Skip to content

باب 9

Tabiyaat-II

ٹھوس اشیا کی میکانیکی خاصیتیں

(MECHANICAL PROPERTIES OF SOLID)


9.1 تعارف
9.2                ٹھوس اشیا کا لچکدار برتاؤ
9.3               ذرر اور بگاڑ
9.4              ہوک کا قانون
9.5              ذرربگاڑ منحنی
9.6              لچکی مقیاس
9.7              مادی اشیا کے لچکیلے برتاؤ کے استعمال
                    خلاصہ
قابلِ غور نکات                   
مشق                   
اضافی مشق                  

  9.1 تعارف   (INTRODUCTION)


باب  7 میں ہم نے اجسام کی گردشی حرکت کا مطالعہ کیا اور یہ سمجھے کہ ایک جسم کی حرکت اس بات پر منحصر ہے کہ جسم کے اندرون اس کی کمیت کس طور پر تقسیم ہے۔ ایک استوار جسم سے عام طور پر مراد ایک ایسی سخت ٹھوس شے سے ہوتی ہے جس کی ایک معین شکل اورمعین ناپ ہو، لیکن در حقیقت ایک جسم کوکھینچا، دبایا اور موڑا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک قابل لحاظ حد تک استوار فولادی چھڑ کی شکل اور لمبائی میں بھی، اس پر کافی قوت لگاکر، تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔اس کا مطلب ہوا کہ ٹھوس اجسام بھی مکمل طورپراستوار نہیں ہوتے۔

  ایک ٹھوس کی شکل اوراس کا سائز (ناپ) معین ہوتا ہے۔ ایک جسم کی شکل یا اس کے ناپ کو تبدیل کرنے کے لئے یا ان میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے، کچھ قوت درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ   ایک مرغوبی اسپرنگ (helicl spring) کے کناروں کو پکڑکر آہستہ سے کھینچیں تو اسپرنگ کھچ جاتی ہے۔جب آپ کناروں کو چھوڑ دیتے ہیں تو وہ اپنی اصل شکل اور اپنا اصل ناپ دوبارہ حاصل کرلیتی ہے۔ ایک جسم کی وہ خاصیت جس کی وجہ سے جسم لگائی گئی قوت کوہٹا لینے پر اپنی اصل شکل اوراصل ناپ کودوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، لچک(Elasticity)کہلاتی ہے، اورپیدا ہوئی تخریب (Deformation) لچکیلی تخریب (Elastic deformation)کہلاتی ہے ۔ لیکن اگر آپ آٹے کے پیڑے یا گیلی مٹی     کے گولے پر قوت لگائیں، تو ان میں اپنی پچھلی شکل کو دوبارہ حاصل کرنے کا کوئی رجحان نہیں پایا جاتا اور ان میں پیدا ہوئی تخریب مستقل ہوتی ہے۔ ایسی اشیا پلاسٹک(Plastic)اشیاکہلاتی ہیں اوریہ خاصیت پلاسٹک پن(Plasticity)کہلاتی ہے۔ گندھا آٹا یا مٹی مثالی پلاسٹک (Ideal Plastic) کی آسان مثالیں ہیں۔

مادی اشیاکا لچک دار برتاؤانجینئر نگ ڈیزائن میں ایک اہم کردار اداکرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، جب کسی عمارت کا نقشہ (ڈیزائن) تیار کرنا ہو تو فولاداور کنکریٹ جیسی اشیاکی لچکدار خاصیتوں کی معلومات لازمی ہے۔یہی بات پلوں اور گاڑیوں وغیرہ کے ڈیزائن پر بھی صادق آتی ہے۔ کیا ہم ایسا ہوائی جہاز ڈیزائن کرسکتے ہیں جو بہت ہلکا ہو لیکن کافی مضبوط ہو۔ کیا ہم ایسا مصنوعی انسانی عضو ڈیزائن کر سکتے ہیں جو ہلکا ہو لیکن مقابلتاًمضبوط ہو؟ شیشہ کیوں پھوٹک (Brittle)ہوتا ہے جبکہ پیتل ایسا نہیں ہوتا؟ ریل کی پٹری کی ایک مخصوص شکل، 1جیسی ، ہونے کی کیاوجہ ہے؟ ایسے تمام سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے شروعات اس مطالعہ سے ہوگی کہ مقابلتاًسادہ قسم کے وزن اور قوتیں مختلف ٹھوس اجسام میں تخریب پیدا کرنے کے لیے کس طور عمل پیر اہوتی ہیں۔ اس باب میں ہم ٹھوس اشیا کے لچک دار برتاؤ اور ان کی میکانکی خاصیتوں کا مطالعہ کریں گے، جس سے ہمیں مندرجہ بالا سوالوں جیسے کئی سوالات کے جوابات حاصل ہوسکیں گے۔

9.2 ٹھوس اشیاء کا لچک داربرتاؤ

(ELASTIC BEHAVIOUR OF SOLIDS)

ہم جانتے ہیں کہ ٹھوس اشیا میں ، ان کا ہر ایٹم یا ما لیکیول ، پڑوسی ایٹموں اور مالیکیولوں سے گھرا ہوتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے بین ایٹمی (Interatomic) یا بین مالیکیولیائی (Intermolecular) 
قوتوں سے بندھے ہوتے ہیں اور ایک مستحکم توازنی حالت میں قائم رہتے ہیں۔ جب ایک ٹھوس شے میں تخریب کاری کی جاتی ہے، تو ایٹم اور مالیکیول اپنے مقام توازن سے ہٹ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بین ایٹمی (بین مالیکولیائی) فاصلے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جب تخریبی قوت کو ہٹالیا جا تا ہے، تو بین ایٹمی قوتیں انہیں دوبارہ اپنے اصل مقام پرواپس لے آتی ہیں۔ اس طرح جسم اپنی اصل شکل اوراپنا اصل سائز دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس بحالی میکانز م کو شکل 9.1 میں دکھائے گئے، اسپرنگ گیند نظام کی مددسے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں گیندیں ایٹموں کو ظاہرکرتی ہیں اور اسپرنگ بین ایٹمی قوتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔


1

شکل 9.1 ٹھوس اشیا کے لچکدار برتاو کے اظہار کے لئےاسپرنک گیند ماڈل

اگر آپ کسی بھی گیند کو اس کے مقام توازن سے ہٹانے کی کوشش کریں ، تو اسپرنگ نظام اسے اس کے اصل مقام پر بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ٹھوس اشیا کے لچکدار برتاؤکی، ٹھوس اشیاکی خورد بینی طبع کی بنیاد پر، وضاحت کی جا سکتی ہے۔روبرٹ ہوک (Robert Hooke) نے، جو ایک انگریز ماہر طبیعیات تھے، 1635-1703)عیسوی (اسپرنگوں پر تجربات کیے اور دریافت کیا کہ ایک جسم میںپیدا ہوئی تطویل لمبائی میں تبدیلی (Elongalion)،لگائی گئی قوت یا وزن کے راست متناسب ہوتی ہے۔ 1976 میں انہوں نے لچک کا قانون پیش کیا، جسے     اب ہوک کاقانون کہتے     ہیں، ہم حصہ 9.4 میں اس کے بارے میں پڑھیں گے ۔ بوائل کے قانون کی طرح یہ قانون بھی سائنس کے قدیم ترین مقداری رشتوں میں سے ایک رشتہ ہے ۔ انجینیرنگ ڈیزائن کے لیے ، مختلف لوڈ(وزن) کے زیر اثر مختلف اشیا کے برتاؤ کو جاننا بہت اہم ہے۔

9.3     ذرراوربگاڑ (STRESS AND STRAIN)

