Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب  3

انتخا ب اورنمائندگی

تمہید

کیا آپ نے کبھی شطرنج کھیلی ہے  ؟ کیا ہوگا اگر سیاہ اسپ (کالاگھوڑا)، ڈھائی چال پرچلنے کے بجائے، اچانک سیدھا چلنے لگے؟ یا کیا نتیجہ ہوگا اس کرکٹ میچ کا جس میں کوئی امپائر نہ ہو؟کھیل کوئی بھی ہو، ہمیں کچھ پہلے سے طے شدہ اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصول بدل دیجئے، کھیل کا نتیجہ بھی مختلف ہوجائے گا۔اسی طرح، ہر کھیل میں ، ایک غیر جانب دار امپائر کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کا فیصلہ تمام کھلا ڑیوں کو قابلِ قبول ہو۔کوئی بھی کھیل شروع کرنے سے پہلے اصولوں اور امپائر، دونوں پر اتفاق کرنا ضروری ہے۔ جو بات کھیل کے متعلق سچ ہے، وہی انتخابات (الیکشن) کے بارے میں بھی سچ ہے۔ انتخابات منعقدکرانے کے بہت سے طریقے یا نظام ہوتے ہیں۔ انتخاب کے نتائج کا انحصار ان اصولوں پر ہوتا ہے جو ہم نے اختیارکیےہوں۔ انتخابی سیاست کے شروع ہونے سے پہلے ہی ان دونوں فیصلوں کو لینا لازمی ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کام کسی حکومت پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اسی وجہ سے انتخابات کے متعلق تمام بنیادی فیصلوں کو اس جمہوری ملک کے آئین میں تحریر کردیا گیا ہے۔
اس باب میں،ہم انتخابات اور نمائندگی سے متعلق آئینی دفعات کا مطالعہ کریں گے۔ہمارے آئین میں، انتخاب کےلیے اختیار کردہ طریقہ کی اہمیت کیا ہے، انتخابات کےلیے غیر جانب دارانہ مشینری سے متعلق دفعات کیا ہیں، ان دونوں باتوں پر ہم خاص توجہ دیں گے۔ ہم ان تجاویز پر بھی غور کریں گے جو اس سلسلہ میں، آئینی دفعات میں ترمیم سے متعلق ہیں۔

  • اس باب کے مطالعہ کے بعد، آپ سمجھ سکیں گے:
  • انتخاب کے مختلف طریقے،
  • ہمارے ملک میں اختیار کردہ نظامِ انتخاب کی خصوصیات،
  • آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لئے دفعات کی اہمیت اور
  • انتخابی اصلاحات پر بحث

انتخابات اور جمہوریت

آیئے انتخابات اور جمہوریت سے متعلق خود سے ہی ہم دو آسان سوال کرتے ہوئے، اس کی شروعات کریں:
  • کیا انتخابات کے بغیر، جمہوریت قائم رکھ سکتے ہیں؟
  • کیا جمہوریت کے بغیر، انتخابات کراسکتے ہیں؟
آئیے ان ہی دونوں سوالات پر ہم اپنی کلاس میں بحث کریں۔ جو کچھ ہم نے سابقہ جماعتوں میں سیکھا ہے اس سے مثالیں پیش کریں۔

 ایک کارٹون پڑھیں 

pic1 chapter 3
وہ کہتے ہیں کہ انتخابات جمہوریت کا مشن ہوتے ہیں۔ اس کی بجائے یہ کارٹون افراتفری ظاہر کرتا ہے۔ کیا ہمیشہ ہی انتخابات میں ایسا ہوتا ہے؟ کیا یہ جمہوریت کےلیے اچھا ہے؟

پہلا سوال ہم کو یاد دلاتا ہے کہ ایک بڑی جمہوریت میں نمائندگی کی ضرورت ہے۔تمام شہری براہ راست فیصلہ سازی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس لیے عوام کے ذریعہ، نمائندوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انتخابات اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ جب بھی ہم ہندوستانی جمہوریت کے متعلق غور کرتے ہیں تو ہمارا ذہن پوری طرح گذشتہ انتخابات کی یاد دلاتا ہے۔آج انتخابات جمہوری عمل کا سب سے واضح علامت بن چکے ہیں۔ہم اکثر براہ راست اور بالواسطہ جمہوریت میں ا متیاز کرتے ہیں۔براہ راست جمہوریت(Direct Democracy) وہ ہے جہاں روز مرہّ کے فیصلوں اور حکومت چلانے میں تمام شہری براہ راست حصہ لیتے ہیں۔قدیم یونان کی شہری ریاستیں ، براہ راست جمہوریت کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ مقامی حکومتوں، خاص طور سے گرام سبھاؤں کو ،براہ راست جمہوریت سمجھتے ہیں۔ لیکن جہاں لاکھوں کروڑوں کو کوئی فیصلہ لینا ہو وہاں اس طریقہ کو اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے عوام کی حکومت کے معنی ہیں عوام کے نمائندوں کی حکومت۔
ایسے نظامِ حکومت میں شہری اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں جو اپنی مدّت کے دوران ملک کی حکومت اور انتظام میں باقاعدہ شامل ہوتے ہیں۔ ان نمائندوں کے انتخاب کے طریقہ کو انتخاب یا الیکشن کہتے ہیں۔ لہٰذا اہم اور خاص فیصلہ سازی میں اور ملک کا انتظام چلانے میں شہریوں کا رول بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ حکمت عملیوں کی تشکیل میں بھی شامل نہیں ہوتے۔وہ صرف بالواسطہ طریقہ سے اپنے نمائندوں کے ذریعہ ہی شامل ہوتے ہیں۔ اس انتظام میں تمام فیصلے ان کے نمائندے کرتے ہیں اور جس طریقہ سے ان نمائندوں کا انتخاب ہوتا ہے، وہ طریقہ نہایت اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
دوسرا سوال ہماری توجہ اس سچائی کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے کہ تمام انتخابات جمہوری نہیں ہوتے۔ بڑی تعداد میں غیر جمہوری ممالک بھی انتخابات منعقد کراتے ہیں۔ درحقیقت غیر جمہوری حکمراں یہ آرزو رکھتے ہیں کہ وہ خود کو جمہوری ظاہر کریں۔ وہ اس طریقہ سے انتخابات کراتے ہیں کہ ان کی حکومت خطرہ میں نہ پڑجائے۔ کیا آپ ایسے کچھ غیرجمہوری انتخابات کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں؟ آپ کے خیال میں، ایک جمہوری اور غیر جمہوری انتخاب میں کیا فرق ہوگا؟ اسی بات کو یقینی بنانے کےلیے کیا کرنا ہوگا کہ کسی ملک میں انتخابات جمہوری طریقہ سے کرائے جائیں؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آئین ہمارے سامنے آتا ہے۔ایک جمہوری ملک کا آئین انتخابات سے متعلق کچھ بنیادی اصولوں کو قائم کرتا ہے۔ اس کی تفصیلات عام طور پر مجلس قانون ساز سے منظور شدہ قوانین کے ذریعہ تیار کی جاتی ہیں۔

 یہ بنیادی اصول درج ذیل سے متعلق ہیں:
◊      کون ووٹ دینے کا اہل ہوگا؟
◊     کون انتخاب لڑنے کا اہل ہوگا؟
◊    رائے دہند گان اپنے نمائندوں کا انتخاب کیسے کریں گے؟
◊      انتخابات کی نگرانی کس کے ذمہ ہوگی؟
◊     ووٹوں کی گنتی کس طرح ہوگی اور نمائندوں کا انتخاب کیسے ہوگا۔

pic 2 chapter 3
ان اصولوں کو آئین میں تحریر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان اصولوں کا پارلیمنٹ کے ذریعہ فیصلہ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ یا ہرانتخاب سے پہلے ساری جماعتیں ان اصولوں کا فیصلہ کیوں نہیں کرتیں۔

بہت سے جمہوری ممالک کی طرح آئین ہندان تمام سوالات کے جواب دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے تین سوالات اس یقین دہانی سےمتعلق ہیں کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں، تب ہی وہ جمہوری کہلائے جاسکتے ہیں۔آخری دو سوال، منصفانہ نمائندگی سے وابستہ ہیں۔اس باب میں انتخابات سے متعلق آئینی دفعات کے ان دونوں پہلوؤں کا ہم مطالعہ کریں گے۔

سرگرمی

ہندوستان اور کسی دوسرے ملک کے انتخابات سے متعلق اخبارات کے تراشے جمع کیجئے۔ان کو درج ذیل عنوانات میں تقسیم کیجئے:
(a)        نمائندگی کا نظام
(b)     ووٹر یا رائے دہندہ کی اہلیت
(c)    انتخابی کمیشن کا کردار
اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے تو ایک خاص پروجیکٹ کی ویب سائٹ دیکھئے  :
الیکشن پروسیس انفارمیشن کلکشن(Election Process Information Collection) (www.epicproject.org) ۔ کم ازکم چار ممالک کے انتخابات کے متعلق اطلاعات جمع کیجئے۔

