Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب  9

آئین بحیثیت ایک زندہ دستاویز

تمہید

اس باب میں آپ دیکھیں گے کہ گذشتہ پچپن سال میں آئین نے کیسے کام کیا ہے اور کیسے ہندوستان پر اُس آئین کے ذریعہ حکمرانی قائم رہ سکی ہے۔ اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ:

آئین ہند میں وقت کی ضرورتوں کے مطابق  ترمیم کی جا سکتی ہے۔

اگرچہ ایسی بہت سی ترممیات پہلے ہی ہوچکی ہیں پھر بھی آئین ہند مستحکم رہا ہے اور اس کی بنیادیں نہیں بدلی ہیں۔

آئین کی حفاظت اور اس تشریح میں عدلیہ نے ایک اہم رول ادا کیا ہے اور 

آئین وہ دستاویز ہے جو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا اور فروغ دیتا ہے۔

کیا آئین جامد ہوتے ہیں؟

بدلتے ہوئے حالات یا سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے یا معاشرہ میں خیالات کی تبدیلی کی وجہ سے ردّعمل کے طور پر قوموں کے لیے اپنا آئین دوبارہ تحریر کرنا عام ہے۔ اپنی74سالہ زندگی میں سوویت یونین کے چار آئین ہوئے(1936،1924،1918اور 1977)۔
        1991میں، سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کا دورِحکومت ختم ہوگیا اور جلد ہی وفاق منتشر ہوگیا ۔ اس سیاسی اتھل پتھل کے بعد نئے تشکیل شدہ روسی وفاق نے1993میں اپنا ایک نیا آئین اپنایا۔
لیکن ہندوستان کو دیکھیے ۔ آئین ہند 26 نومبر1949کو اختیار کیا گیا۔ اس کا باقاعدہ نفاذ 26 جنوری 1950سے شروع ہوا۔ تقریباً پچپن سال کے بعد بھی وہی آئین لگاتار کام کر رہا ہے، اُسی خاکہ میں جس میں ہماری حکومت کام کرتی ہے۔
          کیا ہمارا آئین اتنا اچھا ہے کہ اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں؟ کیا ہمارے آئین ساز اس قدر دوراندیش اور دانش مند تھے کہ وہ مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیش بینی کر سکتے تھے؟ کچھ حد تک دونوں جواب درست ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں ایک بہت طاقت ورآئین وراثت میں ملا ہے۔آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہمارے ملک کے تئیں بہت مناسب ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ آئین ساز بہت دور اندیش تھے اورمستقبل کے حالات کے بہت سے حل پہلے ہی مہیا کرادیے۔ لیکن کوئی بھی آئین تمام امکانات کے لیے حل مہیا کراسکے،ایسی کوئی دستاویز نہیں ہوسکتی جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہو۔

گذشتہ دو صدیوں میں فرانس کے متعددآئین ہوئے۔ انقلاب کے بعد اور نپولین کے زمانے میں آئین کے متعلق فرانس بہت سے تجربوں سے گزرا۔ انقلاب کے بعد1793کا آئین اولین فرانسیسی ری پبلک کا دور کہا جاتا ہے۔ پھر دوسرے فرانسیسی ری پبلک کا دور 1848میں شروع ہوا۔تیسری فرانسیسی ر ی پبلک ایک نئے آئین کے ساتھ1875میں بنائی گئی۔ 1946میں ایک نئے آئین کے ساتھ چوتھی فرانسیسی ر ی پبلک وجود میں آئی۔ آخرکار  1958میں پانچویں فرانسیسی ر ی پبلک ایک نئے آئین کے ساتھ بنی۔

pic 1 chapter 9
مجھے لگتا ہے کہ آئینی تبدیلیوں کا سیاسی ترقی سے گہرا تعلق ہے۔

         تب کیسے وہی آئین ملک کی ضرورت پوری کرتا رہا؟ ایسے سوالات کے جوابات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارا آئین معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تبدیلیوں کی ضرورت کو قبول کرتا ہے۔دوسرے آئین کی عملی کار کردگی میں تشریحات کی کافی لچک موجود ہے۔آئین کی تعمیل میں سیاسی عمل اور عدالتی فیصلوں دونوں نے ہی پختگی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہی عناصر نے ہمارے آئین کو ایک بند اور جامد اصولوں کی کتاب کے بجائے ایک زندہ جاوید دستاویز بنایا ہے۔
         کسی بھی معاشرہ میں آئین کی دستاویز تیار کرنے والوں کے سامنے ایک مشکل ضرور ہوتی ہے:آئین سازی کے وقت جو مسائل معاشرہ کے سامنے ہیں ان کا حل نکالنے کے لیے کوششوں کا عکس اس آئین کی دفعات میں نظر آتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ آئین ایک ایسی دستاویز ہونی چاہیے جو مستقبل کے لیے بھی حکومت کا ڈھانچہ مہیا کرے۔لہٰذا آئین اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کا حل پیش کر سکے۔ اس معنی میں آئین میں ایسا ضرور کچھ ہوگا جو جدیدہو اورایسا جس کی دیرپا اہمیت ہو۔
         اسی طرح کوئی بھی آئین ایک جامد اور ناقابل تبدیل دستاویز نہیں ہوتا۔ اس دستاویز کو انسان بناتے ہیں، اس میں نظرثانی، تبدیلی اور دوبارہ جانچ کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ سچ ہے کہ کوئی آئین، متعلقہ معاشرہ کے خوابوں اور خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ آئین معاشرہ کی جمہوری حکمرانی کا خاکہ ہوتا ہے۔ اس معنی میں یہ ایک آلہ ہے جس کو معاشرہ اپنے لیے تخلیق کرتا ہے۔
         آئین کا یہ دوہرا کردار ہمیشہ خود آئین کے رتبہ کے بارے میں مشکل سوالات کو جنم دیتا ہے: کیا یہ اتنا مقدس ہے کہ کوئی اس میں کبھی تبدیلی نہیں لاسکتا؟ ایک متبادل کے طور پر کیا یہ اتنا غیر اہم آلہ ہے جس کو کسی بھی عام قانون کی طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
pic 2 chapter 9
مجھے معلوم ہے کہ امریکی آئین 200سال پہلے بنایا گیا تھا اور اب تک اس میں صرف 27 دفعہ ترمیم ہوئی ہے۔کیا یہ بہت دل چسپ نہیں ہے۔

       آئین ہند کے مرتبین اس مسئلہ سے واقف تھے اور وہ توازن قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آئین کو عام قانون سے بالاتر رکھا اوروہ مستقبل کی نسلوں سے اس آئین کے احترام کی توقع رکھتے تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ  انہوں نے تسلیم کیا کہ مستقبل میں اس دستاویز میں تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی۔ یہاں تک کہ آئین تحریر کیے جانے کے وقت بھی وہ واقف تھے کہ بہت سے معاملات میں اختلاف رائے تھی۔ جب کبھی معاشرہ کسی خاص رائے کی جانب رُخ بدلے گا آئینی دفعات میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ لہٰذا آئین ہند مندرجہ بالا دونوں نظریات کا امتزاج ہے یعنی یہ ایک مقدس دستاویز ہے اور یہ ایک ایسا آلہ بھی ہے جس میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہمارا آئین ایک ساکن وجامددستاویز نہیں ہے ،یہ ہر چیز کے بارے میں آخری حرف نہیں ہے، یہ ناقابل تبدیل نہیں ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے :

