Skip to content
hindustani ayin aur kam


باب: 6

عدلیہ

تمہید

اکثرعدالتوں کو اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ افراد یا نجی فریقین کے مابین تنازعات یا جھگڑوں کو حل کرتی ہیں۔لیکن عدلیہ بعض سیاسی کام بھی انجام دیتی ہے۔ عدلیہ حکومت کا ایک عضو ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ دنیا کی طاقت ور ترین عدالتوں میں سے ایک ہے۔ 1951سے آج تک آئین ہند کی تشریح اور تحفظ میں سپریم کورٹ نے نہایت اہم کردار نبھایا ہے۔اس باب میں ہم عدلیہ کی اہمیت اور کردار کے متعلق پڑھیں گے۔ بنیادی حقوق کے باب میں ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہمارے حقوق کی حفاظت میں عدلیہ کا اہم کردار ہے۔اس باب میں ہمیں علم ہوگا کہ عدلیہ نے ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کیا ہے۔

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ یہ سمجھنے کے قابل ہوں گے  :

  •  عدلیہ کی آزادی کے معنی
  • ہمارے حقوق کے تحفظ میں ہندوستانی عدلیہ کا کردار
  •       آئین کی تشریح میں عدلیہ کا کردار اور
  • عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان رشتہ

 ہمیں ایک آزاد عدلیہ کی ضرورت کیوں ہے؟

کسی بھی معاشرہ میں افراد کے درمیان، گروہوں کے درمیان، فرد اور حکومت کے درمیان اور گروہ اور حکومت کے درمیان تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اس طرح کے معاملات کو سلجھانے کے لیے ایک آزاد ادارہ قانون کے مطابق کام کرتا ہے۔قانون کی حکمرانی اور بالادستی کے اس تصور کے معنی ہیں کہ تمام افراد امیروغریب، مرد یا عورت ذہنی طور پر ترقی یافتہ یا پس ماندہ۔۔سب پر ایک ہی قانون نافذ ہوتا ہے۔ عدلیہ کا ایک مخصوص کردار ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی قائم رکھنا اور قانون کی بالادستی کی یقین دہانی یہ افراد کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، قانون کی روشنی میں تنازعات حل کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جمہوریت کسی فرد یا جماعت کو مطلق العنانیت عطا نہیں کرسکتی۔ ایسا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ عدلیہ ہر سیاسی دباؤسے آزاد رہے۔

آزاد عدلیہ سے کیا مراد ہے؟ اس آزادی کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے؟

ایک کارٹون پڑھیے 

pic 1 chapter 6
بطور ایک ممتاز وکیل آپ کو معلوم ہونا چاہیے ، کہ آپ کا ایکشن مترادف ہے، انڈرسیکشن B، سب سیکشنG-VIX ،حالانکہ اس سے (I.P.C.(A) XI (B ، کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

 نو فسٹیکفس پلیز، یہ قانون کا اصول ہے!

عدلیہ کی آزادی 

آسان الفاظ میں عدلیہ کی آزادی کے معنی ہیں: 

  • عدلیہ کے کام میں حکومت کے دوسرے اعضا – عاملہ اور
مجلسِ قانون ساز کوئی رُکاوٹ ایسی نہ ڈالیں کہ 
عدلیہ انصاف قائم نہ کرسکے۔
  • حکومت کے دوسرے اعضا کو عدلیہ کے فیصلوں میں دخل 
اندازی کا اختیار نہیں۔
  • جج بغیر کسی خوف یا حمایت کے اپنا کام کرنے کے 
اہل ہوں۔

           عدلیہ کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جواب دہی یا خودمختاری نہیں ہوگی۔عدلیہ ملک کے جمہوری ڈھانچہ کا ایک حصّہ ہے۔ لہٰذا یہ آئین جمہوری اقدار اور ملک کے عوام کے تئیں جواب دہ ہے۔ عدلیہ کی آزادی کیسے مہیا کی جاتی ہے اور اس کا تحفظ کیسے ہوتا ہے؟
           آئین ہند نے کئی طریقوں سے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کیا ہے ججوں کے تقرر میں مجلسِ قانون ساز کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔لہٰذا یہ یقین کیا گیا کہ تقرری کے معاملہ میں جماعتی سیاست کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ ایک جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے ایک شخص کو وکالت کا تجربہ ہونا چاہیے قانون سے اچھی واقفیت ہونی چاہیے۔اس شخص کی سیاسی رائے یا کسی سیاسی جماعت سے وفاداری کو عدلیہ کے لیے تقرری کی کسوٹی نہیں مانا جاسکتا۔
          ججوں کی ایک مقررہ میعاد ہوتی ہے۔وہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک اپنے عہدہ پر قائم رہیں گے۔صرف غیر معمولی معاملات میں، ججوں کو یا کسی ایک جج کو برخاست کیا جاسکتا ہے ورنہ ان کی میعادطے شدہ ہوتی ہے۔وہ اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی خوف یا حمایت کے، انجام دے سکتے ہیں۔ججوں کو برخاست کرنے کا آئین نے ایک مشکل عمل تجویز کیا ہے۔آئین سازوں کو یقین تھا کہ برخاستگی کا مشکل طریقہ، عدلیہ کے ممبران کے عہدہ کی حفاظت کرسکے گا۔
        مالیاتی طور پر عدلیہ نہ تو انتظامیہ پر منحصر ہے اور نہ ہی مجلس قانون ساز پر۔ آئین کی رو سے ججوں کی تنخواہوں اور بھتوں کے لیے مجلس قانون ساز کی منظوری ضروری نہیں۔ ججوں کے عمل اور فیصلے ذاتی تنقیدسے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ ججوں کے طریقہ کار پر بحث نہیں کر سکتی۔ سوائے اس حالت میں جب کہ کسی جج پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ گویا تنقید کے خوف سے آزاد عدلیہ کی فیصلہ سازی کو تحفظ دیا گیا ہے۔
pic 2 chapter 6
مجھے ماچل کا کیس یاد ہے جس کا ذکر باب 2 میں ہوا تھا۔کیا کسی نے نہیں کہا  :  ’’انصاف میں تاخیر یعنی انصاف سے انکار‘‘ ۔ اس کے بارے میں کسی کو کچھ کرنا چاہیے۔

سر گرمی

درج ذیل موضوع پر اپنی کلاس میں بحث کیجیے:
آپ کے خیال میں اپنا فیصلہ سناتے وقت، ججوں پر کون بندش لگاتا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں یہ صحیح ہے:
  • آئین ہند
  •  ماقبل فیصلے
  •        دوسری عدالتوں کی رائے
  •  رائے عامہ
  •       میڈیا
  •      قانون کی روایات
  •      قوانین
  •      وقت اور انتظامیہ کی پابندیاں
  •      عوامی تنقید کا خوف
  •      انتظامیہ کے الیکشن کا خوف

pic 3 chapter 6

میں بہت الجھن میں ہوں۔ جمہوریت میں آپ وزیراعظم، حتیٰ کہ صدر جمہوریہ پر بھی تنقید کرسکتے ہیں لیکن ججوں پر نہیں،اور یہ توہین عدالت کیا ہے؟ میں اگر ایسے معاملات پر سوال کرتاہوں تو کیا میں توہین عدالت کا مرتکب ہوتا ہوں؟

