Skip to content
hindustani ayin aur kam

باب  10

آئین کا فلسفہ

تمہید

اس کتاب میں اب تک آپ نے ہمارے آئین کی کچھ اہم  دفعات کا مطالعہ کیا ہے ا وریہ بھی مطالعہ کیا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں ان دفعات کی کیا عملی حیثیت رہی ہے۔ہم نے اس طریقہ کا مطالعہ بھی کیا جس کے ذریعہ آئین کی تشکیل ہوئی۔ لیکن کیا کبھی آپ نے خود سے یہ سوال پوچھا کہ قومی تحریک کی قیادت نے برطانوی حکمرانی سے آزادی کے بعد ایک ایسے آئین کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ انہوں نے خود کو اور آنے والی نسلوں کوآئین کے رشتہ میں کیوں باندھ دیا؟ اس کتاب میں آپ نے آئین ساز اسمبلی میں ہوئے بحث ومباحثوں کو سنا یا دیکھا ہوگا۔لیکن یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ آئین کے مطالعہ کا آئین ساز اسمبلی میں ہوئے مباحثوں کے تجربہ سے باہمی رشتہ کیا ہے؟ اسی سوال پر موجودہ باب میں بحث ہوگی۔دوسرے یہ سوال پوچھنا بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم نے خود کو کس قسم کا آئین دیا ہے؟ اس کے ذریعہ ہم کون سے مقاصد حاصل کرنے کی توقع رکھتے تھے؟ کیا ان مقاصد کا کوئی اخلاقی مفہوم  ہے؟ اگر ہے تو وہ  بعینہ کیا ہے؟ اس سیاسی وژن کی مضبوطی اور کمیاں کیا ہیں اور ضمناً آئین کی کامیابیاں اورکمزوریاں کیا ہیں؟

ایسا کرنے میں ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئین کا فلسفہ کیا ہے۔

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ سمجھنے کے قابل ہوں گے:

  • فلسفۂ آئین کا مطالعہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؛
  • آئین ہند کی اصل خصوصیات کیا ہیں؛
  • آئین پر کیا تنقیدیں ہوئی ہیں؛ اور
  • آئین کی خامیاں کیا ہیں۔

فلسفہ ٔآئین کے کیا معنی ہیں؟

بعض لوگوں کا یقین ہے کہ آئین محض قوانین کا نام ہے اور قوانین ایک چیز ہیں اور اقدار اور اخلاق دوسری چیز۔ لہٰذا ہم آئین کے تئیں ایک فلسفیانہ نہیں بلکہ ایک قانونی نظریہ کو اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ باب اس چیلنج کا جواب دے گا۔ یہ سچ ہے کہ تمام قوانین میں کوئی اخلاقی مواد نہیں ہوتا، لیکن بہت سے قوانین ان اقدار سے مربوط ہوتے ہیں جن کو ہم نے مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک قانون زبان یا مذہب کی بناد پر امتیاز کو ممنوع قرار دے سکتا ہے لیکن ایسا قانون مساوات کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ ایسا قانون اس لیے موجود ہے کیوں کہ ہم مساوات کواہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا قوانین اور اخلاقی اقدار کے درمیان تعلق ہے۔
      چنانچہ ہمیں آئین کو اس نظریہ سے دیکھنا چاہیے کہ یہ بعض اخلاقی وژن پر مبنی ہے۔آئین کے تئیں ہمیں سیاسی فلسفہ کے نظریہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین کے تئیں سیاسی فلسفہ کے نظریہ کے کیا معنی ہیں؟ ہمارے ذہن میں تین چیزیں ہیں۔

  • اول ہمیں آئین کے نظریاتی ڈھانچہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟اس کے معنی ہیں کہ ہمیں اس طرح کے سوال پوچھنے چاہئیں: جیسے۔آئین میں استعمال کیے گئے الفاظ ’’حقوق‘‘، ’’شہریت‘‘، ’’اقلیت‘‘ کے ممکنہ معنی کیا ہیں؟
  • مزید یہ کہ، ہمیں آئین کے بنیادی نظریات کی تشریح پر بنے معاشرہ اور مملکت کے ایک جامع تصور کا خاکہ تیار کرنا چاہیے۔ آئین میں مضبوطی سے جمے ہوئے معیاروں کے مجموعہ پر ہماری بہتر گرفت ہونی چاہیے۔
  • ہمارا آخری نکتہ ہے آئین ہند کا مطالعہ آئین ساز اسمبلی میں ہوئے مباحثوں کے تناظر میں کرنا چاہیے تاکہ ایک اعلی وارفع نظریاتی سطح تک پہونچا جاسکے اور آئین میں مضبوطی سے جمی ہوئی اقدار کو حق بجانب قرار دیا جاسکے۔ کسی قدر(Value) کی فلسفیانہ اساس اس وقت تک نا مکمل ہے جب تک اس کا تفصیلی جوازپیش نہ کیا جائے۔
pic 6 chapter 9
کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر آئین کا ایک فلسفہ ہوتا ہے؟ یا یہ کہ صرف کچھ ہی آئین اپنا فلسفہ رکھتے ہیں؟

         جب ہمارے آئین سازوں نے  اقدار کے ایک مجموعہ کے ذریعہ ہمارے معاشرہ اور مملکت کی رہنمائی کرنے کاارادہ کیا ہوگا تو یقینا ان کے ذہن میں اس کی کچھ وجوہات رہی ہوں گی۔ ان میں سے بہت سی اقدار کا اظہار بھی نہیں ہواہوگا۔
      آئین کے مطالعہ کے لیے فلسفیانہ نظریہ کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہوتی ہے کہ اس میں بیان کردہ اخلاقی مواد کو تلاش کیا جائے بلکہ اس کے دعووں کو پرکھنے کے لیے اور ہماری مملکت میں بنیادی قدروں کی مختلف تشریحات پر گفتگو اور دلیل دینے کے لیے اس کا استعمال کیا جا سکے۔یہ ظاہر ہے کہ مختلف سیاسی میدانوں ،مجالس قانون ساز، جماعتی جلسوں، پریس،اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ان میں سے بہت سے معیاروں کو چیلنج کیا جاتا ہے، بحث ومباحثے ہوتے ہیں اور مقابلہ آرائی بھی ہوتی ہے۔ ان معیاروں کی مختلف تشریحات کی جاتی ہیں اور بعض اوقات جان بوجھ کروقتی اور محدود مفادات کے موافق ان کی تشریح ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تجربہ کرنا چاہیے کہ ایک آئینی معیار اور دوسرے میدانوں میں کوئی سنجیدہ تفریق تو نہیں ہے۔ بعض اوقات ایک ہی معیار کو مختلف اداروں کے ذریعہ مختلف طریقہ سے بیان کیا جاتا ہے۔ ہمیں ان مختلف تشریحات کا مقابلہ کرنا چاہیے کیوں کہ آئین میں معیار واقدار کا اظہار واضح اختیار کا مالک ہے تو اس کا استعمال ، معیاریا اقدار کی تشریح کے تنازعہ میں کیا جانا چاہیے۔ہمارا آئین فلسفہ سازی کا کام کرتا ہے۔

1947کا جاپانی آئین، ’’آئین‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے۔ اس کی تمہید کہتی ہے کہ ’’ہم جاپانی عوام ہر دور میں امن کے خواہاں ہیں اور انسانی رشتوں کو گرفت میں رکھنے والے اعلیٰ معیاروں کے تئیں گہرا شعور رکھتے ہیں۔‘‘
گویا جاپانی آئین کے فلسفہ کی بنیاد امن کے معیار پر قائم ہے۔جاپانی آئین کی دفعہ9کہتی ہے:
(1) امن وانصاف پر بنی بین الاقوامی امن کے تئیں سنجیدگی سے خواہاں،جاپانی عوام ، ہمیشہ کےلیے، جنگ کو کسی قوم کے مقتدرانہ حق یا بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کےلیے طاقت کی دھمکی یا استعمال سے دست بردار ہوتے ہیں۔
(2) مذکورہ بالا مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے، بری، بحری اور ہوائی فوجیں کبھی قائم نہیں کی جا ئیں گی۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئین سازی کا  پس منظر کس طرح ٰآئین سازوں کے ذہن پر حاوی ہے۔
pic 5 chapter 9
              ہاں،یقینا، مجھے آئین کی مختلف تشریحات کے اس مسئلہ کا علم ہے۔ ہم نے اس پر گذشتہ باب میں بحث کی تھی ۔کیا نہیں کی تھی؟