  • درج بالا حصہ کو پڑھنے کے بعد کلاس میں کئی طلبا شش دپنج میں ہوں گے۔ انہوں نے درج ذیل نکتے اٹھائے۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
  • آئین کسی بھی عام قانون کی مانند ہے۔ یہ سادہ سہل الفاظ میں ہم کو بتاتا ہے کہ حکومت پر گرفت رکھنے کے کون سے قاعدے قانون ہیں۔
  • آئین عوام کی خواہشات کا آئینہ ہے اس لیے ہر دس یا پندرہ سال بعد اس میں تبدیلی لانے کے لیے ایک دفعہ شامل ہونی چاہیے۔
  • آئین ملک کے فلسفہ کا بیان ہے۔ اس کو کبھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
  • آئین ایک مقدس دستاویز ہے۔ اس میں تبدیلی کے متعلق سوچنا بھی جمہوریت کے خلاف ہوگا۔

آئین میں کیسے ترمیم کی جائے؟

دفعہ 368: پارلیمنٹ اس آرٹیکل میں مذکورہ طریق کار کے مطابق، اس آئین کی کسی دفعہ کے اضافہ، حذف یا تبدیلی کے ذریعے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔

            ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے آئین ساز ایک توازن قائم رکھنا چاہتے تھے۔ آئین اسی وقت ترمیم کی جائے جب ایسی ضرورت ہو۔ لیکن اس کو غیر ضروری اور لگاتار تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ دیگر الفاظ میں وہ چاہتے تھے کہ آئین’’لچک دار‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’’جامد‘‘ بھی ہو۔ لچک دار کے معنی ہیں: تبدیلیوں کے لیے کھلا رہنا۔ جامد کے معنی ہیں:تبدیلیوں کے لیے مزاحمت کرنا۔ جس آئین کو آسانی سے تبدیل کردیا جائے یاڈھال دیا جائے، لچک دار کہلاتا ہے۔ جو آئین مشکل طریقہ سے تبدیل کیے جائیں جامد آئین کہلاتے ہیں۔ آئین ہند میں یہ دونوں خصوصیات ملی ہوئی ہیں۔

          آئین ساز اس حقیقت سے واقف تھے کہ آئین میں بعض غلطیاں یا خامیاں ہوسکتی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی بھی آئین غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتا۔ جب بھی ایسی غلطیاں نظر میں آئیں وہ آسانی سے ان کو دور کر سکیں اور ان غلطیوں سے نجات پاسکیں۔ آئین میں کچھ ایسی دفعات موجود تھیں جو عارضی نوعیت کی تھیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب آئین کے مطابق پارلیمنٹ کی تشکیل ہوجائے تو بعد میں ان کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ آئین ایک وفاقی مملکت کی تشکیل کررہا تھا۔ لہٰذا ریاستوں کے حقوق و اختیارات کو ریاستوں کی رائے کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بعض اور پہلو جوآئین کی روح کے اتنے قریب تر تھے کہ آئین ساز تبدیلیوں سے ان کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ ان دفعات کو جامد بنایاجانا تھا۔ انہی کی وجہ سے آئین میں ترمیم کے مختلف طریقے ایجاد کیے گئے۔


pic 4 chapter 9
میں سمجھا نہیں کہ کوئی آئین لچک دار ہوسکتا ہے اور جامد بھی۔کیا یہ اس زمانہ کی سیاست نہیں ہے جس نے آئین کو لچک دار یا جامد بنایا۔

آئین کو کیسے ترمیم کیا جائے
خصوصی اکثریت نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز :دفعہ368 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت: جیسا کہ دفعہ 368میں ذکر ہے۔ عام قانون کی مانند: پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت: جیسا کہ بعض دفعات میں ذکر  ہے۔


            آئین میں ایسی بہت سی دفعات ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان میں پارلیمنٹ کے ایک عام قانون کے ذریعہ آسانی سے ترمیم کی جا سکتی ہے۔ ایسے معالات میں ترمیم کے کسی مخصوص طریقہ کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے عام قانون اور ترمیم کے درمیان کوئی فرق بھی نہیں۔ آئین کے یہ حصے لچک دار ہیں۔ ذیل میں آئین کے متن سے کچھ دفعات کا غور سے مطالعہ کیجیے۔ ان دونوں دفعات میں دفعہ368میں دیے گئے طریقۂ کار کو اپنا ئے بغیر بھی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ آئین کی بہت سی دوسری دفعات کو سادہ طریقہ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

دفعہ2: پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ ۔۔۔ جدید ریاستوں کویونین میں داخل کر سکے گی۔
دفعہ 3 : پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ۔۔۔۔ (b) کسی ریاست کے رقبہ کو بڑھا سکے گی۔

pic 5 chapter 9
اگر ریاستیں کوئی ترمیم چاہتی ہیں تو کیا ہوگا؟ کیا وہ ترمیم کی تجویز پیش نہیں کر سکتیں؟ میرا خیال ہے کہ ریاستوں کے خلاف مرکز کی طرفداری میں یہ دوسری مثال ہے۔

      آئین کے باقی ماندہ حصوں کی ترمیم کے لیے دفعہ 368میں اہتمام کیا گیا ہے۔اس میں آئین کی ترمیم کے دو طریقے دیے گئے ہیں اور وہ آئین کی دو مختلف قسم کی دفعات پر نافذ ہوتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی خاص اکثریت کے ذریعہ ترمیم کی جا سکتی ہے۔ دوسرا طریقہ زیادہ مشکل ہے: اس میں پارلیمنٹ کی خاص اکثریت اور نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز کی حمایت ضروری ہے۔ یہاں غور کیجیے کہ آئین میں ترمیم کی تمام کارروائیاں پارلیمنٹ میں ہی ہوں گی۔
          اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی مخصوص اکثریت کے علاوہ کوئی بھی باہری ادارہ جیسے، آئینی کمیشن یا علاحدہ انجمن آئین میں ترمیم نہیں کر سکتے۔ 
          اسی طرح پارلیمنٹ میں کارروائی کے بعد اور بعض معاملات میں ریاستی مجالس قانون ساز میں منظور ہونے کے بعد ترمیم کی تصدیق کے لیے کسی ریفرینڈم (رائے شماری) کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسرے تمام مسودوں کی مانند ترمیم کا مسودہ بھی صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کے لیے جاتا ہے لیکن اس معاملہ میں صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ایسے مسودہ کو نظرثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج سکے۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ ترمیم کا عمل کس قدر مشکل اور پیچیدہ ہوتاہے۔ ہمارا آئین ایسی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ ترمیم کے طریقہ کو آسان بناتا ہے۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس عمل کے پس پر دہ ایک اہم اصول ہے: صرف عوام کے منتخب نمائندے ترمیم کے سوال پر فیصلہ لے سکتے ہیں۔ لہٰذا منتخبہ نمائندوں کا اقتدار(پارلیمانی اقتدار) ترمیم کے طریقہ کی بنیاد ہے۔

