Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب   2 

حقوق  : آئین ہند کے تحت


تمہید

آئین، محض حکومت کے مختلف اعضاء کی تشکیل اور ان کے مابین رشتوں سے متعلق نہیں ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئین وہ دستاویز ہے جو حکومت کے اختیارات کے حدود متعین کرتی ہے اور ایک ایسے جمہوری نظام کی یقین دہانی کراتی ہے جس میں سب کے لیے مخصوص حقوق ہوتے ہیں۔اس باب میں ہم آئین میں شامل حقوق کا، مطالعہ کریں گے۔آئین کے تیسرے حصّہ میں بنیادی حقوق کی فہرست دی گئی ہے اور ان حقوق پر بندشوں کا ذکر بھی ہے۔گذشتہ پچاس سالوں میں، حقوق کا دائرہ بدلا ہے اور کچھ حد تک مزید وسیع ہوگیا ہے۔اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد، آپ کو علم ہوگا:
  • آئینِ ہند میں شامل مختلف بنیادی حقوق کیا ہیں؟
  • ان حقوق کا تحفظ کیسے ہوتا ہے؟
  •  ان حقوق کے تحفظ اور تشریح میں، عدلیہ کا کیا کردار ہوتا ہے؟ اور
  •  بنیادی حقوق اور مملکت کے رہنما اصولوں کے درمیان کیا فرق ہے؟

حقوق کی اہمیت

1982 میں، ایشیا ئی کھیلوں کے لیے تعمیراتی کام کے دوران چند ٹھیکیدا روں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ان ٹھیکیدا روں نے، فلائی اوور اور اسٹیڈیم کی تعمیرکا کام کرنے کی غرض سے، ملک کے مختلف حصّوں کے ضرورت مند، تعمیر کرنے والے مزدوروں کو ملازم رکھا۔ان مزدوروں سے قابلِ رحم حالات میں کام لیا گیا اور ان کے لیے مقرر کم ازکم اجرت سے بھی کم مزدوری دی گئی۔
سماجی علوم کے ماہرین کی ایک جماعت نے، ان کے خراب حالات کا جائزہ لیا اور سپریم کورٹ میں ابیل دائر کی۔دراصل کسی مزدور کو، طے شدہ کم سے کم اجرت سے بھی کم اُجرت پر کا م کرانا، ان کو بھکاری یا بندھوا مزدور بنانے کے مترادف ہے، جو استحصال کے خلاف بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی شخص کی غریبی سے فائدہ اٹھانا اور اس کو طے شدہ کم از کم اجرت سے بھی کم اجرت دینا، بندھوا مزدوری ہے اور آئین کی حقوق کی خلاف ورزی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ ان ہزاروں مزدوروں کو کام کے عوض طے شدہ اجرت دی جائے۔
(جمہوری حقوق کے لیے عوامی تنظیم P.U.D.R. مخالف حکومتِ ہند (1982) :235; 2SSC  ایم۔جے۔اینٹونی: ایکشن تھرو کورٹ، نئی دہلی: ایڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ، 1993)
pic 1 chapter 2
اگر مچھال ایک امیراور طاقت ورانسان ہوتا تو کیا ہوتا؟ اگر اُن ٹھیکیداروں کے ساتھ کام کرنے والے انجینیئرہوتے؟ کیا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوپاتی؟

مچال لالنگ: اس وقت 23سال کا تھا جب اس کو حراست میں لیا گیا۔آسام کے ضلع موری گاؤں کے ’’چھوبوری‘‘ نامی گاؤں کے باشندے، مچال پرشدید نوعیت کے زخم پہنچانے کا الزام تھا۔ مقدمہ میں پیش ہونے کے لیے ذہنی حالت ٹھیک نہ تھی۔لہٰذا اس کو تیج پور کے لوک پر یہ گوپی ناتھ بورڈلوئی دماغی اسپتال میں علاج کے لیے بھیج دیا گیا۔

مچال کا علاج کا میاب ہوا۔ اور 1967 ،1996 میں دوبارہ، ڈاکٹروں نے جیل حکام کو اطلاع بھیجی کہ وہ اپنے دفاع کے قابل ہے، لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مچال لالنگ بدستور عدالتی تحویل میں رہ رہاتھا۔ مچال کو جولائی 2005 میں آزادی ملی۔ اس وقت وہ 77سال کا تھا۔ اس نے حراست میں54سال گزارے اور اس دوران اس کی ایک بھی پیشی نہیں ہوئی ۔ وہ اس وقت آزادہواجب قومی کمیشن برائے حقوق انسانی کے ذریعہ مقرر کردہ ایک ٹیم نے ریاست میں زیرسماعت ملزموں کا جائزہ کیا۔
مچال کی پوری زندگی محض اس لیے برباد ہوگئی کیوں کہ اس کے خلاف مقدمہ چلایا ہی نہیں گیا۔ ہمارا آئین ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا حق دیتا ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ ہرشہری کو منصفانہ اورتیزر فتار سماعت کا حق حاصل ہے۔مچال کا کیس ظاہر کرتا ہے کہ جب حقوق پر سنجیدگی اور نیک نیتی سے عمل نہیں ہوتا تو کیاہوتاہے۔
پہلے معاملہ میں بھی آئین میں فراہم شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ لیکن اس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔نتیجتاً،مزدوروں کو مناسب اجرت کا واجب حق حاصل ہوا ،استحصال کے خلاف آئینی ضمانت نے کامگاروں کو انصاف دلایا۔

حقوق کا منشور

یہ دونوں مثالیں، حقوق حاصل ہونے اور حقوق کے عملی طور پر نافذ ہونے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ افراد کے کچھ حقوق ہیں اور یہ کہ حکومت ان حقوق کو تسلیم کرتی ہے۔بہت سے جمہوری ممالک میں اکثریہ ہوتا ہے کہ آئین میں ہی حقوق کی فہرست شامل کرلی جاتی ہے۔ آئین میں مذکور اور محفوظ حقوق کی فہرست کو حقوق کا منشور کہا جاتاہے۔ یہ منشور حکومت کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ افراد کے حقوق کے خلاف قدم نہ اٹھا ئے اور خلاف ورزی کی شکل میں،مناسب تدارک کرے۔
 آئین افراد کے حقوق کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟ کس شخص کے حقوق کو دوسرے شخص یا کسی نجی تنظیم سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ایسی حالت میں فرد کو حکومت کی حفاظت کی ضرورت ہوگی۔ لہٰذایہ ضروری ہے کہ حکومت فرد کے حقوق کی حفاظت کی پابندہو۔ دوسری جانب، حکومت کے اعضا (مجلس قانون ساز،مجلس عاملہ، افسرشاہی اور یہاں تک کہ عدلیہ بھی) اپنی کارکردگی کے دوران افراد کے حقوق پر غلط اثرڈال سکتے ہیں۔
pic 2 chapter 2
مجھے مل گیا۔حقوق کا منشور ایک وارنٹی کارڈ کی طرح ہے جو ہم کو ٹی۔وی یا پنکھا خریدتے وقت ملتا ہے۔یہی ہے نا؟

 آئینِ ہند میں بنیادی حقوق

جدوجہد آزادی کے دوران،تحریک کے سربراہان نے حقوق کی اہمیت کو محسوس کر لیا جدوجہد آزادی کے دوران،تحریک کے سربراہان نے حقوق کی اہمیت کو محسوس کر لیا تھااور مطالبہ کیا تھا کہ برطانوی حکمراں، عوام کے حقوق کا احترام کریں۔1928 میں ہی،بہت پہلے، موتی لعل نہرو کمیٹی نے حقوق کے منشور  (BILL OF RIGHTS) کا مطالبہ کیا۔ یہ فطری بات تھی کہ جب ہندوستان آزادہوا اور آئین کی تشکیل ہوئی تو آئین میں حقوق کی سہولیت اور تحفظ سے متعلق دورائے نہیں تھیں ۔آئین نے حقوق کی ایک فہرست مرتّب کی جو خاص طور پر محفوظ کی گئی اور ان کو ’’ بنیادی حقوق ‘‘ کہاگیا۔

