Skip to content
Tabiyaat-II

باب 13

نظریہ تحرک

(KINETIC THEORY)

13.1   تعارف
13.2      مادہ کی مالیکیولیائی طبع
13.3    گیسوں کا برتاؤ
13.4  ایک کامل گیس کا نظریہ تحرک
13.5 توانائی کی مساوی تقسیم کا قانون
13.6 نوعی حرارت کی گنجائش
13.7 وسط آزاد فاصلہ 
خلاصہ  
قابلِ غور نکات
مشق
اضافی مشق

13.1تعارف

  (INTRODUCTION)

بوائل نے 1661میں وہ قانون دریافت کیا، جو ان کے اعزاز میں بوائل کا قانون کہلاتا ہے۔ بوائل، نیوٹن اور بہت سے دوسرے سائنس دانوں نے گیسوں کے برتاؤ کی وضاحت یہ مانتے ہوئے کرنے کی کوشش کی کہ گیسیں بہت چھوٹے ایٹمی ذراتوں سے بنی ہوئی ہیں۔ اصل ایٹمی نظریہ 150برس کے بھی بعدقائم ہوا ۔ نظریہ تحرک گیسوں کے برتاؤ کی وضاحت اس تصور کی بنیاد پر کرتا ہے کہ گیسیں تیز رفتار سے حرکت کرتے ہوئے ایٹموں یا مالیکیولوں پر مشتمل ہیں۔ یہ اس لیے ممکن ہے، کیونکہ بین ایٹمی قوتیں ، جو مختصر سعت قوتیں ہیں، ٹھوس اور رقیق اشیا کے لیے تو اہمیت رکھتی ہیں، لیکن گیسوں کے لیے نظرانداز کی جا سکتی ہیں۔ نظریہ تحرک کو انیسویں صدی میں میکسویل ، بولٹز مین اور دوسرے سائنس دانوں کے ذریعے پختگی حاصل ہوئی۔ اسے نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ ایک گیس کے دباؤ اور درجۂ حرارت کی مالیکیولیائی توضیح کرتا ہے اورگیس کے قوانین اور ایواگیڈروکے مفروضہ سے ہم آہنگ ہے۔ یہ بہت سی گیسوں کی نوعی حرارت کی گنجائشوں کی درست وضاحت کرتا ہے، یہ گیسوں کی  
قابل پیمائش خاصیتوں ، جیسے لزوجت، ایصال ، نفوذ اور مالیکیولیائی پیرامیٹروں میں رشتہ دیتا ہے، جس کے ذریعے مالیکیولیائی ناپوں اور کمیتوں کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ باب نظریہ تحرک کا ایک تعارف پیش کرتا ہے۔

13.2مادہ کی مالیکیولیائی طبع

(MOLECULAR NATURE OF MATTER)

رچرڈفائن مین (Richard Feynman)(بیسویں صدی کے ایک عظیم سائنسداں) کے خیال کے مطابق ، یہ دریافت کہ کیا ’’مادہ ایٹموں سے بنا ہے ‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اگرہم ہوش سے کام نہیں لیتے تو انسانیت فنا ہو سکتی تھی (نیوکلیائی تباہی کی وجہ سے )یا نا پید ہو سکتی تھی (ماحولیاتی حادثات کی وجہ سے )۔اگر ایسا ہوتا اور تمام سائنسی معلومات ضائع ہو جاتیں تو فائن مین چاہیں گے کہ کائنات میں جہاں جو بھی مخلوق ہو اس نئی نسل تک ایٹمی مفروضہ ضرور پہنچ جائے۔ ایٹمی مفروضہ : تمام چیزیں ایٹموں سے بنی ہوتی ہیں۔ چھوٹے ذرات جو دوامی حرکت میں ار گرد گھومتے ہیں، جب ایک دوسرے سے ذرا فاصلہ پر ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے بہت نزدیک لائے جائیں تو دفع کرتے ہیں۔


قدیم ہندوستان اوریونان میں ایٹمی مفروضہ

حالانکہ جدید سائنس میں ایٹمی نظریہ شامل کرنے کا سہرا جون ڈالٹن کے سر باندھا جاتا ہے، قدیم ہندوستان اوریونان کے عالموں نے اس سے کہیں پہلے ایٹموں اورمالیکیولوں کی موجودگی کا اندازہ کر لیا تھا۔ کناڈا (Kanada)کے ذریعے 600)ق۔ م۔(ہندوستان میں قائم کیے گئے ویسے شکھا (Vaise shika) مسلک میں ایٹمی تصویر کو قابل لحاظ تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ایٹموں کو ہمیشہ قائم رہنے والا، ناقابل تقسیم لامتناہی خفیف اورمادے کا اختتامی جز تصور کیا گیا ۔ یہ توضیح پیش کی گئی کہ اگر مادے کو مستقل تقسیم در تقسیم کر تے جانا ممکن ہو توایک سرسوں کے بیج اورپہاڑ میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔پرامانو( خفیف ترین زرے کے لیے سنسکرت کا لفظ) کی چار قسمیں فرض کی گئیں: بھومی (زمین) اپ (پانی) تیجاس(آگ) اوروایو(ہوا)، ان کی مخصوص کمیتیں اور دوسرے اوصاف بھی تجویز کیے گئے۔ آکاش (فضا) کو مانا گیا کہ اس کی کوئی ایٹمی ساخت نہیں ہے اوریہ لگاتار اور غیر عامل (Inert)ہے۔ ایٹم مل کر مختلف مالیکیول بناتے ہیں (مثلا، دو ایٹم مل کر دو ایٹمی مالیکیول ، دویانوکا، بناتے ہیں، تین ایٹم سہ ایٹمی مالیکیول، تریہ نوکا ، تشکیل دیتے ہیں، جن کی خاصیتیں، ان کے اجزائے ترکیبی ایٹموں کی طبع اورآپسی نسبت کے تابع ہیں۔ ایٹم کے ناپ کا تخمینہ بھی لگایا گیا، شاید اندازے سے یا دوسرے طریقوں سے جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔ یہ تخمینے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ للت وستارا بدھ کی سوانح عمری جو دوسری صدی (ق۔ م۔ ) میں لکھی گئی ، میں دیا گیا تخمینہ ، ایٹمی سائز کے جدید تخمینہ کے کافی نزدیک ہے،  132کے درجے کا ہے ۔
قدیم یونان میں، ڈیموکریٹس (چوتھی صدی ق۔ م۔ ) اپنے ایٹمی مفروضہ کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ یونانی زبان میں لفظ ایٹم کا مطلب ہے ناقابلِ تقسیم۔ ان کے مطابق ایٹم ایک دوسرے سے طبعی اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں، جیسے شکل میں، سائز میں اوردوسری خاصیتوں میں اور اسی لیے مختلف ایٹموں سے مل کر بنی ہوئی مادی اشیا کی خاصیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ پانی کے ایٹموں کو ہموار اور گول اور ایک دوسرے کے ساتھ پھنس جانے والا مانا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ اسی وجہ سے رقیق یا پانی سہولت کے ساتھ بہتے ہیں۔ مٹی کے ایٹموں کو کھردرا ، کٹا پھٹا مانا گیا اوریہ سمجھا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اورسخت اشیا بناتے ہیں۔ آگ کے ایٹموں کو کانٹے دار مانا گیا اورسمجھا گیا کہ آگ سے زخم ہوجاتے ہیں۔ یہ مسحور کن تصورات  
اپنے انوکھے پن کے باوجود زیادہ ترقی نہیں کر سکے۔ شاید اس لیے کہ یہ انداز ے اورقیاس تھے اورمقداری تجربات ۔ جدید سائنس کا امتیاز۔ کے ذریعے ان کی جانچ اور ترمیم نہیں  
ہوئی تھی۔

یہ   قیاس کہ ہوسکتا ہے کہ مادہ لگاتار نہ ہو، کئی مقامات پر اور تہذیبوں میں پایا جاتا رہا ہے ۔ ہندوستان میں کناڈا(Kanada)اوریونان میں ڈیموکریٹس نے تجویز کیا تھا کہ مادہ، ناقابل تقسیم ذرات پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ سائنسی ایٹمی نظریہ پیش کرنے کا اعزاز عام طور سے جون ڈالٹن کو دیاجا تا ہے۔ انہوں نے مستقل تناسب اور ضعفی تناسبوں کے قوانین ، جن کی پابندی عناصر ، آپس میں مل کر مرکب بناتے ہوئے کرتے ہیں، کی وضاحت کرنے کے لیے ایٹمی نظریہ پیش کیا۔پہلے قانون (مستقل تناسب کا قانون(Law of constant proportion) کا بیان ہے کہ کسی بھی دیے ہوئے مرکب(Compound)میں اس کے اجزائے ترکیبی (Constituents)کا کمیت کے لحاظ سے معین تناسب ہوتا ہے۔ دوسرے قانون ، (ضعفی تناسبوں کا کلیہ (Law of multiple proportions) کا بیان ہے کہ جب دو عناصر ، ایک سے زیادہ مرکب بناتے ہیں ایک عنصر کی ایک معین کمیت کے لیے ، دوسرے عنصر کی کمیتیں چھوٹے صحیح اعداد (integers) کی نسبت میں ہوتی ہیں۔
ان قوانین کی وضاحت کرنے کے لیے ، ڈالٹن نے 200سال پہلے ، تجویز کیا کہ ایک عنصر(Element)کے سب سے چھوٹے اجزائے ترکیبی ایٹم ہیں۔ ایک ہی عنصر کے ایٹم متماثل (Identical)ہوتے ہیں، لیکن دوسرے عنصر کے ایٹموں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہر عنصر کے ایٹموں کی ایک چھوٹی تعداد متحد ہو کرایک مرکب کا مالیکیول بناتی ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں پیش کیے گیے، گے لیوسک(Gay Lussac)کے قانون کا بیان ہے : جب گیسیں کیمیائی طور پر متحد ہو کر دوسری گیس تشکیل دیتی ہیں تو ان کے حجم چھوٹے صحیح اعداد کی نسبت میں ہوتے ہیں۔ ایوگیڈرو (Avogadro)کا قانون (یا مفروضہ) کہتا ہے: تمام گیسوں کے مساوی حجم میں، یکساں درجۂ حرارت اور دباؤ پر، مالیکیولوں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ ایوگیڈرو کا قانون اورڈالٹن ایٹمی نظریہ مل کر گے لیوسک کے قانون کی وضاحت کر دیتے ہیں۔ کیونکہ عناصر اکثر مالیکیولوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ڈالٹن کے ایٹمی نظریہ کو مادے کا مالیکولیائی نظریہ بھی کہاجاتا ہے۔ گوکہ انیسویں صدی کے آخر تک بھی کئی مشہور سائنسداں ایٹمی نظریے میں یقین نہیں رکھتے تھے۔