مخصوص اکثریت

       انتخابات ،عاملہ اور عدلیہ کے ابواب میں ہمیں ان دفعات کا علم ہوا جن میں مخصوص اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخصوص اکثریت کیا ہے؟آئیے پھر دہرائیں ۔ عام طور پر مجلس قانون ساز میں کسی تحریک، مسودہ یا بل یا تجو یز کے لیے، ایوان میں اس وقت موجود ممبران کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔فرض کیجیے: ووٹنگ کے وقت، ایوان میں 247ممبران موجود تھے۔لیکن ترمیم کے مسودہ پر ایسا نہیں ہوتا۔ آئین میں ترمیم کے لیے دو قسم کی مخصوص اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے: اول ترمیم کی حمایت کرنے والے ممبران کی تعداد ایوان کے کل ممبران کی کم ازکم نصف ہونی چاہیے۔دوسرے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممبران کی تعداد ووٹ ڈالنے والے کل ممبران کا دوتہائی ہونا چاہیے۔ اسی طریقہ سے دونوں ایوان اس ترمیمی بل کو علاحدہ علاحدہ پاس کریں گے۔ (مشترکہ اجلاس کے لیے کوئی قانون نہیں ہے) ہر ترمیمی بل کے لیے مخصوص اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
     کیا آپ اس ضروری شرط کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟ لوک سبھا میں کل 545ممبران ہیں۔لہٰذا ایک ترمیمی بل کے لیے 273ممبران کی حمایت ضروری ہے۔ اگر ووٹنگ کے وقت صرف 300ممبران حاضر ہیں تو ان میں سے 273ممبران کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ لیکن تصور کیجیے کہ لوک سبھا کے 400ممبران نے ترمیمی بل پر ووٹ دیا تو اس بل کو منظور کرنے کے لیے کتنے ممبران کی حمایت کی ضرورت ہوگی؟
       مزید یہ کہ دونوں ایوانوں کو مخصوص اکثریت کے ساتھ اس ترمیمی بل کو منظور کرنا ہوگا۔اس کے معنی ہیں کہ جب تک مجوزہ ترمیم پر کافی رائے عامہ نہ ہو یہ منظور نہیں ہوسکتا ۔

 جدید ترین آئین میں ترمیم کے مختلف طریقوں میں دو اصول غالب نظر آتے ہیں:

  • ایک اصول مخصوص اکثریت کا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ، جنوبی افریقہ اور روس وغیرہ نے یہ اصول اختیار کیا ہے : امریکہ آئین کے معاملہ میں دوتہائی اکثریت کی شرط ہے،جنوبی افریقہ اور روس کے معاملہ میں بعض ترمیمات کے لیے تین چوتھائی اکثریت کی ضرورت ہے۔
  • دوسرا اصول جو دنیا کے بہت سے آئین میں مقبول ہے وہ ہے : آئینی ترمیم کے عمل میں عوام کی شرکت۔ سوئزرلینڈ میں عوام ترمیم کی پہل بھی کرسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک کی مثالیں بھی ہیں جہاں عوام آئین میں ترمیم کی پہل کرسکتے ہیں یا ان کی تصدیق کرتے ہیں جیسے روس، اٹلی اور دوسرے ممالک۔
  •           اگر حکمراں جماعت کو بہت کم اکثریت حاصل ہے تو یہ اپنی مرضی کے مطابق قانون پاس کرسکتی ہے اور بجٹ منظور کراسکتی ہے خواہ مخالف جماعت اس کو نا منظور کر دے۔ لیکن اگر اسے آئین میں ترمیم کرنا ہے تو مخالف جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ چنانچہ ترمیم کے طریقہ کے پس منظر میں بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اورپارلیمانی ماہرین کی رائے اس کے حق میں ہونی چاہیے۔
    pic 6 chapter 9
    میں اس مخصوص اکثریت کے نام سے اکتا گیا ہوں۔ یہ ہمیشہ ہی آپ کو مشکل حساب کتاب میں الجھاتا ہے ۔ کیا یہ سیاست ہے یا حساب (ریاضی)؟ 

    pic 7 chapter 9
    ’’ جو آئین سے مطمئن نہیں ہیں انہیں صرف دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ اگر وہ یہ بھی حاصل نہ کر سکیں توآئین سے ان کی غیر اطمینانی کو عام لوگوں کی حمایت ملنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
    غور کیجئے کہ ڈاکٹرامبیڈ کریہاں صرف مخصوص اکثریت کی بات نہیں کررہے ہیں۔ ’’وہ عوام  کے ذریعہ خیالات کی حمایت کا حوالہ دے رہے ہیں۔‘‘ اس بات کا اشارہ ہے کہ اکثریت کے پس پردہ رائے عامہ کا اصول ہے جو فیصلہ سازی پر حکمرانی کرتا ہے۔
    ڈاکٹر امبیڈکر
    CAD, Vol. XI, p.976

    ریاستوں کے ذریعے توثیق

            آئین کی بعض دفعات کے لیے،مخصوص اکثریت کافی نہیں۔ مرکزی حکومت اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی تقسیم سے متعلق کسی دفعہ میں ترمیم کے ذریعہ تبدیلی یا نمائندگی سے متعلق دفعات میں ترمیم مقصود ہو، تو یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ ریاستوں سے مشورہ کیا جائے اور ان کی رائے حاصل کی جائے۔ ہم نے آئین کی وفاقی نوعیت کامطالعہ کیا۔ وفاقیت کے معنی ہیں کہ ریاستوں کے اختیارات کو مرکزی حکومت کے رحم وکرم پر چھوڑنا نہیں چاہیے۔؟ آئین نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی ترمیم کو نافذکرنے کے لیے نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز کی منظوری ضروری ہے ۔وفاقی ڈھانچہ سے متعلق دفعات کے علاوہ بنیادی حقوق سے متعلق دفعات کا بھی اسی طرح تحفظ کیا گیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئین کے بعض حصوں کے لیے مملکت میں زیادہ یا وسیع تراتفاق رائے ضروری ہے۔ یہ دفعہ آئین کی ترمیم میں ریاستوں کی حصہ داری کا بھی احترام کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتیاط روارکھی گئی ہے کہ اپنی جامد ترین شکل میں بھی یہ طریقہ لچک دار رہے صرف نصف ریاستوں کا اتفاق رائے شرط ہے اور ریاستی مجلس قانون ساز کی سادہ اکثریت کافی ہے۔ لہٰذا، یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے بھی کہ ضابطہ سخت ہے،  ترمیم کا طریقہ ناقابلِ عمل نہیں ہے۔
              ہم مختصر طور پر کہہ سکتے ہیں کہ آئین ہند میں بڑے پیمانہ پر اتفاق رائے اور ریاستوں کی محدود شرکت سے ترمیم ہوسکتی ہے۔ واضعان قانون نے مکمل احتیاط کی ہے کہ آئین کو آسانی سے ہاتھ نہ لگایا جا سکے۔پھر بھی آنے والی نسلوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ وقت کی مناسبت اور ضرورت کے مطابق آئین میں ترمیم و تبدیلی لاسکیں۔

    اپنی معلومات چیک کیجیے

    آئین ہند میں درج ذیل ترمیمات کے لیے ، کن حالات کا ہونا شرط ہے؟
      جہاں بھی وہ قابلِ اطلاق ہو چارٹ میں نشان لگائیے۔

