
باب 3
انتخا ب اورنمائندگی
تمہید
- اس باب کے مطالعہ کے بعد، آپ سمجھ سکیں گے:
- انتخاب کے مختلف طریقے،
- ہمارے ملک میں اختیار کردہ نظامِ انتخاب کی خصوصیات،
- آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لئے دفعات کی اہمیت اور
- انتخابی اصلاحات پر بحث
انتخابات اور جمہوریت
- کیا انتخابات کے بغیر، جمہوریت قائم رکھ سکتے ہیں؟
- کیا جمہوریت کے بغیر، انتخابات کراسکتے ہیں؟
ایک کارٹون پڑھیں
سرگرمی
ہندوستان میں انتخابی نظام
سرگرمی
- ہر طالبِ علم ایک ووٹ دے سکتا ہے۔سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے
- ہر طالب علم کے چار ووٹ ہوں گے وہ سب ایک امیدوار کو دے سکتا ہے یا ان
- ہرووٹر کو ، امیدواروں کا ایک درجہ(Rank) دینا ہوگا اور ن کی گنتی میں راجیہ سبھا کے ممبران کے انتخاب کا طریقہ استعمال کیا جا ئے گا جس کا ذکر نیچے آئے گا۔
نیچے دیے گئے اخبار کے تراشے دیکھیے
1984کے انتخابات میں کچھ اہم سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حاصل کردہ ووٹ اورنشستیں
| جماعت | ووٹ(فیصد) | نشستیں |
| کانگریس | 48.0 | 415 |
| بی۔جے ۔پی | 7.4 | 2 |
| جنتا | 6.7 | 10 |
| لوک دل | 5.7 | 3 |
| سی۔پی۔آئی(ایم) | 5.7 | 22 |
| تیلگو دیسم | 4.1 | 30 |
| ڈی۔ایم۔کے | 2.3 | 2 |
| اے۔آئی۔اے۔ڈی۔ایم۔ کے | 1.6 | 12 |
| اکالی دل | 1.0 | 7 |
| اے۔جی۔پی | 1.0 | 7 |
- ہمارا ملک 543انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- ہر انتخابی حلقہ ایک نمائندے کا انتخاب کرتا ہے ،اور
- جس امیدوار کو اپنے حلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں وہی منتخب قرار دیا جاتا ہے۔
متناسب نمائندگی (Proportional Representation (PR)
اسرائیل میں متناسب نمائندگی۔(PR)
| پارٹی نشستیں | نشستوں میں حصہ داری |
نشستوں | |
| لیکود | 23.4 | 30 | |
| صیہونی کیمپ | 18.67 | 24 | |
| متحدہ فہرست (ہداش،قومی جمہوری اسمبلی،عرب موومنٹ برائے تجدید،متحدہ عرب فہرست) | 10.61 | 13 | |
| یش ایتڈ | 8.82 | 11 | |
| گلا نو | 7.49 | 10 | |
| ہبایت یہودی | 6.74 | 8 | |
| شاس | 5.74 | 7 | |
| اسرائیل بیٹنو | 5.10 | 6 | |
| یوٹی | 4.99 | 6 | |
| بایاں بازوکی اسرائیل جماعتیں | 3.93 | 5 | |
| دیگر جماعتیں | 4.51 | 0 | |
| کل نشستیں | 100 | 120 |
FPTP اورPRنظام کا تقابل
| FPTP ملک کو چھوٹی جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم کردیا جاتاہے جن کو انتخابی حلقے یا ضلعے کہا جاتا ہے۔
ہرانتخابی حلقہ، ایک نمائندہ کاا نتخاب کرتا ہے۔
رائے دہندگان ایک امیدوار کےلیےووٹ دیتے ہیں۔
ایک جماعت کو،مجلس قانون ساز میں نشستیں ووٹوں کے مقابلہ زیادہ مل سکتی ہیں۔
جو امیدوارا نتخاب میں جیت حاصل کرتا ہے اس کو اکثریتی(1+%50) ووٹ حاصل نہیں
بھی ہوسکتے۔
مثالیں: انگلینڈ، ہندوستان
|
PRُ بڑے جغرافیائی علاقوں کی نشاندہی انتخابی حلقوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ پورا ملک بھی ایک انتخابی حلقہ ہوسکتا ہے۔
ایک انتخابی حلقہ سے ایک سے زیادہ نمائندوں کا انتخاب کیاجاتا ہے۔ رائے دہندگان جماعت کےلیے ووٹ دیتے ہیں۔
ہرجماعت کو حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب سے مجلس قانون ساز میں نشستیں ملتی ہیں۔
