Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب8 

مقامی حکومتیں

تمہید

جمہوریت میں صرف مرکزی اور ریاستی سطح پر منتخبہ حکومت کا ہونا کافی نہیں ہوتا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو ایک ایسی حکومت منتخب کرنے کا موقع ملے جو معاملا ت کی نگرانی کرسکے۔اس باب میں آپ اپنے ملک میں مقامی سطح پرحکومتی ڈھانچہ کا مطالعہ کریں گے۔ آپ مقامی حکومتوں کی اہمیت اور ان کو خود مختاری دینے کے طریقوں کی اہمیت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کریں گے۔ اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ جان جائیں گے:

  • مقامی حکومتوں کی اہمیت
  • 73 ویں اور 74ویں تر ممیات کے تحت دفعات
  • مقامی حکومتی اداروں کے کام اورذمہ داریاں 

مقامی حکومتیں۔کیوں؟

گیتا راٹھور کا تعلق جمونیاتالاب گرام پنچایت ، ضلع سیہور، مدھیہ پردیش سے ہے۔ ان کاانتخاب1995میں سرپنچ کی حیثیت سے محفوظ نشست(Reserved Seat)پر ہوا تھا۔ لیکن 2000میں گاؤں کے باشندوں نے ان کی قابلِ ستائش کارکردگی کی بدولت ان کو دوبارہ  منتخب کرلیا لیکن اس بار ایک غیر محفوظ نشست سے۔ گیتا کی شخصیت ایک گھریلو عورت سے ایک ایسے لیڈر میں تبدیل ہوئی جس نے سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے پانی کی ٹنکیوں کی تجدیدکاری، اسکولی عمارت کی تعمیر، گاؤں کی سڑکوں کی تعمیر، خواتین کے خلاف خانگی تشدد اور مظالم کی مخالفت، ماحول کے تئیں بیداری اور اپنے گاؤں میں شجر کاری اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے پنچایت کی مجموعی طاقت کا استعمال بہترین طریقہ سے کیا–پنچایت اپ ڈیٹ۔ جلد11نمبر3فروری2004۔

ایک اور کہانی ایک کامیاب خاتون کی ہے۔ وہ تامل ناڈو کے ونگائی وانسل گاؤں کی سرپنچ منتخب ہوئیں۔1997میں تامل ناڈو حکومت نے71سرکاری ملازمین کو دوہیکٹیر زمین الاٹ کی تھی۔زمین کا یہ ٹکڑا گرام پنچایت کے دائرہ میں آتا تھا۔ اعلی حکام کی ہدایت پر کانچی پورم کے ضلع کلکٹر نے گرام پنچایت کی سرپنچ کوہدایت دی کہ اس پلاٹ کو مقرر کردہ مقصد کےلیے حاصل کیا جائے۔ سرپنچ اورگرام پنچایت نے اس طرح کا ریزویشن منظور کرنے سے انکار کردیا۔ ہائی کورٹ کی ایک نفری بنچ نے ضلع کلکٹر کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ دیا کہ گرام پنچایت کے ذریعہ ریزویشن منظور کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پنچایت نے اس فیصلہ کے خلاف ڈویثرن بنچ کے سامنے مقدمہ پیش کیا۔ جج نے فیصلہ دیا کہ سرکاری فیصلہ نہ صرف پنچایت کے اختیارات بلکہ پنچایتوں کے آئینی رتبہ کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔پنچایت راج اپ ڈیٹ۔جلد12، شمار6،جون2005۔

pic 1 chapter 8
لیکن کیا ایسے واقعات نہیں ہوئے کہ گرام پنچایت کے مرد ممبران نے، خاتون سرپنچ کو حراساں کیا۔عورت، جب کوئی ذمے داری کی پوزیشن حاصل کرتی ہے تو مردخوش کیوں نہیں ہوتے؟

          یہ دونوں کہانیاں علاحدہ قسم کے واقعات نہیں ہیں۔وہ اس عظیم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں جو پورے ہندوستان میں ہورہی ہے۔ خاص طورپر جب سے 1993میں مقامی اداروں کو آئینی حیثیت عطا کی گئی ہے۔
          دیہات اور ضلع سطح کی حکومت کو مقامی حکومت کہتے ہیں۔مقامی حکومت وہ حکومت ہے جو عام آدمیوں کے قریب تر ہے۔یہ وہ حکومت ہے جس میں عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی کے مسائل شامل ہیں۔ مقامی حکومت کا یقین ہے کہ اس کی کارکردگی اور کامیابی کے لیے مقامی معلومات اور مقامی مفادضروری عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام سے قربت یا نزدیکی میں ہی اس کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ عام لوگوں کے ذریعہ اپنے مسائل کو جلد سے جلد اور کم لاگت پر حل کرنے کی خوبی۔گیتا راٹھور کی کہانی میں ہم نے غور کیا کہ وہ جمونیا تالاب گاؤں میں تبدیلی لانے کی اہل تھی۔سرپنچ کی حیثیت سے ایک فعال کردار بھی اس کے پاس تھا۔ ویگائی وائی سل گاؤں اب بھی اپنی زمین پر قبضہ رکھنے کے قابل ہے اس کاکیا استعمال کیا جائے، یہ فیصلہ کرنے کا حق بھی حاصل ہے کیوں کہ گرام پنچایت صدر اور اس کے ممبران کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا۔ اس طرح مقامی حکومتیں ایک موثر طریقہ سے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہیں۔
        جمہوریت با معنی حصہّ داری کا نام ہے۔ اس کا تعلق جواب دہی سے ہے۔مضبوط اور پُرجوش حکومتیں فعال حصہ داری اور جواب دہی کی یقین دہانی کراتی ہیں۔ ویگا وائی سل گاؤں کی پنچایت اپنی ان تھک کو ششوں سے ہی اپنی زمین کی حفاظت کرسکی۔ مقامی سطح پر عام شہری اپنی زندگی، اپنی ضرورتوں اور سب سے بااثر اپنی ترقی کے فیصلے خود کرتے ہیں۔
       یہ ضروری ہے کہ جمہوریت میں جو کام مقامی سطح پرانجام دیے جاسکتے ہیں وہ مقامی باشندوں اور ان کے نمائندوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دینے چاہئیں۔ قومی اور ریاستی سطح کے مقابلہ میں حکومت سے عام لوگ زیادہ واقف ہوتے ہیں۔مقامی حکومت کیا کرتی ہے اور کون سے کام کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے ان سب سے متعلق ہوتا ہے اوراس کااثر روزمرہ کی زندگی پر ہوتا ہے۔ لہٰذا مقامی حکومت کو مضبوط کرناجمہوری عمل کو مضبوطی دینے کے مترادف ہے۔

pic 2 chapter 8
کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارے پاس صرف مقامی سطح پر اور قومی سطح پر رابطہ کارسرکاریں ہوں؟ میرا خیال ہے کہ گاندھی جی نے انہیں خطوط پر کچھ نظریات کی وکالت کی تھی۔