ہندوستان میں انتخابی نظام

مندرجہ بالا مختلف نظام اور طریقۂ انتخابات پر آپ نے غور کیا ہوگا۔ آپ کو تعجب ہواہوگا کہ یہ سب باتیں کس کے متعلق ہیں۔ آپ نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ انتخابی مہم کیسے چلائی جاتی ہے، انتخابی سرگرمی کیا ہوتی ہیں ۔ دراصل انتخابات منعقد کرنے کا ایک باقاعدہ نظام ہوتا ہے۔ کچھ افسران ہوتے ہیں،کیا کرنا ہے،کیا نہیں کرنا ہے، اس کے اصول ہوتے ہیں۔ کیا یہی سب انتخاب ہے؟آپ کو تعجب ہوا  ہوگا کہ آئین میں یہ سب تحریر کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ ووٹوں کی گنتی کیسے ہوگی اور نمائندوں کا انتخاب کیسے ہوگا۔ کیا اس سے ظاہر نہیں ہے؟ لوگ جاتے ہیں اور ووٹ ڈالتے ہیں ۔ جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں، وہی امیدوار منتخب قرار دیا جاتا ہے۔ساری دنیا میں انتخابات اسی طرح ہوتے ہیں۔پھر اس میں غور کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
غور کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ سوال اتنا آسان نہیں جتنا آسان نظر آتا ہے۔ ہمیں اپنے نظام انتخابات کی اس قدر عادت سی ہوگئی ہے کہ ہم یہی سوچتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ہوسکتا۔ ایک جمہوری انتخاب میں عوام ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اس کوترجیح دیتے ہیں جو جیت حاصل کرے گا۔ لیکن اس کے بھی مختلف طریقے ہیں جن کے ذریعہ عوام اپنی پسندسے مختلف امیدواروں کو چُن سکتے ہیں اور ان کی ترجیح یا پسند کو کس طرح سے گنا جائے گا۔کھیل کے یہ مختلف طریقے اس فرق میں ظاہر ہوں گے کہ کون کھیل جیتے گا۔ بعض اصول، بڑی جماعتوں کو موافق ہوں گے۔بعض اصول چھوٹے کھلاڑیوں کےلیے مفید ہوں گے۔ کچھ اصول اکثریت کے حق میں ہوں گے اور بعض اقلیت کے حق میں ۔ ایک ڈرامائی مثال دیکھیں کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے۔

سرگرمی 

اپنی کلاس میں چار نمائندوں کے انتخاب کےلیے ایک نقلی انتخاب منعقد کیجئے۔ یہ انتخاب تین طریقوں سے کیجئے:
  • ہر طالبِ علم ایک ووٹ دے سکتا ہے۔سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے 
والے چار افرادمنتخب قرار دئیے جائیں گے۔
  • ہر طالب علم کے چار ووٹ ہوں گے وہ سب ایک امیدوار کو دے سکتا ہے یا ان
میں تقسیم کرسکتا ہے۔چار امیدوار جن کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوں گے منتخب 
قرار دئے جائیں گے۔
  • ہرووٹر کو ، امیدواروں کا ایک درجہ(Rank) دینا ہوگا اور ن کی گنتی میں راجیہ سبھا کے ممبران کے انتخاب کا طریقہ استعمال کیا جا ئے گا جس کا ذکر نیچے آئے گا۔
کیا ہر طریقہ استعمال کرکے وہی چار امیدوار جیتے جو الگ الگ طریقے سے جیتے تھے؟ 
    اگرنہیں تو کیافرق تھا؟ اور کیوں؟
      (FIRST PAST THE POST SYSTEM (FPPS

        نیچے دیے گئے اخبار کے تراشے دیکھیے

        pic 3 chapter 3

          یہ ہندوستانی جمہوریت کے ایک تاریخی لمحہ کی بات ہے۔1984کے لوک سبھا انتخابات میں،کانگریس لوک سبھا کی 543نشستوں میں سے415نشستیں جیت کر اقتدار میں آئی۔ یعنی تقریباً%80  فیصد سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ایسی کامیابی کسی سیاسی جماعت نے لوک سبھا میں پہلے کبھی حاصل نہیں کی تھی۔یہ انتخاب کیا ظاہر کرتا ہے؟
            pic 4  chapter 3
            50فیصد سے کم ووٹ اور 80فیصد سے زیادہ نشستیں ! کیا یہ غلط نہیں ہے؟ ہمارا آئین ایسا غلط انتظام کیسے قبول کرسکتا ہے۔

            کانگریس کو پانچ میں سے چار نشستیں حاصل ہوئیں ۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر پانچ ہندوستانی رائے دہندگان میں سے چار نے اس جماعت کےلیے ووٹ دیا؟ درحقیقت نہیں۔ یہاں دی گئی ٹیبل کو دیکھیے ۔ کانگریس کو کل ووٹوں کے%48 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس کے معنی ہیں جنہوں نے کانگریس کے ذریعہ کھڑےکیےگئے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا وہ کل ووٹرس یا رائے دہندگان کا 48فیصد تھے۔ پھر بھی اس جماعت کو 80فیصد سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئیں۔ دوسری جماعتوں کی کارکردگی کو دیکھیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف7.4فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور ایک فیصد سے بھی کم نشستیں حاصل ہوئیں۔یہ کیسے ہوا؟

             1984کے انتخابات میں کچھ اہم سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حاصل کردہ ووٹ اورنشستیں 


            جماعت ووٹ(فیصد) نشستیں
            کانگریس 48.0 415
            بی۔جے ۔پی 7.4 2
            جنتا 6.7 10
            لوک دل 5.7 3
            سی۔پی۔آئی(ایم) 5.7 22
            تیلگو دیسم 4.1 30
            ڈی۔ایم۔کے 2.3 2
            اے۔آئی۔اے۔ڈی۔ایم۔ کے 1.6 12
            اکالی دل 1.0 7
            اے۔جی۔پی 1.0 7

                   

            یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم نے انتخابات کا ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس نظام کے تحت:
            • ہمارا ملک 543انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
            • ہر انتخابی حلقہ ایک نمائندے کا انتخاب کرتا ہے ،اور
            • جس امیدوار کو اپنے حلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں وہی منتخب قرار دیا جاتا ہے۔
            یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس امیدوار کو دوسرے امیدواروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں اس کومنتخب قرار دیا جاتا ہے۔ جیتنے والے امیدوار کوو وٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔  یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس امیدوار کو دوسرے امیدواروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں اس کومنتخب قرار دیا جاتا ہے۔ جیتنے والے امیدوار کوو وٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس نظام کو(First Past the Post System (FPPS کہتے ہیں۔ انتخابی دوڑ میں جوامیدوار سب سے آگے نکل جاتا ہے اور جیت کے نشان کوسب سے پہلے پار کرلیتا ہے، وہی فاتح ہوتا ہے۔ اس طریقہ کو تکثیری نظام(Popularity System)بھی کہتے ہیں۔ یہی طریقہ ہمارے آئین نے تجویز کیا ہے۔
            اب ہم واپس اپنی مثال کی طرف جائیں۔ کانگریس کو کل ووٹوں میں حصہ داری کے مقابلہ نشستیں زیادہ حاصل ہوئیں کیوں کہ بہت سے انتخابی حلقوں میں جہاں سے اس جماعت کے امیدوار کامیاب ہوئے، انہیں50فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل ہوئے۔ اگر بہت سے امیدوار ہیں تو ہارنے والے امیدواروں کو جو ووٹ حاصل ہوئے وہ بے کارہوگئے۔ کیوں کہ ان ووٹوں کی وجہ سے ہارنے والی جماعت یا امیدواروں کو کوئی نشست نہیں مل سکی۔ فرض کیجئے ایک جماعت کو ہر ایک حلقہ میں صرف 25فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور دوسروں کو اس سے بھی کم و وٹ ملے ۔ اس کیس میں جماعت صرف25فیصد ووٹوں کی بنا پر بھی تمام نشستیں جیت سکتی تھی یا اس سے بھی کم ووٹوں پر۔

            متناسب نمائندگی  (Proportional Representation  (PR)