    ترمیم کا موضوع
    شہریت کی دفعہ
    حقِ آزادیٔ مذہب
    یونین لسٹ میں تبدیلی
    ریاستی سرحدوں میں تبدیلی
     مخصوص
    اکثریت
    ریاستوں کے 
    ذریعہ توثیق
    انتخابی کمیشن سے
     متعلق دفعہ

    اتنی بہت سی ترمیمات کیوں ہوئی ہیں؟

           26جنوری2006کو آئین ہند نے اپنے وجود کے 56سال مکمل کیے۔ ان چھپن سالوں میں اس میں 93ترمیمات ہوئیں۔ آئین میں ترمیم کے قدرے مشکل طریقہ کے باوجود ترمیمات کی تعداد کافی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ آیے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اتنی بہت سی ترمیمات کیسے ہوئیں اور اس کے کیا معنی ہیں؟
           آئیے پہلے ہم ترمیمات کی مختصر تاریخ پر نظرڈالیں۔ درج ذیل گراف پر غور کریں۔ وہی اطلاع اس میں دومختلف طریقوں سے دی گئی ہے۔ پہلاگراف ظاہر کرتا ہے کہ ہر دس سال میں کتنی ترمیمات ہوئیں۔ اس دور میں ہونے والی ترمیمات کی نشاند ہی دی گئی پٹّی کرتی ہے۔ دوسرا گراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر دس ترمیمات کے ہونے میں کتنا وقت لگا۔یہ پٹی دکھاتی ہے کہ کس کس سال میں ترمیمات ہوئیں۔آپ دیکھیں گے کہ 1970سے 1990کی دو دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ترمیمات ہوئیں۔ دوسری جانب دوسرا گراف ایک اور کہانی کہتا ہے: 1974 سے 1976کے دوران صرف تین سال کے مختصر عرصہ میں دس ترمیمات ہوئیں۔ پھر دوبارہ، 2001سے 2003کے درمیان دس ترمیمات ہوئیں۔ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ دو  دور کافی مختلف نظر آتے ہیں۔ پہلا دور کانگریس کے غلبہ کا تھا۔کانگریس کو پارلیمنٹ میں وسیع اکثریت حاصل تھی(352نشستیں لوک سبھا میں اور متعدد ریاستی مجالس قانون ساز میں اکثریت)۔ دوسری جانب 2001سے2003کا مخلوط حکومت کا دور تھا۔ یہ وہ زمانہ بھی تھا جب مختلف ریاستوں میں مختلف جماعتیں اقتدار میں تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP)اور اس کی مخالف جماعتوں کے درمیان تلخ رقابت اس 
    دور کا خاص پہلو تھا۔ پھر بھی اس دور ان صرف تین سال میں دس ترمیمات ہوئیں۔ اس لیے  ترمیمات کا وقوع صرف حکمراں جماعت کی اکثریت کی نوعیت پرمنحصر نہیں ہوتا۔
    pic 8  chapter 9
    ہمارے آئین میں اتنی ترمیمات کیوں کی گئی ہیں؟ کیا ہمارے سماج یا ہمارے آئین میں کوئی خامی ہے؟

    GRAPH- 1

     ترمیمات: ایک دہائی میں

    pic 9  chapter 9

    GRAPH -2

    ہر دس ترمیموں کے لیے لگنے والے سال۔

    pic 10 chapter 9

            ترمیمات کی تعداد سے متعلق ہمیشہ تنقید ہوئی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ آئین ہند میں بہت زیادہ ترمیمات ہوئی ہیں۔ ظاہری صورت کے لحاظ سے پچپن سال میں93ترمیمات کا ہوناکافی عجیب لگتا ہے۔ لیکن درج  بالا دونوں گراف ظاہر کرتے ہیں کہ ترمیمات محض سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں ہوئیں۔ آئین کی شروعات کی پہلی دہائی کو چھوڑ کر ہر دہائی نے ترمیمات کی افراط دیکھی۔اس کے معنی ہیں: سیاست کی نوعیت اور حکمراں جماعت کا لحاظ کیے بغیر ترمیمات وقتا فوقتاً ہوتی رہی ہیں۔کیا یہ اصلی آئین کی خامی کی وجہ سے ہوا ؟ کیا آئین بہت زیادہ لچک دار ہے؟

    اب تک کی ترمیمات کا مواد

    اب تک کی گئی ترمیمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں وہ ترمیمات ہیں جو تکنیکی یا انتظامی نوعیت کی ہیں۔ ان کے ذریعہ اصلی دفعات میں معمولی تبدیلیاں، تفصیلات ،تشریحات وغیرہ لائی گئیں۔یہ قانونی زبان میں ترمیمات ہیں لیکن حقیقت میں ان سے اصلی دفعات میں کوئی خاص فرق نہیں ہوا۔
           یہ بات اس ترمیم کے متعلق سچ ہے جس نے ہائی کورٹ کے جج کی سبکدوشی کی عمر60سے 62 کردی (15ویں ترمیم)۔ اسی طرح ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہیں ایک ترمیم (55ویں ترمیم) کے ذریعہ بڑھائی گئیں۔
          یہاںمجالس قانون ساز میں درج فہرست ذتوں اور قبائل کے لیے نشستیں محفوظ کرنے سے متعلق دفعہ کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ اصلی میں دفعہ میں کہا گیا تھا کہ یہ تحفظ دس سال کے لیے ہوگا۔ البتہ ، ان طبقات کو مناسب نمائندگی دینے کی غرض سے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس مدت کو مزید دس سال کے لیے بڑھادیا جائے۔
    pic 11 chapter 9
    ہاں، میرا خیال ہے کہ ہمیں ترمیمات کی تعداد کی بجائے تبدیلیوں کو دیکھنا چاہیے۔ علم سیاسیات کے طالب علم کی حیثیت سے ہمیں یہی کرنا چاہیے۔

          چنانچہ ہر دس سال بعد ایک ترمیم کے ذریعہ اس سہولت کو پھر اگلے دس سال کے لیے بڑھا دیا جاتا ہے۔اس سلسلہ میں اب تک پانچ ترمیمات ہوچکی ہیں۔ لیکن ان ترمیمات سے اصل دفعہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس معنی میں یہ صرف ایک تکنیکی ترمیم ہے۔
          کیا آپ کو یاد ہے باب چہارم میں ہم نے صدر کے رول پر بحث کی تھی؟ آئین کے اصلی متن میں یہ فرق کیا گیا تھا کہ ہماری پارلیمانی حکومت میں صدر جمہوریہ عام طور پر وزرا کی کونسل کے مشورہ کو تسلیم کرے گا۔ بعد میں کی گئی ایک ترمیم کے ذریعہ اس کو محض دوہرایا گیا جب دفعہ(1) 74میں ترمیم کے ذریعہ وضاحت کی گئی کہ صدر جمہوریہ وزراء کی کونسل کے مشورہ پر پابند ہوگا۔(یعنی صدر جمہوریہ وزراء کی کونسل کے مشورہ کے مطابق عمل کرے گا)۔ حقیقت میں اس ترمیم سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، کیوں کہ ٹھیک ایسا ہوتا ہی رہا ہے۔یہ ترمیم صرف تو ضیح کے طور پر کی گئی۔

