Skip to content
Tabiyaat-II

باب 11

مادے کی حرارتی خاصیتیں

(THERMAL PROPERTIES OF MATTER)


11.1 تعارف
11.2 درجہ حرارت اور حرارت
11.3 درجہ حرات کی پیمائش
11.4 کامل گیس مساوات اورمطلق درجہ حرارت
11.5 حرارتی پھیلاؤ
11.6 نوعی حرارت گنجائش
11.7 حرارہ پیمائی
11.8 حالت کی تبدیلی
11.9 حرارت کی منتقلی
11.10 نیوٹن کاخنکی کا قانون
           خلاصہ
           قابلِ غور نکات
            مشق

11.1تعارف (INTRODUCTION)

ہم سب حرارت(Heat) اور درجہ حرارت(ٹمپریچر)، (Temperature) کا عام عقلی تصوررکھتے ہیں۔ درجہ حرارت ایک جسم کی گرم کیفیت کا ناپ ہے۔ ابلتے ہوئے پانی کی کیتلی، ایک اس بکس کے مقابلے میں جس میں برف رکھاہو، زیادہ گرم ہوتی ہے۔ طبیعیات میں ہمیں حرارت، درجۂ حرارت وغیرہ جیسے تصورات کی زیادہ احتیاط کے ساتھ تعریف کرنی ہوتی ہے۔ اس باب میں آپ سیکھیں گے کہ حرارت کیا ہے اور اسے کیسے ناپا جاتا ہے اور ان مختلف عملی طریقوں (Processess)کا مطالعہ کریں گے، جن کے ذریعے یہ ایک جسم سے دوسرے جسم تک بہتی ہے۔اس کے ساتھ ہی آپ یہ بھی معلوم کرلیں گے کہ لوہار ایک گھوڑا گاڑی کے لکڑی کے پہیوں پر لوہے کا چھلہ چڑھانے سے پہلے چھلے کو گرم کیوں کرتے ہیں اورساحل سمندرپر سورج کے غروب ہوتے وقت اکثر ہوا کی سمت کیوں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آپ یہ بھی سیکھیں گے کہ پانی کے ابلتے اور جمتے وقت کیا ہوتا ہے اورابلنے اور جمنے کے عمل کے دوران پانی کا درجہ حرارت تبدیل نہیں ہوتا حالانکہ پانی میں حرارت کی بڑی مقدار شامل ہور ہی ہوتی ہے یاپانی سے باہر نکل رہی ہوتی ہے۔

11.2درجہ حرارت اور حرارت
(TEMPERATURE AND HEAT)

لہم مادے کی حرارتی خاصیتوں کا مطالعہ درجہ حرارت اورحرارت کی تعریفوں سے شروع کر سکتے ہیں۔ درجہ حرارت ایک اضافی (نسبتی) (Relative) ناپ ہے یا گرم کیفیت یا ٹھنڈی کیفیت کی علامت ہے۔ ایک گرم برتن کے لیے کہاجاتا ہے کہ اس کا درجہ حرارت اونچا ہے اوربرف کے مکعب (ٹکڑے) کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا درجہ حرارت کم ہے۔ ایک شے جس کادرجہ حرارت دوسری شے کے مقابلے میں زیادہ ہے،  

مقابلتاًگرم کہلاتی ہے۔ نوٹ کریں کہ گرم اور ٹھنڈا اضافی اصطلاحات ہیں جیسے کہ لمبا اور چھوٹا ۔ ہم چھو کر درجہ حرارت کا احسا س کر سکتے ہیں۔ لیکن درجہ حرارت کا یہ احساس ناقابل بھروسہ ہے اور اس کی وسعت (Range)بھی اتنی محدود ہے کہ یہ سائنسی مقاصد کے لیے کار آمد نہیں ہے۔
ہم اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ برف سے ٹھنڈے کیے ہوئے پانی سے بھرے گلاس کو اگر ایک میز پر رکھا چھوڑدیا جائے تو وہ آخر کار گرم ہوجاتا ہے اوراسی میز پر رکھی ہوئی گرم چائے کی پیالی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ جب کسی جسم (اس مثال میں ٹھنڈا پانی یا گرم چائے ) اور اس کے ارد گرد کے وسیلہ کے درجہ حرارت اگر مختلف ہوں تو نظام اور اسے گھیرنے والے وسیلے کے درمیان اس وقت تک حرارت کی منتقلی ہوتی رہتی ہے، جب تک نظام اور اسے گھیرنے والے وسیلے کے درجہ حرارت یکساں نہ ہو جائیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ٹھنڈے پانی کے گلاس کی صورت میں حرارت ماحول سے شیشے کے گلاس کی طرف بہتی ہے جب کہ گرم چائے والی صورت میں حرارت،گرم چائے کی پیالی سے ماحول کی طرف بہتی ہے۔ اس لیے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ حرارت توانائی کی وہ شکل ہے جو دو (یا دو سے زیادہ)نظاموں یا ایک نظام اور اس کے ماحول کے درمیان ، درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے منتقل ہوتی ہے۔ منتقل ہوئی حرارت توانائی کی SI   اکائی جول(J)میں ظاہر کی جاتی ہے۔ جب کہ درجہ حرارت کی SI   اکائی کیلون (K)ہے اور ڈگری سیلسیس(ºc) درجہ حرارت کی عام طور سے استعمال کی جانے والی اکائی ہے۔ جب ایک شے کو گرم کیا جاتا ہے تو کئی تبدیلیاں آسکتی ہیں: اس کا درجۂ حرارت بڑھ سکتا ہے، وہ پھیل سکتی ہے یا اس کی حالت (State) تبدیل ہوسکتی ہے۔ ہم آگے کے حصوں میں مختلف اشیاء پر حرارت کے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔

11.3درجۂ حرارت کی پیمائش
(MEASUREMENT OF TEMPERATURE)

درجہ حرارت کا ناپ ، ایک تھرمامیٹر استعمال کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ مادّی اشیاء کی کئی خاصیتیں درجہ حرارت کے ساتھ کافی حد تک تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو تھرمامیٹر بنانے کے لیے بنیاد بنایاجا سکتا ہے۔ عام طور پر استعمال کی جانے والی ایسی خاصیت ہے : درجہ حرارت کے ساتھ ایک رقیق کے حجم میں ہونے والی تبدیلی۔ مثال کے طور پر، عام گیں میں رقیق قسم کے تھرما میٹروں میں پارہ، الکحل وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں، جہاں درجہ حرارت کی بڑی سِعت کے لیے درجہ حرارت کے ساتھ حجم میں تبدیلی ذیلی ہوتی ہے ۔  
تھرمامیٹروں کی اس طرح پیمانہ بندی کی جاتی ہے کہ ایک دیے ہوئے درجہ حرارت کو عدد ی قدر تفویض کی جا سکے ۔ کسی بھی معیاری پیمانے کی تعریف کے لیے دو معین حوالہ نقاط چاہیے ہوتے ہیں۔کیوں کہ عام مادّی اشیاء کے ابعاد درجۂ حرارت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں   پھیلاؤ (Expansion) کے لیے ایک مطلق حوالہ (Absolute reference)حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن درکارمعین نقاط ، ان طبعی مظاہر سے مربوط کیے جا سکتے ہیں جوہمیشہ ایک یکساں درجہ حرارت پررونما ہوتے ہیں۔ پانی کا برف نقطہ (Ice Point) اور بھاپ نقطہ (Steam point)دو سہولت سے حاصل ہونے والے معین نقاط ہیں اور بہ طور نقطہ انجماد (Freezing point)اورنقطہ ابال (Boiling point) جانے جاتے ہیں۔ یہ دو نقاط وہ درجات حرارت ہیں جن پر خالص پانی، معیاری دباؤ پر، جمتا اور اُبلتا ہے۔ دو معروف درجۂ حرارت پیمانے ، فارن ہائٹ پیمانہ اور سیلسیس پیمانہ ہیں۔ برف اوربھاپ نقاط کی ، فارن ہائٹ پیمانے پر ، قدریں، بالترتیب  2  اور سیلسیس پیمانے پر  3اور  4ہیں ۔ فارن ہائیٹ اسکیل پر دونوںحوالہ نقاط کے درمیان 180 مساوی وقفے ہیں اور سیلسیس اسکیل پر 100ہیں۔
tempsnip
شکل 11.1: فارن ہائٹ درجۂ حرارت tf بہ مقابلہ سیلسیس درجۂ حرارت tc گراف
ایک اسکیل سے دوسرے اسکیل میں تبدیل کرنے کے لیے رشتہ ، فارن ہائٹ درجہ حرارت  (tf) بہ مقابلہ سیلسیس درجہ حرارت (tc) گراف سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ گراف ایک خطِ مستقیم ہے جس کی مساوات ہے ۔
aese

11.4کامل ۔ گیس مساوات اور مطلق درجہ حرارت
(IDEAL-GAS EQUATION AND ABSOLUTE TEMPERATURE)

شیشہ میں رقیق قسم کے تھرما میٹر، معین نقاط کے علاوہ دوسرے درجات حرارت کے لیے الگ الگ پیمائش بتاتے ہیں کیونکہ ہررقیق کے پھیلاؤ کی خاصیتیں جدا ہوتی ہیں۔ لیکن وہ تھرمامیٹر جن میں گیس استعمال کی جاتی ہے، چاہے کوئی بھی گیس استعمال کی جائے، یکساں پیمائش دیتے ہیں۔ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کثافت کی کم قدروں کے لیے تمام گیسوں کا پھیلاؤ کا برتاؤیکساں ہوتا ہے۔ ایک گیس کی ایک دی ہوئی مقدار (کمیت) کے برتاؤ کو بیان کرنے والے متغیرات (Variables)ہیں:  دباؤ،  حجم  اوردرجہ حرارت (V,P اور T)، (جہاں,8میں درجہ حرارت ہے)۔ جب درجہ حرارت کو مستقلہ رکھا جاتا ہے، توگیس کی ایک مقدار کے لیے، دباؤ اور حجم میں رشتہ ہے: مستقلہ =Pvیہ رشتہ بوائل کا قانون (Boyle's Law) کہلاتا ہے، ان انگریز سائنس داں رابرٹ بوائل (1627-1691) کے نام پر جنہوں نے اسے دریافت کیا۔ جب دباؤ کو مستقلہ رکھا جاتا ہے، تو گیس کی ایک مقدار حجم اوراس کے درجہ حرارت میں رشتہ ہے : مستقلہ =V/T یہ رشتہ ، اسے دریافت کرنے والے فرانسیسی سائنس داں جیکوئس چارلس (1747-1823)(Jacques Charles) کے نام پرچارلس کا قانون کہلاتا ہے ۔کم کثافت والی گیسیں ان قانونوں کی پابندی کرتی ہیں۔ انہیں ایک واحد رشتے میں مجتمع کیا جا سکتا ہے :نوٹ کریں، کیونکہ گیس کی ایک دی ہوئی مقدار کے لیے مستقلہ PV=اورمستقلہ V/T=، تب PV/Tبھی مستقلہ ہونا چاہیے۔ یہ رشتہ کامل گیس قانون (Ideal gas Law) کہلاتا ہے۔ اسے ایک سے زیادہ عمومی شکلوں میں لکھا جا سکتا ہے،   جس میں اس
bible
شکل 11.2 : ایک مستقلہ حجم پر رکھی گئی، کم کثافت والی گیس کا دباؤ بر خلاف درجہ حرارت گراف
 کا اطلاق نہ صرف ایک واحد گیس کی دی ہوئی مقدار پر ہوتا ہے بلکہ کسی بھی کم کثافت والی گیس کی کسی بھی مقدار پرہو سکتا ہے۔ یہ عمومی شکل کامل گیس مساوات کہلاتی ہے :
ongo
جہاں ،13گیس کے نمونے میں مول کی تعداد ہے اورRعالمی گیس مستقلہ (Universal gas Constant)کہلاتا ہے :
hell
مساوات (11.2)سے ہم نے سیکھا کہ دباؤ اورحجم، درجہ حرارت کے راست متناسب ہیں:14اس رشتہ کی بنیاد پر ایک مستقلہ حجم گیس تھرما میٹر میں درجہ حرارت ناپنے کے لیے گیس استعمال کی جا سکتی ہے۔ ایک گیس کے حجم کو مستقل رکھتے ہوئے، یہ دیتا ہے :12، اس لیے ایک مستقلہ ، حجم گیس تھرما میٹر کے ذریعے درجہ حرارت ، دباؤ کی شکل میں ناپا جاتا ہے۔ دباؤ برخلاف درجہ حرارت گراف، اس صورت میں ایک مستقیم خط ہوتا ہے، جیسا کہ شکل 11.2میں دکھایا گیا ہے۔
لیکن کم درجہ حرارت پر حقیقی گیسوں پر کیے گئے ، تجربات سے حاصل ہوئی قدریں ان قدروں سے انحراف کرتی ہیں، جن کی کامل گیس قانون پیشین گوئی کرتا ہے۔ لیکن یہ رشتہ ، کافی بڑی درجہ حرارت سعت (Range)پر خطی ہے اورایسا معلوم ہوتا ہے کہ درجہ حرارت اگر لگاتار کم ہوتا رہے، اس طرح کہ گیس، گیس ہی رہے، تو دباؤ صفر تک پہنچ سکتا ہے ۔ ایک کامل گیس کے لیے مطلق کم ترین درجہ حرارت، اس لیے مستقیم خط کا محور تک بیرونی اندراج (Extra Polate)کر کے اخذ کیا جا سکتا ہے، جیسا شکل 11.3میں دکھایا گیا ہے۔   اس درجہ حرارت کی معلوم کی گئی قدر  15ہے اور اسے مطلق صفر کہتے ہیں۔ مطلق صفر، کیلون درجہ حرارت پیمانے یا مطلق پیمانے کی بنیاد ہے، جس کا نام برطانوی سائنس داں لورڈ کیلون کے نام پر رکھا گیا ہے۔اس پیمانے پر15کو صفر نقطہ مانا جاتا ہے ۔شکل (11.4)

wahshi
شکل 11.3: دباؤ بر خلاف درجۂ حرارت گراف اور کم کثافت والی گیسوں کے لیے خطوط کا بیرونی اندراج جو یکساں مطلق صفر درجۂ حرارت ظاہر کرتاہے۔
کیلون اور سیلسیس درجہ حرارت پیمانوںمیں اکائی کا سائز یکساں ہے۔    اس لیے ان دونوں پیمانوں پر درجات حرارت میں رشتہ ہے:
T = tc + 273.15 (11.3)
aman
شکل 11.4: کیلون، سیلسیس اور فارن ہائٹ درجۂ حرارت پیمانوں کا مقابلہ

11.5حرارتی پھیلا ؤ(THERMAL EXPANSION)