موجودہ دور میں بہت سے مشاہدات کے ذریعے ہم اب جانتے ہیں کہ مالیکیول (ایک یا زیادہ ایٹموں سے بنے ہوئے) مادہ تشکیل کرتے ہیں۔ الیکٹران خوردبین اورمعائنہ سرنگائی خوردبین (Scanning tunneling  microscope) کے ذریعے اب ہم مالیکیول کو دیکھ بھی سکتے ہیں۔ ایک ایٹم کا سائز اینگسٹرام (Angstrom)132کے قریب ہوتا ہے۔ ٹھوس اشیا میں، ایٹم جو بہت مضبوطی سے بندھے ہوتے ہیں، ان ایٹموں کا درمیانی فاصلہ چند اینگسٹرام (2 A) ہوتا ہے۔ رقیق اشیا میں بھی ایٹموں کے درمیان فاصلہ تقریباً اتنا ہی ہوتا ہے۔ گیسوں میں بین ایٹمی فاصلے (Interatomic distances)اینگسٹرام کی دہائیوں میں ہوتے ہیں۔ وہ اوسط فاصلہ جو ایک مالیکیول بغیر تصادم (ٹکر) کیے طے کر سکتا ہے: وسط آزادفیصلہ (Mean free path)کہلاتا ہے۔ گیسوں میں وسط آزاد فاصلے ، اینگسٹرام کے ہزار کے درجے کے ہوتے ہیں۔ ایٹم گیسوں میں مقابلتاً بہت آزاد ہوتے ہیں اور بنا تصادم کیے لمبے فاصلے طے کر سکتے ہیں۔ اگر گیسیں برتن میں بند نہ ہوں تووہ فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ ٹھوس اور رقیق اشیا میں ایٹموں کی نزدیکی ، بین ایٹمی قوتوں کو اہم بنا دیتی ہے۔ یہ قوت لمبی سعت(Long range)پر کشش اورمختصر سعت(Short range) پر دفاع کرتی ہے۔ ایٹم جب تک ایک دوسرے سے کچھ اینگسٹرام کے فاصلے پر ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں، لیکن اس سے نزدیک آنے پر ایک دوسرے کادفاع کرتے ہیں۔ گیس کی ظاہری سکونی حالت گمراہ کن ہے۔ گیس سرگرمیوں سے بھرپور ہوتی ہے اوراس کا توازن حرکی ہے۔اس حرکی توازن (Dynamic Equilibrium)میں مالیکیول ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کرتے ہیں، اور تصادم کے دوران ان کی رفتاریں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ صرف اوسط خاصیتیں ہی مستقلہ ہوتی ہیں۔
ایٹمی نظریہ ہماری جستجو کی منزل نہیں ہے بلکہ شروعات ہے۔ ہم اب جانتے ہیں کہ ایٹم ناقابل تقسیم یا بنیادی نہیں ہیں۔ یہ ایک نیوکلیس اورالیکٹران پرمشتمل ہوتے ہیں۔ نیوکلیس خود پروٹانوں اورنیوٹرانوں سے مل کر بنا ہے۔ پروٹان اور نیوٹران بھی کو ارک (quark)کے بنے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوارک بھی کہانی کا خاتمہ نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے ڈور (String)جیسی بنیادی اشیاء ہوں۔ فطرت ہمیں ہمیشہ متحیر کرتی رہتی ہے لیکن حقیقت کی جستجو اکثر قابل لطف اور دریافتیں حسین ہوتی ہیں۔ اس باب میں ہم اپنے آپ کو گیسوں کا برتاؤ سمجھنے تک محدود رکھیں گے   (اورتھوڑا سا ٹھوس اشیا کا بھی )۔ گیسوں کو حرکت کرتے ہوئے مالیکیولوں کا مجموعہ سمجھا جا سکتا ہے ، جو لگاتار حرکت میں ہے۔

13.3گیسوں کا برتاؤ

(BEHAVIOUR OF GASES)

گیسوں کی خاصیتوں کو سمجھنا ، ٹھوس اوررقیق اشیا کی خاصیتوں کے سمجھنے کے مقابلے میں آسان ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ گیسوں میں مالیکیول ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں اور ان کے آپسی باہم عمل قابل نظر انداز ہیں، سوائے اس کے کہ جب دو مالیکیول تصادم کرتے ہیں۔ گیسیں کم دباؤ اورزیادہ درجۂ حرارت ، اس سے کہیں زیادہ جس پر وہ رقیق میں (یاٹھوس میں)تبدیل ہوتی ہیں پر، اپنے دباؤ، درجۂ حرارت اور حجم کے مابین ایک سادہ رشتے کو تقربی طور پر مطمئن کرتی ہیں، (دیکھیے باب 11)، یہ رشتہ ہے۔
PV = KT    (گیس کے دئے ہوئے نمونے کے لیے)       (13.1)
جہاں T، کَیل وِن (یا مطلق) پیمانے پر گیس کادرجۂ حرارت ہے، Kدیے ہوئے نمونے کے لیے ایک مستقلہ ہے، لیکن گیس کے حجم کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ اب اگر ہم ایٹموں اورمالیکیول کے تصور کی مدد لیں، تو Kمتناسب ہے، نمونے میں مالیکیولوں کی تعداد (فرض کیا) Nکے۔ہم لکھ سکتے ہیں : K=Nk، مشاہدات سے معلوم ہوا کہ Kتمام گیسوں کے لیے یکساں ہے۔ یہ بولٹز مین مستقلہ کہلاتا ہے اور  kbسے ظاہرکیا جاتاہے :
2

اگر V,Pاور Tیکساں ہیں تو ، Nبھی تمام گیسوں کے لیے یکساں ہوگا۔ یہ ایوگیڈرو کا مفروضہ ہے کہ مالیکیولوں کی تعداد فی اکائی حجم ، معین دباؤ اوردرجہ حرارت پر ، تمام گیسوں کے لے یکساں ہے۔ کسی بھی گیس کے 22.4لیٹر میں مالیکیولوں کی یہ تعداد  3ہے۔ اسے ایووگیڈرو عدد کہتے ہیں اور  naسے ظاہر کرتے ہیں۔ کسی بھی گیس کے 22.4لیٹر کی کمیت، S.T.P. (معیاری درجہ حرارت 273Kاوردباؤ 1atm) پر گرام میں دیے ہوئے اس کے مالیکیولیائی وزن کے مساوی ہوتی ہے ایک شے کی یہ مقدار 1مول کہلاتی ہے (زیادہ درست تعریف کے لیے باب 2دیکھیے)۔ا یووگیڈرو نے کیمیائی تعاملات سے گیسوں کے مساوی حجموں میں ایک معین دباؤ اوردرجہ حرارت پر، تعداد کی مساوات کا اندازہ لگایا تھا۔ نظریہ تحرک اس مفروضہ کو بھی ثابت کرتا ہے۔   
4

جہاں  u  مولوں (moles)کی تعداد ہے اور  5ایک عالمی مستقلہ ہے۔ درجہ حرارت’ T‘مطلق درجہ حرارت ہے۔ مطلق درجہ حرارت کے لیے کیلون پیمانہ منتخب کرنے پر ،  6
یہاں
7

جہاں Mگیس کی کمیت ہے اور Nمالیکیول کی تعداد ہے،  m0مولی کمیت ہے، اورnaایووگیڈرو عدد ہے۔ مساوات (13.4)استعمال کرنے پر(13.3)لکھی جا سکتی ہے:

Capture

شکل 13.1: حقیقی گیسیں، کم دباؤ اورزیادہ درجۂ حرارت  پر کامل گیس برتاؤ کے نزدیک پہنچتی ہیں۔




jhon dalton
جون ڈالٹن(John Dalton) (1766-1844)
یہ ایک انگریزکیمیا داں تھے۔ جب مختلف قسم کے ایٹم متحد ہوتے ہیں، تو وہ کچھ سادہ قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ ڈالٹن کا ایٹمی نظریہ ان قوانین کی سادہ اندازمیں وضاحت کرتا ہے۔ انہوں نے رنگ کوری (Colour blindness)کا بھی ایک نظریہ پیش کیا۔
                                                                                                             ami deva
امی ڈیو ایوو گیڈرو(Amedeo Avogadro) (1776-1856)
انہوں نے ایک شاندار اندازہ لگایا کہ گیسوں کے مساوی حجموں میں، یکساں درجہ حرارت اوردباؤ پر، مالیکیولوں کی تعداد مساوی ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے مختلف گیسوں کے اتحاد کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا۔ اب یہ ایوو گیڈرو کاقانون (یا مفروضہ) کہلاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ ہائیڈروجن، آکسیجن اورنائٹروجن جیسی گیسوں کے سب سے چھوٹے اجزائے ترکیبی ایٹم نہیں بلکہ دو ایٹمی مالیکیول ہیں۔

                                       

                                  Capture1

 جہاں nعددی کثافت (number density)ہے یعنی کہ، مالیکیول کی تعداد فی اکائی حجم ۔   KB بولٹز مین کا مستقلہ ہے۔ SI اکائیوں میں اس کی قدر 1.38x 10-23   JK-1 ہے ۔

مساوات (13.3)کی ایک اورکار آمد شکل ہے :

(13.5)                                                                                               Capture2                                                                                                                                     

جہاں p گیس کی کمیت کثافت ہے ۔

ایک ایسی گیس جو مساوات (13.3)کو بالکل درست طور پر ، درجہ حرارت اور دباؤ کی تمام قدروں کے لیے، مطمئن کرتی ہے، اس کی تعریف بہ طور مثالی گیس(ideal gas)یا کامل گیس (Perfect gas)کی جاتی ہے۔ ایک کامل گیس، ایک گیس کا سادہ نظریاتی ماڈل ہے۔ کوئی حقیقی گیس بھی مکمل طور پر کامل نہیں ہوتی۔ شکل (13.1)میں، درجہ حرارت کی تین مختلف قدروں پر ایک حقیقی گیس کا کامل گیس برتاؤ سے انحراف دکھا گیا ہے۔ نوٹ کریں کہ تمام منحنی ، کم دباؤ اورزیادہ درجہ حرارت پر کامل گیس برتاؤ کے نزدیک ہو جاتے ہیں۔
کم دباؤ یا زیادہ درجہ حرارت پر مالیکیول ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں اورمالیکیولیائی باہم عمل (Molecular Interactions) قابل نظر انداز ہوتے ہیں۔ باہم عمل کے بغیر ، گیس ایک کامل گیس کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔
اگر ہم مساوات (13.3)میں  uاور Tکو معین کر دیں ، تو ہمیں حاصل ہوتا ہے :
(13.6)       مستقلہ=PV
یعنی کہ ، درجہ حرارت کو مستقلہ رکھتے ہوئے ، ایک گیس کی دی ہوئی کمیت کا دباؤ اس کے حجم کے مقلوب متناسب ہے۔ یہی مشہور’’بوائل کا قانون‘‘ہے۔ شکل (13.2)میں تجربہ کے ذریعے حاصل ہوئے P-Vمنحنی اوربوائل کے قانون کے ذریعے پیشین گوئی کیے گئے نظری منحنی کا مقابلہ دکھایا گیا ہے۔ ایک بار پھر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اونچے درجہ حرارت اور کم دباؤ پر اچھی ہم آہنگی (agreement)ہے۔ اس کے بعد، اب اگر آپ pمعین کر دیں تو مساوات (13.1)ظاہر کرتی ہے کہ: V µ   T یعنی کہ معین دباؤ کے لیے، ایک گیس کا حجم اس کے مطلق درجہ حرارت Tکے راست متناسب ہے۔(چارلس کا قانون)دیکھیے شکل 13.3)۔


