
باب ۔ 1
آئین : کیوں اور کیسے؟
تمہید
یہ کتاب آئین ہند کے طریق ِ عمل سے متعلق ہے۔اس کے ابواب میں آپ کو ہمارے آئین کے طریق عمل سے متعلق،مختلف پہلوؤں کا علم ہوگا۔ اپنے ملک کے مختلف اداروں اور ان کے درمیان باہمی رشتوں کے متعلق بھی آپ کو معلومات حاصل ہوں گی۔
اس سے قبل کہ انتخابات ، حکومتوں، صدر اور وزرائے اعظم کے متعلق مطالعہ شروع کیا جائے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حکومت کا تمام تر ڈھانچہ اور اس کے اداروں کو باہم مربوط رکھنے والے مختلف اصول کی بنیاد اور ان کا مبدا ومآخذ آئین ہند ہی ہے۔
اس باب کا مطا لعہ کرنے کے بعد آپ جانیں گے:
آئین کے کیا معنی ہیں؛
- آئین، سماج کے لیے کیا کرتا ؛
- آئین، کس طرح سماج میں اقتدار کا تعین اور انتظام کرتا ہے اور
- آئین ہند کس طرح تشکیل دیا گیا۔
ہمیں آئین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
آئین کیا ہے؟ اس کے کیا معنی ہیں؟ یہ سماج کے لیے کیا کردار ادا کرتا ہے؟ ہمارے روز مرّہ کے وجود سے آئین کا کیا تعلق ہے؟ ان سوالات کے جواب اتنے مشکل نہیں ہیں جتناہو سکتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں۔
آئین ربط باہمی اور یقین دہانی کا مظہر ہے:
تصور کیجیے آپ ایک خاصے بڑے گروہ کے ایک رکن ہیں۔مزید تصور کیجیے کہ اس گروہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔ اس گروہ کے ممبران کئی معنوں میں مختلف ہیں۔وہ مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں۔بعض ہندو ہیں، بعض مسلمان ہیں، بعض عیسائی ہیں اور بعض کا کوئی مذہب ہی نہیں ہے۔کچھ اور معاملات میں بھی وہ ایک دوسرے سے مختلف وممتاز ہیں : وہ مختلف پیشے اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کی مختلف صلاحیتیں ہیں، مشاغل مختلف ہیں۔فلم سے کتابوں تک ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔بعض امیر ہیں اور بعض غریب، بعض بوڑھے ہیں، بعض نوجوان۔ مزید تصور کیجئے کہ اس گرو ہ کے ممبران، زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔کس کو کتنی جائیداد کا مالک ہونا چاہیے؟
یہ گروہ بالکل میرے گاؤں کے لوگوں جیسا ہے۔
کیا ہر بچہ کو اسکول جانا ضروری قرار دینا چاہیے یا والدین پر اس معاملہ کو چھوڑ دینا چاہیے؟ اس گروہ کو اپنی سلامتی اور تحفظ پر کتنا خرچ کرنا چاہیے؟ کیا اس کی بجائے پارک بنائے جانے چاہئیں؟ کیا اس گروہ کو اپنے ہی کچھ ارکان کے خلاف امتیاز برتنے کی اجازت دی جائے؟آپ تصورکرسکتے ہیں کہ ہر سوال کا جواب، مختلف لوگوں سے مختلف ہی ملے گا۔لیکن اختلافات کے باوجود اس گروہ کو ایک ساتھ رہنا ہے۔
ہاں! یہ میری کالونی بھی ہوسکتی ہے۔کیا یہ آپ کے گاؤں یا قبضہ یا کالونی پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔
وہ مختلف طریقوں سے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔وہ ایک دوسرے کا تعاون چاہتے ہیں۔کون اس گروہ کو، پُرامن طریقہ سے رہنے کے قابل بنائے گا؟
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس گروہ کے ارکان شاید اس طرح ایک ساتھ رہ سکتے ہیں کہ وہ بعض بنیادی اصولوں پر متفق ہوجائیں۔ اس گروہ کو کچھ بنیادی اصولوں کی ضرورت کیوں ہوگی؟ ذرا سوچئے کہ کچھ بنیادی اصولوں کی غیرموجودگی میں کیا ہوگا؟ ہر فرد، محض اس لیے غیرمحفوظ ہوگا کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا ہوگا کہ اس گروہ کے ممبران ایک دوسرے کے لیے کیا کرسکتے ہیں، کون کس چیز پر اپنا حق جتائے؟ کسی بھی گروہ کو کچھ بنیادی اصولوں کی ضرورت ہوگی جن کا اعلانِ عام کیا جائے گا اور گروہ کا ہر ممبران سے واقف ہوگا تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعاون کرسکے۔ان اصولوں کا نہ صرف علم ہو بلکہ وہ نافذ کرنے کے قابل بھی ہوں۔اگر شہریوں کو یقین دہانی نہ کرائی جائے کہ دوسرے لوگ بھی ان پر عمل کریں گے تو وہ کیوں کر ان پر عمل کریں گے۔ یہ بات کہ یہ قانونی طور پر نافذ ہوں گے، ہر شخص کو اس بات کا یقین دلائے گا کہ دوسرے بھی اس پر عمل کریں گے۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کو سزا ملے گی۔
آئین کا پہلا کام ہے ایسے بنیادی اصولوں کا مجموعہ فراہم کرنا جو سماج کے ارکان کے درمیان کچھ نہ کچھ باہمی ربط کی اجازت دے اور اس کی یقین دہانی کرائے۔
ربط باہم اوراس بارے میں یقین دہانی کا ضامن ہو
سرگرمی (Activity) :
اس حصہ میں پیش کردہ خیالات کا اپنی کلاس میں تجربہ کیجیے ۔پوری کلاس بحث ومباحثہ کرے اور کچھ فیصلوں تک ضرور پہنچے جو پورے سیشن میں ہر ایک پر نافذ ہوں۔یہ فیصلے درج ذیل کے بارے میں ہونے چاہیئں:
فیصلہ سازی کے اختیارات کی تفصیل
آئین بنیادی اصولوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جس کے مطابق مملکت کی تشکیل و تنظیم ہوتی ہے۔لیکن یہ بنیادی اصول کیا ہونے چاہئیں؟ ان کو کیا چیز بنیادی بناتی ہے؟ گویا، پہلاسوال تو یہ ہے کہ یہ کون طے کرے گا کہ سماج کو حکومت سے منضبط کرنے والے قانون کون سے ہوں گے؟ آپ قانون( الف) چاہیں گے تو دوسرا شخص قانون (ب) چاہے گا۔ہم کیسے طے کریں گے کہ ہم پر کس قانون کی حکومت ہونی چاہیے؟ آپ کا خیال ہے کہ جو اصول آپ پسند کرتے ہیں، وہی سب سے بہترہیں۔ لیکن دوسروں کا خیال ہے کہ ان کے اپنے اصول سب سے بہتر ہیں۔اس اختلاف کو کیسے حل کریں گے؟ آپ کے فیصلہ لینے سے پہلے کون طے کرے گا کہ یہ حق کس گروہ کو حاصل ہے؟ کس کو یہ معاملہ طے کرنے کا اختیار ہوگا؟