لفظ’’بنیادی‘‘ کے معنی یہ تجویز کیے گئے کہ ان سے متعلق حقوق اتنے اہم ہیں کہ آئین میں ان کی علاحدہ فہرست شامل کی گئی ہے اور ان کے تحفظ کے لیےخصوصی وفعات طے کی گئی ہیں۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ حقوق ا س قد ر اہم ہیں کہ آئین کے مطابق،خود حکومت بھی ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی۔

بنیادی حقوق اور جو دوسرے حقوق ہمیں حاصل ہیں، دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔جب کہ عام قانونی حقوق کا تحفظ اور نفاذ عام قانون کے ذریعہ ہوتا ہے ،بنیادی حقوق کا تحفظ اور ضمانت خود ملک کا آئین دیتا ہے۔ عام حقوق میں تبدیلی لانے کے لیے مجلس قانون ساز عام قانونی طریقہ اختیار کرتی ہے جب کہ بنیادی حقوق میں تبدیلی لانے کے لیے خود آئین میں ترمیم ضروری ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ، حکومت کا کوئی عضو، اس طریقہ سے کام نہیں کرسکتا جس سے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔جیسا کہ ہم درج ذیل باب میں مطالعہ کریں گے،ان بنیادی حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری عدلیہ کے سپرد کی گئی ہے تاکہ حکومت ان کی خلاف ورزی نہ کرسکے، ایسی خلاف ورزی یا بغیر کسی دلیل کے ان حقوق پرپابندی لگائی جانے کی شکل میں عدالت، مجلس عاملہ یا مجلس قانون ساز کے عمل کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔البتہ، بنیادی حقوق کے حصول کا مطلب یہ ہر گزنہیں کہ وہ لامحدود ہیں۔ ان بنیادی حقوق پر حکومت کی طرف سے کچھ مناسب پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

جنوبی افریقہ کے آئین میں حقوق کا منشور

 جنوبی افریقہ کے آئین کا اجرا دسمبر1996  میں ہوا۔ اس کی تخلیق اوران کا اطلاق ایسے وقت پر ہوا جب نسلی حکومت کی تحلیل کے بعد، جنوبی افریقہ بدستورخانہ جنگی سے دوچار تھا۔جنوبی افریقہ کے آئین کے مطابق اس کا یہ منشور حقوق، جنوبی افریقہ میں جمہوریت کا بنیادی پتھر ہے۔ یہ نسل ، جنس ، حمل ، ازدواجی حیثیت، نسلی یا سماجی آغاز، رنگ، عمر ،عقیدہ ، کلچر، زبان اور پیدائش کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں کرتا۔ یہ غالباً سب سے زیادہ  دستور میں دیے گئے حقوق کو ایک خصوصی دستوری کورٹ نافذ کرتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے آئین میں شامل کچھ بنیادی حقوق یہ ہیں:۔
  •   وقار کا حق
  •  خلوت کا حق
  •  منصفانہ محنت کشی کا حق
  •  صحت مند ماحول کا حق اور ماحولیات کی حفاظت کا حق
  •  مناسب رہائش کا حق
  •  صحت کی نگہداشت، خوراک،پانی اور سماجی تحفظ کا حق 
  • بچوں کے حقوق
  •  بنیادی اوراعلیٰ تعلیم کا حق
  •  تہذیبی، مذہبی اور لسانی برادریوں کا حق
  • حقِ اطلاع 

اپنی معلومات چیک کیجیے:۔

 آئین ہند میں بنیادی حقوق کا موازنہ، جنوبی افریقہ کے منشور سے کیجیے اور ایک فہرست تیار 
کیجیے اور وضاحت کیجیے :
  •     دونوں آئین میں مشترک امور
  •       جنوبی افریقہ میں دستیاب لیکن ہندوستان میں نہیں
  •     جنوبی افریقہ نے واضح طور سے عطاکیں، لیکن آئین ہند میں مبہم طریقہ سے۔

حقِ مساوات

مندرجہ ذیل دو صورتوں پر غورکیجیے۔ یہ محض خیالی صورت حال ہے لیکن ا یسے مواقع ہو سکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں؟

سودیش کمار اپنے گاؤں جاتاہے۔ اس کے ہمراہ اس کاایک دوست بھی ہے۔ گاؤں کی سٹرک کے کنارے  بنے ایک ہوٹل میں وہ دونوں چائے پینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ دکاندار، سودیش کمار کو جانتا تھا  لیکن اس کے دوست کا نام اور ذات نہیں جانتا تھا۔ یہ معلوم کرنے کے بعد، دکان دار نے سودیش کمار کو چینی کے ایک  مگ میں چائے پیش کی۔ جب کہ اس کے دوست کو مٹی کے پیالے میں کیوں کہ وہ ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا۔
خبریں پڑھنے والوں(NEWS READERS) میں سے چارکو ایک ٹیلی ویثرن چینل کے ذریعہ آرڈر بھیجا جاتا ہے کہ آئندہ وہ پردہ پرخبر یں نہیں پڑھیں گے۔ وہ سب خواتین ہیں۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ  45 سال سے  زیادہ عمر کی ہیں۔اسی عمرکے دومردوں کوخبریں پڑھنےسےمنع نہیں کیا گیا۔ 

آئین ہند

حصّہ  III   : بنیادی حقوق 

حقِ مساوات

 (RIGHT TO EQUALITY)
  • قانون کی نظر میں برابری
  • قانون کی مساوی حفاظت 
  •  مذہبی بنیاد پر امتیاز کی پابندی
  • دکانوں، نہانے کے تالاب
  • اورہوٹلوں میں داخلہ کا مساوی حق
  • روزگار کے مساوی مواقع
  • خطابات دینے کا خاتمہ
  • چھوت چھات (امتیاز) کا خاتمہ 

مذہبی آزادی کا حق

(RIGHT TO PREEDOM
OF RELIGON)
√    ضمیر اورآزادانہ پیشہ کی آزادی ۔
√   مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی آزادی
√   مذہبی امورکے انتظام کی آزادی 
√    کسی مخصوص مذہب کو فروغ کے لیے
√   ٹیکسوں کی ادائیگی کی آزادی
 √  بعض اداروں میں مذہبی تعلیم یا عبادت کے لیے شرکت کی آزادی 

استحصال کے خلاف حق

(RIGHT AGAINST
EXPLOITATION)
√   انسانوں کی خرید و فروخت اور جبری خدمت کی ممانعت
√  خطرناک  پیشوں میں بچوں کےروزگار کی ممانعت۔

برابری کا حق

(RIGHT TO EQUALITY)

 √   ذاتی آزادی کاحق
           تقریراور تحریر کے اظہار کا حق
√    پرُامن طریقہ سے جمع ہونا 
          انجمنیں بنانا/یونینیں بنانا 
√    پورے ہندوستان میں آزادی سے آناجانا 
    ہندوستان کے کسی بھی حصّہ میں رہائش 
    اختیار کرنااورمستقلاً رہنا 
 √   کوئی بھی پیشہ یا کاروبار کرنا
     تجارت یا بزنس کرنا 
             زندگی اور آزادی کا حق
کچھ معاملات میں گرفتاری
              اور نظر بندی سے محافظت

اقلیتی گروہوں کے تہذیبی اور تعلیمی حقوق

(CULTURAL AND
EDUCATIONAL RIGHTS
OF MINORITY GROUPS)
√     اقلیتوں کی زبان وتہذہب کی حفاظت
√     اقلیتوں کوتعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق۔

