
باب 4
مجلس عاملہ
تمہید
- پارلیمانی اور صدارتی عاملہ کے درمیان امتیاز کرنا۔
- صدر جمہوریہ کی آئینی حیثیت کو سمجھنا۔
- وزراء کونسل کی تشکیل اور کام، اور وزیراعظم کی اہمیت سے واقف ہونا اورانتظامی مشینری کے کام اور اہمیت کو سمجھنا۔
عاملہ کیا ہے؟
عاملہ کی مختلف قسمیں کون کون سی ہیں؟
سرگرمی
| عاملہ کی قسمیں |
| انفرادی قیادت پر مبنی نظام | اجتماعی قیادت کے اصولوں پر مبنی نظام |
| پارلیمانی نظام حکومت کا سربراہ عام طور پر وزیر اعظم ہوتا ہے۔
وہ مجلسِ قانون ساز میں اکثریتی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے۔
وہ مجلسِ قانون ساز کے تئیں جواب دہ ہوتا ہے۔
مملکت کا سربراہ بھی ہو سکتا ہے:
بادشاہ آئینی بادشاہت صدر برائے نام عاملہ
پارلیمانی جمہوریہ
|
نیم صدارتی نظام مملکت کا سربراہ صدر ہوتا ہے۔ حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔ دونوں کا براہ راست انتخاب ہوتا ہے۔ وزیراعظم اور اس کی کونسل، مجلسِ قانون ساز کے تئین جواب دہ ہوتے ہیں۔ |
صدارتی مملکت کاسربراہ صدرہوتاہے۔ حکومت کاسربراہ بھی صدر ہوتا ہے۔ عام طورپر صدرکاانتخاب عوام کے ذریعے براہ راست ہوتاہے وہ مجلسِ قانون ساز کے سامنے جواب دہ ہوتاہے۔ |
سری لنکا میں نیم صدارتی عاملہ
اپنی معلومات چیک کیجیے :
ہندوستان میں پارلیمانی عاملہ
صدرکے اختیاراورحیثیت
صدر کے امتیازی اختیارات
ہم نے دیکھا کہ صدر کو کسی بل کو منظوری دینے کے لیے، وقت کی کوئی پابندی نہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ ایسا پہلے ہوچکا ہے؟ 1986میں، پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا جس کا عنوان تھا، ہندوستانی ڈاک خانہ (ترمیم) بل۔اس بل پر بہت تنقیدہوئی کیوں کہ اس سے آزادی ٔ پریس کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔اس وقت تو دوسرے صدر، آر۔وینکٹ رمن نے بالآخر اس بل کو نظرثانی کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج دیا۔جو حکومت اس بل کو منظور کرانا چاہتی تھی، اس وقت تک بدل گئی اور 1989میں نئی حکومت اقتدار میں آگئی۔یہ حکومت ایک مختلف قسم کی مخلوط حکومت تھی اور اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں نہیں لائی۔گویا، گیانی ذیل سنگھ کے ذریعہ اس بل کو منظوری نہ دینے کی وجہ سے، یہ بل کبھی قانون نہ بن سکا۔
وزیراعظم کے انتخاب میں در کار کردار
نائب صدر جمہوریہ
اپنی معلومات چیک کیجیے
وزیراعظم اور وزراء کی کونسل
ایک کارٹون پڑھیے
ایک کارٹون پڑھیے
لوگ وزیر کیوں بنتا چاہتے ہیں؟ اس کارٹون سے واضح ہوجاتا ہے کہ صرف سہولتوں اور رتبہ کے لیے، پھر کچھ وزارتوں کے لیے مقابلہ کیوں ہوتا ہے؟
آئین ساز اسمبلی کے بعض ممبران کا خیال تھا کہ وزیروں کا انتخاب مجلسِ قانون ساز کے ذریعہ ہونا چاہیے تاکہ وزیراعظم یا وزیراعلی کے ذریعہ۔ ’’سوئزنظام، جس کے تحت مجلس قانون ساز ایک مخصوص مدت کے لیے عاملہ کا انتخاب کرتی ہے۔۔۔۔۔میری نظر میں ریاستوں کے لیے بہترین نظامِ حکومت ہے۔۔۔۔واحد قابل انتقال ووٹ۔۔۔۔عاملہ کے تقرر کے لیے بہترین نظام ہے کیوں کہ اس میں تمام مفادات کی نمائندگی ہوگی اور مجلسِ قانون ساز میں کسی جماعت کو ایسا کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ اس کی نمائندگی نہیں ہوئی۔‘‘
بیگم اعزار رسول
CAD, VOL. IV, P.635
وزرا کی کونسل کا سائز
وزیراعلیٰ کواعتمادکاووٹ حاصل کرناہے
اعتماد کا ووٹ حاصل ہونے کے بعد بھی وزیراعلیٰ خوش نہیں ہے۔کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟
ریاستی سطح پر اسی طرز کی پارلیمانی عاملہ صرف کچھ معمولی فرق کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ وہاں صدر کے ذریعہ مقرر کردہ گورنر ہوتا ہے (جس کا تقرر مرکزی حکومت کی سفارش پر کیا جاتا ہے) ۔ اگرچہ وزیراعظم کی طرح ریاستی وزیراعلیٰ بھی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے لیکن گورنر کے خصوصی اختیارات زیادہ ہوتے ہیں۔ بہرحال ریاستی سطح پر بھی مخصوص پارلیمانی نظام کام کرتا ہے۔
اپنی معلومات چیک کیجیے :
مستقل عاملہ: افسرشاہی
| سول سروسیز کی تقسیم |
| آل انڈیا سروسیز انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس انڈین پولیس سروس |
سینٹرل سروسیز انڈین فارین سروس انڈین کسٹم سروس |
اسٹیٹ سروسیز ڈپٹی کلکٹر سول سروس |
یونین پبلک سروس کمیشن (U.P.S.C.) کے ذریعہ منتخب آئی اے ایس اور آئی۔ پی۔ ایس افسران، ریاستوں کی افسرشاہی کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانے جاتے ہیں۔ شاید آپ جانتے ہوں گے کہ کلکٹر عام طور پر ایک آئی۔ اے۔ ایس، (I.A.S.)افسر ہوتا ہے اور یہ کہ اس افسر کے کاموں کے شرائط مرکزی حکومت طے کرتی ہے۔ آئی۔ اے۔ ایس یا آئی۔پی۔ایس (I.P.S.) افسران کو ایک ریاست مختص کی جاتی ہے اور وہ اسی ریاست کے ماتحت کام کرتا ہے۔ چونکہ ان افسران کا تقرر مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتا ہے، لہٰذا وہ مرکزی حکومت میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ صرف مرکزی حکومت ہی ان کے خلاف انضباطی قدم (Diciplinary Step)اٹھا سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست کے اہم ترین عہدیدار دراصل مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