اس سوال کا جواب آئین کے پاس ہے ۔یہ سماج میں اقتدار کے تعین کی بنیادفراہم کر تا ہے اور ا س کی نشان دہی کرتا ہے۔یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون یہ طے کرے گا کہ قانون کیا ہوں گے؟ اصولاً، اس سوال کے کئی جواب دیےجاسکتے ہیں۔ایک بادشاہی نظام میں یہ سب کچھ بادشاہ طے کرے گا۔کچھ پرانے آئینوں،جیسے سوویت یونین میں ایک واحد جماعت کو فیصلہ کا اختیار دیا گیا تھا۔لیکن جمہوری آئین میں، وسیع النظری سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اختیار عوام کو حاصل ہے۔لیکن اگر یہ بھی کہیں کہ عوام کو فیصلہ کرنا چاہیے تو یہ صحیح جواب نہ ہوگا۔عوام کو کیسے طے کرنا چاہیے؟ کسی چیز کو قانونی شکل دینے کے لیے، کیا ہر شخص کا اس سے اتفاق کرنا ضروری ہے؟ کیا ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر معاملہ پر، سب لوگ براہ راست اُسی طرح ووٹ دیں جیسے یونانی کیا کرتے تھے؟ یا عوام کو اپنے منتخبہ ممبران /نمائندوں کے ذریعہ اظہارِ رائے کرنا چاہیے؟ ان نمائندوں کا انتخاب کیسے ہونا چاہیے؟کتنے نمائندے ہونے چاہئیں؟
آئین ہند میں، اس بات کی خاص طور سے وضاحت کی گئی ہے کہ زیادہ تر معاملات میں، پارلیمنٹ ہی قانون اور پالیسیاں طے کرے گی۔پارلیمنٹ خود بھی ایک مخصوص طریقہ سے تشکیل دی جاتی ہے۔ کسی مخصوص سماج میں کیا قانون ہیں، اس کو جاننے سے پہلے آپ کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ اس پر عمل کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ اگر ہم یہ کہیں کہ قوانین کو نافذ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے تو ہمیں ایک بالاتر قانون کی ضرورت ہوگی جو ابتدا میں ہی یہ اختیار پارلیمنٹ کو عطا کرتا ہے۔یہ ذمہ داری آئین کی ہے جو ایک بااختیارانتظامیہ ہے جو اولاً حکومت کی تشکیل کرتی ہے۔
آئین کا دوسرا کام ہے یہ طے کرنا کہ سماج میں فیصلہ لینے کا اختیار کس کو حاصل ہے۔ حکومت کیسے تشکیل دی جائے گی؟
ایک کارٹون پڑھیے
یورپین آئین،جاگیرداررہنما
یوروپین یونین کے ممالک نے ایک یوروپی آئین مرتب کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش ناکام ہوگئی۔اس کوشش پر ایک کارٹونسٹ کا خاکہ دیکھیے۔کیا آئین سازی میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے؟
حکومت کے اختیارات پر بندشیں
لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے۔فرض کیجیے: آپ نے طے کیا کہ کون فیصلہ ساز ہوگا۔لیکن جب قانون، یہ اختیار منظورکرلیتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ اس کو غیر منصفا نہ سمجھیں۔مثال کے طور پر اس قانون نے آپ کو، اپنے مذہب کی پیروی کی ممانعت کردی یا یہ فیصلہ دے دیا کہ ایک خاص رنگ کے کپڑوں پر پابندی ہے۔یا یہ کہ آپ کچھ مخصوص نغمے نہیں گاسکتے،یا یہ کہ ایک خاص گروہ (ذات یا مذہب) سے تعلق رکھنے والے ہمیشہ دوسروں کی خدمت کریں گے،اور کوئی جائیداد رکھنے کے حقدار نہ ہوں گے۔یا یہ کہ حکومت کسی شخص کو بھی گرفتار کرسکتی ہے۔یا یہ کہ خاص رنگ کی جلد کے لوگ، کنوؤں سے پانی نہیں بھرسکتے۔ظاہر ہے کہ آپ سوچیں گے کہ یہ قوانین، غیرمنصفانہ اور نامناسب ہیں۔اگرچہ ان کو کسی ایسی حکومت نے منظور کیا ہوگا جوباضابطہ تشکیل دی گئی ہو،تب بھی ایسے قانون منظور کرنے کے خلاف انصاف کے امکانات کم ہی ہوگے۔
لہٰذا، آئین کا تیسرا کام ہے: حکومت پر کچھ بندشیں لگاناکہ وہ شہریوں پر کیا کیا نافذ کرسکتی ہے۔یہ بندشیں اس معنی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں کہ حکومت کبھی ان میں مداخلت نہیں کرے گی۔
اوہ! تو پہلے آپ ایک دیوقامت جانور کی تخلیق کریں گے۔اور پھر پریشان ہوں گے اس سے خود کو بچانے کے لیے۔ میں تو کہوں گا کہ آپ نے اس دیوقامت جانور کوپیدا ہی کیوں کیا جس کا نام حکومت ہے؟
آئین، مختلف طریقوں سے، حکومت کے اختیارات پر بندشیں لگاتا ہے ۔حکومت کے اختیار کو محدود رکھنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ کچھ بنیادی حقوق کا تعین کیا جائے جو شہریوں کو حاصل ہوں۔اور کسی بھی حکومت کو ان حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے۔ان حقوق کا قطعی مواد اور تشریح، ہر آئین میں دوسرے آئین سے مختلف ہوتی ہے۔لیکن زیادہ تر آئین، حقوق کے بنیادی ڈھانچہ کی حفاظت کرتے ہیں جیسے بغیر وجہ کسی شہری کو گرفتار ہونے سے محفوظ رکھنا، حکومت کے اختیارات پر یہ حد لگادی گئی ہے۔عام حالات میں شہریوں کو بعض بنیادی آزادیاں حاصل ہوں گی جیسے آزادی تقریر، ضمیر کی آزادی، انجمنیں قائم کرنے کی آزادی، تجارت یا کاروبار کی آزادی، وغیرہ وغیرہ۔عملی طور پر ایسے مواقع فراہم ہوں گے جب ان حقوق پر بندشیں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔مثال کے طور پر حسّاس قسم کے ناگہانی حالات میں ایسا کیا جاسکتا ہے۔
معاشرہ کی آرزوئیں اور مقاصد
زیادہ تر قدیم آئین کچھ خاص کاموں تک محدود ہوتے ہیں: مثلاً فیصلہ سازی کے اختیار کا تعین کرنا اور حکومت کے اختیارات پر کچھ بندشیں لگانا۔ بیسویں صدی کے بہت سے آئین اپنی منزل کی تعین میں مثبت رُخ رکھتے ہیں جن میں آئین ہند ایک بہترین مثالی حیثیت رکھتا ہے۔وہ حکومت کو بعض مقاصد کے حصول کا دائرہ کار مہیا کراتا ہے جس سے معاشرے کے مقاصد اور آرزوؤں کا اظہار ہوسکے۔اس معنی میں، آئینِ ہند کافی جدت پسندہے۔وہ معاشرے جن میں عدم مساوات کی جڑیں گہری ہیں، ان کو نہ صرف حکومت کے اختیارات پر بندشیں لگانا ہوں گی بلکہ عدم مساوات اور محرومی کی نشانیوں کو ختم کرنے کے لیے مثبت قدم اٹھانے ہوں گے۔
مثال کے طور پر، ہندوستان نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی خواہش کی جو ذات پات کے امتیازات سے پاک ہو۔اگر یہی ہمارے معاشرے کی آرزو یا تمنّا ہے تو اس مقصد کے حصول کی خاطر، حکومت کو تمام ضروری اقدام کرنے ہوں گے۔
ایک کارٹون پڑھیے
آئین ساز کو مختلف آرزوؤں کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔ یہاں نہرو، مختلف بصیرتوں اور نظریات کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ یہ مختلف گروہ کون کون سے ہیں؟ آپ کے خیال میں اس توازن کے عمل میں کون حاوی رہا؟
