Skip to content
Tabiyaat-II

باب10

سیالوں کی میکانیکی خاصیتیں

(MECHANICAL PROPERTIES OF FLUIDS)

10.1   تعارف
10.2 دباؤ
10.3 مستقل بہاؤ
10.4    برنولی کا اصول
10.5    لزوجت
10.6    رینولڈس عدد
10.7     سطحی تناؤ
            خلاصہ 
           قابلِ غور نکات
           مشق  
            اضافی مشق
            ضمیمہ

10.1   تعارف   (INTRODUCTION)

اس باب میں ہم رقیق اور گیس اشیا کی کچھ عام طبعی خاصیتوں کا مطالعہ کریں گے۔ رقیق اور گیس بہہ سکتے ہیں، اس لیے سیال (بہنے والے) کہلاتے ہیں۔یہی وہ خاصیت ہے جو رقیق اور گیسوں کو بنیادی طور پر ٹھوس اشیا سے الگ کرتی ہے۔
ہمارے چاروں اطراف ہرجگہ سیال ہیں۔ زمین پرہوا کا ایک غلاف ہے اور اس کادو تہائی حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے ۔پانی نہ صرف انسانی وجود کے لیے لازمی ہے، ہر پستان دار حیوان کے جسم کا زیادہ تر حصہ پانی ہوتا ہے۔ جاندار چیزوں میں ، بہ شمول پیڑپودے ، ہونے والے تمام عمل پانی کے ذریعے ہوتے ہیں۔اس لیے سیالوں کے برتاؤ اور ان کی خاصیتوں کو سمجھنا اہم ہے۔
سیال، ٹھوس اشیاء سے کیے مختلف ہیں؟رقیق اشیا اورگیسوں میں کیا مشترک ہے؟ ٹھوس کے برخلاف ، ایک سیال کی کوئی اپنی شکل نہیں ہوتی۔ ٹھوس اوررقیق اشیا کا ایک معین حجم ہوتا ہے، جبکہ گیس ، جس برتن میں رکھی جائے ، اس کے پورے حجم کو گھیر لیتی ہے، ہم پچھلے باب میں سیکھ چکے ہیں کہ ٹھوس اشیا کے حجم کوذرر کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ ایک ٹھوس ، رقیق یا گیس کا حجم اس پر لگ رہے ذرر یا دباؤکے تابع ہے۔ جب ہم ٹھوس یا رقیق کے معین حجم کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا مطلب فضائی دباؤ کے زیر اثر اس کے حجم سے ہوتا ہے۔ گیسوں اورٹھوس یا رقیق اشیا میں فرق یہ ہے کہ ٹھوس یا رقیق اشیا کے حجم میں ، باہری دباؤ کی تبدیلی سے بہت کم تبدیلی ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، رقیق اور ٹھوس اشیا کی داب پذیری ، گیسوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔
تحریف ذرر، ایک ٹھوس کی شکل ، اس کا حجم معین رکھتے ہوئے، تبدیل کر سکتا ہے۔ سیالوں کی کلیدی خاصیت یہ ہے کہ وہ تحریف ذرر کی بہت کم مزاحمت کرتے ہیں ۔ ان کی شکل بہت چھوٹے تحریف ذرر کے لگانے پرتبدیل ہوجاتی ہے۔سیالوں کا تحریفی ذرر ، ٹھوس اشیا کے مقابلے میں تقریباًدس لاکھ گنا کم ہوتا ہے۔

10.2دباؤ(PRESSURE)  

ایک نکیلی سوئی کو اگر ہم اپنی کھال پر رکھ کر دبائیں تو وہ ہماری کھال کو چھید دیتی ہے لیکن اگر ہم ایک بے دھار (blunt)شے (جیسے چمچہ کا پچھلا حصہ)سے جس کا رقبہ لمس (contact area)زیادہ ہے، اپنی کھال کو اتنی ہی قوت سے دبائیں ، تو ہماری کھال ویسی ہی رہتی ہے۔اگر ایک ہاتھی انسان کے سینے پر پیر رکھ دے، تو انسان کی پسلیاں ٹوٹ جا ئیں گی۔ ایک سرکس کا فنکار، جس کے سینے پر ایک بڑا، ہلکا مگر مضبوط لکڑی کا تختہ رکھ دیا جاتا ہے اور پھر اس پر سے ہاتھی گذرتا ہے تو فنکار اس طرح کے حادثے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس طرح کہ روز مرہ کے واقعات سے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ قوت اوروہ کتنے رقبے پرلگ رہی ہے، دونوںاہم ہیں ۔ قوت جتنے مقابلتاًکم رقبے پر لگے گی ، اس کا اثر اتنا زیادہ ہوگا۔ یہ اثربہ طوردباؤ   (Pressure) جانا جاتا ہے۔
جب ایک شے کو ساکت سیال میں ڈبو یا جاتا ہے، توسیال شے کی سطح پرایک قوت لگاتا ہے ۔ یہ قوت شے کی سطح کے ہمیشہ عمودی سمت میں ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اگر اس قوت کا ایک جز شے کی سطح کے متوازی بھی ہو، تو شے بھی سیال پر، اس کے متوازی ایک قوت لگائے گی، کیونکہ نیوٹن کے تیسرے قانون سے یہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔یہ قوت سیال کو سطح کے متوازی بہائے گی۔ کیونکہ سیال حالت سکون ہے، یہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے حالتِ سکون میں ہونے والے سیال کے ذریعے لگائی گئی قوت، اس کے لمس میں آئی سطح پر عمود ہی ہو سکتی ہے۔ اسے شکل 10.1میں دکھایا گیا ہے۔
vacum
شکل 10.1 (a) بیکر میں رکھے سیال کے ذریعہ، ڈوبی ہوئی شے یا بیکر کی دیواروں پر لگائی گئی قوت، تمام نقاط پر سطح پر عمود ہے۔


ایک نقطہ پر سیال کے ذریعے لگائی گئی عمودی قوت ناپی جا سکتی ہے۔ ایسے دباؤ ناپنے والے آلے کی ایک مثالی شکل، شکل 10.1(b)میں دکھائی گئی ہے۔ یہ ایک ایسے خلاء کیے ہوئے (Envacuated)خانہ یا چیمبر (Chamber) پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ایک اسپرنگ لگا ہوتا ہے۔ یہ اسپرنگ ،پسٹن پر لگ رہی قوت کو ناپنے کے لیے پیمانہ بند کیا ہوا (Calliberated) ہوتا ہے۔
اس آلہ کو سیال کے اندر ایک نقطہ پر رکھا جاتا ہے ۔ سیال کے ذریعے پسٹن پر لگ رہی اندرکی سمت میں قوت ، باہری اسپرنگ قوت کے ذریعے متوازن ہوتی ہے، اوراس طرح ناپی جاتی ہے۔
اگر رقبہ Aکے پسٹن پرلگ رہی اس عمودی قوت کی عددی قدر Fہے، تب اوسط دباؤ Pav،(Average Pressure) کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اکائی رقبہ پر لگ رہی عمودی قوت ہے۔اگر رقبہ Aکے پسٹن پرلگ رہی اس عمودی قوت کی عددی قدر Fہے، تب اوسط دباؤ Pav،(Average Pressure) کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اکائی رقبہ پر لگ رہی عمودی قوت ہے۔
s1
اصولی طور پر ، پسٹن کے رقبہ کو ہم جتنا چاہیں کم کر سکتے ہیں۔ اس لیے محدود طور پر دباؤ کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے۔
s2

دباؤ ایک غیر سمتی عددی (Scalor)مقدار ہے۔ ہم آپ کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ قوت کا وہ جزو ہے جو ملاحظہ کیے جارہے رقبہ پرعمود ہے اور وہ سمتی قوت (Vector)نہیں ہے جو مساوات (10.1)اور 10.2)کے نسب نما  (Numerator)میں ظاہر ہوتی ہے۔ اسکے ابعاد s3ہیں۔ دباؤ کی SIاکائیs4ہے۔ اسے سیال دباؤ پر تحقیق کرنے والے فرانسیسی سائنسداں ، بلائس پاسکل(Blaise Pascal) (1623-1662) کے اعزاز میں پاسکل(Pascal, Pa)کا نام دیا گیا ہے۔ دباؤ کی ایک عام اکائی فضا یاایٹما سفیر (atm)(Atmosphere)ہے، یعنی کہ ، فضا کے ذریعے سطحِ سمندرپر لگنے والا دباؤs5۔
ایک دوسری مقدار، جو سیالوں کو بیان کرنے میں نظر انداز نہیں کی جا سکتی ، کثافت rہے۔ ایک mکمیت کا سیال جو Vحجم گھیرتا ہے، اس کے لیے

کثافت کے ابعادs7ہیں۔ اس کی SIاکائی  s8ہے۔ یہ ایک مثبت لا سمتی مقدار ہے۔ ایک رقیق بڑی حد تک غیرداب پذیر ہے، اس لیے اس کی کثافت ہر دباؤ پر تقریباًمستقلہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف، گیسوں کی کثافتوں میں دباؤکے ساتھ کافی تبدیلی ہوتی ہے ۔  
s9۔ ایک شے کی نسبتی کثافت (Relative density)، اس کی کثافت کی  s11پر پانی کی کثافت سے نسبت ہے۔ یہ غیرابعادی ، مثبت ، لا سمتی مقدار ہے۔ مثال کے طور پر المونیم کی نسبتی کثافت 2.7ہے۔المونیم کی کثافتs10ہے۔کچھ عام رقیقوں کی کثافتیں ، جدول 10.1میں دکھائی گئی ہیں۔

جدول STP* 10.1پر کچھ عام رقیقوں کی کثافتیں


رقیق p(kg m-3)
پانی 1.00 x 103
بحری پانی 1.03 x 103
پارہ 13.6x103
ایتھائل الکوحل 0.806x103
کل خون 1.06 x 103
ہوا 1.29
آکسیجن 1.43
ہائیڈروجن 9.0 x 10-2
بین نجمی فضا
(Interestellar Space)
≈10-2
*STP کا مطلب ہے معیاری درجۂ حرارت (0ºC) اور 1atm دباؤ
مثال 10.1 دوران کی ہڈیاں (عظم الفخذFemurs)، جن میں سے ہر ایک کا تراشی رقبہ 10cm2ہے، 40Kgکے ایک انسانی جسم کے اوپری حصہ کو سہارا دیتی ہیں۔ ہڈیوں کے ذریعہ برداشت کیے
جارہے اوسط دباؤ کا حساب لگائیے۔

s12
10.2.1پاسکل کا قانون (Pascal's Law)
فرانسیسی سائنسداں بلیس پاسکل(Blaise Pascal)نے مشاہدہ کیا کہ ایک رقیق میں جو حالت سکون میں ہے،ان تمام نقاط پر دباؤ یکساں ہوتا ہے جو ایک ہی اونچائی پر ہیں۔ اس حقیقت کا سادہ طور پر مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔

kr
شکل 10.2 پاسکل کے قانون کا ثبوت ABC - DEF ایک ایسے رقیق کے اندر کا جز ہے جو حالت سکون میں ہے۔ یہ جز ایک قائم زاو ئی منشور کی شکل کا ہے۔ یہ جز چھوٹاہے، اس لیے ارضی کشش (gravity)  کے اثر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سمجھانے کے لیے اس کو بڑا بنایا گیا ہے۔


شکل 10.2 میں ایک ایسے رقیق کا اندرونی جز دکھایا گیا ہے، جو حالت سکون میں ہے۔ یہ جز(ABC-EF(element ایک قائم زاوئی منشور (right-angled prism)کی شکل کا ہے۔  اصولی طورپریہ منشوری جز بہت چھوٹا ہے، تاکہ اس کا ہر حصہ رقیق کی سطح سے یکساں گہرائی پر مانا جا سکے اور اس لیے اس کے ان تمام نقاط پر کشش ارضی کا اثر یکساں ہے۔ لیکن وضاحت کے خیال سے ہم نے اسے بڑا دکھایا ہے۔ اس جزو پر لگ رہی قوتیں وہ ہیں جو باقی رقیق کے ذریعے لگائی جا رہی ہیں، اس لیے اور انہیں اس جزو کی سطح پر عمودی ہونا لازمی ہے، جیسا کہ پہلے بحث کی جا چکی ہے۔ اس باقی رقیق اس جز پر دباؤ yy لگاتا ہے جو عمودی قوتوں ، عم کے مطابق ہیں جیساکہ شکل 10.2 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ قوتیں بالترتیب جز کے رخوں ADFC, BEFC اور ADEB پر لگ رہی ہیں جنہیں (بالترتیب) bilt سے ظاہر کیا گیا ہے۔ تب (توازن سے) تو (جیو میٹری سے) جیو
اج
اس لیے، اس رقیق پر جو حالت سکون میں ہے، لگایا گیا دباؤہر سمت میں یکساں ہے۔ یہ پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ذرر کی دوسری قسموں کی طرح ، دباؤ بھی ایک سمتی مقدار نہیں ہے۔ اسے کوئی سمت نہیں تفویض کی جا سکتی ہے۔ رقیق کے اندر (یا اسے گھیرنے والے )کسی بھی رقبہ پر لگ رہی قوت ، اگر رقیق حالت سکون میں ہے اور دباؤ کے زیر اثر ہے، رقبہ کے تعین سمت (Orientation) کا لحاظ کے بغیر ، رقبہ پر عمود ہے۔
اب ایک ایسا رقیق جزو لیجیے جو ہموار تراش کی افقی چھڑ کی شکل کا ہے۔ چھڑ توازن میں ہے۔ اس کے دونوں کناروں پر لگ رہی افقی قوتیں لازمی طور پر متوازن ہونا چاہئیں یا دونوں کناروں پر دباؤ مساوی ہونا چاہیے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسے رقیق کے لیے جو توازن میں ہے، ایک افقی مستوی (Horizontal Plane)میں ، تمام نقاط پر ، دباؤ یکساں ہے، فرض کیجیے کہ سیال کے مختلف حصوں میں دبا ؤ مساوی نہیں ہوتا، تب سیال کا ایک بہاؤ ہوگا، کیونکہ اس پر ایک کل قوت کام کررہی ہوگی۔ اس لیے بہاؤ کی غیر موجودگی میں، سیال میں ہر جگہ دباؤافقی سطح میں یکساں ہونا ضروری ہے ۔
10.2.2گہرائی کے ساتھ دباؤ کی تبدیلی  
Variation of Pressure with Depth
فرض کیجیے کہ ایک برتن میں ایک سیال رکھا ہواہے ۔سیال حالت سکون میں ہے ۔ شکل 10.3میں نقطہ 1،نقطہ 2سے بلند ی h پر ہے۔ نقطہ 1اور نقطہ2 پر دباؤ، بالترتیبs14ہیں۔ سیال کا ایک استوانی جزو لیجیے، جس کا ساسی رقبہ Aاور اونچائی Lہے۔ کیونکہ سیال حالت سکون میں ہے، اس لیے ماحصل (Resultant)افقی قوتیں صفر ہونا چاہیے اور ما حصل انتصابی قوتوں کو جزو کے وزن کو متوازن کرنا چاہئے۔ انتصابی سمت میں لگ رہی قوتیں، اوپری سرے پر  s15سیال کے دباؤ کی وجہ سے ہیں۔جو اوپر کی طرف کام کر رہا ہے۔ اگراستوا نے میں سیال کا وزن mgہے، تو ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

ish
اب اگرP سیال کی کمیت کثافت ہے، تو سیال کی کمیت ہوگی hogi اس طرح  
asal
شکل 10.3 ارضی کشش کے زیر اثر سیال۔ ارضی کشش کے اثر کو ایک انتصابی استوانی کالم پر دباؤ کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔

دبا ؤ فرق، نقاط( 1 اور  2) کے درمیان انتصابی فاصلےh، سیال کی کمیت کثافت اور مادیکشش اسراع g تابع ہے۔ اگر زیر بحث نقطہ 1کو سیال (فرض کیا پانی)کی اوپری سطح پرمنتقل کر دیا جائے، جو فضا کے لیے کھلا ہوا ہے، تو P1کو فضائی دباؤ(Pa) سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ہمPکو Pسے تبدیل کر دیتے ہیں۔ تب مساوات 10.6سے حاصل ہوتا ہے۔
P = Pa + pgh    (10.7)
اس لیے ، ایک ایسے سیال میں جو فضا کے لیے کھلا ہواہے، اس کی اوپری سطح سے نیچے گہرا ئی میں دباؤ p، فضائی دباؤ سے pghمقدارمیں زیادہ ہوتا ہے۔ گہرائی hپر زائد دباؤ، (P-Pa)، اس نقطہ پر گیج دباؤ(Gauge Pressure) کہلاتا ہے ۔
مساوات (10.7) میں مطلق (Absolute)دباؤ کی عبارت میں ، استوانے کا رقبہ شامل نہیں ہے۔اس لیے سیال کالم کی اونچائی اہمیت رکھتی ہے، تراشی رقبہ یا اساسی رقبہ یا برتن کی شکل اہمیت نہیں رکھتی۔ یکساں افقی سطح (یکساں گہرائی) پر تمام نقاط پر سیال کا دباؤ یکساں ہوتا ہے۔ آب سکوتی متناقضہ(Hydrostatic Paradox)کی مثال کے ذریعے اس نتیجے کو مزید سمجھا جا سکتا ہے۔ تین برتن B,Aاور Cلیجیے (شکل 10.4)جو مختلف شکلوں کے ہیں۔ ان کے پیندوں کو ایک افقی پائیپ کے ذریعے جو ڑ دیا گیا ہے۔ ان میں پانی بھرنے پر ، تینوں میں پانی کی سطح یکساں ہے،حالانکہ تینوں میں پانی کی مقدار الگ الگ ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ پیندے پر پانی کا دباؤ برتن کے ہر تراشہ کے نیچے ، یکساں ہے۔
yaksan
شکل 10.4 آب سکوتی متناقضہ کا اظہار ۔ تین برتنوں،B,AاورC، میں پانی کی مقدار مختلف ہے، لیکن پانی کی سطح یکساں بلندی پر ہے۔
مثال 10.2:اُس تیراک پر کتنا دباؤ ہوگا، جو ایک جھیل میں سطح جھیل سے 10mنیچے ہے۔
جواب : یہاں،
wow
مساوات (10.7) سے
P=Pa + pgh
=1.01x105Pa + 1000 kg m3 x 10m s2 x 10m
= 2.01x105 Pa
≈ 2 atm

