Skip to content
hindustani ayin aur kam


باب 5 

مجلسِ قانون ساز

تمہید

آپ انتخابات اور طریقۂ کار کی اہمیت کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ مجالس قانون ساز کا انتخاب عوام کے ذریعہ ہوتا ہے اور وہ عوام کی جانب سے کام کرتی ہیں۔ اس باب میں ہم مطالعہ کریں گے کہ منتخبہ مجالس قانون  سازکیسے کام کرتی ہیں اور جمہوری حکومت کس طرح قائم رکھتی ہیں۔ ہم ہندوستان میں پارلیمنٹ اورریاستی مجالس قانون ساز کی تشکیل اور کارکردگی اورجمہوری حکومت میں ان کی اہمیت کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو علم ہوگا:
  • مجلسِ قانون ساز کی اہمیت کیا ہے؟
  • ہند کی پارلیمنٹ کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟
  • قانون سازی کا عمل کیا ہوتا ہے؟
  • پارلیمنٹ کس طرح عاملہ کو کنٹرول کرتی ہے ؟
  • پارلیمنٹ خود کو کس طرح باضابطہ بناتی ہے؟

ہمیں پارلیمنٹ کی ضرورت کیوں ہے؟

مجلس قانون ساز محض ایک قانون ساز ادارہ نہیں ہے۔ اس کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام قانون سازی ہے ۔ یہ تمام جمہوری سیاسی سرگرمیوں کا مرکزہے۔ یہ الیکشن، واک آؤٹ، احتجاج، مظاہرے ،اتحادفکر اور تعاون سے بھر پور ادارہ ہے ۔ یہ تمام مقاصد اعلیٰ اوراہم ہیں۔ درحقیقت،ایک نمائندہ، مستعد اور موثر مجلس قانون ساز کے بغیر حقیقی جمہوریت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مجلس قانون ساز عوام کے نمائندوں کو جواب دہ بنائے رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ یہی نمائندہ جمہوریت کی بنیاد ہے ۔

پھر بھی بہت سی جمہورتیوں میں عاملہ کے مقابلہ مجلس قانون ساز کی مرکزی حیثیت کمزور ہورہی ہے ۔ ہندوستان میں بھی کابینہ ہی حکمت عملی کی شروعات کرتی ہے حکومت کے لیے ایجنڈا طے کرتی ہے اور ان کو عملی جامہ پہناتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض تنقید نگاروں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ مجلس قانون ساز کا زوال ہوگیا ہے۔ لیکن ایک نہایت مضبوط کابنیہ کو بھی مجلس قانون ساز میں اکثریت قائم رکھنا ہوتی ہے۔ ایک مضبوط رہنما کو پارلیمنٹ کا سامنا کرنا اور جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔اسی میں پارلیمنٹ کی جمہوری فضا پوشیدہ ہے۔اس کو سب سے زیادہ جمہوری اور علی الاعلان بحث ومباحثہ کا میدان مانا جاتا ہے۔اس کی تشکیل کی بنا پر حکومت کے اعضا میں سب سے زیادہ نمائندہ اور  سب سے بالاتر جماعت ہے، یہ حکومت کو منتخب کرنے اور برطرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

سرگرمی

اخبارات کی ان رپورٹوں پر غورکیجیے اور سوچیے : اگر مجالس قانون ساز نہ ہوتیں تو کیا ہوتا؟ ہر رپورٹ پڑھنے کے بعد بتائیے مجلس قانون ساز عاملہ پر کنٹرول قائم رکھنے میں کیسے کامیاب یا ناکام ہوئی؟
             28فروری 2002  : مرکزی وزیرمالیات، جسونت سنگھ نے مجوزہ مرکزی بجٹ میں 50کلو یوریا کی بوری کی قیمت میں 12روپیہ اور دوسری کھاد کی قیمت میں 5فیصد کے اضافہ کا اعلان کیا۔ایک ٹن یوریا کی قیمت 4,830 روپے میں 80فی صد تک سبسڈی دی گئی۔
              11مارچ 2002  : مخالفین کے شدید دباؤ کے تحت کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان ، وزیرمالیات کو واپس لینا پڑا۔ (’’ہندو‘‘ اخبار، 12مارچ 2002 )۔
             4جون 1998 پارلیمنٹ میں یوریا اورپٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافہ پر شدید ردِّعمل ہوا۔پورا حزب اختلاف (اپوزیشن) پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگیا۔ اپنے مجوزًہ بجٹ میں وزیر مالیات نے یوریا کی قیمت میں 50پیسہ کے اضافہ کی تجویز رکھی تھی تاکہ اس پر سبسڈی کو کم کیا جاسکے۔چنانچہ وزیرمالیات یشونت سنہا کو یوریا کی قیمتوں میں اِضافہ کے اعلان کو واپس لینا پڑا۔(ہندوستان ٹائمز، 14اور 15جون 1998ء)
            22 فروری 1983 : لوک سبھا نے اتفاق رائے سے اپنی روز مرّہ کی کارروائی کو معطل کرتے ہوئے آسام کے مسئلہ پر بحث کرنے کے معاملہ کو فوقیت دی۔وزیر داخلہ (ہوم منسٹر) جناب پی۔سی۔سیٹھی نے ایک بیان دیا۔ ’’میں تمام ممبران خواہ وہ کسی بھی خیال یا حکمتِ عملی کے حامل ہوں، کا تعاون آسام میں رہنے والے مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے  چاہتا ہوں۔ اس وقت تلخی نہیں ،بلکہ زخموں پر مرہم کی ضرورت ہے۔‘‘ (ہندوستان ٹائمز، 22فروری، 1983)
          کانگریس ممبران نے آندھراپردیش میں ہری جنوں پر ہوئے مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔
(’’ہندو‘‘  اخبار،  3 مارچ، 1985 )

ہمیں دو ایوانی پارلیمنٹ کی ضروت کیوں ہے؟

لفظ’’پارلیمنٹ ’’ کو قومی مجلس قانون ساز سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ریاستوں کی مجلس قانون ساز کو ریاستی مجلس قانون ساز کہا جاتاہے۔ ہندوستان میں پارلیمنٹ کے دوایوان ہیں۔ جب مجلس ِقانون ساز کے دوایوان ہوتے ہیں تو اسے دو ایوانی (Bicameral)قانون ساز کہا جاتا ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے دوایوان ہیں ۔ ریاستوں کی کونسل یاراجیہ سبھا اور ایوان زیریں یعنی لوک سبھا۔ آئین نے ریاستوں کو اختیار دیاکہ وہ ایک ایوانی قانون ساز بنائیں یا دو ایوانی۔ اس وقت صرف سات ریاستوں میں دوایوانی مجالس قانون ساز ہیں۔
         بڑے رقبہ اور گونا گوں خاصیت والے ملک  قومی مجلس قانون سازکے دوایوانوں کو تر جیح دیتے ہیں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات اور ملک کے تمام جغرافیائی علاقوں اور حصوں کو نمائندگی حاصل ہوسکے ۔دوایوانی مجلس قانون ساز کا ایک اور فائدہ ہے۔ دوایوانی مجلس قانون ساز ہر فیصلے نظر ثانی کرسکتی ہے۔ ایک ایوان سے منظور شدہ فیصلہ، نظرثانی کے لیے دوسرے ایوان میں جاتا ہے جس کے معنی ہیں کہ ہر بل اور ہر حکمتِ عملی پر دو دفعہ بحث ہوتی ہے۔ اس طریقہ سے دوہری نگہداشت یقینی بن جاتی ہے یہاں تک ایک ایوان کے ذریعہ لیا گیا فیصلہ دوسرے ایوان میں دوبارہ غور کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے ۔

pic 1 chapter 5

ہندوستان

ریاستیں جہاں دو ایوانی مجلس قانون ساز ہیں ۔
جموں و کشمیر،آندھرا پردیش 
بہار 
کرناٹک
مہاراشٹرا 
اتر پردیش

