باب15
لہریں(WAVES)
15.1 تعارف
15.2 عرضی اورطولی لہریں
15.3 ایک رواں لہر میں نقل کا رشتہ
15.4 ایک رواں لہر کی چال
15.5 لہروں کے انطباق کا اصول
15.6 لہروں کا انعکاس
15.7 ضربیں
15.8 ڈوپلر اثر
خلاصہ
قابلِ غور نکات
مشق
اضافی مشق
15.1تعارف (INTRODUCTION)
پچھلے باب میں تنہا ارتکاز کرتی ہوئی اشیا کی حرکت کا مطالعہ کیا۔ ایسے نظام میں کیا ہوگا جوایسی اشیاکا مجموعہ ہے ؟مادی واسطہ (material medium ) ایسی مثال فراہم کرتا ہے ۔ یہاں لچکیلی قوتیں اجزائے ترکیبی کو ایک دوسرے سے باندھے رکھتی ہیں اورایک جز کی حرکت دوسروں کی حرکت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر آپ ساکت پانی کے تالاب میں ایک چھوٹی سی کنکری گرائیں تو پانی کی سطح مضطرب ہو جاتی ہے۔ یہ اضطراب ایک مقام پر محدود نہیں رہتا بلکہ ایک دائرے کی شکل میں باہر کی طرف رواں ہو جاتا ہے۔ اگر آپ تالاب میں کنکریاں ڈالنا جاری رکھیں، تو آپ جس نقطہ پر تالاب کی سطح میں اضطراب پیدا ہوا ہے، وہاں سے باہر کی طرف تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دائرے دیکھیں گے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے نقطۂ اضطراب سے باہر کی طرف پانی حرکت کررہا ہے ۔
اگر آپ مضطرب سطح پر کچھ کارک کے ٹکڑے رکھ دیں توآپ دیکھیں گے کہ کار ک کے ٹکڑے اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں لیکن اضطراب کے مرکز سے دور نہیں جاتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کی کمیت، دائروں کے ساتھ، باہرکی طرف نہیں بہتی بلکہ ایک حرکت پیدا کرتا ہوا اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ہم بولتے ہیں تو آواز کی لہریں ہم سے باہر کی طرف حرکت کرتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ واسطے کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں کوئی ہوا کا بہاؤ نہیں ہوتا۔ ہوا میں پیدا ہوا خلل (اضطراب Distrubance)بہت کم واضح ہوتا ہے اور اسے صرف ہمارے کان یا مائیکروفون ہی معلوم کر پاتے ہیں۔ یہ نمونے جو حقیقی طبعی منتقلی یا مجموعی طور پرمادے کے بہاؤ کے بغیر حرکت کرتے ہیں، لہر (waves)کہلاتے ہیں۔ اس باب میں ہم ایسی ہی لہروں کا مطالعہ کریں گے۔
ایک لہر میں، اطلاع اور توانائی ، اشاروں (سگنل Signals) کی شکل میں، ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک پہنچتی ہے۔ لیکن کوئی مادی شے حرکت نہیں کرتی ہماری تمام خبر رسانی، لہروں کے ذریعے سگنلوں کی ترسیل (Transmission) پر منحصر ہے۔ جب ہم کسی دور مقام پر اپنے دوست کو ٹیلیفون کرتے ہیں، ایک آواز کی لہرہماری صوتی رگ سے ہماراپیغام ، ٹیلیفون تک لے جاتی ہے۔ وہاں ایک برقی سگنل پیدا ہوتا ہے دھات کے تار کے ساتھ حرکت کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اگر فاصلہ بہت زیادہ ہوتا تو پیدا ہوئے برقی سگنل کو ایک روشنی کے سِگنل یا برقی و مقناطیسی لہروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اورنوری کیبل (Optical Cables)یا فضا سے ، ممکنہ طور پر ایک ترسیل سیارچہ کے راستے سے، اس کی ترسیل کی جاسکتی ہے۔ سننے والے سرے پراس برقی، یا روشنی کے سگنل یا برق و مقناطیسی لہر کو دوبارہ آواز کی لہروں میں بدلا جاتا ہے جو ٹیلیفون سے کان تک سفر کرتی ہیں۔
برقی ومقناطیسی لہروں کو اپنی اشاعت (Propagation)کے لیے واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم جانتے ہیں کہ روشنی کی لہریں خلاء (Vaccum) سے گذرسکتی ہیں۔ ستاروں کے ذریعے خارج کی گئی روشنی ، جو ہم سے سینکڑوں نوری برسوں کے فاصلے پر ہیں، بین نجمی فضا (inter-stellar space) سے گذرکر ہم تک پہنچتی ہے، جو کہ عملی طور پر خلاء ہے۔
جن لہروں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے، وہ بنیادی طور پرتین قسم کی ہیں: (a) میکانیکی لہریں (b)برقی و مقناطیسی لہریں(c)مادی لہریں۔ میکانیکی لہروں سے ہم سب سے بہتر طور پرواقف ہیں اس لیے کہ ان سے اکثر ہمارا سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ ان کی عام مثالیں ہیں : پانی کی لہریں، آواز کی لہریں، زلزلے کی لہریں وغیرہ۔ ان تمام لہروں کی کچھ مرکزی خاصیتیں ہیں : ان پرنیوٹن کے قانونوں کا اطلاق ہوتا ہے اور صرف مادی واسطے ہی میں پائی جاسکتی ہیں جیسے پانی ، ہوایا چٹان ۔ برقی و مقناطیسی لہروں کی عام مثالیں ہیں: بصری (Visibile) اوربالابنفشی(Ultraviolet)روشنی ، ریڈیائی لہریں(Radio waves) مائیکرو لہریں(Microwaves)اور x–شعائیں(x–rays) وغیرہ۔ ہر برقی و مقناطیسی لہر، خلاء میں یکساں چال Cسے سفر کرتی ہے:
(15.1) (روشنی کی رفتار)

میکانیکی لہروں کے برخلاف ، برقی و مقناطیسی لہروں کو اپنی اشاعت کے لیے کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ ان لہروں کے بارے میں آئندہ مزید سیکھیں گے۔
مادی لہریں، متحرک الیکٹرانوں ، پروٹانوں، نیوٹرانوں اوردوسرے بنیادی ذرات اور یہاں تک کہ ایٹموں اور مالیکیولوں سے منسلک ہیں۔ کیونکہ ہم عام طور سے ان سب کو مادے کے اجزائے ترکیبی تصور کرتے ہیں،اس لیے یہ لہریں مادی لہریں کہلاتی ہیں۔فطرت کی کوانٹم میکانیکی توضیح میں ان کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے بارے میں آپ آئندہ سیکھیں گے۔ حالانکہ تصوراتی طور پر، یہ میکانیکی یا برقی و مقناطیسی لہروں سے زیادہ تجریدی ہیں، ان کا استعمال جدید ٹکنالوجی کے بنیادی آلات میں کیا جانے لگا ہے۔ الیٹرانوں سے منسلک مادی لہریں ، الیکٹرانی خوردبین (electron microscopes) میں استعمال کی جاتی ہے۔
اس باب میں ہم میکانیکی لہروں کا مطالعہ کریں گے، جن کو اپنی اشاعت کے لیے واسطہ (Medium)کی ضرورت ہوتی ہے۔
لہروں کا فنون لطیفہ اورادب پر جمالیاتی اثر تو زمانہ قدیم سے دیکھنے میں آتا ہے، لیکن لہری حرکت (Wave motion) کا پہلا سائنسی تجزیہ سترہویں (17th)صدی میں کیا گیا ہے۔ لہری حرکت کی طبیعیات سے جڑے ہوئے کچھ اہم سائنسداں ہیں: کرسٹیان ہائی جین(Christiaan Huygens) (1629-1695)، روبرٹ ہوک اور اسحاق نیوٹن ۔ لہروں کی طبیعیات کی تفہیم ، اسپرنگ سے منسلک کمیتوں کے اہتزاز کی طبیعیات اورسادہ پنڈولم کی طبیعیات کی تفہیم کے بعد ہوئی ۔ لچکیلے واسطوں میں لہریں ہارمونی اہتزازات سے نزدیکی طور پر منسلک ہیں۔ (تنی ہوئی ڈوریاں ، چھلے داراسپرنگ، ہوا وغیرہ، لچکیلے واسطوں کی مثالیں ہیں۔)ہم سادہ مثالوں کے ذریعے یہ تعلق واضح کریں گے۔
اسپرنگ کا ایک مجموعہ لیں، جس میں اسپرنگ ایک دوسرے سے اس طرح منسلک ہیں جیسے شکل 15.1میں دکھا یاگیا ہے کہ اگر ایک سرے کے اسپرنگ کواچانک کھینچ کرچھوڑ دیا جائے تو خلل (Disturbance) دوسرے سرے تک پہنچ جاتا ہے۔ کیا ہوا ہے؟ پہلے اسپرنگ کی توازن لمبائی میں بگاڑ (خلل)پیدا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دوسرااسپرنگ پہلے اسپرنگ سے منسلک ہے، اس لیے یہ بھی کھنچ جاتاہے یا دب جاتا ہے، اوراس طرح دوسرے اسپرنگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ خلل ایک سرے سے دوسرے سرے تک حرکت کرتا ہے،
شکل 15.1: اسپرنگ کاایک مجموعہ ، جس میں اسپرنگ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ سرے Aکو اچانک کھینچ کر خلل پیدا کیا جاتا ہے، جو دوسرے سرے تک حرکت کرتا ہے۔
لیکن ہر اسپرنگ صرف چھوٹے اہتزازات کرتا ہے (اپنے مقامِ توازن کے گرد)۔اس حالت کی ایک عملی مثال کے بہ طور ریلوے اسٹیشن پرکھڑی ہوئی (ساکت)ٹرین تصور کریں۔ ریل گاڑی کے مختلف ڈبے ایک دوسرے سے اسپرنگوں کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔ جب ایک سرے پر انجن جوڑا جاتا ہے، تو وہ اپنے پیچھے والے ڈبے کو ایک دھکا لگاتا ہے، اوریہ دھکا ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے تک ترسیل ہو جاتاہے اورپوری ریل گاڑی مجسم طورپر منتقل نہیں ہوتی۔
آئیے اب ہوا میں آواز کی لہروں کی اشاعت کو دیکھیں۔ جب لہر ہوا سے گذرتی ہے، تو وہ ہوا کے ایک چھوٹے علاقے کو دباتی یا پھیلاتی ہے۔ اس سے اس علاقہ کی ہوا کی کثافت میں تبدیلی آجاتی ہے فرض کیجیے sp۔ یہ تبدیلی دباؤ میں ایک تبدیلی sp پیدا کرتی ہے۔ دباؤ،کیوں کہ قوت فی اکائی رقبہ ہے، اس لیے اس خلل کے متناسب ایک بحالی قوت پیدا ہوتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسپرنگ میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں توسیع (Extension)یا داب (Compression)جیسی مقدار کثافت کی تبدیلی ہے۔ اگر ایک علاقہ میں داب پیدا ہوتا ہے، تو اس علاقے کے مالیکیول ایک دوسرے کے نزدیک آجاتے ہیں اور وہ متصل علاقے میں حرکت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس طرح متصل علاقے میں کثافت میں اضافہ کرتے ہیں یا داب پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، پہلے علاقے کی ہوا میں تلطیف (Rarefaction) ہوتی ہے۔ اگر ایک علاقہ مقابلتاً تلطیف شدہ (Rarefied)ہو تو آس پاس کی ہوا اس علاقے میں تیزی سے آئے گی اور اس طرح متصل علاقے میں حرکت دے گی۔ اس طرح داب (Compression) اور تلطیف ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں حرکت کرتے ہیں اور ہوا میں خلل کی اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔
ٹھوس اشیاء کے لیے بھی اسی طرح کے دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ایک قلمی (Crystalline)ٹھوس میں ایٹم یاایٹموں کے گروپ ایک دَدری جالی (لیٹسLattice) میں مرتب (arranged)ہوتے ہیں۔ ان میں، ہر ایٹم یا ایٹموں کا گروپ ، انہیں گھیرے ہوئے ایٹموں کی قوتوں کی وجہ سے حالت توازن میں ہوتا ہے۔ ایک ایٹم کو منتقل کرنے سے دوسروں کو اپنی جگہ قائم رکھتے ہوئے، بہ حالی قوتیں پیدا ہوتی ہیں، بالکل اسپرنگ کی طرح۔ اس طرح ایک لیٹس کے ایٹموں کو ہم سروں کے نقطے مان سکتے ہیں جن کے جوڑوں کے درمیان اسپرنگ لگے ہیں۔
اس باب کے اگلے حصوں میں ہم لہروں کی خصوصی خاصیتوں سے بحث کرنے جارہے ہیں۔
15.2عرضی اور طولی لہریں
(TANSVERSE AND LONGITUDINAL WAVES)
میکانیکی لہریں عرضی (Transverse)یا طولی (Longitudinal) ہو سکتی ہیں۔ یہ اس پرمنحصر ہے کہ واسطے میں خلل یا منتقلی کی سمت اور لہرکی اشاعت کی سمت میں کیارشتہ ہے۔ ان دونوں میں فرق کرنے کے لیے آئیے ایک سرے پرجڑی ہوئی ایک تنی ہوئی ڈوری کارد عمل دیکھیں۔ اگر آپ اس ڈور کے آزاد سرے کو اوپر نیچے ایک جھٹکا دیں، تو جیسا کہ شکل 15.2دکھایا گیا ہے، تو ڈوری پر ایک واحد ضرب (پلسPlus) کی شکل میں ایک لہر گذرتی ہے ہم فرض کرتے ہیں کہ پلس کے ناپ کے مقابلے میں ڈوری بہت لمبی ہے، اس لیے دوسرے سرے تک پہنچتے پہنچتے پلس کا اسراف (Dissipates)ہوجاتا ہے، اس لیے دوسرے سرے سے اس کے انعکاس کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس پلس کا تشکیل پانا اوراس کی اشاعت اس لیے ممکن ہے کیونکہ ڈوری میں تناؤ ہے۔ جب آپ رسی کے اپنی طرف کے سرے کو اوپر کھینچتے ہیں تو یہ سرا ، رسی کے متصل حصے کو اوپر کی طرف کھینچنا شروع کردیتا ہے، کیونکہ رسی کے ان دونوں حصوں کے درمیان تناؤ کام کر رہا ہے ۔ جیسے متصل حصہ اوپر کی طرف حرکت شروع کرتا ہے یہ اس کے بعد کے حصے کو اوپرکھینچنا شروع کرتا ہے اوراسی طرح اور– اس دوران آپ رسی کے اپنی طرف کے سرے کو نیچے جھٹکا دے چکے ہوتے ہیں۔ جیسے باری باری سے ہرحصہ اوپر کی طرف حرکت کرناشروع کرتا ہے وہ اپنے ان پڑوسی حصوں کے ذریعے دوبارہ نیچے کی طرف کھینچتا ہے جو پہلے ہی نیچے کی طرف حرکت شروع کر چکے ہوتے ہیں۔ اس کا کل نتیجہ یہ ہے کہ ڈوری کی شکل میں ایک بگاڑ (distortion)پیداہوتا ہے اور یہ بگاڑ (پلسPlus) ڈوری پر رفتار Vسے حرکت کرتا ہے۔

