باب 12
حرحرکیات
THERMODYNAMICS
12.1 تعارف
12.2 حرارتی توازن
12.3 حرحرکیات کا صفرواں قانون
12.4 حرارت، اندرونی توانائی اورکام
12.5 حرحرکیات کا پہلا قانون
12.6 نوعی حرارت کی گنجائش
12.7 حرحرکیاتی حالت متغیرات اور حالت کی مساوات
12.8 حرحرکیاتی عملی طریقے
12.9 حرارتی انجن
12.10 سرد کار اور حرارتی پمپ
12.11 حرحرکیات کا دوسرا قانون
12.12 رجعت پذیر اور غیر رجعت پذیر طریق
12.13 کارنوٹ انجن
خلاصہ
قابلِ غور نکات
مشق
12.1تعارف (INTRODUCTION)
پچھلے باب میں ہم مادے کی حرارتی خاصیتوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ اس باب میں ہم وہ قانون پڑھیں گے جو حرارتی توانائی پر نافذ ہوتے ہیں۔ ہم وہ طریقے (Processes) پڑھیں گے، جن میں کام، حرارت میں تبدیل ہوتا ہے اور حرارت کا م میں۔ سردیوں میں، جب ہم اپنی ہتھیلیاں آپس میں رگڑتے ہیں تو ہمیں گرمی محسوس ہوتی ہے، یہاں رگڑنے میں کیا گیا کام ’حرارت‘ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برخلاف، ایک بھاپ کے انجن میں، بھاپ کی ’حرارت‘ پسٹنوں (Pistons)کو حرکت دینے کے کار آمد کام میں استعمال ہوتی ہے اور پسٹنوں کی حرکت گاڑی کے پہیوں کو گھماتی ہے۔
طبیعیات میں ہمیں حرارت، درجۂ حرارت، کام وغیرہ جیسے تصورات کو زیادہ احتیاط کے ساتھ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے، حرارت کے مناسب تصور تک پہنچنے میں لمبا عرصہ لگا۔جدید تصویر سے پہلے، حرارت کو ایک نہایت لطیف، نظر نہ آسکنے والا ایسا سیال سمجھا جاتا تھا جو مادی شئے کے سوراخوں میں بھرا ہوا ہے۔ اور سمجھا جاتا تھا کہ ایک گرم جسم اور ایک ٹھنڈے جسم کے آپس میں لمس میں آنے پر یہ سیال (جسے کیلورِک کہا جاتا تھا) مقابلتاً ٹھنڈے جسم سے، گرم جسم کی طرف بہتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے، جیسے اگر ایک افقی پائپ کے ذریعے دو ایسی ٹنکیوں کو آپس میں جوڑ دیا جائے جن میں پانی کی سطحیں مختلف ہوں تو بہاؤ اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک دونوں ٹنکیوں میں پانی کی سطح یکساں نہ ہوجائے۔ اسی طرح حرارت کی کیلورِک تصویر میں، حرارت اس وقت تک بہتی تصور کی جاتی تھی، جب تک ’’کیلورِک سطحیں‘‘ (یعنی کہ درجۂ حرارت) مساوی نہ ہوجائیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ، حرارت بہ طور سیال، تصور کو جدید تصور، حرارت بہ طور ایک شکلِ توانائی، کے حق میں رد کردیا گیا۔ اس سلسلے میں بینجامن تھامسن (جنھیں کاؤنٹ رم فرڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) نے 1978 میں ایک اہم تجربہ کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ پیتل کے گولے میں سوراخ کرنے میں بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے، اتنی زیادہ کہ وہ پانی ابالنے کے لیے کافی ہے۔ اور زیادہ اہم بات یہ ہے، پیدا ہورہی حرارت کی مقدار کیے گئے کام (سوراخ کرنے کی مشین کو گھمانے کے لیے استعمال کیے جانے والے گھوڑوں کے ذریعے) کے تابع ہے، مشین کی سوئی کے نوکیلے پن پرنہیں۔ کیلورک تصویر کے مطابق، ایک زیادہ نوکیلی سوئی، سوراخوں سے زیادہ سیال باہر نکال سکتی ہے، لیکن یہ مشاہدہ میں نہیں آیا۔ ان مشاہدات کی وضاحت ایسے ہی کی جاسکتی تھی، کہ حرارت توانائی کی ایک شکل ہے اور تجربہ ایک شکل سے دوسری شکل –کام سے توانائی – میں توانائی کی تبدیلی کا مظاہرہ تھا۔
حر حرکیات طبیعیات کی وہ شاخ ہے، جس میں حرارت اور درجۂ حرارت جیسے تصورات اور حرارت اور توانائی کی دوسری شکلوں کی آپسی تبدیلی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ حرحرکیات ایک کلاں بینی (Macroscopic) سائنس ہے۔ یہ جسیم نظاموں سے واسطہ رکھتی ہے اور مادے کی مالیکیولیائی بناوٹ پر نہیں جاتی۔ دراصل اس کے تصورات اور قانون، انیسویں صدی میں تشکیل دیے گئے تھے اور جب تک مادّے کی مالیکیولیائی تصویر واضح نہیں تھی۔ حرحرکیاتی بیان میں نظام کے چند کلاں بینی متغیرات شامل ہوتے ہیں، جو کہ عام فہم تجویز کرتا ہے جوعام طور سے براہِ راست ناپے جا سکتے ہیں اور جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک گیس کے خرد بینی بیان میں گیس کی تشکیل کررہے مالیکیولوں (جن کی بہت بڑی تعداد ہوگی) کے کوآرڈی نیٹ اور رفتار کا تعین کرنا شامل ہوگا۔ گیسوں کا نظریہ تحرک (Kinetic Theory) میں بیان گو کہ اتنا تفصیلی نہیں ہوتا لیکن اس میں رفتاروں کی مالیکیولیائی تقسیم پھر بھی شامل ہوتی ہے۔ ایک گیس کو حرحرکیاتی طور پر بیان کرنے میں، مالیکیولیائی بیان سے کلی طور پر بچاجاتا ہے۔ اس کی بجائے، حرحرکیات میں ایک گیس کی حالت (State)، کلاں بینی متغیرات (Macroscopic Variables) جیسے دباؤ، حجم، درجۂ حرارت، کمیت اور ترکیب (Composition)، کے ذریعے متعین کی جاتی ہے۔ یہ ایسے متغیرات ہیں جنھیں ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے محسوس کرسکتے ہیں اور قابل پیمائش ہیں*۔
میکانیات اور حرحرکیات کے مابین فرق کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ میکانیات میں ہماری دلچسپی، قوت اور پیچہ کے زیر اثر ہونے والی ذرات اور اجسام کی حرکت میں ہوتی ہے۔ حرحرکیات پورے نظام کی مجموعی حرکت سے واسطہ نہیں رکھتی۔ یہ صرف جسم کی اندرونی کلاں بینی حالت سے ہی واسطہ رکھتی ہے۔ جب ایک بندوق سے گولی چلائی جاتی ہے تو گولی کی میکانیکی حالت تبدیل ہوتی ہے (خاص طور پر اس کی حرکی توانائی)، اس کا درجۂ حرارت تبدیل نہیں ہوتا۔ جب گولی ایک لکڑی کے تختے میں دھنس جاتی ہے اور رک جاتی ہے تو اس کی حرکی تونائی، حرارت میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے گولی اور اسے گھیرنے والی لکڑی کی تہوں کا درجۂ حرارت تبدیل ہوجاتا ہے۔ درجۂ حرارت کا رشتہ گولی کی اندرونی (بے ترتیب) حرکت کی توانائی سے ہے، گولی کی مجموعی طور پر کی گئی حرکت سے نہیں۔
حرحرکیات میں دوسرے ایسے متغیرات بھی شامل ہوسکتے ہیں، جن کا حواس خمسہ کے ذریعہ کیا گیا احساس اتناواضح نہیں ہوتا، جیسے ناکارگی، اینتھیلپی وغیرہ، اور یہ سب کلاں بینی متغیرات ہیں۔لیکن کوئی ایک حر حرکی حالت 5حالت متغیرات کے ذریعے متعین کی جاتی ہے ۔ یہ 5متغیرات ہیں : دباؤ، حجم، درجہ حرات، اندرونی توانائی سے ناکارگی(Entropy)۔ ناکارگی کسی نظام میں اس کی بے تر تیبی کا ناپ ہے جبکہ (حرارتِ نوعی Enthalpy)نظام کی کل حرارتی مقدار کا ناپ ہے ۔
12.2 حرارتی توازن
(THERMAL EQUILIBRIUM)
میکانیات میں توازن کا مطلب ہے ایک نظام پر لگ رہی کل باہری قوت اور پیچہ صفر ہیں۔ حرحرکیات میں اصطلاح’توازن‘ مختلف تناظر میں استعمال ہوتی ہے: ہم کہتے ہیں کہ ایک نظام کی حالت، ایک متوازن حالت ہے اگر نظام کی خاصیتیں بیان کرنے والے کلاں بینی متغیرات وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہورہے ۔ مثال کے طور پر ایک ایسی گیس جو ایک بند، استوار ڈبے میں بند ہے، اپنے ماحول سے پوری طرح حاجز کی ہوئی ہے، اور اس کے دباؤ، حجم، درجۂ حرارت، کمیت اور اجزائے ترکیبی کی قدریں معین ہیں جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتیں،حرکیاتی توازن کی حالت میں ہے۔
شکل12.1 (a) نظام A اور نظام B (دوگیس) جو ایک حرناگزار دیوار – ایک حاجز کرنے والی دیوار جو حرارت کا بہاؤ نہیں ہونے دیتی۔ کے ذریعے جدا کیے گئے ہیں۔(b)وہی نظام A اور B ایک حرگذار دیوار کے ذریعے جدا کیے گئے ہیں جو ایصال کرنے والی دیوار ہے اور ایک طرف سے دوسری طرف حرارت کا بہاؤ ہونے دیتی ہے۔ اس صورت میں، کچھ عرصے میں حرارتی توازن قائم ہوجاتا ہے۔
عمومی طور پر، ایک نظام توازن کی حالت میں ہے یا نہیں، ماحول (Surroundings) اور نظام کو ماحول سے جدا کرنے والی دیوار کی طبع پر منحصر ہے۔ دو گیسیں Aاور B لیجیے جو دو مختلف برتنوں میں ہیں۔ ہم تجرباتی طور پر جانتے ہیں کہ ایک گیس کی دی ہوئی کمیت کے دباؤ اور حجم کو اس کے دو غیر تابع متغیرات(Independent Variables) کے بہ طور منتخب کیا جاسکتا ہے۔ فرض کیجئے گیسوں کے دباؤ اور حجم، حسب ترتیب
، اور
، ہیں۔فرض کیجئے، پہلے دونوں نظاموں کو ایک دوسرے سے ملاکر رکھا گیا ہے، لیکن ان کے درمیان ایک حرنا گزار(Adiabatic)دیوار ہے۔ ایک حاجز دیوار (جسے حرکت دی جاسکتی ہے) جوایک نظام سے دوسرے نظام میں حرارت کا بہاؤ نہیں ہونے دیتی۔ دونوں نظام باقی ماحول سے بھی ایسی ہی دیواروں کے ذریعے حاجز کردیے گئے ہیں۔ یہ صورت، خاکہ کی شکل میں، شکل 12.1(a) میں دکھائی گئی ہے۔ اس صورت میں یہ پایا جاتا ہے کہ
اقدار کا کوئی بھی ممکنہ جوڑا
اقدار کے کسی بھی ممکنہ جوڑے سے توازن میں ہوگا۔ اس کے بعد، فرض کیجئے کہ حرناگزار دیوار کو حرگزار (Diathermic) دیوار سے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ایک ایصال کرنے والی دیوار جو ایک طرف سے دوسری طرف توانائی (حرارت) کا بہاؤ ہونے دیتی ہے۔ تب یہ پایا جاتا ہے کہ نظام Aاور نظام Bکے کلاں بینی متغیرات، ازخود طور پر تبدیل ہونے لگتے ہیں، جب تک کہ دونوں نظام متوازن حالتوں پر نہ پہنچ جائیں۔ یہ صورت شکل 12.1(b) میں دکھائی گئی ہے۔ دونوں گیسوں کے دباؤ اور حجم متغیرات
اور
میں تبدیل ہوجاتے ہیں،اس طرح کہ Aاور Bکی نئی حالتیں ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں ہوں تب ہم کہتے ہیں کہ نظام A،نظامBکے ساتھ حرارتی توازن میں ہے۔ *
دونظاموں کے درمیان حرارتی توازن کی صورت کی خاصیت کیا ہے؟ آپ اپنے تجربے سے جواب کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ حرارتی توازن میں، دونوں نظاموں کے درجۂ حرارت یکساں ہوتے ہیں۔ ہم معلوم کریں گے کہ ہم درجۂ حرارت کے تصورتک کیسے پہنچتے ہیں۔ حرحرکیات کا صفر واں قانون سراغ دیتا ہے۔
دونوں متغیرات کاتبدیل ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ پابندیوں پر منحصر ہے۔ مثلاً اگر گیسیں جن برتنوں میںرکھی ہیں، ان کے حجم معین ہیں تو حرارتی توازن حاصل کرنے کے لیے گیسوں کے صرف دباؤ ہی تبدیل ہوں گے۔
12.3 حرحرکیات کا صفرواں قانون :
(ZEROTH LAW OF THERMODYNAMICS)
دونظام AاورBتصور کیجیے جو ایک حرناگزار دیوار سے جدا کیے گئے ہیں، جب کہ دونوں میں سے ہرایک نظام ایک تیسرے نظام کے ساتھ، ایک ایصالی دیوار کے ذریعے، لمس میں ہے۔ ]شکل[12.2(a)۔ نظاموں کی حالتیں (یعنی، ان کے کلاں بینی متغیرات) تبدیل ہوں گی، جب تک کہ A اور BدونوںC کے ساتھ حرارتی توازن میں نہیں آتے۔ جب یہ توازن حاصل ہوگیا تو فرض کیاکہ Aاور Bکی درمیانی دیوار کو ایصالی دیوار سے تبدیل کردیا گیا اور Cکو Aاور Bسے ایک حرناگزیردیوار کے ذریعے حاجز کردیا گیا]شکل[12.2(b)۔ تو یہ پایا جاتا ہے کہ Aاور Bکی حالتوں میں کوئی مزید تبدیلی نہیں ہوتی، یعنی کہ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ حرارتی توازن میں ہوتی ہیں۔ یہ مشاہدہ حرحرکیات کے صفرویں قانون کی بنیاد تشکیل کرتا ہے۔ اس قانون کا بیان ہے، دو نظام جو ایک تیسرے نظام سے الگ الگ حرارتی توازن میں ہیں،آپس میں بھی حرارتی توازن میں ہیں۔ آر۔ ایچ فاؤلر (R.H. Fowler) نے یہ قانون 1931میں دیا۔ اس سے بہت پہلے حرحرکیات کے پہلے اور دوسرے قانون کو بیان کیا جاچکا تھا اور یہ عدد بھی دے دیئے گئے تھے۔
صفرواں قانون واضح طور پر تجویز کرتا ہے کہ جب دونظام A اور Bحرارتی توازن میں ہیں تو ایک ایسی طبعی مقدار ضرور ہونا چاہیے، جس کی قدر دونوں کے لیے یکساں ہو۔ یہ حرحرکیاتی متغیرہ، جس کی قدر ان دونظاموں کے لیے یکساں ہوتی ہے جو آپس میں حرارتی توازن میں ہیں، درجۂ حرارت T کہلاتا ہے۔ اس لیے اگر A اورB ، الگ الگ طور پرC کے ساتھ حرارتی توازن میں ہیں تو: ی
یعنی کہ نظامAاور نظام B بھی حرارتی توازن میں ہیں۔
ہم صفرویں قانون کے ذریعے درجۂ حرارت کے تصورتک رسمی طور پر پہنچ گئے ہیں۔ اب اگلا سوال ہے مختلف اجسام کے درجۂ حرارت کا ایک پیمانہ کیسے بنائیں؟ حرارت پیمائی اس بنیادی سوال سے واسطہ رکھتی ہے، جس سے ہم اگلے حصے میں بحث کریں گے۔
شکل 12.2 (a)نظام A اور نظام B ایک دوسرے سے ایک حرناگزار دیوارکے ذریعے جدا کیے گئے ہیں، جب کہ دونوں میں سے ہر ایک، ایک تیسرے نظام C سے ایک ایصالی دیوار کے ذریعے لمس میں ہے۔ (b) A اور B کی درمیانی حرناگزار دیوار، ایک ایصالی دیوار سے تبدیل کردی گئی اور C کو A اور B سے، حرناگذار دیوارکے ذریعے حاجز کر دیاگیا۔
12.4 حرارت ، اندرونی توانائی اور کام
(HEAT, INTERNAL ENERGY AND WORK)
حرحرکیات کے صفرویں قانون نے ہمیں درجۂ حرارت کے اس تصور تک پہنچایا جو ہمارے عام فہم تصور سے مطابقت رکھتا ہے۔ درجۂ حرارت، ایک جسم کی ’’گرم کیفیت‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اس وقت حرارت کی بہاؤ کی سمت کا تعین کرتا ہے، جب دو اجسام ایک دوسرے کے ساتھ حرارتی لمس میں رکھے جائیں۔ حرارت اس جسم سے جو مقابلتاً زیادہ درجۂ حرارت پر ہے، اس جسم کی طرف بہتی ہے جو مقابلتاً کم درجۂ حرارت پر ہے۔ یہ بہاؤ، درجۂ حرارت کے مساوی ہوجانے پر، رک جاتا ہے، اب دونوں جسم حرارتی توازن میں ہوتے ہیں۔ پچھلے باب میں ہم نے کچھ تفصیل سے سیکھا تھا کہ مختلف اجسام کو درجۂ حرارت تفویض کرنے کے لیے درجۂ حرارت پیمانے کیسے بنائے جاتے ہیں۔ اب ہم حرارت اور کچھ دوسری بامعنیٰ مقداریں ، جیسے اندرونی توانائی، کام وغیرہ، کے تصورات بیان کرتے ہیں۔
ایک نظام کی اندرونی توانائی کے تصور کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر جسیم نظام ، مالیکیولوں کی ایک بہت بڑی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اندرونی توانائی، ان مالیکیولوں کی حرکی توانائیوں اور بالقوۃ توانائیوں کا حاصل جمع ہے۔ ہم نے پہلے کہا تھا کہ حرحرکیات میں، نظام کی ، مجموعی طور پر، حرکی توانائی معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے اندرونی توانائی ، اس حوالیہ فریم (Frame of reference)میں حرکی اور بالقوۃ توانائیوں کا حاصل جمع ہے، جس کی مناسبت سے نظام کا کمیت کا مرکز حالت سکون میں ہو۔ اس لیے اس میں صرف وہ (بے ترتیب) توانائی شامل ہے جو نظام کے مالیکیولوں کی بے ترتیب حرکت سے منسلک ہے۔ ہم ایک نظام کی اندرونی توانائی U ظاہر کرتے ہیں۔
حالانکہ ہم نے اندرونی توانائی کے معنی سمجھنے کے لیے مالیکیولیائی تصویر کا سہارا لیا ہے، لیکن جہاں تک حرحرکیات کا تعلق ہے، U صرف نظام کا ایک کلاں بینی متغیرہ ہے۔ اندرونی توانائی کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف نظام کی حالت پر منحصر ہے، اس پر منحصر نہیں ہے کہ یہ حالت کیسے حاصل ہوئی۔ ایک نظام کی اندرونی توانائیU، حرحرکیاتی حالت متغیرہ (State Variable)کی ایک مثال ہے۔ اس کی قدر صرف نظام کی دی ہوئی حالت پر منحصر ہے، اس کی تاریخ پر نہیں، یعنی کہ اس حالت تک پہنچنے کے لیے کون ساراستہ اختیار کیاگیا۔ اس لیے ایک کیس کی دی ہوئی کمیت کے لیے اندرونی توانائی اس کی حالت کے تابع ہے، جسے دباؤ ، حجم اور درجۂ حرارت کی مخصوص قدروں کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس کے تابع نہیں ہے کہ گیس کی یہ حالت کیسے ہوئی۔ دباؤ، حجم، درجۂ حرارت اور اندرونی توانائی، نظام (گیس) کے حرحرکیاتی حالت متغیرات ہیں۔ دیکھیے( حصہ 12.7)۔ اگر ہم ایک گیس میں بین مالیکیولیائی قوتوں کو (جو بہت چھوٹی ہوتی ہیں) نظر انداز کردیں تو اندرونی توانائی صرف ان حرکی توانائیوں کا حاصل جمع ہے جو اس کے مالیکیولوں کی مختلف بے ترتیب حرکتوں سے منسلک ہیں۔ ہم اگلے باب میں پڑھیں گے کہ ایک گیس میں یہ حرکت نہ صرف انتقالی (Translational) ہوتی ہے (برتن کے حجم میں ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک) بلکہ اس میں مالیکیولوں کی گردشی اور ارتعاشی حرکت بھی شامل ہوتی ہے (شکل 12.3)
شکل 12.3 (a) ایک گیس کی اندرونی توانائی U، اس کے مالیکیولوں کی حرکی اور بالقوہ توانائیوں کا حاصل جمع ہے،جب کہ بکس سکون پر ہو۔ حرکت کی مختلف قسموں (انتقالی، گردشی، ارتعاشی) کی وجہ سے حرکی توانائی Uمیں شامل کی جائے گی۔ (b)اگر یہی بکس مجموعی طور پر حرکت کر رہا ہے، کسی بھی رفتار سے، تو بکس کی حرکی توانائی Uمیں شامل نہیں کی جائے گی۔