آپ نے دیکھا ہوگا کہ دھاتی ڈھکن والی بوتلیں کبھی اتنی سختی سے بند ہوتی ہیں کہ انہیں کھولنے کے لیے ڈھکن کو گرم پانی میں رکھنا پڑتا ہے۔ ایسا کرنے سے دھات کا ڈھکن پھیل جاتا ہے اور ڈھیلا ہوجانے کی وجہ سے آسانی سے کھل جاتا ہے۔ رقیق اشیاء میں بھی، آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک تھرمامیٹر کو تھوڑے سے گرم پانی میں رکھنے پر، تھرمامیٹر کا پارہ اوپر چڑھ جاتا ہے ۔اگر ہم اس گرم پانی میں سے تھرما میٹر کو باہرنکال لیں تو پارہ کی سطح دوبارہ گر جاتی ہے۔ اسی طرح گیسوں میں ، ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھا ہوا جزوی طور پر پھولا ہوا غبارہ اگر گرم پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ پورا پھول جاتا ہے ۔ دوسری طرف اگر ایک پورے پھولے ہوئے غبارے کو ٹھنڈے پانی میں ڈبو دیا جائے تو وہ اپنے اندر کی ہوا کے سکڑنے کی وجہ سے پچکنے لگتا ہے ۔
یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے کہ زیادہ تر مادی اشیاء گرم کرنے پر پھیلتی ہیں اور ٹھنڈا کیے جانے پر سکڑتی ہیں۔ پس جسم کے درجہ حرارت کی تبدیلی اس کے ابعاد میں تبدیلی کرتی ہے ۔ درجہ حرارت میں اضافہ کے سبب ایک جسم کے ابعاد میں ہونے والا اضافہ حرارتی پھیلاؤ (Thermal Expansion) کہلاتا ہے۔ لمبائی میں توسیع (پھیلاؤ) خطی پھیلاؤ (Linear Expansion) کہلاتی ہے۔ رقبہ میں اضافہ ، رقبہ پھیلاؤ (Area expansion)کہلاتا ہے۔ حجم میں اضافہ حجم پھیلاؤ کہلاتا ہے ۔[شکل (11.5)]

khata
شکل 11.5: حرارتی پھیلاؤ

اگر مادی شے ایک لمبی چھڑ کی شکل میں ہو تو درجہ حرارت میں چھوٹی تبدیلیengle tکے لیے لمبائی میں کسری تبدیلی  19کے راست متناسب ہے۔
20
جہاںalکوخطی پھیلاؤ کا ضریب(یا خطّی اتساعیت Linear expansivity)   کہتے ہیں اوریہ چھڑ کے مادے کی خصوصیت ہے۔ جدول11.1میں، درجہ حرارت سعت21  تک ، میں کچھ مادوں کے لیے خطی پھیلاؤ کے ضریب کی اوسط قدریں دی گئی ہیں۔ اس جدول سے شیشہ اورتانبہ کیalکی قدروں کا مقابلہ کیجیے۔ہم پاتے ہیں کہ درجہ حرارت میں یکساں اضافہ کرنے پر، تانبہ ، شیشے کے مقابلے میں تقریباً5گنازیادہ پھیلتا ہے۔ عام طور سے دھاتیں زیادہ پھیلتی ہیں اوران کی  alقدریں مقابلتاً زیادہ ہوتی ہیں۔

جدول 11.1:   کچھ مادی اشیاء کے لیے خطی پھیلاؤ کے ضریب کی قدریں


مادی اشیا a1(10-5 K-1)
المونیم 2.5
پیتل 1.8
لوہا 1.2
تانبہ 1.7
چاندی 1.9
سونا 1.4
شیشہ (پائی ریکس) 0.32
سیسہ 0.29
اسی طرح ہم درجۂ حرارت تبدیلی تبدیل کے لیے ایک مادی شے کے حجم میں کسری تبدیلی لیتے لیتے ہیں، اور حجم پھیلاؤ کے ضریب (یا حجمی اتساعیت) av کی اس طرح تعریف کرتے ہیں:
ھجم
یہاں بھی av مادی شے کی ایک خصوصیت ہے، لیکن بالکل درست معنوں میں ایک مستقلہ نہیں ہے۔ یہ عمومی طور پر درجۂ حرارت [شکل(11.6)] کے تابع ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ av صرف اونچے درجۂ حرارت پر پہچ کر ہی مستقلہ ہو پاتا ہے۔

اکاو
شکل 11.6: درجۂ حرارت کے تفاعل کے بہ طور حجم پھیلاؤ کا ضریب


جدول 11.2میں، درجہ حرارت سعت :26، میں کچھ عام مادی اشیاء کے حجم پھیلاؤ کے ضریب کی قدریں دی گئی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان مادی اشیاء (ٹھوس اوررقیق اشیاء )کا حجم پھیلاؤ بہت کم ہوتا ہے۔اور پائی ریکس شیشہ اوراِن ور (لوہے ۔ نکل کامخصوص بھرت)جیسی مادی اشیاء کا  avکی قدر یں بالخصوص بہت کم ہیں۔ اس جدول سے ہم دیکھتے ہیں کہ الکحل (ایتھائل) کے لیے  av  کی قدر، پارہ کی  avکی قدر سے زیادہ ہے۔ اس لیے الکحل، درجہ حرارت میں یکساں اضافہ کرنے پر ، پارہ سے زیادہ پھیلتا ہے۔

جدول 11.2: کچھ مادی اشیاء کے لیے حجم پھیلاؤ کے ضریب کی قدریں


مادی اشیا av(K-1)
المونیم 7 x 10-5
پیتل 6 x 10-5
لوہا 3.55 x 10-5
پیرافن 58.8 x 10-5
شیشہ 2.5 x 10-5
شیشہ (پائی ریکس) 1 x 10-5
سخت ربر 2.4 x 10-4
انوار 2 x 10-6
پارہ 18.2 x 10-5
پانی 20.7 x 10-5
الکحل (ایتھانول) 110x10-5


پانی ایک بے ضابطہ (Anomalous)برتاؤ ظاہر کرتا ہے۔  27اور  28کے درمیان ، یہ گرم کرنے پرسکڑتا ہے۔ ایک دی ہوئی پانی کی مقدار کا حجم، اسے کمرہ درجہ حرارت سے ٹھنڈا کرنے پر کم ہوتا ہے، جب تک کہ اس کا درجہ حرارت28ہو جائے ۔28سے نیچے ، حجم بڑھتا ہے اور اس لیے کثافت کم ہوتی ہے۔ [شکل 11.7(b)]۔

draja
شکل 11.7: پانی کا حرارتی پھیلاؤ

اس کا مطلب ہوا کہ پانی کی کثافت سب سے زیادہ28پر ہوتی ہے۔ اس خاصیت کا ایک اہم ماحولیاتی اثر ہے۔ پانی کے بڑے ذخیروں، جیسے جھیلیں، تالاب وغیرہ کی پہلے اوپری سطح جمتی ہے، جب ایک جھیل  28کی طرف ٹھنڈی ہونا شروع ہوتی ہے،   تو سطح کے نزدیک کا پانی اپنی توانائی فضا میں ضائع کرتا ہے، بھاری ہوجاتا ہے اور نیچے بیٹھ جاتا ہے۔ تلی کے نزدیک کا مقابلتاًگرم، کم کثیف پانی اوپر آجاتا ہے۔ لیکن جب اوپری سطح کے پانی کا درجہ حرارت  28سے کم ہو جاتا ہے تو یہ مقابلتاًکم کثیف ہوتا ہے اور جب جمتا ہے تو سطح پر ہی ہوتا ہے۔ اگر پانی میں یہ خاصیت نہ ہوتی، تو جھیلیں اور تالاب تلی سے جمنا شروع ہوتے اوراس طرح ان میں پائے جانے والے بہت سے پودے اورجانور برباد ہو جاتے ۔
معمولی درجہ حرارت پر ، گیسیں ، رقیق اور ٹھوس اشیاء کے مقابلے میں زیادہ پھیلتی ہیں۔ رقیق اشیاء کے لیے ، حجم پھیلاؤ کا ضریب ، مقابلتاً، درجہ حرارت کے غیر تابع ہوتا ہے۔ ایک کامل گیس کے لیے ، مستقلہ دباؤپر حجم پھیلاؤ کا ضریب ، کامل گیس مساوات سے معلوم کیا جاسکتاہے:
mustaqillah
27پر:31،جوٹھوس اوررقیق اشیاء   کیavکی قدروں سے بہت بڑا ہے۔ مساوات (11.6)avکا درجہ حرارت پرانحصار ظاہرکرتی ہے۔  avدرجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ کم ہوتا ہے۔ کمرہ درجہ حرارت پر اور مستقلہ دباؤ پرایک گیس کے لیےavکی قدر تقریباً32ہوتی ہے۔ جو مخصوص رقیق اشیاء کے حجم پھیلاؤ کے ضریب کی قدروں سے عددی قدر کا درجہ (درجات) [Order(s) of Magnitude](10گنا یا کئی 10گنا)زیادہ ہے۔
حجم پھیلاؤ کے ضریبavاورخطّی پھیلاؤ کے ضریبalمیں ایک سادہ رشتہ ہے۔ لمبائی lکا ایک کعب تصور کیجیے جب اس کے درجۂ حرارت میں  engle tکا اضافہ کیا جا تا ہے تو وہ تمام سمتوں میں مساوی طور پر پھیلتا ہے۔ ہمارے پاس :
hua
مساوات (11.7) میں seven کے ارکان نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ کیونکہ للکے مقابلہ میں طلبہت چھوٹا ہے
اس لیے 
اسلیے
جو دیتا ہے
گملہ
کیا ہوگا اگرایک چھڑ کے کناروں کوسختی سے جکڑکررکھا جائے اورپھیلنے سے روکا جائے ؟ظاہر ہے کہ چھڑ میں ایک دباؤ بگاڑ(Compression Strain)، اس کے کناروں کے سخت سہاروں کے ذریعے لگائی گئی باہری قوتوں کی وجہ سے ، پیدا ہوگا ۔ اس کے مطابق ، چھڑ میں پیدا ہونے والا ذرر حرارتی ذرر کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فولاد کی ریل کی پٹری تصور کیجیے، جس   کا تراشی رقبہ  36ہے اورجسے پھیلنے سے روک کر اس کے درجۂ حرارت میں  37اضافہ کیاگیا ہے۔ فولاد کا خطی پھیلاؤ کا ضریب ہے :
like
دباؤ بگاڑ ہے: 
معر
فولاد کا ینگ مقیاس ہے: 
ھکہ
اس لیے پیدا ہونے والا حرارتی ذرر ہے: 
ذرر
جو مطابقت رکھتا ہے، ایک باہری قوت
فولاد

 اگردو ایسی فولاد کی چھڑوں کے باہری سروں کو جڑ دیا جائے اوران کے اندرونی سرے لمس میں ہوں، تواس عددی قدر کی قوت بہ آسانی پٹریوں کو موڑسکتی ہے۔

مثال 11.1: دکھائیے کہ ایک ٹھوس مستطیل نما چادر کا رقبہ پھیلاؤ کا ضریب: ایجنسی اس کے خطی پھیلاؤ کے ضریب است کا دگنا ہے۔ 

جواب 

نور
شکل 11.8
ٹھوس شے کی بی ہوئی، لمبائی abاور چوڑائی b کی ای مستطیل نما چادر لیجیے۔ (شکل 11.8) ۔ جب درجۂ حرارت میں ترنم کا اضافہ ہوتا ہے توabcمیں اضافہ ہوتا ہے : اضافہ اور bb میں اضافہ ہوتا ہے: شکل شکل 11.8 سے، رقبہ میں اضافہ
قمیص
کیونکہ جدول 11.1 سے : دربار حاصل ضرب، کسری درجۂ حرارت کے لیے، 2 کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے اور نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے 
عرر

مثال 11.2: ایک لوہار ایک گھوڑا گاڑی کے لکڑی کے پہیے کے حلقے (rilm) پر لوہے کا چھلا چڑھاتا ہے۔ حلقے، اور لوہے کے چھلے کے قطر، بالترتیب 5.243mm اور 5.231m ہیں۔ درجہ حرارت ºC 27 ہے۔ چھلے کو کس درجہ حرارت تک گرم کیا جائے کہ وہ حلقے پر چڑھ جائے۔
جواب دیا ہوا ہے
جواب
اس لیے
مائک
یا
یا

11.6نوعی حرارت کی گنجائش  

(SPECIFIC HEAT CAPACITY

ایک برتن میں کچھ پانی لیجیے اوراسے ایک چولھے پر گرم کرنا شروع کیجیے ۔ آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ بلبلے اوپر کی طرف حرکت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ کیا جاتاہے، پانی کے ذرات کی حرکت بھی بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ یہ حرکت آشوبی ہوجاتی ہے اورپانی ابلنا شروع کردیتا ہے۔ وہ کیا عوامل ہیں جن پر ایک شے کا درجہ حرارت بڑھانے کے لیے درکار حرارت کی مقدارمنحصر ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ، پہلا قدم یہ اٹھائیے کہ پانی کی ایک دی ہوئی مقدار کو گرم کرنا شروع کیجیے اوراس درجہ حرارت میں فرض کیجیے،  20dکا اضافہ کیجیے اور اس میں لگا وقت نوٹ کر لیجیے۔ پھر پانی کی اتنی ہی مقدار لیجیے اور اسی چولھے پر اسے اتنی دیر گرم کیجیے کہ اس کے درجہ حرارت میں  40dکا اضافہ ہوجائے ۔ اس وقت کو بھی ایک اسٹاپ واچ کی مدد سے نوٹ کر لیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اب پہلے کے مقابلے میں تقریباًدوگنا وقت لگتا ہے۔ اس لیے، پانی کی یکساں مقدار کے درجہ حرارت میں دوگنا اضافہ کرنے کے لیے حرارت کی دگنی مقدار چاہیے ہوتی ہے۔
دوسرے قدم میں ، آپ پانی کی دگنی مقدار لیجیے اور وہی چولھا استعمال کرتے ہوئے ، اس کادرجہ حرارت میں  20dکا اضافہ کیجیے اوراس اضافہ کے ہونے میں لگنے والا وقت نوٹ کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اب لگنے والا وقت ، پہلے  20dکا اضافہ کرنے میں لگنے والے وقت کا تقریباًدگنا ہے۔   
تیسرے قدم میں، آپ پانی کی جگہ اتنی ہی مقدار کسی اوررقیق، جیسے سرسوں کے تیل کی لیجیے اوراس کے درجہ حرارت میں  20dکا اضافہ ہونے میں لگنے والا وقت اسی اسٹاپ واچ کی مدد سے نوٹ کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اب وقت مقابلتاًکم لگے گا۔ اس لیے اب جو حرارت کی مقداردرکار ہے وہ اسی مقدار کے پانی میں اتنا ہی اضافہ کرنے کے لیے درکار حرارت کی مقدار سے کم ہے۔
مندر جہ بالا مشاہدات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک شے کو گرم کرنے کے لیے درکار حرارت، اس کی کمیتm، درجہ حرارت کی تبدیلی  engle t،اور شے کی طبع کے تابع ہے۔ایک شے کے درجہ حرارت میں تبدیلی ، جب حرارت کی ایک دی ہوئی مقدارجذب ہوتی ہے یا خارج ہوتی ہے، ایک ایسی مقدارکی خاصیت ہے جسے ہم اس شے کی حرارتی گنجائش کہتے ہیں۔ ہم ایک شے کی حرارتی گنجائش Sکی تعریف اس طرح کرتے ہیں:
41
یہاںengle q، شے کو مہیا کی گئی حرارت کی وہ مقدار ہے جو اس کا درجۂ حرارت Tسے engle t+T کر دیتی ہے۔آپ مشاہدہ کر ہی چکے ہیں کہ اگرمختلف اشیاء کی یکساں کمیتوں میں مساوی مقدارکی حرارت شامل کی جائے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی درجہ حرارت کی تبدیلیاں یکساں نہیں ہوں گی۔اس کا مطلب ہواکہ ہر شے کی اپنی ایک یکتا(Unique)قدر ہوتی ہے جو تباتی ہے کہ اس کی اکائی کمیت میں ایک اکائی درجۂ حرارت تبدیلی لانے کے لیے حرارت کی کتنی مقدار جذب یا خارج ہوگی۔ یہ مقدار اس شے کی نوعی حرارت کی گنجائش کہلاتی ہے ۔  
اگرengle qایک کمیت mکی شے سے اس وقت خارج ہونے والی یا جذب ہونے والی حرارت کی مقدار ہے جب اس کے درجہ حرارت میں  engle tتبدیلی ہوئی ہو، تو اس شے کی نوعی حرارت گنجائش دی جاتی ہے۔
یکتا