Capture 3

شکل 13.2:بھاپ کے لئے ، درجہ حرارت کی تین مختلف قدروں پر، تجربہ سے حاصل ہوئے P-Vمنحنی (ٹھوس خطوط) کا بوائل کے قانون سے (نقطہ دارخطوط) مقابلہ 22atm, p]کی اکائی میں اورV، 0.09لیٹر کی اکائی میں]

آخر میں، باہم عمل نہ کرنے والی ، کامل گیسوں کا آمیزہ تصور کیجیے: گیس 1کےمول، گیس 2کے  مول، وغیرہ۔ حجم Vکے ایک برتن میں درجہ حرارت Tاور دباؤ Pپر ، یہ پتہ چلتا ہے کہ آمیزہ کی حالت کی مساوات ہے :

واضح ہے کہ ، P1= u1 RT/V    و ہ دباؤ ہے جو گیس 1، حجم اور
درجہ حرارت کی یکساں شرائط کے ساتھ لگائے گی اگر کوئی دوسری گیس موجود نہ ہو۔ یہ گیس کا جزوی دباؤ (Partial Pressures)کہلاتا ہے۔ اس لیے، کامل گیسوں کے ایک آمیزہ کا کل دباؤ ، جزوی دباؤ کی قدروں کا حا صل جمع ہے۔ یہ ڈالٹن کا جزوی قدروں کا قانون ہے۔
ہم اب کچھ ایسی مثالیں لیتے ہیں جو ہمیں مالیکیولوں کے ذریعے گھیرے گئے حجم اور ایک واحد مالیکیول کے حجم کے بارے میں معلومات فراہم کریں گی۔


مثال 13.1: پانی کی کثافت ہے۔  1000Kg m-3ہے ۔ 100oc اور latm دباؤ پر پانی کے ابخرات کی کثافت  0.6Kg m-3 ہے۔ ایک مالیکیول کا حجم اورمالیکیول کی کل تعداد کا حاصل ضرب مالیکیول حجم کہلاتا ہے۔ اوپر دی ہوئی درجہ حرارت اوردباؤ کی شرائط کے ساتھ، مالیکیولیائی حجم کی پانی کے ابخرات کے ذریعے گھیرے گئے حجم سے نسبت (یا کسر) معلوم کیجیے۔

جواب :   پانی کے مالیکیول کی، ایک دی ہوئی کمیت کے لئے ، اگر حجم زیادہ ہوگا تو کثافت کم ہوگی۔ اس لیے ابخرات کاحجم  15گنا زیادہ ہے۔ اگر پانی کی پوری جسامت (Bulk)اور پانی کے مالیکیول کی کثافتیں یکساں ہوں تو مالیکیولیائی حجم کی ، رقیق حالت میں کل حجم سے کسر1ہوگی۔ کیونکہ ابخراتی حالت میں حجم بڑھ گیا ہے، اس لیے کسری حجم یکساں مقدار سے کم ہوگا۔، یعنی  16۔

مثال 13.2:مثال13.1میں دیے ہوئے آنکڑوں کو استعمال کر کے، پانی کے ایک مالیکیول کے حجم کا تخمینہ لگائیے۔

جواب رقیق (یا ٹھوس)ہیئت میں پانی کے مالیکیول بہت نزدیک ہوتے ہیں۔ اس لیے ، پانی کے مالیکیول کی کثافت پانی کی جسامت کی کثافت کے تقریباًبرابر ہوگی، یعنی کہ :17پانی کے ایک واحد مالیکیول کے حجم کا تخمینہ لگانے کے لیے ، ہمیں پانی کے ایک واحد مالیکیول کی کمیت معلوم ہونی چاہیے ۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کے ایک مول کی کمیت تقریباً برابر ہے:
14
مثال 13.3: پانی میں ایٹموں کے درمیان اوسط فاصلہ (بین ایٹمی فاصلہ) کیا ہے ؟ مثال (13.1)اور (13.2)میں دیے آنکڑے استعمال کیجیے۔
جواب : پانی کی ایک دی ہوئی کمیت کا ابخرات حالت میں حجم، اسی کمیت کے رقیق حالت میں حجم کا 18گنا ہے۔ (مثال 13.1)۔ یہی اضافہ ہرمالیکیول (پانی کے ) کودستیاب حجم میں بھی ہے۔ جب حجم میں  19  گنا اضافہ ہوتا ہے، تو نصف قطر میں  20یا 10گنا اضافہ ہوگا۔ یعنی کہ :  21، اس طرح اوسط فاصلہ ہے:  22

مثال13.4:ایک برتن میں دو غیر تعامل پذیر گیسیں ہیں: نیون (یک ایٹمی) اور آکسیجن (دو ایٹمی)۔ ان کے جزوی دباؤ کی نسبت ہے : (3:2)۔ تخمینہ لگائیے: برتن میں نیون(Neon)اور آکسیجن کی(a)مالیکیولوں کی تعداد کی نسبت کا (b)کمیت کثافت کی نسبت کا۔ 20.2u =نیون کی ایٹمی کمیت   O2=32.OU آکسیجن کی مالیکیولائی کمیت ۔






جواب : گیسوں کے آمیزہ میں ایک گیس کا جزوی دباؤ وہ دباؤ ہے جو گیس کا اسی حجم اوردرجۂ حرارت پر ہوتا ، اگر برتن میں کوئی دوسری گیس نہیں ہوتی۔ (غیر تعامل پذیرگیسوں کے آمیزے کادباؤ، اس کے ا جزائے ترکیبی گیسوں کے جزوی دباؤ کی قدروں کا حاصل جمع ہوتا ہے)۔ کیونکہ Vاور Tدونوں گیسوں کے لیے  
24

13.4ایک کامل گیس کا نظریۂ تحرک

(KINETIC THEORY OF AN IDEAL GAS)

گیسوں کا نظریہ تحرک مادے کی مالیکیولیائی تصویر پر مبنی ہے۔ گیس کی ایک دی ہوئی کمیت ، مالیکیولوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا مجموعہ ہے (جو ایواگیڈرو کے عدد کے درجہ کی تعداد ہے)،جو لگاتار ، بے ترتیب ، حرکت کر رہے ہیں۔ عام درجۂ حرارت اور دباؤ پر ، مالیکیول کے درمیان اوسط فاصلہ، ان کے مخصوص سائز (2Å)کے مقابلے میں 10گنا یا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے مالیکیولوں کے درمیان باہم عمل نظر انداز کیاجا سکتا ہے اور ہم فرض کر سکتے ہیں کہ وہ ، نیوٹن کے پہلے قانون کے مطابق مستقیم خطوط میں آزادانہ حرکت کرتے ہیں۔ لیکن، کبھی کبھی وہ ایک دوسرے کے نزدیک آجاتے ہیں۔ ان پر بین مالیکیولیائی قوتیں لگتی ہیں اور ان کی رفتاریں تبدیل ہوتی ہیں۔ یہ باہم عمل تصادم (ٹکرCollision) کہلاتے ہیں۔ مالیکیول ایک دوسرے سے یا برتن کی دیوار وں سے متواتر ٹکراتے رہتے ہیں۔اور اپنی رفتاریں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ان تصادموں کو لچکدار تصادم (Elastic Collision)مانا جاتا ہے۔ ہم نظریہ تحرک پر مبنی،   ایک گیس کے دباؤ کے لیے ریاضیاتی عبارت مشتق کرسکتے ہیں۔
ہم اس تصور سے شروع کر تے ہیں کہ گیس کے مالیکیول ایک متواتر، بے ترتیب حرکت کرتے ہوئے ، ایک دوسرے سے اوربرتن کی دیواروں سے ٹکرا رہے ہیں۔ مالیکیول کے تمام تصادم، آپس میں ہونے والے اور برتن کی دیواروں کے ساتھ ہونے والے ، لچکدار تصادم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کل حرکی توانائی (Total Kinetic Energy)کی بقا ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ کی طرح کل معیار حرکت (moment)کی بقا ہوگی۔

13.4.1ایک کامل گیس کا دباؤ

(Pressure of an ideal gas)

ایک گیس لیجیے، جو ضلع 1کے ایک مکعب میں رکھی ہے۔ محوروں کو مکعب کے ضلعوں کی متوازی لیجیے(جیسا شکل 13.4میں دکھایا گیا ہے)۔ ایک مالیکیول، جس کی رفتار،25ہے،Yzمستوی کے متوازی، مستوی دیوار سے جس کا رقبہ26ہے، ٹکراتا ہے۔ کیونکہ تصادم لچکدار ہے، مالیکیول اسی مقدار کی رفتار سے مخالف سمت میں واپس لوٹے گا، یعنی کہ، مالیکیول کی رفتار کے zاورYجز تبدیل نہیں ہوں گے لیکنx –جز کی علامت الٹ جائے گی۔ یعنی کہ تصادم کے بعد، مالیکیول کی رفتار  28ہوگی ۔ مالیکیول کے معیار حرکت میں تبدیلی ہے :29  معیار حرکت کی بقا کے قانون کے ذریعے ، تصادم میں دیوار کو دیا گیا معیار حرکت :  30

Capture4

شکل 13.4:گیس کے ایک مالیکیول کا برتن کی دیوا ر سے لچکدار تصادم ۔

دیوار پر لگائی گئی قوت (اور دباؤ) کی تحسیب کرنے کے لیے ہمیں دیوار کو دیے گئے معیار حرکت فی اکائی وقت کی تحسیب کرنی ہوگی۔ ایک چھوٹے وقفہ وقت DTمیں،ایک مالیکیول ، جس کی رفتار کا x–جز  vxہے ، دیوار سے جب ہی ٹکرائے گا، جب اس کی دیوار سے دوری  32فاصلے کے اندرہو۔ یعنی    کہ صرف وہ تمام مالیکیول ہی جو  38حجم کے اندر ہیں، دیوار سے تصادم کر سکتے ہیں۔ لیکن اوسطاً، ان میں سے آدھے مالیکیول دیوار کی طرف حرکت کررہے ہیں اور آدھے دیوار سے دور جارہے ہیں۔ اس لیے مالیکیولوں کی تعداد جو رفتار33سے حرکت کرتے ہوئے، دیوار سے وقفہ  at  میں ٹکراتی ہے :34، جہاں n، مالیکیولو ں کی تعداد فی اکائی حجم ہے۔ وقفہ وقت  atمیں ان مالیکیولوں کے ذریعے دیوار کو منتقل کیا گیا کل معیار حرکت ہے:
35
دیوار پر لگ رہی قوت ، معیارحرکت کی منتقلی کی شرح  36ہے اور دباؤ، قوت فی اکائی رقبہ :
37
اصلیت میں ایک گیس میں تمام مالیکیولوں کی رفتار یکساں نہیں ہوتی۔ بلکہ رفتاروں کی ایک تقسیم پائی جاتی ہے۔ اس لیے اوپر دی ہوئی مساوات ، ان مالیکیولوں کے گروپ کے لیے درست ہے، جو xسمت میں vxچا ل سے حرکت کر رہے ہیں اور nمالیکیول کے اس گروپ کی عددی کثافت ہے۔ کل دباؤ تمام گروپوں کے حصے پر جمع کرنے سے حاصل ہوگا۔