یہ سطح جھیل کے دباؤ سے 100%اضافہ ہے۔ 1Kmکی گہرائی پر، دباؤ میں اضافہ ،100atm، ہوگا۔پن ڈبیوں (Submarines)کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ اتنے بڑے دباؤ کو برداشت کر سکیں۔
10.2.3فضائی دباؤ اور گیج دباؤ
(Atmospheric Pressure and Gauge Pressure)
کسی بھی نقطہ پر فضا کا دباؤ، اس نقطہ سے فضا کی چوٹی تک کے ، اکائی تراشی رقبے والے ،ہوا کے کالم کے وزن کے مساوی ہے۔ سطح سمندر پر یہ savہے۔ اطالوی سائنس داں ایوان جی لستا ٹرسلی ((1608-1647), (Evangelista Torricelli)نے سب سے پہلے فضائی دباؤ ناپنے کا طریقہ بتایا۔ ایک لمبی شیشے کی ٹیوب کو ، جس کا ایک سرا بندہوتا ہے اور جس میں پارہ بھراہوتا ہے ، پارہ بھرے برتن میں الٹا کھڑا کیا جاتا ہے، جیساکہ شکل 10.5(a)میں دکھایا گیاہے۔ یہ آلہ پارہ بیرو میٹر کہلاتا ہے۔ ٹیوب میں پارہ کے کالم سے اوپر کی جگہ میں صرف پارہ کے ابخرات ہوتے ہیں، جن کادباؤ اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔لہازا=0 نقطہAپر دباؤ کالم کے اندر نقطہBپر دباؤ لازی طور پر نقطہ Cپر دباؤ کے مساوی ہوگا ، جو کہ فضائی دباؤPa   ہے ۔  
فضائی
جہاںp پارہ کی کثافت اور hٹیوب میں پارہ کے کالم کی اونچائی ہے۔

اس تجربے میں یہ معلوم ہوا کہ بیرومیٹر (داب پیما Barometer) میں پارہ کے کالم کی اونچائی سطح سمندر پر ، تقریباً76cmہے، جو ایک ایٹماسفیر (atmosphere)کے مرادف (equivalent)ہے۔ یہ مساوات (10.8)میںrکی قدررکھ کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ دباؤ کو ظاہر کرنے کا ایک عام طریقہ یہ ہے کہ اسے پارہ (Hg)کے cmیا mmکی شکل میں ظاہر کیا جائے۔ 1mmکے مرادف(equivalent)دباؤ کو ٹار(Torr)کہا جاتا ہے (ٹورسلی کے نام پر )۔

1torr = 133 Pa

Hgکے mmاور torrعلم طب (Medicine) اور علم افعال الاعضاء (Physiology)میں استعمال ہوتے ہیں۔ جب کہ موسمیات (Meterology)میں استعمال ہونے والی عام اکائیاں بار(bar) اور ملی بار (Millibar) ہیں۔
1bar = 105 Pa
ایک کھلی ٹیوب والا مینو میٹر (Menometer)، دباؤ کے فرق کو ناپنے کا ایک کار آمد آلہ ہے۔ یہ ایک U۔ ٹیوب پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ایک مناسب رقیق بھراہوتا ہے۔ چھوٹے دباؤ فرق کو ناپنے کے لیے کم کثافت والا رقیق (جیسے تیل) استعمال کیا جاتا ہے اور بڑے دباؤ کے فرق کو ناپنے کے لیے زیادہ کثافت والا رقیق (جیسے پارہ) استعمال کیاجا تا ہے۔ ٹیوب کا ایک سراکھلا ہوتا ہے اور اس طرح فضا سے لمس میں ہوتا ہے، جب کہ دوسرے سرے کو اس نظام سے منسلک کر دیاجاتا ہے، جس پر دباؤ ناپنا ہے۔ [دیکھیے شکل b) 10.5) ]۔ Aپر دباؤP، نقطہ Bپر دباؤ کے مساوی ہے۔ ہم عام طور سے جو ناپتے ہیں وہ گیج دباؤ ہوتا ہے، جوP-Pہے، اور مساوات (10.8) سے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ مینو میٹر کی اونچائی hکے متناسب ہے۔
رقیق بھری U۔ٹیوب میںدونوں طرف یکساں سطح پر دباؤ یکساں ہوگا۔ رقیقوں کی کثافت میں دباؤ اوردرجۂ حرارت کی تبدیلی کی کافی بڑی وسعت (Range)میں بھی بہت کم تبدیلی ہوتی ہے۔ اس لیے ہم اپنے کام کے لیے کثافت کو مستقلہ مان سکتے ہیں۔ جب کہ گیس کی کثافت میں درجۂ حرارت اوردباؤکی تبدیلی سے بہت زیاد تبدیلی ہوتی ہے۔ اس لیے گیسوں کے برخلاف، ہم رقیقوں کوغیراداب پذیر مانتے ہیں۔
gul
(a) پارہ بیرو میٹر 

چھال
(b)
شکل 10.5 (b) کھلی ٹیوب والا مینو میٹر

مثال 10.3:  سطح سمندر پر فضا کی کثافت 1.29 kg/m3 ہے۔ فرض کیجیے کہ یہ بلندی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔ تو فضا کی وسعت کتنی بلندی تک ہے؟

جواب: ہم مساوات (10.7) استعمال کرتے ہیں۔
مسا
حقیقت میں ، ہوا کی کثافت ، بلندی کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے اور gکی قدر بھی بلندی کے ساتھ کم ہوتی ہے۔ فضائی غلاف ، دباؤ کم ہوتے ہوئے تقریباً100Kmتک پھیلا ہوا ہے۔ ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ سطح سمندر پر فضائی دباؤ ہمیشہ پارہ کے 760mmنہیں ہوتا ہے۔ Hgکی سطح میں 10mmیا اس سے زیادہ کی گراوٹ ، آنے والے طوفان کی نشانی ہے۔

مثال 10.4:ایک سمندرمیں 1000mmکی گہرائی پر (a)مطلق دباؤ کتنا ہوگا؟ (b)گیج دباؤ کتناہوگا؟(c)اس گہرائی پر ایک پن ڈبی کی کھڑکی پر لگنے والی قوت معلوم کیجیے ۔کھڑکی کا رقبہ 20cm×20cm ہے۔ پن ڈبی کے اندر سطح سمندر فضائی دباؤکو قائم رکھا گیا ہے۔ (سمندری پانی کی کثافت  s26ہے۔)
qur
alam

ایسا لگتا ہے کہ سیال، ان کے اندر رکھی ہوئی اشیاء کوجزوی سہارا فراہم کرتے ہیں ۔ جب ایک جسم ایسے سیال میں جو حالت سکون پر ہو، جزوی یا کلی طورپر ڈبویا جاتا ہے ، تو سیال جسم کی اس سطح پر جو اس سے لمس میں ہوتی ہے، ایک دباؤ لگاتا ہے۔ جسم کی نچلی سطحوں پردباؤ، جسم کی اوپری سطحوں سے زیادہ ہوتاہے، کیونکہ سیالوں میں دباؤ،گہرائی کے ساتھ بڑھتا ہے۔ ان تمام قوتوں کا ماحصل ایک اوپری سمت میں قوت ہے، جو قوت اچھال (buoyant force)کہلاتی ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک استوانی جسم کو سیال میں ڈبویا گیا ہے۔ جسم کے پیندے پر اوپر کی جانب لگ رہی قوت ، اس کے اوپری سرے پر نیچے کی جانب لگ رہی قوت سے زیادہ ہے۔ یہ سیال جسم پر ایک ماحصل، اوپر کی جانب ، قوت یا قوت اچھال لگاتا ہے جو P2 - P1) A) کے مساوی ہے(شکل10.3)۔ ہم مساوات 10.4میں دیکھ چکے ہیں، P2 - P1) A = pghA)  اب Ahٹھوس کا حجم ہے اورphA اس کے مترادف سیال کے حجم کی کمیت ہے۔ P2 - P1) A = mg) اس لیے اوپر کی جانب لگائی گئی قوت ہٹائے ہوئے سیال کے وزن کے مساوی ہے۔

یہ نتیجہ بلا لحاظ شے کی شکل صادق ہے اوریہاں استوانی شے صرف سہولیت کے لیے لی گئی ہے۔ یہ آرشمیدس کا اصول ہے۔ پوری ڈوبی ہوئی اشیاء کے لیے ، شے کے ذریعے ہٹائے گئے سیال کا حجم ، شے کے حجم کے مساوی ہے اگر ڈوبی ہوئی شے کی کثافت سیال کی کثافت سے زیادہ ہے تو شے ڈوب جائے گی، کیونکہ جسم کا وزن اوپری دھکے(Thrust) سے زیادہ ہے۔ اگر ڈوبی ہوئی شے کی کثافت ، سیال کی کثافت سے کم ہے تووہ جزوی طور پرو ڈوبی ہوئی سیال میں تیرے گی۔ ڈوبے ہوئے حجم کا حساب لگانے کے لیے : فرض کیجیے شے کا کل حجم Vاوراس کا ایک حصہ Vp سیال میں ڈوبا ہے۔ تب اوپر کی جانب قوت جو ہٹائے ہوئے سیال کا وزن ہے،AgVp جسے جسم کے وزن کے برابر ہونا چاہئے:psgVs = pgVp یا Ps/Pf = Vp/Vs تیرتے ہوئے جسم کا ظاہری وزن صفر ہوتا 
ہے۔

اصول کا خلاصہ اس طور پر بیان کیا جا سکتا ہے: ایک ڈوبے ہوئے جسم (جزوی یا کلی )کے وزن میں آنے والی کمی اس کے ذریعے ہٹائے گئے سیال کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔


10.2.4آبی مشینیں (Hydraulic Machines)

آئیے اب ملاحظہ کریں کہ جب ہم ایک برتن میں رکھے ہوئے سیال پر دباؤ تبدیل کرتے ہیں ،تو کیا ہوتا ہے۔ ایک افقی استوانہ لیجیے،جس میں پسٹن لگا ہو اور تین مختلف نقاط پر تین انتصابی ٹیوب لگی ہوں(شکل 10.6(a))۔افقی استوانہ میں دباؤ کی نشاندہی، انتصابی ٹیوبوں میں رقیق کالم کی اونچائی سے ہوتی ہے۔ یہ لازمی طور پر سب میں یکساں ہوگی۔ اگر ہم پسٹن کو دھکیلتے ہیں، تو ہرٹیوب میں رقیق کی سطح اونچی ہوجاتی ہے اور پھر ہر ایک میں رقیق کی ایک ہی سطح ہوتی ہے۔
abdulbar
شکل 10.6 (a) : جب کبھی کسی برتن میں رکھے مائع کے کسے بھی حصے پر باہری دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ دباؤ تمام سمتوں میں مساوی طورپر پھیل جاتا ہے۔

اس سے ظاہرہوتا ہے کہ جب استوا نے پردباؤ بڑھایا گیا ، تو یہ ہموار طور پر پورے استوا نے پر تقسیم ہوا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب ایک برتن میں رکھے ہوئے رقیق کے کسی بھی حصے پرباہری دباؤ ڈالا جاتا ہے تو اس کی ترسیل ، بنا کم ہوئے ، ہر سمت میں مساوی ہوتی ہے۔ یہ سیال کے دباؤ کی ترسیل کے لیے پاسکل کا قانون ہے، اوراس کے روزانہ زندگی میں بہت سے استعمال ہیں۔  

بہت سے آلات ، جیسے آبی لفٹ (Hydraulic Lift)اور آبی بریک (Hydraulic Brakes)وغیرہ پاسکل کے قانون پر مبنی ہیں۔ ان آلات میں دباؤ کی ترسیل کے لیے سیال استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک آبی لفٹ میں، جیساکہ شکل(b) 10.6میں دکھایا گیا ہے، دو پسٹنوں کو ان کے درمیان کی جگہ ایک سیال سے بھر کر، ایک دوسرے سے جدا کیا جاتا ہے ۔ ایک کم تراشی رقبہ A1 کا پسٹن P1،رقیق پر براہ راست ، قوت F، لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دباؤ : atif پورے رقیق میں ترسیل ہوتا ہے اور بڑے استوانے پربھی جس میں بڑا پسٹن، رقبہ A2 کا ، لگا ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں اوپر کی جانب قوت PxA2 حاصل ہوتی ہے ۔ اس لیے، پسٹن اس قابل ہوجاتا ہے کہ ایک بڑی قوت کوسہار سکے (مثلاًایک کار یا ایک ٹرک کا بڑا وزن ، جوایک پلیٹ فارم پر رکھا ہو) ashA1 پرقوت کو تبدیل کر کے ، پلیٹ فارم کو اوپر یا نیچے کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح لگائی گئی قوت کوdekhna جز ضربی (Factor) سے بڑھادیا گیا ہے اور یہ جز ضربی اس آلہ کا میکانیکی فائدہ (Mechanical Advantage)ہے۔ نیچے دی ہوئی مثال، اس کی وضاحت کرتی ہے۔

wazahat
شکل 10.6 (b) : بھاری وزن اٹھانے والے، ہائیڈرولک لفٹ (آبی لفٹ) کی کار کردگی کے پیچھے کار فرما اصول کی وضاحت کرتی ہوئی خاکہ ڈائیگرام


مثال 10.5:دو مختلف تراشوں کی سرنجیں (سوئیوں کے بغیر)پانی سے بھری گئیں اور ایک پانی سے بھری ہوئی ربر ٹیوب میں مضبوطی سے لگادی گئیں۔ مقابلتاًچھوٹے اور بڑے پسٹنوں کے قطر ، بالترتیب ، 1.0cm اورcm 3.0 ہیں۔(a)جب مقابلتاًچھوٹے پسٹن پر 10Nقوت لگائی جاتی ہے، تو بڑے پسٹن پر کتنی قوت لگے گی ؟ (b)اگرمقابلتاً چھوٹا پسٹن 6.0cmدھکیلا جاتا ہے تو بڑا پسٹن باہرکی طرف کتنی حرکت کرے گا؟
جواب : (a) کیونکہ دباؤ بغیر کم ہوئے پورے سیال میں ترسیل ہوتا ہے،
سیال
(b) پانی کو مثالی غیرداب ، پذیر سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے مقابلتاًچھوٹے پسٹن کے ذریعے اندر کی طرف طے کیا گیا حجم، بڑے پسٹن کے ذریعے باہرکی طرف طے کیے گئے حجم کے مساوی ہوگا۔
ashr
نوٹ کریں کہ فضائی دباؤ دونوں پسٹنوں کے لیے مشترک ہے، اس لیے اسے نظر انداز کر دیاگیا ہے۔

arshmeedas

آرشمیدس )ق م(287-212 )

آرشمیدس ایک یونانی فلسفی ، ریاضی داں، سائنس داں اور انجینیر تھے۔ انہوں نے غلیل (Catapult)ایجاد کی ، بھاری وزنوں کو اٹھانے اورلے جانے کے لیے گراریوں اور لیور (Lever)کے نظام بنائے۔ ان کے وطن شہر سیرا کوس کے بادشاہ، ہائیروIIنے ان سے کہا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اس کے سونے سے بنے تاج میں کسی اور سستی دھات کی آمیزش، جیسے چاندی، تو نہیں کی گئی ہے، لیکن تاج کو نقصان پہنچائے بغیر۔اپنے نہانے کے ٹب میں بیٹھے ہوئے، جب انہیں جزوی وزن میں کمی کا احساس ہوا، تو اس مسئلے کاحل ان کی سمجھ میں آگیا۔ وہ سیرا کوس کی گلیوں سے بغیر کپڑے پہنے ، چِلّاتے ہوئے بھاگے : یوریکا ، یوریکا ––میں نے معلوم کر لیا، میں نے معلوم کر لیا۔

مثال 10.6:ایک کار لفٹ میں داب شدہ (Compressed)ہوا، 5.0cmنصف قطر کے مقابلتاًچھوٹے پسٹن پر ایک قوت F1 لگاتی ہے۔ اس دباؤ کی ترسیل 15cmنصف قطر کے دوسرے پسٹن پر ہوتی ہے۔ (شکل 10.7)۔ اگر جس کار کو اٹھایا جانا ہے، اس کی کمیت 1350Kg ہے، تو F1 کا حساب لگائیے۔ اس کام کو کرنے کے لیے کتنا دباؤ ضروری ہے۔

