باب 7
وفاقیت
تمہید
ذیل میں دیے گئے سیاسی نقشوں2005-1955 پر نظرڈالیے۔گذشتہ برسوں میں ڈرامائی طور پر ان میں تبدیلی آئی ہے۔ریاستوں کی سرحدیں بدل گئی ہیں، ریاستوں کے نام بدل گئے ہیں اور ریاستوں کی تعداد بھی مختلف ہوگئی ہے۔جب ہندوستان آزاد ہوا تو ہمارے یہاں بہت سی ریاستیں تھیں جن کو برطانوی حکومت نے محض انتظامی سہولتوں کی غرض سے منظم کیا تھا۔پھر بہت سی جاگیردارانہ ریاستیں آزاد ہندوستان میں شامل ہوگئیں۔ان کو اس وقت موجود ریاستوں میں ضم کردیا گیا۔آپ پہلے نقشہ میں یہی دیکھیں گے۔اس وقت سے ریاستوں کی سرحدیں کئی بار طے کی گئیں۔اس پورے عرصہ میں بلکہ کچھ اور معاملات میں بھی، ان ریاستوں کے عوام کی خواہشات کے مدِّنظر ریاستوں کے نام بھی بدل دیے گئے۔جیسے میسور ریاست کا نام کرناٹک اور مدراس کا نام تمل ناڈو ہوگیا ہے۔ یہ نقشہ گذشتہ پچاس سالوں میں ہوئی ان تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔اس باب میں ہم ہندوستان میں وفاقیت کا تجزیہ کریں گے اور بتائیں گے کہ آئین میں اس کا کیا مرتبہ ہے اور اس کا عمل کیا ہے۔
اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جاننے کے قابل ہوں گے:
- وفاقیت کیا ہے؟
- آئینِ ہند میں وفاقی دفعات
- مرکزاور ریاستوں کے مابین رشتوں میں ملوث مسائل اور
- ایک امتیازی اور تاریخی پہلوؤں کی حامل خصوصی ریاستوں کے لیے خصوصی دفعات۔
ہندوستان کا نقشہ
ویسٹ انڈیز میں وفاقیت
وفاقیت کیا ہے؟
- لازمی طور پر، وفاقیت ایک اداراتی طریقہ کار ہے جو دوقسم کی مملکتوں کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ایک علاقائی سطح پر اور دوسری قومی سطح پر۔ان میں ہر ایک اپنے دائرے میں خود مختار حکومت ہوتی ہے۔بعض وفاقی ممالک میں دوہری شہریت کا نظام بھی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں البتہ واحد شہریت کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔
- اسی طرح عوام کی دوقسم کی شناخت اور وفاداری ہوتی ہے۔ایک اپنے علاقہ کے لیے اور دوسری اپنی قوم کے لیے۔مثال کے طور پر گجراتی یا جھارکھنڈی اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مملکت کی ہر سطح پر امتیازی اختیارات اور ذمہ داری اور ایک علاحدہ خود مختارنظامِ حکومت ہوتا ہے۔
- حکومت کے اس دوہرے نظام کی تفصیلات عام طور پر ایک تحریری آئین میں درج کیے جاتے ہیں جو بالاترسمجھا جاتا ہے اور دونوں طرز کی حکومتوں کا ماخذہوتا ہے۔ کچھ موضوعات جو قومی حیثیت رکھتے ہیں جیسے دفاع، کرنسی وفاق یا مرکزی حکومت کی ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں۔ علاقائی یا مقامی معاملات علاقائی یا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
- ان حکومتوں کے مابین تنازعات روکنے اور ان کے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک آزاد عدلیہ قائم کی گئی ہے۔عدلیہ مرکزی حکومت اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی تقسیم سے متعلق قانونی معاملات کو طے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
نائیجیریامیں وفاقیت
اپنی معلومات چیک کیجیے:
- کسی وفاق میں مرکزی حکومت کے اختیارات کون طے کرتا ہے؟
- کسی وفاق میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مسائل کیسے حل کیے جاتے ہیں؟