31
اس اخذ کیے گئے رشتے پر کچھ ریمارک : سب سے پہلے، حالانکہ ہم نے مکعب برتن منتخب کیا تھا، برتن کی شکل سے در اصل کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کسی بھی شکل کی برتن کے لیے، ہم ہمیشہ ایک مختصر لا انتہا خفیف (مستوی) رقبہ منتخب کرسکتے ہیں اورمندرجہ بالا اقدام پر عمل کرسکتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ Aاور  at  دونوں آخری نتیجے میں کہیں نہیں ہیں۔ باب 10میں دیے گئے پاسکل کے قانون کے مطابق ، ایک گیس جو حالت توازن میں ہے، اس کے کسی ایک حصے میں دباؤ اتنا ہی ہوگا، جتنا کسی دوسرے حصے میں۔ دوسری بات یہ کہ ہم نے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مالیکیول کے کسی بھی آپسی تصادم کو نظر انداز کردیا ہے۔ حالانکہ اس مفروضہ کو حق بجانب ٹھہرانا درست طور پر مشکل ہے۔ ہم کیفیتی طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ اس مفروضہ سے ہم غلط نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔ وقتatمیں دیوار سے ٹکرانے والے مالیکیولوں کی تعداد  39معلوم کی گئی تھی۔ اب تصادم بے ترتیب ہیں اور گیس ایک قائم حالت میں ہے۔ اس لیے اگر رفتار33کا ایک مالیکیول ، کسی دوسرے مالیکیول سے ٹکرا کر مختلف رفتار اختیار کر لیتا ہے ۔تو ہمیشہ ایک ایسا مالیکیول بھی ہوگا، جو مختلف آغازی رفتارسے حرکت کر رہا ہے اورتصادم کے بعد رفتار33  اختیار کرلیتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو رفتاروں کی تقسیم ، قائم نہیں رہے گی۔ اور پھر ہم بہر حال  40معلوم کر رہے ہیں۔اس لیے مجموعی طور پر مالیکیولوں کے آپسی تصادم (اگر وہ بہت جلدی جلدی نہیں ہو رہے اور تصادم میں لگنے والا وقت ، دوتصادم کے درمیان وقت کے مقابلے میں نظر انداز کیا جا سکتا ہے )،مندرجہ بالا تحسیب پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔


گیسوں کے نظریہ تحرک کے بانیان


james clerik
جیمس کلیرک میکسویل (James Clerk Maxwell) (1831–1879) ایڈنبرگ، اسکاٹ لینڈ میں پیدا3838 ہوئے۔ انیسویں صدی کے عظیم ترین طبیعیات دانوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک گیس میں مالیکیولوں کی حرارتی رفتار کی تقسیم اخذ کی اوران چند پہلے سائنس دانوں میں تھے جنہوں نے قابل پیمائش مقداروں ، لزوجت وغیرہ سے مالیکیولیائی پیرامیٹروں کی قابل بھروسہ قدریں حاصل کیں۔ میکسویل کا سب سے بڑا کارنامہ برق اور مقناطیسیت کے قانونوں کو (جنہیں کو لمب، اور سٹد، ایمپیر اور فیراڈے نے دریافت کیا تھا)مساوات کے ایک ہم آہنگ سیٹ میں متحدکرنا تھا جو اب میکسویل کی مساواتیں کہلاتی ہیں۔ ان مساواتوں کے ذریعے وہ اس اہم ترین نتیجے پر پہنچے کہ روشنی ایک برق مقناطیسی لہر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میکسویل اس خیال سے کبھی بھی متفق نہیں تھے کہ برق اپنی طبع کے اعتبار سے ذراتی ہے۔ (جس کی فیراڈے کے برق پاشیدگی کے قوانین پر زور تائید کرتے تھے۔)

lidog boltz
لڈ وِگ بولٹز مین(Ludwig Boltzmann) (1844–1906)
ویانا، آسٹریا میں پیدا ہوئے۔ آپ نے گیسوں کے نظریہ تحرک پر انفرادی طور سے ، میکسویل کے ساتھ نہیں، کام کیا۔ ایٹمیت (Atomism)، نظریہ تحرک کی اساس ، کے زبردست حامی تھے۔ آپ نے حر حرکیات کے دوسرے قانون کی شماریاتی توضیح کی اور ناکارگی کا تصور پیش کیا ۔ انہیں کلاسیکی شماریاتی میکانیات (classical statistical mechanics)کے بانیان میں شمار کیا جاتا ہے۔ نظریہ تحرک میں توانائی اوردرجۂ حرارت میں رشتہ قائم کرنے والا متناسبیت کا مستقلہ ، آپ کے اعزاز میں ، بولٹز مین مستقلہ کہلاتا ہے۔  

13.4.2درجۂ حرارت کی تحرکی توضیح:

(Kinetic interpretation of temperature)

مساوات(13.14)کو ایسے لکھا جا سکتا ہے :
41
جہاں42  ، گیس کے نمونے میں مالیکیولوں کی تعداد ہے۔
قوسین (بریکٹ)[ ]میں دی ہوئی مقدار گیس کے مالیکیولوں کی اوسط انتقالی حرکی توانائی (Average Translational Kinetic Energy) ہے۔ کیونکہ ایک کامل گیس کی اندرونی توانائی پورے طور پر حرکی* ہوتی ہے۔
43
اب مساوات (13.15)سے حاصل ہوتا ہے :
(13.17) PV = (2/3) E   
اب ہم درجہ حرارت کی تحرکی وضاحت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مساوات (13.17)کو کامل گیس مساوات (13.3)سے ملانے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
44
یعنی کہ ، ایک مالیکیول کی اوسط حرکی توانائی ، گیس کے مطلق درجہ حرارت کے متناسب ہے، یہ دباؤ حجم اورکامل گیس کی طبع کے غیر تابع ہے۔ یہ ایک بنیادی نتیجہ ہے جو درجہ حرارت، گیس کے ایک کلاں بینی قابل پیمائش پیرامیٹر، (جو حر حرکیاتی متغیرہ کہلاتا ہے) اور ایک مالکیولیائی مقدار ، مالیکیول کی اوسط حرکی توانائی ، کے درمیان رشتہ دیتا ہے ۔یہ دونوں علاقے ، بولٹز مین مستقلہ کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے تذکرتاًکہا تھا کہ مساوات (13.18) بتاتی ہے کہ ایک کامل گیس کی اندرونی توانائی صرف درجہ حرارت کے تابع ہے اوردباؤ اور حجم کے تابع نہیں ہے۔ درجہ حرارت کی اس توضیح کے سا تھ ، ایک کامل گیس کا نظریہ تحرک ، کامل گیس مساوات اور اس پر مبنی مختلف گیس قوانین کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے۔  
غیر متعامل کامل گیسوں کے آمیزہ کے کل دباؤ میں آمیزہ میں شامل ہر گیس کا حصہ ہوتا ہے۔ مساوات (13.14)ہو جاتی ہے:
45
حالت توازن میں ، مختلف گیسوں کے مالیکیولوں کی اوسط حرکی توانائی ، مساوی ہوگی، یعنی کہ  
46
جو جزوی دباؤ کی قدروں کا ڈالٹن کا قانون ہے۔
مساوات(13.19)سے ہم ایک گیس میں مالیکیول کی مخصوص رفتار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ درجہ حرارت ،T=300Kپر ، نائٹروجن گیس میں ایک مالیکیول کی اوسط مربع چال :
47

یہ چال ہوا میں آواز کی چال کے درجہ کی ہے۔ مساوات(13.19)سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یکساں درجہ حرارت پر ، مقابلتاً ہلکے مالیکیول کی rms چال مقابلتاً زیادہ ہوتی ہے۔


مثال 13.5:ایک فلاسک (صراحی)میں آرگون (Argon)اور کلورین کمیت کے لحاظ سے ، 2:1کی نسبت میں ہیں۔ آمیزہ کادرجہ حرارت 27°Cہے۔ (i)اوسط حرکی توانائی فی مالیکیول کی نسبت (ii)دونوں گیسوں کے مالیکیولوں کی نسبت ، معلوم کیجیے۔ =39.9uآرگون کی ایٹمی کمیت،=70.9uکلورین کی مالیکیولیائی کمیت ۔




جوا ب یاد رکھنے لائق اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی (کامل ) گیس (چاہے وہ آرگون کی طرح یک ایٹمی ہو یاکلورین کی طرح دو ایٹمی)کی اوسط حرکی توانائی (فی مالیکیول) ہمیشہ  50کے مساوی ہوتی ہے۔ یہ صرف درجہ حرارت کے تابع ہے اورگیس کی طبع کے تابع نہیں ہے۔

 *E اندرونی توانائی U کے انتقالی حصہ کی نشاندہی کرتا ، جس میں دوسرے آزادی کے درجات کی وجہ سے توانا ئیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں ۔

(i) کیونکہ فلاسک میں آرگون اورکلورین دونوں یکساں درجہ حرارت پر ہیں، اس لیے دونوں گیسوں کی اوسط حرکی توانائی (فی مالیکیول ) کی نسبت، 1:1ہے۔

51

جہاںMگیس کی مالیکیولیائی کمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ (آرگون کے لیے، ایک مالیکیول آرگون کا صرف ایک ایٹم ہے)
دونوں طرف مربع جذر لیتے ہوئے  

52

آپ نوٹ کریں کہ کمیت کے حساب سے آمیزہ میں اجزائے ترکیبی کی نسبت مندرجہ بالا تحسیبوں کے لیے بے معنی ہے۔ آمیزے میں آرگون اور کلورین کی کمیت کے مطابق کوئی دوسری نسبت بھی ہو، جب بھی (i)اور (ii) مندرجہ بالا جواب ہی ہوں گے بشرط یہ کہ درجہ حرارت مستقلہ ہے۔



                                                                                           
                                                                                           میکسویل تقسیم تفاعل                                                                                       
گیس کی ایک دی ہوئی کمیت میں، تمام مالیکیولوں کی رفتاریں یکساں نہیں ہوتیں، بھلے ہی گیس کی پوری جسامت(Bulk)کے پیرامیٹر ، جیسے دباؤ، حجم اوردرجہ حرارت معین ہوں۔ تصادم مالیکیول کی حرکت کی سمت اور چال تبدیل کر دیتے ہیں۔ پھر بھی ، ایک توازن کی حالت میں، چالوں کی تقسیم (Distribution of Speeds) مستقلہ یا متعین ہوتی ہے۔

اگر اشیاء کی بڑی تعداد والے نظام ہوں تو انہیں برتنے کے لیے تقسیم (Distribution)بہت اہم اورکارآمد ہوتی ہے۔ مثال کے لیے ایک شہر کے مختلف اشخاص کی عمر یں دیکھیے۔ ہر فرد کی عمر کو الگ الگ دیکھنا قابل عمل نہیں ہے۔ہم اشخاص کو گروپ میں بانٹ سکتے ہیں: 20سال تک کی عمر کے بچے ، بالغ جن کی عمریں 20سے 60سال کے درمیان ہیں، اورضعیف ، جن کی عمر 70سال سے زیادہ ہے۔ اگر ہمیں زیادہ تفصیلی معلومات درکارہو ںتو ہم مقابلتاًچھوٹے وقفے(عمر کے گروپوں کے)0-1, 1-2,..., 99-100 منتخب کر سکتے ہیں۔ جب وقفے کاسائز چھوٹا ہوتا جاتا ہے، مثلاًنصف برس تو اس وقفہ میں شامل اشخاص کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے، جو موٹے طور پر اس صورت میں ، ایک سال کے وقفے میںاشخاص کی تعداد کی نصف ہوگی۔ اس لیے وقفہ عمر xاورx+dxکے درمیان اشخاص کی تعداد d N (x)،dxکے متناسب ہے ’یا ۔ ہم نے کو x اور x+dxکے درمیان وقفہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