جواب: کیونکہ دباؤ بغیر کم ہوئے پورے سیال میں ترسیل ہوتاہے، 
کار
وہ ہوا کا دباؤ جو یہ قوت پیدا کرے گا 
لکھون
یہ فضائی دباؤ کا تقریبا دو گنا ہے۔
گاڑیوں میں لگے سیالی بریک بھی اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔ جب ہم پیڈل پر اپنے پیرسے تھوڑی قوت لگاتے ہیں، تو ماسٹر استوانے کے اندر ماسٹر پسٹن حرکت کرتا ہے، اورپیدا ہوا دباؤ بریک تیل میں ترسیل ہو کر بڑے رقبے کے پسٹن پر لگتا ہے۔ اس پسٹن پر ایک بڑی قوت کم کرتی ہے اور یہ پسٹن نیچے کی طرف دھکیلا جاتا ہے اور بریک لائٹنگ پر بریک شوز پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح پیڈل پر لگائی گئی ایک کم قوت پہیوں پرایک بڑی منفی اسراعی (Retarding) قوت پیدا کرتی ہے۔ اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ پیڈل دبانے سے پیدا ہونے والا دباؤ کی چاروں پہیوں سے جڑے ہوئے استوانوں تک مساوی ترسیل ہوتی ہے، اس طرح بریک لگانے کی کوشش چاروں پہیوں پر برابر ہوتی ہے۔

10.3مستقل بہاؤ(STREAMLINE FLOW)

اب تک ہم نے ان سیالوں کا مطالعہ کیا ہے جو حالت سکون پرہیں۔ حرکت کرتے ہوئے سیالوں کا مطالعہ سیال حرکیات (Fluid Dynamics) کہلاتی ہے۔جب پانی کی ٹونٹی کو آہستہ سے کھولاجاتا ہے توشروع میں پانی کا بہاؤ ہموار ہوتا ہے، لیکن جب بہاؤ کی رفتار بڑھائی جاتی ہے، تو یہ ہمواریت نہیں رہتی ۔ سیالوں کی حرکت کا مطالعہ کرنے میں ہم اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرتے ہیں کہ سیال کے مختلف ذرات پر فضا کے مخصوص نقاط و   مخصوص وقت پر   کیا ہورہا ہے ۔ ایک سیال کے بہاؤ کو ہم اس وقت قائم (Steady)کہتے ہیں، اگر کسی دیے ہوئے نقطے سے گذرنے والے سیال کے ہر ذرے کی رفتار وقت کے ساتھ مستقلہ ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فضا (Space)کے مختلف نقاط پر رفتار یکساں ہے۔ ایک مخصوص ذرے کی رفتار، ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک حرکت کرنے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یعنی کہ کسی دوسرے نقطے پر ذرے کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ہر ایک ذرہ جو دوسرے نقطے سے گذرتا ہے،   بالکل پچھلے ذرے کی طرح ہی برتاؤ کرتا ہے۔ ہر ذرہ ایک ہموار راستے سے گذرتا ہے اور ذرات کے راستے ایک دوسرے کو قطع نہیں کرتے۔
دھاگہ
شکل 10.7 مستقل بہاؤ خطوط کے معنی (a) سیال کے ایک ذرے کا مخصوص خط حرکت۔
(b) مستقل بہاؤ کا ایک علاقہ۔

قائم بہاؤ کے دوران ، سیال کے ایک ذرے کے ذریعے اختیار کیا گیا راستہ ایک مستقل بہاؤخط (Streamline)ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ وہ منحنی ہے، جس کے کسی بھی نقطے پرکھینچا گیا مماس (Tangent)، اس نقطے پر سیال کی رفتار کی سمت میں ہو۔ ایک ذرَّے کا راستہ ملاحظہ کیجیے، جیسا کہ شکل 10.7(a)میں دکھایا گیا ہے، منحنی یہ بیان کرتا ہے کہ ایک ذرۂ سیال وقت کے ساتھ کیسے حرکت کرتا ہے۔ منحنی PQ، سیال کے بہاؤ کا ایک مستقل نقشہ ہے ، جو نشان دہی کرتا ہے کہ سیال کا مستقل بہاؤ کیسا ہوتا ہے۔ دو مستقل بہاؤخطوط کبھی ایک دوسرے کو قطع نہیں کرسکتے اس لیے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے پیچھے آنے والا ذرہ سیال ان میں سے ایک کے راستے پربھی جا سکتا ہے اوردوسرے کے راستے پربھی اور پھربہاؤ قائم نہیں رہے گا۔اس لیے ایک قائم بہاؤ میں ، بہاؤ کا نقشہ وقت کے ساتھ ساکت رہتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے بہت نزدیکی مستقل بہاؤ خطوط کیسے کھینچتے ہیں ؟ اگر ہم ہربہنے والے ذرے کا مستقل بہاؤ خط دکھانا چاہیں تو ہمیں خطوط کا ایک سلسلہ (Continuum) ملے گا۔ سیال کے بہنے کی سمت کے عمودی مستوی لیجیے، مثلاً10.7(b) میں تین نقاط P,Rاور Qپر مستوی کے ٹکڑے اس طرح منتخب کیے جاتے ہیں کہ ان کی حدود(Boundaries)، مستقل بہاؤ خطوط کے یکساں سیٹ سے معلوم کی جا سکیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ R,Pاور Qپردکھائی گئی سطحوں سے گذرنے والے سیال کے ذرات کی تعداد یکساں ہے۔ اگر ان نقاط پر تراشی رقبے  Ap, Ar اور Aq ہیں۔ اورسیال کی رفتاریں VP,VR اور Vہیں ، تو چھوٹے وقفہ وقت Δt میں ARسے گذرنے والے سیال کی ذرات کی کمیت ΔmR ہوگی : pP AP VP Δt اس طرح چھوٹے وقفہ وقت Δt میں ARسے گزرنے والے سیال کے ذرات کی کمیت ΔmR ہوگی : pQ VQ AQ Δt اور AQ سے گزرنے والی سیال کے ذرات کی کمیت Δmہوگی :pQ AQ VQ  Δt ۔ تمام صورتوں میں ایک نقطہ تک بہہ کر آنے والے سیال کی کمیت اور اس نقطہ سے بہہ کر جانے والے سیال کی کمیت مساوی ہوگی۔ اس لیے:
pPApVpΔt = pRARvRΔt= pQ AQ VQ Δt
غیر داب پذیر سیالوں کے لیے: PP = PR = pQ
اس لیے مساوات (10.9) ہو جاتی ہے 
Ap Vp = AR VR = AQ VQ                                   (10.10)
جو تسلسل کی مساوات(equation of continuity) کہلاتی ہے اور یہ غیر داب پذیر سیالوں کے بہاؤ میں کمیت کی بقا کا بیان ہے۔ عمومی شکل میں :
(10.11) مستقلہ  =Av 
Av، حجم فلکس(volume flux)یا بہاؤ کی شرح (flow rate)دیتا ہے اور پورے بہاؤ کے پائپ میں مستقلہ رہتا ہے ۔ اس لیے پتلے حصوں پر، جہاں مستقل بہاؤ خطوط، نزدیک نزدیک ہوتے ہیں، رفتار بڑھ جاتی ہے اور اس کے برخلاف بھی۔ شکل 10.7(b)سے یہ ظاہر ہے کہ AR>AQ یا AR<AQ ۔ یہ افقی پائپوں سے سیالوں کے بہنے میں دباؤ کی تبدیلی سے منسلک ہے۔
یہ افقی پائپوں سے سیالوں کے بہنے میں دباؤ کی تبدیلی سے منسلک ہے۔
قائم بہاؤ، بہاؤ کی کم رفتاروں پر حاصل ہوتا ہے۔ ایک حدی قدر (Limiting Value)، جو فاصل قدر کہلاتی ہے،سے یہ بہاؤ آگے اپنی قائمیت (Steadiness)کھو دیتا ہے اور آشوبی (Turbulent)ہو جاتا ہے ۔ ایسا اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب ایک تیز بہتی ہوئی دھار چٹان سے ٹکراتی ہے ۔یا چھوٹے ، جھاگ والے، بھنور جیسے علاقوں سے گذرتی ہے۔ مثال کے طور پر شکل 10.8(a)ایک ورقی بہاؤ (Laminar flow)کو دکھاتی ہے جہاں سیال میں مختلف نقاط پر رفتاروں کی عدد ی قدریں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن ان کی سمتیں متوازی ہیں۔ شکل 10.8 (b)میں ایک آشوبی بہاؤ کا خاکہ دکھا یاگیا ہے۔
para

شکل 10.8 (a) سیال کے بہاؤ کے لیے کچھ مستقل بہاؤ خطوط ہوا کا ایک جھونکا (jet) جو اسکے عمودی رکھی ہوئی پلیٹ سے ٹکراتا ہے۔ یہ آشوبی بہاؤ کی ایک مثال ہے۔

10.4برنولی کا اصول

  (BERNOULLI'S PRINCIPLE)

سیالوں کا بہاؤ ایک پیچیدہ مظہر ہے۔ لیکن ہم توانائی کی بقا کو استعمال کر کے، قائم یا مستقل بہاؤ کے لیے کچھ کار آمد خاصیتیں حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک ایسا سیال تصور کیجیے جو ایک ایسے پائپ میں سے بہ رہا ہے، جس کا تراشی رقبہ مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ فرض کیجیے کہ پائپ مختلف اونچائیوں پر ہے، جیسا کہ شکل10.9میں دکھایا گیا ہے ۔ اب ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک غیرداب پذیر سیال اس پائپ میں ایک قائم بہاؤ کے ساتھ بہہ رہا ہے ۔ تسلسل کی مساوات کے مطابق اس کی رفتار لازمی طورپر بدلنا چاہیے۔ اس اسراع کو پیداکرنے کے لیے ایک قوت درکارہوگی، جو اس سیال کے ذریعے لگ رہی ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے۔ مختلف علاقوںمیں دباؤ بھی مختلف ہوگا۔ برنولی مساوات ایک   عمومی ریاضیاتی عبارت ہے جو پائپ کے دو نقاط پردباؤ کے فرق میں اور رفتار کی تبدیلی (حرکی توانائی تبدیلی)اور بلندی (اونچائی) کی تبدیلی (توانائی بالقوۃ تبدیلی)دونوں میں ، رشتہ دیتی ہے، سوئز طبیعیات داں ڈینیل برنولی نے یہ رشتہ 1738میں دیا۔

دو علاقوں، علاقہI(یعنیBC)اور علاقہ2(یعنی DE)میں بہاؤ دیکھیں۔ BاورDکے درمیان سیال کو پہلے لیں، جو ایک لامحدود خفیف وقفہ وقت Δtمیں بہتا ہے ۔فرض کیجیے کہ Bپر رفتار V1ہے۔ اور Dپر Vتب وہ سیال جو شروع میں Bپر تھا، اس نے Cتک فاصلہV1 Δtطے کیا ہے۔  (V1 Δt اتنا چھوٹاہے کہ BC پر تراش کو مستقلہ مانا جا سکتا ہے )۔اسی وقفہ وقت Δt میں وہ سیال جو Dپرتھا، Eتک حرکت کرتا ہے، اور یہ فاصلہ V1 Δt کے مساوی ہے ۔ دباؤ Pاور Pاس طرح کام کرتے ہیں، جیسا کہ رقبہAاور  A2کے مستوی رخوں پر دکھائے گئے ہیں،اور دونوں علاقوں کو آپس میں باندھتے ہیں۔ بائیں سرے (BC) پر سیال پر کیا گیا کام ہے :W1=P1A1(V1Δt)=P1ΔV ، کیونکہ یکساں حجم ΔV دونوں علاقوں سے گذرتا ہے (تسلسل کی مساوات سے ) ، سیال کے ذریعے دوسرے سرے (DE)پر کیا گیا کام ہے : W2 = P2A2 (V2Δt) = p2ΔV یا سیال پر کیا گیاکا م ہے : P2ΔV۔

اسی طرح سیال پر کیاگیا کل کام ہوا ہے :
W1-W2 = (P1-P2)ΔV

ابد
ڈینیل برنولی (1700-1782)
ڈینیل برنولی ایک سوئز سائنس داں اور ماہرریاضی تھے جنہیں لیونارڈ ایولر کے ہمراہ ریاضی کے لیے فرانسیسی اکیڈمی کا انعام دس بار حاصل کرنے کا اعزاز ملا ۔ انہوں نے علم طب کی تعلیم بھی حاصل کی اورکچھ عرصے باسلے، سوئٹزر لینڈ میں اناٹومی اور نباتات کے پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی۔ ان کا سب سے زیادہ معروف کام آبی حرکیات میں ہے، جس مضمون کی انہوں نے ایک واحد اصول کے ذریعے نشو و نما کی۔ یہ واحد اصول توانائی کی بقا ہے۔ ان کے کام میں ، کیلکولس ، نظریہ احتمال ، ارتعاشی دور کا  نظریہ اور عملی ریاضی شامل ہیں۔ انہیں ریاضیاتی طبیعیات کا بانی کہاجاتا ہے۔



اس کام کا کچھ حصہ سیال کی حرکی تونائی تبدیل کرنے میں لگتا ہے اورکچھ حصہ کشش ارضی توانائی بالقوۃ تبدیل کرنے میں ۔ اگرسیال کی کثافت p ہے اور وہ Δm=pA1Δt= pΔV کمیت ہے جو وقفہ وقت ΔV  میں پائپ سے گذرتی ہے، تب کشش ارضی توانائی بالقوۃ (gravitational potential Energy) میں تبدیلی ہے ۔
ΔU=pgΔV (h2-h1)
اس کی حرکی توانائی میں تبدیلی ہے
gi
ہم سیال کے اس حجم کے لیے کام ۔ توانائی مسئلہ(Theorem)استعمال کر سکتے ہیں (دیکھیے باب 6 )، اوراس سے حاصل ہوتا ہے 

راستے
اب ہم ہر رکن کو ΔV سے تقسیم کرتے ہیں، تو حاصل ہوتا ہے
tohasl
ہم اوپر دیے ہوئے ارکان کو دوبارہ ترتیب دے کرحاصل کرتے ہیں
ہم
یہ برنولی مساوات ہے۔ کیونکہ 1اور2پائپ کے کن ہی دومقامات کی نشاندہی کرتے ہیں، اس لیے ہم اس ریاضیاتی عبارت کو عمومی شکل میں لکھ سکتے ہیں:
ریا
شکل 10.9: تبدیل ہوئے تراش کے پائپ میں سے ایک مثالی سیال کا بہاؤ وقفہ Δt میں، لمبائی  v2 Δt کے حصہ سے سیال v2 Δt لمبائی  کے حصہ تک حرکت کرتا ہے ۔

ڈینیل برنولی(1700-1782)

bernoli
ڈینیل برنولی ایک سوئز سائنس داںاور ماہرریاضی تھے جنہیں لیونارڈ ایولر کے ہمراہ ریاضی کے لیے فرانسیسی اکیڈمی کا انعام دس بار حاصل کرنے کا اعزاز ملا ۔ انہوں نے علم طب کی تعلیم بھی حاصل کی اورکچھ عرصے باسلے، سوئٹزر لینڈ میں اناٹومی اور نباتات کے پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی۔ ان کا سب سے زیادہ معروف کام آبی حرکیات میں ہے، جس مضمون کی انہوں نے ایک واحد اصول کے ذریعے نشو و نما کی۔ یہ واحد اصول توانائی کی بقا ہے۔ ان کے کام میں ، کیلکولس ، نظریہ احتمال ، ارتعاشی دور کا   نظریہ اور عملی ریاضی شامل ہیں۔ انہیں ریاضیاتی طبیعیات کا بانی کہاجاتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں برنولی کے رشتے کو مندرجہ ذیل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے : ہم جب ایک مستقل بہاؤ خط پر حرکت کرتے ہیں ، تو دباؤ (P)، حرکی توانائی فی اکائی حجم s41  اور توانائی بالقوۃ فی اکائی حجم(rgh) کا حاصل جمع مستقلہ رہتا ہے۔

نوٹ کریں کہ توانائی کی بقا کے اصول کو استعمال کرنے میں ایک مفروضہ یہ ہے کہ رگڑ کی وجہ سے کوئی توانائی ضائع نہیں ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت میں جب سیال بہتے ہیں توکچھ توانائی اندرونی رگڑ کی وجہ سے ضرور ضائع ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے، کیونکہ ایک سیال کے بہاؤ میں سیال کی مختلف پرتیں (layers)مختلف رفتاروں کے ساتھ بہتی ہیں۔ یہ پرتیں ایک دوسرے پر رگڑ قوتیں لگاتی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کا زیاں ہوتا ہے۔ سیال کی یہ   خاصیت لزوجت(Viscosity)کہلاتی ہے، اور اس پر تفصیلی بحث بعد کے حصے میں کی جائے گی۔ سیال کی ضائع ہوئی حرکی توانائی ، حرارتی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس لیے ، برنولی کی مساوات، مثالی شکل میں، ان سیالوں کے لیے درست ہے، جن کی لزوجت صفر ہو یا جو غیر لزوجی سیال ہیں۔ برنولی مساوات کے استعمال پر دوسری پابندی یہ ہے کہ سیال غیرداب پذیر ہونا چاہیے، کیونکہ سیال کی لچک توانائی کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ عملی طور پر اس کے بہت سے استعما ل ہیں اور کم لزوجت والے غیرداب پذیر سیالوں کے مختلف النوع مظاہر کی وضاحت کرنے میں یہ مساوات مدد کر تی ہے۔ برنولی کی مساوات، غیر قائم (non steady)اور آشوبی بہاؤ کے لیے بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ ایسی حالت میں رفتار اور دباؤ وقت کے ساتھ تیزی سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