آئین ہند میں وفاقیت
انھیں معلوم تھا کہ ہندوستانی معاشرہ میں ہمیشہ سے ہی علاقائی اور لسانی تنوع رہا ہے۔اس تنوع کو تسلیم کرنا ضروری تھا۔مختلف علاقوں اور زبانوں والے عوام کو اختیارات میں شریک ہونا تھا ۔اور ہر علاقہ میں مقامی لوگ خود اپنی حکومت چلائیں یہی وہ دلیل تھی کہ ہم ایک جمہوری حکومت کے خواہاں تھے ۔آزادی سے بھی پہلے ہماری قومی تحریک کے رہنماواقف تھے کہ ہمارے جیسے وسیع ملک پر حکومت کرنے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کر دی جائے۔
اختیارات کی تقسیم
اپنی معلومات چیک کیجیے:
- آپ کے خیال میں کیا بقیہ اختیارات کاعلاحدہ سے ذکر ضروری ہے ؟کیوں؟
- تقسیم اختیارات سے متعلق ریاستیں مطمئن کیوں نہیں ہیں؟
| آئین ہند |
| یونین فہرست میں ذیل کے موضوعات شامل ہیں : ◊ دفاع ◊ ایٹمی توانائی ◊ خارجی معاملات ◊ بنک نظام ◊ ریلوے نظام ◊ پوسٹ ٹیلی گراف ◊ ہوائ نظام ◊ بندر گاہ ◊ غیر ملکی تجارت ◊ کرنسی اور نکسال صرف مرکزی مجلسِ قانون ساز:ان موضوعات پر قانون بنا سکتی ہے |
ریاستی فہرست میں ایسے مو ضوعات شامل ہیں : ◊ زراعت ◊ پولس ◊ جیل ◊ مقامی حکومت ◊ صحت عامہ ◊ زمین ◊ شراب ◊ تجارت اور کامرس ◊ مویشی اور افزائشِ نسل ◊ ریاستی پبلک سروسیز |
مشترکہ فہرست میں ایسے موضوعات شامل ہیں: ◊ تعلیم ◊ زراعتی زمین کے علاوہ جائیداد کی منتقلی ◊ جنگلات ◊ ٹریڈ یونین ◊ ملاوٹ ◊ گود لینا اور وراثت ان موضوعات میں سے کسی موضوع پر مرکزی اور ریاستی مجلسِ قانون ساز ،قانون بناسکتی ہیں۔ |
| باقی ماندہ اختیارات ◊ وہ تمام مو ضوعات جو مذکورہ بالا تینوں فہرستوں میں شامل ہیں ۔ ◊ ایسے موضوعات و معاملات پر صرف مرکزی مجلس قانون ساز ہی قانون بنا سکتی ہے۔ |
وفاقیت: ایک مضبوط مرکزی حکومت کے ساتھ
آئیے، ان دفعات پر نظر ڈالیں جو ایک مضبوط مر کزی حکومت کی تخلیق کرتے ہیں:
- آئین میں بہت بااختیار ایمرجنسی دفعات بھی ہیں جو وفاقی مملکت کو ایک انتہائی مضبوط مرکزی حکومت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ اگر ہنگامی حالات/ ایمرجنسی کا اعلان ہوجائے تو اس دوران مرکزی حکومت کو مکمل اقتدار واختیار حاصل ہوجاتا ہے۔ آئین کا وفاقی کردار معطل ہوجاتا ہے۔ ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آنے والے موضوعات پر قانون بنانے کامکمل اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہوجاتا ہے۔
- عام حالات میں، مرکزی حکومت کے پاس بہت موثر مالی اختیارات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ وہ موضوعات جن کے تحت محصولات حاصل ہوتے ہیں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہتے ہیں۔ لہٰذا مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں بہت سے محصولات ہونے کی وجہ سے عطیات اور مالی امداد کے لیے ریاستیں مرکز پر منحصر ہیں۔
- ایسے مواقع بھی ہوسکتے ہیں جب حالات کا یہ تقاضہ ہو کہ مرکزی حکومت ریاستی فہرست میں شامل کسی موضوع پر قانون بنائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب راجیہ سبھا اس کی تصدیق کردے۔آئین وضاحت کرتا ہے کہ مرکز کے عاملانہ اختیارات ریاستوں کے عاملانہ اختیارات سے بالاتر ہیں۔مزید یہ کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو ہدایت دینے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔
دفعہ257(1)’’ ہرریاست کے عاملانہ اختیار کا استعمال اس طرح کیا جائے گا کہ اس سے یونین کے عاملانہ اختیار کے استعمال میں رکاوٹ نہ ہو یا اس کو ضرب نہ پہنچے اور یونین کے عاملانہ اختیار کی وسعت ریاست کو ایسی ہدایتیں دینے تک ہوگی جو ہندوستان کی حکومت کو اس غرض سے ضروری معلوم ہوں۔‘‘
درج ذیل میں اس دفعہ کی وضاحت ملا حظہ کیجیے:۔
- آپ عاملہ سے متعلق باب میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہمارا ایک مربوط انتظامی ڈھانچہ ہے۔ ہندوستان کے پورے علاقہ میں آل انڈیا سروسیز عام ہیں۔ اور ان سروسیز یا خدمات کےلیے جو عہدیدار منتخب کیے جاتے ہیں وہ ریاستوں کے انتظام میں بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس طرح، ایک آئی۔ اے۔ایس عہدیدار جو کلکٹر بن جاتا ہے یا ایک آئی۔ پی۔ ایس عہدیدار جو کمشنرآف پولیس بن جاتا ہے، وہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہتا ہے۔ ریاستیں ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتیں اور نہ ہی ان کو سروس سے برخاست کر سکتی ہیں۔
- دومزید دفعات کے ذریعے مرکزی حکومت کے اختیارات کو مضبوط بنا یا گیا ہے، جن سے مارشل لا نافذ ہونے کی شکل میں مدد ملتی ہے۔ دفعہ33 اور34جوپارلیمنٹ کو مرکزی حکومت کے تحت ایسے عہدیدار کو تحفظ دیتی ہیں جس نے امن وامان برقرار رکھنے کے لیے مرکز یا ریاست میں کوئی اقدام کیا ہو۔اسی نے آرمڈفورس اسپیشل پاور ایکٹ(Armed Force Special Power Act)کے لیے راہ ہموار کی۔بعض موقعوں پر اس قانون کی وجہ سے عوام اور فوجی دستوں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔
اپنی معلومات چیک کیجیے :
- ہمارا آئین وحدانی طرز حکومت کی جانب رجحان رکھتا ہے اس دعوے کے حق میں کم ازکم دو دلیلیں دیجیے۔
- آپ کا کیا خیال ہے کہ
ہندوستان کے وفاقی نظام میں تنازعات
مرکز– ریاستی تعلقات
خود مختاری کا مطالبہ
- ایک دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ریاستوں کے محصولات کے وسائل آزاد ہونے چاہئیں جن پر خود ان کا کنٹرول ہو۔ اس کو مالی اختیار بھی کہتے ہیں۔1977میں مغربی بنگال میں بائیں بازو کی حکومت ایک ایسی دستاویز لے کر آئی جس میں مرکز۔ ریاستی تعلقات کے ڈھانچہ کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا گیا۔تامل ناڈو اور پنجاب کے خود مختاری کے مطالبات میں ہی زیادہ مالی اختیارات کے خیال کو واضح حمایت حاصل ہوئی۔
ایک کارٹون پڑھیے
- چوتھی بات یہ کہ خود مختاری کے مطالبات کا تعلق تہذیبی اور لسانی مسائل سے بھی ہوسکتا ہے۔ہندی کے غلبہ کی مخالفت (تامل ناڈو میں )یا پنجابی زبان وثقافت کی نشوو نما کے مطالبات اس کی مثالیں ہیں۔ بعض ریاستیں محسوس کرتی ہیں کہ دوسری زبانوں کے مقابلہ میں ہندی کا تمام ریاستوں پرغلبہ ہے۔ حقیقت میں 1960کی دہائی میں ہندی کو زبردستی نافذ کرنے پر کئی ریاستوں میں احتجاج ہوئے۔
ایک کارٹون پڑھیے
گورنر کا رول اور صدارتی راج
ایک کارٹون پڑھیے
ایک کارٹون پڑھیے
نئی ریاستوں کے لیے مطالبات
ایک کارٹون پڑھیے
سر گرمی
ریاستوں کے مابین تنازعات
سرگرمی
اپنی معلومات چیک کیجیے
- ریاستیں زیادہ خودمختاری کیوں چاہتی ہیں؟
- خود مختاری اورعلاحدگی میں کیا فرق ہے؟