اپنی معلومات چیک کیجیے

  • مقامی حکومت کس طرح جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے؟
  •       آپ کے خیال میں مندرجہ بالا مثالوں میں تمل ناڈو حکومت کو کیا کرنا چاہیے تھا؟

ہندوستان میں مقامی حکومت کی نشوونما

اب ہمیں یہ بحث کرنی چاہیے کہ ہندوستان میں مقامی حکومت کی نشوونما کیسے ہوئی اور اس کے متعلق ہمارا آئین کیا کہتا ہے۔ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں قدیم زمانہ سے ہی خود مختار دیہی سماج ’’سبھا‘‘ (دیہی مجالس) کی شکل میں موجود تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان دیہی انجمنوں نے پنچایت (پانچ افراد کی جماعت) کی شکل اختیار کرلی۔ یہ پنچایتیں دیہی سطح پر مسائل حل کرتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا رول اور فرائض بھی بدلتے گئے۔
        موجودہ دور میں منتخبہ مقامی حکومتیں 1882کے بعد تشکیل دی گئیں۔ اس وقت لارڈ رپن (Ripn)ہندوستان کا وائسرائے تھا۔ اس نے ان مقامی حکومتوں کی تشکیل کی شروعات کی۔ اس وقت ان حکومتوں کو لوکل بورڈ کہا جاتا تھا۔البتہ اس سلسلہ میں سست رفتار ترقی کی وجہ سے انڈین نیشنل کانگریس نے حکومت پر زور دیا کہ تمام لوکل بورڈس کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ضروری اقدام کیے جائیں۔1919کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے مطابق کئی صوبوں میں دیہی پنچایتوں کا قیام عمل میں آیا۔یہ ر جحان 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے بعد بھی جاری رہا۔
          ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران مہاتماگاندھی نے اقتصادی اور سیاسی طاقت کی لا مرکزیت کی پُرزور وکالت کی۔ان کا یقین تھا کہ دیہی پنچایتوں کو مضبوط کرنا اقتدار کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ترقی کے تمام ابتدائی اقدامات کی کامیابی کی غرض سے مقامی لوگوں کی شمولیت ضروری تھی۔ لہٰذا پنچایتوں کو جمہوریت میں شراکت کا اوزار مانا جائے گا۔
pic 4 chapter 8
مجھے ماضی کے بارے میں علم نہیں، لیکن مجھے شبہ ہے کہ غیرمنتخبہ دیہی پنچایتوں پرگاؤں کے بزرگوں، امیروں اور اونچی ذات کے لوگوں کا غلبہ رہتا ہوگا۔

قومی تحریک کو فکر تھی کہ دہلی میں مقیم گورنر جنرل کے ہاتھوں میں تمام اختیارات مرکوز ہیں، لہٰذا ہمارے سربراہان کےلیے آزادی کے معنی تھے وہ یقین دہانی جس کے ذریعہ قانون سازی،عاملہ اور عدلیہ کے اختیارات کو لامرکوز کیا جائے۔

’’ ہندوستان کی آزادی سے مراد پورے ملک کی آزادی ہونی چاہیے۔ آزادی کی شروعات بالکل نچلی سطح سے ہو۔چنانچہ ہر گاؤں ایک جمہوریت ہوگا۔مزید یہ کہ ہر گاؤں کوخود اپنے وجود کو قائم رکھنا اور اپنے معاملات کو طے کرنے کے قابل بننا ہوگا۔ کئی گاؤں پر مشتمل اس ڈھانچہ میں ہمیشہ وسیع ہونے والے اور بڑھنے والے حلقے ہوں گے۔ زندگی مثل اہرام کے ہوگی جس کی چوٹی اس کے نچلے حصہ پر قائم رہے گی۔
                                                                          مہاتماگاندھی
          جب آئین تیار کیا گیا تومقامی حکومت کا موضوع ریاستوں پرچھوڑ دیا گیا۔مملکت کے رہنما اصولوں میں اس موضوع کو ملک کی آنے والی تمام حکومتوں کے لیے ایک حکمت عملی کی حیثیت دی گئی۔ جیسا کہ آپ باب دوئم میں پڑھ چکے ہیں مملکت کے رہنما اصولوں کا ایک حصہ ہوتے ہوئے بھی آئین کی یہ دفعہ عدالت کے اختیار سماعت میں نہیں ہے اور اس کی نوعیت محض مشاورتی ہے۔
          یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ پنچایتوں سمیت مقامی حکومت کا موضوع آئین میں خاطر خواہ حیثیت حاصل نہیں کرسکا۔ کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟یہاں کچھ وجوہات کا ذکر کیا جاسکتاہے۔ اوّل،تقسیم ملک کے المیہ کا نتیجہ ہمارے آئین میں وحدانیت کا رجحان ہے ۔ خود نہروکے خیال میں، حدسے زیادہ مقامیت قومی اتحاد اور یکسانیت کے لیے زبردست خطرہ ہوسکتی تھی۔ دوئم آئین ساز اسمبلی میں ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکر کی صدارت میں  ایک طاقت ورآواز تھی۔انہوں نے محسوس کیا کہ دیہی سماج کی ذات پات پر مبنی تقسیم کی نوعیت دیہی سطح پرمقامی حکومت کے مقدس مقصد کو شکست دے دے گی۔
           البتہ کسی نے بھی منصوبہ بند ترقی میں عوام کی حصہ داری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا۔آئین ساز اسمبلی کے بہت سے ممبران چاہتے تھے کہ ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد دیہی پنچایتیں ہوں۔لیکن وہ گاؤں میں گروہ بندی جیسی بہت سی برائیوں کے بارے میں فکر مند تھے۔
pic 5 chapter 8
۔۔۔۔جمہوریت کے مفاد میں دیہاتوں کو خود مختار حکومت یہاں تک کہ خودمختاری کی بھی تربیت دی جاسکتی ہے۔ہمیں گاؤں میں اصلاح لانی چاہیے اور وہاں حکومت کے جمہوری اصولوں کا تعارف کرانا چاہیے۔
آننتھا سایانم آئینگر
CAD. Vol. VII, p. 428
pic 6 chapter 8
گاؤں کی سطح پر گروہ بندی سے لوگ کیوں خوف زدہ ہیں جبکہ تمام سیاسی جماعتیں یہاں تک کہ میری کلاس میں گروہ بندی ہے؟ کیا گروہ اتنے بُرے ہوتے ہیں؟

