Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب 4

مجلس عاملہ

تمہید

مجلسِ قانون ساز، مجلسِ عاملہ اور عدلیہ، حکومت کے تین بازویاعضو(آرگن) ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تینوں حکومت کاکام انجام دیتے ہیں اور امن و امان قائم کرنے اور عوام کی فلاح کےلیے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ آئین اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ تینوں اعضا ایک دوسرے کے ساتھ تال میل  اور باہمی توازن قائم رکھیں۔ پارلیمانی نظام میں مجلس عاملہ اور مجلس قانون سازایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ مجلس قانون ساز عاملہ کو کنٹرول کرتی ہے تو دوسری جانب عاملہ بھی اس پر کنٹرول کرتی ہے۔ اس باب میں ہم عاملہ کی تشکیل، ڈھانچہ اور ذمہ داریوں پر بحث کریں گے۔ اس باب میں آپ کو یہ علم بھی ہوسکے گا کہ وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جو سیاسی مشق کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں۔ اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جاننے کے قابل ہوسکیں گے :
  • پارلیمانی اور صدارتی عاملہ کے درمیان امتیاز کرنا۔
  • صدر جمہوریہ کی آئینی حیثیت کو سمجھنا۔
  • وزراء کونسل کی تشکیل اور کام، اور وزیراعظم کی اہمیت سے واقف ہونا اورانتظامی مشینری کے کام اور اہمیت کو سمجھنا۔

عاملہ کیا ہے؟

آپ کی اسکول انتظامیہ کا نگراں کون ہے؟ اسکول یا یونیورسٹی میں اہم فیصلے کون لیتا ہے کسی بھی تنظیم میں کسی ایک عہدیدار کو فیصلے لینے ہوتے ہیں اور ان کو نافذ کرنا ہوتا ہے۔ اس سرگرمی کو ہم انتظام یا مینجمنٹ کہتے ہیں۔ لیکن انتظامیہ کے لیے سب سے اعلیٰ مقام پر ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے جو حکمت عملی (پالیسی) سے متعلق فیصلے کرے گی یا اہم فیصلے کرے گی اور روزمرّہ کے کاموں کی نگرانی رکھے گی۔ وہ باہمی تال میل بھی قائم کرے گی۔ ہر باضابطہ گروپ یا جماعت، ایسے اشخاص پر مشتمل ہوتی ہے جو خاص منتظمین کی ذمہ داری نبھاتے ہیں یا اس تنظیم کی عاملہ کا کام انجام دیتے ہیں۔ بعض عہدیدار حکمت عملی ، اصول اور طریقے طے کرتے ہیں اور دوسرے عہدیدار اس پر روزمرّہ کے کاموں کی شکل میں ان پر عمل کرتے ہیں۔ ’’عاملہ‘‘ لفظ کے معنی ہیں: ’افراد کی ایک جماعت‘ جو اصولوں اور طریقوں کو حقیقی شکل میں نافذ کرنے کی نگرانی کرتی ہے۔
 جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، وہاں بھی ایک جماعت حکمت عملی کے فیصلے لیتی ہے، اصولوں اور طریقوں کو طے کرتی ہے جبکہ دوسری جماعت ان کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔ حکومت کا وہ عضو جو نفاذ اور انتظام کی نگرانی کرتا ہے عاملہ کہلاتا ہے۔
عاملہ کے خاص کام کیا ہیں؟ عاملہ حکومت کی وہ شاخ ہے جو مجلسِ قانون ساز کے ذریعہ بنائے گئے، قوانین اور حکمت عملیوں کو نافذ کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اکثرعاملہ بھی حکمت عملی تیار کرنے کے کام میں شامل ہوتی ہے۔ عاملہ کے عہدے اور رتبے، ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوتے ہیں۔ بعض ممالک میں صدر ہوتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک میں چانسلر۔عاملہ،محض صدر،وزیراعظم یا وزراء کی جماعت نہیں ہے۔ اس کا دائرہ انتظامی مشینری (سول سرونٹس) تک پھیلا ہوا ہے۔ سربراہان حکومت اور ان کے وزیر مجموعی طور پر حکمت عملی کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتے ہیں ان کو بحیثیت مجموعی سیاسی عاملہ(Political Executive) کہا جاتا ہے۔ وہ عہدیدار جو روزمرّہ کے انتظام کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں،مستقل عاملہ کہلاتے ہیں۔

pic1 chapter 4
مجھے یاد ہے میں نے کسی کو کہتے سُنا کہ جمہوریت میں عاملہ لوگوں کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ کیا ایسا بڑی کمپنیوں کی عاملہ کے بارے میں بھی سچ ہے؟ کیا ان کو  CEOS نہیں کہا جاتا؟ وہ کس کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں؟

عاملہ کی مختلف قسمیں کون کون سی ہیں؟

ہر ملک کی عاملہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ آپ نے امریکہ کے صدر اور انگلینڈ کی ملکہ کے متعلق سُنا ہوگا۔ امریکہ کے صدر اور ہندوستان کے صدر جمہوریہ کے اختیارات و فرائض، ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔اسی طرح ملکہ انگلستان اور شاہ نیپال کے اختیارات ایک دوسرے سے جُدا ہیں۔ ہندوستان اور فرانس، دونوں کے وزیر ِ اعظم ہوتے ہیں، لیکن دونوں کے رول ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ 

سرگرمی

سارک ممالک کی سربراہ کانفرنس یا G-8 ممالک کی میٹنگ کا فوٹو حاصل کیجیے اور ان لوگوں کی فہرست بنائیے جنہوں نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں نے میٹنگ میں شرکت کیوں کی، دوسرے لوگوں نے کیوں نہیں کی؟
اس سوال کا جواب دینے کےلیے ہم مختصر طور پر بعض ممالک میں موجود عاملہ کی نوعیت کا خاکہ پیش کریں گے۔ امریکہ میں صدارتی نظام ہے اور تمام 
انتظامی اختیارات صدر کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ ساتھ آئینی بادشاہت ہے جس کی باقاعدہ سربراہ مملکت ملکہ ایلزبتھ دوئم ہیں اور حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہے۔ فرانس میں نیم صدارتی طرز حکومت ہے جس میں وزیراعظم اور وزراء کا تقرر وہاں کا صدر کرتا ہے۔ لیکن ان کو عہدے سے ہٹا نہیں سکتا کیوں کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ جاپان میں پارلیمانی نظام ہے جہاں صدر، مملکت کا باقاعدہ سربراہ ہوتا ہے۔ لیکن حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہے۔ اٹلی میں پارلیمانی نظام ہے جہاںمملکت کا باقاعدہ سربراہ صدر مملکت ہے لیکن وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہے۔ روس میں، نیم صدارتی حکومت ہے جہاں مملکت کا سربراہ صدر اور اس کے ذریعہ مقرر کردہ وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ جرمنی میں پارلیمانی نظام حکومت ہے جس میں مملکت کا سربراہ صدر برائے نام حیثیت رکھتا ہے جبکہ حکومت کا سربراہ چانسلر ہوتا ہے۔