جب سیال حالت سکون میں ہو، یعنی کہ اسکی رفتار ہر جگہ صفر ہو، تو برنولی مساوات ہو جاتی ہے ۔:
by
جو مساوات (10.6)کے یکساں ہے۔

10.4.1باہر کی جانب بہاؤ کی رفتار : ٹارسلی کا قانون  
(Speed of Efflux: Torricelli’s Law)

لفظ(efflux)کا مطلب ہے سیال کا باہر کی جانب بہاؤ۔ ٹارسلی نے دریافت کیا کہ ایک کھلے ہوئے ٹنکی سے سیال کے باہر کی جانب بہاؤ کی رفتار ایک ایسے فارمولے سے دی جاسکتی ہے جو آزادانہ طور پر گرتے ہوئے اجسام (freely  falling bodies)کے فارمولے سے متماثل (identical) ہے۔ ایک ٹنکی لیجیے جس میں کثافت کا رقیق بھرا ہے، اوراس کی ایک دیوار میں ٹنکی کی تلی سے اونچائیY1  پر ایک سوراخ ہے۔ (دیکھیے شکل 10.10)۔ رقیق کے اوپر کی ہوا  کا  دباؤ Pہے۔ رقیق کی اوپری سطح اونچائی Y2 پر ہے ۔ تسلسل کی مساوات [مساوات (10.10)] سے ہمیں حاصل ہوتا ہے :
inko
شکل 10.10 ٹارسلی کا قانون : ٹنکی کی دیوار سے باہرکی جانب بہاؤ کی رفتار V1، برنولی مساوات کو استعمال کر کے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر ٹنکی اوپر سے کھلی ہوئی ہے اور اوپری سطح فضا سے لمس میں ہے
 ، تو he


اگر ٹنکی کا تراشی رقبہ A2، سوراخ کی تراشی رقبہ سے بہت بڑا ہے (A2 >>A1)، تب ہم ٹنکی کی اوپر کی سطح کے رقیق کو تقریباًحالت سکون میں مان سکتے ہیں ، یعنی کہ : V2=O اب نقاط 1اور 2پربرنولی مساوات استعمال کرتے ہوئے اور یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ سوراخ پر ُP1 = P(فضائی دباؤ ہے Pa)، ہمیں مساوات (10.12)سے حاصل ہوتا ہے :
hea
hasil
جب  P>>Pa اور 2gh کو نظر انداز کیا جا سکتا ہو، تو باہرکی جانب بہاؤ کی رفتار ٹنکی کے دباؤ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت راکٹ کو داغنے میں پیش آتی ہے۔ دوسری طرف اگر ٹنکی کھلی ہوئی ہو اوررقیق کی اوپری سطح فضا کے لمس میں ہو، تو P = Pa  اور 
hakim
یہ ایک آزادانہ گرتے ہوئے جسم کی رفتار ہے۔ مساوات (10.15) ٹارسلی کا قانون ظاہر کرتی ہے ۔ 

10.4.2وینچوری –میٹر(Venturi-meter)

وینچوری میٹر، ناداب پذیر سیال کی رفتار ناپنے کا ایک آلہ ہے۔ یہ چوڑے قطر کی ایک ٹیوب پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے بیچ میں ایک چھوٹا انتباض (Constriction)ہوتا ہے، جیساکہ شکل (10.11)میں دکھایا گیا ہے۔ ایک -Uٹیوب کی شکل کا مونو میٹر بھی اس سے منسلک ہوتا ہے جس کا ایک بازو چوڑی گردن کے نقطے سے منسلک ہوتا ہے اور  دوسرا انتباض سے ، جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ مونو میٹر میں کثافت Pm کا رقیق بھرا ہوتا ہے ۔ چوڑی گردن کے رقبے Aسے بہنے والے رقیق کی رفتار V1 ہے۔ تسلسل کی مساوات (10.10)سے انتباض پر رقیق کی رفتار V2ہے: tere
پھر h1 = h2 ،�کے لیے برنولی کی مساوات(10.12) استعمال کرتے ہوئے، ہمیں حاصل ہوتا ہے 
hasilhota
شکل (10.11): وینچوری میٹر کی خاکہ ڈائیگرام

اس میٹر کی کارکردگی کے پیچھے کارفرما اصول کے بہت سے استعمال ہیں۔ گاڑیوں کے کاربوریٹر میں ایک وینچوری نلکی ہوتی ہے، جس میں سے ہوا تیز رفتار سے بہتی ہے۔ پھر پتلی گردن پردباؤ کو کم کیا جاتا ہے اور پٹرول ، خانہ میں اوپر کھنچ جاتا ہے، جس سے احترا ق کے لیے ضروری ہوا اور ایندھن کا درست آمیزہ حاصل ہوتا ہے۔ فلٹر پمپ اورباد کش (ہوا باہر کھنچنے کا آلہ )بنسن چولھے (Bunsen Burner)،عرق پاش آلے (وہ آلہ جس سے رقیق کی باریک پھواریں پیدا کی جاتی ہیں (Atomiser)،پر فیوم چھڑکنے کے لیے استعمال ہونے والے آلے (Sprayer)اورجراثیم کش دواؤں کے چھڑکنے کے آلے اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔
taktak

شکل 10.12: چھڑکنے کی گن (Spray gun)۔ پسٹن بڑی رفتار پر ہواکو دھکیلتا ہے ، جس سے برتن کی گردن پردباؤ کم ہوجاتا ہے

مثال 10.7: خون کی رفتار: ایک بے ہوش (انستھیسیا کے زیر اثر) کُتّے کی بڑی شریان (Artery)سے وینچوری میٹر کے ذریعے خون کے بہاؤ کو دوسری سمت میں موڑاجاتا ہے۔ میٹر مقابلتاًچوڑے حصّے کا تراشی رقبہ ، شریان کے تراشی رقبہ کے مساوی ہے۔ A=8mm2 ، مقابلتاً پتلے حصے کا رقبہ ،a = 4mm2۔شریان میں دباؤ میں کمی 24 Pa ہے۔ شریان میں خون کی رفتار کیا ہے ؟

جواب : ہم جدول 10.1سے خون کی کثافت حاصل کرتے ہیں جو 1.06x103kg m-3ہے۔ رقبوں کی نسبت ہے:nis، مساوات (10.17)استعمال کر کے ، ہمیں حاصل ہوتا ہے 

peeche

10.4.3 خون کا بہاؤ اور دل کا دورہ
(Blood Flow and Heart Attack)

برنولی کا اصول شریان میں خون کے بہاؤ کی وضاحت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ شریان، اپنی اندرونی دیوار پرداد اکٹھا ہوجانے کی وجہ سے سکڑسکتی ہے۔اس سکڑی ہوئی جگہ سے خون کو گذارنے کے لیے ، دل کی فعالیت پرزیادہ زور پڑتا ہے۔ اس علاقہ میں سے خون کے بہنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے اندر کی طرف دباؤ کم ہوجاتا ہے یاور شریان باہری دباؤ کی وجہ سے پچک سکتی ہے۔ دل اس شریان کو کھولنے کے لیے مزید دباؤ ڈالتا ہے اور خون کو گذارنے کے لیے قوت لگاتا ہے۔ جب سوراخ سے خون تیزی سے بہتاہے، اندرونی دباؤ پھر دوبارہ ، انہی وجوہات سے کم ہو جاتا ہے اورپھر شریان اورپچک جاتی ہے۔ اس سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

10.4.4حرکی اٹھاؤ (Dynamic Lift)

حرکی اٹھاؤ وہ قوت ہے جو ایک جسم ، جیسے ہوائی جہاز کے پر ایک آب روک تپر (hydroforil)یا گھومتی ہوئی گیند ، پر اس کے سیال میں سے گذرنے کی وجہ سے لگتی ہے۔ بہت سے کھیلوں ، جیسے کرکٹ، ٹینس، بیس بال یا گولف ، میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک اسپِن کرتی ہوئی گیند جب ہوا سے گذرتی ہے تو اپنے مکافی حرکت خط (Parabolic Trajectory)سے منحرف ہو جاتی ہے۔ یہ انحراف جزوی طور پر، برنولی اصول کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔

(i) بغیر اسپن کے حرکت کرتی ہوئی گیند : شکل 10.13 (a) میں ایک   ایسی گیند کے گرد مستقل بہاؤ خطوط دکھائے گئے ہیں جو بغیر اسپِن کیے ایک سیال کی مناسبت سے حرکت کررہی ہے۔ مستقل بہاؤ خطوط کے تشاکل سے یہ ظاہر ہے کہ سیال (ہوا)کی رفتار ، گیند کے اوپر اور نیچے ، متطابق نقاط پر یکساں ہے، جس کے نتیجے میں دباؤ فرق صفر ہے۔ اس لیے ہوا، گیند پر اوپر یا نیچے کی سمت میں کوئی قوت نہیں لگاتی۔

(ii) اسپِن کے ساتھ حرکت کرتی ہوئی گیند: ایک گیند جو اسپن کر رہی ہے، اپنے ساتھ ہوا کو کھینچتی ہے۔ اگر سطح کھردری ہو تو زیادہ ہوا کھینچتی ہے۔ شکل 10.13(b)میں ایسی گیند کے مستقل بہاؤ خطوط دکھائے گئے ہیں جو ایک ہی وقت میں اسپن بھی کر رہی ہے اورحرکت بھی کر رہی ہے۔ گیند آگے کی جانب حرکت کر رہی ہے اور اس کی مناسبت سے ہواپیچھے کی طرف حرکت کر رہی ہے ۔ اس لیے گیند کی مناسبت سے ہوا کی رفتار گیند کے اوپر مقابلتاً زیادہ ہے اور گیند کے نیچے مقابلتاً کم ہے۔ اس لیے مستقل بہاؤ خطوط اوپر قریب قریب ہو جاتے ہیں۔ اورنیچے ایک دوسرے سے دور ہٹ جاتے ہیں۔ ہوا کی رفتاروں میں یہ فرق گیند کے نچلے اوراوپری رخوں کے درمیان دباؤ فرق پیدا کرتا ہے اور گیند پر ایک کل قوت اوپر کی سمت میں لگتی ہے۔ اسپن کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والایہ حرکی اٹھاؤ، میگنس اثر (Magnus effect)کہلاتا ہے۔

ہواروک پتریا ہوائی جہاز کے پروں پر اٹھاؤ : شکل 10.13(c)میں ایک ہوا روک پتر (Aerofoil)دکھایا گیا ہے۔ جو ایک ٹھوس ٹکڑا ہے ، جس کی شکل ایسی بنائی جاتی ہے کہ جب وہ ہوا میں سے افقی حرکت کرے تو اوپر کی سمت میں حرکی اٹھاؤ مہیا کرے۔ ایک ہوائی جہاز کے پروں کی تراش کی شکل کچھ کچھ شکل 10.13(c)میں دکھائے گئے ایرو فائل جیسی ہوتی ہے۔ شکل میں اس کے گرد مستقل بہاؤ خطوط بھی دکھائے گئے ہیں۔ جب ایرو فائل ہوا کے مخالف حرکت کرتا ہے تو بہاؤ کے لحاظ سے ، پر کی تشریق (Orientation) مستقل بہاؤ خطوط کو پر کے اوپر، پر کے نیچے کے مقابلے میں زیادہ ایک جگہ اکٹھا کر دیتی ہے ۔ اس کے اوپر بہاؤ کی رفتار، اس کے نیچے بہاؤ کی رفتار کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اوپر کی جانب ایک قوت لگتی ہے، جس سے حرکی اٹھاؤ پیدا ہوتا ہے، جو جہاز کے وزن کو متوازن کرتا ہے۔مندرجہ ذیل مثال اس کی وضاحت کرتی ہے ۔

مثال10.8  ایک بھرے ہوئے ہوائی جہاز کی کمیت 105kg + 3.3 ہے۔ اس کے پروں کا کل رقبہ 500m2 ہے۔ یہ 960 km/h. کی رفتار کے ساتھ ہموار اڑان کررہا ہے۔ (a) پروں کی اوپری سطح اور نچلی سطح کے درمیان دباؤ فرق معلوم کیجیے۔ (b) پر کی نچلی سطح کے مقابلے میں اوپری سطح پر ہوا کی رفتار میں کسری اضافہ معلوم کیجیے۔

جواب (a) ہوائی جہاز کے وزن کو دباؤ فرق کی وجہ لگنے والی اوپر کی سمت میں قوت، متوازن کرتی ہے۔
پہ
(b) ہم مساوات (10.12) میں، اوپری اور نچلی سطح کے درمیان 
اونچائی کے معمولی فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تو ان کے درمیان دباؤ فرق ہے
ماس
کال
شکل 10.13: (a) سیال جو ایک ساکت کرہ سے بہہ کر گز رہا ہے (b) ایک ایسے کرہ کے گرد مستقل بہاؤ خطوط جو گھڑی کی سمت میں اسپن کرے ہوئے سیال سے گزر رہا ہے۔ (c) ایک ایرو فائل سے گزرکر بہتی ہوئی ہوا۔


جہاں �V2 اوپری سطح کے اوپر ہوا کی رفتار ہے اور �V1 نچلی سطح کے نیچے ہوا کی رفتار ہے۔
raftar
اوسط رفتار لیتے ہوئے
اای
اب ہمارے پاس ہے
ہمار
اس لیے پروں کے اوپر ہوا کی رفتار ، پروں کے نیچے ہوائی رفتار سے صرف 8% زیادہ ہونی چاہیے۔

10.5لزوجت :  (VISCOSITY)

زیادہ تر سیال ، مثالی نہیں ہوتے اورحرکت کو کچھ مزاحمت فراہم کرتے ہیں۔ سیال کی حرکت کی یہ مزاحمت ایک اندرونی رگڑ کی طرح ہے جو ایک ٹھوس کے ایک سطح پر حرکت کرنے میں رگڑ کے مشابہ ہے۔ اسے لزوجت (Viscosity) کہتے ہیں۔ یہ قوت اس وقت پائی جاتی ہے، جب رقیق کی پرتوں کے درمیان ایک دوسرے کی بہ نسبت حرکت ہو۔ فرض کیجیے ہم ایک سیال ، جیسے تیل، مان لیتے ہیں۔ جو دو شیشے کی پلیٹوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، جیسا شکل10.15(a) میں دکھایا گیا ہے ۔ نچلی پلیٹ قائم (fixed)ہے۔ جب کہ اوپری پلیٹ ، نچلی پلیٹ کی بہ نسبت vمستقلہ رفتار سے حرکت کرتی ہے۔ اگرتیل کی جگہ شہد لیا جائے ، تو پلیٹ کو یکساں رفتار سے حرکت دینے کے لیے مقابلتاًزیادہ قوت چاہیے ہوگی۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ شہد ، تیل کے مقابلے میں زیادہ لزوجی (Viscous)ہے۔ ایک سیال جو سطح کے ساتھ لمس میں ہو، اس کی رفتار وہی ہوگی جو سطح کی ہے۔ اس لیے سیال کی وہ پرت جو اوپری سطح کے ساتھ لمس میں ہے، رفتار vکے ساتھ حرکت کرتی ہے اور سیال کی وہ پرت جو قائم سطح کے ساتھ لمس میں ہے، ساکت ہے۔ پرتوں کی رفتاریں نچلی ترین پرت (صفر رفتار)سے اوپری ترین پرت (vرفتار)تک ہموار طور پر بڑھتی ہیں۔ رقیق کی کسی بھی پرت کو اس سے اوپر والی پرت آگے کی طرف ڈھکیلتی ہے، جب کہ نچلی پرت اسے پیچھے کی طرف کھینچتی ہے۔ اس کے نتیجے   میں تہوں کے درمیان قوت کام   کر تی ہے۔ اس قسم کے بہاؤ کو ورقی بہاؤ(laminar flow) کہتے ہیں۔ رقیق کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر اسی طرح پھسلتی ہیں، جس طرح اگرایک کتاب کو میز پر رکھ دیا جائے اوراس کے اوپر کے صفحے پر افقی قوت لگائی جائے تو کتاب کے صفحے پھسلتے ہیں۔ جب ایک سیال ایک پائپ یا ٹیوب میں سے بہ رہا ہوتا ہے، تو ٹیوب کے محور پر سے گذرنے والی سیال کی پرت کی رفتار سب سے زیادہ ہوتی ہے اور یہ رفتار ہم جیسے جیسے دیوار کی طرف حرکت کرتے ہیں، بتدریج کم ہوتی جاتی ہے، اوردیوارپر صفر ہوجاتی ہے، شکل 10.14(b)۔   ایک ٹیوب میں ایک استوانی سطح پر رفتار مستقلہ ہوتی ہے۔