آزاد ہندوستان میں مقامی حکومتیں

73ویں اور 74ویں آئینی ترمیمات کے بعد مقامی حکومتوں کو تحریک ملی۔ لیکن اس سے بھی پہلے مقامی حکومتی اداروں کی ترقی کے سلسلہ میں کچھ کوششیں ہوچکی تھیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے 1952میں کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد بہت سی سرگرمیوں میں مقامی ترقی کے لیے عوام کی شرکت کو فروغ دینا تھا۔ اس پس منظر میں دیہی علاقوں کے لیے ایک تین سطحی پنچایت راج نظام کی تجویز پیش کی گئی۔1960 تک کچھ ریاستوں نے منتخبہ مقامی انجمنوں کا نظام اختیار کر لیا تھا۔ (جیسے گجرات، مہاراشٹر)۔ لیکن بہت سی ریاستوں میں مقامی انجمنوں کے پاس ترقی کے لیے خاطر خواہ اختیارات نہیں تھے۔ وہ بڑی حد تک اقتصادی امداد کے لیے مرکز پر انحصار کرتی تھیں بہت سی ریاستیں منتخبہ مقامی انجمنوں کے قیام کو ضروری نہیں سمجھتی تھیں۔ بہت سے علاقوں میں ان کو ختم ہی کر دیا گیا اور مقامی حکومت سرکاری عہدیداران کے سپرد کردی گئی۔کچھ ریاستوں نے مقامی حکومتوں کے لیے بالواسطہ انتخابات کرائے۔ مقامی انجمنوں کے لیے انتخابات کو کئی ریاستوں میں باربار ملتوی کردیا گیا۔
        1987کے بعد مقامی حکومتی اداروں کے کاموں کا جائز ہ لیا گیا۔1989میں پی۔کے۔تھنگن کمیٹی نے، مقامی حکومتی اداروں کو آئینی طور پر تسلیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ان اداروں کے انتخابات کرانے اور ان کی ذمہ داریوں کی فہرست وضع کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز بھی پیش کی۔

اپنی معلومات چیک کیجیے

  • نہرو اور ڈاکٹر امبیڈکر دونوں ہی مقامی حکومتی انجمنوں کے تئیں جو شیلے نہیں تھے۔کیا مقامی حکومتوں پر ان کے اعتراضات ایک جیسے تھے؟
  • 1992سے قبل ،مقامی حکومتوں سے متعلق آئینی دفعات کیا تھیں؟1960 اور1970 کے درمیان، کون سی ریاستوں نے مقامی حکومتیں قائم کیں؟

73ویں اور 74ویں ترمیمات

1989میں مرکزی حکومت نے دو آئینی ترمیمات نافذ کیں۔ان ترمیمات کا مقصد مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا اور پورے ملک میں ان کے ڈھانچہ اور کام میں یکسانیت کو یقینی بنانا تھا۔
’’برازیل کے آئین نے ریاستوں، وفاقی اضلاع اور میونسپل کونسل کی تشکیل کی ہے۔ان میں سے ہر ایک کو ایک آزاد دائرۂ کار اورخود اختیاری عطا کی گئی ہے۔جس طرح جمہوریت ریاستی حکومتوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتی اسی طرح ریاستوں کو میونسپل کو نسلوں میں دخل اندازی کی ممانعت کی گئی ہے۔ یہ آئینی دفعہ مقامی حکومتوں کے اختیارات کو تحفظ بخشتی ہے۔‘‘
           بعد میں 1992میں پارلیمنٹ کے ذریعہ73ویں 74ویں آئینی ترمیمات منظور کرائی گئیں۔73ویں ترمیم کا تعلق دیہی مقامی حکومتوں سے تھا۔(جن کو پنچایت راج ادارے یا PRIsبھی کہا جاتا ہے)اور74ویں ترمیم نے شہری مقامی حکومتوں کے متعلق دفعات طے کیں۔ ان دونوں ترمیموں کو 1993میں عمل میں لایا گیا۔
          ہم نے پہلے دیکھا کہ مقامی حکومت ایک ریاستی موضوع ہے۔اس موضوع پر ریاستیں اپنی طرز کے قانون خود بنانے میں آزاد ہیں۔لیکن آئینی ترمیم کے بعد ریاستوں کو مقامی انجمنوں سے متعلق اپنے قوانین کو بدلنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ انھیں ترمیم شدہ آئین کے مطابق بنایا جاسکے۔ان ترمیمات کی روشنی میں اپنے قوانین میں ضروری تبدیلی لانے کے لیے ریاستوں کو ایک سال کی مہلت دی گئی۔
pic 7  chapter 8
اگر میں یہ ٹھیک سے سمجھا مرکز نے ریاستوں پر مقامی حکومتوں میں اصلاح جبراً نافذ کی ۔ یہ مضحکہ خیز ہے ایک مرکزیت کے عمل کے ذریعہ آپ لامرکزیت نافذ کرتے ہیں!