آئین بحیثیت جمہوری تبدیلی کا ذریعہ

        پہلے باب میں ہم نے مطالعہ کیا ہے کہ لفظ آئین کے کیا معنی ہیں اور آئین کا ہونا کیوں ضروری ہے۔ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ آئین رکھنے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ اقتدار یا  اختیار کے استعمال پر پابندی کی ضرورت ہے ۔ جدید مملکتیں بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ طاقت اور دباؤ پر ان کی بلا شرکت غیرے مکمل اجارہ داری ہے۔ اگر ایسی مملکتوں کے ادارے ان ہاتھوں میں چلے جائیں جو طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں، تو کیا ہوگا؟ اگر یہ ادارے ہمارے تحفظ اور خوش حالی کے لیے بھی قائم کیے جائیں تب بھی وہ آسانی سے ہمارے خلاف ہو سکتے ہیں۔ ساری دنیا میں مملکت کے اقتدار کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اکثر مملکتیں بعض افراد اور گروہوں کو نقصان پہونچانے کی جانب مائل ہوتی ہیں۔ اگر ایسے ہوتا ہے تو ہمیں کھیل کے اصول اس طرح طے کرنا ہوں گے کہ مملکتوں کے اس رحجان پر لگاتار نگرانی رکھی جائے۔ آئین اس قسم کے بنیادی اصول مہیا کرتے ہیں اور اس طرح مملکتوں کو مطلق العنان بننے سے روکتے ہیں۔
       نہرو ان دونوں نکتوں کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ، ملک کی مجموعی خودمختاری کی نمائندگی کرتا تھا کیوں کہ ہندوستانی عوام کے ذریعہ منتخبہ آئین ساز مجلس ہی، بغیر کسی باہری دخل انداز کے، ہندوستان کا آئین تیار کرنے کا حق رکھتی تھی۔ دوسرے ان کی د لیل تھی کہ آئین ساز مجلس کے معنی عوام کا ایک گروہ یا لائق وکیلوں کی ایک انجمن نہیں بلکہ اس کی بجائے یہ ایک محرک قوم ہے جو اپنے سیاسی ماضی کے خول کو اتار پھینک رہی ہے اور شاید معاشرتی ڈھانچہ کو بھی ،اور اپنا لبا س خود تیار کررہی ہے۔ ہندوستانی آئین کو ایسی طرز بخشی گئی جو روایتی معاشرتی نسب کی بیڑیوں کو توڑ دے اور آزادی، مساوات اور انصاف کا ایک نیا دور لیکر آئے۔
       اس طریقہ کا رمیں آئینی جمہوریت کے نظریہ کو مکمل طور پر سے تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آئین نہ صرف مقتدرعوام پر پابندی عائد کرنے کےلیے موجود ہوتے ہیں بلکہ ان کو بھی طاقت بخشتے ہیں جو روایتی طور پر اس سے محروم رہے ہیں۔ مظلوم و محروم لوگوں کو اجتماعی بھلائی حاصل کر نے کی طاقت، آئین ہی دیتے ہیں۔

pic 2 chapter 9
تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئین ساز مجلس کے ممبران، معاشرتی تبدیلی لانے کے خواہاں تھے؟ لیکن ہم یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ اسمبلی یا مجلس میں تمام نقطہ نظرکی نمائندگی کی گئی!

ہمیں آئین ساز اسمبلی میں پھر واپسی کی ضرورت کیوں ہے؟

       ہم پیچھے مڑکر کیوں دیکھیں اور ماضی سے کیوں وابستہ رہیں؟یہ ایک قانونی تاریخ داں کا کام ہوسکتا ہے کہ وہ ماضی میں جائے اور قانونی وسیاسی خیالات کی بنیادیں تلاش کرے۔ جن لوگوں نے آئین کی تشکیل کی ان کے ارادوں اور مقاصد کا مطالعہ کرنے میں علم سیاست کے طالب علموں کو کیا دلچسپی ہوگی؟بدلے ہوئے حالات کا جائزہ کیوں نہ لیا جائے اور آئین کے کام کاج کو از سر نو کیوں نہ طے کیا جائے۔
      امریکہ کے حوالہ سے جہاں آئین 18ویں صدی میں تیار ہوا تھا اس وقت کی اقدار اورمعیاروں کو 21ویں صدی میں نافذ کرنا بے وقوفی ہے۔ہندوستان میں آئین سازوں کی اصلی دنیا اور موجودہ دنیا کے حالات میں بہت زبردست تبدیلیاں واقع نہیں ہوئی ہیں۔ ہمارے آئین کی تاریخ اب بھی ہماری موجودہ تاریخ ہے۔

سر گرمی

آئین ساز اسمبلی سے اخذ کیے گئے مقولوں (CAD)کا دوبارہ مطالعہ کیجیے یہ مقولے درج ذیل ابواب میں دیے گئے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ان مقولوں میں دی گئی دلیلیں ہمارے موجودہ دور کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں؟ کیوں؟
(i)۔باب دوئم میں مقولے
(ii)۔باب ہفتم میں مقولے

           مزید یہ کہ شاید ہم نے ان حقیقی نکتوں کو بھلا دیا ہے جو ہماری قانونی اور سیاسی مشقوں کے پس پردہ ہیں۔ کیوں کہ ہم نے ان کو  ماضی میں آسانی سے حاصل کر لیا تھا۔ اب یہ وجوہات ماضی میں کہیں گم گئی ہیں اور ہمارے شعور کے پردہ سے غائب ہوگئی ہیں۔ اگر چہ وہ ابھی تک ہمارے عمل کو تنظیمی اصول مہیا کراتی ہیں۔جب سب کچھ اچھا ہو رہا ہو تو ایسی بھول نقصان دہ نہیں ہوتی۔ مختصر یہ کہ موجودہ آئینی کام کاج پر گرفت رکھنے کے لیے اور ان کی اہمیت اور معنی پر قابو رکھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی دوسراراستہ نہیں سوائے اس کے کہ ہم واپس آئین ساز مجلس کے مباحثوں کی تاریخ  اور شاید اس سے بھی اور پیچھے نو آبادیاتی دور میں جائیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے آئین کے درپردہ پوشیدہ سیاسی فلسفہ کو یاد رکھنے اور باربار دوہرانے کی ضرورت ہے۔

pic 4 chapter 9
یہ مشکل ہے وہ ہمیں صاف صاف کیوں نہیں بتا سکتے تھے کہ فلسفہ آئین کیا ہے؟عام شہری اس طرح چھپے ہوئے فلسفہ کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

ایک کارٹون پڑھیے

ہمارے آئین کاسیاسی فلسفہ کیا ہے؟

       اس فلسفہ کو ایک لفظ میں بیان کرنا مشکل ہے ۔اس پر کوئی لیبل چپکایا نہیں جاسکتا کیوں کہ یہ آزاد ہے، جمہوری ہے، سیکولر ہے،اور وفاقی ہے، اجتماعی اقدار کےلیےکھلا ہے۔ مذہبی اور لسانی اقلیتوں یہاں تک کہ تاریخی اعتبار سے محروم طبقات کی ضروریات کے تئیں حساس ہے اور ایک قومی شناخت کی تعمیر کے لیے سنجیدہ ہے۔
        مختصراً یہ آزادی، مساوات، سماجی انصاف اور قومی اتحاد کے تئیں پابند ہے۔ لیکن اس سب کے نیچے اس فلسفہ کو عمل میں لانے کے لیے پرامن اور جمہوری طریقوں پر واضح دباؤ ہے۔
                                                            ایک کارٹون پڑھیے

pic 20 chapter 9
جہاں کھیل کے میدان میں سب ہی خیالات ظاہر ہوجاتے ہیں تو جمہوریت امپائر کی حیثیت رکھتی ہے۔

