Skip to content
Tabiyaat-II

باب14

اہتزازات  

(OSCILLATIONS)  

14.1 تعارف
14.2         دوری اور اہتزازی حرکتیں
14.3         سادہ ہارمونی حرکت
14.4          سادہ ہارمونی حرکت اور  یکساں دائری حرکت
14.5         سادہ ہارمونی حرکت میں  رفتار اور اسراع
14.6         سادہ ہارمونی حرکت کےلیے قوت قانون
14.7         سادہ ہارمونی حرکت میں توانائی
14.8         ساد ہ ہارمونی حرکت کرتے  ہوئے کچھ نظام
14.9        قعری سادہ ہارمونی حرکت
14.10      جبری اہتراز اور گمک
 خلاصہ  
قابلِ غور نکات
                 مشق
                اضافی مشق  
                ضمیمہ

14.1   تعارف   (INTRODUCTION)

ہم اپنی روزانہ زندگی میں حرکت کی بہت سی قسمیں دیکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے بارے میں آپ پہلے سیکھ چکے ہیں، مثلاً مستقیم حرکت (Rectilinear Motion) یا ایک محرک (غُلّا Projectile) کی حرکت۔ لیکن یہ حرکتیں اپنے آپ کو دہراتی نہیں ہیں۔ ہم نے یکساں دائری حرکت (Uniform Circular Motion) اور سیاروں کی مداری حرکت (Orbital Motion)کے بارے میں بھی سیکھا ہے۔ ان صورتوں میں ، حرکت کچھ وقفہ وقت کے بعد دہرائی جاتی ہے، یعنی کہ، یہ حرکت، دوَری (periodic)ہے۔ اپنے بچپن میں آ پ نے پالنے اور جھولے میں جھولنے کے مزے لیے ہوں گے۔ یہ دونوں حرکتیں بھی اپنے آپ کو دہرانے والی ہیں مگر ایک سیارے کی دوَری حرکت سے مختلف ہیں۔ ان میں شے ایک اوسط مقام کے گرد اِدھر اُدھر (آگے پیچھے ، دائیں بائیں، to and fro) حرکت کرتی ہے۔ ایک گھڑی کا پنڈولم بھی اسی طرح کی حرکت کرتا ہے۔ درختوں کی شاخیں اور پتیاں ہوا میں اہتراز کرتی (Oscillate) ہیں۔لنگر انداز کشتیاں اوپر نیچے ڈولتی ہیں اور کار کے انجنوں کے پسٹن بھی آگے پیچھے حرکت کرتے ہیں۔ یہ تمام اشیاء ایک دوری آگے پیچھے حرکت کرتے ہیں۔ ایسی حرکت کو اہتزازی حرکت (Oscillatory Motion) کہتے ہیں۔ اس باب میں ہم اس حرکت کا مطالعہ کریں گے۔
اہتزازی حرکت کا مطالعہ طبیعیات کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے تصورات بہت سے طبعی مظاہر کو سمجھنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ آلاتِ موسیقی، جیسے سِتار، گِٹار یا وائلن میں، ہم ارتعاش (Vibration)کرتی ہوئی ڈوریاں (Strings) دیکھتے ہیں، جن سے خوش کن آوازیں نکلتی ہیں۔ ڈھولک میں جِھلّی اور ٹیلی فون اور سماعتی نظاموں (Speaker Systems)میں ڈایا فرام (Diaphragms)، اوپر نیچے (آگے پیچھے) ، اپنے اوسط مقام کے گرد، حرکت کرتے ہیں۔ ہوا کے مالیکیلوں کے ارتعاش، آواز کی اشاعت (Propagation) کو ممکن بناتے ہیں۔ اسی طرح، ایک ٹھوس شئے میں ایٹم اپنے اوسط مقام کے گرد اہتزاز کرتے ہیں اور درجۂ حرارت کا احساس دلاتے ہیں۔ ریڈیو، ٹی۔ وی۔اورسیارچوں کے انٹینا میں الیکٹران اہتزاز کرتے ہیں اور اطلاعات پہنچاتے ہیں۔
دوری حرکت کو بیان کرنے کے لیے عام طور پر اور اہتزازی حرکت کو بیان کرنے کے لیے خصوصاً کچھ بنیادی تصورات، جیسے دور (Period)، تعدد (Frequency)، نقل (Displacement)، سعت(Amplitude) اور فیز(Phase)، کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تصورات اگلے حصے میں واضح کیے گئے ہیں۔

14.2   دوَری اور اہتزازی حرکتیں

(PERIODIC AND OSCILLATORY MOTIONS)  

شکل 14.1میں کچھ دوری حرکتیں دکھائی گئی ہیں۔ فرض کیجئے ایک کیڑ ا ایک پتّی پر چڑھتا ہے اور نیچے گرجاتا ہے ۔ وہ اپنے آغازی نقطے پر واپس آجاتا ہے اور پھر متماثل (Identically)  طور پر یہی عمل دہراتا ہے۔ اگر آپ فرش سے اس کی اونچائی اور وقت میں گراف کھینچیں تو یہ کچھ شکل (a) ۔14.1میں دکھائے گئے گراف جیسا ہوگا۔ اگر ایک بچہ ایک  سیڑھی پرچڑھتا ہے، پھر نیچے اترتا ہے اور پھر یہی عمل متماثل طور پر (بالکل اسی طرح) دہراتا ہے، تو اس کی زمین سے اونچائی شکل (b) ۔14.1 جیسی نظر آئے گی۔ جب آپ ایک گیند  کو زمین پر مار کر اچھالتے ہیں اور پھر پکڑ لیتے ہیں۔ اور یہ کھیل کھیلتے ہیں تو آپ کی ہتھیلی اور زمین کی درمیان اونچائی اوروقت میں گراف شکل (c)۔14.1 جیسا ہوگا۔ نوٹ کریں کہ  شکل (c) ۔14.1 میں دکھائے گئے دونوں خمیدہ (Curved)حصّے ایک مکافی (Parabola) کے تراشے (Sections)ہیں، جو نیوٹن کی حرکت کی مساواتوں (دیکھیے حصہ 3.1) سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
14-1
جہاں ہر صورت میں u کی قدریں مختلف ہیں۔یہ سب دوری حرکت کی مثالیں ہیں۔ اس لیے ، ایک ایسی حرکت جو اپنے آپ کو ایک باقاعدہ (یکساںRegular) وقفہ وقت کے بعد دہراتی ہے، دوری حرکت (Periodic Motion) کہلاتی ہے۔  
14-2
شکل 14.1 :  دوری حرکت کی مثالیں – ہر صورت میں دور Tدکھایا گیا ہے۔
اکثر ایک جسم جب دوری حرکت کررہا ہوتا ہے تو کہیں اس کے راستے کے اندر ایک متوازن مقام ہوتا ہے۔ جب جسم اس مقام پر ہوتا ہے تو اُس پر کوئی   باہر ی قوت نہیں لگ رہی ہوتی۔ اس لیے اگر اُسے اِس مقام پر حالتِ سکون میں چھوڑ دیا جائے، تو وہ ہمیشہ رہے گا۔ اگر جسم کو اس مقام سے تھوڑا سا   منتقل(Displace)کردیاجائے، تو ایک قوت لگنے لگتی ہے جو اس جسم کو واپس اس مقام پر لانے کی کوشش کرتی ہے (توازن کے مقام پر) ۔ اس طرح اہتزاز (Oscillations) یا ارتعاش (Vibrations) پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً، ایک پیالے میں رکھی ہوئی گیند، پیالے کے پیندے پر توازن میں ہوگی۔ اگر اس نقطہ سے تھوڑی سی منتقل (Displace) کردی جائے، تو یہ پیالے میں اہتزاز کرنے لگے گی۔ ہر اہترازی حرکت دوری ہوتی ہے لیکن ہر دوْری حرکت، ضروری نہیں ہے کہ، اہتزازی ہو۔ دائری حرکت ایک دوری حرکت ہے، لیکن یہ اہتزازی نہیں ہے۔  
اہتزازات اور ارتعاشات (Vibrations)میں کوئی اہم فرق نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جب تعدد (Frequenty)کم ہوتا ہے تو ہم اسے اہتزاز (Oscillations)کہتے ہیں (جیسے پیڑ کی ایک شاخ کا اہتزاز ) اور جب تعدد زیادہ ہوتا ہے، تو اسے ارتعاش (Vibration)کہتے ہیں (جیسے ایک آلہ موسیقی کے تاروں کا ارتعاش)
سادہ ہارمونی حرکت (Simple Harmonic Motion)، اہتزازی حرکت کی سادہ ترین شکل ہے۔ یہ حرکت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اہتزاز کرنے والے جسم پر لگ رہی قوت، اہتزاز کے کسی بھی نقطے پر، اوسط مقام (Mean position)سے، جو مقامِ توازن بھی ہے، نقل (Displacement) کے راست متناسب ہوتی ہے۔ مزید، اس کے اہتزاز میں، کسی بھی نقطے پر، اس کی سمت اوسط مقام(Mean Position)کی جانب ہوتی ہے۔
عملی صورت میں، اہتراز کرتے ہوئے اجسام، آخر کار، اپنے توازن مقامات پر، حالتِ سکون میں آجاتے ہیں، جس کی وجہ ان پر کام کررہی رگڑ کی قوت اور دوسری اسرافی وجوہات ہیں۔ لیکن پھر بھی کسی بیرونی دوْری وسیلے کے ذریعے انھیں اہتراز کرتے رہنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ ہم قعری (Damped) اور جبری (Forced) اہترازات کے مظاہر سے اس باب کے آخر میں بحث کریں گے۔
کسی بھی مادی وسیلے (Medium)کو آپس میں منسلک کیے ہوئے (Coupled)اہتزاز کاروں (Oscillatiors) کی ایک بڑی تعداد کا مجموعہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک وسیلے کے اجزائے ترکیبی کے مجموعی اہتزازات اپنے آپ کو لہر (Wave) کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ لہروں کی مثالوں میں، پانی کی لہریں، بھونچالی لہریں زلزلے کی لہریں(Seismic Waves) برق مقناطیسی لہریں(Electromagnetic Waves) شامل ہیں۔ ہم لہر مظہر اگلے باب میں پڑھیں گے۔  

14.2.1 دور اور تعدد

Period and frequency

ہم سیکھ چکے ہیں کہ ہر وہ حرکت جو اپنے آپ کو ایک متعین وقفہ کے بعد دہراتی ہے، دوری حرکت کہلاتی ہے۔ وہ سب سے چھوٹا وقفہ جس کے بعد حرکت دہرائی جاتی ہے، دور (Period)کہلاتا ہے۔ آئیے دور Tکو علامت Tسے ظاہر کرتے ہیں۔اس کی SIاکائی سیکنڈہے۔ ایسی دوری حرکتوں کے لیے، جو سیکنڈ کے پیمانے کے لیے ، بہت تیز یا بہت سست رفتار ہوں، دوسری وقت کی اکائیاں، سہولت کے لحاظ سے، استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک کوارٹزکی قلم(Quartz Crystal)کے ارتعاش کا دور مائیکروسیکنڈ 14-3کی اکائی میں ظاہر کیا جاتا ہے، جس کا مخفف14-4ہے دوسری طرف، سیارہ عطارد (Mercury)کا مداری دور   (88Orbital Period) زمین دن ہے۔ ہیلے(Halley)کا دم دار ستارہ (Comet)ہر 76برس کے بعد نظر آتا ہے۔
T کا مقلوب (Reciprocal) ، فی اکائی وقت میں دہرائے جانے کی تعداد دیتا ہے۔ یہ مقدار ، دوری حرکت کا تعدد (Frequency) کہلاتی ہے۔ اسے علامت 'v'سے ظاہر کرتے ہیں۔ vاورTکے درمیان رشتہ ہے:
  (14.1) v=1/T  
اس لیے، vکی اکائی14-5  ہے۔ ریڈیائی لہروں کے دریافت کرنے والے ہینرک رڈولف ہرٹز(1857-1984) (Heinrich Rudolph Hertz) کے نام پر تعدد کی اکائی کو ایک مخصوص نام دیا گیا ہے۔ اسے ہرٹز (Hertz) کہتے ہیں، جس کا مخفف Hzہے۔
14-6
نوٹ کریں کہ ضروری نہیں ہے کہ تعدد صحیح عدد ہی ہو۔

مثال   14.1 :   اوسطاً، ایک انسانی دل ایک منٹ میں 75مرتبہ دھڑکتا ہے۔ اس کے تعدد اور دور کا حساب لگائیے۔

جواب:   (منٹ1) /75=     دل کے دھڑکنے کا تعدد
= 75/(60 s)
=1.25 s-1
= 1.25 Hz
sh

14.2.2   نقل    (Displacement)

14-8
شکل (a)۔14.2 : ایک اسپرنگ سے منسلک بلاک: اسپرنگ کا دوسرا سرا استوار دیوار میں جڑا ہے۔ بلاک بے رگڑ سطح پر حرکت کرتا ہے۔ بلاک کی حرکت، اس کے توازن مقام   سے فاصلے یا نقل کی شکل میں بیان کی جاسکتی ہے۔