73ویں ترمیم

اب ہمیں پنچایت راج اداروں میں 73ویں ترمیم کے ذریعہ لائی گئی تبدیلیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

سہ سطحی ڈھانچہ

اب تمام ریاستوں میں یکساں سہ سطحی ڈھانچہ ہے۔ نچلی سطح پر گرام ’’پنچایت‘‘ ہے۔ایک گرام پنچایت کسی ایک گاؤں یا کئی گاؤں کے مجموعہ کا احاطہ کرتی ہے۔ درمیانی سطح پر ’’منڈل‘‘ ہوتا ہے (جس کو بلاک یا تعلقہ بھی کہا جاتا ہے)۔ یہ انجمنیں منڈل یا تعلقہ پنچایت بھی کہلائی جاتی ہیں۔چھوٹی ریاستوں میں درمیانی سطح کی انجمن کی ضرورت نہیں ہے۔اعلیٰ سطح پر ضلع پنچایت پورے ضلع کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
اس ترمیم نے گرام سبھاکی تشکیل کو ضروری بنانے کےلیے دفعہ مرتب کی۔ پنچایتی علاقہ کے تمام بالغ افرادبحیثیت اندراج شدہ ووٹرگرام سبھا میں شامل ہوں گے۔ اس کے کردار اور کاموں کا تعین ریاستی قانون سازی کے ذریعہ کیا جائے گا۔

pic 8 chapter 8
کیا گرام سبھا کے معنی، پورے  گاؤں کاجمہوری فورم ہوگا؟ کیا گرام سبھا واقعی پابندی سے میٹنگ کرتی ہے؟

انتخابات

ہرسطح پر پنچایت راج اداروں کا انتخاب براہ راست ہوگا۔ہر پنچایت کی میعاد پانچ سال ہوگی۔اگر پانچ سال پورے ہونے سے قبل ریاستی حکومت پنچایت تحلیل کردے تو اس تحلیل کے چھ ماہ کے اندر اندر نئے انتخاب ہوں گے۔ یہ ایک اہم دفعہ ہے جو منتخبہ مقامی اداروں کے وجود کو یقینی بناتی ہے۔73ویں ترمیم سے پہلے بہت سی ریاستوں میں ضلعی اداروں کےلیے بالواسطہ انتخابات ہوا کرتے تھے اورتحلیل ہونے کے بعد فوراً انتخاب کے لیے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔

ریزرویشن

تمام پنچایتی اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے محفوظ ہیں۔درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کے لیے ، ان کی آبادی کے تناسب سے،تینوں سطحوں پر ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے۔اگر ریاستیں ضروری سمجھیں تو وہ دیگر پس ماندہ ذاتوں (OBCs)کو بھی ریزرویشن دے سکتی ہیں۔
         یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ یہ ریزرویشن نہ صرف پنچایت کے عام ممبران کے لیے نہیں بلکہ پنچایت کے سربراہ یا صدر کے لیے بھی سبھی سطحوں پر مہیّاہے۔
          مزید یہ کہ خواتین کے لیے ریزرویشن صرف عام درجہ میں ہی نہیں بلکہ درج فہرست ذاتوں،درج فہرست قبائل اور دیگر پس ماندہ ذاتوں کے زمرہ میں بھی ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں ایک نشست بیک وقت ایک خاتون امیدوار کے لیے محفوظ ہوگی اور اس خاتون کے لیے بھی جس کا تعلق درج فہرست ذات یا درج فہرست قبیلہ سے ہوگا۔ گویا سرپنچ دلت عورت ہوسکتی ہے اور آدی واسی عورت بھی۔
pic 9 chapter 8
مجلس قانون ساز کے باب میں ہم  نے پڑھا کہ ریاستی اور مرکزی مجالس قانون ساز میں خواتین کے لیے ریزرویشن بل منظور نہیں ہوسکا۔مقامی اداروں میں خواتین کےلیے اتنی آسانی سے کیسے تحفظ مل گیا۔

موضوعات کی منتقلی

ریاستی فہرست میں انتیس  (29) موضوعات جو پہلے سے شامل تھے اب ان کی فہرست آئین کے گیارھویں شیڈول میں دی گئی ہے۔ یہ موضوعات پنچایتی راج اداروں کو منتقل ہونا ہیں۔ ان موضوعات کا تعلق زیادہ ترمقامی سطح پر ترقی اور فلاح کے کاموں سے تھا۔ ان کی منتقلی دراصل ریاستی قانون سازی پر منحصر ہے۔ہر ریاست خود فیصلہ کرتی ہے کہ کس طرح ان انتیس (29) موضوعات کو پنچایتی راج اداروں کو منتقل کیا جائے۔
دفعہ 243(جی) پنچایتوں کے اختیارات، اقتدار اور ذمہ داریاں۔۔۔۔، کسی ریاست کی مجلس قانون ساز، قانون کے ذریعہ پنچایتوں کو ایسے اختیارات اور ذمہ داری عطا کر سکتی ہے۔۔۔۔ جن کا تعلق۔ گیارھویں شیڈول میں شامل موضوعات سے ہوگا۔

گیارھویں شیڈول میں شامل کچھ موضوعات

زراعت،  ۔۔۔۔
عام سنچائی، پانی کا انتظام اور پن دھاروں یا فاضل آب کی ترقی۔
۔۔۔۔
چھوٹی صنعتیں بشمول فوڈ پروسیسنگ صنعتیں
۔۔۔۔
10۔ دیہی مکانات کا انتظام کرنا
11۔ پینے کا پانی
۔۔۔۔
13۔ سڑکیں، ڈھکی ہوئی نالیاں،  ۔۔۔۔
14۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی،  ۔۔۔۔
۔۔۔۔
16۔ غریبی کے خاتمہ کا منصوبہ۔
17۔ تعلیم–پرائمری وسیکنڈری اسکول۔
18۔ تکنیکی تربیت اور پیشہ ورانہ تربیت۔
19۔ تعلیم بالغان اور غیر رسمی تعلیم۔
20۔ لائبریریاں۔
21۔ ثقافتی سرگرمیاں۔
22۔ بازار اور میلے۔
23۔ صحت وصفائی بمع ہسپتال، ابتدائی صحت کے مراکز اور دواخانے۔
24۔ خاندانی بہبود۔
25۔ خواتین اور بچوں کی فلاح وترقی۔
26۔ سماجی فلاح وبہبود ،  ۔۔۔۔
27۔ کمزور طبقاتِ خاص طور پر درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی فلاح وبہبود۔
28۔ عوامی نظامِ تقسیم۔
pic 10  chapter 8
صرف ریاستی فہرست میں شامل موضوعات کیوں منتقل کیے جاتے ہیں؟ مرکزی فہرست سے کچھ موضوعات کو کیوں منتقل نہیں کیا جاسکتا؟