شکل 12.4 حرارت اور کام، ایک نظام کوتوانائی منتقل کرنے کے دوبالکل مختلف طریقے ہیں، جن کے نتیجے میں اندرونی توانائی تبدیل ہوتی ہے۔ (a) حرارت، نظام اور ماحول کے درمیان درجۂ حرارت فرق کی وجہ سے ہونے والی توانائی تبدیلی ہے۔(b) کام ایسے طریقوں (مثلاً ایک پسٹن کو اس سے منسلک وزن کو اوپر یا نیچے کرکے حرکت دینا) کے ذریعے توانائی کی منتقلی ہے، جن میں اس قسم کا درجۂ حرارت فرق شامل نہیں ہے۔
ایک نظام کی اندرونی توانائی تبدیل کرنے کے کون سے طریقے، ہیں؟ آسانی کے لیے پھر نظام کو گیس کی ایک مقدار مان لیجئے جو ایک استوانے میں بھری ہے اور استوانے میں ایسا پسٹن لگا ہوا ہے جسے حرکت دی جاسکتی ہے۔ (شکل12.4) ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ گیس کی حالت (اور اس لیے اس کی اندرونی توانائی ) کو تبدیل کرنے کے دو طریقے ہوسکتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ استوانے کو ایک ایسے جسم کے ساتھ لمس میں رکھا جائے، جس کا درجۂ حرارت استوانے کے درجۂ حرارت سے زیادہ ہے۔ درجۂ حرارت کے فرق کی وجہ سے مقابلتاً زیادہ گرم جسم سے گیس کی طرف توانائی (حرارت) کا بہاؤ ہوگا، اور اس طرح گیس کی اندرونی توانائی میںاضافہ ہوجائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پسٹن کو نیچے کی طرف ڈھکیلا جائے، یعنی کہ نظام پر کام کیا جائے، جس سے پھر گیس کی اندرونی توانائی میں اضافہ ہوگا۔ بے شک یہ دونوں چیزیں مخالف سمت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر ماحول ،گیس کے مقابلے میں کم درجۂ حرارت پر ہو تو حرارت گیس سے ماحول کی طرف بہے گی۔ اس طرح گیس، پسٹن کو اوپر ڈھکیل سکتی ہے اور ماحول پر کام کرسکتی ہے۔ مختصراً یہ کہ حرارت اور کام، ایک حرحرکیاتی نظام کی حالت میں تبدیلی کرنے اور اس کی اندرونی توانائی میں تبدیلی کرنے کے دومختلف طریقے ہیں۔
حرارت اور اندرونی توانائی کے تصورات میں فرق کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے۔ حرارت یقیناً توانائی ہے، لیکن یہ وہ توانائی ہے جو گزر رہی ہے۔ یہ لفظوں کا کھیل نہیں ہے، یہ فرق بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک حرحرکیاتی نظام کی حالت کی امتیازی خاصیت ، اس کی اندرونی توانائی کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔اس کی حرارت کے ذریعے نہیں۔ ایک اس طرح کا بیان: ایک دی ہوئی حالت میں ایک گیس میں اتنا کام ہے،اس کے برخلاف: ’’ایک گیس میں ایک دی ہوئی حالت میں اتنی اندرونی توانائی کی مقدار ہے‘‘ مکمل طور پر بامعنی بیان ہے۔ اسی طرح، ’’نظام کو حرارت کی اتنی مقدار مہیا کی جاتی ہے‘‘ یا نظام کے ذریعے اتنی مقدار کا کام کیا گیا‘‘ بیانات بھی بامعنیٰ ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ، حرحرکیات میں حرارت اور کام حالت متغیرات نہیں ہیں۔ وہ ایک نظام کو توانائی منتقل کرنے کے طریقے ہیں جس سے اندرونی توانائی تبدیل ہوتی ہے، جو کہ، جیسا پہلے بتایا جاچکا ہے، ایک حالت متغیرہ ہے۔
عام زبان میں، ہم اکثر حرارت اور اندرونی توانائی میں فرق نہیں کرتے۔ طبیعیات کی اتبدائی کتابوں میں بھی کبھی کبھی اس فرق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن حرحرکیات کی درست تفہیم کے لیے یہ فیصلہ کن فرق ہے۔
12.5 حرحرکیات کا پہلا قانون
(FIRST LAW OF THERMODYNAMICS)
ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک نظام کی اندرونی تونائی U، توانائی کی منتقلی کے دوطریقوں کے ذریعے تبدیل ہوسکتی ہے : حرارت اور کام – فرض کیا
یعنی کہ ، نظام کو مہیا کی گئی توانائی (
) ، جزوی طور پر نظام کی اندرونی توانائی میں اضافہ (
)کرنے میں استعمال ہوتی ہے اور باقی ماحول پر کام کرنے میں(
)۔ مساوات (12.1)بہ طور حرحرکیات کا پہلا قانون جانی جاتی ہے۔ یہ صرف توانائی کی بقا کا عمومی قانون ہے جس کا اطلاق کسی ایسے نظام پر کیا گیا ہے، جس میں ماحول سے یا ماحول کو توانائی منتقل ہورہی ہے۔آئیے مساوات (12.1)کو متبادل شکل میں لکھیں:
اب نظام آغازی حالت سے اختتامی حالت میں کئی طریقوں سے پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک گیس کی حالت
میں تبدیل کرنے کے لیے ہم پہلے اس کے دباؤ کو مستقلہ رکھتے ہوئے، اس کا حجم
میں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی کہ ہم پہلے حالت
پر پہنچ سکتے ہیں اور پھر حجم کو مستقلہ رکھتے ہوئے دباؤ کو
سے
میں تبدیل کرکے ، گیس کو
تک لے جاسکتے ہیں۔ اور متبادل طریقے میں ہم پہلے حجم کو مستقلہ رکھ سکتے ہیں اور پھر دباؤ کو مستقلہ رکھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ Uایک حالت متغیرہ ہے،
صرف آغازی اوراختتامی حالت کے تابع ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچنے کے لیے گیس کے ذریعے اختیار کیے گئے راستے کے تابع نہیں ہے۔ پھر بھی،
اور
عمومی طور پر، آغازی حالت سے اختتامی حالت تک پہنچنے کے لیے اختیار کیے گئے راستے کے تابع ہیں۔حرحرکیات کے پہلے قانون، مساوات(12.2)، سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مجموعہ
-
راستے کے غیر تابع ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک نظام کو ایسے عمل سے گذارا جائے، جس میں
(مثلاً ایک کامل گیس کاہم تاپ پھیلاؤ، دیکھئے حصہ ہو تو(12.8)
یعنی کہ، نظام کو مہیا کی گئی حرارت کی پوری مقدار نظام کے ذریعے ماحول پر کام کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
اگر نظام ایک گیس ہے، جو ایک پسٹن لگے استوانے میں رکھی ہے اور پسٹن کو حرکت دی جاسکتی ہے، تو گیس پسٹن کو حرکت دینے میں کام کرتی ہے۔ کیوں کہ قوت برابر ہے دباؤ ضرب رقبہ اور رقبہ ضرب ہٹاؤ برابر ہے حجم، اس لیے مستقلہ دباؤ
کے خلاف نظام کے ذریعے کیا گیا کام ہے،
جہاں
گیس کے حجم میں تبدیلی ہے۔ اس لیے اس صورت میں، مساوات (12.1)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
مساوات (12.3)کے ایک استعمال کے بہ طور ایک گرام پانی کی اندرونی توانائی میں تبدیلی کو لیجئے ، جب کہ ہم اس کی رقیق ہیئت سے ابخرات ہیئت میں جاتے ہیں۔ پانی کی ناپی گئی مخفی حرارت 2256J/gہے۔ یعنی کہ، ایک گرام پانی کے لیے
2256J :=
فضائی دباؤ پر ایک گرام پانی کا حجم، رقیق ہیئت میں
اور ابخراتی ہیئت میں1671
ہوتا ہے۔ اس لیے،
مساوات(12.3)سے
ہم دیکھتے ہیں کہ رقیق ہیئت سے ابخراتی ہیئت میں تبدیلی میں، زیادہ تر حرارت پانی کی اندرونی توانائی میں اضافہ کرنے میں خرچ ہوتی ہے۔
12.6 نوعی حرارت کی گنجائش
(SPECIFIC HEAT CAPACITY)
فرض کیجئے کہ ایک مادی شئے کو مہیا کی گئی حرارت کیDQمقدار، اس کے درجۂ حرارت کو Tسے
+Tمیں تبدیل کردیتی ہے۔ ہم ایک مادی شئے کی نوعی حرارت گنجائش (باب11) کی تعریف کرتے ہیں:

