باب10
سیالوں کی میکانیکی خاصیتیں
(MECHANICAL PROPERTIES OF FLUIDS)
خلاصہ
مشق
10.1 تعارف (INTRODUCTION)
10.2دباؤ(PRESSURE)

شکل 10.1 (a) بیکر میں رکھے سیال کے ذریعہ، ڈوبی ہوئی شے یا بیکر کی دیواروں پر لگائی گئی قوت، تمام نقاط پر سطح پر عمود ہے۔
جدول STP* 10.1پر کچھ عام رقیقوں کی کثافتیں
| رقیق | p(kg m-3) |
|---|---|
| پانی | 1.00 x 103 |
| بحری پانی | 1.03 x 103 |
| پارہ | 13.6x103 |
| ایتھائل الکوحل | 0.806x103 |
| کل خون | 1.06 x 103 |
| ہوا | 1.29 |
| آکسیجن | 1.43 |
| ہائیڈروجن | 9.0 x 10-2 |
| بین نجمی فضا (Interestellar Space) |
≈10-2 |
جارہے اوسط دباؤ کا حساب لگائیے۔

10.2.1پاسکل کا قانون (Pascal's Law)

شکل 10.2 پاسکل کے قانون کا ثبوت ABC - DEF ایک ایسے رقیق کے اندر کا جز ہے جو حالت سکون میں ہے۔ یہ جز ایک قائم زاو ئی منشور کی شکل کا ہے۔ یہ جز چھوٹاہے، اس لیے ارضی کشش (gravity) کے اثر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سمجھانے کے لیے اس کو بڑا بنایا گیا ہے۔

10.2.2گہرائی کے ساتھ دباؤ کی تبدیلی
Variation of Pressure with Depth

شکل 10.3 ارضی کشش کے زیر اثر سیال۔ ارضی کشش کے اثر کو ایک انتصابی استوانی کالم پر دباؤ کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔


مساوات (10.7) سے
10.2.3فضائی دباؤ اور گیج دباؤ
(Atmospheric Pressure and Gauge Pressure)



(b)
شکل 10.5 (b) کھلی ٹیوب والا مینو میٹر



10.2.4آبی مشینیں (Hydraulic Machines)

شکل 10.6 (a) : جب کبھی کسی برتن میں رکھے مائع کے کسے بھی حصے پر باہری دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ دباؤ تمام سمتوں میں مساوی طورپر پھیل جاتا ہے۔
بہت سے آلات ، جیسے آبی لفٹ (Hydraulic Lift)اور آبی بریک (Hydraulic Brakes)وغیرہ پاسکل کے قانون پر مبنی ہیں۔ ان آلات میں دباؤ کی ترسیل کے لیے سیال استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک آبی لفٹ میں، جیساکہ شکل(b) 10.6میں دکھایا گیا ہے، دو پسٹنوں کو ان کے درمیان کی جگہ ایک سیال سے بھر کر، ایک دوسرے سے جدا کیا جاتا ہے ۔ ایک کم تراشی رقبہ A1 کا پسٹن P1،رقیق پر براہ راست ، قوت F1 ، لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دباؤ :
پورے رقیق میں ترسیل ہوتا ہے اور بڑے استوانے پربھی جس میں بڑا پسٹن، رقبہ A2 کا ، لگا ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں اوپر کی جانب قوت PxA2 حاصل ہوتی ہے ۔ اس لیے، پسٹن اس قابل ہوجاتا ہے کہ ایک بڑی قوت کوسہار سکے (مثلاًایک کار یا ایک ٹرک کا بڑا وزن ، جوایک پلیٹ فارم پر رکھا ہو)
A1 پرقوت کو تبدیل کر کے ، پلیٹ فارم کو اوپر یا نیچے کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح لگائی گئی قوت کو
جز ضربی (Factor) سے بڑھادیا گیا ہے اور یہ جز ضربی اس آلہ کا میکانیکی فائدہ (Mechanical Advantage)ہے۔ نیچے دی ہوئی مثال، اس کی وضاحت کرتی ہے۔

شکل 10.6 (b) : بھاری وزن اٹھانے والے، ہائیڈرولک لفٹ (آبی لفٹ) کی کار کردگی کے پیچھے کار فرما اصول کی وضاحت کرتی ہوئی خاکہ ڈائیگرام


نوٹ کریں کہ فضائی دباؤ دونوں پسٹنوں کے لیے مشترک ہے، اس لیے اسے نظر انداز کر دیاگیا ہے۔