عاملہ کی قسمیں
 انفرادی قیادت پر مبنی نظام  اجتماعی قیادت کے اصولوں پر مبنی نظام
پارلیمانی نظام
حکومت کا سربراہ عام طور پر وزیر اعظم ہوتا ہے۔
وہ مجلسِ قانون ساز میں اکثریتی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے۔
وہ مجلسِ قانون ساز کے تئیں جواب دہ ہوتا ہے۔
مملکت کا سربراہ بھی ہو سکتا ہے:

بادشاہ

آئینی بادشاہت

صدر         برائے نام عاملہ         
 پارلیمانی جمہوریہ

نیم صدارتی نظام
مملکت کا سربراہ صدر ہوتا ہے۔
حکومت کا سربراہ  وزیر اعظم ہوتا ہے۔
دونوں کا براہ راست انتخاب ہوتا ہے۔
وزیراعظم اور اس کی کونسل، مجلسِ قانون ساز کے تئین جواب دہ ہوتے ہیں۔
صدارتی
مملکت کاسربراہ صدرہوتاہے۔
حکومت کاسربراہ بھی صدر ہوتا ہے۔
عام طورپر صدرکاانتخاب عوام کے ذریعے براہ راست ہوتاہے وہ مجلسِ قانون ساز کے سامنے جواب دہ ہوتاہے۔



صدارتی نظام میں صدر ملک کا بھی سربرا ہ ہوتا ہے اور حکومت کا بھی۔اس نظام میں صدر کا دفتر بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اصولاً بھی اور عملاً بھی۔اس طرح کے نظامِ حکومت میں امریکہ، برازیل اور متعددلاطینی امریکہ کے ممالک شامل ہیں۔

سری لنکا میں نیم صدارتی عاملہ

1978میں سری لنکا کے آئین میں ترمیم کی گئی اور صدارتی عاملہ کا نظام شروع کیا گیا۔ اس کے تحت، عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت سے ہویا پھر دو مختلف جماعتوں سے۔
آئین کے تحت صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ جس جماعت (پارٹی) کوپارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوتی ہے اس سے وزیراعظم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ وزرا کو بھی پارلیمنٹ کا رکن ہونا چاہیے لیکن صدروزیراعظم یا کسی وزیرکو اس کے عہدہ سے برخاست کر سکتا ہے۔ مملکت کا صدر اور تمام فوجوں کا سربراہ ہونے کے علاوہ صدر حکومت کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔
چھ سال کے لیے منتخب صدرِ مملکت کو اس کے عہدہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا سوائے رزولیشن کے ذریعہ، جس کو پارلیمنٹ نے دو تہائی اکشریت سے منظور کیا ہو۔ اگر پارلیمنٹ کے نصف سے بھی کم ممبران اس کو منظور نہ کریں اور اسپیکر کو یہ اطمینان ہو کہ الزامات کی تحقیق کرائی جائے تواسپیکر اس معاملہ کی رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیج سکتا ہے۔
سری لنکا کے صدر اور وزیراعظم کی حیثیت ہندوستان سے کتنی مختلف ہے؟ ہندوستان اور سری لنکا میں صدر  مملکت پر مقدمہ سازی کا باہمی مواز نہ کیجیے۔

پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر پارلیمانی نظام حکومت میں مملکت کا سربراہ خواہ وہ صدر ہویا بادشاہ برائے نام سربراہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں صدر یابادشاہ کی حیثیت رسمی ہوتی ہے، جبکہ حقیقی اختیارات کا مالک وزیراعظم اور اسکی کابینہ ہوتی ہے، اس طرح کا نظام حکومت جرمنی، اٹلی، جاپان، انگلینڈ اور پرتگال میں رائج ہے۔ ایک نیم صدارتی نظام حکومت میں روزمرّہ کے تمام اختیارات صدر اور وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں جو پارلیمانی نظام سے قطعی مختلف ہے۔ اس نظام میں یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات صدر اور وزیراعظم کا تعلق ایک ہی پارٹی یا جماعت سے ہو۔ بعض اوقات دونوں کا تعلق علاحدہ جماعتوں سے بھی ہو سکتا ہے، جو ایک دوسرے کی مخالف ہو سکتی ہیں۔ اس طرح کا نظام حکومت فرانس، روس، سری لنکا وغیرہ میں رائج ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے :

نِہا : یہ واقعی بہت آسان ہے۔ جس ملک میں صدر ہوتا ہے وہاں صدارتی عاملہ ہے، جس ملک میں وزیراعظم ہوتا ہے وہاں پارلیمانی عاملہ ہے۔
آپ نِہا کو کیسے سمجھائیں گے کہ ہر ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔

pic 3 chapter 4
کیا ہمارے وزرائے اعظم بہت مضبوط نہیں تھے؟ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ پارلیمانی نظام بھی شخصی پرستش کی خامی سے محفوظ نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ عوام اور مجلس قانون ساز کو مستقل ہو شیار خبردار رہنا چاہیے۔

ہندوستان میں پارلیمانی عاملہ

جب آئین ہند تحریر کیا گیا تو ہندوستان کو، 1919 اور1935کے ایکٹ کے تحت پارلیمانی نظام چلانے کا کافی تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔ اس تجربہ نے یہ واضح کر دیاتھا کہ پارلیمانی نظام میں عوام کے نمائندے عاملہ کو بہتر طریقہ سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ آئین ساز ایک ایسی حکومت بنانا چاہتے تھے جو عوام کی توقعات کے تئیں سنجیدہ ہو اور ذمہ دار وجواب دہ بھی ہو۔پارلیمانی عاملہ کا دوسرا نعم البدل صدارتی نظام حکومت تھا۔ لیکن صدارتی نظام حکومت، صدر کے عہدہ پر بحیثیت سربراہ مملکت بہت زیادہ زور دیتا ہے اور تمام اختیارات کا ماخذ ہوتا ہے۔ صدارتی عاملہ میں ہمیشہ شخصیت پرستش کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ ہندوستانی آئین ساز ایک پارلیمانی عاملہ چاہتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس شخصیت– پرستش کومتوازن رکھنے اور چیک کرنے کے لیے کافی انتظامات بھی موجود ہونے چاہئیں۔ پارلیمانی نظام میں ایسے بہت سے طریقے ہوتے ہیں جو عاملہ کو مجلس قانون ساز یا عوام کے نمائندگان کے تئیں جواب دہ بناتے ہیں اوران پر کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ اس لیے آئین نے قومی اور ریاستی دونوں سطح پر عاملہ کا پارلیمانی نظام اختیار کیا۔
اس نظام کے مطابق ایک صدر مملکت ہوتا ہے جو حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم اور اس کے وزراء کی کونسل قومی سطح پر حکومت چلاتے ہیں۔ ریاستی سطح پر عاملہ میں گورنر، وزیراعلیٰ اور اس کے وزراء کی کونسل شامل ہوتی ہے۔
آئین ہندمرکزی عاملہ کے تمام اختیارات باقاعدہ طور پر صدر مملکت کو عطا کرتا ہے جبکہ حقیقت میں ان اختیارات کا استعمال وزیراعظم اور اس کے وزراء کی کونسل کے ذریعہ ہوتا ہے۔ صدر کا انتخاب پانچ سال کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ عام شہری صدر کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ منتخب ایم ایل اے اور ممبران پارلیمنٹ کرتے ہیں۔ اس کا انتخاب کا طریقہ ہے : قابل منتقلی ووٹ کے ساتھ ساتھ متناسب نمائندگی(Proportional Representation with Transferable Vote)۔
 صدر کو اس کے عہدے سے پالیمنٹ مقدمہ کے ایک مخصوص طریقہ سے ہٹا سکتی ہے اس عمل کےلیے ایک مخصوص اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جس کا ذکر آخری باب میں کیا جائے گا۔ مقدمہ کی صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے اور وہ ہے آئین کی خلاف ورزی۔