          73ویں ترمیم کی دفعات کا ان علاقوں پر نفاذنہیں کیا گیا جو ہندوستان کی کئی ریاستوں میں آدی واسیوں کی آبادی پر مشتمل ہیں۔1996میں ایک علاحدہ قانون منظور کیا گیا جس کے تحت پنچایت نظام سے متعلق دفعات کو اُن علاقوں تک وسعت دی گئی۔بہت سے آدی واسی باشندوں کی اپنی قدیم روایات ہیں جن کے استعمال سے وہ عام وسائل جیسے جنگلات اور پانی کے ذخیروں وغیرہ کی حفاظت کرتے ہیں۔لہٰذا یہ نیا قانون ان سماجوں کے حقوق کی حفاظت کرتاہے جس کے ذریعہ وہ اپنے وسائل کی حفاظت کاخود انتظام کرسکیں گے۔اس مقصد کے لیے، ان علاقوں کی گرام سبھاؤں کو مزید اختیارات عطا کیے گئے اور بہت سے معاملات میں گرام پنچایت کی رائے لینا ضروری قرار دیا گیا۔ اس قانون کے پس پردہ یہ تصور تھا کہ جدید منتخبہ اداروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ خود مختاری کی روایتوں کو بھی محفوظ رکھا جائے۔یہی تنوع اور لا مرکزیت کی روح کے عین مطابق ہے۔

ریاستی الیکشن کمشنر

           ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے،ریاستی الیکشن کمشنر کا تقرر کرنا جو پنچایت راج اداروں کے انتخابات منعقد کرانے کے لیے ذمہ دار ہو۔پہلے یہ ذمہ داری ریاستی انتظامیہ کی تھی جو ریاستی حکومت کے ما تحت تھا۔اب ریاستی الیکشن کمشنر ہندوستان کے الیکشن کمشنر کی طرح آزاد حیثیت رکھتاہے۔بہرحال ریاستی الیکشن کمشنر ایک آزاد وخود مختار عہدیدار ہوتا ہے۔ اس کا ہندوستان کے الیکشن کمشنر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ماتحت ہوتا ہے۔

ریاستی مالی کمیشن

        ریاستی حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ پانچ سال میں ایک بار ریاستی مالی کمیشن کا تقرر کرے۔  یہ کمیشن ریاست میں مقامی حکومتوں کی مالی حیثیت کا جائزہ لے گا۔ ایک جانب تو یہ کمیشن ریاستی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اور دوسری طرف دیہی وشہری حکومتوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کرے گا۔ یہ جدّت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ دیہی مقامی حکومتوں کو مالی فنڈ مہیا کرانا ایک سیاسی معاملہ نہیں ہوگا۔
pic 11  chapter 8
ریاستی حکومتیں خود ہی غریب ہوتی ہیں۔پچھلے باب میں ہم نے پڑھا کہ وہ مرکزی حکومت سے رقم مانگتی ہیں۔وہ مقامی حکومتوں کو کہاں سے رقم دے سکتی ہیں؟

سرگرمی

◊       کچھ ایسے اختیارات کی شناخت کیجیے جو آپ کی ریاستی حکومت نے پنچایتوں کو دیے ہیں۔

74ویں ترمیم

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا،74ویں ترمیم کا تعلق شہری مقامی انجمنوں یا نگرپالیکاؤں سے ہے۔شہری علاقہ کیا ہوتا ہے؟ کسی بڑے شہرکو پہچاننا بہت آسان ہوتا ہے جیسے ممبئی یا کلکتہ۔لیکن گاؤں اور قصبہ کے درمیان کہیں کسی چھوٹے شہری علاقہ کے بارے میں کچھ کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔ہندوستان کی مردم شماری میں شہری علاقہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے: (1)کم از کم آبادی5,000،(2) کام کرنے والے مردوں میں کم ازکم 75فیصد افراد غیر زرعی پیشوں سے وابستہ ہوں، اور (3)فی مربع کلو میٹر پر کم ازکم400افراد آباد ہوں۔2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی کل آبادی کا تقریباً%28 شہرعلاقوں میں آباد ہے۔
       کئی معنی میں 74ویں ترمیم 73ویں ترمیم کی ہو بہو نقل ہے سوائے اس کے کہ اس کاتعلق شہری علاقوں سے ہے۔براہ راست انتخابات، ریزرویشن ، موضوعات کی منتقلی، ریاستی الیکشن کمیشن اور ریاستی مالی کمیشن سے متعلق تمام دفعات دونوں ترمیمات میں شامل کی گئی ہیں اور نگرپالیکاؤں پر بھی نافذ ہوتی ہیں۔آئین نے ریاستی حکومت کے کاموں کی ایک فہرست شہری مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کا عمل ضروری قرار دیا۔ یہ ذمہ داریاں آئین کے گیارھویں شیڈول میں شامل کی گئی ہیں۔
        73ویں اور 74ویں ترمیمات کا نفاذ۔اب تمام ریاستوں نے 73ویں اور74ویں ترمیمات کو نافذ کرنے کی غرض سے قوانین منظور کرالیے ہیں۔جب سے ان ترمیمات کو عملی جامہ پہنایا گیا اُس وقت سے اب تک دس سال میں زیادہ ترریاستوں نے مقامی انجمنوں کے کم ازکم دو انتخابی مرحلے طے کرلیے ہیں۔ جبکہ مدھیہ پردیش،راجستھان اور کچھ دوسری ریاستوں نے اب تک یہ انتخابات تین بار کرائے ہیں۔
pic 12  chapter 8
کیا میں یہ امیدکروں کہ شہری علاقوں کی حکومتیں، شہر کے گندے علاقوں کےلیے بہتر مکانات کا انتظا م کریں گی؟ یاکم ازکم ان کو ٹائلیٹ مہیا کرائیں گی؟