ججوں کا تقرر

ججوں کا تقرر سیاسی تنازعوں سے کبھی پاک نہیں رہا۔ یہ سیاسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کون سپریم کورٹ کا جج ہے اور کون ہائی کورٹ میں کام کرتاہے۔ یہ فرق ہے اس بات میں کہ آئین کی تشریح کیسے ہوتی ہے ۔ججوں کے سیاسی نظریات، ان کے کام، عدلیہ سے الگ رہ کر ان کے خیالات، باضابطہ اور سنجیدگی سے متعلق ان کی سوچ وغیرہ۔ ان کے خیالات کا اثر قانون کے نفاذ کا مستقبل طے کرتا ہے۔ وزراء کی کونسل، گورنر اور وزرائے اعلیٰ اور ہندوستان کے چیف جسٹس– عدالتی تقرریوں پران سب کا اثر پڑتا ہے۔
        جہاں تک ہندوستان کے چیف جسٹس کی تقرری کا تعلق ہے اب تک یہ روایت بن چکی ہے کہ سپریم کورٹ کے سب سے سینیر (Senior)جج کو یہ عہدہ حاصل ہوتا ہے۔ حالاں کہ یہ روایت بھی دو دفعہ توڑی جاچکی ہے پہلی بار1973ء میں تین ججوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اے۔این رے کا تقرر کیا گیا ۔دوسری بار جسٹس ایج۔آر۔کھنہّ کو نظرانداز کرتے ہوئے۔ایم۔ ایچ بیگ کا تقرر کیا گیا(1975 میں)۔
       سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دوسرے ججوں کا تقرر، چیف جسٹس (CJI)سے مشورہ کے بعد صدر جمہوریہ کرتا ہے۔ حقیقت میں اس کے معنی یہ ہیں کہ  تقرری کے معاملات میں آخری فیصلہ وزراء کی کونسل کرتی ہے، پھر چیف جسٹس سے مشورہ کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟

1982 اور1975 کے درمیان یہ معاملہ بار بار سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ابتداء ً عدالت نے محسوس کیا کہ چیف جسٹس کا رول محض مشاورتی ہے۔ پھر عدالت نے یہ رائے قائم کی کہ صدر کو چیف جسٹس کا مشورہ تسلیم کرناچاہیے۔ بالآخر سپریم کورٹ نے ایک نیا اور انوکھا طریقہ طے کیا: اس نے تجویز کیاکہ سپریم کورٹ کے چارسینیر ججوں کے مشورہ سے چیف جسٹس ان اشخاص کے نام تجویز کرے گا جن کا تقرر ہوسکتا ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ نے کولچیم کا اصول اختیار کیا اور قائم کیا تاکہ تقرری کے لیے نام تجویز کیے جاسکیں۔ایسے موقع پرسپریم کورٹ کے چار  سینیر ججوں کا فیصلہ باوزن ہوتا ہے۔ لہٰذا عدلیہ کے تقرری معاملات میں سپریم کورٹ اور وزرا کی کونسل اہم رول ادا کرتے ہیں۔

pic 4 chapter 6
لیکن میرا خیال ہے کہ وزراء کی  کونسل کو ججوں کی تقرری کرنے میں زیادہ اختیار ہونا چاہیے ۔کیا عدلیہ ایک خود مختار ادارہ ہے ؟

ججوں کی برطرفی

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی برطرفی بھی بہت مشکل کام ہے۔ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کو، صرف ثابت کردہ غیر مناسب برتاؤ یا نااہلیت کی بنا پر بر طرف کیا جاسکتاہے ۔کسی ایسے جج کے خلاف الزامات پرمبنی تحریک کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مخصوص اکثریت کی حمایت حاصل ہونی ضروری ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ’’ مخصوص اکثریت‘‘ کا کیامطلب ہے؟اس کے متعلق ہم انتخابات کے باب میں پڑھ چکے ہیں۔ اس طریقۂ کار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کسی جج کی برطرفی ایک مشکل مرحلہ ہے اور جب تک ممبرانِ پارلیمنٹ کے مابین اتفاقِ رائے نہ ہو، کسی جج کو برطرف نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ تقرری کے معاملات میں مجلس عاملہ اہم رول ادا کرتی ہے لیکن برطرفی کے معاملات میں مجلس قانون ساز۔اسی وجہ سے عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کے درمیان توازن قائم کیا گیا ہے۔ اب تک پارلیمنٹ کے سامنے صرف ایک جج کو برطرف کرنے کی تحریک رکھی گئی ہے۔ حالانکہ اس معاملہ میں تحریک کو،دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل رہی لیکن پوری پارلیمنٹ کی حمایت حاصل نہ ہوسکی چنانچہ اس جج کو عہدہ سے برطرف نہیں کیا جاسکا۔

ایک جج کا ناکام مواخذہ

1991 میں پہلی بار مواخذہ کی تحریک سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس راماسوامی کے خلاف پارلیمنٹ کے 108ممبران کے دستخط سے اس وقت پیش کی گئی جب پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سرکاری رقم میں خُردبرد کا ان پرالزام لگایا گیا۔
       1992ء میں پارلیمنٹ کے ذریعہ مواخذہ کی کارروائی شروع کرنے کے ایک سال بعد ایک اعلیٰ سطحی کمیشن نے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی شامل تھے جسٹس راماسوامی پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس، ہائی کورٹ پنجاب وہریانہ ’’اپنے عہدہ کا جان بوجھ کر غلط استعمال کیا۔۔۔۔۔۔۔ اخلاقی بد نیتی کا ثبوت دیا اپنے ذاتی مقاصد کے لیے عوام کے پیسہ کو خرچ کیا اور قانون کی شدید خلاف ورزی کی‘‘، ۔ ا س سخت قرار دادِجرم کے باوجود راما سوامی پارلیمانی کا رروائی اور مواخذہ سے بچ گئے۔ ووٹنگ کے وقت حاضر کل ممبران کی دوتہائی اکثریت اس تحریکِ مواخذہ کو حاصل تو ہوئی لیکن ووٹنگ سے کانگریس غیر حاضر رہی۔ چنانچہ ایوان کی کل ممبرشپ کے نصف حصہ کی حمایت نہ مل سکی۔

اپنی معلومات چیک کیجیے

  •      عدلیہ کی آزادی اہم کیوں ہے؟
  •      آپ کے خیال میں کیا عاملہ کو ججوں کے تقرر کا اختیار حاصل ہونا چاہیے؟
  •      ججوں کے تقرر کا طریقہ بدلنے کے لیے اگر آپ سے تجویز طلب کی جائے تو آپ کیا تجویز پیش کریں گے؟

عدلیہ کا ڈھانچہ

آئینِ ہند ایک واحد اورمتحد عدالتی نظام مہیا کرتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے وفاقی نظاموں کے بر خلاف ہندوستانی ریاستوں کی علاحدہ عدالتیں نہیں ہیں۔ ہندوستان میں عدلیہ کا ڈھانچہ اہرام نما ہے جس کے سب سے اوپر سپریم کورٹ،اس کے نیچے ہائی کورٹ،ضلع عدالتیں اورنچلی سطح کی عدالتیں (نقشہ دیکھیے) ہیں ۔زیریں عدالتیں برا ہِ راست عدالت ِعالیہ کے ماتحت کام کرتی ہیں۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ
◊    تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہوتی ہیں۔
◊    یہ ہائی کورٹ کے ججوں کو منتقل کرسکتی ہے۔
◊     یہ ایک عدالت سے کسی مقدمہ کو دوسری عدالت میں منتقل کرسکتی ہے۔

                                                                 ↓ 

ہائ کورٹ
◊      زیریں عدالت سے اپیل کی سماعت کرسکتی ہے۔
◊      بنیادی حقوق کی بحالی  کے لئے حکم جاری کرسکتی ہے۔
◊      ریاست کی حددو میں مقدمات کی سماعت کرسکتی ہے۔
◊      زیریں عدالتوں پرنگرانی اورکنٹرول کرسکتی ہے۔