اس حرکت کی وجہ سے ، رقیق کا ایک حصہ جس کی ایک وقت پر شکل ABCDتھی، مختصر وقفہ وقت Δt کے بعد ، اس کی شکل AEFDہو جاتی ہے۔ اس وقفہ وقت کے دوران ، رقیق میںΔx/lتحریفی بگاڑ ہوا ہے، کیونکہ ایک بہتے ہوئے رقیق میں بگاڑ وقت کے ساتھ لگاتار بڑھتا رہتا ہے ، اس لیے ٹھوس کے برخلاف، تجرباتی طور پر ذرر ، بگاڑ کی تبدیلی کی شرح یا بگاڑ شرح، یعنی v / Δt یا (Δx / (1 Δx کے متناسب ہوتا ہے، خود بگاڑ کے متناسب نہیں ہوتا۔ ایک سیال کے لیے لزوجت کے ضریب n (جس کا تلفظ ایٹا ہے)کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ تحریفی ذرر کی بگاڑ شرح سے نسبت ہے۔
dil
لزوجت کی SI اکائی پوائزل (PI)ہے۔ اس کی دوسری اکائیاں Nsm-2 یا Pa s ہیں۔لزوجت کے ابعاد [ML-1T-1]۔ عام طور سے پتلے رقیق جیسے پانی ، الکوحل وغیرہ ، گاڑھے رقیقوں جیسے تارکول ، خون، گلیسرین وغیرہ کے مقابلے میں کم لزج ہوتے ہیں۔ کچھ عام سیالوں کے لیے لزوجت کے  ضریب، جدول 10.2میں دیے گئے ہیں۔ ہم پانی اورخون کے بارے میں دو حقیقتوں کی نشاندہی کررہے ہیں، جو آپ کو دلچسپ معلوم ہوگی۔ جیسا جدول 10.2 سے ظاہر ہوتا ہے ، خون پانی کے مقابلے میں گاڑھا (زیادہ لزج) ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خون کی اضافی لزوجت pachas ،سے  تک کے درمیان مستقلہ رہتی ہے۔ 
charbi
ifta
شکل 10.14: (a)رقیق کی ایک پرت جو دو متوازی شیشے کی پلیٹوں کے درمیان ہے، جن میں سے نچلی پلیٹ اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور اوپری پلیٹ رفتار Vسے دائیں طرف حرکت کرتی ہے۔(b)ایک پائپ میں لزجی بہاؤ کے لیے رفتار تقسیم 

رقیقوں کی لزوجت درجہ حرارت کے ساتھ کم ہوتی ہے، جب کہ گیسوں کے لیے یہ بڑھتی ہے۔

مثال 10.9: دھات کے ایک مستطیل ٹکڑے کو ، جس کا رقبہ 0.10m ہے، ایک رسی کے ذریعے جو ایک گراری سے گذر رہی ہے، ایک 0.010kgکمیت سے منسلک کیا گیا ہے۔ (رسی کی کمیت اور رگڑ کو صفر مانا جاتا ہے )، جیساکہ شکل 10.15میں دکھایا گیاہے ۔ ایک رقیق ، جس کی فلم (پرت) موٹائی 0.30mmہے، ٹکڑے اور میز کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ چھوڑے جانے پر ٹکڑا مستقلہ رفتار 0.085ms-1 کے ساتھ دائیں طرف حرکت کرتا ہے۔ رقیق کا لزوجت کا ضرب معلوم کیجیے۔

بئس
شکل 10.15: رقیق کی لزوجت کی پیمائش

جواب : رسی میں تناؤ کی وجہ سے ، دھات کا ٹکڑا دائیں طرف حرکت کرتا ہے۔ رسی کے تناؤT، کی عددی قدر لٹکائی گئی کمیت mکے وزن کے مساوی ہے۔ اس لیے لا سمتی قوت Fہے۔

io
جدول 10.2: کچھ سیالوں کی لزوجت قدریں

سیال TC لزوجت
پانی 20 1.0
100 0.3
خون 37 2.7
مشین کا تیل 16 113
38 34
گلیسرین 20 830
شہد
200
ہوا 0 0.017

40 0.019

10.5.1 اسٹوکس کاقانون(Stokes’ law)

جب ایک جسم ایک سیال سے گذرتا ہے تو وہ سیال کی اس پرت کو جو اس کے لمس میں ہوتی ہے، اپنے ساتھ کھینچتا ہے۔ اس طرح سیال کی مختلف پرتوں میں ایک دوسرے کی مناسبت سے حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جسم ایک منفی اسراعی قوت محسوس کرتا ہے۔ ایک بارش کے قطرے کا گرنا یا ایک پنڈولم کا ڈولنا، ایک ایسی حرکت کی عام مثالیں ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ لزج قوت، شے کی رفتار کے متناسِب ہوتی ہے اور حرکت کی سمت کی مخالف سمت میں ہوتی ہے ۔ دوسری مقداریں جن کے یہ قوت تابع ہے، سیال کی لزوجتs61  اور کرہ کا نصف قطرa ایک انگریز سائنس داں، سر جورج جی، اسٹوکس (1819-1903) نے بتایا کہ یہ لزج کشید قوت( F (viscous drag force دی جاتی ہے:
mush

یہ اسٹوکس قانون کے بہ طور جانا جاتا ہے ۔ ہم اسٹوکس قانون کو مشتق نہیں کریں گے۔ یہ قانون ایک منفی اسراعی قوت کی دلچسپ مثال ہے۔ جورفتار کے متناسب ہے۔ ہم ایک لزج وسیلے سے گرتے ہوئے جسم پراس کے نتائج کامطالعہ کریں گے۔ ہم ہوا میں ایک بارش کا قطرہ تصور کرتے ہیں۔ شروعات میں یہ ارضی کشش کے سبب اسراع پذیر ہوتا ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، منفی اسراعی قوت بھی برھتی ہے۔ آخر میں، جب لزج قوت اور قوت اچھال مل کر ارضی کشش کی قوت کے برابرہو جاتی ہیں، تو کل قوت صفر ہو جاتی ہے اوراسراع بھی صفر ہو جاتا ہے۔ کرہ (بارش کا قطرہ)پھر ایک مستقلہ رفتار سے نیچے گرنے لگتا ہے ۔ اس لیے حالتِ توازن میں، یہ ختمی رفتار (Terminal vt Velocity) دی جاتی ہے:
تعرم
جہاںρ اور ، σحسب ترتیب، کرہ اور سیال کی کمیت کثافتیں ہیں۔ ہمیں حاصل ہوتا ہے
6 πnavt = (4π/3)(9n)
اس طرح، ختمی رفتار Vt�، کرہ کے نصف قطر کے مربع کے راست متناسب اور وسیلے کی لزوجت کے مقلوب متناسب ہے۔
آپ اس تناظر میں مثال (6.2)پردوبارہ غور کرنا چاہیں گے۔

مثال 10.10: 2mm نصف قطر کی تانبہ کی گیند20ºC کی �پر ایک تیل کی ٹنکی سے گرتے ہوئے ختمی رفتار cm-s 6.5  ہے۔ 20ºC� پر تیل کی لزوجت کا حساب لگائیے۔ تیل کی کثافت 1.5 x 103 kgm3� ہے اور تانبہ کی کثافت 8.9 x 103 kg m3 �ہے ۔
جواب : ہمارے پاس ہے :
av
                                                       hasth

10.6سطحی تناؤ(SURFACE TENSION)

آپ نے دیکھا ہوگا کہ تیل اور پانی آپس میں نہیں ملتے، پانی مجھے اور آپ کو گیلا کردیتا ہے ، لیکن بطخوں کو گیلانہیں کر تا ، پارہ گلاس کوگیلا نہیں کرتا، لیکن پانی اس سے چپک جاتا ہے، تیل ایک سوتی بتی میں کشش ارضی کے باوجود اوپر چڑھ جاتا ہے، عرق اور پانی درختوں کی پتیوں کے اوپری سرے تک چڑھ جاتے ہیں، ایک رنگ کرنے کے برش کے بال جب سوکھے ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ جب انہیں پانی میں ڈبو یا جا تا ہے، تب بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے، لیکن پانی سے باہر نکالنے پر آپس میں مل کر ایک باریک نوک بنا لیتے ہیں۔یہ تمام اور ایسے اوربہت سے تجربات رقیق کی آزاد سطحوں سے متعلق ہیں۔ کیونکہ رقیق اشیا کی کوئی معین شکل نہیں ہوتی، لیکن ان کا حجم معین ہوتا ہے، اس لیے جب انہیں ایک برتن میں انڈیلا جاتا ہے تو انہیں ایک آزاد سطح چاہئے ہوتی ہے۔ ان سطحوں میں کچھ اضافی توانائی ہوتی ہے۔ یہ مظہر سطحی تناؤ کہلاتا ہے۔ اور اس کا مشاہدہ صرف رقیق اشیا میں کیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ گیسوں میں آزاد سطحیں نہیں ہوتیں۔ آئیے اس مظہر کو سمجھیں۔

10.6.1سطحی توانائی(Surface Energy)

ایک رقیق اپنے مالیکیولوں کے درمیان آپسی کشش کی وجہ سے ایک ساتھ رہ پاتا ہے۔ رقیق کے خوب اندرکا ایک مالیکیول تصور کیجیے۔ بین مالیکیولیائی فاصلے ایسے ہیں کہ یہ ان تمام مالیکیولوں کے ذریعے کشش کیا جاتا ہے، جن سے یہ گھرا ہوا ہے۔ [شکل 10.16(a)] ۔ اس کشش کی وجہ سے مالیکیول کے لیے ایک منفی توانائی بالقوۃ پیدا ہوتی ہے جو اس منتخب کیے گئے مالیکیول کے گرد مالیکیولوں کی تعداد اور تقسیم پر منحصر ہوتی ہے۔ لیکن تمام مالیکیولوں کے ایک مجموعے (یعنی رقیق)کو لے کر اگر ان کی تبخیر کرنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے دور دورکرنا ہو تو درکار تبخیر کی حرارت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ پانی کے لیے یہ  kj /mol 40کے درجے کی ہے۔

اب ہم ایک مالیکیول سطح کے قریب تصور کرتے ہیں، شکل 10.16(b)۔ اس کی صرف نچلا نصف حصہ ہی رقیق کے مالیکیول سے گھرا ہوا ہے۔ ان کی وجہ سے کچھ منفی توانائی بالقوۃ ہوگی لیکن ظاہر ہے کہ یہ اس مالیکیول کی منفی توانائی بالقوۃ سے کم ہوگی جو پوری طرح رقیق کے اندر ہے۔یہ تقریباًاس کی نصف ہوگی۔ رقیق کی سطح کے مالیکیولوں میں رقیق کے اندر کے مالیکیول کے مقابلے میں کچھ زائد توانائی ہوتی ہے۔اس لیے ایک رقیق وہ کم سے کم سطحی رقبہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو باہری شرائط کے مطابق ممکن ہو۔ سطحی رقبے کو بڑھانے کے لیے توانائی درکار ہوگی۔ زیادہ تر سطحی مظاہر کو اس حقیقت کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک مالیکیول کو سطح پر رکھنے کے لیے کتنی توانائی درکار ہوگی۔ جیسا پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یہ تقریباًاس توانائی کی نصف ہوگی۔ جواس مالیکیول کو رقیق سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے لیے چاہئے، یعنی کہ تبخیری حرارت کی نصف ہوگی۔

آخری سوال ایک سطح کیا ہے؟ کیونکہ رقیق ایسے مالکیول پر مشتمل ہے جو ادھر ادھر حرکت کر رہے ہیں، اس لیے اس کی کوئی واضح سطح نہی ہو سکتی۔ ہم جب شکل 10.6 (c) میں دکھائی گئی سمت میں جاتے ہیں تو z = O کے گرد رقیق کی کثافت اتنی تیزی سے گرتی ہے کہ چند مالکیولی ناپوں کے درجے کے فاصلے میں ہی صفر ہو جاتی ہے۔ 

بھا
شکل 10.6: ایک رقیق کے اندرونی مالکیول، سطح کے مالیکیول اور قوتوں کے توازن کا خاکہ (a) رقیق کے اندرونی مالیکیول: ایک مالیکیول پر دوسرے مالیکیولوں کے ذریعے لگ رہی قوتیں دکھائی گئی ہے۔ تیروں کے نشان کی سمت کشش یا دفاع کو ظاہر کرتی ہے۔ (b) یہی بات سطح کے مالیکیول کے لیے (c) کششی (A) اور دفاعی (R) قوتوں کا توازن

10.6.2سطحی توانائی اور سطحی تناؤ
(Surface energy and surface tension)

جیسا کہ ہم پہلے بحث کر چکے ہیں کہ رقیقوں کی سطح سے ایک زائد توانائی منسلک ہوتی ہے، اس لیے مزید سطح تخلیق کرنے (سطح کو پھیلانا) کے لیے، دوسری چیزیں جیسے حجم کو معین رکھتے ہوئے ، مزید توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ، ایک افقی رقیق فلم تصور کیجیے جو ایک ایسی چھڑ پر ختم ہور ہی ہے جو متوازی چھڑوں کے کھانچے پر آزادانہ پھسل سکتی ہے ۔(شکل 10.17)
tanak
شکل 10.17 ایک فلم کو کھینچنا (a) ایک فلم جو توازن میں ہے (b) فلم جسے زائد فاصلے تک کھینچا گیا ہے۔

فرض کیجیے ہم چھڑ کو ایک چھوٹے فاصلے dسے حرکت دیتے ہیں، جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔ کیونکہ نظام کا رقبہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے نظام میں اب زیادہ توانائی ہے، اس کا مطلب ہوا کہ ایک اندرونی قوت کے خلاف کچھ کام کیا گیا ہے۔ فرض کیجیے کہ یہ اندرونی قوت Fہے ، اس لیے لگائی گئی قوت کے ذریعے کیا گیا کام ہے:F.d=Fd.، توانائی کی بقا سے ، یہ فلم میں بہ طور زائد توانائی ذخیرہ (جمع) ہو جاتی ہے ۔ اگر فلم کی سطحی توانائی فی اکائی رقبہ sہے، اور زائد رقبہ 2dlہے۔ ایک فلم کے دو اطراف ہوتے ہیں اور رقیق ان کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے دوسطحیں ہیں ، اورزائد توناائی ہے ۔
S (2dl) = Fd(10.23)
یا
S=Fd/2dl = F/21 (10.24)

و67

یہ مقدار سطحی توانائی کی عددی قدر ہے۔ یہ رقیق کے درمیانی رخ (Interface)کی قوت فی اکائی رقبہ کے مساوی ہے اور متحرک چھڑپر رقیق کے ذریعے لگائی گئی قوت فی اکائی لمبائی کے بھی مساوی ہے۔
ابھی تک ہم نے ایک رقیق کی سطح کے بارے میں بات کی ہے۔ عام طور سے ہمیں ایسی رقیق کی سطح دیکھنی ہوتی ہے جودوسرے سیالوں یا ٹھوس سطحوں سے لمس میں ہوتی ہے۔ اس صورت میں سطحی توانائی سطح کے دونوں طرف کے مادوں پر منحصر ہوتی ہے۔ مثلاً، اگر دونوں اشیا کے مالیکیول ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں، تو سطحی توانائی کم ہو جاتی ہے اور اگر وہ ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں، تو سطحی توانائی بڑھ جاتی ہے ۔ اس لیے، زیادہ درست طور پر، سطحی توانائی ، دو مادی اشیا کے درمیانی رخ کی توانائی ہے اور دونوں کے تابع ہے ۔  
ہم مندرجہ بالا بحث سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کر سکتے ہیں۔
(i) سطحی توانائی قوت فی اکائی لمبائی (یا توانائی فی اکائی رقبہ) ہے جو رقیق کے مستوی اورکسی دوسری مادی شے کے درمیانی رخ کے مستوی پر لگتی ہے ، یہ وہ زائد توانائی بھی ہے جو درمیانی رخ کے مالیکیولوں میں اندرونی مالیکیولوں کے مقابلے میں ہوتی ہے۔
(ii) حد کے علاوہ ، درمیانی رخ کے کسی بھی نقطے پر، ہم ایک خط کھینچ سکتے ہیں اور درمیانی رخ کے مستوی میں ، خط کے عمودی سمت میں لگتی ہوئی ، دو مساوی اورمخالف سطحی قوتیں Sفی اکائی لائن کی لمبائی تصور کر سکتے ہیں۔ یہ خط حالت توازن میں ہے۔ زیادہ مخصوص طور پرسمجھنے کے لیے ، سطح پر ایٹموں یا مالیکیولوں کا ایک خط تصور کریں۔ اس کے بائیں طرف کے ایٹم اسے اپنی طرف کھنچتے ہیں، اور دائیں طرف کے ایٹم سے اپنی طرف کھنچتے ہیں۔ اس لیے ایٹموں کا یہ خط ، تناؤ کے زیر اثر حالت توازن میں ہے۔ اگر یہ خط، درمیانی رخ کے بالکل خاتمے پر ہے (جیسا کہ شکل 10.16(a)اور (b)میں دکھایا گیا ہے ۔ تو صرف اندر کی طرف قوت Sفی اکائی لمبائی لگ رہی ہے ۔
جدول10.3میں مختلف رقیق اشیاء کے سطحی تناؤ کی قدریں دی گئی ہیں۔ سطحی تناؤ کی قدر درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ لزوجت کی طرح سطحی تناؤ میں بھی درجۂ حرارت بڑھنے سے کمی آتی ہے۔
جدول 10.3: کچھ رقیقوں کے نشان دہی کیے گئے درجات حرارت پر، سطحی تناؤ کی قدریں معہ تبخیری حرات  