جنوبی افریقہ جیسے ملک میں، جس کی نسلی امتیاز پر مبنی قدیم تاریخ ہے،اس نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے مقصد سے آئین نے حکومت کو اس قابل بنایا۔مثال کے طور پر ، ہند کے آئین سازوں نے یہ فکرکی کہ سماج میں ہر فرد کو ایک باوقار اور خود دار زندگی گزارنے کے لیے سب کچھ ملنا چاہیے۔ کم سے کم مادی راحت کے لیے، تعلیم وغیرہ وغیرہ۔آئین ہند، حکومت کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ قانونی طور پر بعض امور میں قابلِ عمل اور مثبت فلاحی قدم اور اٹھائے۔ہم جب آئین ہند کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس طرح کی دفعات کو آئین کی حمایت حاصل ہے جو اس کی تمہید میں موجودہے ، اور بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ریاست پالیسی کے رہنما اصول، جو آئین ہند کے چوتھے حصہ میں شامل ہیں۔ان کو اسی لیے ہیں کہ حکومت عوام کی توقعات کو پورا کرسکے۔
آئین کا چوتھا کام ہے، ایک منصفا نہ معاشرے کے لیے مناسب حالات پیدا کرنا تاکہ معاشرہ کی خواہشات کا اظہار ہو اور ان کو عملی شکل بھی دی جاسکے۔
آئین میں عمدہ باتیں لکھنے سے کیا فائدہ ؟ایسی بلند آرزوؤں اور مقاصد کو تحریر کرنے میں کیا پوائنٹ ہے کہ جن سے ہم عوام کی زندگی تبدیل نہ کرسکیں ۔
آئین میں بااختیار بنانے والی دفعات
آئین، حکومت کے اختیارات پر محض کنٹرول کرنے کے طور طریقوں اور اصولوں کا نام نہیں۔ وہ حکومت کو، معاشرہ کی اجتماعی فلاح کے لیے، اختیارات بھی عطاکرتاہے۔
- جنوبی افریقہ کے آئین نےحکومت کو بہت سی ذمّہ داریاں سپردسونپی ہیں:
یہ آئین چاہتا ہے کہ فطرت (نیچر) کی حفاظت اور فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں، غیرمناسب امتیازات سے اشخاص اور گروہوں کو تحفظ فراہم کیاجائےاورحکومت سب کو مناسب طورپررہائش،صحت کی نگہداشت وغیرہ تیزی کے ساتھ مہیا کرائے۔
- انڈونیشیا کے معاملہ میں بھی حکومت،قومی تعلیمی نظام قائم کرنے اور جاری رکھنے کی سہولت دیتی ہے۔انڈونیشیا کا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حکومت کے ذریعہ غریب اور بے سہارا بچوں کی صحیح دیکھ بھال ہو۔
قوم کی بنیادی شناخت
آخری، اور شاید سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آئین، کسی قوم و ملک کی بنیادی شناخت کا اظہار کرتا ہے۔
اس کے معنی ہیں کہ کوئی قوم بحیثیت مجموعی ایک بنیادی آئین کے ذریعہ وجود میں آتی ہے۔حکومت کس پرہواورحکومت کس طرح ہو،اس بارے میں بنیادی اصولوں کے ایک مجموعے پر اتفاق رائے کے ذریعے ہی ایک مجموعی شناخت کی تشکیل ہوسکتی ہے۔آئین کے وجود سے پہلے کسی شخص کی کئی شناخت ہوسکتی ہیں لیکن کچھ بنیادی اصولوں سے اتفاق کرنےپر اس شخص کی ایک سیاسی شناخت حاصل ہوجاتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ آئینی معیار ایک چوکھٹاہے جس میں ہم اپنی انفرادی آرزوؤں، مقاصد اور آزادیوں کو حاصل کرتے ہیں۔ہم کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں کرسکتے، آئین اس پر حاکمانہ بندشیں عائد کرتا ہے۔یہ ان بنیادی اقدار کی تعریف کرتا ہے جن کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔اس طریقہ سے آئین ہم کو ایک اخلاقی شناخت بھی دیتا ہے۔تیسری اور آخری بات، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بہت سی سیاسی اور اخلاقی اقدار، اب مختلف آئینی روایات کا حصّہ بن گئی ہوں۔
ایک کارٹون پڑھیے
میرے پاس سیاہی ہے میں کیا لکھوں۔
میرے پاس قلم ہے۔میں اسے لکھوں گا۔
میرے پاس کاغذ ہے اس کومیں لکھوں گا۔
اب چونکہ انہوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملاکراتفاق کرلیاہے ہم بہت جلد ایک آئین کی توقع کرتے ہیں۔
سنی
بغداد
صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کے بعد، عراق کے لیے نئے آئین کی تحریر کی وجہ سے ملک کے مختلف نسلی گروہوں میں تنازعہ کھڑا ہوگیا۔یہ مختلف لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہاں دکھائے گئے تنازعہ کا مقابلہ پہلے دکھائے گئے یوروپین یونین اور ہندوستان سے متعلق کارٹونوں سے کیجیے۔
اگر ہم دنیا کے مختلف آئینوں کو دیکھیں تو وہ بہت سے معنی میں ایک دوسرے سے مختلف ملیں گے۔حکومت کی قسمیں الگ، ان کی تفصیلات بھی مختلف۔لیکن ان کے مابین کچھ اچھے امور مشترک ہیں۔ جدید ترین آئین ایسی حکومت کی تخلیق کرتے ہیں جو بہت سے امور میں جمہوری ہوتے ہیں۔زیادہ ترآئین، بعض بنیادی حقوق کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان سب سے زیادہ فرق، قومی شناخت سے متعلق نظریات میں ہوتاہے، زیادہ ترَقومیں، پیچیدہ تاریخی روایات کے امتزاج کا نمونہ ہوتی ہیں۔وہ مختلف گروہوں میں ہم آہنگی قائم کرتی ہیں۔یہ گروہ مختلف سہی، لیکن ایک قومی ملک کے کردار کی زندگی گزارتے ہیں۔مثال کے طور پر، جرمن قوم کی شناخت، ان کے جرمن نسل ہونے کی وجہ سے ہے۔آئین نے اس شناخت کو ایک اظہار دیا ہے۔ دوسری جانب، آئین ہند، نسلی شناخت کو شہریت کی کسوٹی تسلیم نہیں کرتا۔کسی قوم کی مرکزی اور علاقائی اکائیوں کے درمیان، رشتوں کی بنا پر، مختلف قوموں کے نظریات الگ الگ ہوتے ہیں یہی رشتہ ، کسی قوم وملک کی قومی شناخت بناتا ہے۔
اپنی پیش رفت کا جائزہ لیجیے
یہاں آئین ہند اور دوسرے آئینوں سے کچھ دفعات دی گئی ہیں۔ہر دفعہ کیا کام انجام دیتی ہے، اس کے بارے میں تحریر کیجیے:
| کسی مذہب کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کے لیے حکومت کسی شہری کو حکم نہیں دے سکتی۔ | حکومت کے اختیارات پر پابندیاں |
| حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ آمدنی اور دولت میں عدم مساوات کم ہوسکے۔ | |
| صدر کو، وزیراعظم کا تقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ | |
| آئین، وہ بالاترقانون ہے جس کی پابندی ہر ایک پر لازم ہے۔ | |
| ہندوستانی شہریت، کسی نسل، ذات یا مذہب کے لوگوں تک محدود نہیں ہے۔ |
آئین کا اقتدار اعلیٰ