 آئینیِ چارہ جوئی کا حق 

(RIGHT TO CONSTITUTIONAL REMEDIES)

عدالتوں سے رٹ جاری کرانے کی غرض سے رجوع کا حق


مندرجہ بالا، دونوں مثالیں واضح طورپر امتیازبرتنے کی ہیں۔ ایک واقعہ میں امتیاز، ذات پات کی بنا پر ہے اور دوسرے میں جنس(SEX)کی بنا پر۔ آپ کے خیال میں کیا چھوت چھات حق بجانب ہے؟
حقِ مساوات، ایسے اور دوسرے امتیازات کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ عام مقامات جیسے دکانوں، ہوٹل، تفریحی مقاما ت،کنووں، نہانے کے تالابوں، عبادت گاہوں وغیرہ میں داخلہ کا مساوی حق عطا کرتا ہے۔اس حق کے تحت مذہب، نسل،ذات،جنس،جائے پیدائش وغیرہ میں  سے کسی ایک کی بنا پر کسی کے لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔
 مندرجہ بالاوجوہات میں سے کسی بھی بنا پر ،عام روزگار میں امتیاز برتنے کی بھی، آئین مخالفت کرتا ہے۔یہ حق بہت اہم ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں ماضی کے اندر مساوی دسترس کا فقدان تھا۔
چھوت چھات یا امتیازکا رواج، عدم مساوات کا بھونڈا اظہار ہے۔ حقِ مساوات کے تحت اس کاخاتمہ کردیا گیا ہے۔اسی حق کے تحت، حکومت کسی شخص کو، کسی خطاب سے نہیں نوازے گی سوائے اُن کے جنہوں نے فوجی یا علمی میدان میں نمایا ں کام انجام دیا ہو۔اس طرح حقِ مساوات کے ذریعہ ہندوستان، ہر شخص کے وقار اور مرتبہ کو مساوی حیثیت دیتا ہے اور ملک کو ایک سچی جمہوریت بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
دفعہ  16 (4)  : ’’اس دفعہ کا کوئی امر تقرریوں یا عہدوں کو شہروں کے کسی ایسے پسماندہ طبقہ کے حق میں جس کی مملکت کے تحت ملازمتوں میں مملکت کی رائے میں کافی نمائندگی نہ ہو محفوظ کرنے کے لیے کوئی توضیح کرنے میں مانع نہ ہوگا۔
pic 3 chapter 2
کیا ہمارے ملک میں واقعی ایسا ہوتا ہے؟ یا یہ سب کچھ محض خیالی ہے؟


کیا آپ نے آئین ہند کی تمہید(PREAMALE)  کو پڑھا ہے؟ اس میں مساوات کا بیان کیسے کیا گیا ہے؟ آپ پائیں گے کہ تمہید، مساوات کے بارے میں دوچیزوں کا ذکر کرتی ہے: حیثیت کی برابری اور مواقع کی برابری، مواقع کی برابری کے معنی ہیں کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو برابر مواقع حاصل ہوں گے۔لیکن ایک ایسے معاشرہ میں جہاں کئی قسم کی معاشرتی عدم مساوات موجود ہو، برابر مواقع کے کیا معنی ہیں؟ آئین وضاحت کرتا ہے کہ حکومت، معاشرے کے مختلف طبقوں ، عورتوں، بچوں اور سماجی اقتصادی طور سے پس ماندہ جماعتوں کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں اور طریقہ اختیار کرسکتی ہے۔آپ نے، ملازمتوں اور داخلوں میں ریزرویشن کے بارے میں سُنا ہوگا۔آپ کو تعجب ہوا ہوگا کہ جب ہم نے اصول مساوات اپنایا ہے تو ریزرویشن کیوں ؟ حقیقت یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 16 (4) اس کی وضاحت کرتی ہے کہ ریزرویشن جیسی حکمتِ عملی کو، حقِ مساوات کی خلاف ورزی نہ سمجھا جائے۔اگر آپ آئین کی روح پر غور کریں تو یہ انتظام، مساوی مواقع کے حق کی تکمیل کے لیے ہے۔

آپ ایک جج ہیں

pic 4 chapter 2
آپ کو ہادی بندھو کا ایک پوسٹ کارڈ موصول ہوا ہے جس کی شناخت یہ ہے کہ وہ اڑیسہ میں ضلع پوری میں ایک ’’دلت برادری کا ممبر‘‘ ہے۔اس کی ذات کے لوگوں نے اس پرانی روایت کے مطابق کام کرنے سے منع کردیا کہ ’’اونچی ذات‘‘ کے دولہا اور ان کے مہمانوں کے پیر دھوئیں۔انتقام کے طور پر ، اس برادری کی عورتوں کو مارا پیٹا گیا اور ان کو برہنہ کرکے جلوس نکالا گیا۔پوسٹ کارڈ لکھنے والا کہتا ہے  : ’’ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ اعلیٰ ذات کے لوگوں کے پیردھونے کے رسم ورواج پرچلنا نہیں چاہتے اور نہ ہی دعوت کے بعد کا جھوٹا کھانا صاف کرنے اور برتن دھونے کی رسم جاری رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔
یہ جانتے ہوئے کہ یہ حقیقت ہے آپ کو طے کرنا ہے : کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ آپ اس معاملہ میں حکومت کو کیا حکم دیں گے؟

دفعہ 21  : ’’کسی شخص کو اس کی جان یا شخصی آزادی سے قانون کے ذریعہ قائم کیے ہوئے ضابطہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے محروم نہ کیا جائے گا۔‘‘

حق آزادی

مساوات، آزادی یا خودمختاری، دوایسے حقوق ہیں جو جمہوریت کے لیے اہم ترین ہیں۔دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر تصور نا ممکن ہے۔آزادی کے معنی ہیں فکر، اظہار اور عمل کی آزادی۔ کسی صورت میں اس کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ اپنی پسند یا ناپسند کی آزادی حاصل ہو۔اگر ایسا کرنے کی اجازت دی جاتی تو بڑی تعداد میں عوام اپنی آزادی کا لطف نہ اٹھا سکتے۔لہٰذا آزادیوں کے معنی اس طرح وضع کیے گئے ہیں کہ ہرشخص دوسرے کی آزادی کو خطرہ سمجھے بغیر اور امن وامان کو نقصان پہنچائے بغیر، اپنی آزادی کا لطف اٹھاسکے گا۔

حق زندگی اور ذاتی آزادی

آزادی کے حقوق میں سب سے اوّل حق،حق زندگی اور آزادی کا حق ہے۔ کسی شہری کو زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔سوائے اس عمل کے جو قانون کے ماتحت ہو۔ اسی طرح کسی شخص کو ا س کی ذاتی آزادی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا،اس کے معنی یہ ہوئے کہ کسی بھی شخص کو بغیروجہ بتائے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔اگر گرفتار کرلیا جاتا ہے تو اس شخص کو اپنی مرضی کے مطابق یا وکیل کے ذریعہ، اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔مزید یہ کہ، پولیس کے لیے ضروری ہے کہ اس شخص کو قریبی مجسٹریٹ کے سامنے ، 24گھنٹہ کے اندر اندر پیش کرے۔مجسٹریٹ جو پولیس کا حصّہ نہیں ہوتا، یہ طے کرے گا کہ گرفتاری حق بجانب ہے یا نہیں۔
یہ حق محض کسی شخص کی زندگی چھین لینے کے خلاف ضمانت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں بہت زیادہ پیچیدگیاں شامل ہیں۔اس عرصہ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے مختلف فیصلوں نے اس حق کے دائرہ کو بڑھا دیا ہے۔سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ اس حق میں انسانی وقار کے ساتھ زندہ رہنے کا حق اور استحصال سے آزادی کا حق بھی شامل ہے۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ حق زندگی میں تحفظ اور روزی روٹی / روزگارکا حق بھی شامل ہے کیوں کہ کوئی شخص وسائل زندگی کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتا اور یہی اس کی تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔
pic 5 chapter 2
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ معاملات میں قانون کے ذریعے کسی کی جان بھی لی جاسکتی ہے؟ یہ بات تو کچھ عجیب سی لگتی ہے۔ کیا اس سلسلے میں کوئی مثال آپ کے ذہن میں آتی ہے؟