جب ایک جسم پرقوت لگائی جاتی ہے تو اس جسم میں کچھ کم یا زیادہ پیمانے پر تخریب ہوتی ہے جو کہ جسم کی طبع اورتخریبی قوت کی عدد ی قدر (Magnitude) کے تابع ہے۔ بہت سی مادی اشیا میں پیدا ہوئی یہ تخریب ہو سکتا ہے ہمیں دکھائی نہ دے یا ہم محسوس نہ کر سکیں، لیکن یہ تخریب ہوتی ضرور ہے۔ جب کسی جسم پر کوئی تخریبی قوت لگائی جاتی ہے، تو جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے ، اس جسم میں ایک بحالی قوت پیداہو جاتی ہے۔ یہ بحالی قوت عددی قدر میں لگائی ہوئی قوت کے مساوی ہوتی ہے، لیکن سمت کے لحاظ سے اس کے مخالف ہوتی ہے۔بحالی قوت فی اکائی رقبہ ذرر (Stress)کہلاتی ہے۔ اگرلگائی گئی قوت Fہے اورAجسم کا تراشی رقبہ (Area of Cross Section) ہے ، تو
S1
ذرر کی SI (ایس۔ آئی) اکائی Nm-2 یا پاسکل (Pascal,Pa)ہے اور اس کا ابعادی فارمولہ (Dimentional Formula)S3ہے۔ جب کسی ٹھوس پر کوئی باہری قوت لگتی ہے ، تواس کے ابعاد میں تین طرح سے تبدیلی آسکتی ہے۔ انھیں شکل 9.2میں دکھایا گیا ہے۔ شکل 9.2 (a) میں جسم کو ایسی قوتوں کے ذریعے کھنچاہوا دکھایا گیا ہے، جو اس کے تراشی رقبہ کی عمودی سمتوں میں لگائی گئی ہیں۔ اس صورت میں، بحالی قوت فی اکائی رقبہ، تناؤ ذرر (Tensile Stress)کہلاتی ہے۔ اگر لگائی ہوئی قوتوں کے زیر اثر استوانہ     دب جاتا ہے تو بحالی قوت فی اکائی رقبہ، دباؤ ذرر (Compressive Stress) کہلاتی ہے ۔ تناؤ یا دباؤ ذررکے لیے طولی ذرر (Longitudinal Stress) کی اصطلاح بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ان دونوں صورتوں میں ، استوانہ کی لمبائی میں تبدیلی آتی ہے۔ لمبائی میں آئی تبدیلیS4    اورجسم کی اصل لمبائی L(اس صورت مں استوانہ کی لمبائی) کی نسبت، طولی بگاڑ (Longitdinal Strain)کہلاتا ہے۔
(9.2) tooli طولی بگاڑ

اگر دو مساوی اورمخالف تخریبی قوتیں، استوانہ کے تراشی رقبہ کے متوازی لگائی جائیں، جیساکہ شکل 9.2 (a) میں دکھایاگیا ہے، تواستوانہ کے مخالف رخوں کے درمیان نسبتی ہٹاؤ (Relative displacement)پیدا ہوتا ہے۔لگائی گئی مماسی قوت (Tangential force)کی وجہ سے پیدا ہونے والی بحالی قوت فی اکائی رقبہ مماسی(Tangential)یا تحریفی ذرر (Shearing Stress) کہلاتی ہے۔
لگائی گئی مماسی قوت کے نتیجے میں، استوانہ کے مخالف رخوں کے درمیان نسبتی نقلS6    ہوتا ہے ،جیسا کہ شکل 9.2 (a) میں دکھا یا گیا ہے۔ اس طرح سے پیدا ہوئے بگاڑ کو تحریفی     بگاڑ کہتے ہیں اوراس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے۔ کہ یہ رخوں کے نسبتی نقل    S6اور استوانہ کی لمبائی کی نسبت ہے۔

S7


رابرٹ ہوک(Robert Hooke)
(1635 – 1703) عیسوی
ROBERT HOOKE

رابرٹ ہوک 18جولائی 1935کو فریش واٹر(Freshwater)، جزیرہ وائٹ (Isle of wight)میں پیدا ہوئے۔ وہ سترہویں صدی کے نہایت ذہین اورہمہ گیرصلاحیتیں رکھنے والے برطانوی سائنسدانوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔لیکن پھر بھی وہ ایک نہایت با صلاحیت موجد، آلات ساز اور عمارتی ڈیزائن تیار کرنے کے ماہرتھے۔ انہوں نے باؤلین ہوا پمپ (Boylean air Pump)تیار کرنے میں رابرٹ بوائل (Robert Boyle)کے مددگار کے بہ طور کام کیا۔ 1962میں نئی قائم کی گئی رائل سوسائٹی میں ان کا تقرربہ طور مہتمم تجربات کیا گیا۔ 1965میں وہ گریشم کالج میں جومیٹری کے پروفیسرمقرر ہوئے ، جہاں انہوں نے اپنے فلکیاتی مشاہدات کیے۔ انہوں نے ایک گریگورین انعکاسی دوربین بنائی، (Gragorian reflecting telescope Trapezium) منحرف میںپانچواں ستارہ اورتارامنڈل (Constellation) جبار (Orion)میں ایک سہ ستارہ (Asterism) دریافت کیا، تجویز کیا کہ مشتری (Jupiter)اپنے محور پر گردش کرتاہے، مریخ کے تفصیلی نقشے تیار کیے، جو بعد میں ، 19ویں صدی میں اس سیارہ کی گردش کرنے کی شرح معلوم کرنے میں استعمال ہوئے، سیاروں کی حرکت کو بیان کرنے ولا مقلوب مربع قانون (Inverse square law)وضع کیا، جسے بعد میں نیوٹن نے سدھارا۔ وہ رائل سوسائٹی کے رکن منتخب ہوئے اور انہوںنے 1667سے 1682تک سوسائٹی کے سکریٹری کے بہ طور بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے مشاہدات مائیکرو گریفیا (Micrographiya) میں سلسلہ وار پیش کیے اور روشنی کا لہری نظریہ تجویز کیا اور حیاتیاتی تناظر میں پہلی بار لفظ خلیہ (Cell)استعمال کیا۔
رابرٹ ہوک طبیعات کی دنیا میں سب سے زیادہ اپنی، لچک کے قانون کی دریافت سے جانے جاتے ہیں : اٹ ٹینسیو، سک، وز (Ut tensio, sic vis) (یہ لاطینی عبارت ہے ، جس کا مطلب ہے، جیسی تخریب ہوگی ویسی ہی قوت ہوگی۔)اس قانون نے ذرراور بگاڑ کے مطالعے اور لچک داراشیاء کی تفہیم کے لیے بنیاد فراہم کی۔


جہاں،S8استوانہ کا اس کی راسی حالت (Vertical) (استوانے کے اصل حالت)سے زاویائی نقل (Angular Displacement) ہے۔ کیونکہS8بہت چھوٹا ہوتا ہے ،’S8زاویہ‘S9کے تقریباً مساوی ہے۔ (مثال کے طور پر اگر ‘S10’ہے توS8    اورS9میں صرف 1فیصد فرق ہے۔)
shakal
شکل 9.2 (a) استوانہ : جس پر کام کر رہا تناؤ اس کو مقدار jjj سے کھینچتا ہے۔ (b) ایک استوانہ جس پر تحریفی ذرر (مماسی ذرر) لگ رہا ہے، اس میں زاویہ θ کی تخریب ہوتی ہے۔ (d) ایک ٹھوس کرہ جس پر ایک ہموار آبی ذر کام کر رہا ہے، اس کے حجم میں v∆ کی کمی کر دیتا ہے۔

یہ بھی تصور کیا جا سکتا ہے ، کہ اگر ایک کتاب کو ہاتھ سے دبا یا جائے اور افقی سمت میں دھکیلا جائے، جیساکہ شکل 9.2 (c)میں دکھا گیا ہے ، تو    

(9.4)                                                                     tan θθ = تحریفی بگاڑ 

شکل 9.2  (d)میں ایک ٹھوس کرہ کو جوایک سیال میں رکھا ہوا ہے، زیادہ دباؤ پر تمام اطراف سے داباجا تا ہے۔ سیال کے ذریعے لگائی گئی قوت سطح کے ہر نقطے پر عمودی سمت میں کام کرتی ہے اور (کرہ)کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ آبی دباؤ کے تحت ہے ۔اس سے اس کی جیومیٹریائی شکل میں کوئی تبدیلی آئے بغیر اس کے حجم میں کمی آجاتی ہے۔

جسم میں اندرونی بحالی قوتیں پیدا ہوتی ہیں جو سیال کے ذریعے لگائی گئی قوت کے مساوی اورمخالف ہوتی ہیں۔ (جسم سیال میں سے باہر نکال لیے جانے پر اپنی اصل شکل اورناپ دوبارہ حاصل کرلیتا ہے)۔اس صورت میں ، اندرونی بحالی قوت فی اکائی رقبہ ، آبی ذرر(hydraulic stress)کہلاتی ہے ، جو مقدار میں آبی دباؤ (لگائی گئی قوت فی اکائی رقبہ) کے مساوی ہے۔

آبی دباؤ کے ذریعے پیدا ہوا بگاڑ حجم بگاڑ (Volume Strain)کہلاتا ہے ۔ اوراس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ حجم میں آئی تبدیلیS11اور اصل حجم (V)کی نسبت ہے۔

s13
کیونکہ بگاڑ، ابعاد میں آئی تبدیلی کی اصل ابعاد سے نسبت ہے، اس لیے اس کی کوئی اکائی یا ابعادی فارمولہ نہیں ہوتا۔