شکل 15.2: ایک تنی ہوئی ڈوری پرسے ایک واحد پلس بھیجی گئی ہے۔ ڈوری کا ایک مخصوص جز (جیسے کہ نقطے سے نشان زد کیا گیا حصہ) پلس کے اس جز سے گزرنے پر پہلے اوپر اورپھر نیچے حرکت کرتا ہے۔جز کی حرکت اس سمت پر عمود ہے، جس میں لہر حرکت کر رہی ہے۔
اگر آپ اپنی طرف کے سرے کو مستقل اوپر نیچے حرکت دیتے رہیں تو ڈوری پرسے ایک مسلسل لہر،Vرفتار سے، گذرتی ہے۔ لیکن اگر آپ کے ہاتھ کی حرکت، وقت کا سائن خم نما، تفاعل ، (sinusoidal function of time) ہے تو وقت کی کسیدی ہوئی ساعت پر، لہر کی شکل، سائن خم نما ہوگی ، جیسا کہ شکل 15.3 میں دکھایا گیاہے۔ دکھائی گئی لہر کی شکل سائن پاکو سائن منحنی جیسی ہے۔
شکل (15.3) میں دکھائی گئی لہروں کا مطالعہ دو طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ لہرکی شکلوں کی نگرانی ، ان کے دایں طرف حرکت کرتے ہوئے کی جائے یعنی کہ دی ہوئی ساعت وقت پر ڈوری کا فور ی فوٹو لیا جائے۔ دوسرا متبادل طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی توجہ ڈوری کے کسی ایک خاص مقام پر مرکوز کر دیں اور اس نقطہ پرایک جز کی حرکت کی نگرانی کریں کہ جب اس سے ایک لہرگذرتی ہے تو وہ کیسے اوپرنیچے اہتزاز کرتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس طرح اہتزاز کرتے ہوئے ڈوری کے ہرجز کا نقل ، لہر کے گذرنے کی سمت کے ، عرضی سمت (یعنی کہ عمودی سمت) میں ہوگا، جیسا کہ شکل 15.3 میں دکھایا گیا ہے۔ ایسی لہرکو عرضی لہر (Transverse wave)کہتے ہیں۔
شکل 15.3: ایک سائن خم نما لہرڈوری پرسے گذاری گئی ہے ڈوری کا ایک مخصوص جز ، لہر کے گذرنے کے ساتھ ، مستقل اوپر نیچے حرکت کرتا ہے۔ یہ ایک عرضی لہر ہے۔
اب ، ہم ایک لمبے ہوا بھرے ہوئے پائپ میں ،ایک پسٹن کی حرکت کے ذریعے ، لہروں کے پیدا ہونے کے دیکھتے ہیں، جیسا کہ شکل 15.4میں دکھایا گیا ہے۔ اگر آپ پسٹن کو تیزی سے دائیں موڑیں اورپھربائیں موڑیں، توآپ پائپ میں سے دباؤ کی ایک پلس بھیج رہے ہیں۔ بائیں طرف پسٹن کو موڑنے سے ، اس کے پاس کی ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے بعد کے ہوا کے اجزاء واپس بائیں طرف حرکت کرتے ہیں اورپھر دور کے اجزاء بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس لیے ہوا کی حرکت اورہوا کے دباؤ میں تبدیلی دائیں طرف پائپ میں بہ طور پلس حرکت کرتے ہیں۔
شکل 15.4: ایک پسٹن کو آگے پیچھے حرکت کر کے ، ایک ہوا سے بھرے ہوئے پائپ میں ایک آواز کی لہر پیدا کی جاتی ہے۔ ہوا کے ایک جز کے اہتراز اس سمت کے متوازی ہیں، جس میں لہر حرکت کررہی ہے۔ یہ لہرایک طولی لہرہے۔۔
اگر آپ پسٹن کو ایک سادہ ہارمونی طرز سے دھکیلیں اورکھینچیں تو پائپ میں سے ایک سائن خم نما لہر گذرے گی۔ یہ نوٹ کیاجاسکتا ہے کہ ہواکے اجزاء کی حرکت ، لہر کی اشاعت کی سمت کے متوازی ہے۔ ایسی حرکت طولی (Longitudinal)کہلاتی ہے اوراس لیے پیداہوئی لہر طولی لہر کہلاتی ہے۔ ہوا میں پیدا ہونے والی آ واز کی لہریں، ایسی ہی دباؤ لہریں ہیں، اوراس لیے طولی خاصیت کی ہیں۔
مختصراً، عرضی لہروں میں واسطے کے اجزائے ترکیبی، لہر کی اشاعت کی سمت کی عمودی سمت میں اہتراز کرتے ہیں اور طولی لہروں میں وہ لہر کی اشاعت کی سمت میں اہتراز کرتے ہیں۔
ایک لہر، چاہے عرضی ہو یا طولی، رواں(travelling or progressive) لہر کہلاتی ہے، اگر وہ واسطے میں ایک نقطہ سے دو سرے نقطہ تک جاتی ہے۔ ایک رواں لہر اور ایک مقیم (standing or stationary)لہر میں فرق کرنا ہوگا۔ (دیکھیے حصہ 15.7)۔ شکل 15.3میں عرضی لہریں ڈوری کے ایک سرے سے دوسرے تک جاتی ہیں، جب کہ 15.4میں طولی لہریں پائپ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہیں۔ ہم پھر نوٹ کرتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں ، یہ لہر خلل ہے جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک حرکت کرتا ہے، وہ مادہ نہیں جس میں لہر سے اشاعت ہوتی ہے۔
عرضی لہروں میں ذرات کی حرکت ، لہر کی اشاعت کی سمت کی عمودی سمت میں ہوتی ہے ۔ اس لیے جیسے جیسے لہر آگے بڑھتی ہے، واسطہ کے ہر جز میں ایک تحریفی بگاڑ (Shearing Strain)پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے عرضی لہروں کی صرف انہیں واسطوں میں اشاعت ہو سکتی ہے جو تحریفی ذرر (Shearing Stress) کو برداشت کر سکتے ہیں، جیسے ٹھوس اشیاء میں اور سیالوں میں نہیں۔ سیال اور ٹھوس اشیاء دابی بگاڑ (Compressive Strain)کو برداشت کر سکتی ہیں، اس لیے طولی موجیں ہر لچکیلے واسطے میں سے گذر سکتی ہیں۔ مثلاً ایک فولاد کی چھڑ کو اگر بہ طور واسطہ لیا جائے تو اس میں سے طولی اورعرضی دونوں لہریں گذر سکتی ہیں جب کہ ہوا صرف طولی موجوں کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ پانی کی سطح پر پیدا ہونے والی لہریںدو قسم کی ہوتی ہیں:شعری (Capillary) لہریں اورزمینی کشش لہریں(gravity waves)اول الذکر، کافی کم طول ِلہر، چند سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں، کے حلقے (Ripple)ہیں اور بحالی قوت جو انہیں پیدا کرتی ہے، وہ پانی کا سطحی تناؤ ہے۔ زمینی کشش لہر کی طول لہر کئی میٹر سے لے کر کئی سو میٹر تک کی سعت میں ہو سکتی ہے۔ انہیں پیدا کرنے والی بحالی قوت ہے زمینی کشش کا کھنچاؤ جو پانی کی سطح کو اس کی کم ترین اونچائی پررکھتا ہے۔ ان لہروں میں ذرات کے اہتراز صرف سطح تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ کم ہوتی ہوئی سعت کے ساتھ، پیندے تک پہنچتے ہیں۔ پانی کی لہروں میں، ذرات کی حرکت پیچیدہ ہوتی ہے: یہ صرف اوپر نیچے ہی حرکت نہیں کرتے بلکہ آگے۔ پیچھے بھی حرکت کرتے ہی۔ ایک سمند رمیں اٹھنے والی موجیں (لہریں)، طولی اور عرضی ، دونوں قسم کی لہروں کا مجموعہ ہیں۔ سُمانی لہریں اِن کی مثال ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ عام طور سے عرضی اورطولی لہریں یکساں واسطے میں سے مختلف چالوں سے گذرتی ہیں۔
مثال 15.1: نیچے لہری حرکت کی کچھ مثالیں دی گئی ہیں۔ ہردی ہوئی صورت میں بتائیے کہ لہر ی حرکت ، عرضی ہے، طولی ہے یادونوں کا مجموعہ ہے۔
(a) ایک طولی اسپرنگ میں اسپرنگ کے ایک سرے کو دائیں یا بائیں منتقل کرنے سے پیدا ہونے والے پیچ کی حرکت ۔
(b) ایک رقیق سے بھرے استوانے میں، اس کے پسٹن کو آگے پیچھے حرکت دینے سے پیدا ہونے والی لہریں۔
(c) پانی میں تیرتی ہوئی موٹر بوٹ کے ذریعے پیدا کی گئی لہریں۔
(d) ایک ارتعاش کرتے ہوئے کوارٹز کے قلم (Crystal)کے ذریعے ہوا میں پیدا کی گئی بالا صوتی لہریں۔
جواب
(a) عرضی اورطولی
(b) طولی
(c عرضی اورطولی
(d) طولی
15.3 ایک رواں لہر میں نقل کارشتہ
(DISPLACEMENT RELATION IN A PROGRESSIVE WAVE)
ایک واسطے میں ایک لہر کی حرکت(اورواسطے کے کسی جز ترکیبی کی حرکت)کو بیان کرنے کے لیے، ہمیں ایک ایسے تفاعل کی ضرورت ہے جو وقت کی ہرساعت پر، لہر کی مکمل طور پر شکل دے سکے۔ مثال کے طور پر، ایک ڈوری پر بنی لہر کو بیان کرنے کے لیے (اوراس کی لمبائی کے کسی جز کی حرکت کو بیان کرنے کے لیے) ہمیں ایک ایسے رشتے کی ضرورت ہے جو ایک مخصوص مقام پر ایک جز کے نقل کو بہ طور تفاعل وقت بیان کرسکے اورساتھ ہی، دی ہوئی ساعت وقت پر ڈوری کی لمبائی کے مختلف عناصرکے ارتعاش کی حالت بھی بیان کرسکے۔ایک سائن خم نما لہر کے لیے ، جیسا شکل (15.3)میں دکھایا گیا ہے، یہ تفاعل ، مکاں (Space)اورزماں (وقتTime) دونوں میں دوری ہونا چاہیے۔ فرض کیجیے، (y(x,t، مقام xاوروقت tپرجزء کا عرضی نقل ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے لہر ، ڈوری کے بعد کے جزوں سے گذرتی ہے، یہ جز y–محور کے متوازی اہتزاز کرتے ہیں۔ کسی بھی دیے ہوئے وقت tپرمقام xکے جز کا نقل y دیا جاتا ہے :
اسی طرح cosine تفاعل یا Sineاور Cosine تفاعلات کا ایک خطی مجموعہ بھی لیا جا سکتا ہے۔
جیسے: (15.3)

تب مساوات (15.2) میں
مساوات (15.2)میں ظاہر کیا گیا تفاعل مقام کو آرڈی نیٹxاوروقتt میں دوری ہے۔ یہ x–محور پر ایک عرضی لہر کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی بھی وقتtپرلہر کی شکل بتاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ لہر کیسے آگے بڑھتی ہے ۔ مساوات (15.2)میں دیے ہوئے جیسے تفاعل ،x–محور کی مثبت سمت میں حرکت کررہی ایک رواں لہر (Progressive wave)کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک تفاعل:
x–محور کی منفی سمت میں حرکت کر رہی لہر کو ظاہر کرتا ہے (دیکھیے حصہ 15.4)۔
مساوات(15.2)میں چار مقداروں (پیرامیٹروں)

اورwکا سیٹ ، ایک ہارمونی لہر کو مکمل طور پر ظاہرکرتا ہے۔ ان پیرامیٹروں کے نام شکل 15.5میں دکھائے گئے ہیں۔ اور بعد میں ان کی تعریف کی گئی ہے۔
شکل 15.5: ایک رواں لہر کے لیے ، مساوات (15.2)کی مقداروں کے نام
مساوات (15.2)کی مقداروں کی سمجھنے کے لیے ، آئیے شکل 15.6میں دکھائے گئے گراف دیکھیں ۔ یہ وقت tکی 5مختلف قدروں کے لیے مساوات (15.2)کے گراف ہیں، جبکہ لہرx –محور کی مثبت سمت میں حرکت رہی ہے ۔ ایک لہر پر ، از حد مثبت نقل کا نقطہ ، جس کی تیر کے نشان کے ذریعے نشان دہی کی گئی ہے، فراز (Crest)کہلاتا ہے اور از حد منفی نقل کا نقطہ نشیب (Trough)کہلاتا ہے۔ لہر کے آگے بڑھنے کی نشاند ہی لہر کے فراز پر بنائے گئے چھوٹے تیر کی دائیں طرف حرکت کے ذریعے کی گئی ہے۔ جیسے جیسے ہم ایک گراف سے دوسرے گراف پرجاتے ہیں، مختصر تیر، لہر شکل کے ساتھ دائیں طرف حرکت کرتا ہے لیکن ڈوری صرف –yمحور کے متواز ی حرکت کرتی ہے۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ہم جیسے جیسے گراف (a)سے (e)کی طرف بڑھتے ہیں، ڈوری کا ایک مخصوص جز ، تبدیلیوں کے ایک مکمل سائیکل سے گذرتا ہے یا ایک پورا اہتراز مکمل کرتا ہے۔ اس وقفہ وقت کے دوران، مختصر تیر کے نشان یا لہر نےx –محور پر ایک خصوصی فاصلہ طے کیا ہے۔
شکل 15.6: ایکx –محور کی مثبت سمت میں حرکت کرتی ہوئی لہر کے لیے ، وقت tکی 5مختلف قدروں پر، مساوات (15.2)کے گراف
اب ہم مندرجہ بالا 5گرافوں کے تناظر میں ، مساوات (15.2)کی مختلف مقداروں کی ، جوشکل 15.5میں دکھائی گئی ہیں، تعریف کرتے ہیں۔
15.3.1سعت اور فیز(Amplitude & Phase)
شکل 15.5یا شکل 15.6میں دکھائی گئی جیسی لہر کی سعت 'a'اجزاء کے مقامات توازن سے از حد نقل کی عددی قدر ہے جو لہر کے ان پر سے گذرنے میں ہوتا ہے۔ اسے شکل

میں دکھا یا گیا ہے۔کیونکہ aایک عددی قدر ہے ، یہ ایک مثبت مقدار ہے،چاہے نقل منفی بھی ہو ۔
لہر کا فیز ،مساوات (15.2)میں، اہترازی رکن

کا حامل زاویہ

ہے۔ یہ لہر کے ایک ڈوری کے جز پر ایک خاص مقام xسے گذرنے پر حرکت کی حالت بیان کرتا ہے۔یہ وقت tکے ساتھ خطی طور پر تبدیل ہوتا ہے اور +1اور1 –کے درمیان اہتراز کرتا ہے۔ اس کی منتہائی مثبت قدر +1اس جز سے گذرتی ہوئی لہر کے فراز سے مطابقت رکھتی ہے، تب مقام x پر yکی قدر aہے ۔اس کی منتہائی منفی قدر –1، اس جز سے گذرتی ہوئی لہر کے نشیب سے مطابقت رکھتی ہے،؛ تب مقام xپر yکی قد (–1)ہے۔ اس طرح، سائن تفاعل اورایک لہر کا تابع وقت فیز ، ڈوری کے ایک جز کے اہتراز سے مطابقت رکھتے ہیں اورلہر کی سعت سے جز کے نقل کی انتہائی قدروں کا تعین ہوتا ہے۔ مستقلہ

،آغازی فیز زاویہ کہلاتا ہے ۔

کی قدرجز کی آغازی (t=0)نقل اور رفتار (فرض کیجیے x=0پر)سے معلوم کی جاتی ہے ۔
ہم مبدے (x=0)اورآغازی ساعت (t=0)کو ہمیشہ اس طرح منتخب کر سکتے ہیں کہ=0

ہو۔اگرمساوات (15.2)میں =0

رکھا جائے تو بھی مساوات کی عمومیت میں کوئی کمی نہیں آتی۔
15.3.2طول لہر اورزاویائی لہرعدد
(Wavelength and angular wave number)
ایک لہر کا طول لہر ، لہر کی شکل کے لگاتار دہرائے جانے کے درمیان فاصلہ ہے (لہر کی اشاعت کی سمت کے متوازی) ۔ یہ دو لگاتار نشیب یا فراز کے درمیان یا لہری حرکت کے یکساں فیز والے دو لگاتار نقطوں کے درمیان ،کم ترین فاصلہ ہے۔ ایک مخصوص طول لہر کی نشاندہی شکل