انسدادی نظر بندی

عام طور پر کسی شخص کو اس وقت گرفتار کیا جاتا ہے جب اس کے ارتکابِ جرم کی رپورٹ درج ہو۔لیکن کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ بھی ہیں۔یعنی کسی شخص کو محض اس خوف کی بناپر بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی غیرقانونی عمل میں ملوث ہوسکتا ہے یا ہوسکتی ہے اور اس کو مندرجہ بالا قانونی طریقہ پر عمل کیے بغیر جیل میں نظربند بھی کیا جاسکتا ہے۔اس کو انسدادی نظربندی(Preventive Detention)کہتے ہیں۔ا س کے معنی ہیں کہ اگر حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ کوئی شخص امن وامان یا ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے تو اس کو احتیاطاً وقتی طور پر نظربندیا گرفتار کیا جاسکتا ہے۔یہ انسدادی نظربندی تین ماہ کے لیے بڑھائی جاسکتی ہے ۔تین ماہ کے بعد ایسا معاملہ نظرثانی کے لیے کسی مشاورتی بورڈ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔

بظاہر انسدادی نظربندی حکومت کے ہاتھ میں ایسا موثر ہتھیار ہے جس سے سماج دشمن یا تخریب کارعناصر سے نپٹاجاسکتا ہے لیکن اکثرحکومت اس دفعہ کا غلط استعمال کربیٹھتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص حالات میں نپٹنے کے لیے یہ ضروری ہے لیکن قانون کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس کا انتظام ہونا چاہیے تاکہ صرف حق بجانب حالات میں ہی اس قانون کو عوام کے خلاف استعمال کیا جاسکے ۔ درحقیقت ، حق آزادی، شخصی آزادی اور انسدادی نظربندی کی دفعات کے درمیان کافی کشیدگی ہے۔

دوسری آزادیاں

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حق آزادی کے تحت کچھ اور حقوق بھی ہیں، لیکن یہ حقوق مکمل نہیں ہیں۔ان میں سے ہر حق پر حکومت کے ذریعہ، کچھ نہ کچھ پابندیا ں عائد ہیں۔
مثال کے طورپر آزادیٔ تقریر واظہار پر امنِ عامہ، سلامتی اور اخلاقیات وغیرہ کی پابندیاں ہیں۔جمع ہونے کی آزادی پر پُرامن طریقہ سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے پر پابندی نہیں ہے۔کسی خاص علاقہ میں پانچ اشخاص کے جمع ہونے کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے حکومت ان پر پابندی لگاسکتی ہے۔بعض اوقات، انتظامیہ ان اختیارات کا غلط استعمال کرتی ہے۔حکومت کی کسی حکمت عملی یا اقدام کے خلاف جائز احتجاج پر حکومت پابندی عائد کرسکتی ہے۔لیکن اگر عوام اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہیں اور حکومت کے ایسے اقدام کے خلاف احتجاج کا راستہ اختیار کریں تو انتظامیہ کے ذریعہ ان کا بے جا استعمال کم ہوگا۔آئین سازمجلس میں خود ہی بعض ممبران نے حقوق پر پابندیوں کے تئیں بے اطمینانی کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔
pic 6 chapter 2
’’میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ بنیادی حقوق، پولیس کانسٹیبل کے نقطۂ نظر سے تشکیل دیے گئے ہیں۔آپ غورکریں گے کہ چھوٹے سے چھوٹا حق بھی تسلیم کیا گیا ہے لیکن ہر حق کے ساتھ ایک ضمیمہ موجود ہے۔تقریباً ہر دفعہ کے ساتھ ایک ضمیمہ جڑا ہوا ہے جو اس حق کو پوری طرح چھین لیتا ہے۔
بنیادی حقوق سے متعلق ہمارا نظریہ کیا ہونا چاہیے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے عوام چاہتے ہیں، ہر وہ حق اس میں شامل ہونا چاہیے۔‘‘
سوم ناتھ لاہری
(CAD, Vol. III, p. 404)

ملزم کے حقوق

ہمارا آئین اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ اشخاص جن پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان کو مناسب تحفظ حاصل ہوگااکثر ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ جس شخص پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہے وہ مجرم ہے۔لیکن کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر الزام ثابت نہ کردے۔یہ بھی ضروری ہےکہ جس شخص پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہو ا س کو اپنے دفاع کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔عدالتوں میں سماعت کو منصفانہ بنانے کی غرض سے تین چیزیں مہیا کرائی گئی ہیں۔


  • ایک ہی جرم کے لیے ایک شخص کو ایک دفعہ سے زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی۔
  •   پرانی تاریخوں میں کیے گئے کسی کام کو غیرقانونی قرار نہیں دیا جاسکتا اور
  • کسی بھی شخص کو اپنے ہی خلاف شہادت دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
  • اپنی معلومات چیک کیجئے

      آپ کے خیال میں کیا موجودہ صورت حال حق آزادی پر پابندیوں کا مطالبہ کرتی ہے؟ اپنے جواب کی حمایت میں دلائل دیجیے ۔
        (a) شہرمیں فرقہ وارانہ فساد کے بعد لوگ ایک امن جلوس نکالنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
          (b) دلتوں کو ایک مندر میں داخلہ سے روک دیا گیا۔ مندر میں زبردستی داخلہ کے لیے جلوس نکالا جاہ رہا ہے۔
            (c) سینکڑوں قبائلی اپنے روایتی ہتھیاروں،تیرکمانوں اور کلہاڑیوں کے ساتھ  ایک راستہ روکے ہوئے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ صنعت قائم کرنے کے لئے دی جانے والی فالتوزمین ان کو پس دی جائے۔
              (d) ایک ذات پر مبنی پنچایت ، ذات برادری سے باہر شادی کرنے والے جوڑے کو سزا دینے کے لئے میٹنگ کر رہی ہے۔


                استحصال کےخلاف حق

                pic 7 chapter 2

                  ان بنیادی حقوق کے نام بتاییے جن کا استحصال اس تصویر میں بیان کیا گیا ہے ۔

                  ہمارے ملک میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو محروم اور مصیبت زدہ ہیں۔ وہ اپنے ہی ساتھی انسانوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس قسم کے استحصال کی ایک شکل ’’بیگار ‘‘ یا جبریہ مزدوری موجود ہے جو بغیرتنخواہ کے کرائی جاتی ہے۔ استحصال کی تقریباً ایک اور ایسی ہی شکل انسانوں کی غلاموں کی حیثیت سے خریدوفروخت ہے۔ ماضی میں جبریہ مزدوری کا رواج، زمینداروں، قرض دینے والے ساہوکاروں اور دوسرے مالدار لوگوں نے قائم کر رکھا تھا۔ اب اسے ایک جرم قرار دے دیا گیا ہے اور اس کا مرتکب قانون کے مطابق، سزا کا مستحق ہوگا۔

                     آئین نے 14سال سے کم عمر کے بچوں کو خطرناک کاموں جیسے کارخانوں اور دکانوں میں روزگار دینے کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ بچہ مزدوری غیرقانونی قرار دیے جانے اور بچوں کے حقِ تعلیم کو تسلیم کیےجانے کے ساتھ استحصال کے خلاف حق زیادہ بامعنی ہو گیا ہے۔

