
باب 2
حقوق : آئین ہند کے تحت
تمہید
- آئینِ ہند میں شامل مختلف بنیادی حقوق کیا ہیں؟
- ان حقوق کا تحفظ کیسے ہوتا ہے؟
- ان حقوق کے تحفظ اور تشریح میں، عدلیہ کا کیا کردار ہوتا ہے؟ اور
- بنیادی حقوق اور مملکت کے رہنما اصولوں کے درمیان کیا فرق ہے؟
حقوق کی اہمیت
مچال لالنگ: اس وقت 23سال کا تھا جب اس کو حراست میں لیا گیا۔آسام کے ضلع موری گاؤں کے ’’چھوبوری‘‘ نامی گاؤں کے باشندے، مچال پرشدید نوعیت کے زخم پہنچانے کا الزام تھا۔ مقدمہ میں پیش ہونے کے لیے ذہنی حالت ٹھیک نہ تھی۔لہٰذا اس کو تیج پور کے لوک پر یہ گوپی ناتھ بورڈلوئی دماغی اسپتال میں علاج کے لیے بھیج دیا گیا۔
حقوق کا منشور
آئینِ ہند میں بنیادی حقوق
جنوبی افریقہ کے آئین میں حقوق کا منشور
- وقار کا حق
- خلوت کا حق
- منصفانہ محنت کشی کا حق
- صحت مند ماحول کا حق اور ماحولیات کی حفاظت کا حق
- مناسب رہائش کا حق
- صحت کی نگہداشت، خوراک،پانی اور سماجی تحفظ کا حق
- بچوں کے حقوق
- بنیادی اوراعلیٰ تعلیم کا حق
- تہذیبی، مذہبی اور لسانی برادریوں کا حق
- حقِ اطلاع
اپنی معلومات چیک کیجیے:۔
- دونوں آئین میں مشترک امور
- جنوبی افریقہ میں دستیاب لیکن ہندوستان میں نہیں
- جنوبی افریقہ نے واضح طور سے عطاکیں، لیکن آئین ہند میں مبہم طریقہ سے۔
حقِ مساوات
آئین ہند
حصّہ III : بنیادی حقوق
حقِ مساوات
- قانون کی نظر میں برابری
- قانون کی مساوی حفاظت
- مذہبی بنیاد پر امتیاز کی پابندی
- دکانوں، نہانے کے تالاب
- اورہوٹلوں میں داخلہ کا مساوی حق
- روزگار کے مساوی مواقع
- خطابات دینے کا خاتمہ
- چھوت چھات (امتیاز) کا خاتمہ
مذہبی آزادی کا حق
استحصال کے خلاف حق
برابری کا حق
اقلیتی گروہوں کے تہذیبی اور تعلیمی حقوق
آئینیِ چارہ جوئی کا حق
عدالتوں سے رٹ جاری کرانے کی غرض سے رجوع کا حق
دفعہ 16 (4) : ’’اس دفعہ کا کوئی امر تقرریوں یا عہدوں کو شہروں کے کسی ایسے پسماندہ طبقہ کے حق میں جس کی مملکت کے تحت ملازمتوں میں مملکت کی رائے میں کافی نمائندگی نہ ہو محفوظ کرنے کے لیے کوئی توضیح کرنے میں مانع نہ ہوگا۔
آپ ایک جج ہیں
حق آزادی
حق زندگی اور ذاتی آزادی
انسدادی نظر بندی
بظاہر انسدادی نظربندی حکومت کے ہاتھ میں ایسا موثر ہتھیار ہے جس سے سماج دشمن یا تخریب کارعناصر سے نپٹاجاسکتا ہے لیکن اکثرحکومت اس دفعہ کا غلط استعمال کربیٹھتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص حالات میں نپٹنے کے لیے یہ ضروری ہے لیکن قانون کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس کا انتظام ہونا چاہیے تاکہ صرف حق بجانب حالات میں ہی اس قانون کو عوام کے خلاف استعمال کیا جاسکے ۔ درحقیقت ، حق آزادی، شخصی آزادی اور انسدادی نظربندی کی دفعات کے درمیان کافی کشیدگی ہے۔
دوسری آزادیاں
ملزم کے حقوق
ہمارا آئین اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ اشخاص جن پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان کو مناسب تحفظ حاصل ہوگااکثر ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ جس شخص پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہے وہ مجرم ہے۔لیکن کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر الزام ثابت نہ کردے۔یہ بھی ضروری ہےکہ جس شخص پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہو ا س کو اپنے دفاع کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔عدالتوں میں سماعت کو منصفانہ بنانے کی غرض سے تین چیزیں مہیا کرائی گئی ہیں۔