صدرکے اختیاراورحیثیت

دفعہ (1)74 : وزراء کی ایک کونسل جس کا سربراہ وزیراعظم ہوگا صدر جمہوریہ کی معاون ومشیر ہوگی جبکہ صدر جمہوریہ اپنے کارہائے منصبی انجام دیتے وقت اس کے مشورہ کے مطابق عمل کریں گے۔
 صدر وزیروں کی کونسل کو اپنے مشورہ پر خواہ عام طور پر یادیگر طور پر دوبارہ غور کرنے کو کہہ سکے گا اور صدر اس طرح دوبارہ غور کرنے کے بعد پیش کیےگئے مشورے کے مطابق کارروائی کرے گا۔

کیا آپ کو علم ہے کہ یہاں ’’ کرے گا‘‘ کے معنی کیا ہیں؟ یہ اس بات کی نشاند ہی کرتا ہے کہ صدر مشورہ کا پابند نہیں ہے۔ صدر کے اختیارات کے دائرہ سے متعلق تنازعہ کے مدِّنظر آئین میں ترمیم کے ذریعہ ایک خاص شق کو شامل کیا گیا کہ صدر وزراء کی کونسل کے مشورہ کا پابند ہوگا۔ بعد میں اور ترمیم کی گئی جس کے ذریعہ یہ طے کیا گیا کہ صدر، وزراء کی کونسل سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے مشورہ پر دوبارہ غور کرے ۔ پھر بھی وہ اس غورکردہ مشورہ کو قبول کرے گا۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ صدر حکومت کا باقاعدہ سربراہ ہوتا ہے۔باقاعدہ کے معنی ہیں کہ صدر کے پاس وسیع تر عاملہ قانون نیز، عدالتی اور ایمرجنسی اختیارات ہوتے ہیں۔ پارلیمانی نظام حکومت میں ان اختیارات کا استعمال صدر وزراء کی کونسل کے مشورہ پر کرتا ہے۔ وزیراعظم اور اس کے وزراء کی کونسل کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہوتی ہے اور وہی حقیقی عاملہ ہے۔ زیادہ تر معاملات میں صدر کووزراء کی کونسل کے مشورہ پر عمل کرنا ہوتا ہے۔


pic 4 chapter 4
ہم نے ان کو کوئی حقیقی اختیار نہیں دیا لیکن ان کی حیثیت کو بااختیار اور پرُوقار بنایا ہے۔ آئین ایک ایسی عاملہ تخلیق کرنا چاہتا تھا جو نہ تو حقیقی عاملہ ہو اور نہ برائے نام سربراہ بلکہ ایسا سربراہ جو نہ حکم چلاتا ہے اور نہ حکومت کرتا ہے بلکہ ایک عظیم رسمی سربراہ کی صورت میں ہوتا ہے۔
جواہر لعل نہرو
CAD, VOL.VI, P.734

صدر کے امتیازی اختیارات

مندرجہ بالا بحث کی بنا پر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیںکہ کسی بھی صورتِ حال میں، صدر کے پاس امتیازی اختیارات نہیں ہیں؟ یہ اندازہ غلط ہوگا۔ آئین کے مطابق صدر کو یہ حق حاصل ہے کہ تمام اہم معاملات اور وزراء کی کونسل کے اہم فیصلوں کے بارے میں اس کو باخبر رکھا جائے۔ صدر کے ذریعہ مطلوبہ اطلاعات فراہم کرنا وزیراعظم کےلیے لازمی ہوگا۔ بعض اوقات صدر وزیراعظم کو خط لکھتا ہے اور ملک کو درپیش مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

اس کے علاوہ وہ تقریباً تین قسم کی ایسی صورتِ حال ہوتی ہیں جن میں صدر اپنی مرضی سے اختیارات کا استعمال کر سکتا ہے۔ پہلی حالت میں ہم پہلے ہی غور کر چکے ہیں کہ صدر وزراء کی کونسل کے مشورہ کو نظرثانی کے لئے واپس بھیج سکتا ہے تاکہ کونسل اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرسکے۔ ایسے عمل میں صدر خود اپنی مرضی سے قدم اٹھاتا ہے۔ اگر صدر یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مشورہ میں کوئی قانونی کمی یا نقص ہے یا وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، تو صدر اس مشورہ کو واپس بھیج سکتا ہے، تاکہ اس پر نظر ِ ثانی کی جاسکے۔ اگرچہ وزراء کی کونسل وہی مشورہ اور فیصلہ دوبارہ بھیج سکتی ہے تب صدر اس مشورہ کا پابند ہوگا۔صدر کے ذریعہ ایسی کوئی درخواست بہت معنی رکھتی ہے جس میں کسی مسئلہ پرنظرثانی کےلیے کہا گیا ہو۔ اس معنی میں صدر ایک اہم امتیازی اختیار کا استعمال اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہے۔
pic 5 chapter 4
میں صرف برائے نام صدر ہوں یا میں ایک درست سوال پوچھ رہا ہوں؟ کیا نصابی کتاب تحریر کرنے والے  ہر سوال کرنے کا اختیار دیتے ہیں یا میں  وہی سوال پوچھوں جو ان کے ذہن میں ہیں؟

