بمقابلہ  104سے زیادہ/ کم درست ہے۔

8.3۔ مان لیجئے سورج کے گرد کوئی سیارہ زمین کے مقابلے دوگنی تیز حرکت کر رہا ہے تو زمین کے بالمقابل اس کا مداری سائز کیا ہوگا؟
8.4۔ زحل کے ایک ذیلی سیارہ کا مداری دور1.769دن ہے اور مدار کا نصف قطر102×4.22میٹر ہے۔ دکھائیں کہ زحل کی کمیت سورج کے بالمقابل تقریبا ایک ہزارویں حصہ کے برابر ہے۔
8.5۔ فرض کیجئے ہماری گیلکسی
2.4×1011
ستاروں سے ملکر بنی ہے۔ ایک ستارہ جو گیگلیٹک مرکز سے50,000نوری سال کی دوری پر ہے ایک پورے چکر میں کتنا وقت لگائے گا؟ملکی وے کا قطر 105نوری سال ہے۔
8.6۔ صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:
(a) اگر توانائی بالقوۃ کا صفر لاانتہا پرہو تو طواف کر رہے کسی ذیلی سیارے کی کل توانائی اس کی حرکی/توانائی بالقوۃ کی منفی ہے۔
(b) مدار میں طواف کرتے ہوئے کسی ذیلی سیارے کو زمین کے مادی کشش اثر سے باہر دھکیلنے کے لیے جتنی توانائی درکار ہوتی ہے وہ کسی ساکن شے کو زمین کے کشتی دائرہ اثر کے باہر اسی اونچائی (ذیلی سیارے کی اونچائی) تک اچھالنے کے لیے درکار توانائی سے زیادہ/کم ہوتی ہے۔
8.7۔ کیا زمین سے کسی جسم کی چال فرار درج ذیل پر منحصر ہوتی ہے:
(a)  جسم کی کمیت پر  (b)  اس مقام پر جہاں سے اسے پھینکا جاتا ہے،
(c)  پھینکنے کی سمت پر (d)  اس جگہ کی اونچائی پر جہاں سے اسے پھینکا گیا ہے؟ اپنے جواب کی تشریح کیجیے۔
8.8۔ کوئی دمدار ستارہ سورج کے اطراف نہایت ناقص مدار میں طواف کر رہا ہے۔ کیا پورے مدار میں دمدار ستارے کی (a) خطّی چال (b) زاویائی چال (c) زاویائی معیار حرکت  (d) حرکی توانائی(e) کل توانائی مستقل ہوتی ہے؟ سورج کے نہایت قریب آنے پر دمداد ستارے کی کمیت میں ہوئے کسی بھی نقصان کو نظر انداز کیجیے۔
8.9۔ ان میں کون سی علامتیں خلاء میں خلا بازوں کو تکلیف دیتی ہیں
(a) پیروں کا سوجنا (b) چہرے کا سوجنا (c) سردرد (d) رخ متعین کرنے والی  ساکھ
مندرجہ ذیل مشق 8.10 اور مشق 8.11میں، دیے ہوئے جوابات میں سے درست جواب منتخب کیجیے۔
8.10۔ ڈھول کی سطح (نصف کروی خول کا حصہ) کے مرکز پرمادی کشش شدت کی سمت کس تیر کے ذریعہ معین ہوگی۔ (شکل 8.12 دیکھیے) (a)  (i)،  (b)  ii،  (c)  (iii)،  (iv) صفر۔

105

شکل 12۔8

8.11۔ درج بالا سوال میں کسی اختیاری نقطے P پرمادی کشش شدت کی سمت کس تیر کے ذریعہ ظاہر ہوگی
 (i) d،  (ii) (e)،  (iii) (f)،  (iv) g
8.12۔ زمین سے کوئی راکٹ سورج کی طرف داغا گیا ہے۔ زمین کے مرکز سے کتنی دوری پر راکٹ پر لگنے والی مادی کشش قوت صفر ہوگی؟ سورج کی کمیت
2 × 1030 kg =
، زمین کی کمیت
 6 × 1024 kg =
۔دیگر سیاروں وغیرہ کے اثر کو نظر انداز کیجیے۔ (مداری نصف قطر
 1.5 × 1011m)۔