ایوان بالا

’’۔۔۔ ایک نظرثانی کرنے والی جماعت کا اہم کام، انجام دے سکتا ہے اور اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے ووٹوں کو نہیں۔ وہ لوگ جو عملی سیاست  سے بچتے ہیں وہ  ایوان زیریں کو مشورہ دے سکتے ہیں۔‘‘ 
 (پورنیما بنرجی  CAD, VOL IX, P. 33 ) 

راجیہ سبھا

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کی نمائندگی علاحدہ علاحدہ بنیادوں پر قائم ہے ۔ راجیہ سبھا ہندوستان کی ریاستوں کی نمائندگی کرتی ہے یہ بالاواسطہ (Indirect)طریقہ سے منتخب جماعت ہے۔ ریاستی مجلس قانون ساز کے ممبران کا انتخاب ریاست کے باشندے کرتے ہیں اور یہی ممبران پھر راجیہ سبھا کے ممبران کا انتخاب کرتے ہیں۔

جرمنی میں دوایوانی نظام

جرمنی میں دوایوانی (Bicameral)نظام ہے۔وہاں ایک ہاؤس کو وفاقی اسمبلی یا فیڈرل اسمبلی کہتے ہیں۔ اور دوسرے کو وفاقی کونسل(Bundestag)کہتے ہیں۔ اسمبلی کا انتخاب ایک پیچیدہ طریقہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس میں راست اور تناسبی نمائندگی دونوں شامل ہیں اور یہ انتخاب4سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے۔
جرمنی وفاقی کونسل میں 16وفاقی ریاستوں (States)کی نمائندگی ہے۔ Bundesratکی 69سیٹیں آبادی کی بنیاد پر ان ریاستوں میں تقسیم کردی گئی ہیں۔یہ ممبر عام طور پر ریاستی سطح پر حکومت کے وزرا ہوتے ہیں اور ان کو وفاقی ریاستوں کی حکومتیں مقرر کرتی ہیں اور یہ منتخب نہیں کیے جاتے ہیں۔ جرمنی کے قانون کے مطابق کسی ریاست (State) کے تمام ممبر ریاستی حکومتوں کی ہدایات پر ایک بلاک کے طور پر ووٹ دیتے ہیں کبھی کبھی ریاستی سطح پر مخلوط حکومت(Coalition Government) ہونے کی وجہ سے ان میں کسی ایک بات پر اتفاق نہیں ہوپاتا ایسی صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ووٹ نہ دیں۔
Bundesrat قانون سازی کے تمام ہی امورمیں ووٹ نہیں کرتی لیکن وہ تمام پالیسی امور جن کے سلسلے میں وفاقی ریاستوں کو Concurrentاختیارات حاصل ہیں۔ اورجن کی وفاقی قانون سازی ان کی ذمہ داری ہے۔ اسی Bundesratکے ذریعے پاس ہوتے ہیں۔Bundesrat ایسی تمام قانون سازی کو ویٹوبھی کر سکتی ہے۔

دوسرے ایوان میں نمائندگی کے مختلف اصولوں کا تصور کر سکتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ علاقہ اور آبادی کا لحاظ کیے بغیرملک کے تمام حصوں کو برابر نمائندگی دی جائے۔ اس طریقہ کو ہم متناسب نمائندگی (Symmetrical Representation) کہتے ہیں۔ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں کوان کی آبادی کے تنا سب سے نمائندگی دی جائے۔ جن علاقوں کی آبادی زیادہ ہو ان کے دوسرے ایوان میں  بمقابلہ کم آبادی و الے علاقوں کے زیادہ نمائندے ہوں گے ۔ 
         امریکہ میں سینٹ کے اندر ہرریاست کی مساوی نمائندگی ہوتی ہے۔اس سے ہر ریاست کی برابری باقی رہتی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ایک چھوٹی اسٹیٹ کی بھی وہی نمائندگی ہوگی جو ایک بڑی اسٹیٹ کی ہے۔ راجیہ سبھا میں نمائندگی کا جو طریقۂ کار اپنایا گیا ہے وہ امریکی نظام سے مختلف ہے۔ یہاں ہر ریاست (State) سے منتخب ہونے والے ممبروں کی تعداد دستور اساسی کے چوتھے شیڈول کے ذریعے مقرر کرائی گئی ہے۔
         اگر ہم راجیہ سبھا میں نمائندگی کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ(U.S.A.)کا نظام اختیار کریں، تو کیا ہوگا؟
         اترپردیش کی آبادی 29.1718 لاکھ ہے اس کو 5.71 لاکھ کے آسام کے برابرنشستیں حاصل ہونگی۔ آئین ساز اس قسم کے فرق کو روکنا چاہتے تھے۔ لہٰذازیادہ آبادی والی ریاستوں کوکم علاقہ ہونے کے باوجود،زیادہ نشستیں ملیں گی۔ چنانچہ اتر پردیش جیسی زیادہ آبادی والی ریاست راجیہ سبھا میں 31 ممبران بھیجتی ہے جبکہ چھوٹی اور کم آبادی والی ریاست جیسے سکم کو راجیہ سبھا میں صرف ایک سیٹ حاصل ہے ۔
         راجیہ سبھا کے ممبران کا انتخاب چھ سال کی مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان کا دوبار ہ انتخاب بھی ہوسکتا ہے۔ راجیہ سبھا کے تمام ممبران بیک وقت اپنی میعاد پوری نہیں کرتے۔ ہر دوسال میں راجیہ سبھا  کبھی پوری طرح سے تحلیل نہیں ہوتی۔ اگر انتخابات ہونے والے ہوں تو بھی راجیہ سبھاکی میٹنگ بلائی جاسکتی ہے اور ضروری کام کیے جاسکتے ہیں۔
منتخبہ ممبران کے علاوہ راجیہ سبھا کےلیے بارہ ممبران نامزدکیے جاتے ہیں ان ممبران کو صدرِجمہوریہ نامزد کرتا ہے۔ یہ نامزد گی ان لوگوں کے درمیان سے کی جاتی ہے جنہوں نے ادب، فنونِ لطیفہ،سماجی خدمت سائنس وغیرہ جیسے شعبہ ٔہائے زندگی میں امتیازحاصل کیا ہو۔

سر گرمی

مختلف ریاستوں سے منتخب نمائندوں کی تعداد معلوم کیجیے۔ 2001 کی رائے شماری کے مطابق ہر ریاست کی آبادی اور اس کے نمائندوں کی تعداد پر مشتمل ایک چارٹ تیارکیجیے:

لوک سبھا

لوک سبھا اور ریاستی مجالس قانون ساز کا انتخاب براہ راست عوام کے ذریعہ ہوتا ہے۔ انتخاب کے مقصد سے آبادی کے تناسب سے پورا ملک (ریاستی مجلس قانون ساز کے معاملہ میں پوری ریاست) علاقائی حلقوں میں تقسیم کردیاجاتا ہے ۔ہر حلقۂ انتخاب (Constituency) سے حقِ رائے دہی بالغاں (Universal Adult Suffrage)کے ذریعہ ایک نمائندہ کا انتخاب ہوتا ہے اور اس عمل میں ہر فرد کے ووٹ کی اہمیت دوسرے افراد کے ووٹ کے مساوی ہوتی ہے۔ فی الحال543انتخابی حلقے ہیں۔ یہ تعداد 1971 سے اب تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔
       لوک سبھا کا انتخاب پانچ سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے یہ حد زیادہ سے زیادہ ہے۔ عاملہ سے متعلق باب میں ہم نے دیکھا کہ پانچ سال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے بھی لوک سبھا کو تحلیل کیا جاسکتا ہے ۔ اگرکوئی جماعت یا مخلوط گروہ حکومت کی تشکیل نہ کر سکے یا اگر صدر جمہوریہ کو وزیر اعظیم یہ مشورہ دیتا ہے کہ لوک سبھا کو تحلیل کردیا جائے اورتازہ انتخابات کرائے جائیں تو یہ صورت پیش آتی ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجئے

  •   آپ کے خیال میں کیا راجیہ سبھا کی تشکیل نے ہندوستان میں 
ریاستوں کی حیثیت کا تحفظ کیا ہے؟
  • راجیہ سبھا کے لیے کیا بالواسط طریقہ کی بجائے براہ راست طریقہ 
انتخاب مناسب ہوگا؟ اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہوں گے؟
  •   1971 سے لوک سبھا کے ممبران کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ 
آپ کے خیال میں کیا یہ اضافہ ہونا چاہیے؟ اضافہ کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟

پارلیمنٹ کیا کام کرتی ہے؟

مجلس قانون ساز کا کیا کام ہے؟ کیا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے کام ایک جیسے ہیں، کیا دونوں ایوانوں کے اختیارات کے درمیان کوئی فرق ہے؟

◊     قانون سازی : پارلیمنٹ پورے ملک کے قانون بناتی ہے۔خاص قانون ساز ادارہ ہونے کے علاوہ پارلیمنٹ اکثر قوانین کو منظور کرتی ہے۔ بل کاخاکہ افسران تیار کرتے ہیں جن پر متعلقہ محکمہ کا وزیر نگراں ہوتا ہے۔ اس کا مسودہ حتٰی کہ اس کے اوقات کا تعین بھی کا بینہ کرتی ہے۔پارلیمنٹ میں کوئی بھی اہم بل کا بینہ کی منظوری کے بغیر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ پرائیویٹ ممبران بھی بل پیش کرسکتے ہیں لیکن حکومت کی حمایت کے بغیران کا منظور ہونا مشکل ہوتا ہے۔ 
◊   عاملہ کا کنٹرول اور اس کو یقینی بنا نا:  پارلیمنٹ کا سب سے اہم کام شاید اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عاملہ کبھی اپنے اقتدار کے دائر سے باہر نہیں جاسکتی۔ اور ان کے تئیں ذمہ دار بنی رہتی ہے جنہوں نے اس کا انتخاب کیا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں مزید تفصیل سے ہم بعد میں اسی باب میں بحث کریں گے۔
مالیاتی کام :حکومت مختلف امور پر بہت پیسہ خرچ کرتی ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟ ہر حکومت ٹیکس کے ذریعہ سرمایہ جمع کرتی ہے۔ تاہم ایک جمہوریت میں، ٹیکس لگا نے پر مجلسِ قانون ساز کنٹرول رکھتی ہے اور اس طریقہ پر بھی کہ اس پیسہ کا استعمال کیسے ہوتا ہے۔ اگر حکومت ہند کوئی نیا ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کرتی ہے تو اس کو لوک سبھا سے منظوری لینا ہوتی ہے۔اس طرح پارلیمنٹ کے مالیاتی اختیارات میں حکومت کو اپنے پروگراموں پر عمل درآمد کرنے کے لیے وسائل کا اختصاص بھی شامل ہوتا ہے۔ حکومت کتنا پیسہ خرچ کرتی ہے اور کس طرح وسائل میں اضافہ کرنا چاہتی ہے، اس کی تفصیلات لوک سبھا کے سامنے پیش کرنا ہوتی ہیں۔مجلس قانون سازاس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ حکومت نے پیسہ کا غلط استعمال نہیں کیا اور نہ ہی فضول خرچی کی ۔ایسا بجٹ اور سالانہ مالیاتی بیانات کے ذریعہ کیا جاتاہے۔

ایک کارٹون پڑھیے

pic 2 chapter 5
پارلیمنٹ حاکم اعلیٰ ہے اور یہاں وزیر بہت منکسر المزاج دکھائی دے رہے ہیں۔مختلف وزارتوں کو مالی وسائل عطا کرنے کی پارلیمنٹ کی طاقت کا یہ اثر ہے
  • نمائندگی : پارلیمنٹ ملک کے مختلف حصوں کے مذہبی، معاشی، سماجی اور علاقائی گرو ہوں کے مختلف خیالات کی نمائندگی کرتی ہے۔
  • بحث ومباحثہ کا کام: پارلیمنٹ ملک میں بحث ومباحثہ کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اس کے بحث ومباحثہ کے  اختیار پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ممبران کسی بھی موضوع پر بغیرخوف کے بولنے کے لیے آزاد ہیں۔ملک کو درپیش کسی بھی مسئلہ کا تجربہ پارلیمنٹ کے لیے ممکن ہوجاتاہے۔یہ بحث ومباحثے جمہوری فیصلہ سازی کا دل ہیں۔
  • آئینی کام :  پارلیمنٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی لائے اور اس پر بحث کرے۔ دونوں ایوانوں کے آئینی اختیارات یکساں ہیں۔ تمام آئینی تر میمات کو دونوں ایو ا نوں کی اکثریت سے منظوری حاصل ہوتی ہے۔
  • انتخابی کام: پارلیمنٹ کچھ انتخابی کام بھی انجام دیتی ہے۔ یہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرتی ہے۔
  • عدالتی کام: پارلیمنٹ کے عدالتی فرائض میں صدرجمہوریہ،نائب صدر جمہوریہ ہائی کورٹ اور وسپریم کورٹ کے ججوں کو بر طرف کرنے سے متعلق تجاویز پر غور کرنا شامل ہے ۔

راجیہ سبھا کے اختیارات

مندرجہ بالاسطور میں ہم نے ان کاموں پر بحث کی جو پارلیمنٹ عام طور پر انجام دیتی ہے۔ بہرحال دوایوانی مجلس قانون ساز میںدونوں کے اختیارات میں فرق ہوتا ہے۔ نیچے دیے گئے چارٹ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اختیارات کو دکھایا گیا ہے:

لوک سبھا کے اختیارات

  •     مرکزی فہرست اور مشترکہ فہرست میں شامل موضوعات پر قانون بناتی ہے۔ مالیاتی اور غیر مالیاتی بل پیش کرسکتی ہے اور نافذ کرسکتی ہے۔
  •     ٹیکس لگانے، بجٹ اور سالانہ مالیاتی بیان سے متعلق تجاویز کو منظوری دیتی ہے۔
  •    سوالات اوران سے متعلق سوالات کے ذریعہ اورریزویشن، تحریکات اور عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعہ، عاملہ پر کنٹرول کرتی ہے۔
  •   آئین میں ترمیم کرتی ہے۔
  •    ہنگامی حالات کے اعلانیہ کو منظوری دیتی ہے۔
  •    صدرجمہوریہ،نائب صدر جمہوریہ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا تقرر اوربر خاستگی کرتی ہے۔
  •   کمیٹیاں اور کمیشن قائم کرتی ہے اور ان کی رپورٹ پر غور کرتی ہے۔