            اب ہم اس کا مقابلہ اسرائیل کے انتخابات سے کریں جہاں ایک مختلف نظام ا نتخاب اپنا یا گیا ہے۔ اسرائیل میں جب ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے تو ہر جماعت(پارٹی) کو پارلیمنٹ میں مقرر کردہ نشستوں کا حصہ اس کے ووٹوں کی مناسبت سے دیا جاتا ہے(باکس دیکھیے)۔ الیکشن سے پہلے جس ترجیحی فہرست (Preference List)اعلان کیا جاتا ہے ہر جماعت اسی فہرست میں سے امیدواروں کو اٹھا کر نامزد کرتی ہے۔ انتخاب کے اس نظام کومتناسب نمائندگی کا نظام کہتے ہیں۔ اسی نظام میں ہر جماعت کو ووٹوں کی مناسبت سے متناسب نشستیں دی جاتی ہیں۔
            متناسب نمائندگی کے نظام میں دوقسمیں ہیں۔ بعض ممالک جیسے اسرائیل یا نید رلینڈ میں پورے ملک کو ایک انتخابی حلقہ تسلیم کیا جاتا ہے اور ہر جماعت کو قومی الیکشن یا انتخاب میں اس کے ووٹوں کے حصہ کی مناسبت سے نشستیں دی جاتی ہیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پورے متناسب نمائندگی کے نظام میں دوقسمیں ہیں۔ بعض ممالک جیسے اسرائیل یا نید رلینڈ میں پورے ملک کو ایک انتخابی حلقہ تسلیم کیا جاتا ہے اور ہر جماعت کو قومی الیکشن یا انتخاب میں اس کے ووٹوں کے حصہ کی مناسبت سے نشستیں دی جاتی ہیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پورے ملک کو کثیر امیدواروں کے حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، جیسے ارجنٹائنا اور پرتگال۔ہرجماعت ہر حلقہ کےلیے امیدواروں کی ایک فہرست تیار کرتی ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ اس حلقہ سے کتنے امیدواروں کا انتخاب ہونا ہے۔

            اسرائیل میں متناسب نمائندگی۔(PR)

            ان دونوں قسم کے نظام میں رائےدہندگان جماعت اسرائیل میں انتخاب کا متناسب نمائندگی نظام اختیار کیا گیا ہے۔مجلس قانون ساز نیسیٹ(Knesset)کے انتخابات ہر چار سال میں ایک بار ہوتے ہیں۔ہرجماعت اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان کرتی ہے، لیکن رائے دہندگان جماعت کو ووٹ دیتے ہیں، امیدواروں کو نہیں۔ اس جماعت کو جس قدر ووٹ ملتے ہیں اسی کے تناسب سے نشستیں دی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹی سے چھوٹی جماعت کو بھی مجلس قانون ساز میں نمائندگی حاصل ہوجاتی ہے۔(کسی بھی جماعت کو مجلسِ قانون ساز میں نشست حاصل کرنے کےلیے کم ازکم 3.25فیصد ووٹ حاصل کرنے چاہئیں) اسی وجہ سے اکثر مخلوط حکومت بنا ئی جاتی ہے۔
            درج ذیل ٹیبل ظاہر کرتی ہے کہ 2015کے نیسیٹ کے انتخابات کے نتائج کیا تھے۔اس کی بنا پر آپ کو معلوم ہوگا کس جماعت کواس الیکشن یا انتخاب میں کتنے فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

            پارٹی  نشستیں نشستوں میں حصہ داری
            نشستوں      
            لیکود 23.4 30
            صیہونی کیمپ 18.67 24
            متحدہ فہرست (ہداش،قومی جمہوری اسمبلی،عرب موومنٹ برائے تجدید،متحدہ عرب فہرست) 10.61 13
            یش ایتڈ 8.82 11
            گلا نو 7.49 10
            ہبایت یہودی  6.74 8
            شاس 5.74 7
            اسرائیل بیٹنو 5.10 6
            یوٹی 4.99 6
            بایاں بازوکی اسرائیل جماعتیں 3.93 5
            دیگر جماعتیں 4.51 0
            کل نشستیں 100 120

                                                                                                                              

            pic 5 chapter 3
            یہ بہت الجھا دینے والا ہے! مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میرا ممبر پارلیمنٹ یا ایم۔ایل۔اے کون ہے؟ اگر مجھے کوئی کام ہو تو میں کس کے پاس جاؤں؟
                                                                                                               
             ان دونوں قسم کے نظام میں رائے دہندگان جماعت   کو فوقیت دیتے ہیں نہ کہ امیدوار کو۔کسی جماعت کو کتنے ووٹ حاصل ہوئے اسی کی بنا پر اس کو نشستیں دی جاتی ہیں۔ اس طرح کسی ایک انتخابی حلقہ کے امیدوارمختلف جماعتوں سے ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان میں ہم نے بالواسطہ انتخابات کے لئے اس طریقہ کو محدود پیمانے پر استعمال کیا ہے۔آئین ہند نے صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ، راجیہ سبھا اور ودھان پر یشدوں کے انتخابات کے لیے ایک تیسرا پیچیدہ متناسب نمائندگی کا نظام تجویز کیا ہے۔

            FPTP  اورPRنظام کا تقابل


            FPTP
            ملک کو چھوٹی جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم کردیا جاتاہے جن کو انتخابی حلقے یا ضلعے کہا جاتا ہے۔
            ہرانتخابی حلقہ، ایک نمائندہ کاا نتخاب کرتا ہے۔
            رائے دہندگان ایک امیدوار کےلیےووٹ دیتے ہیں۔
            ایک جماعت کو،مجلس قانون ساز میں نشستیں ووٹوں کے مقابلہ زیادہ مل سکتی ہیں۔
            جو امیدوارا نتخاب میں جیت حاصل کرتا ہے اس کو اکثریتی(1+%50) ووٹ حاصل نہیں 
            بھی ہوسکتے۔
            مثالیں: انگلینڈ، ہندوستان

            PRُ
            بڑے جغرافیائی علاقوں کی نشاندہی انتخابی حلقوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ پورا ملک بھی ایک انتخابی حلقہ ہوسکتا ہے۔
            ایک انتخابی حلقہ سے ایک سے زیادہ نمائندوں کا انتخاب کیاجاتا ہے۔ رائے دہندگان جماعت کےلیے ووٹ دیتے ہیں۔
            ہرجماعت کو حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب سے مجلس قانون ساز میں نشستیں ملتی ہیں۔
            جوامیدوار انتخاب میں جیت حاصل کرتا ہے
            اس کو اکثریتی ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔
            مثالیں:  اسرائیل۔ نیدرلینڈ۔


            راجیہ سبھا انتخابات میں PRنظام کیسے کام کرتا ہے

            متناسب نمائندگی (PR)کی ایک تیسری قسم  (SINGLE TRANSFERABLE VOTE (STV کانظام یعنی واحد قابلِ انتقال ووٹ کا نظام، راجیہ سبھا کے انتخابات میں استعمال ہوتاہے۔ 
            راجیہ سبھا میں ہر ریاست کا ایک مخصوص کوٹہ ہے۔متعلقہ ریاستی مجالسِ قانون ساز کے ذریعہ، ممبران کا انتخاب ہوتا ہے۔اس ریاست میں ووٹر یا رائے دہندگان ایم ایل اے ہوتے ہیں۔ ہر رائے دہندہ کو اپنی مرضی سے نمائندوں کو ترجیح کا درجہ(Rank)دینا ہوتا ہے۔ کامیاب قرار دیے جانے کے لئے ایک امیدوار کو ووٹوں کی ایک کم ازکم تعداد یعنی کوٹہ پورا کرنا ضروری ہے جو اس فارمولہ سے طے ہوتا ہے:

             (کل ڈالے گئے ووٹ و امیدواروں کی تعداد جن کاانتخاب ہونا ہے+1)+1

            مثال کے طور پر، اگر راجستھان کے 200ایم ایل اے کو راجیہ سبھا کے 4ممبران کا انتخاب کرنا ہے تو جیتنے والے امیدوار کو چاہیے (200/4+1=40+1) 41ووٹ ۔ ووٹوں کی گنتی اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ کس امیدوارکو پہلی ترجیح دی گئی۔ پہلی ترجیح والے تمام ووٹوں کو گنتی کرنے کے بعد بھی اگر مطلوبہ تعداد میں ممبران کا انتخاب نہ ہو تو سب سے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کے ووٹ ختم کر کے دوسرے نمبر کی ترجیح حاصل کرنے والے امیدواروں کو منتقل کردیےجاتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک مطلوبہ تعداد میں امیدواروں کا انتخاب نہ ہوجائے۔

