Skip to content
hindustani ayin aur kam


باب  7

وفاقیت

تمہید

ذیل میں دیے گئے سیاسی نقشوں2005-1955 پر نظرڈالیے۔گذشتہ برسوں میں ڈرامائی طور پر ان میں تبدیلی آئی ہے۔ریاستوں کی سرحدیں بدل گئی ہیں، ریاستوں کے نام بدل گئے ہیں اور ریاستوں کی تعداد بھی مختلف ہوگئی ہے۔جب ہندوستان آزاد ہوا تو ہمارے یہاں بہت سی ریاستیں تھیں جن کو برطانوی حکومت نے محض انتظامی سہولتوں کی غرض سے منظم کیا تھا۔پھر بہت سی جاگیردارانہ ریاستیں آزاد ہندوستان میں شامل ہوگئیں۔ان کو اس وقت موجود ریاستوں میں ضم کردیا گیا۔آپ پہلے نقشہ میں یہی دیکھیں گے۔اس وقت سے ریاستوں کی سرحدیں کئی بار طے کی گئیں۔اس پورے عرصہ میں بلکہ کچھ اور معاملات میں بھی، ان ریاستوں کے عوام کی خواہشات کے مدِّنظر ریاستوں کے نام بھی بدل دیے گئے۔جیسے میسور ریاست کا نام کرناٹک اور مدراس کا نام تمل ناڈو ہوگیا ہے۔ یہ نقشہ گذشتہ پچاس سالوں میں ہوئی ان تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔اس باب میں ہم ہندوستان میں وفاقیت کا تجزیہ کریں گے اور بتائیں گے کہ  آئین میں اس کا کیا مرتبہ ہے اور اس کا عمل کیا ہے۔

اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جاننے کے قابل ہوں گے:

  • وفاقیت کیا ہے؟
  • آئینِ ہند میں وفاقی دفعات
  • مرکزاور ریاستوں کے مابین رشتوں میں ملوث مسائل  اور
  • ایک امتیازی اور تاریخی پہلوؤں کی حامل خصوصی ریاستوں کے لیے خصوصی دفعات۔

ہندوستان کا نقشہ

pic 1 chapter 7
ہندوستان 2001
pic 2 chapter 7
1947 میں ہندوستان

ویسٹ انڈیز میں وفاقیت

آپ نے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔کیا اس نام کا کوئی ملک ہے؟
          ہندوستان کی طرح، ویسٹ انڈیز کو بھی برطانیہ نے اپنی کالونی بنایا تھا۔1958میں ویسٹ انڈیز کا وفاق وجود میں آیا۔اس کی مرکزی حکومت کمزور اور ہر ریاست اقتصادی طورپر آزاد تھی۔ان پہلوؤں اور ریاستوں کے مابین سیاسی مقابلہ آرائی نے 1962میں اس وفاق کو باقاعدہ ختم کردیا۔بعد میں 1973میں چیگواراماس کے معاہدہ کے تحت آزاد جزیروں نے ایک مشترکہ مجلسِ قانون ساز، سپریم کورٹ، مشترکہ کرنسی اور کچھ حد تک مشترکہ مارکیٹ کی صورت میں ایک مشترکہ حکومت قائم کی جس کو کیری بین برادری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کیری بین برادری کی مشترکہ عاملہ ہے اور ممبر ممالک کے سربراہانِ حکومت اس کے ممبر ہوتے ہیں۔
اس طریقہ سے ریاستیں نہ تو ایک ملک کی حیثیت سے آزاد رہ سکیں اور نہ ہی علاحدہ زندہ رہ سکیں۔

وفاقیت کیا ہے؟

یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلک(USSR) ، دنیا کی سُپرپاور میں سے ایک تھا۔لیکن 1989کے بعد آسانی سے کئی آزاد ریاستوں میں بکھر گیا۔اِن میں سے بعض نے آزاد ریاستوں کی کامن ویلتھ بنائی۔اس کے تقسیم ہونے کی ایک اہم وجہ حد سے زیادہ مرکزیت اور طاقت کا ارتکاز اور اپنے ہی علاقوں جیسے ازبیکستان کی تہذیب، زبانوں اور دوسرے علاقوں پر روس کا حاوی ہونا تھا ۔کچھ دوسرے ممالک جیسے چیکوسلواکیہ، یوگوسلاویہ اور پاکستان کو بھی تقسیم ملک کا سامنا کرنا پڑا۔کینیڈا بھی، انگریزی اور فرانسیسی بولنے والے علاقوں کے درمیان تقسیم ہوتے ہوتے رہ گیا۔کیا ہندوستان کے لیے یہ ایک زبردست کامیابی نہیں ہے کہ ایک اذیت ناک تقسیم کے بعد 1947میں نہ صرف ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اُبھرا بلکہ پچھلی چھ دہائیوں سے اپنی آزادی برقرار رکھے ہوئے ہے؟ اس کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا سہرا ان وفاقی انتظامات کو جاتا ہے جو ہمارے آئین کے تحت اختیار کیے گئے ہیں؟ مذکورہ بالا تمام ممالک وفاقی تھے۔پھر بھی وہ متحدنہ رہ سکے۔لہٰذا ایک وفاقی آئین اختیار کرنے کے علاوہ وفاقی نظام کی نوعیت اور وفاقیت کی مشق بھی اہم عناصر ہوتے ہیں۔
ہندوستان براعظموں کے متناسب اور متنوع صفات والا ملک ہے۔یہاں 20سے زیادہ بڑی اور کئی سو چھوٹی زبانیں بولی جاتی ہیں۔یہ بہت سے اہم مذاہب کا گھر ہے۔یہاں دیسی لوگ لاکھوں کی تعداد میں ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں۔اس رنگارنگی کے باوجود ہمارا ملک ایک ہے۔ہماری ایک مشترکہ تاریخ ہے خاص طور پر آزادی کی تاریخ۔ دوسرے بہت سے پہلوؤں میں بھی ہم ایک دوسرے کے مشترک ہیں۔اسی نے ہمارے قومی سربراہوں کو کثرت میں وحدت کا پہلو روشن کیا ہے۔بعض اوقات اس کو کثرت میں وحدت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
        وفاقیت میں کچھ مخصوص طے شدہ اصول شامل نہیں ہوتے جو مختلف تاریخی صورتِ حال سے مطابقت رکھتے ہوں۔ البتہ وفاق وہ اصول ہے جو مختلف حالات میں مختلف طریقہ سے نشوونما حاصل کرتا ہے۔امریکن وفاق ایک وفاقی مملکت کی تعمیرکے لیے اولین اور بہترین کوششوں میں سے ایک ہے جو جرمن اور ہندوستانی وفاق سے قطعی مختلف ہے۔تاریخی ضروریات، سیاسی ترجیحات اور معاشرتی حالات نے مل کر ایک مختلف قسم کی وفاقیت کو جنم دیا ہے۔
لیکن کچھ بنیادی خیالات اور نظریات بھی ہیں جو وفاقیت سے مربوط ہیں:۔
  • لازمی طور پر، وفاقیت ایک اداراتی طریقہ کار ہے جو دوقسم کی مملکتوں کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ایک علاقائی سطح پر اور دوسری قومی سطح پر۔ان میں ہر ایک اپنے دائرے میں خود مختار حکومت ہوتی ہے۔بعض وفاقی ممالک میں دوہری شہریت کا نظام بھی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں البتہ واحد شہریت کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔
  • اسی طرح عوام کی دوقسم کی شناخت اور وفاداری ہوتی ہے۔ایک اپنے علاقہ کے لیے اور دوسری اپنی قوم کے لیے۔مثال کے طور پر گجراتی یا جھارکھنڈی اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مملکت کی ہر سطح پر امتیازی اختیارات اور ذمہ داری اور ایک علاحدہ خود مختارنظامِ حکومت ہوتا ہے۔
pic 3 chapter 7
میں نے سمجھ لیا! یہ ہمارے اسکول جیسا ہے۔ہماری شناخت، گیارھویں یا بارھویں کلاس کے طلبا کی ہے۔اور ہمارے مختلف حصوں کے درمیان مقابلہ بھی ہے۔لیکن ہم سب ایک ہی اسکول سے تعلق رکھتے ہیں جس پر ہمیں فخر ہے۔