میں کی گئی ہے۔ جو t=0 اور

=0کے لیے مساوات (15.2)کی ترسیم (Plot)ہے ۔ اس صورت میں، مساوات (15.2)ہو جاتی ہے۔
تعریف کے مطابق، اس طول موج کے دونوں سروں پر، نقل y یکساں ہے۔
یعنی کہ

پر، اس لیے مساوات (15.2) کے ذریعے
یہ شرط صرف اسی وقت مطمئن ہو سکتی ہے جب
جہاں،

کیونکہ

کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ یکساں فیز والے نقطوں کے درمیان کم ترین فاصلہ ہے، اس لیے n=1 اور
k اشاعت مستقلہ(Propagation Constant)یا زاویائی لہر عدد کہلاتا ہے،(اس کی SIاکائی ریڈین فی میٹریا*

ہے۔
یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ شکل(15.6)میں ہم جیسے جیسے ایک ترسیم سے دوسری ترسیم کی طرف جاتے ہیں، لہر اپنی دائیں طرف فاصلہ

سے حرکت کرتی ہے ۔اس لیے پانچویں ترسیم پر پہنچ کر، لہردائیں طرف فاصلہ lسے حرکت کرچکی ہے۔
15.3.3دور، زاویائی تعدداور تعدد
(Period, angular frequency and frequency)
شکل15.7میں ، مساوات (15.2)سے دیے جانے والے، نقل yبرخلاف tگراف کو ، ڈوری کے کسی مقام پر، جسے x=0لیا گیا ہے ، دکھایا گیا ہے ، اگر آپ ڈوری کی نگرانی کریں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس مقام پر ڈوری جز ، سادہ ہارمونی حرکت میں، اوپر نیچے حرکت کرتا ہے، جو x=0کے ساتھ ، مساوات (15.2)سے دی جاتی ہے۔
شکل 15.7: ڈوری کے جز کے نقل کا ، x=0پر، بہ طور تفاعل وقت گراف ، جب کہ شکل 14.6کی سائن خم نما لہر اس جز سے گذرتی ہے۔ سعت aکی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک بے قاعدہ وقت t1سے مخصوص دور Tکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
شکل (15.7)اس مساوات کا گراف ہے، یہ لہر کی شکل نہیں دکھاتا ۔
ایک لہر کے اہتراز کے دورTکی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ کسی بھی ڈوری کے جز کے ذریعے ایک مکمل اہتراز میں لیا گیا وقت ہے ۔شکل 15.7 میں ایک مخصوص دورکی نشاندہی کی گئی ہے ۔مساوات (15.2)کو اس وقفہ وقت کے دونوں سروں پراستعمال کرتے ہوئے ، ہمیں حاصل ہوتاہے۔
یہ تب صادق ہو سکتا ہے، جب

کی کم ترین قدر

ہو، یا اگر

لہر کا زاویائی تعدد کہلاتا ہے۔ اس کی S1 اکائی: rad s
-1 ہے
شکل 15.6میں ایک رواں لہر کے گرافوں کو دوبارہ دیکھیے۔ دولگاتار گرافوں کے درمیان وقفہ وقتT/4ہے۔ اس لیے پانچویں گراف تک آتے آتے، ڈوری کا ہرجز ایک مکمل اہتراز کرچکا ہے۔
ایک لہرکے تعدد کی تعریف بہ طور

کی جاتی ہے اوراس کا زاویائی تعدد سے رشتہ ہے:
یہ ایک ڈوری کے جز کے ذریعے کیے گئے اہترازات کی تعداد فی اکائی وقت ہے، جو کہ وہ جز اس سے لہر کے گذرنے کے دوران کرتا ہے۔ یہ عام طورسے ہرٹز میں ناپی جاتی ہے۔
اورپردی ہوئی بحث میں ڈوری پر سے گذرتی ہوئی لہر یا ایک عرضی لہر کاحوالہ دیا گیا ہے۔ ایک طولی لہر میں ، واسطے کے ایک جز کا نقل ، لہر کی اشاعت کی سمت کے متوازی ہوتا ہے ۔ مساوات (15.2)میں، ایک طولی موج کے لیے نقل تفاعل لکھا جائے گا۔
جہاں(s(x, t، واسطے کے ایک جز کا ، مقام x اوروقت tپر، لہر کی اشاعت کی سمت میں، نقل ہے۔مساوات(15.9)میں aنقل کی سعت ہے، باقی مقداروں کے وہی معنی ہیں جو عرضی لہر کی صورت میں ہیں سوائے اس کے کہ نقل تفاعل (y(x,tکی جگہ(s(x, tہے ۔
مثال 15.2 ایک ڈوری سے گذررہی لہر، بیان کی جاتی ہے

, جس میں عددی مستقلے SI اکائیوں میں ہیں۔
حساب لگائیے (a) لیر کی سعت (b) طول لہر (c) دور اور تعدد۔ اور

پر لہر کے نقل y کا بھی حساب لگائیے۔
جواب :اس نقل مساوات کا مساوت(15.2)سے مقابلہ کرنے پر :
ہمیں حاصل ہوتا ہے:

لہر کی سعت

زاویائی تعدد، k=80.0m
-1 زاوئی لہر عدد
پھر ہم طول لہر

کے بیچ رشتہ، مساوات (15.6) سے لکھتے ہیں۔
(c) اب T اور

میں رشتہ لکھتے ہیں۔
اور
x = 30.0cm اور t=20 s پر نقل y دیا جاتا ہے
15.4 ایک رواں لہر کی چال
(THE SPEED OF A TRAVELLING WAVE)
آئیے ایک ڈوری پر سے گذرتی ہوئی لہر، جو مساوات (15.2)سے دی جاتی ہے، کی اشاعت کا معائنہ کریں ۔ لہر

– کی مثبت سمت میں رواں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک خاص مقام

پر ڈوری کا ایک جز ، اوپر نیچے ، بہ طورتفاعل وقت، حرکت کرتا ہے، لیکن لہر کی شکل دائیں جانب بڑھتی ہے۔ دو مختلف اوقاتt اور

پر جہاں

بہت چھوٹا ہے، ڈوری کے مختلف اجزاء کا نقل، شکل 15.8میں دکھا یا گیا ہے۔ (فیز زاویہ

، صفر لیا گیا ہے)۔ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اس وقفہ وقت کے دوران مکمل لہر نمونہ ،

کی مثبت سمت میں، ایک فاصلہ xسے حرکت کرتا ہے۔ اس لیے ، لہردائیں طرف حرکت کر رہی ہے۔ xکی مثبت سمت میں نسبت

، لہر کی چال
vہے۔
جیسے لہر حرکت کرتی ہے۔ (شکل15.8)، حرکت کرتی ہوئی لہر (گراف) کا ہرنقطہ ، لہر کا ایک مخصوص فیز ظاہر کرتا ہے اوراپنے نقل yکو برقرار رکھتا ہے ۔ یہ نوٹ کیا جاسکتاہے کہ ڈوری کے نقطے اپنے نقل کو برقرار نہیں رکھتے جب کہ لہر کے نقطے برقرار رکھتے ہیں۔ آئیے ایک نقطہ جیسے Aلیں، جس کی نشاندہی لہر کے فراز پرکی گئی ہے۔ اگر ایک نقطہ ، جیسے A، حرکت کرتے ہوئے اپنے نقل کو برقرار رکھتا ہے تو مساوات(15.2)سے اخذکیا جا سکتا ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ حامل زاویہ مستقلہ ہے۔ اس لیے ،یہ اخذ ہوتا ہے کہ
نوٹ کریں کہ حامل زوایہ میں x اورtدونوں تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے حامل زاویہ کو مستقلہ رکھنے کے لے اگر tبڑھتا ہے تو xکو بھی لازمی طور پر بڑھنا چاہیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب لہر مثبت x-سمت میں حرکت کر رہی ہو۔
لہر رفتار vمعلوم کرنے کے لیے ، ہم مساوات(15.10)کا tکی مناسبت سے تفرق (Differential)معلوم کرتے ہیں:
یا
یا
مساوات (15.6) تا مساوات (15.8) استعمال کرتے ہوئے، ہم لکھ سکتے ہیں:
مساوات (15.11) ایک عمومی رِشتہ ہے جو تمام رواں لہروں کے لیے جائز ہے۔ یہ صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ لہراہتراز کے ایک دور میں ایک طول لہر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ لہر کی چال اس کی طولِ لہراورتعدد سے مساوات (15.12) کے ذریعے منسلک ہے، لیکن اس کا تعین واسطے کی خاصیتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔اگر لہر ایک واسطے ، جیسے ہوا، پانی، فولاد یا ایک تنی ہوئی ڈوری،سے گذرتی ہے تو اسے اس واسطے سے گذرتے ہوئے اس واسطے کے ذرات میں اہتراز پیدا کرنا چاہیے۔ اس لیے واسطہ میں کمیت اورلچک ہونی ضروری ہے۔ اس لیے واسطے کی خطی کمیت کثافت (یا خطی نظاموں جیسے ایک تنی ہوئی ڈوری کے لیے کمیت فی اکائی لمبائی) اورلچکیلی خاصیتیں یہ متعین کرتی ہیں کہ لہر اس واسطے میں کتنی تیزی سے گذرسکتی ہے۔ اس کے برعکس ، ان خاصیتوں کی شکل میں، واسطے میں لہر کی چال کاحساب لگانا ممکن ہونا چاہیے۔ اس باب کے آگے آنے والے تحت حصوں میں ہم کچھ مخصوص واسطوں میں میکانیکی لہروں کی رفتارکے لیے مخصوص ریاضیاتی عبارتیں حاصل کریں گے۔
15.4.1 ایک تنی ہوئی ڈوری پرایک عرضی لہر کی چال
(Speed of a transverse wave on a stretched string)
ایک ڈوری پر عرضی لہر کی چال دوعوامل پرمنحصرہے : (i)خطی کمیت کثافت یا کمیت فی اکائی لمبائی ،

اور(ii)تناؤT۔ کمیت کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ حرکی توانائی ہو اورتناؤ کے بغیر ،ڈوری میں کسی خلل کی اشاعت ممکن نہیں ہے۔ ایک تنی ہوئی رسی پر لہر کی چال اور مندرجہ بالا دونوں عوامل میں رشتہ بالکل درست طور پر مشتق کرنا اس کتاب کے دائرہ سے باہر ہے۔ اس لیے ہم ایک مقابلتاً سادہ طریقہ اپناتے ہیں۔ابعادی تجزیہ میں ہم پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ (باب2) مختلف مقداروں کے درمیان ، جو ایک دوسرے سے رشتہ رکھتی ہوں، رشتہ کیسے معلوم کیاجاتا ہے۔ اس طرح حاصل کیا گیا رشتہ ، ایک مستقلہ جر ضربی کی حد تک غیر متعین ہوگا۔
ایک ڈوری کی خطی کمیت کثافت،اس کی کمیت mکو اس کی لمبائی

سے تقسیم کرنے پر حاصل ہوگی۔ اس لیے اس کے ابعاد

ہیں۔ تناؤTکے ابعاد قوت کے ابعاد ہیں، یعنی کہ

Tکو اس طرح یک جا کرنا ہے کہ

حاصل ہو سکے۔ اگر ہم ان مقداروں کے ابعاد کو جانچیں، تو یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نسبت

/T کے ابعاد ہیں۔
اس لیے، اگر T ,v اور

کے تابع ہے، تو ان کے درمیان رشتہ ہونا چاہیے:
یہاں C ایک غیر ابعادی مستقلہ ہے جوابعادی تجزیہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ زیادہ سخت قاعدوںپر مبنی طریقہ اختیار کر کے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ Cکی قدر واقعی1ہے۔ اس لیے ، ایک تنی ہوئی رسی میں عرضی لہر کی چال ہے:
مساوات (15.14)ہمیں بتاتی ہے
کہ کہ ایک تنی ہوئی مثالی ڈوری میں ایک لہر کی رفتار صرف ڈوری کے تناؤ اوراس کی خطی کمیت کثافت کے تابع ہے اورلہر کے تعدد کے تابع نہیں ہے۔
لہر کا تعدداس وسیلے (Source)سے طے ہوتا ہے، جو لہرپیدا کرتا ہے، اورپھر طولِ لہر مساوات (15.12)کی اس شکل سے متعین ہوتی ہے:
ایک پلس کی ایک ڈوری پراشاعت Propagation of a pulse on a rope
آپ ایک ڈوری پر ایک پلس کی حرکت بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ایک استوار حد سے اس کا انعکاس ہوتا ہوا بھی دیکھ سکتے ہیں اوراس کے ڈوری پر سے گذرنے کی رفتار بھی ناپ سکتے ہیں۔ آپ کو، قطر1سے 3سینٹی میٹر کی، ایک ڈوری دوہک(Hooks) اور کچھ اوزان چاہیے ہوں گے۔ آپ اپنے کلاس روم یا تجربہ گاہ میں تجربہ کر سکتے ہیں۔
ایک لمبی رستی یا موٹی ڈوری لیجیے (قطر 1سے 3سینٹی میٹر)اور ایک بڑے کمرے یا تجربہ گاہ کی آمنے سامنے کی دیواروں پر اسے ایک ہک سے باندھ دیجیے۔ ایک سرے کو ہک سے لٹکنے دیجیے اوراس سے کچھ وزن لٹکا دیجیے۔ (1سے 5کلو گرام تک)۔ دیواروں کے درمیان تقریباً 1سے 5میٹر کی دوری ہو۔
ایک چھڑ یا ڈنڈی لیجیے اوراسے رسی کے سرے کے قریب ایک نقطے پر زورسے ماریے۔ اس سے رسی میں ایک پلس پیدا ہوگی جو اس پر سے گذرے گی۔ آپ ا سے دوسرے سرے تک پہنچتے اوروہاں سے واپس منعکس ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔آپ واقع پلس (Incident pluse)اورمنعکس پلس (Reflected pulse)کے درمیان فیز رشتے کی جانچ بھی کرسکتے ہیں۔ پلس ختم ہونے سے پہلے آپ بہ آسانی دویا تین انعکاس دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ایک اسٹاپ واچ کی مدد سے پلس کو دودیواروں کا درمیانی فاصلہ طے کرنے میں لگنے والا وقت بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ اوراس طرح اس کی رفتار ناپ سکتے ہیں۔ اس کامقابلہ مساوات (15.14)سے حاصل ہوئی قدر سے کیجیے۔
ایک آلہ موسیقی کے باریک دھاتی تار میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بڑافرق یہ ہے کہ یہاں(دھاتی تار)پر رفتار کافی تیز ہوتی ہے کیونکہ ایک موٹی رسی کے مقابلے میں اس کی کمیت فی اکائی لمبائی کم ہوتی ہے۔ موٹی رسی پر پلس کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے ہم اس کی حرکت کو بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں اورپیمائش کرسکتے ہیں۔
(15.15)

مثال 15.3: فولاد کے بنے 0.72m تار کی کمیت 5.0x10-3 ہے۔ اگر تار 60N کے ایک تناؤ کے زیر اثر ہے، تو اس تار پر گذررہی عرضی لہر کی رفتار کیا ہوگی؟
جواب: تار کی کمیت فی اکائی لمبائی

:
تار سے گذر رہی لہر کی رفتا v دی جاتی ہے:
15.4.2ایک طولی لہر کی رفتار ۔آواز کی لہر کی رفتار
Speed of a longitudinal wave speed of sound
ایک طولی لہر میں واسطے کے اجزائے ترکیبی ، آگے پیچھے ، لہر کی اشاعت کی سمت میں اہتراز کرتے ہیں۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ آواز کی لہریں، ہوا کے چھوٹے حجموں کے دابوں اورتلطیفات (Compressions and rarefactions) کی شکل میں سفرکرتی ہیں۔ وہ خاصیت، جو یہ متعین کرتی ہے کہ واسطے کے ایک جز پر دباؤ کی تبدیلی سے اس جز کے حجم میںکتنی تبدیلی ہوگی، حجم مقیاس (Bulk modulus)کہلاتی ہے۔ جس کی تعریف ہے (دیکھئے باب 9)
جہاں