دوسرے یہ کہ صدر کے پاس ویٹو کا اختیار بھی ہے جس کی بنا پر وہ کوئی بل روک سکتا ہے یا نامنظور کر سکتا ہے (سوائے  اس مالی بل کے) جس کو پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہو۔پارلیمنٹ سے منظورشدہ ہر بل قطعی منظوری کےلیے صدر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ اور اس کی منظوری ملنے پر ہی قانون کی شکل اختیار کرتا ہے۔  صدر اس بل کو دوبارہ غور کرنے کےلیے واپس بھیج سکتا ہے۔ ویٹو کا یہ اختیار بہت محدود ہوتا ہے کیوں کہ اگر پارلیمنٹ اس بل کو منظور کرلیتی ہے تب صدر کو اپنی منظوری دینا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود آئین میں  وقت کی حد کا کوئی ذکر نہیں ہے جس عرصہ میں صدر کو اس بل کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صدر جب تک چاہے اس بل کو اپنے پاس روکے رکھ سکتا ہے۔ اس طرح صدر ایک مؤثر طریقہ سے ویٹو کا استعمال کر سکتا ہے جس کو بعض اوقات ’’پاکٹ ویٹو‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ صدر کو کسی بل کو منظوری دینے کے لیے، وقت کی کوئی پابندی نہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ ایسا پہلے ہوچکا ہے؟ 1986میں، پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا جس کا عنوان تھا، ہندوستانی ڈاک خانہ (ترمیم) بل۔اس بل پر بہت تنقیدہوئی کیوں کہ اس سے آزادی ٔ پریس کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔اس وقت تو دوسرے صدر، آر۔وینکٹ رمن نے بالآخر اس بل کو نظرثانی کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج دیا۔جو حکومت اس بل کو منظور کرانا چاہتی تھی، اس وقت تک بدل گئی اور 1989میں نئی حکومت اقتدار میں آگئی۔یہ حکومت ایک مختلف قسم کی مخلوط حکومت تھی اور اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں نہیں لائی۔گویا، گیانی ذیل سنگھ کے ذریعہ اس بل کو منظوری نہ دینے کی وجہ سے، یہ بل کبھی قانون نہ بن سکا۔
pic 6 chapter 4
صدر کے متعلق بحثیت محترم یا محترمہ بات کرنا بہت اچھا ہے، لیکن کیا کبھی کوئی عورت صدر ہوئی ہے؟

 تیسرے قسم کا اختیارِتمیزی سیاسی صورت حال سے اُبھرتا ہے۔ اصولاً  وزیراعظم کا تقرر صدر جمہوریہ کرتا ہے۔ عام طور پر پارلیمانی نظام میں سربراہ وہ ہوتا ہے جس کو لوک سبھا میں اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔ اسی شخص کا تقرر وزیراعظم کے عہدہ پر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا امتیازی اختیار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن تصور کیجیے انتخابات کے بعد ایک ایسی صورتِ حال کا جس میں کسی سربراہ کو اکثریت حاصل نہ ہو۔ مزید تصور کیجیے کہ سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوششوں کے بعد بھی دو یا تین سربراہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو ایوان میں اکثریت حاصل ہے۔ اب صدر کو طے کرنا ہے کہ کس شخص کا بحیثیت وزیراعظم تقرر کرے۔ ایسی صورت حال میں صدر کو اپنے امتیازی اختیارات کا استعمال کرنا لازمی ہو جاتا ہے تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے کہ کس شخص کو واقعی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، کون حکومت کی تشکیل کر سکتا ہے اور حکومت چلا سکتا ہے۔
1989 سے پیش آنے والی اہم سیاسی تبدیلیوں نے صدارتی عہدہ کی اہمیت کو بڑھاوا دیا ہے 1989 سے 1998 تک ہونے والے چار پارلیمانی انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت نے لوک سبھا میں اکثریت حاصل نہیں کی۔ ان حالات میں صدراتی دخل اندازی کی ضرورت پیش آئی۔ حکومت کی تشکیل کے لیے جو وزیراعظم ایوان میں اکثریت حاصل نہیں کرسکا اس کی درخواست پر ایوان کو تحلیل کردیا گیا۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ صدراتی امتیازی اختیارات کا تعلق سیاسی حالات سے ہے۔ جب حکومتیں مضبوطی حاصل نہیں کرپاتیں اور مخلوط حکومتیں اقتدار پر قابض ہو جاتی ہیں، توصدراتی اختیارات کے استعمال کی اہمیت اور دائرہ بڑھ جاتا ہے۔

وزیراعظم کے انتخاب میں در کار کردار

1977 کے بعد ہندوستان کی سیاست بہت مقابلہ جاتی نوعیت کی ہوگئی۔ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب کسی بھی سیاسی جماعت کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ایسے حالات میں صدرکیا کرتاہے؟ مارچ 1998 میں ہونے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی اتحاد کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔بھارتیہ جنتاپارٹی اور اس کی حامی جماعتوں کو 251سیٹیں حاصل ہوئیں جو اکثریت سے 21کم تھیں۔صدر نارائن نے ایک واضح طریقہ اختیار کیا۔انہوں نے اتحاد کے قائد اٹل بہاری واجپئی سے پوچھا کہ کیا وہ ’’ایسی مضبو ط حکومت بنانے کے خواہاں ہیں جو ایوان کا اعتماد حاصل کرسکے؟ ’’انہوں نے واجپئی سے یہ بھی پوچھا کہ وہ ’’متعلقہ سیاسی جماعتوں سے اپنے دعویٰ کی حمایت میں دستاویز پیش کریں‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ صدر نے واجپئی کو مشورہ دیا کہ حلف برداری کے دس دن کے اندر اندر وہ اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کریں۔

اکثر حالات میں صدر باقاعدہ طور پراختیارات کا مالک اور قوم کا رسمی سربراہ ہوتا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ پھر ہمیں صدر کی ضرورت کیوں ہے؟ پارلیمانی نظام میں وزراء کی کونسل کا انحصار ایوان میں اکثریت کی جماعت پر ہوتا ہے۔ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ وزراء کی کونسل کو کسی بھی وقت ہٹایاجا سکتا ہے اور اس کی جگہ نئی کونسل کو لایا جاسکتا ہے۔ ایسے حالات میں اس قسم کے سربراہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی میعاد مقرر ہو، جو وزیراعظم کے تقررکا اختیار رکھتا ہو اور جو پورے ملک کی نمائندگی کرسکے۔ عام حالات میں بھی صدر کا ایک کردار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جب کسی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہو تو صدر کے اوپر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے اور وہ ہے وزیراعظم کا انتخاب کرنا جو ملک کا نظام حکومت چلا سکے۔

نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر کا انتخاب پانچ سال کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے انتخاب کا طریقہ وہی ہے جو صدر کے انتخاب کا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ریاستی مجلسِ قانون ساز کے ممبر اس انتخابی عمل میں شامل نہیں ہوتے۔راجیہ سبھا اکثریتی ووٹ سے قرارداد منظور کرکے، نائب صدر کو عہدہ سے ہٹا سکتی ہے جس کو لوک سبھا کی حمایت حاصل ہو۔صدر کو معزول کرنے کے طریقہ سے یہ طریقہ مختلف ہے۔نائب صدر جمہوربہ، راجیہ سبھا کا بہ لحاظ منصب چیئرمین ہوتا ہے۔صدرجمہوریہ کی موت، استعفیٰ، معزولی کی کارروائی یا کسی اور وجہ سے صدر کا عہدہ خالی ہونے پر نائب صدر جمہوریہ اس وقت تک اس عہدہ پر کام کرتا ہے جب تک کہ نئے صدر کاانتخاب نہ ہو۔فخرالدین علی احمد کی وفات پر بی۔ڈی۔جٹی نے صدر کا عہدہ اس وقت تک سنبھالا جب تک کہ نئے صدر کا انتخاب نہ ہوا۔