                                                               

ضلع عدالت
◊    ضلع کے اندر واقع معاملات طے کرسکتی ہے۔
◊    زیریں عدالت کے فیصلو ں پردوبارہ سماعت کرسکتی ہے۔
◊    سنگین جرائم سے متعلق فیصلے کرسکتی ہے۔

                                                                    ↓

ماتحت عدالتیں
◊    سول اور فوجداری مقدمات پر غور کرنا ۔


سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار

ہندوستان کی سپریم کورٹ، دنیا کی مضبوط ترین عدالتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن آئین نے اس کے اختیارات ا ور فرائض کی حددوبھی طے کردی ہیں۔ سپریم کورٹ کے کام اور ذمہ داریوں کوآئین نے بالکل واضح کردیا ہے۔ اس کا مخصوص دائرہ اختیار ہے:

سپریم کورٹ ہند کادائرۂ اختیار

ابتدائی

 مرکز اور ریاستوں کے مابین تنازعات طے کرتی ہے۔

سماعتی

سول، فوجداری اور آئینی مقدمات جو زیریں عدالتوں میں چل رہےہوں ان کی سماعت کرسکتی ہے۔

مشاورتی

 قانونی اور عوامی اہمیت کے معاملات پر صدر جمہوریہ کو مشورہ دیتی ہے۔

فرد کے بنیادی یقوق کی حفاطت کے لیے رٹ جاری کرسکتی ہے:
پروانہ حاضریٔ ملزم عدالت عالیہ کا زیریں عدالت کے نام حکم حکمِ امتناعی پروانۂ گرفتاری

خصوصی اختیارات

 ہندوستان کے کسی بھی خطّہ کی عدالت سے منظور فیصلہ کے متعلق اپیل کو خصوصی چھوٹ عطا کرسکتی ہے۔

ابتدائی دائرہ اختیار:1

ابتدائی دائرۂ اختیار کے معنی ہیں:زیریں عدالت میں معاملات کو پیش کیے بغیر براہ راست سپریم کورٹ میں زیر غور لایا جاسکتا ہے۔مندرجہ بالا نقشہ پر آپ نے غور کیا ہوگا کہ وفاقی رشتوں سے متعلق معاملات براہ راست سپریم کورٹ میں جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کا ابتدائی دائرۂ اختیار اس کو تمام وفاقی معاملات میں امپائر کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ کسی بھی وفاقی ملک میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان ،قانونی تنازعات پیدا ہوتے ہی ہیں۔ ایسا ریاستوں کے درمیان بھی ہوتاہے۔اس قسم کے معاملات طے کرنے کی ذمہ داری سپریم کورٹ کو دی گئی ہے۔ یہی ابتدائی دائرۂ اختیار کہلاتاہے، کیوں کہ اس نوعیت کے معاملات پر صرف سپریم کورٹ اختیار رکھتی ہے نہ کہ ہائی کورٹ یا زیریں عدالتیں۔ اس حیثیت سے سپریم کورٹ نہ صرف تنازعات حل کرتی ہے بلکہ آئین میں درج یونین اور ریاستوں کے اختیارات کی تشریح بھی کرتی ہے۔

حکم کا دائرۂ اختیار: 2

جیسا کہ ہم بنیادی حقوق کے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ کوئی فرد جس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہوبراہ راست اپنے حقوق کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتاہے۔ ایسے معاملات میں سپریم کورٹ خصوصی احکامات عدالتی حکم ناموں(WRITS)کی شکل میں جاری کرسکتی ہے۔ ہائی کورٹ بھی ایسے حکم نامے جاری کر سکتے ہیں لیکن جس شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے سپریم کورٹ سے رجوع کرے یا ہائی کورٹ سے۔ ایسے حکم ناموں کے ذریعہ عدالت عاملہ کو کسی مخصوص طریقہ سے کام کرنے کا حکم بھی جاری کرسکتی ہے۔

سماعتی دائرۂ اختیار:3

سپریم کورٹ اپیل کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف کوئی بھی شخص سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی معقول وجہ نہ ہو تو ایسی اپیلوں کی شکل میں عدالت پر کام کا بوجھ بلا وجہ بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذازیریں عدالتوں اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کے حق کو کچھ شرائط کا پابند کردیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کو اس بات کی تصدیق کرنا ہوگی کہ کیا یہ کیس اپیل کرنے کے لائق ہے۔یعنی اس میں قانون یا آئین کی تشریح کا سنجیدہ معاملہ الجھا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ فوجداری معاملات میں اگر کسی شخص کو زیریں عدالت موت کی سزادیتی ہے تو اس کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی جاسکتی ہے ۔اگر ہائی کورٹ نے اپیل کی اجازت نہیں دی تو سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ اپیل کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ سماعتی دائرہ اختیارکے معنی ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملہ پرنظرثانی کرے گی، اس کے قانونی پہلوؤں پر غور کرے گی۔ عدالت کے خیال میں اگر اس مخصوص معاملہ میں زیریں عدالت نے قانون اور آئین کو جس معنی میں لیا وہ اس کے اپنے معنی سے مختلف ہے تو سپریم کورٹ فیصلہ بدل دے گا اور متعلقہ آئینی دفعہ یا قانون کی نئی تشریح پیش کرے گی۔
سپریم کورٹ کی طرز پر، ہائی کورٹ کو بھی سماعتی اختیارات ہیں۔

ابتدائی دائرۂ اختیار (Original Jurisdiction)
حکم کا دائرۂ اختیار (Writ Jurisdiction)      
سماعتی دائرۂ اختیار (Appellate)                  
کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں ہے کہ مشورہ دینا اختیاری ہے اور اس کو قبول کرنا بھی اختیاری ؛ میرا خیال تھا کہ عدالت کے فیصلے کی پابندی کرنا ہوتی ہے!

مشاورتی دائرۂ اختیار4

ابتدائی اور اپیل کے دائرۂ اختیارات کے ساتھ ساتھ، سپریم کورٹ ہند کو مشاورتی اختیارات بھی حاصل ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ صدرجمہوریہ ہند، عوام کی اہمیت کاکوئی بھی معاملہ یا آئین کی تشریح کا معاملہ، مشورہ کےلیے سپریم کورٹ کو بھیج دتیا ہے۔ لیکن ایسے معاملات میں ،سپریم کورٹ مشورہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ اگر مشورہ دیتا ہے تو صدر جمہویہ بھی اس کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔
         پھر،سپریم کورٹ کے اس مشاورتی کردار کا کیا فائدہ؟ اس کے اور دوسرے فائدے ہیں ۔پہلااس سے قبل کہ حکومت کوئی قدم اٹھائے خاص طورسے کسی عوامی اہمیت کے معاملہ میں وہ قانونی مشورہ مانگ سکتا ہے تاکہ بعد کی غیر ضروری مقدمہ بازی سے خود کو محفوظ رکھا جاسکے۔ دوسرے سپریم کورٹ کے مشورہ کی روشنی میں حکومت اپنے عمل یا قانون سازی میں مناسب تبدیلیاں کرسکتی ہیں۔

pic 6 chapter 6
 کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں ہے کہ مشورہ دینا اختیاری ہے اور اس کو قبول کرنا بھی اختیاری ؛ میرا خیال تھا کہ عدالت کے فیصلے کی پابندی کرنا ہوتی ہے!