انفرادی آزادی

       آئین سے متعلق پہلا نکتہ جو قابل غور ہے وہ اس کا انفرادی آزادی کے تئیں پابند ہوناہے۔عہد کی یہ پابندی کسی میز پر پرسکون گفتگو کے نتیجہ میں معجزا تی طور پر اخذ نہیں ہوتی۔اس کی بجائے یہ پوری ایک صدی تک جاری ذہنی اور سیاسی سر گرمی کا نتیجہ ہے۔ انیسویں صدی کے شروع میں رام موہن رائے نے برطانوی نوآبادیائی مملکت کے ذریعہ پریس کی آزادی کو کم کرنے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ رائے نے دلیل دی تھی کہ مملکت کو افراد کی ضروریات کے تئیں جواب دہ ہونا چاہیے اور وہ تمام ذرائع مہیا کرانے چاہییں جن سے ان کی ضروریات پوری ہوں۔ لہٰذا مملکت کو اشاعت کی لامحدود آزادی دینی چاہیے۔ اسی طرح برطانوی نو آبادیاتی دور میں ہندوستانی برابر آزادی پریس کا مطالبہ کرتے رہے۔
       لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ آزادی اظہار آئین ہند کا ایک مربوط حصہ ہے۔اسی طرح با ضابطہ گرفتاری سے آزادی ہے۔بآلاخر بدنام رولٹ ایکٹ کی قومی تحریک نے بڑی شدت سے مخالفت کی لیکن اس نے یہ آزادی دینے سے انکار کردیا تھا۔یہ اوردوسری آزادیاں جیسے آزادی شعور لبرل نظریہ کا حصہ ہیں۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئین ہند کا کردار مضبوط آزاد کردار ہے۔ بنیادی حقوق کے باب میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آئین انفرادی آزادی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔یہ یاد کرایا جاسکتا ہے کہ آئین ہند کو قبول کرنے سے چالیس سال قبل انڈین نیشنل کانگریس کی ہر ایک تجویز اسکیم ،مسودہ اور رپورٹ میں انفرادی حقوق کا ذکر نہ صرف سرسری طور پر موجود ہوگا بلکہ اس پر کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی تھی۔

معاشرتی انصاف

       جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین ہند حریت پسندانہ (لبرل) ہے اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ یہ قدیمی مغربی معنی میں حریت پسندانہ ہے۔ سیاسی نظریہ کی کتاب میں آپ حریت پسند نظریہ (لبرل ازم) کے بارے میں مزید مطالعہ کریں گے۔ قدیمی حریت پسندی سماجی یا معاشرتی انصاف اور اجتماعی اقدار کے مقابلہ افراد کے حقوق کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

اپنی معلومات چیک کیجیے

بتائیے درج ذیل میں سے کون سے حقوق انفرادی آزادی کا حصہ ہیں:

  • آزادی اظہار
  • آزادی مذہب
  • اقلیتوں کے ثقافتی تعلیمی حقوق
  • عام مقامات تک مساوی رسائی
pic 17 chapter 9
معاشرتی انصاف کی بات کرتے وقت ہمیں رہنما  اصولوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔

ہندوستانی حریت پسندی کے دو سرچشمے ہیں۔ ایک سرچشمہ راجہ رام موہن رائے سے شروع ہوا۔ انہوں نے انفرادی حقوق اور خاص طور پر خواتین کے حقوق پر زور دیا۔ دوسرے سرچشمہ میں کے۔سی۔سین، جسٹس راناڈے اور وویکا نند جیسے مفکرین شامل تھے ۔انہوں نے قدامت پرست ہندومت میں معاشرتی انصاف کی روح پھونکی۔ ہندومعاشرہ کی ایسی تعمیرحریت پسندانہ اصولوں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔کے۔ایم۔پانیکر   ’’حریت پسندی کے دفاع میں‘‘ بمبئی، ایشیا پبلشنگ ہاؤس،1962
          آئین ہند کی حریت پسندی اس بیان سے دوطرح سے مختلف ہے۔ اول یہ معاشرتی انصاف سے وابستہ تھی۔ اس کی بہترین مثال وہ دفعات ہیں جو آئین میں درج ذیل قبائل اور درج ذیل ذاتوں کےلیے ریزرویشن سے متعلق ہیں۔ آئین سازوں کو یقین تھا کہ جو طبقے صدیوں سے عدم مساوات کا شکار ہیں ان پر قابو پانے کےلیے محض حق مساوات دینا یا رائے دہندگی کے حق کو معنی دینا کافی نہیں تھا۔ ان کے مفادات کے فروغ کے لیے مخصوص دفعات کی ضرورت تھی۔ لہٰذا آئین سازوں نے درج ذیل ذاتوں اور درج ذیل قبائل کے مفادات کے تحفظ کےلیے  کئی مخصوص اقدامات کیے جیسے مجالس قانون ساز میں ریزرویشن۔آئین نے حکومت کے لیے یہ ممکن بنایا کہ ان طبقات کےلیے عوامی سیکٹرمیں ملازمتوں کا تحفظ دیا جائے۔

تنوع اور اقلیتی حقوق کے تئیں احترام

         آئین ہند، مختلف برادریوں کے مابین مساوی احترام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ آسان نہیں تھا۔اول اس لیے کہ سماجوں میں مساوات کا رشتہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ(جیسے ذات پات کے معاملہ میں) مدارجی رشتے رکھتے ہیں۔ دوسرے جب یہ فرقے ایک دوسرے کو مساوات کی نظر سے دیکھتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے رقیب بن جاتے ہیں (جیسا کہ مذہبی فرقوں کے معاملہ میں)۔ آئین سازوں کے لیے یہ ایک بہت بڑاچیلنج تھا کہ برادریوں کو فرقہ یا حریت پسند کیسے بنایا جائے اور موجودہ مدارج یا شدیدرقابت کے موجودہ حالات میں ایک دوسرے کے تئیں مساوی احترام کو کیسے فروغ دیا جائے؟
          اس مسئلہ کا حل نہایت آسان ہوتا اگر ان سماجوں (کمیونٹی) کوتسلیم ہی نہیں کیا گیا ہوتا، جیسا کہ اکثر مغربی حریت پسند آئین کرتے ہیں۔ لیکن یہ چیز ہمارے ملک میں ناقابل عمل اور نا پسندیدہ ہوتی۔ یہ اس لیے نہیں کہ ہندوستانی دوسروں کے مقابلہ میں ان فرقوں یا سماجوں سے زیادہ وابستہ ہیں۔ ہر جگہ افراد بعض ثقافتی سماجوں سے وابستہ ہوتے ہیں اور ایسا ہر سماج (Community) اپنے اقدار، روایات، دستور اور زبان سے وابستہ ہوتا ہے جو اس کے ممبران میں مشترک ہوتی ہے۔مثال کے طور پر فرانس یا جرمنی میں افراد کا تعلق لسانی سماج سے ہوتا ہے اور وہ اس سے گہرائی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ہم میں یہ فرق ہے کہ ان رشتوں کو ہم کھلے پن سے تسلیم کرتے ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان میں اکثرثقافتی سماج ہیں۔ جرمنی یا فرانس کے بر خلاف ہمارے بہت سے لسانی اور مذہبی سماج ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا اہم تھا کہ کوئی سماج(کمیونٹی) دوسرے سماج پر باقاعدہ حاوی نہ ہو۔ اسی لیے ہمارے آئین میں سماج کے نظریہ پر مبنی حقوق کو تسلیم کیا گیا۔
         ایک ایسا ہی حق مذہبی سماجوں (Commnities)  کا ہے جس کے مطابق وہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں اور ان کا انتظام چلاسکتے ہیں۔ ایسے اداروں کو حکومتی امداد مل سکتی ہے۔ یہ سہولت ظاہر کرتی ہے کہ آئین مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ نہیں سمجھتا۔

pic 13 chapter 9
مجھے ہمیشہ حیرانی ہوتی ہے کہ میں کون ہوں؟میرے بیگ میں، میری،کتنی شناختیں پڑی ہیں: میری ایک مذہبی شناخت ہے، میری ایک لسانی شناخت ہے، میرا رشتہ اپنے آبائی قصبہ سے ہے اور یقینا میں ایک طالب علم بھی ہوں