         اِس وقت دیہی ہندوستان میں تقریباً500ضلع پنچایتیں، 6000بلاک پنچایتیں اور 2,50,000گرام پنچایتیں موجود ہیں۔شہری ہندوستان میں100سے زائد شہری کارپوریشنیں، 1400ٹاؤن میونسپلٹی اور 2000نگرپالیکائیں ہیں۔
        ہر پانچ سال کی مدت میں ان انجمنوں کے تقریباً 32لاکھ ممبران کا انتخاب ہوتا ہے۔ان میں سے کم ازکم 10لاکھ خواتین ہوتی ہیں۔اگر ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کو شامل کر لیا جائے تو5000سے کچھ کم نمائندے منتخب کیےجاتے ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ منتخبہ نمائندوں کی تعداد بامعنی انداز میں بڑھ گئی ہے۔
       73ویں اور 74ویں ترمیمات نے پورے ملک میں، پنچایت راج اور نگر پالیکاؤں کے ڈھانچہ میں یکسانیت پیدا کی ہے۔ان اداروں کی موجودگی ہی بذات خودبہت اہم کامیابی ہے جو حکومت میں عوام کی شراکت کے لیے مناسب ماحول اور مقام تیار کرے گی۔
       پنچایتوں اور نگرپالیکاؤں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نے مقامی اداروں میں خواتین کی تعداد میں اضافہ کی اہمیت کو یقینی بنایا ہے۔چوں کہ یہ ریزرویشن سرپنچ اور صدر دونوں کے لیے نافذ ہوتا ہے اس لیے بڑی تعداد میں خواتین ان عہدوں پر موجود ہیں۔ضلع پنچایتوں میں کم ازکم200عورتیں بلاک یامتعلقہ پنچایتوں میں صدر کی حیثیت سے 2000 خواتین اور گرام پنچایتوں میں سرپنچ کی حیثیت سے 80,000سے زیادہ عورتیں موجود ہیں۔
       کارپوریشن سطح پر30 خواتین میئر (Mayor) کے عہدہ پر فائزہیں۔500سے زیادہ خواتین ٹاؤن میونسپلٹی کے صدر اور تقریباً650نگرپنچایت کے صدر کی حیثیت سے موجود ہیں۔خواتین نے وسائل پر کنٹرول اور اختیارات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ان اداروں میں خواتین کی موجودگی ہی اس کی سیاسی کارکردگی اورشعور کا ثبوت ہے۔

اس عکس کو دیکھیے 

pic 13   chapter 8
یہ جھنڈا مقامی حکومتوں سے عوام کی توقعات کا نشان ہے ۔
عوام صرف قانون نہیں چاہتے ۔وہ ان قوانین کا سنجیدگی سے نفاذ چاہتے ہیں ۔مختصر طورپر تحریر کیجیے :آپ اس نعرے کے متعلق کیاسوچتے ہیں ؟
ہم اپنے گاؤں کی حکومت ہیں !

pic 14   chapter 8

اس عکس کو دیکھیے 

pic 15   chapter 8
اس فوٹو کو دیکھیے ۔مقامی حکومت دھوپ میں بیٹھی ہوئی ۔اس میں کوئی اور بات بھی ہے جو آپ کو نظر آتی ہے ؟

 ان کی وجہ سے بہت سے موضوعات پر ان اداروں میں بامعنی بحث ومباحثے ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں کچھ خواتین اپنی حیثیت کو برقرار نہ رکھ سکیں یااپنے خاندان کے مردوں کی محض وکیل بنی رہیں۔کیوں کہ ان مزدوروں نے ہی ان خواتین کو انتخابات کے لیے تیار کیا تھا۔لیکن اب ایسے واقعات کم ہوتے جارہے ہیں۔
       درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن کو دستوری ترمیم نے ضروری قرار دیا ہے بہت سی ریاستوں نے پس ماندہ ذاتوں کے لیے بھی نشستوں کا ریزرو یشن کیا ہے۔کیوں کہ ہندوستان کی کل آبادی کا 16.2فیصد درج فہرست ذاتوں  اور 8.2فیصد درج فہرست قبائل پر مشتمل ہے۔اس لیے شہری اور مقامی اداروں میں تقریباً 6.6لاکھ منتخبہ ممبران ان سماجوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے معاشرتی خاکہ میں ان مقامی اداروں کے ذریعہ نمایاں تبدیلیاں نمودارہوتی ہیں۔یہ ادارے جس معاشرے میں کام کرتے ہیں، اس کی بہترین نمائندگی بھی کرتے ہیں۔بعض اوقات اس کی وجہ سے کشیدگی بھی پیدا ہوتی ہے۔جو سماجی گروہ اب سے پہلے گاؤں پر غلبہ رکھتے تھے، وہ اپنی حیثیت اور اقتدار سے دست بردار نہیں ہونا چاہتے۔ اسی عنصر نے اقتدار کی جدو جہد کو تیز تر کردیا ہے لیکن کشیدگی اور جدوجہد ہمیشہ خراب نہیں ہوتے ۔جب بھی جمہوریت کو زیادہ با معنی بنا نے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے جو پہلے اس سے محروم تھے ظاہر ہے پھر معاشرے میں تنازعہ اور کشیدگی ہونا لازمی ہے۔
        آئینی ترمیمات نے تقریباً29موضوعات کو مقامی حکومتوں کے سپرد کردیا۔ یہ تمام موضوعات مقامی فلاح وبہبود اور ترقیاتی ضرورتوں سے متعلق تھے۔ پچھلی دہائی میں مقامی حکومت کی کارکردگی کا تجربہ یہ ظاہر کرتاہے کہ ہندوستان میں مقامی حکومتوں کو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ان میں سے وہ محدود اختیارات کا ہی استعمال کرپاتی ہیں۔بعض ریاستوں نے بہت سے موضوعات مقامی اداروں کو منتقل نہیں کیے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ مقامی حکومتیں درحقیقت  موثر طریقہ سے اپنے فرائض انجام نہیں دے پارہی ہیں۔لہذا اتنے سارے نمائندوں کا انتخاب محض علامتی بن کر رہ گیا ہے۔بعض لوگ ان مقامی انجمنوں کی تشکیل پر تنقید بھی کرتے ہیں کیوں کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر جس طرح فیصلے لیے جاتے ہیں اس کی وجہ سے کچھ بدل نہیں سکا ہے۔مقامی سطح پر لوگ فلاحی منصوبوں کا انتخاب کرنے یا وسائل کو مختص کرنے میں زیادہ اختیارنہیں رکھتے۔