دفعہ137 ’’سپریم کورٹ اپنے دیے ہوئے فیصلے یا حکم پر نظرثانی کا اختیار رکھتا ہے۔‘‘
دفعہ144: ’’ ہندوستانی علاقے میں تمام سول اور عدلیہ سے متعلق افسران سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کام کریں گے۔‘‘
               مندرجہ بالا دفعات پڑھیےیہ دفعات ہماری عدلیہ کی مشترکہ اوریکساں نوعیت اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو سمجھنے میں مدد دیتی  ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے ہندوستان کے ہر علاقہ میں تمام حکام پر عائد ہوتے ہیں۔اس کے ذریعہ جاری کردہ احکامات ہندوستان کے طول وعرض میں قابل نفاذ ہوتے ہیں ۔خود سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کی پابندنہیں ہے اور کسی بھی وقت ان پر نظرثانی کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ اگر سپریم کورٹ کے کسی فیصلہ کی حکم عدولی ہوتی ہے، تو ایسامعاملہ بھی وہ خود ہی طے کرتا ہے۔

اپنی معلوما ت چیک کیجیے

درج ذیل بیانات کو ایک دوسرے سے صحیح طریقہ سے ملائیے:
ریاست بہار اور مرکزی حکومت کے                                                     ہائی کو رٹ 
 درمیان تنازعہ سنوائی کےلیے جائے گا۔
ہریانہ کی ضلع عد الت سے اپیل جائے گی۔                                        مشاورتی دائرۂ اختیار
واحد اور متحدہ عدلیہ۔                                                                 واحد آئین
کسی قانون کو غیر آئینی قرار دینا                                                 ابتدائی دائرۂ اختیار


pic 7 chapter 6
سپریم کورٹ کو اپنے ہی فیصلوں کو بدلنے کی اجاز ت کیو ں دی گئی ہے؟ کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ عدالتیں بھی غلطی کرسکتی ہیں؟کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی جج  وہ نظر ثانی کرنے والی بینچ میں شامل ہو جس نے پہلے والا فیصلہ دیا تھا؟

عدالتی مستعدی

کیا آپ نے یہ لفظ سنا؟یا مفادِ عامہ کا مقدمہ کے بارے میں سنا ہے؟ آج کے دور میں عدلیہ سے متعلق بحث میں اکثر ان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان دو الفاظ نے عدالت کے کام کاج میں انقلاب پیدا کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عدالت کو عوام کا دوست بنا دیا ہے۔
        ہندوستان میں عدالتی مستعدی کو جس چیزنے فروغ عطا کیا، وہ ہے مفادِ عامہ کا مقدمہ (PIL) یا ’’سماجی چارہ جوئی کا مقدمہ‘‘ (SAL)سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ PIL اور SAL کیا ہیں؟ یہ کب اور کہاں سے پیدا ہوئے؟ عام طور پر قانون کا جو طریقۂ عمل رائج ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص تب ہی عدالت سے رجوع کرتا ہے جب اس کو ذاتی طور پر کوئی نقصان پہنچے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب کسی شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا خود کسی تنازعہ میں پھنس جاتا ہے، تو عدالت کا رُخ کرتا ہے

ایک کارٹون پڑھیے

pic 8 chapter 6
 ڈاک ہڑتال: عدالت نے مداخلت کی ہڑتال آرڈر! آرڈر!!آرڈر!!!

کیا آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں عدالت نے بند اور ہڑتالوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے؟

           1979 کے قریب یہ نظریہ قطعی بدل گیا۔1979 میں عدالت نے یہ اظہار خیال کیا کہ جب کچھ متاثرہ لوگوں کی طرف سے دوسرے لوگوں نے محض اس لیے مقدمہ دائر کیا ہو کہ اس میں مفاد عامہ شامل تھا تو یہ اور اسی طرح کے دوسرے معاملات مفادِ عامہ کے مقدمے کہلائے۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے ، قیدیوں کے حقوق کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ایسے بے شمار معاملات کے لیے دروازہ کھول دیا جہاں عوام کی خدمت کے خو اہش مند شہریوں اور رضا کارانہ تنظیموں نے عدالتی مداخلت پر زور دیا۔ اس وقت حاصل حقوق کی حفاظت،غربا کے معیار زندگی کو بہتر بنانے ،ماحولیات کی حفاظت اور ایسے ہی بہت سے مفاد عامہ کے معاملات سے متعلق مقدمے(PILs)اب عدالتی مستعدی کا سب سے زیادہ اہم ذریعۂ اظہار بن چکے ہیں ۔
         اب سے پہلے عدالیہ کا دائر ہ صرف دستوری معاملات تک محدود تھا جو اس کے روبرو لائے جاتے تھے۔اب اس نے ایسے معاملات بھی سماعت کے لیے قبول کرناشروع کردیے ہیں جن کی بنیاد اخبارات کی رپورٹ اور ڈاک کے ذریعہ ملنے والے شکایتی خطوط پر تھی۔ لہٰذا عدالتی مستعدی (PIL)  لفظ بے حد مقبول عام ہوگیا اور عدلیہ کا کردار زیادہ واضح کرنے لگا۔

مفادِ عامہ کے کچھ ابتدائی مقدمے
◊         1979 میں بعض اخبارات نے زیر سماعت قیدیوں کے متعلق رپورٹ شائع کی۔ بہار میں ایسے بہت سے قیدی تھے جو بہت لمبے عرصہ سے جیلوں میں بند تھے۔ جس  الزام کی بنا پر انہیں گرفتار کیا گیااس کی سزا جتنی ہوتی اس سے بھی زیادہ عرصہ تک وہ  بدستورقید میں رکھے گئے تھے۔ اس رپورٹ نے ایک وکیل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہاں قیدیوں کی طرف سے عدالت میں اپیل دائر کرے۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت منظور کی۔ یہ معاملہ PILکا اولین معاملہ کے طور پر مشہور ہوگیا۔ یہ ’’حسین آرا بخلاف بہار حکومت‘‘ مقدمہ تھا۔  

◊         1980 میں تہاڑجیل کا ایک قیدی  پھٹے پرانے کاغذ کے ٹکڑے پر ایک خط سپریم کورٹ کے جج کرشنا ایّر کو پہنچا نے میں کامیاب ہوگیا جس میں قید کے دوران قیدیوں پر ہونے والے جسمانی مظالم کا ذکر کیا گیا تھا۔ جج نے اس خط کواپیل کی شکل میں سماعت کے لیے قبول کیا اور اپیل میں تبدیل کردیا۔ حا لاں کہ بعد میں خطوط پر غور کرنے کا طریقہ ترک کردیا گیا۔ یہ معاملہ سنیل بترہ بنام دہلی انتظامیہ (1980) تھا اور PILکے ابتدائی معاملوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

مفاد عامہ کے مقدمات کے ذریعہ عدالت نے حقوق کا تصور وسیع تر کردیا ہے۔ صاف ہوا ، غیر آلودہ پانی، مناسب معیار زندگی وغیرہ اب پورے معاشرہ کے حقوق بن چکے ہیں ۔ لہٰذاعدالتوں نے یہ محسوس کیا کہ جہاں کہیں بھی ان حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ معاشر ہ کی جانب سے افراد کو انصاف حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ 
pic 9 chapter 6
 میں نے کسی کو کہتے سنا ہے کہ PIL کے معنی ہیں : ذاتی مفاد کا مقدمہ۔ وہ ایسا کیسے ہوگا؟

           دوسر ی بات یہ کہ مفاد عامہ کے مقدمات اور عدالتی مستعدی کے ذریعہ 1980 کے بعد عدالت نے ایسے معاملات میں دلچسپی دکھائی جہاں اپیل کنندگان آسانی سے عدالتوں سے رجوع نہیں کرسکتے۔ اس مقصد کے لیے عدالت نے عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے شہریوں، سماجی تنظیموں اور وکیلوں کو اجازت دی کہ وہ ضرورت مند اور محروم لوگوں کی جانب سے مقدمات دائر کرسکیں۔

