باب 9
آئین بحیثیت ایک زندہ دستاویز
تمہید
اس باب میں آپ دیکھیں گے کہ گذشتہ پچپن سال میں آئین نے کیسے کام کیا ہے اور کیسے ہندوستان پر اُس آئین کے ذریعہ حکمرانی قائم رہ سکی ہے۔ اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ:
◊ آئین ہند میں وقت کی ضرورتوں کے مطابق ترمیم کی جا سکتی ہے۔
◊ اگرچہ ایسی بہت سی ترممیات پہلے ہی ہوچکی ہیں پھر بھی آئین ہند مستحکم رہا ہے اور اس کی بنیادیں نہیں بدلی ہیں۔
◊ آئین کی حفاظت اور اس تشریح میں عدلیہ نے ایک اہم رول ادا کیا ہے اور
◊ آئین وہ دستاویز ہے جو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا اور فروغ دیتا ہے۔
کیا آئین جامد ہوتے ہیں؟
اپنی معلومات چیک کیجیے :
- درج بالا حصہ کو پڑھنے کے بعد کلاس میں کئی طلبا شش دپنج میں ہوں گے۔ انہوں نے درج ذیل نکتے اٹھائے۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
- آئین کسی بھی عام قانون کی مانند ہے۔ یہ سادہ سہل الفاظ میں ہم کو بتاتا ہے کہ حکومت پر گرفت رکھنے کے کون سے قاعدے قانون ہیں۔
- آئین عوام کی خواہشات کا آئینہ ہے اس لیے ہر دس یا پندرہ سال بعد اس میں تبدیلی لانے کے لیے ایک دفعہ شامل ہونی چاہیے۔
- آئین ملک کے فلسفہ کا بیان ہے۔ اس کو کبھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
- آئین ایک مقدس دستاویز ہے۔ اس میں تبدیلی کے متعلق سوچنا بھی جمہوریت کے خلاف ہوگا۔
آئین میں کیسے ترمیم کی جائے؟
دفعہ 368: پارلیمنٹ اس آرٹیکل میں مذکورہ طریق کار کے مطابق، اس آئین کی کسی دفعہ کے اضافہ، حذف یا تبدیلی کے ذریعے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے آئین ساز ایک توازن قائم رکھنا چاہتے تھے۔ آئین اسی وقت ترمیم کی جائے جب ایسی ضرورت ہو۔ لیکن اس کو غیر ضروری اور لگاتار تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ دیگر الفاظ میں وہ چاہتے تھے کہ آئین’’لچک دار‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’’جامد‘‘ بھی ہو۔ لچک دار کے معنی ہیں: تبدیلیوں کے لیے کھلا رہنا۔ جامد کے معنی ہیں:تبدیلیوں کے لیے مزاحمت کرنا۔ جس آئین کو آسانی سے تبدیل کردیا جائے یاڈھال دیا جائے، لچک دار کہلاتا ہے۔ جو آئین مشکل طریقہ سے تبدیل کیے جائیں جامد آئین کہلاتے ہیں۔ آئین ہند میں یہ دونوں خصوصیات ملی ہوئی ہیں۔
| آئین کو کیسے ترمیم کیا جائے |
| خصوصی اکثریت نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز :دفعہ368 | پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت: جیسا کہ دفعہ 368میں ذکر ہے۔ | عام قانون کی مانند: پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت: جیسا کہ بعض دفعات میں ذکر ہے۔ |
دفعہ2: پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ ۔۔۔ جدید ریاستوں کویونین میں داخل کر سکے گی۔
دفعہ 3 : پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ۔۔۔۔ (b) کسی ریاست کے رقبہ کو بڑھا سکے گی۔
مخصوص اکثریت
جدید ترین آئین میں ترمیم کے مختلف طریقوں میں دو اصول غالب نظر آتے ہیں:
ریاستوں کے ذریعے توثیق
اپنی معلومات چیک کیجیے
ترمیم کا موضوع
شہریت کی دفعہ
حقِ آزادیٔ مذہب
یونین لسٹ میں تبدیلی
ریاستی سرحدوں میں تبدیلی
|
مخصوص اکثریت |
ریاستوں کے
ذریعہ توثیق
انتخابی کمیشن سے
متعلق دفعہ
|
اتنی بہت سی ترمیمات کیوں ہوئی ہیں؟
GRAPH- 1
ترمیمات: ایک دہائی میں
GRAPH -2
ہر دس ترمیموں کے لیے لگنے والے سال۔
اب تک کی ترمیمات کا مواد
توجیہات میں اختلاف
سیاسی اتفاق رائے کے ذریعہ ترمیمات
متنازع ترمیمات
سرگرمی
آئین کا بنیادی ڈھانچہ اور ارتقا
- اس فیصلے نے آئین میں ترمیم کے بارے میں پارلیمنٹ کے اختیارات کی ایک حد قائم کردی ہے۔ اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔
- یہ پارلیمنٹ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ آئین کے کسی بھی حصہ میں ترمیم کر سکتی ہے (اسی حد کے اندر)
- یہ عدلیہ کویہ طے کرنے کا آخری اختیار دیتا ہے ، کہ کوئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی تو نہیں کرتی۔
آئین پر نظر ثانی
اپنی معلومات چیک کیجیے
بتائیے کیا درج ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط:
- بنیادی ڈھانچہ سے متعلق فیصلہ کے بعد پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل نہیں رہا۔
- سپریم کورٹ نے ہمارے آئین کے بنیادی پہلوؤں کی واضح فہرست دے دی ہے جس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔
- عدلیہ کو اختیار حاصل ہے کہ کوئی ترمیم بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہے یا نہیں۔
- کیشو نند بھارتی کیس نے پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم کے اختیارات پر بندشیں لگا دی ہیں۔