نوعی حرارت کی گنجائش مادہ کی خاصیت ہے جو مادہ میں درجۂ حرارت کی تبدیلی بتاتی ہے (جس میں کوئی ہیئت (Phase)کی تبدیلی نہ ہو رہی ہو)، جب کہ اس کے ذریعے حرارت کی ایک دی ہوئی مقدار جذب (یا خارج ) ہو رہی ہو۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ شے کے ذریعے خارج کی گئی یا جذب کی گئی حرارت کی وہ مقدارفی اکائی کمیت ہے جو اس کی درجۂ حرارت   میں اکائی تبدیلی لاتی ہے۔ یہ شے کی طبع اوراس کے درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ نوعی حرارت کی گنجائش کی SIاکائی اکائی  ہے۔  

اگر شے کی مقدار ،Kg میں کمیتmکی جگہ مول uمیں دی ہوئی ہو تو ہم حرارتی گنجائش فی شے کا مول کی تعریف اس طرح کر سکتے ہیں :  
مجھع

جہاں C،شے کی مولی نوعی حرارت کی گنجائش (Molar specific heat capacity)کہلاتی ہے۔ Sکی طرح Cبھی شے کی طبع اوراس کے درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ مولی نوعی حرارت گنجائش کی   SIاکائی45  ہے۔  

لیکن گیسوں کی نوعی حرارت کی گنجائش کے سلسلے میں، Cکی تعریف کرنے کے لیے کچھ مزید شرائط چاہیے ہوتی ہیں۔ گیسوں میں یہ حرارت کی منتقلی دباؤ حجم میں سے کسی ایک کو مستقلہ رکھ کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگرحرارت کی منتقلی کے دوران گیسوں کو مستقلہ دباؤ پر رکھا جاتا ہے، تب یہ مستقلہ دباؤ پرمولی نوعی حرارت کی گنجائش کہلاتی ہے اور اسے  cpسے ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر حرارت کی منتقلی کے دوران گیس کا حجم برقرار رکھا جاتا ہے تو متطابق نوعی حرارت کی گنجائش ، مستقلہ حجم پر مولی نوعی حرارت کی گنجائش کہلاتی ہے، جسےcvسے ظاہر کیا جاتا ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے باب 12۔ جدول 11.3میں فضائی دباؤ اورمعمولی درجہ حرارت پر کچھ اشیاء کی نوعی حرارت کی گنجائشوں کی ناپی گئی قدریں دی گئی ہیں۔ جب کہ جدول 11.4میں کچھ گیسوں کی مولی نوعی حرارت کی گنجائشیں دی گئی ہیں۔آپ جدول 11.3سے نوٹ کرسکتے ہیں کہ دوسری اشیاء کے مقابلے میں پانی کی نوعی حرارت کی گنجائش سب سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے پانی گاڑیوں کے اشعاع گر (Radiators)میں بہ طور خنکار(Coolant)اور گرم پانی کی تھیلیوں میں بطور حرکار(Heater) بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اپنی نوعی حرارت کی گنجائش کی زیادہ قدر کی وجہ سے ، پانی گرمیوں کے موسم میں، زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ آہستہ آہستہ گرم ہوتا ہے اوراس وجہ سے سمندر کی طرف سے آرہی ہوا ٹھنڈی معلوم ہوتی ہے۔ اب آپ بتا سکتے ہیں کہ ریگستانی علاقوں میں زمین کی سطح دن میں کیوں جلدی گرم ہو جاتی ہے اوررات میں کیوں جلدی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔

جدول 11.3: کمرہ درجۂ حرارت اور فضائی دباؤ پر کچھ اشیا کی نوعی حرارت کی گنجائش

شے نوعی حرارت کی گنجائش
(J kg-1 k-1)
شے نوعی حرارت کی گنائش
(J kg-1 k-1)
المونیم 900.0 برف  2060
کاربن 506.5 شیشہ 840
تانبہ 386.4 لوہا 450
سیسہ 127.7 مٹی کا تیل 2118
چاندی 236.1 کھانے کا تیل 1965
ٹنگسٹن 134.4 پارہ 140
پانی 4186.0

جدول 11.4: کچھ گیسوں کی مولی نوعی حرارت کی گنجائش

گیس
CP(J mol-1K-1)
CV(J mol-1K-1)
He 20.8  12.5
H2 28.8 20.4
N2 29.1 20.8
O2 29.4 21.1
CO2 37.0 28.5

11.7حرارہ پیمائی (CALORIMETRY)

ایک نظام کو اس وقت جدا کیا ہوا (Isolated)کہا جا تا ہے جب نظام اوراس کے ماحول کے درمیان درجۂ حرارت کاکوئی تبادلہ یا منتقلی نہیں ہو رہی ہو۔ جب ایک جدا کیے ہوئے نظام کے مختلف حصے مختلف درجۂ حرارت پر ہوں، تو حرارت کی ایک مقدار اس حصے سے جو مقابلتاًزیادہ درجۂ حرارت پر ہے کم درجۂ حرارت والے حصے میں منتقل ہوتی ہے ۔ زیادہ درجۂ حرارت والے حصے کے ذریعے خارج کی گئی حرارت ، کم درجۂ حرارت والے حصے کے ذریعے وصول کی گئی حرارت کے مساوی ہوتی ہے۔
کیلوری میٹری کا مطلب ہے حرارت کی پیمائش ۔ جب ایک جسم جس کادرجہ حرارت زیادہ ہے، ایک کم درجۂ حرارت والے جسم سے لمس میں لایاجاتا ہے تو گرم جسم کے ذریعے کھوئی گئی حرارت (Heat lost)، مقابلتاً ٹھنڈے جسم کے ذریعے حاصل کی گئی حرارت (Heat Gained)کے مساوی ہوتی ہے۔ وہ آلہ جس میں حرارت کی پیمائش کی جاسکتی ہے، کلوری میٹر (حرارت پیما Calorimeter) کہلاتا ہے۔ یہ ایک دھات کے برتن ، جیسے تانبہ یا المونیم کے برتن اور اسی دھات کی بلونی (Stirrer)پر مشتمل ہوتا ہے۔ برتن کو لکڑی کے غلاف (Jacket) کے اندر رکھا جاتا ہے، جس میں حرارت حاجز (Heat insulator)اشیاء ، جیسے(شیشہ پنبہ Glass-wool) وغیرہ رکھے ہوتے ہیں۔ باہری غلاف، حرارت ڈھال (Shield)کی طرح کام کرتا ہے اور اندرونی برتن سے حرارت کے زیاں کو کم کرتا ہے۔ باہری غلاف میں ایک سوراخ ہوتا ہے، جس سے کلوری میٹر میں تھرما میٹر داخل کیا جاسکتا ہے(شکل11.20)۔ مندرجہ ذیل مثال ایک دیے ہوئے ٹھوس کی نوعی حرارت کی گنجائش معلوم کرنے کے طریقے کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ طریقہ اصول : حاصل کی گئی حرارت، ضائع ہوئی حرارت کے مساوی ہے، پر مبنی ہے۔

مثال 11.3: 0.047kg کا المونیم کا ایک کرہ کافی وقت تک ایک ابلتے ہوئے پانی سے بھرے ہوئے برتن میں رکھا گیا۔ اس طرح کا کرہ کا درجۂ حرارت 100 ºC ہے۔ پھر اس کرہ کو فورا ایک 0.14kg کے تانبہ کے کلوری میٹر منتقل کر دیا گیا، جس میں 20 ºC درجۂ حرارت پر 0.25kg پانی تھا۔  پانی کا درجۂ حرارت بڑھتا ہے اور 23 C پر قائم حالت (steady state) میں آجاتا ہے۔ المونیم کی نوعی حرارت کی گنجائش (specific heat capacity) کا حساب لگائیے۔

جواب: اس مثال کو حل کرنے میں یہ اصول استعمال کرنا ہوگا کہ قائم حالت پر، المونیم کے کُرّے کے ذریعے خارج کی گئی حرارت، پانی اورکلوری میٹر کے ذریعے جذب کی گئی حرارت کے مساوی ہے۔

almu المونیم کے کرہ کی کمیت
lk المونیم کے کرہ کا شروعاتی درجۂ حرارت
۲۳ آخری درجۂ حرارت
درجہ درجۂ حرارت میں تبدیلی
=77ºC
فرض کیجیے کہ الونیم کی نوعی حرارت کی گنجائش نورعینہے،
المونینالمونیم کے کرہ کے ذریعے خارج کی گئی حرارت کی مقدار
miqdar
pani پانی کی کمیت
شورش کلو میٹر کی کمیت
انکیپانی اور کلوری میٹر کا شروعاتی درجۂ حرارت
ھعلل آمیزہ کا آخری درجۂ حرارت 
درجہحرارت درجۂ حرارت میں تبدیلی کل پانی کی نوعی حرارت کی گنجائش 
نانبہ کے کیلوری میٹر کی نوعی حرارت کی گنجائش
ھیلو
کھاتا
قائم حالت میں پانی کے ذریعے جذب کی گئی حرارت = المونیم کے کرہ کے ذریعے کیلوری میٹر کے ذریعے جذب کی گئی حرارت + خارج کی گئی حرارت
                                               پروجیکٹ

11.8حالت کی تبدیلی (CHANGE OF STATE)

مادہ عام طور سے تین حالتوں میں پایا جاتا ہے: ٹھوس ، رقیق اور گیس ، ان میں سے کسی ایک حالت سے دوسری حالت میں عبور(Transition)،حالت کی تبدیلی کہلاتا ہے۔ دو عام حالت کی تبدیلیاں، ٹھوس سے رقیق اور رقیق سے گیس (اور ان کے برخلاف) ہیں۔ یہ تبدیلیاں اس وقت ہو سکتی ہیں جب شے اوراس کے ماحول کے درمیان حرارت کا تبادلہ ہوتا ہے۔ گرم یا ٹھنڈا کرنے پر حالت میں ہونے والی تبدیلی کا مطالعہ کرنے کے لیے آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کریں۔
ایک بیکر میں کچھ برف کے ٹکڑے لیں۔ برف کا درجۂ حرارت نوٹ کریں۔ ایک مستقلہ حرارت فراہم کرنے والے چولھے پر اسے آہستہ آہستہ گرم کرنا شروع کریں۔ ہر ایک منٹ بعد اس کا درجۂ حرارت نوٹ کریں۔ پانی اوربرف کے اس آمیزہ کو مستقل بلوتے رہیں۔ درجۂ حرارت اور وقت کے درمیان گراف کھینچیں (شکل 11.9)آپ دیکھیں گے کہ جب تک برف بیکر میں موجود ہے، درجۂ حرارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مندرجہ بالا عمل میں، نظام کا درجۂ حرارت تبدیل نہیں ہوتا حالانکہ اسے مستقل حرارت فراہم کی جارہی ہے۔ مہیا کی گئی حرارت ، ٹھوس (برف) سے رقیق (پانی ) میں ، حالت تبدیل کرنے میں استعمال ہورہی ہے ۔

password
شکل 11.9: درجۂ حرارت بر خلاف وقت گراف جو گرم کرنے پر برف کی حالت میں تبدیلیاں دکھارہا ہے۔ (اسکیل کے مطابق نہیں)

ٹھوس سے رقیق میں حالت کی تبدیلی گداخت (پگھلناMelting) کہلاتی ہے اوررقیق سے ٹھوس ہونے کو(Fusion)کہتے ہیں۔ یہ دیکھا گیاہے کہ جب تک ٹھوس شے کی پوری مقدار نہ پگھل جائے، درجۂ حرارت مستقلہ رہتا ہے۔ یعنی کہ، ٹھوس سے رقیق میں حالت کی تبدیلی کے دوران ، ٹھوس اور رقیق دونوں حالتیں حرارتی توازن میں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں۔وہ درجۂ حرارت جس پر ایک شے   کی ٹھوس اور رقیق حالتیں ایک دوسرے کے ساتھ حرارتی توازن میں ہوتی ہیں، نقطہ گداخت (Melting point) کہلاتا ہے۔ یہ شے کی خصوصیت ہے۔ یہ دباؤ کے بھی تابع ہے۔ معیاری فضائی دباؤ پرایک شے کا نقطۂ گداخت، نارمل نقطۂ گداخت کہلاتا ہے۔ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کے ذریعے برف کے گداخت کے عمل کو سمجھیں۔
برف کی ایک سل لیجیے،ایک دھات کا بنا تار لیجیے اوراس کے کناروں پر 2بھاری گٹکے لگا دیجیے۔ مان لیجیے ہر گٹکے کی کمیت 5Kgہے۔ تار کوسل کے اوپر رکھیے، جیسا کہ شکل 11.10میں دکھایا گیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دھیرے دھیرے تار برف کی سلی سے گذر جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کیونکہ تار کے بالکل نیچے ، دباؤ میں اضافہ کی وجہ سے برف مقابلتاًکم درجہ حرارت پر پگھلتا ہے۔

گداز
شکل 11.10
جب تار گذر جاتا ہے، تو تار کے اوپر کا پانی دوبارہ جم جاتا ہے۔ اس طرح تار سل سے گذر جاتا ہے اور سل ٹوٹتی نہیں ہے۔دوبارہ جمنے کا یہ عمل باز انجماد (Regelation) کہلاتا ہے۔ برف پر اسکیٹنگ کرنا (پھسلنا)، اسکیٹس کے نیچے پانی کے بننے کی وجہ سے ممکن ہے۔ پانی، دباؤ میں اضافہ کی وجہ سے بنتا ہے اور چکنائی کار (Lubricant)کی طرح کام کرتا ہے۔