    توجیہات میں اختلاف

              بہت سی ترمیمات ان مختلف تشریحات کا نتیجہ ہیں جو عدلیہ اور اس وقت کی حکومت نے آئین سے متعلق دیں۔ جب ان کے درمیان ٹکراؤ ہوا تو پارلیمنٹ کو ان میں سے ایک تشریح کومصدقہ بنا نے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑی۔ یہ جمہوری سیاست کا ایک حصہ ہے کہ مختلف ادارے وسعت سے متعلق آئین کی تشریح کرتے ہیں خاص طور پر مختلف طریقوں سے اپنے اختیارات کی۔ اکثر عدلیہ کی تشریحات کے ساتھ پارلیمنٹ نے اتفاق نہیں کیا۔ لہٰذاعدلیہ کےحکم پر بالا دستی حاصل کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑی۔1970 اور1975کے درمیان ایسے حالات بار ہا پیش آئے۔
              عدلیہ سے متعلق باب میں آپ نے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان اختلافی امور کا مطالعہ کیا۔ ان میں سے ایک بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں کے درمیان تعلق کا تھا۔ دوسرانجی جائیداد کے حق کی وسعت کے بارے میں اور تیسرا آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے اختیارات کی حد سے متعلق۔75-1970 کے دور میں  پارلیمنٹ نے بار بار ایسی ترمیمات منظور کیں جن کے ذریعہ عدلیہ کی غلط تشریحات پر بالا دستی لائی گئی ۔
    یہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس دور میں (1970سے 1975) سے بہت سے سیاسی واقعات پیش آئے۔ ترقی کی اس تاریخ کو صرف اس دور کی سیاست کے پس منظر میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ ان امور کے بارے میں آپ مزید معلومات اگلے سال حاصل کر سکیں گے جب آپ آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ پڑھیں گے۔

    pic 12 chapter 9
    میں اب بھی کشمکش میں ہوں۔اگر ایک تحریری آئین ہے تو مختلف تشریحات کی کیا گنجائش ہے؟ یا لوگ اپنی مرضی کےمطابق آئین کے معنی لیتے ہیں۔

    سیاسی اتفاق رائے کے ذریعہ ترمیمات

            تیسرے حصہ میں ترمیمات کا وہ بڑا حصہ آتا ہے جو سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی اتفاق رائے سے یہ ممکن ہو سکا کہ معاشرہ کی توقعات اور موجود ہ سیاسی فلسفہ کی عکاسی کے لیے مناسب تبدیلیاں لائی جا سکیں۔ حقیقت میں 1984کے دور کے بعد بہت سی ترمیمات اسی رحجان کی عکاس ہیں۔ ہماری وہ خاص بات یاد کیجیے جس میں ہم نے سوال پوچھا تھا کہ اس دور میں اتنی تعداد میں ترمیمات کیوں ہوئیں؟

          اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی ترمیمات کی بنیاد وہ اتفاق رائے تھا جو بعض امور پر آہستہ آہستہ وجود میں آیا۔ انحراف مخالف ترمیم (Anti-Defection Bill) (52) ویں ترمیم  سے شروع کرتے ہوئے اس زمانے میں تمام سیاسی شورشوں کے باوجود ترمیمات کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔
          انحرف مخالف ترمیمات (52ویں اور91ویں) کے علاوہ ان ترمیمات میں61ویں تھیم ووٹنگ کی عمر21سال سے کم کر کے 18سال منظور کرنے کی ترمیم نیز 73ویں اور 74ویں ترمیمیں بھی شامل ہیں۔ اسی دور میں کچھ ایسی ترمیمیں ہوئیں جن کے ذریعہ ملازمتوں اور داخلوں میں تحفظات کے دائرہ کو بڑھایا گیا اور زیادہ واضح کیا گیا۔1992 اور1993کے بعد ان اقدامات سے متعلق پورے ملک میں اتفاق رائے اُبھرا۔لہٰذا، ان سے متعلق ترمیمیں  بغیر کسی دشواری کے منظور ہو گئیں (77ویں،81ویں اور 82ویں ترمیمات )۔

    pic 13 chapter 9
    گویا ،سیاست داں بھی بعض معاملات پر اتفاق کرتے ہیں!پھر بھی وہ ان مدعوں پر جھگڑتے ہیں جن پر خود انہوں نے اتفاق کیا تھا۔

    متنازع ترمیمات 

          اب تک کی گئی بحث سے یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ آئین میں ترمیم کے مسئلہ پر کبھی کوئی تنازعہ نہیں رہا۔حقیقت میں،1970اور1980کے درمیان کافی قانونی اور سیاسی تنازعے پیدا ہوئے۔1975سے 1976کے درمیان مخالف جماعتوں نے ان بہت سی ترمیمات کو، حکمراں جماعت کے ذریعہ آئین کی تخریب کاری کی کوشش قرار دیا۔ خاص طور پر38ویں، 39ویں اور42ویں ترمیمات اب تک کی سب سے زیادہ متنازع ترمیمات رہی ہیں۔ یہ تین ترمیمات اس پس منظر میں کی گئیں جب 1975جون سے ملک میں اندرونی ناگہانی حالات کا اعلان کیا گیا۔ ان کے ذریعہ آئین کے اہم ترین حصوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی گئی۔
         42ویں ترمیم کو خاص طور سے ایک وسیع تر ترمیم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کے ذریعہ آئین کے وسیع حصوں پر اثر پڑا۔ یہ ایک کوشش تھی جس کے ذریعہ کیشونندکیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ٹھکرایا گیا۔ یہاں تک کہ لوک سبھا کی مدت پانچ سال سے چھ سال کردی گئی۔حقوق کے باب میں آپ نے بنیادی فرائض کا مطالعہ کیا۔ یہ اضافہ آئین میں اسی ترمیم کے ذریعہ کیا گیا تھا۔42ویں ترمیم نے عدلیہ کے نظرثانی کے اختیارات پر بھی بندشیں لگادی تھیں۔
           اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعہ آئین کو عملی طور پر دوبارہ تحریر کیا جا رہا تھا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ترمیم کے ذریعہ آئین کی تمہید(Preamble) آئین کے ساتویں شیڈول اور آئین کی53دفعات میں تبدیلیاں کی گئیں؟ جب یہ ترمیم پارلیمنٹ نے منظور کیں اس وقت مخالف جماعتوں کے بہت سے ممبران پارلیمنٹ جیل میں تھے ۔اس   پس منظرمیں1977میں انتخاب ہوئے اور حکمراں جماعت (کانگریس) کو شکست ہوئی۔ نئی حکومت نے ضروری سمجھا کہ ان ترمیمات  پر نظرثانی کی جائے چنانچہ 43ویں و 44 ترمیمات کے ذریعہ ان تمام تبدیلیوں کو رد کر دیا گیا جو 39،38اور42ویں ترمیمات کے ذریعہ  کی گئی تھیں۔ ان ترمیمات کے ذریعہ آئینی توازن بحال کیا گیا۔
    pic 14 chapter 9
    گویا، یہ سب سیاست ہے۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آئین اور ترمیمات کا یہ سب معاملہ قانون کی بجائے سیاست سے جڑا ہواہے؟