آئین کیا فرائض انجام دیتا ہے، اس کا ایک خاکہ ہم پیش کرچکے ہیں۔یہ تمام اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ مختلف معاشروں کے لیے آئین کیوں ضروری ہے۔البتہ، آئین کے متعلق ہم تین مزید سوالات پوچھ سکتے ہیں:
(a آئین کیا ہے؟
(b آئین کس قدر موثر ہوتا ہے؟
(c کیا آئین منصفانہ ہوتا ہے؟
بیشتر تر ممالک میں، آئین ایک ایسی جامع دستاویز سمجھی جاتی ہے جس میں مملکت کے متعلق مخصوص دفعات شامل ہوتی ہیں۔اس کی خاص طورسے وضاحت ہوتی ہے کہ مملکت کی تشکیل کیسے ہوگی اور کون سے معیاروں کی پیروی کی جائے گا۔جب ہم کسی ملک کے آئین کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اسی دستاویز کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بعض ممالک کا کوئی آئین ہی نہیں ہوتا ہے جیسے متحدہ انگلستا ن( U.K)۔اس کی بجائے مختلف دستاویزوں اور فیصلوں پر مبنی ایک سلسلہ ہوتا ہے جس کو بحیثیت مجموعی، آئین کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئین ایک دستاویز ہے یا دستاویزات کا ایک مجموعہ ہے جو مندرجہ بالا فرائض انجام دیتا ہے۔
لیکن دنیا میں بہت سے آئین کاغذی دستاویزات ہیں، چند الفاظ جن کو چرمی کاغذ پر لکھ دیا گیا۔اہم سوال یہ ہے : آئین کتناموثرہے؟ کون اس کو موثر بناتا ہے؟ کون ضمانت دیتا ہے کہ یہ لوگوں کی زندگی میں واقعی موجود ہے؟ کسی آئین کو موثر بنانا خود کئی عناصر پر منحصر ہوتا ہے۔
عوام کیا کریں، اگر وہ یہ دیکھیں کہ ان کا آئین منصفانہ نہیں ہے؟ اگر کوئی آئین محض کاغذی حیثیت رکھتا ہے تو اس ملک کے عوام کا کیا ہوگا؟
تشہیر کا انداز
یہ ذکر اس سلسلہ میں ہے کہ آئین کس طرح وجود میں آتا ہے ، کس نے آئین کی تخلیق کی۔ان کے پاس کیا اختیار تھے؟ بہت سے ممالک میں آئین معطل ہوکر رہ جاتے ہیں کیوں کہ ان کو یا تو فوجی سربراہان نے تیار کیا ہوتاہےیا پھر غیر مقبول رہنماؤں نے، جن میں عوام کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت نہیں تھی۔سب سے زیادہ کامیاب آئین، جیسے ہندوستان، جنوبی افریقہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ (U.S.A.)کے ہیں۔یہ ایسے آئین ہیں جو مقبول قومی تحریکوں کے نتیجے میں تخلیق ہوئے۔اگرچہ آئین ہند کو ایک آئین ساز اسمبلی نے دسمبر1946 اور دسمبر 1949 کے درمیان تیار کیا، تاہم اس نے طویل مدتی قومی تحریک سے وہ سب کچھ اخذ کیا جو ہندوستانی معاشرے کے مختلف طبقوں کو ایک ساتھ لے کر چلی تھی۔اس حقیقت سے آئین نے زبردست قانونی استحقاق حاصل کیا کہ اس آئین کو ان لوگوں نے تیار کیا ہے جن کو عوام کا زبردست اعتبار حاصل تھا۔ جو باہمی گفتگو کی صلاحیت رکھتے تھے اور معاشرے کے وسیع بین۔گروہوں کے رشتوں کا ادراک رکھتے تھے، جو عوام کو یقین دلانے کے اہل تھے کہ ان کے ذاتی اختیار کو ترقی دینے کے لیے ، آئین ایک طریقہ کار ثابت ہوگا۔بالآخر، جو دستاویز تیار کی گئی وہ اس ماحول کی وسیع ترقومی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی تھی۔ بعض ممالک نے اپنے آئین کو ایک باقاعدہ ریفرینڈم کا تابع بنادیا ہے،جہاں عوام، آئین کی محبوبیت کا خود ہی فیصلہ کرتے ہیں لیکن آئینِ ہند کو کبھی ریفرینڈم کے ماتحت نہیں لایا گیا۔لیکن اس میں زبردست عوامی طاقت پوشیدہ تھی کیوں کہ اس کے در پردہ، سربراہان قوم کو حاصل غیرمعمولی عوامی مقبولیت اور عوامی حمایت تھی اگرچہ آئین ریفرینڈم کا تابع نہیں ہے لیکن اس کی دفعات کی تعمیل کے ذریعہ، عوام نے اس کو خود اپنی دستاویز کی طرح تسلیم کیا۔لہٰذا، یہ بات کہ کون آئین کو عملی جامہ پہنانے کا اختیار رکھتا ہے، اس بات میں مدد کرتا ہے کہ اس کی کامیابی کی کتنی امید ہے۔
نیپال میں آئین سازی پر بحث ومباحثہ
آئین سازی ہمیشہ ایک آسان اور باضابطہ معاملہ نہیں ہوتا۔آئین سازی کی پیچیدہ نوعیت کی ایک مثال نیپال ہے۔ 1948سے نیپال کے پانچ آئین تیار ہوئے۔1948، 1951، 1959، 1962 اور 1990۔لیکن یہ تمام آئین شاہ نیپال کے ’’عطاکردہ ‘‘ تھے۔1990 کے آئین نے مخلوط جماعتی مقابلہ کی ابتداء کی، جب کہ بادشاہ کو بہت سے معاملات میں آخری اختیارات حاصل تھے۔پچھلے دس سالوں سے، ملک کی سیاست اور حکومت کی تشکیل نو کے لیے، نیپال نے شدت پسند سیاسی احتجاج کا سامنا کیا ہے۔خاص مسئلہ بادشاہت کا رول ہے۔ کیا بادشاہ کا رول برائے نام ہونا چاہیے یا اس کے اختیارات محدود ہوں؟ نیپال کی سیاسی جماعتوں میں اس معاملہ پر اتفاق رائے نہیں ہے۔خود بادشاہ بھی اپنے محدود اختیارات کے حق میں نہیں ہے۔
آئین کی مستقل دفعات
ایک کامیاب آئین کا ثبوت یہ ہے کہ معاشرے میں ہر شخص اس کی دفعات کو تسلیم کرنے کا کوئی نہ کوئی دلیل رکھتاہے۔مثال کے طورپر، اگرایک آئین جومستقل اکثریت کو محروم اقلیت پر جبرکااختیار دیتا ہےتو وہاں کس بنا پر اقلیتیں آئین کی پیروی کریں گی۔یا کوئی آئین، دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں بعض دوسرے لوگوں کو خصوصی سہولیات مہیا کرائے، یا متواتر معاشرے کے چھوٹے گروہوں کے اختیارات میں بے جا مداخلت کرےتووہاں کس طرح آئین کی پابندی کرائ جائے گی۔اگر کوئی گروہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے تو اس کے پاس آئین کو ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔کوئی آئین خو د بخود انصاف حاصل نہیں کرتا لیکن اسے عوام کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ یہ خاکہ بنیادی انصاف مہیا کرانے کے لیے ہے۔
تجربہ کیجیے۔ خود سے سوال پوچھیے: معاشرے میں بعض بنیادی اصولوں کی ایسی کون سی تشریح ہوگی جوہرشخص کو پیروی کے لیے جواز پیش کرسکے۔
کوئی آئین اپنے ممبران کی آزادی اور مساوات کی جس قدر حفاظت کرے گا، اسی قدر وہ کامیاب ہوگا۔ وسیع معنوں میں کیا آئین ہند، ہر شخص کو اس کی وسیع، تر پیروی کرنے کا جواز مہیا کرتا ہے؟ یہ کتاب پڑھنے کے بعد ہم اس سوال کا ا ثبات میں جواب دینے کے قابل ہوسکیں گے۔
اداروں کا متوازن ڈیزائن