راجیہ سبھا کے اختیارات

  •     غیر مالیاتی بل پرغور کرتی ہے اور منظوری دیتی ہے۔ اورمالیاتی بل میں ترمیم کی تجویز رکھتی ہے۔
  •    سوالات کے ذریعہ تحریکات اورریزویشن کے ذریعہ عاملہ پر کنٹرول کرتی ہے۔
  • صدر جمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ ، ہائی کورٹ اور سپریم کور ٹ کے ججوں کے تقرر اور برخاستگی کے عمل میں حصہ لیتی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ کو برخاست کرنے میں اکیلے ہی پہل کرسکتی ہے۔
  •    ریاستی فہرست میں شامل موضوعات پر قانون سازی کا اختیار مرکزی پارلیمنٹ کو دے سکتی ہے۔

راجیہ سبھا کے خصوصی اختیارات

جیسا کہ آپ جا نتے ہیں راجیہ سبھا ریاستوں کو نمائندگی دینے کے لیے ایک ادارہ جاتی میکانزم ہے۔ اس کا مقصد ریاستوں کے اختیارات کا تحفظ کرنا ہے۔ لہٰذا ریاستوں سے متعلق کوئی بھی معاملہ ،مشورہ اور منظوری کےلیے اس کو بھیجاجاتا ہے۔ اسی لیے اگر یونین پارلیمنٹ ریاستی فہرست میں شامل کسی موضوع کو جس پر ریاستی مجلس قانون سازقانون بناسکتی ہے مرکزی فہرست یا مشترکہ فہرست میں شامل کر نے کی خواہاں ہواورجوملک وقوم کے مفادات میں ہو اس کے لیے راجیہ سبھا کی منظوری ضروری ہے۔یہ دفعہ راجیہ سبھا کی مضبوطی میں اضافہ کرتی ہے۔ البتہ تجربہ یہ ظاہرکرتا ہے کہ راجیہ سبھا کے ممبران اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی زیادہ کرتے ہیں اوراپنی اپنی ریاستوں کی نمائندگی کم کرتے ہیں۔

اختیارات جوصرف لوک سبھا کوحاصل ہیں: 

راجیہ سبھاکوئی مالیاتی پیش کرسکتی ہے رد نہیں کرسکتی یہاں تک کہ اس میں ترمیم بھی نہیں۔ وزرا کی کونسل لوک سبھا کے تئیں ذمہ دار ہے نہ کہ راجیہ سبھا کے۔ راجیہ سبھا حکومت پر تنقید کر سکتی ہے لیکن اس کو شکست نہیں دے سکتی۔

        کیا آپ وضاحت کرسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ راجیہ سبھا کا انتخاب ایم ایل اے کرتے ہیں نہ کہ براہ راست عوام۔ لہٰذا آئین نے راجیہ سبھا کو اختیارات دینے میں کمی کردی۔ ایک ایسے جمہوری نظام میں جیسا کہ ہمارے آئین نے اختیار کیاہے،عوام ہی آخری اختیار کے مالک ہیں۔ اس دلیل کے ذریعہ عوام کے براہِ راست منتخبہ نمائندے ہی حکومت کو برخاست کرتے ہیں اورمالیات پرکنٹرول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
        باقی دوسرے تمام شعبوں میں، بشمول غیرمالیاتی بِلوں کی منظوری کے، آئینی ترمیمات، صدرجمہوریہ اور نائب صدرجمہوریہ پر مقدمہ چلانے اور معزول کرنے کے اختیارات، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے، برابر ہیں۔

پارلیمنٹ قانون کیسے بناتی ہے؟

مجلس قانون ساز کابنیادی کام اپنے عوام کے لیے قانون بناتا ہوتاہے۔ قانون سازی کے لیے ایک طے شدہ مخصوص طریقۂ کار ہے۔ایسے کچھ طریقے آئین میں مذکورہیں جبکہ کچھ طریقے، روایات اورمشق سے اُبھر کرسامنے آئے ہیں۔کوئی بل قانون سازی کے عمل سے کس طرح گزرتا ہے اس کودیکھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قانون سازی ایک پیچیدہ تکنیکی اور اکتا دینے والا عمل ہے۔

عوام کے فراہم کردہ مسائل

کمیٹی رپورٹ پیش کرتی ہے۔


ایوان رپورٹ کو قبول یارد کرسکتا ہے


ایوان میں بل پر تفصیلی بحث


بل منظور ہوجاتاہے یانامنظور


دوسرے ایوان کو بھیجاجاتاہے


دوسراایوان منظورکرلیتا ہے یا تجویزیں پیش کرتاہے


ضرورت پڑنے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس


صدرجمہوریہ منظور کرتاہے یا نظر ثانی کے لیے واپس کردیتاہے


بل قانون بن جاتاہے۔


بل

غیر مالیاتی بل کسی بھی ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے


بل بحث کے لیے کمیٹی کو بھیج دیاجاتاہے یاخودپارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے۔


کمیٹی رپورٹ پیش کرتی ہے۔


ایک بل،مجوزہ قانون کا مسودہ ہوتاہے۔ بل کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔جب ایک غیررکن ممبر، بل پیش کرتاہے تو یہ پرائیویٹ ممبر کا بل کہلاتا ہے۔ وزیر کے ذریعہ پیش کیا جانے والا بل حکومت کا بل کہلایا جاتا ہے۔

بل کی قسمیں

پرائیویٹ ممبر کے بل

حکومت کے بل
مالیاتی بِل
غیرمالیاتی بل
آئین سے متعلق ترمیمی بل
عام بِل

بل  (Bill)  :  مجوزہ مسودہ قانون جو پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور تمام مرحلوں سے گزرنے کے بعد منظور ہونے کی شکل میں ’’قانون‘‘ کہلاتا ہے۔
اس سے قبل کہ کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے، اس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ضرورت پر بحث ومباحثہ ہوتاہے۔ کوئی سیاسی جماعت،حکومت پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ اس کے ذریعہ، انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی غرض سے یاآنے والے انتخابات میں فتح کے امکانات بڑھانے کے مقصدسے بل پیش کیا جائے۔ متعلقہ گروہ،میڈیا اور شہریوں کی تنظیم، حکومت کوایک خاص قانون بنانے کے لیے راضی کرسکتے ہیں۔لہٰذا قانون سازی محض ایک قانونی عمل نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی عمل بھی ہے۔ ظاہر ہے یہ طاقت کا کھیل ہوتاہے۔ اس بل کی تیاری میں بہت سے قابل لحاظ امورشامل ہوتے ہیں۔ جیسے قانون کو نافذ کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل  یابل کا نتیجہ حمایت کی شکل میں ہوگا یا مخالفت میں، حکمراں جماعت کے انتخابی مستقبل پر اس قانون کا کیا اثر ہوگا، وغیرہ وغیرہ خاص طور پر مخلوط سیاست کے دور میں حکومت کے ذریعہ پیش کردہ بل اتحاد کے ہر ساتھی کو قابل ہوناضروری ہے۔ ایسے قابلِ لحاظ عملی پہلوؤں کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی بھی قانون بنانے سے پہلے کا بینہ ان تمام امور پر غور کرتی ہے۔
ایک دفعہ جب کا بینہ قانون کے پس پردہ حکمتِ عملی کو منظور کرلیتی ہے تو قانون کا مسودہ تیار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔کسی بھی بل کا مسودہ متعلقہ وزارت تیار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بل جس کے ذریعہ لڑکیوں کی شادی کی عمر18سے21سال بڑھاناہے، ا س کووزارتِ قانون تیار کرے گی۔ اس میں وزارتِ خواتین واطفال کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
پارلیمنٹ میں، ایوان کے ممبر کے ذریعہ بل لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں پیش کیا جاتا ہے۔(عام طور، پر، متعلقہ وزیر ہی بل پیش کرتا ہے۔) مالیاتی بل صرف لوک سبھا میں ہی پیش کیاجاسکتا ہے۔ منظور ہونے کے بعد اس کوراجیہ سبھا کو بھیج دیا جاتا ہے۔