اپنی معلومات چیک کیجئے
آپ کے خیال میں کیا موجودہ صورت حال حق آزادی پر پابندیوں کا مطالبہ کرتی ہے؟ اپنے جواب کی حمایت میں دلائل دیجیے ۔
(a) شہرمیں فرقہ وارانہ فساد کے بعد لوگ ایک امن جلوس نکالنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
(b) دلتوں کو ایک مندر میں داخلہ سے روک دیا گیا۔ مندر میں زبردستی داخلہ کے لیے جلوس نکالا جاہ رہا ہے۔
(c) سینکڑوں قبائلی اپنے روایتی ہتھیاروں،تیرکمانوں اور کلہاڑیوں کے ساتھ ایک راستہ روکے ہوئے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ صنعت قائم کرنے کے لئے دی جانے والی فالتوزمین ان کو پس دی جائے۔
(d) ایک ذات پر مبنی پنچایت ، ذات برادری سے باہر شادی کرنے والے جوڑے کو سزا دینے کے لئے میٹنگ کر رہی ہے۔
استحصال کےخلاف حق
ان بنیادی حقوق کے نام بتاییے جن کا استحصال اس تصویر میں بیان کیا گیا ہے ۔
ہمارے ملک میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو محروم اور مصیبت زدہ ہیں۔ وہ اپنے ہی ساتھی انسانوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس قسم کے استحصال کی ایک شکل ’’بیگار ‘‘ یا جبریہ مزدوری موجود ہے جو بغیرتنخواہ کے کرائی جاتی ہے۔ استحصال کی تقریباً ایک اور ایسی ہی شکل انسانوں کی غلاموں کی حیثیت سے خریدوفروخت ہے۔ ماضی میں جبریہ مزدوری کا رواج، زمینداروں، قرض دینے والے ساہوکاروں اور دوسرے مالدار لوگوں نے قائم کر رکھا تھا۔ اب اسے ایک جرم قرار دے دیا گیا ہے اور اس کا مرتکب قانون کے مطابق، سزا کا مستحق ہوگا۔
مذہبی آزادی کا حق
عقیدہ اور عبادت کی آزادی
ہندوستان میں ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق مذہب اختیار کرنے اور اس کی پیروی کرنے کی آزادی ہے۔ آزادیٔ مذہب میں ضمیر کی آزادی بھی شامل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص اپنی مرضی سے مذہب کو اختیار کرنے کے لیے آزادہے، اسی طرح دوسراشخص کسی مذہب کو نہ ماننے کے لیے بھی آزاد ہے۔ آزادیٔ مذہب میں مذہب کی تبلیغ، اس کی پیروی اور اشاعت کی آزادی بھی شامل ہے۔ آزادیٔ مذہب پر کچھ پابندیاںبھی عائد کی گئی ہیں۔ امن عامہ، اخلاق اور صحت عامہ کی خاطر حکومت آزادیٔ مذہب اور اس کی پیروی پربندش لگا سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آزادیٔ مذہب ایک لامحدود حق نہیں ہے۔ بعض معاشرتی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے حکومت مذہبی معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں حکومت نے ستی ایک سے زیادہ شادی اور انسانی قربانی جیسی معاشرتی برائیوں کو دور کرنے کے لیے قدم اٹھائے ہیں۔ اس طرح کی پابندیوں کی مخالفت محض آزادیٔ مذہب میں دخل اندازی کے نام پر نہیں کی جا سکتی۔ اس حق پر پابندی مختلف مذاہب کے پیروکاروں اور حکومت کے درمیان کشیدگی پیدا کرتی ہے ۔ جب حکومت کسی مذہبی جماعت کی بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو اس مذہب کے لوگ اس عمل کو اپنے مذہب میں مداخلت سمجھتے ہیں۔
تمام مذاہب میں مساوات
سرگرمی
ثقافتی اور تعلیمی حقوق
آئینی چارہ جو ئی کا حق
- حاضری ملزم(Habeas Corpus) : اس رٹ یا حکم نامہ کے معنی یہ ہیں کہ گرفتار شدہ شخص کو، عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر گرفتاری کی وجہ قانونی یا اطمینان بخش نہیں ہے تو اس شخص کو فوراً رہا کرنے کا حکم بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