اپنی معلومات چیک کیجیے

تصور کیجیے کہ وزیراعظم، کسی ریاست میں ’’صدر راج نافذ‘‘ کرنا چاہتا ہے، جو ریاست میں دلتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ صدرجمہوریہ کا نقطئہ نظر مختلف ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ صدر راج کو نافذ کرنے کی دفعہ کا استعمال کم کیا جائے۔ ایسی صورتِ حال میں درج ذیل راہوں میں سے کون سی راہ صدر جمہوریہ کے لیے کُھلی ہے؟ 
(a) وہ وزیراعظم سے یہ کہے گا کہ یہ کہا جائے کہ وہ صدر راج نافذ کرنے کے حکم پر دستخط نہیں کرے گا۔
(b)   وزیراعظم کو  برخاست کر دے۔
(c) وزیراعظم کو ہدایت دے کہ ریاست میں CRPF بھیج دی جائے۔
(d) ایک اخباری بیان جاری کرے کہ وزیراعظم کا نقطئہ نظر غلط ہے۔
(e) اس مسئلہ پر وزیراعظم سے گفت وشنیدکرے اور ایسا قدم اٹھانے
سے اس کو روکے لیکن پھر بھی وہ اسی بات پر زور دے تو اس کے
حکم پر دستخط کر دے۔

وزیراعظم اور وزراء کی کونسل

ہندوستان میں حکومت یا سیاست پر کوئی بھی بحث ،وزیراعظم ہند کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوگی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟  

 ایک کارٹون پڑھیے

pic 7 chapter 4
وزیراعظم کے بغیر وزرا کی کوئی کونسل نہیں ہوتی۔ یہ کارٹون دکھاتا ہے کہ کس طرع  وزیراعظم وزراء کی کونسل کی’’قیادت‘‘ کرتا ہے۔

اس باب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ صدر جمہوریہ اپنے اختیارات کا استعمال صرف وزراء کی کونسل کے مشورہ سے کرتا ہے۔ اس کونسل کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے۔ لہٰذا وزراء کی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے وزیراعظم ہمارے ملک میں حکومت کا سب سے اہم عہدیدار بن جاتا ہے۔

ایک کارٹون پڑھیے

pic 8 chapter 4
کیا صرف یہی اہمیت رکھتی ہے۔وزارت؟ گھر، کار، نوکر،سفر، غیرملکی دورے، سیکورٹی، سیکریٹری وغیرہ اس سب کے کچھ معنی نہیں آپ کی نظر میں؟
لوگ وزیر کیوں بنتا چاہتے ہیں؟ اس کارٹون سے واضح ہوجاتا ہے کہ صرف سہولتوں اور رتبہ کے لیے، پھر کچھ وزارتوں کے لیے مقابلہ کیوں ہوتا ہے؟
جہاں عاملہ پارلیمانی شکل میں موجود ہے وہاں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وزیراعظم کو لوک سبھا میں اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔ یہی حمایت وزیراعظم کو بہت بااختیار بنا دیتی ہے۔ جس وقت اکثریت کی حمایت ختم ہو جائے وزیراعظم اپنا عہدہ کھو دیتا ہے۔ آزادی کے بعد بیس سال تک کانگریس پارٹی کو لوک سبھا کی مکمل حمایت حاصل رہی اور اسی کا سربراہ وزیراعظم ہوتا رہا۔ 1989 کے بعد ایسے بہت سے مواقع آئے جب کسی واحد جماعت کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر اتحادی جماعت بنائی اور ایوان میں اکثریت حاصل کی۔ ایسے حالات میں وہی سربراہ وزیراعظم بن سکا جس کو اس اتحاد کے حصہ داروں کی منظوری  ملی۔ باقاعدہ طور پر سربراہ وہ ہے جس کو اکثریت کی حمایت حاصل ہو اور صدر اس کا تقرر بحیثیت وزیراعظم کرے۔

پھر وزیراعظم یہ طے کرتا ہے کہ اس کی وزرا کونسل میں کون کون وزیر ہوں گے وزیراعظم ان کے رتبہ اور وزارتوں کا تعین کرتا ہے۔ بزرگی اور سیاسی اہمیت کی بنا پر وزیروں کو کابینہ، ریاستی یا نائب وزیرکا درجہ دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم اور اس کے تمام وزیروں کا ممبر پارلیمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ممبر پارلیمنٹ بنے بغیر کوئی وزیر یا وزیراعظم بن جاتا ہے تو چھ ماہ کے اندر اندر پارلیمنٹ کی ممبرشپ حاصل کرنا ضروری ہے۔

آئین ساز اسمبلی کے بعض ممبران کا خیال تھا کہ وزیروں کا انتخاب مجلسِ قانون ساز کے ذریعہ ہونا چاہیے تاکہ وزیراعظم یا وزیراعلی کے ذریعہ۔ ’’سوئزنظام، جس کے تحت مجلس قانون ساز ایک مخصوص مدت کے لیے عاملہ کا انتخاب کرتی ہے۔۔۔۔۔میری نظر میں ریاستوں کے لیے بہترین نظامِ حکومت ہے۔۔۔۔واحد قابل انتقال ووٹ۔۔۔۔عاملہ کے تقرر کے لیے بہترین نظام ہے کیوں کہ اس میں تمام مفادات کی نمائندگی ہوگی اور مجلسِ قانون ساز میں کسی جماعت کو ایسا کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ اس کی نمائندگی نہیں ہوئی۔‘‘

بیگم اعزار رسول

CAD, VOL. IV, P.635

وزرا کی کونسل کا سائز

91ویں ترمیم (2003)سے قبل وزراء کی کونسل کا سائز وقت اور حالات کی ضرورت کے مطابق طے کیا جاتا تھا۔لیکن اس صورت میں یہ سائز بہت بڑا ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ جب کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی تھی تو زیادہ سے زیادہ ممبران کی حمایت حاصل کرنے کے لیے  دوسری پارٹیوں کو وزارتی عہدے دیے جاتے تھے۔بہت سی ریاستوں میں ایسا اکثرہوتا تھا۔لہٰذا آئین میں ایک ترمیم لائی گئی کہ لوک سبھا کے ممبران کی 15 فیصدتعداد سے زیادہ وزیر نہیں ہونے چاہئیں (ریاستوں کے معاملہ میں اسمبلی میں بھی)۔

مجلسِ قانون ساز کے باب میں آپ ان طریقوں کے متعلق پڑھیں گے جن کے ذریعہ پارلیمنٹ عاملہ پر تفصیلی نگرانی رکھتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ پارلیمانی عاملہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عاملہ روزمرّہ کے اعتبار سے خود  مجلسِ قانون ساز کی نگرانی اور کنٹرول میں ہوتی ہے۔