ہم امید کرتے ہیں کہ
اور اس لیے S(نوعی حرارت)، شئے کی کمیت کے راست متناسب ہوگی، اور یہ درجۂ حرارت کے تابع بھی ہوسکتی ہے، یعنی کہ، مختلف درجۂ حرارت پر ، درجۂ حرارت میں ایک اکائی اضافہ کے لیے حرارت کی مختلف مقدار درکار ہوسکتی ہے۔ شئے کی ایک مستقلہ امتیازی خاصیت کی تعریف کرنے کے لیے، جو اس کی مقدار کے تابع نہیں ہو، ہمSکو شئے کی کمیت (کلوگرام میں) سے تقسیم کردیتے ہیں:

s، شئے کی ’’نوعی حرارت کی گنجائش ‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ شئے کی طبع اور اس کے درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ نوعی حرارت گنجائش کی اکائی
ہے۔
اگر شئے کی مقدار کا تعین مول کی تعداد m kg)میں کمیتmکی جگہ(سے کیا جاتا ہے، ہم ’’حرارتی گنجائش فی شئے کا مول‘‘ کی تعریف اس طرح کرسکتے ہیں۔

Cشئے کی مولی نوعی حرارت کی گنجائش کہلاتی ہے۔ Sکی طرح Cبھی، شئے کی مقدار کے تابع نہیں ہے Cکی اکائی :
ہے۔ جیسا کہ ہم آگے سیکھیں گے (گیسوں کی نوعی حرارت کی گنجائش کے سلسلے میں) Cیا Sکی تعریف کرنے کے لیے مزید شرائط بھی چاہیے ہوسکتی ہیں۔ Cکی تعریف کرنے کے پیچھے خیال یہ ہے کہ مولی نوعی حرارت کی گنجائشوں کے بارے میں کچھ سادہ پیشین گوئیاں کی جاسکیں ۔
جدول 12.1میں ٹھوس اشیا کی فضائی دباؤ اورعام کمرہ کی درجۂ حرارت پر، ناپی گئی، نوعی اور مولی حرارت کی گنجائشیں دی گئی ہیں۔
جدول 12.1: کرہ درجۂ حرارت پر کچھ ٹھوس اشیاء کی نوعی اور مولی حرارتی گنجائشیں
مولی نوعی حرارت گنجائش
jmol-1k-1
|
نوعی حرارت کی گنجائش
(Jkg-1 K-1)
|
شئے |
|---|---|---|
| 24.4 | 900.0 |
المونیم |
| 6.1 | 506.5 |
کاربن |
| 24.5 | 386.4 |
تانبہ |
| 26.5 | 127.7 |
سیسہ |
| 25.5 | 236.1 |
چاندی |
| 24.9 | 134.4 |
ٹنگسٹن |
ہم باب 13میں سیکھیں گے کہ گیسوں کی نوعی حرارت کی پیشین گوئیاں، تجربات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ہم توانائی کی مساوی تقسیم کے اسی قانون کویہاں بھی استعمال کرسکتے ہیں، جسے ہم نے ٹھوس اشیاء کی مولی نوعی حرارت کی گنجائشوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے استعمال کیا تھا(دیکھیں حصّہ13.5سے 13.6)۔ ایک Nایٹموں پر مشتمل ایک ٹھوس تصور کیجئے۔ جس کا ہر ایٹم اپنے اوسط مقام پر ارتعاش کررہا ہے ۔ ایک ارتکاز کار کی ایک

جیسا کہ جدول 12.1سے ظاہر ہوتا ہے، تجربے سے ناپی گئی قدریں، پیشین گوئی کی گئی قدر 3Rکے، عام درجۂ حرارت پر، مطابق ہیں۔ (کاربن ایک مستثنیٰ ہے)۔ نچلے درجات حرارت پر یہ مطابقت باقی نہیں رہتی۔
پانی کی نوعی حرارت کی گنجائش
(Specific Heat Capacity of Water)
حرارت کی پرانی اکائی کیلوری تھی۔ ایک کیلوری کی پہلے اس طرح تعریف کی جاتی تھی کہ یہ حرارت کی وہ مقدار ہے جو پانی کی ایک گرام کمیت کے درجۂ حرارت میں1°Cکا اضافہ کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ زیادہ درستی صحت کے ساتھ کی گئی پیمائشوں سے یہ معلوم ہوا کہ پانی کی نوعی حرارت میں درجۂ حرارت کے ساتھ معمولی سی تبدیلی ہوتی ہے۔ شکل 12.5میں یہ تبدیلی درجۂ حرارت سعت:0 سے100 °C تک کے لیے دکھائی گئی ہے۔
درجۂ حرارت
Temperature(°C)
نوعی حرارت
g0°C (cal/ (cal/g°C) Specific heat
شکل 12.5: درجۂ حرارت کے ساتھ پانی کی نوعی حرارت کی گنجائش میں تبدیلی
اس لیے ایک کیلوری کی بالکل درست تعریف کے لیے، یہ ضروری ہوگیا کہ اکائی درجۂ حرارت وقفہ کو متعین کیا جائے۔ ایک کیلوری کی تعریف اب ایسے کی جاتی ہے کہ یہ حرارت کی وہ مقدار ہے جو پانی کی ایک گرام کمیت کا درجۂ حرارت14.5°Cسے بڑھا کر
15.5°Cتک کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ کیوں کہ حرارت بھی توانائی کی ہی ایک شکل ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اکائی جول'J'استعمال کی جائے۔S1اکائیوں میں، پانی کی نوعی حرارت کیگنجائش
ہے۔ اس لیے جسے حرارت کا میکانیکی معادل کہا جاتا ہے، اور جس کی تعریف ہے کہ یہ کام کی وہ مقدار ہے جو حرارت1calپیدا کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے، دراصل، تونائی کی دو مختلف اکائیوں (کیلوری سے جول) کے درمیان صرف ایک بدل جز ضربی (Conversion factor)ہے۔ کیونکہ S1اکائیوں میں ہم کام، حرارت اور توانائی کی کسی بھی شکل کے لیے اکائی جول استعمال کرتے ہیں، اس لیے اصطلاح حرارت کا میکانیکی معادل غیر ضروری ہے اور اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ نوعی حرارت کی گنجائش اس طریقہ عمل یا شرائط کے بھی تابع ہے، جن کے تحت حرارت کی منتقلی ہوتی ہے۔ مثلاً، گیسوںکے لیے ہم دونوعی حرارتوں کی تعریف کرسکتے ہیں: مستقلہ حجم پر نوعی حرارت کی گنجائش اور مستقلہ دباؤ پر نوعی حرارت کی گنجائش۔ ایک کامل گیس کے لیے ان دونوں میں ایک سادہ رشتہ ہے:
جہاں
اور
، باالترتیب ، مستقلہ دباؤ پر، ایک کامل گیس کی، نوعی حرارت کی گنجائش، اور مستقلہ حجم پر، ایک کامل گیس کی نوعی حرارت کی گنجائش ہیں اور Rعالمی گیس مستقلہ ہے۔اس رشتے کو ثابت کرنے کے لیے ، ہم گیس کے ایک مول کے لیے مساوات (2.3)سے شروع کرتے ہیں؛