سیکولرزم

      سیکولر مملکتوں کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ مذہب کو ایک نجی معاملہ سمجھتی ہیں۔ یعنی وہ یہ سمجھتی ہیں کہ مذہب کی عوامی یا سرکاری حیثیت نہیں ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان  سیکولر نہیں ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے۔حالاں کہ ابتدا میں لفظ سیکولر کا ذکر نہیں کیاگیا تھا۔ لیکن آئین ہند ہمیشہ سے سیکولر رہا ہے۔ مغربی تصور کے مطابق سیکولرزم کے معنی ہیں کہ انفرادی آزادی اور فرد کے شہری حقوق کی حفاظت کے مدنظر مملکت اورمذہب کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔
      اس موضوع پر مزید معلومات آپ ’’سیاسی نظریہ‘‘ میں حاصل کریں گے۔ باہمی علیحدگی کے معنی ہیں: مذہب اور مملکت دونوں کو ایک دوسرے کے داخلی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ مملکت کو مذہب کے دائرہ میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ اسی طرح مذہب کو مملکت کی حکمت عملی کے لیے حکم نہیں دیا جانا چاہیے اور نہ ہی اس کے کام کاج پراثرڈالنا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں باہمی علیحدگی کےمعنی ہیں مذہب اور مملکت ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ رہیں۔

pic 14 chapter 9
کیا انہوں نے ہم کو سیاسی نظریہ کا کورس پڑھانا شروع کر دیا ہے؟

           اس سخت قسم کی علیحدگی کا کیا مقصد ہے؟ یہ افراد کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔جن مملکتوں نے منظم مذہب کی حمایت کی ان کو پہلے سے زیادہ طاقت ور بنا دیا ۔جب مذہبی تنظیمیں افراد کی مذہبی زندگی کوکنٹرول کرنا شروع کر دیتی ہیں اور جب وہ افراد کو یہ حکم دینے لگتی ہیں کہ خدا سے ان کا کیسا تعلق ہونا چاہیے یا انہیں کس طرح عبادت کرنا چاہیے تو پھر افراد مملکت سے یہ امید کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان کی مذہبی آزادی کی حفاظت کرے ۔لیکن اگر مملکت نے مذہبی تنظیموں سے ہاتھ ملاہی لیا ہے تو وہ ان کو کیامدد پیش کرے گی؟ لہٰذا افراد کی مذہبی آزادی کی حفاظت کی خاطر مملکت کو مذہبی تنظیموں کی مدد نہیں کرنا چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ مملکت مذہبی تنظیموں کو کیسے کام کرنا چاہیے یہ بھی نہ بتائے۔ اس سے بھی مذہبی آزادی میں رکاوٹ آئے گی۔ لہٰذا مملکت مذہبی تنظیموں کی راہ میں روکاوٹ بھی نہ ڈالے۔مختصراً ، مملکت نہ تو مذاہب کی مدد کرے نہ ان کی راہ میں روکاوٹ پیدا کرے ۔ اس کے بجائے اس سے انہیں دور ہی رکھا جائے یہ سیکولرزم کا مغربی تصور ہے جو رائج ہے۔
         ہندوستان کے حالات مختلف تھے اور ان سے نبردآزماہونے کے لیے ہمارے آئین سازوں کو سیکولرزم کے ایک متبادل تصورپر محنت کرنا پڑی۔انہوں نے دومختلف وجوہات کی بنا پر دو مختلف طریقوں سے مغربی نظریہ کو چھوڑ دیا۔

  • مذہبی گروہوں کے حقوق
  •       اوّل جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے انہوں نے مختلف سماجوں (Communities) کے درمیان مساوات کو اتنا ہی ضروری سمجھا جس قدر افراد کے درمیان مساوات کو ۔ یہ اس وجہ سے کہ ایک شخص کی آزادی اور ذاتی احترام کا براہ راست تعلق اس کی سماجی رتبہ سے ہے۔ اگر ایک سماج پر دوسرا سماج حاوی ہے تو اس کے ممبران کو آزادی بھی کم حاصل ہوگی۔ دوسری جانب اگر حاوی نہ ہوں تو رشتے مساوی ہوں گے اور وہ وقار، عزت اورآزادی سے چل سکیں گے۔ اس طرح آئین ہند تمام مذہبی فرقوں کوحقوق عطا کرتا ہے جیسے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کی آزدای کا حق۔ ہندوستان میں آزادی مذہب کے معنی افراد اور گروہ دونوں کو مذہب کی آزادی حاصل ہونا ہے۔

    pic 1 chapter 9
    میں جاننا چاہوں گی کہ بالآخرکیا مملکت مذہب سے متعلق معاملات کو باضابطہ بناتی ہے  یا نہیں؟ ورنہ، کوئی مذہبی اصلاح نہیں ہوسکتی

  • مملکت کی دخل اندازی کا اختیار
  •     دوسرے ہندوستان میں علیحدگی کے معنی باہمی علیحدگی نہیں ہوسکتے تھے۔ایسا کیوں ہے؟ کیوں کہ مذہبی طور سے جن رسوم اور رواجوں جیسے چھوت چھات کو منظوری حاصل ہو گئی ہے انھوں نے افراد کو ان کے بنیادی وقار اورنجی عزت سے محروم کیاہواتھا۔ ایسی رسوم اور ایسے رواج اتنی گہری جڑ پکڑے ہوئے تھے اور اس قدر حاوی تھے کہ مملکت کی موثر دخل اندازی کے بغیر ان کو ختم کرنے کی کوئی امید نہیں ہو سکتی تھی۔ ریاست کو سیدھے سادے طریقہ سے مذہبی معاملات میں دخل دینا پڑا۔ ایسی دخل اندازی ہمیشہ منفی نہیں ہوتی۔ اپنے مذہبی تعلیمی اداروں کے نظم و نسق کے لیے مذہبی سماجوں کو مملکت مدد بھی دے سکتی تھی۔ اس طرح آزادی اور مساوات جیسی اقدار کے فروغ کے لیے مملکت مذہبی سماجوں کی مدد کر سکتی تھی یا ان کے کام میں رکاوٹ بھی ڈال سکتی تھی۔ ہندوستان میں مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ وہ باہمی علیحدگی اختیار کریں بلکہ اصولی فاصلہ رکھیں۔یوں کہیے کہ ایک ذرا پیچیدہ نظریہ ہے جس کے مطابق ریاست تمام مذہبوں سے خود کو دوررکھتی ہے اور اس طرح وہ مداخلت سے بچ بھی سکتی ہے اور مداخلت کر بھی سکتی ہے۔
    اب تک ہم نے آئین ہند کے تین بنیادی پہلوؤں کا مطالعہ کیا۔ یہی تین پہلو ہمارے آئین کا  بہترین حاصل بھی ہیں۔