  • حکومت کے اس دوہرے نظام کی تفصیلات عام طور پر ایک تحریری آئین میں درج کیے جاتے ہیں جو بالاترسمجھا جاتا ہے اور دونوں طرز کی حکومتوں کا ماخذہوتا ہے۔ کچھ موضوعات جو قومی حیثیت رکھتے ہیں جیسے دفاع، کرنسی وفاق یا مرکزی حکومت کی ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں۔ علاقائی یا مقامی معاملات علاقائی یا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
  • ان حکومتوں کے مابین تنازعات روکنے اور ان کے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک آزاد عدلیہ قائم کی گئی ہے۔عدلیہ مرکزی حکومت اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی تقسیم سے متعلق قانونی معاملات کو طے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
حقیقی سیاست، تہذیب، نظریات اور تاریخ کسی وفاق کی حقیقی کارکردگی کو طے کرتے ہیں۔باہمی اعتماد وتعاون، آپسی احترام اور قوتِ برداشت کی روایت وفاقوں کو اچھی طرح کام کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔آئین کس طرح کام کرے گا اس کو سیاسی جماعتیں طے کرتی ہیں۔اگر کوئی واحد اکائی یا ریاست یا لسانی گروہ کا نظریہ پورے وفاق پر حاوی ہوجائے تو اس کے نتیجہ میں عوام کا غصّہ بڑھ سکتا ہے اور وہ ایک مخصوص گروہ کے خیالات کو قبول نہیں کریں گے۔ایسے حالات میں متاثرہ گروہ علاحدگی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔یہاں تک کہ اس کا انجام خانہ جنگی میں بھی ہوسکتا ہے۔بہت سے ممالک مشکل حالات سے دوچار ہیں۔
pic 4 chapter 7
مجھے یاد ہے، ہم نے پہلے باب میں پڑھا تھا:کون کتنا اختیار رکھتا ہے اس کو آئین طے کرے گا۔
pic 5 chapter 7

نائیجیریامیں وفاقیت

اگر مختلف علاقے اور برادریاں ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں تو کوئی بھی وفاقی نظام اتحاد پیدا کرنے میں نا کام ہوسکتا ہے۔نائیجیریا کی مثال سبق آموز ہے:
          1914ء تک شمالی اور جنوبی نائیجیریا دو علاحدہ برطانوی کالونیاں تھیں۔1950ء کی اِبادان آئینی کانفرنس میں نائیجیریا کے سر براہان نے ایک وفاقی آئین بنانے کا فیصلہ کیا۔ نائیجیریا کے تین اہم نسلی گروہوں-یروبا ،ایبو اور ہوسا فُلانی کا مغربی، مشرقی اور جنوبی علاقوں پر کنٹرول تھا ۔دوسرے علاقوں تک اپنے اثرو رسوخ کو پھیلانے کی ان کی کوششوں کی وجہ سے خوف اور تنازعات پیدا ہوئے۔ فوجی حکومت قائم ہوئی ۔1960ء کے آئین میں وفاقی اور علاقائی دونوں حکومتوں نے نائیجیریا کی پولس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔1979ء کی فوجی آئین کے تحت کسی بھی ریاست کو شہری پولس رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔
       حالاں کہ1999ء میں نائیجیریامیں جمہوریت بحال ہو گئی لیکن مذہبی اختلافات اورتیل کے محصولات پر کنٹرول جیسے مسائل نائیجیریائی وفاق کو درپیش رہے۔ مقامی لسانی برادریوں نے تیل کے محصولات کو مرکزکے ماتحت دینے کی مزاحمت کی۔ چنانچہ نائیجیریا ریاستوں کے مابین مذہبی ، نسلی اور معاشی اختلافات کی مثال ہے۔

 اپنی معلومات چیک کیجیے:

  •   کسی وفاق میں مرکزی حکومت کے اختیارات کون طے کرتا ہے؟ 
  •       کسی وفاق میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مسائل کیسے حل کیے جاتے ہیں؟                 

 آئین ہند میں وفاقیت

آزادی سے بھی پہلے ہماری قومی تحریک کے رہنماواقف تھے کہ جیسے وسیع ملک پر حکومت کرنےکےلیے یہ ضروری ہوگا کہ ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کردی جائے۔
     انھیں معلوم تھا کہ ہندوستانی معاشرہ میں ہمیشہ سے ہی علاقائی اور لسانی تنوع رہا ہے۔اس تنوع کو تسلیم کرنا ضروری تھا۔مختلف علاقوں اور زبانوں والے عوام کو اختیارات میں شریک ہونا تھا ۔اور ہر علاقہ میں مقامی لوگ خود اپنی حکومت چلائیں یہی وہ دلیل تھی کہ ہم ایک جمہوری حکومت کے خواہاں تھے ۔آزادی سے بھی پہلے ہماری قومی تحریک کے رہنماواقف تھے کہ ہمارے جیسے وسیع ملک پر حکومت کرنے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کر دی جائے۔
       ایک واحد سوال یہ تھا کہ علاقائی حکومتوں کو کس حد تک اختیارات سے فیض یاب ہونے کا موقع دیا جائے۔ تقسیم ہند سے پہلے مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔اس مطالبہ کے مد نظراس بات پر بحث کی گئی کہ علاقائی حکومتوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں۔ جب تقسیم ہند کا فیصلہ ہوگیاتو آئین سازاسمبلی نے ایک ایسی حکومت بنانے کا ارادہ کیا جو مرکزاور ریاستوں کے درمیان اتحاد تعاون کے اصولوں پر قائم ہو اور جس میں ریاستوں کو علاحدہ اختیارات دیے جائیں ۔آئینِ ہند میں اختیار کیے گئے وفاقی نظام کا سب سے اہم پہلو وہ اصول ہے کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان رشتوں کی بنیاد تعاون پر ہے ۔اس طرح تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے آئین نے اتحاد پر زور دیا۔
       مثال کے طور پر کیا آپ جانتے ہیں کہ آئینِ ہند میں لفظ‘‘وفاق‘‘کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ آئین ہندمیں ہندوستان کے بارے میں یہ باتیں کہی گئی ہیں۔

pic 6 chapter 7
بہرحال، مِل جل کر رہنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے تاکہ ہم سب خوش رہیں اور ایک دوسرے کو خوش رکھیں۔

  دفعہ : (۱)  ہندوستان یعنی بھارت ریاستوں کی ایک یونین ہوگی                                                                                  
 (۲) اسکی ریاستوں اور علاقوں کا تعین پہلے شیڈول میں کیا جائے گا۔