’’یہاں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ غریبوں کے مسائل کی نوعیت ان لوگوں کے مسائل کی نوعیت سے الگ ہے جو پہلے ہی عدالت کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ان کو ایک مختلف قسم کی توجہ کی ضرورت ہے اگر ہم آنکھ بند کر کے ایک ناموافق طریقۂ کار اپناتے ہیں تو وہ کبھی اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکیں گے۔‘‘
(جسٹس بھگو تی: بندھوامکتی مورچہ بنامحکومت ہند کیس،1984)
pic 10 chapter 6
میرے خیال میں عدالتی مستعدی کے معنی یہ ہیں کہ مجلس قانون ساز اور عاملہ کو یہ بتانا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔اگر مجلس قانون ساز اور عاملہ، انصاف دینا شروع کردیں تو کیا ہوگا؟

سرگرمی

کم از کم کسی ایک مفادِ عامہ کے مقدمہ (PIL) کی تفصیلات معلوم کیجیے اور مطالعہ کیجیے : اس کیس نے کس طرح مفادعامہ کا مقصد حاصل کیا۔
       سیاسی نظام پر عدالتی مستعدی کے خوش آئند اثرات ہوئے ہیں۔ صرف افراد ہی نہیں بلکہ گروہوں کو بھی عدالت تک رسائی کا حق دے کر اِس نے عدالتی نظام کو زیادہ جمہوری  اور عاملہ کو جواب دہ بنا دیا ہے۔ اِس نے انتخابی عمل کو زیادہ آزادانہ اور منصفانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے انتخابی امیدواروں کو حلف نامہ جمع کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی اِملاک اور آمدنی کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت بھی ظاہر کر سکیں اور عوام اِن معلومات کی بنا پر ہی ان کا انتخاب کریں۔
           بڑی تعداد میں موصول مفادِعامہ کی اپیلوں اور عدالتی مستعدی کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس نے عدالتوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے دوسرے، عدالتی مستعدی نے عاملہ اور قانون ساز مجلس کے درمیان فرق کو ختم کر دیا ہے۔ دوسری طرف عدلیہ اس کام میں اضافی طور پر مشغول ہو گئی ہے مثلاً عاملہ سے متعلق معاملات کو طے کرنے جیسے، فضائی یاصوتی آلودگی کو کم کرنا، رشوت خوری کے معاملات کی تحقیق کرنا یا انتخابی اصلاحات لانا وغیرہ میں۔ یہ عدلیہ کی ذمہ داریاں نہیں ہیں۔ یہ معاملات مجلس قانون ساز کی نگرانی میں عاملہ انجام دیتی ہے اور اس کو ہی انجام دینے چاہئیں۔ لہٰذا بعض لوگ محسوس کرتے ہیں کہ عدالتی مستعدی نے حکومت کے تینوں بازؤں کے درمیان توازن کو بہت نازک بنا دیا ہے۔ جب کہ جمہوری حکومت کا انحصاراس بات پر ہے کہ حکومت کا ہر بازو  دوسرے بازو کے اختیارات کا احترام کرے۔ عدالتی مستعدی نے اس جمہوری اصول کو تنازعات سے دو چار کر دیا ہے۔

آپ جج ہیں

pic 11 chapter 6
کسی شہر سے تعلق رکھنے والے کچھ شہریوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے کہ وہ شہر کی میونسپل حکام کو ہدایت دیں : کہ وہ شہر سے جھگی جھونپڑی بستیوں کو ہٹانے اور شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے  کام کریں تاکہ روپیہ لگانے والوں کو شہر کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ان کی دلیل ہے کہ یہ مفاد عامہ کے حق میں ہے۔ان جھگی بستیوں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا حقِ زندگی ختم ہوجائے گا۔ان کی دلیل ہے کہ مفاد عامہ کے نظریہ میں زندگی کا حق مرکزی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ شہر کی صفائی۔

عدلیہ اور حقوق

ہم پہلے ہی سمجھ چکے ہیں کہ افراد کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری عدلیہ کے سپرد کی گئی ہے۔ ہمارا آئین دو طریقے تجویز کرتا ہے جن کے ذریعہ سپریم کورٹ حقوق کی خلاف ورزی کا حل نکال سکتا ہے۔ 
           اولاً پروانۂ حاضری ملزم(1)، عدالت عالیہ کا ماتحت عدالت کو حکم نامہ(2) وغیرہ جاری کرکے سپریم کورٹ بنیادی حقوق کو بحال کر سکتا ہے (دفعہ 132) ہائی کورٹس کو بھی اس طرح کے حکم نامے جاری کرنے کے اختیار حاصل ہیں (دفعہ 226 )۔
           دوئم سپریم کورٹ کسی قانون کوغیر قانونی قرار دے سکتا ہے اور اس کو غیر عملی بنا سکتا ہے۔ مجموعی طور پرآئین کی یہ دونوں دفعات ایک طرف سپریم کورٹ کو شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ بناتی ہیں تو دوسری جانب آئین کا شارح۔ ان میں سے دوسرا طریقہ آئینی نظر ِثانی پر مشتمل ہوتا ہے۔
          سپریم کورٹ کے اختیارات میں سب سے اہم اختیار شایدآئینی نظر ِثانی کا اختیار ہے۔ اس کے معنی ہیں  کہ یہ سپریم کورٹ کا وہ اختیار ہے جو کسی بھی قانون کی آئینی حقیقت کی جانچ کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کیا یہ قانون آئین کی دفعات کے مطابق ہے یا نہیں ہے۔آئینی نظر ِثانی کا لفظ خودآئین میں کہیں نہیں ہے۔ پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کا ایک تحریری آئین ہے۔ اور سپریم کورٹ ایسے کسی بھی قانون کو رد کر سکتا ہے جو بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور یہی سپریم کورٹ کوآئینی نظر ِثانی کا اختیار دیتا ہے۔
            اس کے علاوہ جیسا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار سے متعلق پڑھا وفاقی رشتوں کے معاملات میں بھی سپریم کورٹ نظر ِثانی کے اختیار کا استعمال کر سکتا ہے۔ فرض کیجیے۔ مرکزی حکومت کوئی قانون بناتی ہے جوبعض ریاستوں کی نظر میں ریاستی فہرست میں شامل موضوعات سے متعلق ہے تو ایسے حالات میں وہ ریاست یا ریاستیں سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہیں۔ اگر سپریم کورٹ ان کے نظریہ سے اتفاق کرتا ہے تو اُس قانون کو غیرآئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔
          مجموعی طور پر سپریم کورٹ کے رٹ اور نظرِثانی کے اختیارات عدلیہ کو بہت با اختیار بناتے ہیں۔ خاص طور پر نظرثانی کے اختیار کے معنی ہیں : عدلیہ آئین کی اور مجلسِ قانون ساز کے ذریعہ منظور کردہ قوانین کی تشریح کر سکتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پہلو دراصل عدلیہ کوآئین کا ایک موثر محافظ بناتا ہے اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ مفادِعامہ کی اپیلوں پر غور کرنے کے عمل نے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے عدلیہ کے اختیارات میں اضافہ کر دیا ہے۔
pic 12 chapter 6
میں سوچتا ہوں کہ میں ایک جج ہوتا۔پھرمجھے انتخابات اور عوام کی حمایت کی فکر نہ ہوتی پھر بھی میرے پاس بہت سارا اختیار ہوتا!