    • اول ہمارا آئین حریت پسند انفرادیت (Liberal Individualism) کی شکلوں کو مستحکم اور ان کی   از سر نو تخلیق کرتا ہے۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے کیوں کہ یہ اسے معاشرہ کے پس منظر میں حاصل کی گئی ہے جہاں سماجوں کی اقدار اکثر انفرادی آزادی کے تئیں مختلف اور مخالفانہ بھی ہیں۔
    • دوسرے ہمارا آئین انفرادی آزادی سے کوئی سمجھوتہ کیے بغیرسماجی یا معاشرتی انصاف کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ذات کی بنیاد پر مثبت قسم کے عملی منصوبہ کے تئیں آئینی پابندی ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان دوسری قوموں کے مقابلہ میں کس قدر آگے تھا۔ کیا کوئی فراموش کرسکتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ(U.S.A) میں 1964 کی شہری حقوق کی تحریک کے بعد ہی مثبت عملی منصوبے شروع کیے گئے یعنی ٹھیک بیس سال بعد جب ہندوستان کے آئین میں ان کو شامل کیا جا چکا تھا۔
    • تیسرے بین مذہبی تنازعات کے پس منظر میں ہمارا آئین گروہی حقوق کا پابند ہے۔(ثقافتی خصوصیات کے اظہار کا حق)۔ اس سے نشاند ہی ہوتی ہے کہ چالیس سال بعد منظر عام پر آنے والے نظریہ۔ کثیر ثقافیت (Multiculturalism) سے بہت پہلے ہمارے آئین ساز ان حالات کا سامنا کرنے کے اہل اور اس کے خواہاں تھے۔

    حق رائے دہی

              دو دیگر ایسی خصوصیات بھی ہیں جن کو کامیابیوں کا نام دیا جاسکتا ہے۔اول یہ کہ سب کو حق رائے دہی کے عہد کی پاسداری کوئی چھوٹی موٹی کامیابی نہیں ہے اور وہ بھی خاص طور پر ایسے ماحول میں جب کہ یہ عقیدہ پختہ ہو چکا ہو کہ مراتب کا روایتی نظام سماج میں اتنی مضبوطی سے جڑیں پھیلا چکا ہے کہ اس کا خاتمہ کم و بیش نا ممکن ہے اوردوسرے یہ کہ ووٹ کا حق مغربی جمہوریتوں میں تو بہت بعد میں دیا گیا ہے۔ 

          اعلیٰ طبقہ میں جب ایک بار ایک قوم کا نظریہ جڑ پکڑگیا تو جمہوری حکومت کا خیال بھی ساتھ آگیا۔ اس طرح ہندوستانی قومیت کا تصور معاشرہ کے ہر فرد کی مرضی پر منحصر سیاسی نظام کی حیثیت سے تشکیل پایا۔ حق رائے دہی کا تصور قومیت کے دل میں محفوظ ہے۔  ہندوستان کے پہلے غیر رسمی دستور یعنی آئین ہند بل (1895) کی ڈرافٹنگ کے وقت ہی مصنف نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہرشہری جو ہندوستان میں پیدا ہوا ہو، اس کو ملک کے معاملات میں  حصہ داری کا حق حاصل ہوگا اور اس کو عوامی عہدوں پر داخلہ حاصل ہوگا۔ موتی لعل نہروکمیٹی

    pic 21 chapter 9

    ’’ اسمبلی نے عام آدمی میں اور جمہوری کامیابی میں بہت زیادہ یقین کے ساتھ اور اس پورے اعتقاد کے ساتھ کہ حق رائے دہی بالغان کی بنیاد پر جمہوری حکومت کا تعارف فلاح کو فروغ دے گا، حق رائے دہی بالغان کا اصول اختیار کیا ہے۔‘‘

    الادی کرشنا سوامی ایئر

    .835. CAD,Vol,XI.p

            1928نے شہریت کے اس نظریہ کی دوبارہ تصدیق کی اور اس بات کو دوہرایا کہ کوئی بھی شخص چاہے اس کی جنس کوئی بھی ہو جس نے اکیس سال کی عمر پوری کر لی ہو اس کو ایوان نمائندگان یا پارلیمنٹ کے لیے حق رائے دہی حاصل ہوگا۔چنانچہ ابتدا سے ہی حق رائے دہی بالغان کو سب سے اہم اور قانونی ذریعہ تصور کیا گیا جس سے قوم کی رائے کا صحیح طریقہ سے اظہار ہو سکے۔


    pic 11 chapter 9
    یقینا یہ بات نہایت فخر کی ہے کہ ایک شخص، ایک ووٹ کا اصول بغیر کسی مقابلہ آرائی کے تسلیم کر لیا گیا ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ دوسرے بہت سے ممالک میں خواتین کو اپنے حق رائے دہی کےلیے دو جہد کرنا پڑی ہے ؟

    وفاقیت

             دوسرے جموں و کشمیر سے متعلق (دفعہ370) اور شمال مشرق سے متعلق (دفعہ371) کا تعارف کراتے ہوئے آئین ہند نے غیر متناسب وفاقیت کے نہایت اہم نظریہ کی پیشن گوئی کی۔ وفاقیت کے باب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ آئین نے ایک مضبوط مرکزی حکومت تخلیق کی ہے۔ لیکن آئین ہند کے وحدانی رحجان کے باوجود اسی وفاق میں مختلف اکائیوں کے قانونی رتبہ اور اختیارات سے متعلق آئینی اختلافات موجود ہیں۔امریکی وفاقیت کی آئینی مناسبت کے  برخاف ہندوستانی وفاقیت آئینی طور پر غیر متناسب ہے۔ بعض چھوٹی اکائیوں کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے اصلی شکل میں یہ بات ہمیشہ سے شامل تھی کہ ان کے ساتھ انوکھے رشتے قائم کیے جائیں گے یا ان کو مخصوص رتبہ دیا جائے گا۔


    pic 12 chapter 9
    میں واقعی متاثر ہوگئی ہوں۔ کون کہتا ہے کہ ہمارا آئین نقل کیا ہوا ہے؟ ہرایک لیے گئے پہلو پر ہم نے اپناممتاز نقش چھوڑا ہے۔

               دفعہ371Aکے ذریعہ شمالی مشرقی ریاست ناگالینڈ کو ایک مخصوص درجہ عطا کیاگیا۔یہ دفعہ ناگالینڈ کے حدود میں موجودہ قوانین کی  نہ صرف تصدیق و توثیق کرتی ہے بلکہ مقامی شناخت کے تحفظ کےلیےتبدیلی وطن پر پابندی عائد کرتی ہے۔ بہت سی دوسری ریاستوں کو بھی ایسی مخصوص دفعات کے ذریعہ سہولیات حاصل ہیں۔آئین ہند کے مطابق گویا اس مختلف سلوک میں کچھ بھی خراب نہیں ہے۔
               اگرچہ ابتدا میں آئین نے اس پر خاص طور سے غور نہیں کیا تھا لیکن اب ہندوستان ایک کثیرلسانی وفاق ہے اور یہاں ہربڑے لسانی گروہ کو سیاسی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور یہاں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا ہے۔ اس طرح ہندوستان کی جمہوری اور لسانی وفاقیت نے وحدت کے دعووں کو ثقافتی شناخت کے دعووں سے مربوط کرایا ہے یہاں ایک بہت بڑا اور اچھا سیاسی میدان موجود ہے جو ایسی کثیر شناختوں کے عمل کی اجازت دیتا ہے جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