کے ذریعے ہونے والی ، حجم میں کسری تبدیلی ہے۔ دباؤ کی

یا پاسکل ہے۔ اب کیونکہ طولی لہریں، ایک واسطے میں، دابوں اور تلطیفات یا کثافت میں تبدیلی کی شکل میں حرکت کرتی ہیں اس لیے واسطے کی اندرونی خاصیت جواس عمل میں شامل ہوسکتی ہے،

کے ابعاد ہیں
اس لیے ، ابعادی تجزیے کی بنیاد پر، ایک واسطے میں طولی لہر کی رفتار کے لیے ، مناسب ترین ریاضیاتی عبارت ہے:
جہاں C ایک غیر ابعادی مستقلہ ہے اوریہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کی قدر 1ہے۔ اس لیے ، ایک واسطے میں طولی لہروں کی رفتار دی جاتی ہے:
اس لیے ، ایک سیال میں ، ایک طولی لہر کی اشاعت کی رفتار صرف واسطے کے حجم مقیاس اوراس کی کثافت کے تابع ہے۔
جب ایک ٹھوس چھڑ کے سرے پر ایک چوٹ لگائی جاتی ہے تو صورت حال ، مستقلہ تراشی رقبے کے استوانے (یا ٹیوب) میں رکھے ہوئے سیال سے مختلف ہوتی ہے۔ اس صورت میں ، لچک کامتعلقہ مقیاس ، ینگ کا مقیاس ہے، کیونکہ اطراف میں ہونے والی، چھڑ کی توسیع نظرانداز کی جا سکتی ہے اور صرف طولی بگاڑ ہی قابل لحاظ ہے۔ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ایک چھڑ میں طولی موج کی رفتار ہے :
جہاں Yچھڑکے میٹیریل کا ینگ کا مقیاس ہے۔
جدول 15.1میں مختلف واسطوں میں آواز کی رفتار دی گئی ہے۔
جدول 15.1 کچھ واسطوں میں آواز کی رفتار
| واسطہ |
رفتار (mg-1) |
| گیسیں |
| ہوا (0ºC) |
331 |
| ہوا (20ºC) |
343 |
| ہیلیم |
965 |
| ہائیڈروجن |
1484 |
| رقیق اشیا |
| پانی (0ºC) |
1402 |
| پانی (20ºC) |
1482 |
| سمندر کا پانی |
1522 |
| ٹھوس اشیا |
| المونیم |
6420 |
| تانبہ |
3560 |
| فولاد |
5941 |
| گرینائٹ |
6000 |
| ولکائی ہوئی ربر (Vulcanised Rubber) |
54 |
یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ حالانکہ ٹھوس اوررقیق اشیاء کی کثافتیں ، گیسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہیں، پھر بھی ان میں آواز کی رفتار ، گیسوں میں آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ٹھوس اور رقیق اشیاء گیسوں کے مقابلے میں کم داب پذیر ہیں، یعنی ان کے حجم مقیاس کی قدر ، گیسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔اب دیکھیے مساوات (15.19) ٹھوس اور مائع اشیاء کی کمیت کثافتیں، گیسوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن حجمِ مقیاس میں متطابق اضافہ، ٹھوس اور مائع اشیاء میں گیسوںکے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آواز کی لہریں گیسوں کے مقابلے میں ٹھوس اور مائع واسطوں میں زیادہ رفتار سے سفر کرتی ہیں۔
ایک کامل گیس کے لیے دباؤ، Pاورحجم Vمیں رشتہ ہے )دیکھیے باب (11)

جہاں N، حجم Vمیں مالیکیولوں کی تعداد ،

بولٹز مین مستقلہ ، اور Tگیس کا درجہ حرارت (کیلون میں)ہے۔
اس لیے مساوات (15.21)سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہم تا پی تبدیلی کے لیے
اس لیے، مساوات (15.19) میں رکھنے پر،
B =P
اس لیے، مساوات (15.19) سے، ایک کامل گیس میں، طولی لہر کی رفتار دی جاتی ہے:
یہ رشتہ سب سے پہلے نیوٹن نے دیا تھا، اس لیے نیوٹن کا ضابطہ کہلاتا ہے۔
مثال 15.4: معیاری دباؤ اور درجہ حرارت پر، ہوا میں آواز کی رفتار کا تخمینہ لگائیے۔ ہوا کے ایک مول کی کمیت

ہے۔
جواب: ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی گیس کے ایک مول کا S.T.P پر حجم 22.4 لیتر ہوتا ہے۔ اس لیے STP پر ہو کی کثافت

ہے۔
STP پر ہو کے ایک مول کا حجم =


ہوا کے ایک مول کی کمیت
ایک وسیلے میں آواز کی رفتار کے نیوٹن کے فارمولے کے مطابق، ہم ہو میں STP پر آواز کی رفتار حاصل کرتے ہیں:
مساوات (15.23)میں دکھایا گیا نتیجہ ، تجرباتی قدر

، جو جدول 15.1میں دی گئی ہے، کے مقابلے میں تقریباً%15کم ہے۔ ہم نے کہاں غلطی کی ؟ اگر ہم نیوٹن کے بنیادی مفروضے، ایک واسطے میں آواز کی اشاعت کے دوران ہونے والی دباؤ کی تبدیلیاں ، ہم تاپ ہیں، کو جانچیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔ لیبلیس (Laplace)نے یہ نشاندہی معلوم کی کیوں کہ آواز کی لہروں کی اشاعت کے دوران ہونے والے دباؤ کے تغیرات اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ حرارت کے بہاؤ کو مستقلہ درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے لیے ملنے والا وقت ناکافی ہوتا ہے۔ اس لیے ، یہ تغیرات حرناگزار ہیں ۔ حر ناگزارطریق کے لیے کامل گیس مساوات ہے ۔
جہاں y, نوعی حرارتوں کی نسبت CP/CV ہے۔ اس لیے ہو کی رفتار مساوات (15.19) سے دی جاتی ہے:
اس لیے ایک کامل گیس کے لیے حر ناگزار حجم مقیاس دیاجاتا ہے
نیوٹن کے فارمولے کی یہ ترمیم لیپلیس تصحیح(Laplace correction) کہلاتی ہے۔ ہوا کے لیے ،

۔ اب مساوات (15.24)کے ذریعے ہوا میں، STPپر آواز کی رفتارکا تخمینہ لگانے پر، ہمیں قدر

حاصل ہوتی ہے، جو تجربہ کے ذریعے معلوم کی گئی قدر سے مطابقت رکھتی ہے۔
15.5لہروں کے انطبا ق کااصول
(THE PRINICPLE OF SUPERPOSITION OF WAVES)
ہم دو ایسی لہریں تصور کرتے ہیں جو ایک ہی تنی ہوئی ڈوری پر مختلف سمتوں میں، ہمہ وقت (Simultaneously)حرکت کر رہی ہیں۔ شکل 15.9میں دکھایا گیا تصویروں کا ترتیب وار سلسلہ، ڈوری کے مختلف اجزاء کی، وقت کی مختلف ساعتوں پر نقل کی حالتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر تصویر ایک دی ہوئی ساعت وقت پر،ڈوری میں، ماحصل لہرشکل کو ظاہر کرتی ہے۔ مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ دیے ہوئے لمحہ وقت پر ڈوری کے کسی بھی جز کا کل نقل (Net displacement)، ہر لہر کی وجہ سے ہونے والے انفرادی نقل کا الجبرائی حاصل جمع (Algebraic sum) ہے۔

شکل 15.9: تصویروں کا ایک ترتیب وار سلسلہ، جو ایک تنی ہوئی ڈوری پر دوپلسوں کو مخالف سمت میں گذرتے ہوئے دکھاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ایک دوسرے میں سے گذرتی ہیں اور پھر انفرادی طور پر آزادانہ حرکت کرتی ہیں، جیسا کہ مختلف وقتوں پر لیے گئے فوری فوٹو (a)سے (d) تک کے ذریعے دکھایا گیاہے۔ کل خلل،ہرلہر کی وجہ سے ہونے والے انفرادی نقل کا الجیریائی حاصل جمع ہے۔ جب دونوں خلل ایک دوسرے پر منطبق ہوتے ہیں تو وہ ایک پیچیدہ نمونہ دیتے ہیں، جیسا کہ شکل (c)میں دکھایا گیا ہے۔ علاقہ (d)میں ایک دوسرے سے گذرچکے ہیں اور اب بنا تبدیل ہوئے حرکت کرتے ہیں۔
انفرادی لہری شکلوں کو اس طرح جوڑ کر کل لہر شکل معلوم کرنے کا یہ طریقہ انطباق کا اصول (Principle of superposition)کہلاتا ہے۔ اس قاعدے کو ریاضیاتی شکل میں لکھنے کے لیے ، فرض کیجیے کہ ,

اور

وہ نقل ہیں جو ڈوری کے کسی بھی جز میں ہوتے ہیں اگر ہر لہر اس جز میں سے انفرادی طور پر گذر رہی ہوتی ۔ اس جز کا نقل

، جو دونوں لہروں کے ایک دوسرے پر منطبق (Overlap)ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ، دیا جاتا ہے :

انطباق کا اصول ایسے بھی بیان کیا جا سکتاہے: منطبق لہریں، الجبرائی طور پر جمع ہوتی ہیں اور ایک ماحصل لہر (Resultant wave)پیدا کرتی ہیں (یا کل لہر)۔ اس اصول کے معنی ہیں، کہ منطبق لہریں کسی بھی طرح سے ایک دوسرے کی حرکت کو تبدیل نہیں کرتیں۔
اگر ہمارے پاس ایک واسطے میں دو یا دو سے زیادہ حرکت کرتی ہوئی لہریں ہیں تو ماحصل لہر، انفرادی لہروں کے لہر تفاعلات کا حاصل جمع ہے ۔ یعنی کہ اگر حرکت کرتی ہوئی لہروں کے لہر تفاعلات ہیں۔
تب واسطے میں، خلل کو بیان کرنے والا لہر تفاعل ہے:
اس اصول کی وضاحتی مثال کے طور پر ہم لہروں کے تداخل(Interference) اور انعکاس(Reflection)کے مظاہر کامطالعہ کرتے ہیں۔
فرض کیجیے کہ ایک تنی ہوئی ڈوری پر حرکت کرتی ہوئی ایک لہر دی جاتی ہے:
اور دوسری لہر، جو پہلی لہر سے فیز

سے ہٹی ہوئی ہے، دی جاتی ہے
دونوں لہروں کے زاویائی تواتر یکساں ہیں، زاویائی لہر عدد kیکساں ہیں (یکساں طول لہر) اور سعت aیکساںہے۔ وہ یکساں چال سے،x –محور کی مثبت سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ ان کے فیز کا فرق ایک دیے ہوئے فاصلے اورساعت وقت پر، ایک مستقلہ زاویہ

ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ

سے فیز کے باہر (out of phase)ہیں یا ان میں فیز

کا فرق ہے۔
اب لہروں کے انطباق کا اصول استعمال کرنے پر ، ماحصل لہر دونوں جزء ترکیبی لہروں کا الجبرائی حاصل جمع ہے اوراس کا نقل ہے:
اب ہم مندرجہ ذیل ٹرگنومیٹریائی رشتہ استعمال کرتے ہیں۔
اس رشتہ کو مساوات (15.29)، میں استعمال کرنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے :
مساوات (15.31)ظاہر کرتی ہے کہ ماحصل لہربھی ایک سائن خم نما لہر ہے جوx –کی مثبت سمت میں حرکت کررہی ہے ۔
ما حصل لہر، جزء ترکیبی لہروں سے دو طرح سے مختلف ہے۔ (i)اس کا فیز زاویہ

ہے (ii)اس کی سعت ، مساوات (15.31)میں قوسین[ ]میں دی ہوئی مقدار ہے، یعنی کہ
اگر

یعنی کہ دونوں لہریں فیز میں ہوں تو مساوات (15.31) سے حاصل ہوتا ہے۔
اگر ماحصل لہر کی سعت 2a ہے، جو

کی سب س بڑی ممکنہ قدر ہے۔
اگر

, تو دونوں لہریں مکمل طور پر فیز کے باہر ہیں تو مساوات (15.32) کے ذریعے دی گئی ماحصل لہر کی سعت کی قدر صفر ہو جاتی ہے۔ تب ہر x اور t کے لیے، ہمیں حاصل ہوتا ہے:
یہ صورتیں ، شکل 15.10میں دکھائی گئی ہیں۔
15.6لہروں کا انعکاس
(REFLECTION OF WAVES)
پچھلے حصوںمیں ہم نے غیرسرحدی (Unbounded)واسطوں میں لہر کی اشاعت سے بحث کی ہے۔
شکل 15.10: دو متماثل سائن خم نما لہریں

،اور

، ایک تنی ہوئی رسی پر، x–محور کی مثبت سمت میں، حرکت کرتی ہیں۔ وہ ایک ماحصل لہر(y(x,t دیتی ہیں۔ دونوں لہروں کے درمیان فیز فرق ہے


