
باب 5
مجلسِ قانون ساز
تمہید
- مجلسِ قانون ساز کی اہمیت کیا ہے؟
- ہند کی پارلیمنٹ کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟
- قانون سازی کا عمل کیا ہوتا ہے؟
- پارلیمنٹ کس طرح عاملہ کو کنٹرول کرتی ہے ؟
- پارلیمنٹ خود کو کس طرح باضابطہ بناتی ہے؟
ہمیں پارلیمنٹ کی ضرورت کیوں ہے؟
سرگرمی
ہمیں دو ایوانی پارلیمنٹ کی ضروت کیوں ہے؟
ہندوستان
ایوان بالا
راجیہ سبھا
جرمنی میں دوایوانی نظام
جرمنی میں دوایوانی (Bicameral)نظام ہے۔وہاں ایک ہاؤس کو وفاقی اسمبلی یا فیڈرل اسمبلی کہتے ہیں۔ اور دوسرے کو وفاقی کونسل(Bundestag)کہتے ہیں۔ اسمبلی کا انتخاب ایک پیچیدہ طریقہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس میں راست اور تناسبی نمائندگی دونوں شامل ہیں اور یہ انتخاب4سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے۔
جرمنی وفاقی کونسل میں 16وفاقی ریاستوں (States)کی نمائندگی ہے۔ Bundesratکی 69سیٹیں آبادی کی بنیاد پر ان ریاستوں میں تقسیم کردی گئی ہیں۔یہ ممبر عام طور پر ریاستی سطح پر حکومت کے وزرا ہوتے ہیں اور ان کو وفاقی ریاستوں کی حکومتیں مقرر کرتی ہیں اور یہ منتخب نہیں کیے جاتے ہیں۔ جرمنی کے قانون کے مطابق کسی ریاست (State) کے تمام ممبر ریاستی حکومتوں کی ہدایات پر ایک بلاک کے طور پر ووٹ دیتے ہیں کبھی کبھی ریاستی سطح پر مخلوط حکومت(Coalition Government) ہونے کی وجہ سے ان میں کسی ایک بات پر اتفاق نہیں ہوپاتا ایسی صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ووٹ نہ دیں۔
Bundesrat قانون سازی کے تمام ہی امورمیں ووٹ نہیں کرتی لیکن وہ تمام پالیسی امور جن کے سلسلے میں وفاقی ریاستوں کو Concurrentاختیارات حاصل ہیں۔ اورجن کی وفاقی قانون سازی ان کی ذمہ داری ہے۔ اسی Bundesratکے ذریعے پاس ہوتے ہیں۔Bundesrat ایسی تمام قانون سازی کو ویٹوبھی کر سکتی ہے۔
سر گرمی
لوک سبھا
اپنی معلومات چیک کیجئے
- آپ کے خیال میں کیا راجیہ سبھا کی تشکیل نے ہندوستان میں
- راجیہ سبھا کے لیے کیا بالواسط طریقہ کی بجائے براہ راست طریقہ
- 1971 سے لوک سبھا کے ممبران کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔
پارلیمنٹ کیا کام کرتی ہے؟
ایک کارٹون پڑھیے
- نمائندگی : پارلیمنٹ ملک کے مختلف حصوں کے مذہبی، معاشی، سماجی اور علاقائی گرو ہوں کے مختلف خیالات کی نمائندگی کرتی ہے۔
- بحث ومباحثہ کا کام: پارلیمنٹ ملک میں بحث ومباحثہ کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اس کے بحث ومباحثہ کے اختیار پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ممبران کسی بھی موضوع پر بغیرخوف کے بولنے کے لیے آزاد ہیں۔ملک کو درپیش کسی بھی مسئلہ کا تجربہ پارلیمنٹ کے لیے ممکن ہوجاتاہے۔یہ بحث ومباحثے جمہوری فیصلہ سازی کا دل ہیں۔
- آئینی کام : پارلیمنٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی لائے اور اس پر بحث کرے۔ دونوں ایوانوں کے آئینی اختیارات یکساں ہیں۔ تمام آئینی تر میمات کو دونوں ایو ا نوں کی اکثریت سے منظوری حاصل ہوتی ہے۔
- انتخابی کام: پارلیمنٹ کچھ انتخابی کام بھی انجام دیتی ہے۔ یہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرتی ہے۔