حصہ4.2میں ہم نے ایک ذرہ کے نقل کی تعریف اس طرح کی تھی کہ یہ اس کے مقام سمتیہ (Position Vector)میں تبدیلی ہے۔ اس باب میں ہم نقل (Displacement) زیادہ عمومی معنوں میں استعمال کریں گے۔ یہاں نقل سے مراد وقت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی اس طبعی خاصیت میں تبدیلی ہے جو زیرِ غور ہو۔ مثال کے طور پر لوہے کی گیند کی سطح پر مستقیم حرکت کی صورت میں، شروعاتی نقطہ سے فاصلہ بہ طور وقت کے تفاعل (Function)، اس مقام کا نقل ہے۔ مبدا کا انتخاب سہولت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ایک اسپرنگ سے منسلک ایک  گٹکا لیجیے۔ اسپرینگ کا دوسرا سرا استوار دیوار میں جَڑا ہوا ہے۔ ]دیکھیے شکل (a)۔  [14.2۔ عام طور پر ایک جسم کے نقل کو اس کے مقامِ توازن سے ناپنے میں سہولت رہتی ہے۔ ایک  اہتراز کرتے ہوئے سادہ پنڈولم کے لیے، انتصاب سے زاویہ بہ طور وقت تفاعل، کو نقل متغیرہ (Displacement Variable)لیا جاسکتا ہے دیکھیے شکل (b)۔[14.2 ]۔ اصطلاح ’نقل‘ صرف مقام کے تناظر میں ہی ہمیشہ استعمال نہیں ہوتی۔ کئی دوسری قسموں کے نقل متغیرات بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک a.c.سرکٹ میں، ایک کیپیسٹر (Capacitor) کے سروں کے بیچ لگائی گئی وولٹیج، جو وقت کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے، بھی ایک نقل متغیرہ ہے۔ اسی طرح آواز لہر کی اشاعت میں وقت کے ساتھ ہونے والی دباؤ میں تبدیلیاں ، ایک روشنی کی لہر میں بدلتے ہوئے برقی ومقناطیسی میدان بھی مختلف تناظر میں نقل کی مثالیں ہیں۔ نقل متغیرہ کی ، مثبت قدر بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ اہترازات پر کیے جانے والے تجربات میں، نقل کی پیمائش، مختلف وقتوں کے لیے کی جاتی ہے۔  

14-9
شکل (b)۔14.2 : ایک اہتراز کرتا ہوا سادہ پینڈولم، اس کی حرکت، انتصاب سے زاویائی نقل  14-10  کی شکل میں بیان کی جاسکتی ہے۔

نقل کو وقت کے ریاضیاتی تفاعل کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ دوْری حرکت کی صورت میں ، یہ تفاعل،وقت میں دوْری ہوتا ہے۔ ایک سادہ ترین دوْری تفاعل دیا جاتا ہے:
14-11
اگر اس تفاعل کا زاویہ حامل  14-12ریڈین کے کسی بھی صحیح عدد ضعف (Integral multiple)سے بڑھا دیا جائے، تو تفاعل کی قدر یکساں رہتی ہے۔ اس لیے تفاعل    (f (t   ، دوْری ہے اور اس کا دوْر T دیا جاتا ہے:
aise
اس لیئے، تفاعل tff کے ساتھ، دوری ہے،
ماشیت
مزید، Sine اور Cosine تفاعلات کا ایک خطی مجموعہ، جیسے
مجموعیہ
 بھی، یکساں دور T  کے ساتھ، دوری ہوگا
ساط
لیتے ہوئے، مساوات (14.3c) لکھی جا سکتی ہے،
مساوات
یہاں یہانمستقلہ ہیں، جو دیے جاتے ہیں
دوَریSineاور Cosineتفاعلات کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ وہ شاندار نتیجہ ہے، جسے فرانسیسی ریاضی داں بیپٹسٹے جوزف فوریر(Beptiste Joseph Fourier) (1768-1830) نے ثابت کیا : کسی بھی دَوری تفاعل کو ، مختلف دوری اوقات اور مناسب ضریبوں کے Sineاور Cosineتفاعلات کے انطباق کی شکل میں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

مثال 14.2: مندرجہ ذیل میں سے کون سے، وقت کے تفاعلات ظاہر کرتے ہیں: (a) دوری حرکت اور (b) غیر دوری حرکت؟ دوری حرکت کی ہر صورت میں دور بھی بتائیے۔ [(a) کوئی مثبت مستقلہ ہے]۔
مستقلل

(i) تفاعل ایک دوری تفاعل ہے۔ اس لیے ایسے بھی لکھا 
ایسے بھی
(ii) یہ بھی دوری حرکت کی مثال ہے۔ آپ نوٹ کرسکتے ہیں کہ اس تفاعل کا ہر رکن، مختلف زاویائی تعدد کے دوری تفاعل کو ظاہر کرتا ہے۔ کیوں کہ دور وہ کم ترین وقفہ وقت ہے، جس کے بعد تفاعل اپنی قدر دہراتا ہے:14-16  کا دور ہے:14-17  پہلے رکن کا دور باقی ارکان کے دوروں کا ضعف ہے۔ اس لیے کم ترین وقفہ وقت ، جس کے بعد تینوں ارکانوں کا حاصل جمع اپنے آپ کو دہراتا ہے14-18ہے اور اس طرح یہ حاصل جمع ایک دوْری تفاعل ہے، جس کا دور14-19ہے۔
(iii) یہ تفاعل14-20دوری نہیں ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ یک رنگی طرز(Monotonically) پر بڑھتا ہے اور :14-21  اس لیے کبھی اپنے آپ کو دہراتا نہیں۔
(iv) تفاعل log (wt)، وقت کے ساتھ یک رنگی طرز پر بڑھتا ہے اور اس لیے اپنی قدر کو کبھی دہراتا نہیں اور اس لیے ایک غیر دوری تفاعل ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ جیسے  14-22  کو غیر متقارب (Diverge)ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کسی طبعی نقل کو ظاہر نہیں کرسکتا۔

14.3   سادہ ہارمونی حرکت

(SIMPLE HARMONIC MOTION)

  ایک ذرہ ملاحظہ کریں، جو ایک X–محور کے مبدے کے گرد، A+اور A–کے درمیان، آگے پیچھے ارتعاش کررہا ہے، جیسا کہ شکل 14.3میں دکھایا گیا ہے۔

14-23

شکل 14.3 :  ایک ذرہ جو X–محور کے مبدے کے گرد، حدود A+اور A –کے درمیان، آگے پیچھے ارتعاش کررہا ہے۔

ان دونوں منتہائی مقامات (Extreme Positions) کے درمیان، ذرہ اس طرح حرکت کرتا ہے کہ جب وہ مبدے پر ہوتا ہے تو اس کی چال ازحد (Maximum)ہوتی ہے  اور  جب  وہ   A+ پر ہوتا ہے تو چال صفر ہوتی ہے۔ وقت tکو ہم تب صفر منتخب کرتے ہیں، جب ذرہ A+  پر ہے اور یہ ذرہ A  +پر t = Tپر واپس آجاتا ہے۔ اس حصہ میں ہم یہ حرکت بیان کریں گے۔ بعد میں ہم یہ سیکھیں گے کہ اسے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے اس ذرہ کی حرکت کا مطالعہ کرنے کے لیے ہم وقت کے تفاعل کے بہ طور اس کے مقامات نوٹ کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہم ایک متعین وفقہ وقت کے بعد اس کا فوری فوٹو کھینچتے ہیں۔ ایسے فوری فوٹوؤں (Snapshots) کا ایک سیٹ شکل 14.4 میں دکھایا گیا ہے۔ مبدے کے لحاظ سے ذرے کا مقام، کسی بھی لمحہ وقت پر اس کا نقل دیتا ہے۔ ایسی حرکت کے لیے، ایک منتخب مبدے سے، ذرہ کا نقل : x(t) وقت کے ساتھ اس طور پر تبدیل ہوتا پایاگیا ہے:

14-24

شکل 14.4 : فوری فوٹوؤں کا ایک سلسلہ (مساوی وقفہ وقت پر لیے گئے) جو ایک ذرہ کا مقام بتاتا ہے، جب کہ ذرہx  –محور پر مبدے کے گرد، حدود A+اورA  – کے بیچ ادھر اُدھر (آگے – پیچھے) ارتعاش کرتا ہے۔ سمتی تیروں کی لمبائیوں کو   اس طور پر پیمانہ بند کیاگیا ہے کہ ان سے ذرہ کی چال کی نشاندھی ہوتی ہے۔ ذرے کی چال ازحد ہے، جب وہ مبدے پر ہے اور صفر ہے جب وہ A  +پر ہے۔ جب ذرہ A +پر ہو تو وقت t کو اگر صفرمنتخب کیا جائے، تب  ذرہ t =Tپر واپس A+پر لوٹتا ہے، جہاں Tحرکت کا دور ہے۔ اسے مساوات (14.4) کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے  14-25رکھنے میں)

14-26

شکل 14.5 : مساوات(14.4)سے ظاہر کی جانے والی حرکت کے لیے x کا بہ طور تفاعل وقت گراف

14-27

شکل 14.6 : مساوات (14.4) میں شامل مقداروں کا ایک حوالہ


مساوات (14.4)سے ظاہر کی گئی حرکت، سادہ ہارمونی حرکت (SHM) (Simple Harmonic Motion) کہلاتی ہے۔ ایک اصطلاح، جس کا مطلب ہے کہ دوری حرکت، وقت کا ایک سائن خم نما(Sinusoidal) تفاعل ہے۔ مساوات(14.4)، جس میں سائن خم نما تفاعل ایک کوسائن تفاعل ہے، کا گراف شکل (14.5) میں دکھایا گیا ہے۔ وہ مقداریں جو گراف کی شکل طے کرتی ہیں، شکل 14.6میں، اپنے ناموں کے ساتھ، دکھائی گئی ہیں۔

14-28

شکل 14.7 (a) : مساوات (14.4) سے حاصل ہوئے14-29  رکھنے پر) نقل کا بہ طور تفاعل وقت گراف: منحنی 1اور منحنی 2دو مختلف سعتوں   A اور B کے لیے ہیں۔

اب ہم ان مقداروں کی تعریف کرتے ہیں۔
مقدارA، حرکت کی سعت (Amplitude)کہلاتی ہے۔ یہ ایک مثبت مستقلہ ہے جو، کسی بھی سمت میں ذرے کے از حد نقل (Maximum Displacement) کی  عددی  قدر  ظاہر  کرتا ہے۔ مساوات(14.4) میں دیاگیا کوسائن تفاعل، حدود 1+کے درمیان تبدیل ہوتا ہے، اس لیے نقلdas کے درمیان تبدیل ہوتا ہے۔ شکل (a) ۔14.7 میں منحنی 1اور 2، دومختلف سعتوں A اور Bکے لیے، مساوات (14.4) کے گراف ہیں۔ ان، منحنی 1اور منحنی 2 کے درمیان فرق سعت کی اہمیت کی وضاحت کرتا ہے۔
مساوات (14.4)میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہونے والی مقدار،14-30، حرکت کا فیز (Phase)کہلاتی ہے۔ یہ ایک دیے ہوئے وقت پر، حرکت کی حالت کو بیان کرتی ہے۔ مستقلہ  14-31فیز مستقلہ (Phase Constant)یا فیز زاویہ (Phase Angle)کہلاتا ہے ۔14-31  کی قدر، t=0 پر ذرے کی نقل اور رفتار کی قدر کے تابع ہے۔ اس کو شکل (b) ۔14.7 کی مدد سے  بہتر  طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس شکل میں، منحنی 3اورمنحنی4 ، فیز مستقلہ14-31  کی دو قدروں کے لیے، مساوات (14.4)کا گراف ظاہر کرتے ہیں۔
یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ فیز مستقلہ آغازی شرائط (Initial   Conditions) کی نشاندہی کرتا ہے۔
kambal
شکل 14.7(b) : مساوات (14.4) سے حاصل ہو ایک گراف
منحنی 3 اور منحنی 4 , حسب ترتیب
پنت کے لیے ہیں
دونو گرافوں میں سعت A یکساں ہے۔

مستقلہ14-33، جو حرکت کا زاویائی تعدد (Angular Frequency) کہلاتا ہے، دور Tسے ایک رشتہ رکھتا ہے۔ ان کا رشتہ حاصل کرنے کے لیے: مساوات (14.4)میں  14-34  رکھتے ہیں،  
14-35
اب کیوں کہ حرکت دوَری ہے اور دوْر Tہے ، نقل  14-36کو حرکت کے ایک دوْر کے بعد اپنی آغازی قدر پر واپس لوٹنا ضروری ہے۔ یعنی کہ14-36  کو14-37  کے مساوی ہونا لازمی ہے (ہرtکی قدر کے لیے) ۔ اس شرط کو (14.5)میں استعمال کرنے پر۔
14-38
کیوں کہ کوسائن تفاعل اپنے آپ کو پہلی مرتبہ تب دہراتا ہے جب اس کے زاویہ حامِل (Argument)   [فیزPhase]   میں14-39  کا اضافہ ہوتا ہے۔ مساوات (14.6)سے  
14-40
اس لیے زاویائی تعدد ہے  
14-41
زاویائی تعدد کی S1 اکائی ریڈین فی سیکنڈ ہے۔ دَور Tکی اہمیت واضح کرنے کے لیے، شکل 14.8میں، دو مختلف دوْروں کے لیے سائن خم نما تفاعل کے گراف دکھائے گئے ہیں۔
14-42

شکل 14.8:  دو مختلف دوْروں کے لیے مساوات (14.4) کے گراف14-43  ۔

اس گراف میں منحنی aکے ذریعے ظاہر کیے گئے SHM کا دور Tہے اور منمنی bکے ذریعے ظاہر کیے گئے SHM کا دَور:   14-44ہے۔  

ہم سادہ ہارمونی حرکت سے متعارف تو ہو ہی چکے ہیں۔ اگلے حصے میں ہم سادہ ہارمونی حرکت کی کچھ سادہ ترین مثالوں سے بحث کریں گے۔ یہ دکھایا جائے گا کہ ایک دائرہ کے قطر پر، یکساں دائری حرکت کا ظِل (Projection)، سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔

مثال 14.3: مندرجہ ذیل میں سے وقت کے کون سے تفاعلات ظاہر کرتے ہیں (a) سادہ ہارمونی حرکت (b) دوری لیکن سادہ ہارمونی حرکت نہیں۔ ہر ایک کے لیے درد بھی معلوم کیجیے۔
بہت لمبا