متطابق ماحصل لہریں(C)اور (d)میں دکھائی گئی ہیں۔
کیا ہوگا ، اگرایک پلس یا رواں لہرایک استوار حد سے ٹکرائے ؟ یہ عام تجربہ ہے کہ اس صورت میں پلس یا لہر منعکس ہو جاتی ہے۔ آواز کی لہروں کے ایک استوار سرحد سے منعکس ہونے کی ، روزمرہ کی ایک مثال ، گونج (Echo)کا مظہر ہے۔اگر سرحد مکمل طورپر استوار نہ ہو یادو لچکیلے واسطوں کے درمیان بین رخ ہو، تو ان سرحدی شرائط(Boundary conditions)کا وقوعی پلس یا لہر (Incident pluse or wave) پر اثر کچھ پیچیدہ ہوتا ہے۔ لہر کاایک حصہ منعکس ہو جاتا ہے اورایک حصہ کی دوسرے واسطے میں ترسیل ہو جاتی ہے۔ اگرایک لہر، دومختلف واسطوں کی درمیانی سرحد پر ترچھی واقع (Obliquely incident)ہو تو ترسیل ہوئی لہر (transmitted wave)انعطافی لہر (Refracted wave) کہلاتی ہے ۔ واقع اورانعطاف لہریں، انعکاس کے اسنیل کے قانون (Snell's Law refraction)کی پابندی کرتی ہیں اور واقع اور انعکاسی لہریں، انعکاس کے عام قوانین کی پابندی کرتی ہیں۔
ایک سرحد پر، ایک لہر کے انعکاس کی وضاحت کرنے کے لیے ہم دو صورتیں لیتے ہیں۔ پہلی صورت: ایک ڈوری ، جس کا بایاں سرا ایک استوار دیوارمیں نصب ہے، جیسا کہ شکل (a)۔15.11میں دکھایا گیا ہے۔ اور دوسری صورت : ڈوری کا بایاں سرا ایک چھلے(ring)سے بندھا ہوا ہے جو ایک چھڑپر، بنا کسی رگڑ کے ، اوپرنیچے پھسلتا ہے، جیسا کہ شکل (b)۔15.11میں دکھایاگیا ہے۔ ایک پلس کو ان دونوں ڈوریوں پرسے گذرنے دیا جاتا ہے۔ یہ پلس بائیں سرے پرپہنچنے پر منعکس ہوجاتی ہے ۔مختلف ساعتوں پر ، ڈورمیں خلل کی حالت، شکل 15.11میں دکھائی گئی ہے۔
شکل (a)۔15.11میں، ڈوری کا دایاں سرا دیوار میں نصب ہے، جب پلس اس سرے پرپہنچتی ہے تو وہ دیوار پر ، اوپر کی جانب ، ایک قوت لگاتی ہے۔ نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق دیوار، ڈوری پر یکساں عددی قدر کی مخالفت قوت لگاتی ہے ۔ یہ دوسری قوت سہارے (دیوار)پرایک پلس پیدا کرتی ہے جو ڈوری پرسے واپس گذرتی ہے، یعنی کہ اس کی سمت واقع پلس کے سمت کی مخالف ہوتی ہے۔ اس قسم کے انعکاس میں ، سہارے پر کوئی نقل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ڈوری وہاںنصب ہے۔ منعکس اور واقع پلسوں کی علامتیں مخالف ہونا ضروری ہیں، تاکہ اس نقطے پر ایک دوسرے کو منسوخ (Cancel) کرسکیں۔ اس لیے ایک رواں لہر کی صورت میں، ایک استوار سرحد پرہونے والے انعکاس میں فیز الٹ جائے گا یا فیز فرق nیا °180ہوگا۔
شکل (b)۔15.11میں ڈوری ایک چھلے میں بندھی ہے، جو ایک چھڑ پر ، بنا رگڑکے ، پھسلتا ہے۔ اس صورت میں ، جب پلس بائیں سرے پر پہنچتی ہے ، تو چھلا چھڑ میں اوپر حرکت کرتا ہے۔ جب چھلا حرکت کرتاہے تو یہ رسی کوکھینچتا ہے، جس سے رسی میں تناؤ پیدا ہوتا ہے اور ایک منعکس پلس بنتی ہے، جس کی علامت اور سعت ، واقع پلس کے یکساں ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے انعکاس میں، واقع اور منعکس پلسیں ایک دوسرے کو تقویت بخشتی ہیں، جس سے ڈوری کے سرے پر ازحد نقل پیدا ہوتاہے، چھلے کا از حد نقل ،جو کسی ایک پلس کی سعت کا دگنا ہوتا ہے۔ اس لیے انعکاس بغیر کسی اضافی فیز تبدیلی کے ہوتا ہے۔ ایک رواں لہر کی صورت میں، ایک کھلی سرحد پر جیسے ایک آرگن پائپ کے کھلے ہوئے سرے پر ، انعکاس بغیر کسی فیز تبدیلی کے ہوتا ہے۔
شکل (a)۔15.11:ایک پلس جو دائیں سمت سے واقع ہے، ایک ڈوری کے بائیں سرے پر، جو دیوار میں بندھا ہے، منعکس ہوتی ہے۔ نوٹ کریں کہ منعکس پلس ، واقع پلس کی مناسبت سے الٹی ہے۔(b)یہاں بایاں سرا ایک ایسے چھلّے سے بندھا ہے جو ایک چھڑ پر، بنا کسی رگڑ کے، اوپر نیچے پھسل سکتا ہے۔ اب انعکاس کے ذریعے منعکس لہرالٹی نہیں ہوتی۔
اب ہم ، ایک سرحد یا دو واسطوں کے مابین رخ پر، لہروں کے انعکاس کا خلاصہ مندرجہ ذیل شکل میں پیش کرسکتے ہیں: ایک رواں لہر ، ایک استوار سرحد یا ایک بندسرے پر، فیز کے الٹنے کے ساتھ منعکس ہوتی ہے۔ لیکن ایک کھلی سرحد پر انعکاس بغیر کسی فیز تبدیلی کے ساتھ ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا بیان کو ریاضیاتی شکل میں ظاہر کرنے کے لیے، فرض کیجیے کہ واقع لہر کو ظاہر کیا جا تا ہے
تب، ایک استوار سرحد پر انعکاس کے لیے، منعکس لہر ظاہر کی جاتی ہے
ایک کھلی سر حد پر، منعکس لہر ظاہر کی جاتی ہے:
15.6.1مقیم لہریں اور نارمل مُوڈ
(Standing waves and normal modes)
پچھلے حصے میں ہم نے ایسا نظام لیا تھا جو ایک سرے پرمقید تھا۔ آئیے اب ایک ایسا نظام لیتے ہیں جو دونوں سروں پر مقید ہے، جیسے کہ دونوں سروں پر بندھی ہوئی رسی یا ایک متناہی لمبائی کا ہوا کا کالم ایک ایسے نظام میں ہم کسی خاص تعدد کی ایک لگاتار، سائن خم نما لہر بھیجتے ہیں، فرض کیجیے دائیں طرف۔جب لہر دائیں سرے پرپہنچتی ہے تو یہ منعکس ہو جاتی ہے اورواپس لوٹنا شروع کر دیتی ہے۔ جب بائیں جانب جارہی لہر، بائیں سرے پر پہنچتی ہے تو یہ دوبارہ منعکس ہوتی ہے اور یہ نئی منعکس ہوئی لہر دائیں سمت حرکت کرنا شروع کرتی ہے، اور بائیں سمت جارہی لہر پر منطبق ہوتی ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے اور اس لیے جلد ہی ہمیں بہت سی منطبق لہریں ملتی ہیں، جوایک دوسرے سے تداخل کرتی ہیں۔ ایسے نظام میں کسی نقطہ پر، کسی وقت پر، ہمیشہ دو لہریں ہوتی ہے۔ ایک بائیں طرف حرکت کرتی ہوئی اور دوسری دائیں طرف ۔ اس لیے ہمیں حاصل ہوتا ہے:

مساوات(15.37)کے ذریعے بیان کی گئی لہر، ایک رواں لہرکو نہیں ظاہرکرتی ۔ کیونکہ لہرکی شکل یا خلل کسی طرف حرکت نہیں کرتا۔ یہاں مقدار: 2a sin kx(قوسین کے اندر)،مقام xپرپائے جانے والے ڈوری کے جز کے اہتزاز کی سعت ہے۔ اس کے برخلاف ، ایک رواں لہر میں تمام اجزاء کے لیے لہر یکساں ہوتی ہے۔ اس لیے مساوات (15.37)ایک مقیم لہر (Standing wave)کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ایسی لہر جس میں لہر کی شکل حرکت نہیں کرتی۔ ایسی لہروں کی تشکیل شکل 15.12میں دکھائی گئی ہے۔
یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بیش ترین اورکم ترین سعت کے نقاط ایک ہی مقام پر ٹھہرے رہتے ہیں۔
kx کی ان قدروں کے لیے سعت صفر ہے، جو sin kx = 0 دیتی ہیں
یہ قدریں ہیں:
اس مساوات میں

رکھنے پر،
صفر سعت کے مقامات نوڈ(Nodes)کہلاتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ دو لگاتارنوڈوں کے درمیان

یا نصف طول لہر کا فاصلہ ہوتا ہے۔
سعت کی بیش ترین قدر 2aہے۔ یہ kxکی ان قدروں پر ہوتی ہے، جو

دیتی ہیں۔
ایسی قدریں ہیں:
اس مساوات میں

رکھنے پر، ہمیں از حد سعت کے مقام حاصل ہوتے ہیں:
یہ اینٹی نوڈ (ضد نوڈAntinode) کہلاتے ہیں۔ انیٹی نوڈوں کے درمیان

فاصلہ ہوتا ہے اوریہ نوڈوں کے جوڑے کے درمیان ، ان کے وسطی نقطے پر ہوتے ہیں۔
شکل 15.1 : ایک تنی ہوئی ڈوری میں ایک مقیم لہر کا بننا۔ دو یکساں سعت کی سائن ضم نما لہریں، ڈوری پر مخالف سمتوں میں حرکت کرتی ہیں۔ تصویروں کا سیٹ، چار مختلف مقامات پر نقل کی حالت دکھاتا ہے۔ جن مقامات کی نشاندہی Nکے ذریعے کی گئی ہے، ان مقامات پرنقل، وقت کی ہر قدر پر، صفر ہوتا ہے۔ یہ مقامات نوڈ کہلاتے ہیں۔
ایک لمبائی Lکی تنی ہوئی ڈوری کے لیے، جس کے دونوں سرے بندھے ہوئے ہیں، ڈوری کے دونوں سرے نوڈ (Node) ہی ہونا چاہئیں۔ اگر ہم ایک سرے کو مقام x=0 منتخب کر لیں۔ تودوسرا سرا x=Lہے۔ اس دوسرے سرے کو بھی نوڈ ہونے کے لیے ضروری ہے، کہ Lمندرجہ ذیل شرط کو لازمی طور پرمطمئن کرے۔
یہ شرط ظاہر کرتی ہے کہ لمبائی Lکی ایک ڈوری پرلہر کے طول لہرمحدود ہوتے ہیں۔ جو دیے جاتے ہیں۔
ان طول لہر کے مطابق تعدد، مساوات (15.12)سے حاصل ہوتے ہیں:
جہاں
v رواں لہروں کی ڈوری پر رفتار ہے۔ مساوات (15.42)کے ذریعے دیا گیا تعدد کا سیٹ، نظام کے اہتزاز کے موڈ یا قدرتی تعدد کہلاتے ہیں۔ یہ مساوات ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ڈوری کے قدرتی تعدد ، کم ترین تعدد،

،کے صحیح عدد اضعاف(Integral multiples) ہیں،جوکہ n=1 سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کم ترین تعدد والا اہتزاز موڈ، بنیادی موڈ (Fundamental Mode)یا پہلا ہار مونک (First Harmonic) کہلاتا ہے۔ دوسرا ہارمونک، n=2کے ساتھ اہتزاز موڈ ہے۔ تیسرا ہارمونک n=3 سے مطابقت رکھتا ہے، اوراسی طرح اورآگے بھی ۔ ان موڈوں سے منسلک تعدد اکثر

(اور اسی طرح اور آگے) لیبل کیے جاتے ہیں۔ تمام ممکنہ موڈوں کا مجموعہ ہارمونک سلسلہ (Harmonic series) کہلاتا ہے۔
دونوں سروں پر بندھی ، ایک تنی ہوئی ڈوری کے کچھ ہارمونک شکل 15.13میں دکھائے گئے ہیں۔ انطباق کے اصول کے مطابق ، دونوں سروں پر بندھی، تنی ہوئی رسی ، بہ یک وقت کئی موڈوں میں ارتعاش کرسکتی ہے۔ کون سا موڈ زیادہ ارتعاش کرے گا، یہ اس پرمنحصر ہے کہ ڈوری کے کس مقام پر ضرب لگائی گئی ہے۔ ستار اوروائلن جیسے آلات موسیقی اسی اصول پر ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔
اب ہم ایسے نظام کے ارتعاش کے موڈوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جوایک سرے پر بندہے، اورجس کا دوسرا سرا آزاد ہے۔ ہوا کاکالم ، جیسے جزوی طور پر پانی سے بھری ہوئی ٹیوب، ایسے نظاموں کی مثال ہے۔ ان میں ہوا کے کالم کی لمبائی کو ٹیوب میں پانی کی سطح کو تبدیل کر کے ، ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ایسے نظاموں میں ، ہوا کے کالم کا وہ سرا جو پانی سے لمس میں ہوتا ہے، اس کا کوئی نقل نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں منعکس اور واقع لہریں، بالکل درست طور پر، فیز کے باہر ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے، یہاں پر دباؤ کی تبدیلیاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ جب داب جز (Compressional part) منعکس ہوتا ہے تو دباؤ میں اضافہ دگنا ہو جاتا ہے اورجب تلطیف جز (Rarefaction part) منعکس ہوتا ہے تو دباؤ میں کمی دُگنی ہوتی ہے۔ دوسری طرف، کھلے ہوئے سرے پر، از حد نقل اور کم ترین دباؤ تبدیلی ہوتی ہے۔ یہاں پر مخالف سمتوں میں حرکت کرتی ہوئی دونوں لہریں فیز میں ہوتی ہیں۔ اس لیے دباؤمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اب ، اگر ہواکے کالم کی لمبائی Lہے ، تب کھلا ہوا سرا ، x=L، ایک اینٹی نوڈ ہے، اس لیے مساوات (15.39) سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ :

وہ موڈ جو مندرجہ ذیل شرط کو مطمئن کرتے ہیں
ایسے ہوا کے کالم میں برقرار رہتے ہیں۔ ایسے ہوا کے کالم کے مختلف موڈوں کے مطابق تعدد دیے جاتے ہیں:
ایک ہوا کالم کے جس کا ایک سرا کھلا ہوا ہے، ، کچھ نارمل موڈ شکل 15.14 میں دکھا ئے گئے ہیں۔
شکل 15.13 دونوں سروں پر بندھی، تنی ہوئی دوری میں مقیم لہریں۔ ارتعاش کے مختلف موڈ دکھائے گئے ہیں۔
بنیادی تعدد

اوراس سے اونچے تعدد ، بنیادی تعدد کے طاق ہارمونک (odd harmonic)ہیں۔
اگر ایک پائپ دونوں سروں پر کھلا ہو، تو دونوں سروں پر اینٹی نوڈ ہوں گے اورتمام ہارمونک پیدا ہوں گے۔
ایک دائری جھلّی ، جو محیط سے استوار طور پر جڑی ہوئی ہو، جیسے طبلہ میں، کے نارمل موڈ اس سرحدی شرط (Boundary Condition)کے ساتھ معلوم کیے جاتے ہیں کہ جھلّی کے محیط کا کوئی نقطہ ارتعاش نہیں کرتا۔ اس نظام کے نارمل موڈوں کے تعدد کا تخمینہ لگانا زیادہ پیچیدہ ہے۔اس مسئلے میں دو ابعادمیں لہر کی اشاعت شامل ہے۔ حالانکہ ، متعلقہ طبیعیات یکساں ہے۔
ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ ایک دونوں سروں پر بندھی ہوئی ڈوری میں، مقیم لہریں صرف کچھ تعدد پر بنتی ہیں، جو مساوات (15.42)سے دی جاتی ہیں، یا ان تعدد پر نظام گمک کرتا ہے۔ اسی طرح ایک سرے پر کھلا ہوا کالم ، مساوات (15.44)سے دیے گئے تعدد پر گمک کرتا ہے۔
مثال 15.5:ایک 30 cm لمبا پائپ دونوں سروں پر کھلاہوا ہے۔ پائپ کا کون سا ہارونک موڈ، 1.1k Hzوسیلے (Source)کے ساتھ گمک کرے گا؟ کیا اس وسیلے سے گمک ہوگی، اگر پائپ کا ایک سرا بند کردیا جائے
جواب : پہلا ہارمونک تعدد دیا جا تا ہے :
جہاں پائپ کی لمبائی ہے۔ اس کے nthہارمونک کا تعدد ہے :
ایک سرے پر کھلے پائپ کے کچھ موڈ شکل 15.15میں دکھائے گئے ہیں۔
پانچواں ہارمونک تیسرا ہارمونک بنیادی پہلا ہارمونک
fundamental third fifth
or first harmonic harmonic harmonic
گیارہواں ہارمونک نواں ہارمونک ساتواں ہارمونک
seven ninth eleventh
harmonic harmonic harmonice
شکل 15.14: ایک سرے پر کھلے ہوا کالم کے ارتعاش کے کچھ نارمل موڈ
واضح ہے کہ ایک1.1khzتعدد کا وسیلہ ،