- عدالتی کام: پارلیمنٹ کے عدالتی فرائض میں صدرجمہوریہ،نائب صدر جمہوریہ ہائی کورٹ اور وسپریم کورٹ کے ججوں کو بر طرف کرنے سے متعلق تجاویز پر غور کرنا شامل ہے ۔
راجیہ سبھا کے اختیارات
لوک سبھا کے اختیارات
- مرکزی فہرست اور مشترکہ فہرست میں شامل موضوعات پر قانون بناتی ہے۔ مالیاتی اور غیر مالیاتی بل پیش کرسکتی ہے اور نافذ کرسکتی ہے۔
- ٹیکس لگانے، بجٹ اور سالانہ مالیاتی بیان سے متعلق تجاویز کو منظوری دیتی ہے۔
- سوالات اوران سے متعلق سوالات کے ذریعہ اورریزویشن، تحریکات اور عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعہ، عاملہ پر کنٹرول کرتی ہے۔
- آئین میں ترمیم کرتی ہے۔
- ہنگامی حالات کے اعلانیہ کو منظوری دیتی ہے۔
- صدرجمہوریہ،نائب صدر جمہوریہ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا تقرر اوربر خاستگی کرتی ہے۔
- کمیٹیاں اور کمیشن قائم کرتی ہے اور ان کی رپورٹ پر غور کرتی ہے۔
راجیہ سبھا کے اختیارات
- غیر مالیاتی بل پرغور کرتی ہے اور منظوری دیتی ہے۔ اورمالیاتی بل میں ترمیم کی تجویز رکھتی ہے۔
- سوالات کے ذریعہ تحریکات اورریزویشن کے ذریعہ عاملہ پر کنٹرول کرتی ہے۔
- صدر جمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ ، ہائی کورٹ اور سپریم کور ٹ کے ججوں کے تقرر اور برخاستگی کے عمل میں حصہ لیتی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ کو برخاست کرنے میں اکیلے ہی پہل کرسکتی ہے۔
- ریاستی فہرست میں شامل موضوعات پر قانون سازی کا اختیار مرکزی پارلیمنٹ کو دے سکتی ہے۔
راجیہ سبھا کے خصوصی اختیارات
اختیارات جوصرف لوک سبھا کوحاصل ہیں:
راجیہ سبھاکوئی مالیاتی پیش کرسکتی ہے رد نہیں کرسکتی یہاں تک کہ اس میں ترمیم بھی نہیں۔ وزرا کی کونسل لوک سبھا کے تئیں ذمہ دار ہے نہ کہ راجیہ سبھا کے۔ راجیہ سبھا حکومت پر تنقید کر سکتی ہے لیکن اس کو شکست نہیں دے سکتی۔
پارلیمنٹ قانون کیسے بناتی ہے؟
| عوام کے فراہم کردہ مسائل |
↓
کمیٹی رپورٹ پیش کرتی ہے۔
↓
ایوان رپورٹ کو قبول یارد کرسکتا ہے
↓
ایوان میں بل پر تفصیلی بحث
↓
بل منظور ہوجاتاہے یانامنظور
↓
دوسرے ایوان کو بھیجاجاتاہے
↓
دوسراایوان منظورکرلیتا ہے یا تجویزیں پیش کرتاہے
↓
ضرورت پڑنے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
↓
صدرجمہوریہ منظور کرتاہے یا نظر ثانی کے لیے واپس کردیتاہے
↓
بل قانون بن جاتاہے۔
| بل |
↓
غیر مالیاتی بل کسی بھی ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے
↓
بل بحث کے لیے کمیٹی کو بھیج دیاجاتاہے یاخودپارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے۔
↓
کمیٹی رپورٹ پیش کرتی ہے۔
| بل کی قسمیں |
پرائیویٹ ممبر کے بل
بل (Bill) : مجوزہ مسودہ قانون جو پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور تمام مرحلوں سے گزرنے کے بعد منظور ہونے کی شکل میں ’’قانون‘‘ کہلاتا ہے۔
ایک کارٹون پڑھیے
کیا یہی کھیل کے وہ اصول ہیں جو یہ لوگ، اپناتے ہیں؟
اپنی معلومات چیک کیجئے
- قانون سازی کے عمل کے مدِّ نظرآپ کے خیال میں کیا پارلیمنٹ، بلوں پر بحث کے لیے زیادہ وقت وقف کرسکتی ہے؟ اگر نہیں، توان مشکلات پر قابوپانے کے لیے آپ کیا تجویز کریں گے؟
پارلیمنٹ کس طرح عاملہ پر نگرانی رکھتی ہے؟
پارلیمانی نگرانی کے آلات
- بحث ومباحثہ
- قوانین کی منظوری یا نامنظوری
- مالیاتی نگرانی
- عدم اعتمادکی تحریک
بحث ومباحثہ:
قوانین کی منظوری اور تصدیق
مالیاتی نگرانی:
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ اپنے پروگرام نافذ کرنے کے لیے حکومت کے مالی وسائل، بجٹ میں مختص کیے جاتے ہیں۔مجلسِ قانون ساز سے بجٹ کی منظوری کے لیے بجٹ تیار کرنا اور پیش کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے۔دراصل یہ ذمہ داری مجلسِ قانون ساز کوموقع دیتی ہے کہ کس طریقہ سے حکومت کی جیب یا پاکٹ کو بندشوں سے جکڑا جائے۔مجلسِ قانون ساز حکومت کو پیسہ دینے سے انکار کرسکتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کیوں کہ عام طور پر حکومت کو مجلسِ قانون ساز میں اکثریت حاصل ہوتی ہے۔لہٰذا رقم مخصوص کرنے سے پہلے لوک سبھا اُن وجوہات پر غورکرتی ہے جس کے لیے حکومت کو رقم درکار ہے۔کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کی بنیاد پر فنڈ کے غلط استعمال کی تحقیقات بھی کرسکتی ہے لیکن مالیاتی نگرانی کے معنی مالیات کو قبضہ میں رکھے رہنا نہیں ہے۔مجلسِ قانون ساز کو حکومت کی حکمتِ عملیوں کی بھی فکرہوتی ہے جن کا عکس بجٹ میں نظرآتا ہے۔مالیاتی نگرانی کے ذریعہ مجلس قانون ساز، حکومت کی حکمتِ عملی پر نگرانی رکھتی ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک:
سرگرمی
ایک کارٹون پڑھیے
پارلیمانی کمیٹیاں کیا کام کرتی ہیں؟
پارلیمنٹ خود کو قانون کا پابند کیسے بناتی ہے؟
ایک کارٹون پڑھیے

اختتام
کیا آپ نے پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست ٹیلی ویژن پر دیکھی ہے؟آپ پائیں گے کہ ہماری پارلیمنٹ ملک کے مختلف حصوں کی نشاند ہی کرتی مختلف رنگوں کے لباسوں کی ایک قوسِ قزح (Rainbow) ہے۔ پارلیمنٹ کی کاروائی کے دوران ممبران مختلف زبانیں بولتے ہیں وہ مختلف ذاتوں، مذ ہبوں اور فرقوں سے آتے ہیں ،اکثر تلخ لہجہ میں ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں ۔اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ قوم کا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں لیکن اس باب میں ہم نے دیکھا کہ یہی ممبرانِ پارلیمنٹ عاملہ پر موثر نگرانی رکھ سکتے ہیں ۔وہ ہمارے معاشرہ کے مختلف طبقات کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنی تشکیل کی بنا پرمجلس قانون سازحکومت کے تمام اعضا میں سب سے زیادہ نمائندہ جماعت ہے۔مختلف معاشرتی پس منظرسے تعلق رکھنے والے ممبران کی موجودگی ہی مجالس قانون ساز کو زیادہ نمائندہ اور عوام کی توقعات کےتئیں زیادہ ذمہ دار بناتی ہے ۔پارلیمانی جمہوریت میں،مجلس قانون ساز ایک ایسی جماعت ہے جو عوام کی آرزوؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے طاقت اور ذمہ داری کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائزہے۔ اسی میں پارلیمنٹ کی جمہوری افادیت پوشیدہ ہے۔
مشق
1۔ آلوک کا خیال ہے کہ ملک کو ایسی کارگرحکومت کی ضرورت ہے جو عوام کی فلاح کا خیال رکھے ۔گویا اگر ہم اپنے وزیراعظم اور وزراء کا سادگی سے انتخاب کریں اور حکومت کے کام ان پر چھوڑدیں ،تو ہمیں مجلس قانون ساز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں ؟اپنے جواب کی حمایت میں دلیلیں دیجیے۔