جواب : (a)
symbol
یہ تفاعل ایک سادہ ہارمونی حرکت کو ظاہر کرتا ہے، جس کا دور:
مطلط اور زاویہ حامل حامل ہے
تتتت
یہ تفاعل بھی دوَری ہے، جس کا دوَر:  14-47   ہے۔ یہ بھی ایک ہارمونی حرکت کو ظاہر کرتا ہے، اس طرح کہ نقطہ توازن صفر کی جگہ  14-48  ہے۔  

14.4   :   سادہ ہارمونی حرکت اور یکساں دائری حرکت

Simple Harmonic Motion and Uniform Circular Motion

1610میں گلیلیو نے سیارہ مشتری (Jupiter)کے چار چاند دریافت کیے۔ انھیں ہر چاند، سیارہ کی مناسبت سے، آگے پیچھے ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہوا نظر آیا، جہاں سیارہ کی قرص (Disc)حرکت کا وسطی نقطہ (Middle Point) تھی۔ ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہوئے ان مشاہدات کے ریکارڈ آج بھی موجود ہیں۔ ان کے آنکڑوں پر مبنی ، مشتری کی مناسبت سے کیلسٹو (Callisto) نام کے چاند کے مقام شکل 14.9 میں دکھائے گئے ہیں۔ اس شکل میں دائرے گلیلیو کے آنکڑوں کے نقاط ظاہر کرتے ہیں اور کھینچا گیا منحنی ان آنکڑوں پر سب سے بہتر بیٹھنے والا منحنی ہے۔ یہ منحنی مساوات (14.4)کی تعمیل کرتا ہے، جو کہ SHMکے لیے نقل تفاعل ہے۔ اس سے تقریباً 16.8دن کا دوْری وقت حاصل ہوتا ہے۔
اب یہ بخوبی معلوم ہے کہ کیلسٹو بنیادی طور پر ایک مستقلہ چال سے مشتری کے گرد، ایک تقریباً دائری مدار میں حرکت کرتا ہے۔ اس کی حقیقی حرکت، یکساں دائری حرکت ہے۔ جو گلیلیو نے دیکھا اور جو ایک اچھی دوربین کی مدد سے ہم بھی دیکھ سکتے ہیں، اس یکساں دائری حرکت کا، حرکت کے مستوی میں ایک خط پر، ظل (Projection)ہے۔ اسے ایک سادہ تجربہ کے ذریعے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ ایکڈوری کے ایک سرے پر ایک گیند باندھ دیجئے اور اسے ایک متعین نقطہ کے گرد، مستقلہ زاویائی چال کے ساتھ ایک افقی مستوی میں حرکت کرائیے۔ تو گیند افقی مستوی میں ایک یکساں دائری حرکت کرے گی۔ گیند کو سامنے سے یا دائیں–بائیں سے دیکھیے، اور اپنی توجہ حرکت کے مستوی میں رکھئے۔ آپ کو گیند ایک افقی خط پر آگے پیچھے حرکت کرتی نظر آئے گی، اور گردش کا نقطہ اس کا وسطی نقطہ ہوگا۔ اس کے متبادل عمل کے طور پر آپ ایسی دیوار پر گیند کا سایہ بھی دیکھ سکتے ہیں جو دائرہ کے مستوی کاعمود ہو۔ اس عمل میں ہم دیکھ رہے ہیں، ایک دائرہ، جو دیکھنے کی سمت پر عمود ہے، کے قطر پر گیند کی حرکت۔ یہ تجربہ گلیلیو کے مشاہدات کی ایک تمثیل پیش کرتا ہے۔

14-49

شکل 14.9: کسی کنارے سے دیکھنے پر کسی گیند کی دائری حرکت SHM ہے ۔  

شکل 14.10میں ایک حوالہ ذرہ P
  (Reference particle)  کی حرکت دکھائی گئی ہے، جو زاویائی رفتار (مستقلہ)14-50سے ایک حوالہ دائرہ (Reference Circle)میں یکساں دائری حرکت کررہا ہے۔ دائرہ کا نصف قطرA، ذرے کے مقام سمیتہ کی عددی قدر کے مساوی ہے۔ کسی بھی وقت t پر، ذرے کا زاویائی مقام(Angular  Position)،14-51  ہے،
khabar
شکل   14.10: ایک حوالہ ذرہ P کی حرکت جو نصف قطر A کے حوالہ دائرہ میں ، مستقلہ زاویائی رفتارraftar 14-50  سے یکساں دائری حرکت کررہا ہے۔

 جہاں14-52،پر زاویائی مقام ہے۔ ذرہ   Pکاx -محور پر سایہ (ظل Projection) ایک نقطہ14-53  ہے، جسے ہم ایک دوسرا ذرہ تصور کرسکتے ہیں۔ x–    محور پر، ذرہ   P کے مقام سمتیہ کا ظل14-53  کا مقام   (x(t دیتا ہے۔ اس لیے:
14-54
جومساوات (14.4)کے مساوی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر حوالہ ذرہ   P ایک یکساں دائری حرکت کرتا ہے تو اس کا ظِلّی ذرہ (ProjectionPartical) ایک دائرہ کے قطر پر سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔  
گلیلیو کے مشاہدات اور مندرجہ بالا بحث سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ دائری حرکت ایک کنارے سے دیکھے جانے پر سادہ ہارمونی حرکت ہے۔ زیادہ رسمی زبان میں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ: سادہ ہارمونی حرکت ، یکساں دائری حرکت کا، اس دائرہ کے قطر پر، جس میں دائری حرکت ہورہی ہے، ظل (Projection)ہے۔

مثال 14.4: شکل 14.11 میں دو دائری حرکتیں دکھائی گئی ہیں۔ دائرہ کے نصف قطر، گردش کے دوری وقت، آغازی مقام اور گردش کی سمت کی نشاندہی شکل میں کردی گئی ہے۔ ہر صورت میں، گردش کررہے ذرہ P کے نصف قطر سمتیہ کے congr ظل کی سادہ ہارمونی حرکت حاصل کیجیے۔
            nazre

جواب: (a) bru محور کی مثبت سمت کے ساتھ زاویہ بناتا
ہے: کرہ وقت کے بعد یہ زاویہ مولانا طے کرتا ہے (گھڑی
کی سوئیوں کی مخالفت سمت میں ) اور مکلف محور کے ساتھ زاویہ ایلن
بناتا ہے۔
وقت t پر، OP کا مسنفمحور پر ظل دیاجاتا ہے
نارتھ
جو ایک SHM ہے، جس کی سعت A, دور 4s اور آغازی فیز فیز
ہے(b) اس صورت میں، t پر، OP, منلفمحور کے ساتھ زاویہ:محورزا
بناتا ہے۔ t وقت کے بعد یہ زاویہ گھڑی بناتا ہے۔ وقت t پر،
OP کا ظلمحور پر ظل دیا جاتا ہے
غل
اسے لکھتے ہیں:
گصب
مساوات (14.4) سے مقابلہ کرنے پر، یہ ظاہر کرتا ہے ایک SHM, جس کی سعت B, دورہ 30s اور آغازی فیز نور ہے۔

مساوات (14.4) سے مقابلہ کرنے پر، یہ ظاہر کرتا ہے ایک SHM، جس کی سعت B، دور 30s اور آغازی فیز  14-60  ہے۔

14.5   سادہ ہارمونی حرکت میں رفتار اور اسراع

Velocity and acceleration in simple harmonic motion

یہ آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ رفتار vکی عددی قدر، جس سے حوالہ ذرہ P (شکل14.10)ایک دائرہ میں حرکت کررہا ہے، اس میں اور زاویائی رفتار14-50  میں ایک رشتہ ہے:
14-61
جہاں Aاس دائرہ کا نصف قطر ہے جو ذرہ Pبناتا ہے۔ظلّی ذرہ کے رفتار سمتیہ V کی عددی قدر 14-63ہے، اس کاx–محورپر ظل، کسی بھی وقت t پر، جیسا شکل(14.12) میں دکھایا گیا ہے،  
14-62
14-64
شکل   14.11: ذرہ  14-53کی رفتار14-65، حوالہ ذرہ P کی رفتار v کا ظل ہے۔

منفی علامت اس لیے آتی ہے کیوں کہ Pکے رفتار جز کی سمت بائیں طرف ہے،elaj کی منفی سمت میں۔ مساوات (14.9) ایک SHMکرتے ہوئے ذرہ (Pکا ظل)کی ساعتی رفتار (Instantaneous velocity) کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لیے، یہ ایک SHMکرتے ہوئے ذرے کی ساعتی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔ مساوات (14.9)، مساوات(14.4)کے وقت کے تفرق (Differentiation)کے ذریعے بھی حاصل کی جاتی ہے:
14-66

شکل 14.12 :   ذرہ کا اسراع (a (t ، حوالہ ذرہ14-53کے اسراع aکا ظل ہے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک ذرہ جو یکساں دائری حرکت کررہا ہو اس پر ایک نصف قطری اسراع (Radial Acceleraton)   aکام کرتا ہے، جس کی سمت مرکز کی طرف ہوتی ہے۔ شکل 14.13میں، حوالہ ذرہ   Pکا، جو یکساں دائری حرکت کررہا ہے، ایسا نصف قطری اسراع دکھایاگیا ہے۔ P کے نصف قطری اسراع کی عددی قدر14-67  ہے۔   x–محور پر،کسی بھی وقت tپر، اس کا ظل ہے:  
14-68
جو ذرہ14-53(ذرہ Pکا ظل) کا اسراع ہے۔ مساوات(14.11)، اس لیے ، ذرہ14-53  کے ، جو SHMکررہا ہے، ساعتی اسراع (Instantaneous Acceleration) کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لئے، مساوات (14.11) SHM کرتے ہوئے ایک ذرے کے اسراع کو ظاہر کرتی ہے۔یہ SHM کے لیے ایک اہم نتیجہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہSHM میں، اسراع، نقل کے متناسب ہوتا ہے اور اس کی سمت ہمیشہ وسطی مقام (Mean Position) کی جانب ہوتی ہے۔ مساوات(14.11)، مساوات (14.9)کا وقت کی مناسبت سے تفرق کرکے بھی حاصل کی جاسکتی ہے:
14-69
ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ذرہ کے نقل، اس کی رفتار اور اس کے اسراع کے مابین رشتہ شکل (14.14)میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس شکل میں، شکل (a) مساوات (14.14)کا  گراف ہے،14-70کے ساتھ اور (b) مساوات (14.9)کو دکھاتی ہے، یہ بھی14-70کے ساتھ۔ مساوات (14.4) میں سعت   Aکی طرح،مساوات(14.9)میں مثبت مقدار  14-71، رفتار سعت (Velocity Amplitude)14-72  کہلاتی ہے۔ شکل (14.14 (b) میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اہتراز کرتے ہوئے ذرے کی رفتار، حدود:  14-73  کے درمیان تبدیل ہوتی ہے۔ نوٹ کریں کہ (v(tکا منحنی ، (x(tکے منحنی سے، ایک چوتھائی دوْر، بائیں طرف ہٹا ہوا ہے۔ اس لیے ذرہ کی رفتار، نقل سے  14-74  کے فیز زاویہ سے پس قدم (Lags)ہے۔جب نقل کی عددی قدر ازحد (Maximum) ہے تو رفتار کی عددی قدر کم ترین (Minimum)ہے۔ جب نقل کی عددی قدر کم ترین ہے تو رفتار کی عددی قدر  ازحد  ہے۔ شکل (c)۔(14.14، ذرہ کے اسراع (a(tکے تغیر کو دکھاتی ہے۔ یہ نظر آتا ہے کہ جب نقل اپنی سب سے زیادہ مثبت قدر پر ہوتا ہے تو اسراع اپنی سب سے زیادہ منفی قدر پر ہوتا ہے، اور اس کے برخلاف بھی۔ جب نقل صفر ہوتا ہے، تو اسراع بھی صفر ہوتا ہے۔
14-75

شکل 14.13 :  سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ذرے کے نقل، رفتار اور اسراع (a)ایک SHMکرتے ہوئے ذرہ کا نقل (x(t، جبکہ فیز زاویہ14-31، صفر کے مساوی ہے۔ (b)  اس  ذرہ کی رفتار14-76     اس ذرہ کا اسراع (a(t


 مثال 14.5 ایک جسم جو مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق SHM کر رہاہے(SI اکائی میں):
پرہموشن
 t=1.5s پر اس کے لیے (a) نقل (b) چال اور (c) اسراع کا حساب لگائیے۔

جوب: فاف جسم کا زاویائی تعدار اور mar دوری وقت
t = 1.5s پر
ایڈمیشن نقل
منن
(b) مساوات (14.9) استعمال کرتے ہوئے، جسم کی رفتار ہے:
سرگرمی
(c) مساوات (14.0) استعمال کرتے ہوئے، جسم کا اسراع ہے:
نجمل

14.6   سادہ ہارمونی حرکت کے لیے قوت قانون:

Force law for simple harmonic motion

حصہ14.3میں ہم نے سادہ ہارمونی حرکت بیان کی۔ اب ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ اسے کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے۔ نیوٹن کا حرکت کا دوسرا قانون، ایک نظام پر لگ رہی قوت، اور اس میں پیدا ہوئے اسراع کے مابین رشتہ نیا ہے۔ اس لیے، اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ ایک ذرہ کا اسراع، وقت کے ساتھ ، کیسے تبدیل ہورہا ہے، تو اس قانون کو استعمال کرکے ہم اس قوت کے بارے میں جان سکتے ہیں جو اس ذرہ میں اتنا اسراع پیدا کرنے کے لیے اس ذرہ پر لگنا ضروری ہے۔ اگر ہم نیوٹن کے حرکت کے دوسرے قانون اور مساوات (14.11)کو ملائیں، تو ہم پاتے ہیں کہ سادہ ہارمونی حرکت کے لیے:
14-79
14-80
مساوات   (14.13)، ذرے پر لگ رہی قوت دیتی ہے۔ یہ نقل کے متناسب ہے اور اس کی سمت نقل کے مخالف ہے۔ اس لیے یہ ایک بحالی قوت (Restoring Force)ہے۔ نوٹ کریں کہ یہ یکساں دائری حرکت میں لگ رہی مرکز جو قوت (Centripetal Force) کی طرح نہیں ہے جس کی عددی قدر یکساں (مستقلہ) رہتی ہے، بلکہ SHMکے لیے بحالی قوت، وقت کے تابع ہے۔ مساوات (14.13)کے ذریعے بیان کیاگیا قوت کا قانون، سادہ ہارمونی حرکت کی متبادل تعریف بھی سمجھا جاسکتا ہے، اس کا بیان ہے: سادہ ہارمونی حرکت، وہ حرکت ہے، جو اس ذرہ کے ذریعے کی جاتی ہے جس پر ایسی قوت لگ رہی ہو جو ذرہ کے نقل کے متناسب ہو اور جس کی سمت وسط مقام کی جانب ہو۔
کیونکہ قوتx,Fکے متناسب ہے، xکی کسی اور قوت (Power)کے نہیں، ایسے نظام کو خطی ہارمونی اہتراز کار (Linear Harmonic Oscillator) بھی کہا جاتا ہے۔ ایسے نظام جن میں بحالی قوت،x کا ایک غیر خطی تفاعل ہوتی ہے، غیر خطی ہارمونی اہتراز کار یا غیر ہارمونی (Anharmonic) اہتراز کار کہلاتے ہیں۔

مثال 14.6: اسپرنگ مستقلہ k کے دو متماثل اسپرنگ ایک بلاد (کمیت m) سے اور جڑے ہوئے سہاروں سے منسلک ہیں، جیساکہ شکل 14.16 میں دکھایا گیا ہے۔ دکھائیے کہ جب کمیت کو مقام توازن سے ادھر ادھر، کسی بھی سمت میں، منتقل کیا جا تا ہے، تو یہ سادہ ہارمونی حرکت کرتاہے۔ اہتزاز کا دور بھی معلوم کیجیے۔
انٹر
شکل 14.14


جواب:   فرض کیجیے کمیت کو مقام توازن کی دائیں سمت میں ایک چھوٹے فاصلے14-82  سے منتقل کیا گیاہے، جیسا کہ شکل 14.16 میں دکھا یا گیا ہے۔ اس حالت میں بائیں طرف کا اسپرنگ کھینچ جاتا ہے،   x لمبائی سے اور دائیں طرف کا اسپرنگ، یکساں لمبائی سے، دب جاتا ہے۔

14-83
شکل 14.15

اس لیے کمیت پر کام کررہی قوتیں ہیں: [بائیں طرف کے اسپرنگ کے ذریعے لگائی گئی قوت جو کمیت کو وسط مقام کی طرف کھینچنے کی کوشش کررہی ہے]
14-84
وسط مقام کی طرف کھینچنے کی کوشش کررہی ہے۔
(دائیں طرف کے اسپرنگ کے ذریعے لگائی گئی قوت، جو کمیت کو وسط مقام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے): اس لیے کمیت پر لگ رہی، کل قوت Fہے:  14-85
اس لیے کمیت پر لگ رہی قوت، نقل کے متناسب ہے اور اس کی سمت، وسط مقام کی جانب ہے، اس لیے کمیت کے ذریعے کی جارہی حرکت ، سادہ ہارمونی حرکت ہے۔  
اہترازات کا دوْری وقت ہے:  
14-86

14.7 :   سادہ ہارمونی حرکت میں توانائی

Energy in simple harmonic motion

ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ذرے کی حرکی توانائی اور توانائی بالقوۃ دونوں، حدود صفر اور ازحد کے درمیان بدلتی رہتی ہیں۔
حصہ 14.5میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ SHM کرتے ہوئے ایک ذرے کی رفتار ، وقت کا ایک دوْری تفاعل ہے۔ یہ نقل کے انتہائی مقامات (Extreme Positions) پر صفر ہوتی ہے۔ اس لیے، ایسے ذرہ کی حرکی توانائی (K )، جس کی تعریف کی جاتی ہے:  
14-87
بھی وقت کا ایک دوْری تفاعل ہے، جو نقل ازحد ہونے پر صفر ہوتا ہے اور جب ذرہ وسط مقام پر ہوتا ہے تو ازحد ہوتا ہے۔ نوٹ کریں کیوں کہK   (حرکی توانائی) میں   v کی علامت سے  کوئی فرق نہیں پڑتا،   K کا دَور T/2    ہے۔  
ایک سادہ ہارمونی حرکت ہوئے ذرہ کی توانائی بالقوۃ کیا ہوگی؟ باب 6 میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ توانائی بالقوہ کا تصور صرف برقراری قوتوں کے لیے ہی ممکن ہے۔ اسپرنگ قوت: F=kx ایک برقراری قوت (Conservative Force) ہے،جس سے منسلک توانائی بالقوۃ ہے:
14-88
اس لیے سادہ ہارمونی حرکت ہوئے ایک ذرے کی توانائی بالقوۃ ہے  
14-89
اس لیے سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ایک ذرہ کی توانائی بالقوۃ بھی دوْری ہے، جس کا دورT/2ہے اور یہ توانائی وسطی مقام پر صفر اور انتہائی نقل پر ازحد ہوتی ہے۔  
مساوات (14.15)اور مساوات(14.17)سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نظام کی کل توانائی 'E' ہے:   
14-90
مندرجہ بالامربع قوسین (Square Brackets) میں دی ہوئی قدر اکائی ہے، اس لیے  
14-91
ایک ہارمونی اہتراز کار کی کل توانائی (میکانیکی) ، اس لیے، وقت کے غیر تابع ہے، جیسا کہ برقراری قوتوں کے تحت ہونے والی کسی بھی حرکت کے لیے امید کی جاتی ہے۔ ایک خطی سادہ ہارمونی اہتراز کار کے لیے بالقوۃ اور حرکی توانائیوں کا وقت اورنقل پر انحصار شکل 14.17میں دکھایاگیا ہے۔  
یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک خطی ہارمونی اہتراز کار میں تمام توانائیاں مثبت ہوتی ہیں اور ہر دوْر کے درمیان دو مرتبہ اپنی از حد قدر پر پہنچتی ہیں۔ x = 0 کے لیے، توانائی ، پوری حرکی ہوتی ہے اور   14-92کے لئے یہ پوری بالقوۃ ہوتی ہے۔

14-93

شکل 14.16 (a): ایک خطی ہارمونی اہتراز کار کے لیے توانائی بالقوۃ(U(t، حرکی توانائیk t اور کل توانائی   (E(tبہ طور تفاعل وقت۔ تمام توانائیاں مثبت ہیں اور توانائی بالقوۃ اور حرکی توانائی ، اہتراز کار کے ہر دور میں دو مرتبہ اپنی ازحد قدر حاصل کرتی ہیں۔ (b)  ایک خطی ہارمونی اہتراز کار کے لیے توانائی بالقوۃ (U(t، حرکی توانائی (K(t اور کل توانائی (E(t، بہ طور مقام xکے تفاعل اور سعت Aکے ساتھ x = 0 کے لئے توانائی پوری حرکی ہے اور x = ± A کے لیے پوری بالقوۃ۔


ان دونوں انتہائی مقامات کے درمیان، توانائی بالقوۃ ، حرکی توانائی کے صفر ہونے پر، بڑھتی ہے۔ ایک خطی ہارمونی اہتراز کا ر کا یہ برتاؤ تجویز کرتا ہے کہ اس میں کچھ اس پر رنگیت کی خاصیت (اسپرنگ جیسی) پائی جاتی ہے اور کچھ جمود کی۔ پہلی خاصیت اس کی توانائی بالقوۃ کو ذخیرہ کرتی ہے اور دوسری اس کی حرکی توانائی کو۔

مثال 14.7 ایک بلاک، جس کی کمیت 1kg ہے، ایک اسپرنگ سے منسلک کیا گیا ہے۔ اسپرنگ مستقلہ 50 Nm-1 ہے t=0 پر بلاک کو ایک بے رگڑ سطح پر، اس کی حالت سکون x = 0  سے فاصلہ x=10cm تک کھینچا جاتا ہے۔ جب اسپرنگ اپنے وسطی مقام سے 5cm دور ہے تو اس کی حرکی، بالقوۃ اور کل توانائیوں کا حساب لگائیے۔

جواب: بلاک SHMکررہا ہے۔ اس کا زاویائی تعدد، مساوات14-95  کے ذریعے، ہے ،
14-96
کسی بھی وقت   tپرنقل دیا جاتا ہے،
14-97
اس لیے، جب ذرہ ، وسطی مقام سے 5 cmکی دوری پر ہے ، تو  
14-98
تب، x = 5 cm پر بلاک کی رفتار،
14-99
اس لیے بلاک کی حرکی توانائی
14-100
بلاک کی توانائی بالقوۃ
14-101
  x = 5 cm   پر بلاک کی کل توانائی  
14-102
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ازحد نقل پر حرکی توانائی صفر ہوتی ہے اور نظام کی کل توانائی اس کی توانائی بالقوۃ کے مساوی ہوتی ہے۔ اس لیے نظام کی کل توانائی،
14-103
x = 5 cm پر دونوں توانائیوں کے حاصل جمع کے یکساں ہے۔ جو توانائی کی بقا کے اصول سے مطابقت رکھتا ہے۔

14.8   سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے کچھ نظام     

Some systems executing simple harmonic motion

مطلق خالص سادہ ہارمونی حرکت کی کوئی طبعی مثال نہیں پائی جاتی۔ عملی طور پر، ہم ایسے نظام پاتے ہیں جو مخصوص شرائط کے تحت ، تقربی (Approximately)، ہارمونی حرکت کررہے ہوتے ہیں۔ اس سبق کے اگلے حصے میں ہم کچھ ایسے نظاموں کی حرکت سے بحث کریں گے۔

14-104

شکل 14.17 ایک خطی سادہ ہارمونی اہتراز کار جو کمیت m کے ایک اس بلاک پر مشتمل ہے جو ایک اسپرنگ سے منسلک ہے۔ بلاک ایک بے رگڑ سطح پر حرکت کرتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طرف کھینچ کر چھوڑ دیے جانے پر یہ سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔

14.8.1   ایک اسپرنگ کی وجہ سے اہترازات

Oscillations due to a spring

سب سے سادی ، قابلِ مشاہدہ، سادہ ہارمونی حرکت کی، مثال وہ چھوٹے اہترازات ہیں جو ایک اسپرنگ سے منسلک کمیت   m کا ایک بلاک کرتا ہے۔ یہ اسپرنگ ایک استوار دیوار میں جڑاہوتا ہے، جیسا کہ شکل 14.18میں دکھا یا گیا ہے۔ اگر بلاک کو ایک طرف کھینچا جائے اور پھرچھوڑ دیا جائے تو یہ ایک وسطیٰ مقام کے آگے۔ پیچھے (اِدھر اُدھر) حرکت کرتاہے۔  فرض  کیجیے، x = 0 بلاک کے مرکز کے مقام کی نشاندہی اس وقت کرتا ہے جب اسپرنگ حالت توازن میں ہے۔   A–اور A +  سے نشان زد کیے گئے مقامات، وسطی مقام کے بائیں اور دائیں طرف ازحد نقل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ اسپرنگ میں خصوصی خاصیتیں پائی جاتی ہیں، جنھیں سب سے پہلے انگر یز طبیعیات داں روبرٹ ہوک (Robert Hook) نے دریافت کیا تھا۔ انھوں نے ثابت کیا تھا کہ ایسے نظام میں اگر تخریب (Deformation) کردی جائے تو اس میں بحالی قوتیں پیداہوجاتی ہیں،جن کی عددی قدریں تخریب یا نقل کے متناسب ہوتی ہیں او روہ مخالف سمت میں کام کرتی ہیں۔ یہ ہوک کا قانون کہلاتا ہے (باب 9) ۔ یہ اس نقل کے لیے درست ہے، جب نقل، اسپرنگ کی لمبائی کے مقابلے میں چھوٹا ہو۔ کسی بھی وقتtپر،اگر بلاک کا نقل، اس کے وسطیٰ مقام سے،   xہے، تو بلاک پر لگ رہی بحالی قوت Fہے۔
      F (x)   = –k x       (14.19)
متناسبیت کا مستقلہ k، اسپرنگ مستقلہ کہلاتا ہے۔ اس کی قدر، اسپرنگ کی لچکیلی خاصیتوں سے متعین ہوتی ہے۔ ایک سخت اسپرنگ کے   kکی قدر زیادہ ہوتی ہے اور ایک نرم اسپرنگ کا   k کم ہوتا ہے۔ مساوات(14.19)، SHMکے قوت کے قانون، کے یکساں ہے، اس لیے نظام ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔ مساوات (14.14)سے،
mushaira
اور اہتزاز کار کا دوری وقت T: 
اہتزازات
مساوات (14.20)اور مساوات(14.21)سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک سخت اسپرنگ (   kکی بڑی قدر)اور ہلکے بلاک (کم کمیت) سے زاویائی تعدد کی بڑی قدر، اور اس لیے ایک چھوٹا دور، منسلک ہے۔  

مثال 14.8: ایک 500 Nm-1 اسپرنگ کے مستقلہ کے اسپرنگ سے ایک 5kg کا کالر  (Collar) منسلک ہے۔ یہ ایک افقی چھڑ پر بغیر رگڑ کے، پھسلتا ہے۔ کالر کو اس کے وسطی مقام سے 10.0cm منتقل کیا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیاجاتا ہے۔ حساب لگائیے
(a) اہتزازات کا دور (b) ازحد رفتار
(c) کالر کا ازحد اسراع

جواب:   (a) اہتزازات کا دور، مساوات   (14.21)کے ذریعے ۔
14-107
(b)۔ SHMکرتے ہوئے کالر کی رفتار دی جاتی ہے:
14-108
چال کی از حد قدر ہے
14-109
(c)   توازن سے نقل tx پر، کالر کا اسراع دیا جاتا ہے:
14-110
اس لیے اسراع کی از حد قدر ہے  
14-112
اور یہ منتہاؤں (Extremeties)پر ہوتا ہے۔