    قومی شناخت

           اس طرح آئین مسلسل ایک مشترکہ قومی شناخت کی تائید کرتا ہے۔ وفاقیت کے باب میں آپ نے مطالعہ کیا کہ کس طرح ہندوستان نے علاقائی شناختوں کے ساتھ قومی شناخت کو قائم رکھنے کی جدوجہد کی۔ مندرجہ بالا بیان سے یہ بات ظاہر ہے کہ یہ مشترکہ قومی شناخت ممتازمذہبی اورلسانی شناختوں کے ساتھ ناموافق نہیں تھی۔ پھر بھی بعض حالات کے تحت ایک مشترکہ شناخت کو فوقیت دی گئی ہے ۔ آئین ہند نے مختلف شناختوں کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس بحث سے واضح ہوجاتا ہے کہ آئین نے مذہبی بنیاد پر علیحدہ حق رائے دہی کو کیوں نامنظور کر دیا تھا۔ علیحدہ رائے دہندگان کے نظریہ کو اس لیے رد نہیں کیا گیا کہ اس سے مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات بڑھ جائیں گے یا اس سے قومی اتحاد کے تصور کو خطرہ لاحق تھا بلکہ اس لیے کہ یہ صحت مند قومی زندگی کے لیے خطرہ تھا۔ جبراً اتحادقائم کرنے کی بجائے ہمارے آئین نے سچی اخوت کو فروغ دینا چاہا تھا یہی تصور اور مقصد ڈاکٹر امبیڈکر کو عزیز تھا۔ جیسا کہ سردار پٹیل نے کہا تھا کہ اس کا خاص مقصد ایک سماج(کمیونٹی) پیدا کرنا تھا۔

    pic 22 chapter 9
    ’’ لیکن آئندہ  یہ سب کے ہی مفاد میں ہوگا کہ وہ بھول جائیں اقلیت یا اکثریت اس ملک میں کوئی چیز ہے اوریہ کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی سماج (کمیونٹی) ہے۔‘‘
    سردار پٹیل 
    CAD.VOL.VIII,P.272

    ضابطہ کے حصول

    یہ وہ پانچ بنیادی خصوصیات ہیں جن کو آئین کی ذاتی کامیابیاں قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ کچھ اور کامیابیاں ہیں جو کارروائی یا ضابطوں سے متعلق کامیابیاں کہی جاسکتی ہیں۔
    اوّل آئین ہند کا یقین و اعتماد سیاسی گفتگو میں ہے۔ ہم واقف ہیں کہ بہت سے گروہوں اور بہت سے مفادات کو آئین ساز مجلس میں مناسب نمائندگی حاصل نہ ہوسکی۔لیکن آئین ساز مجلس کے اندر مباحثے واضح کرتے ہیں کہ آئین ساز چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیاد ہ لوگوں کی نمائندگی اس میں شامل ہو۔ ان کا یہ کھلا طریق کارلوگوں کی اس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ اپنی موجودہ ترجیحات میں تبدیلی کریں اور اپنی ذاتی اغراض کے بالمقابل استدلال اور عقل کے ذریعے نتائج کی توجیہ کریں ۔یہ ان کی اس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ نااتفاقی اور اختلافات میں بھی ایک تخلیقی قدر کی شناخت کے خواہاں تھے۔
    دوسرے اس سے ایک ہم آہنگی اور مصالحت پسندی بھی جھلکتی ہے۔ ان الفاظ یعنی مصالحت پسندی اور ہم آہنگی کو ہمیشہ نا منظوری کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ تمام مصالحتیں خراب نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی قیمتی شے محض ذاتی مفاد کےلیے فروخت کردی جاتی ہے تب ہم مصالحت پسندی کو برا سمجھ سکتے ہیں اور یہ قدرتی ہوگا۔ لیکن اگر ایک قیمتی شے کا کچھ حصہ دوسری قیمتی شے کے کچھ حصہ سے خاص طور سے آزاد اور باہمی گفتگو کے ذریعہ اور مساوات کی بنا پر بدل لیاجاتا ہے۔ اس طریقہ سے مصالحت پسندی پر شاید ہی اعتراض کیا جائے اور اس پر اخلاقی الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کے علاوہ ، اس خیال کی بھی ستائش کی جانی چاہیے جس کے تحت تمام اہم مسائل اور موضوعات پرطویل گفتگو کے بعد اتفاق رائے سے فیصلے لیے گئے۔

    pic 13 chapter 9

    اداروں کی تشکیل میں مصالحت پسندی کو میں سمجھتا ہوں لیکن متنازع اصولوں کو کیسے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے؟

    تنقید

    آئین ہند پر بہت سی تنقیدیں کی جا سکتی ہیں جس میں سے تین کا مختصر ذکر یہاں کیا جاسکتا ہے۔اول ،یہ بہت ضخیم ہے۔دوسرے یہ کہ یہ سب کی نمائندگی نہیں ہے اور تیسرے یہ کہ ہمارے حالات سے اجنبی ہے۔
               یہ تنقید کہ یہ ضخیم ہے اس بے ہنگم مفروضے پر مبنی ہے کہ کسی ملک کا پورا آئین ایک مکمل دستاویز کی شکل میں ملنا چاہیے۔ لیکن یہ بات توامریکہ جیسے ممالک کے سلسلہ میں سچ نہیں ہے۔  جن کا ایک جامع آئین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ملک کے آئین کی شناخت ایک جامع دستاویز کی حیثیت ہونی چاہیے اور دیگر تحریری دستاویزوں کے ساتھ آئینی حیثیت سے شناخت ہونی چاہیے۔اس طرح آئین بیانات اور طور طریقوں کو کسی جامع دستاویز کے باہر پانا ممکن ہے۔ ہندوستان کے معاملے میں ایسی بہت سی تفصیلات طور طریقے اوربیانات ایک واحد دستاویز میں شامل ہیں اور اس چیز نے دستاویز کو جسامت میں ضخیم بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر بہت سے ممالک انتخابی کمیشن یا سول سروس کمیشن سے متعلق طویل دفعات کو آئین میں تحریر نہیں کرتے۔لیکن ہندوستان میں ایسے تمام معاملات پر خود آئین توجہ دیتا ہے۔
             آئین پر دوسری تنقیدیہ کی جاتی ہے کہ یہ پوری طرح سے نمائندگی نہیں کرتا۔کیا آپ کو یاد ہے کہ آئین ساز اسمبلی کیسے بنائی گئی تھی؟ اس وقت حق رائے دہی بالغان نہیں دیا گیا تھا اور زیادہ تر ممبران ترقی یا فتہ معاشرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کیا یہی بات ہمارے آئین کو غیر نمائندہ بناتی ہے۔

    pic 11 chapter 9
    یقینا ! کیا ہم نے پہلے باب میں یہی نہیں پڑھا؟ معاشرہ کے ہر طریقہ کے پاس ، اس کی پیروی کےلیے ایک ٹھوس وجہ ہونی چاہیے


            یہاں ہمیں نمائندگی کے دو ارکان کے درمیان امتیاز کرنا ہوگا۔ ایک آواز اور دوسرے رائے۔ نمائندگی میں آواز بہت اہم ہے۔لوگوں کی اپنی زبان یا آواز میں شناخت ہونی چاہیے نہ کہ حکمرانوں کی آواز میں۔ اگر ہم اس زاویہ سے آئین ہند کو دیکھیں تو یہ واقعی غیر نمائندہ ہے کیونکہ آئین ساز مجلس کے ممبران کاانتخاب، محدود حق رائے دہی کی بنا پر ہوا تھا عام حق رائے د ہی بالغان کی بنا پر نہیں۔البتہ، اگر ہم دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو ہم پائیں گے کہ یہ مکمل طریقہ سے غیر نمائندہ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ کہ آئین ساز اسمبلی میں ہر قسم کی رائے کو نمائندگی حاصل ہومبالغہ آرائی ہوگی لیکن اس میں کچھ سچ بھی ہے ۔آئین ساز مجلس میں ہوئے مباحثوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان میں وسیع قسم کے مسائل اور رائے کا ذکرملتا ہے۔ ممبران نے نہ صرف ذاتی معاشرتی اہمیت کے امور کو اٹھایا بلکہ بہت سے مختلف معاشرتی طبقات کے مفادات اور مسائل پر بھی بحث کی۔
              کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر دوسرے شہر کے چوراہے پرڈاکٹرامبیڈکر کا مجسمہ لگا ہوا ہے۔ جس کے ہاتھوں میں آئین ہند کی نقل ہے۔ ان کے احترام میں نشانی سے بہت دور ، یہ دلتوں کے اس احساس کا اظہار بھی کرتا ہے کہ آئین ہند میں ان کی بہت سی آرزوؤں کا عکس پیش ہے۔
              ایک آخری تنقیدیہ کی جاتی ہے کہ آئین ہند پورے طریقہ سے اجنبی ہے۔ دفعات کی دفعات غیر ملکی آئینوں سے اخذکی گئی ہیں اور یہ آئین ہندوستانی عوام کی ثقافتی خصوصیات کوپیش نہیں کرتا۔ بہت سے لوگ یہ تنقید کرتے ہیں یہاں تک کہ خود آئین ساز مجلس میں بہت سی آوازیں اسی طرح کی اٹھتی ہیں۔
             یہ درست ہے کہ آئین ہند جدید ہے اور کچھ حد تک مغربی بھی ۔کیا آپ کویاد ہے کہ ہم نے پہلے باب میں ان ذرائع کی فہرست دی تھی جہاں سے آئین ہنداخذ کیا گیا ہے؟ لیکن اس باب میں آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ یہ اندھی نقل نہیں تھی۔ یہ تخلیقی قرض ہے۔اس کے علاوہ ہم دیکھیں گے کہ یہ بالکل اجنبی نہیں ہے۔