اختیارات کی تقسیم

آئین ہند کے ذریعہ کے تخلیق کردہ حکومت کے دو جوڑے ہیں ۔ایک پورے ملک کے لیے یونین حکومت (مرکزی حکومت)اور ایک ریاست اکائی کے لیے ریاستی حکومت۔ ان دونوں کی ایک آئینی حیثیت ہے اور ان کے کام کے دائرہ کی الگ شناخت ہے اگر تنازعہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سے اختیارات یونین کے ہیں اور کون سے ریاستوں کے تو آئینی بنیادوں پر اس کا فیصلہ عدلیہ کرے گی۔آئین نہایت وضاحت سے موضوعات کی حد بندی کرتا ہے۔ وہ موضوعات جو یونین کے اختیار میں آتے ہیں اور وہ جو ریاستوں کے اختیار میں آتے ہیں ۔ (یہاں دئے گئے چارٹ کو غور سے دیکھیے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم اختیارات کیسے کی گئی ہے )  
     اس تقسیم اختیارات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اقتصادی اور مالی اختیارات کو آئین نے مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے ۔ریاستوں کی ذمہ داری زبردست ہے لیکن محصولات بہت کم ہیں ۔
pic 7 chapter 7
مجھے لگتا ہے کہ ریاستوں کے پاس اپنا پیسہ بہت کم ہوگا۔وہ اپنے معاملات کیسے طے کرتے ہوں گے؟ یہ بالکل ان خاندانوں کی طرح ہے جہاں سارا پیسہ شوہر کے ہاتھ میں رہتا ہے اور عورت کو گھر کا نظام سنبھالنا ہوتا ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے:

  • آپ کے خیال میں کیا بقیہ اختیارات کاعلاحدہ سے ذکر ضروری ہے ؟کیوں؟
  •          تقسیم اختیارات سے متعلق ریاستیں مطمئن کیوں نہیں ہیں؟

آئین ہند
یونین فہرست میں ذیل کے  موضوعات شامل ہیں :
◊        دفاع 
 ◊      ایٹمی توانائی 
◊       خارجی معاملات
◊       بنک نظام
◊      ریلوے نظام
◊      پوسٹ ٹیلی گراف
◊      ہوائ نظام
◊      بندر گاہ
◊      غیر ملکی تجارت
◊      کرنسی اور نکسال
 صرف مرکزی مجلسِ قانون ساز:ان موضوعات پر قانون بنا سکتی ہے
ریاستی فہرست  میں ایسے مو ضوعات شامل ہیں :
◊      زراعت
◊      پولس
◊      جیل
◊     مقامی حکومت
◊     صحت عامہ
◊      زمین
◊     شراب
◊     تجارت اور کامرس
◊    مویشی اور افزائشِ نسل
◊     ریاستی پبلک سروسیز
مشترکہ فہرست   میں ایسے موضوعات شامل ہیں:
 ◊       تعلیم
◊       زراعتی زمین کے علاوہ جائیداد کی منتقلی
◊        جنگلات
◊        ٹریڈ یونین
◊        ملاوٹ
◊        گود لینا اور وراثت ان موضوعات میں سے کسی موضوع پر مرکزی اور  ریاستی  مجلسِ قانون ساز ،قانون بناسکتی ہیں۔
باقی ماندہ اختیارات
◊        وہ تمام مو ضوعات جو مذکورہ بالا تینوں فہرستوں میں شامل ہیں ۔
◊       ایسے موضوعات و معاملات پر صرف مرکزی مجلس قانون ساز ہی قانون بنا سکتی ہے۔



وفاقیت: ایک مضبوط مرکزی حکومت کے ساتھ

 یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ آئین ہندنے ایک مضبوط مرکزی حکومت کی تخلیق کی ہے یہ ملک براعظمی خطّوں والابے پناہ تنوع اور معاشرتی مسائل کا ملک ہے۔ہمارے آئین سازوں کو یقین تھا کہ ہمیں ایک وفاقی آئین کی ضرورت ہے جو تنوع کو بر قرار رکھ سکے۔وہ چاہتے تھے کہ عدم اتحاد کو ختم کر دینے اور معاشرتی وسیاسی تبدیلیاں لانے کے لیے، ایک مضبوط مرکز تخلیق کرنا ضروری ہے۔ مرکز کے پاس اس قسم کے اختیارات کا ہونا ضروری سمجھا گیا کیوں کہ آزادی کے وقت  ہندوستان نہ صرف برطانوی تقسیم کردہ ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بلکہ 500سے زیادہ نوابی ریاستیں موجود تھیں جن کو موجودہ  ریاستوں یا نو تشکیل ریاستوں میں ہم آہنگ کرنا تھا۔

pic 9 chapter 7
’’ ایوان میں اپنے محترم دوستوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ پورے آئین میں مرکزکی طرف رجحا ن رہا ہے۔۔۔ اب جو حالات ہوگئے ہیں اور ریاستیں بن گئی ہیں ان کی وجہ سے خواہ وفاقی یا وحدانی،پولیس مملکت سے فلاحی مملکتیں اور یہ کہ ملک کی اقتصادی بہتری کی ذمہ داری آخرکار مرکز کی زبردست ذمہ داری بن چکی ہے۔‘‘

ٹی۔ٹی۔ کرشنا ماچاری
CAD, VOL. 7, P.234

آئیے، ان دفعات پر نظر ڈالیں جو ایک مضبوط مر کزی حکومت کی تخلیق کرتے ہیں:

 بشمول علاقائی اتحاد کے کسی ریاست کا وجود ہی مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ کسی ریاست سے کچھ علاقے علاحدہ کرکے ایک نئی ریاست کی تشکیل کردے یا دویادوسے زیادہ ریاستوں کو ملاکر ایک نئی ریاست بنادے۔ وہ کسی ریاست کی سر حدیں یا نام بدل سکتی ہے۔آئین کے مطابق متعلقہ ریاستی مجلس قانون ساز سے احتیاطاً رائے بھی حاصل کر سکتی ہے۔

  •   آئین میں بہت بااختیار ایمرجنسی دفعات بھی ہیں جو وفاقی مملکت کو ایک انتہائی مضبوط مرکزی حکومت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ اگر ہنگامی حالات/ ایمرجنسی کا اعلان ہوجائے تو اس دوران مرکزی حکومت کو مکمل اقتدار واختیار حاصل ہوجاتا ہے۔ آئین کا وفاقی کردار معطل ہوجاتا ہے۔ ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آنے والے موضوعات پر قانون بنانے کامکمل اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہوجاتا ہے۔
  •   عام حالات میں، مرکزی حکومت کے پاس بہت موثر مالی اختیارات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ وہ موضوعات جن کے تحت محصولات حاصل ہوتے ہیں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہتے ہیں۔ لہٰذا مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں بہت سے محصولات ہونے کی وجہ سے عطیات اور مالی امداد کے لیے ریاستیں مرکز پر منحصر ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان نے تیزرفتار اقتصادی ترقی اور نشوونما کے لیے منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔منصوبہ بندی نے اقتصادی فیصلہ سازی میں مرکزیت کو بڑھاوا دیا ہے۔مرکزی حکومت کے ذریعہ مقررہ کردہ منصوبہ بندی کمیشن (پلاننگ کمیشن)نے ایک تال میل کی صورت اختیار کرلی ہے جو ریاستوں کے وسائل کے انتظام پر کنٹرول رکھتی ہے اور اس کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستوں کو عطیات اور قرض دینے کے لیےمر کزی حکومت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتی ہے۔اقتصادی وسائل کی اس تقسیم کو غیر متوازن سمجھا جاتا ہے اورجن ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی حکومت ہوتی ہے وہ اپنے ساتھ ہونے والے امتیازات کی شکایت کرتی ہیں۔
pic 10  chapter 7
اب میں سمجھ گیا کہ آئین کے معنی دوسروں سے اخذ کرنا نہیں ہے اس نے ہماری ضرورتوں کے مطابق، وفاقیت کا نقشہ تیار کیا ہے۔