14.8.2   سادہ پنڈولم

  The simple pendulum

یہ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے، ایک چرچ میں جھولتے ہوئے فانوس کا دور اپنی نبض کی دھڑکن کے ذریعے معلوم کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ فانوس کی حرکت، دوْری تھی۔ یہ نظام (فانوس) ایک طرح کا پنڈولم ہے۔ تقریباً 100 cm لمبے ، ایک نہ کھینچ سکنے والے دھاگے سے ایک پتھر کا ٹکڑا باندھ کر آپ بھی اپنا پنڈولم تیار کرسکتے ہیں۔ اپنے پنڈولم کو ایک مناسب سہارے سے اس طرح لٹکا دیجیے کہ وہ اہتراز کرنے کے لیے آزاد ہو۔ پتھر کو ایک سمت میں تھوڑا سا منتقل کیجیے اور پھر اسے چھوڑ دیجیے۔ پتھر اِدھر اُدھر حرکت کرتا ہے، جو دوْری حرکت ہے اور اس کا دوْر تقریباً2سیکنڈ ہے۔ کیا یہ حرکت سادہ ہارمونی ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہم ایک سادہ پنڈولم لیتے ہیں۔ یہ کمیتm کا ایک ذرہ ہے ]جو پنڈولم کا بوب(Bob)کہلاتا ہے[جسے ایک ناکھینچ سکنے والی، بغیر کمیت کی L(Massless)لمبائی کی ایک ڈوری کے ایک سرے پر باندھ دیا گیا ہے اور ڈوری کا دوسرا سرا ایک استوار سہارے (Rigid Support) میں نصب ہے۔ جیسا کہ شکل 14.19 (a) میں دکھایا گیا ہے۔ بوب، آگے پیچھے (یا دائیں بائیں) ، کہا جاسکتا ہے کہ چول (Pivot)کے نقطے سے گزرتے ہوئے صفحے کے مستوی میں، عمودی خط کے دائیں بائیں، جھولنے کے لیے آزاد ہے۔
بوب پر لگ رہی قوتیں ہیں : ڈوری کا تناؤ (T (Tension   اور مادی کشش کی قوت14-113  جیسا کہ شکل 14.19 (b)میں دکھا یا گیا ہے۔ ڈوری   انتصاب  (Vertical)کے  ساتھ زاویہ14-114  بناتی ہے۔ ہم قوت  14-115  کو ایک نصف قطری جز  14-116  اور ایک مماسی جز  14-117  میں تحلیل کرتے ہیں۔ نصف قطری جز کی ڈوری کا تناؤ تنسیخ (Cancellation) کردیتا ہے کیوں کہ ڈوری کی لمبائی کی سمت میں کوئی حرکت نہیں ہورہی ہے۔ مماسی جز(Tangential Component)، چول کے نقطے کے گرد ایک بحالی پیچہ (Restoring Torque) پیدا کرتا ہے۔ یہ پیچہ ہمیشہ بوب کے نقل کے مخالف کا کرتا ہے۔اور بوب کواس کے مرکزی مقام کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔ مرکزی مقام، مقامِ توازن (Equilibrium Position)   کہلاتا ہے  14-118  ، کیوں کہ اگر پنڈولم جھول نہ رہا ہو تو وہ اس مقام پر حالت سکون میں ہوگا۔

14-119
14-120

شکل 14.18 (a) ایک سادہ پنڈولم (b) بوب پر کام کررہی قوتیں ہیں: مادی کشش کی قوت  14-121  اور دوری کا تناؤ Tمادی کشش کی قوت کا مماسی جز ایک بحالی قوت ہے جو پنڈولم کو مرکزی مقام پر واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔

14-122
جہاں منفی علامت یہ نشاندہی کرتی ہے کہ پیچہ ،14-114  کو کم کرنے کے لیے کام کرتا ہے، اور L، قوت14-123  کی چول کے گرد معیارِ اثر بازو(Moment Arm)کی لمبائی ہے۔ گردشی حرکت کے لیے، ہمارے پاس ہے:  
14-124
جہاں1، پنڈولم کا گردشی جمود (Rotational Inertia) ہے اور a، اس نقطہ کے گرد، اس کا زاویائی اسراع ہے۔ مساوات(14.22)سے، ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
maulana
Fg کی عددی قدر یعنی mg رکھنے پر ہمیں ملتا ہے
سسٹم
 یا
ڈاکٹر
اگر ہم فرض کرلیں کہ نقل سجاچھوٹا ہے، تو ہم مساوات (14.25) کو سادہ بنا سکتے ہیں
ہم جانتے ہیں کہ مفتاکو ظاہر کیا جا سکتا ہے
سججا
جہاں daldiya, ریڈین میں ہے۔
اب اگر اباگرچھوٹا ہے تو math کی تقریبی قدر جادوگر ہوگی، اور مساوات (14.25) اب لکھی جا ستکی ہے:
سبرت
جدول (14.1)میں ہم نےزاویہ  14-114  کی ڈگری میں قدریں، ان کے مساوی ریڈین میں قدریں اور مطابق ، تفاعل  14-127  کی، قدر یں دی ہیں۔ اس جدول سے دیکھا جاسکتاہے کہ  14-114  کی قدر اگر  14-128  تک بھی ہو، جب بھی14-114ی قدر اور  14-114کی ریڈین میں قدر تقریباً یکساں ہیں۔

جدول 14.1 کھاتہ داریبہ طور زاویہ چار کا تفاعل
balti (ڈگری) kilsa(ریڈین) jamia
0 0 0
5 0.087 0.087
10 0.0174 0.174
15 0.262 0.259
20 0.349 0.342

مساوات (14.27) مساوات (14.11)کا زاویائی مماثل (Angular Analogue)ہے، اور ہمیں بتاتی ہے کہ پنڈولم کا زاویائی اسراع ، زاویائی نقل  14-114کے متناسب ہے لیکن علامت میں مخالف ہے۔ اس لیے ، جب پنڈولم دائیں طرف حرکت کرتا ہے تو اس کا کھینچاؤ (بائیں طرف) بڑھتا ہے ، یہاں تک کہ یہ رک جاتا ہے اور اپنی بائیں طرف لوٹنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح جب پنڈولم بائیں جانب حرکت کرتا ہے تو اس کا دائیں جانب کا اسراع اسے دائیں طرف واپس لانے کی کوشش کرتا ہے (اور اسی طرح اور ) ، اس طرح یہ آگے پیچھے (دائیں ، بائیں) SHM میں جھولتا ہے۔ اس لیے چھوٹے زاویوں سے جھولتے ہوئے سادہ پنڈولم کی حرکت تقریباً SHMہے۔
مساوات(14.27)کا مساوات(14.11)سے مقابلہ کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ سادہ پنڈولم کا زاویائی تعدد (Angular Frequency) ہے:
sajalo
اور پندولم کا دور T ہے: 
ہفتہ
ایک سادہ پنڈولم کی تمام کمیت اس کے بوب کی کمیت mمیں مرتکز ہوتی ہے، جو کہ چول کے نقطے سے نصف قطرLپر ہے۔اس لیے، اس نظام کے لیے، ہم لکھ سکتے ہیں:14-131  اورمساوات (14.28)میں اسے رکھنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے:

SHM - سعت کتنی چھوٹی ہوین چاہیے؟
جب آپ ایک سادہ پنڈولم کا دوری وقت معلوم کرنے کے لیے تجربہ کرتے ہیں، تو آپ کے استاد آپ سے کہتے ہیں کہ سعت (Amplitude) چھوٹی رکھیے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی پوچھا ہے کہ کتنا چھوٹا، چھوٹا ہوگا؟ سعت 5º ہونا چاہیے، 0.5º , 1º, 2º ؟ یا یہ 20º10º, یا 30º ہو سکتا ہے؟

اسے اچھی طرح سمجھنے کے لیے بہتر ہوگا کہ آپ مختلف سعتوں کے لیے، بڑی سعتوں تک، دوری وقت ناپیں۔ بے شک، بڑے اہتزازات کے لیے آپ کو احتیا ط برتنی ہوگی کہ پینڈولم ایک انتصابی مستون (Vertical Plane) میں ہی حرکت کرے۔ آئیے چھوٹی سعت کے اہتزازات کے دوری وقت کو (0) T سے ظاہر کرتے ہیں اور سعت مثال کے لیے دوری وقت اس طرح لکھتے ہیں:urdu
جہاں c ایک ضرب کا جز ہے۔ اگر آپ c بر خلاف عباد  گراف کھیچیں، تو آپ کو کچھ اس طرح کی قدریں حاصل ہوں گی: 
بزم
اس کا مطلب ہے، کہ 20º کی سعت پر، دوری وقت میں غلطی تقریبا %2 ہے اور 50º کی سعت پر تقریبا %5, 70º کی سعت پر تقریبا %10 اور 90º کی سعت پر تقریبا %18۔
تجربہ کے ذریعے آپ (0) T کی پیمائش کبھی نہیں کر سکتے، کیوں کہ اس کا مطلب ہوگا کہ کوئی اہتزازات نہیں ہیں۔ نظری طور پر بھی، نظامت کے بالکل درست طورپر، صرف قدیم کے لیے مساوی ہے۔ ممسا کی باقی تمام قدروں کے لیے کچھ غیر درستگی صحت ہوگی۔ اور یہ فرق اورر کی قدر میں اضافہ کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔ اس لیے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کتنا سہو (Error) برداشت کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی پیمائش کبھی بھی کامل طور پر درست نہیں ہوتی۔ آپ لو ایسے سوالات پر بھی سوچنا ہوگا: ایک اٹاپ واچ کی درستگئی صحت (Accuracy) کیا ہے؟ آپ کو احسا ہوگا کہ اس سطح پر آپ کی پیمائشوں کی درستگی صحت کبھی بھی %5 یا %10 سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ کیو کہ اوپر دیے ہوئے جدول سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پنڈولم کے دوری وقت میں زیادہ سے زیادہ %5 کا اضافہ ہوتا ہے، (اس کی کم سعت کی قدر کے مقابلے میں ) اگر سعت 50º کردیں تو بھی۔ اس لیے آپ اپنے تجربات میں سعت 50º تک رکھ سکتے ہیں۔

salam
مساوات (14.29) ایک سادہ پنڈولم کے دوْری وقت کے لیے ایک سادہ ریاضیاتی عبارت ظاہر کرتی ہے۔

مثال 14.9  ایک سادہ پنڈولم کی لمبائی کیا ہوگی؟ جو سیکنڈوں میں ٹِک ٹِک کرتا ہے۔

جواب:   مساوات(14.24)سے، ایک سادہ پنڈولم کا دوْری وقت دیا جاتا ہے:
14-136
اس رشتہ سے ہمیں حاصل ہوتاہے:
14-137
اس پنڈولم کا دوْری وقت، جو سیکنڈوں میں ٹِک ٹِک کرتا ہے، 2sہے۔
salaryharam

14.9   قعری سادہ ہارمونی حرکت

Damped simple harmonic motion

ہم جانتے ہیں کہ ایک ہوا میں جھولتے ہوئے سادہ پنڈولم کی حرکت آخر کار رک جاتی ہے۔ایساکیوں ہوتا ہے؟ یہ ہوا کی کشید (Drag) اور سہارے پر رگڑ کے پنڈولم کی حرکت کی مخالفت کرنے اور بتدریج پنڈولم کی توانائی کا اسرف (Dissipate)کرنے کی وجہ سے ہوتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنڈولم قعری اہترازات (Dampid Oscillaion) کررہا ہے۔ قعری اہترازات میں حالاں کہ نظام کی توانائی کا لگاتار اسراف ہوتا رہتا ہے مگر اہترازات بہ ظاہر دوْری رہتے ہیں۔ اسرافی قوتیں ، عام طور سے رگڑ کی قوتیں ہوتی ہیں۔ ایسی باہر ی قوتوں کا ایک اہتراز کار پر اثر دیکھنے کے لیے ایک ایسا نظام لیتے ہیں، جیسا کہ شکل14.20 میں دکھا یا گیا ہے۔ یہاں ایک m کمیت کا بلاک ایک اسپرنگ مستقلہ k کے اسپرنگ پر انتصابی اہتراز کرتا ہے۔ بلاک ایک چھڑ کے ذریعے ایک باد نما (Vane) سے منسلک ہے (باد نما اور چھڑ کی کمیت صفر مانی جاتی ہے)۔ باد نما ایک رقیق میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جب بلاک اوپر نیچے اہتراز کرتا ہے تو بادنما بھی اس کے ساتھ رقیق میں حرکت کرتی ہے۔ باد نما کی اوپر نیچے حرکت رقیق کو اپنی جگہ سے ہٹاتی ہے، جو پھر اس پر اور اس طرح پورے اہتراز کرتے ہوئے نظام پر ایک رکاوٹ ڈالنے والی، کشید قوت (Drag Force)، (لزج کشیدViscous Drag) لگاتی ہے۔ وقت کے ساتھ، بلاک ۔ اسپرنگ نظام کی میکانیکی توانائی کم ہوتی جاتی ہے، کیوں کہ یہ توانائی رقیق اور باد نما کی حراری توانائی میں منتقل ہوجاتی ہے۔
فرض کیجیے کہ رقیق کے ذریعے نظام پر لگائی گئی کشید قوت14-139  ہے۔ اس کی عددی قدر، باد نما یا بلاک کی رفتار v کے متناسب ہے ۔ یہ قوتِ کشید،   v کی مخالف سمت میں کام کرتی ہے۔
14-140

شکل 14.19 ایک قعری سادہ ہارمونی اہتراز کار– رقیق میں ڈوبی ہوئی باد نما، اوپر نیچے اہتراز کرتے ہوئے، بلاک پر ایک قعری قوت لگاتی ہے۔


