لاطینی امریکہ میں جمہوری لامرکزیت کی سب سے زیادہ کامیاب مثالوں میں سے بولیویا کی مثال مستقل طور پر دی جاتی رہی ہے۔1994میں مقبول شراکت کا قانون(Popular Participation Law) نے مقامی سطح پر اقتدار کو مرکوز کیا۔مئیر کا انتخاب مقبول بنانےکی اجازت دی، ملک کومیونسپلیٹوں میں تقسیم کیا، نئی میونسپلیٹوں کو مالی اختیارات خود بخود منتقل کرنے کے لیے ایک نظام تیار کیا۔
بولیویا میں ان حکومتوں کے سربراہ عوام کے ذریعہ منتخب میئر (Presidente Municipal) ہوتے ہیں اور ای مک میونسپل کو نسل ـ(Cabildo) ہوتی ہے ۔ پورے ملک میں ہر پانچ سال میں مقامی انتخابات ہوتے ہیں۔
بولیویا میں مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے مقامی سطح پر صحت عامہ کا اہتمام کرنا، تعلیمی سہولیات مہیا کرانا اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ بھی مہیا کرانا۔بولیویا میں فی نفر بنیاد پر میونسپلٹیوں کے درمیان کل قومی محصولات کا %20 حصہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ ادارے خود موٹر سائیکلوں، شہری ملکیت، بڑی زرعی جائیدادوں، مالی منتقلی پر ٹیکس وصول کرتے ہیں جو ان اکائیوں کے بجٹ کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔
مقامی اداروں کے اپنے فنڈ بہت کم ہیں۔ مالی امداد کے لیے، مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر انحصار کی وجہ سے مقامی اداروں کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ دیہی مقامی ادارے، کل محصولات کا صرف 0.24فیصد جمع کرتی ہیں جو حکومت کے ذریعہ کیے گئے اخراجات کا کل4فیصد ہوتا ہے۔ گویا اخراجات سے بہت کم آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اور ان کو مالی عطیات کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
اختتام
یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی حکومتیں مستقل طور پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں ہیں۔ مقامی حکومت کو زیادہ اختیارات دینے کے معنی ہیں کہ ہمیں اصلی اختیارات کی لامرکزیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جمہوریت کے معنی ہیں کہ عوام کو اختیارات میں شرکت دلائی جائے۔دیہی عوام اپنی مرضی سے اپنے منصوبہ بنائیں اور ان پر عمل کریں ۔مقامی حکومت سے متعلق قانون لامرکزیت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔لیکن جمہوریت کا اصلی امتحان محض قانونی دفعات میں نہیں بلکہ ان کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔
مشق
1۔ آئین ہند نے دیہی پنچایتوں کو خود مختار حکومت کی اکائیوں کے طور پر دیکھا۔ درج ذیل بیانات میں دی گئی صورت حال پر غور کیجیے اور تفصیل پیش کیجیے کہ مقامی حکومت کی اکائیوں کو کمزور یامضبوط بنانے میں ان حالات کا کیا عمل دخل ہے۔
(a) کسی ریاست کی حکومت نے کسی غیر ملکی کمپنی کو اپنے یہاں ایک بڑا اسٹیل کارخانہ لگانے کی اجازت دی ہے۔اس اسٹیل کارخانہ کا بہت سے دیہاتوں پر خراب اثر پڑے گا۔متاثرہ دیہاتوں کی پنچایتوں نے ایک قرارداد منظور کی کہ کسی بھی علاقہ میں کوئی بڑا کارخانہ لگانے سے پہلے ان گاؤں کے لوگوں سے مشورہ کیا جائے اور ن کی شکایتوں کا ازالہ کیا جائے۔