           جیسا کہ آپ بعد میں مطالعہ کریں گے گورنر کو ریاستی حکومت کو معطل کرنے اور ریاستی مجلس قانون ساز کو تحلیل کرنے کے بعض اختیارات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ ، مخصوص حالات میں بھی ریاستی مجلس قانون ساز کے ذریعہ منظور کردہ کسی بھی بل کو محفوظ رکھنے کا اختیار حاصل ہے، جس کو صدر جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ عمل مرکزی حکومت کو موقع دیتا ہے کہ وہ ریاستی قانون سازی میں تاخیر کردے اور ایسے مسودوں یا بلوں کی جانچ کر سکے اور ان کوپوری طرح سے ویٹو کرسکے۔
  •      ایسے مواقع بھی ہوسکتے ہیں جب حالات کا یہ تقاضہ ہو کہ مرکزی حکومت ریاستی فہرست میں شامل کسی موضوع پر قانون بنائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب راجیہ سبھا اس کی تصدیق کردے۔آئین وضاحت کرتا ہے کہ مرکز کے عاملانہ اختیارات ریاستوں کے عاملانہ اختیارات سے بالاتر ہیں۔مزید یہ کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو ہدایت دینے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔
دفعہ257(1)’’ ہرریاست کے عاملانہ اختیار کا استعمال اس طرح کیا جائے گا کہ اس سے یونین کے عاملانہ اختیار کے استعمال میں رکاوٹ نہ ہو یا اس کو ضرب نہ پہنچے اور یونین کے عاملانہ اختیار کی وسعت ریاست کو ایسی ہدایتیں دینے تک ہوگی جو ہندوستان کی حکومت کو اس غرض سے ضروری معلوم ہوں۔‘‘
pic 11  chapter 7
مجھے لگتا ہے کہ مرکزی حکومت، تمام اختیارات کی مالک ہے۔ کیا ریاستیں اس کے خلاف شکایت نہیں کرتیں؟

درج ذیل میں اس دفعہ کی وضاحت ملا حظہ کیجیے:۔

  •    آپ عاملہ سے متعلق باب میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہمارا ایک مربوط انتظامی ڈھانچہ ہے۔ ہندوستان کے پورے علاقہ میں آل انڈیا سروسیز عام ہیں۔ اور ان سروسیز یا خدمات کےلیے جو عہدیدار منتخب کیے جاتے ہیں وہ ریاستوں کے انتظام میں بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس طرح، ایک آئی۔ اے۔ایس عہدیدار جو کلکٹر بن جاتا ہے یا ایک آئی۔ پی۔ ایس عہدیدار جو کمشنرآف پولیس بن جاتا ہے، وہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہتا ہے۔ ریاستیں ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتیں اور نہ  ہی ان کو سروس سے برخاست کر سکتی ہیں۔
  • دومزید دفعات کے ذریعے مرکزی حکومت کے اختیارات کو مضبوط بنا یا گیا ہے، جن سے مارشل لا نافذ ہونے کی شکل میں مدد ملتی ہے۔ دفعہ33 اور34جوپارلیمنٹ کو مرکزی حکومت کے تحت ایسے عہدیدار کو تحفظ دیتی ہیں جس نے امن وامان برقرار رکھنے کے لیے مرکز یا ریاست میں کوئی اقدام کیا ہو۔اسی نے آرمڈفورس اسپیشل پاور ایکٹ(Armed Force Special Power Act)کے لیے راہ ہموار کی۔بعض موقعوں پر اس قانون کی وجہ سے عوام اور فوجی دستوں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے  :

  • ہمارا آئین وحدانی طرز حکومت کی جانب رجحان رکھتا ہے اس دعوے کے حق میں کم ازکم دو دلیلیں دیجیے۔
  • آپ کا کیا خیال ہے کہ
ایک مضبوط مرکز ریاستوں کو کمزور بناتا ہے۔
مضبوط ریاستیں مرکز کو کمزور بنادیں گی۔

ہندوستان کے وفاقی نظام میں تنازعات

گذشتہ حصہ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ آئین نے مرکز کو بہت مضبوط اختیارات عطا کیے ہیں۔ اگر چہ آئین علاقوں کی علاحدہ شناخت کو تسلیم کرتا ہے لیکن مرکز کو زیادہ اختیارات دیتا ہے۔ جب ریاست کی اپنی شناخت کے اصول کو تسلیم کرلیا گیا تو یہ قدرتی سمجھا جاتا ہے کہ ریاستیں پورے ملک کی مجموعی حکومت میں زیادہ اہم کردار اور اختیارات کی امید رکھیں گی۔ اسی وجہ سے ریاستیں مختلف مطالبات کرتی رہی ہیں۔وقتاً فوقتاً ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو زیادہ اختیارات اور خود مختاری ملنی چاہیے۔اسی وجہ سے مرکز اور ریاستوں کے باہمی رشتوں میں تناؤ اور تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مرکزاور ریاستوں کے مابین قانونی معاملات عدلیہ طے کرتی ہے۔ خود مختاری کے مطالبات سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں جن کا حل باہمی بات چیت سے ہی ہوسکتا ہے۔

مرکز– ریاستی تعلقات

آئین تو صرف ایک چوکھٹا یا سانچہ ہے۔ اس کو گوشت وخون یا زندگی دینے کا کام حقیقی سیاسی عمل کا ہے۔لہٰذا ہندوستان میں بدلتے ہوئے سیاسی عمل نے وفاقیت پر بہت اثر ڈالا ہے۔ 1950کی دہائی اور1960کے اوائل میں، وفاقیت کی بنیاد جواہرلعل نہرو کی سرپرستی میں رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب مرکز اور ریاستوں دونوں میں کانگریس کا غلبہ تھا۔ اس دوران  سوائے نئی ریاستوں کی تشکیل کے مرکز اور ریاستوں کے مابین تعلقات معمول کے مطابق تھے۔ ریاستوں کو توقع تھی کہ وہ مرکز سے حاصل ہونے والی امداد کی بنا پر ترقی کریں گی اور اس کے علاوہ مرکز کے ذریعہ تیار کردہ معاشرتی واقتصادی ترقی کی حکمت عملیوں نے کافی توقعات پیدا کردی تھیں۔
           1960کی دہائی میں کانگریس کاغلبہ کم ہونے لگا اور بہت سی ریاستوں میں مخالف جماعتوں نے حکومت بنائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاستوں نے زیادہ اختیارات اور خود مختاری کے مطالبات پیش کیے۔ درحقیقت یہ صورت حال اس بات کی غمازتھی کہ مرکز اور ریاستوں میں مختلف جماعتیں اقتدار میں تھیں۔ لہٰذا انہوں نے مرکز میں موجود کانگریسی حکومت کے ذریعہ  ریاستی حکومتوں کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی محسوس کی۔ کانگریس بھی اس خیال سے مطمئن نہیں تھی کہ جن ریاستوںمیں حزبِ اختلاف اقتدار میں ہیں اُن سے کیسے نپٹا جائے۔ اس مخصوص سیاسی پس منظر نے وفاقی نظام میں خود مختاری کے نظریہ پر بحث کو جنم دیا۔
          آخر کار1990کی دہائی میں کانگریس کا غلبہ کافی کم ہوگیااورہم خاص طور سے مرکز میں ایک مخلوط حکومت کے دور میں داخل ہوگئے۔ ریاستوں میں بھی مختلف جماعتیں، قومی وعلاقائی دونوں ہی، اقتدار میں آئی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں، ریاستوں کی آواز اب سنائی دے رہی ہے۔ تنوع پسندی کے تئیں احترام اور ایک زیادہ پختہ وفاقیت کی شروعات ہوئی ہے۔ گویا یہ دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے جس میں سیاسی طور پر خود مختاری کا مسئلہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

pic 12 chapter 7
یہ بہت دل چسپ ہے لہٰذا، قانون اور آئین ہی سب کچھ طے نہیں کرتے۔بالآخر، حقیقی سیاست ہی ہماری حکومت کی نوعیت کا فیصلہ کرتی ہے۔
pic 13 chapter 7