9.4 ہو ک کا قانون(HOOKE'S LAW)

ذرراوربگاڑ، شکل 9.2میں دکھائی گئی مختلف صورتوں میں مختلف شکلیں اختیار کرتے ہیں۔چھوٹی تخریبوں کے لیے، ذرر اوربگاڑ ایک دوسرے کے متناسب (Proportional)ہوتے ہیں۔ یہ ہوک کا قانون کہلاتا ہے۔
اس لیے    
s14
جہاں k متناسبیت مستقلہ ہے اورلچک کامقیاس (Modulus of Elasticity) کہلاتا ہے ۔    
ہوک کا قانون ایک تجربی (Empirical)قانون ہے اور زیادہ تر مادی اشیاء کے لیے درست پایا گیا ہے۔ لیکن کچھ ایسی مادی اشیاء ہیں جو اس خطی رشتہ کو نہیں ظاہر کرتیں۔

    9.5 ذرر بگاڑ منحنی(Stress-Strain Curve)

ایک دی ہوئی مادی شے کے لیے ، جو تناؤذرر کے تحت ہو، ذرر اوربگاڑ میں رشتہ تجرباتی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تناؤ خاصیتوںکی معیاری جانچ میں ایک جانچ استوانہ یا تار کوایک لگائی ہوئی قوت کے ذریعے کھینچا جاتا ہے۔ لمبائی میں آئی کسری تبدیلی (بگاڑ) اوراس بگاڑ کو پیدا کرنے کے لیے درکار لگائی گئی قوت کو ریکارڈ کر لیاجاتاہے۔ لگائی گئی قوت میں متعین اقدام میں بتدریج اضافہ کیا جا تا ہے اورلمبائی میں آئی تبدیلی درج کر لی جاتی ہے۔اور ذرر (جو مقدارمیں لگائی گئی قوت فی اکائی رقبہ کے مساوی ہے)اورپیداہوئے بگاڑ میں ایک گراف کھینچا جاتا ہے ۔ ایک دھات کے لیے یہ مخصوص گراف شکل 9.3 میں دکھایاگیا ہے۔ دباؤ اورتحریفی ذرر کے لیے مماثل (Analogous) گراف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ذرر بگاڑ منحنی، مختلف مادی اشیاء کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ منحنی ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتے ہیں کہ ایک دی ہوئی مادی شے میں لوڈ میں اضافہ کرنے پر کس طور پرتخریب ہوتی ہے۔ گراف سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ Oسے Aتک کے علاقے میں ، منحنی سیدھا (خطی) ہے۔ اس علاقہ میں ہو ک قانون لاگو ہوتا ہے۔ لگائی گئی قوت کے ہٹائے جانے پر جسم اصل ابعاد دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔اس علاقہ میں ٹھوس اشیاء بطورلچک دار جسم برتاؤ کرتی ہیں۔

سکل
شکل 9.3  ایک تار پذیر مادے کے لیے مخصوص ذرر۔ 
بگاڑ منحنی
Aسے Bتک کے علاقے میں ، ذرر اور بگاڑ متناسب نہیں ہیں۔ لیکن پھر بھی، اگر لوڈ ہٹا لیا جائے تو جسم اپنے اصل ابعاد پرواپس آجا تا ہے۔ نقطہ B نقطہ حصول (Yeild point)کہلاتا ہے (اسے لچک حد Elastic limit بھی کہتے ہیں) اوراس سے مناسبت رکھنے والا ذرر، مادے کی حصول طاقت (Sy) (Yeild Strength)کہلاتی ہے۔
اگر لوڈ میں مزید اضافہ کیا جائے، تو پیدا ہونے والا ذرر، حصول طاقت سے زیادہ ہوجاتا ہے اور ذرر میں معمولی سی تبدیلی سے بھی بگاڑ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ منحنی کا Bاور Dکے درمیان کا حصہ اسے دکھاتا ہے۔ اب اگر لوڈ کو ہٹالیا جائے، مان لیجیے، Bاور Dکے ایک درمیانی نقطہ Cپر، تو جسم اپنے اصل ابعاد پرواپس نہیں آتا۔ اس صورت میں ، جب ذرر صفر بھی ہوتا ہے، بگاڑ صفر نہیں ہوتا۔ اب کہا جا تا ہے کہ مادہ ایک مستقل سیٹ میں ہے۔ اوریہ تخریب، پلاسٹک تخریب کہلاتی ہے۔ گراف پر نقطہ D,مادے کی آخری تناؤ طاقت (Su) ہے۔ اس نقطہ سے آگے، ایک کم لگائی     گئیقوت سے بھی مزید بگاڑ پیداہوتاہے اور نقطہ Eپر شے ٹوٹ جاتی ہے۔ اگر آخری طاقت اورنقطہ Dاور Eایک دوسرے کے نزدیک ہوں تو وہ مادہ پھوٹک کہلاتا ہے۔ اگریہ ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہوں تو مادہ تار پذیر (Ductile) کہلاتا ہے۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکاہے ہر مادے کا ذرر ۔ بگاڑ برتاؤ جدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ربر کو اپنی اصل لمبائی سے کئی گنا زیادہ کھینچا جائے، تب بھی وہ اپنی اصل شکل پر واپس آجاتی ہے۔ حالانکہ لچکدار علاقہ بہت وسیع ہے، لیکن مادے کے لیے علاقے کے زیادہ تر حصے میں ہوک کاقانون لاگو نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ کوئی معروف پلاسٹک علاقہ نہیں ہے۔ شریان کبیر کے منسوج، ربر جیسے مادے، جنہیں کھینچ کربڑابگاڑ پیدا کیا جا سکتا ہے، لچکیہ (Elastomer) کہلاتے ہیں۔
sakal
شکل 9.4 شریان کبیر (aorta) جو دل سے خون لے جانے والی بڑی نلی ہے، کے ایک لچکیلے منسوج (Tissue)کے لیے ذرر۔ بگاڑ منحنی

9.6 لچکی مقیاس(ELASTIC MODULI)

ذرر بگاڑ منحنی کا وہ علاقہ جو لچک حد کے اندر ہے اورمتناسب ہے، ساختی اور تعمیری انجینیرنگ ڈینرائن کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ ذرراور بگاڑ کی نسبت، جو لچک کامقیاس (Modulus of elasticity)کہلاتی ہے، مادے کی خاصیت ہوتی ہے۔

9.6.1ینگ مقیاس (Young's modulus)

تجرباتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دیے ہوئے مادے کے لیے، پیدا ہونے والے بگاڑ کی عدد ی قدر یکساں ہوتی ہے، چاہے ذرر، تناؤ ذرر ہو یا دباؤ ذرر۔ تناؤ (یادباؤ)ذرر(s16اور طولی بگاڑs17کی نسبت کی تعریف بہ طور ینگ مقیاس (Young's Modulus)کی جاتی ہے ، اوراسے علامت Y سے ظاہر کیاجاتا ہے۔
(9.7) 99
مساواتوں(9.1) اور (9.2) سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
                                                                            mus
nm
     

جدول 9.1  کچھ مادی اشیاء کے ینگ کے مقیاس اورحصو ل طاقت کی قدریں


مادی شے کثافت (kgm-3) ینگ کا مقیاس Y 109Nm-2 آخری طاقت σX    
            106 Nm-2    
      σy حصول طاقت 
 106 Nm-2 
المونیم 2710 70 110 95
تانبہ 8890 110 400 200
لوہا (تبایا ہوا) (wrought) 7900 - 7800 190 330 170
فولاد 7860 200 400 250
شیشہ# 2190 65 50 _
کنکریٹ 2320 30 40 _
لکڑی# 525 13 50 _
ہڈی# 1900 9.4 170 _
پالی اسٹائی رین (Polystyrene) 1050 3 48 _