اکثر چھوٹے چھوٹے گروہ، اپنی طاقت بڑھانے کی غرض سے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ لیکن بہترین طریقے سے بنائے گئے آئین معاشرے کو اس دانش مندی سےترتیب دیتےہیں کہ کو ئی بھی گروہ آئین کوخراب نہیں کرسکتا۔آئین کو دانش مندی کا نمونہ بنانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی واحد ادا رے کو طاقت کی اجارہ داری نہ دی جائے ۔ ایسا کرنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان اختیارات تقسیم کردیےجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آئین ہند،مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی متوازی تقسیم کرتاہے، جیسے مجلس قانون ساز، مجلس عا ملہ اور عدلیہ، نیزخود مختار وآزاد قانونی ادارے جیسے الیکشن کمیشن۔ یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ اگر ایک بھی ادارہ آئین کی خلاف ورزی کرتاہے تو دوسرے اس کے جُرم کو چیک کریں گے۔ نگرانی رکھنے کے دانشمندانہ نظام نے ہی آئین ہند کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔
ایک کارٹون پڑھیے
کارٹونسٹ نے نئے عراقی آئین کوتاش کے پتوں کا محل کیوں ظاہر کیا ہے۔کیا یہ بیان آئین ہند پر بھی نافذ ہوتا ہے؟
متوازن ادارہ جاتی ڈیزائن کا ایک دوسرا پہلوہے :آئین ،بعض اقدار،معیارات اور طریقۂ کا ر میں جہاں ایک طرف آمرانہ رخ اختیار کرتا ہے وہیں بدلتی ضرورتوں اور حالات سے ہم آہنگی کے لیے اپنی کارکردگی میں بڑی لچک بھی رکھتا ہے۔ بہت زیادہ جامد آئین، تبدیلی کے دباؤ سے ٹوٹ سکتاہے۔دوسری جانب، بے حد لچک دار آئین ، اپنے عوام کو سلامتی،پیش قدمی اور شناخت کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ کامیاب آئین وہ ہوتے ہیں جو مرکزی اقدار اوربدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے میں صحیح توازن قائم رکھتے ہیں ۔آئین بحیثیت ایک زندہ جاوید دستاویز (باب۔9) کے مطالعہ کے دوران آپ آئین کی دانش مندانہ ترتیب پر آپ غور کریں گے۔ وہاں ہم نے آئین کی کو ایک’’ زند ہ جاوید‘‘ دستاویز کا نام دیا ہے۔ وجہ یہ ہے: دفعات کی تبدیلی کے امکانات اور ان تبدیلیوں پر حدبندیاں نافذ کرنے کے درمیان توازن قابلِ غورہے۔ آئین نے اس بات کو یقینی بنایاہے کہ ایک دستاویز کے طور پر ،یہ آئین عوام کے احترام کے ساتھ قائم رہے گا۔ اس میں اس بات کو بھی یقینی بنایاگیاہے کہ کوئی طبقہ یا گروہ، خود ہی آئین شکنی یا اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
لہٰذایہ طے کرنے کے لیے کہ آئین کے پاس طاقت ہے ،آپ خود سے تین سوالات پوچھ سکتے ہیں۔
- جنہوں نے آئین نافذکیا،وہ قابلِ اعتبار لوگ تھے؟ اس کا جواب ہم اسی باب کے باقی حصہّ میں پائیں گے۔
- دوسرے یہ کہ کیاآئین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ طا قت کی تنظیم دانش مندانہ ہے تاکہ کسی گروہ کے لیے آئین کی تخریب کاری آسان نہ ہو ؟
- عوام اپنی خوشی سے اطاعت کریں، یہ ا س پر منحصر ہے کہ آئین منصفانہ ہے؟ اس سوال کا جواب ہم کتاب کے آخری باب میں دیں گے۔
آئین ہند کیسے بنایا گیا؟
آئندہ باب کے مطالعہ سے پہلے، ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ آئین ہند کیسے تیار کیا گیا۔ باضابطہ طور سے آئین ساز اسمبلی نے آئین تیار کیا جس کا انتخاب غیرمنقسم ہندوستان نے کیا تھا۔ اس کی پہلی نشست 9دسمبر 1946 کو ہوئی اور دوسری بار،تقسیم ہند کے بعد، 14اگست 1947 کو۔اس کےممبران کاانتخاب بالواسطہ طورپر صوبہ جاتی مجالس قانون ساز کے ذریعے سے ہواتھاجوگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت تشکیل دی گئی تھیں۔دستور سازاسمبلی کی تشکیل برطانوی مجوزہ کمیٹی کے تجویز کردہ خطوط کے مطابق کی گئ تھی جسے کینٹ مشن کے نام سےجاناجاتاہے۔اس منصوبہ کے مطابق:۔
- ہرصوبے،رجواڑے یانوابی ریاستوں کےگروپوں کوان کی آبادی کےمطابق اندازاً 1:100000کے تناسب سے نشستیں دی گئی۔ نتیجہ میں ،ان صوبوں (جوبراہ راست برطانوی حکومت کے تحت تھے)292ممبران کا انتخاب کرنا تھا۔ جبکہ نوابی ریاستوں کو کم ازکم 93نشستیں دی گئی تھیں۔
- ہر صوبوں میں نشستوں کو تین اہم فرقوں—مسلم، سکھ اور عام فرقہ کو ان کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کیاگیا تھا۔
- ہر فرقہ کے ممبران ، ریاستی مجلس قانون ساز میں، اپنے نمائندوں کا انتخاب قابل ٹرانسفر واحد ووٹ کے ساتھ ، متنا سب نمائندگی کے طریقے سے کرتے تھے۔
- نوابی ریاستوں کے نمائندوں کے انتخاب کا طریقہ، باہمی مشورے سے ہوتا تھا۔
’’ہمیں اپنی سیاسی جمہوریت کوسماجی جمہوریت کی شکل بھی دینی چاہیے۔ سیاسی جمہوریت اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کی بنیاد سماجی جمہوریت پر قائم نہ ہو۔ سماجی جمہوریت کے معنی کیا ہیں؟ اس سے مراد زندگی کا وہ انداز ہے جس میں آزادی، مساوات اور اخوت، زندگی کے اصولوں کی طرح شامل ہوں۔آزادی، مساوات اور اخوت کے اصولوں کو، ان کے مجموعے سے جدا کرکے الگ الگ صورتوں میں نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان تینوں کے امتزاج سے ایک ایسی نوعیت کا مجموعہ سامنے آتا ہے جس میں ایک کو دوسرے سے جدا کرنا جمہوریت کے بنیادی مقصد کو ختم کرنا ہے۔آزادی کو مساوات سے الگ نہیں کیا جا سکتا ، مساوات کو اخوت سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مساوات کے بغیر آزادی سے چند لوگوں کو اکثریت پر برتری حاصل ہوگی۔ آزادی کے بغیر مساوات شخصی پیش قدمی کو ختم کر دے گی۔ اخوت کے بغیر آزادی اور مساوات اپنی فطری راہ اختیار نہیں کر سکتے.....‘‘
کیا آپ کی جماعت میں آزادی، مساوات اور اخوت کے اصولوں کو عمل میں لایا جاتا ہے؟ انھیں ایک ساتھ کس طرح عمل میں لا سکتے ہیں؟ اپنے دوستوں سے اس پر بات چیت کیجیے۔
پہلے حصّہ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ تین عوامل، آئین کو موثر اور قابل احترام بناتے ہیں۔ آئین ِہند،کہاں تک اس امتحان میں کامیابی سے گذرا ہے؟