ایک کارٹون پڑھیے

pic 5 chapter 5

ٹھیک ہے، چلیے ہم اس معاملہ کو اتفاقِ رائے سے طے کرلیتے ہیں آپ بل کی حمایت کریں گے اور میں مخالفت کروں گا۔
کیا یہی کھیل کے وہ اصول ہیں جو یہ لوگ، اپناتے ہیں؟
پارلیمنٹ میں پیش کردہ بلوں ⁄ مسودوں پر بحث ومباحثہ کا بڑاحصہ کمیٹیوں میں ہوتا ہے پھران کمیٹیوں کی سفارشات پارلیمنٹ کو بھیج دی جاتی ہیں ۔ اس لیے کمیٹیوں کو چھوٹی مجلس قانون ساز کہا جاتاہے۔قانون سازی کے عمل میں یہ دوسرا مرحلہ ہوتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلہ میں بل پر ووٹنگ یا رائے شما ری ہوتی ہے۔ اگر ایک غیرمالیاتی کو ایک ایوان منظور کرلیتا ہے تو یہ دوسرے ایوان کو بھیج دیاجاتاہے۔ جہاںوہ پھراسی عمل سے گزرتا ہے۔
جیسا کہ آپ کو علم ہے کسی بل کو نافذہونے کے لیے دونوں ایوانوں سے منظور ہونالازمی ہے۔ اگر مجوزہ بل پر،دونوں ایوانوں کے مابین اختلاف ہو تو اس کو پارلیمنٹ کے مشتر کہ اجلاس میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔چندمعاملات میں جب کسی تعطل کو ختم کرنے کی غرض سے مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا توفیصلہ ہمیشہ لوک سبھا کی حمایت میں ہی ہوا۔
اگر کوئی بل مالیاتی ہے تو راجیہ سبھایاتواس کو منظور کرلیتی ہے یااس میں تبدیلی کی تجویز رکھتی ہے لیکن اس کو ردنہیں کرسکتی۔ اگر یہ ایوان14دن کے اندر کوئی فیصلہ نہیں لیتا توبل خود بخود منظور تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ راجیہ سبھا کے ذریعہ مجوزہ ترمیم کو لوک سبھا منظور بھی کرسکتی ہے اور نا منظور بھی۔

دفعہ109: مالیاتی بل کے متعلق خصوصی طریقۂ کار
(1)  مالیاتی بل راجیہ سبھا میں پیش نہیں ہوگا۔
جب کوئی بِل دونوں ایوانون کے ذریعہ منظور ہوجاتا ہے تو یہ صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بھیجا جاتاہے۔ صدر جمہوریہ کی منظوری اس بِل کو قانون کی شکل دے دیتی ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجئے

  •    قانون سازی کے عمل کے مدِّ نظرآپ کے خیال میں کیا پارلیمنٹ، بلوں پر بحث کے لیے زیادہ وقت وقف کرسکتی ہے؟ اگر نہیں، توان مشکلات پر قابوپانے کے لیے آپ کیا تجویز کریں گے؟

پارلیمنٹ کس طرح عاملہ پر نگرانی رکھتی ہے؟

پارلیمانی جمہوریت میں عاملہ اس سیاسی جماعت یا جماعتی اتحاد سے بنائی جاتی ہے جس کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہوتی ہے۔اکثریتی جماعت کی حمایت سے عاملہ کے لیے غیر محدود اور آمرانہ اختیارات کااستعمال مشکل نہیں ہوتا۔ ایسی صورتِ حال میں پارلیمانی جمہوریت ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہوسکتی ہے جہاں کا بینہ سربراہی کرتی ہے اور ایوان اس کی پیروی کرتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ چُست ومستعد ہے تو عاملہ پرمستقل اور موثر نگرانی رکھ سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ عاملہ کی نگرانی کے بہت سے طریقے ہیں لیکن ان سب میں بنیادی طریقہ ہے :بحیثیت عوامی نمائند گان ممبران پارلیمنٹ کے اختیاراور آزادی تاکہ وہ موثراوربلاخوف کام کرسکیں۔
        عوامی نمائندوں کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے لیے،ممبران پارلیمنٹ کو خصوصی اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے مثال کے طور پر حکومت کی حکمتِ عملیوں پرآزادانہ بحث کرنے، تنقیدکرنے اور تجریہ کرنے کاانہیں حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ممبران پارلیمنٹ کو حاصل خصوصی اختیارات کے پارلیمانی مراعات کہا جاتاہے۔
        مجلسِ قانون ساز کے صدر کو پارلیمانی مراعات کی خلاف ورزی کے معاملات طے کرنے کا آخری اختیارحاصل ہے۔
          ان مراعات کا خاص مقصد یہ ہے کہ مجلسِ قانون ساز کے ممبران کو عوام کی نمائندگی کرنے اور عاملہ پر موثر نگرانی رکھنے کے قابل بنایا جائے۔ پارلیمنٹ کس طرح نگرانی کا کام کرتی ہے۔ اس کے پاس کون سے طریقے ہیں؟کیا عاملہ کی زیادتیوں کو قابومیں رکھنے میں پارلیمنٹ کامیاب ہے؟

pic 6 chapter 5
اتنے زیادہ نیش زن آپریشنوں کے باوجود ممبران پارلیمنٹ کچھ بھی اور کہیں بھی بول دینے کے لیے آزاد ہیں۔

پارلیمانی نگرانی کے آلات

پارلیمانی نظام میں مجلسِ قانون ساز مختلف مرحلوں پر عاملہ کی جواب دہی کو یقینی بناتی ہے۔ جیسے حکمتِ عملی تیار کرنا، قانون یاحکمت ِعملی (پالیسی) کو نافذ کرنا، نافذ کرنے کے دوران یا اس کے بعد یہ کام مجلسِ قانون ساز مختلف طریقوں سے انجام دیتی ہے۔
  • بحث ومباحثہ
  • قوانین کی منظوری یا نامنظوری
  • مالیاتی نگرانی
  • عدم اعتمادکی تحریک

بحث ومباحثہ:

        قانون سازی کے عمل کے دوران مجلس قانون ساز کے ممبران کو عاملہ کی حکمتِ عملی کے بارے میں ہدایات اور جس طریقہ سے ان کو نافذ کیا جائے گا ان طریقوں پربحث کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مسودوں پر بحث ومباحثہ کے علاوہ ایوان میں عام بحث کے دوران بھی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ وقفۂ سوال(1)جو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ہر دن ہوتاہے۔اس دوران ممبران کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات کا متعلقہ وزیر کو جواب دینا ہوتا ہے۔ وقفۂ صفر،(2) جس میں ممبران ایسا کوئی بھی معاملہ اٹھانے کے لیے آزاد ہوتے ہیں جوان کی نظر میں اہمیت رکھتا ہو (حالاں کہ وزیر، جواب دہی کے پابند نہیں ہوتے)عوامی اہمیت کے حامل معاملات پر آدھا گھنٹہ کی بحث کی تحریک التوا(3) وغیرہ ، نگرانی کے کچھ آلات ہیں۔
        عاملہ اورحکومت کے اداروں پر نگہداشت کا سب سے موثر طریقہ شاید وقفۂ سوال ہے اس وقفۂ سوال میں ممبران پارلیمنٹ نے ہمیشہ ہی دل چسپی ظاہر کی ہے اور اسی موقعہ پر ایوان میں حاضری سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔زیادہ تر سوالات کا مقصد حکومت سے عوامی اہمیت کے مسائل پر اطلاعات حاصل کرنا ہوتا ہے جیسے قیمتوں میں اضافہ، غلّہ کی دستیابی، معاشرہ کے کمزور طبقوں پر مظالم، فسادات، کالابازاری وغیرہ۔یہ نہ صرف ممبران کو، حکومت پر تنقید کرنے اور اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے عوام کے مسائل پر نمائندگی کرنے کا موقع دیتے ہیں بلکہ وقفۂ سوال کے دوران، بعض اوقات بحث اس قدر گرما گرم ہوتی ہے کہ ممبران کی آواز بلند ہوجاتی ہے، وہ ایوان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہونچ جاتے ہیں یا اپنا نقطۂ نظر زوردار طریقہ سے پیش کرنے کے لیے ایوان سے واک آوٹ کرجاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان میں سے بہت سے اقدامات محض سیاسی ترکیبوں کے طور پر لیے جاتے ہیں تاکہ حکومت سے رعایتیں حاصل کی جائیں اور اس عمل کے دوران عاملہ پر جواب دہی کا دباؤ ڈالا جاسکے۔
pic 7 chapter 5
وزیر ہونا بہت مشکل ہے ،یہ ہر روز امتحان دینے کے مترادف ہے ۔

وقفۂ سوال   : Question Hour
وقفہ صفر : Zero Hour
تحریکِ التوا : Adjournment Motion

قوانین کی منظوری اور تصدیق

 تصدیق کے اختیار کے ذریعہ بھی پارلیمانی نگرانی کی جاسکتی ہے۔کوئی بل اسی وقت قانون بن سکتا ہے۔ جب اس کو پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہو وہ حکومت جس کو ایک باضابطہ اکثریت کی حمایت حاصل ہو، اس کے لیے مجلسِ قانون ساز کی منظوری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا۔اس طرح کے اختیارات بغیرثبوت کے فرض کرلیے جاتے ہیں حکمراں جماعت کے ممبران یا مخلوط حکومتوں کے مابین، یہاں تک کہ حکومت اور حزبِ اختلاف(1)  کے درمیان سنجیدہ قسم کی بات چیت اور باہمی لین دین کے نتیجہ میں بہت سے قانون منظور ہوتے ہیں۔اگر حکومت کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اور راجیہ سبھا میں نہیں ہے جیسا کہ 1977 کے جنتا دورِحکومت اور 2000 میں N.D.A  حکومت کے عہد میں ہوچکا ہے تو حکومت کو دونوں ایوانوں سے منظوری حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ رعایتیں دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔بہت سے مسودے (Bill) جیسے خواتین کے لیے ریزویشن بل، لوک پال بل پاس ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں۔تشدد کے خاتمہ کا بل (2002)  راجیہ سبھا کے ذریعہ نا منظور ہوچکا ہے۔

مالیاتی نگرانی:

        جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ اپنے پروگرام نافذ کرنے کے لیے حکومت کے مالی وسائل، بجٹ میں مختص کیے جاتے ہیں۔مجلسِ قانون ساز سے بجٹ کی منظوری کے لیے بجٹ تیار کرنا اور پیش کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے۔دراصل یہ ذمہ داری مجلسِ قانون ساز کوموقع دیتی ہے کہ کس طریقہ سے حکومت کی جیب یا پاکٹ کو بندشوں سے جکڑا جائے۔مجلسِ قانون ساز حکومت کو پیسہ دینے سے انکار کرسکتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کیوں کہ عام طور پر حکومت کو مجلسِ قانون ساز میں اکثریت حاصل ہوتی ہے۔لہٰذا رقم مخصوص کرنے سے پہلے لوک سبھا اُن وجوہات پر غورکرتی ہے جس کے لیے حکومت کو رقم درکار ہے۔کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کی بنیاد پر فنڈ کے غلط استعمال کی تحقیقات بھی کرسکتی ہے لیکن مالیاتی نگرانی کے معنی مالیات کو قبضہ میں رکھے رہنا نہیں ہے۔مجلسِ قانون ساز کو حکومت کی حکمتِ عملیوں کی بھی فکرہوتی ہے جن کا عکس بجٹ میں نظرآتا ہے۔مالیاتی نگرانی کے ذریعہ مجلس قانون ساز، حکومت کی حکمتِ عملی پر نگرانی رکھتی ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک:

         عاملہ کی جواب دہی کو یقینی بنانے میں پارلیمنٹ کا سب سے طاقت ور ہتھیار عدم اعتماد کی تحریک ہے۔حکومت کو جب تک اپنی جماعت یا مخلوط جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اس وقت تک ایوان کے ذریعہ کسی بھی حکومت کو معطًل کرنے کا اختیار محض افسانوی ہے نہ کہ حقیقی۔البتہ 1989کے بعد کئی حکومتوں کو اس لیے مستعفی ہونا پڑا کیوں کہ انہوں نے عوام کا اعتماد کھودیا تھا۔ان میں سے ہر ایک حکومت نے لوک سبھا کا اعتماد کھودیا تھا کیوں کہ وہ اپنے مخلوط حصّہ داروں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے تھے۔
        اس طرح پارلیمنٹ عاملہ کی نگرانی اور ایک ذمہ دار حکومت کو یقینی بناسکتی ہے۔لیکن اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایوان کے پاس کافی وقت ہو، ممبران کو بحث ومباحثہ میں شریک ہونے اور موثر طریقہ سے حصّہ لینے میں دل چسپی اور حکومت وحزبِ اختلاف کے درمیان مصالحت کی خواہش ہو۔پچھلی دو دہائیوں میں لوک سبھا اور ریاستی مجالس قانون ساز کے اجلاس اور بحث پر خرچ کیے گئے وقت میں آہستہ آہستہ کمی آئی ہے۔مزید یہ کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کورم پورا نہ ہونے کا شکاررہتے ہیں جس سے بحث کے ذریعہ عاملہ پر ایوان کو نگرانی کافی حد تک متاثر ہوتی ہے۔

سرگرمی

دوردرشن کے ذریعہ پیش کردہ پارلیمنٹ کے اجلاس کی کاروائی کا تین دن لگاتار مشاہدہ کیجیے یا اخبارات کی رپورٹ اکٹھا کیجیے اور ایک وال پیپر بنائیے۔بحث کے موضوعات، اسپیکرکے کردار، پوچھے گئے سوالات، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اوراپنے علاقہ کے نمائندوں کے ذریعہ بحث —پر غور اور احتیاط سے نظر رکھیے۔ کیا یہ بحث قومی اور علاقائی نوعیت کی تھی؟