            ہندوستان نے FPTPنظام کیوں اختیار کیا ہے؟

            اس کے جواب کا انداز کرنا مشکل نہیں ہے۔ اگر آپ نے راجیہ سبھا کے انتخابات کی تفصیل پیش کرنے والے باکس کا غور سے مطالعہ کیا ہے تو آپ نے دھیان دیا ہوگا کہ یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو ایک چھوٹے ملک میں ہی کام کرسکتا ہے۔ لیکن  برصغیر جیسے ملک ہندوستان میں اس کےلیے کام کرنا مشکل ہوگا۔FPTPنظام کی مقبولیت اورکامیابی کی وجہ اس کی سادگی ہے۔ایک عام ووٹر جس کو سیاست اور انتخابات کا کوئی علم نہیں، اس کےلیے بھی پورے انتخابی نظام کو سمجھنا نہایت آسان ہے۔ انتخابات کے وقت رائے د ہندگان کے سامنے ایک صاف اورواضح پسند کی گنجائش ہوتی ہے۔ان کو صرف ایک جماعت یاامیدوار کو ووٹ دینا ہوتا ہے۔ سیاست کی نوعیت کےمدِنظر رائے دہندگان جماعت کو یا امیدوار کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں یا دونوں میں توازن رکھ سکتے ہیں۔FPTPنظام رائے دہندگان میں جماعتوں اور امیدواروں کے درمیان انتخاب کی کافی گنجائش ہوتی ہے۔ دوسرے انتخابی نظاموں ،خاص طور سےPRنظام میں رائے دہندگان کو جماعت کی فہرست کی بنیاد پر کسی امیدوار کو ووٹ دینے کےلیے کہاجاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک علاقہ کےلیے کوئی ایک نمائندہ نہیں ہوتا جو اس علاقہ کی نمائندگی کرے۔ انتخابی حلقہ پر منحصرFPTPنظام میں رائے دہندگان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نمائندہ کون ہے اور کس کو وہ جواب دہ مانتے ہیں۔

            ایک کارٹون پڑھیے

            pic 7 chapter 3

            اپوزیشن
            حکمراں جماعت کے یہ ممبران، چھوٹی سی اپوزیشن کی بات سننے کی کوشش کررہے ہیں۔کیا یہ ہمارے انتخابی نظام کا اثر تھا؟

            اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے آئین ساز محسوس کرتے تھے کہ ایک پارلیمانی نظام میں PRپر مبنی انتخابی نظام ایک مضبوط اور پائیدار حکومت نہیں دے سکتا۔ آپ عاملہ کے پارلیمانی نظام کے متعلق اگلے باب میں مطالعہ کریں گے۔ اس نظام میں عاملہ کو مجلس قانون ساز میں اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ غور کریں  گے کہ PRنظام ایک واضح اکثریت پیدا نہیں کرسکتا کیوں کہ مجلس قانون ساز میں نشستوں کی تقسیم ووٹوں کے تناسب کی بنا پر ہوگی۔

            اپنی معلومات چیک کیجئے

            یہاں 1996میں تامل ناڈو کی مجلس قانون ساز کے انتخابات کے درج نتائج درج ہیں۔
            • اگر اسرائیل کے طرز پر یہاںPRنظام قائم ہوتا تو اسمبلی کی تشکیل کیا ہوتی؟
            • کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی؟
            • کون حکومت کی تشکیل کرتا؟
            • اس نظام کا سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات پر کیا اثر پڑتا؟

            کل نشستیں  234
            جماعتی نظام ووٹ نشستیں PR میں نشستیں
            ڈی۔ایم۔کے 42.1 173
            اے۔آئی۔اے۔ڈی۔ایم۔کے 21.5 4
            کانگریس 5.6 -
            سی۔پی۔ آئی 2.1 8
            سی۔پی۔آئی(ایم)  1.7 1
            ٹی۔ایم۔سی 9.3 39
            پی۔ایم۔کے 3.8 4
             آزاد امیدوار اور دیگر 13.9 5


             FPTPنظام عام طور پر سب سے بڑی جماعت یا مخلو ط جماعت کو کچھ زائدنشستیں بونس کے طور پر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نظام پارلیمانی حکومت کو اچھی طرح اور موثر طریقہ سے حکومت چلانے کےپائیدار حکومت کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ آخری بات اس نظام میں ایک علاقہ کے مختلف معاشرتی گروہوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر انتخاب جیتنے کا مو قع ہوتا ہے۔ ایک متنوع ملک ہندوستان میںPRنظام ہر برادری کو اپنی قومی سطح پر الگ جماعت بنانے کا موقع دیتا ہے ۔شاید یہ بات ہمارے آئین سازوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تھی ۔

            آئین کے عملی نتیجہ سے آئین سازوں کی تو قعات کی تصدیق ہوتی ہے۔FPTPنظام نہایت سادہ اور عام رائے دہندگان کےلیےجانا پہچانا ثابت ہوا۔اس نے بڑی جماعتوں کو مرکز میں بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں مدد کی اور ریاستی سطح پر بھی۔ اس نے سیاسی جماعتوں کی حوصلہ شکنی کی تاکہ وہ کسی ایک مخصوص ذات یامذہبی برادری کے تمام ووٹ حاصل نہ کرسکیں۔ عام طور پر،FPTPکی کارکردگی کے نتیجہ میں دوجماعتی نظام ابھر کر سامنے آئےہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگرطاقت کی جدوجہد میں دو بڑے مقابل میدان میں ہیں تو باری باری دونوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے۔نئی جماعتوں یا کسی تیسری جماعت کےلیے اس مقابلہ میں شریک ہونااور اقتدار میں حصہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس حوالہ سے FPTPکا تجربہ ہندوستان میں قدرے مختلف رہا ہے۔آزادی کے بعد اگرچہ ہم نے FPTPنظام اختیار کیا لیکن یہاں ایک جماعت کا غلبہ رہا اور اس کے ساتھ چھوٹی جماعتیں بھی وجود میں آئیں۔1989کے بعد ہندوستان نے کثیرجماعتی مخلوط حکومت کی کارکردگی کا تجربہ کیا۔اسی کے ساتھ آہستہ آہستہ بہت سی ریاستوں میں دوجماعتی مقابلہ بھی ابھرا۔ لیکن ہندوستان کے جماعتی نظام کا سب سے ممتاز پہلو یہ ہے کہFPTP کے باوجود  مخلوط حکومت نے چھوٹی اورنئی جماعتوں کو انتخابی سیاست میں داخل ہونے کا موقع دیا۔ 

            انتخابی حلقوں کا ریزرویشن

            ہم نے دیکھا کہ،FPTPنظام میں جو امیدوارکسی انتخابی حلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے اکثر چھوٹے معاشرتی گروہوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ ہندوستان معاشرتی پس منظر میں اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ہماری تاریخ ذات پات پر مبنی امتیاز کی تاریخ ہے۔ایسے معاشرتی نظام میں،FPTPانتخابی نظام کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ غالب معاشرتی گروہ اور ذاتیں ہر جگہ انتخابات جیت لیں۔ محروم پس ماندہ گروہ کی مسلسل عدم نمائندگی چلتی رہے۔ہمارے آئین ساز اس مشکل سے بخوبی واقف تھے اور اس ضرورت کو سمجھتے تھے کہ محروم معا شرتی طبقوں کو مناسب اورمنصفانہ نمائندگی دلائی جائے۔

            اس مسئلہ پر آزادی سے پہلے بھی بحث ہوئی ہے برطانوی حکومت نے فرقہ وارانہ یا’’ علاحدہ رائے دہندگان کی جماعت‘‘ کا طریقہ شروع کیا۔ اس نظام کے معنی تھے کہ ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے

            ’’ علاحدہ رائے دہندگان کی جماعت ہندوستان کےلیے ایک لعنت ہے۔ اس نے ملک کو ناقابل تلاِفی نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔علاحدہ رائے دہندگان کی جماعت نے ہماری ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے۔۔۔۔۔ ہم (مسلمان) قوم کے اندر ضم ہونا چاہتے ہیں۔ خدا کےلیے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن سے اپنے ہاتھوں کو روک لیجئے۔
                                                              تجمل حسین
                        CAD, Vol. VIII P-333
            رائے دہندگان اپنی ہی برادری کے امیدوار کا انتخاب کرنے کے اہل ہوں گے۔ آئین ساز مجلس میں بہت سے ممبران نے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ نظام ہمارے مقاصد کےلیے مناسب نہیں ہے۔لہٰذا یہ فیصلہ کیاگیا کہ انتخابی حلقوں کے ریزرویشن کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس نظام میں ایک انتخابی حلقہ میں تمام رائے دہندگان ، ووٹ دینے کے اہل ہوتے ہیں لیکن اس حلقہ کے امیدوار کسی ایک مخصوص برادری یا سماجی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس ذات یا برادری کےلیے اس نشست یا حلقہ کومحفوظ قرار دیا گیا ہو۔
            کچھ ایسے معاشرتی گروہ بھی ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک خاص انتخابی حلقہ میں ان کی تعداد، کسی امیدوار کو جیت دلانے کےلیے کافی نہیں ہوسکتی۔البتہ اگر پورے ملک میں ان کی تعداد کا لحاظ کیا جائے تو ایک خاصا گروہ بن جائے گا جس کو مناسب نمائندگی ملنی چاہیے ایسے میں ریزرویشن ضروری نظر آتا ہے۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کےلیے لوک سبھا اور ریاستی مجالس قانون ساز میں نشستیں ریزروکرنے کی آئین میں سہولت دی گئی ہے۔ابتدا میں یہ دفعہ دس سال کےلیے اختیار کی گئی تھی لیکن لگاتارترمیمات کے ذریعہ ، اس کی مدت2010تک بڑھادی گئی ہے۔ اس کی مزید تو سیع کےلیے پارلیمنٹ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کس وقت اس کی موجودہ مدت ختم کی جائے۔ ان دونوں طبقوں کی ہندوستان میں کل آبادی کی مناسبت سے ریزرویشن کیا گیا ہے۔ اس وقت لوک سبھا کی 543منتخبہ نشستوں میں سے79درج فہرست ذاتوں کےلیے اور 41درج فہرست قبائل کےلیےریزرو ہیں۔