(b) حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے کل اخراجات کا %20فیصد پنچایتوں کے ذریعہ خرچ ہوگا۔
(c) ایک دیہی پنچایت اپنے یہاں اسکول قائم کرنے کے لیے مستقل مطالبہ کرتی رہی ہے۔حکومت کے عہدیدار ان نے اس کے مطالبہ کو یہ کہہ کرنامنظور کردیا کہ جو فنڈ دوسرے کاموں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں ان کا استعمال کسی اورمقصد کے لیے نہیں ہوسکتا۔
(d) حکومت نے دُنگر پور گاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصہ کو جمنا کا حصہ بنا دیا اور دوسرے کو سوہنا میں شامل کردیا۔ اب حکومت کی دستاویزات میں دُنگرپور گاؤں کا وجود ختم ہوگیا۔
(e) ایک دیہی پنچایت نے غور کیا کہ ان کے علاقہ میں پانی کی سطح تیزی سے گررہی ہے۔انہوں نے دیہا ت کے نوجوانوں کو رضا کارانہ کام کے لیے راغب کیا تاکہ دیہات کے پرانے تالابوں اور کنوؤں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے۔
2۔ فرض کیجیے کسی ریاست میں دیہی حکومت کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری آپ کو دی گئی ہے۔آپ دیہی پنچایتوں کو کون سے اختیارات دیں گے جس سے کہ وہ خودمختار حکومتوں کی اکائیوں کے طور پر کام کرسکیں۔جو اختیارات آپ ان کو دیں گے ان میں سے کوئی پانچ اختیارات اور ان کے جواز کو دو دوسطروںمیں تحریر کیجیے۔
3۔ 73ویں ترمیم کے مطابق سماجی طور سے محروم طبقوں کے لیے تحفظات کی کون سی دفعات ہیں؟ تفصیل سے بیان کیجیے کہ ان دفعات نے دیہی سطح پر لیڈر شپ کے معنی کیسے بدل دیے؟
4۔ 73ویں ترمیم سے پہلے اور اس ترمیم کے بعد مقامی حکومتوں میں کیا فرق تھا؟
5۔ درج ذیل گفتگو پڑھیے۔ دوسو الفاظ میں تحریر کیجیے کہ جن مسائل پر یہاں گفتگو ہورہی ہے اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
آلوک: ہمارا آئین مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ مقامی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن ان کو مساوی حصہ کی ضمانت دیتا ہے۔
نہا: لیکن یہ کافی نہیں ہے کہ عورتوں کو بااختیار حیثیت دی جائے۔یہ ضروری ہے کہ مقامی اداروں کے بجٹ میں خواتین کے لیے علاحدہ دفعات ہوں۔
جَییش: مجھے یہ ریزرویشن کا نظام پسند نہیں۔مقامی انجمن کو دیہات کے تمام لوگوں کی برابر دیکھ بھال کرنی چاہیے،جس سے خواتین اور ان کے مفادات کا خودبخود تحفظ ہوجائے گا۔
6۔ 73ویں ترمیم کی دفعات پڑھیے۔درج ذیل میں سے اس ترمیم کا تعلق کس سے ہے؟
(a) تبدیلی کے خوف سے نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ بن جاتے ہیں۔
(b) اعلیٰ ذاتیں اور جاگیردار مقامی اداروں پر حاوی رہتے ہیں۔
(c) دیہی ناخواندگی بہت زیادہ ہے۔گاؤں کی ترقی کے لیے ناخواندہ لوگ فیصلہ نہیں لے سکتے۔
(d) موثر بننے کے لیے دیہی پنچایتوں کو وسائل اور اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دیہات کی ترقی کے منصوبے بناسکیں۔