*مادہ دباؤ کے تحت جانچا گیا۔

کیونکہ بگاڑ ایک غیر ابعادی مقدار ہے اس لیے ینگ مقیاس کی بھی اکائی وہی ہے جو ذررکی ہے، یعنیNm-2 یا پاسکل(Pa)۔ جدول 9.1 میں کچھ مادوں کے ینگ کے مقیاس اورحصول طاقت کی قدریں دی گئی ہیں۔
جدول 9.1میں دیے ہوئے تخمینوں سے یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ دھاتوں کے لیے ینگ کے مقیاس کی قدر بڑی ہوتی ہے۔ اس لیے ان مادوں کی لمبائی میں خفیف تبدیلی لانے کے لیے بڑی قوت درکار ہوتی ہے۔ ایک 0.1cmتراشی رقبہ والے پتلے فولادی تار کی لمبائی میں %0.1 اضافہ کرنے کے لیے 2000N'قوت درکا رہوتی ہے۔المونیم، پیتل اور تانبہ کے ان تاروں میں جن کا تراشی رقبہ یکساں ہو، اتنا ہی بگاڑ پیدا کرنے کے لیے درکار قوتیں، حسب ترتیب،900N, 690N اور1100N ہیں۔اس کا مطلب ہوا کہ تانبہ ، پتیل اور المونیم کے مقابلے میں فولاد زیادہ لچکیلاہے۔
یہی وجہ ہے کہ زیادہ استعمال ہونے والی مشینوں اور ساختی ڈیزائنوں میں فولاد کو فوقیت دی جاتی ہے۔ لکڑی ، ہڈی ، کنکریٹ اورشیشہ کی ینگ کے مقیاس کی قدریں مقابلتاًکم ہیں۔

مثال 9.1: ایک فولادی چھڑ کا نصف قطر10mmاور لمبائی 1.0m ہے۔ ایک100kNکی قوت اسے لمبائی میں کھینچتی ہے۔ حساب لگائیے: (a)ذرر (b)تطویل اور(c)چھڑ میں پیدا ہوا بگاڑ۔ ساخت شدہ فولاد کا ینگ مقیاس   s20  ہے۔

جواب : ہم فرض کرتے ہیں کہ چھڑ کے ایک کنارے کو شکنجے میں کس دیا گیا ہے، اوردوسرے کنارے پر، اس کی لمبائی کے متوازی ، قوت Fلگائی گئی ہے۔ تب چھڑ پر کام کر رہا ذرر دیا جائے گا:
lam
تطویل (لمبائی میں اضافہ)
izafa

formula
بگاڑ دیا جاتا ہے

bigad
مثال 9.2: ایک 2.2mلمبائی کے تانبے کے تار اور 1.6mلمبائی کے فولاد کے تار کے سروں کو جوڑ دیا گیا ۔ دونوں تاروں کا قطر 3.0mm ہے۔جب انہیں ایک لوڈ کے ذریعے کھینچا جاتا ہے، تو کل تطویل 0.70mmہوتی ہے۔ معلوم کیجیے کہ کتنالوڈ لگایا گیا۔
جواب :تانبہ اور فولاد کے تار ایک تناو ذرر کے تحت ہیں، کیونکہ دونوں پر یکساں تناؤ (جولوڈ Wکے مساوی ہے ) کام کر رہا ہے اور دونوں کاتراشی رقبہ Aیکساں ہے۔
مساوات (9.7)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے : ینگ مقیاس ×بگاڑ =ذرر

newform
جہاں پر زیریں علامتیں Cاور Sبالترتیب تانبہ (کو پر) اورفولاد (اسٹیل) سے مطابقت رکھتی ہیں۔ یا    
apne
کل تطویل (لمبائی میں اضافہ) ہے : 
mon
مندرجہ بالا مساواتوں کو حل کرنے پر :

ساب
       اب
مثال 9.3: ایک سرکس میں ایک انسانی اہرام کے متواز ی گروپ کا کل وزن، ایک فنکار کے پیروں کے سہارے پر ہے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا ہے (جیسا کہ شکل 9.5میں دکھایا گیا ہے)۔ اس عمل میں شامل تمام فنکاروں اورمیزوں اور تختوں وغیرہ کا کل وزن 280Kgہے۔ اہرام میں سب سے نیچے لیٹے ہوئے فنکار کا وزن 60Kgہے۔ اس فنکار کی     ران کی ہڈی کی لمبائی 50 cm اور موثر نصف قطر 2.0 cm ہے ۔ معلوم کیجیے کہ زائد لوڈ کے زیر اثر ہر ران کی ہڈی کتنی دبے گی۔
یما
 شکل 9.5 : ایک سرکس میں انسانی اہرام
جواب:  تمام فنکاروں ، چیزوں، تختوں وغیرہ کی کل کمیت   280kg=
فنکار کی کمیت                                                  60kg=
کمیت جسے اہرام کے سب سے نیچے لیٹے ہوئے فنکار کے ذریعے سہارا دیا جا رہا ہے
=280 - 60 - 220 Kg
اس سہارا دیے جانے والی کمیت کا وزن
=220kg wt=220x9.8 N = 2156N
وزن جسے فنکار کی ایک ران کی ہڈی سہارا دے رہی ہے
ایک
جدول 9.1 سے، ہڈی کا ینگ مقیاس ہے
Y = 9.4x109Nm-2
 ایک ران کی ہڈی کی لمبائی (L)=0.5m
 کک
is

9.6.2 ایک تار کے مادے کا ینگ مقیاس معلوم کرنا    

(Determination of Young's modulus of the material of a wire)

تناؤ کے زیر اثر ایک تار کے مادے کا ینگ مقیاس معلوم کرنے کا ایک مخصوص تجرباتی نظم شکل 9.6میں دکھا یا گیا ہے۔ یہ دو ایسے لمبے مستقیم تاروں پر مشتمل ہے جن کی لمبائیاں اور نصف قطر یکساں ہیں اور جو ایک دوسرے کے متوازی ایک جامد استوار سہارے سے لٹکائے گئے ہیں۔ تارA(جو حوالہ تار کہلاتا ہے)میں ایک ملی میٹر پیمانہ Mلگا ہوتا ہے اورایک وزن رکھنے کے لیے پلڑا لگا ہوتا ہے۔ تار B(جوتجرباتی تار کہلاتا ہے)، جس کا     تراشی رقبہ ہموار ہے، میں بھی ایک پلڑا لگا ہوتا ہے، جس میں معلوم اوزان رکھے جاسکتے ہیں۔ تجرباتی تار Bکے نچلے سرے پر ایک سوئی(Pointer)لگی ہوتی ہے، جس سے ایک ورنیر اسکیل (Vernier Scale)منسلک ہوتی ہے، اور ملی میٹر اسکیل Mحوالہ تارAسے جڑا ہوتا ہے ۔ پلڑے میں رکھے گئے اوزان ایک قوت نیچے کی سمت میں لگاتے ہیں اور تجرباتی تار کو تناؤ ذرر کے زیر اثر کھینچتے ہیں۔ تار میں پیدا ہوئی تطویل (لمبائی میں اضافہ )کو ورنیر نظام کے ذریعے ناپا جا تا ہے۔ حوالہ تار اس لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ اگر درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے لمبائی میں کوئی تبدیلی ہو تو اس کی تلافی کی جا سکے، کیونکہ درجہ حرارت کی تبدیلی کی وجہ سے جو تبدیلی حوالہ تار کی لمبائی میں ہوگی، وہی یکساں تبدیلی تجرباتی تار میں بھی ہوگی ۔(درجہ حرارت کے ان اثرات کا تفصیلی مطالعہ ہم باب 11میں کریں گے)۔
6

حوالہ اور تجرباتی دونوں تاروں سے منسلک پلڑوں میں ایک یکساں چھوٹا وزن رکھا جاتا ہے تاکہ تار بالکل سیدھے ہو جائیں اور ورنیر کی ریڈنگ (Reading) نوٹ کر لی جاتی ہے۔ اب تجرباتی تار پر بتدریج مزید اوزانوں کے ذریعے لوڈ لگاکر اسے تناؤ ذرر کے زیر اثر لایا جاتا ہے اور ورنیر اسکیل کی    ریڈنگ    دوبارہ نوٹ کر لی جاتی ہے۔ ان دو ورنیر اسکیل کی ریڈنگ کا فرق ، تار میں پیدا ہوئی تطویل (لمبائی میں اضافہ) بتاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ Rاور L تجرباتی تار کے آغازی نصف قطر اور آغازی لمبائی ، بالترتیب ہیں۔تب ، تار کا تراشی رقبہs27ہوگا۔فرض کیجیے Mوہ کمیت ہے جس نے تار    میں    تطویلs28    پیدا کی ہے۔ اس لیے، لگائی گئی قوت Mgکے مساوی ہے، جہاں g، مادی کشش اسراع (Acceleration due to gravity)ہے۔ مساوات (9.8)سے ،تجرباتی تار کا ینگ مقیاس دیا جاتا ہے :
sh

9.6.3تحریفی مقیاس (Shear Modulus)