            ۔۔۔۔۔ لیکن میں یہاں ہندوستان کے آدی واسیوں کی طرف سے چند باتیں کہنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ ماضی میں بڑی سیاسی جماعتوں ،برطانوی حکومت اور ہرباشعور ہندوستانی شہری کی مہربانیوں سے ہمیں علاحدہ رکھا گیا جیسے ہم کسی چڑیا گھر میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہم آپ کے ساتھ مل جانا چاہتے ہیں اوراسی وجہ سے  ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جہاں تک ریاستی مجلس قانون ساز کا تعلق ہے ہمیں ریزرویشن دیا جائے۔ ہم نے علاحدہ رائے د ہندگی کا مطالبہ نہیں کیا۔1935کے قانون کے تحت ہندوستان کی تمام مجالس قانون ساز میں،1585میں سے صرف 24آدی واسی ایم ایل اے تھے اور مرکز میں ایک بھی نمائندہ نہیں تھا۔
                  جے پال سنگھ
                        CAD, Vol. V, p. 226

            یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کون سا انتخابی حلقہ ریزرو کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟یہ فیصلہ ایک آزاد کمیشن کرتا ہے جس کا نام ہے ڈی لمیٹیشن کمیشن(Delimitation Commission) ۔اس کمیشن کا تقرر صدر جمہوریہ کرتا ہے  اور یہ ہندوستان کے انتخابی کمیشن کے تعاون سے کام کرتا ہے۔ پورے ملک میں انتخابی حلقوں کی سر حدیں یا دائرے طے کرنا اس کا خاص کام ہے۔کسی ریاست میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی آبادی کے تناسب سے نشستیں ریزرو کی جاتی ہیں۔دائرے طے کرنے کے بعد یہ کمیشن ہر انتخابی حلقہ میں آبادی کی تشکیل پر غور کرتا ہے۔جن انتخابی حلقوں میں سب زیادہ درج فہرست قبائل کی آبادی ہے  وہ حلقہ درج فہرست قبائل کےلیے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جس حلقہ میں کسی درج فہرست ذات کی زیادہ آبادی ہے وہ انتخابی حلقہ اس ذات کےلیے ریزرو کر دیا جاتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں پھیلی درج فہرست ذاتوں کی مجموعی آبادی کا بھی خیال کیا جاتا ہے۔اس لیے یہ انتخابی حلقے پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کی آبادی بھی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔جب بھی نئی سرحدیں یا دائرے قائم کرنے کا کام دوبارہ کیا جاتا ہے، تب ان محفوظ انتخابی حلقوں کو باری باری تبدیل کردیا جاتا ہے۔
            دوسرے محروم طبقوں کےلیے آئین اس طرح کا کوئی ریزرویشن مہیا نہیں کرتا۔کافی دنوں سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ لوک سبھا اور ریاستی مجالس قانون ساز میں خواتین کےلیےبھی ریزرویشن دیا جائے۔اس کے پس منظر یہ حقیقت کارفرما ہے کہ ان نمائندہ انجمنوں میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے، لہٰذا ان کےلیے ایک تہائی نشستوں کوریزرو کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ گاؤں اورشہروں کے مقامی اداروں میں ان کے لیے نشستوں کا تحفظ ہوا ہے۔ اس کے متعلق ہم مقامی حکومتوں کے باب میں پڑھیں گے۔لوک سبھا اور ودھان سبھا میں اس طرح کے ریزرویشن کے لئے پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اس طرح کی ترمیم کئی بار پارلیمنٹ میں پیش کی جا چکی ہے لیکن منظور نہیں ہوئی۔

            آزاد اور منصفانہ انتخابات

            کسی انتخابی نظام کا اصلی امتحان اس کے ذریعہ منعقد کرائے جانے والے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں ہوتا ہے۔ اگر ہم جمہوریت کو زمینی حقیقت میں تبدیل کرنا چاہیں تو یہ اہم ہو جاتا ہے کہ انتخابات غیر جانب دارانہ اور صاف شفاف ہوں۔انتخابی نظام رائے دہندہ کو اجازت دے کہ انتخابی نتائج کے ذریعہ اس کی توقعات کا جائزاظہار ہوسکے۔
            pic 8  chapter 3
            کیا میں بالغ ہوں یا نہیں ہوں؟ میں اس قدر سمجھ دار ہوں کہ اپنا مستقبل خود طے کر سکتی ہوں، اتنی بڑی ہوں کہ ڈرائیونگ لائسنس لے سکتی ہوں لیکن ووٹ دینے کی اہل نہیں ہوں! اگر مجھ پر قانون نافذہوں کیا میں طے نہیں کر سکتی کہ قانون کون بنائے گا؟

            اپنی معلومات چیک کیجیے

            ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً13.5فی صد ہے، لیکن لوک سبھا میں مسلم ممبران کی تعداد عام طور پر 6فیصد سے بھی کم رہی ہے، یعنی ان کی آبادی کے حصہ سے آدھے سے بھی کم ۔یہی صورت حال تقریباً تمام ریاستی مجالس قانون ساز میں بھی ہے۔تین طالب علموں نے اس سچائی سے تین مختلف نتائج اخذ کیے۔ لکھیے آپ ان میں کس سے اتفاق کرتے ہیں اورکس سے اتفاق  نہیں کرتے اورکیوں۔

            ہلال: یہ FPTPنظام کے غیر منصفانہ پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی بجائے ہمیںPRنظام اختیار کرنا چاہیےتھا۔

            عارف: یہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے ریزرویشن دینے کے دانشمندانہ فیصلہ کا اظہار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو ریزرویشن دیا گیا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی دیا جائے۔

            صبا: مسلمانوں کے متعلق مجموعی طور پر بات کرنے کا کوئی نکتہ ہے ہی نہیں۔ ان نظاموں میں سے کسی بھی نظام میں مسلمان عورتوں کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ ہمیں مسلمان عورتوں کے لیے الگ کوٹہ ملنا چاہیے۔

            ایک کارٹون پڑھیے

            pic 9 chapter 3
            بالغ رائے دہندگی کی تشبیہ ایک ہاتھی سے کیوں دی گئی ہے۔اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا یا یہ پھر اسی کہانی کی طرح ہوگا جس میں ہاتھی کو دیکھنے والے ہر فرد نے اس کی الگ الگ تعریف بیان کی تھی۔

            حقِ رائے دہی اور انتخاب لڑنے کا حق

            انتخابات کا طریقہ طے کرنے کے علاوہ آئین نے انتخابات سے متعلق دو بنیادی سوالات کے جواب بھی دیے ہیں۔ رائے دہندگان (ووٹر) کون ہیں؟ کون انتخابات لڑسکتا ہے۔ان دونوںمعاملات میں ہمارا آئین، اچھی طرح طے شدہ جمہوری عمل کو اختیار کرتا ہے۔
            آپ کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ جمہوری انتخابات میں کسی ملک کے تمام بالغ شہری انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس کو حق رائے دہندگی بالغان(Universal Adult Franchise)کہا جاتا ہے۔ بہت سے ممالک میں اس حق کو حاصل کرنے کےلیے شہریوں کو اپنے حکمرانوں سے طویل لڑائی لڑنی پڑی۔ بہت سے ممالک میں خواتین کو یہ حق بہت دیرسے ملا اور وہ بھی جدوجہد کے بعد۔ آئین سازوں کا ایک اہم فیصلہ یہ تھا کہ ہندوستان کے ہر بالغ شہری کو رائے دہندگی کا حق دیا جائے۔
            1989تک ایک بالغ ہندوستانی کے معنی تھے، 21سال سے زیادہ عمر کا ہندوستانی شہری۔ 1989میں آئین میں ایک ترمیم کے ذریعہ اہلیت کی عمر 18سال کردی گئی۔ حق رائے دہندگی بالغان یقین دلاتا ہے کہ تمام شہریوں کو اپنے نمائندوں کے انتخاب میں حصہ لینے کا مسادی حق حاصل ہے۔ یہ اصول مساوات اور عدم امتیاز کے عین مطابق ہے جن کا ہم نے حقوق کے باب میں مطالعہ کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا اوراب بھی ہے کہ ہر شخص کو رائے دہندگی کا حق بغیر تعلیمی صلاحیت کے، دے دینا درست نہیں تھا۔ لیکن ہمارے آئین سازوں کوشہریوں کی قابلیت اور اہلیت پر پورا بھروسہ تھا جس کی بنا پر وہ یہ طے کر سکتے تھے کہ سماج ملک اور ان کے انتخابی حلقوں کے لیے کیا اچھا اور مناسب ہے۔
            حقِ رائے دہندگی کے متعلق جو سچائی ہے وہی انتخاب لڑنے کے حق کے تعلق سے بھی سچ ہے۔ تمام شہریوں کو انتخاب میں کھڑا ہونے اور عوام کا نمائندہ منتخب ہونے کا حق حاصل ہے۔البتہ انتخاب لڑنے کے لیے مختلف عمر درکار ہے۔ مثال کے طور پر لوک سبھا یا ریاستی مجلس قانون ساز کے لیے امیدوار کی عمر 25سال سے کم نہیں ہونی چاہیے۔کچھ اور پابندیاں بھی ہیں جیسے ایک قانونی دفعہ یہ ہے کہ جو کوئی کسی جرم  میں دویادو سال سے زیادہ قید کاٹ چکا ہو، وہ انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہے۔ لیکن آمدنی ، تعلیم یا طبقہ یا جنس کی بنیاد پر انتخاب لڑنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس معنی میں ہمارا نتخابی نظام تمام شہریوں کےلیے کھلا ہے۔