pic 8 chapter 8

قانون تو اچھا ہے لیکن وہ محض کاغذی ہے۔کیا اسی کو خیال اور عمل میں فرق کہتے ہیں۔

 لاطینی امریکہ میں جمہوری لامرکزیت کی سب سے زیادہ کامیاب مثالوں میں سے بولیویا کی مثال مستقل طور پر دی جاتی رہی ہے۔1994میں مقبول شراکت کا قانون(Popular Participation Law) نے مقامی سطح پر اقتدار کو مرکوز کیا۔مئیر کا انتخاب مقبول بنانےکی اجازت دی، ملک کومیونسپلیٹوں میں تقسیم کیا، نئی میونسپلیٹوں کو مالی اختیارات خود بخود منتقل کرنے کے لیے ایک نظام تیار کیا۔
      بولیویا میں ان حکومتوں کے سربراہ عوام کے ذریعہ منتخب میئر (Presidente Municipal) ہوتے ہیں اور ای مک میونسپل کو نسل ـ(Cabildo) ہوتی ہے ۔ پورے ملک میں ہر پانچ سال میں مقامی انتخابات ہوتے ہیں۔
بولیویا میں مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے مقامی سطح پر صحت عامہ کا اہتمام کرنا، تعلیمی سہولیات مہیا کرانا اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ بھی مہیا کرانا۔بولیویا میں فی نفر بنیاد پر میونسپلٹیوں کے درمیان کل قومی محصولات کا  %20 حصہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ ادارے خود موٹر سائیکلوں، شہری ملکیت، بڑی زرعی جائیدادوں، مالی منتقلی پر ٹیکس وصول کرتے ہیں جو ان اکائیوں کے بجٹ کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔

         مقامی اداروں کے اپنے فنڈ بہت کم ہیں۔ مالی امداد کے لیے، مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر انحصار کی وجہ سے  مقامی اداروں کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ دیہی مقامی ادارے، کل محصولات کا صرف 0.24فیصد جمع کرتی ہیں جو حکومت کے ذریعہ کیے گئے اخراجات کا کل4فیصد ہوتا ہے۔ گویا اخراجات سے بہت کم آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اور ان کو مالی عطیات کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اختتام

      یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی حکومتیں مستقل طور پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں ہیں۔ مقامی حکومت کو زیادہ اختیارات دینے کے معنی ہیں کہ ہمیں اصلی اختیارات کی لامرکزیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جمہوریت کے معنی ہیں کہ عوام کو اختیارات میں شرکت دلائی جائے۔دیہی عوام اپنی مرضی سے اپنے منصوبہ بنائیں اور ان پر عمل کریں ۔مقامی حکومت سے متعلق قانون لامرکزیت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔لیکن جمہوریت کا اصلی امتحان محض قانونی دفعات میں نہیں بلکہ ان کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔

مشق

آئین ہند نے دیہی پنچایتوں کو خود مختار حکومت کی اکائیوں کے طور پر دیکھا۔ درج ذیل بیانات میں دی گئی صورت حال پر غور کیجیے اور تفصیل پیش کیجیے کہ مقامی حکومت کی اکائیوں کو کمزور یامضبوط بنانے میں ان حالات کا کیا عمل دخل ہے۔
(a) کسی ریاست کی حکومت نے کسی غیر ملکی کمپنی کو اپنے یہاں ایک بڑا اسٹیل کارخانہ لگانے کی اجازت دی ہے۔اس اسٹیل کارخانہ کا بہت سے دیہاتوں پر خراب اثر پڑے گا۔متاثرہ دیہاتوں کی پنچایتوں نے ایک قرارداد منظور کی کہ کسی بھی علاقہ میں کوئی بڑا کارخانہ لگانے سے پہلے ان گاؤں کے لوگوں سے مشورہ کیا جائے اور ن کی شکایتوں کا ازالہ کیا جائے۔
(b) حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے کل اخراجات کا %20فیصد پنچایتوں کے ذریعہ خرچ ہوگا۔
(c) ایک دیہی پنچایت اپنے یہاں اسکول قائم کرنے کے لیے مستقل مطالبہ کرتی رہی ہے۔حکومت کے عہدیدار ان نے اس کے مطالبہ کو یہ کہہ کرنامنظور کردیا کہ جو فنڈ دوسرے کاموں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں ان کا استعمال کسی اورمقصد کے لیے نہیں ہوسکتا۔
(d) حکومت نے دُنگر پور گاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصہ کو جمنا کا حصہ بنا دیا اور دوسرے کو سوہنا میں شامل کردیا۔ اب حکومت کی دستاویزات میں دُنگرپور گاؤں کا وجود ختم ہوگیا۔
(e) ایک دیہی پنچایت نے غور کیا کہ ان کے علاقہ میں پانی کی سطح تیزی سے گررہی ہے۔انہوں نے دیہا ت کے نوجوانوں کو رضا کارانہ کام کے لیے راغب کیا تاکہ دیہات کے پرانے تالابوں اور کنوؤں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے۔
فرض کیجیے کسی ریاست میں دیہی حکومت کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری آپ کو دی گئی ہے۔آپ دیہی پنچایتوں کو کون سے اختیارات دیں گے جس سے کہ وہ خودمختار حکومتوں کی اکائیوں کے طور پر کام کرسکیں۔جو اختیارات آپ ان کو دیں گے ان میں سے کوئی پانچ اختیارات اور ان کے جواز کو دو دوسطروںمیں تحریر کیجیے۔ 
73ویں ترمیم کے مطابق سماجی طور سے محروم طبقوں کے لیے تحفظات کی کون سی دفعات ہیں؟ تفصیل سے بیان کیجیے کہ ان دفعات نے دیہی سطح پر لیڈر شپ کے معنی کیسے بدل دیے؟
73ویں ترمیم سے پہلے اور اس ترمیم کے بعد مقامی حکومتوں میں کیا فرق تھا؟
درج ذیل گفتگو پڑھیے۔ دوسو الفاظ میں تحریر کیجیے کہ جن مسائل پر یہاں گفتگو ہورہی ہے اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
آلوک:  ہمارا آئین مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ مقامی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن ان کو مساوی حصہ کی ضمانت دیتا ہے۔
نہا: لیکن یہ کافی نہیں ہے کہ عورتوں کو بااختیار حیثیت  دی جائے۔یہ ضروری ہے کہ مقامی اداروں کے بجٹ میں خواتین کے لیے علاحدہ دفعات ہوں۔
جَییش: مجھے یہ ریزرویشن کا نظام پسند نہیں۔مقامی انجمن کو دیہات کے تمام لوگوں کی برابر دیکھ بھال کرنی چاہیے،جس سے خواتین اور ان کے مفادات کا خودبخود تحفظ ہوجائے گا۔
73ویں ترمیم کی دفعات پڑھیے۔درج ذیل میں سے اس ترمیم کا تعلق کس سے ہے؟
(a) تبدیلی کے خوف سے نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ بن جاتے ہیں۔
(b) اعلیٰ ذاتیں اور جاگیردار مقامی اداروں پر حاوی رہتے ہیں۔
(c) دیہی ناخواندگی بہت زیادہ ہے۔گاؤں کی ترقی کے لیے ناخواندہ لوگ فیصلہ نہیں لے سکتے۔
(d) موثر بننے کے لیے دیہی پنچایتوں کو وسائل اور اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دیہات کی ترقی کے منصوبے بناسکیں۔