                      مذہبی آزادی کا حق

                        ہمارے آئین کے مطابق ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق، مذہب کی پیروی کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ یہ آزادی، جمہوریت کے لیے مہر تصدیق مانی جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے حکمراں اور شہنشاہ رہے ہیں جو اپنے ملک کے باشندوں کو مذہبی آزادی نہیں دیتے تھے۔ اگر ان کا مذہب، حکمراں کے مذہب سے الگ ہوتا تو ان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے یا ان کو مجبور کیا جاتا کہ وہ بھی حکمراں کا مذہب اختیار کریں۔ ہمیشہ سے ہی جمہوریت نے حق آزادی مذہب کو ایک اصول کے طور پر شامل کیا۔

                          عقیدہ اور عبادت کی آزادی

                          ہندوستان میں ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق مذہب اختیار کرنے اور اس کی پیروی کرنے کی آزادی ہے۔ آزادیٔ  مذہب میں ضمیر کی آزادی بھی شامل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص اپنی مرضی سے مذہب کو اختیار کرنے کے لیے آزادہے، اسی طرح دوسراشخص کسی مذہب کو نہ ماننے کے لیے بھی آزاد ہے۔ آزادیٔ مذہب میں مذہب کی تبلیغ، اس کی پیروی اور اشاعت کی آزادی بھی شامل ہے۔ آزادیٔ مذہب پر کچھ پابندیاںبھی عائد کی گئی ہیں۔ امن عامہ، اخلاق اور صحت عامہ کی خاطر حکومت آزادیٔ مذہب اور اس کی پیروی پربندش لگا سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آزادیٔ مذہب ایک لامحدود حق نہیں ہے۔ بعض معاشرتی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے حکومت مذہبی معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں حکومت نے ستی ایک سے زیادہ شادی اور انسانی قربانی جیسی معاشرتی برائیوں کو دور کرنے کے لیے قدم اٹھائے ہیں۔ اس طرح کی پابندیوں کی مخالفت محض آزادیٔ مذہب میں دخل اندازی کے نام پر نہیں کی جا سکتی۔ اس حق پر پابندی مختلف مذاہب کے پیروکاروں اور حکومت کے درمیان کشیدگی پیدا کرتی ہے ۔ جب حکومت کسی مذہبی جماعت کی بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو اس مذہب کے لوگ اس عمل کو اپنے مذہب میں مداخلت سمجھتے ہیں۔

                          ایک اور وجہ سے بھی مذہبی آزادی سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔آئین کے ذریعہ مذہب کی اشاعت کی آزادی عطا کی گئی ہے۔ جب کہ بعض لوگ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس بناپرکہ یہ دھمکی  یا ترغیب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہب کی اشاعت کا حق دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو زبردستی تبدیلیٔ مذہب پر مجبورکرنے کا نام نہیں ہے۔ آئین زبردستی تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ہم کو صرف اپنے مذہب کے بارے میں اطلاعات کی نشر و اشاعت کی اجازت دیتا ہے۔

                          تمام مذاہب  میں مساوات

                          وہ ملک جو بہت سے مذاہب کا مسکن ہو، وہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ تمام مذاہب کے تئیں مساوی سلوک کیا جائے۔ اس کے منفی معنی ہیں کہ حکومت کسی مخصوص مذہب کی حمایت نہیں کرے گی۔ ہندوستان کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔ ملک کا وزیراعظم، صدرجمہوریہ یا کوئی بھی عہدیدار بننے کے لیے، کسی مخصوص مذہب کا پیروکار ہونا ضروری نہیں ہے ۔ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ حق مساوات کے تحت اس بات کی ضمانت ہے کہ حکومت روزگار دینے میں مذہبی بنیاد پر امتیازنہیں برتے گی۔حکومت کے زیرانتظام ادارے کسی مذہب کی تبلیغ نہیں کریں گے، نہ کسی مذہب کی تعلیم دیں گے اور نہ ہی کسی مذہب کے پیروکاروں کی حمایت کریں گے۔ ان دفعات کا مقصد سیکولرزم کے اصول کو قائم کرنا اور فروغ دینا ہے۔

                          سرگرمی 

                          عام مذہبی سرگرمیوں کی ایک فہرست بنائیے جو آپ کے گاؤں یا شہر میں ہوتی ہیں۔
                          ان میں سے کون سی سرگرمی کا تعلق مذہبی آزادی سے ہے؟
                          اگر آپ کے علاقہ میں عوام کو یہ حق حاصل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

                          ثقافتی اور تعلیمی حقوق

                          جب ہم ہندوستانی معاشرے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک متنوع تصویراُبھرتی ہے۔ یہ یک رُخی معاشرہ نہیں ہے بلکہ وسیع و گوناگوں رنگوں والا ہے۔ ایسے تنوع پسند معاشرے میں،ایسے معاشرتی طبقہ ہوں گے جو تعداد میں دوسرے طبقوں سے کم ہوں گے۔اگر کوئی گروہ اقلیت میں ہے تو کیا اس کو اکثریتی طبقہ کی تہذیب اختیار کرنی ہوگی؟
                          pic 8 chapter 2
                          اس بات کو دیکھنا کہ اقلیتیں خود کو حقیقی معنی میں محفوظ سمجھیں ، اکثریت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ایک سیکولرمملکت میں یہی چیز اقلیتوں کے لیے سب سے بڑی حفاظت کی ضمانت ہےاور اسی سے اقلیتوں میں قوم پرستی کا جذبہ بھی پروان چڑھتا ہے۔۔۔۔۔اکثریت کو اپنے قومی نظریے اور جذبے پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔وہ خود کوذرااقلیتوں کی پوزیشن میں رکھ کر دیکھیں اور پھر ان کے اندیشوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ تحفظ کے حوالے سے اقلیتوں کےمطالبات ان کے اپنی ذہنی اندیشوں پر مبنی ہوتے ہیں جن کا تعلق ان کی زبان،ان کے رسم الخط اور ان کی خدمات سے ہوتا ہے۔
                          سردار حکم سنگھ
                          [CAD VII p. 322]

                          ہمارے آئین کا کہنا ہے کہ تنوع ہی ہماری طاقت ہے۔لہٰذا بنیادی حقوق میں سے ایک حق اقلیتوں کو اپنی تہذیب قائم رکھنے کا ہے۔ اقلیت کو حاصل یہ رتبہ صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے۔ اس دفعہ میں لسانی اور تہذیبی اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ اقلیت وہ گروہ ہے جس کی مشترکہ زبان یا مذہب ہے، وہ ملک کے کسی ایک حصہ یا تمام حصوں میں رہتی ہے اور دوسرے معاشرتی طبقوں سے تعداد میں کم ہے۔ ایسی برادریوں کی اپنی تہذیب، اپنی زبان اور اپنا رسم الخط ہوتا ہے جس کے تحفظ اور فروغ کےلیے ان کو حق حاصل ہے۔
                          تمام اقلیتیں، مذہبی یا سیاسی، اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہیں۔ اس طریقہ سے وہ اپنی تہذیب کا تحفظ اور فروغ کرتی ہیں۔ البتہ تعلیمی اداروں کو دی جانے والی سرکاری امداد مہیا کرتے ہوئے حکومت کسی تعلیمی ادارے کے ساتھ محض اس لئے امتیاز نہیں برتے گی کہ اس کا انتظام اقلیتی برادری کے ہاتھ میں ہے۔