خود مختاری کا مطالبہ

بہت سی ریاستیں، یہاں تک کہ بہت سی سیاسی جماعتیں، وقتاًفوقتاً مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ریاستوں کومرکز کے شانہ بشانہ زیادہ خود مختاری حاصل ہونی چاہیے۔ لیکن خود مختاری کے معنی  مختلف ریاستوں اور جماعتوں کے لیے علاحدہ علاحدہ ہیں۔
         بعض اوقات ان مطالبات سے توقع کی جاتی ہے کہ اختیارات کی تقسیم کو ریاستوں کی حمایت میں تبدیل کردیا جائے اور زیادہ اختیارات کے ساتھ ساتھ اہم اختیارات بھی ریاستوں کو تفویض ہوں۔ بہت سی ریاستوں (تامل ناڈو، پنجاب،مغربی بنگال) اور بہت سی سیاسی جماعتوں (ڈی۔ایم کے،اکالی دل، سی۔پی۔ آئی۔ایم) نے وقتاًفوقتاً زیادہ خودمختاری کے مطالبات کیے ہیں۔
  • ایک دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ریاستوں کے محصولات کے وسائل آزاد ہونے چاہئیں جن پر خود ان کا کنٹرول ہو۔ اس کو مالی اختیار بھی کہتے ہیں۔1977میں مغربی بنگال میں بائیں بازو کی حکومت ایک ایسی دستاویز لے کر آئی جس میں مرکز۔ ریاستی تعلقات کے ڈھانچہ کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا گیا۔تامل ناڈو اور پنجاب کے خود مختاری کے مطالبات میں ہی زیادہ مالی اختیارات کے خیال کو واضح حمایت حاصل ہوئی۔
        خود مختاری کے مطالبہ کا تیسرا پہلو ریاستوں کے مالی اختیارات سے متعلق ہے۔ انتظامی مشینری پر مرکزی حکومت کے کنٹرول پر ریاستوں کو سخت اعتراض ہے۔

ایک کارٹون پڑھیے

pic 14 chapter 7

آئین سازا سمبلی میں قومی زبان کے مدعے پر بحث کے دوران نہرو کو ہندی بولی جانے والی ریاستوں کے نمائندوں سے دوسروں کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے کی درخواست کرنی پڑی۔
ڈونٹ اسپیئر می شنکر، صفحہ 24 ،  18ستمبر 1949
  • چوتھی بات یہ کہ خود مختاری کے مطالبات کا تعلق تہذیبی اور لسانی مسائل سے بھی ہوسکتا ہے۔ہندی کے غلبہ کی مخالفت (تامل ناڈو میں )یا پنجابی زبان وثقافت کی نشوو نما کے مطالبات اس کی مثالیں ہیں۔ بعض ریاستیں محسوس کرتی ہیں کہ دوسری زبانوں کے مقابلہ میں ہندی کا تمام ریاستوں پرغلبہ ہے۔ حقیقت میں 1960کی دہائی میں ہندی کو زبردستی نافذ کرنے پر کئی ریاستوں میں احتجاج ہوئے۔

ایک کارٹون پڑھیے 

جب نہرو گورنروں کی تقرری کر رہے تھے اس وقت بعض عہدۂ وزارت سے مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ 
دونٹ اسپیئرمی شنکر، صفحہ 89،27اپریل 1952

گورنر کا رول اور صدارتی راج

ہمیشہ سے ہی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے مابین گورنروں کا رول ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔گورنر ایک منتخبہ عہدیدار نہیں ہوتا۔ بہت سے گورنر–ریٹائیرڈ فوجی افسر، سول سرونٹ یا سیاست داں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر کا تقرر مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتا ہے۔لہٰذا اکثر گورنر کے اقدامات کو ریاستی انتظام میں مرکز کی دخل اندازی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب مرکزاور ریاست میں مخالف جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں تو گورنر کا رول مزید متنازع ہوجاتا ہے۔ سرکاریہ کمیشن کا تقرر مرکزی حکومت نے مرکزوریاستوں کے تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے کیا تھا۔(اس نے اپنی رپورٹ 1983میں پیش کی)۔ اس کمیشن نے حکومت کو تجویز کیا کہ گورنر کا تقرر قطعی غیر جانب دارانہ ہونا چاہیے۔گورنر کا رول اور اس کے اختیارات کے متنازع ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔آئین کی سب سے متنازع دفعات میں سے ایک دفعہ 356ہے جس کے ذریعہ کسی بھی ریاست میں صدر راج نافذکیا جاسکتا ہے۔ یہ دفعہ اسی وقت نافذ کی جاتی ہے جب ریاستی حکومت آئینی دفعات کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔ اس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت سنبھال لیتی ہے۔ صدر کے اعلان کی تصدیق پارلیمنٹ سے ہونا ضروری ہے۔گورنر کو اختیار ہے کہ وہ ریاستی حکومت کو برخاست کرنے یا معطل کرنے یا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز پیش کردے۔اس کی وجہ سے بہت سے تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعض معاملات میں ریاستی حکومتوں کو ایسے حالات میں برخاست کردیا گیا جب ان کو اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی جیسا کہ1959میں کیرالا میں ہوا یا ان کی جانچ پرکھ کیے بغیر، جیسے 1967کے بعد کئی ریاستوں میں ہوا۔کچھ معاملات تو سپریم کورٹ تک پہنچے اور کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ صدر راج نافذ کرنے کے فیصلہ کی آئینی معقولیت کو عدلیہ کے ذریعہ جانچا جاسکتا ہے۔
ایک کارٹون پڑھیے
pic 15 chapter 7
 جب نہرو گورنروں کی تقرری کر رہے تھے اس وقت بعض عہدۂ وزارت سے مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ 
دونٹ اسپیئرمی شنکر، صفحہ 27،89اپریل 1952

        1967تک دفعہ356کا استعمال کم ہی کیا گیا۔1967کے بعد بہت سی ریاستوں میں غیر کانگریسی حکومتیں قائم ہوئیں جب کہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔مرکز نے اس دفعہ کا استعمال ریاستی حکومت کے برسراقتدار آنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا۔مثال کے طور پر مرکزی حکومت نے 1980کی دہائی میں، آندھرا پردیش اور جموں وکشمیر میں نمائندہ حکومتوں کو معزول کردیا۔

ایک کارٹون پڑھیے 

    pic 16  chapter 7
    یہ توہین آمیز جھوٹ ہے کہ ہم غیرکانگریسی حکومتوں کومعزول کرتے ہیں۔ ہم اپنی بھی حکومتوں کو معزول کرتے ہیں۔
    ریاستوں کو معزول کردینا۔ہرشخص یہ کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔

    نئی ریاستوں کے لیے مطالبات

    ہمارے وفاقی نظام میں تناؤ کا دوسرا پہلوہے  نئی ریاستوں کی تشکیل کے لیے مطالبات ۔ قومی تحریک نے نہ صرف ہندوستانی قومی اتحاد پیدا کیا  بلکہ اس نے ایک مشترکہ زبان، خطہ اور کلچر کے ارد گرد تانا بانا بھی تیار کیا۔ ہماری قومی تحریک ایک جمہوری تحریک تھی۔ چنانچہ تحریک کے دوران ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ریاستوں کی تشکیل عام ثقافتی اور لسانی شناخت کی بنا پر کی جائے گی۔

    ایک کارٹون پڑھیے 

    pic 17  chapter 7
    نئی ریاستوں کی تشکیل کے لیے مطالبات کا سیلاب !