             آزاد انتخابی کمیشن

            ہندوستان میں، آزاد اور منصفانہ انتخابی نظام عمل کو یقینی بنا نے کےلیے بہت سی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم کوشش ایک آزاد انتخابی کمیشن کا قیام ’’ انتخابات کی نگرانی اور انعقاد‘‘ کے لیے ہوئی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سے ممالک میں انتخابات منعقد کرانے کے لیے آزاد مشینری موجود نہیں ہے۔

            دفعہ(1) 324        ’’اس آئین کے تحت پارلیمنٹ اور ہر ریاست کی مجلس قانون ساز کےلیے ہونے والے تمام انتخابات اور نائب صدر کے عہدوں کے انتخابات کی انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ان کے انعقاد کا اہتمام، ہدایت اور نگرانی ایک کمیشن پر مرکوز ہوگی ( جس کو اس آئین میں انتخابی کمیشن کہا گیا ہے)۔‘‘

            آئین ہند کی دفعہ324،ہندوستان میں’’ انتخابات کی نگرانی، ہدایت ، انتخا بی فہرستوں کی تیاری اور انتخابات کے انعقاد‘‘ کےلیے ایک آزاد خود مختار انتخابی کمیشن مہیا کرتی ہے۔ آئین کے یہ الفاظ نہایت اہم ہیں کیوں کہ وہ انتخابی کمیشن کو انتخابات سے متعلق تمام اختیارات عطا کرتے ہیں۔سپریم کورٹ نے بھی آئین کی اس تشریح سے اتفاق کیا ہے۔
                  انتخابی کمیشن کی مدد کےلیے ہر ریاست میں ایک چیف انتخابی کمشنر ہوتا ہے۔انتخابی کمیشن  مقامی اداروں کے انتخابات کےلیے ذمہ دار نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ہم مقامی حکومتوں کے باب میں مطالعہ کریں گے ریاستی انتخابی کمشنر ، انتخابی کمیشن ہند سے قطعی آزاد ہوتے ہیں اوران کا اپنا دائرہ عمل ہے۔
                  انتخابی کمیشن ہند یک نفری یا کثیرنفری ہوسکتا ہے۔1989تک، انتخابی کمیشن میں ایک ہی ممبر ہوتا تھا۔ 1989کے عام انتخابات سے کچھ پہلے ،دو انتخابی کمشنر مزید مقرر کیےگئے جس سے یہ ادارہ کثیر نفری ہوگیا۔ انتخابات کے فوراً  بعدانتخابی کمیشن نے پھر اپنی پرانی حیثیت اختیار کرلی۔1993میں پھر دواضافی انتخابی کمشنر مقرر کیےگئے اور کمیشن دوبارہ کثیرنفری ہوگیا۔ اور اب تک ایسا ہی ہے۔ابتداء میں کثیرنفری کمیشن سے متعلق بہت سے اندیشے تھے۔ ا س وقت کے چیف انتخابی کمشنر اور دو انتخابی کمشنروں کے درمیان کافی اختلاف رائے تھا کہ کس کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔ اس معاملہ کو سپریم کورٹ نے حل کیا۔ اب عام رائے یہی ہے کہ کمیشن میں کئی ممبران ہونے چاہئیں تاکہ اختیارات  میں بہتر طور پر حصہ داری ہوسکے اورزیادہ جواب دہی بھی۔
               چیف انتخابی کمشنر(CEC)انتخابی کمیشن کی صدارت کرتا ہے۔لیکن دوسرے کمشنر ممبران سے اس کے اختیارات زیادہ نہیں ہوتے ۔انتخابات سے متعلق فیصلے مجموعی طور پر CEC اور دوسرے ممبران مساویانہ اختیارات کی بنا پر کرتے ہیں۔
            pic 4 chapter 1
            کیا اس کا فیصلہ ہوگیا ہے؟ یا پھر حکومت یک نفری انتخابی کمیشن کی طرف واپس جاسکتی ہے؟ کیا آئین اس کھیل کی اجازت دیتا ہے

               ان کا انتخاب صدر جمہوریہ وزارتی کونسل کے مشورہ پر کرتا ہے۔لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حکمراں جماعت کمیشن میں تقرری کے لیے انتخاب جانب دارانہ کرائے تاکہ وہ انتخابات کے دوران اس جماعت کی حمایت کرسکے۔ اسی اندیشے کی بنا پر بہت سے لوگ تجویز کرتے ہیں کہ اس طریقۂ کار کوبدل دیا جائے۔ بہت سے لوگوں نے تجویز کیا ہے کہ ایک مختلف طریقہ اختیار کیا جائے جس میں CEC اور انتخابی کمشنروں کی تقرری میںمخالف جماعت کے سربراہ اور ہندوستان کے چیف جسٹس سے بھی مشورہ کیا جائے۔
            آئین ،CEC اور کمشنروں کی میعاد کو یقینی بناتاہے۔ وہ چھ سال کی مدت یا 65سال ریٹائر ہونے کی عمر تک، اس عہدہ پر رکھے جاتے ہیں۔ CEC کو اس کی مدت ختم ہونے سے پہلے صدر جمہوریہ کے ذریعہ برطرف کیا جاسکتا ہے تو یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ اگر انتخابات کے دوران کوئی CEC حکمراں جماعت کی حمایت سے انکار کر آئین ،CEC اور کمشنروں کی میعاد کو یقینی بناتاہے۔ وہ چھ سال کی مدت یا 65سال ریٹائر ہونے کی عمر تک، اس عہدہ پر رکھے جاتے ہیں۔ CEC کو اس کی مدت ختم ہونے سے پہلے صدر جمہوریہ کے ذریعہ برطرف کیا جاسکتا ہے تو یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ اگر انتخابات کے دوران کوئی CEC حکمراں جماعت کی حمایت سے انکار کر دیتا ہے  تو اس کو اس کے عہدہ سے برخاست نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی کمشنروں کو صدر جمہوریہ برخاست کر سکتا ہے۔

            مخصوص اکثریت

            مخصوص اکثریت کے معنی ہیں:
            ایوان میں حاضر اور رائے شماری میں حصہ لینے والوں کی دوتہائی اکثریت اور 
            ◊     ایوان کے کل ممبران کی سادہ اکثریت۔
                      آئیے ہم یہ کہیں کہ آپ کو اپنی کلاس میں مخصوص اکثریت سے ایک تجویز منظور کرنی ہے۔ مزید تصور کیجیے کہ آپ کی کلاس میں طلباء کی کل تعداد 57ہے لیکن رائے شماری کے دن صرف 51طلباء حاضر ہیں اور 50نے رائے شماری میں حصہ لیا ہے ۔ آپ کب کہیں گے کہ آپ کی کلاس نے مخصوص اکثریت سے یہ تجویز منظورکرلی؟
                     اس کتاب میں آپ کم ازکم تین مزید ابواب میں مخصوص اکثریت کا ذکر پائیں گے۔ ان میں سے ایک اگلے باب عاملہ میں ہے ۔جہاں ہم صدر جمہوریہ پر مقدمہ کا ذکر کر یں گے۔ وہ دوسری جگہیں تلاش کیجیے جہاں مخصوص اکثریت کا ذکر ہوا ہے۔

            ہندوستان کے انتخابی کمیشن کے بہت وسیع کام ہیں:

            یہ رائے دہندگان کی فہرست کو جدید ترین بنانے کی نگرانی کرتا ہے۔یہ رائے د ہندگان کی فہرست کو غلطیوں سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔،اخراج(رجسٹرشدہ رائے دہندگان کے ناموں کا غائب ہونا)اور کمیشن (جواہل نہیں ہیں یا جن کا وجود ہی نہیں ہے ۔ان کے ناموں کا موجود ہونا) دونوں پر نگرانی رکھتا ہے۔
            یہ انتخابات کے اوقات اور انتخاب کا پروگرام طے کرتا ہے۔ انتخاب کے پروگرام میں انتخابات کا اعلان  کرنے کے علاوہ انتخابات کی تاریخیں جس سے نامزدگی کے کاغذات بھرنا شروع ہوں گے، نامزدگی کی آخری تاریخ، جانچ پڑتال کی آخری تاریخ، نام واپس لینے کی آخری تاریخ، ووٹنگ کی تاریخ، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان، شامل ہوتا ہے۔
            اس پورے عمل کے دوران، آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے فیصلہ لینے کا اختیار کمیشن کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ پورے ملک میں، یا کسی ایک ریاست میں یا کسی ایک انتخابی حلقہ میں اس بنا پر انتخابات ملتوی یا ردّ کر سکتا ہے کہ وہاں کے حالات سازگار نہیں ہیں۔ لہٰذا آزاد اور منصفانہ انتخاب ممکن نہیں ہے۔انتخابی کمیشن جماعتوں اور امیدواروں کےلیےاخلاقی ضابطے بھی نافذ کرتا ہے۔ یہ کسی مخصوص انتخابی حلقہ میں دوبارہ ووٹنگ کراسکتا ہے۔ یہ دوبارہ  ووٹوں کی گنتی کا حکم دے سکتا ہے اگر اس کو محسوس ہو کہ گنتی کا عمل پوری طرح سے صاف ستھرا اور ٹھیک نہیں تھا۔
            انتخابی کمیشن سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرتا ہے اور ان میں ہر ایک کو انتخابی نشان دیتا ہے۔
            انتخابی کمیشن کے پاس اپنا بہت مختصر عملہ (اسٹاف) ہے۔ یہ انتظامیہ کی مدد سے انتخابات کا انعقاد کرتا ہے۔ البتہ جب انتخابی عمل شروع ہو جاتا ہے تو کمیشن کو انتظامیہ پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ جہاں تک انتخابی عمل کا کام ہوتا ہے انتخابات کے دوران ریاستی اور مرکزی حکومت کے عہدیداران کو انتخابی فرائض دیے جاتے ہیں اور ان پر انتخابی کمیشن کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔انتخابی کمیشن عہدیداران کا ٹرانسفر کر سکتا ہے، ان کے ٹرانسفر کو روک سکتا ہے، اگر وہ غیر جانب داری سے فرائض انجام نہیں دیتے تو ان کے خلاف اقدام بھی کر سکتا ہے۔
            گذشتہ برسوں میں انتخابی کمیشن ایک آزاد حاکم کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے آزاد ومنصفانہ انتخابات کرانے کے لیے اپنے تمام اختیارات کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ اس نے ایک غیر جانب دارانہ اور منصفانہ طریقے سے عمل کیا تا کہ انتخابی عمل کے تقدس کا تحفظ کیا جاسکے۔ انتخابی کمیشن کاریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ اداروں کے کام کاج میں ہراصلاح کے لئے قانونی یا آئینی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب بڑے پیمانے پر اس بات سے اتفاق کیاجاتا ہے کہ انتخابی کمیشن زیادہ آزاد وخود مختار ہے جتنا کہ یہ بیس سال پہلے تھا۔ یہ اس وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا کہ آئین نے انتخابی کمیشن کے اختیارات کے تحفظ میں اضافہ کردیا ہے بلکہ اس لیے کہ انتخابی کمیشن نے آئین سے حاصل شدہ اختیارات کو زیادہ موثر طریقہ سے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
            1951-52 سے اب تک لوک سبھا کے سترہ انتخابات منعقد ہوئے ہیں اور اس سے بھی زیادہ ریاستی مجلس قانون ساز کے انتخابات اورضمنی انتخابات کا انتخابی کمیشن نے انعقاد کیا۔انتخابی کمیشن کو بہت سی مشکل صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑا جیسے دہشت پسندی سے متاثر ریاستیں مثلاً آسام، پنجاب یاجموںوکشمیر۔ اس کمیشن نے وہ مشکل ترین صورتِ حال بھی دیکھی جب سابقہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کی انتخابی مہم کے دوران ان کے قتل کی وجہ سے1991میں انتخابات کو درمیان میں ہی روکنا پڑا۔2002میں انتخابی کمیشن کو ایک اور تنقیدی صورت حال سے گزرنا پڑا جب گجرات مجلس قانون سازکو اچانک تحلیل کر دیا گیا اور انتخابات کا انعقاد کرنا پڑا۔انتخابی کمیشن نے پایا کہ اب تک کے غیر معمولی تشدد کی وجہ سے وہاں فوراً آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے اور کچھ مہینوں کےلیے ان انتخابات کو ملتوی کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن  کے اس فیصلہ کو بر قرار رکھا۔

            ایک کارٹون پڑھئے

            pic 10 chapter 3
            خبردار! انتخاب جیتنا اب مشکل ہوجائے گا۔ ہمیں نئے حالات کا سامنا کرنا ہوگا جیسے ضابطہ اخلاق ، آزاد اور منصفانہ پولنگ،

            کیا ایسے امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جانا چاہیے جوسنگین جرم میں ملوث ہو ؟

            اپنی معلومات چیک کیجیے

            آپ کا کیا خیال ہے،ا نتخابی کمیشن کے پاس درج ذیل اختیارات اورسہولیات ہیں؟ اگر یہ نہ ہوتیں تو کیا ہوتا؟
            کمیشن سرکاری ملازمین کو کوئی بھی حکم جاری کر سکتا ہے جو انتخابات سےمتعلق ڈیوٹی پر لگے ہوں۔
            حکومت چیف انتخابی کمشنر کو بر طرف نہیں کر سکتی۔
             اگر انتخاب کمیشن کے خیال میں درست اور منصفانہ نہ ہوں تو کمیشن کسی انتخاب کو ردکرسکتا ہے ۔
            pic 11 chapter 3
            کیا ہم قانون میں تبدیلی کے ذریعہ، پیسہ اور غنڈہ گردی کے اثرکو کم کرسکتے ہیں؟ کیا قانون بدلنے سے حقیقت میں کوئی تبدیلی آتی ہے؟

            انتخابی اصلاحات

            کوئی بھی انتخابی نظام خامیوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔ اصلی انتخابی عمل میں،بہت سی خامیاں اور بندشیں ہوتی ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کو،انتخابات زیادہ سے زیادہ آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لیے لگاتاربہترسے بہتر طریقوں کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ حق رائے دہی بالغان انتخاب میں حصہ لینے کی آزادی اور ایک آزاد انتخابی کمیشن کی قبولیت کی وجہ سے ہندوستان نے اپنے انتخابی عمل کو آزاد اورمنصفانہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ البتہ، گذشتہ پچاس سالوں کے تجربے نے ہمارے انتخابی نظام میں اصلاحات کےلیے بہت سی تجاویز دی ہیں۔ انتخابی کمیشن، سیاسی جماعتوں، بہت سے آزاد گروپوں اور بے شمار دانشوروں نے انتخا بی اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں سے کچھ آئینی دفعات میں تبدیلی سے متعلق ہیں جن پر اس باب میں بحث کی گئی۔

            ہمیںFPTPکا نظام انتخاب تبدیل کرکے PRنظام جیسا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس سے سیاسی جماعتوں کو جہاں تک ممکن ہوسکے گا،حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب سے زیادہ نشستیں مل سکیں گی۔
            ایک خاص دفعہ ہونی چاہیے جو یہ یقینی بنائے کہ کم ازکم ایک تہائی خواتین پارلیمنٹ اور ریاستی مجالس قانون ساز کی ممبر بنیں۔
            مزید سخت دفعات ہونی چاہئیں تاکہ انتخابی سیاست میں پیسہ کے رول کو کنٹرول کیا جاسکے۔ انتخابات کا کل خرچہ، ایک خصوصی فنڈ سے حکومت خود ادا کرے۔
            فوجداری معامالات میں ملوث امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکاجائے خواہ ان کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہو۔
            ◊      انتخابی مہم کے دوران مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی اپیلوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
            ◊  ایک قانون سیاسی جماعتوں کے کام کاج کو باضابطہ بنانے کے لیے ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ شفاف اور جمہوری طریقہ سے کام کریں۔


            ایک کارٹون پڑھیے

            pic 12 chapter 3


            اپنی پرانی عادت چھوڑو اور کیمرے کا سامنا کرو! یاد رکھو تمہیں نامزد کیا گیا ہے اور اب تم انتخاب کےلیے کھڑے ہوئے ہو!
            کیا ایسے امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جانا چاہیے جو سنگین جرم میں ملوث ہو؟
             
            یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ان تجاویز پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ اگر اتفاق رائے ہوبھی، تب بھی قانون اور دفعات کیا کر سکتی ہیں ان پر بندشیں ہیں۔اگر امیدوار سیاسی جماعتیں اور جو لوگ انتخابی عمل میں شامل ہیں یہ تہیہ اور اتفاق کر لیں کہ وہ جمہوری مقابلہ کے اصولوں کی تعمیل کریں گے تو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔
            قانونی اصلاحات کے علاوہ، دو اور طریقے ہیں جن کے ذریعہ عوام کی توقعات اور آرزوؤں کو انتخابات کے ذریعہ منعکس کیا جاسکتا ہے۔اول یقینا یہ ہے کہ عوام خودہوشیار رہیں، سیاسی سر گرمیوں میں گرمجوشی دکھائیں۔ لیکن عوام مستقل طور پر کہاں تک سیاست میں شامل ہوسکتے ہیں اس کی بھی کچھ حد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مختلف سیاسی اداروں اور رضاکارانہ تنظیموں کو فروغ دیا جائے تاکہ وہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے میں پہرہ دار کی حیثیت سے کام کریں۔

            اختتام

            جن ممالک میں نمائندہ جمہوریت پر عمل ہوتا ہے وہاں جمہوریت کو موثر اور قابلَ اعتماد بنانے میں انتخابات اور ان کے نمائندہ کرداروں کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ہندوستان کے انتخابی نظام کی کامیابی کو کئی طریقوں سے پرکھا جاسکتا ہے۔
            ◊   ہمارے انتخابی نظام نے رائے د ہندگان کو آزادی کے ساتھ اپنے نمائندہ چننے کی آزادی دی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ریاستی اور مرکزی سطح کی حکومتوں کو پُرامن طریقہ سے یکسرتبدیل کرنے کی آزادی بھی دی ہے۔
            دوسرے رائے دہندگان نے انتخابات کے عمل میں مستقل گہری دل چسپی دکھائی ہے اور اس میں حصہ بھی لیا ہے۔ انتخابات میں امیدواروں اوررائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
            ◊  تیسرے انتخابی نظام نے ہم آہنگی اور شمولیت کا ثبوت دیا ہے۔ ہمارے نمائندوں کے معاشرتی پس منظر میں بھی آہستہ آہستہ تبدیل آئی ہے۔ اب ہمارے نمائندے مختلف معاشرتی طبقوں سے آتے ہیں لیکن خواتین قانون سازوں کی تعداد میں اطمینان بخش اضافہ ہوا ہے۔
            ◊  چوتھے، ملک کے زیادہ تر حصّے انتخابات کے نتائج، انتخابی دھاندلیوں اور دھوکہ دہی کااظہار نہیں کرتے۔ یقیناً دھوکہ دہی کے بہت سے واقعات ہوتے ہیں۔آپ نے انتخاب کے دوران تشددّ اور رائے دہندگان کا فہرستوں سے نام غائب ہونے سے متعلق شکایتوں اور دھمکیوں کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ پھر بھی انتخاب کے نتائج پر ان کا اثر کم ہوتا ہے۔
            ◊  آخری اہم بات یہ ہے کہ انتخا بات ہماری جمہوری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں کوئی ایسی صورت حال کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی حکومت نے عوام کے فیصلہ کا احترام نہ کیا ہو۔اسی طرح کوئی یہ بھی تصور نہیں کر سکتا کہ انتخابات کے بغیر کوئی حکومت بن سکتی ہے۔ حقیقت میں،انتخابات کی پابندی اور میعاد نے ہندوستان کےلیے ایک عظیم جمہوری تجربہ کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔
            ان تمام عناصر نے ہمارے انتخابی نظام کے لیے  ملک کے اندر اور باہر عزت حاصل کی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان کو اعتماد حاصل ہوگیا ہے۔ عوام کی نگاہوں میں انتخابی کمیشن کا جواز بڑھ گیا ہے۔ یہ ہمارے آئین سازوں کے ذریعہ لیے گئے فیصلوں کو مثالی ثابت کرتا ہے۔ اگر انتخابی نظام خرابیوں سے مزید پاک ہوجائے تو ہم بحیثیت رائے دہندگان اور شہری جمہوریت کے اس کارواں میں زیادہ موثر طریقہ سے حصہ لے سکیں گے اور اس کو زیادہ  بامعنی بناسکیں گے۔

            مشق

            درج ذیل میں سے کون سا بیان، براہ راست جمہوریت سے ملتا ہے؟

            (a) ایک خاندانی میٹنگ میں بحث

            (b)   کلاس مانیٹر کا انتخاب
            (c)   کسی سیاسی جماعت کے ذریعہ امیدوار کی پسند
            (d) گرام سبھا کے ذریعہ لیے گئے فیصلے
            (e)      میڈیا کے ذریعہ کیے گئے انتخابی سروے
            درج ذیل میں سے کون سے کام ،ا نتخابی کمیشن کے نہیں ہیں:۔
            (a)   انتخابی فہرستیں تیار کرنا
              (b)    امیدواروں کو نامزد کرنا
            (c)      پولنگ بوتھ قائم کرنا
            (d)   ضابطہ اخلاق نافذ کرنا
              (e)      پنچایت انتخابات کی نگرانی
            درج ذیل میں سے کون سا طریقہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبران کے انتخاب میں یکساں ہے؟
            (a)      اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کا ہر شہری ووٹ دینے کا اہل ہے۔
            (b)    رائے دہندہ امیدواروں کو ترجیح کے اعتبار سے نشان لگا سکتا ہے۔
            (c)    ہر ووٹ کی برابر اہمیت ہے۔
            (d)    جیتنے والے امیدوار کو نصف سے زیادہ ووٹ حاصل ہونے چاہئیں۔
            FPTPمیں وہی امیدوار کامیاب قرار دیا جاتا ہے، جو
            (a)   ڈاک سے ملنے والے ووٹوں میں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہوں۔
            (b)    اس جماعت سے تعلق رکھتا ہے جس کو ملک میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے۔
            (c)    انتخابی حلقہ میں کسی دوسرے امیدوار کے مقابلہ میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں۔
            (d)   پچاس فیصدسے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والوں میں پہلا نمبر حاصل ہوا ہو۔
            انتخابی حلقوں کے ریزرویشن نظام اور علاحدہ رائے دہند گان کے نظام میں کیا فرق ہے؟آئین سازوں نے دوسرے طریقہ کو کیوں نا منظور کیا؟
            6 ۔ درج ذیل میں کون سے بیانات غلط ہیں؟ پہچانیے اور ان کو درست کیجیے اضافہ کیجیے۔ یاان کے الفاظ اور محاوروں کو دوبارہ ترتیب دیجیے۔
               (FPTP    (a نظام ہندوستان میں تمام انتخابات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
            (b) پنچایت اور میونسپل انتخابات کی نگرانی انتخابی کمیشن نہیں کرتا۔
            (c)  صدر جمہوریہ انتخابی کمشنر کو اس کے عہدہ سے برطرف نہیں کر سکتا۔
               (d)        انتخابی کمیشن میں ایک سے زیادہ انتخابی کمشنر کا تقرر اختیاری ہے۔
            ہندوستانی ا نتخابی نظام کا مقصد معاشرتی طور پر محروم طبقات کو نمائندگی دلانا ہے اگر چہ ابھی تک ہماری مجالس قانون ساز میں دس فیصد خواتین بھی نہیں آسکی ہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے آپ کیا طریقے تجویز کریں گے؟
            ایک نئے ملک کے لیے آئین پر منعقدہ کانفرنس میں بحث کے دوران کچھ خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ ذیل میں ان میں سے کچھ درج ہیں۔ ان میں سے ہرایک کے سامنے لکھیے کہ ان کے لیےFPTPنظام درست ہے یاPRنظام بہتر ہے۔
            (a) عوام کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ کون ہے تاکہ وہ ذاتی طور پر اس کو جواب دہ بنا سکیں۔
            (b) ہمارے یہاں چھوٹی چھوٹی لسانی اقلیتیں ہیں جو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ہمیں ان کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
            (c) مختلف جماعتوں اور ووٹوں کے درمیان عدم توازن نہیں ہونا چاہیے۔
            (d)  عوام کو ایک اچھا امیدوار منتخب کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ خواہ  وہ اس کی جماعت کو پسند کریں یا نہ کریں۔
            ایک سابقہ چیف انتخابی کمشنر نے ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی اور انتخاب لڑا۔ اس موضوع پر مختلف رائے ظاہر کی گئیں۔ چیف انتخابی کمشنر ایک آزاد شہری ہے اس کو کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے۔دوسرا نظر یہ یہ ہے کہ اس وجہ سے انتخابی کمشنر کی غیر جا نب داری پر اثر پڑتا ہے۔ لہٰذاسابق انتخابی کمشنر کوانتخاب میں کھڑا ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔آپ کس رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور کیوں؟
            10 ۔ ’’ ہندوستانی جمہوریت اب ایک خام FPTPانتظام سے متناسب نمائندگی(PR)کی طرف تبدیل ہونے کے لئے تیار ہے،‘‘ کیا آٖپ اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں؟ اس کی حمایت یا مخالفت میں دلیلیں دیجیے۔