درج ذیل میں مقامی حکومت کی حمایت میں مختلف دلیلیں دی گئی ہیں۔ان کو ترتیب دیجیے اور بیان کیجیے کہ آپ نے کسی جواز کو کس وجہ سے اہمیت دی۔آپ کے مطابق ان میں کون سی دلیلوں پر گاؤں وینگائی وسال کی پنچایت انحصار کرتی تھی؟ کیسے؟
(a) مقامی آبادی کی شرکت سے حکومت اپنے منصوبوں کو کم قیمت خرچ سے مکمل کرسکتی ہے۔
(b) سرکاری عہدیدار ان کے مقابلہ میں مقامی لوگوں کے ذریعہ تیار کردہ ترقیاتی پروگرام دیہات کے عوام کو زیادہ قابل قبول ہوں گے۔
(c) لوگ اپنے علاقہ اپنی ضرورتوں اور ترجیحات کو بخوبی جانتے ہیں۔اجتماعی شرکت سے وہ اپنی زندگی سے متعلق بحث کرسکتے ہیں اور فیصلے کرسکتے ہیں۔
(d) عام آدمی کے لیے اپنی نمائندہ حکومت یا قومی مجلس قانون ساز کے نمائندہ سے رابطہ رکھنا مشکل ہے۔
آپ کے خیال میں درج ذیل میں کس میں لامرکزیت شامل ہے؟ لامرکزیت کے متعلق دوسری دلیلیں کیوں ناکافی ہیں؟
(a) گرام پنچایت کا انتخاب کرانا۔
(b) ان کے دیہات کے لیے کون سے منصوبے اور حکمت عملیاں مفید ہیں اس کا فیصلہ خودگاؤں والے لے سکیں۔
(c) گرام سبھا کی میٹنگ بلانے کا اختیار
(d) ریاستی حکومت کے ذریعہ شروع کیے گئے کسی منصوبہ سے متعلق بلاک ترقیاتی آفیسر (B.D.O.)کی رپورٹ گرام پنچایت کو موصول ہوتی ہے۔
ابتدائی تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی میں لامرکزیت کے کردار کا دہلی یونیورسٹی کا ایک طالب علم رگھویندر  پنّا مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔اس نے گاؤں والوں سے کچھ سوالات پوچھے۔یہ سوالات نیچے دیے گئے ہیں۔اگر آپ ان دیہاتیوں میں سے ایک ہوتے  تو ان میں سے ہر سوال کا کیا جواب دیتے؟
گاؤں کا ہربچہ اسکول جاسکے اس موضوع پر بحث کرنے کے لیے گرام سبھا کی ایک میٹنگ بلائی گئی ہے۔
10۔ آپ میٹنگ بلانے کے لیے ایک مناسب دن کس طرح طے کریں گے؟ سوچیے کہ آپ کس وجہ سےاس میٹنگ میں آسکیں گے ⁄ یا نہیں آسکیں گے کیونکہ
(i) بی۔ڈی۔او۔ یا کلکٹرکے ذریعہ مخصوص دن طے کرنا
(ii) گاؤں کے ہاٹ کا دن
(iii) اتوار
(iv) ناگ پنچمی ⁄ سنکرانتی
(a) میٹنگ کے لیے کون سی جگہ مناسب رہے گی؟ کیوں؟
(i) ضلع عہدیدار کی ذریعہ طے کردہ جگہ
(ii) گاؤں میں کوئی مذہبی مقام
(iii) دلت محلہ
(iv) گاؤں کا اسکول
(b) گرام سبھا کی میٹنگ میں پہلے ضلع کلکٹرکا خط پڑھا گیا۔اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ ایک تعلیمی جلوس نکالنے کے اقدامات کیے جائیں اور اس کا راستہ طے کیا جائے۔میٹنگ میں اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ کون سے بچے کبھی اسکول نہیں آئے، نہ لڑکیوں کی تعلیم یا اسکول کی عمارت کی حالت اور اسکول کے اوقات پر کوئی بحث ہوئی۔چونکہ یہ میٹنگ اتوار کو تھی اس لیے کسی خاتون ٹیچر نے حاضری نہیں دی۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ مثال عوام کی حصہ داری کی ہے؟
(c) اپنی کلاس کا تصور گرام سبھا کے طور پر کیجیے۔میٹنگ کے ایجنڈے پر بحث کیجیے اور مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ اقدامات تجویز کیجیے۔