کیا آپ جانتے تھے کہ مفادِ عامہ کے مقدمات اب دوسرے بہت سے ممالک میں بھی زیادہ سے زیادہ عام ہوجاتے ہیں؟ دنیا کی بہت سی عدالتیں، خاص طور سے جنوبی ایشیا اور افریقہ ہندوستانی عدلیہ کے بالمقابل عدالتی مستعدی پر عمل کررہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کے آئین میں شامل حقوق کے منشور میں مفادِ عامہ کی اپیل بھی شامل ہے۔اس طرح جنوبی افریقہ میں شہریوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں، معاملہ کو آئینی عدالت کے روبرو پیش کیا جاسکتا ہے۔
              کیا آپ کو یاد ہے کہ حقوق کے باب میں ہم نے استحصال کے خلاف حق کا ذکر کیا تھا؟ یہ حق جبریہ مزدوری، انسانوں کی تجارت اور خطرناک پیشوں میں بچوں کی ملازمت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن کے حقوق کی پامالی ہوئی ہے وہ کیسے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں؟ مفادِعامہ کی اپیلوں اور عدالتی مستعدی نے ایسی خلاف ورزیوں پر غور کرنے کا کام عدالتوں کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔ اس طرح عدالتوں نے مقدمات کے ایک مکمل سلسلہ پر غور کیا جس کا تعلق پولیس کے ذریعہ قیدیوں کو اندھا بنا دیے، پتھر یلی کانوں میں کام کے غیر انسانی حالات، بچوں کے جنسی استحصال وغیرہ سے تھا۔ اس رجحان نے غریبوں اور محروم طبقات کے لیے حقوق انسانی کو واقعی با معنی بنا دیا ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے :

  • عدالت نظرِثانی کے اختیارات کا استعمال کب کرتی ہے؟
  • عدالتی نظر ثانی اوررٹ ⁄ حکم ناموں کے درمیان کیا فرق ہے؟

عدلیہ اور پارلیمنٹ

حقوق کے معاملات میں نہایت مستعدانہ رُخ اختیار کرنے کے علاوہ عدلیہ اس ضمن میں بھی کافی چُست ہے کہ سیاسی عمل کے ذریعہ دستور کی تخر یب کاری نہ ہو جائے ۔ اس طرح جو معاملات عدالتی نظرثانی کے دائرۂ کا ر سے باہر رکھے گئے تھے جیسے صدر جمہوریہ یا گورنر کے اختیارات ان کو بھی عدالت کی نظرثانی کے تحت لایا گیا۔
           ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں جن میں سپریم کورٹ نے مستعدی کا ثبوت دیا ہے اور اس کے لیے عاملہ کے اداروں کو احکامات دے کر انصاف قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے ’’حوالہ کیس‘‘ میں بد عنوان سیاست دانوں اور عہدیدار ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی ہدایات دی گئیں۔  
           آئینِ ہند کی مثال ایک نازک اصول پر قائم ہے اور یہ اصول ہے : اختیارات کی محدود تقسیم اور چیک اینڈ بیلنس (نگرانی اور توازن کا اصول)۔ اس کے معنی ہیں کہ حکومت کے ہر عضو کے کام کا دائرہ مخصوص اور واضح ہے۔ لہٰذا پارلیمنٹ کو قانون سازی اورآئین میں ترمیم کرنے کے قطعی اختیارات حاصل ہیں۔ ان قوانین پر عمل کرنے کا مکمل اختیار عاملہ کو حاصل ہے جبکہ عدلیہ کو معاملات سلجھانے اور یہ طے کرنے کا اختیار ہے کہ قوانین آئین کی دفعات کے عین مطابق بنائے گئے ہیں۔ اختیارات کی اس قدر واضح تقسیم کے باوجود پارلیمنٹ اور عدلیہ نیز عاملہ اور عدلیہ کے درمیان تنازعات ہندوستانی سیاست کا ایک مستقل عنوان بن چکے ہیں۔
          پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان اختلافات کا ہم پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں، جن کا تعلق حقِ جائیداد اورآئین میں ترمیم کرنے کے پارلیمنٹ کے حق سے تھا۔ آیئے، مختصر طور پر اس بات کو پھر دوہرائیں :
          جیسے ہی آئینِ ہند پرعمل شروع ہوا، اس کے فوراً بعد ہی پارلیمنٹ کے حقِ جائیداد کو محدود کرنے کے اختیار سے متعلق تنازعے پیدا ہو گئے۔ پارلیمنٹ چاہتی تھی کہ جائیداد رکھنے کے حق پر کچھ پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ زمینی اصلاحات کی جا سکیں۔ اس کے بعد پارلیمنٹ نے آئین میں ترمیم کی کوشش کی۔ لیکن عدالت کا کہنا تھا کہ ترمیم کے ذریعہ بھی بنیادی حقوق کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مندرجہ ذیل مسائل تنازعات کا مرکز بنے رہے :
  • ذاتی جائیداد کے حق کا دائرہ کیا ہے؟
  • بنیادی حقوق کو کم کرنے، مختصر کرنے یا منسوخ کرنے کا پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟
  • آئین میں ترمیم کے پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟
  • کیا پارلیمنٹ ایسے قانون بنا سکتی ہے جو بنیادی حقوق کو کم کردیں اور ہدایتی اصولوں کو نافذ کردیں؟
pic 13 chapter 6
’’عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے سے متعلق دورائے نہیں ہوسکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اہم اصول زیرِنظر رکھنا ضروری ہے۔عدلیہ کی آزادی کے نظریہ کو تحکم کی سطح تک اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے تاکہ عدلیہ ایک قسم کی اعلیٰ ترین قانون ساز اعلیٰ ترین عاملہ کی طرح کام نہ کرنے لگے۔ عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا اور بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔
الادی کرشنا سوامی ائیر
(CAD, Vol.XIp 837)
        1967 اور 1973 کے درمیان یہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہو گیا۔ زمینی اصلاحات کے قوائین کے علاوہ احتیاطی حراست کو روکنے کے قوانین، ملازمتوں میں ریزرویشن کے قوانین ، عوامی مقاصد کےلیے ذاتی جائیداد حاصل کرنے کے اصول و قوانین اور اس طرح کی ذاتی جائیداد حاصل کرنے کے عوض ہرجانہ طے کرنے کے قوانین ۔۔۔ ایسے کچھ تنازعات کی مثالیں ہیں جو مجلسِ قانون ساز اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہوئیں۔
         1973 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا جو اس کے بعد عدلیہ اور مجلسِ قانون ساز کے رشتوں کو باضابطہ بنانے میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ کیشونندبھارتی کیس کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاملہ میں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ خود پارلیمنٹ بھی اس بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی ۔ عدالت نے دو باتیں مزید کہیں۔ اول، حقِ جائیداد(متنازعہ معاملہ)  بنیادی ڈھانچہ کا حصہ نہیں تھا لہٰذا اس کو مناسب طریقہ سے کم کیا جا سکتا ہے۔ دوسری بات عدالت نے یہ حق اپنے لیے محفوظ رکھا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ سے متعلق مختلف معاملات وہ خود طے کرے گی۔ یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ عدلیہ آئین کی تشریح کرتی ہے۔
          اس فیصلہ نے، مجلسِ قانون ساز اور عدلیہ کے درمیان تنازعہ کی نوعیت کو بدل دیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے مطالعہ کر چکے ہیں، 1979 میں حقِ جائیداد کو بنیادی حقوق کی فہرست سے خارج کر دیا گیا اور اسی عمل نے حکومت کے دونوں اعضا یعنی مجلس قانون ساز اور عدلیہ کے درمیان رشتوں کی نوعیت ہی بدل دی۔
           لیکن اب بھی دونوں کے درمیان بعض معاملات اختلافات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ کیا مجلسِ قانون ساز کی کارکردگی میں، عدلیہ دخل دے سکتی ہے یا اس کو باضابطہ بنا سکتی ہے؟ پارلیمانی نظام میں مجلسِ قانون ساز خود پر حکومت کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور اپنے ممبران کے برتاؤ کو باضابطہ بناتی ہے۔ چنانچہ مجلسِ قانون ساز اُس شخص کو سزا دے سکتی ہے جس کو مجلسِ قانون کی مراعات کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہو، جس شخص نے مجلسِ قانون ساز کے ڈسپلن کو توڑا ہو کیاوہ عدالت سے تحفظ حاصل کر سکتا ہے؟یہ مسائل ابھی تک حل نہیں ہو سکے ہیں اور یہی دونوں حکومت کے دونوں اعضا کے درمیان اختلافات کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح آئین کے مطابق ججوں کے برتاؤ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں جب پارلیمنٹ اور مجلسِ قانون ساز نے عدلیہ کی کارکردگی پر تہمتیں لگائی ہیں۔ اسی طرح عدلیہ نے بھی مجلسِ قانون ساز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور قانون سازی سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔ مجالس قانون ساز اِس عمل کو پارلیمانی اقتدار اعلیٰ کے اصول کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔
          یہ مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کے کسی بھی دو اعضاکے درمیان توازن قائم کرنا کس قدر مشکل ہے اور جمہوریت میں دوسروں کے اختیار و اقتدار کا احترام کرناحکومت کے ہر عضو کے لیے کتنا اہم ہے۔
pic 14 chapter 6
عدالت ہم کو وہ سب کچھ نہیں بتاسکتی کہ آئین کا وہ بنیادی  ڈھانچہ کیا ہے اور اس کے کون کون سے پہلو ہیں؟