اگر قانون ساز اسمبلی کو تمام ہندوستانی عوام منتخب کرتے تو کیا ہوا کیا عوام کی منتخب کردہ یہ اسمبلی، اس قانون ساز اسمبلی سے بہت زیادہ مختلف ہوتی جو اس وقت تشکیل پذیر ہوتی تھی
آئین ساز اسمبلی کی تشکیل
جون،1947،3 کے منصوبہ کے مطابق ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ اس سے پہلے جو ممبران پاکستان کے علاقوں سے منتخب ہوئے تھے، ان کی آئین سازی کی رکنیت ختم ہو گئی اور آئین ساز اسمبلی کے ممبران کی تعداد 299 رہ گئی۔آئین یا دستور 26 نومبر 1948 کو پاس کیا گیا۔24نومبر 1950کو عملاً 284ممبران موجود تھے اور انھوں نے اس میں آئین کے حتمی طور پر پاس ہونے کے وقت دستخط کیے تھے ۔یہ آئین قسیم وطن کے بھیانک پرُتشدد پس منظر میں،آئین منظور ہوالیکن یہ برصغیر کے قانون سازوں کے لیے تحمل کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔ جنھوں نے زبردست تناؤ کے ماحول میں ،آئین کا متن تیار کیا اور ایسے ناقابل تصورتشدد سے اچھاسبق حاصل کیا۔ آئین نے شہریت کا ایک نیانظریہ اختیار کیا جہاں اقلیتیں نہ صرف محفوظ ہوں گی بلکہ مذہبی شناخت بھی ان کے شہری حقوق پر اثرنہیں ڈالے گی۔
جس مجلس آئین ساز نے آئین کا متن تیار کیا ،سطحی طور پر اس کی تشکیل کا بیان اور تیاری کا عمل صرف سطحی امور پر روشنی ڈالتا ہے۔ حالانکہ آئین ساز مجلس کے ممبران کا انتخاب حق رائے ہندگی بالغان (UNIVERSAL SUFFRAGE) کے ذریعہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اسمبلی کو صحیح معنوں میں نمائندہ جماعت بنانے کی سنجیدہ کو ششیں کی گئیں۔ اس اسکیم میں تمام مذاہب کے ممبران کو نمائندگی دی گئی تھی۔ مزید یہ کہ مجلس میں 26ممبران ،درج فہرست ذاتوں سے منتخب کیے گئےتھے۔ سیاسی جماعتوں کے نقطئہ نظر سے، اسمبلی پر کانگریس حاوی تھی کیوں کہ % 82 ممبران اسی جماعت سے تھے۔چونکہ کانگریس ایک کثیرجہتی جماعت تھی اس نے رائے عامہ کے سب ہی رنگوں کو اپنے اندر سمولیا تھا۔
بحث ومباحثہ کا اصول
مجلس آئین سازاگرچہ مکمل طورسے نہیں لیکن وسیع معنوں میں نمائندہ جماعت تھی۔اگرچہ مکمل طور سے نہیں۔اور یہی ا س کے اختیار واقتدار کا ماخذتھا۔ اس کی اہمیت،وہ طریقۂ کار تھا جس کے ذریعہ آئین کی تشکیل ہوئی اور اس کے ممبران نے مباحثہ کے دوران ان اقدار کو اپنایا۔ نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی مجلس میں یہ بات پسندیدہ مانی جاتی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقے اس میں حصّہ لیں۔اتنا ہی اہم یہ ہوتا ہے کہ وہ محض اپنے فرقہ یا مخصوص شناخت کی نمائندگی نہ کریں۔ مباحثہ کے دوران ،ہر ممبرنے، پوری قوم کے مفادات کو اپنے ذہن میں رکھا۔گوکہ ان کے درمیان نااتفاقی بھی تھی لیکن یہ نا اتفاقیاں محض اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تھیں جسے بہت کم ممبران نے اختیار کیا۔ اصولوں پر جائز اختلافات بھی تھے اور بہت تھے۔ جیسے: کیا ہندوستان کو ایک مرکزی نظامِ حکومت اختیار کرناچاہیے یاغیرمرکزی نظامِ حکومت؟ ریاستوں کے درمیان رشتے کیسے ہوں؟عدلیہ کے اختیارات کیا کیا ہونے چاہئیں؟کیا حق جائیداد کی حفاظت،آئین کوکرنی چاہیے؟تقریباًہرنکتہ جدید ریاست کی بنیادوں میں ہم آہنگی کے ساتھ دکھائی دیتاہے ۔ صرف ایک ایسی دفعہ (ARTICLE)تھی جس کو بغیربحث ومباحثہ کے،اختیار کرلیاگیا : حق رائے دہندگی بالغان۔ایک بارتمام ممبران نے جب یہ احساس کرلیا کہ ووٹ کا حق کس کو ملنا چاہیے تو اس مسئلے پر بحث کی ضرورت نہیں سمجھی گئی لیکن دوسرے امور پر تفصیلی بحث ہوئی۔ جمہوری طریقہ سے ا سمبلی کے کام کی اس سے بہتر کوئی دستاویز نہیں ہوسکتی۔
آئین نے اپنے اختیار اس حقیقت کی بنا پرحاصل کیے کہ ممبران اسمبلی ایک عوامی دلیل (Public Reason) حاصل میں مشغول تھے۔ ممبران اسمبلی نے بحث اور پُرمدلّل مباحثہ پر بہت زوردیا۔ انہوں نے محض اپنے مفادات کو فروغ نہیں دیا بلکہ دوسرے ممبران کی حیثیت کا لحاظ کرتے ہوئے ان کو دلائل کے ساتھ حمایت بھی دی۔دوسروں کو جوازمہیا کرانے کا عمل آپ کواپنے تنگ مفادات سے دورلے جاتاہے، کیونکہ دوسروں کو سمجھانے اور اپنا ہمنوا بنانے کے لیے آپ کو دلائل دینے پڑجاتے ہیں۔
آئین سازمجلس کے طول طویل مباحثے ایک طرح خراج تحسین ہیں اس کوشش کے لیے جس کے ذریعے آئین کی ہرشِق، ہرسطر کی زبردست جانچ پڑتال اوربحث کرکے بہترین عوامی مفاد کو حاصل کیا گیا۔آئین سازی کی تاریخ میں یہ مباحثے، سب سے زیادہ اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی افادیت واہمیت میں ،فر انسیسی امریکی آئین کے مسادی ہیں۔
آئین ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساداور ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر ایک دوسرے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے۔
’’.....جیسا میں نے محسوس کیا، شاید ہی کسی نے کیا ہو کہ ڈرافٹنگ کمیٹی کے اراکین خاص طور پر اس کے چیئرمین ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنی صحت خراب ہونے کے باوجود کس قدر تند ہی اور لگن کے ساتھ کام کیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کوڈر افٹنگ کمیٹی میں شریک کرنے اور انھیں اس کا چیئرمین بنانے کے فیصلے سے بہتر اور کوئی فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے انتخاب کو صحیح ثابت کیا بلکہ جو کام انھوں نے انجام دیا ہے اس میں انھوں نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اس سے متعلق کمیٹی کے دیگر اراکین کے درمیان فرق کرنا غیر منصفانہ عمل ہوگا۔میں جانتا ہوں کہ ان سبھی نے اتنے ہی جوش اور دلچسپی کے ساتھ کام کیا ہے جتنا کہ اس کے چیئر مین نے۔ وہ سبھی ملک کی جانب سے شکریے کے مستحق ہیں۔‘‘
ڈاکٹرراجندر پرسادCad.Vol.XI نومبر 1949
طریقہ ہائے کار