وزرا کی کونسل اجتماعی طور پر لوک سبھا کے تئیں ذمہ دار وجواب دہ ہوتی ہے۔اس دفعہ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی وزارت اگر لوک سبھا کا اعتماد کھو دیتی ہے تو اس کو مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ یہ اصول ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی وزارت پارلیمنٹ کی عاملہ کمیٹی ہوتی ہے اور اجتماعی طور پر ایوان کی جانب سے حکومت چلاتی ہے۔ اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد: کابینہ کا باہمی اتحاد کا اصول ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ اگر ایک وزیر کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ منظور ہو جائے تو پوری کونسل کو مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی وزیر اگر کابینہ کے کسی فیصلہ یا حکمتِ عملی سے اتفاق نہیں کرتا تو اس کو یا تو اس فیصلہ یا حکمت عملی کو قبول کرنا ہوگا یا پھرمستعفی ہونا پڑے گا۔

ہندوستان میں وزیراعظم کا رتبہ حکومت میں مقدم و ممتا ز ہوتا ہے۔ وزیراعظم کے بغیر وزراء کی کونسل کا کوئی وجود نہیں۔وزیراعظم کی موت یا استعفیٰ کا مطلب ہے وزرا کی کونسل کا خود بخود تحلیل ہو جانا۔ لیکن کسی ایک وزیر کی موت یا عہدہ سے برخاستگی یا معطلی کے معنی صرف ایک وزارت کا خالی ہوناہے۔ وزیراعظم ایک جانب پارلیمنٹ اور وزرا کی کونسل اور دوسری جانب وزرا کی کونسل اور صدر جمہوریہ کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے۔ وزیراعظم کا یہی کردار بقول پنڈت نہرو’’حکومت کے دُھرے کی کیل‘‘ ہے۔ وزیراعظم کی آئینی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ وفاق کے تمام معاملات کے انتظام اور وزرا کی کونسل کے فیصلوں سے صدر جمہوریہ کو آگاہ کرے۔ وزیراعظم حکومت کے تمام اہم کاموں میں شامل ہوتا ہے اور حکومت کی حکمت عملی سے وابستہ فیصلے کرتا ہے۔ اس طرح وزیراعظم کو حکومت کو قابو میں رکھنے کے تمام اختیارات مختلف ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ افسر شاہی پر حکم چلانا، میڈیا سے رابطہ، انتخابات کے دوران شخصیتوں کو پیش کرنا، بین الاقوامی سربراہ کانفرنس اور غیر ملکی دوروں کے موقع پر قومی سربراہ کی حیثیت سے پیش ہونا۔

بہرحال، جو اختیارات وزیراعظم اپنے پاس رکھتا ہے اور حقیقت میں ان کو استعمال کرتا ہے اس کاانحصار موجودہ سیاسی صورتِ حال پر قائم ہے۔ جب کوئی واحد جماعت لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو وزرا کی کونسل اور وزیراعظم کی حیثیت کسی بھی حملہ سے محفوظ ہوتی ہے۔ لیکن جب مختلف سیاسی جماعتیںمخلوط حکومت تشکیل دیتی ہیں تو ایسا نہیں ہوتا۔ 1989 سے ہم نے کئی مخلوط حکومتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان میں سے کئی حکومتیں لوک سبھا کی میعاد پوری نہیں کر سکیں۔ یا تو ان کو برخاست کر دیا گیا یا اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مستعفی ہونا پڑا۔ ان حالات نے پارلیمانی عاملہ کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔
pic 9 chapter 4
 ہاں! مجھے معلوم ہے کہ افسران، عوام کی خدمت کےلیے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ ہی عوام ان افسران سے خوف زدہ ہے۔ اور افسران ایسے برتاؤ کرتے ہیں  جیسے وہ مالک ہوں۔

اولاً وزیراعظم کے انتخاب میں صدر جمہوریہ کے بڑھتے ہوئے امتیازی اختیارات اپنے حالات کا ماحاصل ہیں۔ دوسرے اس عرصہ میں ہندوستانی سیاست کی مخلوط نوعیت کی وجہ سے سیاسی شرکا کے مابین زیادہ گفت وشنید کی ضرورت نے وزیراعظم کے اختیارات کو نقصان پہنچایا ہے۔ تیسرے اس کی وجہ سے وزیراعظم کے بعض مخصوص اختیارات پر بندشیں لگ گئیں جیسے وزراء کا انتخاب، عہدوں کی تقسیم اور وزارتی منصب طے کرنا۔ چوتھی بات یہ ہوئی کہ حکومت کی حکمتِ عملی اور پروگرام اب صرف وزیراعظم تنہا طے نہیں کر سکتا۔
   ایک کارٹون پڑھیے
pic 10  chapter 4

وزیراعلیٰ کواعتمادکاووٹ حاصل کرناہے

میری پریشانیاں ختم نہیں ہوئیں ۔ مجھے اعتماد کا ووٹ حاصل ہو گیا ہے ۔

اعتماد کا ووٹ حاصل ہونے کے بعد بھی وزیراعلیٰ خوش نہیں ہے۔کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟             

        انتخابات سے قبل اور بعد دونوں موقعوں پر مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں حکومت سازی کی غرض سے متحد ہو جاتی ہیں۔ سیاسی شرکا یا رفیقوں کے درمیان کافی گفت وشنید کے بعدہی حکمت عملیاں طے کی جاتی ہیں اور باہمی سمجھوتے ہوتے ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران وزیراعظم کا کردار محض گفت وشنید کرنے والے شخص کا ہوکر رہ جاتاہے۔

ریاستی سطح پر اسی طرز کی پارلیمانی عاملہ صرف کچھ معمولی فرق کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ وہاں صدر کے ذریعہ مقرر کردہ گورنر ہوتا ہے (جس کا تقرر مرکزی حکومت کی سفارش پر کیا جاتا ہے) ۔ اگرچہ وزیراعظم کی طرح ریاستی وزیراعلیٰ بھی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے لیکن گورنر کے خصوصی اختیارات زیادہ ہوتے ہیں۔ بہرحال ریاستی سطح پر بھی مخصوص پارلیمانی نظام کام کرتا ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے :

فرض کیجیے : وزیراعظم کو وزرا کی کونسل کا انتخاب کرنا ہے۔ وہ کیا دیکھےگا؟

(a) ان کا انتخاب ہوگا جو مختلف موضوعات میں ماہر ہوں گے۔
(b) صرف ان کا انتخاب ہوگا جو ان کی پارٹی سے ہوں گے۔
(c) صرف ان کا انتخاب ہوگا جو ذاتی طور پر قابل اعتماد اور
وفادار ہوں گے۔
(d) صرف ان کا انتخاب ہوگا جو حکومت کے حامی ہوں گے۔
(e) انتخاب مختلف امیدواروں میں سے ان کے سیاسی وزن کی بنا 
پر کیا جائے گا۔