    سرگرمی 

    حق تعلیم سے متعلق ترمیم تلاش کیجیے۔ آپ کے خیال میں، اس ترمیم کی کیا اہمیت ہے؟

    آئین کا بنیادی ڈھانچہ اور ارتقا

    ایک چیز جس کا آئین ہند کے ارتقا پر دیر پا اثر ہوا ہے وہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ کا نظریہ ہے۔آپ جانتے ہی ہیں کہ عدلیہ نے یہ نظریہ مشہور کیشونند بھارتی کیس میں پیش کیا تھا۔ اس فیصلہ نے درج ذیل طریقوں سے آئین ہند کے ارتقا میں معاونت کی ہے:
    • اس فیصلے نے آئین میں ترمیم کے بارے میں پارلیمنٹ کے اختیارات کی ایک حد قائم کردی ہے۔ اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔
    • یہ پارلیمنٹ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ آئین کے کسی بھی حصہ میں ترمیم کر سکتی ہے (اسی حد کے اندر)
    • یہ عدلیہ کویہ طے کرنے کا آخری اختیار دیتا ہے ، کہ کوئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی تو نہیں کرتی۔
          کیشونند بھارتی کیس میں سپریم کورٹ نے 1973میں فیصلہ دیا تھا۔ پچھلی تین دہائیوں میں یہ فیصلہ آئین کی تمام تشریحات پر حاوی رہا اور ملک میں تمام اداروں نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریہ کو تسلیم کیا ۔ حقیقت میں بنیادی ڈھانچہ کا نظریہ بذات خودایک زندہ دستاویز کی مثال ہے۔ یہ عدالتی تشریحات سے ابھرا ہے۔ گویا عدلیہ اور اس کی تشریحات نے بغیر کسی رسمی ترمیم کے عملاً آئین میں ترمیم کردی ہے۔
          اسی طریقہ سے،بحث ومباحثے، دلائل، مقابلہ اورعملی سیاست کے ذریعہ زندہ دستاویزات ارتقا پذیر رہتی ہیں۔ 1973سے عدالت نے بہت سے معاملات میں بنیادی ڈھانچہ کے اس نظریہ کو واضح کیا ہے۔اور ایسی مثالیں دی ہیں جو آئین ہند کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ بن گئی ہیں۔ ایک معنی میں بنیادی ڈھانچہ کے نظریہ نے جمود اور لچک کے درمیان توازن کو مضبوطی عطا کی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ کچھ حصوں کو ترمیم نہیں کیا جاسکتا اس نے جمود کا راستہ اختیار کیا اور دوسرے حصوں کی ترمیم کی اجازت دیتے ہوئے ترمیمی عمل کی لچک کواجاگر کیا ہے۔

    pic 15 chapter 9
     واہ! تو یہ عدلیہ ہے جس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے! کیا یہ بھی عدالتی مستعدی ہے؟

    آئین پر نظر ثانی

    نوّے کی دہائی کے آخر میں  پورے آئین پر نظرثانی کی کوشش کی گئی۔ 2000میں سپریم کورٹ کے سبکددش چیف جسٹس۔ وینکٹ چلیّاکی سربراہی میں حکومت ہند نے ایک کمیشن کی تشکیل آئین کی کارکردگی پر نظرثانی کے مقصد سے کی۔ مخالف جماعتوں اور دوسری تنظیموں نے کمیشن کا بائیکاٹ کیا۔ جب اس کمیشن کے متعلق کافی سیاسی تنازعہ اٹھ رہا تھا کمیشن آئین کے بنیادی ڈھانچہ کےنظریہ پر قائم رہا اور ایسے کسی اقدام کی سفارش نہیں کی جو آئین کے بنیادی ڈھانچہ کو نقصان پہنچا تا۔ہمارے آئینی کام کاج میں یہ چیز بنیادی ڈھانچہ کےنظریہ کی اہمیت ظاہرکرتی ہے۔

            ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کس طرح عدلیہ نے آئین کے تئیں ہماری سمجھ کو تشریحات کے ذریعہ تبدیل کیا ہے۔ بہت سے فیصلوں میں سپریم کورٹ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں پچاس فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہ ہونے دینے کے اپنے فیصلہ پر قائم رہا۔ یہ اب ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔

    pic 16 chapter 9
    یہ سب غلط ہے۔ پہلے وہ کہتے ہیں کہ ترمیم کے لیے اتفاق رائے ہونا ضروری ہے اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ جج، آئین کے سارے معنوں کو ہی بدل دیتے ہیں۔
        اسی طرح دوسرے پس ماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کے سوال پر سپریم کورٹ نے متمول طبقے کے استثنا کا تصور دیا اور فیصلہ دیا کہ ان طبقوں کے لوگوں کے لیے ریزرویشن کی کوئی ضروت نہیں ہے۔ اسی طرح حق تعلیم، حق زندگی و آزادی اور اپنے اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے حق سے متعلق بہت سی دفعات کی تشریحات کے ذریعے غیر رسمی ترمیمات میں معاونت کی ہے۔یہ ایسی مثالیں ہیں کہ کس طرح عدالت کے فیصلے آئین کے فروغ وار تقا میں مدد دیتے ہیں۔

    اپنی معلومات چیک کیجیے

    بتائیے کیا درج ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط:

    • بنیادی ڈھانچہ سے متعلق فیصلہ کے بعد پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل نہیں رہا۔
    • سپریم کورٹ نے ہمارے آئین کے بنیادی پہلوؤں کی واضح فہرست دے دی ہے جس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔
    • عدلیہ کو اختیار حاصل ہے کہ کوئی ترمیم بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہے یا نہیں۔
    • کیشو نند بھارتی کیس نے پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم کے اختیارات پر بندشیں لگا دی ہیں۔

    آئین بحیثیت ایک زندہ دستاویز

           ہم نے اپنے آئین کو ایک زندہ دستاویز کی حیثیت دی ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟کسی بھی زندہ چیز کی مانند تقریباً یہ دستاویز بھی حالات اور ضروریات کے تئیں وقتا فوقتا اپنا ردّ عمل ظاہر کرتی ہے۔ ایک زندہ ہستی کی طرح آئین تجربات کے تئیں ردّ عمل ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ اس معمہ کا حل ہے جس کا ذکر ہم نے شروع میں ہی آئین کے  پائیدار  ہونے سے متعلق کیا تھا۔معاشرہ میں اتنی ساری تبدیلیوں کے باوجود آئین کا میابی سے قابل عمل کیوں ہے کہ اس کے اندر تحریک ہے، تشریحات کے لیے کھلا ہے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی اس میں صلاحیت ہے۔ یہ ایک جمہوری آئین کی نشانی ہے۔ جمہوریت میں عمل اور خیالات وقت کے ساتھ ساتھ ترقی  پاتے ہیں اور انہیں کے مطابق معاشرہ تجربے کرتا ہے۔ کوئی آئین جو جمہوریت کی حفاظت کرتا ہے اور پھر ترقی و نشوونما کی اجازت دیتا ہے وہ نہ صرف پائیدار ثابت ہوتا ہے بلکہ اپنے شہریوں سے احترام بھی حاصل کرتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا آئین اپنی حفاظت اور جمہوریت کی حفاظت کرنے کے قابل ہے؟
    گذشتہ پچاس سالوں میں بہت سی ایسی نازک صورتیں ملک کی سیاست اور ترقی میں پیدا ہوئی ہیں۔ اس باب میں ان میں سے کچھ صورتوں سے متعلق ہم نے گفتگو کی ہے ۔ آئینی وقانونی امور کے معنی میں سب سے سنجیدہ سوال جو 1950سے باربار سامنا آتا ہے وہ ہے پارلیمنٹ کی بالا دستی کا سوال۔ کسی پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ عاملہ اور عدلیہ پر حادی ہے۔اسی کے ساتھ آئین کا متن ہے جس نے حکومت کے دوسرے اعضا کو اختیارات دیے ہیں۔لہٰذا اسی تناظر میں پارلیمنٹ کی بالادستی کوباقی رہنا ہے۔ جمہوریت محض عوام کے ووٹ اور ان کی نمائندگی کا نام نہیں ہے۔یہ قانون کی بالادستی کے اصول کا بھی دوسرا نام ہے۔جمہوریت اداروں کے فروغ اور ان کی کارکردگی کا نام ہے ۔ تمام سیاسی ادارے عوام کے تئیں ذمہ دار ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ توازن قائم رکھنا ہے۔
    pic 17 chapter 9
    مجھے معلوم ہوگیا! یہ سی۔سا  (see saw) کی طرح ہے۔ یا کیا یہ ٹگ آف وار کا کھیل ہے؟