اپنی معلومات چیک کیجیے

عدلیہ اور پارلیمنٹ کے مابین اختلافات کے اہم امورہیں :
  • ججوں کا تقرر
  • ججوں کی تنخواہ اور مراعات
  • آئین میں ترمیم کی پارلیمانی اختیار کی حد
  • عدلیہ کی کارکردگی میں پارلیمنٹ کی دخل اندازی۔

اختتام

اس باب میں ہم نے جمہوری ڈھانچہ میں عدلیہ کے کردار کا مطالعہ کیا۔ ایسی کئی الجھنوں کے باوجود جو وقتاًفوقتاً عدلیہ اور مجلسِ قانون ساز و عاملہ کے مابین پیدا ہوتی رہتی ہیں عدلیہ کے وقار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ عدلیہ سے اور بہت سی توقعات ہیں۔ عام شہریوں کو بھی حیرانی ہے کہ لوگ کتنی آسانی سے بری ہو جاتے ہیں اور گواہ کس طرح اپنے بیان بدل دیتے ہیں تاکہ امیراور طاقت ور لوگوں کی ضرورت پوری ہو سکے۔ یہ کچھ ایسے معاملات ہیں جن سے عدلیہ کا تعلق ہے۔
اس باب میں آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عدلیہ ایک طاقت ور ادارہ ہے۔ اس طاقت نے عدالت کا  احترام پیدا کیا ہے اور اس سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں : ہندوستان میں عدلیہ اپنی آزادی وخودمختاری کے لیے پہچانی جاتی ہے۔ مختلف فیصلوں کے ذریعہ عدلیہ نے آئین کی نئی تشریحات کی ہیں اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس باب میں دیکھا۔ جمہوریت عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان نازک توازن ہے اور دونوں ادارے آئین کے ذریعہ طے کردہ حدود کے اندر ہی کام کرتے ہیں۔

ایک کارٹون پڑھیے 

pic 15 chapter 6
آخر کار مجھے باعزت بری کر دیا گیا ہے !یہ سب ایک بھیانک خواب تھا !
میں قسم کھاتا ہوں کہ میں کبھی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوں گا۔
عوامی زندگی میں بدعنوانی پر قابو رکھنے کے لیے عدلیہ کس طرح فعال کر دار ادا کرتی ہے؟

pic 16 chapter 6


مشق

وہ مختلف طریقے کیا ہیں جن کے ذریعہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے؟ غیر موزوں جواب کو الگ دیجیے:

(a) سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں کے انتخاب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا مشورہ لیا جاتا ہے۔
(b)        عام طور پر ججوں کو ریٹائرمنٹ کی عمر سے پہلے الگ نہیں کیا جاتا ۔
(c)   ہائی کورٹ کے ایک جج کو دوسرے ہائی کورٹ میں ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا۔
  (d)   ججوں کے تقرر میں پارلیمنٹ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

کیا عدلیہ کی آزادی کا مطلب ہے کہ عدلیہ کسی کے تئیں جواب دہ نہیں ہے؟ اپنا جواب 100 الفاظ کے اندر اندر دیجیے :

آئین میں مختلف دفعات کون سی ہیں جن کے ذریعہ عدلیہ کی آزادی کو قائم کیا گیا ہے؟

ذیل میں دی گئی اخباری رپورٹ پڑھیے اور مندرجہ ذیل پہلوؤں کی شناخت کیجیے :۔

   یہ  معاملہ کس کے متعلق ہے؟
   اس معاملہ میں کس کو فائدہ حاصل ہوا؟
   اس معاملہ میں اپیل کنندہ کون ہے؟
   تصور کیجیے کہ کمپنی کے ذریعہ کون سی دلیلیں دی گئی ہوں گی؟
   کسانوں نے کون سی دلیلیں پیش کی ہوں گی؟

سپریم کورٹ نے آر۔ای۔ایل۔ کو حکم دیا کہ کسانوں کو 300 کروڑ روپیہ ادا کرے
ہمارے کورپوریٹ بیورو ۔ 24 مارچ 2005
            ممبئی  : سریم کورٹ نے ریلائنس انرجی کو 300 کروڑ روپیہ کسانوں کو ادا کرنے کا حکم دیا جوممبئی سے باہر دہانو علاقے میں چیکو پھل اگاتے تھے۔ یہ فیصلہ اس اپیل کے بعد آیا جس میں چیکو اگانے والے کسانوں نے ریلائنس تھرمل پاور پلانٹ کی آلودگی کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
            دہانو، جوممبئی سے 150 کلومیٹر فاصلہ پر ہے ایک خود کفیل زراعتی اور باغبانی علاقہ ہے جو ایک دہائی سے بھی زیادہ مدت سے مچھلی پالن اور جنگلات کےلیےجانا جاتا ہے لیکن 1989 میں یہ اس وقت تباہ ہو گیا جب اس علاقہ میں ایک تھرمل پاور پلانٹ نے کام کرنا شروع کیا۔ اگلے سال اس علاقہ کی فصل تباہ ہوگئی۔ کبھی جو مہاراشٹر کا پھلوں کا علاقہ مشہور تھا اس کی 70 فیصد کاشت ختم ہو چکی ہے۔ مچھلی کی پرورش گاہیں بند ہو گئی ہیں اور گھنے جنگلات کم ہو گئے ہیں۔ کسان اور ماہرماحولیات کہتے ہیں کہ پاور پلانٹ سے نکلنے اور اڑنے والی راکھ نے زمین کے پانی میں داخل ہو کر پورے ماحولیاتی نظام کو آلودہ بنا دیا ہے۔ دہانو تعلقہ کے ماحولیاتی تحفظ ادارہ نے پلانٹ کو حکم دیا کہ اس میں ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کا انتظام کیا جائے اور سلفر کے خارج ہونے کو کم کیا جائے۔ حتٰی کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود کہ آلودگی کو قابو میں رکھنے کا انتظام کیا جائے، 2002 تک ایسا کوئی پلانٹ قائم نہیں کیا گیا۔ 2003 میں، ریلائنس نے تھرمل اسٹیشن کو حاصل کر لیا اور ایک منصوبہ کے مطابق 2004 میں ایسا عمل شروع کرنے کی تجویز رکھی۔ چونکہ ابھی تک آلودگی کو کنٹرول کرنے کا پلانٹ نصب نہیں کیا گیا ہے، دہانو تعلقہ کے ماحولیاتی تحفظ کے محکمہ نے ریلائنس کو  300 کروڑ روپیہ کی بنک ضمانت جمع کرنے کا حکم دیا۔