جوامیدوار انتخاب میں جیت حاصل کرتا ہے
اس کو اکثریتی ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔
مثالیں: اسرائیل۔ نیدرلینڈ۔
|
راجیہ سبھا انتخابات میں PRنظام کیسے کام کرتا ہے
ہندوستان نے FPTPنظام کیوں اختیار کیا ہے؟
ایک کارٹون پڑھیے
اپنی معلومات چیک کیجئے
- اگر اسرائیل کے طرز پر یہاںPRنظام قائم ہوتا تو اسمبلی کی تشکیل کیا ہوتی؟
- کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی؟
- کون حکومت کی تشکیل کرتا؟
- اس نظام کا سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات پر کیا اثر پڑتا؟
| کل نشستیں 234 |
| جماعتی نظام | ووٹ | نشستیں | PR میں نشستیں |
| ڈی۔ایم۔کے | 42.1 | 173 | |
| اے۔آئی۔اے۔ڈی۔ایم۔کے | 21.5 | 4 | |
| کانگریس | 5.6 | - | |
| سی۔پی۔ آئی | 2.1 | 8 | |
| سی۔پی۔آئی(ایم) | 1.7 | 1 | |
| ٹی۔ایم۔سی | 9.3 | 39 | |
| پی۔ایم۔کے | 3.8 | 4 | |
| آزاد امیدوار اور دیگر | 13.9 | 5 |
FPTPنظام عام طور پر سب سے بڑی جماعت یا مخلو ط جماعت کو کچھ زائدنشستیں بونس کے طور پر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نظام پارلیمانی حکومت کو اچھی طرح اور موثر طریقہ سے حکومت چلانے کےپائیدار حکومت کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ آخری بات اس نظام میں ایک علاقہ کے مختلف معاشرتی گروہوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر انتخاب جیتنے کا مو قع ہوتا ہے۔ ایک متنوع ملک ہندوستان میںPRنظام ہر برادری کو اپنی قومی سطح پر الگ جماعت بنانے کا موقع دیتا ہے ۔شاید یہ بات ہمارے آئین سازوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تھی ۔
انتخابی حلقوں کا ریزرویشن
آزاد اور منصفانہ انتخابات
اپنی معلومات چیک کیجیے
ایک کارٹون پڑھیے
حقِ رائے دہی اور انتخاب لڑنے کا حق
آزاد انتخابی کمیشن
مخصوص اکثریت
ہندوستان کے انتخابی کمیشن کے بہت وسیع کام ہیں:
ایک کارٹون پڑھئے
اپنی معلومات چیک کیجیے
انتخابی اصلاحات
کوئی بھی انتخابی نظام خامیوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔ اصلی انتخابی عمل میں،بہت سی خامیاں اور بندشیں ہوتی ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کو،انتخابات زیادہ سے زیادہ آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لیے لگاتاربہترسے بہتر طریقوں کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ حق رائے دہی بالغان انتخاب میں حصہ لینے کی آزادی اور ایک آزاد انتخابی کمیشن کی قبولیت کی وجہ سے ہندوستان نے اپنے انتخابی عمل کو آزاد اورمنصفانہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ البتہ، گذشتہ پچاس سالوں کے تجربے نے ہمارے انتخابی نظام میں اصلاحات کےلیے بہت سی تجاویز دی ہیں۔ انتخابی کمیشن، سیاسی جماعتوں، بہت سے آزاد گروپوں اور بے شمار دانشوروں نے انتخا بی اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں سے کچھ آئینی دفعات میں تبدیلی سے متعلق ہیں جن پر اس باب میں بحث کی گئی۔
ایک کارٹون پڑھیے
اختتام
مشق
1۔ درج ذیل میں سے کون سا بیان، براہ راست جمہوریت سے ملتا ہے؟
(a) ایک خاندانی میٹنگ میں بحث