رقیق درجہ حرارت سطحی تناؤ تبخیر کی حرارت
ہیلم 270- 0.000239 0.115
آکسیجن 183- 0.0132 7.1
ایتھانول 20 0.0227 40.6
پانی 20 0.0727 44.16
پارہ 20 0.4355 63.2

ایک رقیق ایک ٹھوس سطح سے اس وقت چپکے گا اگر رقیق اور ٹھوس کے درمیان سطحی توانائی ، ٹھوس ۔ہوا اور رقیق۔ہوا کے درمیان سطحی توانائی کے مجموعے سے کم ہو۔ اب ٹھوس سطح اور رقیق کے درمیان باہم کشش ہے۔ اس کو تجربہ کے ذریعے براہِ راست ناپا جا سکتا ہے، جیساکہ نقشہ شکل 10.18میں دکھایا گیا ہے۔ ایک چپٹی، عمودی شیشہ کی پلیٹ، جس کے نیچے کسی رقیق سے بھرا برتن رکھا ہے، ترازو کا ایک پلڑا تشکیل کرتا ہے۔ پلیٹ کو دوسری طرف کے اوزان سے اس طرح حالتِ توازن میں لا یا جاتا ہے کہ اس کا افقی کنارہ ، پانی کے بالکل اوپر ہو۔ برتن کو تھوڑا سا اوپر اٹھا یا جا تا ہے، یہاں تک کہ رقیق شیشہ کی پلیٹ سے چھو جائے اور سطحی تناؤ کی وجہ سے اسے تھوڑا سے نیچے کھینچ لے۔ پھر دوسری طرف پلڑے میں اتنا وزن بڑھا یا جاتا ہے کہ پلیٹ پانی سے باہر آجائے۔

til
شکل 10.8: سطحی تناؤ کی پیمائش

فرض کیجیے کہ زائد وزن Wہے۔ تب مساوات (10.24)اور اس بحث سے جو وہاں کی گئی ہے، رقیق ۔ ہوا درمیانی رخ کاسطحی تناؤہے:
Sla = (W/2l) = (mg/2l)                        (10.25)
جہاں mزائد کمیت اور lپلیٹ کے کنارے کی لمبائی ہے۔ زیریں علامات l–a اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ رقیق ہوا تناؤ شامل ہے ۔

10.6.3لمس کا زاویہ :   (Angle of contact)

ایک رقیق کی سطح، دوسرے وسیلے سے لمس کے مستوی کے قریب ، عام طور   پر خمیدہ ہوتی ہے۔ نقطہ لمس پر رقیق کی سطح پر کھینچے گئے مماس اور رقیق کے اندر ٹھوس سطح کے درمیان بنے زاویے کو زاویہ لمس کہتے ہیں۔ اسے 70سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ رقیق اورٹھوس اشیا کے مختلف جوڑوں کے درمیانی رخ پر مختلف ہوتا ہے ۔  70کی قدر سے یہ طے ہوتا ہے کہ رقیق، ٹھوس کی سطح پر پھیل جائے گا یا اس پر قطرے بنیں گے۔ مثال کے طور پر پانی کنول کی پتّی پر قطرے بناتا ہے، جیسا کہ شکل 10.19(a)میں دکھایا گیا ہے اور پلاسٹک کی پلیٹ پر پھیل جاتا ہے،جیسا کہ شکل 10.19(b)میں دکھایا گیا ہے۔

ہم تینوں باہر رخوں پر تینوں باہمی رخوں کے تناؤ لیتے ہیں، جو باہمی رخ ہیں: رقیق۔ ہوا۔ ٹھوس۔ رقیق اور تناؤ ہیں بالترتیب ، Ssl, Ssa , Sla جیساکہ شکل 10.19 (a) اور (b) دکھایا گیا ہے۔ لمس کے خط پر تینوں وسیلوں کے درمیان سطحی قوتوں کا توازن میں ہونا لازم ہے۔ شکل 10.19 (a) سے مندرجہ ذیل رشتہ با آسانی مشتق کیا جا سکتا ہے۔ 
مشت
اگر Ssl > Sla ہو، جیساکہ پانی پتی درمیانی رخ میں ہوتا ہے، تو لمس زاویہ ایک منفرد زاویہ (obtuse angle) ہوتا ہے اور اگر Ssl < Sla جیساکہ پانی۔ پلاسٹک درمیانی رخ میں ہوتا ہے۔ جب ابق ایک منفرد زاویہ ہوتا ہے، تو رقیق کے مالیکیول آپس میں بہت زیادہ کشش کرتے ہیں اور ٹھوس سطح کے مالیکیولوں سے ان کی کشش کمزور ہوتی ہے۔ اس لیے رقیق۔ ٹھوس سطح تخلیق کرنے کے لیے بہت زیادہ توانائی چاہیے ہوتی ہے، اوراس لیے رقیق ، ٹھوس کو گیلا نہیں کرتا ۔ پانی کے ساتھ مو می یا تیل والی (چکنی) سطحوں پرایسا ہی ہوتا ہے، اور پارہ کے ساتھ ایسا ہر سطح پر ہوتا ہے۔ دوسری طرف ، اگر رقیق کے مالیکیولوں اور ٹھوس کے  مالیکیولوں کے درمیان کشش بہت زیادہ ہوتی ہے، تو  73کم ہو جائے گا اور اس لیے  74بڑھ سکتا ہے، یا  70کم ہو سکتا ہے ۔ اس صورت میں  70ایک حادہ زاویہ ہے۔ یہی پانی کے ساتھ شیشے پر یا پلاسٹک پر ہوتا ہے اورمٹی کے تیل کے ساتھ تقریباًہر چیز پر (مٹی کا تیل فوراًپھیل جاتا ہے)۔صابن ، ڈٹرجنٹ (Detergent)اور رنگنے کی اشیاء گیلا کرنے والے ایجنٹ ہیں۔ جب انہیں شامل کیا جا تا ہے تو لمس زادیہ چھوٹا ہو جاتا ہے تاکہ یہ اندر تک داخل ہوسکیں اورموثر ہوسکیں۔ دوسری طرف وہ ایجنٹ جو واٹر پروف (پانی سے حفاظت کرنے کے لیے )بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، شامل کیے جانے پر پانی اور ریشوں کے درمیان بڑازایۂ لمس بناتے ہیں۔  
شکل
شکل 10.19 درمیانی رخوں کے تناؤ کے ساتھ پانی کے قطروں کے مختلف شکلیں (a) ایک کنول کی پنی پر (b) ایک صاف پلاسٹک کی پلیٹ پر

  10.6.4   قطرے اور بلبلے

  (Drops and bubbles)

سطحی تناؤ کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ پانی کے آزاد قطرے اوربلبلے ، کروی شکل کے ہوتے ہیں، اگر ارضی کشش کے اثرات کو نظر انداز کیا جا سکے ۔ آپ نے تیز رفتار چھڑکاؤ میں یہ چھوٹے قطرے بنتے ہوئے ضرور دیکھے ہوں گے اور بچپن میں صابن کے بلبلے بھی بنائے ہوں گے۔ قطرے اور بلبلے کروی کیوں ہوتے ہیں؟صابن کے جھاگ کو کیا چیز مستحکم رکھتی ہے؟
ہم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک رقیق ۔ ہوا درمیانی رخ میں توانائی ہوتی ہے، اس لیے ایک دیے ہوئے حجم کے لیے سب سے کم توانائی کی سطح وہ ہوگی ، جس کا سطحی رقبہ سب سے کم ہو ۔ کرہ کی یہ خاصیت ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ اس کتاب کے معیار کے دائرہ سے باہر ہے، آپ خود جانچ سکتے ہیں کہ کرہ اس معاملے میں کم سے کم کعب سے تو بہتر ہے ۔ اس لیے اگر ارضی کشش اوردوسری قوتیں (مثلاًہوا کی رگڑ ) غیر موثر ہوں تو رقیق کے قطرے کروی ہوںگے۔
سطحی تناؤ کا ایک دوسرا دلچسپ نتیجہ یہ ہے کہ ایک کروی قطرے کے اندرون دباؤ، شکل 10.20 (a)، قطرے کے باہر کے دباؤ سے زیادہ ہوتا ہے ۔ فرض کیجیے کہ نصف قطرہ 'r'کا ایک کری قطرہ توازن میں ہے۔ اگر اس کے نصف قطر میں reng  کا اضافہ ہو تو زائد سطحی توانائی ہے:
ali
اگر قطرہ حالت توازن میں ہو تو یہ توانائی، اس توانائی سے متوازن ہوگی جو بلبلے کے اندر اور باہر کے دباؤ فرق (Pi-Pº) کے زیر اثر پھیلنے میں حاصل ہوتی ہے۔ 
املا

عمومی طور پر، ایک رقیق۔ گیس درمیانی رخ کے لیے ، حدبی طرف، جو فی طرف سے زیادہ دبا ؤ ہوتا ہے۔ مثلاًایک رقیق میں ایک ہوا کے بلبلے میں اندر کی طرف زیادہ دباؤ ہوگا ۔ دیکھیے شکل 10.20(b)
چارجر
شکل 10.20 نصف قطر ، r کا قطرہ ، جوف اور بلبلہ

ایک بلبلہ (شکل 10.20(c)) ایک قطرہ یا جوف سے اس طور پر مختلف ہے کہ اس میں دو درمیانی رخ ہوتے ہیں۔ مساوات(10.29)کی طرح، اب بلبلے کے لیے ہم لکھ سکتے ہیں:
sharib
اسی لیے شاید آپ کو بلبلے بنانے کے لیے زور سے ، لیکن بہت زور سے نہیں، پھونکنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اندر تھوڑا زائد ہوا کا دباؤ درکار ہوتا ہے۔

10.6.5شعری چڑھاؤ   (Capillary Rise)

ایک خمیدہ رقیق۔ ہوا درمیانی رخ کے اطراف میں دباؤ کے فرق کے ہونے کا ایک معروف اثر یہ ہے کہ پانی ایک پتلی ٹیوب میں، ارضی کشش کے باوجود ، اوپر چڑھ جاتا ہے۔ لاطینی میں لفظ (Capilla)کے معنیٰ ہیں بال، اگر ٹیوب بال جیسی باریک ہو، تو چڑھاؤ بہت اوپر تک ہوگا۔ اسے دیکھنے کے لیے ، ایک
kajal
شکل 10.21 شعری چڑھاؤ (a) ایک پتلی ٹیوب کا خاکہ جو پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ (b) درمیانی رخ کے قریب، تکبیر شدہ تصویر

دائری تراشی رقبہ (نصف قطرa)کی ایک شعری نلی لیجیے ، جسے پانی کے کھلے برتن میں عمودی کھڑا کردیجیے۔ (شکل 10.21)پانی اورشیشہ کے درمیان لمس زاویہ ،حادیہ ہے، اس لیے شعری نلی میں پانی کی سطح جو فی ہوگی۔ اس کا مطلب ہوا کہ سب سے اوپر کی سطح کے دونوں طرف دباؤ میں فرق ہے۔ یہ فرق دیا جا تا ہے :
shampoo
جہاں p پانی کی کثافت ہے اور h شعری چڑھاؤ (Capillary rise) کہلاتا ہے۔ (شکال 10.21 (a))۔ اور مساوات (10.32) سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
بیکاپ
یہاں مساوات (10.28) اور مساوات (10.29) کے ساتھ دی گئی بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شعری چڑھاؤ کی وجہ سے سطحی تناؤ ہے۔ یہ کچھ سینٹی میٹر کے درجہ کا ہوتاہے۔ مثلا، اگر (a=0.05cm), پانی کے سطحی تناؤ کی قدر (جدول 10.3) استعمال کرتے ہوئے ہمیں حاصل ہوتا ہے،
سا
نوٹ کریں کہ اگر رقیق کی ہلالی سطح حد بی (Convex) ہے، جیسے کہ پارہ کی ہوتی ہے، یعنی کہ اگر چہس cos منفی ہے، تب مساوات (10.32) سے یہ واضح ہے کہ رقیق کی سطح شعری نلی میں نیچی ہوگی۔

10.6.6میل کاٹ (ڈٹرجنٹ) اور سطحی تناؤ
(Detergents and Surface Tension)

سوتی اور دوسرے کپڑوں پر جب چکنائی تیل وغیرہ کے دھبے لگ جاتے ہیں یا وہ میلے ہو جاتے ہیں تو انہیں دھونے کے لیے ہم پانی میں میل کاٹ (Detergent)یا صابن ملاتے ہیں، پھر کپڑوں کو اس پانی میں ڈوباتے ہیں اور انہیں رگڑتے ہیں۔ آئیے اس عمل کو بہتر طور پر سمجھیں ۔
پانی کے ساتھ دھونے سے چکنائی کے دھبے نہیں صاف ہوتے۔ کیونکہ پانی چکنی گندگی کو گیلا نہیں کرتا۔ اگر پانی چکنائی کو گیلا کر سکتا ہو تو پانی کا بہاؤ کچھ چکنائی بہالے جاتا ۔ اس طرح کی کچھ کامیابی پانی میں میل کاٹ ملادینے سے حاصل ہوتی ہے۔ میل کاٹ کے مالیکولوں کی شکل بالوںمیں لگانے کی پن (Hair pin) کی شکل جیسی ہوتی ہے، جس کا ایک سرا پانی سے جڑا ہوتا ہے اور دوسرا چکنائی تیل یا موم کے مالیکول سے ۔ اس طرح یہ پانی– تیل درمیان رخوں کو بناتا ہے۔ اس کا نتیجہ شکل (10.22)میں شکلوں کے ایک سلسلے کے ذریعے دکھایا گیا ہے ۔
sabun
صابن کے لیے مالیکیول جن کے سر پانی سے منسلک ہیں
اس
چکنی گندگی کے ذرات کا
پانی
پانی ڈالا جاتا ہے، مگر گندگی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی
najebb
میل کاٹ شامل کیا جاتاہے۔ اس کے مالیکیولوں کے غیر فعال مومی سرحدوں کی طرف کشش کرتے ہیں، جہاں پانی گندگی سے ملتا ہے۔
گندی
غیر فعال کنارے گندگی گو گھیرتے ہیں اور گندگی اب پانی بہانے سے اپنی جگہ سے ہٹائی جاسکتی ہے۔
مالیکیول
گندگی صابن کے مالیکیولوں سے گھری ہوئی لٹکی رہتی ہے۔
شکل 10.22: میل کاٹ کے مالیکیول جو کرتے ہیں، اس کی شکل مییں میل کاٹ کا عمل

ہم اپنی زبان میں کہیں گے کہ میل کاٹ ملادینے سے، جس کے مالیکیول ایک سرے پر پانی کو کشش کرتے ہیں اوردوسرے سرے پر میل، جیسے تیل، کو۔   سطحی تناؤ (پانی۔ تیل)بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اورایسے درمیانی رخوں کا بننا، توانائی کی مناسبت سے ساز گار بھی ہوسکتا ہے، جیسے گندگی کے کُرّے جو تیل کاٹ سے گھرے ہوتے ہیں اورپھر پانی سے گھرے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے عمل جن میں سطحی فعال میل کاٹ استعمال ہوتے ہیں، صرف صفائی کرنے کے لیے اہم نہیں ہیں بلکہ تیل اور کچے دھات وغیرہ حاصل کرنے میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے ۔

مثال 10.11: ایک بیکر میں شعری نلی کا نچلا سرا پانی کی سطح سے 8.00cm نیچے تک ڈبویا گیا ہے۔ نلی کا قطر 2.00mm ہے۔ نلی کے پان میں ڈوبے سرے پر ایک نصف کری بلبلہ پیدا کرنے کے لیے نلی میں کتنا دباؤ چاہیے ہوگا؟ تجربہ کے درجۂ حرارت پر پانی کا سطحی تناؤ 1=1.01x105Pa فضائی، 1000kg/m3= پانی کی کثافت، g=9.80ms-2 زائد دباؤ کا بھی حساب لگائیے۔

جواب : ایک رقیق میں ایک گیس کے بلبلے میں زائد دباؤ 2S/rسے دیا جاتا ہے، جہاں S، رقیق۔ گیس درمیانی رخ کا سطحی تناؤ ہے۔ آپ کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس صورت میں رقیق کی صرف ایک سطح ہے (ایک گیس میں ایک رقیق کے بلبلے  کے  لیے دو رقیق سطحیں ہوتی ہیں، اورزائد دباؤ کے لیے ، اس صورت میں فارمولا ہے (4S/r))۔ اب بلبلے کے باہر دباؤ85 فضائی دباؤ اور 8.00cmپانی کے کالم کی وجہ سے دباؤ کے حاصل جمع کے مساوی ہے۔ یعنی کہ
bhot
اس لیے ، بلبلے کے اندردباؤ ہے  
                                                        google
chachiyan
جہاں بلبلے کے نصف قطر کو شعری نلی کے نصف قطر کے مساوی لیا گیا ہے، کیونکہ بلبلہ نصف کری ہے۔ جواب تین قابل لحاظ ہندسوں تک درست ہے۔   بلبلے میں زائد دباؤ 146 Paہے۔