                          pic 9 chapter 2
                          میں، مقامی آبادی میں تو اقلیت میں ہوں لیکن شہر کے اندر اکثریت میں ہو۔میری بولی کو دیکھیں تو میں اقلیت میں ہوں لیکن مذہب کا خیال کریں تو اکثریت میں ہوں۔کیا ہم سب اقلیتی نہیں ہیں؟

                          آئینی چارہ جو ئی کا حق

                          اس بات سے اتفاق کیا جائے گا کہ ہمارے آئین میں بنیادی حقوق کی ایک موثر فہرست شامل ہے، لیکن حقوق کی محض ایک فہرست تحریر کر دینا ہی کافی نہیں ہے۔ ایسا طریقہ بھی ہونا چاہیے جس کے ذریعہ جدوجہد کرکے ان حقوق کو حاصل کیا جا سکے اور ان پر ہونے والے کسی بھی حملہ کو روکا جا سکے۔ آئینی چارہ جوئی کے حق کے معنی ہیں وہ طریقے جن کے ذریعہ یہ حقوق حاصل ہوں گے۔ ڈاکٹرامبیڈکرنے حق چارہ جوئی کو ’’ آئین کی روح اور دل ‘‘ قراردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں شہری کو براہ راست ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں اور حکومت کوان حقوق پر عمل درآمدکرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔
                          عدالتیں بعض مخصوص حکم نامے جاری کر سکتی ہیں وہ درج ذیل ہیں:۔
                          • حاضری ملزم(Habeas Corpus) : اس رٹ یا حکم نامہ کے معنی یہ ہیں کہ گرفتار شدہ شخص کو، عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر گرفتاری کی وجہ قانونی یا اطمینان بخش نہیں ہے تو اس شخص کو فوراً رہا کرنے کا حکم بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
                          • ماتحت عدالت کا نام حکم نامہ (Mandamus)  : یہ رٹ اس وقت جاری کی جاتی ہے جب عدالت کو یہ علم ہوکہ ایک مخصوص عہدیدار اپنا قانونی فرض ادا نہیں کر رہا ہے اور اس وجہ سے کسی شخص کے حق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
                          • حکم امتناعی(Prohibition)  : جب عدالت کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انتظامی محکمہ، قانونی اختیارات کے بغیر کام کر رہا ہے تو عدالت اس کو ایسا کرنے سے روکنے کےلیے یہ حکم جاری کرتی ہے۔
                          • حکم تاکیدی (Quo Warranto)   :  اگر عدالت کے علم میں یہ بات آئے کہ کوئی شخص کسی عہدہ پر تعینات ہے لیکن اس عہدہ کےلیے حقدار نہیں، تو یہ رٹ یا حکم نامہ جاری کرتی ہے اور اس شخص کو عہدیدار بنے رہنے سے روکتی ہے۔

                          قومی کمیشن برائے انسانی حقوق

                          (NATIONAL HUMAN RIGHTS COMMISSION)
                          کسی آئین کے ذریعہ فراہم کردہ حقوق کا اصل امتحان اس کے نفاذ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے غریب، اَن پڑھ،پسماندہ  اور محروم طبقوں کو اپنے حقوق پر عمل کرنے کا اہل ہوناچاہیے۔ بعض تنظیمیں جیسے شہری آزادی کےلیے عوامی جماعت (PUCL) یا جمہوری حقوق کےلیے عوامی جماعت (PUDR)حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف نگہبان کے طور پر کام کر رہی ہیں۔اس پس منظر میں حکومت نے 1993میں ایک ادارہ ’قومی کمیشن برائے انسانی حقوق‘کے نام سے قائم کیا ۔ 
                          قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور مزید دو ایسے ممبران بھی شامل ہوتے ہیں جو انسانی حقوق سے متعلق معلومات اور عملی تجربہ رکھتے ہوں۔
                          کمیشن کے اہم کام ہیں : تحقیقات کےلیے پہل کرنا، کسی متاثرہ شخص کے ذریعہ حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اپیل دائر کرنے پر تحقیقات کا حکم دینا، قیدیوں کی حالت کا جائزہ لینے کےلیے جیل کا معائنہ کرنا، انسانی حقوق کے معاملات میں تحقیق کی ذمہ داری لینا، وغیرہ وغیرہ۔
                          کمیشن کو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق زیرحراست موت ، زیرحراست عصمت دری، غائب ہونا، پولیس کی زیادتیاں، ایکشن لینے میں ناکامی، خواتین کی بے حرمتی وغیرہ سے ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مداخلت پنجاب سے غائب نوجوانوں اور گجرات کے فسادات کے معاملوںمیں ہوئی اور یہ مداخلت کافی موثر ہوئی۔
                          کمیشن کو قانونی کار روائی کا اختیار نہیں ہے۔ یہ حکومت کو صرف تجاویز پیش کر سکتا ہے یا عدالتوں کو، اپنے ذریعہ کی گئی تحقیقات کی بنا پر کارروائی جاری رکھنے کےلیےتجویز پیش کر سکتا ہے۔
                          ◊  مِسل طلبی (Certiorari)   :  اس رٹ کے تحت، عدالت،نچلی عدالت یا کسی دوسری انتظامیہ کو یہ حکم جاری کرسکتی ہے کہ زیرالتوا معاملہ کسی بالاعدالت یا انتظامیہ کے پاس منتقل کردے۔
                          عدلیہ کے علاوہ بعد کے سالوں میں، حقوق کے تحفظ کےلیے کچھ اور طریقے بھی بنانے گئے۔ آپ نے اقلیتوں کے قومی کمیشن درج فہرست ذاتوں کے قومی کمیشن وغیرہ کے بارے میں سُنا ہوگا۔ یہ ادارے، خواتین، اقلیتوں اور دلتوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو قانون کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے تاکہ بنیادی  اور دوسرے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

                          حکومت کی حکمت عملی کے رہنما اصول

                          ہمارے آئین ساز جانتے تھے کہ آزاد ہندوستان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا ہوگا۔ ان کا شہریوں میں مساوات اور خوش حالی لاناسب سے بڑا مقصد تھا۔ ان کو یہ بھی فکر تھی کہ ان مسائل کے حل کےلیے، کچھ رہنما اصول ہونے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آئین،مستقبل کی حکومتوں کو بعض رہنما اصولوں کا پابند نہیں بناناچاہتا تھا۔ لہٰذا، ہمارے آئین سازوں نے طے کیا کہ حکومت کو پابند بنائے بغیر، کچھ ہدایات کو آئین میں شامل کردینا چاہیے۔
                          لہٰذ آئین میں مملکت کی حکمت عملی کےلیے کچھ ہدایات شامل کی گئیں۔ لیکن ان کو قانونی طور پر نافذ کرنے کی چھوٹ نہیں دی گئی۔ اس کے معنی ہیں کہ اگر کوئی حکومت کسی مخصوص ہدایت پر عمل نہیں کرتی تو ہم عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے تاکہ وہ حکومت کو اس ہدایت پرعمل کرنے کا حکم جاری کر سکے۔ چنانچہ، رہنما اصولوں کو ’’عدالت کے اختیار سماعت سے باہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی آئین کے وہ حصے جو عدالت کے ذریعہ نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ ہمارے آئین سازوں کا خیال تھا کہ حکومت ان اصولوں کو سنجیدگی سے لے گی۔ اس کے علاوہ وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ مستقبل کے حکمراں‘‘ ان ہدایات کو عمل میں لانے کے ذمہ دار ہوں گے۔لہٰذا  ان اصولوں کی ایک علاحدہ فہرست تیار کی گئی جو آئین میں شامل ہیں۔ ان کو ’’حکومت کی حکمتِ عملی کے رہنما اصول‘‘ کہا جاتا ہے۔