ثلاثی نقطہ

ایک شے کا درجۂ حرارت اس کی حالت کی تبدیلی (تبدیلی ہیئت Phase Change) کے دوران مستقلہ رہتا ہے۔ شے کے درجۂ حرارت T اور دباؤ P  کے درمیان کھینچا گیا گراف، ہیئت ڈائیگرام یا P - T ڈائیگرام کہلاتا ہے۔ مندرجہ ذیل شکل میں پانی اور CO2 کی ہیئت ڈائیگرام دکھائی گئی ہے۔ ایسی ہیئت ڈائیگرام دکھائی گئی ہے۔ ایسی ہیئت ڈائیگرام P-T مستوی کو، ٹھوس۔ علاقہ، ابخرات۔ علاقہ اور رقیق۔ علاقہ میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ علاقے منحنی خطوط(Curves) کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں، جیسے تصعید منحنی (sublimation curve)
(BO), اختلاط منحنی (fusion curve) (AO) اور تبخیر منحنی (vaporisation curve) (CO) ۔ تصعید منحنی BO کے نقاط ان حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں، جن میں ٹھو اور رقیق ہیئتیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں تبخیر منحنی (CO) کے نقاط ان حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں جن میں رقیق اور ابخراتی ہیئتیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں۔ وہ درجۂ حرارت اور دباؤ، جس پر تصعید منحنی خط، اختلاط منحنی خط اور تبخیر منحنی خط ایک دوسرے
سے ملتے ہیں اور شے کی تنیوں ہیئتیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں، شے کا ثلاثی نقطہ (Triple point) کہلاتا ہے۔ مثلا، پانی کا ثلاثی نقطہ، درجۂ حرارت 273.16k اور دباؤ 
 6.11 x 10-3Pa
سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

spray
شکل 11.11: دباؤ۔ درجہ حرارت ہیئت ڈائگرام (a) پانی کے لیے (b)
Co2 کے لیے (پیمانے کے مطابق)

جب پورا برف پانی میں تبدیل ہوجا تا ہے اورہم مزید گرم کرنا جاری رکھتے ہیں، تو ہم دیکھیں گے کہ درجہ حرارت، بڑھنا شروع ہوجاتا ہے(شکل 11.9)۔ درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے، یہاںتک کہ تقریباً 100ºC ہو جاتا ہے، جہاں وہ دوبارہ قائم (Steady)ہوجاتا ہے۔   اب مہیا کی گئی حرارت پانی کو رقیق حالت سے ابخراتی   یا گیس حالت میں تبدیل کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
رقیق سے ابخرات (یا گیس، میں تبدیلی تبخیر(Vaporisation) کہلاتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ درجہ حرارت اس وقت تک مستقلہ رہتا ہے، جب تک رقیق کی پوری مقدار ، ابخرات میں تبدیل نہیں ہوجاتی۔ یعنی کہ شے کی رقیق اورابخراتی حالتیں ، دونوں بہ یک وقت حرارتی توازن میں پائی جاتی ہیں۔ وہ درجۂ حرارت ، جس پر رقیق اورابخراتی حالتیں بہ یک وقت پائی جاتی ہیں، اس شے کا نقطہ ابال کہلاتا ہے۔ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کے ذریعے پانی کے ابلنے کے عمل کو سمجھیں۔
ایک گول پیندے کی صراحی (Flask)لیجیے جس میں آدھے سے زیادہ پانی بھرا ہو۔ اسے چولھے پر رکھ دیجیے اورفلاسک کے کار ک میں تھرمامیٹر اوربھاپ باہر نکلنے کے لیے نلی لگادیجیے (شکل 11.12)۔فلاسک میں پانی گرم ہوتا ہے تو آپ پہلے دیکھیں گے کہ ہوا ، جو پانی میں گھلی ہوئی تھی، چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی شکل میں باہر آتی ہے۔ بعد میں پیندے پر بھاپ کے بلبلے بنتے ہیں،لیکن جب یہ بلبلے اوپری سطح کے قریب پہنچتے ہیں تو ان کی تکثیف (Condensation)   ہو جاتی ہے اور یہ غائب ہو جاتے ہیں۔ آخر میں، جب رقیق کی پوری کمیت کا درجۂ حرارت 100ºC پرپہنچ جاتا ہے۔بھاپ کے بلبلے سطح تک پہنچتے ہیں اور ابلنے کا عمل شروع ہوجا تاہے ۔فلاسک کے اندر ہو سکتا ہے بھاپ دکھائی نہ دے، لیکن جب یہ بھاپ فلاسک سے باہر آتی ہے، تو اس کی تکثیف ، پانی کی چھوٹی چھوٹی بوندوں کی شکل میں ہو جاتی ہے۔ اور شیشہ دھندھلا دھندھلا لگنے لگتا ہے۔
bulbula
شکل 11.12 ابلنے کا عمل

اب اگر فلاسک   میں دباؤ بڑھانے کے لیے ، بھاپ کے باہر نکلنے کے راستے کوچند سیکنڈ کے لیے بند کردیا جائے ، تو آپ دیکھیں گے ابلنے کا عمل رک جاتا ہے۔ابلنے کا عمل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے مزید حرارت درجۂ حرارت میں اضافہ کرنے کے لیے چاہیے ہوگی(جو دباؤ میں اضافہ کے تابع ہے)۔اس لیے : دباؤ میں اضافہ کے ساتھ نقطۂ اُبال بڑھ جاتا ہے۔
آئیے اب چولھا(برنر) ہٹا دیں۔ پانی کو تقریباً  80ºC  تک ٹھنڈا ہونے دیں۔ تھرما میٹر اور بھاپ باہر نکلنے کی نلی بھی ہٹادیں۔ صراحی کو پوری طرح سے کارک کے ذریعے مُہر بند کردیجیے۔ صراحی کو اسٹینڈ پر الٹا لٹکا دیجیے۔ صراحی پر برف کا پانی (درجۂ حرارت 0ºC  انڈیلیے۔ صراحی میں پانی کے ابخراتوں کی تکثیف ہوتی ہے، جس سے صراحی کے اندر پانی کی سطح پر دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ پانی دوبارہ ابلنا شروع ہوجاتا ہے (اب مقابلتاً کم درجۂ حرارت پر)۔ اس لیے، دباؤ میں کمی کے ساتھ، نقطۂ اُبال کم ہوجاتا ہے۔  

اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں کھانا پکانا کیوں دشوار ہوتا ہے۔ زیادہ بلندی پر، فضائی دباؤ کم ہوتا ہے، اس لیے پانی کا نقطۂ اُبال، اس کے سطحِ سمندر پر نقطۂ اُبال کے مقابلے میں کم ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف، ایک پریشر کُوکر (Pressure Cooker) کے اندر، دباؤ میں اضافہ کرکے، نقطۂ اُبال میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے کھانا جلدی پکتا ہے۔ ایک شے کا معیاری فضائی دباؤ پر نقطۂ اُبال ، اس کا نارمل نقطۂ اُبال کہلاتا ہے۔
لیکن ، تمام اشیاء تین حالتوں : ٹھوس، رقیق اور گیس، سے نہیں گذرتیں۔ کچھ ایسی اشیاء بھی ہیں، جو ٹھوس سے براہِ راست ابخراتی حالت میں، بغیر رقیق حالت سے گذرے، چلی جاتی ہیں۔ رقیق حالت سے گذرے بغیر، ٹھوس حالت سے ابخراتی حالت میں تبدیلی، تصعید(Sublimation) کہلاتی ہے اور ایسی شے کو سعود (Sublime)کہتے ہیں۔ سوکھا برف (ٹھوس C02 ) اور آیوڈین اس کی مثالیں ہیں۔ عملِ تصعید کے دوران، ایک شے کی، ٹھوس اور ابخراتی ، دونوں حالتیں ایک ساتھ اور حرارتی توازن میں پائی جاتی ہیں۔

11.8.1مخفی حرارت (Latent heat)

حصہ11.8میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ جب ایک شے کی حالت میں تبدیلی ہوتی ہے توشے اوراس کے ماحول کے درمیان حرارتی توانائی کی کچھ مقدار کاتبادلہ ہوتا ہے۔ ایک شے کی حالت کی تبدیلی کے دوران تبادلہ کی جانے والی حرارت فی اکائی کمیت، اس شے کی اس عمل کے لیے مخفی حرارت (Latent Heat) کہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر  (10ºC-) پر برف کی دی ہوئی مقدار میں حرارت داخل کی جائے، تو برف کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتاہے، یہاں تک کہ وہ نقطہ گداخت  0ºC پرپہنچ جاتا ہے۔ اس درجہ حرارت پر مزید حرارت داخل کرنے سے درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ حرارت برف کو پگھلاتی ہے یا اس کی حالت تبدیل کرتی ہے۔ جب ایک بارپورا برف پگھل جاتا ہے، تو مزید حرارت مہیا کرنے سے ،پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایسی ہی صورت ، نقطۂ اُبال پر رقیق۔   گیس حالت کی تبدیلی کے دوران پیش آتی ہے۔ ابلتے ہوئے پانی کو مزید حرارت دینے سے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوئے بغیر تبخیر ہوتی ہے۔

ایک حالت کی تبدیلی کے دوران درکار حرارت، حرارت تبدل (Heat of transformation)   اور جس کی حالت تبدیل ہو رہی ہے ، اس شے کی کمیت کے تابع ہے۔ اگرایک شے کی کمیت m، ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی ہے، تو درکار حرارت کی مقدار دی جاتی ہے:
aa
جہاں L، خفیہ حرارت کہلاتی ہے اورشے کی امتیازی خاصیت ہے۔ اس کی SI اکائی56ہے۔ Lکی قدر دباؤ کے بھی تابع ہے۔ عام طور پر اس کی قدر معیاری فضائی دباؤ پربتائی جاتی ہے۔ ٹھوس–رقیق حالت کی تبدیلی کے لیے خفیہ حرارت، اختلاط کی خفیہ حرارتlfکہلاتی ہے، اور رقیق– گیس حالت کی تبدیلی کے لیے خفیہ حرارت، تبخیر کی خفیہ حرارت  lvکہلاتی ہے۔ انہیں اکثر اختلاط کی حرارت اور تبخیر کی حرارت بھی کہاجاتا ہے۔ پانی کی ایک دی ہوئی مقدار کے لیے، درجہ حرارت بر خلاف حرارت گراف ، شکل 11.13میں دکھایا گیا ہے۔ کچھ اشیاکی خفیہ حرارتیں اور ان کے نقطۂ گداخت اورنقطہ ابال جدول 11.5میں دیے گئے ہیں۔

hararat
شکل 11.13: فضائی دباؤ پر پانی کے ہیے درجۂ حرارت بر خلاف حرارت گراف (اسکیل کے مطابق نہیں)

جدول 11.5  فضائی دباؤ پر مختلف اشیاء کے لیے حالت کی تبدیلی کے درجات حرارت اور مخفی حرارتیں

شے (ºC) نقطۂ گداخت Lf
(10
5 J Kg-1)
(ºC) نقطۂ ابال Lv
(10
5 J Kg-1)
ایتھانول -114 1.0 78 8.5
سونا 1063 0.645 2660 15.8
سیسہ 328 0.25 1744 8.67
پارہ -39 0.12 357 2.7
نائٹروجن 210- 0.26 196- 2.0
آکسیجن 219- 0.14 183- 2.1
پانی 0 3.33 100 22.6


نوٹ کریں کہ ایک حالت کی تبدیلی کے دوران جب حرارت داخل کی جاتی ہے یا نکالی جاتی ہے تو درجہ حرارت مستقلہ رہتا ہے۔ شکل 11.12میں دیکھیے کہ ہیئت خطوط کے ڈھلان (Slope)سب یکساں نہیں ہیں، جو نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف حالتوں کی خفیہ حرارتیں یکساں نہیں ہیں۔پانی کے لیے اختلاط اور تبخیر کی خفیہ حرارت، بالترتیب بالترتیب اور ہیں ہیں۔
یعنی کہ 0ºC پر ایک کلو گرام برف کو پگھلانے کے لیے بہت حرارت چاہیے ہوگی اور 100ºC پر پانی کے مقابلے میں 100ºC پر بھاپ میں عید زیادہ حرارت ہوتی ہے۔ اسی لیے بھاپ سے جلنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔

مثال 11.4: جب 0ºC درجۂ حرار کا 0.15kg برف، 50ºC کے 0.30kg پانی میں ملایا گیا تو حاصل ہونے والا درجۂ حرارت 67ºC ہے۔ برف کے اختلاط کی حرارت کا حساب لگائیے۔

جواب: پیایف پانی کے ذریعہ خارج کی گئی حرارت 
         حرارت
سیف برف کو پگھلانے کے لیے درکار حرارت مدرسہ برف کے پانی کا درجۂ حرارت، آخری درجۂ حرارت تک بڑھانے کے لیے درکار حرارت
غصب
جذب کی گئی حرارت = خارج کی گئی حرارت
جے سی بی
مثال 11.5 : ایک کلو میٹر میں 12ºC- پر رکھے 3kg برف کو 100ºCپر بھاپ پر بدلنے کے لیے درکار حرارت کا حساب لگائیے۔ دیاہے۔
شارہا برف کی نوعی حرارت کی گنجائش
نایاب پانی کی نوعی حرارت کی گنجائش
ڈکو برف کی اختلاط کی خفیہ حرارت،
عاشق بھاپ کی خفیہ حرارت

جواب : ہمارے پاس ہے
m برف کی کمیت
ایس (برف S) برف کی نوعی حرارت کی گنجائش
سریتا (پانی S) پانی کی نوعی حرارت کی گنائش
phy برف کی اختلاط کی خفیہ حرارت
پباپ پھاپ کی خفیہ حرارت
12ºC- درجۂ حرارت کے 3kg برف کو 100ºC پر بھاپ میں بدلنے کے لیے درکار حرارت ایناد
(12ºC-) کے برف کا درجۂ حرارت 0ºC تک بڑھانے کے لیے درکار حرارت سر
                                                   سیلف
0ºC کے پانی کو 100ºC میں تبدیل کرنے کے لیے دردار حرارت 
                درکار
                  ہوسٹل
100ºC درجۂ حرارت کے پانی کو 100ºC پر برف میں تبدیل کرنے کے لیے درکار 
حرارت سے
مودی

11.9حرارت کی منتقلی HEAT TRANSFER

ہم دیکھ چکے ہیں کہ حرارت، ایک نظام سے دوسرے نظام یا نظام کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں، درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے ، ہونے والی توانائی کی منتقلی ہے۔ وہ کون کون سے مختلف طریقے ہیں، جن کے ذریعے یہ توانائی کی منتقلی ہوتی ہے۔ حرارت کی منتقلی کے 3مختلف طریقے ہیں ۔ ایصال ، حمل اور اشعاع ریزی (شکل 11.14)