، یعنی کہ دوسرے ہارمونک پر گمک کرے گا۔
اب اگر پائپ کا ایک سرا بند کر دیا جائے (شکل 15.14) ، تو مساوات (15.44)سے اخذ کیاجا سکتاہے کہ بنیادی تعدد ہے :
اورصرف طاق اعداد کے ہارمونک ہی بنتے ہیں :
L=30cmاور v = 330 ms-1 کے لیے ، ایک سرے پر بند پائپ کا بنیادی تعدد ہے 275HZاور وسیلے کا تعدد اس کے چوتھے ہارمونک سے مطابقت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہ ہارمونک ایک ممکنہ موڈ نہیں ہے، جیسے ہی ایک سرا بند کیا جائے گا وسیلے کے ساتھ کوئی گمک نہیں سنائی دے گی۔
15.7ضربیں(BEATS)
اگر ہم چند منٹ کے وقفے سے ، دو ایسی آوازیں سنیں، جن کے تعدد ایک دوسرے سے بہت قریب ہوں، جیسے 256HZاور 260HZ، تو ہم ان میں فرق نہیں کر پاتے ۔ لیکن اگر یہی دونوں آوازیں ہمارے کانوں تک ایک ساتھ پہنچیں تو ہم تعدد 258HZ، دونوں متحد ہونے والے تعدد کا اوسط کی ایک آواز سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں آواز کی شدت (Intensity)میں ایک نمایاں تبدیلی سنائی دیتی ہے۔ یہ آہستہ تھر تھراتی (جھلملاتی) ضربوں میں زیادہ اور کم ہوتی ہے جو 4HZکے تعدد ، آنے والی آوازوں کے تعدد کے مابین فرق، پردہرائی جاتی ہے۔ جب تقریباً یکساں تعدد اورسعت کی دو لہریں، یکساں سمت میں حرکت کرتے ہوئے ایک دوسرے پر منطبق ہوتی ہیں، تو آواز کی شدت کے تھرتھرانے کا مظہر ، ضربیں (Beats)کہلاتا ہے۔
دوسرا ہارمونک پہلا بنیادی ہارمونک
Fundamental or Second harmonic
harmonic
چوتھا ہارمونک تیسرا ہارمونک
Third harmonic Fourth harmonic
شکل 15.15: ایک کھلے ہوئے پائپ میں مقیم لہریں، پہلے چار ہارمونک دکھائے گئے ہیں۔
آئیے معلوم کریں کہ کیا ہوتا ہے جب دو لہریں، جن کے تعدد میں معمولی سا فرق ہے، ایک دوسرے پر منطبق کی جاتی ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک خاص مقام پردونوں آواز کی لہروں کے نقل کے وقت تابع تغیرات دیے جاتے ہیں:
جہاں ہم نے آسانی کے لیے فرض کر لیا ہے کہ دونوں لہروں کی سعتیں اور فیزیکساں ہیں۔انطباق کے اصول کے مطابق ، ماحصل نقل ہے۔
اگر ہم لکھیں :

تب مساوات(15.46) لکھی جاسکتی ہے:
تب مساوات (15.47) میں اصل وقت انحصار اس کو سائن تفاعل سے آتا ہے، جس کا زاویائی تواتر

ہے۔ قوسین میں دی ہوئی مقدار کو اس تفاعل کا سعت سمجھا جا سکتا ہے (جو مستقلہ نہیں ہے، بلکہ اس میں زاویائی تعدد کی خفیف تبدیلی

شامل ہے)۔ یہ از حد ہوجاتا ہے، جب بھی

کی قدر (+1)یا (–1)ہوتی ہے۔ کیونکہ

اور

کی قدریں ایک دوسرے کے بہت نزیک ہیں،

اور ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق کر پانا آسان نہیں ہے۔ اس لیے تقریباً یکساں تعدد والی دو لہروں کے انطباق کا نتیجہ ایک ایسی لہر ہے، جس کازاویائی تعدد تقریباًیکساں ہے لیکن سعت مستقلہ نہیں ہے ۔ اس لیے ، ماحصل آواز لہر کی شدت ایک زاویائی تعدد :

کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ اب رشتہ:

استعمال کرتے ہوئے ، ضرب تعدد(Beat Frequency)

دی جاتی ہے:
سریلے ستون (Musical Pillars)
مندروں میں ستونوں پر اکثر ایسی تصاویربنائی جاتی ہیں، جن میں انسانوںکو ساز بجاتے دکھایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ستون خود موسیقی شاذو نادر ہی پیدا کرتے ہیں۔ تامل ناڈو میں نیل اپر (Nellaiappar) مندر میں ایک ہی چٹان کے ٹکڑے سے بنائے گئے ستونوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے، جس پر اگر آہستہ سے تھپتھپایا جائے تو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے بنیادی سر نکلتے ہیں، یعنی کہ سارے، گا، ما،پا، دھا، نی، سا۔ ان ستونوں کے ارتعاش استعمال کے گئے پتھر کی لچک، اس کی کثافت اوراس کی شکل پرمنحصر ہیں۔
سریلے ستونوں کی تین قسموں میں درجہ بندی کی جاتی ہے: پہلی قسم شرووتی ستون(Shruthi)کہلاتی ہے کیونکہ یہ بنیادی سرسُوار(Swaras) پیدا کرتے ہیں۔ دوسری قسم گانا تھو نگل (Gana Thoongal)ہے جو وہ بنیادی دھنیں پیدا کرتے ہیں جو ’’راگ‘‘ بناتی ہیں۔ تیسری قسم لے تھونگل (Lay Thongal)ستونوں کی ہے جو ’’تال‘‘ (ضرب Beats) پیدا کرتے ہیں۔ نیل اپر مندر کے ستون شرووتی اورلے قسموں کے ستونوں کا مجموعہ ہیں۔
ماہرینِ آثار قدیمہ ، نیل اپر مندر کو ساتویں صدی کا بنا ہوا بتا تے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اسے پانڈیان سلاطین نے بنوایا تھا۔
نیل اپرکے سریلے ستون اورجنوبی ہند کے کئی دوسر ے مندروں، جیسے ہام بھی (تصویر)، کنیا کماری اورتھرووانن تھاپورم کے مندروں کے ستون اس ملک کی انفرادیت ہیں اوردنیا کے کسی حصے میں ان جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایک کھلے پائپ میں آواز کا انعکاس
(Reflection of sound in an open pipe)
جب ایک زیادہ دباؤ والی ہوا کی پلس، ایک کھلے پائپ میں حرکت کرتے ہوئے دوسرے سرے تک پہنچتی ہے ، تو اس کا معیار حرکت ہوا کو باہرکھلے میں دھکیل دیتا ہے ، جہاں دباؤ تیزی سے گر کر فضائی دباؤ پرآجاتا ہے۔ اس لیے اس کے پیچھے آنے والی ٹیوب میں، ہوا باہر نکل جاتی ہے۔ٹیوب کے سرے پرکم دباؤ ٹیوب میں اوپر کی ہوا کھینچتا ہے ۔ ہواکھلے سرے کی طرف کھینچتی ہے، جس کم دباؤ والا علاقہ اوپر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں زیادہ دباؤ کی ہوا کی ، نیچے کی سمت میں حرکت کرتی ہوئی ، پلس کم دباؤ کی ہوا کی، اوپرکی سمت میں حرکت کرتی ہوئی پلس میں بدل جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کھلے سرے پر ایک دباؤ لہر ،180ºفیز کی تبدیلی کے ساتھ، منعکس ہوئی ہے۔ ایک کھلے پائپ آرگن ، جیسے بانسری، میں مقیم لہریں، اسی مظہر کا نتیجہ ہیں۔
اس نتیجہ کا مقابلہ اس سے کیجیے جو زیادہ دباؤ کی ہواکے بند سرے پر پہنچے سے ہوتا ہے : یہ تصادم کرتی ہے اوراس کے نیچے میں ہوا کو مخالف سمت میں پیچھے ڈھکیلتی ہے۔ یہاں ہم کہتے ہیں کہ دباؤ لہر، بغیر کسی فیز تبدیلی کے، منعکس ہوئی ہے۔
اس لیے ہم کم–زیادہ ہوتی ہوئی شدت کی آواز سنتے ہیں، جس کا تعدد ، منطبق ہونے والی لہروں کے تعدد کا فرق ہوتا ہے۔ تعدد 11HZاور تعدد 9HZکی دو لہروں کے وقت نقل گراف شکل(a)۔15.16اور (b)۔15.16 میں دکھائے گئے ہیں۔ ان کے انطباق کا نتیجہ شکل (c)۔15.16میں دکھایا گیا ہے۔
موسیقی کاراپنے سازوں کی لے ملانے (انہیں ٹیون کرنے) میں ضرب مظہر استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایک ساز کو ایک معیاری تعدد کے سامنے بجایا جائے اوراس وقت تک ٹیون کیا جاتا رہا ہے جب تک بیٹ غائب نہ ہو جائے، توساز اس معیار کے ساتھ لے میں (ٹیون کیا ہو) ہوتا ہے۔
شکل 115.16: 
تعدد کی ہارمونی لہر کا گراف

تعدد کی ہارمونی لہر کا گراف (a)(c) اور (b) کا انطباق۔ جس میں 2HZ تعدد کی ضربیں (Beats) دکھائی گئی ہیں۔
مثال 15.6: ستار کے دو تار Aاور Bجن سے سر ’دھا‘ نکل رہے ہیں، ایک دوسرے سے پوری طرح لے میں نہیں ہیں لور 5HZتعدد کی ضرب پیدا کر رہے ہیں۔ تارBکے تناؤمیں تھوڑا سا اضافہ کیا گیا تو ضرب کا تعدد کم ہوکر 3ہو گیا۔ Bکا آغازی تعدد کیا ہے، اگر Aکا تعدد 427HZہے۔
جواب :ایک تار کے تناؤ میں اضافہ ، اس کے تعدد میں اضافہ کرتا ہے اگرBکا آغازی تعدد

کے تعد دسے زیادہ ہوتاتو

میں مزید اضافہ سے ضرب تعد د بڑھنا چاہیے تھا۔ لیکن ضرب تعدد کم ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے

ہمیں ملتا ہے،

15.8ڈوپلر اثر (DOPPELR EFFECT)
یہ روزمرہ کا تجربہ ہے کہ ایک تیزی سے حرکت کرتی ہوئی ریل گاڑی جب ہم سے دور ہوتی جاتی ہے تواس کی سیٹی کا سر(پچ Pitch)یا تعدد کم ہوتا جاتا ہے۔ اور جب ہم کسی آواز کے قائم (غیر متحرک) منبع (وسیلے Source) کی طرف تیزی سے جاتے ہیں، تو سنائی دینے والی آوازکی پچ، منبع کی پچ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ جیسے جیسے مشاہد، وسیلے سے دورجاتا ہے تو سنائی دینے والی پچ یا تعدد وسیلے کی پچ سے نیچی ہوتی جاتی ہے۔ یہ حرکت– منسلک تعدد تبدیلی، ڈوپلر اثر (Doppler effect)کہلاتا ہے۔ آسٹریلیائی طبیعیات داں، جون کرسٹین ڈوپلر نے سب سے پہلے 1842میں یہ اثر تجویز کیا۔ بائز بیلٹ (Buys Ballot)نے 1845میں ہولینڈ میں اس کی تجربہ کے ذریعے جانچ کی۔ ڈوپرل اثر ایک لہر، مظہر ہے۔ یہ صرف آواز کے لیے ہی نہیں بلکہ برقی مقناطیسی لہروں کے لیے بھی صادق ہے ۔ حالانکہ ، اس وقت ہم صرف آواز کی لہروں کو ہی لیں گے۔
ہم تین مختلف صورتوں میں تعدد میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کریں گے: (1)مشاہد، مقیم (Stationary)ہے اوروسیلہ (Source) حرکت کررہا ہے ،(2)مشاہد حرکت کر رہا ہے اوروسیلہ مقیم ہے، (3)مشاہد اور وسیلہ دونوں حرکت کر رہے ہیں۔ حالت (1)اور (2)مشاہد اورواسطے کے درمیان اضافی حرکت (Relative motion)کی موجودگی یا غیر موجودگی کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ زیادہ ترلہروںکو اشاعت کے لیے واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن برقی و مقناطیسی لہروں کو اپنی اشاعت کے لیے واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرکوئی واسطہ موجود نہ ہو توچاہے وسیلہ حرکت کرے یا مشاہد حرکت کرے ڈوپلر شفٹ (Doppler Shift) یکساں ہوتی ہے، کیونکہ اب دونوں صورتوں میں فرق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔
15.8.1وسیلہ متحرک : مشاہد قائم
(Source moving ; observer stationary)
ہم یہ قرار داد(Convention) منتخب کرتے ہیں کہ رفتار کی مثبت سمت مشاہد سے وسیلہ کی طرف ہے۔فرض کیجیے کہ ایک وسیلہ Sرفتار

سے حرکت کر رہا ہے اورایک وسیلہ اس فریم میں قائم ہے، جس میں واسطہ بھی حالت سکون پر ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک زاویائی تعدد

کی لہر رفتار v ہے اور

ایک ایسے مشاہد کے ذریعے ناپے جاتے ہیں جو واسطے کی مناسبت سے حالت سکون پر ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ مشاہد کے پاس ایک ایساشناس کار (Detector)ہے جو اس پر پہنچنے والے لہر کے ہرفراز کو، اس کے پہنچتے ہی، شمار کرتا ہے۔ جیسا شکل 15.17میں دکھایا گیا ہے۔ وقت t=0پر ، وسیلہ نقطہ

پر ہے، جو مشاہد سے فاصلہLپر واقع ہے اورایک فراز خارج کرتا ہے۔ یہ مشاہد تک وقت

پر پہنچتا ہے۔ وقت

پر، وسیلہ ایک فاصلہ

طے کرچکا ہوگا اوراب یہ نقطہ

پر ہے ، جو مشاہدسے فاصلہ

پرواقع ہے۔

پر وسیلہ دوسرے فراز کا اخراج کرتا ہے۔ یہ مشاہد تک پہنچتا ہے وقت

پر :
شکل 15.17: vs رفتار سے حرکت کرتا ہوا ایک وسیلہ نقطہ S1 پر ایک لہر فراز خارج کرتاہے۔ Vs To فاصلہ طے کرنے کی بعد،S2 پر یہ اگلا لہر فراز خارج کرتا ہے۔
وقت nT
o پر، وسیلہ

فراز خارج کرتا ہے اور یہ مشاہد تک وقت t
n+1 پر پہنچتا ہے:
اس لیے، وقفہ وقت
میں مشاہد کا شناس کار nفراز شمارکرتا ہے اورمشاہد لہر کادور بہ طور Tریکارڈ کرتا ہے، جو دیا جاتا ہے:

مساوات (15.49)کو تعدد vاور

کی شکل میں لکھا جا سکتا ہے ، جہاں

وہ تعدد ہے جو ناپی جاتی جاتی ، اگر وسیلہ اور مشاہد دونوں قائم ہوتے vوہ تعددہے جو وسیلہ کے حرکت کرتے وقت ناپی گئی ہے۔
اگر

کے مقابلے میں چھوٹی ہے تو دو رکنی توسیع (Binomial expansion)میں

کے پہلے درجہ کے رکن کو برقرار رکھتے ہوئے اوراس سے اونچے درجات کے رکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، مساوات (15.50)لکھی جا سکتی ہے
اگر ایک وسیلہ ، مشاہد کے نزدیک آرہا ہو تو

سے تبدیل کر دیتے ہیں، اور
اس لیے مشاہد کم تعدد ناپتا ہے، جب کہ وسیلہ اس سے دورجا رہا ہو، بہ مقابلہ اس تعدد کے جب کہ وسیلہ حالت سکون پر ہو، اسی طرح زیادہ تعدد ناپتا ہے جب کہ وسیلہ اس کے نزدیک آرہا ہو بہ مقابلہ اس تعدد کے جب کہ وسیلہ حالت سکون پر ہو۔
15.8.2مشاہد حرکت کر رہا ہے، وسیلہ قائم ہے
(Observer moving; source stationary)
اب جب کہ مشاہد رفتار

سے وسیلہ کی طرف حرکت کررہا ہے اوروسیلہ حالت سکون پر ہے، ہمیں ڈوپلر شفٹ مشتق کرنے کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہم حرکت کرتے ہوئے مشاہد کے حوالہ فریم میں کام کرتے ہیں۔ اس حوالہ فریم میں وسیلہ (Source)اورواسطہ (Medium)رفتار

سے نزدیک آرہے ہیں اور لہر رفتار

سے نزدیک آرہی ہے۔ جو طریقہ پچھلی صورت میں اختیار کیا تھا، اس پر عمل کرتے ہوئے ،ہم معلوم کرتے ہیں کہ پہلے اور