                          رہنما اصولوں میں کیاشامل ہے؟

                          رہنما اصولوں کے باب میں تین اہم چیزیں شامل ہیں :
                          •      وہ مقاصد جو بحیثیت معاشرہ قبول کرنے چاہئیں۔
                          • بنیادی حقوق کے علاوہ بعض اور حقوق جو شہریوں کو حاصل ہوں گے۔
                          • بعض حکمت عملیاں جو حکومت کو اختیار کرنی چاہئیں۔
                          درج ذیل دیے گئے اصولوں پر نظر ڈالنے سے آپ کو آئین سازوں کی دوراندیشی کا اندازہ ہوگا۔
                          حکومت نے مملکت کے رہنما اصولوں میں سے بعض موضوعات پر وقتاًفوقتاً عمل درآمد کی کوششیں کی ہیں۔ انھوں نے زمینداری نظام ختم کرنے کےلیے کئی بِل منظورکیے، بنکوں کو قومی درجہ دیا، بہت سے فیکٹری قانون بنائے، کم از کم اُجرت طے کی، دیہی اور چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا، پس ماندہ ذاتوں اور قبائل کی ترقی کےلیے دفعات طے کیں۔ رہنما اصولوں پر عمل کےلیے تعلیم کے حق، پورے ملک میں پنچایتی اداروں کی تشکیل، روزگار کی ضمانت پروگرام کے تحت جزوی کام کا حق اور مِڈڈے میل (دوپہرکا کھانا) کی اسکیموں وغیرہ کی شکل میں حکومت نے بہت سی کوششیں کیں۔

                          شہریوں کے بنیادی فرائض

                          •   1976 میں 42ویں ترمیم منظور کی گئی۔ دوسری چیزوں کے علاوہ اس ترمیم میں شہریوں کے بنیادی فرائض کی فہرست بھی شامل کی گئی۔ کل مِلاکر، دس فرائض کا تعین کیا گیا،  لیکن آئین نے ان کے نفاذ کے طریقۂ کار کو نہیں بیان کیا۔
                          • بحیثیت شہری، ہمیں ملک اور معاشرے کے تئیں ان فرائض کی ادائیگی کرنی چاہئے اور ملک کو مساوات اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے میں مدد دینی چاہیے۔
                          • بہرحال، ذہن نشیں کرنا لینا چاہیے کہ حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہمارا آئین فرائض کی ادائیگی میں ایسی کوئی شرط نہیں عائد کرتا۔ اس مفہوم میں بنیادی فرائض کی شمولیت سے ہمارے بنیادی حقوق کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔

                          اپنی معلومات چیک کیجئے

                          اندازہ کے مطابق، ہندوستان میں تقریباً تیس لاکھ لوگ شہروں میں بے گھر ہیں۔’’ رین بسیرے‘‘ اس آبادی کے صرف پانچ فیصد کو ہی مہیا ہیں۔ موسم سِرماکے دوران ان میں سے سینکڑوں بوڑھے اور بیمار لوگ سردی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ رہائش کا کوئی پکّا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ راشن کارڈ اور ووٹنگ کارڈ سے محروم رہتے ہیں۔ ان دستاویزات کے بغیر ضرورت مند مریضوں کو سرکاری سہولیات نہیں ملتیں۔ان بے گھر لوگوں کی بڑی تعداد بے ضابطہ مزدوروں کی حیثیت سے کام کرتی ہے اور بہت کم اجرت پاتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے کام کی تلاش میں ہزاروں لوگ شہروں کی جانب سفر کرتے ہیں۔
                          آئینی چارہ جوئی کے حق کے تحت سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کےلیے ان حقائق کا استعمال کیجئے۔
                           آپ کی اپیل میں مندرجہ ذیل نکتے ہونے چاہئیں :
                          (a) روزمرّہ کی زندگی میں بے گھر لوگوں کو کون سے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں؟
                          (b) آپ سپریم کورٹ سے کس قسم کا حکم جاری کرائیں گے؟ 

                          بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں کے مابین رشتہ

                          بنیادی حقوق اور رہنما اصول ایک دوسرے کے لیے متمم(Compliment) ہیں۔ بنیادی حقوق حکومت کو بعض کام کرنے سے روکتے ہیں، جبکہ رہنما اصول بعض کام انجام دینے کی نصیحت کرتے ہیں۔ بنیادی حقوق افراد کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ رہنما اصول پورے معاشرے کی فلاح کو یقینی بنانے کی کوشش ہیں۔

                          رہنما اصول 

                          حکومت کے دائرۂ اختیارسے باہر

                          مناسب ذرائع زندگی یا ضروری معاش
                           یکساں کام کے عوض یکساں اُجرت
                          (عورتوں اور مردوں کے لیے) 
                          کام کا حق
                          اقتصادی استحصال کے خلاف حق
                          چھ سال تک کے چھوٹے بچوں کی طبی نگہداشت اور تعلیم

                          مقاصد 

                          عوام کی فلا ح بہبود 
                          معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی انصاف
                          رہن سہن کا معیار بلند کرنا
                          وسائل کی مساوی تقسیم
                          عالمی امن کا فروغ

                          حکمت عملیاں 

                          یکساں سِول کوڈ
                          نشہ آور اشیا کے استعمال کی ممانعت
                          دیہی صنعتوں کا فروغ
                          مفیدمویشیوں کےذبح کی ممانعت
                          گاؤں پنچایتوں کافروغ
                          pic 10 chapter 2
                           کوئی مجھے بتائے کہ آئین میں اچھی باتیں کرنے سے کیا فائدہ اگر ان کو کسی عدالت کے ذریعہ نافذ نہ کیا جاسکے۔

                          بعض اوقات جب حکومت رہنما اصولوں میں سے بعض اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ شہریوں کے بنیادی حقوق سے ٹکراتے ہیں۔ 
                          یہ دِقت اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت نے زمینداری نظام کو ختم کرنے کے قوا نین منظور کیے۔ ان اقدامات کی مخالفت اس وجہ سے کی گئی کہ وہ حقِ جائیداد کے خلاف ہیں۔ بہرحال یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ معاشرے کی ضروریات، انفرادی ضروریات سے زیادہ اہم ہیں، حکومت نے آئین میں ترمیم کی تاکہ مملکت کے رہنما اصولوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس کے نتیجہ میں ایک طویل قانونی جنگ شروع ہوگئی۔ مجلس عاملہ اور عدلیہ نے سخت نقطئہ نظر اختیار کیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ رہنما اصولوں پر عمل درآمد کےلیے بنیادی حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے اس کے پس پردہ یہ دلیل تھی کہ عوام کی فلاح کی راہ میں حقوق رکاوٹ بنتے ہیں۔ دوسری جانب عدالت کا نقطئہ نظر تھا کہ بنیادی حقوق اس قدر اہم اور مقدس ہیں کہ ان کو محض اس لئے کم نہیں کیا جا سکتا کہ رہنما اصولوں پر عمل کرنا ہے۔ 
                          اس وجہ سے بحث ومباحثہ کا سلسلہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔یہ معاملہ آئین کی ترمیم سے متعلق تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وہ آئین کے کسی بھی حصہ میں ترمیم لا سکتی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ترمیم، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ کیشونندابھارتی کیس کے سلسلے میں ہوئے فیصلہ نے اس بحث ومباحثہ کو ختم کر دیا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بعض بنیادی پہلو ہو سکتے ہیں، اور ان کو پارلیمنٹ تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس سے متعلق تفصیلات ہم باب9میں پیش کریں گے : یہ عنوان ’’ آئین بحیثیت ایک زندہ جاوید دستاویز‘‘۔