              اس کے قطعی نتیجہ کے طور پر آزادی کے بعد لسانی ریاستوں کا مطالبہ پورا ہوا۔ 1954میں’’ ریاستوں کی تشکیل نو کاکمیشن‘‘ قائم کیا گیا۔ اور اس نے کم ازکم اہم لسانی گروہوں کےلیے نئی ریاستوں کی تجویز رکھی۔ یہاں سے لسانی ریاستوں کی تشکیل کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جارہی ہے۔1960میں گجرات اور مہاراشٹر ریاستیں بنائی گئیں۔ 1966میں پنجاب اور ہریانہ کو علاحدہ کیا گیا۔ بعد میں شمال مشرقی علاقہ کی تشکیل نو ہوئی اور کئی نئی ریاستیں بنائی گئیں جیسے منی پور، تری پورہ، میگھالیہ، میزورم اور اروناچل پردیش۔

    سر گرمی

             ہندوستان کی ریاستوں کی فہرست تیار کیجیے اور سن تلاش کیجیے، کس سال میں کون سی ریاست بنائی گئی۔
           2000کی دہائی میں کچھ بڑی ریاستوں کو، الگ ریاستوں کے مطالبوں اور بہتر انتظامی کارکردگی کے مقصد سے تقسیم کردیا گیا۔جیسے بہار، اترپردیش ، مدھیہ پردیش کو مزید تین ریاستوں میں تقسیم کیا گیاوہ ہیں بالترتیب جھار کھنڈ، اترانچل اور چھتیس گڑھ علاقے۔ لسانی گروہ اب بھی علاحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جیسے مہاراشٹر میں دربھا۔

    ریاستوں کے مابین تنازعات

    ایک طرف ریاستیں مرکز کے ساتھ خود مختاری یا محصولات میں حصہ داری جیسے مسائل پر جھگڑتی رہتی ہیں وہیں ایسی بھی بہت سی مثالیں ہیں جہاں دو یا دو سے زیادہ ریاستوں کے مابین جھگڑے ہوتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ قانونی نوعیت کے جھگڑوں پر عدلیہ فیصلے کرتی ہے لیکن درحقیقت یہ مسئلے قانونی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ان میں سیاسی عوامل کارفرماہوتے ہیں لہٰذا ان کو صرف باہمی گفت و شنید اور آپسی سوجھ بوجھ سے ہی سلجھایا جاسکتا ہے۔
    pic 18  chapter 7
    گویا وفاقیت صرف تنازعات سے متعلق ہے ،پہلے ہم نے مرکز اور ریاستوں کی باہمی کشیدگی کے بارے میں پڑھا اور اب ریاستوں کے درمیاں ۔کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے نہیں رہ سکتے ؟

             بڑے پیمانے پر، دوقسم کے تنازعات چلتے رہے ہیں۔اُن میں سے ایک ہے سرحدی تنازعہ۔ بہت سی ریاستیں، دوسری ریاستوں کے علاقوں پر اپنا دعویٰ کرتی ہیں۔اگرچہ  ریاستوں کی سرحدوں کا تعین زبان کی بنا پر ہوتا ہے لیکن اکثر سرحدی علاقوں میں بیک وقت کئی زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔لہٰذا محض لسانی اکثریت کی بنا پر ایسے تنازعات سلجھانا آسان نہیں ہوتا۔ طویل عرصہ سے جارہی سرحدی تنازعوں میں سے ایک تنازعہ مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان بلگام شہر سے متعلق ہے۔منی پور اور ناگالینڈ کے درمیان بھی طویل عرصہ سے سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔سابقہ ریاست پنجاب سے ہریانہ کا حصہ الگ کیے جانے پر دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعات پیدا ہوگئے اور شہرچنڈی گڑھ پر بھی ،جسے کو راجدھانی بنایا گیا۔ آج یہ شہر دونوں ریاستوں کی راجدھانی ہے۔ اُس وقت کے وزیر اعظم اور پنجاب کے سربراہان کے درمیان1985میں معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق چنڈی گڑھ کو پنجاب کو سونپا جانا تھا لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوسکا۔
              اگرچہ سرحدی تنازعات کا تعلق جذبات سے زیادہ ہے دریاؤں کے پانی سے متعلق جھگڑے بھی کافی سنجیدگی اختیار کرچکے ہیں کیوں کہ ان کا تعلق ریاستوں میں پینے کے اور زراعت کے پانی سے ہے۔آپ نے کاویری آبی تنازعہ کے بارے میں سُنا ہوگا۔ یہ تامل ناڈو اور کرناٹک کے درمیان ایک اہم مسئلہ ہے۔ دونوں ریاستوں کے کاشت کارکاویری کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ حالاں کہ آبی تنازعات حل کرنے کے لیے ایک آبی عدالت(Water Tribunal)موجود ہے۔ پھر بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ایسے ہی ایک دوسرے تنازعہ کی وجہ سے گجرات مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر، نرمدادریا کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ نبردآزما ہیں۔دریا ایک ا ہم وسیلہ ہوتا ہے لہٰذا دریاؤں کے پانی پر تنازعات، ریاستوں کے باہمی تعاون اور تحمل کاامتحان لیتے ہیں۔ 
    pic 19  chapter 7
    ہاں، گورنروں، زبانوں، سرحدوں اور پانی پر تنازعات ہیں، پھر بھی ہم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔

    سرگرمی

     کم ازکم ایک دریائی تنازعہ پر معلومات جمع کیجیے جس میں دویادو سے زیادہ ریاستیں ملوث ہوں۔

    اپنی معلومات چیک کیجیے

    • ریاستیں زیادہ خودمختاری کیوں چاہتی ہیں؟
    • خود مختاری اورعلاحدگی میں کیا فرق ہے؟

    مخصوص دفعات

    ہندوستان میں جو وفاقی نظام تخلیق کیا گیا ہے اس کا غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ مختلف ریاستوں کے ساتھ مختلف سلوک روا رکھا گیا ہے۔مجلس قانون ساز کے باب میں ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہر ریاست کا سائز اور آبادی مختلف ہونے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں غیر متناسب نمائندگی دی گئی ہے۔ اگر چہ ہر چھوٹی ریاست کی کم سے کم نمائندگی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔یہ نظام بھی اس بات کی یقین دہائی کراتا ہے کہ بڑی ریاستوں کو زیادہ نمائندگی حاصل ہو۔
             تقسیم اختیارات کے سلسلہ میں بھی آئین نے ایسی تقسیم پیش کی ہے جو تمام ریاستوں کے لیے عام نوعیت کی ہے۔ پھر بھی آئین میں کچھ مخصوص دفعات بعض ریاستوں کے لیے شامل کی گئی ہیں اور ان کے مخصوص معاشرتی اور تاریخی حالات کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر دفعات کا تعلق شمالی مشرقی ریاستوں (آسام، ناگالینڈ، اروناچل پردیش، میزورم وغیرہ) سے ہے، جہاں پرانی قبائلی آبادی ہے اور جن کی ایک مخصوص تاریخ وتہذیب ہے جسے وہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان دفعات کی وجہ سے علاحدگی کے نظریہ کو تقویت نہیں حاصل ہوئی اور نہ ہی ان علاقوں میں شورش ہوئی ہے۔ ان مخصوص دفعات کا تعلق پہاڑی ریاستوں سے بھی ہے جیسے ہماچل پردیش، آندھراپردیش ،گوا ، گجرات ، مہاراشٹر اور سکم اور تلنگانہ۔
    pic 20  chapter 7
    اب میں نے سمجھا کہ پہلے باب میں ’’دانش مندانہ اور متوازن ڈیزائن‘‘ کا کیا مطلب ہے۔