فراز کی آمد میں وقفہ وقت ہے :
اس لیے، مشاہد، لہر کا دور ناپتا ہے :
اگر

خفیف ہے تو ڈوپلر شفٹ تقریباً یکساں ہے، چاہے مشاہدحرکت کر رہا ہو، وسیلہ ، کیونکہ تقریبی رشتے مساوات (15.53)اور مساوات (15.51) یکساں ہیں۔
15.8.3وسیلہ اورمشاہد دونوں حرکت کر رہے ہیں
(Both source and observer moving)
اب ہم ڈوپلر شفٹ کے لیے ایک مجموعی عبارت مشتق کریں گے، جب کہ وسیلہ اورمشاہد رفتاروں

سے ، حسب ترتیب، حرکت کر رہے ہیں، جیسا کہ شکل 15.18میں دکھایا گیا ہے۔ فرض کیجیے کہ وقت t=0پر مشاہد

پر ہے، اور وسیلہ

کی بائیں طرف ہے۔ وسیلہ ، رفتار

کی ایک لہرخارج کرتا ہے، اور یہ سب اس مشاہد کے ذریعے ناپے جاتے ہیں جو واسطہ کی مناسبت سے حالت سکون پر ہے۔فرض کیجیے

کے درمیان فاصلہ Lہے، جب کہ وسیلہ پہلا فراز خارج کرتا ہے۔ اب کیونکہ مشاہد حرکت کررہا ہے، اس لیے مشاہد کی مناسبت سے لہر کی رفتار

ہے۔ اس لیے پہلا فراز مشاہد تک وقت

اور پہنچتا ہے :

پر مشاہد اوروسیلہ دونوں اپنے نئے مقامات، بالترتیب،

پر پہنچ گئے ہیں۔ مشاہد اور وسیلہ کے درمیان نیا فاصلہ

پر وسیلہ دوسرا فراز خارج کرتا ہے۔ یہ مشاہد تک وقت

پر پہنچتا ہے :
ڈوپلراثرکا استعمال
(Application of Doppler effect)
ڈوپلر اثر کی وجہ سے ایک حرکت کرتی ہوئی شے کی تعدد میں ہونے والی تبدیلی کااستعمال، مختلف مقامات پر ، جیسے فوج، طبی سائنس ، علم فلکیات وغیرہ، شے کی رفتار ناپنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پولس بھی اس کا استعمال سواروں کی مقررہ حد سے زیادہ تیز رفتارکو جانچنے کے لیے کرتی ہے ۔
حرکت کرتی ہوئی شے کی جانب ، ایک آواز کی لہر یا برقی۔ مقنا طیسی لہر، جس کا تعدد معلوم ہے، بھیجی جاتی ہے۔ اس لہر کا کچھ حصہ شے سے منعکس ہوتا ہے اوراس کاتعدد ، نگرانی کر رہے اسٹیشن کے ذریعے ، ناپا جاتا ہے ۔ تعدد میں آئی یہ تبدیلی، ڈوپلر شفٹ کہلاتی ہے ۔
ہوائی اڈوں پر اس کا استعمال جہازوں کی راہ نمائی کرنے اورفوج میں ، دشمن کے جہازوں کو شناس کرنے میں کیا جاتا ہے۔ علم فلکیات میں یہ ستاروں کی رفتار کی پیمائش میں استعمال ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ، دل کی دھڑکن اورجسم کے مختلف حصوں میں دوران خون کا مطالعہ کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں وہ بالا صوتی لہریں (Ultrasonic waves)، عام طور سے، استعمال کرتے ہیں اوریہ طریقہ صوتی ترسیم (Sonography)کہلاتا ے ۔ بالاصوتی لہریں، انسان کے جسم میں داخل ہوتی ہیں، ان میں سے کچھ واپس منعکس ہوجاتی ہیں اورخون کی حرکت، دل کے والووں(Volves)کی دھڑکن اوریہاں تک کہ جنین (Foetus)کے دل کی دھڑکن ، کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ دل کی صورت میں، ان کے ذریعے بنائی گئی تصویر گونج قلبی نگارش (Echocardiogram)کہلاتی ہے۔

اس لیے وقفہ وقت (tn+1 - t1)

میں مشاہد n فراز شمار کرتاہے اور مشاہد لہر کا دور T کے مساوی ریکارڈ کرتا ہے، جو دیاجاتاہے۔
مشاہد کے ذریعے ناپا گیا تعدد v دیاجاتا ہے:
ایک مسافر کو لیجیے جو ایک سیدھی پٹر ی پرچلتی ہوئی ریل گاڑی میں بیٹھا ہے۔ فرض کیجیے وہ ٹرین کے ڈرائیور کے ذریعے بجائی گئی سیٹی سنتا ہے ۔وہ کیا تعدد سنے گا یا ناپے گا؟یہاں مشاہد اوروسیلہ دونوں یکساں رفتار سے حرکت کررہے ہیں،اس لیے تعدد میں کوئی شفٹ نہیں ہوگی اورمسافر قدرتی تعدد ہی سنے گا۔ لیکن ایک ٹرین کے باہر کھڑا ہوا مشاہد ، جو کہ پٹری کی مناسبت سے مقیم ہے،قدرتی تعدد سے زیادہ تعدد سنے گا،اگر ریل گاڑی اس کی طرف آرہی ہے اورکم تعدد سنے گا اگر ریل گاڑی اس سے دور جا رہی ہے ۔
نوٹ کریں کہ ہم نے مشاہدسے وسیلہ کی سمت میں مثبت سمت معرف کی تھی ۔ اس لیے ،اگر مشاہد واسطے کی طرف حرکت کررہا ہے تو

کی مثبت (عددی) قدرہوگی اور اگر O، Sسے دو رجارہا ہے تو

کی منفی قدرہوگی۔ دوسری طرف ،اگر S، Oسے دورجارہا تو

کی مثبت قدر ہوگی اوراگروہ O کی طرف حرکت کر رہا ہے تو

کی منفی قدر ہوگی۔ وسیلے کے ذریعے خارج کی گئی آواز تمام سمتوں میں جاتی ہے۔ مشاہد ، آواز کاوہ حصہ شناس کرتا ہے جو اس کی طر ف آتا ہے۔ اس لیے مشاہد کی مناسبت سے ، آواز کی اضافی رفتار، تمام صورتوں میں،

ہے۔
شکل 15.18: مشاہد o اور وسیلہ S دونوں رفتاروں V اور Vs سے، بالترتیب، حرکت کر رہے ہیں۔ وقت t = 0 پر وہ مقام 0
1 اور S
1 پر ہیں، جبکہ وسیلہ آواز کا پہلا فراز خارج کرتا ہے، جس کی رفتار، واسطے کی مناسبت سے v ہے۔ ایک دورے بعد

, وہ بالترتیب 0
2 اور S
2 تک حرکت کرچکے ہیں، اور انہوں نے فاصلہ

طے کیا ہے، جب کہ وسیلہ دوسرا فراز خارج کرتا ہے۔
جواب : (1)مشاہد حالت سکون پر ہے اوروسیلہ رفتار

سے حرکت کررہا ہے۔ کیونکہ یہ رفتار آواز کی رفتار

سے قابل مقابلہ ہے، اس لیے ہمیں مساوات (15.50)استعمال کرنا ہوگی، مساوات (15.51)سے دیا گیا تقریبی رشتہ نہیں۔ کیونکہ وسیلہ ، ایک مقیم نشانہ کی طرف آرہا ہے ،

بدلنا ہوگا:
اب نشانہ وسیلہ ہے (کیونکہ یہ گونج کا منبع ہے ) اورراکٹ کاشناس اب شناس یا مشاہد ہے (کیونکہ یہ گونج شناس کرتا ہے )۔ اس لیے

کی مثبت قدرہے۔ اس لیے وسیلہ (نشانہ) کے ذریعہ خارج کی گئی آواز کا تعدد vہے اورنشانے ے ذریعے وصول کیا گیا تعدد

نہیں ہے۔ اس لیے وہ تعدد جو راکٹ ناپے گا،ہے۔

خلاصہ (Summary)
1. میکانیکی لہریں، مادی واسطوں میں ہی رہ سکتی ہیں اوران پرنیوٹن کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
2. عرضی لہریں وہ لہریں ہیں جن میںواسطے کے ذرات، لہر کی اشاعت کی سمت کی عمودی سمت میں اہتراز کرتے ہیں۔
3. طولی لہریں وہ لہریں ہیں جن میں واسطے کے ذرات ، لہرکی اشاعت کی سمت میںاہتراز کرتے ہیں۔
4. رواں لہر وہ لہر ہے جو واسطے کے ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک حرکت کرتی ہے۔
6. مثبت –xسمت میں حرکت کرتی ہوئی ایک سائن خم نمالہرکا نقل دیا جاتاہے :
جہاں a لہر کی سمت ہے، k زاویائی لہر عدد ہے،

زاویائی تعدد ہے،

فیز ہے اور

فیز مستقلہ یا فیز زاویہ ہے۔
6. ایک رواں لہر کی طول

, ایک دیے ہوئے وقت پر، یکساں فیز کے دومتواتر نقطوں کے درمیانہ فاصلہ ہے۔ ایک قائم لہر میں یہ دو متواتر نوڈ یا اینٹی نوڈ کے درمیان فاصلے کا دگنا ہے۔
7. ایک لہرکے اہتراز کے دورTکی تعریف اس طرح کی جاتی ہے یہ وہ وقت ہے جوواسطہ کاکوئی بھی جز ایک مکمل اہتراز سے گذرنے میں لیتا ہے ۔ یہ زاویائی تعدد

سے مندرجہ ذیل رشتے سے منسلک ہے

8. ایک لہر کے تعدد کی تعریف بہ طور

کی جاتی ہے، اوراس کازاویائی تعددسے رشتہ ہے :

9. ایک رواں لہرکی رفتاردی جاتی ہے :

10. ایک تنی ہوئی ڈوری پر، ایک عرضی لہرکی رفتار ، ڈوری کی خاصیتوں سے متعین ہوتی ہے۔ ایک ڈوری پر، جس میں تناؤ Tہو اور جس کی خطی کمیت کثافت

ہو آواز کی رفتار ہے:

11. آوار کی لہریں وہ طولی میکانیکی لہریں ہیں جو ٹھوس اشیاء، رقیق اشیاء اور گیسوں میں سے گذرسکتی ہیں۔
ایک رقیق میں، جس کا حجم مقیاس Bاور کثافت Sہو، آواز کی رفتار ہے:

ایک دھات کی بنی چھڑ میں طولی لہروں کی رفتار ہے ۔

گیسوں کے لیے، کیونکہ

، اس لیے آواز کی رفتار ہے۔
12. جب دو یا دوسے زیادہ لہریں، ایک ہی واسطے سے بہ یک وقت گذرتی ہیں، توواسطے کے کسی بھی جز کانقل ، ہر لہر کی وجہ سے ہونے والے انفرادی نقل کا الجبرائی حاصل جمع ہوتا ہے۔ یہ لہروں کے انطباق کا اصول کہلاتا ہے :
13. ایک ہی ڈوری پرحرکت کر رہی دو سائن خم نما لہریں، تداخل دکھاتی ہیں،یعنی انطباق کے اصو ل کے مطابق جمع یاتنسیخ ہوتی ہے۔ اگر دونوں ایک ہی سمت میں حرکت کر رہی ہوں اوردونوں کی
سعت aاورتعدد یکساں ہو، لیکن فیز میں ایک فیز مستقلہ

کا فرق ہو تو نتیجہ میں ایک واحد لہر حاصل ہوتی ہے، جس کا تعدد بھی

ہوتا ہے۔
اگر

کا صحیح عدد ہو، تو لہریں بالکل درست طور پر فیز میں ہوتی ہیں اور تداخل تعمیری ہوتا ہے، اگر

ہو تو ہو بالکل درست طور پر فیز کے باہر ہوتی ہیں اور تداخل تخریبی ہوتی ہے۔
14. ایک رواں لہر، ایک استوار سرحد یا بند سرے پر فیز کے الٹنے کے ساتھ، منعکس ہوتی ہے، جب کہ ایک کھلی سرحد پر انعکاس بغیر کسی فیز کی تبدیلی کے ہوتا ہے۔
ایک واقع لہر کے لیے
استوار سرحد پر منعکس لہر ہے:
ایک کھلی سرحد پر انعکاس کے لیے:
15. مخالف سمتوں میں حرکت کرتی ہوئی دومتماثل لہروں کا تداخل ’’قائم لہریں‘‘ پیدا کرتا ہے۔ ایک ڈوری میں، جس کے دونوں سرے بندھے ہوں ، قائم لہر دی جاتی ہے
قائم لہروں کی خاصیت، صفر نقل کے متعین مقامات ہیں جو نوڈ کہلاتے ہیں اوراز حد نقل کے متعین مقامات ہیں جو انیٹی نوڈ کہلاتے ہیں۔ دو متواتر نوڈ یا اینٹی نوڈ کے درمیان

فاصلہ ہوتا ہے۔
ایک تنی ہوئی رسی ، جس کے دونوں سرے بندھے ہوں اورجس کی لمبائی Lہو، مندرجہ ذیل تعدد سے اہتزاز کرتی ہے :
مندرجہ بالا رشتے سے دیے گئے تعددوں کا سیٹ، نظام کے اہتزاز کے نارمل موڈ کہلاتے ہیں۔ کم ترین تعدد کا اہتزاز موڈ، بنیادی موڈ یا پہلاہارمونک کہلاتا ہے۔ دوسراہارمونک، n=2کے ساتھ اہتزاز موڈ ہے، اوراسی طرح آگے بھی ۔
ایک لمبائی L کا پائپ ، جس کا ایک سرا بند ہوا اور دوسراسرا کھلا ہو (جیسے ہوا کالم)، مندرجہ ذیل رشتے سے دیے گئے تعدد کے ساتھ اہتراز کرتا ہے۔
مندرجہ بالا رشتے سے دیے گئے تعددوں کاسیٹ، اس قسم کے نظام کے اہتراز کے نارمل موڈ ہیں۔

سے دیاجانے والا کم ترین تعدد بنیادی نوڈ یاپہلاہارمونک ہے۔
16. دونوں سروں پربندھی ہوئی L لمبائی کی ڈوری یا ایک سرے پربندھی اورایک سرے پرکھلا ہو ایا دونوں سروں پر کھلاہوا کالم جن مخصوص تعددوں سے اہتزازکرتے ہیں وہ ان کے نارمل موڈ کہلاتے
ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تعدد ، نظام کا گمک دا رتعدد ہے۔
17. ضربیں (Beats) تب بنتی ہیں جب دو ایسی لہریں منطبق ہوتی ہیں، جن کے تعد د اورمیں معمولی فرق ہوتا ہے اورجن کی سعتیں قابل مقابلہ ہوتی ہیں۔ ضرب تعدد ہے :
18. ڈوپلر اثر ، ایک لہر کے اس وقت ناپے گئے تعدد میں تبدیلی ہے جب وسیلہS یامشاہد(o)یا وسیلہ اور مشاہد دونوں، واسطے کی مناسبت سے حرکت کر رہے ہوں۔ آواز کے لیے ، ناپی گئی تعددvo وسیلہ
کے تعددکی شکل میں دیا جاتا ہے:
یہاں v واسطہ میں آواز کی رفتار ہے، vo مشاہد کی واسطہ کے مناسبت سے رفتار ہے اور vsوسیلہ کے واسطہ کی مناسبت سے رفتار ہے۔ اس فارمولہ کو استعمال کرنے میں ، osکی سمت میں جو
رفتار یں ہوں انہیں مثبت اورجو اس کے مخالف ہوں انہیں منفی لینا چاہیے۔
| طبعی مقدار |
علامت |
ابعاد |
اکائی |
ریمارک |
| طول موج |
 |
[L] |
m |
یکساں فیز کے دو متواتر نقطوں کے درمیان فاصلہ |
| اشاعت مستقلہ |
 |
[L-1] |
m-1 |
 |
| لہر چال |
 |
[LT-1] |
ms-1 |
 |
| ضرب تعدد |
 |
[T-1] |
s-1 |
منبق لہروں کے دو نزدیکی تعدد کا فرق |
قابل غور نکات
1. ایک لہر ، واسطے میں مادہ کی مجسّم طورپرحرکت نہیں ہے۔ ہوا کاچلنا اورہوا میں آواز کی لہرکاگذرنا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اول الذکرمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک ہوا کی حرکت شامل ہے۔ آخر الذکر میں ہوا کی پرتوں کے داب اور ایتطلاف شامل ہیں۔
2. ایک لہر میں، ایک نقطے سے دو سرے نقطہ تک توانائی منتقل ہوتی ہے، مادہ نہیں۔
3. کسی میکا نیکی لہر میں توانائی کی منتقلی ، واسطے کے نزدیکی اہتراز کرتے ہوئے جزوں کے درمیان لچکیلی قوتوں کے ذریعے جفتگی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
4. عرضی لہریں صرف انہیں واسطوں میں سے گذرسکتی ہیں، جن کے لچک کے تحریفی مقیاس کی قدر قابل لحاظ ہوتی ہے۔ طولی لہروں کے لیے لچک کے حجم مقیاس کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے وہ ہرقسم کے واسطے ، ٹھوس رقیق اورگیسوں میں سے گذرسکتی ہیں۔
5. ایک دئے ہوئے تعدد کی ہارمونی رواں لہر میں تمام ذرات کی سعت یکساں ہوتی ہے لیکن فیز مختلف ہوتے ہیں (دیے ہوئے وقت پر)۔ ایک مقیم لہرمیں، دو نوڈوں کے درمیان تمام ذرات، ایک دیے
ہوئے وقت پر یکساں فیز میں ہوتے ہیں لیکن ان کی سعتیں مختلف ہوتی ہیں۔
6. ایک ایسے مشاہد کی مناسبت سے جو ایک واسطے میں حالت سکون پر ہو، اس واسطے میں ایک میکانیکی لہر کی رفتار v، صرف واسطے کی لچکیلی اوردوسری خاصیتوں(جیسے کمیت کثافت) پر منحصر ہے۔ یہ وسیلے
کی رفتارپر منحصرنہیں ہے۔
7. واسطے کی مناسبت سے رفتار