                          حق جائیداد 

                          حقوق اور رہنما اصولوں کے مابین تنازعہ سے متعلق بحث ومباحثہ کے پس پردہ ایک اہم وجہ تھی:آئین میں ابتداء سے ہی ایک بنیادی حق شامل تھا۔’’جائیداد حاصل کرنے ، قبضہ میں رکھنے اور قائم رکھنے کا حق۔‘‘ لیکن آئین نے اس کو واضح کردیا تھا۔کہ حکومت کسی شخص کی جائیداد کو ،عوام کی فلاح وترقی کےلیے حاصل کرسکتی ہے۔1950سے حکومت نے بہت سے ایسے قانون وضع کیے جن کے ذریعہ جائیداد کا حق ختم کر دیا گیا۔ یہ حق دراصل بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں کے مابین مباحثہ کی ایک اہم وجہ تھا۔آخرکار، 1973 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جائیداد کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ نہیں ہے۔لہٰذا پارلیمنٹ نے ترمیم کے ذریعہ اس حق کو محدود کردیا۔ 1978 میں جنتاپارٹی حکومت نے44 ویں ترمیم کے ذریعہ جائیداد کے حق کو بنیادی حقوق کی فہرست سے علاحدہ کردیا اور دفعہ300A کے تحت، اسے ایک قانونی حق میں تبدیل کردیا۔
                          آپ کے خیال میں اس حیثیت سے جائیداد کے حق میں کیا فرق آیا؟
                          pic 11 chapter 2

                             اپنی معلومات چیک کیجئے : 

                                جنوبی افریقہ کے بل میں شامل اور ہند میں مملکت کی حکمتِ عملی کے رہنما اصولوں کے اہم نقاط پڑھیے۔ان دونوں فہرستوں کے درمیان ایک جیسے نقاط کیا ہیں۔
                                جنوبی افریقہ کے بل نے ان پہلوؤں کو حق میں کیوں شامل کیا؟
                                اگر آپ کو کسی ملک کا آئین تحریرکرنا ہو تو کیا تجویز کریں گے؟

                          اختتام

                          مہاراشٹر کے ایک انتہاپسندمصلح جیوتی راؤ پھولے 1890-1827)کی تحریروں میں اس خیال کا ابتدائی اظہار ملتا ہے کہ حقوق میں آزادی اور مساوات دونوں شامل ہیں۔ قومی تحریک کے دوران اس تصور میں تیزی اور وسعت حاصل ہوئی جو بنیادی حقوق کی شکل اختیار کرگئی۔ ہمارے آ ئین نے اس طویل مدتی روایت کی جھلک دکھاتے ہوئے، بنیادی حقوق کی فہرست پیش کی۔ 1950 میں عدالت نے حقوق کے ایک اہم محافظ کے طور پر خدمت انجام دی ہے۔
                          عدالتی تشریحات نے حقوق کے دائرۂ کارکو بہت سے معنی میں وسعت دی ہے۔ ہمارے ملک کی حکومت اور انتظامیہ اس مجموعی دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔ حکومت کے کام کاج پر حقوق پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ملک کی جمہوری حکومت کو یقینی بناتے ہیں۔

                          مشق

                          درج ذیل بیانات میں صحیح یا غلط بتائیے :

                          (a) منشورِ حقوق کسی ملک کے باشندوں کو حاصل حقوق پر مشتمل ہوتا ہے۔
                          (b) منشورِ حقوق افراد کی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔
                          (c) دنیا کے ہر ملک کا ایک منشورِ حقوق ہے۔
                          (d) حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف چارہ جوئی کی آئین ضمانت دیتا ہے۔

                          درج ذیل میں سے کون سا بیان بنیادی حقوق کے متعلق سب سے بہتر ہے؟

                          (a) وہ تمام حقوق جو کسی فرد کو حاصل ہونے چاہئیں۔
                          (b) وہ تمام حقوق جو قانوناً شہریوں کو ملنے چاہئیں۔
                          (c) وہ حقوق جن کوآئین عطا کرتا ہے اور تحفظ دیتا ہے۔
                          (d) آئین کے ذریعہ عطا کردہ حقوق جن پر کبھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

                          درج ذیل صورتِ حال کا مطالعہ کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک میں کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کیوں؟

                          (a) قومی ہوائی سروسز میں مردوں کے عملہ کو ترقی کی اجازت ہے لیکن موٹا پے سے دوچار عورتوں پر جرمانہ لگایا جاتا ہے۔
                          (b) کوئی ڈائریکٹر ایک دستاویزی فلم بناتا ہے جس میں حکومت کی حکمت عملیوں پر تنقید ہے۔
                          (c) ایک بڑا ڈیم بنانے کے نتیجہ میں بے گھر افراد بازآبادکاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔
                          (d) آندھراپردیش سے باہر آندھرا سوسائٹی تیلیگو میڈیم اسکول چلاتی ہے۔

                          درجہ ذیل میں سے کون سی ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی درست تشریح ہے؟

                          (a)     جس اقلیت نے وہ تعلیمی ادارہ کھولا ہے، اسی اقلیت کے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
                          (b)   سرکاری اسکولوں کو یقینی بنانا چاہیے کہ اقلیتی گروہوں کے بچے عقائد اور ثقافت کی معلومات پائیں گے۔
                          (c)     لِسانی اور مذہبی اقلیتیں اپنے بچوں کےلیے اسکول کھول سکتی ہیں اور ان ہی کےلیے ریزرو کر سکتی ہیں۔
                          (d)     لِسانی اور مذہبی اقلیتیں مطالبہ کر سکتی ہیں کہ ان کے بچے صرف اپنے اقلیتی اداروں میں ہی تعلیم حاصل کریں گے۔

                          مندرجہ ذیل میں سے کون سی بات بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور کیوں؟

                          (a) کم سے کم اجرت ادا نہ کرنا۔
                          (b) کسی کتاب پر پابندی عائد کرنا۔
                          (c) رات 9بجے کے بعد لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی لگانا۔
                          (c) تقریر کرنا۔

                          غریبوں کے درمیان سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ غریبوں کو بنیادی حقوق کی ضرورت نہیں۔ ان کو ضرورت ہے کہ رہنما اصولوں کو قانوناً نافذ کیا جائے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنی دلیلیں پیش کیجئے۔

                          بہت سی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاخانوں کی صفائی کرنے والے بہت سے افراد اب بھی یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ حکمراں ان کو کوئی دوسری ملازمت دینا نہیں چاہتے۔ ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔ اس مثال میں کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟

                          8 حقوق انسانی کےلیے سرگرم ایک گروہ نے عدالت کی توجہ فاقہ اور بھوک سے متاثر ملک کے حالات کی طرف مبذول کرائی۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گوداموں میں تقریباً پانچ کروڑ ٹن اناج موجود ہے۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بہت سے راشن کارڈہولڈر نہیں جانتے کہ راشن کی دکان سے وہ کتنا اناج خرید سکتے ہیں۔ اس گروہ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو اپنا تقسیمِ اناج پروگرام سدھارنے کی ہدایت دے۔
                          (a) اس معاملہ میں، کون سے حقوق کا تعلق ہے؟ ان حقوق سے کس طرح آپس میں جوڑا جا سکتا ہے؟
                          (b) کیا یہ حقوق، حقِ زندگی میں شامل ہونے چاہئیں۔
                          اس باب میں مذکور، سومناتھ لاہری کا  آئین  ساز اسمبلی میں بیان پڑھیے۔کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کو ثابت کرنے کےلیے کچھ مثالیں دیجئے۔ اگر نہیں تو اس نقطئہ نظر کے خلاف وجہ بتائیے۔
                          10۔ آپ کی رائے میں کون سا بنیادی حق سب سے زیادہ اہم ہے؟ اس کی دفعات کا مختصر خاکہ پیش کیجئے اور دلیل کے ذریعہ بتائیے کہ یہ سب سے اہم کیوں ہے؟