شعاع
شکل 11.14: ایصال، حمل اور اشعاع ریزی کے ذریعے گرم کرنا

11.9.1ایصال (Conduction)

ایصال ایک جسم کے دو متصل حصوں میں، ان کے درمیان درجہ حرارت فرق کی وجہ سے ، حرارت کی منتقلی کی میکانیت ہے۔ فرض کیجیے دھات کی چھڑ کا ایک سرا آگ کی لو پر رکھ دیا جائے، توجلد ہی چھڑ کا دوسرا سرا بھی اتنا گرم ہو جائے گا کہ آپ اسے ہاتھ میں پکڑے نہیں رہ سکیں گے۔یہاں حرارت کی منتقلی ، چھڑ کے گرم سرے سے ، اس کے مختلف حصوں سے ہوتی ہوئی ، دوسرے سرے تک، ایصال کے ذریعے ہوتی ہے۔ گیسیں خراب حرارتی موصل (Thermal Conductors)ہیں جب کہ رقیق اشیاء کی ایصالیت کی قدریں ٹھوس اورگیسوں کے درمیان ہوتی ہیں۔  

ایصال حرارت کی مقداری تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک مادے میں ، دیے ہوئے درجہ حرارت فرق کے لیے، حرارت کے بہاؤ کی شرح وقت ہے۔ ایک دھات کی بنی چھڑتصور کیجیے ،جس کی لمبائی Lاورہموار تراشی رقبہ Aہے اوراس  کے  دونوں سروں کو مختلف درجات حرارت پر رکھا گیا ہے۔ ایسا مثال کے طور پر اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ کناروں کو بڑے درجۂ حرارت، فرض کیا Tc اور،td کے حرارتی حوضوں (Reservoirs)سے حرارتی لمس میں رکھ دیا جائے۔ (شکل11.15)ہم مثالی حالت فرض کرلیتے ہیں، یعنی کہ چھڑ ہرطرف سے حاجز کی ہوئی ہے، اس طرح کے چھڑ اورماحول کے درمیان حرارت کا کوئی تبادلہ نہیں ہو رہا ہے۔
riyazi
شکل 11.15: ایک چھڑ میں، جس کے دونوں سروں کو درجات حرارت Tc اور Tx پر برقرار رکھا گیا ہے، ایصالیت کے ذریعے ، قائم حالت حرارت بہاؤ 

کچھ دیر بعد ،ایک قائم حالت (Steady State)حاصل ہوتی ہے: چھڑ کا درجہ حرارت،tcسےtdتک66راستے کے ساتھ ہموار طور پر کم ہوتا ہے۔ C پر حرارتی حوض ایک مستقلہ شرح سے حرارت مہیا کرتا ہے، جو چھڑ کے ذریعے  منتقل  ہوتی ہے اوراسی شرح پرDکے حرارتی حوض کو دی جاتی ہے۔ تجربات کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس قائم حالت میں ، حرارت کے بہاؤ کی شرح H، درجہ حرارت فرق67اور تراشہ Aکے راست متناسب ہے اورلمبائی Lکے مقلوب متناسب ہے:
                                                                  sualin
متناسبیت کا مستقلہ K، شے کی حرارتی ایصالیت (Thermal Conductivity)کہلاتا ہے ۔جس مادے کے لیےKکی قدر جتنی زیادہ ہوگی، وہ اتنی تیزی سے حرارت کا ایصال کرے گا۔KکیSI اکائی ہے JS-1m-1K-1  یا Wm-1k-1 مختلف اشیاء کی حرارتی ایصالیت کی قدریں جدول 11.6میں دی گئی ہیں۔ یہ قدریں درجہ حرارت کے ساتھ معمولی سی تبدیل ہوتی ہیں، لیکن عام درجہ حرارت سعت کے لیے انہیں مستقلہ مانا جا سکتا ہے۔
اچھے حرارتی موصلوں ، جیسے دھاتیں، کی مقابلتاً بڑی حرارتی ایصالیت کی قدروں کا مقابلہ کچھ اچھے حرارتی حاجزوں ، جیسے لکڑی یا شیشہ پنبہ (Glass wool)، کی مقابلتاً چھوٹی حرارتی ایصالیت کی قدروں سے کیجیے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کھانے پکانے کے برتنوں کے پیندے پر تانبہ کی پرت چڑھی ہوتی ہے۔ حرارت کا ایک اچھا موصل ہونے کی وجہ سے تانبہ برتن کے پیندے پر حرارت کی ہموار تقسیم کو بڑھاوا دیتا ہے، تاکہ ہموار طور پر کھانا پک سکے ۔ پلاسٹک، فوم، دوسری طرف، اچھے حاجز ہیں، کیونکہ ان میں کچھ ہوا کے علاقے ہوتے ہیں یاد کریں کہ گیسیں، حرارت کی خراب موصل ہیں اورجدول 11.5میں ہوا کی حرارتی ایصالیت کی قدر دیکھیے جو بہت چھوٹی ہے۔ حرارت کو روکے رکھنا اورحرارت کی منتقلی بہت سے دوسرے استعمالات میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ گھرجن کی چھتیں کنکریٹ کی بنی ہوتی ہیں، گرمیوں کے موسم میں بہت گرم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کنکریٹ کی حرارتی ایصالیت ، حالانکہ دھاتوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے، پھربھی اتنی کم نہیں کہ حرارت منتقل نہ ہو۔ اس لیے بہت سے لوگ مٹی یا فوم کی پرت، چھت کے نچلے حصے پر، دینا پسند کرتے ہیں تاکہ حرارت کی منتقلی رک جائے اور کمرہ ٹھنڈارہے۔ بعض صورتوں میں حرارت کی منتقلی لازمی طورپر چاہیے ہوتی ہے۔ ایک نیو کلیرری ایکٹر میں حرارت کی منتقلی کے تفصیلی نظام نصب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نیوکلیر انشقاق (Fission) کے ذریعے جو بہت بڑی مقدار کی توانائی ری ایکٹر کے قالب(Curve)میں پیدا ہوتی ہے، اسے جلد سے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ قالب زیادہ گرم ہونے سے محفوظ رہ سکے۔

جدول 11.6   کچھ اشیاء کی حرارتی ایصالیت کی قدریں

اشیاء حرارتی ایصالیت
(J S-1 m-1 K-1)
دھاتیں
چاندی
تانبہ
المونیم
پیتل
فولاد
سیسہ
پارہ
406
385
205
109
50.2
34.7
8.3
غیر - دھات
حاجز اینٹیں
کنکریٹ
جسمانی چکنائی
فیلٹ (اون)
شیشیہ
برف
شیشہ پنبہ
لکڑی
پانی
0.15
0.8
0.20
0.04
0.8
1.6
0.04
0.12
0.8
گیسیں
ہوا
آرگن
ہائڈروجن
0.024
0.016
0.14

مثال 11.6: شکل 11.15 میں دکھائے گئے، فولاد۔ تانبہ جنکشن کا، نظام کی قائم حالت میں، کیا درجۂ حرارت ہے؟ 15.0cm= فولاد کی چھڑکی لمبائی 10.0cm= تانبہ کی چھڑ کی لمبائی 300ºC= بھٹی کا درجۂ حرارت، 0ºC= دوسرے سرے کا درجۂ حرارت، فولاد کی چھڑ کا تراشی رقبہ، تانبہ کی چھڑ کے تراشی رقبہ کا دگنا ہے، 50.2Js-1m-1K-1= فولاد کی حرارتی ایصالیت farman تانبہ حرارتی ایصالیت

abu

شکل 11.16 

جواب : چھڑوں کے چاروں طرف لگا حاجز مادہ، چھڑ کے اطراف سے حرارت کے زیاں کو کم کردیتا ہے۔ اس لیے حرارت ، صرف چھڑوں کی لمبائی میں بہتی ہے۔چھڑ کا کوئی تراشی رقبہ لیجیے۔ قائم حالت میں، حصہ میں داخل ہونے والی حرارت لازمی طور پر حصہ سے باہر نکلنے والی حرارت کے مساوی ہوگی، ورنہ اس حصہ میں کل حرارت کا حصول یا زیاں ہوگا اوراس کادرجۂ حرارت قائم نہیں رہے گا۔ اس لیے قائم حالت میں چھڑ کے ایک تراشی رقبے سے بہنے والی حرارت کی شرح، فولاد۔تابنہ چھڑ کی لمبائی پر ہر ایک نقطے پریکساں ہوگی۔ فرض کیجیے کہ قائم حالت میں فولاد ۔ تانبہ جنکشن کادرجہ حرارت Tہے تب۔
auto
جہاں 1 اور 2 بالترتیب فولاد اور تانبہ کی چھڑکے لیے اسعمال ہوئے ہیں۔
ایٹم
مثال 11.7 : ایک لوہے کی چھڑ (L1=0.1m,A1=0.02m2,K1=79Wm-1K-1) اور ایک پیتل کی چھڑ (L2=0.1m,A2=0.02m2,K2=109Wm-1K-1), کے سروں کو ٹانکا لگاکر آپس میں جوڑ دیاگیا (Soldered) , جیساکہ شکل 11.16 میں دکھایا گیاہے۔ لوہےکی چھڑ اور پیتل کی چھڑ کے آزاد سروں کے بالترتیب، 373K اور 273K پر رکھا گیا۔ مندرجہ ذیل مقداروں کے لیے ریاضیاتی عبارت حاصل کیجیے اور پھر ان کا حساب لگائیے (i) دونوں چھڑوں کے جنکشن کا درجۂ حرارت (ii) مرکب چھڑکی مساوی حرارتی ایصالیت (iii) مرکب چھڑ میں سے گذرنے والی حرارتی رو (Heat Current)

ye
شکل 11.17
جواب :
دیا ہے :  
chich
قائم حالت میں، لوہے کی چھڑ میں سے گزر رہی حرارتی رو (H1) پیتل کی چھڑ میں سے گذر رہی حرارتی رو (H2), کے مساوی ہوگی،
سواتی
اس لیے دونوں چھڑوں کے جنکشن کا درجہ حرارت ہے: 
بلیک
اس مساوات کو استعمال کرکے ، کسی بھی چھڑ سے گذر رہی حرارتی رو
حرارتی
ان مساوات کو استعمال کرکے، لمبائی: L1 + L2 = 2L کی مرکب بار سے حرارتی رو h اور مرکب بار کی مساوی حرارتی ایصالیت کک دی جاتی ہیں۔
                                                                 پورا
                                                                       قای

11.9.2حمل (Convection)

حمل ، مادے کی حقیقی حرکت کے ذریعے حرارت کی منتقلی کا طریقہ ہے۔ یہ صرف سیالوں میں ہی ممکن ہے۔ حمل، قدرتی بھی ہو سکتا ہے اورجبری (Forced)بھی۔ قدرتی حمل میں، ارضی کشش ایک اہم کردار اداکرتی ہے۔ جب ایک سیال کو نیچے سے گرم کیا جاتا ہے تو گرم حصہ پھیل جاتا ہے اور اس لیے کم کثیف ہوجاتا ہے۔ اچھال کی وجہ سے یہ اوپرچلا جاتا ہے اوراوپر کا مقابلتاً ٹھنڈا حصہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ پھر یہ بھی گرم ہو جاتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ سیال کامقابلتًا ٹھنڈا حصہ لے لیتا ہے۔ اس طرح یہ عمل جاری رہتا ہے ۔ حرارت کی منتقلی کا یہ طریقہ ایصال سے مختلف ہے۔ حمل میں سیال کے مختلف حصوں کی بڑی مقدار میں منتقلی شامل ہے۔  
جبری حمل میں ، مادے کو پمپ یا کسی اور طبعی طریقے سے جبری طور پر حرکت دی جاتی ہے۔ جبری حمل نظاموں کی کچھ عام مثالیں ہیں: گھروں کو گرم رکھنے کا حرارتی نظام، انسانی گردش خون کا نظام اورگاڑیوں کے انجنوں کو ٹھنڈا رکھنے کے نظام ۔
منسٹری
                                             زمین، پانی سے زیادہ گرم ہے                                                             زمین، پانی سے زیادہ گرم ہے

شکل 11.18

دل پمپ کی طرح کام کرتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں خون کو گردش دیتا ہے، جبری حمل کے ذریعے حرارت منتقل کرتا ہے اورایک ہموار درجۂ حرارت قائم رکھتا ہے۔  
قدرتی حمل بہت سے جانے پہچانے مظاہر کے لیے ذمہ دار ہے۔ دن کے وقت ، زمین ، پانی کے بڑے ذخیروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسا ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پانی کی نوعی حرارتی گنجائش زیادہ ہوتی ہے اور دوسری یہ کہ آمیزشی رویں ، جذب ہوئی حرارت کو پانی کے پورے ذخیرے میں پھیلادیتی ہیں۔ گر م زمین سے لمس میں آئی ہوا ایصال کے ذریعے گرم ہوتی ہے۔ یہ پھیلتی ہے اور اپنے اوپر کی ٹھنڈی ہوا کے مقابلے میں کم کثیف ہو جاتی ہے۔ گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے (ہوا کی رویں)اوردوسری ہوا اس خالی ہوئی جگہ کو بھرنے کے لیے حرکت کرتی ہے۔ اس طرح پانی کے بڑے ذخیروں کے پاس بحری ہوا چلتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا نیچے آتی ہے اورایک حرارتی حمل دور بن جاتا ہے، جو زمین سے حرارت منتقل کرتا ہے ۔ اس لیے رات میں زمین زیادہ تیزی سے حرارت خارج کرتی ہے اورپانی کی سطح، زمین سے زیادہ گرم ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں سائیکل الٹا ہو جاتا ہے۔(شکل 11.18)

قدرتی حمل کی دوسری مثال زمین پرچلنے والی وہ قائم سطحی ہوا ہے جو شمال- مشرق سے خط استوا کی طرف چلتی ہے اور جسے تجارتی ہوا (Trade wind) کہتے ہیں۔ اس کی ایک قابل فہم توضیح مندرجہ ذیل ہے : زمین کے خط استوائی اورقطبی علاقے غیر مساوی شمسی حرارت حاصل کرتے ہیں۔ خطِ استوا کے نزدیک سطح زمین پر ہوا گرم ہوتی ہے جب کہ قطبین کی اوپری فضا میں ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اگرکوئی اور عوامل کام نہ کر رہے ہوں تو ایک حمل روبن جائے گی، جس میں استوائی سطح کی ہوا اوپر اٹھے گی اورقطبین کی طرف حرکت کرے گی اور قطبین کی ہوا نیچے آئے گی اورخطِ استوا کی طرف بہے گی۔ لیکن زمین کی گردش اس حمل کرنٹ میں کچھ ترمیم کر دیتی ہے۔ اس وجہ سے خطِ استوا کے نزدیک کی ہوا کی مشرق کی جانب چال 1600Km/hکے قریب ہوتی ہے جب کہ قطبین کے نزدیک یہ صفر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوا قطبین پر نہیں اترتی بلکہ 30ºN (شمال)عرض البلد پر پہنچتی ہے اورپھرخطِ استوا واپس آتی ہے۔ اسے تجارتی ہوا کہتے ہیں۔