یہ مفروضہ جب ہی تک درست ہے، جب بادنما آہستہ حرکت کررہی ہو۔ تب x –محور پر حرکت کے لیے (انتصابی سمت، جیسا کہ شکل 14.20 میں دکھایا گیاہے)، ہمارے پاس ہے۔  
14-141
جہاں b ایک قعری مستقلہ ہے، جو رقیق اور باد نما کی خصوصیتوں کے تابع ہے۔ منفی علامت یہ واضح کر دیتی ہے کہ، ہر ساعت پر، قوت، رفتار کے مخالف ہے۔
جب کمیت m کو اسپرنگ سے منسلک کیا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اسپرنگ کچھ تھوڑا سا لمبائی میں کھینچتا ہے اور پھر کمیت کسی ایک اونچائی پر رک جاتی ہے۔ یہ مقام، جسے شکل  14.20میںOسے دکھا گیا ہے، کمیت کا مقامِ توازن ہے۔ اگر کمیت کو تھوڑا سا نیچے کھینچا جائے یا تھوڑا سا اوپر دھکیلا جائے، تو اسپرنگ کی وجہ سے بلاک پر بحالی قوت ہوگی14-142  جہاں x کمیت کا مقام توازن سے نقل ہے۔ اس لیے، کسی بھی وقت t پر، کمیت پر لگ رہی کل قوت ہے:14-143، اگر وقت t پر، کمیت کا اسراع (a (tہے تو،x– محور پر قوت کے جز کے لیے، نیوٹن کے حرکت کے دوسرے قانون کے مطابق،
14-144
یہاں ہم نے سمتی علامتوں کو استعمال نہیں کیا ہے، کیوں کہ ہم یک – ابعادی حرکت سے بحث کررہے ہیں۔ (v(t کے لیے dx/dt رکھنے پر اور اسراع (a(t کے لیے   14-145رکھنے پر اور ارکان کو دوبارہ ترتیب دینے پر، مساوات(14.31) سے مندرجہ ذیل تفرقی مساوات حاصل ہوتی ہے:  
14-146
مساوات(14.32) کا حل، ایک ایسی قعری قوت کے زیرِ اثر ، بلاک کی حرکت کو بیان کرتا ہے، جو رفتار کے متناسب ہے۔ حل اس شکل میں حاصل ہوتا ہے:  
kab
جہاں A سعت ہے اور عاطف قعری اہتزاز کار کا زاویائی تعدد ہے، جو دیا جاتا ہے:
براعظم
اس تفاعل میں، Cosine   تفاعل کا دور14-148   ہے، لیکن تفاعل (x(t، تاکیدی طور پر (Strictly)دوری نہیں ہے، کیوں کہ جز ضربی  14-149  ، وقت کے ساتھ، لگاتار کم ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی، اگر ایک دوْری وقت T میں یہ کمی ، چھوٹی ہو، تو مساوات(14.33)کے ذریعے ظاہر کی گئی حرکت تقریباً ڈوری ہے۔
حل ،مساوات (14.33) کو گرافی طورپر ، شکل (14.21)کی طرح دکھا یا جاسکتا ہے۔ ہم اسے ایک (Cosine) تفاعل مان سکتے ہیں، جس کی سعت 14-150ہے، جو وقت کے ساتھ بتدریج کم ہوتی ہے۔  
14-151

شکل 14.20 قعری ہارمونک اہترازات میں نقل بہ طور تفاعل وقت ۔ قعر، منمنی a سے d تک لگاتار بڑھ رہا ہے۔

اگر b = 0 (کوئی قعر نہیں ہے)، تو مساوات(14.33)اور مساوات ((14.34)، حسبِ ترتیب ، مساوات(14.4)اور (14.14b) میں تحلیل ہوجاتی ہیں، جو ایک غیر قعری اہتراز  کار کے لیے نقل اورزاویائی تعدد کی ریاضیاتی عبارتیں ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک غیر قعری اہتراز کار کی میکانیکی توانائی مستقلہ ہوتی ہے اورمساوات14-152سے دی جاتی ہے۔ اگر قعر چھوٹا ہے تو ہم مساوات(14.18)میں14-153  (قعری اہترازوں کی سعت) کو   Aکی جگہ رکھ کر، ett معلوم کرسکتے ہیں۔ اس طرح، ہمیں حاصل ہوتا ہے:
14-154
مساوات (14.35)ظاہر کرتی ہے کہ نظام کی کل توانائی ، وقت کے ساتھ قوت نمائی طور پر (Exponentially) کم ہوتی ہے۔ نوٹ کریں کہ چھوٹے قعر کا مطلب ہے کہ غیر ابعادی  نسبت 14-155  سے، بہت کم ہے۔

مثال 14.10 شکل 14.19 میں دکھائے گئے قعری اہتزاز کار کے لیے، بلاک کی کمیت 200g,m ہے، k = 90 N m-1 ہے، قعر مستقلہ  mustaqillah ہے۔ حساب لگائیے: (a) اہتزاز کا دور (b) اس کے اہتزازوں کے سعت کی قدر، آغازی قدر کی نصف ہونے میں لگنے والا وقت۔

جواب: (a) ہم دیکھتے ہیں کہ: 
مجمع
اس لیے b, technicalسے بہت چھوٹا ہے۔ 
اس لیے مساوات (14.34) سے دوری وقت(T) دیا جاتا ہے:
جہو
(b) اب مساوات (14.33) سے، وقت   14-157، جو سعت کی قدر کو آغازی قدر کانصف ہونے میں لگتا ہے، دیاجاتا ہے:
14-158
(c) وقت14-157کا حساب لگانے کے لیے، جو اس کی توانائی (میکانیکی) کی قدر کو آغازی قدر کا نصف ہونے میں لگتا ہے، ہم مساوات(14.35) استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ہے۔
14-159
14-160
یہ سعت کے تنزل دور(Decay Period)کا نصف ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ کیوں کہ مساوات (14.33) اور مساوات (14.35) کے مطابق، توانائی، سعت کے مربع پر منحصر ہے۔ نوٹ کریں کہ دونوں قوت نمائیوں (Exponentials) کے قوت نماؤں (Exponents) میں 2 کا ایک جز ضربی ہے۔

14.10 جبری اہتراز اور گمک

Forced oscillations and resonance  

ایک جھولے میں جھولتا ہوا شخص، جب کہ کوئی اسے دھکا نہ دے رہا ہو اور ایک سادہ پنڈولم، جسے اپنی جگہ سے ہٹا کر چھوڑ دیا گیا ہو، آزاد اہترازات کی مثالیں ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں، جھولنے کی سعت بتدریج کم ہوتی جائے گی اور نظام آخر کار حرکت بند کردے گا۔ ہمیشہ موجود رہنے والی اسرافی قوتوں کی وجہ سے، آزاد اہترازات کو، عملی طور پر، قائم نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ قعری ہوجاتے ہیں، جیسا کہ ہم حصہ 14.9میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن اگر آپ، جھولے میں جھولتے ہوئے، دوْری طور پر ، زمین کو اپنے پیروں سے دبا کر ایک دھکا لگاتے رہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ نہ صرف اہترازوں کو قائم رکھا جاسکتا ہے بلکہ ان کی سعت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس شرط کے تحت جھولے میں جبری (Forced) یا چلائے ہوئے (Driven)اہتراز ہیں۔ جب ایک نظام ایک ہارمونی قوت کے زیرِ عمل، جبری اہترازات کررہا ہو، تو اس صورت میں دو زاویائی تعدد اہم ہوجاتے ہیں:   (1) نظام کا قدرتی زاویائی تعدد  14-33۔ یہ وہ تعدد ہے جس سے نظام اہتراز کرے گا، اگر اسے اس کے مقام توازن سے ہٹا کر چھوڑ دیا جائے اور آزادانہ اہتراز کرنے دیے جائیں ۔ اور (2) باہری قوت، جو جبری اہتراز کرارہی ہے، اس کا زاویاتی تعدد14-161  ۔
فرض کیجیے ایک باہری قوت (F(t، جس کی سعت 14-162  ہے اور جو وقت کے ساتھ دوری طور پر تبدیل ہوتی ہے، ایک قعری اہتراز کار پر لگائی جاتی ہے۔ ایسی قوت ظاہر کی جاسکتی ہے:
14-163
ایک ایسے ذرہ کی حرکت، جس پر ایک خطّی بحالی قوت، قعری قوت اور تابع وقت،چلانے والی قوت (جو مساوات14.36سے ظاہر کی گئی ہے) لگ رہی ہوں، دی جاسکتی ہے:
laya
مساوات (14.37a) میں اسراع philanکی جگہ کھانا رکھنے پر اور ارکان کو دوبارہ ترتیب دینے پر، حامل ہوتا ہے۔
hamil
یہ کمیت mکے اس اہتراز کار کی مساوات ہے، جس پر ایک زاوائی تعدد  14-50  کی دوری قوت لگائی گئی ہے۔ یہ اہتراز کار آغاز میں اپنے قدرتی تعدد14-161سے اہتراز کرتا ہے۔ جب ہم باہری دوری قوت لگاتے ہیں تو قدرتی تعدد کے ساتھ ہونے والے اہترازات رکتے جاتے ہیں اور پھر جسم باہری دوری قوت کے زاویائی تعدد کے ساتھ اہتراز کرنے لگتا ہے۔ قدرتی اہترازات رک جانے کے بعد، اس کا نقل دیا جاتا ہے:  
14-165
جہاں وقت t اس ساعت سے ناپا گیا وقت ہے ، جب باہری دوری قوت لگائی جاتی ہے۔  
سعت A، جبری تعدد  14-161اور قدرتی تعدد14-50  کا تفاعل ہے۔ تجزیہ دکھاتا ہے کہ یہ دیا جاتا ہے۔
dusri
اور  ٹیپ

جہاں mذرہ کی کمیت ہے اور14-167پر، یعنی اس ساعت پر جب باہری دوری قوت لگائی جاتی ہے، ذرہ کی رفتار اور اس کا نقل ہے۔ مساوات (14.39) ظاہر کرتی ہے کہ جبری اہتراز کار کی سعت، چلانے والی قوت (Driving Force)کے زاویائی تعدد پر منحصر ہے۔ جب  14-161  ،14-50  سے بہت مختلف ہوتی ہے اور  14-50  کے بہت نزدیک ہوتی ہے تو دونوں صورتوں میں اہتراز کار کا بالکل مختلف برتاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔ہم یہ دونوں صورتیں لیتے ہیں:
(a)   چھوٹا قعر،چلانے والا تعدد، قدرتی تعدد سے بہت مختلف ہے: اس صورت میں،14-168سے بہت چھوٹا ہوگا اور ہم اسے نظر انداز کرسکتے ہیں۔ تب مساوات (14.39)سے حاصل ہوتا ہے:
14-169
شکل 14.22 میں، ایک اہتراز کار کے نقل سعت کا چلانے والی قوت کے تعدد پر انحصار، نظام میں موجود مختلف مقدراوں کے قعر کے لیے، دکھا یا گیا ہے۔ یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ دکھائی  گئی تمام صورتوں میں، سعت کی قدر ازحد ہے، جب :14-170   اس شکل کے منحنی ظاہر کرتے ہیں کہ قعر جتنا کم ہوتا ہے، گمک فراز (Resonance Peak) اتناہی اونچا اور پتلا ہوتا ہے۔  
اگر ہم چلانے والا تعدد تبدیل کرتے رہیں، تو سعت لامتناہی کے نزدیک ہوجاتی ہے، جب یہ قدرتی تعدد کے مساوی ہوتی ہے ۔ لیکن یہ صفر قعر والی ایک مثالی صورت ہے، جو حقیقی نظاموں میں کبھی نہیں پیدا ہوتی کیوں کہ قعر کبھی بھی کامل طورپر صفر نہیں ہوتا۔ آپ نے جھولا جھولتے وقت محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ کے ڈھکیلنے کے اوقات او رجھولے کا دور بالکل درست طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہوتے ہیں، آپ کے جھولے کی سعت ازحدہوجاتی ہے۔ یہ سعت، بڑی ہے لیکن لاانتہا نہیں، کیوں کہ آپ کے جھولے میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ قعر ضرور ہے۔ یہ (b)میں اور واضح ہوجائے گا۔ (b) چلانے والا تعدد ، قدرتی تعدد کے نزدیک ہے: اگر14-161،  14-50  کے نزدیک ہو تو  14-171
14-172سے بہت کم ہوگا۔
(bکی کسی بھی معقول قدر کے لیے)، اور مساوات (14.39)سے حاصل کیا جاسکتا ہے  