5 مندرجہ ذیل، اخباری رپورٹ پڑھیے اور 
مختلف مرحلوں ⁄ سطحوں پر حکومتوں کی شناخت کیجیے
سپریم کورٹ کے رول کی شناخت کیجیے
اس میں عدلیہ اور عاملہ کے کام کی کہاں تک جھلک دکھائی دیتی ہے؟
اس معاملہ میں ملوث قانون کی تشریح عمل در آمد اور قانون سازی سے متعلق معاملات 
اور مسائل کی شناخت کیجیے۔

مرکز، دہلی سی این جی کے معاملہ پر دہلی سمجھوتہ کرتی ہے
 اسٹاف رپورٹر، ’دی ہندو‘ 23 ستمبر2001
         آج مرکز اور دہلی حکومت نے باہم اتفاق کیا کہ اسی ہفتہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔۔۔۔ غیرسی۔این۔جی۔گیس سے چلنے والی تمام گاڑیوں کو دہلی کی سڑکوں سے مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے شہر کے لیے دوہری ایندھن حکمت عملی اختیار کرنے کا بھی فیصلہ لیا تاکہ پورے شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو ایک ہی قسم کے ایندھن پر انحصار نہ کرنا پڑے جو خطرات سے بھرپور تھا اور ناگہانی حادثات تباہی لاسکتے ہیں۔
        یہ بھی طے کیا گیا کہ پرائیویٹ گاڑیوں کے مالکوں کو سی۔این۔جی ۔گیس استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ حکومت اور پریس دونوں زور دیں گے کہ 0.05 فیصد سے کم سلفر ڈیزل بسوں میں استعمال کیا جائے۔ مزید یہ کہ عدالت میں یہ دلیل پیش کی جائے گی کہ وہ تمام گاڑیاں جو یورد II کے معیار پر پوری اترتی ہیں ان کو شہر میں چلتے رہنے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ دونوں مرکز اور دہلی حکومت علاحدہ علاحدہ اپنی درخواستیں پیش کریں گی لیکن کچھ عام نکات پر باہمی اتفاق ہوگا۔ سی۔این۔جی۔ گیس سے متعلق معاملات میں دہلی حکومت کے نقطئہ نظر کو مرکزی حکومت کی حمایت حاصل ہو گی۔ دہلی کی وزیراعلیٰ مسز شیلا دیکشت اور مرکزی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس ۔ رام نائک کے درمیان میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔
         مسزشیلا دیکشت نے کہاکہ مرکزی حکومت عدالت سے درخواست کرے گی۔ ڈاکٹرشالکر آر۔اے۔ کی صدارت میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے قیام کے مدنظر پورے ملک کے لیے ’’آٹو ایندھن حکمت عملی‘‘ تجویز کرے گی۔ یہ مناسب ہو تاکہ آخری تاریخ کو مزید بڑھایا جائے کیونکہ تقریباً دس ہزار پرانی بسوں پر مشتمل بیڑے کو اتنے کم وقت میں سی۔این۔جی میں تبدیل کرپانا ممکن نہیں ۔ ایسی امید کی جاتی ہے۔ شالکر کمیٹی چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کر دے گی۔
          وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالتی ہدایت پر عمل کرنے کےلیے وقت کی ضرورت ہے۔ اس مسئلہ پر باہمی تعاون کے نظریہ کا حوالہ دیتے ہوئے مسز شیلا دیکشت نے کہا سی۔ این ۔جی۔ میں تبدیل کی جانے والی بسوں کی تفصیلات تیار کی جائیں گی،سی این جی ڈپو کے باہر لمبی قطاروں کو ختم کرنے، دہلی میں سی این جی کی ضرورتوں اور عدالتی ہدایت پر عمل کے لیے دوسرے طریقوں پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
           سپریم کورٹ نے صرف بسوں کے لیے سی این جی کے اصول میں رعایت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ ٹیکسی اور آٹورکشہ پر اس اصول کے عمل درآمد کرنے کی بات پر زور نہیں دیا گیا ہے۔ مسٹر نائک نے کہا کہ مرکز اس بات کی اجازت دے گا کہ دہلی میں بسوں کو چلانے کے لیے کم سلفر ڈیزل استعمال کیاجائے کیوں کہ پورے نظام کو سی۔ این۔ جی۔ پر منحصرکرنا سخت مشکلات پیدا کرتا ہے۔ سی۔این۔جی کے لیے مرکز کا انحصار پائپ لائن سپلائی پر ہے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پورے ٹرانسپورٹ نظام کو ٹھپ کر سکتی ہے۔

ذیل میں ایکوا ڈور (ملک) کے متعلق ایک بیان درج ہے وہاں کے اور ہندوستان کے عدالتی نظام میں فرق اور مماثلتیں تلاش کیجیے :
’’اگر عام قانون کا ایک مجموعہ یا عدالتی روایات کا مجموعہ موجود ہوتا جو کسی جرنلسٹ کے حقوق کی وضاحت کرتا تو یہ بہت مفید ہوتا۔ بدقسمتی سے ایکوا ڈور کی عدالتیں اس طرح کام نہیں کرتیں۔ پہلے کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا جج احترام نہیں کرتے اور نہ انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کے برخلاف ایکوا ڈور (یاجنوبی امریکہ میں کہیں بھی) میں ایک اپیل جج کو ایک تحریری فیصلہ کی ضرورت نہیں ہوتی جس کی بنا پر وہ اپنا فیصلہ سُنا سکے۔ کوئی جج آج ایک فیصلہ کر سکتا ہے اور اسی معاملہ میں بغیر یہ جواز پیش کیے کہ اب کیوں ہوا دوسرا طریقہ اختیار کر سکتا ہے ۔‘‘

درج ذیل بیانات پڑھیے۔سپریم کورٹ کون سے مختلف دائرہ اختیار میں کام کرتی ہے اس سے ملائیے۔ ابتدائی، سماعتی اور مشاورتی۔

   √        حکومت جاننا چاہتی تھی کہ کیا وہ پاکستانی مقبوضہ حصوں جموں کشمیر کے باشندوں کو شہریت دے سکتی ہے۔
   √        دریائے کاویر کے پانی سے متعلق تنازعہ کو حل کرنے کے لیے حکومت تمل ناڈوعدالت سے 
رجوع کرنا چاہتی ہے۔
   √       کورٹ نے عوام کی اس درخواست کو نامنظور کر دیا جن کو ڈیم کے علاقہ سے ہٹانے کا حکم ملا تھا۔
مفادعامہ کے کس طرح غریبوں کی مدد کر سکتے ہیں؟
آپ کے خیال میں کیا بنیادی حقوق کے تحفظ کا مسئلہ عدالتی انتہا پسندی اور عاملہ کے درمیان تنازع کا سبب بن سکتا ہے؟ کیوں؟
10۔ عدالتی انتہا پسندی کس طرح بنیادی حقوق سے منسلک ہے؟ کیا اس نے موجودہ بنیادی حقوق کے دائرہ کو بڑھانے میں مدددی ہے؟