باب: 6
عدلیہ
تمہید
اکثرعدالتوں کو اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ افراد یا نجی فریقین کے مابین تنازعات یا جھگڑوں کو حل کرتی ہیں۔لیکن عدلیہ بعض سیاسی کام بھی انجام دیتی ہے۔ عدلیہ حکومت کا ایک عضو ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ دنیا کی طاقت ور ترین عدالتوں میں سے ایک ہے۔ 1951سے آج تک آئین ہند کی تشریح اور تحفظ میں سپریم کورٹ نے نہایت اہم کردار نبھایا ہے۔اس باب میں ہم عدلیہ کی اہمیت اور کردار کے متعلق پڑھیں گے۔ بنیادی حقوق کے باب میں ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہمارے حقوق کی حفاظت میں عدلیہ کا اہم کردار ہے۔اس باب میں ہمیں علم ہوگا کہ عدلیہ نے ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کیا ہے۔
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ یہ سمجھنے کے قابل ہوں گے :
- عدلیہ کی آزادی کے معنی
- ہمارے حقوق کے تحفظ میں ہندوستانی عدلیہ کا کردار
- آئین کی تشریح میں عدلیہ کا کردار اور
- عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان رشتہ
ہمیں ایک آزاد عدلیہ کی ضرورت کیوں ہے؟
آزاد عدلیہ سے کیا مراد ہے؟ اس آزادی کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے؟
ایک کارٹون پڑھیے
نو فسٹیکفس پلیز، یہ قانون کا اصول ہے!
عدلیہ کی آزادی
آسان الفاظ میں عدلیہ کی آزادی کے معنی ہیں:
- عدلیہ کے کام میں حکومت کے دوسرے اعضا – عاملہ اور
- حکومت کے دوسرے اعضا کو عدلیہ کے فیصلوں میں دخل
- جج بغیر کسی خوف یا حمایت کے اپنا کام کرنے کے
سر گرمی
- آئین ہند
- ماقبل فیصلے
- دوسری عدالتوں کی رائے
- رائے عامہ
- میڈیا
- قانون کی روایات
- قوانین
- وقت اور انتظامیہ کی پابندیاں
- عوامی تنقید کا خوف
- انتظامیہ کے الیکشن کا خوف
ججوں کا تقرر
1982 اور1975 کے درمیان یہ معاملہ بار بار سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ابتداء ً عدالت نے محسوس کیا کہ چیف جسٹس کا رول محض مشاورتی ہے۔ پھر عدالت نے یہ رائے قائم کی کہ صدر کو چیف جسٹس کا مشورہ تسلیم کرناچاہیے۔ بالآخر سپریم کورٹ نے ایک نیا اور انوکھا طریقہ طے کیا: اس نے تجویز کیاکہ سپریم کورٹ کے چارسینیر ججوں کے مشورہ سے چیف جسٹس ان اشخاص کے نام تجویز کرے گا جن کا تقرر ہوسکتا ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ نے کولچیم کا اصول اختیار کیا اور قائم کیا تاکہ تقرری کے لیے نام تجویز کیے جاسکیں۔ایسے موقع پرسپریم کورٹ کے چار سینیر ججوں کا فیصلہ باوزن ہوتا ہے۔ لہٰذا عدلیہ کے تقرری معاملات میں سپریم کورٹ اور وزرا کی کونسل اہم رول ادا کرتے ہیں۔
ججوں کی برطرفی
ایک جج کا ناکام مواخذہ
اپنی معلومات چیک کیجیے
- عدلیہ کی آزادی اہم کیوں ہے؟
- آپ کے خیال میں کیا عاملہ کو ججوں کے تقرر کا اختیار حاصل ہونا چاہیے؟
- ججوں کے تقرر کا طریقہ بدلنے کے لیے اگر آپ سے تجویز طلب کی جائے تو آپ کیا تجویز پیش کریں گے؟
عدلیہ کا ڈھانچہ
| ہندوستان کی سپریم کورٹ ◊ تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہوتی ہیں۔ ◊ یہ ہائی کورٹ کے ججوں کو منتقل کرسکتی ہے۔ ◊ یہ ایک عدالت سے کسی مقدمہ کو دوسری عدالت میں منتقل کرسکتی ہے۔ |
↓
| ہائ کورٹ ◊ زیریں عدالت سے اپیل کی سماعت کرسکتی ہے۔ ◊ بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے حکم جاری کرسکتی ہے۔ ◊ ریاست کی حددو میں مقدمات کی سماعت کرسکتی ہے۔ ◊ زیریں عدالتوں پرنگرانی اورکنٹرول کرسکتی ہے۔ |
↓
| ضلع عدالت ◊ ضلع کے اندر واقع معاملات طے کرسکتی ہے۔ ◊ زیریں عدالت کے فیصلو ں پردوبارہ سماعت کرسکتی ہے۔ ◊ سنگین جرائم سے متعلق فیصلے کرسکتی ہے۔ |
↓
| ماتحت عدالتیں ◊ سول اور فوجداری مقدمات پر غور کرنا ۔ |
سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار
سپریم کورٹ ہند کادائرۂ اختیار
ابتدائی
سماعتی
مشاورتی
خصوصی اختیارات
ابتدائی دائرہ اختیار:1
حکم کا دائرۂ اختیار: 2
سماعتی دائرۂ اختیار:3
مشاورتی دائرۂ اختیار4
اپنی معلوما ت چیک کیجیے
عدالتی مستعدی
ایک کارٹون پڑھیے
ڈاک ہڑتال: عدالت نے مداخلت کی ہڑتال آرڈر! آرڈر!!آرڈر!!!
کیا آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں عدالت نے بند اور ہڑتالوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے؟
(جسٹس بھگو تی: بندھوامکتی مورچہ بنامحکومت ہند کیس،1984)
سرگرمی
آپ جج ہیں
عدلیہ اور حقوق
اپنی معلومات چیک کیجیے :
- عدالت نظرِثانی کے اختیارات کا استعمال کب کرتی ہے؟
- عدالتی نظر ثانی اوررٹ ⁄ حکم ناموں کے درمیان کیا فرق ہے؟
عدلیہ اور پارلیمنٹ
پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مندرجہ ذیل مسائل تنازعات کا مرکز بنے رہے :
- ذاتی جائیداد کے حق کا دائرہ کیا ہے؟
- بنیادی حقوق کو کم کرنے، مختصر کرنے یا منسوخ کرنے کا پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟
- آئین میں ترمیم کے پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟
- کیا پارلیمنٹ ایسے قانون بنا سکتی ہے جو بنیادی حقوق کو کم کردیں اور ہدایتی اصولوں کو نافذ کردیں؟
اپنی معلومات چیک کیجیے
عدلیہ اور پارلیمنٹ کے مابین اختلافات کے اہم امورہیں :
- ججوں کا تقرر
- ججوں کی تنخواہ اور مراعات
- آئین میں ترمیم کی پارلیمانی اختیار کی حد
- عدلیہ کی کارکردگی میں پارلیمنٹ کی دخل اندازی۔