11.9.3اشعاع ریزی(Radiation)

ایصال اور حمل دونوں کے لیے کچھ مادہ بہ طور وسیلہ درکار ہوتا ہے۔ ان طریقوں سے ایسے اجسام کے درمیان حرارت کی منتقلی ممکن نہیں ہے جو خلاء میں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر ہیں ۔ لیکن زمین، سورج سے حرارت حاصل کرتی ہی ہے حالانکہ دونوں کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے۔ اسی طرح اگر ہم آگ کے نزدیک جائیں تو فوراً گرمی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ ہوا بہت کمزور موصل ہے اورحمل کی روکے بہنے کا عمل شروع ہونے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔لیکن ہمیں گرمی کا احساس حمل کی رو کے بہنے سے قبل ہی ہونے لگتاہے۔ حرارت کی منتقلی کے تیسرے میکانزم کو کسی وسیلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے اشعاع ریزی (Radiation)کہتے ہیں اور اس طرح برق مقناطیسی لہروں کے ذریعے اشعاع کی گئی توانائی اشعاعی توانائی (Radiant energy) کہلاتی ہے۔ ایک برق مقناطیسی لہر میں برقی اور مقناطیسی میدان فضا (Space) اوروقت میں احتراز کرتے (Oscillate) ہیں ۔کسی بھی لہر کی طرح ، برقی مقناطیسی لہروں کی بھی مختلف طول موج (Wave lengths)ہو سکتی ہیں اور یہ خلاء میں یکساں رفتارسے حرکت کرتی ہیں، جیسے ہے روشنی کی چال، یعنی  81۔ آپ ان باتوں کو آئندہ زیادہ تفصیل سے سیکھیں گے، لیکن اب آپ اتنا جان گئے کہ اشعاع ریزی کے ذریعے حرارت کی منتقلی کے لیے کسی واسطے کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی ، اور یہ عمل اتنا تیز رفتار کیوں ہوتا ہے۔ سورج سے زمین تک حرارت، درمیانی خلاء سے ہوتی ہوئی، اسی طریقے سے منتقل ہوتی ہے۔ تمام اجسام ، چاہے وہ ٹھوس ہوں رقیق ہوں یا گیسیں ہوں، اشعاعی توانائی خارج کرتے ہیں۔ ایک جسم کے ذریعے اس کے درجۂ حرارت کی بناء پر خارج کی گئی برقی مقناطیسی اشعاع، حرارتی اشعاع کہلاتی ہے۔ جیسے سرخ گرم لوہے سے خارج ہورہی شعاعیں یا ایک فلامنٹ لیمپ سے نکل رہی روشنی ۔

جب یہ حرارتی اشعاع دوسرے اجسام پرپڑتی ہیں، تو اس کا کچھ حصہ منعکس ہو جاتا ہے اورکچھ حصہ جذب ہوجاتا ہے۔ اشعاع ریزی کے ذریعے ایک جسم حرارت کی کتنی مقدار جذب کر سکتا ہے، یہ اس جسم کے رنگ پر منحصر ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ سیاہ اجسام اشعاعی توانائی کو ، مقابلتاً ہلکے رنگوں کے اجسام کے بہترطور پر خارج اور جذب کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہماری روزمرہ زندگی میں بہت استعمال ہوتی ہے۔ ہم گرمی کے موسم میں سفید اور ہلکے رنگوں کے کپڑے پہنتے ہیں تاکہ سورج سے کم سے کم حرارت جذب کریں۔ لیکن جاڑوں میں ہم گہرے رنگوں کے کپڑے پہنتے ہیں جو سورج سے حرارت جذب کرتے ہیں اور ہمارے جسم کو گرم رکھتے ہیں۔ کھانا پکانے میں استعمال کیے جانے والے برتنوں کے پیندوں کو کالا کردیا جاتا ہے ، تاکہ وہ آگ سے زیادہ سے زیادہ حرارت جذب کر کے پکائی جانے والی شے کو دے سکیں۔
اسی طرح ایک دیور فلاسک یا تھرماس اایسا آلہ ہے، جس کے ذریعے بوتل میں رکھی ہوئی اشیاء اورباہری ماحول کے درمیان حرارت کی منتقلی کو کم تو کیا جا تا ہے۔ یہ ایک دہری ، دیوار والا شیشے کا برتن ہوتا ہے، جس کی اندرونی اور بیرونی دیواروں پر چاندی کی پالش ہوتی ہے۔ اشعاع، اندرونی دیوار سے بوتل میں رکھی چیزوں پر واپس منعکس ہو جاتاہے۔ اسی طرح بیرونی دیوار کسی اندر آرہی اشعاع کو واپس منعکس کردیتی ہے ۔ دیواروں کے بیچ کی جگہ میں خلاکر کے ایصال اور حمل کے ذریعے ہونے والے حرارت کے نقصان کو کم کیا جاتا ہے اور فلاسک میں ایک حاجز، جیسے کارک، لگا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ آلہ گرم چیزوں (جیسے دودھ) کو ٹھنڈا ہونے سے اورٹھنڈی چیزوں (جیسے برف) کو گرم ہونے (پگھلنے ) سے بچانے کے لیے کار آمد ہے۔

11.9.4   سیاہ جسم اشعاع (Blackbody radiation)

ہم نے ابھی تک حرارتی اشعاع کی طول لہر کا ذکر نہیں کیا تھا۔ کسی بھی درجۂ حرارت پر حرارتی اشعاع کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک (یا چند) طول لہر (یا لہریں) نہیں ہے بلکہ چھوٹی طول لہروں سے لے کر لمبی طول لہروں تک ایک مسلسل طیف (Continuous Spectrum) ہے۔ حالانکہ اشعاع کی توانائی مختلف طول لہروں کے لیے متنوع قسم کی ہوتی ہے۔ شکل A1 میں مختلف درجۂ حرارت کے لیے طول لہر بنام سیاہ جسم کے ذریعے فی اکائی مربع فی اکائی طول لہر خارج ہونے والی اشعاعی توانائی گراف کے تجرباتی منحنیوں کو دکھایا گیا ہے۔
alhamd
شکل 11.19
نوٹ کیجیے کہ وہ طول لہر83اور T جس کے لیے توانائی سب سے زیادہ ہے درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔  83  اور T کے درمیان تعلق کو وین کے نقل مکان کلیہ (Wien’s Displacement Law) کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔
(11.15) مستقلہ = T83
مستقلہ (وین کا مستقلہ) کی قدر
  2.9 ×  84  m K ہے۔ یہ کلیہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جب لوہے کے ٹکڑے کو گرم لو پر تپایا جاتا ہے تو پہلے یہ ہلکے سرخ رنگ کا، پھر سرخی مائل زرد اور آخیر میں سفید کیوں ہو جاتا ہے۔ وین کا کلیہ فلکی اجسام مثلاً چاند، سورج اور دیگر ستاروں کے سطحی درجۂ حرارت کا تخمینہ لگانے کے لیے بہت کارآمد ہے۔ چاند سے آنے والی روشنی کی شدت 14 µM طول لہر کے آس پاس سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ وین کے کلیہ کے مطابق چاند کی سطح کے درجۂ حرارت کا تخمینہ 200 K لگایا گیا ہے۔ شمسی اشعاع کی شدت
  83  = 4753 Å پر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ T = 6060 K کے نظیری ہے۔ یاد رکھیے! یہ سورج کی سطح کا درجۂ حرارت ہے اس کے اندرونی حصہ کا نہیں۔
شکل 11.19 میں دکھائے گئے سیاہ جسم اشعاع منحنیوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ آفاقی (ہمہ گیر) ہیں۔ ان کا انحصار سیاہ جسم کے درجۂ حرارت پر ہوتا ہے۔ اس کے سائز، شکل یا مادہ پر نہیں۔ سیاہ جسم اشعاع کی نظریاتی وضاحت کے لیے کی گئی کوششوں نے طبیعیات میں کوانٹم تحریک کو جنم دیا جس کا مطالعہ آپ بعد میں کریں گے۔

توانائی کو اشعاع کے ذریعہ بغیر کسی رابطے کے (یعنی وکیوم میں) طویل فاصلوں تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ مطلق درجۂ حرارت T پر کسی جسم کے ذریعہ خارج ہونے والی کل برق مقناطیسی توانائی اس کی جسامت، اشعاع کی صلاحیت (اشاعیت) اور درجۂ حرارت پر ہوتا ہے۔ کامل اشعاع کار جسم کے لیے، فی اکائی وقت میں خارج ہونے والی توانائی (H) کو مندرجہ دیل طریقے سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
                            85
جہاں A جسم کا رقبہ اور T اس کا مطلق درجۂ حرارت ہے۔ اس تعلق کو تجرباتی طور پر اسٹیفان (Stefan) کے ذریعہ حاصل کیا گیا اور بعد میں بولٹز مین نے اسے نظریاتی طور پر ثابت کیا تھا جسے اسٹیفان-بولٹزمین کلیہ کہتے ہیں اور مستقلہ s کو  اسٹیفان۔  بولٹز مین مستقلہ کہا جاتا ہے۔ اس کی قدر SI اکائیوں میں86  ہے۔ زیادہ تر اجسام مساوات (11.16) میں دی گئی شرح کا صرف تھوڑا حصہ ہی خارج کرتے ہیں۔ لیمپ بلیک جیسی شے حد کے نزدیک ہے۔ لہٰذا غیر ابعادی کسر e یعنی اشاعیت کی تعریف بیان کی جاسکتی ہے اور اسے مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاتا ہے۔
87
یہاں کامل اشعاع کار کے لیے e = 1 ہے۔ ٹنگسٹن لیمپ کے لیے e کی قدر تقریباً 0.4 ہے لہٰذا 3000 K درجۂ حرارت پر ٹنگسٹن لیمپ کے89  0.3   رقبے سے مندرجہ ذیل شرح پر اشعاع کا اخراج ہوتا ہے۔
88
ایک جسم جس کا درجۂ حرارت T ہے، اطراف کے درجۂ حرارت Ts پر توانائی کو خارج بھی کرتا ہے اور جذب بھی۔ کامل اشعاع کے لیے کل توانائی کا زیاں  
90
ایک مثال کے طور پر، آئیے ہم اپنے جسم کے ذریعہ خارج ہونے والی توانائی کا تخمینہ لگائیں۔ فرض کیجیے کہ کسی شخص کے جسم کا رقبہ تقریباًm2  1.9   اور کمرہ کا درجۂ حرارت   22C ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسانی جسم کا اندرونی  درجۂ  حرارت  37C ہوتا ہے۔ فرض کیجیے کہ جلد کا درجۂ حرارت 28C ہے۔ برق مقناطیسی اشعاع کے متعلقہ خطہ کے لیے جلد کی اشاعیت تقریباً 0.97 ہوتی ہے۔ توانائی کے زیاں (اشعاع) کی شرح مندرجہ ذیل ہوگی:
H = 5.67 10-8 1.9 0.97 {(301)4 - (295)4}
= 66.4 W                            
توانائی کی یہ شرح سکون کی حالت میں جس سے خارج ہونے والی توانائی کی شرح (120 W) کے نصف سے زیادہ ہے۔ توانائی کے اس زیاں کو کارگر طریقے (عام لباس سے بہتر) سے روکنے کے لیے جدید آرکٹک لباس میں ایک اضافی چمکدار پتلی دھاتی پرت ہوتی ہے جو جلد کے اوپر رہتی ہے اور یہ جسم کے اشعاع کو منعکس کرتی ہے۔

11.9.5   گرین ہاؤس اثر (Green house efect)  

زمین کی سطح حرارتی اشعاع کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ سورج سے آنے والی توانائی کو جذب کرتی ہے۔ اس اشعاع کا طول لہر، زیادہ طول لہر والے خطہ (زیریں سرخ : IR) میں ہوتا ہے۔ لیکن اس اشعاع کا بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2)، میتھین (CH4)، نائٹرس آکسائڈ (N2O) کلوروفلوروکاربن (CFx Clx) اور ٹروپواسفیئر میں پائی جانے والی اوزون (O3) جیسی گرین ہائوس گیسوں کے ذریعے جذب ہو جاتا ہے۔ اس انجذاب کے سبب کرّہ باد گرم ہو جاتا ہے نتیجتاً زمین کو زیادہ حرارت فراہم ہو جاتی ہے اسی لیے سطح زمین گرم ہو جاتی ہے۔ مذکورہ بالا عمل اس وقت دہرایا جاتا ہے جب تک کہ انجذاب کے لیے اشعاع دستیاب رہتا ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سطح زمین اور کرہ باد گرم ہو جاتا ہے۔ اسے ہم گرین ہائوس اثر کے نام سے جانتے ہیں۔ گرین ہاؤس اثر کی عدم موجودگی میں زمین کا درجۂ حرارت 18ºC- ہوتا ہے۔
انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے ارتکاز میں اضافہ ہوا ہے نتیجتاً زمین نسبتاً زیادہ گرم ہوگئی ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق اس صدی کے اوائل سے اب تک اس ارتکاز میں اضافہ کی وجہ سے زمین کے اوسط درجۂ حرارت میں 0.3  سے
           0.6°C
کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اگلی صدی کے وسط تک، زمین کے موجودہ عالمی درجۂ حرارت میں 1 تا 3C تک اضافہ متوقع ہے۔ عالمی حدت (Global Worming) کی وجہ سے انسانی زندگی، پودوں اور جانوروں کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی حدت کی وجہ سے برف کی چوٹیاں تیزی سے پگھل رہی ہیں، سمندر کی سطح اونچی ہوتی جا رہی ہے اور موسموں کا پیٹرن تبدیل ہو رہا ہے۔ کئی ساحلی شہر سمندر میں غرق ہو جانے کا خطرہ اٹھا رہے ہیں۔ گرین ہائوس گیسوں کے ارتکاز میں اضافہ صحرائی علاقوں کی توسیع کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی حدت کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات (یا کوششیں) کی جا رہی ہیں۔

11.10نیوٹن کا خنکی کا قانون

(NEWTON'S LAW OF COOLING)