آرشمیدس )ق م(287-212 )
آرشمیدس ایک یونانی فلسفی ، ریاضی داں، سائنس داں اور انجینیر تھے۔ انہوں نے غلیل (Catapult)ایجاد کی ، بھاری وزنوں کو اٹھانے اورلے جانے کے لیے گراریوں اور لیور (Lever)کے نظام بنائے۔ ان کے وطن شہر سیرا کوس کے بادشاہ، ہائیروIIنے ان سے کہا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اس کے سونے سے بنے تاج میں کسی اور سستی دھات کی آمیزش، جیسے چاندی، تو نہیں کی گئی ہے، لیکن تاج کو نقصان پہنچائے بغیر۔اپنے نہانے کے ٹب میں بیٹھے ہوئے، جب انہیں جزوی وزن میں کمی کا احساس ہوا، تو اس مسئلے کاحل ان کی سمجھ میں آگیا۔ وہ سیرا کوس کی گلیوں سے بغیر کپڑے پہنے ، چِلّاتے ہوئے بھاگے : یوریکا ، یوریکا ––میں نے معلوم کر لیا، میں نے معلوم کر لیا۔
مثال 10.6:ایک کار لفٹ میں داب شدہ (Compressed)ہوا، 5.0cmنصف قطر کے مقابلتاًچھوٹے پسٹن پر ایک قوت F1 لگاتی ہے۔ اس دباؤ کی ترسیل 15cmنصف قطر کے دوسرے پسٹن پر ہوتی ہے۔ (شکل 10.7)۔ اگر جس کار کو اٹھایا جانا ہے، اس کی کمیت 1350Kg ہے، تو F1 کا حساب لگائیے۔ اس کام کو کرنے کے لیے کتنا دباؤ ضروری ہے۔

وہ ہوا کا دباؤ جو یہ قوت پیدا کرے گا

یہ فضائی دباؤ کا تقریبا دو گنا ہے۔
10.3مستقل بہاؤ(STREAMLINE FLOW)

شکل 10.7 مستقل بہاؤ خطوط کے معنی (a) سیال کے ایک ذرے کا مخصوص خط حرکت۔
(b) مستقل بہاؤ کا ایک علاقہ۔
اس لیے مساوات (10.9) ہو جاتی ہے
(10.11) مستقلہ =Av

10.4برنولی کا اصول
(BERNOULLI'S PRINCIPLE)

ڈینیل برنولی (1700-1782)




ڈینیل برنولی(1700-1782)

اور توانائی بالقوۃ فی اکائی حجم(rgh) کا حاصل جمع مستقلہ رہتا ہے۔
10.4.1باہر کی جانب بہاؤ کی رفتار : ٹارسلی کا قانون
(Speed of Efflux: Torricelli’s Law)





10.4.2وینچوری –میٹر(Venturi-meter)


شکل (10.11): وینچوری میٹر کی خاکہ ڈائیگرام

، مساوات (10.17)استعمال کر کے ، ہمیں حاصل ہوتا ہے 
10.4.3 خون کا بہاؤ اور دل کا دورہ
(Blood Flow and Heart Attack)
10.4.4حرکی اٹھاؤ (Dynamic Lift)



شکل 10.13: (a) سیال جو ایک ساکت کرہ سے بہہ کر گز رہا ہے (b) ایک ایسے کرہ کے گرد مستقل بہاؤ خطوط جو گھڑی کی سمت میں اسپن کرے ہوئے سیال سے گزر رہا ہے۔ (c) ایک ایرو فائل سے گزرکر بہتی ہوئی ہوا۔



10.5لزوجت : (VISCOSITY)




شکل 10.15: رقیق کی لزوجت کی پیمائش

جدول 10.2: کچھ سیالوں کی لزوجت قدریں
| سیال | TC | لزوجت |
| پانی | 20 | 1.0 |
| 100 | 0.3 | |
| خون | 37 | 2.7 |
| مشین کا تیل | 16 | 113 |
| 38 | 34 | |
| گلیسرین | 20 | 830 |
| شہد | 200 | |
| ہوا | 0 | 0.017 |
| 40 | 0.019 |
10.5.1 اسٹوکس کاقانون(Stokes’ law)