ایک کارٹون پڑھیے

pic 8 chapter 5
ایوان کے پچاس سال
تمہیں پارلیمنٹ سے متعلق کوئی سوال تو نہیں کرناہے؟
بتائیے، پچھلے پچاس سالوں میں پارلیمنٹ سے کل کتنے واک آؤٹ ہوئے؟
ممبر پارلیمنٹ
 حکومت کے خلاف احتجاج ظاہر کرنے کے لیے حزب اختلاف کے ذریعہ عام طور پر واک آؤٹ کیے جاتے ہیں۔ کیا اس ہتھیار کا ضرورت سے زیادہ استعمال تو نہیں ہورہا؟

پارلیمانی کمیٹیاں کیا کام کرتی ہیں؟

      قانون سازی کےعمل کا ایک اہم پہلو ہے: قانون سازی کے مختلف مقاصد کے لیے کمیٹیوں کا قیام ۔ یہ کمیٹیاں نہ صرف قانون سازی میں بلکہ ایوان کے روزمرہّ کے کام کاج میں بھی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اجلاس کے دوران  پارلیمنٹ کے پاس محدود وقت ہوتا ہے اس لیے قانون سازی کے لیے اہم معاملات اور مسائل کی گہرائی کے ساتھ مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کام کے لیے زیادہ توجہ اور وقت چاہیے۔اسی طرح کچھ اور اہم کام بھی ہوتے ہیں جیسے مختلف وزارتوں کے ذریعہ مطلوبہ رقم کا مطالعہ کرنا، مختلف شعبوں کے اخراجات پرنظر رکھنا، پارلیمنٹ کے ممبران کی حاضری پر نگاہ رکھنا، بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کرنا وغیرہ ۔یہ سب کام پارلیمانی کمیٹیاں انجام دیتی ہیں۔ 1983 سے ہندوستان نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا نظام قائم کیا ہے۔ مختلف شعبوں سے متعلق ایسی بیس کمیٹیاں موجود ہیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے کام ہیں:مختلف شعبوں کے کام کاج کی نگرانی کرنا اور ان کے بجٹ، اخراجات اور ایوان میں پیش کیے جانے والوں متعلقہ بلوں کی جانچ پڑتال کرنا۔
       اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے علاوہ، ہمارے ملک میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں نے ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ایک مخصوص مسودہ پر بحث کرنے، جیسے کسی مسودہ پر ایک مشترکہ کمیٹی بحث کرتی ہے،یا مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کرنے کے لیے دفاعی گھوٹالہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ دونوں ایوان سے ان کمیٹیوں کے لیے ممبران کا انتخاب کیا ہے۔
       کمیٹی نظام نے پارلیمنٹ کے بوجھ کو بہت کم کردیا ہے ۔ بہت سے مسودے(Bills)کمیٹیوں کو بھیج دیےجاتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا کام جن کمیٹیوں کے ذریعہ کیے گئے کام میں محض کچھ ترمیم کے ساتھ منظور کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے قانونی نقطئہ نظر سے کوئی مسودہ اس وقت تک قانون نہیں بن سکتا جب تک کہ پارلیمنٹ ا س کو منظورنہ کرلے۔ لیکن ایسا بھی بہت کم ہوتا ہے کہ ان کمیٹیوں کے کام کو پارلیمنٹ رد کردے۔

pic 9 chapter 5
’’ مجلس قانون ساز کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ پابندیاں صرف اس کے طریقۂ کار پر ہیں لیکن حقیقت میں ایسی کوئی پابندی یا کوئی حدبندی، مجلسِ قانون ساز یا پارلیمنٹ پر نہیں ہے ۔‘‘
این۔وی۔گاؤگل

پارلیمنٹ خود کو قانون کا پابند کیسے بناتی ہے؟

       جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے پارلیمنٹ بحث ومباحثہ کامقام ہے۔ اپنے تمام اہم کام پارلیمنٹ بحث ومباحثہ کے ذریعہ انجام دیتی ہے۔ اس طرح کے بحث ومباحثے با معنی اور باضابطہ ہوتے ہیں تاکہ پارلیمنٹ کا کام روانی وآسانی سے ہوتارہے اور اس کاوقار بھی قائم رہے۔ خود آئین نے بعض ایسی دفعات طے کی ہیں جو کام کاج کو آسانی بناتی ہیں۔ مجلسِ قانون ساز کے کام کاج کو باضابطہ بنانے میں اجلاس کے صدر کا فیصلہ آخری مانا جاتا ہے۔

pic 10 chapter 5

اس طرح، قانون ساز بھی، کچھ قوانین کے پابند ہوتے ہیں!

 ایک کارٹون پڑھیے

pic 11 chapter 5
’’واک آؤٹ نہیں، آؤٹ کیےگئے ہیں‘‘
یہ ممبران پارلیمنٹ واک آوٹ نہیں کر رہے ہیں، انھیں باہر جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ آپ کی رائے میں ایسے حالات کیوں رونما ہوتے ہیں؟

 ایک اور طریقہ ہے جس کے ذریعہ ممبران پارلیمنٹ کے برتاؤ کو باضابطہ بنایا جاتا ہے۔ آپ نے ’’انحراف مخالف قانون‘‘ کے بارے میں سُنا ہوگا۔ مجالس قانون ساز کے زیادہ ترممبران کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے ہیں اگروہ ،منتخب ہونے کے بعد اپنی جماعت یا پارٹی کو چھوڑدیں تو کیا ہوگا؟ آزادی کے بعدبہت سالوں تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ آخر کار سیاسی جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہوا کہ اگر کوئی قانون ساز یا ممبر اپنی سیاسی جماعت سے منتخب ہونے کے بعد دوسری سیاسی جماعت میں جانا  چا ہے گا تو اس کو’’ انحراف‘‘ سے رو کا جائے گا۔ اس مقصدکے لیے آئین میں ترمیم (52ویں) کی گئی۔ اس کو انحراف مخالف قانون (Anti-Defection Law) کہا جاتا ہے۔ ایوان کے اجلاس کا صدر اس طرح کے معاملہ میں قطعی اختیار رکھتا ہے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی ممبر نے ’’انحراف‘‘ کیا ہے تو اس کی ایوان کی رکنیت ⁄ ممبرشپ ختم ہو جا ئے گی۔ اس کےعلاوہ کوئی بھی سیاسی عہدہ جیسے وزارت وغیرہ میں قائم رہنے کےلیے ایسے شخص کو نا اہل قرار دےدیاجائے گا۔

انحراف کیا ہے؟جس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس ہو رہا ہو اور جماعت نے اپنے ممبر کو ایوان میں حاضررہنے کی ہدایت دی ہو۔ پھر بھی وہ شخص ایوان سے غیر حاضر ہوتا ہے یا جماعت کی ہدایت کے بر خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کرتا ہے،اپنی مرضی سے رکنیت چھوڑدیتا ہے ، اس عمل کو’ انحراف‘(Defection)کہتے ہیں۔