خلاصہ

1.   ایک رقیق کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ وہ بہہ سکتا ہے۔ سیال اپنی شکل کی تبدیلی کی کوئی مزاحمت نہیں کرتے ۔ اس لیے سیال کی شکل وہی   ہوتی جو اس برتن کی ہوتی ہے، جس میں سیال رکھا جاتا ہے۔  
2.   رقیق غیرداب پذیر ہے اوراس کی اپنی ایک آزاد سطح ہوتی ہے۔ گیس داب پذیر ہے اورجتنی جگہ اس کے لیے موجود ہوتی ہے، وہ اس سب جگہ میں پھیل جاتی ہے۔
3.   اگر ایک سیال کے ذریعے رقبہ Aپر لگائی گئی عمودی قوت Fہو تو اوسط دباؤ کی تعریف بہ طور قوت کی رقبہ سے نسبت کی جاتی ہے :
muraqba
4. دباؤ کی اکائی پاسکل (Pa) ہے۔ یہ Nm-2 ہے۔ یہ Nm-2 کے یکساں ہے۔ دباؤ کی دوسری عام اکائیاں ہیں۔
1 atm = 1.01x105 Pa, 1 bar = 105 Pa
1 mm of Hg = 1 torr = 133 Pla torr = 133 Pa = 0.133 kPa
5. پاسکل کے قانون کا بیان ہے: ایک سیال، جو حالت سکون میں ہو، اس کے ان تمام نقاط پر دباؤ یکساں ہوتا ہے جو یکساں بلندی پر ہوتے ہیں۔ ایک گھرے ہوئے سیال پر لگائے دباؤ میں کی گئی تبدیلی، بغیر کسی کمی کے سیال کے ہر نقطہ اور اس برتن کی دیواروں پر ترسیل ہوجاتی ہے۔

6. ایک سیال میں دباؤ گہرائی h  کے ساتھ مندرجہ ذیل ریاضیاتی عبارت کے مطابق تبدیل ہوتا ہے: P=Pa+pgh, جہاں p, سیال کی کثافت ہے، جسے یکساں مانا گیاہے۔

7. ایک قائم بہاؤ میں ایک غیر یکساں تراش کے پائپ میں سے کسی بھی نقطہ پر ایک سیکنڈ میں گزرنے والے غیر داب پذیر سیال کا حجم یکساں ہوتا ہے۔
مستقلہ =VA (رفتارV ہے اور A تراشی رقبہ ہے) 
یہ مساوات، غیر داب پذیر سیال کے بہاؤ میں کمیت کی بقا کا نتیجہ ہے۔

8. برنولی کے اصول کا بیان ہے: ہم جب مستقل بہاؤ خط پر حرکت کرتے ہیں، تو دباؤ (P), حرکی توانائی فی اکائی حجم (pv2 / 2) اور توانائی بالقوۃ فی اکائی حجم (pgy) کا حاصل جمع ایک مستقلہ ہوتا ہے:
مستقلہ = P + pv2 / 2+ pgy  
یہ مساوات، قائم بہاؤ میں غیل لزج سیال کی حرکت پر تونائی کی بقا کے اطلاق کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایسا کوئی سیال نہیں ہے جس کی لزوجت صفرہو، یہ بیان نزدیکی طورپر ہی درت ہے۔ لزوجت، رگڑ کی طرح ہے اور حرکی توانائی کو حرارتی توانائی میں تبدیل کردیتی ہے۔ 

9.   حالاکہ ایک ایسا سیال تحریفی بگاڑ کے لیے تحریفی ذرر کی ضرورت نہی ہوتی، لیکن جب ایک سیال پر تحریفی ذرر لگایا جاتا ہے، تو ایسی حرکت پیدا ہوتی جو تحریفی بگاڑ میں وقت کے ساتھ اضافہ کرتی جاتی ہے۔ تحریقی ذرر کی تحریفی بگاڑ کی شرح وقت سے نسبت، لزوجت کا ضریب ن کہلاتی ہے۔
ین, جہاں علامتیں اپنے عام معنوں میں استعمال ہوئی ہیں اور متن میں معروف کی جاچکی ہیں۔

10.  اسٹوکس کے قانون کا بیان ہے کہ لزوجت لزوجت والے سیال میں رفتار v سے گزرتے ہوئے، نصف قطر 'a' کے کرہ پر لگنے والی لزج کشید قوت F ہے:eba

11.  سطحی تناؤ، وہ قوت فی اکائی لمبائی (یا سطحی تونائی فی اکائی رقبہ) ہے جو رقیق اور اسے گھیرنے والی سطح کے درمیانی رخ کے مستوی میں لگتی ہے۔ یہ وہ زائد توانائی ہے جو ایک درمیانی رخ کا مالیکیول، رقیق کے اندر کے مالیکیول کے مقابلے میں رکھتا ہے۔

قابل غور نکات:

1. دباؤ ایک غیرسمتی (عددی)مقدار ہے۔ دباؤ کی تعریف بہ طور’’قوت فی اکائی رقبہ‘‘یہ غلط فہمی پیدا کرسکتی ہے کہ دباؤ ایک سمتی ہے۔ اس تعریف کے شمار کنندہ میں ’’قوت‘‘ در اصل قوت کا وہ جزو ہے جو اس رقبہ پر عمود ہے، جس پروہ دباؤ لگایا گیا ہے۔ سیالوں کو بیان کرنے کے لیے، ذراتی اور استوار جسم میکانیت کے تصورات سے الگ ہٹ کرسوچنا ضروری ہے۔ یہاں ہم ان خاصیتوں کی بات کر رہے ہیں جو سیال میں ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر تبدیل ہو جاتی ہیں۔

2. ہمیں ایک سیال کے دباؤ کے بارے میں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ دباؤ صرف ایک ٹھو س ، جیسے برتن کی دیواروں یا سیال میں ڈوبے ہوئے مادے کے ٹھوس ٹکڑے پر ہی لگ رہا ہے ۔دباؤ سیال کے ہر نقلے پر موجود ہوتا ہے ۔ سیال کا ایک جزو (جس طرح کاشکل 10.2میں دکھایا گیا ہے ) توازن میں اس لیے ہوتا ہے کیونکہ مختلف رخوں پرلگ رہے دباؤ مساوی ہوتے ہیں۔

3. دباؤ کے لیے ریاضیاتی عبارت P = Pa + pgh صادق ہے، اگر سیال غیر داب پذیر ہو۔ عملی شکل میں یہ رقیق اشیا کے لیے درست ہے، جو بڑی حد تک غیر داب پذیر ہوتی ہیں، اور اس لیے دباؤ ایک اونچائی کے لیے مستقلہ ہے۔

4. گیج دباؤ، اصل دباؤ اور فضائی دباؤ کا فرق ہے: P - Pa = Pg
کئی دباؤ ناپنے والے آلات گیج دباؤ ناپتے ہیں۔ ان میں ٹائر دباؤ گیج اور خون دباؤ گیج بھی شامل ہیں۔ 

6. اگر رقیق پر لزج کشید (Viscous Drag) کام کر رہی ہو تو برنولی کا صول درست نہی ہے۔ اس صورت میں، اس اسرافی قوت (Dissipative force) کے ذریعے کیے گئے کام کو بھی حساب میں لینا ہوگا اور P2 (شکل 10.9), مساوات (10.12) دی جانے والے قدر سے کم ہوگا۔

7. جیسے جیسے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، رقیق کے ایٹموں کی حرکت میں بھی اضافہ ہوتاہے اور لزوجت کا ضریب h کم ہو جاتا ہے۔ ایک گیس میں درجۂ حرارت میں اضافہ، ایٹموں کی بے ترتیب حرکت میں اضافہ کرتا ہے اور h بڑھ جاتا ہے۔

8. آشوبیت کی شروعات کے لیے، فاصل رینالڈس عدد کی وسعت (Range) , 1000 سے 10000 ہے، جو بہاؤ کی جیومیٹری کے تابع ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں Re > 1000 کے معنی ہوتے ہیں کہ بہاؤ ورقی بہاؤ ہوگا، habba کے غیر مستقل بہاؤ اور Re > 2000 آ شوبی ہوگا۔

9. سطحی تناؤ رقیق کے اندرون ایک مالیکیول کی توانائی بالقوۃ کے مقابلے میں، رقیق کی سطح پر مالیکیول کی زائد توانائی بالقوۃ کی وجہ سے پیدا ہوتاہے۔ ایسی سطح توانائی دو اشیا کو جداکرنے والے اس درمیانی رخ پر پائی جاتی ہے، جن میں سے کم از کم ایک رقیق ہو۔ یہ صرف ایک تنہا رقیق کی خاصیت نہیں ہے۔


طبعی مقدار علامت ابعاد اکائی ریمارک
دباؤ P [ML-1T-2] پاسکل(Pa) لا سمتی،1 atm = 1.013 x 105 px
کثافت r [ML-3] Kgm3 لاسمتی
نوعی کثافت
نہیں نہیں لاسمتی، شے r/ پانی r
لزوجت کا ضریب h [ML-1T-1] PaSیاپوآئےسی لیس(PL) لاسمتی
رینالڈ کا عدد Re نہیں نہیں لاسمتی Re = rnd⁄h
سطحی تناؤ S [MT-2] Nm-1 لاسمتی

مشق 

10.1 وضاحت کیجیے کہ کیوں

(a) انسانوں میں دماغ کے مقابلے میں پیروں پرخون کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔
(b) 6km کی بلندی پر، فضائی دباؤ کی قدر ، اس کی سطح سمندر پر قدر کی تقریباً آدھی رہ جاتی ہے، جب کہ فضا کی بلندی 100Kmسے زیادہ ہے۔

10.2 وضاحت کیجیے کیوں

(a) شیشے کے ساتھ پارہ کا زاویہ لمس، منفرجہ ہے جب کہ شیشے کے ساتھ پانی کا زاویہ لمس، حارہ ہے۔
(b)   پانی ایک صاف شیشے کی سطح پر پھیل جاتا ہے ، جبکہ پارہ اسی سطح پر قطرے بنالیتا ہے۔ (دوسرے الفاظ میں : پانی شیشے کوگیلا کردیتا ہے ، جبکہ پارہ نہیں کرتا)
(c) رقیق کا سطحی تناؤ، سطح کے رقبہ کے تابع نہیں ہے۔
(d) ایک ایسے پانی کے ، جس میں میل کاٹ گھلا ہوا ہو، لمس کے زاویے چھوٹے ہونا چاہئیں۔
(e) ایک ایسے رقیق کے قطرے کی شکل، جس پر کوئی باہری قوت نہیں لگ رہی ہو، ہمیشہ کروی ہوتی ہے۔

10.3 ہر بیان کے ساتھ دی ہوئی فہرست میں سے لفظ منتخب کر کے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔

(a) درجہ حرارت کے ساتھ، رقیق اشیاء کا سطحی تناؤ ، عام طور سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(بڑھتا ہے، کم ہوتا ہے )
(b) درجہ حرارت کے ساتھ ، گیسوں کی لزوجت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ   رقیق اشیاء کی لزوجت درجہ حرارت کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بڑھتی ہے، کم ہوتی ہے )
(c) تحریفی مقیاس والی ٹھوس اشیاء کے لیے، تحریفی قوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے متناسب ہے، جبکہ سیالوں کے لیے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے متناسب ہے (تحریفی بگاڑ، تحریفی بگاڑ کی شرح)
(d) ایک سیال کے لیے ، جو قائم بہاؤ کے ساتھ بہہ رہا ہو، پائپ کے پتلے مقام پر بہاؤ کی رفتار میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے تحت ہوتا ہے (کمیت کی بقا/برنولی کا اصول)
(e) ایک جہاز کے اس ماڈل میں جو ہوائی سرنگ میں ہو، آشوبیت اس رفتار پرپیدا ہوتی ہے جو ایک اصل جہاز میں آشوبیت پیدا ہونے کی رفتار سے ہوتی ہے ( کم /زیادہ)

10.4 وضاحت کیجیے کیوں

(a) ایک کاغذ کے ٹکڑے کو افقی رکھنا چاہتے ہوں تو اس کے اوپر پھونکنا چاہیے،اس کے نیچے نہیں۔
(b) جب ہم پانی کی ٹونٹی کو اپنی انگلیوں سے بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہماری انگلیوں کے درمیان سے پانی تیزی سے بہتا ہے۔
(c) ایک انجکشن لگاتے وقت ڈاکٹر کے ذریعے انگوٹھے سے لگائے گئے دباؤ کے مقابلے میں سرنج کی سوئی کا ناپ بہاؤ کی شرح کو بہتر طور پر کنٹرول کرتا ہے۔
(d) ایک برتن کے ایک چھوٹے سوراخ میں سے باہر بہتا ہوا سیال ، برتن پر پیچھے کی جانب ایک دھکا لگاتا ہے۔
(e) ایک اسپن کرتی ہوئی کرکٹ کی گیند کا، ہوا میں گذرتے ہوئے، خط حرکت مکافی نہیں ہوتا۔

10.5 اونچی ایڑی کے جوتے پہنے ہوئے ایک 50Kgکمیت کی لڑکی خود کو ایک ایڑی پر حالت توازن میں لاتی ہے۔ ایڑی کی شکل دائری ہے اور اس کا قطر 1.0cmہے۔ افقی فرش پر ایڑی کے ذریعے کتنا دباؤ لگے گا؟

10.6 ٹوریسیلی کے بیرومیٹر میں پارہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ پاسکل نے اس کی جگہ 90کثافت والی فرانسیسی شراب استعمال کی۔ نارمل فضائی دباؤ کے لیے شراب کے کالم کی اونچائی معلوم کیجیے۔

10.7 سمندر کے کنارے ایک تنصیبی عمارت بنائی گئی جو زیادہ سے زیادہ91ذرر برداشت کرسکتی ہے۔ کیا یہ عمارت سمندر میں ایک تیل کے کنویں کے اوپر کھڑی کی جانے کے لیے مناسب ہے ؟سمندر کی گہرائی تقریباً3Kmمان لیجیے اورسمندر کی لہروں کو نظر انداز کر دیجیے۔

10.8 ایک آبی لفٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 3000Kgکمیت کی گاڑیوں کو اٹھا سکے ۔وزن اٹھانے والے پسٹن کا تراشی رقبہ  92ہے۔ چھوٹے پسٹن کوزیادہ سے زیادہ کتنا دباؤ برداشت کرنا ہوگا؟

10.9 ایک -Uٹیوب میں پانی اور میتھائل کیا ہوا اسپرٹ ہے، جن کو ایک دوسرے سے پارہ کے ذریعے علیحدہ کیا گیا ہے۔ ٹیوب کے پانی والی بازد میں پارہ کی سطح 10.0cmاور پانی کے ساتھ ہے اوراسپرٹ والے بازو میں پارہ کی سطح
  12.0cm اسپرٹ کے ساتھ ہے۔ اسپرٹ کی نوعی کثافت کیا ہے؟

10.10 اگر ااوپروالے مسئلے (10.9)میں پانی والے بازو میں 15.0cmمزید پانی اوراسپرٹ والے بازو میں مزید 15.0cm اسپرٹ ملادیا جائے تو دونوں بازؤوں میں پارہ کی سطح میں کیا فرق ہوگا؟(پارہ کی نوعی کثافت 13.6ہے )

10.11 کیا برنولی مساوات کا استعمال ایک دریا میں ایک ڈھلان سے بہتے ہوئے پانی کے بہاؤ کو بیان کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔

   10.12 اگرہم برنولی مساوات میں مطلق دباؤ کی جگہ گیج دباؤ کی قدریں استعمال کریں تو کیا کوئی فرق پڑتا ہے ؟ وضاحت کیجیے۔

   10.13 گلیسرین ایک 1.5cmلمبی اور 1.0 cmنصف قطر کی افقی ٹیوب میں قائم بہاؤ کے ساتھ بہتی ہے ۔ اگر ایک سیکنڈ میں سرے پر اکٹھا کی جانے والی گلیسرین کی مقدار  93تو ٹیوب دونوں سروں کے درمیان دباؤ فرق کتنا ہے؟94گلیسرین کی کثافت، =0.83 Pasگلیسرین کی لسوجت ]آپ یہ بھی جانچنا چاہیں گے کہ ٹیوب میں ورقی بہاؤ کا مفروضہ درست ہے یا نہیں)

  10.14 ایک جہاز کے ماڈل کو جانچنے کے لیے ایک ہوائی سرنگ میں کیے گئے تجربے میں ، پر کی اوپری اور نچلی سطحوں پربہاؤ کی رفتاریں ، بالترتیب  95ہیں ۔ پر پر لگ رہی اٹھان (لفٹ) کیا ہوگی اگر اس کا رقبہ  96ہے ؟ہوا کی کثافت  97مان لیجیے۔

10.15 شکل 10.23(a)اور شکل 10.23(b)ایک غیر لزج سیال کے قائم بہاؤ کو دکھاتی ہیں۔ دونوں میں سے کون سی درست ہے؟ کیوں؟
sss
شکل 10.23
10.16 ایک چھڑکا ؤ کرنے کے پمپ (Spray Pump)کی استوانی ٹیوب کا تراشی رقبہ99ہے۔ اس کے ایک سرے پر 40باریک باریک سوراخ ہیں۔ ہرسوراخ کا قطر1.00mmہے۔ اگر ٹیوب کے اندر رقیق کے بہاؤ کی رفتار  100ہے، توسوراخوں سے رقیق کے باہرنکلنے کی رفتار کیا ہوگی؟

  10.17 ایک Uشکل کے تار کو صابن کے محلول میں ڈبویا گیا اور باہر نکال لیا گیا ۔ تار اور ایک ہلکے پھسلواں (Slider) کے درمیان بنی پتلی صابن کی فلم 101وزن کو سہارا دیتی ہے، جس میں پھسلواں کا وزن بھی شامل ہے۔ پھسلواں کی لمبائی 30cmہے۔ فلم کا سطحی تناؤ کیا ہے ؟

10.18 شکل 10.24(a)میں ایک پتلی فلم دکھائی گئی ہے جو ایک چھوٹے وزن ،102کو سہارا دے رہی ہے۔ اسی رقیق کی اسی درجۂ حرارت پر شکل (b)اور شکل (c)میں دکھائی گئی فلمیں کتنے وزن کوسہارا دے سکتی ہیں؟
اپنے جواب کی طبعی طور پر وضاحت کیجیے۔
history
شکل 10.24
   10.19 کمرہ درجہ حرارت پر 3.00mmنصف قطر کے پارہ کے ایک قطرے کے اندر کتنا دباؤ ہوگا ؟ اس درجہ حرارت پر
104
  زائد دباؤ بھی معلوم کیجیے۔

10.20 صابن کے محلول کے 5.00mmنصف قطر کے بلبلے کے اندرون زائد دباؤ کیا ہوگا؟ دیا ہے کہ صابن کے محلول کا اس
105
    40.0cmکی گہرائی پر بنتا ہے، جس میں 1.20اضافی کثافت کا صابن کا محلول ہے، تو اس بلبلے کے اندر زائد دباؤ کیا
106

اضافی مشق  

  10.21 ایک ٹنکی کو، جس کے مربع قاعدے کا رقبہ1.0m2ہے، ایک انتصابی تقسیم (Partition)کے ذریعے درمیان سے دو برابر حصوں میں بانٹ دیا گیا ۔ تقسیم کے پیندے پرایک چھوٹا ،قلابے سے اٹکا ہوا ،  20m2 رقبہ کا دروازہ لگا ہے۔ ٹنکی کے ایک حصہ کو پانی سے بھر دیا گیا اور دوسرے حصے کو تیزاب (اضافی کثافت 1.7)سے۔ دونوں حصوں میں بھرے رقیق کی اونچائی 4.0mہے۔ اس قوت کا حساب لگائیے، جودروازے کو بند رکھنے کے لیے چاہیے ہوگی۔.