Capture 4

مالیکیولیائی چالوں کی میکسویل تقسیم
اسی طور پر، مالیکیولیائی چال تقسیم ، چالوں vاور (v+dv)کے درمیان مالیکیولوں کی تعدادdN(v)بتاتی ہے:
               پہ میکسویل تقسیم کہلاتی ہے۔  بر خلاف vگراف شکل میں دکھایا گیا ہے۔ رفتاروں vاور v+dvکے درمیان مالیکیولوں کی کسر، دکھائی گئی پٹی، (Strip)کے رقبے کے مساوی ہے ۔ جیسی کسی بھی مقدار کے اوسط کی تعریف تکلمہ (Integral) کے ذریعے کی جاتی ہے :  جو زیادہ بنیادی اصولوں سے اخذ کیے گئے نتیجے سے ہم آہنگ ہے۔






مثال 13.6:یورینیم کے دو ہم جا(isotopes)ہیں، جن کی کمیتیں 235uاور238uہیں۔ اگر دونوں یورینیم ہیکسا فلورائڈ گیس میں پائے جاتے ہیں، تو کس کی اوسط رفتار مقابلتاً زیادہ ہوگی؟ اگر فلورین کی ایٹمی کمیت19uہے ، تو کسی بھی درجہ حرارت پر رفتاروں میں فی صد فرق کا تخمینہ لگائیے۔

جواب :معین درجہ حرارت پر،مستقلہ55اوسط توانائی، مالیکیول کی کمیت اگر کم ہوگی ، اس کی چال زیادہ ہوگی، چالوں کی نسبت، مالیکیولوں کی کمیتوں کی نسبت کے مربع جذر کے متناسب ہوگی۔ کمیتیں کیوں کہ349uاور352uہیں، اس لیے
56
57وہ ہم جاہے ، جو نیوکلیائی انشقاق کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اسے زیادہ وافر مقدار میں پائے جانے والے ہم جا  58سے علیحدہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جو نیوکلیائی افزودگی (Nuclear Enrichment) کہلاتا ہے۔]
آمیزہ کو ایک سوراخ دار استوانے سے گھیر لیاجاتا ہے ۔ اس سوراخ دار استوا نے کاموٹا ہونا ضروری ہے تاکہ مالیکیول لمبے سوراخ کی دیواروں سے ٹکراتے ہوئے انفرادی طور پرسوراخ سے ادھر ادھر بکھریں۔مقابلتاً تیز رفتار والے مالیکیول ، کم رفتار مالیکیول کے مقابلے میں سوراخوں سے باہر کی سمت میں زیادہ رِسیں گے۔ اس طرح سوراخ دار استوا نے کے باہر مقابلتاً ہلکے مالیکیولوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ (افزودگی) ۔ (شکل 13.5)یہ طریقہ بہت استعداد (Efficiency)والا نہیں ہے اورقابل لحاظ افزودگی کے لیے اسے بار باردہرانا پڑتا ہے۔]

Capture5

شکل 13.5 : ایک سوراخ دار دیوار سے گذرتے ہوئے مالیکیول                   


جب گیسوں کا نفوذ (Diffusion)ہوتا ہے تو نفوذ کی شرح، ان کی کمیتوں کے مربع جذر کے متناسب ہوتی ہے (دیکھیے مشق13.12)۔ کیا آپ اوپر دیے ہوئے جواب سے اس کی وضاحت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

مثال 13.7:(a)جب ایک مالیکیول (یا ایک لچکدار گیند) ایک دیوار (بھاری کمیت کی ) سے ٹکراتا ہے، تووہ اسی چال سے مخالف سمت میں لوٹتا ہے۔ جب ایک گیند ایک زور سے سیدھے پکڑے ہوئے بلے (بھاری کمیت کے ) سے ٹکراتی ہے، تب بھی یہی ہو تا ہے۔ لیکن جب بلا، گیند کی طرف حرکت کرتا ہے اورگیند اور بلا آپس میں ٹکراتے ہیں، تو گیند ٹکرانے کے بعد مختلف چال سے لوٹتی ہے۔ گیند کی چال پہلے سے زیادہ ہوتی ہے یا کم ؟(باب 6کو دہرائیں تو لچک دار تصادم کے بارے میں آپ کی یاد داشت تازہ ہوجائے گی)
(b)جب ایک پسٹن کو اندرڈھکیل کر ایک استوا نے میں بھری گیس کو دبا یا جاتا ہے تو اس کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے ۔ اوپر دیے ہوئے (a)کو استعمال کر کے نظریۂ تحرک کی بنیاد پر اس کی توضیح سوچیے۔
(c)جب ایک دبی ہوئی گیس ایک پسٹن کو باہرڈھکیلتی ہے اورپھیلتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ آپ کیا دیکھیں گے؟  
(d)سچن تندولکر کھیلتے ہوئے بھاری بلے کا استعمال کرتے ہیں۔ کیا اس سے انہیں کسی طرح کی کوئی مدد ملتی ہے؟

جواب : (a)فرض کیجیے بلے کے پیچھے لگے ہوئے اسٹمپ کی مناسبت سے گیند کی رفتار uہے۔ اگر اسی اسٹمپ کی مناسبت سے بلا، گیند کی طرف چال Vسے حرکت کر رہا ہے، تو بلے کی مناسبت سے گیند کی چال (u+v)ہے۔ (بلے کی طرف) ۔ جب گیند واپس لوٹتی ہے (بھاری بلے سے ٹکرانے کے بعد) ، اس کی چال، بلے کی مناسبت سے، بلے سے دور ہٹتے ہوئے، u+v ہے۔ اس لیے اسٹمپ کو مناسبت سے ، واپس لوٹتی ہوئی گیند کی چال ہے : V+(V+u)= 2V+u   (وکٹ سے دورہٹتے ہوئے)۔ اس لیے بلے سے ٹکرانے کے بعد اس کی چال تیز ہو جاتی ہے۔ ایک مالیکیول کے لیے اس کا مطلب ہوگا، درجہ حرارت میں اضافہ۔  
آپ (b)،(c)اور (d)کے جواب ، (a)کے جواب کی مدد سے خوددے سکتے ہیں۔  

اشارہ : یہ مطابقت نوٹ کیجیے: پسٹن eroابلہ، استوانہ  eroاسٹمپ، مالیکیول  ero  گیند

13.5توانائی کی تقسیم کا قانون

(LAW OF EQUIPARTITION OF ENERGY

ایک واحد مالیکیول کی حرکی توانائی :
60

ایک گیس کے لیے، جو درجہ حرارت Tپرحرارتی توازن میں ہے، توانائی کی اوسط قدر، جو  61سے ظاہر کی جاتی ہے،  


62


کیونکہ کوئی ترجیحی سمت نہیں ہے، مساوات (13.23)سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ  

63

ایک مالیکیول جو فضا (Space)میں حرکت کرنے کے لیے آزاد ہو، اس کے مقام کو متعین کرنے کے لیے 3مختص (Coordinates)چاہیے ہوتے ہیں۔   اگراسے ایک مستوی میں حرکت کرنے کے لیے پابند کردیا جائے تو 2اور اگر ایک خط پرحرکت کرنے کے لیے پابند کر دیا جائے تو اس کے مقام کو متعین کرنے کے لیے صرف 1مختص چاہیے ہوتا ہے۔ اس بات کو دوسری طرح سے بھی کہا جا سکتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ایک خط پرحرکت کرنے کے لیے اس کا آزادی کا درجہ 1ہے، ایک مستوی میں حرکت کر نے کے لیے 2اور فضا میں حرکت کرنے کے لیے3۔ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک پورے جسم کی حرکت، منتقلی (Trannslation)  کہلاتی ہے۔ اس لیے ایک مالیکیول جو فضا میں حرکت کر نے کے لیے آزادہے اس کے تین انتقالی آزادی  کے درجے ہوتے ہیں۔ ہر انتقالی آزادی کا درجہ ایک ایسا رکن دیتا ہے جس میں حرکت کے کسی متغیرہ کا مربع شامل ہوتا ہے، مثلاً  65میں یکساں ارکان۔ مساوات(13.24)میں ہم نے دیکھا ، کہ حرارتی توازن میں، ایسے ہر رکن کا اوسط  66ہے۔  

ایک یک ایٹم گیس ، جیسے آرگون ، کے مالیکیولوں کی صرف انتقالی آزادی کے درجات ہوتے ہیں۔ لیکن ایک دو ایٹمی گیس، جیسے  o2یا  n2کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے ؟  o2کے ایک مالیکیول کے 3انتقالی آزادی کے درجات ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ، وہ اپنے کمیت کے مرکز کے گرد گردش بھی کرسکتا ہے۔ شکل 13.6میں دو، ایک دوسرے کے غیر تابع ، گردش کے محور 1اور2دکھائے گئے ہیں، جو دونوں ایٹموں (آکسیجن کے ) کو جوڑنے والے محور پر عمود ہیں، جن کے گرد آکسیجن مالیکیول گردش* کر سکتا ہے۔   اس طرح مالیکیول کے دو گردشی آزادی کے درجات ہیں، جن میں سے ہر ایک کل توانائی، جو انتقالی توانائیetاور گردشی توانائی  etپر مشتمل ہے، میں ایک رکن کا حصہ دیتا ہے۔


Capture6


شکل 13.6: ایک دو ایٹمی مالیکیول کے دو غیر تابع، گردشی محور    
*ایٹموں کو ملانے والے خط کے گرد گردش کا جمود کا معیار اثر بہت چھوٹا ہوتا ہے اور کوانٹم میکانیکی وجوہات کی بناء پر فعال کردار ادا نہیں کرتا ۔ حصہ 13.6کا آخردیکھیے۔


جہاں  69محور 1اور 2کے گرد زاویائی رفتاریں ہیں اور  l1اورl2ان کے مطابق جمود کے معیار اثر (Moments of Inertia)ہیں۔ نوٹ کریں کہ ہرگردشی آزادی کا درجہ ایک ایسا رکن ، توانائی کودیتا ہے جس میں حرکت کے گردشی متغیرہ کا مربع شامل ہے۔
ہم نے اوپر یہ فرض کر لیا کہ  o2مالیکیول ایک استوار گردش کار (Rigid rotator) ہے۔ یعنی کہ ، مالیکیول ارتعاش نہیں کرتا۔ یہ مفروضہ گو کہ  o2کے لیے (معمولی درجۂ حرارت پر ) درست پایا گیا ہے، ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔COجیسے مالیکیول کی معمولی درجہ حرارت پربھی ، ارتعاش (Viberation) کی ایک وضع (Mode)ہوتی ہے یعنی کہ اس کے ایٹم ، بین ایٹمی محور (Interatomic axis) پر ایک یک ابعادی اہتراز کار (One dimensional oscillator) کی طرح اہتزاز (Oscillation) کرتے ہیں اور کل توانائی کو ایک ارتعاشی توانائی(Viberational Energy) رکن دیتے ہیں:

68
جہاں kقوت مستقلہ ہے (اہتراز کا رکا) اور yارتعاشی کو آرڈی نیٹ ہے۔
ایک بار پھر ، مساوات(13.25)میں حرکت متغیرہ yاور dy/dtکے مربع ارکان شامل ہیں۔

اس نقطہ پر ، مساوات (13.26)کی اہم خاصیت نوٹ کیجیے۔ جب کہ مساوات (13.26)میں، ہر انتقالی اورگردشی آزادی کے درجے نے صرف ایک مربع رکن دیا، ایک ارتعاشی طرز دو مربع رکن دیتی ہے۔ حرکی اور بالقوۃ توانائیاں۔
توانائی کی ریاضیاتی عبارت میں شامل ہر دو درجی رکن ، مالیکیول کے ذریعے جذب کی گئی توانائی کی ایک وضع ہے ۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ حرارتی توازن میں، درجۂ حرارت T(مطلق قدر)پر ،ہر انتقالی، وضع حرکت کے لیے اوسط توانائی  70ہے۔ کلاسیکی شماریاتی میکانیک کا ایک شاندار اصول یہ ہے (جسے سب سے پہلے میکسویل نے ثابت کیا )کہ ایسا ہی ہرتوانائی کی وضع : انتقالی، گردشی اور ارتعاشی، کے لیے ہوتا ہے۔یعنی کہ توازن میں، کل تونائی، ہر ممکنہ توانائی وضع میں مساوی طورپر تقسیم ہوتی ہے، جب کہ ہروضع کی اوسط توانائی70کے مساوی ہوتی ہے۔ یہ توانائی کی مساوی تقسیم کا قانون (Law of Equipartition of Energy)کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق، ایک مالیکیول کا  ہر  انتقالی اورگردشی آزادی کا درجہ ، توانائی کو70توانائی دیتا ہے جب کہ ہر ارتعاشی تعدد (Vibrational frequency):71، کیونکہ ایک ارتعاشی وضع میں حرکی اوربالقوۃ دونوں وضعیں ہوتی ہیں۔
توانائی کی مساوی تقسیم کا ثبوت اس کتاب کی وسعت سے باہر ہے۔ یہاں ہم اس قانون کا استعمال ، نظری طور پر گیسوں کی نوعی حرارتوں کی پیشین گوئی کرنے کے لیے کریں گے۔  

13.6نوعی حرارت کی گنجائش  

(SPECIFIC HEAT CAPACITY)

13.6.1یک ایٹمی گیسیں(Monatomic gases)

ایک یک ایٹمی گیس کے مالیکیول کی صرف تین انتقالی آزادی کے درجات ہوتے ہیں۔ اس لیے درجۂ حرارت Tپر، ایک مالیکیول کی اوسط توانائی  72ہے۔ ایسی گیس کے ایک مالیکیول کی کل اندرونی توانائی ہے۔

73

13.6.2دو ایٹمی گیسیں (Diatomic Gases)

جیسا کہ پہلے وضاحت کی جا چکی ہے ایک دو ایٹمی مالیکیول کو اگر ایک استوار گردش کار (ایک مگدر کی طرح) مانا جائے تو اس کے 5آزادی کے درجات ہوتے ہیں :3انتقالی 2گردشی ۔ ایسی گیس کے ایک مول کی کل اندرونی توانائی  
74

13.6.3کثیر ایٹمی گیسیں   (Polyatomic Gases)  

عمومی طور پر ، ایک کثیر ایٹمی مالیکیول کے 3انتقالی، 3گردشی آزادی کے درجات اور ارتعاشی وضعوں کی ایک خاص تعداد (f)ہوتی ہے۔ توانائی کی مساوی تقسیم کے قانون کے مطابق ، آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک ایسی گیس کے ایک مول کی کل اندرونی توانائی :
75
نوٹ کریں کہ 76ہر کامل گیس کے لیے صادق ہے چاہے وہ ایک ایٹمی ہو، دو ایٹمی ہو یا کثیر ایٹمی ہو۔

جدول 13.1میں گیسوں کی نوعی حرارتوں کی نظری طور پرپیشین گوئی کی جانے والی قدریں دی گئی ہیں، جہاں کسی بھی ارتعاشی وضع کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ یہ قدریں تجربہ کی مدد سے معلوم کی گئیں کئی گیسوں کی نوعی حرارت کی قدروں سے، جو جدول 13.2میں دی گئی ہیں، اچھی مطابقت رکھتی ہیں۔ بے شک، پیشین گوئی کی گئی قدروں اور کچھ دوسری گیسوں کی (جوجدول میں نہیں دی گئی ہیں)اصل نوعی حرارت کی قدروں میں اختلاف بھی ہیں، جیسے  77اور بہت سی دوسری کثیر ایٹمی گیسوں میں۔ عام طورسے تجربے کے ذریعے ان گیسوں کی معلوم کی گئی نوعی حرارت کی قدریں جدول 13.1میں دی گئی پیشین گوئی کی گئی قدروں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ مطابقت کو بہتربنایا جا سکتا ہے، اگر تحسیب میں حرکت کی ارتعاشی وضعوں کوشامل کر لیا جائے۔ اس طرح توانائی کی مساوی تقسیم قانون کی عا م درجہ حرارت پر ، تجربے کے ذریعے بہ خوبی تصدیق ہو جاتی ہے۔

جدول 13.1: گیسوں کی نوعی حرارت گنجائش کی پیشین گوئی کی گئی قدریں(ارتعاشی وضعوں کو نظر انداز کرتے ہوئے)




y
Cp-Cv
(Jmol-11K-1)
Cp
(Jmol-11K-1)

Cu
(Jmol-11K-1)
گیس کی طبع
1.67
1.40
1.33
8.31
8.31
831
20.8
29.1
33.24
12.5
20.8
24.93
ایک ایٹمی
دو ایٹمی
کثیر ایٹمی


جدول 13.2   کچھ گیسوں کی نوعی حرارت گنجائشوں کی ناپی گئی قدریں

y
Cp-Cv
(jmol-1k-1)
Cp
(jmol-11k-1)
Cu
(jmol-11k-1)
گیس 
گیس کی طبع
1.66
1.64
1.67
1.41
1.40
1.40
1.31
1.31
8.30
8.12
8.30
8.45
8.32
8.32
8.35
8.36

20.8
20.8
20.8
28.8
29.3
29.1
35.4
35.4
12.5
12.7
12.5
20.4
21.0
20.8
27.0
27.1
He
Ne
Ar
H2
O2
N2
H2O
CH
4

ایک ایٹمی 
ایک ایٹمی
ایک ایٹمی
دو ایٹمی
دو ایٹمی
دو ایٹمی
سہ ایٹمی
کثیر ایٹمی



مثال 13.8: ایک 44.8لیٹر کی متعین گنجائش کے استوانے میں معیاری درجہ حرارت اوردباؤ پر ہیلیم گیس ہے۔ استوانے میںبھری گیس کے درجہ حرارت میں15.0o کا اضافہ کرنے کے لیے حرارت کی کتنی مقدار چاہیے ہوگی؟(R=8.31Jmol-1K-1




جواب : گیس قانون : PV=uRTاستعمال کر کے آپ بہ آسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی بھی (کامل ) گیس کاحجم معیاری درجہ حرارت  (273K)اوردباؤ81پر22.4لیٹر ہوتا ہے۔ یہ عالمی حجم ، مولی حجم کہلاتا ہے۔ اس لیے اس مثال میں دیے ہوئے استوانے میں ، ہیلیم کے 2مول ہیں۔ مزید ، کیونکہ ، ہیلیم یک ایٹمی ہے، اس کی پیشین گوئی کی گئی (تجربہ سے معلوم کی گئی) ، مستقلہ حجم پر نوعی حرارت :  82، اور مستقلہ دباؤ پر نوعی حرارت :  83  کیونکہ استوانے کا حجم متعین ہے، اس لیے درکار حرارتcv  سے معلوم کی جائے گی۔ اس لیے
84

13.6.4ٹھوس اشیا کی نوعی حرارت گنجائش  

(Specific heat capacity of solids)

ہم ٹھوس اشیاء کی نوعی حرارت گنجائش معلوم کرنے کے لیے توانائی کی مساوی تقسیم کا قانون استعمال کر سکتے ہیں۔ Nایٹموں کا ایک ٹھوس لیجیے، جن میں سے ہر ایک ایٹم اپنے اوسط مقام کے گرد ارتعاش کررہا ہے۔ ایک ارتعاش کی  
85
86
جدول 13.3کچھ ٹھوس اشیاء کی کمرہ درجہ حرارت اور فضائی دباؤ پر نو عی حرارت گنجائش  

مولی نوعی حرارت
Heat ( J mol-1K-1)
نوعی حرارت
( J kg-1k-1)
شے
24.4
6.1
24.5
26.5
25.5
24.9
900.0
506.5
386.4
127.7
236.1
134.4
المونیم
کاربن
تانبہ
سیسہ
چاندی
ٹنگسٹن


جیسا کہ جدول 13.3سے ظاہر ہوتا ہے، عام درجہ حرارت پر، پیشین گوئی عام طور سے تجربہ کے ذریعے معلوم کی گئی قدروں سے مطابقت رکھتی ہے۔ (کاربن ایک استثنیٰ ہے)

13.6.5پانی کی نوعی حرارت گنجائش  

(Specific heat capacity of water)

ہم پانی کو ایک ٹھوس کی طرح برتتے ہیں۔ ہر ایٹم کے لیے اوسط توانائی  88ہے۔ پانی کے مالیکیول میں تین ایٹم ہیں ،دو ہائیڈروجن کے اورایک آکسیجن کا ۔اس لیے  
89
یہی وہ قدر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور مطابقت بہت اچھی ہے۔ کیلوری ۔ گرام ۔ ڈگری اکائیوں میں پانی کی نوعی حرارت، اس کی تعریف کے مطابق ، اکائی ہے۔ کیونکہ ، 1cal.=4.179 Jاور =18gmپانی کا ایک مول، حرارتی گنجائش فی مول ہے :90لیکن، زیادہ پیچیدہ مالیکول ، جیسے الکوحل ، یا ایسی ٹون، کے لیے آزادی کے درجات پر مبنی توضیحات زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔

آخر میں ہمیں ، توانائی کی تقسیم کے کلاسیکی قانون پر مبنی نوعی حرارتوں کی پیشین گوئیوں کے ایک اہم رخ کو نوٹ کرنا چاہیے۔ پیشین گوئی کی گئی قدریں، درجۂ حرارت کے تابع نہیں ہیں۔ مگر جب ہم کم درجۂ حرارت پر جاتے ہیں تو اس پیشین گوئی سے قابل لحاظ اختلاف پایا جاتا ہے۔ تمام اشیاء کی نوعی حرارتیں صفر پر پہنچ جاتی ہیں جیسے91۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کم درجۂ حرارت پر ، آزادی کے درجات جم جاتے ہیں اور غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ کلاسیکی طبیعیات کے مطابق، آزادی کے درجات کو ہر وقت یکساں رہنا چاہیے۔ کم درجۂ حرارت پر نوعی حرارتوں کا برتاؤ ، کلاسیکی طبیعیات کی کمیوں کو ظاہر کرتا ہے اوراس کی وضاحت کو ایٹمی تصورات کو شامل کر کے ہی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ سب سے پہلے آئن سٹائن نے کیا۔ کواینٹم میکانیات کے مطابق ایک آزادی کے درجہ کو موثر ہونے کے لیے، توانائی کی کم ترین، غیر صفر مقدار چاہیے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارتعاشی آزادی کے درجات کچھ صورتوں میں ہی موثر ہوتے ہیں۔