جہاں تحت علامت (Subscript) V، آخری قدریں چھوڑ دی گئی ہے، کیوں کہ ایک کامل گیس کے لیے Uصرف درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ ]تحت علامت اس مقدار کی نشاندہی کرتی ہے، جسے مستقلہ رکھا گیا ہے[۔ دوسری طرف
، اگر ، مستقلہ دباؤ پر جذب ہوتی ہے۔

پہلے رکن میں سے تحت Pکو چھوڑا جاسکتا ہے، کیوں کہ ایک کامل گیس کی Uصرف Tکے تابع ہے۔ اب، ایک کامل گیس کے ایک مول کے لیے
PV=RT
جس سے حاصل ہوتا ہے

(12.9)سے (12.11)تک کی مساواتوں کے ذریعے درکار رشتہ حاصل ہوتا ہے۔
12.7حرحرکیاتی حالت متغیرات اور حالت کی مساوات
THERMODYNAMIC STATE VARIABLES AND EQUATION OF STATE
ایک حرحرکیاتی نظام کی ہر متوازن حالت، مکمل طور پر کچھ کلاں بینی متغیرات، جو حالت متغیرات بھی کہلاتے ہیں، کے ذریعے بیان کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، ایک گیس کی حالتِ توازن اس کے دباؤ، حجم، درجۂ حرارت اور کمیت (اور اجزائے ترکیبی، اگر یہ گیسوں کا آمیزہ ہے) کی قدروں کے ذریعے مکمل طور پر متعین کی جاسکتی ہے۔ ایک حرحرکیاتی نظام ہمیشہ حالت توازن میں نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر گیس کو خلاء میں آزادانہ پھیلنے دیا جائے تو یہ حالتِ توازن نہیں ہے۔ ]شکل [12.6 (a)۔ اس تیز رفتار پھیلاؤ کے دوران، گیس کا دباؤ ، ہوسکتا ہے گیس کی پوری کمیت میں ہموار (یکساں) نہ ہو۔ اسی طرح ایک گیسوں کا آمیزہ، جس میں ایک دھماکہ خیز کیمیائی تعامل ہورہا ہو (مثلاً ایک پٹرول کے ابخرات اور ہوا کا آمیزہ، جسے ایک شرارہ کے ذریعے مشتعل کیا گیا ہو) ایک حالت توازن نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کے دباؤ اور درجۂ حرارت یکساں نہیں ہیں۔]شکل[12.6 (b)۔ آخر کار گیس ایک یکساں درجۂ حرارت اور دباؤ پر پہنچ جاتی ہے اور اپنے ماحول کے ساتھ حرارتی اور میکانیکی توازن میں آجاتی ہے۔

شکل 12.6 (a)باکس میں سے تقسیم کو اچانک ہٹالیا جاتا ہے، جس سے گیس کا آزادانہ پھیلاؤ ہونے لگتا ہے (b) گیسوں کا آمیزہ ، جس میں دھماکہ خیز کیمیائی تعامل ہورہا ہے۔ دونوں صورتوں میں، گیس حالت توازن مین نہیں ہے اور اسے حالت متغیرات کے ذریعے نہیں بیان کیا جاسکتا۔
مختصراً ، حرحرکیاتی حالت متغیرات، نظام کی توازن حالتوں کو بیان کرتے ہیں۔ مختلف حالت متغیرات ضروری نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے غیر تابع ہوں۔ حالت متغیرات کے درمیان تعلق، حالت کی مساوات کہلاتا ہے۔ مثلاً ایک کامل گیس کے لیے، حالت کی مساوات، کامل گیس رشتہ ہے:
P V=
R T
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے ، Qایک حالت متغیرہ نہیں ہے۔لیکن AQکیونکہ نظام کی کل کمیت کے متناسب ہے،اس لیے جامع ہے۔
گیس کی ایک معین مقدار کے لیے ، یعنی دیے ہوئے mکے لیے، اس لیے صرف دو غیر تابع متغیرات (فرض کیجئےPاور Vیا Tاور V) ہیں۔ معین درجۂ حرارت کے لیے دباؤ۔ حجم منحنی ایک ہم تاپ(Isotherm) کہلاتا ہے۔ حقیقی گیسوں کے لیے، حالت کی مساوات مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
حرحرکیاتی حالت متغیرات دوقسم کے ہوتے ہیں: جامع (Extensive) اور عمیق (Intensive)۔ جامع متغیرات، نظام کے سائز (ناپ) کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب کہ عمیق متغیرات، جیسے دباؤ اور درجۂ حرارت، نہیں کرتے۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کونسا متغیرہ جامع ہے اور کون سا عمیق، ایک موزوں نظام کا تصور کیجئے اور سوچیے کہ اسے دو مساوی حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ وہ متغیرات جو ہر حصہ کے لیے غیر تبدیل شدہ رہتے ہیں، عمیق ہیں۔ وہ متغیرات جن کی قدریں ہر حصے میں نصف ہوجاتی ہیں، جامع ہیں۔ مثلا، یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اندرونی توانائی U، حجمV، کل کمیتm، جامع متغیرات ہیں اور دباؤ P، درجۂ حرارتTاور کثافتrعمیق متغیرات ہیں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے کہ متغیرات کی اس درجہ بندی کو استعال کرکے حرحرکیاتی مساواتوں کے ثبات (Consistency) کی جانچ کی جائے۔ مثلاً مساوات:
میں دونوں اطراف کی مقداریں جامع * ہیں۔]ایک عمیق متغیرہ جیسے Pاور ایک جامع متغیرہ جیسے
کا حاصل ضرب جامع ہے ۔
12.8 حرحرکیاتی عملی طریقے
(THERMODYNAMIC PROCESSES)
12.8.1 مثلِ – سکونی طریقے
(Quasi-static processes)
ایک گیس تصور کیجئے جو اپنے ماحول سے حرارتی اور میکانیکی توازن میں ہے۔ اس صورت میں گیس کا دباؤ باہری دباؤ کے مساوی ہوگا اور اس کا درجۂ حرارت بھی وہی ہوگا جو ماحول کا درجۂ حرارت ہے۔ فرض کیجئے کہ باہری دباؤ کو دفعتاً کم کردیا جاتا ہے (جیسے برتن میں لگے قابل حرکت پسٹن پر سے وزن اٹھا کر)۔ پسٹن باہر کی طرف اسراع کرے گا۔ اس عمل کے دوران ، گیس ایسی حالتوں سے گذرے گی جومتوازن حالتیں نہیں ہیں۔ غیرمتوازن حالتوں کے بہ خوبی معرف دباؤ اور درجۂ حرارت نہیں ہوتے۔ اسی طرح، اگر گیس اور اس کے ماحول کے درمیان ایک متناہی درجۂ حرارت کافرق پایا جاتا ہے، تو ا ن کے درمیان ایک تیز رفتار حرارت کا تبادلہ ہوگا، جس کے دوران گیس غیر متوازن حالتوں سے گزرے گی۔ کچھ عرصے میں، گیس ایک متوازن حالت میں پہنچ جائے گی جہاں اس کے بہ خوبی معروف دباؤ اور درجۂ حرارت ہوں گے جو ماحول کے دباؤ اور درجۂ حرارت کے مساوی ہوں گے۔ خلاء میں ایک گیس کا آزادانہ پھیلاؤ اور ایک گیسوں کا آمیزہ جس میں دھماکہ خیز کیمیائی تعامل ہورہا ہو، (حصہ12.7میں جن کا ذکر ہوا ہے) یہ بھی ایسی مثالیں ہیں جن میں نظام غیر متوازن حالتوں سے گذرتا ہے۔ نظام کی غیرمتوازن حالتوں کو برتنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے سہولت اس میں ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ ایک کامل عمل ہے جس میں ہر منزل (Stage)پر نظام ایک متوازن حالت میں ہے۔ ایسا عمل ، اصولی طور پر ، لامتناہی سست رفتار ہوگا۔ اس لیے اسے مثل سکونی (Quasi-Static)نام دیاگیا ہے، جس کے معنی ہیں تقریباً سکونی (Nearly Static)۔ نظام اپنے متغیرات(P,T,V)کو اتنی آہستہ آہستہ تبدیل کرتا ہے کہ یہ مستقل اپنے ماحول سے حرارتی اور میکانیکی توازن میں رہتا ہے۔ ایک مثل سکونی عمل میں ، ہر منزل پر، نظام کے دباؤ اور باہری دباؤ میں فرق لا انتہا خفیف (Infinitesimal)طور پر چھوٹا ہوتا ہے۔ یہی بات نظام اور اس کے ماحول کے مابین درجۂ حرارت میں فرق کے لیے بھی صادق آتی ہے۔ ایک گیس کو حالت (P,T)سے مثل سکونی طریقے کے ذریعے دوسری حالت(P',T')میں لے جانے کے لیے ہم باہری دباؤ کو ایک بہت ہی کم مقدار سے تبدیل کرتے ہیں، نظام کو اپنا دباؤ ماحول کے مساوی کرنے دیتے ہیں اور یہ عمل لا متناہی طور پر آہستہ روی سے جاری رکھتے ہیں، یہاں تک کہ نظام دباؤ P'حاصل کرلیتا ہے۔ اسی طرح درجۂ حرارت تبدیل کرنے کے لیے، ہم نظام اور ماحول کے درمیان، ایک لامتناہی خفیف درجۂ حرارت فرق داخل کرتے ہیں اور پھر بتدریج مختلف درجۂ حرارت کے محزن (Reservoirs) استعمال کرکے درجۂ حرارت کو Tسے T 'تک لے جاتے ہیں، اور نظام درجۂ حرارت T ' حاصل کرلیتا ہے۔
ایک مثل سکونی طریقے میں ماحول کا درجۂ حرارت اور دباؤ نظام کے درجۂ حرارت اور دباؤ سے صرف لامنتہائی خفیف مختلف ہوتے ہیں۔
ایک مثل سکونی طریقہ یقیناً خیالی ہے۔ عملی طورپر وہ عملی طریقے جو کافی آہستہ رو ہیں، اور جن میں پسٹن کی اسراعی حرکت، بڑی درجۂ حرارت ڈھلان وغیرہ شامل نہیں ہیں ایک کامل مثل سکونی طریقے کے تقرب ہیں۔ اب ہم صرف مثل سکونی طریقوں کو ہی برتیں گے، جب تک کہ کوئی اور طریقہ نہیں کہا جائے۔
ایک ایسا طریق جس میں نظام کا درجۂ حرارت پورے عمل کے دوران معین رکھا جائے، ہم تاپ طریق (Isothermal process)کہلاتا ہے۔ معین درجۂ حرارت کے ایک بڑے مخزن (Reservoir) میں رکھے ہوئے دھاتی استوانہ میں ایک گیس کا پھیلاؤ، ہم تاپ طریق کی ایک مثال ہے۔ ]مخزن سے نظام کو منتقل ہوئی حرارت مخزن کے درجۂ حرارت پر کوئی قابلِ لحاظ اثر نہیں ڈالتی، کیوں کہ اس کی حرارتی گنجائش بہت زیادہ ہے[۔ ایک ہم خط طریق (Isobaric Process) میں دباؤ مستقلہ رہتا ہے جب کہ ہم حجمی طریق (Isochoric Process) میں حجم مستقلہ رہتا ہے۔ آخر میں ، اگر نظام کو ماحول سے حاجز کردیا جائے اور نظام اور ماحول کے درمیان کوئی حرارت کا بہاؤ نہ ہو، تو طریق حرناگذار (Adialbatic) ہے۔ ان مخصوص طریقوں کی تعریفوں کا خلاصہ جدول 12.2میں دیا گیا ہے۔
جدول 12.2کچھ مخصوص حرحرکیاتی طریق
| خصوصیت | طریق کی قسم |
|---|---|
| درجۂ حرارت مستقلہ | ہم تاپ |
| دباؤ مستقلہ | ہم بار |
| حجم مستقلہ | ہم حجمی |
| نظام اور ماحول کے درمیان کوئی حرارت کا بہاؤ نہیں (DQ=0) |
حرناگذار |
اب ہم ان طریقوں کا کچھ تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں:
12.8.2ہم تاپی طریق (Isothermal process)
ایک ہم تاپی طریق کے لیے (Tمعین)،کا مل گیس مساوات سے حاصل ہوتا ہے:
مستقلہPV=
یعنی کہ، ایک گیس کی دی ہوئی کمیت کا دباؤ اس کے حجم کے مقلوب متناسب ہے۔ یہ ہی بوائل کا قانون ہے۔
فرض کیجئے کہ ایک کامل گیس اپنی آغازی حالت سے ، ہمتاپ طریق سے (درجۂ حرارت Tپر) ، اختتامی حالت تک جاتی ہے۔ کسی بھی درمیانی منزل پر، دباؤ Pکے ساتھ اور حجم تبدیلی Vسے V+DV (DVبہت چھوٹا)
جہاںدوسرے قدم پر ہم نے کامل گیس مساوات: PV=
RT استعمال کی ہے اور مستقلوں کو تکملہ(Integration) سے باہر لے لیا ہے۔ ایک کامل گیس کے لیے، اندرونی توانائی صرف درجۂ حرارت کے تابع ہے۔ اس لیے ایک ہم تاپ طریق میں، ایک کامل گیس کی اندرونی توانائی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی پھر حرحرکیات کے پہلے قانون سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گیس کو مہیا کی گئی حرارت، گیس کے ذریعے کیے گئے کام کے مساوی ہے: Q=W، مساوات (12.12)سے نوٹ کیجئے کہ :
کے لیےW>0 اور
کے لیے ،W>0یعنی کہ، ایک ہم تاپ پھیلاؤ میں گیس حرارت جذب کرتی ہے اور کام کرتی ہے، جب کہ ایک ہم تاپ دباؤ میں، ماحول کے ذریعے گیس پر کام کیا جاتا ہے اور حرارت باہر نکلتی ہے۔
12.8.3حرناگزار طریق (Adiabatic process)
ایک حرنا گزار طریق میں نظام کو ماحول سے حاجز کردیا جاتا ہے اور جذب ہوئی یا خارج ہوئی حرارت صفر ہے۔ مساوات(12.1) سے ہم پاتے ہیں کہ گیس کے ذریعے کیے گئے کام کے نتیجے میں گیس کی اندرونی توانائی (ایک کامل گیس کے لیے؛ اس لیے اس کا درجۂ حرارت) میں کمی آجاتی ہے۔ ہم بغیرثابت کیے، ایک نتیجہ لکھتے ہیں، (جو آپ اعلیٰ درجات میں پڑھیں گے) ؛ ایک کامل گیس کے حرناگذار طریق کے لیے:
(12.13) مستقلہ
جہاںg، مستقلہ دباؤ اورمستقلہ حجم پر نوعی حرارتوں (عام یا مولی) کی نسبت ہے۔
اس لیے اگر ایک کامل گیس اپنی حالت سے حرنا گذار طریق سے حالت پرجاتی ہے:تو
P-V منحنی دکھائے گئے ہیں، جو دوہم تاپوں کو ملارہے ہیں۔
شکل 12.8میں ایک کامل گیس کے دو حرناگذار طریقوں کےلئے p-v منحی۔
ہم پہلے کی طرح، ایک کامل گیس کی حالت سے ( P1 V1 تک حرنا گذار تبدیلی میں کیے گئے کام کا حساب لگاسکتے ہیں:
جیسی کہ امید تھی، اگر ایک حرناگذار طریق میں گیس کے ذریعے کام کیا جاتا ہے (W > 0)، تو مساوات (12.6)سے ،اور اس کے برخلاف، اگر گیس پر کام کیا جاتا ہے، W < 0، تو یعنی کہ گیس کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
12.8.4ہم حجمی طریق (Isochoric process)
ایک ہم حجمی طریق میں ، Vمستقلہ ہے۔ نہ کوئی کام گیس پر ہوتا ہے اور نہ کوئی گیس کے ذریعے۔ مساوات (12.1)سے، گیس کے ذریعہ جذب کی گئی حرارت، پوری طرح اس کی اندرونی توانائی اور درجۂ حرارت تبدیل کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
12.8.5ہم بار طریق (Isobaric process)
ایک ہم بار طریق میں، Pمعین ہے۔گیس کے ذریعے کیا گیا کام
کیونکہ درجۂ حرارت تبدیل ہوتا ہے، اس لیے اندرونی توانائی بھی تبدیل ہوتی ہے۔ اس لیے جذب ہوئی حرارت، جزوی طور پر اندرونی توانائی میں اضافہ کرنے میں او رجزوی طور پر کام کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ حرارت کی ایک دی ہوئی مقدار کے لیے، درجۂ حرارت میں تبدیلی، مستقلہ دباؤ پر گیس کی نوعی حرارت سے معلوم کی جاتی ہے۔
12.8.6چکّری طریق (Cyclic process)
ایک چکّری طریق میں نظام اپنی آغازی حالت پر واپس آجاتا ہے۔ کیونکہ اندرونی توانائی ایک حالت متغیرہ ہے، ایک چکری طریق کے لیے:0=
، مساوات (12.1) سے جذب ہوئی کل حرارت مساوی ہے نظام کے ذریعے کیے گیے کام کے۔
12.9 حرارتی انجن (HEAT ENGINES)
حرارتی انجن ایک ایسا آلہ ہے، جس کے ذریعے ایک نظام کو چکری طریق سے گذارا جاتاہے، جس کے نتیجے میں حرارت کام میں تبدیل ہوتی ہے۔
(i) اس میں ایک کام کار شئے ہوتی ہے۔ مثلا گیسولین یا ڈیزل انجن میں ایندھن کے ابخرات او رہوا کا آمیزہ یا بھاپ انجن میں بھاپ کام کار شئے ہے۔
(ii) یہ کام کار شئے ایک چکر سے گذرتی ہے، جس میں بہت سے طریق شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ طریقوں میں یہ کسی اونچے درجۂ حرارت
کے ایک باہری مخزن سے حرارت کی کل مقدار
جذب کرتی ہے۔
(iii) سائیکل کے کچھ دوسرے طریقوں میں، یہ کام کار شئے کسی کم درجۂ حرارت
کے ایک باہری مخزن کو حرارت کی کل مقدار
خارج کرتی ہے۔
(iv) ایک چکر میں نظام کے ذریعے کیا گیا کام کسی انتظام (مثلاً ، کام کار شئے ایک حرکت کرنے والے پسٹن لگے استوانہ میں ہوسکتی ہے جو میکانیکی توانائی کو، دھری کے ذریعے گاڑی کے پہیوں کو منتقل کرتا ہے) کے ذریعے ماحول کو منتقل کیا جاتا ہے۔
ایک حرارتی انجن کی بنیادی خاصیتیں شکل 12.9میں دیے گئے خاکہ کے ذریعے ظاہر کی گئی ہیں۔
شکل 12.9 : ایک حرارتی انجن کا خاکہ : انجن درجۂ حرارت کے گرم مخزن سے حرارت Q1 لیتا ہے اور T2 درجۂ حرارت کے ٹھنڈے مخزن میں حرارت خارج کرتا ہے اور کام W ماحول کو منتقل کرتا ہے۔
کسی مقصد کے لیے کارآمد کام حاصل کرنے کے لیے، چکر کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ حرحرکیات کے مضمون کی جڑیں، حرارتی انجن کے مطالعے میں پائی جاتی ہیں۔ ایک بنیادی سوال کا تعلق حرارتی انجن کی کارکردگی (استعداد Efficiency) سے ہے۔ ایک حرارتی انجن کی استعداد hکی تعریف ہے:
جہاں
حرارت درآمدہ (heat input)، یعنی ایک مکمل سائیکل میں نظام کے ذریعے جذب کی گئی حرارت ، ہے اور W، ایک سائیکل میں ماحول پر کیا گیاکام ہے۔ ایک سائیکل میں حرارت کی کچھ مقدار
ماحول میں خارج بھی ہوسکتی ہے۔ تب حرحرکیات کے پہلے قانون کے مطابق، ایک مکمل سائیکل میں