ہم جانتے ہیں کہ کہ اگر گرم پانی یا دودھ میز پر رکھا چھوڑ دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کے درجۂ حرارت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ مطالعہ کرنے کے لیے ایک جسم اپنے ماحول کے ساتھ حرارت کا تبادلہ کر کے کس طرح ،آہستہ آہستہ یا تیزی سے،ٹھنڈا ہوتاہے، آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کریں۔
ایک بلونی (Stirrer)لگے کلوری میٹر میں تھوڑا پانی، فرض کیجیے 300ml،   لیجیے اور اسے دو سوراخوں والے ڈکھن سے بندکر دیجیے۔ایک سوراخ سے بلونی اور ایک سے تھرمامیٹر داخل کیجیے اور اچھی طرح سے دیکھ لیجیے کہ تھرمامیٹر کا بلب پانی میں یقینی  طور  پر ڈوباہوا ہو۔ تھرمامیٹر کی ریڈنگ نوٹ کر لیجیے۔ یہ ریڈنگ93ماحول کا درجۂ حرارت ہے۔ کیلورمی میٹر میں رکھے پانی کو گرم کیجیے، مان لیا کہ کمرے کے درجہ حرارت (یعنی ماحول کے درجۂ حرارت )سے 40Cزیادہ تک۔ پھر گرم کرنا بند کر دیجیے، (چولھا ہٹا دیجیے)۔ اسٹاپ واچ چلانا شروع کیجیے اور معین وقفہ وقت (فرض کیجیے ہر ایک منٹ) پرتھرما میٹر کی ریڈنگ نوٹ کرتے رہیے اس ردمیان بلونی سے مستقل آہستہ آہستہ بلوتے رہیے۔ پانی کا درجۂ حرارت  94  نوٹ کرتے رہیے جب تک کہ یہ درجۂ حرارت ماحول کے درجۂ حرارت سے تقریباً 5°Cزیادہ رہ جائے۔ پھردرجۂ حرارت:95کی ہر قدر کوY  – محورپر اوراس کے متطابق tکی قدرx–محورپر لیتے ہوئے گراف کھینچیے۔ (شکل 11.18)
waqt
شکل 11.20: وقت کے ساتھ، گرم پانی کے ٹھنڈا ہونے کو دکھاتا ہوا منحنی


آپ گراف سے یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ گرم پانی کا ٹھنڈا ہونا کس طرح گرم پانی اورماحول کے درجات حرارت میں فرق پر منحصر ہے۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ شروعات میں ٹھنڈا ہونے کی شرح زیادہ ہوتی ہے اورجیسے جیسے جسم کادرجۂ حرارت گرتا ہے، ٹھنڈا ہونے کی شرح بھی کم ہوتی جاتی ہے ۔  
مندرجہ بالا سرگرمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک گرم جسم اپنے ماحول کو حرارت، حرارتی اشعاع کی شکل میں دیتا ہے۔حرارت کے زیاں کی شرح ، جسم اور ماحول کے درجات حرارت میں فرق پر منحصر ہے ۔ سب سے پہلے نیوٹن نے منظم طور پر ایک دیے ہوئے احاطہ (Enclosure) میں ، ایک جسم کے ذریعے ضائع کی گئی حرارت اور اس کے درجۂ حرارت کے درمیان رشتہ کا مطالعہ کیا۔
نیوٹن کے خنکی کے قانون کے مطابق ، ایک جسم کی حرارت کے زیاں کی شرحteer،جسم اوراس کے ماحول کے درجات حرارت میں فرق  95کے راست متناسب ہوتی ہے ۔ یہ قانون صرف درجۂ حرارت کے فرق کی چھوٹی قدروں کے لیے ہی درست ہے۔ مزید یہ کہ اشعاع ریزی کے ذریعہ ہونے والا حرارت کا زیاں، جسم کی سطح کی طبع اور آشکارہ (exposed)سطح کے رقبہ کے تابع ہے۔ ہم لکھ سکتے ہیں :
ral
جہاں k ایک مثبت مستقلہ ہے جو جسم کی سطح کے رقبہ اوراس کی طبع کے تابع ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک جسم، جس کی کمیت mاور نوعی حرارت کی گنجائش Sہے،  
درجۂ حرارت T2 پر ہے۔ فرض کیجیے کہ ماحول کا درجۂ حرارت T1 ہے ۔اگر درجہ حرارت کی قدر میں ایک چھوٹی گراوٹ dT2 , وقفہ dt2 , میں آتی ہے، تو ضائع ہونے والی حرکت کی مقدار ہے:
ھار
اس لیے، حرارت کے زیاں کی شرح دی جاتی ہے،
بھونڈی
مساوات (11.15) اور مساوات (11.16) سے: 
کنٹرول
مساوات (11.23)کے ذریعے آپ ایک مخصوص درجۂ حرارت سعت میں، ایک شے کے ٹھنڈا ہونے کے وقت کا حساب لگا سکتے ہیں۔
درجۂ حرارت فرق کی چھوٹی قدروں کے لیے، ایصال، حمل اوراشعاع کاری   تینوں کے ذریعے ہونے والی مجموعی خنکی کی شرح (Rate of Cooling)، درجۂ حرارت فرق کے راست متناسب ہوتی ہے۔ایک اشعاع گر (Radiator) سے کمرے میں حرارت کی منتقلی ، کمرے کی دیواروں کے ذریعے حرارت کے زیاں اورمیزر پرکھی ہوئی چائے کی پیالی کے ٹھنڈا ہونے وغیرہ کے لیے یہ ایک درست تقریبیت (approximation)ہے۔
یہی
شکل 11.21: نیوٹن کے خنکی کے قانو کی تصدیق

شکل11.21(a)میں دکھائے گئے تجرباتی سامان کی ترتیب کے ذریعے نیوٹن کے خنکی کے قانون کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس تجربہ کے سامان میں ایک دوہری دیواروں والا برتن (v)ہوتا ہے، جس کی دیواروں کے بیچ میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ گرم پانی سے بھرا ہوا ایک تانبے کا بنا کلوری میٹر (c)اس دوہری دیوراروں والے برتن کے اندر رکھا جاتا ہے۔ کار ک سے گذرتے ہوئے دو تھرما میٹر لگے ہوتے ہیں، جن کے ذریعے کلوری میٹرمیں رکھے گرم پانی کا درجۂ حرارت T2  اور برتن کی دیواروں کے درمیان بھرے پانی کا درجۂ حرارتt1معلوم کیے جاتے ہیں۔ کلوری میٹر میں بھر ے گرم پانی کا درجۂ حرارت : مساوی وقفہ وقت کے ساتھ نوٹ کیا جا تا ہے ۔99اور وقت (t)میں گراف کھینچا جاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہوا گراف، ایک مستقیم خط ہے، جس کا ڈھلان (Slope)منفی ہے۔ جیسا کہ شکل (11.20(b)میں دکھایا گیا ہے اور جو مساوات (11.22)کی تصدیق کرتا ہے ۔

مثال 11.18: ایک گرم کھانے سے بھرا ہوا برتن 2 منٹ میں 94ºC سے 86ºC تک ٹھنڈا ہوتا ہے، جب کہ کمرہ کا درجۂ حرارت 20ºC ہے۔ اسے 71ºC سے 69ºC تک ٹھنڈا ہونے میں کنا وقت لگے گا۔

جواب : 94 C اور 86 C کا اوسط درجۂ حرارت 90 C ہے، جو کمرہ درجۂ حرارت سے 70 C زیادہ ہے۔ ان شرائط کے ساتھ، برتن، 2منٹ میں 8 C ٹھنڈا ہوتاہے،
مساوات (11.21)استعمال کرتے ہوئے،
dd درجۂ حرارت میں تبدیلی
وقت
کلا
69 C اور 71 C کا اوسط 70 Cہے جو کمرہ درجۂ حرارت سے 50 C زیادہ ہے۔اس صورت میں بھی K کی قدر وہی ہے ، جو پہلی صورت میں تھی۔ اس لیے :
کہی
وقت
ان دونوں مساواتوں کو تقسیم کرنے پر: 
        مترجم
0.7=وقت
سیکنڈ 42=
وقت (منٹ)
Time (minute)

خلاصہ

1.حرارت توانائی کی ایک شکل ہے جو ایک جسم اور جسم کو گھیرے ہوئے وسیلے کے درمیان، ان کے درمیان درجۂ حرارت فرق کی وجہ سے ، بہتی ہے ۔ایک جسم کی گرم کیفیت کا مقداری شکل میں درجہ ، درجۂ حرارت کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔

2. درجۂ حرارت کی پیمائش کرنے والا آلہ (تھرمامیٹر) کسی ایسی قابل پیمائش خاصیت (جو پیمائشی خاصیت کہلاتی ہے ) کو استعمال کرتا ہے جو درجۂ حرارت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ مختلف تھرمامیٹر، مختلف درجۂ حرارت پیمانے فراہم کرتے ہیں۔ ایک درجۂ حرارت  پیمانہ بنانے کے لیے، دو معین نقطے منتخب کیے جاتے ہیں اور انہیں درجۂ حرارت کی کوئی بھی اختیاری قدر (arbitrary Value) تفویض کر دی جاتی ہے ۔ یہ دونوں عدد ، پیمانے کا مبدا (Origin)اوراس کی اکائی کا سائز معین کرتے ہیں۔

3. سیلسیس درجۂ حرارت اور فارن ہائٹ درجۂ حرارت میں رشتہ ہے :
                              
                                  macbook

4. دباؤ (p)، حجم (v)اور مطلق درجۂ حرارت (T)کو منسلک کرنے والی کامل گیس مساوات ہے:
                                             
                                               hindi

جہاںsala، مولوںکی تعداد اور Rعالمی گیس مستقلہ ہے۔

5. مطلق درجۂ حرارت پیمانہ میں، پیمانہ کا صفر ، درجۂ حرارت سے مطا بقت رکھتا ہے– وہ درجۂ حرارت جہاںقدرت کی ہرمادی شے ممکنہ کم ترین مالیکیولیائی فعالیت کرتی ہے۔
کیلون کا مطلق درجۂ حرارت (T)پیمانہ ، کی اکائی کاسائز اورسیلسیس پیمانہ (tc) کی اکائی کے سائز یکساں ہیں، لیکن مبدے مختلف ہیں :
Tc= T - 273.15                                                   
6. خطی پھیلاؤ کے ضریب (a1) اور حجم پھیلاؤ کے ضریب (av) کی تعریف مندرجہ ذیل رشتوں سے کی جاتی ہے :
                                     chota
جہاںمطیع lاوریہ، لمبائی lاورحجم V میں ہونے والی تبدیلی کوظاہر کرتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت میں تبدیلی معافی ہو– (a1) اور(av)کے مابین رشتہ ہے :
av = 3a1                                                                  
7. ایک شے کی نوعی حرارت گنجائش Sکی تعریف کی جاتی ہے :
deepak
جہاں mnj شے کی کمیت ہے اور پھوٹو حرارت کی وہ مقدار ہے جو اس کے درجۂ حرارت میں جک تبدیلی لانے کے لیے درکار ہے۔ ایک شے کی مولی نوعی حرارت کی گنجائش کی تعریف کی جاتی ہے:بچہ 
جہاں عروج شے کی مولوں کی تعداد ہے۔

8. اختلاط کی مخفی حرارت kuposhan وہ حرارت فی اکائی کمیت ہے، جو یکساں درجۂ حرارت اوردباؤ پر شے کوٹھوس سے رقیق حالت میں تبدیل کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ تبخیر کی مخفی حرارت ebd وہ حرارت فی اکائی کمیت ہے، جو درجۂ حرارت اوردباؤ میں کوئی تبدیلی لائے بغیر ، شے کو رقیق حالت سے ابخراتی  حالت میں تبدیل کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

9. حرارت کی منتقلی کے تین طریقے ہیں : ایصال، حمل اوراشعاع ریزی 

10. ایصال میں حرارت ، ایک جسم کے پڑوسی حصوں کے درمیان، مالیکولیائی تصادم کے ذریعے، بغیر مادے کے کسی بہاؤ کے ، منتقل ہوتی ہے۔ ایک ایسی چھڑ کے لیے ، جس کی لمبائی L، ہموار تراشی رقبہ Aہو اوراس کے سروں کودرجۂ حرارت  Tc اور T پر قائم رکھا جائے ، حرارت Hکے بہاؤ کی شرح ہے:
imam
جہاں K چھڑ کے مادے کی حرارتی موصلیت ہے

11. نیوٹن کے خنکی کے قانون کا بیان ہے : ایک جسم کے ٹھنڈا ہونے کی شرح ، جسم کے ماحول سے زائد درجۂ حرارت کے متناسب ہے :
aitraz
جہاں T1، جسم کو گھیرے ہوئے واسطے (ماحول) کا درجۂ حرارت ہے اور T2جسم کادرجۂ حرارت ہے۔

مقدار علامت ابعاد اکائی ریمارک
شے کی مقدار push [mol] mol
سیلسیس درجۂ حرارت tc [K] ºC
کیلون مطلق درجۂ حرارت T [K] K te = T - 273.185
خطی پھیلاؤ کا ضریب tauheed [K-1] K-1
حجم پھیلاؤ کا ضریب hajam [K-1] K-1 aligarian
ایک نظام کو فراہم کی گئی حرارت aalim [ML2T-2] J sabhi ایک حالت متغیرہ نہیں ہے
نوعی حرارتی گنجائش S [L2T-2K-1] JKg-1K-1
حرارتی ایصالیت K [MLT3K-1] JKS-1K-1 ہفف

   قابل غور نکات  (POINTS TO PONDER)

1. کیلون درجہ حرارت (T) اور سیلسیس درجۂ حرارت tc میں رشتہ:T = tc +273.15 اور پانی کے ثلاثی نقطہ کی تفویض T=273.16بالکل درست رشتے ہیں (منتخب کیے ہوئے)۔ اس انتخاب کے ساتھ، پانی کے نقطۂ گداخت اورنقطہ ابال کے سیلسیلس درجۂ حرارت، بالترتیب ، (دونوں1فضائی دباؤ پر ) 0°Cاور 100°Cکے بہت نزدیک ہیں لیکن Cº اور 100Cº کے بالکل درست طور پر مساوی نہیں ہیں۔ سیلسیس کے قدیم پیمانے میں، یہ بعد میں معین کیے گئے نقاط بالکل درست 0°C اور100°Cتھے (انتخاب کے ذریعے) ، لیکن اب پانی کے ثلاثی نقطہ کو معین نقطہ کے لیے ترجیحی انتخاب مانا جاتا ہے، کیونکہ اس کا ایک یکتا (Unique)درجۂ حرارت ہے۔ 

2. ایک رقیق جو ابخرات کے ساتھ توازن میں ہو، اس کے پورے نظام میں یکساں دباؤ اور درجۂ حرارت ہوتا ہے ۔ حالت توازن میں دونوں ہیئتوں میں فرق صرف ان کے مولی حجموں (یعنی کثافت) میں ہوتا ہے۔ یہ بیان ہر اس نظام کے لیے درست ہے جس میں ہیئتوں کی کتنی تعداد بھی توازن میں ہو۔

3. حرارت کی منتقلی میں دو نظاموں یا ایک ہی نظام کے دوحصوں کے درمیان درجۂ حرارت فرق ہمیشہ شامل ہوتا ہے۔ توانائی کی کوئی بھی ایسی منتقلی ، جس میں کسی طور پر درجۂ حرارت فرق شامل نہیں ہے، حرارت نہیں ہے۔

4. حمل میں، ایک سیال کے حصوں کے غیر مساوی درجۂ حرارت کی وجہ سے ایک سیال، کے اندر مادہ کا بہاؤ شامل ہوتاہے۔ ایک ٹونٹی سے بہتے ہوئے پانی کے نیچے اگر ایک گرم چھڑ رکھی جائے تو وہ چھڑ کی سطح اور پانی کے درمیا ن ایصال کی وجہ سے حرارت کا زیاں ہوتا ہے، پانی کے اندر حمال کی وجہ سے نہیں ۔