تحریفی ذرر کی اس سے مطابقت رکھنے والے تحریفی بگاڑ سے نسبت ، مادے کا تحریفی مقیاس کہلاتا ہے، جسے Gسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسے استواریت کا مقیاس (Modulus of Rigidity)بھی کہتے ہیں۔
thrifi
تحریفی مقیاس کی SIاکائیNm-2 یا Paہے۔ کچھ عام مادی اشیاء کے تحریفی مقیاس کی قدر جدول 9.2میں دی گئی ہیں۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ تحریفی مقیاس کی قدر عام طور پر ینگ مقیاس کی قدر( جدول 9.1)سے کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر مادوں کے لیے s31

جدول 9.2     کچھ عام مادی اشیاء کے تحریفی مقیاس    


G (109   Nm-2 یا GPa) مادی شی
المونیم 25
پیتل 36
تانبہ 42
لوہا 70
سیسہ 5.6
نکل 77
فولاد 84
ٹنگسٹن 150
لکڑی 10


مثال 9.4: ایک مربع شکل کی سیسے کی سلیب، جس کا ایک ضلع 50cmاور موٹائی 10cmہے، پرs32تحریفی ذرر لگایا جاتا ہے (اس کے پتلے رخ پر)نچلے کنارے کو زمین سے منسلک کردیا جاتا ہے۔ اوپری کنارے میں کتنا نقل پیدا ہوگا۔

جواب : سیسہ کی سلیب زمین پر نصب ہے اورقوت پتلے رخ کے متوازی لگائی گئی ہے ، جیسا کہ شکل 9.7میں دکھایا گیا ہے۔ اس رخ کا رقبہ، جس کے متوازی قوت لگائی گئی ہے۔
s33
s34

9.6.4حجم مقیاس(Bulk modulus)

حصہ (9.3)میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب ایک جسم کو ایک سیال میں ڈبو یا جاتا ہے تو اس پر آبی ذرر لگتا ہے (جو عددی قدر میں آبی دباؤ کے مساوی ہوتاہے)۔ اس کی وجہ سے جسم کے حجم میں کمی آجاتی ہے اوراس طرح ایک بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو حجم بگاڑ کہلاتا ہے [مساوات (9.5)]۔
آبی ذرر کی اس کے مطابق آبی بگاڑ سے نسبت حجم مقیاس کہلاتی ہے۔ اسے علامت Bسے ظاہر کیا جاتا ہے۔
s35
منفی علامت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دباؤ میں اضافہ کے ساتھ حجم میں کمی آتی ہے ۔ یعنی کہ اگر pمثبت ہے، DVمنفی ہے۔ اس لیے ایک ایسے نظام کے لیے جو توازن میں ہے، حجم مقیاس کی قدر، ہمیشہ مثبت ہوگی۔ حجم مقیاس کی SIاکائی وہی ہے جو دباؤ کی ہے، یعنیS2یا Pa۔کچھ عام مادی اشیاء کے حجم مقیاس کی قدریں جدول 9.3میں دی گئی ہیں۔
حجم مقیاس کا مقلوب (Reciprocal)داب پذیری (Compressibility) کہلاتا ہے اور اسے kسے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ حجم میں کسری تبدیلی فی دباؤ میں ا کائی اضافہ ہے :
s36
جدول 9.3 میں دیے ہوئے تخمینوں سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹھوس اشیا کے لیے حجم مقیاس کی قدریں رقیق اشیا کے حجم مقیاس کی قدروں سے بہت زیادہ ہوتی ہیں، اور رقیق اشیاکی یہ قدریں گیس اشیاکی ان قدروں سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

جدول9.3:  کچھ عام مادی اشیاء کے حجم مقیاس


ٹھوس مادی شی G (109   Nm-2 یا GPa)
المونیم 72
پیتل 61
تانبہ 140
شیشہ 37
لوہا
100
نکل 260
فولاد 160
رقیق
پانی 2.2
ایتھانول 0.9
کاربن ڈائی سلفائڈ 1.56
گلیسرین 4.76
پارہ 25
گیس
ہوا (STP پر) 1.0x10-4

اس لیے ٹھوس سب سے کم داب پذیر ہیں اور گیسیں سب سے زیادہ داب پذیر ہیں۔ گیسیں، ٹھوس اشیا کے مقابلے میں تقریباًدس لاکھ گنا زیادہ داب پذیر ہیں۔ گیسوں کی داب پذیری کی قدریں بڑی ہوتی ہیں، جو دباؤ اور درجۂ حرارت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔ ٹھوس اشیا کی غیرداب پذیری کی بنیادی وجہ ان کے ایٹموں کی مضبوط بندش ہے۔ رقیق اشیا میں ان کے مالیکیول بھی ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں لیکن اتنی مضبوطی سے نہیں جتنی مضبوطی ٹھوس مالیکیول میں ہوتی ہے۔ گیسوں میں مالیکیول بہت ہی کم قوت سے جڑے ہوتے ہیں۔
جدول 4.9 میں ذرر کی مختلف قسموں، بگاڑ کی مختلف قسموں، لچک مقیاس اور مادے کی متعلقہ حالت کو ایک نظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

مثال 9.5: بحر ہندکی اوسط گہرائی 3000mہے۔ سمندر کی سب سے نچلی سطح پر پانی کا کسری داب معلوم کیجیے۔دیا ہوا ہے کہ پانی کا حجم مقیاس    s37

جواب :3000mکے پانی کے کالم کے ذریعے سب سے نچلی پرت پر لگایا گیا دباؤ
s38
s39

جددول9.4     ذرر، بگاڑ اور مختلف لچک مقیاس  


ذر کی قسم ذرر بگاڑ تبدیلی جسم میں، شکل میں لچک مقیاس مقیاس کا نام مادے کی حالت
تناؤ یا دابی
(σ=F/A)
دو مساوی اور مخالف قوتیں،جو مخالف رخوں پر عمود ہوں تطویل یا داب، جو قوت کی سمت کے متوازی ہے
 (طولی بگاڑ)(∆L/L)
ہاں نہی Y =   (FxL)/(Ax∆L) ینگ کا مقیاس ٹھوس
تحریفی
s=F/A)
دو مساوی اور مخالف قوتیں جو مخالف سطحوں کے متوازی ہییں۔ ہر صورت میں قوتینں ایسی ہیں کہ کل قوت اور کل پیچہ صفر ہے خالص انحراف،zero ہاں نہی table تحریفی مقیاس ٹھوس
آبی قوتیں، جو سطح پر ہر جگہ عمودی ہیں، قوت فی اکائی رقبہ ہر جگہ یکساں ہے حجم تبدیلی(دباؤ تطویل)
(ΔV/V)
نہی ہاں B = –p/(∆v/V) حجم مقیاس ٹھوس، رقیق اور گیس

9.6.5 پوائسن کی نسبت (Poisson's ratio)

ینگ کے ماڈیولس تجربہ کے محتاط انداز میں کیے گئے مشاہدات (سیکشن 9.6.2 میں اس کی وضاحت کی گئی ہے) سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تار کے کراس سیکشن (یا قطر) میں معمولی سی تخفیف ہو جاتی ہے۔ لگائی گئی قوت کے عمودی تنائو (Strain) کو جانبی تنائو (Lateral Strain) کہتے ہیں۔ سائمن پوائسن نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لچک کی حد (Elastic limit) کے اندر اندر، جانبی تنائو عمودی تنائو کے راست تناسب میں ہوتا ہے۔ تنی ہوئی تار میں جانبی تنائو کی عمودی تنائو سے نسبت پوائسن نسبت کہلاتی ہے۔ اگر تار کا اصل قطر d اور دبائو کی وجہ سے قطر میں ہونے والی تخفیف Dd ہے تو جانبی تنائو Dd/d ہوگا۔ اگر تار کی اصل لمبائی L اور تنائو کی وجہ سے تار کی طوالت (لمبائی میں تبدیلی DLC ہے تو عمودی تنائو DL ہوگا ۔اس طرح پوائسن کی نسبت (Dd/d)/(DL/L) یا (Dd/L)×(L/d) ہوگی۔ پوائسن کی نسبت دو تنائووں کی نسبت ہے : یہ ایک خالص عدد ہے اور اس کی کوئی اکائی یا ابعاد نہیں ہوتے۔ اس کی قدر صرف مادہ کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اسٹیل کے لیے یہ قدر 0.28 اور 0.30 کے درمیان ہوتی ہے جبکہ ایلومینیم بھرتوں کے لیے 0.33 ہے۔