10.22 ایک احاطہ بند گیس کا دباؤ ایک مونومیٹر سے پڑھا جاتا ہے ، جیسا کہ شکل 10.25(a)میں دکھایا گیا ہے۔ جب پمپ گیس کی کچھ مقدارکو ہٹا دیتا ہے تو مونومیٹر ریڈنگ وہ ہے جو شکل 10.25 (a)میں دکھائی گئی ہے۔مونو میٹر میں استعمال کیا گیا رقیق پارہ ہے اورفضائی دباؤ پارہ کے 76cmہیں۔
(a) پارہ کےcmکی اکائی میں، صورت (a)اور (b) میں احاطہ کے اندر کی گیس کے مطلق اور گیج دباؤ معلوم کیجیے۔
(b) صورت (b)میں سطحیں کیسے تبدیل ہوں گی، اگر مونومیٹر کے دائیں بازو میں 13.6cmپانی [جو پارے سے ناقابل امتزاج (immiscible)ہے ] ڈال دیا جائے۔ (گیس کے حجم میں ہونے والی معمولی تبدیلی نظر انداز کر دیجیے)
                                
jungle
شکل 10.25

   10.23 دوبرتنوں کا اساسی رقبہ یکساں ہے لیکن شکل مختلف ہے۔ اگردونوں میں ایک مشترک اونچائی تک پانی بھرا جائے تو پہلے برتن میں دوسرے کے مقابلے میں پانی کا دوگنا حجم آتا ہے۔ کیا دونوں برتنوں میں پانی کے ذریعے اساس پر لگائی گئی قوت یکساں ہے ؟اگر ہاں ، تو ایک ہی اونچائی تک بھرے ہوئے ان برتنوں کاوزن ، وزن ناپنے کی ترازو مختلف کیوں بتاتی ہے ؟

10.24 خون کی منتقلی کے دوران ایک رگ میں اس مقام پر سوئی داخل کی گئی جہاں گیج دباؤ 200Paہے۔ خون جس برتن میں رکھا ہے اسے کس بلندی پررکھا جائے کہ خون رگ مین صرف داخل ہوسکے۔ (خون کی کثافت جدول 10.1سے حاصل کیجیے)

10.25 برنولی مساوات مشتق کرنے میں، ہم نے ٹیوب کے سیال پر کیے گئے کام کو اس کی بالقوۃ اورحرکی توانائی میں تبدیلی کے مساوی ماناتھا۔(a) ایک 
2 x 10-2m
نصف قطر کی شریان میں خون کے بہاؤ کی زیادہ سے زیادہ اوسط رفتار کیا ہوسکتی ہے کہ بہاؤ لازمی طور پر ورقی رہے؟ کیا جیسے جیسے رفتار میں اضافہ ہوتا ہے، اسرافی قوتیں زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہیں؟ کیفیتی طورپر (qualitatively)بحث کیجیے۔


10.26(a) ایک 
2 x 10-3m
نصف قطر کی شریان میں خون کے بہنے کی زیادہ سے زیادہ اوسط رفتار کیا ہو سکتی ہے کہ بہاؤ ورقی رہے؟ (b)  اس کے مطابق بہاؤ شرح کیا ہوگی؟ خن کی لزوجت
2.084 x 10-3
لیجئے۔ 
10.27 ایک جہازجس کے دونوں میں سے ہر ایک پر کا رقبہ 25m2ہے، مستقلہ رفتار سے ہموار اڑان کر رہا ہے۔ اگر اس کے پروں کی نچلی سطح پر ہواکی رفتار 180km/hاوراوپری سطح پر 234Km/hہے، تو جہاز کی کمیت معلوم کیجیے ۔ ہوا کی کثافت�لیجیے۔

10.29  ملیکن کے تیل کے قطرے کے تجربے میں، 
2.0 x10-5
نصف قطر اور
1.8 x 103Kgm-3
کثافت والے تیل کے غیر چارج شدہ قطرے کی ختمی رفتار کیا ہوگی؟ تجربہ کے درجہ حرارت پر ہوا کی لزوجت 
1.8 x 10-5Pas
لیجیے۔ اس رفتار پر قطرے پر لسج قوت کیا ہوگی؟ ہوا کی وجہ سے قطرے کے اچھال کو نظرانداز کر دیجیے۔

 10.30 پارہ کا سوڈا لائم شیشہ سے زاویہ لمس140º �ہے۔ 1.00mmنصف قطر کی اس شیشہ کی بنی ہوئی تپلی نلی کو ایک پارہ سے بھرے گہرے برتن میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ ٹیوب میں پارہ کی سطح ، باہر کی پارہ کی سطح کے مقابلے میں کتنی نیچی ہوگی؟ تجربہ کے درجہ حرارت پر پارہ کا سطحی تناؤ�ہے 0.465Nm-1 ، اور پارہ کی کثافت
13.6 x 103 k gm-3
 ہے۔

10.31 3.0 mmاور6.0 mmنصف قطر کی دو پتلی نالوں کو ملاکر ایک U۔ٹیوب بنائی جاتی ہے۔ جو دونوں کناروں پر کھلی ہے۔ اگر Uٹیوب میں پانی بھرا ہے تودونوں ٹیوب کے دونوں بازؤں میں پانی کی سطحوں میں کیا فرق ہے ؟تجربہ کی درجۂ حرارت پر پانی کا سطحی تناؤ �
7.3 x 10-2Nm-1
ہے۔ زاویہ لمس کو صفر اورپانی کی کثافت�
1.0 x 103kgm-3
لیجیے۔ �
(g = 9.8ms-2)

کلکولیٹر /کمپیوٹر کی مدد سے حل کیا جانے والا مسئلہ 

10.32 (a)یہ معلوم ہے کہ اونچائی کے ساتھ ہوا کی کثافت rمندرجہ ذیل رشتے کے مطابق کم ہوتی ہے: کمبخت

جہاں ro = 1.25kgm-3سطح سمندر پر ہوا کی کثافت ہے اور ایک مستقلہ ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ فضا کا درجہ حرارت مستقلہ ہے (ہم تاپ شرائط ) ، مندرجہ بالا رشتہ حاصل کیجیے g–کی قفر کو بھی مستقلہ مان لیجیے۔ 

inter وزن کو اٹھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ فرض کرتے ہوئے کہ اوپر اٹھنے میں غبارہ اپنے مستقلہ نصف قطر کو قائم رکھتا ہے بتائیے کہ یہ کتنا اوپر اٹھے گا؟

satvan

ضمیمہ 10.1:   خون کا دباؤ کیا ہے ؟

ارتقائی تاریخ میں ایک وقت ایسا آیا جب جانوروں نے اپنا قابلِ لحاظ وقت سیدھا کھڑے ہونے کی حالت میں گذارنا شروع کر دیا ۔اس نے خون کی گردش کے نظام سے کئی نئی مانگیں کیں۔ وریدی (Venous)نظام میں، جو نچلے حصوں سے دل کوخون واپس پہنچاتا ہے، کئی تبدیلیاں آئیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ رگیں (Veins)وہ خون کی نلیاں ہیں، جن کے ذریعے خون ، دل میں واپس پہنچتا ہے۔ انسان اورذراف جیسے جانوروں نے خون کو کشش ارضی کے خلاف ، اوپر کی سمت میں حرکت دینے کے مسئلے کے لیے خود کو ڈھال لیا۔ لیکن سانپ، چوہے اور خرگوش جیسے جانوروں کو اگر سیدھا کھڑا رکھا جائے تو وہ مرجائیں گے، کیونکہ خون نچلے حصوں میں ہی رہے گا اوران کا وریدی نظام اسے دل کی طرف حرکت نہیں کراسکے گا۔

point
شکل 10.26: کھڑے ہونے اور لیٹے ہونے کی حالت میں انسانی جسم کے مختلف حصوں میں رگوں میں گیج دباؤ کا ایک خاکہ دکھائے گئے دباؤ ایک دل کے دور پر اوسط کی گئی قدریں ہیں۔

شکل 10.26میں انسانی جسم میں رگوں کے مختلف نقاط پر اوسط دباؤ دکھائے گئے ہیں۔ کیونکہ لسج اثرات بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے ہم ان دباؤ کی قدروں کو سمجھنے کے لیے برنولی مساوات (10.13)استعمال کر سکتے ہیں۔
مستقلہ
حرکی توانائی رکن (rn2/2) کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، کیونکہ تینوں رگوں میں رفتار یں بہت چھوٹی ہیں bache اور مستقلہ ہیں۔اس لیے دماغ پر گیج دباؤ PB ، دل پر PH اور پیر پر گیج دباؤ PF میں رشتہ ہے :
gij
جہاں r خون کی کثافت ہے۔
دل اور دماغ تک کی اونچائیوں کی خصوصی قدریں ہیں: قدری لیتے ہوئے ،ہمیں حاصل ہوتا ہے کہ ہیکہ دیا ہو تو۔ اس لیے اگر ایک شخص کھڑا ہو ہو تو اس کے جسم کے اوپری اور نچلے حصوں میں دباؤ بہت مختلف ہیں، لیکن اگر لیٹا ہوا ہو تو تقریبا مساوی ہیں۔ جیسا پہلے متن میں بتایا جا چکا ہے کہ حکمت میں عام طور سے استعمال ہونے والی دباؤ کی اکائیاں، Hg کے mm اور ٹور (Torr) ہیں۔
جےسی

انسانی جسم قدرت کی کاریگری کا کرشمہ ہے۔ جسم کے نچلے حصے کی رگوں میں والو لگے ہوتے ہیں جو اس وقت کھل جاتے ہیں، جب خون دل کی طرف بہتا ہے اوراس وقت بند ہو جاتے ہیں جب وہ نیچے کی طرف حرکت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مزید یہ کہ خون ، کم از کم جزوی طور پر، سانس لینے کے عمل سے منسلک پمپ کرنے کے عمل اورعضلات کے پھیلنے کے عمل کے ذریعہ واپس لوٹا یا جاتا ہے ۔ اس سے یہ وضاحت ہوجاتا ہے کہ ایک سپاہی جسے مستقل ’’ہوشیار‘‘ کی حالت میں کھڑا کر دیا جائے تو وہ کیوں بے ہوش ہوسکتا ہے۔ کیونکہ دل کی طرف ناکافی خون واپس لوٹتا ہے۔ اگر اسے لٹا دیا جائے ،تو دباؤ مساوی ہو جاتے ہیں او وہ ہوش میں آتاہے۔

ایک آلہ جسے اسفائی گو میونو میٹر (Sphygmomano meter)کہتے ہیں، انسانوں کے خون کا دباؤ ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک تیزی سے، بغیر کسی درد کے اوربغیر کوئی مداخلت کتے ناپنے والا آلہ ہے جو ڈاکٹر کو مریض کی صحت کے بارے میں قابل بھروسہ تصور فراہم کرتا ہے۔ پیمائش کا عمل شکل 10.27میں دکھایا گیا ہے۔ اوپری بازو کو استعمال کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ اسی سطح پر ہوتا ہے، جس پر دل ہے اور یہاں کی گئی پیمائش دل پر کی گئی پیمائش کی نزدیکی قدر دیتی ہے۔ دوسری یہ کہ اوپری بازو میں ایک ہی ہڈی ہوتی ہے اوراس لیے یہاں پر رگ کو دبانے میں سہولت ہوتی ہے۔ اس رگ کو عضوی شریان (Brachial artery)کہتے ہیں۔ ہم سب نے کلائی پرہاتھ رکھ کر دھڑکن کی شرح ناپی ہے۔ ہر نبض ایک سیکنڈ سے کچھ کم وقفہ لیتی ہے۔ ہر نبض کے دوران دل میں دباؤاور دوران خون کا نظام ایک ازحد قدر سے گذرتا ہے، جب کہ دل ذریعے خون پمپ کیاجاتا ہے انقباضی دباؤ (Systolic Pressure) اورایک کم ترین قدر سے گذرتا ہے جبکہ دل آرام کرتا ہے انبساط قلب دباؤ (Diastolic Pressure)۔اسفائی گو مونومیٹر ایسا آلہ ہے جو یہ دونوں انتہائی دباؤ ناپتا ہے۔ یہ اس اصول پرکام کرتا ہے کہ عضوی شریان میں خون کے بہاؤ کو مناسب پچکاؤ (Compression)کے ذریعے ورقی سے آشوبی بنایا جا سکتا ہے۔ آشوبی بہاؤ اسرافی ہوتا ہے اوراس کی آواز اسٹیتھسکوپ کے ذریعے سنی جا سکتی ہے۔

اوپری بازو کے گرد لپیٹی گئی تھیلی کا گیج دباؤ ایک مونومیٹر یا ایک ڈائل پریشر گیج استعمال کر کے ناپا جاتا ہے (شکل 10.27)۔ تھیلی میں پہلے دباؤ کو اس وقت تک بڑھایاجاتا ہے جب تک رگ بند نہ ہوجائے ۔ پھر تھیلی میں دباؤ کو آہستہ آہستہ کم کیا جاتا ہے اور تھیلے کے بالکل نیچے رکھا ہوا اسٹیتھسکوپ، عضوی شریان میں پیدا ہونے والی آوازوں کو سننے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ جب دباؤ انقباضی دباؤ (ازحدقدر) سے ذرا سا کم ہوتا ہے تو شریان مختصر وقفے کے لیے کھلتی ہے۔ اس مختصر وقفہ میں ، بہت زیادہ دبی ہوئی شریان میں خون کی رفتار زیادہ اور آشوبی ہوتی ہے، اس لیے زیادہ آواز ہوتی ہے۔ پیداہونے والی آواز اسٹیتھسکوپ میں ٹپ ٹپ کی شکل میں سنائی دیتی ہے۔ جب تھیلی میں مزید دباؤ کم ہوتا ہے، تو شریان دل کے دور کے زیادہ وقفے کے لیے کھلی رہتی ہے۔ لیکن یہ دل کی دھڑکن کے انبساط قلب کے دور میں بند رہتی ہے۔ اس لیے ٹپ ٹپ کی آواز کا وقفہ لمبا ہوتا ہے۔ جب تھییلی میں دبا، انبساط قلب دباؤ پر پہنچ جاتا ہے تو شریان پورے دل کے دور میں کھلی رہتی ہے۔ لیکن اب بھی بہاؤ آشوبی اور آواز پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن اب ٹپ ٹپ کی آواز کی جگہ ایک قائم مستقل آواز، اسٹیتھسکوپ میں سنائی دیتی ہے۔

استاد
شکل 10.27  اسفائی گومو نو میٹر اور اسٹیتھسکوپ استعمال کرتے ہوئے خون کے دباؤ کی پیمائش

ایک مریض کا دل کا دباؤ ،(انبساط قلب / انقباضی ) دباؤ کی نسبت کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایک آرام کر رہے تندرست بالغ کے لیے اس کی مخصوص قدر 120/80(Hgکے mm)یا 120/80 torrہوتی ہے ۔ 140/90سے زائد کے لیے طبی توجہ اور صلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑھا ہوا خون کا دباؤ، دل ، گردے اور دوسرے اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس پر قابو پانا ضروری ہے۔