7۔ درج ذیل میں مقامی حکومت کی حمایت میں مختلف دلیلیں دی گئی ہیں۔ان کو ترتیب دیجیے اور بیان کیجیے کہ آپ نے کسی جواز کو کس وجہ سے اہمیت دی۔آپ کے مطابق ان میں کون سی دلیلوں پر گاؤں وینگائی وسال کی پنچایت انحصار کرتی تھی؟ کیسے؟
(a) مقامی آبادی کی شرکت سے حکومت اپنے منصوبوں کو کم قیمت خرچ سے مکمل کرسکتی ہے۔
(b) سرکاری عہدیدار ان کے مقابلہ میں مقامی لوگوں کے ذریعہ تیار کردہ ترقیاتی پروگرام دیہات کے عوام کو زیادہ قابل قبول ہوں گے۔
(c) لوگ اپنے علاقہ اپنی ضرورتوں اور ترجیحات کو بخوبی جانتے ہیں۔اجتماعی شرکت سے وہ اپنی زندگی سے متعلق بحث کرسکتے ہیں اور فیصلے کرسکتے ہیں۔
(d) عام آدمی کے لیے اپنی نمائندہ حکومت یا قومی مجلس قانون ساز کے نمائندہ سے رابطہ رکھنا مشکل ہے۔
8۔ آپ کے خیال میں درج ذیل میں کس میں لامرکزیت شامل ہے؟ لامرکزیت کے متعلق دوسری دلیلیں کیوں ناکافی ہیں؟
(a) گرام پنچایت کا انتخاب کرانا۔
(b) ان کے دیہات کے لیے کون سے منصوبے اور حکمت عملیاں مفید ہیں اس کا فیصلہ خودگاؤں والے لے سکیں۔
(c) گرام سبھا کی میٹنگ بلانے کا اختیار
(d) ریاستی حکومت کے ذریعہ شروع کیے گئے کسی منصوبہ سے متعلق بلاک ترقیاتی آفیسر (B.D.O.)کی رپورٹ گرام پنچایت کو موصول ہوتی ہے۔
9۔ ابتدائی تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی میں لامرکزیت کے کردار کا دہلی یونیورسٹی کا ایک طالب علم رگھویندر پنّا مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔اس نے گاؤں والوں سے کچھ سوالات پوچھے۔یہ سوالات نیچے دیے گئے ہیں۔اگر آپ ان دیہاتیوں میں سے ایک ہوتے تو ان میں سے ہر سوال کا کیا جواب دیتے؟
گاؤں کا ہربچہ اسکول جاسکے اس موضوع پر بحث کرنے کے لیے گرام سبھا کی ایک میٹنگ بلائی گئی ہے۔
10۔ آپ میٹنگ بلانے کے لیے ایک مناسب دن کس طرح طے کریں گے؟ سوچیے کہ آپ کس وجہ سےاس میٹنگ میں آسکیں گے ⁄ یا نہیں آسکیں گے کیونکہ
(i) بی۔ڈی۔او۔ یا کلکٹرکے ذریعہ مخصوص دن طے کرنا
(ii) گاؤں کے ہاٹ کا دن
(iii) اتوار
(iv) ناگ پنچمی ⁄ سنکرانتی
(a) میٹنگ کے لیے کون سی جگہ مناسب رہے گی؟ کیوں؟
(i) ضلع عہدیدار کی ذریعہ طے کردہ جگہ
(ii) گاؤں میں کوئی مذہبی مقام
(iii) دلت محلہ
(iv) گاؤں کا اسکول
(b) گرام سبھا کی میٹنگ میں پہلے ضلع کلکٹرکا خط پڑھا گیا۔اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ ایک تعلیمی جلوس نکالنے کے اقدامات کیے جائیں اور اس کا راستہ طے کیا جائے۔میٹنگ میں اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ کون سے بچے کبھی اسکول نہیں آئے، نہ لڑکیوں کی تعلیم یا اسکول کی عمارت کی حالت اور اسکول کے اوقات پر کوئی بحث ہوئی۔چونکہ یہ میٹنگ اتوار کو تھی اس لیے کسی خاتون ٹیچر نے حاضری نہیں دی۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ مثال عوام کی حصہ داری کی ہے؟
(c) اپنی کلاس کا تصور گرام سبھا کے طور پر کیجیے۔میٹنگ کے ایجنڈے پر بحث کیجیے اور مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ اقدامات تجویز کیجیے۔