    جموں وکشمیر

    ایک اور ریاست جس کا ایک مخصوص رتبہ ہے وہ جموں وکشمیر (J&K) تھا (دفعہ 370)۔ جموں وکشمیر ریاست کی حیثیت ایک رجواڑے کی تھی جس کو لے کر آزادی کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بھی ہوئی۔ایسے حالات میں کشمیر کے مہاراجہ نے اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان سے کیا۔
             مغربی اور مشرقی حصوں کےزیادہ تر مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہوگئے تھے لیکن جموںو کشمیر اس سے جُدا تھا۔ ان مخصوص حالات میں آئین نے اس ریاست کو زیادہ خود مختاری دی۔ دفعہ 370کے مطابق یونین یامرکزی فہرست اور مشترکہ فہرست میں شامل کسی بھی موضوع پر جس کا تعلق ریاست سے ہو مرکزی حکومت کوئی قانون بناتی ہے تو ریاست سے اس کی رائے ضرور معلوم کرنا ہوگی۔ جہاں تک دوسری ریاستوں کا تعلق ہے اختیارات کی تقسیم خود بخود نافذ ہوگی۔ جموں وکشمیر کے معاملہ میں مرکزی حکومت کے پاس محدود اختیارات تھے۔مرکزی  اور مشترکہ فہرست میں شامل اختیارت کا استعمال ریاستی حکومت کے مشورہ سے کیا جاتھا۔ اسی وجہ سے جموں وکشمیر کو زیادہ خود مختاری تھی۔
           پہلےایک ایک آئینی دفعہ صدر جمہوریہ کو یہ اختیار دیتی تھی کہ وہ ریاستی حکومت کے مشورہ سے یہ طے کرے کہ یونین فہرست کے کون سے حصہ کا ریاست جموں وکشمیر پراطلاق ہوگا۔ صدر جمہوریہ نے جموں و کشمیر حکومت کی مرضی سے دو آئینی حکم نامے جاری کیے تھے جس سے آئین کے ایک بڑے حصے کو ریاست میں نافذ کر دیا گیا۔ نتیجہ میں، اگر چہ جموں وکشمیر کا ایک علاحدہ آئین اور جھنڈا تھا اور یونین فہرست میں شامل موضوعات پر بنائے گئے پارلیمانی قانون بھی پوری طرح سے قابل قبول ہوئے۔
          جموں وکشمیر اور دوسری ریاستوں کے درمیان بہت سے امتیازات ہیں جیسے ریاست کی منظوری کے بغیر اندرونی حالات کی وجہ سے جموں وکشمیر میں ہنگامی حالات (ایمرجنسی) کااعلان نہیں ہوسکتاتھا، یونین حکومت کو ریاست میں مالی ہنگامی حالات نافذ کرنے کا بھی اختیار نہیں تھا۔مملکت کی حکمت عملی کے رہنمااصول جموں وکشمیرپر نافذ نہیں ہوتے۔ مزیدیہ کہ آئین ہند میں ترمیم (دفعہ368کے تحت) جموں وکشمیر حکومت  مشورے سے ہوسکتی تھی۔
             بہت سے لوگوں کا یقین ہے کہ وفاق کے تمام حصوں یا اکائیوں کے درمیان مساوی اور باضابطہ تقسیم اختیارات ہی کافی ہے لہٰذا ایسی مخصوص دفعات کی مخالفت یقینی ہے۔ یہ بھی خوف ہے کہ اس طرح کی مخصوص دفعات ان علاقوں میں علاحدگی کے جذبہ کو فروغ دے سکتی ہیں۔ چنانچہ ان دفعات سے متعلق اختلاف پائے جاتے ہیں۔
              آج دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی درجہ وجود میں نہیں ہے۔ جموں اور کشمیر آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تحت ریاست کو دو مرکزی اختیار والے علاقوں(i) جموں و کشمیر (ii) لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ نیا انتظام 31اکتوبر 2019 کو عمل میں آیا۔

    اختتام

    وفاقیت ایک قوس قزح کی مانند ہے جہاں ہر رنگ جدا ہے لیکن ہم آہنگی کا ایک نمونہ ہے ۔وفاقیت کو ہمشیہ ہی مرکز اور ریاستوں کے درمیان ایک مشکل توازن برابر قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک وفاقی سیاسی نظام کو بہتر طور پر چلانے کی ضمانت کوئی بھی قانون یا دستوری ادارہ نہیں دے سکتا بالآخر عوام اور سیاسی عوامل کو چاہیے کہ وہ باہمی اعتماد ، تحمل اور امداد باہمی کے جذبات جیسی اقدار اور اخلاقی بنیاد پر ایک کلچر کی تخلیق کریں۔
              وفاقیت، وحدت و کثرت دونوں کاجشن مناتی ہے۔ اختلافات کودور کرکے قومی اتحاد کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ایسی جبری وحدت مزید معاشرتی چپقلش اور علیحدگی پسندی کو پیدا کرتی ہے جو آخر کاراتحاد کو تباہ کردیتی ہے۔ کثرت سے متعلق احساس اور خود مختاری کے مطالبات کے تئیں بیدار مملکت ہی تعاون پر بنی وفاقیت کی بنیاد ہوسکتی ہے۔

    مشق

    درج ذیل واقعات کی فہرست میں سے کس کو آپ وفاقیت کے ردّعمل سے تعبیر کریں گے؟ اور کیوں؟