گزشتہ بیس سال کا تجربہ یہ ظاہرکرتا ہے کہ انحراف مخالف قانون ،انحراف کی برائی کو ختم کرنے میں نا کام رہا ہے لیکن اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ایک اضافی اختیار حاصل ہو گیا ہے ۔ اجلاس کے صدر کو بھی ممبران پر کنٹرول کا اختیار مل گیا ہے ۔

c5-1
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر وہ اپنی جماعت کیوں بدلتے ہیں؟ ایک بار چھوڑنے کے بعد کیا وہ دوبارہ اپنی جماعت میں آسکتے ہیں

اختتام

کیا آپ نے پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست ٹیلی ویژن پر دیکھی ہے؟آپ پائیں گے کہ ہماری پارلیمنٹ ملک کے مختلف حصوں کی نشاند ہی کرتی مختلف رنگوں کے لباسوں کی ایک قوسِ قزح (Rainbow) ہے۔ پارلیمنٹ کی کاروائی کے دوران ممبران مختلف زبانیں بولتے ہیں وہ مختلف ذاتوں، مذ ہبوں اور فرقوں سے آتے ہیں ،اکثر تلخ لہجہ میں ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں ۔اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ قوم کا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں لیکن اس باب میں ہم نے دیکھا کہ یہی ممبرانِ پارلیمنٹ عاملہ پر موثر نگرانی رکھ سکتے ہیں ۔وہ ہمارے معاشرہ کے مختلف طبقات کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنی تشکیل کی بنا پرمجلس قانون سازحکومت کے تمام اعضا میں سب سے زیادہ نمائندہ جماعت ہے۔مختلف معاشرتی پس منظرسے تعلق رکھنے والے ممبران کی موجودگی ہی مجالس قانون ساز کو زیادہ نمائندہ اور عوام کی توقعات کےتئیں زیادہ ذمہ دار بناتی ہے ۔پارلیمانی جمہوریت میں،مجلس قانون ساز ایک ایسی جماعت ہے جو عوام کی آرزوؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے طاقت اور ذمہ داری کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائزہے۔ اسی میں پارلیمنٹ کی جمہوری افادیت پوشیدہ ہے۔

مشق

آلوک کا خیال ہے کہ ملک کو ایسی کارگرحکومت کی ضرورت ہے جو عوام کی فلاح کا خیال رکھے ۔گویا اگر ہم اپنے وزیراعظم اور وزراء کا سادگی سے انتخاب کریں اور حکومت کے کام ان پر چھوڑدیں ،تو ہمیں مجلس قانون ساز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں ؟اپنے جواب کی حمایت میں دلیلیں دیجیے۔

ایک اسکولی جماعت دو ایوانی نظام کی خوبیوں پر بحث کر رہی تھی۔بحث کے دوران درج ذیل نقطے سامنے آئے ۔ان دلائل کو پڑھیے اور بتائیے کہ ان میں سے کس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور کس سے اتفاق نہیں کرتے۔وجوہات بھی بتائیے:

حنانے کہا کہ دو ایوانی نظام کوئی مقصد پورا نہیں کرتا۔

شمع نے دلیل پیش کی کہ ایوانِ بالا میں ماہرین کی نا مزدگی ہونی چاہیے۔

تری دیب نے کہا کہ اگر ملک میں دفاقیت نہیں ہے تو ایوانِ بالاکی ضرورت نہیں ہے۔

راجیہ سبھا کے مقابلہ میں لوک سبھازیادہ موثر طریقہ سے عاملہ کی نگرانی کیوں کر سکتی ہے؟

عاملہ پر موثر نگرانی کے علاوہ عام جذبات اور عوام کی توقعات ظاہر کرنے کابہترین مقام لوک سبھا ہے ۔کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟وجوہات بتائیے ۔

درج ذیل کچھ تجاویز پارلیمنٹ کو زیادہ موثر بنانے کے لیے دی گئی ہیں۔بیان کیجیے آپ ان میں سے کس سے اتفاق کرتے ہیں اور کیوں ؟وجوہات بھی بتائیے۔وضاحت کیجیے ۔

√  اگر ان تجویزوں کو تسلیم کر لیا جائے تو کیا اثر ہوگا۔

   پارلیمنٹ کو مزید طویل عرصہ تک کام کرنا چاہیے۔

     ممبران پارلیمنٹ کی حاضری ضروری قرار دی جائے۔

   اسپیکر کو اختیار ملنا چاہیے کہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والے ممبران پر جرمانہ عائد کر سکیں۔

عارف جاننا چاہتاتھا کہ کیا وزیرزیادہ تر بل پیش کرتے ہیں اور اگر اکثریت کی حمایت کے ساتھ حکومت کسی بل کو منظور کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو قانون سازی میں پارٹی کا کیا رول باقی رہ گیا؟

آپ اس کو کیا جواب دیں گے۔

مندرجہ ذیل بیانات میں سے کس بیان سے آپ سب سے زیادہ اتفاق کرتے ہیں؟وجوہات پیش کیجیے:

     √           قانون سازوں کو اپنی مرضی سے کسی بھی جماعت میں شامل ہونے کی آزادی ملنی چاہیے۔

     انحراف مخالف قانون نے جماعت کے سر براہان کے ممبران پر حاوی رہنے میں مدد کی ہے۔

     √         انحراف ہمیشہ ذاتی مفادات کے لیے ہوتا ہے ۔لہٰذا جو قانون ساز دوسری جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہے اسکو اگلے دو سالوں کے لیے وزیر بننے سے روکا جانا چاہیے۔

ڈولی اور ْسدھا موجودہ دور میں پارلیمنٹ کی کار کردگی اور تاثیر کے متعلق بحث کر رہی ہیں۔ڈولی کو یقین ہے کہ لوک سبھا کا زوال بحث ومباحثہ پر کم وقت خرچ کرنے پارلیمینٹ کی کاروائی کے دوران گڑبڑ ہونے، جیسے واک آؤٹ وغیرہ میں ظاہر ہوتا ہے ۔سدھا کی دلیل ہے کہ پارلیمینٹ میں مختلف حکومتوں کی بر خاستگی اس کے گوناگوں ہونے کا ثبوت ہے ۔ڈولی اور سدھا کے نقطۂ نظر کی حمایت یا مخالفت کرنے کے لیے آپ کیا دلائل دیں گے؟

قانون سازی کے عمل میں مختلف مراحل کو صحیح ترتیب سے لکھیے:

   کسی بل پر بحث کی اجازت دینے کے لیے ایک قرار داد پاس کی جاتی ہے۔

   کوئی بل صدر جمہوریہ کے یہاں بھیجا جاتا ہے۔تحریر کیجیے کہ اگر وہ اس پر دستخط نہ کرے تو کیا ہوگا؟

   بل دوسرے ایوان کو بھیج دیا جاتا ہے اور وہ منظور ہوجاتا ہے۔

   جس ایوان میں بل پیش کیا گیا، اسی میں منظور بھی ہوجاتا ہے۔

    ہر دفعہ کو اچھی طرح پڑھایا گیا تب اس پر ووٹنگ ہوئی۔

10۔ بل، سب کمیٹی (Sub-Committee)  کو بھیج دیا جاتا ہے، کمیٹی اس میں کچھ تبدیلیاں لاتی ہے اور بحث کے لیے واپس ایوان میں بھیج دیتی ہے۔

وزارت قانون میں قانون سازی کا شعبہ نئے قانون کا خاکہ تیار کرتا ہے۔

پارلیمنٹ کے قانون سازی کے کام کی تعریف پر کمیٹی نظام نے کیا اثر ڈالا ہے۔