2۔ ایک اسکولی جماعت دو ایوانی نظام کی خوبیوں پر بحث کر رہی تھی۔بحث کے دوران درج ذیل نقطے سامنے آئے ۔ان دلائل کو پڑھیے اور بتائیے کہ ان میں سے کس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور کس سے اتفاق نہیں کرتے۔وجوہات بھی بتائیے:
حنانے کہا کہ دو ایوانی نظام کوئی مقصد پورا نہیں کرتا۔
شمع نے دلیل پیش کی کہ ایوانِ بالا میں ماہرین کی نا مزدگی ہونی چاہیے۔
تری دیب نے کہا کہ اگر ملک میں دفاقیت نہیں ہے تو ایوانِ بالاکی ضرورت نہیں ہے۔
3۔ راجیہ سبھا کے مقابلہ میں لوک سبھازیادہ موثر طریقہ سے عاملہ کی نگرانی کیوں کر سکتی ہے؟
4۔ عاملہ پر موثر نگرانی کے علاوہ عام جذبات اور عوام کی توقعات ظاہر کرنے کابہترین مقام لوک سبھا ہے ۔کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟وجوہات بتائیے ۔
5۔ درج ذیل کچھ تجاویز پارلیمنٹ کو زیادہ موثر بنانے کے لیے دی گئی ہیں۔بیان کیجیے آپ ان میں سے کس سے اتفاق کرتے ہیں اور کیوں ؟وجوہات بھی بتائیے۔وضاحت کیجیے ۔
√ اگر ان تجویزوں کو تسلیم کر لیا جائے تو کیا اثر ہوگا۔
√ پارلیمنٹ کو مزید طویل عرصہ تک کام کرنا چاہیے۔
√ ممبران پارلیمنٹ کی حاضری ضروری قرار دی جائے۔
√ اسپیکر کو اختیار ملنا چاہیے کہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والے ممبران پر جرمانہ عائد کر سکیں۔
6۔ عارف جاننا چاہتاتھا کہ کیا وزیرزیادہ تر بل پیش کرتے ہیں اور اگر اکثریت کی حمایت کے ساتھ حکومت کسی بل کو منظور کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو قانون سازی میں پارٹی کا کیا رول باقی رہ گیا؟
آپ اس کو کیا جواب دیں گے۔
7۔ مندرجہ ذیل بیانات میں سے کس بیان سے آپ سب سے زیادہ اتفاق کرتے ہیں؟وجوہات پیش کیجیے:
√ قانون سازوں کو اپنی مرضی سے کسی بھی جماعت میں شامل ہونے کی آزادی ملنی چاہیے۔
√ انحراف مخالف قانون نے جماعت کے سر براہان کے ممبران پر حاوی رہنے میں مدد کی ہے۔
√ انحراف ہمیشہ ذاتی مفادات کے لیے ہوتا ہے ۔لہٰذا جو قانون ساز دوسری جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہے اسکو اگلے دو سالوں کے لیے وزیر بننے سے روکا جانا چاہیے۔
8۔ ڈولی اور ْسدھا موجودہ دور میں پارلیمنٹ کی کار کردگی اور تاثیر کے متعلق بحث کر رہی ہیں۔ڈولی کو یقین ہے کہ لوک سبھا کا زوال بحث ومباحثہ پر کم وقت خرچ کرنے پارلیمینٹ کی کاروائی کے دوران گڑبڑ ہونے، جیسے واک آؤٹ وغیرہ میں ظاہر ہوتا ہے ۔سدھا کی دلیل ہے کہ پارلیمینٹ میں مختلف حکومتوں کی بر خاستگی اس کے گوناگوں ہونے کا ثبوت ہے ۔ڈولی اور سدھا کے نقطۂ نظر کی حمایت یا مخالفت کرنے کے لیے آپ کیا دلائل دیں گے؟
9۔ قانون سازی کے عمل میں مختلف مراحل کو صحیح ترتیب سے لکھیے:
√ کسی بل پر بحث کی اجازت دینے کے لیے ایک قرار داد پاس کی جاتی ہے۔
√ کوئی بل صدر جمہوریہ کے یہاں بھیجا جاتا ہے۔تحریر کیجیے کہ اگر وہ اس پر دستخط نہ کرے تو کیا ہوگا؟
√ بل دوسرے ایوان کو بھیج دیا جاتا ہے اور وہ منظور ہوجاتا ہے۔
√ جس ایوان میں بل پیش کیا گیا، اسی میں منظور بھی ہوجاتا ہے۔
√ ہر دفعہ کو اچھی طرح پڑھایا گیا تب اس پر ووٹنگ ہوئی۔
10۔ بل، سب کمیٹی (Sub-Committee) کو بھیج دیا جاتا ہے، کمیٹی اس میں کچھ تبدیلیاں لاتی ہے اور بحث کے لیے واپس ایوان میں بھیج دیتی ہے۔
وزارت قانون میں قانون سازی کا شعبہ نئے قانون کا خاکہ تیار کرتا ہے۔
پارلیمنٹ کے قانون سازی کے کام کی تعریف پر کمیٹی نظام نے کیا اثر ڈالا ہے۔