9.6.6 تنی ہوئی تار میں الاسٹک مضمر توانائی

جب کسی تار کو تناؤ کی حالت میں رکھا جاتا ہے تو بین ایٹمی قوتوں کے خلاف کام کیا جاتا ہے۔ یہ کام تار کے اندر الاسٹک مضمر توانائی کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ جب اصل لمبائی L اور کراس سیکشن A والے تار پرتار کی لمبائی کی سمت میں قوت F لگائی جاتی ہے تو فرض کیجیے کہ تار کی لمبائی بڑھ کر L ہو جاتی ہے۔ تب مساوات (9.8) سے ہمیں حاصل ہوتا ہے F = YA × (l/L) یہاں Y تار کے مادہ کا ینگ ماڈیولس ہے۔ اب لامتناہی طور پر چھوٹی لمبائی dl کے لیے مزید تطویل (Elongation) کے لیے کیا گیا کام dW ہوگا F × dl یا YAldl/L۔ لہٰذا تار کی لمبائی میں l سے L + l یعنی l = 0 سے l = l تک اضافہ کے لیے کیے گئے کام (W) کی مقدار    
ye
یہ کام کار کے اندر الاسٹک مضمر توانائی (U) کی شکل میں جمع ہوتا ہے۔
لہذا کار کی فی اکائی حجم الاسٹک مضمر توانائی (u) ہے
five

9.7 مادی اشیا کے لچکیلے برتا ؤ کے استعمال    

(APPLICATION OF ELASTIC BEHAVIOUR OF MATERIALS)

مادی اشیاء کا لچکدار برتاؤ روز مرہ زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمام انجینیرنگ ڈیزائنوں کے لیے مادوں کے لچکیلے برتاؤ کی دقیق )حددرجہ درست (Preciseمعلومات درکار ہوتی ہے۔مثال کے طور پر، عمارت کا نقشہ (ڈیزائن) تیار کرتے وقت، کالموں ،بیموں (Beams) اور سہاروں Support) (کا ساخت نما ڈیزائن تیار کرتے وقت ہمیں استعمال ہونے والی مادی اشیاء کی طاقت (Strength)کی معلومات درکا ر ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پلوں میں سہارے وغیرہ کے لیے استعمال ہونے والی بیموں کا تراشہ Iقسم کا کیوں ہوتاہے؟ایک ریت کے ڈھیر یا پہاڑی کی شکل اہرام کی شکل جیسی کیوں ہوتی ہے؟ان سوالوں کے جواب ساخت نما انجینیرنگ کے مطالعے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، جوان تصورات پر مبنی ہیں جو آپ نے یہاں سیکھے ہیں۔
بھاری وزنوں کو اٹھانے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال ہونے والے کرین (Crane)میں ایک موٹی دھات کی زنجیرلگی ہوتی ہے، جس سے وزن کو منسلک کیا جاتا ہے۔ زنجیروں کو گراریوں اور موٹروں کی مدد سے اوپر کھینچا جاتا ہے۔ فرض کیجیے ہم ایک ایسا کرین بنانا چاہتے ہیں جس کی وزن اٹھانے کی گنجائش 10(Capacity)میٹرک ٹن ہو 1=1000kg)میٹرک ٹن(فولاد ی زنجیر کو کتنا موٹا ہونا چاہئے ؟ہم ظاہرہے کہ چاہتے ہیں کہ وزن زنجیر میں مستقل تخریب نہ پیدا کر دے ۔ اس لیے زنجیر کی لمبائی میں ہوانے والا اضافہ ،لچک حد سے زیادہ نہیں ہو ناچاہیے ۔جدول    9.1سے    ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہلکے فولاد کی حصول طاقت (Sy)تقریباًs41ہے۔ اس لیے زنجیر کا تراشی رقبہ (A)، کم ازکم ہونا چاہیے۔
mere
جو ایک دائری تراش کی زنجیر کے لیے تقریباً1cmنصف قطر سے مطابقت رکھتا ہے ۔ عام طور سے تحفظ کے لیے وزن (لوڈ)کو تقریباً1/10 رکھا جاتا ہے )۔اس لیے ایک مقابلتاً موٹی زنجیر، جس کا نصف قطر تقریباً 3cmہو، کی سفارش کی جا ئے گی۔ اس نصف قطر کا ایک اکیلا تار، عملی طور پر ایک استوار چھڑ ہوا گا۔ اس لیے زنجیریں ہمیشہ کئی پتلے تاروں کو آپس میں گوندھ کربنائی جاتی ہیں۔ تاکہ بنانے میں سہولت ہو اور وہ لچیلی اورزیادہ مضبوط ہوں۔
ایک پل کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ اس پر سے گذرنے والی سواریوں کا وزن، ہوا کی قوت اور خود اپنے وزن کوبرداشت کرسکے۔ اسی طرح عمارتوں کے ڈیزائن میں بیموں اور کالموں کا استعمال بہت عام ہے۔ ان دونوں صورتوں میں لوڈ کے زیر اثر بیموں کے مڑ جانے کا مسئلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ بیم کو بہت زیادہ مڑنا یا ٹوٹنا نہیں چاہئے۔ آئیے ایک ایسی بیم لیں جس کے مرکز پر لوڈ لگایا گیا ہے اور کناروں کے نزدیک سہارے ہیں، جیسا کہ شکل 9.8 میں دکھایا گیا ہے ۔ ایک lلمبائی، bچوڑائی اور dگہرائی کی چھڑ کے جب مرکز پر لوڈ لگا یا جاتا ہے تواس میں پیدا ہونے والے خم کی مقداردی جاتی ہے:
chad
شکل 9.8: ایک بیم جسکے کنارے سہاروں پر ہیں اور مرکز پر لوڈ لگایا گیا ہے۔

یہ رشتہ ، آپ نے اب تک جو کچھ سیکھا ہے اورتھوڑے سے کیلکولس کے استعمال سے مشتق کیا جا سکتا ہے۔ مساوات (9.16)سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دیے ہوئے لوڈ کے لیے خمیدگی (Bending)کو کم کرنے کے لیے ہمیں ایسا مادہ استعمال کرنا چاہئے، جس کی ینگ مقیاس کی قدر زیادہ ہو۔    ایک    دیے    ہوئے مادے کے لیے ، خمیدگی کو کم کرنے میں ، چوڑائی بڑھانے کے مقابلے میں گہرائی کو بڑھانا زیادہ موثر ہوتا ہے کیونکہ dمتناسب ہےs44کے اور صرفs45کے۔ (بے شک، سہاروں کے بیچ کی لمبائی lجتنی ممکن ہو سکے کم ہونا چاہیے)۔لیکن گہرائی میں اضافہ کرنے سے ، اگرلوڈ اپنے بالکل صحیح مقام پر نہ ہو (ایک ایسے پل پر جس پر سواریاں آجا رہی ہیں۔ یہ نظم بہت مشکل ہے )، تو گہری چھڑ اس طرح سے مڑ سکتی ہے، جیسا کہ شکل 9.9bمیں دکھایا گیا ہے۔ اسے خم آوری (Buckling)کہتے ہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے ، ایک عام سمجھوتہ شکل 9.9(c)میں دکھائی گئی تراشی شکل ہے۔ یہ تراش لوڈ سہارنے کے لیے بڑی سطح اور خمیدگی کو روکنے کے لیے کافی گہرائی مہیا کرتی ہے۔ یہ شکل بیم کی مضبوطی میں کوئی کمی کیے بغیر اس کے وزن کو کم کر دیتی ہے اوراس طرح لاگت بھی کم ہو جاتی ہے۔
visual
شکل 9.9: ایک بیم کے تراشے کی مختلف شکلیں (a) ایک چھڑ کا مستطیل نما تراشہ (b) ایک پتلی چھڑ اور وہ کیسے خم آور ہو سکتی ہے (c) ایک لوڈ برداشت کرنے والی چھڑکی عام طور سے استعمال ہونے والی ترش

عمارتوں اور پلوں میں ستونوں اور کالموں کا استعمال بھی بہت عام ہے۔ ایک ہموار کناروں والا ستون، جیساکہ 9.10 (a)میں دکھایا گیا ہے اس ستون کے مقابلے میں کم وزن سہار سکتا ہے ، جس کے کناروں پرمنقسم شکل ہو ]شکل [9.10(b)۔ ایک پل یا عمارت کے دقیق ڈیزائن کے لیے ان حالات کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے، جن میں ان کا استعمال ہوگا، اور ساتھ ہی قیمت، لمبی مدت اور قابل استعمال مادوں کی معتبری (Reliability)وغیرہ کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے۔
reality
شکل 9.9: ستون یا کالم (a) ہموار کناروں والا (b) منقسم کناروں والا ستون