دیکھنا ہی یقین کرنا ہے

کیا کوئی ایٹموں کو ادھر ادھر دوڑتا دیکھ سکتا ہے۔ تقریباً لیکن اصل میں نہیں۔ ہم ایک پھول کے زردانوں (Pollen grains)

کو پانی کے مالیکیولوں کے ذریعے ادھر ادھرڈھکیلے جاتے دیکھ سکتے ہیں زردانوں کا سائز : ہوتا ہے ۔

1827میں اسکاٹ ماہر نباتیات رابرٹ براؤن نے پانی میں لٹکے ہوئے زرد انوں کی خوردبین کے ذریعے جانچ کرتے ہوئے نوٹ کیا کہ 

وہ لگاتار ایک ٹیڑھے ترچھے بے ترتیب انداز میں حرکت کرتے رہتے ہیں۔


نظریہ تحرک اس مظہر کی سادہ توضیح مہیا کرتا ہے۔ پانی میں ڈوبی ہوئی کسی بھی شے پر ، پانی کے مالیکیول کے ذریعے ہرطرف سے لگاتار بمباری ہوتی رہتی ہے۔ 

کیونکہ مالیکیولوں کی حرکت بے ترتیب ہوتی ہے، اس لیے شے کو ایک طرف سے ٹکر مارنے والے مالیکیولوں کی تعداد دوسری طرف سے ٹکر مارنے والے مالیکیولوں کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔ 

ان مالیکیولی ٹکڑوں کے درمیان معمولی فرق ، ایک عام سائز کی شے کے لیے ، مالیکیولیائی ٹکڑوں کی تعداد کے مقابلے میں قابل نظر انداز ہوتا ہے، اس لیے ہم شے میں کوئی حرکت نہیں محسوس کرتے۔

جب شے کافی چھوٹی ہوتی ہے، لیکن خوردبین کے ذریعے دیکھے جا سکنے کے قابل ہوتی ہے، مختلف سمتوں سے ، اس پر لگنے والی مالیکیولیائی ٹکڑوں میں فرق پوری طرح قابل نظر اندا زنہیں ہوتا ،

 یعنی کہ ڈوبی ہوئی شے کو وسیلے(Medium)کے مالیکیولوں (پانی یا کوئی اور سیال) کی مسلسل بمباری کے ذریعے دیے گئے جھٹکوں (Impulses)اور پیچوں (Torques)کا حاصل جمع، بالکل درست طور پر،

 صفر نہیںہوتا ۔ اس یا اس سمت میں ایک کل جھٹکا اورپیچہ ہوتا ہے۔ اس لیے، ڈوبی ہوئی شے آڑھی ترچھی طرز پر بے ترتیب حرکت کرتی ہے۔ یہ حرکت، جو ’’براؤنین حرکت‘‘کہلاتی ہے، 

مالیکیولیائی سرگرمی کا نظر آنے ولا ثبوت ہے۔ پچھلے تقریباً 50سالوں کے درمیان اسکینگ۔  ُسرنگیائی خردبینوں اوردوسری خاص طور پربنائی گئی دوربینوں کے ذریعے مالیکیولوں کو دیکھا بھی جا سکا ہے۔

1987میں ایک مصری سائنس داں ، احمد زی ویل نے امریکہ میں کام کرتے ہو ئے نہ صرف مالیکیولوں بلکہ ان کے تفصیلی باہم عملوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ 

انہوں نے ان پر بہت ہی مختصر وقفوں کے لیے لیزر روشنی کی شعاعیں ڈالیں۔ یہ وقفہ فیم ٹو سیکنڈ کی دہائی کے درجہ کا تھا اور ان کے فوٹو گراف لیے

(1=10-15s      فیم  ٹو سیکنڈ) اس تکنیک سے کیمیائی بندوں کے بننے اورٹوٹنے کا مطالعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ صحیح معنوں میں دیکھنا ہی ہے۔

 









13.7وسط آزاد فاصلہ (MEAN FREE PATH)  

ایک گیس میں مالیکیول کی چال کافی تیز ، آواز کی رفتار کے درجے کی ہوتی ہے ۔ پھر بھی باورچی خانے میں ایک استوانے سے رس رہی گیس کا کمرے کے دوسرے کناروں تک نفوذ ہونے میں قابل لحاظ وقت لگتا ہے۔ ایک دھویں کا بادل گھنٹوں تک ایک جگہ رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک گیس میں مالیکیولوں کا ایک متناہی (Finite)گو کہ چھوٹا سائز ہوتا ہے، اس لیے ان میں تصادم ہونا لازمی ہے ۔ نتیجتاً ، وہ سیدھے بنا رکاوٹ کے حرکت نہیں کر سکتے۔ ان کے راستوں کا لگاتار انفراج ہوتا رہتا ہے ۔


Capture7

شکل 13.7: ایک مالیکیول کے ذریعے وقتDTمیں عبور کیا گیا حجم ۔DTوہ وقت ہے، جس میں کوئی مالیکیول اس سے ٹکڑائے گا۔


فرض کیجیے ، ایک گیس کے مالیکیول ، قطر dکے کُرّے ہیں۔ ایک واحد مالیکیول پر اپنی توجہ مرکوز کیجیے، جس کی اوسط رفتار <V>ہے۔ یہ ہر اس مالیکیول سے ٹکرائے گا، جس کے مرکز سے اس کے مرکز کا فاصلہ 'd'کے اندر ہے۔ وقتatمیں یہ حجم :  95  عبور کرتا ہے، جس کے اندر کوئی بھی مالیکیول اس سے ٹکرائے کا (شکل 13.7)۔ اگر n،مالیکیولوں کی تعداد فی اکائی حجم ہے تو مالیکیول سے96تصادم ، وقت  atمیں ہوتے ہیں۔ اس لیے ، تصادم کی شرح :97ہے یا دو لگاتار تصادموں کے درمیان لگنے والااوسط وقت ہے۔
98
دو لگاتار تصادموں کے درمیان اوسط فاصلہ جو وسط آزاد فاصلہ (mean free path)کہلاتا ہے:  
99

(13.39)اخذ کرنے میں، ہم نے با قی مالیکیولوں کو حالت سکون میں تصور کیا تھا۔ لیکن در اصل تمام مالیکیول حرکت کر رہے ہیں اور تصادم کی شرح مالیکیول کی اوسط اضافی رفتار سے معلوم کی جاتی ہے۔ اس لیے مساوات (13.38) میں ہمیں  100رکھنا ہوگا۔ ایک زیادہ درست طریقہ سے حاصل ہوتا ہے :

101

آئیے ، ہوا کے ان مالیکیو لوں کے لیے I اور کا تخمینہ لگا ئیں ، جن کی اوسط

Capture 18



جیسی امید تھی ، مساوات (13.40)کے ذریعے دیا گیا وسط آزاد فاصلہ عددی کثافت اور مالیکیول کے ناپ کے معکوس تابع ہے۔ ایک بہت زیادہ خلاء کی گئی نلی میں nکافی چھوٹا ہوگا اور lنلی کی لمبائی کے برابر بھی ہو سکتا ہے۔

مثال 13.9:373Kپر پانی کے ابخرات میں، پانی کے مالیکیول کے وسط آزاد فاصلے کا تخمینہ لگائیے۔ مشق 13.1اور مساوات (13.41) میں دی ہوئی اطلاعات استعمال کیجیے۔

جواب : پانی کے ابخرات کے لیے، 'd'کی قدر وہی ہے جو ہوا کے لیے ہے۔ عددی کثافت ، Tکے معکوس متناسب ہے:   
103
کا 100گنا ہے۔ وسط آزاد فاصلے کی یہ بڑی قدر ہی ہے جو گیسوں کے مخصوص برتاؤ کی وجہ ہے ۔ گیسوں کو ایک برتن میں بند کیے بغیر ایک جگہ نہیں روکا جا سکتا گیسوں کے نظریہ تحرک کو استعمال کر کے جسیم، قابل پیمائش خاصیتوں: لزوجت، حراری ایصالیت اور نفوذ وغیرہ کو، خوردبینی پیرامیٹروں جیسے مالیکیولیائی سائز سے رشتوں میں منسلک کیا جا سکتا ہے۔ ایسے رشتوں کے ذریعے ہی مالکیولیائی سائزوں کا سب سے پہلے تخمینہ لگاگیا ۔ 





خلاصہ


.1 دباؤ P، حجم Vاور مطلق درجہ حرارت Tکے درمیان رشتہ دینے والی کامل گیس مساوات ہے:

PV=u RT kB NT





                                     جہاں mمولوںکی تعداد اور Nمالیکیولوں کی تعداد ہے ۔RاورKBعالمی مستقلے ہیں۔                                                                              

                               Capture8            

       حقیقی گیسیں ، کامل گیس مساوات کو صرف تقربی طور پر ہی مطمئن کرتی ہیں۔ کم درجہ حرارت اور زیادہ دباؤ پر بہتر طور پر ۔

.2 کامل گیس کے نظریہ تحرک سے رشتہ حاصل ہوتا ہے: Capture9

    جہاںn، مالیکیول کی عددی کثافت ، mمالیکیول کی کمیت اور ، چال کے مربع کا اوسط ہے۔ کامل گیس مساوات کے ساتھ ملانے پر، یہ رشتہ درجہ حرارت کی تحرکی وضاحت فراہم کرتا ہے۔



                                            Capture11                                     Capture 10   

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک گیس کادرجہ حرارت، اس کے مالیکیول کی اوسط حرکی توانائی کا ناپ ہے، جو گیس یا مولیکیول کی طبع کے تابع نہیں ہے۔ ایک متعین درجہ حرارت پر، گیسوں کے ایک آمیزہ میں مقابلتاً بھاری مالیکیول کی اوسط چال مقابلتاً کم ہوتی ہے۔  

.3 انتقالی حرکی توانائی ہے :                 Capture13    

اس سے حاصل رشتہ ہے :             Capture14


.4 توانائی کی مساوی تقسیم کے قانون کا بیان ہے کہ اگر ایک نظام مطلق درجہ حرارت T پر، حالتِ توازن میں ہے تو کل توانائی جاذبیت کی مختلف وضعوں میں مساوی طور پر تقسیم Capture15 ہوتی ہے۔ ہر وضع میں پائی جانے والی توانائی ہوتی ہے۔ ہر ارتعاشی تعدد کی توانائی کی دو وضعیں ہوتی ہیں۔ (حرکی اور بالقوۃ) جن سے مطابقت رکھنے والی توانائی ہے:Capture 16

  .5 توانائی کی مساوی تقسیم کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے ،گیسوں کی مولائی نوعی حرارتیں معلوم کی جا سکتی ہیں اور یہ قدریں، تجربے کے ذریعے معلوم کی گئی گیسوں کی نوعی حرارت کی قدروں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ مطابقت کو، حرکت کی ارتعاشی وضعوں کوشامل کر کے، اوربہتر بنایا جا سکتا ہے ۔