    ’’۔۔۔۔۔ہم وینا یا ستار کی موسیقی خواہاں تھے لیکن یہاں ہمیں انگریزی بینڈ کی موسیقی ملی۔ کیونکہ ہمارے آئین سازوں نے اس کی تعلیم حاصل کی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بالکل ٹھیک یہی آئین کے متعلق بات ہے جو مہاتما گاندھی نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی اس پر انہوں نے غور کیا۔‘‘  کے۔ہنومن تھیا۔

             اوّل یہ کہ بہت سے ہندوستانی فکر کے جدید طریقے اختیار کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن انہوں نے ان کو اپنا لیا۔ ان کی اپنی روایات میں گندگی کے خلاف احتجاج کی شکل ظاہر ہوئی۔ راجہ رام موہن رائے نے اس رحجان کی ابتدا کی اور وہ آج تک دلتوں کے ذریعہ جاری ہے۔ درحقیقت 1841 میں ہی اس بات پر  غور کیا گیا کہ شمالی ہند کے دلت اس بات سے خوف زدہ نہیں تھے کہ نئے نافذ کردہ قانونی نظام کا استعمال کریں اور اپنے ہی زمینداروں کے خلاف مقدمے دائر کریں۔لہٰذا اس نئے قانونی نظام کو عوام نے وقار اور  انصاف کے مسائل سمجھانے کے لیے موثر طریقہ سے استعمال کیا۔
             دوسرے جب مغربی جدیدیت مقامی ثقافتی نظام کے ساتھ رابطہ میں آئی تو ایک تکثیری ثقافت ابھرنے لگی۔ممکن ہے تخلیقی تواقف پذیری کی وجہ سے ایسا ہوا جس کے لیے نہ مغربی جدیدیت میں گنجائش تھی اور نہ ہی مقامی روایات میں۔مشرقی معاشروں میں ایک نئی قسم کی جدیدیت پیدا ہورہی تھی۔ یہ معاشرے نہ صرف اپنے ماضی کی روایات سے ناطہ توڑ رہے تھے بلکہ مغربی معاشرہ کی ایک مخصوص تہذیب سے بھی چھٹکاراپانا چاہتے تھے جو ان معاشروں پر جبراً تھوپی گئی تھی ۔یہ ایک عمل تھا جس میں کوئی چیز قرض نہیں لی گئی بلکہ چیزوں کواپنے حالات اور ضروریات کے مطابق ڈھالا جا رہا تھا۔

     
    pic 12 chapter 9
    کوئی دستاویز مکمل نہیں ہوسکتی۔کوئی میعار ومقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتے۔ لیکن کیا اس کے معنی ہیں کہ ہمارے کوئی میعار نہ ہوں؟ کوئی بصیرت نہ ہو؟ کیا میں صحیح ہوں؟

    بندشیں

         کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آئین ہند ایک مکمل اور بے نقص دستاویز ہے ۔ جن معاشرتی حالات میں آئین کی تشکیل ہوئی وہاں یہ قدرتی بات رہی ہوگی کہ بہت سے متنازع مسئلے اٹھائے گئے ہوں گے اور بہت سے ایسے معاملات ہوں گے جن پرزیادہ احتیاط سے غور و فکر ہونا تھا۔ اس آئین کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جو اس ناگہانی وقت کی ضروریات کا نتیجہ ہیں۔ تاہم، ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اس آئین پر بہت سی بندشیں لگائی گئی ہیں ۔ آئیے ان بندشوں کا مختصر طور پرذکر کریں۔
    • اول آئین میں قومی اتحاد کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
    • دوسرے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئین نے جنسی انصاف کے بعض اہم مسائل خاص طور سے خاندان کے اندرونی انصاف کواجاگر کیا ہے۔
    • تیسرے یہ واضح نہیں ہے کہ ایک غیرترقی پذیر ملک میں بعض بنیادی اور نہایت اہم معاشرتی اور اقتصادی حقوق کو بنیادی حقوق کامستقل حصہ بنانے کے بجائے مملکت کے رہنما اصولوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
    ان بندشوں کے متعلق جواب دینا ممکن ہے۔ یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ یہاں تک کہ ان پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔لیکن یہ ہمارا نقطۂ نظر نہیں ہے ۔ ہم اس بات پر بحث کر ر ے ہیں کہ ان بندشوں سے فلسفہ آئین کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

    اختتام 

    گذشتہ باب میں ہم نے آئین بحیثیت ایک زندہ دستاویز کا بیان کیا۔یہ آئین کی وہ  بنیادی خصوصیات ہیں جو اس کو ایک زندہ دستاویز کا رتبہ عطا کرتی ہیں۔ قانونی دفعات اور اداراتی انتظامات کا انحصار معاشرہ کی ضروریات اور اس کے ذریعہ اختیار کردہ فلسفہ پر ہوتا ہے۔آئین اس فلسفہ کو اظہار دیتا ہے ۔اداراتی انتظامات جن کا مطالعہ ہم نے اس پوری کتاب میں کیا ان کا انحصار ایک بنیادی اور اتفاق رائے سے تسلیم کردہ بصیرت پر ہوتا ہے۔ اس بصیرت نے قومی تحریک کی جدوجہد کے دوران فروغ حاصل کیا۔ آئین ساز مجلس کے پلیٹ فارم پر اس بصیرت کو پیش کیا گیا۔بہترسے بہتر بنایا گیا اور اس کو قانونی اور اداراتی شکل دی گئی۔ گویاآئین اس بصیرت کا جسم بن گیا۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ اس بصیرت یا فلسفہ آئین کا بہترین اختصار آئین کی تمہید میں موجود ہے۔
            کیا آپ نے اس تمہید کا غور سے مطالعہ کیا ؟ اس میں مذکور مختلف مقاصد کے علاوہ تمہید ایک نہایت عاجزانہ دعویٰ کرتی ہے: عظیم لوگوں کے ذریعہ یہ آئین عوام کو دیا نہیں گیا ہے، یہ تیار کیا گیا ہے اور اس کو ہم نے’’ ہندوستان کے عوام ‘‘ نے اختیار کیا ہے گویا عوام نے اپنی تقدیر خود تحریر کی ہے اور جمہوریت ایک ذریعہ ہے جس کو اپنا ’’آج‘‘ اور مستقبل بنانے کے لیے استعمال کیاگیا۔آئین کا مسودہ تیار کرنے کی پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ بعد تک ہم نے بہت سے معاملات میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ، ہم نے مشاہدہ کیا کہ آئین کی بہت سی تشریحات پر عدالتوں اور حکومتوں کے درمیان اختلاف رائے ہوا، مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختلاف رائے رہے اور سیاسی جماعتوں نے تلخ ترین لڑائی۔ آپ اگلے سال مطالعہ کریں گے کہ ہمارے ملک کی سیاست مسائل اور خامیوں سے بھری پڑی ہے۔اور پھر بھی اگر آپ کسی سیاست داں یا ایک عام شہری سے سوال کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر شخص اس وژن اور اس مقصد میں حصہ داری جاری رکھناچاہتا ہے جو ہمارے آئین میں موجود ہے۔ لوگ مساوات، آزادی اور اخوت کے اصولوں پرایک ساتھ رہنا اور خوش حالی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وژن میں یہ شرکت یا آئین کے فلسفہ میں حصہ داری دراصل ہمارے آئین کی تعمیل کا نتیجہ ہے۔1950 میں آئین سازی ایک عظیم مقصد تھا۔آج آئین کے فلسفیانہ وژن کو زندہ رکھنا ہمارا سب سے اعلیٰ مقصد ہے۔