    مرکز نے منگل کے دن ، جی۔ این۔ ایل۔ ایف کی سربرا ہی میں دارجلنگ گورکھا ہل کونسل کے لیے چھٹے شیڈول کے رتبہ کا اعلان کیا جو مغربی بنگال میں پہاڑی ضلع کی حکومت کو زیادہ خود مختاری دے گا۔مرکز، مغربی بنگال اور سبھاش گھیسسنگ کی سربراہی میں گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ کے درمیان سہ رخی معاہدہ پر، دو دن کی لمبی بات چیت کے بعد، دستخط کیے گئے۔
     √ بارش سے متاثرہ ریاستوں کے لیے حکومت کا منصوبہ : مرکز نے بارش سے تباہ حال ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ایک تفصیلی منصوبہ پیش کریں تاکہ مزید راحتی امداد کے لیے ان کے مطالبات کے جواب میں تعمیر نو کی جاسکے۔
    √  دہلی کے نئے کمشنر: راجدھانی کو ایک نیا میونسپل کمشنرمل رہا ہے۔اس کی تصدیق کرتے ہوئے موجود ایم۔ سی۔ ڈی کمشنر راکیش مہتا نے کہا کہ ان کو ٹرانسفر کا حکم نامہ مل گیا ہے اور جلد ہی ان کی جگہ آئی۔اے۔ ایس۔آفیسر اشوک کمار عہدہ سنبھال لیں گے جوفی ا لحال اروناچل پردیش میں چیف سیکریٹری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مہتا،1975کے درجہ کے آئی۔ اے۔ ایس ہیں اور تقریباً تین سال چھ ماہ سے ، ایم۔ سی۔ ڈی کاچارج سنبھالے ہوئے ہیں۔
    منی پور یونیورسٹی کے لیے مرکزی درجہ: بدھ کو راجیہ سبھا نے ایک بل کو منظوری دے دی جس کے تحت منی پوریونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس وعدہ کے ساتھ کہ اس قسم کے ادارے شمالی مشرقی ریاستوں –اروناچل پردیش، تری پورہ اور سکم میں بھی قائم کیے جائیں گے۔
    فنڈ جاری کیے گئے: دیہی پانی سپلائی اسکیم کے تحت مرکزنے اروناچل پردیش کو5.53لاکھ روپیہ کی رقم جاری کی ہے۔ کل رقم466.81لاکھ میں سے یہ پہلی قسط ہے۔
    ہم بہاریوں کو سکھائیں گے کہ بمبئی میں کس طرح رہیں: تقریباً100شیوسینک کارکن جے۔جے ہسپتال میں زبردستی داخل ہوگئے، روز مرہ کے کام کاج کو درہم برہم کیا، نعرے لگائے اور حالات کو اپنے قبضہ میں لینے کی دھمکی دی جبکہ غیر مہاراشٹر طلبا کے خلاف قدم نہیں اٹھایا گیا۔
    حکومت کی برخاستگی کامطالبہ: حال ہی میں گورنر کو دیے گئے ایک یادداشت میں کانگریس قانون ساز پارٹی (CLP)نے ناگالینڈ کی موجودہ حکومت ڈیموکریٹک الائنس کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ اس نے عوام کے پیسے میں خردبرد کی اور اس کا غلط استعمال کیا۔
    این۔ ڈی۔اے حکومت نے نکسلیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا: مخالف جماعتوں آر۔جے ۔ڈی اور اس کی حمایتی جماعتوں کانگریس اور وسی پی آئی ایم کے زبرست ہنگامہ کے دوران اسمبلی سے واک آؤٹ کے وقت، بہار حکومت نے نکسلیوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑدیں اور اپنا یہ وعدہ دوہرایاکہ بہار میں ایک نیا دور شروع کرنے کے لیے بے روز گاری کو جڑوں سے اکھاڑپھینک دیا جائے گا۔

    سوچیے کہ درج ذیل بیانات میں سے کون سا صحیح ہے اور کیوں؟

    √  مختلف علاقوں کے باشندوں کے درمیان بغیر ایک دوسرے کی ثقافت کو تھوپے جانے کے خوف کے،باہمی میل جول کے امکانات کو وفاقیت فروغ دیتی ہے۔
    دو مختلف علاقے جن کے اقتصادی وسائل قطعی مختلف ہوں ان کے درمیان آسان اقتصادی تبادلوں میں وفاقی نظام رکاوٹ ڈالتا ہے۔
    √      وفاقی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مرکز کے اختیارات محدود رہیں گے۔

    بیلیجیم کے آئین پر مبنی درج ذیل دفعات وضاحت کرتی ہیں کہ اُس ملک میں وفاقیت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔کوشش کیجیے اور آئین کی ایسی ہی دفعات تحریر کیجیے۔

    عنوان1: فیڈرل بیلجیم ،اس کے عناصر اور علاقہ
        دفعہ1۔بیلجیم تین سماجوں اور علاقوں سے بنی ایک فیڈرل مملکت ہے۔
        دفعہ 2۔بیلجیم تین سماجوں سے بنا ہے:  فرانسیسی سماج ، فلیمش سماج اور جرمن سماج۔
        دفعہ3۔بیلجیم تین علاقوں سے بناہے: ولون علاقہ، فلیمش علاقہ اور برسلز علاقہ۔

       دفعہ 4۔بیلجیم کے چار لسانی علاقے ہیں: فرانسیسی بولنے والے علاقے، ڈچ بولنے والے علاقے، برسلزراجدھانی میں دو زبانیں بولنے والے علاقے اور جرمن بولنے والے علاقے۔ہر’’کمیون‘‘ (کاؤنٹی بورو) ان میں سے کسی ایک لسانی علاقے کا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔

        دفعہ 5۔ ولون علاقہ میں درج ذیل ریاستیں ہیں: ولون برے بینٹ، ہے ہینولٹ، لیج،لکسمبرگ اور نمور۔ فلیمش علاقے میں درج ذیل ریاستیں شامل ہیں: اینٹرورپ، فلیمش برے بینٹ، ویسٹ فلینڈرس، ایسٹ فلینڈرس اور لمبرگ۔۔۔۔۔۔۔
    تصور کیجیے کہ آپ کو وفاقیت سے متعلق دفعات کو دوبارہ تحریر کرنا ہے۔ تقریباً300الفاظ پر مشتمل اپنی تجاویز ان کے بارے میں لکھیے:
    (ا)   مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم اختیارات
    (ب) مالی وسائل کی تقسیم
    (ج) بین ریاستی جھگڑوں کو حل کرنے کے طریقے
    (د) گورنروں کا تقرر

    5 کسی مملکت کی تشکیل کی درج ذیل میں سے کون سی بنیاد ہونی چاہیے؟ کیوں؟

    (ا) مشترکہ زبان
    (ب) مشترکہ اقتصادی مفادات
    (ج) مشترکہ مذہب
    (د) انتظامی سہولیات۔

    شمالی ہند کی ریاستوں یعنی  راجستھان، مد ھیہ پردیش، اتر پردیش، بہار میں ہندی زبان بولی جاتی ہے۔  اگر ان ریاستوں کو باہم ملاکر ایک ریاست بنا دی جائے تو کیا یہ وفاقیت کے تصور سے مطا بق ہوگا؟ دلیل دیجیے۔

    آئین ہند کے چار پہلوؤں کی فہرست بنائیے جو ریاستی حکومت کے مقابلہ میں مرکزی حکومت کو زیادہ اختیار دیتے ہیں۔
    بہت سی ریاستیں گورنر کے رول سے ناخوش کیوں ہیں؟
    اگر حکومت آئین کے مطابق نہ چل رہی ہو تو کسی ریاست میں صدر راج نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ بتایئے کہ درج ذیل حالات میں سے کون سے صدر راج نافذ کرنے کے لیے درست ہیں۔وجوہات بھی بتائیے:
    کسی ریاستی مجلس قانون ساز کے دو ممبر جن کا تعلق بڑی مخالف جماعت سے تھا، ان کو مجرموں نے قتل کردیا اور اب مخالف جماعت حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کررہی ہے۔
    تاوان وصول کرنے کے لیے بچوں کے اغوا میں اضافہ ہورہا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم بھی بڑھ رہے ہیں۔
    موجودہ منتخبہ ر یاستی مجلس قانون ساز میں کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ڈرہے کہ دوسری جماعتوں کے بعض ممبران اسمبلی کو پیسہ کا لالچ دے کر اپنی طرف بلا لیا جائے گا۔
    √  ریاستوں اور مرکز میں مختلف جماعتیں حکومت کررہی ہیں اور وہ ایک دوسرے کی سخت مخالف ہیں۔
    √  فرقہ وارانہ فسادات میں 2000سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔
    دو ریاستوں کے درمیان آبی تنازعہ میں ایک ریاست نے سپریم کورٹ کے حکم کوماننے سے انکار کردیا ہے۔
     10۔ زیادہ خود مختاری حاصل کرنے کے لیے ریاستوں نے کون سے مطالبات رکھے ہیں؟
    11۔ کیا کچھ ریاستوں پر مخصوص دفعات کے تحت حکومت چلائی جانی چاہیے؟کیا اس سے دوسری ریاستوں میں غصہ پیدا ہوگا؟ کیا اس سے ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے میں مدد ملے گی؟