    عدلیہ  کی دین

           عدلیہ اور پارلیمنٹ کے مابین تنازعہ کے دوران پارلیمنٹ نے غور کیا کہ اس کوغریبوں، پس ماندہ طبقوں اور ضرورت مندوں کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے قانون بنانے کی ذمہ داری اور  اختیار حاصل ہے۔ عدلیہ نے زور دیا کہ یہ سب کچھ آئین کے دائرہ میں ہونا چاہیے اور عوام کی حمایت میں کوئی بھی قانون قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہ کرے۔ کیونکہ اگر ایک بار بھی قانون کو نظر اندازکیا گیا خواہ وہ نیک نیتی کے ساتھ ہی ہو تب بھی صاحبان اقتدار کو ان اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا اور جمہوریت کا تعلق اقتدار کے آمرانہ استعمال کو روکنے کے لیے بھی اتنا ہی ہے جتنا لوگوں کی فلاح و بہبود سے ہے ۔
           آئین ہند کی کامیابی اپنے کشیدہ حالات کو سلجھانے میں پوشیدہ ہے۔ مشہور کیشو نند بھارتی کیس میں عدلیہ کو یہ موقع مل گیا کہ کس طرح پیچیدہ حالات میں الفاظ کی بجائے روحانی حل کاراستہ نکالا جاسکتا ہے۔ اگر آپ آئین کا مطالعہ کریں تو آپ کو آئین کے ’’ بنیادی ڈھانچہ‘‘ کاکہیں ذکر نہیں ملے گا۔ کہیں بھی آئین یہ نہیں کہتا کہ فلاں فلاں حصے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ ہیں۔اس معنی میں ’’ بنیادی ڈھانچہ‘‘ کا نظریہ عدلیہ کی ایجاد ہے۔ اس نے ایسی چیز کیسے ایجاد کی جس کا کوئی وجود نہیں؟ اور یہ کیسے ہوا کہ گذشتہ تین دہائیوں میں دوسرے تمام اداروں نے اس نظریہ کو تسلیم کر لیا۔
          یہیں الفاظ اور روح کے درمیان امتیاز پوشید ہ ہے۔ عدالت اس نتیجہ پر پہونچی کہ کسی متن یا دستاویز کو پڑھتے وقت، ہمیں اس کے پس پردہ نیت کا احترام کرنا چاہیے۔ قانون کا محض متن ان سماجی حالات اور توقعات سے کم ہے جن کی وجہ سے کوئی قانون یا دستاویز تخلیق پاتی ہے۔ عدالت بنیادی ڈھانچہ کو اس نظر سے دیکھ رہی تھی جس کے بغیر آئین کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ آئین کے متن یا الفاظ اور اس روح کے مابین توازن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
    pic 18 chapter 9
    یقینا، اگر حقوق نہ ہوں اور انتخابات نہ ہوں تو آئین کچھ معنیٰ نہیں۔ اگر خوش حالی نہ ہو تو انتخابات اور حقوق کا کوئی مطلب نہیں۔ کیا ہم اس طرح آئین کی روح کو سمجھ سکتے ہیں

    سیاسی قیادت کی پختگی

           مندرجہ بالا پیرا گراف میں عدلیہ سے متعلق ہماری بحث ایک اور حقیقت ظاہر کرتی ہے۔1967اور 1973کے درمیان جو خوفناک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تو پارلیمنٹ اور عاملہ نے بھی محسوس کیا کہ ایک متوازن اور پائیدار نقطۂ نظر ضروری ہے۔کیشونند کیس میں عدلیہ کے فیصلہ کے بعد کچھ کوششیں کی گئیں کہ عدالت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ جب یہ کوششیں ناکام ہوگئیں تو42ویں ترمیم منظور کی گئی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کو برقرار رکھا گیا۔ لیکن اپنے مِنرواملنر کیس (1980)میں عدالت نے اپنے پرانے نقطہ نظر کودوہرایا۔ لہٰذا کیشونندکیس کے فیصلہ کے تیس سال گزرنے کے بعد بھی وہ فیصلہ ہمارے آئین کی تشریح پر حاوی ہے۔ سیاسی جماعتوں ، سیاسی سربراہوں ، حکومت اور پارلیمنٹ نے ناقابل تردید بنیادی ڈھانچہ کے نظریہ کو تسلیم کیا ہے یہاں تک کہ جب آئین پر نظرثانی کی بات ہوئی تو وہ کوشش بھی اس بنیادی ڈھانچہ کے نظریہ کے خلاف نہ گئی۔
            جب آئین بنایا گیا تو ہندوستان کے سربراہوں اور عوام کا بس ایک ہی خواب تھا۔ آزادی کے وقت نہرو  نے اپنی مشہور تقریر میں اس خواب کو ہندوستان کی تقدیر کے طور پر تعبیر کیا۔ آئین ساز اسمبلی میں بھی تمام سربراہوں نے بھی اس وژن کا ذکر کیا۔ فرد کا وقار اور آزادی ، معاشرتی اور اقتصادی مساوات، تمام عوام کی خوش حالی اور قومی ہم آہنگی پر مبنی وحدت۔ یہ وژن غائب نہیں ہوا ہے۔اس کو عوام اور رہبران مضبوطی سے تھا مے ہوئے ہیں اور اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس وژن پرمبنی آئین نصف صدی کے بعد بھی احترام اور اقتدار کا موضوع  ہے۔ ہمارا عوامی وژن جن بنیادی اقدار سے عبارت ہے وہ آج بھی سالم وثابت ہے۔
    pic 19 chapter 9
    ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سیاسی ناپختگی کی بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ کیا ان کی فہرست کسی کے پاس ہے؟

     آئین ساز اسمبلی میں بھی کچھ ممبران ایسے بھی تھے جو یہ محسوس کرتے تھے کہ یہ آئین ہندوستانی حالات کے مطابق نہیں ہے۔ ’’ وہ معیار۔۔۔۔ جن پر یہ آئین تشکیل دیا گیا تھا ان سے ہندوستان کی روح کا کوئی اظہار نہیں ہوتا یہ آئین مناسب ثابت نہیں ہوگا اور عمل میں آتے ہی ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔‘‘
    لکشمی نارائن ساہو،  CAD Vol XI  P-613