10.6سطحی تناؤ(SURFACE TENSION)
آپ نے دیکھا ہوگا کہ تیل اور پانی آپس میں نہیں ملتے، پانی مجھے اور آپ کو گیلا کردیتا ہے ، لیکن بطخوں کو گیلانہیں کر تا ، پارہ گلاس کوگیلا نہیں کرتا، لیکن پانی اس سے چپک جاتا ہے، تیل ایک سوتی بتی میں کشش ارضی کے باوجود اوپر چڑھ جاتا ہے، عرق اور پانی درختوں کی پتیوں کے اوپری سرے تک چڑھ جاتے ہیں، ایک رنگ کرنے کے برش کے بال جب سوکھے ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ جب انہیں پانی میں ڈبو یا جا تا ہے، تب بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے، لیکن پانی سے باہر نکالنے پر آپس میں مل کر ایک باریک نوک بنا لیتے ہیں۔یہ تمام اور ایسے اوربہت سے تجربات رقیق کی آزاد سطحوں سے متعلق ہیں۔ کیونکہ رقیق اشیا کی کوئی معین شکل نہیں ہوتی، لیکن ان کا حجم معین ہوتا ہے، اس لیے جب انہیں ایک برتن میں انڈیلا جاتا ہے تو انہیں ایک آزاد سطح چاہئے ہوتی ہے۔ ان سطحوں میں کچھ اضافی توانائی ہوتی ہے۔ یہ مظہر سطحی تناؤ کہلاتا ہے۔ اور اس کا مشاہدہ صرف رقیق اشیا میں کیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ گیسوں میں آزاد سطحیں نہیں ہوتیں۔ آئیے اس مظہر کو سمجھیں۔
10.6.1سطحی توانائی(Surface Energy)
ایک رقیق اپنے مالیکیولوں کے درمیان آپسی کشش کی وجہ سے ایک ساتھ رہ پاتا ہے۔ رقیق کے خوب اندرکا ایک مالیکیول تصور کیجیے۔ بین مالیکیولیائی فاصلے ایسے ہیں کہ یہ ان تمام مالیکیولوں کے ذریعے کشش کیا جاتا ہے، جن سے یہ گھرا ہوا ہے۔ [شکل 10.16(a)] ۔ اس کشش کی وجہ سے مالیکیول کے لیے ایک منفی توانائی بالقوۃ پیدا ہوتی ہے جو اس منتخب کیے گئے مالیکیول کے گرد مالیکیولوں کی تعداد اور تقسیم پر منحصر ہوتی ہے۔ لیکن تمام مالیکیولوں کے ایک مجموعے (یعنی رقیق)کو لے کر اگر ان کی تبخیر کرنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے دور دورکرنا ہو تو درکار تبخیر کی حرارت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ پانی کے لیے یہ kj /mol 40کے درجے کی ہے۔
اب ہم ایک مالیکیول سطح کے قریب تصور کرتے ہیں، شکل 10.16(b)۔ اس کی صرف نچلا نصف حصہ ہی رقیق کے مالیکیول سے گھرا ہوا ہے۔ ان کی وجہ سے کچھ منفی توانائی بالقوۃ ہوگی لیکن ظاہر ہے کہ یہ اس مالیکیول کی منفی توانائی بالقوۃ سے کم ہوگی جو پوری طرح رقیق کے اندر ہے۔یہ تقریباًاس کی نصف ہوگی۔ رقیق کی سطح کے مالیکیولوں میں رقیق کے اندر کے مالیکیول کے مقابلے میں کچھ زائد توانائی ہوتی ہے۔اس لیے ایک رقیق وہ کم سے کم سطحی رقبہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو باہری شرائط کے مطابق ممکن ہو۔ سطحی رقبے کو بڑھانے کے لیے توانائی درکار ہوگی۔ زیادہ تر سطحی مظاہر کو اس حقیقت کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک مالیکیول کو سطح پر رکھنے کے لیے کتنی توانائی درکار ہوگی۔ جیسا پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یہ تقریباًاس توانائی کی نصف ہوگی۔ جواس مالیکیول کو رقیق سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے لیے چاہئے، یعنی کہ تبخیری حرارت کی نصف ہوگی۔
آخری سوال ایک سطح کیا ہے؟ کیونکہ رقیق ایسے مالکیول پر مشتمل ہے جو ادھر ادھر حرکت کر رہے ہیں، اس لیے اس کی کوئی واضح سطح نہی ہو سکتی۔ ہم جب شکل 10.6 (c) میں دکھائی گئی سمت میں جاتے ہیں تو z = O کے گرد رقیق کی کثافت اتنی تیزی سے گرتی ہے کہ چند مالکیولی ناپوں کے درجے کے فاصلے میں ہی صفر ہو جاتی ہے۔

10.6.2سطحی توانائی اور سطحی تناؤ
(Surface energy and surface tension)

شکل 10.17 ایک فلم کو کھینچنا (a) ایک فلم جو توازن میں ہے (b) فلم جسے زائد فاصلے تک کھینچا گیا ہے۔
یا
S=Fd/2dl = F/21 (10.24)