اس سوال کا جواب بھی کہ زمین پر سب سے اونچے پہاڑ کی بلند ی km ~10 کیوں ہے،چٹانوں کی لچک خاصیتوں کو ملاحظہ کر کے دیا جا سکتا ہے۔ ایک پہاڑ کی بنیاد ہموار داب کے زیر اثر نہیں ہوتی، اس سے چٹانوں کو کچھ تحریفی ذرر حاصل ہو جاتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ کھسکتی ہیں۔ اس لیے اوپر کے تمام مادے کی وجہ سے ذرر اس فاصل (Critical)تحریفی ذرر سے کم ہونا چاہئے، جس پرچٹانیں کھسکتی ہیں۔
ایک hاونچائی کے پہاڑ کی نچلی سطح پر ، پہاڑ کے وزن کی وجہ سے لگ رہی قوت فی اکائی رقبہ ، hrgہے، جہاں rپہاڑکے مادے کی کثافت ہے اور g مادی کشش اسراع ہے۔ نچلی سطح پر مادہ اس قوت کو عمودی سمت میں محسوس کرتا ہے اور پہاڑ کے اطرافی اضلاع آزاد ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ دباؤ یا حجم داب    والی صورت نہیں ہے۔ یہاں ایک تحریفی جز ہے جو تقریباًhrgہے ۔ اب ایک مخصوص چٹان کی
kisi

خلاصہ

.1 ذرر، بحالی قوت فی اکائی رقبہ ہے اوربگاڑ ، ابعاد میں کسری تبدیلی ہے۔ عمومی طور پر ذرر کی تین قسمیں ہیں۔ (a)تناؤ ذرر (جو کھینچنے سے منسلک ہے)یا داب ذرر(جو دبانے سے منسلک ہے) (b)تحریفی ذرر(c)آبی ذرر
.2 چھوٹی تخریبوں کے لیے، ذرر، بگاڑ کے راست متناسب ہے۔ یہ ہوک کاقانون کہلاتاہے۔ متناسبیت کا مستقلہ ،لچک کا مقیاس کہلاتاہے۔ لچک کے تین مقیاس: ینگ کا مقیاس، تحریفی مقیاس اور حجم مقیاس، اشیاء کے لچکیلے برتاؤکو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ان تخریبی قوتوں سے متعلق ہیں جو مادوں پر لگتی ہیں۔ ٹھوس اشیاء کی ایک قسم ، لچکیہ کہلاتی ہے ، جس پر ہوک کا قانون نہیں لاگو ہوتا ہے۔
.3 جب ایک شے تناؤ یا داب کے زیر اثر ہوتی ہے ، تو ہوک کا قانون یہ شکل اختیار کر لیتا ہے :
F/A = YΔ L/L  
جہاں    L/Lengشے کا تناؤ یا داب بگاڑ ہے، Fاس قوت کی عددی قدر ہے جو بگاڑ پیدا کر رہی ہے ، Aوہ تراشی رقبہ ہے جس پر Fلگائی گئی ہے A)پر عمود (اور Yاس شے کا ینگ کا مقیاس ہے۔ذرر F/Aہے۔
.4 قوتوں کا ایک جوڑا جب اوپری اور نچلے رخ کے متوازی لگایا جاتا ہے ، تو ٹھوس میں اس طرح تخریب پیدا ہوتی ہے کہ اوپری رخ، نچلے رخ کی مناسبت سے آگے کی طرف کھسک جاتا ہے۔اوپری رخ کا افقی ہٹاؤ ’D     eng  L‘      انتصابی (Vertical)اونچائی Lپر عمود ہوتا ہے۔ اس قسم کی تخریب ’تحریف‘ کہلاتی ہے اوراس کا مطابق ذرر تحریفی ذرر کہلاتا ہے۔اس قسم کا ذرر صرف ٹھوس اشیاء میں ہی ممکن ہے۔
اس قسم کی تخریب میں ہو ک کے قانون کی شکل ہو جاتی ہے:F/A=G×     Δ    L/Lجہاں         Leng     شے کے ایک سرے کا لگائی ہوئی قوت Fکی سمت میں نقل ہے، اور Gتحریف مقیاس ہے۔ ذرر F/Aہے۔
ٍ .5 جب ایک شے پر اس کے ارد گرد کا رقیق ذرر لگاتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر آبی داب کام کرتا ہے، تو ہوک کے قانون کی شکل ہے:    
(P=B(    eng     V/V
جہاں p، سیال کی وجہ سے شے پر لگ رہا دباؤ ہے (آبی ذرر)،V/Veng(حجم بگاڑ)اس دباؤ کی وجہ سے ہو رہی شے کے حجم میں کسری تبدیلی کی عددی قدر ہے، اور Bشے کا حجم مقیاس ہے۔

قابل غور نکات(POINTS TO PONDER)

.1 ایک تار کو اگر چھت سے لٹکا یا جائے اور اس کے دوسرے سرے پر ایک وزن (F)منسلک کر کے اسے کھینچا جائے ، تو تار پرچھت کے ذریعے لگ رہی قوت وزن کے مساوی اور مخالف ہے۔ لیکن ، تار کے کسی بھی تراش Aپر لگ رہا تناؤ صرف Fہے، 2Fنہیں۔ اس لیے ، تناوی ذرر، جو تناؤفی اکائی رقبہ ہے، F/Aکے مساوی ہے۔
.2 ہوک کا قانون، ذرر۔ بگاڑ منحنی کے صرف خطی حصے میں درست ہے۔
.3 ینگ کا مقیاس اور تحریف مقیاس صرف ٹھوس اشیاء کے لیے با معنی ہیں، کیونکہ صرف ٹھوس اشیاء کی ہی لمبائی اور شکل معین ہوتی ہے۔
.4 حجم مقیاس ، ٹھوس ، رقیق اورگیس ، تینوں قسم کی اشیاء کے لیے بامعنی ہے۔ یہ حجم میں تبدیلی ہے، جب کہ حجم کا ہر حصہ ایک ہموار ذرر کے زیر اثر ہو، اس طرح کہ جسم کی شکل میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔
.5 بھرت(alloys)اور لچکیہ (Clustomer)اشیاء کے مقابلے میں دھاتوں کی ینگ مقیاس کی قدریں بڑی ہوتی ہیں۔ ایک ایس مادی شے جس کے ینگ کی قدر بڑی ہو، اس کی لمبائی میں خفیف تبدیلی کرنے کے لیے بڑی قوت درکار ہوتی ہے۔
.6 ہم عام زندگی میں یہ سمجھتے ہیں کہ جو مادی شے زیادہ کھنچ جاتی ہے ۔ وہ زیادہ لچکیلی ہے۔ لیکن یہ ایک غلط نام ہے۔ در اصل وہ مادی اشیاء جو ایک دیے ہوئے لوڈ کے زیر اثر جتنی کم کھنچتی ہیں وہ اتنی ہی زیادہ لچکیلی مانی جاتی ہیں۔
.7 عمومی طور پر ایک سمت میں لگ رہی تخریبی قوت، دوسری سمتوں میں بھی ذرر پیدا کرسکتی ہے۔ایسی صورتوں میں ، ذرر اوربگاڑ کے درمیان متناسبیت صرف ایک لچک مستقلہ کے ذریعے نہیں بیان کی جا سکتی ۔ مثال کے طور پر ، ایک تار جو طولی بگاڑ کے زیر اثر ہے، اس کی عرضی ابعاد (تراشی رقبہ) میں بھی خفیف تبدیلی ہوتی ہے، جسے مادے کے ایک دوسرے لچک مقیاس کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ اس مقیاس کو پو آئے زاں تناسب (Poisson Ratio)کہتے ہیں۔
.8 ذرر ایک سمتی مقدار نہیں ہے۔ کیونکہ قوت کے برخلاف ، ذرر کوکوئی مخصوص سمت نہیں تفویض کی جا سکتی ہے۔ جب کہ ایک جسم کے کسی متعین تراشہ کے متعین ضلع پر لگ رہی قوت کی ایک متعین سمت ہوتی ہے۔


مشق (EXERCISES)

9.1 4.7لمبا اورs49تراشی رقبے والا فولادی تار، ایک دیے ہوئے لوڈ سے کھینچے جانے پر اتنا ہی کھینچتاہے، جتنا کہ اس لوڈ کے ذریعے کھینچے جانے پر 3.5لمبا اور    s50تراشی رقبہ کا تانبہ کا تار کھینچتا ہے۔ فولاد کے ینگ مقیاس کی تابنے کے ینگ مقیاس سے کیا نسبت ہے۔    
9.2 شکل 9.11میں ایک دی ہوئی مادی شے کا ذرر ۔ بگاڑ منحنی دکھایا گیا ہے۔ اس مادے کے (a)ینگ کا مقیاس اور(b)نزدیکی حاصل طاقت کیا ہیں۔
aik
شکل 9.11