مستقل عاملہ: افسرشاہی

وزراء کے فیصلوں کو کون نافذ کرتا ہے؟
حکومت کے اہم عضو، عاملہ میں وزیراعظم، وزرا اور وہ بڑا گروپ شامل ہوتا ہے جسے افسرشاہی یا انتظامی عملہ کہتے ہیں۔ اس افسرشاہی عملہ اور فوجی سروس کے درمیان فرق یہ ہے کہ اسے سول سروس ( شہری خدمات کا عملہ) کہتے ہیں۔ حکومت کے اس مستقل عملہ میں تربیت یافتہ اور باہنر عہدیدار شامل ہوتے ہیں جن کو حکومت کی حکمت عملی تیار کرنے اور ان کو نافذ کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

جمہوریت میں عوام کے منتخب نمائندے اور وزرا حکومت کے نگراں ہوتے ہیں اور پوری انتظامیہ ان کی نگرانی اور کنٹرول میں رہتی ہے۔ پارلیمانی نظام میں مجلسِ قانون ساز ہی عاملہ کو کنٹرول کرتی ہے۔ افسران، مجلس قانون ساز کے ذریعہ اختیار کردہ حکمت عملی کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔یہ وزرا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انتظامیہ پر سیاسی کنٹرول قائم رکھیں۔

ہندوستان نے ایک پیشہ ورانہ انتظامی عملہ قائم کیا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ یہ عملہ سیاسی طور پر جواب دہ بھی ہے۔ افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی طور پر غیر جانب دار ہوں۔ اس کے معنی ہیں کہ حکمت عملی سے متعلق معاملات پر افسران کوئی سیاسی فیصلہ نہیں لیں گے۔ جمہوریت میں اس بات کا ہمیشہ امکان رہتا ہے کہ کوئی پارٹی الیکشن میں ہار جاتی ہے اور کوئی نئی پارٹی پہلی حکومت کے ذریعہ اختیار کردہ حکمت عملی کی جگہ نئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں انتظامی عملہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نئی حکومت کے ذریعہ اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو نافذ کرنے میں ا س کی مد د کرے۔ 

آج ہندوستان کی افسرشاہی ایک عظیم پیچیدہ نظام بن چکی ہے۔ اس میں آل انڈیا سول سروسیز، اسٹیٹ سروسیز، مقامی حکومت کے ملازمین، تکنیکی اور مینیجیریل اسٹاف جو عوامی ادارے چلاتے ہیں، شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے آئین ساز ایک غیر جانب دارانہ اور پیشہ ورانہ افسرشاہی کی اہمیت سے واقف تھے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ سول سروسیز کے ملازمین یا افسران کا انتخاب قابلیت کی بنا پر غیرجانب دارانہ ہو۔ ہندوستانی حکومت کے سول سروسیز کے ملازمین کے انتخاب کا پورا عمل یو۔پی۔ایس۔سی۔ کے ذریعہ قائم ہوا۔ اسی طرح ریاستوں کے لیے ریاستی سول سروس کمیشن بنائے گئے۔ ان کا تقرر ایک مقررہ میعاد کے لیے ہوتا ہے۔ ان کو عہدہ سے برطرف کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے جج کے ذریعہ تحقیقات کرائی جاتی ہے۔

جہاں عمدہ کارکردگی اور قابلیت تقرر کے اصول ہیں وہاں آئین بھی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشرہ کے تمام طبقات بشمول کمزور طبقات کو افسرشاہی میں شامل ہونے کے لیے برابر مواقع حاصل ہوں۔ اس مقصد کے لیےآئین نے دلِت اور آدی واسیوں کے لیے ملازمتوں میں ریزرویشن دیا ہے۔ یہ انتظامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ افسرشاہی میں زیادہ نمائندگی ہو گی اور سول سروسیز کی تقرریوں کی راہ میں عدم مساوات حائل نہ ہو گی۔
pic 11  chapter 4
ہاں! مجھے معلوم ہے کہ افسران، عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔لیکن ہمیشہ ہی عوام ان افسران سے خوف زدہ رہتے ہیں۔اور افسران ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے وہ مالک ہوں۔

سول سروسیز کی تقسیم
آل انڈیا سروسیز
انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس
انڈین پولیس سروس
 سینٹرل سروسیز
انڈین فارین سروس
انڈین کسٹم سروس
اسٹیٹ سروسیز
ڈپٹی کلکٹر
سول سروس


یونین پبلک سروس کمیشن (U.P.S.C.) کے ذریعہ منتخب آئی اے ایس اور آئی۔ پی۔ ایس افسران، ریاستوں کی افسرشاہی کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانے جاتے ہیں۔ شاید آپ جانتے ہوں گے کہ کلکٹر عام طور پر ایک آئی۔ اے۔ ایس، (I.A.S.)افسر ہوتا ہے اور یہ کہ اس افسر کے کاموں کے شرائط مرکزی حکومت طے کرتی ہے۔ آئی۔ اے۔ ایس یا آئی۔پی۔ایس (I.P.S.) افسران کو ایک ریاست مختص کی جاتی ہے اور وہ اسی ریاست کے ماتحت کام کرتا ہے۔ چونکہ ان افسران کا تقرر مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتا ہے، لہٰذا وہ مرکزی حکومت میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ صرف مرکزی حکومت ہی ان کے خلاف انضباطی قدم (Diciplinary Step)اٹھا سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست کے اہم ترین عہدیدار دراصل مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔

یونین پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ ان افسران کے تقرر کے علاوہ ریاست کا انتظام سنبھالنے کےلیے اسٹیٹ سروس کمیشن کے ذریعہ مقررکردہ افسران بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم بعد میں مطالعہ کریں گے فیڈرلزم ⁄ وفاقیت کے باب میں افسرشاہی کا یہ پہلودراصل ریاستی انتظام پر مرکزی حکومت کے کنٹرول کو مزید استحکام دیتا ہے۔

افسرشاہی کے ذریعہ عوام کی فلاح وبہبود سے متعلق حکومت کی حکمت عملی عوام تک پہنچتی ہے لیکن اکثر یہ افسرشاہی ا س قدر طاقت ور ہوتی ہے کہ عوام کسی سرکاری افسر سے رابطہ قائم کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ عوام کا یہ تجربہ ہے کہ عام شہریوں کی توقعات اور مطالبات کے تئیں افسرشاہی قطعی غیر حساس ہوتی ہے، اگر جمہوری طریقہ سے منتخب حکومت افسرشاہی کو کنٹرول کرے تو ان کے کچھ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب حد سے زیادہ سیاسی دخل اندازی افسرشاہی کو سیاست دانوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنا دیتی ہے۔ اگرچہ آئین ہند نے تقرری کا ایک آزاد نظام قائم کیا ہے پھر بھی بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سرکاری افسران کو اپنے کاموں میں سیاست دانوں کی دخل اندازی سے محفوظ رکھنے کا آئینی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی محسوس کیا جاتا ہے کہ شہریوں کے تئیں افسرشاہی کی جواب دہی کےلیے خاطرخواہ دفعات موجود نہیں ہیں۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ حق اطلاعات کی طرز پر افسرشاہی کو مزید جواب دہ اور ذمہ دار بنایا جائے گا۔ 