گجرا

شکل 14.21 ایک قعری اہتراز کار کی سعت بطور چلانے والی قوت کے زاویائی تعدد کا تفاعل(گمک شرط) 14-174  پر سعت سب سے زیادہ ہے۔ یہ تین منحنی، نظام میں موجود قعر کی مختلف قدروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ منحنی 1اور 3 سب سے کم اور سب سے زیادہ قعر سے مطابقت رکھتے ہں۔   

isse
اس سے واضح ہوتا جاتا ہے ایک دی ہوئی چلانے والے تعدد کی قدر کے لیے، ازحد ممکنہ سعت، چلانے والی قوت کے تعدد اور قعر سے معین ہوتی ہے، اور کبھی لامتناہی نہیں ہوتی۔ چلانے والی قوت کے تعدد کی قدر، اہتراز کار کے قدرتی تعدد کے قدر کے قریب ہونے پر، سعت میں اضافہ کا مظہر گمک (Resonance)کہلاتا ہے۔  
ہم اپنی روزانہ زندگی میں ایسے بہت سے مظاہر دیکھتے ہیں، جن میں گمک شامل ہوتی ہے۔ آپ کا جھولے کے ساتھ تجربہ بھی گمک کی ایک اچھی مثال ہے۔ آپ نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ زیادہ اونچائی تک پینگ بڑھانے کی مہارت کا دارومدار ، زمین پر پیر مارنے کے تعدد اور جھولے کے قدرتی تعدد میں ہمہ وقتی (Synchronisation) پیدا کرنے پر ہے۔
اس نقطہ کی مزید وضاحت کرنے کے لیے ، ہم مختلف لمبائیوں کے، ایک مشترکہ رسی سے خاص ترتیب میں لٹکے ہوئے، پانچ پنڈلموں کا ایک سیٹ لیتے ہیں، جیسا کہ شکل 14.23میں دکھایاگیا ہے ۔ پنڈولم 1اور 4 کی لمبائیاں یکساں ہیں اور دوسرے پنڈولموں کی لمبائیاں مختلف ہیں۔ اب ہم پنڈولم 1کو حرکت میں لاتے ہیں۔ اس پنڈولم سے توانائی، منسلک کرنے والی رسی کے ذریعے، دوسرے پنڈولموں میں منتقل ہوجاتی ہے اور بھی اہتراز کرنا شروع کردیتے ہیں۔ چلانے والی قوت ، منسلک کرنے والی رسی کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے۔ اس قوت   کا تعدد وہ ہے جس سے پنڈولم 1اہتراز کرتا ہے۔ اگر ہم پنڈولم 2,3اور 5 کا رد عمل دیکھیں ، تو وہ اپنے قدرتی تواتر سے اور مختلف سعتوں کے ساتھ اہترازات کرتے ہیں۔ لیکن یہ حرکت بتدریج قعری ہوتی جاتی ہے اور آخر کار وہ پنڈولم 1کے تواتر سے اہتراز کرنے لگتے ہیں۔ ان کی سعتیں چھوٹی ہوتی ہے۔ پنڈولم 4کا ردعمل، ان تینوں پنڈولموں کے سیٹ کے رد عمل سے بالکل مختلف ہے۔ پنڈولم 4، پنڈولم 1کے تواتر سے اہتراز کرتا ہے اور اس کی سعت بتدریج بڑھتے ہوئے بہت زیادہ ہوجاتی ہے ایک گمک جیسا رد عمل نظر آتا ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ اس صورت میں گمک کے لیے شرط مطمئن ہوتی ہے، یعنی کہ نظام کا قدرتی تواتر، چلانے والی قوت کے تواتر پر منطبق ہے۔

14-176

شکل 14.22 ایک مشترکہ رسی سے لٹکے ہوئے پانچ سادہ پنڈولموں کا نظام

تمام میکانیکی تنصیبات کے ایک یا زیادہ قدرتی تواتر ہوتے ہیں اور اگر اس پر ایک ایسی طاقت ور، باہری، دوری، چلانے والی قوت لگائی جائے جس کا تواتر، ان کے قدرتی تواتروں میں سے کسی ایک سے میل کھاتا ہو تو تنصیب میں پیدا ہونے والے اہترازات اس میں دراڑ ڈال سکتے ہیں۔Puget Sound, Washington, USA   میںThe Tacoma Narrows Bridge   کو 1، جولائی 1940 میں کھولا گیا۔4 مہینوں بعد ہواؤں نے ایک ایسی اہترازی ماحصل قوت پیدا کی، جو پل کے قدرتی تواتر سے گمک میں تھی۔ اس سے اہتراز کی سعت میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ پل ٹوٹ گیا۔اسی وجہ سے ایک پل پر سے گذرتے ہوئے، فوجی، پریڈ کرنا بند کردیتے ہیں۔ ہوائی جہازڈیزائن کرنے والے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جن جن قدرتی تواتروں پر ، ایک پراہتراز کرسکتا ہے، ان میں سے کوئی بھی اڑان کر رہے انجنوں کے تواتر سے میل نہ کھائے۔ زلزلوں سے بہت نقصان ہوتا ہے۔یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ کبھی کبھی ایک زلزلے کے دوران کم اور زیادہ اونچائی کی عمارتوں پر اثر نہیں پڑتا جبکہ درمیانی اونچائی کی عمارتیں گرجاتی ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ زلزلے کی لہروں کے تعددکے مقابلے میں، اونچی عمارتوں کا تعدد زیادہ ہوتا ہے اور نیچی عمارتوں کا تعدد کم ہوتا ہے۔


خلاصہ
1. جو حرکت اپنے آپ کو دہراتی ہے، دوْری حرکت کہلاتی ہے۔
2. دو ر  T  ، ایک مکمل اہتراز یا سائیکل میں لگنے والا وقت ہے۔ اس کا تعدد v سے رشتہ ہے:
vse
دوری یا اہترازی حرکت کا تعدد، اہترازوں کی تعداد فی اکائی وقت ہے۔ S1 میں اسے ہرٹز میں ناپاجاتا ہے۔
ahtraz
3. سادہ ہارمونی حرکت میں، ایک ذرہ کا اپنے مقامِ توازن سے نقل chaloaaj دیا جاتا ہے:
code
جہاں A، نقل کی سعت ہے۔ مقدار harakatt حرکت کا فیز ہے اور phase فیز مستقلہ ہے۔ زاویائی تعدد taddud کے حرکت کے دور اور تعدد سے رشتے ہیں:
(زاویائی تعدد)  abad

4. سادہ ہارمونی حرکت کو ایسے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ یکساں دائری حرکت کا اس دائرے کے قطر پر ظل ہے، جس پر دائری حرکت ہورہی ہے۔
5. SHMکے دوران رفتار اور اسراع بہ طور تفاعل وقت دیے جاتے ہیں:
(رفتار)  right
(اسراع)      اسراع
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے جسم کی رفتار اور اس کا اسراع دونوں دوری تفاعل ہیں، جن میں رفتار سعت Vm اور اسراع سعت am، بالترتیب ہیں:
مایلفط

6. سادہ دوری حرکت میں کام کررہی قوت، نقل کے متناسب ہوتی ہے اور ہمیشہ، اس کی سمت حرکت کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔

7. ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ذرے کی، کسی بھی ساعت وقت پر، حرکی توانائی:harki اورتوانائی بالقوۃ:tawani ہوتی ہیں۔اگر کوئی رگڑ موجود نہ ہو، تو نظام کی میکانیکی توانائیuu ہمیشہ مستقلہ رہتی ہے، حالاں کہ Kاور U وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔

8. mکمیت کا ایک ذرہ جو ہوک کے قانون کے ذریعے دی گئی بحالی قوت: F = – kx کے زیر اثر اہتراز کررہا ہو، سادہ ہارمونی حرکت کا اظہار کرتا ہے۔، جس کیے لیے
(زاویائی توانائی)  امت
(دور)                          خوبصورت
ایسے نظام کو خطی اہتزاز کار بھی کہتے ہیں۔

9. چھوٹے زایوں سے اہتراز کرتے ہوئے ایک سادہ پنڈولم کی حرکت، تقریبی طور پر سادہ ہارمونی ہوتی ہے۔ اس کا اہتراز کا دور دیا جاتا ہے۔
beta
10. ایک اہتراز کرتے ہوئے حقیقی نظام میں ، اہترازات کے دوران میکانیکی توانائی کم ہوتی جاتی ہے، کیوں کہ باہری قوتیں، جیسے کشید، اہترازوں میں رکاوٹ پیداکرتی ہیں اور میکانیکی توانائی کو حرارتی توانائی میں منتقل کردیتی ہیں۔ اس صورت میں، حقیقی اہتراز کار او راس کی حرکت، قعری کہلاتے ہیں۔ اگر قعر قوت:css  سے دی جائے، جہاںv اہتراز کار کی رفتار اور b ایک قعر مستقلہ ہے، تو اہتراز کار کا نقل دیاجاتاہے:
argue
جہاں شاھز قعری اہتزاز کار کا زاویائی تعدد، دیا جاتا ہے:
 بیڈ
اگر قعر مستقلہ چھوٹا ہو، تب:qar ، جہاںjahez غیر قعری اہتراز کار کا زاویائی تعدد ہے۔ قعری اہتراز کار کی میکانیکی توانائی E دی جاتی ہے:
sidra

11. اگر ایک باہری قوت، جس کا زاویائی تواتر zaviya ہے، ایک قدرتی زاویائی تواتر aat والے، اہتراز کررہے نظام پر لگتی ہے تو نظام زاویائی تواتر dusr سے اہترازکرتا ہے۔ اہتراز کی سعت ، سب سے زیادہ ہوتی ہے جب،
betiyon
ایک شرط جو گمک کہلاتی ہے۔ 


طبعی مقدار علامت ابعاد اکائی ریمارک
دور T [T] s حرکت کے اپنے آپ کو دہرانے کا کم ترین وقت
تعدد hind [T-1] S-1
زاویائی تعدد beee [T-1] S-1
فیز مستقلہ btc غیر ابعادی rad
قوت مستقلہ quqq [MT-2] Nm-1


قابلِ غور نکات

  1. دور Tوہ کم ازکم وقت ہے، جس کے بعد حرکت اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس لیے حرکت اپنے آپ کو nTکے بعد دہراتی ہے، جہاں n ایک عدد صحیح ہے۔
  2. ہردوری حرکت، سادہ ہارمونی حرکت نہیں ہوتی۔ صرف وہ دوری حرکت، جو قوت قانون F = – kx کے تابع ہوتی ہے، سادہ ہارمونی ہوتی ہے۔
  3. دائری حرکت ، ایک مقلوب ربع قانون قوت (جیسے سیاروں کی حرکت میں) کی وجہ سے اور سادہ ہارمونی قوت کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ سادہ ہارمونی قوت دو ابعاد میں :  14-182کے مساوی ہے۔ دوسری صورت میں، دو عمودی سمتوں میں، حرکت کے فیزوں میں14-185  کا فرق ہونا ضروری ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر اگر ایک ذرہ، جس پر قوت  14-183  لگ رہی ہو اور اس کا آغازی مقام (O,A) اور آغازی رفتار14-184  ہو، ایک نصف قطروں کے دائرہ میں یکساں حرکت کرے گا۔
  4. ایک دی ہوئی  zindagi  کی قدر کے ساتھ خطی سادہ ہارمونی حرکت کے لیے دو آغازی شرائط ، حرکت کو مکمل طور پر معلوم کرنے کے لیے، لازم اور مکتفی ہیں۔ یہ آغازی شرائط ہوسکتی ہیں (i)  آغازی مقام اور آغازی رفتار یا (ii) سعت اور فیز یا (iii) توانائی اور فیز ۔
  5. اوپر دیے ہوئے نکتہ 4سے، دیی ہوئی سعت یا توانائی کی قدرکے لیے ، حرکت کا فیز، آغازی مقام یا آغازی رفتار سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
  6. دوسادہ ہارمونی حرکتوں ، جن کی سعتیں اور فیز بے قاعدہ ہوں، کا مجموعہ لازمی نہیں ہے کہ دوری ہو۔ یہ صرف تب ہی دوری ہوگا جب ایک حرکت کا تعدد دوسری حرکت کے تعدد کا صحیح عددی ضعف ہو۔ لیکن ایک دوری حرکت کو ہمیشہ ایسے لاتعداد ہامونی حرکتوں کے مجموعے کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے، جن کے مناسب سعتیں ہوں۔
  7. SHMکا دور ،  سعت یا توانائی یا فیز مستقلہ کے تابع نہیں ہے۔ اس کا مادی کشش کے تحت، سیاروں کے مدار کے دوروں سے (کیپلر کا تیسرا قانون) موازنہ کیجیے۔
  8. چھوٹے زاویائی نقل کے لیے، ایک سادہ پنڈولم کی حرکت، سادہ ہارمونی ہے۔
  9. ایک ذرے کی حرکت کو سادہ ہارمونی ہونے کے لیے، اس کے نقل x کو مندرجہ ذیل شکلوں میں سے کسی ایک میں ظاہر کیا جاسکنا ممکن ہونا لازمی ہے۔
14-186
یہ تینوں شکلیں ایک دوسرے سے مکمل طور پریکساں ہیں (کسی کو بھی باقی دو کی شکل میں ظاہر کیا جاسکتا ہے)۔ اس لیے، قعری سادہ ہارمونی حرکت [مساوات(14.31)] بالکل درست طور پر سادہ ہارمونی نہیں ہے۔ یہ صرف تقریباً ایسی ہے اگر وقفہ وقت 2/mسے بہت کم ہوں، جہاں b، قعر مستقلہ ہے۔
.10 قعری اہترازات میں، ذرہ کی قائم حالت حرکت (جب قعری اہترازات رک جاتے ہیں) سادہ ہارمونی حرکت ہے، جس کا تعدد چلارہی تعدد  chalob  ہے، ذرہ کا قدرتی تعدد boring ہیں۔
.11 صفر قعر کی مثالی صورت میں، گمک پر، سادہ ہارمونی حرکت کی سعت ، لاانتہا ہوتی ہے۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ صورت کبھی پیش نہیں آتی، کیوں کہ ہر حقیقی نظام میں کچھ قعر ہوتا ہے، چاہے اس کی قدر کتنی بھی کم ہو۔
.12 قعری اہترازات میں، ذرے کے ہارمونی حرکت کا فیز، چلارہی قوت کے فیز سے مختلف ہوتا ہے۔