6. وسط آزادی فاصلہ وہ اوسط فاصلہ lہے جو ایک مالیکیول دو لگاتار تصادم کے درمیان طے کرتا ہے :

Capture17                            

جہاں n عددی کثافت اور d مالیکول کا قطر ہے ۔                              



قابل غور نکات(POINTS TO PONDER)

.1 سیال کادباؤ صرف برتن کی دیواروں پر نہیں پڑتا۔ دباؤ سیال میں ہر مقام پر ہوتا ہے ۔ ایک برتن کے حجم میں گیس کی ایک پرت اس لیے توازن میں ہوتی ہے کیونکہ پرت کے دونوں طرف دباؤیکساں ہوتا ہے۔
.2 ہمیں ایک گیس میں بین مالیکیولیائی فاصلے کا مبالغہ آمیز تصور نہیں رکھنا چاہیے۔ عام درجہ حرارت اور دباؤ پر یہ ٹھوس اوررقیق اشیاء میں بین ایٹمی فاصلے کا صرف دس گنا (یا اس کے قریب) ہوتا ہے۔ جو مختلف چیز ہے وہ ہے وسط آزاد فاصلہ ، جو ایک گیس میں بین ایٹمی فاصلے کا 100گنا اورمالیکیول کے سائز کا 1000گنا ہوتا ہے۔
.3 توانائی کی مساوی تقسیم کا بیان ہے : حرارتی توازن میں، ہر آزادی کے درجہ کے لیے توانائی70  ہوتی ہے۔ ایک مالیکیول کی کل توانائی کی عبارت میں شامل ہردو درجی رکن کو بہ طور ایک آزادی کے درجہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہر ارتعاشی وضع 2 (1نہیں)آزدی کے درجات (حرکی اوربالقوۃ توانائی وضعیں) مہیا کرتی ہے، جن کی متطابق توانائی ہے  107
.4 ایک کمرے میں ہوا کے سب مالیکیول فرش پر نہیں گرتے اوراکٹھا ہوتے (کشش زمین کی وجہ سے) کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے اوروہ لگاتار تصادم کر رہے ہوتے ہیں۔ حالت توازن میں ، نچلی اونچائیوں پر کثافت میں بہت کم اضافہ ہوتا ہے (جیسا کہ فضامیں ہوتا ہے) یہ اثراس لیے کم ہے کیونکہ معمولی اونچائیوں کے لیے توانائی بالقوۃ (mgh)مالیکیولوں کی اوسط حرکی توانائی108) سے بہت کم ہے ۔
.5 109کے مساوی نہیں ہوتا۔ ایک مربع کی ہوئی مقدار کا اوسط ضروری نہیں ہے کہ اوسط کے مربع کے مساوی ہو۔ کیا آپ اس بیان کے لیے مثالیں تلاش کر سکتے ہیں۔

مشق

13.1 آکسیجن گیس کے ذریعے STPپرگھیرے گئے اصل حجم سے ، مالیکیولیائی حجم کی کسر کا تخمینہ لگائیے۔ ایک آکسیجن کے مالیکیول کانصف قطر 3 Åلیجیے۔
13.2 مولی حجم وہ حجم ہے جو کسی (کامل ) گیس کے ایک مول کے ذریعے ، معیاری درجہ حرارت اور دباؤ پر گھیر ا جاتا ہے۔STP : 1atm,0°C) ۔   دکھائیے کہ یہ 22.4لیٹر ہے۔
13.3 شکل13.8میں، دو مختلف درجہ حرارت پر110، آکسیجن گیس کے PV/Tبر خلاف Pگراف دکھائے گئے ہیں۔  
111

(a) نقطہ دارگراف کیا دکھا تا ہے ؟  
(b) کیاصادق ہے:   112
–y     (c)
محور پر جہاں منحنی ملتے ہیں، اس نقطہ پر PV/Tکی قدر کیا ہے ؟
  (d) اگر  113ہائیڈروجن کے لیے بھی متثاکل گراف حاصل کیے جائیں تو یہاں ہمیں اس نقطہ پر جہاں دونوں منحنی –yمحور پر ملتے ہیں، PV/Tکی یکساں قدر حاصل ہوگی؟اگر نہیں، تو ہائیڈروجن کی کس مقدار کے لیے یہ قدر یکساں ہوگی (گراف کے کم دباؤ اور زیادہ درجہ حرارت والے حصے میں )؟114.کی مالیکیولیائی کمیت،  115کی مالیکیولیائی کمیت،  116۔
13.4 ایک استوانے میں بھری آکسیجن کاحجم 30لیٹر اورآغازی گیج دباؤ 15atmاور درجہ حرارت
27°C ہے۔ جب استوانے میں سے کچھ آکسیجن نکال لی جاتی ہے تو گیج دباؤ 11 atmاور درجہ حرارت 17°Cہو جاتا ہے۔ استوانے میں سے نکالی گئی آکسیجن کی کمیت کا حساب لگائیے۔  117کی مالیکیولیائی کمیت (۔
13.5 118حجم کا ایک ہوا کا بلبلہ ، 40mگہری جھیل کی تلی سے اٹھتا ہے جہاں درجہ حرارت
  12°Cہے۔ جب وہ سطح پر پہنچے گا تواس کا حجم کتنا ہو جائے گا؟ سطح کا درجہ حرارت
  35°Cہے۔
13.6 ای119گنجائش کے کمرے میں ،
    27°Cدرجہ حرارت اور 1 atmدباؤ پر ہوا کے کل مالیکیولوں کی تعداد کا تخمنیہ لگائیے۔ (جس میں آکسیجن، نائٹروجن ، پانی کے ابخرات اوردوسرے اجزاء ترکیبی شامل ہیں)۔
13.7 مندرجہ ذیل صورتوںمیں ایک ہیلیم ایٹم کی اوسط حرارت توانائی کا تخمینہ لگائیے۔
(i)کرہ درجہ حرارت
  (27°C)پر (ii)سور ج کی سطح کے درجہ حرار ت پر (iii)(6000K)ایک کروڑ کیلون درجہ حرارت پر (ایک ستارے کے قالب کا مخصوص درجہ حرارت )
13.8 تین برتنوں میں، جن کی گنجائشیں یکساں ہیں، یکساں درجہ حرارت اوردباؤ پرمختلف گیسیں بھری ہیں۔ پہلے میں نیون (ایک ایٹمی ) ، دوسرے میں کلورین (ایٹمی) اور تیسرے میں یورینیم ہیکسا فلورائڈ (کثیر ایٹمی)ہے۔ (a)کیا برتنوں میں متطابق مالیکیولوں کی تعداد یکساں ہے۔ (b)کیا تینوں صورتوں میں مالیکیولوں کی جذر اوسط مربع چال یکساں ہے (c)اگر نہیں تو کس صورت میں120سب سے زیادہ ہے ۔
13.9 کس درجہ حرارت پر آرگن گیس استوا نے کے ایٹم کی جذر اوسط مربع چال،
(–20°C)پر ہیلیم گیس ایٹم کی rmsچال کے مساوی ہوگی؟=39.9uآرگن کی ایٹمی کمیت،He =28.0uکی ایٹمی کمیت۔
13.10 ایک استوانے میں2.0atmدباؤ اور
  17°Cدرجہ حرارت پرنائٹروجن گیس بھری ہے۔ اس استوا نے میں ایک نائٹروجن مالیکیول کے وسط آزادفاصلے اورتصادم تعدد کا تخمینہ لگائیے۔ ایک نائٹروجن مالیکیول کا نصف قطر، موٹے طور پر،  121مان لیجیے۔ تصاد م میں لگنے والے وقت کااس وقت سے مقابلہ کیجیے جس میں دو لگاتار تصادموں کے دوران مالیکیول آزادانہ حرکت کرتا ہے ۔ (122کی مالیکیولیائی کمیت)

اضافی مشق  

13.11 ایک میٹر لمبی ، پتلی نال میں جو افقی رکھی ہے (اور ایک سرے پربند ہے) 76cmلمبا پارہ کا ڈورا ہے ، جو 15cmہوا کے کالم کو بند کیے ہوئے ہے۔ کیاہوگا اگر ٹیوب کو انتصابی کھڑا کیا جائے اوراس کا کھلا سرا نیچے رکھا جائے؟
13.12 ایک آلہ کے ذریعے، ہائیڈروجن کے نفوذ کی شرح ناپی گئی۔ اوسط قدر123ہے ۔ ایک دوسری گیس کے نفوذ کی شرح کی، یکساں شرائط کے تحت اوسط قدر124ہے۔ گیس کی شناخت کیجیے۔
[اشارہ: گراہم کا نفوذ کا قانون استعمال کیجیے125  گیس 1اورگیس 2کے نفوذ کی شرحیں ہیں126  ان کی متطابق مالیکیولیائی کمیتیں ہیں۔ یہ قانون نظریہ تحرک کا سا دہ نتیجہ ہے۔
13.13 حالت ِتوازن میں ، ایک گیس کی کثافت اور اس کا دباؤ اس کے پورے حجم میں یکساں ہوتے ہیں۔ یہ بالکل درست طور پر جب ہی صادق آتاہے، جب کوئی باہری اثرات نہ ہوں ۔ مثلاًایک گیس کالم میں، جو ارضی کشش کے زیر اثر ہے، یکساں کثافت (اوردباؤ) نہیں ہوتی۔ جیسی کہ آپ کوامید ہوگی ، اس کی کثافت اونچائی کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ بالکل درست انحصار، فضاؤں کے قانون (Law of atmospheres)کہلانے والے اس رشتہ سے دیا جاتا ہے:
127
129پر عددی کثافت ہے ۔ اس رشتہ کواستعمال کر کے ، رقیق کالم میں ایک ڈوبی ہوئی شے کے تل نشینی توازن (Sedimentation equilibrium)کی مساوات اخذ کیجیے۔
129
130ایووگیڈرو عد د ہے اور Rآفاقی گیس مستقلہ [[اشارہ] آرشمیدس کا اصول استعمال کر کے ، ڈوبی ہوئی شے کا ظاہری وزن معلوم کیجیے۔
13.14 نیچے کچھ ٹھوس اوررقیق اشیاء کی کثافتیں دی گئی ہیں۔ ان کے ایٹموں کے سائز کے موٹے تخمینے لگائیے۔




( 10-3kg m -3)کثافت 
ایٹمی کمیت (u)
 شے
2.22
19.32
1.00
0.53
1.14
12.01
197.00
14.01
6.94
19.00
(کاربن (ہیرا
سونا
(نائٹروجن(رقیق
لیتھیم
فلورین


[اشارہ: ٹھوس یا رقیق ہیئت میں ایٹموں کو مضبوطی سے بندھا ہوا فرض کر لیجیے اورایووگیڈرو عدد کی معلوم قدر استعمال کیجیے۔ لیکن آپ ایٹمی سائز وں کے لیے جو اعداد حاصل کریں انہیں مختلف ایٹموں کا اصل سائز نہ سمجھیے گا۔ کیونکہ مضبوطی سے بندھے ہونے کا مفروضہ ، ادھوری حقیقت ہے۔ یہ نتائج صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایٹمی سائز Åکی سعت میں ہوتے ہیں۔