مختلف حرارتی انجنوں میں حرارت کو کام میں تبدیل کرنے کی میکانیت مختلف ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر دو طریقے ہیں: نظام (فرض کیجیے ایک گیس یا گیسوں کاآمیزہ) ایک باہری بھٹی کے ذریعے گرم کیا جاتا ہے، جیسے ایک بھاپ کے انجن میں، یا اسے اندرونی طور پر ایک حرارت زاکیمیائی تعامل (Exothermic Chemical Reaction) کے ذریعے گرم کیا جاتا ہے، جیسے ایک اندرونی احتراق انجن (Internal combustion Engine) میں۔ ایک سائیکل میں شامل مختلف اقدامات بھی ہرانجن میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ عمومی تجزیہ کے لیے ایک حرارتی انجن کا تصور اس طورپر کرنا کارآمد ہے کہ ا س کے بنیادی اجزائے ترکیبی (ingredients)ہیں:
12.10 سرد کار اور حرارتی پمپ
(REFRIGERATORS AND HEAT PUMPS)
ایک سرد کار (Refrigreator)، حرارتی انجن کا عکس ہے۔ یہاں کام کار شئے،
درجۂ حرارت کے ٹھنڈے مخزن سے حرارت
نکالتی ہے، اس پر کچھ باہری کام Wکیا جاتا ہے اور حرارت
، گرم مخزن ، جس کا درجۂ حرارت
ہے، میں خارج کی جاتی ہے۔ (شکل 12.10)
شکل 12.10: ایک سرد کار یا حرارت پمپ کا خاکہ، جو ایک حرارتی انجن کا عکس ہے۔
ایک حرارت پمپ اور ایک سرد کار یکساں ہوتے ہیں۔ ہم کون سی اصطلاح استعمال کریں یہ آلہ کے استعمال پر منحصر ہے۔ اگر آلہ کسی مقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے، جیسے ایک کمرہ کا اندرونی حصہ، جہاں مقابلتاً زیادہ درجۂ حرارت کا مخزن ماحول ہے، تو ہم اس آلہ کو سرد کار کہتے ہیں۔ اور اگر کسی حصہ میں حرارت پمپ کرتی ہے (جیسے ایک عمارت کے ایک کمرے میں جہاں باہر کا ماحول سرد ہے) تو آلہ حرارت پمپ کہلاتا ہے۔
ایک سرد کار میں کام کار شئے (جو عام طور سے گیسی شکل میں ہوتی ہے) مندرجہ ذیل اقدام سے گذرتی ہے:
(a)اونچے سے نیچے دباؤ کی جانب گیس کا اچانک پھیلاؤ جو اسے ٹھنڈا کرتا ہے اور ابخرات۔ رقیق آمیزہ میں تبدیل کرتا ہے۔ (b) جس علاقے کو ٹھنڈا کرنا ہے، اس سے ٹھنڈے رقیق کے ذریعے حرارت کا اجذاب، جو رقیق کو ابخرات میں تبدیل کردیتا ہے۔ (c)نظام پر کیے گئے باہری کام کی وجہ سے ابخرات کا گرم ہونا (d) ابخرات کے ذریعے ماحول میں حرارت کا اخراج کرکے اسے آغازی حالت میں واپس لانا اور سائیکل مکمل کرنا۔
ایک سرد کارکی کارکردگی کا ضریب) (a) (Coefficient of performance دیا جاتا ہے:

جہاں
ٹھنڈے مخزن سے نکالی گئی حرارت ہے اور Wنظام – مبرد (Refrigerant)پر کیا گیا کام ہے۔ ]حرارت پمپ کے لیے a کی تعریف ہے
[ ۔ نوٹ کریں کہ تعریف کے مطابق
کبھی 1سے زیادہ نہیں ہوسکتا، جب کہ a ، 1سے بڑا ہوسکتا ہے۔ توانائی کی بقا کے ذریعے، گرم مخزن کو خارج کی گئی حرات ہے:

ایک حرارتی انجن میں ، حرارت کو مکمل طور پر کام میں نہیں تبدیل کیا جاسکتا۔ اسی طرح ایک سرد کار، نظام پر کوئی باہری کام کیے گئے بغیر ، کام نہیں کرسکتا، یعنی کہ (12.21)میں کارکردگی کا ضریب لامتناہی نہیں ہوسکتا۔
حرحرکیات کے راہ نما

لارڈ کیلون (ولیم تھامسن) (1824-1907)، بیل فاسٹ، آئرلینڈ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا شمار انیسویں صدی کے صف اول کے سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ جیمس جول (1818-1889)، جیولیس میر (1814-1878) اور ہر من ، ہیلمہولٹز (1821-1894) کی تحقیقات سے تجویز کردہ توانائی کی بقا کے قانون کی تشکیل میں تھامسن نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انھوں نے جول کی رفاقت میں ، ’’جو ل– تھامسن اثر‘‘ دریافت کیا: خلاء میں پھیلنے پر گیس کا ٹھنڈا ہونا۔ ا نھوں نے درجۂ حرارت کے مطلق صفر کے تصور سے روشناس کرایا اور مطلق درجۂ حرارت پیمانہ تجویز کیا۔ جو اب ان کے اعزاز میں کیلون پیمانہ کہلاتا ہے۔ ساوی کارنوٹ (1796-1832) کی تحقیق کی مدد سے تھامسن حرحرکیات کے دوسرے قانون کی شکل تک پہنچے۔ تھامسن ایک ہمہ گیر سائنس داں تھے اور ’’برقی ومقناطیسی نظریہ‘‘ اور ’’آب حرکیات‘‘ میں آپ کا بہت اہم حصہ ہے۔

رڈولف کلاسیس (1822-1886) پولینڈ میں پیدا ہوئے۔ انھیں عام طور سے حرحرکیات کے دوسرے قانون کا دریافت کنندہ مانا جاتا ہے۔ کارنوٹ اور تھامسن کے تحقیقی کام کی بنیاد پر، کلاسیس ’’ناکارگی‘‘ کے اہم تصور تک پہنچے، جس نے حرحرکیات کے دوسرے قانون کی بنیادی شکل تک ان کی رہنمائی کی۔ اس قانون کا بیان ہے: ایک جدا کیے ہوئے نظام کی ناکارگی کبھی کم نہیں ہوسکتی ۔ کلاسیس نے گیسوں کے تحرکی نظریہ پر بھی کام کیا اور مالیکیولیائی ناپ، رفتار اور اوسط آزاد فاصلہ (Mean Free path) وغیرہ کی قابلِ بھروسہ قدریں، سب سے پہلے آپ ہی نے معلوم کیں۔
12.11 حرحرکیات کا دوسرا قانون
(SECOND LAW OF THERMODYNAMICS)
حرحرکیات کا پہلا قانون، توانائی کی بقا کا اصول ہے۔ عام تجربہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے بہت سے طریق سوچے جاسکتے ہیں، جو پہلے قانون کے مطابق مکمل طور پر ممکن ہیں، لیکن کبھی مشاہدہ میں نہیں آتے۔ مثلاً ، کسی نے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ میز پر رکھی ہوئی کتاب، اپنے آپ اچھل کر ایک اونچائی تک پہنچ جائے۔ لیکن ایسا ہونا ممکن تھا اگر توانائی کی بقا کا قانون ہی صرف اکیلی پابندی ہوتا۔ میز خود کار (Spontaneous) طورپر اچانک ٹھنڈی ہوسکتی تھی اور اپنی اندرونی توانائی کے کچھ حصے کو کتاب کی مساوی مقدار کی میکانیکی توانائی میں تبدیل کرسکتی تھی۔ یہ میکانیکی توانائی کتاب کو اس اونچائی تک لے جاسکتی تھی، جہاں پر توانائی بالقوۃ کتاب کی حاصل ہوئی میکانیکی تونائی کے مساوی ہوتی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ قدرت کا کوئی دوسرا بنیادی قانون اس کی ممانعت کرتا ہے، حالاں کہ یہ توانائی کی بقا کو مطمئن کرتا ہے۔یہ اصول، جو ایسے کئی مظاہر کی ممانعت کرتا ہے جوحرحرکیات کے پہلے قانون کے ساتھ ہم آہنگ(Consistent) ہیں، حرحرکیات کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔
کیلون – پلانک بیان:
(Kelvin-Planck Statement
ایسا کوئی طریق ممکن نہیں ہے، جس کا واحد نتیجہ ایک مخزن سے حرارت کا انجذاب اورحرارت کا کام میں مکمل تبدیلی ہے۔
کلاسیس بیان: (Clausius statement)
ایسا کوئی طریق ممکن نہیں ہے، جس کا واحد نتیجہ ایک مقابلتاً ٹھنڈی شئے سے مقابلتاً گرم شئے میں حرارت کی منتقلی ہو۔
یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اوپر دیے ہوئے دونوں بیان پوری طرح سے ہم آہنگ (Equivalent)ہیں۔
12.12رجعت پذیر اور غیر رجعت پذیر طریق
(REVERSIBLE AND IRREVERSIBLE PROCESSES)
ایک ایسا طریق تصور کیجئے، جس میں ایک حرحرکیاتی نظام ایک آغازی حالتi سے اختتامی حالت f میں جاتا ہے۔ اس طریق کے دوران ، نظام ماحول سے حرارت Qجذب کرتا ہے اوراس پر Wکام کرتا ہے۔کیا ہم اس طریق کو واپس لوٹا سکتے ہیں اور نظام اور ماحول دونوں کو ان کی آغازی حالتوں پر اس طرح لاسکتے ہیں کہ کہیں کوئی دوسرا اثر نہ ہو؟ تجربہ بتاتا ہے کہ قدرت کے بیشتر طریق کے لیے یہ ممکن نہیں ہے ۔ قدرت کے ازخود طریق غیر رجعت پذیر ہیں۔ ایسی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ایک چولھے (Oven) پر رکھے ہوئے برتن کی اساس اس کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوتی ہے۔ جب برتن کو چولھے پر سے اتار لیا جاتا ہے، تو حرارت، اساس سے دوسرے حصوں میں منتقل ہوتی ہے، اور برتن ایک یکساں درجۂ حرارت پر آجاتا ہے۔ (جو کچھ وقت کے ساتھ، ماحول کے درجۂ حرارت تک ٹھنڈا ہوجاتا ہے)۔ اس طریق کو واپس نہیں لوٹایا جاسکتا، برتن کا ایک حصہ از خود ٹھنڈا ہو کر اساس کو گرم نہیں کرسکتا۔ اگر یہ ایسا کرے تو یہ حرحرکیات کے دوسرے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ ایک گیس کا آزادانہ پھیلاؤ بھی غیر رجعت پذیر ہے۔ شرارہ کے ذریعے منتقل کیے گئے پٹرول اور ہوا کے آمیزہ میں ہونے والا احتراقی تعامل بھی واپس نہیں لوٹایا جاسکتا۔ ایک گیس سلنڈر سے رِسنے والی کھانا پکانے کی گیس کا پورے باروچی خانے میں نفوذ(Diffusion) ہوجاتا ہے۔ نفوذ کا یہ طریق اپنے آپ واپس نہیں لوٹ سکتا اور سلنڈر میں گیس کو واپس نہیں لوٹا سکتا۔ ایک مخزن کے حرارتی لمس میں آئے رقیق کو بلونے کا عمل (Stirring)، کیے گئے کام کو حرارت میں تبدیل کرتا ہے۔ اس طریق کو بالکل ایسے ہی واپس نہیں لوٹایا جاسکتا، ورنہ اس کا مطلب ہوگا کہ حرارت کو مکمل طورپر کام میں تبدیل کیا جارہا ہے، جو حرحرکیات کے دوسرے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ رجعت پذیری قدرت کا ایک قانون ہے، استثنیٰ نہیں۔
رجعت پذیری کی دو اہم وجوہات ہیں: (i)کئی طریق نظام کو غیرمتوازن حالت میں لے جاتے ہیں جیسے آزادانہ پھیلاؤ یادھماکہ خیز کیمیائی تعامل۔ (ii)زیادہ تر طریق میں رگڑ،لزوجت اور دوسرے اتلافی (Dissipative) اثر شامل ہوتے ہیں۔ (جیسے ایک حرکت کرتے ہوئے جسم کا رک جانا اور اپنی میکانیکی توانائی کو فرش کو بہ طور حرارت دے دینا، ایک بلیڈ کا ایک سیال میں گردشی حرکت کرتے ہوئے، لزوجت کی وجہ سے رک جانا اور اس کی میکانیکی توانائی کا زیاں، رقیق کی اندرونی توانائی میں اضافہ کے مساوی ہونا)۔ کیوں کہ اتلافی اثرات ہر جگہ موجود ہیں، انھیں کم تو کیا جاسکتا ہے، لیکن بالکل خارج نہیں کیا جاسکتا، اس لیے زیادہ ترطریق ، جو ہم برتتے ہیں ، غیر رجعت پذیر ہوتے ہیں۔
ایک حرحرکیات طریق
اس وقت رجعت پذیر ہوگا جب طریق کو اس طرح واپس لوٹا یا جاسکے کہ نظام اور ماحول دونوں اپنی آغازی حالتوں پر لوٹ آئیں ، اوراس وجہ سے کائنات میں کہیں اور کوئی دوسری تبدیلی نہ ہو۔ مندرجہ بالابحث سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ایک رجعت پذیر طریق، ایک مثالی تصور (Idealised notion) ہے۔ ایک طریق تب ہی رجعت پذیر ہوسکتا ہے، جب وہ مثل سکونی ہو (ہر منزل پر نظام ماحول کے ساتھ توازن میں ہو) اور کوئی اتلافی اثرات نہ ہوں۔ مثلاً ایک بے اثر رگڑ کا حرکت کرسکنے والا پسٹن لگے ہوئے استوانے میں بھری کامل گیس کا مثل سکونی ہم تاپی پھیلاؤ، ایک رجعت پذیر طریق ہے۔
حرحرکیات میں رجعت پذیری اتنا بنیادی تصور کیوں ہے؟ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ حرحرکیات کا ایک بنیادی سروکار اس استعداد سے ہے جس سے حرارت کو کام میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حرحرکیات کا دوسرا قانون 100%استعداد کے کامل حرارتی انجن کے امکان کو خارج کرتا ہے۔ لیکن دو مخزنوں، جن کے درجۂ حرارت
اور
ہیں، کے درمیان کام کررہے ایک حرارتی انجن کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ استعداد کیا ہوسکتی ہے؟ یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک حرارتی انجن جو مثالی رجعت پذیر طریق پر مبنی ہو، زیادہ سے زیادہ ممکنہ استعداد حاصل کرسکتا ہے۔ باقی تمام انجنوں کی استعداد جن میں کسی بھی طور پر غیر رجعت پذیری شامل ہو، (جیسا کہ عملی طور پر ہر انجن کے لیے ہوگا) اس انتہائی استعداد سے کم ہوگی۔
12.13 کارنوٹ انجن (CARNOT ENGINE)
فرض کیجئے ہمارے پاس درجۂ حرارت
پر ایک گرم مخزن ہے اور درجۂ حرارت
پر ایک ٹھنڈا مخزن ہے۔ ان دو مخزنوں کے درمیان کام کررہے حرارتی انجن کی ازحد استعداد کیا ہوگی اور ازحد استعداد حاصل کرنے کے لیے طریقوں کا کیا سائیکل اختیار کیا جائے؟ ایک فرانسیسی انجینئر سادی کارنوٹ نے 1824 میں اس سوال کا جواب حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کارنوٹ درست جواب تک پہنچ گئے، حالانکہ اس قوت تک حرارت اور حرحرکیات کے بنیادی تصورات واضح نہیں تھے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ان دونوں درجاتِ حرارت کے درمیان کام کررہا ایک مثالی انجن، ایک رجعت پذیر انجن ہوگا۔ غیر رجعت پذیری، اتلافی اثرات سے منسلک ہے، جیسا کہ مندرجہ بالا حصہ میں بتایا جاچکا ہے اور استعداد کو کم کرتی ہے۔ ایک طریق تب ہی رجعت پذیر ہے، جب وہ مثل سکونی ہو اور غیر اتلافی ہو۔ ہم سیکھ چکے ہیں کہ ایک طریق مثلِ سکونی نہیں ہوتا اگر اس میں نظام اور ماحول کے درمیان انتہائی درجۂ حرارت فرق شامل ہوں۔ اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دو درجۂ حرارت کے درمیان کام کررہے رجعت پذیرحرارتی انجن میں حرارت ہم تاپی طور پر جذب ہونی چاہیے۔ (گرم مخزن سے) اور ہم تاپی طور پر خارج ہونا چاہیے (ٹھنڈے مخزن کو)۔ اس طرح ہم نے رجعت پذیر حرارتی انجن کے دو اقدامات شناخت کرلیے ہیں: درجہ حرارت
پر ہم تاپی طریق، جس میں گرم مخزن سے حرارت
جذب ہوتی ہے اور درجہ حرارت
پر ایک دوسرا ہم تاپی طریق، جس میں ٹھنڈے مخزن کوحرارت
خارج ہوتی ہے۔ ایک سائیکل کو مکمل کرنے کے لیے ہمیں نظام کو درجۂ حرارت
سے
تک لے جانا ہوگا اور پھر
سے
پر واپس لانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہم کون سے طریق استعمال کریں جو رجعت پذیر ہوں؟ تھوڑا سا غور کرنے سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان مقاصد کے لیے ہم صرف رجعت پذیر حرناگزار طریق اختیار کرسکتے ہیں، جن میں کسی مخزن سے حرارت کی کسی مقدار کا بہنا شامل نہیں ہوتا۔ اگر ہم کوئی بھی دوسرا طریق استعمال کریں جو حرناگزار نہیں ہو، فرض کیجیے ہم حجمی طریق، اور اس طریق کے ذریعے نظام کو ایک درجۂ حرارت سے دوسرے درجۂ حرارت تک لے جانا چاہیں تو ہمیں درجۂ حرارت سعت؛
سے
تک،میں مخزنوں کا ایک سلسلہ درکار ہوگا تاکہ اس کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہر منزل پر طریق مثل سکونی ہے۔ (پھر یاد کیجیے کہ ایک طریق کے مثل سکونی اور رجعت پذیر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مخزن اور نظام کے درمیان کوئی متناہی درجۂ حرارت فرق نہ ہو)۔ لیکن ہم ایسے انجن کی بات کررہے ہیں جو صرف دو درجۂ حرارت کے درمیان کام کرتاہے۔ اس لیے اس انجن میں حرنا گزیر طریق کے ذریعے ہی نظام کے درجہ حرارت میں تبدیلی
سے
اورتبدیلی
سے
کی جاسکتی ہے۔
شکل 12.11 : ایک حرارت انجن کے لیے کارنوٹ سائیکل، جس میں کام کار کے بہ طور کامل گیس ہے۔
دو درجات حرارت کے درمیان کام کررہا رجعت پذیر حرارت انجن، ایک کارنوٹ انجن کہلاتا ہے۔ ہم ابھی جواز پیش کرچکے ہیں کہ ایک ایسے انجن کا ایک سائیکل، جو کارنوٹ سائیکل کہلاتا ہے مندرجہ ذیل سلسلہ وار اقدامات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ (شکل 12.11) ۔ ہم نے کارنوٹ انجن کی کام کار شئے کے بہ طور کامل گیس کو لیا ہے۔
(a) قدم 1g2: گیس کا ہم تاپی پھیلاؤ ، جو اس کی حالت کو سے پر لے جاتا ہے۔ گیس کے ذریعے، درجۂ حرارت کے مخزن سے جذب کی گئی حرارت مساوات (12.12) سے دی جاتی ہے۔ یہ گیس کے ذریعے ماحول پر کیاگیا کام بھی ہے۔
(b)قدم 2g3: سے تک گیس کا حرنا گزار طور پر پھیلاؤ ؍مساوات (12.16)استعمال کرتے ہوئے ، گیس کے ذریعے کیا گیا کام ہے:



ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ کارنوٹ انجن ایک رجعت پذیر انجن ہے۔ اور یہ ہی صرف ایک ایسا ممکنہ رجعت پذیر انجن ہے جو دو مختلف درجۂ حرارت کے مخزنوں کے درمیان کام کرتا ہے۔شکل 12.11میں دکھائے گئے کارنوٹ سائیکل کے ہر قدم کو واپس لوٹا یا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہوگا،
درجۂ حرارت کے ٹھنڈے مخزن سے حرارت
لینا، نظام پر کامWکرنا، اور گرم مخزن کو حرارت
منتقل کرنا۔ یہ ایک رجعت پذیر سرد کار ہوگا۔
اب ہم ایک اہم نتیجہ ثابت کرتے ہیں (جو کارنوٹ کا مسئلہ بھی کہلاتا ہے):
(a)گرم اور ٹھنڈے مخزنوں، جن کے درجۂ حرارت بالترتیب
اور
ہیں،کے درمیان کام کرتے ہوئے، کسی بھی انجن کی استعداد، کارنوٹ انجن کی استعداد سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ (b)کارنوٹ انجن کی استعداد، کام کار شئے کی طبع کے تابع نہیں ہے۔
نتیجہ (a) کو ثابت کرنے کے لیے، ایک رجعت پذیر(کارنوٹ) انجن R اور ایک غیر رجعت پذیر انجن Iتصور کیجئے۔ یہ دونوں انجن یکساں ماخذ (گرم مخزن ) اور سنک (ٹھنڈا مخزن) کے درمیان کام کررہے ہیں۔ دونوں انجنوں، Iاور Rکو آپس میں اس طرح جوڑ دیا جاتا ہے Iبہ طور حرارتی انجن کام کرتا ہے اور Rبہ طور سرد کار کام کرتا ہے۔ فرض کیجیے I، ماخذ سے حرارت
جذب کرتا ہے،
کام کرتا ہے اور
حرارت سنک میں خارج کردیتا ہے۔ ہم اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ Rسنک سے
حرارت لیتے ہوئے یکساں حرارت
ماخذ کو واپس لوٹاتا ہے، اور اس کے لیے اس پر
کام کیا جانا درکار ہوتا ہے۔ اب فرض کیجیے کہ
، یعنی کہ ، اگر Rکو بہ طور انجن کام کرنا ہوتو یہ Iکے مقابلے میں کم کام برآمد(Work output) کرے گا۔ یعنی کہ:
(ایک دی ہوئی
کے لیے) کیوں کہ kبہ طور سرد کار کام کررہا ہے، اس کا مطلب ہوگا:
اس لیے مجموعی طور پر، آپس میں منسلک I-Rنظام ٹھنڈے مخزن سے حرارت نکالتا ہے:
اور ایک سائیکل میں اتنی ہی مقدار کا کام کرتا ہے، اور ماخذ میں یا کہیں اور کوئی تبدیلی بھی نہیں ہوتی۔ یہ واضح طور پر حرحرکیات کے دوسرے قانون کے کیلون۔ پلانک بیان کے خلاف ہے۔ اس لیے مفروضہ
درست نہیں ہے۔ کسی بھی انجن کی استعداد کارنوٹ انجن کی استعداد سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔
شکل 12.12: ایک غیر رجعت پذیر انجن I، ایک رجعت پذیر سرد کار R سے منسلک ہے۔ اگر تو اس کا مطلب ہوگا کہ سِنک سے حرارت نکالی جاسکتی ہے اور اسے مکمل طور پر کام میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جو حرحرکیات کے دوسرے قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایک اسی طرح کا جواز یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک رجعت پذیر انجن، جس میں ایک مخصوص ِشے ہو، دوسرے رجعت پذیر انجن سے ، جس میں کوئی دوسری شئے ہو، زیادہ استعداد والا نہیں ہوسکتا۔ مساوات (12.32)کے ذریعے، ایک کارنوٹ انجن کی دی گئی ازحد کارکردگی اس نظام کی طبع کے غیر تابع ہے جو کارنوٹ سائیکل کے اقدام کررہا ہے۔ اس لیے ہم ایک کارنوٹ انجن کی استعداد کا حساب لگانے کے لیے کامل گیس کو بہ طور نظام استعمال کرنے میں حق بجانب ہیں۔ کامل گیس کی حالت کی مساوات سادہ ہے، اس لیے h کا حساب لگانے میں سہولت ہوتی ہے۔ لیکن h کے لیے آخری نتیجہ ]مساوات (12.33) [کسی بھی کارنوٹ انجن کے لیے صادق ہے۔
اس آخری قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک کارنوٹ سائیکل میں:

ایک عالمی رشتہ ہے اور نظام کی طبع کے غیر تابع ہے۔ یہاں
اور
، بالترتیب، ایک کارنوٹ انجن میں ہم تاپی طور پر جذب ہوئی حرارت اور خارج ہوئی حرارت ہیں (گرم مخزن سے اور ٹھنڈے مخزن کو) اس لیے مساوات (12.33)کو ایک ایسے حقیقی عالمی حرحرکیاتی درجۂ حرارت پیمانے کی تعریف کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جو کارنوٹ سائیکل میں استعمال کیے گئے نظام کی کن ہی مخصوص خاصیتوں کے غیر تابع ہے۔ بے شک، کامل گیس کو بہ طور کام کار لیتے ہوئے، یہ عالمی درجۂ حرارت، اور حصہ 12.11میں متعارف کرایاگیا کامل گیس درجۂ حرارت یکساں ہیں۔
خلاصہ
.1 حرحرکیات کے صفرویں قانون کا بیان ہے کہ ’’دو ایسے نظام جو ایک تیسرے نظام سے علیحدہ علیحدہ حرارتی توازن میں ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ بھی حرارتی توازن میں ہیں‘‘۔ یہ صفرواں قانون درجۂ حرارت کے تصور تک رہنمائی کرتا ہے۔
.2 ایک نظام کی اندرونی توانائی اس کے مالیکیولیائی اجزائے ترکیبی کی حرکی توانائیوں اور بالقوۃ توانائیوں کا حاصلِ جمع ہے۔ اس میں نظام کی مجموعی حرکی توانائی شامل نہیں ہے۔ حرارت اور کام، نظام کو توانائی منتقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ حرارت وہ توانائی کی منتقلی ہے جو نظام اور ماحول کے درمیان درجۂ حرارت فرق کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کام وہ حرارت کی منتقلی ہے جو دوسرے طریقوں، جیسے گیس جس استوانے میں رکھی ہے، اس میں لگے پسٹن کو حرکت دینا، یا اس سے منسلک کسی وزن کو اوپر اٹھانا یا نیچے گرانا، سے کی جاتی ہے۔
.3 حرحرکیات کا پہلا قانون، توانائی کی بقا کے عمومی قانون کا کسی بھی ایسے نظام پر اطلاق ہے جس میں ماحول سے یا ماحول کو منتقل ہوئی توانائی(حرارت اور کام کے ذریعے) کو حساب میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا بیان ہے۔
| جہاں DQ، نظام کو مہیا کی گئی حرارت ہے، DW نظام کے ذریعے کیا گیا کام ہے اور DQ نظام کی اندرونی توانائی میں تبدیلی ہے۔ .4 ایک شئے کی نوعی حرارت کی گنجائش sکی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: ![]() جہاں mشئے کی کمیت ہے، اورDQحرارت کی وہ مقدار ہے جو اس کے درجۂ حرارت میںDTTتبدیلی کرنے کے لیےہے۔ ایک شئے کی مولی نوعی حرارت کی گنجائش کی تعریف ہے:
جہاں u، شے کی مولوں کی تعداد ہے۔ ایک ٹھوس شئے کے لیے ، توانائی کی مساوی تقسیم کا قانون دیتا ہے:
جوعام درجۂ حرارت پرعام طور سے تجربہ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ کیلوری حرارت کی پرانی اکائی ہے۔ ایک کیلوری حرارت کی وہ مقدار ہے جو ایک گرام پانی کا درجۂ حرارت14.5oسے15.5oتک بڑھانے کے لیے درکار ہوتی ہےI Cal = 4.186 J
.5 ایک کامل گیس کے لیے، مستقلہ دباؤ اور مستقلہ حجم پر ایک گیس کی نوعی حرارت کی گنجائشیں مندرجہ ذیل رشتے کو مطمئن کرتی ہیں:
|
|---|
جہاں Rعالمی گیس مستقلہ ہے۔
.6 ایک حرحرکیاتی نظام کی توازن حالتیں، حالت متغیرات کے ذریعے بیان کی جاتی ہیں۔ ایک حالت متغیرہ کی قدر صرف مخصوص حالت کے تابع ہے، اس راستہ کے تابع نہیں ہے جو اس حالت پر پہنچنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ حالت متغیرات کی مثالیں ہیں: دباؤ(P)، حجم(V)، درجۂ حرارتTاور کمیت (m)۔ حرارت اور کام حالت متغیرات نہیں ہیں۔ ایک حالت کی مساوات (جیسے ایک کامل گیس مساوات (PV =
RT: مختلف حالت متغیرات کے درمیان رشتہ ہے۔
.7 ایک مثل –سکونی طریق ایک لامتناہی آہستہ طریق ہے اس طرح کہ پورے طریق کے دوران نظام، ماحول کے ساتھ میکانیکی اورحرارتی توازن میں رہتا ہے۔ ایک مثل سکونی طریق میں نظام اور ماحول کے دباؤاوردرجۂ حرارت میں صرف لامتناہی خفیف فرق ہوسکتا ہے۔
| .8 ایک کامل گیس کے درجۂ حرارت T پر، حجم V1سے حجم V1 تک ایک ہم تاپ پھیلاؤ میں جذب ہوئی حرارت [Q] گیس کے ذریعے کیے گئے کام Wکے مساوی ہوتی ہے۔ یہ دونوں دیے جاتے ہیں: .9 ایک کامل گیس کے حرناگذار طریق میں [P1V1T1] سے [P2 V2 T2] میں حرناگزار حالت کی تبدیلی میں ایک کامل گیس کے ذریعہ کیا گیا کام ہے: |
|---|
10. حرارت انجن ایک ایسا آلہ ہے جس میں نظام ایک چکری طریق سے گزرتا ہے، اور جس کے نتیجے میں حرارت، کام میں تبدیل ہوتی ہے۔ اگر Q1 ماخذ سے جذ ب کی گئی حرارت ہے Q2 سنک کوخارج کی گئی حرات ہے اور ایک سائیکل میں کام برآمدہ Wہے ، تو انجن کی استعداد ہے:![]() .11 ایک سرد کار یا ایک حرارت پمپ میں، نظام ٹھنڈے مخزن سے حرارت Q2 نکالتا ہے اور گرم مخزن کو حرارت کی مقدار Q1خارج کرتا ہے، اورنظام پر ساتھ ہی کام Wکیاجاتا ہے۔ایک سرد کار کی کارکردگی کا ضریب دیا جاتا ہے ![]() |
|---|
.12 حرحرکیات کا دوسرا قانون کچھ ایسے طریق کی ممانعت کرتا ہے جو حرحرکیات کے پہلے قانون سے ہم آہنگ ہیں۔ اس کا بیان ہے:
کیلون – پلانک بیان:
ایساکوئی طریق ممکن نہیں ہے جس کا واحد نتیجہ ایک مخزن سے حرارت کا انجذاب ہو اور حرارت کی کام میں مکمل تبدیلی ہو۔
ایسا کوئی طریق ممکن نہیں ہے جس کا واحد نتیجہ مقابلتاً ٹھنڈی شئے سے مقابلتاً گرم شئے میں حرارت کی منتقلی ہو۔
سادہ الفاظ میں، دوسرے قانون کا مطلب ہے کہ ایسا کوئی انجن نہیں ہوسکتا جس کی استعداد1 کے مساوی ہو اور نہ ایسا کوئی سرد کار ہوسکتا ہے جس کی کارکردگی کے ضریب کی قدر لاامتناہی ہو۔
.13 ایک طریق رجعت پذیر ہے اگر اسے اس طرح لوٹایا جاسکتا ہے کہ نظام اور ماحول دونوں اپنی آغازی حالت پر واپس آجائیں، اور کائنات میں کسی جگہ کوئی دوسری تبدیلی نہ ہو۔ قدرت کے ازخود طریق غیر رجعت پذیر ہیں ۔ مثالی رجعت پذیر طریق ایک مثل–سکونی طریق ہے، جس کے ساتھ ، رگڑ، لزوجت وغیرہ جیسا کوئی اتلافی عوامل بھی نہ ہو۔
.14 کارنوٹ انجن دو درجۂ حرارت
(ماخذ) اور
(سِنک) کے درمیان کام کررہا ایک رجعت پذیر انجن ہے۔ کارنوٹ سائیکل دو حرناگزیر طریقوں سے جڑے ہوئے دو ہم تاپی طریقوں پر مشتمل ہے۔ ایک کارنوٹ انجن کی استعداد دی جاتی ہے:
(کار نوٹ انجن)
دودرجات حرارت کے درمیان کام کررہے کسی بھی انجن کی استعداد کارنوٹ انجن سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔
.15 اگرQ > 0، حرارت نظام میں شامل ہوتی ہے۔
اگرQ < 0، حرارت نظام سے خارج ہوتی ہے۔
اگرW > 0، نظام کے ذریعے کام کیا جاتا ہے۔
اگرW < 0، نظام پر کام کیا جاتا ہے۔
|
|---|
| مقدار |
علامت |
ابعاد |
اکائی |
ریمارک |
|---|---|---|---|---|
| حجم پھیلاؤ کا ضریب |
av | [K-1] | K-1 | av=3a1 |
| ایک نظام کو دی گئی حرارت |
AQ | [ML2 T-2] | J | َQایک حالت متغیرہ نہیں ہے |
| نوعی حرارتی گنجائش |
S | [L2T-2K-1] | J kg-1K-1 | |
| حرارتی ایصالیت |
K | [MLT-3K-1] | J s -1 K-1 | H=-KA dT
dT
|
قابلِ غورنکات
.1 ایک جسم کا درجۂ حرارت اس کی اوسط اندرونی توانائی سے رشتہ رکھتا ہے، اس کی کمیت کے مرکز کی حرکت کی حرکی توانائی سے نہیں۔ ایک بندوق سے چھوڑی گئی ایک گولی، مقابلتاً زیادہ درجۂ حرارت پر اپنی زیادہ رفتار کی وجہ سے نہیں ہوتی۔
.2 حرحرکیات میں توازن ان صورتوں سے متعلق ہے، جب ایک نظام کی حرحرکیاتی حالت کو بیان کرنے والے کلاں بینی متغیرات، وقت کے تابع نہیں ہوتے۔ میکانیت میں توازن کا مطلب ہے کہ نظام پر لگ رہی کل باہری قوت اور پیچہ صفر ہیں۔
.3 حرحرکیاتی توازن کی حالت میں ، نظام کے خورد بینی اجزائے ترکیبی توازن میں نہیں ہوتے (میکانیکی توازن کے تصور کے مطابق)
.4 حرارت کی گنجائش، عمومی طور پر ، اس طریق کے تابع ہے، جس سے نظام اس دوران گذرتا ہے جب حرارت مہیا کی جاتی ہے۔
.5 ہم تاپی مثل سکونی طریق میں، نظام کے ذریعے حرارت جذب یا خارج کی جاتی ہے، حالاں کہ ہر منزل پر گیس کا درجۂ حرارت اور ماحول مخزن کا درجۂ حرارت یکساں ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے ممکن ہے کیوں کہ نظام اور مخزن کے درمیان درجۂ حرارت فرق لامتناہی خفیف ہوتا ہے۔
مشق
12.1 ایک گیزر(Geyser) 3لیٹر فی منٹ کی شرح سے بہہ رہے پانی کو
سے
تک گرم کرتاہے۔ اگر گیزر ایک گیس کے چولھے سے چلتا ہے تو ایندھن کے استعمال ہونے کی شرح کیا ہوگی، اگر اس کی احتراق کی حرارت
ہے۔
12.2
نائٹروجن (کمرہ درجۂ حرارت پر) کے درجۂ حرارت میں
کا اضافہ کرنے کے لیے، مستقلہ دباؤ پر، اسے کتنی حرارت کی مقدرا مہیا کرنی ہوگی؟
کی مالیکیولیائی کمیت)
12.3 وضاحت کیجیے کیوں
(a) اگر دو اجسام کو، جو مختلف درجاتِ حرارت
اور
پر ہیں، حرارتی لمس میں لایا جائے توضروری نہیں ہے کہ ان کا مستقل درجہ حرارت، اوسط درجۂ حرارت
ہو۔
(b) ایک کیمیائی یا نیوکلیائی پلانٹ میں سرد کار (Coolant)کو (وہ رقیق جو پلانٹ کے مختلف حصوں کو بہت زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے) زیادہ نوعی حرارت والا ہونا چاہیے۔
(c) گاڑی چلاتے وقت کار کے ٹائر میں ہوا کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
(d) ایک بندرگاہ شہر کی آب وہوا، اسی عرض البلد پر واقع ایک ریگستانی علاقہ کے شہر کے مقابلے میں زیادہ معتدل ہوتی ہے۔
12.4 ایک حرکت کرسکنے والے پسٹن لگے استوانے میں معیاری دباؤ اور درجۂ حرارت پر ہائیڈروجن کے 3مول ہیں۔ استوانے کی دیواریں ایک حرارت حاجز کی بنی ہوئی ہیں اورپسٹن کو اس کے اوپر ریت کا ڈھیر رکھ کر حاجز کردیاگیا ہے۔ اگر گیس کو دبا کر اس کا حجم نصف کردیا جائے تو گیس کے دباؤ میں کس جز ضربی سے اضافہ ہوگا۔
12.5 ایک توازن حالتAسے دوسری توازن حالت Bتک ایک گیس کی حالت حرنا گزار طور پر تبدیل کرنے میں نظام پر کیا گیا کام22.3 Jکے مساوی ہے۔ اگر گیس کو Aسے Bتک ایسے طریق کے ذریعے لے جایا جائے کہ نظام کے ذریعے کل جذب ہوئی حرارت9.35 calہو تو اس صورت میں نظام کے ذریعے کیا گیا کام کتنا ہوگا
(1 cal = 4.19 J)
12.6 دواستوانے Aاور Bکی گنجائش مساوی ہے۔ انھیں ایک اسٹاپ کاک کے ذریعے آپس میں جوڑ دیاگیا ہے۔
A میں معیاری دباؤ اور درجۂ حرارت پر ایک گیس ہے جب کہ Bمیں مکمل خلاء ہے۔ پورا نظام حرارتی طور پر حاجز کردیا گیا ہے۔ اسٹاپ کاک کو اچانک کھولا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل کے جواب دیجیے ۔
(a) Aاور Bمیں گیس کے اختتامی دباؤ کیا ہیں؟
(b) گیس کی اندرونی توانائی میں کیا تبدیلی ہوگی؟
(c) گیس کے درجۂ حرارت میں کیا تبدیلی ہوئی؟
(d) کیانظام کی درمیانی حالتیں (اختتامی متوازن حالت میں پہنچنے سے پہلے کی حالت) اس کی P-V-Tسطح پر ہوں گی؟
12.7 ایک حرارتی انجن
جول کام فی منٹ مہیا کرتا ہے اور اپنے بوائلر سے
جول حرارت فی منٹ لیتا ہے۔ انجن کی استعداد کتنی ہے؟ فی منٹ کتنی حرارت ضائع ہورہی ہے؟
12.8 ایک برقی ہیٹر ایک نظام کوW 100کی شرح سے حرارت مہیا کرتا ہے۔ اگر نظام75جول فی سیکنڈ کی شرح سے کام کرتا ہے تو اندرونی توانائی میں کس شرح سے اضافہ ہورہا ہے؟
12.9 ایک حرحرکیاتی نظام کو شکل 12.13میں دکھائے گئے خطّی طریق کے ذریعے ایک آغازی حالت سے ایک درمیانی حالت تک لے جایاگیا۔

شکل 12.13
پھر Eسے Fتک ایک ہم بار طریق کے ذریعے اس کے حجم کو اس کے آغازی حجم تک کم کیاگیا۔ Dسے Eسے Fتک گیس کے ذریعے کیے گئے کل کام کا حساب لگائیے ۔
12.10 ایک ریفریجر یٹر کو اس میں رکھی کھانے کی اشیاء کا درجہ حرارت
پر قائم رکھنا ہے۔ اگر کمرہ درجۂ حرارت
ہے تو کارکردگی کے ضریب کا حساب لگائیے۔