- ماتحت عدالت کا نام حکم نامہ (Mandamus) : یہ رٹ اس وقت جاری کی جاتی ہے جب عدالت کو یہ علم ہوکہ ایک مخصوص عہدیدار اپنا قانونی فرض ادا نہیں کر رہا ہے اور اس وجہ سے کسی شخص کے حق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
- حکم امتناعی(Prohibition) : جب عدالت کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انتظامی محکمہ، قانونی اختیارات کے بغیر کام کر رہا ہے تو عدالت اس کو ایسا کرنے سے روکنے کےلیے یہ حکم جاری کرتی ہے۔
- حکم تاکیدی (Quo Warranto) : اگر عدالت کے علم میں یہ بات آئے کہ کوئی شخص کسی عہدہ پر تعینات ہے لیکن اس عہدہ کےلیے حقدار نہیں، تو یہ رٹ یا حکم نامہ جاری کرتی ہے اور اس شخص کو عہدیدار بنے رہنے سے روکتی ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق
حکومت کی حکمت عملی کے رہنما اصول
رہنما اصولوں میں کیاشامل ہے؟
- وہ مقاصد جو بحیثیت معاشرہ قبول کرنے چاہئیں۔
- بنیادی حقوق کے علاوہ بعض اور حقوق جو شہریوں کو حاصل ہوں گے۔
- بعض حکمت عملیاں جو حکومت کو اختیار کرنی چاہئیں۔
شہریوں کے بنیادی فرائض
- 1976 میں 42ویں ترمیم منظور کی گئی۔ دوسری چیزوں کے علاوہ اس ترمیم میں شہریوں کے بنیادی فرائض کی فہرست بھی شامل کی گئی۔ کل مِلاکر، دس فرائض کا تعین کیا گیا، لیکن آئین نے ان کے نفاذ کے طریقۂ کار کو نہیں بیان کیا۔
- بحیثیت شہری، ہمیں ملک اور معاشرے کے تئیں ان فرائض کی ادائیگی کرنی چاہئے اور ملک کو مساوات اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے میں مدد دینی چاہیے۔
- بہرحال، ذہن نشیں کرنا لینا چاہیے کہ حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہمارا آئین فرائض کی ادائیگی میں ایسی کوئی شرط نہیں عائد کرتا۔ اس مفہوم میں بنیادی فرائض کی شمولیت سے ہمارے بنیادی حقوق کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔
اپنی معلومات چیک کیجئے
بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں کے مابین رشتہ
رہنما اصول
حکومت کے دائرۂ اختیارسے باہر
مقاصد
حکمت عملیاں
حق جائیداد
اپنی معلومات چیک کیجئے :
اختتام
مشق
1۔ درج ذیل بیانات میں صحیح یا غلط بتائیے :
2۔ درج ذیل میں سے کون سا بیان بنیادی حقوق کے متعلق سب سے بہتر ہے؟
3۔ درج ذیل صورتِ حال کا مطالعہ کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک میں کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کیوں؟
4۔ درجہ ذیل میں سے کون سی ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی درست تشریح ہے؟
5۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سی بات بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور کیوں؟
6۔ غریبوں کے درمیان سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ غریبوں کو بنیادی حقوق کی ضرورت نہیں۔ ان کو ضرورت ہے کہ رہنما اصولوں کو قانوناً نافذ کیا جائے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنی دلیلیں پیش کیجئے۔
7۔ بہت سی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاخانوں کی صفائی کرنے والے بہت سے افراد اب بھی یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ حکمراں ان کو کوئی دوسری ملازمت دینا نہیں چاہتے۔ ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔ اس مثال میں کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