مشق (EXERCISE)

11.1  نیون اورکاربن ڈائی آکسائڈ کے نقاط ثلاثہ ، حسب ترتیب ، 24.57Kاور 216.55Kہیں۔ ان درجات حرارت کو سیلسیلس   اورفارن ہائیٹ پیمانہ پر ظاہر کیجیے۔

11.2  دو مطلق پیمانوں Aاور Bمیں ،پانی کا ثلاثی نقطہ Aپر 200اور Bپر350معرف کیا گیا ہے ۔ TAاور  TBمیں کیا رشتہ ہے ؟

11.3  ایک تھرما میٹر کی برقی مزاحمت درجہ حرارت کے ساتھ مندرجہ ذیل تقریبی رشتے کے مطابق تبدیل ہوتی ہے :  

sulasi
پانی کے ثلاثی نقطہ 273.16K پر مزاحمت 101.6Ω ہے اور سیسہ کے نارمل نقطہ گداخت (600.5k) پر مزاحمت 165.5Ω ہے۔ جب مزاحمت 123.4Ω ہوگی تو درجہ حرارت کیا ہوگا؟

11.4 مندرجہ ذیل کے جواب دیجیے:

(a)جدید حرارت پیمائی میں، پانی کا ثلاثی نقطہ ایک معیاری متعین نقطہ ہے۔ کیوں؟ برف کے نقطۂ گداخت اور پانی کے نقطۂ ابال کو معیاری متعین نقاط ماننے میں (جیسا کہ شروعاتی سیلسیس اسکیل میں کیا گیا تھا) کیا غلطی ہے ؟
(b) شروعاتی سیلسیلس پیمانہ میں ، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، دو متعین نقاط تھے، جنہیں  عدد
0 Cاور
100 C،حسب ترتیب، تفویض کیے گئے تھے۔ مطلق پیمانہ پرمتعین نقاط میں سے ایک نقطہ پانی کا ثلاثی نقطہ ہے، جسے کیلون پیمانہ پر عدد 273.16K تفویض کیا گیا ہے۔
اس (کیلون) پیمانہ پر دوسرا متعین نقطہ کون سا ہے ؟
(c) مطلق درجہ حرارت (کیلون پیمانہ) T اور سیلسیس پیمانہ پر درجہ حرارت tc میں رشتہ دیا جاتا ہے
فات
اس رشتہ میں 273.15کیوں ہے، 273.16کیوں نہیں۔

(d) اس مطلق پیمانہ پرپانی کے ثلاثی نقطہ کادرجۂ حرارت کیا ہوگا، جس کی اکائی وقفہ کا سائز فارن ہائیٹ پیمانہ کی اکائی وقفہ کے سائز کے مساوی ہے ؟

11.5 دو کامل گیس تھرما میٹروں Aاور Bمیں، حسب ترتیب ، آکسیجن اورہائیڈروجن استعمال کی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل مشاہدات کیے گئے :
درجۂ حرارت                                        دباؤ                         دباؤ
                                                 (تھرما میٹرA)              (تھرمامیٹر B)
پانی کا ثلاثی نقطہ                          eal
گندھک کا نارمل نقطۂ گدارخت         پبلیکشن
(a) تھرما میٹروں AاورBسے پڑھے جانے پر ، گندھک کے نارمل نقطۂ گداخت کا مطلق درجۂ حرارت کیاہو گا؟  
(b) آپ کے خیال میں تھرما میٹروں Aاور Bکے جوابات میں معمولی فرق کی وجہ کیا ہے ؟ (تھرمامیٹروں میں کوئی خرابی نہیں ہے)۔تجربہ میں مزید کیا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ریڈنگوں کے درمیان اس فرق کو کم کیا جا سکے؟

11.6 ایک میٹرلمبا ایک فولاد کا بنا فیتہ27 C کے درجۂ حرارت کے لیے بالکل درست پیمانہ بند کیا گیا ہے۔ ایک گرم دن، جب کہ درجۂ حرارت 45.0 C ہے، ایک لوہے کی چھڑ کی اس فیتہ سے ناپی گئی لمبائی 63.0cmہے۔ اس دن لوہے کی چھڑ کی اصل لمبائی کیا ہے؟ اس لوہے کی چھڑ کی لمبائی اس دن کیا ہوگی، جس دن درجۂ حرارت 27 Cہے۔111  فولاد کے خطی پھیلاؤ کا ضریب

11.7 فولاد کا بنا ایک بڑاپہیہ اسی مادہ کے دھرے (Shaft)پر لگایا جانا ہے۔ 27 Cپر دھرے کا باہری قطر 8.70cmہے اورپہیے کا مرکزی سوراخ قطر 8.69cmہے۔ دھرے کو ’’سوکھابرف‘‘استعمال کر کے ٹھنڈا کیا جا تا ہے۔ دھرے کے کس درجۂ حرارت پر پہیہ دھرے پر چڑھ جائے گا۔فولاد کے خطی پھیلا ؤ کے ضریب کو درکار درجۂ حرارت سعت پر مستقلہ مان لیجیے۔  112

11.8 تانبہ کی چادر میں ایک سوراخ کیا گیا۔ 27°Cپرسوراخ کا قطر4.24 cm ہے۔ جب چادر کو 27°Cتک گرم کیاجا تا ہے تو سوراخ کے قطر میں کیا تبدیلی ہوگی؟113تانبہ کا خطی پھیلاؤ ضریب ۔

11.9  27°Cپر پیتل کے 1.8cmلمبے تار کو دو استوار سہاروں کے درمیان بہت مختصر تناؤ کے ذریعے تنا ہوا رکھا جاتا  ہے۔ اگر تار کو
–39°Cتک ٹھنڈا کیا جائے تو تار میں کتنا تناؤ پیدا ہوگا، جب کہ اس کا قطر 2.0mmہے ۔114  پیتل کا خطی پھیلاؤ کا ضریب  115پیتل کاینگ مقیاس  

11.10  50cmلمبائی اور 3.0mmقطر کی ایک پیتل کی چھڑ کو یکساں لمبائی اورقطر کی فولاد کی چھڑ سے جوڑا جاتا  ہے۔ مجموعی چھڑ کی لمبائی میں
  250°Cپر کیا تبدیلی ہوگی،اگر شروعاتی لمبائیاں
40°0C
پر ناپی گئی ہیں؟ کیا جنکشن پر کوئی حرارتی ذرر پیدا ہوگا؟ چھڑ کے سرے پھیلنے کے لیے آزاد ہیں۔114پیتل کا خطّی پھیلا ؤ کا ضریب،  116فولاد کا خطی پھیلاؤ کا ضریب  

11.11  گلیسرین کا حجمی پھیلاؤ کا ضریب  117ہے ۔ درجہ حرارت میں 30°Cاضافہ کرنے پر کثافت میں کیا کسری تبدیلی ہوگی؟

11.12 ایک 10kWکی سوراخ کرنے کی مشین،8.0kgکے المونیم کے بلاک میں ایک سوراخ کرنے کے لیے استعما ل کی گئی ۔ 2.5منٹ میں بلاک کے درجہ حرارت میں کتنا اضافہ ہوگا۔ فرض کر لیجیے کہ پاور کا 50%خود مشین کو گرم کرنے میں یا ماحول میں ضائع ہو جاتا ہے ۔118المونیم کی نوعی حرارت  

11.13  2.5kgکمیت کا ایک تانبہ کا بلاک ایک بھٹی میں
  500°Cدرجہ حرارت تک گرم کیا گیا اور پھر اسے ایک بڑے برف کے بلاک پر رکھا گیا ۔ برف کی زیادہ سے زیادہ کتنی مقدار پگھل سکتی ہے؟
ننن تانبہ کی نوعی حرارت   میں پانی کی اختلاطی حرارت

11.14 ایک دھات کی نوعی حرارت معلوم کرنے کے ایک تجربے میں اس دھات کے 0.20kgکمیت کے ایک بلاک کو 150°C پر ایک تانبہ کے کیلوری میٹرمیں ڈالا گیا (کیلوری میٹر کاپانی مساوی 0.025Kgہے)۔  جس  میں 27°C نپر120پانی تھا۔ اختتامی درجۂ حرارت 40°Cہے۔
دھات کی نوعی حرارت کا حساب لگائیے ۔ اگر ماحول میں ہونے والا حرارت کا زیاں قابل نظر انداز نہیں ہے تو آپ کا جواب دھات کی نوعی حرارت کی اصل قدر سے کم ہوگا یازیادہ؟

11.15  ذیل میں کمرہ درجہ حرارت پر کچھ عام گیسوں کی مولی نوعی حرارت پر کیے گئے مشاہدات دیے گئے ہیں۔
گیس  مولی نوعی حرارت (Cv)
(cal mol-1K-1)                                          
ہائیڈرجن                                          4.87
نائٹروجن                                          4.97
آکسیجن                                            5.02
نائٹرک آکسائڈ                                    4.99
کاربن مونو آکسائڈ                               5.01
کلورین                                           6.17

ان گیسوں کی ناپی گئی مولی نوعی حرارت کی قدریں، یک ایٹمی گیسوں کی اِن قدروں سے بہت مختلف ہیں۔ ایک یک ایٹمی گیس کی مولی نوعی حرارت کی مخصوص قدر 2.92col/molKہے۔ اس فرق کی وضاحت کیجیے۔ کلورین کے لیے یہ قدر باقی گیسوں کی اس قدر سے کچھ زیادہ ہے۔ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟

11.16 ایک بچے کو 101 F بخار تھا۔ اسے بخار کو کم کرنے کی دوا اینٹی پائی رین (antipyrin)دی گئی ،جو اس کے جسم سے نکلنے والے پسینے کی تبخیر کی شرح میں اضافہ کرتی ہے۔ اگر 20منٹ میں بخار کم ہو کر  98 F ہو گیا تو دوا کے ذریعے ہونے والی زائد تبخیر کی اوسط شرح کیا ہے ؟ فرض کیجئے کہ تبخیر ہی صرف وہ میکانزم ہے، جس کے ذریعے حرارت ضائع ہو رہی ہے۔ بچے کی کمیت 30 kgہے۔ انسانی جسم کی نوعی حرارت تقریباً اتنی ہی ہوتی ہے جتنی پانی کی نوعی حرارت ہوتی ہے اوراس درجۂ حرارت پر پانی کی تبخیر کی مخفی حرارت 580calg-1 کے قریب ہے۔

11.17 ایک تھرما کول کا آئس باکس ، پکی ہوئی کھانے کی چیزوں کی تھوڑی مقدار کو محفوظ رکھنے کا ایک سستا اور کارگر طریقہ ہے، خاص طورپر گرمیوں میں۔ ایک مکعبی آئس باکس میں ، جس کا ضلع 30 cmاورموٹائی  5.0  cmہے، 4.0 kgبرف رکھا گیا ۔ 6 hبعد برف کی بچی ہوئی مقدار کا حساب لگائیے۔ باہرکا درجۂ حرارت 45 C ہے اورتھرموکول کے حرارتی ایصالیت کا ضریب ضججہے۔ 
[پانیک پانی کے اختلاط کی حرارت ]

11.18 ایک پتیل کے بوائلر کا اساسی رقبہ124  اور موٹائی 1.0 cmہے۔ گیس کے اسٹوو پر رکھے جانے پر یہ 6.0kg/minی شرح سے پانی ابالتا ہے۔ لو کے اس حصے کے درجہ حرارت کا حساب لگائیے جو بوائلر سے لمس میں ہے۔125پیتل کی حرارتی ایصالیت ،  126پانی کی تبخیر کی حرارت  

11.19 وضاحت کیجیے، کیوں؟
(a)ایک جسم جس کی انعکاسیت زیادہ ہے وہ خراب مخروج ہے۔
(b)ایک سرد دن میں، پیتل کا گلاس ، لکڑ ی کی طشتری کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔
 (c)ایک نوری پائی رومیٹر (بڑے درجات حرارت ناپنے کا آلہ )،جس کو ایک کامل سیاہ جسم اشعاع کے لیے پیمانہ بند کیاگیا ہے، کھلی فضا میں ایک سرخ گرم لوہے کے ٹکڑے کے درجۂ حرارت کی بہت کم قدر بتاتا ہے، لیکن اسی ٹکڑے کوجب بھٹی میں رکھ دیا جاتا ہے تو درجۂ حرارت کی درست قدر بتاتا ہے ۔
(d)اگر زمین کی فضا نہ ہوتی تو زمین اتنی ٹھنڈی ہوتی کہ رہنے کے قابل نہ ہوتی۔
             (e)گرم کرنے کے وہ نظام جو بھاپ کی گردش پرمنحصر ہیں ان نظاموں کے مقابلے میں جو گرم پانی کی گردش پر منحصر ہیں، عمارت گرم کرنے کے لیے زیادہ مستعد ہوتے ہیں۔

11.20 ایک جسم5منٹ میں 80 سے 50 تک ٹھنڈا ہوتاہے۔ اس وقت کا حساب لگائیے جو اسے60 سے 30 تک ٹھنڈا ہونے میں لگے گا۔ ماحول کا درجۂ حرارت 20 ہے۔

11.21 کاربن ڈائی آکسائڈ کی P-Tہیئت ڈائیگرام پر مبنی مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:  
(a)کس دباؤ اوردرجہ حرارت پر کاربن ڈائی آکسائڈ کی ٹھوس ۔ رقیق اور گیسی ہیئتیں ایک ساتھ ، اورتوازن میں پائی جاسکتی ہیں؟
 (b)دباؤ کو کم کرنے سے  co2کے نقطہ اختلاط اورنقطہ ابال پر کیا اثر پڑے گا؟
 (c)  co2کے لیے فاصل دباؤ اورفاصل درجہ حرارت کیا ہیں؟ ان کی کیا اہمیت ہے؟
(d)مندرجہ ذیل درجہ حرارت اوردباؤ پر  co2، ٹھوس ہوگی، رقیق ہوگی یا گیس ہوگی  
cdd          
11.22 کاربن ڈائی آکسائڈ کی P-Tہیئت ڈائیگرام پر مبنی مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے۔  

1atm (a)
دباؤ اور
  –60°C
درجہ حرارت پر  co2  کو ہم تاپ طور پر دبایا گیا۔ کیا یہ رقیق ہیئت سے گذرے گی؟
(b) کیاہوگا اگر 4atmدباؤ پر  co2کو کمرہ درجہ حرارت سے مستقلہ دباؤ پر ٹھنڈا کیا جائے؟
(c)ٹھوس  co2  کی دی ہوئی کمیت کو
10atmدباؤاور
  –56°C
درجہ حرارت سے، مستقلہ دباؤ پر کمرہ درجہ حرارت تک گرم کرنے میں ہونے والی تبدیلیوں کو کیفیتی طور پر بیان کیجیے ۔