سے حرکت کرتے ہوئے مشاہد کے لیے ، ایک لہر کی رفتار vسے مختلف ہوتی ہے اوردی جاتی ہے :

مشق
15.1 ایک 2.50kgکمیت کی ڈوری 200Nتناؤ کے زیر اثر ہے۔ تنی ہوئی ڈوری کی لمبائی 20.0mہے۔ اگر ایک سرے پر عرضی جھٹکالگایا جائے، توڈوری کے دوسرے سرے تک پہنچنے میں خلل کو کتنا وقت لگے گا؟
15.2 ایک 300mاونچے مینار پرسے گرایا گیا پتھر، مینار بنیاد کے نزدیک تالاب کے پانی میں گرتا ہے۔پتھر کے پانی میں گرنے کی آواز مینارپرکب سنائی دے گی۔ دیا ہے، ہوا میں آواز کی رفتار
15.3
ایک فولاد کے تار کی لمبائی 12.0mاور کمیت 2.10kgہے۔ تار میں تناؤ کتنا ہونا چاہیے کہ تار پر ایک عرضی لہر کی رفتار ، سوکھی ہوا میں آواز کی رفتار

پرکے مساوی ہو۔
15.4
فارمولہ

کے استعمال کے ذریعے وضاحت کیجیے کہ ہوا میں آواز کی رفتار کیوں۔
(a) دباؤ کے تابع نہیں ہے
(b) درجۂ حرارت کے ساتھ بڑھتی ہے
(c) مرطوبیت (Humidity)کے ساتھ بڑھتی ہے
15.5
آپ سیکھ چکے ہیں کہ ایک رواں لہر ، ایک بُعد میں ، ایک تفاعل

کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے، جہاںxاور tکو (x- vt)یا (x tvt)کی شکل میں متحد ہونا لازمی ہے، یعنی کہ، y=f (x + vt) کیا اس کا برعکس بھی صادق ہے ؟ جانچیے کہ کیا yکے لیے مندرجہ ذیل تفاعلات کا ایک رواں لہر کو ظاہر کرنا ممکن ہے :
15.6
ایک چمگادڑ ہوا میں تعدد 1000khzکی بالا صوتی آواز خارج کرتی ہے ۔اگر آواز ایک پانی کی سطح سے ٹکراتی ہے تو ، کیا طول لہر ہوگی؟(a)منعکس آواز کی (b)ترسیل ہونے والی آواز کی ؟آواز کی رفتار: ہوا میں

، پانی میں

۔
15.7
ایک اسپتال ایک نسج(Tissue)میں رسولیوں کا مقام پتہ کرنے کے لیے ایک بالا صوتی تقطیع کار (Ultrasonic Scanner)استعمال کرتا ہے ۔ اس نسح میں آواز کی طول لہر کیاہوگی، جس میں آواز کی چال

ہے ؟تقطیع کار کے کام کرنے کا تعدد 4.2MHzہے۔
15.8 ایک ڈوری پر ایک ہارمونی عرضی لہردی جاتی ہے :(y(x, t) = 3.0 sin (36 t+0.018x+p/4)
جہاں xاور y،سینٹی میٹر میں ہیں اورtسیکنڈمیں ۔xکی مثبت سمت، بائیں سے دائیں ہے۔
(a)یہ ایک رواں لہر ہے یاقائم لہر؟ یہ اگرحرکت کررہی ہے تو اس کی اشاعت کی چال اورسمت کیا ہیں؟
(b)اس کی سعت اورتعدد کی کیا قدریں ہیں؟
(c)مبدے پر آغازی فیز کیا ہے
(d)لہر میں دو متواتر فرازوں کے درمیان کم ترین فاصلہ کیا ہے ؟
15.9 مشق15.8میں بیان کی گئی لہرکے لیے، نقل (y)بہ مقابلہ tگراف x=0.2اور x=4cmکے لیے کھینچے۔ ان گرافوں کی شکلیں کیسی ہیں؟ لہرمیں اہترازی حرکت ، ایک نقطہ سے دوسرے تک ، کس طورپرمختلف ہے :سعت ، تعدد یافیز کے لحاظ سے ۔
15.10 مندرجہ ذیل ہارمونی لہر:y(x, t)=2.0 cos 2p(10t–0.0080x+0.35)
کے لیے ، جہاں xاور yسینٹی میٹرمیں ہیں، اورtسیکنڈ میں ، ایسے دو نقطوں پراہترازی حرکت میں فیز فرق معلوم کیجیے، جن کے درمیان فاصلہ ہے :۔
15.11
ایک دونوںسروں پر بندھی ہوئی ڈوری کاعرضی نقل دیا جاتا ہے :

جہاں x اورyسینٹی میٹر میں اورtسیکنڈ میں۔ ڈوری کی لمبائی 1.5mاوراس کی کمیت

ہے۔
مندرجہ ذیل کے جواب دیجیے:
(a) تفاعل ایک رواں لہرکو ظاہر کرتا ہے یا مقیم لہرکو؟
(b) اس لہرکی، مخالف سمتوں میں حرکت کرتی ہوئی دو لہروں کے انطباق کے بہ طور، تشریح کیجیے۔ ہر لہر کی طول لہر ، تعدد اورچال کیا ہے ؟
(c) ڈوری میں تناؤ معلوم کیجیے۔
15.12 (i) مشق 15.11میں بیان کی گئی ڈوری پر، کیا ڈوری کے تمام نقاط یکساں
(a) تعدد
(b) فیز
(c)سعت سے اہتراز کرتے ہیں؟اپنے جوابات کی وضاحت کیجیے۔
(ii)ایک نقطہ جو ایک سرے 0.375mدور ہے، اس پر سعت کتنی ہے؟
15.13 نیچے ایک لچکیلی لہر کے نقل کو ظاہر کرنے کے لیے (عرضی یاطولی نقل)، xاورtکے کچھ تفاعلات دیے گئے ہیں۔
بتائیے کہ ان میں سے کون ظاہر کرتے ہیں (i)ایک رواں لہر (ii)ایک قائم لہر یا (iii)کوئی لہر نہیں۔
15.14
دو استوار سہاروں کے درمیان تنا ہواایک تار، 45Hzکے تعدد کے ساتھ ، اپنے اساسی موڈ میں اہتراز کرتا ہے۔ تار کی کمیت

اوراس کی خطی کمیت کثافت

ہے۔ (a) تار پر عرضی لہر کی چال کیا ہے ؟ (a)تارمیں تناؤ کتنا ہے۔
15.15 ایک میٹرلمبی ایک ٹیوب کا ایک سرا کھلا ہے اوردوسرے سرے پر حرکت کر سکنے والا پسٹن لگا ہے۔ جب ٹیوب کی لمبائی 25.5cmیا 79.3cmہوتی ہے تو یہ ایک معین تعدد والے وسیلے (340Hzکی ٹیوننگ فارک) سے گمک ظاہر کرتی ہے۔ تجربہ کے درجہ حرارت پر ہوا میں آواز کی رفتار کا تخمینہ لگائیے۔ کنارہ اثرات (edge effects)نظر انداز کیے جا سکتے ہیں۔
15.16 100cmلمبی فولادی چھڑ، اپنے وسطی نقطہ پربندھی ہوئی ہے۔ چھڑ کے طولی ارتعاشوں کا بنیادی تعدد 2.53kHzہے۔ فولاد میں آواز کی رفتار کیا ہے ؟
15.17
ایک 20cmلمبا پائپ ایک سرے پر بند ہے ۔ ایک 430Hzکے وسیلے سے پائپ کا کون سا ہارمونی موڈ گمک کرے گا؟ کیا یہی وسیلہ پائپ کے ساتھ جب بھی گمک کرے گا اگرپائپ کے دونوں سرے کھلے ہوں؟ (ہوا میں آواز کی رفتار

ہے۔
15.18 ستارکے دو تار Aاور Bایک دوسرے سے لے میں تھوڑے باہر ہیں (Gaسُر میں ) اور6Hzتعدد کی ضرب پیدا کرتے ہیں۔ تار Aمیں تناؤ کو کچھ کم کیا جاتا ہے اورضرب تعدد کم ہو کر 3Hzہو جاتا ہے ۔ اگر Aکا آغازی تعدد 324Hzہے ، تو B کا تعدد کیا ہے ؟
15.19 وضاحت کیجیے کیوں (یا کیسے) :
(a) ایک آواز کی لہر میں ، ایک نقل نوڈ ایک دباؤ اینٹی نوڈ ہوتا ہے اوراس کے برخلاف بھی ۔
(b) چمگادڑیں بغیر آنکھوں کے بھی ، فاصلے ، سمتیں اوررکاوٹوں کی طبع اور سائز معلوم کر لیتی ہیں۔
(c) ایک وائلن سر اور ایک ستار سر کا تعدد اگر یکساں ہوتو بھی ہم ان دونوں کے سروں میں فرق کر سکتے ہیں۔
(d) ٹھوس اشیا ، طولی اورعرضی دونوں لہروں کو سہار سکتے ہیں، جب کہ گیسوں میں سے صرف طولی لہریں گذرسکتی ہیں۔
(e) ایک انکساری واسطے (Dipressive medium)میں سے گذرتے ہوئے ایک پلس کی شکل خراب ہو جاتی ہے۔
15.20
ایک اسٹیشن کے باہر سگنل پرکھڑی ریل گاڑی ، 400Hzتعدد کی ، ساکت ہوا میں ، سیٹی بجاتی ہے ۔(a)ایک پلیٹ فارم پر کھڑے مشاہد کے لیے سیٹی کا تعدد کیا ہوگا جب ٹرین(a)

کی چال سے پلیٹ فار م کی طرف آتی ہے (b)پلیٹ فارم سے

کی رفتار سے دور جاتی ہے۔ (ii)دونوں میں سے ہر صورت میں آواز کی رفتا ر کیا ہے ؟ ساکت ہوا میں آواز کی رفتار

ہے۔
15.21
ایک اسٹیشن یارڈ میں کھڑی ٹرین، ساکت ہوا میں400Hzتعد د کی سیٹی بجاتی ہے۔ یارڈ سے اسٹیشن کی جانب، ہوا

کی چال سے ، چلنے لگتی ہے۔ ایک اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑے مشاہد کے لیے آواز کی تعدد ، سعت اور چال کی قدریں کیا ہیں۔ کیا یہ صورت بالکل دیسی ہی ہے (متماثل ہے)، جیسے کہ ہوا ساکت ہو، اورمشاہد یارڈ کی جانب

کی چال سے دوڑے؟ ساکت ہوا میں آواز کی رفتار

کی جا سکتی ہے ۔
اضافی مشق
15.22 ایک ڈوری پر ایک رواں ہارمونی لہر، بیان کی جاتی ہے :


پر ایک نقطہ کے اہتراز کے نقل اوررفتار کیا ہوں گے؟
(b) ڈوری کے ان نقاط کے مقام معلوم کیجیے جن کے عرضی نقل اور رفتار کی قدریں وہیں ہوں گی جو x=1cmنقطہ کی t=2s, 11s 5s پرہیں۔
15.23 ایک پتلی آواز پلس ایک واسطے میں سے بھیجی جاتی ہے (a)کیا اس پلس کی متعین ہے (i)تعدد (ii)طول موج (iii)اشاعت کی چال (b)اگر پلس شرح، ہر 20Sپر 1ہے (یعنی کہ سیٹی ہر 20Sبعد ، سیکنڈ کے ایک ذرا سے حصے کے لیے بجائی جاتی ہے )، توسیٹی کے ذریعے پیدا کیے گئے سر کا تعدد کیا 1/20یا 0.5Hzکے مساوی ہوگا۔
15.24
ایک خطی کمیت کثافت

کی ڈوری کا ایک سرا ،256Hzتعدد کی بجلی سے چلنے والی ٹیونک فارک سے منسلک ہے ۔دوسرا سرا ایک گراری سے گذرتا ہوا ایک پلڑے سے بندھا ہے، جس میں 90Kgکی کمیت رکھی ہے۔ گراری کا سرا آرہی ساری توانائی جذب کرلیتا ہے ، اس طرح کہ اس سرے پرمنعکس لہروں کی سعت نظر انداز کی جا سکتی ہے۔ t=0پر، بایاں سرا( فورک کا سرا)، x=0کا عرضی نقل (y=0)صفر ہے اوروہ مثبت yسمت میں حرکت کر رہا ہے ۔ لہر کی سعتcm 5.0ہے۔ ڈوری پرلہر کو بیان کرنے والا عرضی نقل y، بہ طورتفاعل xاور t، لکھیے۔
15.25
ایک پن ڈبی میں نصب سونار نظام 40.0KHzکے تعدد پر کام کرتا ہے۔دشمن کی ایک پن ڈبی،

کی رفتار سے سونار کی طرف آتی ہے۔ پن ڈبی سے منعکس ہوئی آواز کا تعدد کیا ہے ؟ پانی میں آواز کی رفتار

لیجیے۔
15.26
زلزلے زمین کے اندر آواز کی لہریں پیدا کرتے ہیں۔ ایک گیس کے برخلاف، زمین عرضی، (s)اورطولی (p)دونوں آواز کی لہریں محسوس کرسکتی ہے۔ sلہر کی رفتار

ہے۔ ایک زلزلہ نگار ایک زلزلے کی PاورSلہریں ریکارڈ کرتا ہے۔ پہلی Pلہر ، پہلی Sلہر سے 4.0منٹ پہلے آتی ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ لہریں خط مستقیم میں حرکت کرتی ہیں، بتائیے کہ زلزلہ کتنے فاصلے پر آیا۔
15.27 ایک چمگادڑایک غار میں چکر کاٹ رہی ہے اوربالا صوتی آواز کے ذریعے راستہ تلاش کر رہی ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ چمگادڑ کا آواز خارج کرنے کا تعد د40KHzہے۔ ایک سیدھی دیوار کی طرف ایک بار براہ راست اڑاتے ہوئے چمگادڑ ہوا میں آواز کی رفتار کے 0.03کی رفتار سے اڑتی ہے۔ دیوار سے منعکس ہونے کے بعد چمگادڑ کیا تعد د سنتی ہے؟