اختتام

جدید عاملہ حکومت کاایک بااخیارطاقت ورادارہ ہے۔ حکومت کی تمام اقسام میں دوسرے اعضا کے مقابلہ عاملہ کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عاملہ پر جمہوری کنٹرول کی مزید ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ہمارے آئین سازوں کا یہ خیال دوراندیشی پر مبنی تھا کہ عاملہ پر باقاعدہ نگرانی کی مزید ضرورت ہے۔ اس طرح ایک پارلیمانی عاملہ اختیار کی گئی ۔ میعادی انتخابات اختیارات پر آئینی بندشیں اور جمہوری سیاست نے اس بات کویقینی بنایا ہے کہ عاملہ غیرذمہ دار نہیں ہو سکتی۔

مشق

پارلیمانی عاملہ کے معنی ہیں :

(a)      وہ عاملہ جہاں ایک پارلیمنٹ ہوتی ہے۔
(b)    پارلیمنٹ کے ذریعہ منتخبہ عاملہ۔
(c)        جہاں پارلیمنٹ بحیثیت عاملہ کام کرتی ہے۔
(d)   عاملہ جو پارلیمنٹ میں اکثریت پر منحصر ہوتی ہے۔

یہ بات چیت پڑھیے۔ کون سی دلیل سے آپ اتفاق کرتے ہیں اور کیوں؟

  امت : آئینی دفعات کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر جمہوریہ محض ایک ربر کی مہر ہے۔
شمع : صدر وزیراعظم کا تقرر کرتا ہے۔ اس لیے وزیراعظم کو برخاست کرنے کے اختیار بھی اس کے پاس ہونے چاہئیں۔
راجیش : ہمیں صدر کی ضرورت نہیں ہے۔ انتخابات کے بعد پارلیمنٹ اجلاس کر سکتی ہے تاکہ وزیراعظم بننے والے سربراہ کا انتخاب کر سکے۔

درج ذیل بیانات کو صحیح طریقہ سے ملائیے :

(a) جس ریاست میں تقرر ہوتا ہے وہیں کام کرتا ہے (d) انڈین فارن سروس
(b) کسی بھی قومی دفتر میں کام کرتا ہے، خواہ وہ (e) انڈین سول سروس
راجدھانی میں ہو یا ملک میں کہیں بھی
(c) اس مخصوص ریاست میں کام کرتا ہے
جہاں اس کو بھیجا گیا ہو، عارضی طور (f) آل انڈیا سروس
پر مرکز میں بھی جا سکتا ہے
(d) ملک کے باہر سفارت خانوں میں کام کرتا ہے (g) سینٹرل سروسیز

اس وزارت کا کام بتائیے جس نے درج ذیل خبریں جاری کیں؟ کیا یہ وزارت مرکزی حکومت کی ہوگی یا ر یاستی حکومت کی؟ کیوں؟

(a) ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 2004-2005 میں تمل ناڈو ٹیکسٹ بُک کا رپوریشن درجہ X، VII اور XI کے لیے نئی کتابیں جاری کرے گا۔
(b) ایک نئی ریلوے لوپ لائن تری ولور ۔ چنئی کے بھیڑ بھاڑ والے علاقہ کے درمیان سے نکالی جائے گی، جو خام لوہے کے تاجروں کی مدد کے لیے ہوگی۔ نئی لائن جو تقریباً 80 کلومیٹر لمبی ہوگی اس کی شاخ پوٹور میں ہوگی اور بندرگاہ کے پاس اتھی پٹو پہنچے گی۔ 
(c) سہ ممبری سب ڈویژنل کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے رامیاپیٹ میں کسانوں کے ذریعہ خود کشی کے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے پایا کہ اس مہینے فصلوں کی خرابی کے نتیجے میں اقتصادی مشکلات کے سبب دوکسانوں نے خودکشی کی ہے۔

وزیراعظم کا انتخاب کرتے وقت صدر منتخب کرتا ہے :

(a) لوک سبھا میں سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کو
(b) جو اتحاد لوک سبھا میں سب سے بڑی جماعت بناتا ہے اس کے سربراہ کو
(c) راجیہ سبھا میں سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کو
(d) جس جماعت کو یا اتحادی جماعت کو لوک سبھا میں اکثریت کی حمایت حاصل ہو ، اس کے سربراہ کو

یہ بحث پڑھیے اور بتائیے کہ ان میں کون سا بیان ہندوستان پر نافذ ہوتا ہے۔

آلوک :  وزیراعظم ایک بادشاہ جیسا ہے، وہ ہمارے ملک میں ہر فیصلہ کرتا ہے۔
شیکھر :  وزیراعظم ’’برابر حیثیت والوںمیں سب سے اول ‘‘ہوتا ہے۔ اس کے کوئی خاص اختیارات نہیں ہوتے۔ تمام وزیروں اور وزیراعظم کے اختیارات مساوی ہوتے ہیں۔ 
بوبی : وزیراعظم کو جماعت کے ارکان اور حکومت کے حامیوں کی توقعات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ پھر بھی، وزیراعظم کی، حکمت عملی طے کرنے اور وزرا کے انتخابات میں اہم آواز ہوتی ہے۔

آپ کے خیال میں صدر جمہوریہ، وزرا کی کونسل کے مشورہ کا پابند کیوں ہوتا ہے؟ اپنا جواب کم از کم 100 الفاظ میں دیجیے۔
عاملہ کا پارلیمانی نظام عاملہ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مجلس قانونی ساز کو بہت سے اختیارات دیتا ہے۔ آپ کے خیال میں عاملہ پر کنٹرول کرنا اس قدر ضروری کیوں ہے؟

یہ کہا جاتا ہے کہ انتظامی مشینری میں بہت زیادہ سیاسی دخل اندازی ہوتی ہے۔ یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ آزاد اداروں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے جن کو وزرا کے تئیں جواب دہ نہ ہونا پڑے۔

(a) آپ کے خیال میں کیا انتظامیہ عوام کی دوست بن جائے گی؟
(b) آپ کے خیال میں کیا اس سے انتظامیہ کی کارکردگی اچھی ہوگی؟
(c) کیا جمہوریت کے معنی ہیں : انتظامیہ پر منتخبہ نمائندوں کا مکمل کنٹرول۔

10۔ تقریباً دوسو الفاظ میں ایک مضمون اس عنوان پر تحریر کیجیے :’’ تقرر کردہ انتظامیہ کی بجائے منتخبہ انتظامیہ کی تجویز۔‘‘