8.13۔ آپ سورج کو کس طرح تولیں گے، یعنی اس کی کمیت کا اندازہ کیسے لگائیں گے؟ سورج کے اطراف زمین کا اوسط مداری نصف قطر
1.5 × 108km 
ہے۔ سورج کی کمیت کا تخمینہ لگائیے۔
8.14۔ زحل کا سال، زمین کے سال کا 29.5 گنا ہے۔ اگر سورج سے زمین کی دوری
 1.5 0× 108km 
ہے، تو سورج سے زحل کتنی دور ہے؟
8.15۔ زمین کے سطح  پر کسی جسم کا وزن  N 63ہے۔ اگر یہی جسم زمین کی سطح سے اس کی نصف قطر کی آدھی اونچائی پر واقع ہے تو اس پر زمین کے سبب لگنے والی مادی کشش قوت کتنی ہوگی؟
8.16۔ زمین کو یکساں کمیتی کثافت کا کرّہ مانتے ہوئے،اگر کوئی شے جس کا وزن زمین کی سطح پر 250 N ہے تو زمین کے مرکز کی طرف آدھے راستے پر اس کا وزن کیا ہوگا؟
8.17۔ زمین کی سطح سے کوئی راکٹ
5 kms-1 
کی چال سے عمودی طور پر داغا جاتا ہے۔ زمین پر واپس ہونے سے پہلے راکٹ زمین سے کتنی دور جاتا ہے؟ زمین کی کمیت  
6.0 × 1024kg
، زمین کا اوسط نصف قطر
  6.4 × 106m
اور
kg-2  
G = 6.67 × 1011 N m2
ہے۔
8.18۔ زمین کی سطح پر کسی پروجکٹائل کی چالِ فرار
 11.2 km s1
ہے۔ کسی جسم کو اس سے تین گنی چال سے پھینکا جاتا ہے۔ زمین سے کافی دوری پر اس کی چال کتنی ہوگی؟ سورج اور دیگر سیاروں کی موجودگی کو نظر انداز کیجیے۔
8.19۔ کوئی ذیلی سیارہ زمین کے اطراف میں اس کی سطح سے
 400 km
کی اونچائی پر طواف کر رہا ہے۔ زمین کے مادی کشش کے اثر سے ذیلی سیارے کو باہر نکالنے کے لیے کتنی توانائی صرف کی جانی چاہیے؟ ذیلی سیارے کی کمیت
 200 kg =
، زمین کی کمیت
6.0 ×1024 kg =
، زمین کا نصف قطر
 =  6.4 × 10-6 m;
 اور
G = 6.67 ×10-11 Nm2 kg-2 
8.20۔ شمسی کمیت
 (= 2 × 1030 kg)
کے دو تارے ایک دوسرے کی طرف براہ راست تصادم کے لیے آرہے ہیں۔ جب وہ
109 km 
 کی دوری پر ہیں تو  ان کی چالیں نظر انداز کیے جانے کے قابل ہیں۔ وہ کس چال سے ٹکراتے ہیں؟ ہر ایک تارے کا نصف قطر
 104 km 
ہے۔ مانئے کہ جب تک تارے ٹکراتے  نہیں تب تک ان میں کوئی تخریب نہیں ہوتی (G کی معلوم قدر کا استعمال کیجیے)۔
8.21۔ کسی افقی میز پر دو بھاری کرّے، ہر ایک کی کمیت
100 kg
اور نصف قطر
0.10m
 ہے، ایک دوسرے سے
 1.0 m
 کی دوری پر رکھے گئے ہیں۔ کرّوں کے مراکز کو ملانے والے خط کے وسطی نقطہ پر مادی کشش میدان اور قوۃ کیا ہے؟ اس نقطے پر رکھی گئی کوئی شے کیا توازن میں ہے؟ اگر ہاں تو کیا توازن مستحکم ہے یا غیر مستحکم ؟

اضافی مشقیں


8.22۔ جیسا کہ آپ نے اس باب میں پڑھا ہے، کوئی قائم ارضی ذیلی سیارہ زمین کی سطح سے تقریباً
 36,000 km
 اونچائی پر زمین کے اطراف طواف کرتا ہے۔ ذیلی سیارے کے مقام پر زمین کے مادی کشش کے سبب قوۃ کیا ہے؟ (لا انتہا پرتوانائی بالقوۃ کو صفر مانیے)۔ زمین کی کمیت
 6.0 × 1024 kg=
،  نصف قطر  
6400 km = 
8.23۔ سورج کی کمیت سے 2.5 گنا کا تارہ جو گھٹ کر 12 km کے  سائز کا ہو گیا ہے، 1.2 rev فی سیکنڈ کی چال سے گردش کر رہا ہے۔ (اس طرح کے نہایت گھٹے ہوئے تاروں کو نیو ٹران تارے کہتے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے پلسار کہے جانے والے اور مشاہدہ کیے جانے والے اور نجمی اجسام اسی زمرے کے ہیں) ۔اس کے خط استوا پر رکھا کوئی جسم مادی کشش کے سبب کیا اس کے ساتھ چپکا رہے گا؟ (سورج کی کمیت
 2 × 1030 kg =)۔ 
8.24۔ کوئی اسپیس شپ مریخ پر ٹھہرا ہوا ہے۔ اسپیس شپ پر کتنی توانائی صرف کی جانی چاہیے کہ یہ نظام شمسی سے باہر نکل جائے؟ اسپیس شپ کی کمیت
 1000 kg =،
 سورج کی کمیت
 2×1030 kg =،
 مریخ کی کمیت
6.4 ×1023 kg =،
 مریخ کا نصف قطر
3395 km =
، مریخ کے مدار کا نصف قطر
2.28 ×108 km
G = 6.67×10-11 N m2 kg-2
8.25۔ مریخ کی سطح سے کسی راکٹ کو
2 kms-1 
کی چال سے عمودی طور پر داغا گیا ہے۔ اگر اس کی تقریباً 20% ابتدائی توانائی مریخ کی فضائی مزاحمت کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے، تو مریخ پر واپس آنے سے پہلے راکٹ، مریخ کی سطح سے کتنی دور جائے گا۔
 6.4×1023 kg
مریخ کی کمیت
 G = 6.67 ×10-11 Nm2 kg-2۔