    مشق 

    ذیل میں بعض قوانین درج کیے گئے ہیں۔ کیا وہ کسی قدر یا معیار سے وابستہ ہیں؟ اگر ہاں تو اس کے پس پردہ کون سی قدر ہے؟ وجوہات بیان کیجیے:
    (a) بیٹے اور بیٹیاں دونوں کو خاندانی جائداد میں حصہ حاصل ہوگا۔
    (b) مختلف صارف سامان پر ٹیکس کے الگ الگ پیمانے ہوں گے۔
    (c) کسی سرکاری اسکول میں مذہبی تعلیمات نہیں دی جا ئیں گی۔
    (d) ’بیگار‘ یا جبراً مزدوری نہیں ہوگی۔
    نیچے دئے گئے بیان کو مکمل کرنے کے لیے ان میں سے کون سی بات کو استعمال نہیں کیا جائے گا:
    جمہوری ممالک کو آئین کی ضرورت ہوتی ہے۔
    (i) حکومت کے اختیارات کو چیک کرنے کے لیے۔
    (ii) اقلیتوں کو اکثریت سے محفوظ رکھنے کے لیے۔
    (iii) نو آبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے۔
    (iv) یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وقتی جذبات میں دیرپا وژن کھونہ جائے۔
    (v)            پرامن طریقہ سے معاشرتی تبدیلی لانے کے لیے۔
    آئین ساز مجلس کے مباحثوں کا مطالعہ کرنے اور سمجھنے کے لیے مختلف نقطہ نظر درج ذیل ہیں:
    (i) ان میں سے کون سا اس بات کی دلیل ہے کہ قانون سا زاسمبلی کے مباحثے آج بھی اہمیت رکھتے ہیں؟
    (ii) ان میں سے کس نقطہ نظر سے آپ اختلاف رکھتے ہیں اور کیوں؟
    (a) عام لوگ روزگار اور روزمرہ کے مختلف دباؤ کا سامنا کرنے میں بہت زیادہ مصروف ہیں۔ وہ ان مباحثوں کی قانونی زبان نہیں سمجھ سکتے۔
    (b) جب آئین کی تشکیل ہوئی تو اس وقت کے حالات اور تقاضوں اور موجودہ دور کے حالات اور تقاضوں میں بہت فرق ہے۔ آئین سازوں کے خیالات کو سمجھنا اورموجودہ وقت کے لیے ان کو استعمال کرنا ایسا ہی ہے کہ ماضی کو جدید دور میں لے آئیں۔
    (c) دنیا اور جدید تقاضوں کو سمجھنے کے ہمارے طریقے بالکل نہیں تبدیل ہوئے ہیں۔آئین ساز مجلس کے مباحثوں سے ہمیں وہ دلائل حاصل ہوسکتے ہیں کہ بعض عمل اب بھی اہم ہیں۔ایک ایسے دور میں جہاں آئینی عمل کو چیلنج کیا جا رہا ہے ان کی درپردہ وجوہات کو اہمیت نہ دے کرہم ان کو تباہ کر سکتے ہیں۔
    درج ذیل کی روشنی میں آئین ہند اور مغربی تصورات کے فرق کی تفصیل بیان کیجیے:
    (a) سیکولرزم کو سمجھنا (b) دفعہ370اور371 (c) مثبت عمل (d) حق رائے دہی بالغاں
    درج ذیل میں سے سیکولرزم کے کون سے اصول ، آئین ہند میں اختیار کیے گئے ہیں؟
    (a)ریاست کو مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔
    (b)  ریاست مذہب سے گہرا رابطہ قائم کرے گی۔
    (c)  ریاست مذہب کے درمیان تفریق کرسکتی ہے۔
    (d)  ریاست مذہبی گروہوں کے حقوق تسلیم کرے گی۔
    (d)  ریاست مذہب کے معاملات میں محدود دخل اندازی کا حق رکھے گی۔

    درج ذیل کو ملائیے

    (a)  بیواؤں کے ساتھ سلوک پر تنقید کرنے کی آزادی (i)  مستقل کامیابی
    (b) آئین ساز اسمبلی میں فیصلے لینا ذاتی مفاد کی بنا پر نہیں بلکہ دلیل کی بنا  (ii)  ضابطہ کی کامیابی
    (c)  فرد کی زندگی میں سماج کی اہمیت قبول کرنا (iii) جنسی انصاف سے انکار
    (d)   دفعہ370اور 371 (iv)  حریت پسند انفرادیت
    (e) خاندانی جائداد اور بچوں سے متعلق خواتین کو مساوی حقوق نہ دینا (v) کسی مخصوص علاقہ کی ضرورتوں پر توجہ


    یہ بحث ایک کلاس میں ہوئی۔ مختلف دلیلوں کو پڑھیے اور بتائیے ان میں سے کس سے آپ اتفاق کرتے ہیں اور کیوں؟
    جیش: میرا اب بھی یہ خیال ہے کہ ہمارا آئین دوسروں سے لیا ہوا ہے۔
    صبا: کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اس میں کچھ بھی ہندوستانی نہیں ہے؟ لیکن کیا اقدار اور خیالات میں بھی کچھ ہندوستانی یا مغربی ہوتاہے؟ مرد اور خواتین کے درمیان مساوات کو ہی لیجیے۔ اس میں کیا چیز مغربی ہے؟اور اگر کچھ ہے بھی تو کیا ہم اس کو صرف اس لیے رد کردیں کہ وہ مغربی ہے۔
    جیش: میرایہ مطلب ہے کہ برطانیہ سے آزادی کے لیے لڑائی کرنے کے بعد ہم نے انہیں کے پارلیما نی نظام کو کیوں اختیار کیا؟
    نیہا: تم بھول گئے ہو کہ جب ہم نے برطانیہ سے لڑائی کی تو ہم برطانیہ کے خلاف نہیں تھے۔ ہم نو آبادیات کے اصول کے خلاف تھے۔ اس بات کا ایک نظام حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں جو ہم چاہتے تھے، خواہ وہ کہیں سے آیا ہو۔ 
    یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ آئین ہند پوری طرح سے نمائندگی نہیں کرتا؟ کیا اس طرح یہ آئین غیر نمائندہ آئین ہے؟ اپنے جواب وجوہات کے ساتھ دیجیے۔
    آئین ہند کی بندشوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے جنسی انصاف پراچھی طرح توجہ نہیں دی۔ اس الزام کے حق میں آپ کیا شہادت پیش کر سکتے ہیں؟ اگر آج آپ آئین ہند تحریر کریں تو اس خامی کو پورا کرنے  کے لیے کون سی دفعات شامل کریں گے؟
    10۔ کیا آپ اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’’ ایک غریب ترقی پذیر ملک میں سماجی ،اقتصادی حقوق کو بنیادی حقوق بنانے کے بجائے ریاست کے رہنما اصول کی فہرست میں کیوں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں‘‘ اپنے جواب کے حق میں دلیل دیجیے۔ آپ کا خیال ہے کہ معاشرتی واقتصادی حقوق کو ہدایتی اصولوں کے حصہ میں کیوں رکھا گیا اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