مشق

14.1 مندرجہ ذیل مثالوں میں سے کون سی مثالیں دوری حرکت ظاہر کرتی ہیں؟
(a) ایک تیراک جو دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاکر واپس پہلے کنارے پر لوٹ کر ایک چکر پورا کرتا ہے۔
(b) ایک آزادانہ لٹکی ہوئی مقناطیسی چھڑ ، جسے اس کی N–Sسمت سے ہٹا کر چھوڑ دیاجاتا ہے۔
(c) ایک ہائیڈروجن مالیکیول جو اپنے مرکز کمیت کے گرد گردش کررہا ہے۔
(d) ایک کمان سے چھوڑا ہوا تیر۔
.14.2 مندرجہ ذیل میں سے کون سی مثالیں تقریباً سادہ ہارمونی حرکت کو ظاہر کرتی ہیں اور کون سی مثالیں ایسی حرکت کو ظاہر کرتی ہیں جو دوری ہے لیکن سادہ ہارمونی نہیں؟
(a) اپنے محور پر زمین کی گردش۔
           (b) ایک U ٹیوب میں اہتراز کرتے ہوئے پارہ کے کالم کی حرکت۔
(c) ایک چکنے خمیدہ پیالے میں بال بیرنگ (Ball Bearing) کی حرکت، جب اسے پیالے میں سب سے نچلے نقطے سے ذرا اوپر چھوڑا جائے۔
(d) ایک کثیر ایٹمی مالیکیول کے اپنے مقامِ توازن کے گرد عمومی ارتعاش
14.3 شکل 14.23میں ایک ذرے کی خطی حرکت کے چار x–tگراف دکھائے گئے ہیں۔ کون سے گراف دوری حرکت کو ظاہر کرتے ہیں؟ حرکت کا دور کیا ہے (دوری حرکت کی صورت میں)؟
14-187
شکل 14.23

14.4 مندرجہ ذیل میں کون سے وقت کے تفاعلات ظاہر کرتے ہیں   (a) سادہ ہارمونی حرکت   (b) دوری لیکن سادہ ہارمونی   حرکت نہیں،   (c) غیر دوری حرکت – ہر دوری حرکت کے لیے دور بتائیے۔(14-50  ایک مثبت مستقلہ ہے):
isiten
14.5 ایک ذرہ دو نقاط Aاور Bکے درمیان، جو ایک دوسرے سے 10 cmکے فاصلے پر ہیں، خطی سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔ Aسے B تک کی سمت کو مثبت سمت لیتے ہوئے ذرہ کی رفتار ،اس کا اسراع اور اس پر لگ رہی قوت کی علامتیں بتائیے ،جب کہ ذرہ
(a)۔ سرے Aپر ہے۔
(b)۔ سرے B پر ہے۔
(c)۔ ABکے وسطی نقطے پر ہے اور Aکی طرف جارہا ہے۔
          (d)۔     Bسے 2 cmکے فاصلے پر ہے اور Aکی طر ف جارہا ہے۔
          (e)۔     Aسے3 cmکے فاصلے پر ہے اور Bکی طرف جارہا ہے۔
          (f)۔     Bسے 4 cmکے فاصلے پر ہے اور Aکی طرف جارہا ہے۔  
14.6 ایک ذرہ کے اسراع   aاور نقل   xکے درمیان ، مندرجہ ذیل رشتوں میں سے کون سے رشتے میں سادہ ہارمونی حرکت شامل ہے:
zamane

14.7 ایک سادہ ہارمونی حرکت کرتے ہوئے ذرہ کی حرکت مندرجہ ذیل نقل تفاعل سے بیان کی جاتی ہے:
meraqusur
اگرذرہ کا آغازی14-191  ہے، تو اس کی سعت اور آغازی فیز زاویے کی قدریں کیا ہیں؟ ذرہ کازاویائی تواتر14-192  ہے۔ اگر ہم ذرہ کے SHMکو بیان کرنے کے لیے cos ineتفاعل کی جگہ sineتفاعل لیں :  14-193، تو مندرجہ بالا آغازی شرائط کے ساتھ، سعت اور آغازی فیز کی کیا قدریں ہوں گی؟
14.8   ایک اسپرنگ ترازو کا اسکیل 0 سے 50 kgتک ناپتا ہے۔ اسکیل کی لمبائی 20 cmہے۔ اس ترازو سے لٹکائے گئے ایک جسم کو جب تھوڑا سا ہٹا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ 0.65کے دور سے اہتراز کرتا ہے۔ جسم کا وزن کیا ہے؟
14.9   ایک اسپرنگ، جس کا اسپرنگ مستقلہ14-194  ہے، ایک افقی میز پر نصب کیا گیا ہے، جیسا کہ شکل 14.24میں دکھایاگیا ہے۔ اسپرنگ کے آزاد سرے سے 3 kgکی کمیت منسلک کی گئی ہے۔ کمیت کو 2.0 cmکے فاصلے تک کھینچاجاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ معلوم کیجیے:   (i) اہترازات کا تعدد   (ii) کمیت کا ازحد اسراع    (iii) کمیت کی ازحد چال۔

afsar
شکل 14.24
14.10 مشق 14.9میں ، ہم جب اسپرنگ کھینچی ہوئی نہیں ہے، تو کمیت کے مقام کو x = 0 مان لیتے ہیں اور بائیں سے دائیں کی سمت کوx  –محور کی مثبت سمت مانتے ہیں۔ اہتراز کرتی ہوئی کمیت کے لیے xبہ طور وقت tکے تفاعل دیجیے، اگر ہم جس ساعت پر اسٹاپ واچ شروع کرتے ہیں (t = 0)، اس وقت کمیت ہے:
           (a)       وسطی مقام پر  
(b) ازحدکھینچے ہوئے مقام پر
(c) ازحد دبے ہوئے مقام پر
14.11 شکل 14.25، دو دائری حرکتوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ دائرہ کا نصف قطر ، ایک گردش کا دور، آغازی مقام، گردش کی سمت (یعنی کہ گھڑی کی سوئیوں کی سمت میں یا اس کے مخالف ) ہر شکل میں دکھائی گئی ہیں:

mubarak
شکل 14.25

دونوں صورتوں میں، گردش کرتے ہوئے ذرے p کے نصف قطر سمتیہ کے nazariya ظل کی متطابق سادہ ہارمونی حرکت حاصل کیجیے۔  
14.12 مندرجہ ذیل سادہ ہارمونی حرکتوں کے لیے متطابق حوالہ دائرہ کھینچیے۔ ذرہ کے آغازی مقام (t = 0)، دائرہ کے نصف قطر اور گردش کرتے ہوئے ذرہ کی زاویائی چال کی نشاندہی کیجیے۔ آسانی کے لیے، ہر صورت میں، گردش کی سمت، گھڑی کی سوئیوں کی مخالف سمت مان لیجیے۔(cm، xمیں ہے اور t سیکنڈ میں)۔
delll
14.13 شکل (a)۔ 14.26 میں ایک اسپرنگ، جس کا قوت مستقلہ k ہے اور جو ایک سرے پر استوار طورپر نصب ہے اور جس کے دوسرے آزاد سرے پر ایک کمیت m منسلک ہے،  دکھایا گیا ہے۔ آزاد سرے پر لگائی گئی ایک قوت F اسپرنگ کو کھینچتی ہے۔ شکل (b) ۔ 14.26 میں اسی اسپرنگ کو دونوں آزاد سروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور دونوں سروں سے  کمیتیں m منسلک ہیں۔ شکل (b)۔ 14.26میں دکھائے گئے اسپرنگ کے ہر سرے پر یکساں قوت F لگائی جاتی ہے۔  

quotation
شکل 14.26

           (a) دونوں صورتوں میں، اسپرنگ میں ازحد توسیع کتنی ہوگی؟
(b) اگر شکل (a)میں کمیت کو اور شکل (b)میں دونوں کمیتوں کو چھوڑ دیا جائے، تو ہر صورت میں، اہتراز کا دور کیاہوگا؟  
14.14 ایک گاڑی کے استوانے میں لگے پسٹن کی ایک ضرب (Stroke) (سعت کا دگنا)  14-199کی ہے۔ اگر پسٹن سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے اور اس کا زاویائی تعدد registration ہے، تو اس کی ازحد رفتار کیا ہے؟  
14.15 چاند کی سطح پر مادی کشش اسراع14-200ہے۔ ایک سادہ پنڈولم کا چاند کی سطح پر دوری وقت کیا ہوگا، اگر زمین کی سطح پر اس کا دوری قوت 3.5 s ہے؟ (زمین کی سطح پر gکی قدر  14-201ہے۔)  
14.16 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
(a) ایک SHMکرتے ہوئے ذرہ کا دوری وقت ، قوت مستقلہ kاور ذرہ کی کمیت mکے تابع ہے:   14-202  ایک سادہ پنڈولم تقریباً SHMکرتا ہے۔ پھر ایک پنڈولم کا دوری قوت اس کی کمیت کے تابع کیوں نہیں ہے؟  
(b) ایک سادہ پنڈولم کی حرکت، کم زاویوں کے اہترازات کے لیے تقریباً سادہ ہارمونی ہے۔ اہتراز کے بڑے زاویوں کے لیے زیادہ پیچیدہ تجزیہ سے حاصل ہوتا ہے کہ  14-203  سے بڑا ہے۔ اس نتیجہ کے حق میں کیفیتی دلائل سوچیے۔
(c) ایک شخص ، جس کے ہاتھ پر کلائی کی گھڑی بندھی ہے، ایک مینار سے نیچے گرتا ہے۔ کیا آزادانہ گرنے کے دوران، گھڑی درست وقت دے گی؟
(d) ارضی کشش کے تحت آزادانہ گرتے ہوئے کمرے میں نصب ایک سادہ پنڈولم کے اہتراز کا تعدد کیا ہوگا؟
14.17 ایک سادہ پنڈولم ، جس کی لمبائی l اور بوب کی کمیتmہے ، کار میں لٹکا ہوا ہے۔ کار ایک دائری راستے پر، جس کا نصف قطر Rہے یکساں رفتار vسے حرکت کررہی ہے۔ اگر پنڈولم اپنے مقام توازن کے گرد ،نصف قطری سمت میں چھوٹے اہتراز کرتاہے، تو اس کا دوری وقت کیا ہوگا؟
14.18 ایک کارک کا استوانی ٹکرا، جس کی کثافت    h اور اساسی رقبہ   A، اونچائی  14-204  کثافت کے رقیق میں تیرتا ہے۔ کارک کو تھوڑا سا دبا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دکھائیے کہ کارک اوپر نیچے سادہ ہارمونی طور پر اہتراز کرتا ہے اور اس کا دور ہے:
14-205
(رقیق کی لزوجت کی وجہ سے لگنے والے قعر کو نظر انداز کردیجیے)
14.19 ایک پارہ سے بھری ہوئی U –ٹیوب کا ایک سرا ایک چوس پمپ(Suction Pump) کے ایک سرے سے منسلک ہے اور دوسرافضا سے۔ دونوں کالموں کے درمیان ایک چھوٹا دباؤ فرق قائم رکھا جاتا ہے۔ دکھائیے کہ جب چوس پمپ ہٹا لیا جاتا ہے تو U –ٹیوب میں پارہ کا کالم سادہ ہارمونی حرکت کرتا ہے۔

اضافی مشق

14.20 حجم v کے ہوا کے کمرہ کی گردن کا تراشی رقبہ a ہے ،جس میں mکمیت کی ایک گیند بس فٹ ہوجاتی ہے۔اور بنا رگڑ کے اوپر نیچے حرکت کرسکتی ہے (شکل 14.27) ۔ دکھائیے کہ اگر گیند کو ذرا سا نیچے دبا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ SHMکرتی ہے۔ اہترازات کے دوری وقت کے لیے ریاضیاتی عبارت حاصل کیجیے۔ ہوا کے دباؤ– حجم تغیرات کو ہم تاپی فرض کرلیجیے ۔ (دیکھیے شکل 14.27)

14-206
شکل 14.27  ہوا   (Air)


14.21 آپ 3000 kg کمیت کی ایک گاڑی میں سواری کررہے ہیں۔ فرض کیجیے آپ اس کے Suspensionنظام کی اہترازی خاصیتیں جانچ رہے ہیں 15 cm,  Suspensionنیچے جھک جاتا ہے، جب پوری گاڑی اس پر رکھ دی جاتی ہے اور اہتراز کی سعت میں بھی ، ایک مکمل اہتراز کے دوران %50کمی آجاتی ہے۔ مندرجہ ذیل قدروں کا تخمینہ لگائیے: (a) اسپرنگ مستقلہ mstqaa اسپرنگ اور شاک جاذب نظام کے ایک پہیے کے لیے قعر مستقلہ b، یہ مانتے ہوئے کہ ہر پہیہ 70 kg کو سہارا دیتا ہے۔  
14.22 دکھائیے کہ خطی SHM میں ایک ذرہ کی ، اہتراز کے ایک دور میں، اوسط حرکی توانائی ، یکساں دور میں اوسط توانائی بالقوۃ کے مساوی ہے۔  
14.23 14-209کمیت کی ایک دائری قرص(ڈِسک)، اس کے مرکز سے منسلک ایک تار کے ذریعے لٹکی ہوئی ہے۔ تار کو ڈسک کو گھما کر موڑا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مروڑی اہتراز کا دوری وقت  14-207معلوم کیا گیا ہے۔ قرص کا نصف قطر   14-208ہے۔ تار کا مروڑی اسپرنگ مستقلہ معلوم کیجیے ۔ (مروڑی اسپرنگ مستقلہ aکی تعریف ہے:14-210  ، جہاں J، بحالی پیچہ اور  14-114  مروڑ کا زاویہ ہے۔  
14.24 ایک جسم،14-211سعت اور 0.2s دور کے ساتھ سادہ ہارمونی حرکت کرتاہے۔ جسم کا اسراع اور اس کی رفتار معلوم کیجیے، جبکہ نقل ہے  
14-212  ۔
14.25 ایک اسپرنگ سے منسلک ایک کمیت، بغیر رگڑ یا قعر کے ، ایک افقی مستوی میں، زاویائی تعدد14-50  کے ساتھ اہتراز کرنے کے لیے آزاد ہے۔ وقت t = 0 پر اسے فاصلہ14-213  تک کھینچا جاتا ہے اور مرکز کی طرف رفتار  14-214  سے ڈھکیلا جاتا ہے۔ پیرا میٹروں14-215کی شکل میں، اس میں پیدا ہونے والے اہترازوں کی سعت معلوم کیجیے۔ [اشارہ: مساوات  14-216سے شروع کیجیے اور نوٹ کیجیے کہ آغازی رفتار منفی ہے۔]