مجلس اسمبلی کے طریقۂ کارمیں ،عوامی حجتّ کی اہمیت پر کافی زوردیاگیا تھا۔آئین سازمجلس میں آٹھ کمیٹیاں تھیں مختلف موضوعات پر۔عام طور پر جواہرلعل نہرو، راجندرپرساد، سردارپٹیل یا امبیڈکرنے، ان کمیٹیوں کی صدارت کی ۔یہ ایسے اشخاص تھے۔جوبہت سی باتوں میں ایک دوسرے سے اتفاق رکھتے تھے۔ امبیڈکر، کانگریس اور گاندھی دونوں کے ہی شدیدنقاد تھے۔ اور ان پریہ الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے درج ذیل ذاتوں، ہری جنوں کی بھلائی کے لیے کافی کام نہیں کیا تھا ۔ پٹیل اورنہرو بھی بہت سے مسائل پر ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔اس کے باوجود ان سب نے مل کر کام کیا۔عام طور پر، ہرکمیٹی، آئین کی مخصوص دفعات کا متن (CONTENT) تیارکرتی تھی جس کو بحث کے لیے پوری مجلس کے سامنے پیش کیا جاتاتھا۔ اتفاق رائے کی کوشش عام طور پر کی جاتی تھی۔ اس معقول فرائض کی بنا پر کہ سب کے اتفاق سے دفعات، کسی محضوص مفاد کے لیے مضر ثابت نہیں ہوں گی۔ کچھ دفعات پر رائے کا تبادلہ ہوتاتھا لیکن ہر معا ملے میں ہر دلیل،تفتیش یافکر پر بہت توجہ دی گئی اور اسے قلمبند کیا گیا۔ مجلس کی کل ایک سوچھیاسٹھ دن نشستیں ہوئیں جو دوسال،گیارہ مہینوں پر محیط تھیں۔ اس کے اجلاس عوام اور پریس کے سامنے کیے گئے۔
قومی تحریک کی وراثت
البتہ کوئی بھی آئین ،محض ایک مجلس کی سیدھی سادی تخلیق نہیں ہوتا، جس مجلس نے ہمارا آئین تیار کیا،اس کے برابر کوئی مجلس متنوع ہوہی نہیں سکتی تھی، اگر پہلے سے، آئین کے ان بنیادی اصولوں پر ہم آہنگی نہ ہوتی جن کا آئین میں شامل کیا جانا ضروری تھا تو یہ ممکن نہ ہوتا۔یہ اصول آزادی کی طویل جدوجہدکے دوران اپنائے گئے تھے ۔ ایک معنی میں ،مجلس آئین ساز نے قومی تحریک سے جو مکمل وراثت حا صل کی، اُسے ایک باقاعدہ شکل وصورت میں ڈھال دیا۔ آئین نافذ ہونے کے بعد،کئی دہائیوں تک، قومی تحریک نے بہت سے سوالات پر بحث ومباحثے کیے۔ جیسے آئین ہندکی تشکیل، ہندوستان کی حکومت کی شکل اورقسم کیسی ہو، اس کے اقدار کیا ہوں عدم مساوات پر قابو کیسے کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ ان سے حا صل جوابات کو آئین میں آخری شکل دی گئی۔
مجلس قانون سازکے روبرو، قومی تحریک کے جواصول پیش کیے گئے تھے ان کا بہترین خلاصہ’’ مقاصد کی قرارداد (وہ قرارداد جس نے آئین ساز مجلس کے مقاصدکو واضح کیا) میں ملتا ہے۔ یہ قرارداد جواہرلعل نہرو نے 1946 میں پیش کی اس قرارداد میں، آئین کے پس پردہ اقدار اور آرزوؤں کو مختصراً پیش کیا گیا تھا۔ہم نے پہلے حصہ میں لکھا ہے، آئین کی اہم دفعات کے تعلق سے، ان کو اس قرارداد میں شامل کیا گیا۔ اسی قرارداد کی بنا پر، ہمارا آئین اُن بنیادی اقدار:مساوات، آزادی، جمہوریت، اقتدار اعلیٰ اور ایک شہری شناخت کو اخلاقی اظہار عطا کرتا ہے۔ لہٰذا ہمارا آئین، صرف اصولوں اور طریقہ کار کا ایک گورکھ دھندا نہیں،بلکہ ایسی حکومت قائم کرنے کا پابند بناتا ہے جو اُن بہت سے وعدوں کو پورا کرتی ہو، جو قومی تحریک نے عوام کے سامنے کیےتھے۔

اگر 1937ء میں ہم کو آزادی مل جاتی یا اگر 1957ء تک انتظار کرنا پڑتا توکیا ہوا ہوتا؟ ہمارا آئین جو آج ہے، کیا اس سے مختلف ہوتا؟
مقاصد کی قرارداد: اہم نِکات
✔ ہندوستان ایک آزاد، مقتدر، جمہوریہ ہے۔
✔ ہندوستان ، سابق برطانوی ہند کے علاقوں،ہندوستانی ریاستوں اوربرطانوی ہند سے باہر دوسرے حصوں اور اُن ہندوستانی ریاستوں کاوفاق ہوگا، جوہندیونین کا حصہّ بننا چاہتی ہیں۔
✔ یونین تشکیل دینے والے علاقے، آزادیونٹ ہوں گے۔جو حکومت اور انتظامیہ کے تمام اختیارات پر عمل کرنے میں خود مختار ہوں گے سو ائے ان کے جو یونین کو تفویض کیےجائیں گےیا یونین سے وابستہ ہوں۔
✔ آزاد اور مقتدر ہندوستان اور اس کے آئین کو تمام اختیارات اور اقتدار، عوام سے حاصل ہوگا۔
✔ قانونی اور عوامی اخلاق کی بندشوں کے سا تھ ہندوستان کے عوام کو معاشرتی،اقتصادی اور سیاسی انصاف ، قانون کی نظر میں مساوی مواقع اور رتبے ، بنیادی آزادیاں ۔ اظہار خیال، عقیدہ،عبادت ،پیشہ، انجمن بنانے اورعمل کرنے کی ضمانت اورسلامتی عطاکی جائے گی۔
✔ اقلیتوں،پس ماندہ طبقات اور قبائلی علاقوں نیز جبرواستبدادکے شکار اوردیگرپس ماندہ طبقوں کوکافی حفاظت دی جائےگی۔
✔ جمہوریہ ہند کی علاقائی یک جہتی اور زمین،سمندر،اورفضا میں اس کے مقتدرانہ حقوق کو،مہذب قوموں کے قوانین اور انصاف کے مطابق قائم رکھا جائے گا۔
✔ انسانیت کی فلاح وبہبوداور امن عالم کے فروغ کے لیے پورا ملک رضاکا رانہ امداد دے گا۔
قانونی نظم
ہم نے دیکھا کہ آئین کو یقینی طور پر موثر بنانے کاتیسر عامل حکومت کے اداروں کے درمیان متوازن نظم برقرار رکھتا ہے۔ یہاں بنیادی اصول یہ ہے کہ حکومت جمہوری ہو اور عوام کی فلاح و بہبود کے تئیں پابند ہو۔ مجلس آئین ساز نے مختلف اداروں، جیسے مجلس عاملہ، مجلس قانون ساز اور عدلیہ کے مابین صحیح توازن قائم کرنے پر کافی وقت صرف کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمانی طرزِ حکومت اور وفاقی نظام کو اختیار کیا گیا۔ اس نے ایک جانب، حکومت کے اختیارات کو مجلس قانون ساز اور عاملہ کے درمیان تقسیم کردیا تودوسری جانب ریاستوں اور مرکز کے درمیان بھی یہی کیا۔
ہمارے آئین سازوں نے سب سے زیادہ متوازن نظامِ حکومت کی شکل تیار کرنے میں دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں تکلف سے کام نہیں لیا۔ اس طرح ہمارے آئین ساز دوسرے ممالک سے کچھ اخذ کرنے کے خلاف نہیں تھے۔درحقیقت یہ ان کے بالغ نظر ہونے کا ثبوت ہےکہ وہ دانش مندانہ دلیلوں پر توجہ دیتے تھے، تاریخی مثالوں پر دھیان دیتے تھے جوان حالات میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھے۔ اس طریقہ سے، انہوں نے دوسرے ممالک کی بہت سی دفعات سے فائدہ اٹھایا۔
البتہ، ان خیالات کو اخذ کرنا، کوئی مرعوبیت والی بات نہ تھی۔اس سے قطع نظر، آئین کی ہر دفعہ کو، ہندوستان کے مسائل اور آرزوؤں کی بنیاد پر طے کیا گیا۔یہ ہندوستان کی خوش قسمتی تھی کہ اپنے مقامی نقطۂ نظر کے باوجود، اس نے دنیا کی بہترین چیزوں کو اپنایا اور انھیں اپنا بنالیا۔