    اختتام

     اس بات پر اب بھی بحث ہوسکتی ہے کہ بنیادی ڈھانچہ کی تشکیل کون کرتا ہے۔ ایسی بحث میں کچھ برائی نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں سیاست بحث ومباحثہ اور اختلافات سے بھر پور ہوتی ہے۔ یہ تنوع زندگی اور کھلے پن کی نشانی ہے ۔ جمہوریت بحث ومباحثہ کا استقبال کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ ہماری سیاسی جماعتوں اور قیادت نے ان مباحثوں کے دائرے محدود رکھنے میں پختگی دکھائی ہے۔ کیونکہ سیاست سمجھو توں اور لینے دینے کا نام ہے۔ انتہا پسندانہ خیالات نظری طور پر درست ہو سکتے ہیں اور بہت دلکش ہو سکتے ہیں لیکن سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص اپنے انتہا پسندانہ خیالات میں اعتدال پیدا کرے۔اپنے سیاسی موقف کو درست کرے اور کم سے کم مشترکہ موقف کو اپنائے ۔ تب ہی جمہوری سیاست ممکن ہے۔ سیاست دانوں اور ہندوستانی عوام نے اس ہنر کو سمجھ لیا ہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہیں ۔اس چیز نے جمہوری آئین کے عملی تجربہ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ حکومت کے مختلف اعضاکے درمیان ہمیشہ اس بات پر مقابلہ آرائی رہے گی کہ کون دوسرے سے اہم ہے۔ وہ اس بات پر بھی جھگڑیں گے کہ عوام کی فلاح کس میں ہے۔ لیکن آخر کار تمام اقتدار عوام کے ہاتھوں میں رہے گا۔ عوام، ان کی آزادی اور ان کی فلاح جمہوریت کا مقصد ہیں اور جمہوری سیاست کا نتیجہ بھی۔

    مشق

     1۔ درج ذیل میں سے درست بیان کا انتخاب کیجئے۔

    آئین میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ،

    √  حالات بدلتے ہیں اور ا نھیں کے مطابق آئین میں مناسب تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    √   ایک وقت میں تحریر کردہ آئین کچھ وقت کے بعد پرانا ہوجاتا ہے۔
    √    ہرنسل کو اپنی پسند کا آئین مرتب کرنا چاہیے۔
    √   اس میں موجودہ حکومت کے فلسفہ کا عکس نظرآنا چاہیے۔

    درجہ ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط، نشان لگائیے:

    (ا) صدر ترمیمی بل کو نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس نہیں بھیج سکتا۔
    (ب) منتخبہ امیدواروں کو ہی آئین میں ترمیم کرنے کا حق حاصل ہے۔
    (ج) عدلیہ آئین میں ترمیم کی پہل نہیں کر سکتی لیکن مختلف طریقہ سے اس کی تشریح کے ذریعے آئین میں موثر تبدیلی لا سکتی ہے۔
    (د) پارلیمنٹ آئین کے کسی بھی حصہ میں ترمیم کرسکتی ہے۔

    درج ذیل میں سے کون آئین کی ترمیم میں شامل ہوتا ہے؟ یہ شمولیت کس طرح ہوتی ہے؟

    (ا)انتخاب کنندگان (ب) صدرہند (ج) ریاستی مجلس قانون ساز
    (د) پارلیمنٹ     (ہ) گورنرس         ( و)عدلیہ

    آپ نے اس باب میں پڑھا کہ 42ویں ترمیم اب تک کی سب سے زیادہ متنازعہ ترمیم تھی۔

    اس تنازعہ کی درج ذیل میں سے کو ن سی وجوہات تھیں؟
    (ا) یہ ترمیم قومی ناگہانی حالات میں کی گئی تھی اور ناگہانی حالات کا اعلان بذاتِ خود متنازع تھا۔
    (ب) یہ مخصوص اکثریت کے بغیر کی گئی تھی۔
    (ج) یہ ریاستی مجلس قانون ساز کی تصدیق کے بغیر کی گئی تھی۔
    (د) اس میں ایسی دفعات شامل تھیں جومتنازع تھیں۔

    مختلف ترمیمات پر مجلس قانون ساز اور عدلیہ کے درمیان تنازعہ کے حوالے سے درج ذیل میں سے کون سی  تشریح غیر مدلل ہے:

    (ا) آئین کی مختلف تشریحات ممکن ہیں۔
    (ب) جمہوریت میں مباحثے او ر اختلافات قدرتی ہیں۔
    (ج) آئین نے بعض قاعدوں اور اصولوں کو زیادہ اہمیت دی ہے اور مخصوص اکثریت سے ترمیم کی اجازت دی ہے۔
    (د) مجلس قانون سازکوشہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی۔
    (ہ) عدلیہ کو صرف کسی مخصوص قانون کی آئینی حیثیت طے کرنے کا اختیار ہے لیکن وہ اس کی ضرورت سے متعلق سیاسی مباحثوں کو حل نہیں کرسکتی ۔

    بنیادی ڈھانچہ کے نظریہ سے متعلق درست بیانات کی شناخت کیجیے۔ غلط بیانات کو درست کیجیے:

    (ا) آئین بنیادی اصولوں کی تصریح کرتا ہے۔
    (ب)آئین کے تمام حصوں میں مجلس قانون ساز ترمیم کر سکتی ہے سوائے بنیادی ڈھانچہ کے۔
    (ج) عدلیہ نے واضح کردیا ہے کہ آئین کے کون سے پہلوؤں کو بنیادی ڈھانچہ قرار دیا جا سکتا ہے اور کون سے پہلوؤں کو نہیں۔
    (د) اس نظریہ کا پہلا اظہار کشیونند بھارتی کیس میں ہوااور بعد میں تمام فیصلوں میں اس پر بحث ہوئی۔
    (ہ) اس نظریہ نے عدلیہ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں اور حکومت نے اس کو تسلیم کیا ہے۔

    اس اطلاع سے کہ 2000سے 2003تک بہت سی ترمیمات ہوئیں آپ درج ذیل میں سے کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟

    (ا) اس دوران کی گئی ترمیمات میں عدلیہ نے کوئی دخل اندازی نہیں کی۔
    (ب) اس دور میں ایک سیاسی جماعت کو مضبوط اکثریت حاصل تھی۔
    (ج) بعض ترمیمات کی حمایت میں عوام کی طرف سے زبر دست دباؤ تھا۔
    (د)  اس دور میں جماعتوں کے درمیان کوئی خاص اختلافات نہیں تھے۔
    (ہ) ترمیمات کی نوعیت غیر متنازعہ تھی اور ترمیمات کے موضوع پر جماعتوں میں اتفاق تھا۔
    آئین میں ترمیم کے لیے مخصوص اکثریت حاصل کرنے کی وجہ بتائیے۔
    آئین ہند میں بہت سی ترمیمات عدلیہ اور پارلیمنٹ کے ذریعہ مختلف تشریحات کرنے کی وجہ سے ہوئیں۔ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
    10۔ اگر ترمیم کا اختیار نمائندوں کے پاس ہے تو عدلیہ کو اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ان ترمیمات کی جانچ کرے۔ کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟ وجوہات کا بیان100الفاظ میں کیجیے۔