جدول 10.3: کچھ رقیقوں کے نشان دہی کیے گئے درجات حرارت پر، سطحی تناؤ کی قدریں معہ تبخیری حرات
| رقیق | درجہ حرارت | سطحی تناؤ | تبخیر کی حرارت |
| ہیلم | 270- | 0.000239 | 0.115 |
| آکسیجن | 183- | 0.0132 | 7.1 |
| ایتھانول | 20 | 0.0227 | 40.6 |
| پانی | 20 | 0.0727 | 44.16 |
| پارہ | 20 | 0.4355 | 63.2 |

شکل 10.8: سطحی تناؤ کی پیمائش
10.6.3لمس کا زاویہ : (Angle of contact)


شکل 10.19 درمیانی رخوں کے تناؤ کے ساتھ پانی کے قطروں کے مختلف شکلیں (a) ایک کنول کی پنی پر (b) ایک صاف پلاسٹک کی پلیٹ پر
10.6.4 قطرے اور بلبلے
(Drops and bubbles)



شکل 10.20 نصف قطر ، r کا قطرہ ، جوف اور بلبلہ

10.6.5شعری چڑھاؤ (Capillary Rise)

شکل 10.21 شعری چڑھاؤ (a) ایک پتلی ٹیوب کا خاکہ جو پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ (b) درمیانی رخ کے قریب، تکبیر شدہ تصویر



10.6.6میل کاٹ (ڈٹرجنٹ) اور سطحی تناؤ
(Detergents and Surface Tension)

صابن کے لیے مالیکیول جن کے سر پانی سے منسلک ہیں

چکنی گندگی کے ذرات کا

پانی ڈالا جاتا ہے، مگر گندگی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی


غیر فعال کنارے گندگی گو گھیرتے ہیں اور گندگی اب پانی بہانے سے اپنی جگہ سے ہٹائی جاسکتی ہے۔



خلاصہ

یہ مساوات، غیر داب پذیر سیال کے بہاؤ میں کمیت کی بقا کا نتیجہ ہے۔
, جہاں علامتیں اپنے عام معنوں میں استعمال ہوئی ہیں اور متن میں معروف کی جاچکی ہیں۔قابل غور نکات:
کے غیر مستقل بہاؤ اور Re > 2000 آ شوبی ہوگا۔| طبعی مقدار | علامت | ابعاد | اکائی | ریمارک |
| دباؤ | P | [ML-1T-2] | پاسکل(Pa) | لا سمتی،1 atm = 1.013 x 105 px |
| کثافت | r | [ML-3] | Kgm3 | لاسمتی |
| نوعی کثافت | نہیں | نہیں | لاسمتی، شے r/ پانی r | |
| لزوجت کا ضریب | h | [ML-1T-1] | PaSیاپوآئےسی لیس(PL) | لاسمتی |
| رینالڈ کا عدد | Re | نہیں | نہیں | لاسمتی Re = rnd⁄h |
| سطحی تناؤ | S | [MT-2] | Nm-1 | لاسمتی |
مشق
10.1 وضاحت کیجیے کہ کیوں
10.2 وضاحت کیجیے کیوں
10.3 ہر بیان کے ساتھ دی ہوئی فہرست میں سے لفظ منتخب کر کے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
10.4 وضاحت کیجیے کیوں

شکل 10.23

اضافی مشق

شکل 10.25
کلکولیٹر /کمپیوٹر کی مدد سے حل کیا جانے والا مسئلہ
10.32 (a)یہ معلوم ہے کہ اونچائی کے ساتھ ہوا کی کثافت rمندرجہ ذیل رشتے کے مطابق کم ہوتی ہے: 
جہاں ro = 1.25kgm-3سطح سمندر پر ہوا کی کثافت ہے اور ایک مستقلہ ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ فضا کا درجہ حرارت مستقلہ ہے (ہم تاپ شرائط ) ، مندرجہ بالا رشتہ حاصل کیجیے g–کی قفر کو بھی مستقلہ مان لیجیے۔
وزن کو اٹھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ فرض کرتے ہوئے کہ اوپر اٹھنے میں غبارہ اپنے مستقلہ نصف قطر کو قائم رکھتا ہے بتائیے کہ یہ کتنا اوپر اٹھے گا؟

ضمیمہ 10.1: خون کا دباؤ کیا ہے ؟

شکل 10.26: کھڑے ہونے اور لیٹے ہونے کی حالت میں انسانی جسم کے مختلف حصوں میں رگوں میں گیج دباؤ کا ایک خاکہ دکھائے گئے دباؤ ایک دل کے دور پر اوسط کی گئی قدریں ہیں۔



شکل 10.27 اسفائی گومو نو میٹر اور اسٹیتھسکوپ استعمال کرتے ہوئے خون کے دباؤ کی پیمائش