تو کیا یہ آئین دوسروں سے لیا گیا؟ ہم نے ایسا آئین کیوں اختیار نہیں کیا جس میں کہیں سے بھی کچھ نہ لیا گیا ہو؟
ڈاکٹر بی۔آر امبیڈکر آئین ساز اسمبلی میں بحث ومباحثہ کرتے ہوئے۔
اگر اس وقت، دنیا کی تاریخ میں، بنائے گئے اس آئین کے بارے میں کوئی پوچھنا چاہے گا کہ نیا کیا ہے۔اگر کوئی نئی چیزہوسکتی ہے تو وہ مختلف طریقے ہیں تو جو اس آئین میں موجود خرابیوں کو دورکرنے اور اس کو ملک کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنائے گئے۔
ڈاکٹر بی۔آر ۔ امبیڈکر
CAD, Vol. VII, p.37
مختلف ممالک کے آئین سے ماخوذ دفعات:
آئرش آئین
مملکت کی حکمتِ عملی کے ہدایتی اصول
برطانوی آئین
پارلیمانی طرز حکومت
قانون کی بالادستی کا تصور
اسپیکر اور اس کا کردار،قانون سازی کا طریقہ
فرانسیسی آئین
آزادی،مساوات اور اُخوت
کینیڈا کا آئین
نیم وفاقی طرزحکومت
(وفاقی حکومت، مضبوط مرکز کے ساتھ)
باقی ماندہ اختیارات کا تصور
امریکی آئین
بنیادی حقوق کا منشور
عدالتی نظرِثانی کا اختیار
اور
عدلیہ کی آزادی
اختتام
آئین سازوں کی دور اندیشی اور دانش مندی کے تئیں، یہ آئین ایک طرح سے خراج تحسین ہے جسے انہوں نے ایک دستاویز کی شکل میں قوم کو پیش کیا۔جس میں بنیادی اقدار اور عوام کی اعلیٰ ترین آرزوؤں کو محفوظ کردیا گیا۔ یوں تو بہت سے عناصر اس کے پس پردہ ہیں لیکن ایک خاص بات یہ ہے کہ نہایت پیچیدگی سے تیار یہ دستاویز نہ صرف موجود ہے بلکہ ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔جبکہ بہت سے آئین ان کاغذات پر ہی باقی رہ گئے جن پر وہ تحریر کیے گئے تھے۔
آئینِ ہند ایک انوکھی دستاویز ہے، جو بہت سے دوسرے آئین کے لیے مثالی حیثیت رکھتی ہے، خاص طور پر جنوبی افریقہ کے لیے۔ تین سال تک جاری جدوجہد کے پس پردہ خاص مقصد یہ تھا کہ صحیح توازن اس طرح قائم کیا جائے تاکہ آئین کے ذریعہ تخلیق کردہ ادارے محض اتفاقی اور عارضی انتظامات بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ایک طویل عرصہ تک، ہند کے عوام کی آرزوؤں اور توقعات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ان انتظامات کے متعلق مزید معلومات آپ کو باقی ابواب میں ملے گی۔
مشق:
1۔ ان میں کون سا کام آئین کا نہیں ہے؟
(a) یہ شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
(b) یہ حکومت کی مختلف اداروں کے لیے مختلف دائرۂ اختیار ات کی نشاندہی کرتا ہے۔
(c) یہ اچھے لوگوں کے اقتدار میں آنے کی یقین دہانی ہے۔
(d) یہ کچھ مشترکہ اقدار کا اظہار کرتا ہے۔
2۔ پارلیمنٹ سے زیادہ آئین کا اختیار ہے، اس کے پس پردہ کیا خاص وجہ ہے؟
(a) آئین اس وقت بنا جب پارلیمنٹ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی۔
(b) آئین سازممبران، ممبران پارلیمنٹ سے زیادہ ممتازسربراہان مانے جاتے تھے۔
(c) آئین خصوصیت سے بیان کرتا ہے کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کیسے ہوگی اور اس کے کیا اختیارات ہوں گے۔
(d) آئین میں، پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی۔
3۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان آئین سے متعلق صحیح ہے یا غلط؟
(a) حکومت کی تشکیل اور اختیارات سے متعلق تحریری دستاویز، آئین کہلاتی ہے ۔
(b) آئین، صرف جمہوری ممالک میں تشکیل پاتے ہیں اور مطلوب ہوتے ہیں۔
(c) آئین ایک قانونی دستاویزہے جو معیار اور اقدار سے بحث نہیں کرتی۔
(d) آئین اپنے شہریوں کو ایک نئی شناخت دیتا ہے۔
4۔ آئین سازی سے متعلق مندرجہ ذیل استنباط درست ہیں یا نہیں۔اپنے جواب کی حمایت میں وجوہ بتائیے۔
(a) چونکہ عوام نے ان کا انتخاب نہیں کیا تھا اس لیے آئین ساز مجلس، ہندوستان عوام کی نمائندگی نہیں کرتی تھی۔
(b) آئین سازی کے دوران کوئی اہم فیصلہ نہیں لیا گیا کیوں کہ اس وقت ، اس کے خاکہ سے متعلق
سربراہان کے مابین اتفاقِ رائے تھا۔
(c) آئین میں اصلیت بہت کم تھی کیوں کہ زیادہ تر حصے دوسرے ممالک کے آئین سے اخذ کیے گئے۔
5۔ آئین ہند سے متعلق مندرجہ ذیل نتائج کی حمایت میں کم ازکم دومثالیں پیش کیجیے:
(a) آئین کی تعمیران معتبرسربراہان نے کی، جن کو عوام کا احترام حاصل تھا۔
(b) آئین نے اختیارات کی تقسیم اس طرح کی کہ اس کی تخریب کاری بہت مشکل ہے۔
(c) آئین، عوام کی توقعات اور آرزوؤں کا منبع ہے۔
6۔ کسی ملک کے لیے، آئین کے اختیارات اور ذمّہ داریوں کے درمیان واضح حدبندی کیوں ضروری ہے؟ ایسی حد بندی کی غیرموجودگی میں کیا ہوتا ہے؟
7۔ آئین کے لیے، حکمرا نوں پر بندشیں لگانا کیوں ضروری ہے؟ کیا ایسا آئین بھی ہوسکتا ہے جو اپنے شہریوں کوکوئی اختیار نہ دے؟
8۔ جاپان کا آئین اس وقت بنا جب دوسری جنگ عظیم کے بعد، جاپان پر امریکی فوجوں کا کنٹرول تھا۔ جاپان کے آئین میں کوئی ایسی دفعہ شامل نہیں کی جاسکی جو امریکہ کو پسند نہ ہو۔ایسے حالات میں آئین سازی کتنی مشکل ہوگی کیا آپ جانتے ہیں؟ ہندوستانی تجربہ اس سے کس قدر مختلف ہے؟
9۔ رجت نے اپنے استاد سے سوال پوچھا: آئین پچاس سال پرانا ہے۔لہٰذا ایک پرانی کتاب ہے۔اس کو نافذکرنے کے لیے کسی نے میری رائے نہیں لی۔یہ ایسی زبان میں تحریر ہے جو میں سمجھ نہیں سکتا۔مجھے بتائیں کہ میں کس طرح اور کیوں کر اس کی پیروی کروں؟ اگر آپ استاد ہو تے تو آپ رجت کو کیا جواب دیتے؟
10۔ ہمارے آئین کے عملی تجربہ پر بحث کے دوران تین مقررین نے تین مختلف نقطۂ نظراختیار کیے:
(a) ہربنس: ہمیں ایک جمہوری حکومت مہیا کرانے میں آئین ہند کامیاب رہا ہے۔
(b) نیہا : آئین نے، آزادی، مساوات اور اخوت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے آئین
ناکام ہوگیا۔
(c) ناظمہ: آئین نے ہمیں ناکام نہیں بنایا۔ہم نے آئین کو ناکام بنادیا۔
ان میں سے کیا کسی نقطۂ نظرسے آپ اتفاق کرتے ہیں؟ اگر ہاں ، تو کیوں؟ اگر نہیں، تو آپ کا کیا
نقطۂ نظر ہے؟