9.3 دو مادی اشیاء Aاور Bکے لیے ذرر ۔ بگاڑ گراف شکل 9.12میں دکھائے گئے ہیں۔
teri
شکل 9.12

گراف یکساں اسکیل پر کھینچے گئے ہیں۔
(a)          کس مادی شے کی ینگ کے مقیاس کی قدر مقابلتاً زیادہ ہے۔
(b)          دونوں میں سے کون سی چیز مقابلتاًزیادہ مضبوط ہے۔
9.4 مندرجہ ذیل میں دونوں بیانات غور سے پڑھیے اور وجہ کے ساتھ بتائیے کہ یہ صادق (صحیح) ہے یا غیر صادق (غلط)
(a)          ربر کے ینگ مقیاس کی قدر، فولاد کے ینگ مقیاس کی قدر سے زیادہ ہے۔
(b)          ایک لچھے (Coil)کا کھینچنا ، اس کے تحریفی مقیاس کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے۔
9.5 دو تار ہیں، جن میں سے ایک فولاد کا بنا ہے اور دوسرا پیتل کا ۔ دونوں میں سے ہر ایک کا قطر .25cmہے، اوران پر شکل 9.13میں دکھائے گئے طریقے سے لوڈ لگایا جاتا ہے۔لوڈ لگائے بغیر، فولاد کے تار کی لمبائی 1.5mاور پیتل کے تار کی لمبائی 1.0mہے۔ فولاد اور پیتل کے تار کی الگ الگ تطویل معلوم کیجیے۔
paya
شکل 9.13

9.6 ایک المونیم مکعب کا ایک کنارہ 10cmلمبا ہے۔ مکعب کا ایک رخ مضبوطی سے عمودی دیوار میں نصب کر دیا جاتا ہے ۔ مکعب کے مخالف رخ سے 100Kgکی کمیت منسلک کی جاتی ہے۔المونیم کا تحریف مقیاس 25GPaہے۔ رخ کا انتصابی انفراج (Vertical deflection)کیا ہے؟

9.7 معمولی فولادکے بنے چار متماثل کھوکھلے استوانی کالم،50,000Kgکمیت کی ایک بڑی ساخت کو سہارا دیتے ہیں۔ ہر کالم کے اندرونی اوربیرونی نصف قطر، بالترتیب '30cm'اور 60cm ہیں۔لوڈ تقسیم کو ہموار مانتے ہوئے، ہر کالم کے دابی بگاڑ کا حساب لگائیے۔
9.8 تانبہ کے ایک ٹکڑے کا مستطیلی تراشی رقبہ     5.2mm×19.1mmہے۔ اسے 44,500قوت کے ذریعے تناؤ میں کھینچا جاتا ہے۔ جس سے صرف لچکیلی تخریبیں پیدا ہوتی ہیں۔ پیدا ہونے والے بگاڑ کا حساب لگائیے۔    
9.9 ایک فولاد کا بنا تار، جس کا نصف قطر 1.5cmہے، اسکی (SKI)علاقہ میں ایک Chair liftکو سہارا دیتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ ذرر کو    s51سے نہیں بڑھنا چاہیے، تو وہ زیادہ سے زیادہ لوڈ کتنا ہوگا، جسے تار سہارا دے سکتا ہے؟
9.10 15Kgکمیت کی ایک استوار چھڑ کو تشاکلی طرز (Symmetrically)پر تین تار سہارا دیتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی لمبائی 2.0mہے۔ ہر کنارے والے تار تانبہ کے ہیں اوردرمیانی تار لوہے کا ہے۔ اگر ہر ایک میں یکساں تناؤ پیدا ہونا ہو توان کے قطروں کی نسبت معلوم کیجیے۔
                                                       9.11 ایک 14.5Kgکی کمیت کو ایک فولاد کے بنے تار کے ایک سرے سے باندھا گیا ہے۔ تار کے بغیر کھینچے لمبائی 1.0cmہے۔اس بندھی ہوئی کمیت کو اس طرح گھمایا جاتا ہے کہ دائرے کی نچلی طرف اس کی زاویائی رفتار 2rev/sہے۔ تار کا تراشی رقبہs54ہے۔ تار میں پیدا ہوئی تطویل معلوم کیجیے، جس وقت کہ کمیت اپنے     راستے کے سب سے نچلے نقطے پرہے۔
                                                       9.12 مندرجہ ذیل آنکڑوں سے پانی کا حجم مقیاس معلوم کیجیے۔آغازی حجم 100.0=لیٹر،
دباؤ میں اضافہ =s52،اختتامی حجم 100.5=لیٹر
پانی کے حجم مقیاس کا مقابلہ، ہوا (مستقلہ درجہ حرارت پر )کے حجم مقیاس سے کیجیے۔سادہ طور پر سمجھائیے کہ نسبت اتنی بڑی کیوں ہے؟
                                                       9.13 اس گہرائی پرپانی کی کثافت کتنی ہوگی، جہاں دباؤ80.00atmہے۔     دیا ہوا ہے کہ سطح پر کثافتs53    ہے۔
                                                       9.14 ایک شیشہ کی سِل کے حجم میں آنے والی کسری تبدیلی کاحساب لگائیے ، جب کہ اسے 10atmآبی دباؤ کے زیر اثر لایا جائے۔
                                                       9.15 ایک ٹھوس تانبہ کے بنے مکعب ، جس کا ایک ضلع10cmہے، کا حجمی سکڑاؤ معلوم کیجیے، جب کہ وہs55آبی دباؤ کے زیر اثر ہے۔
                                                       9.16 1ایک لیٹر پانی کو %0.10دبانے کے لیے دباؤ میں کتنی تبدیلی کرنا چاہیے؟

اضافی مشق

    9.17 ایک ہیرے کی قلموں (Crystals)سے بنے ہوئے سندان (Anvis)، جن کی شکل ، شکل 9.14جیسی ہوتی ہے، بہت زیادہ دباؤ کے ز یر اثر مادی اشیاء کے برتاؤ کی تفتیش کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پتلے کنارے پر چپٹے رخون کا نصف قطر 0.5mmہے اور چوڑے کناروں پر ایک دابی قوت 50,000Nلگائی جاتی ہے۔ سندان کی نوک پر دباؤکتنا ہے۔
ozone
شکل 9.14

          9.18 ایک چھڑ کو جس کی لمبائی 1.05mاورکمیت ناقابلِ لحاظ (تقریباً نہیں) ہے، اس کے کناروں پر دو تاروں سے سہارا دیا جاتا ہے ، جن میں ایک فولاد کا بنا ہے (تارA)اورایک المونیم کا (تارB)۔ دونوں کی لمبائی مساوی ہے۔ ، جیسا کہ شکل 9.15میں دکھا یا گیا ہے۔ تار Aاور Bکے    تراشی    رقبے، بالترتیب ،s56ہیں۔ چھڑ کے کس نقطے پر ایک کمیت mلٹکائی جائے کہ دونوں تاروں میں (a)مساوی ذرر (b)مساوی بگاڑ پیدا ہوا۔
meraish
شکل 9.15
         9.19 1.0mلمبائی اور    s57تراشی رقبہ کے معمولی فولاد کے بنے ایک تار کو، دوستونوں کے درمیان افقی طرز پر ، اس کی لچک حد کے اندر ، کھینچا جاتا ہے، تار کے درمیانی نقطہ سے 100gکی ایک کمیت لٹکائی جاتی ہے۔ درمیانی نقطہ پر پیدا ہوانے والا جھکاؤمعلو م کیجیے۔

         9.20 دھات کی بنی دو پٹیوں کو ان کے کناروں پر ایک ایک اسکرو کی مدد سے آپس میں جو ڑ دیا جاتا ہے ا، اگر ہر پٹی کا قطر 6.0mmہے ، تو اس اسکرو شدہ پٹی پر کتنا زیادہ سے زیادہ تناؤ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اسکرو پر تحریفی ذرر Pas58سے زیادہ نہ ہو؟ مان لیجیے کہ ہر اسکرو کو لوڈ کا ایک چوتھائی حصّہ برداشت کرنا ہے۔
                                                       9.21 میریناکھائی بحر اوقیانوس میں واقع ہے اورایک مقام پر وہ پانی کی سطح سے تقریباً11Kmنیچے ہے۔ کھائی کے پیندے پر پانی کا دباؤ تقریباًs59ہے۔ فولاد کی بنی ایک گیند، جس کا اصل حجم    s60ہے، سمندر میں گرائی جاتی ہے، جو کھائی کے پنیدے تک پہنچتی ہے، پیندے تک پہنچنے پر گیند کے حجم میں کیا تبدیلی ہوگی؟