باب 10
آئین کا فلسفہ
تمہید
اس کتاب میں اب تک آپ نے ہمارے آئین کی کچھ اہم دفعات کا مطالعہ کیا ہے ا وریہ بھی مطالعہ کیا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں ان دفعات کی کیا عملی حیثیت رہی ہے۔ہم نے اس طریقہ کا مطالعہ بھی کیا جس کے ذریعہ آئین کی تشکیل ہوئی۔ لیکن کیا کبھی آپ نے خود سے یہ سوال پوچھا کہ قومی تحریک کی قیادت نے برطانوی حکمرانی سے آزادی کے بعد ایک ایسے آئین کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ انہوں نے خود کو اور آنے والی نسلوں کوآئین کے رشتہ میں کیوں باندھ دیا؟ اس کتاب میں آپ نے آئین ساز اسمبلی میں ہوئے بحث ومباحثوں کو سنا یا دیکھا ہوگا۔لیکن یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ آئین کے مطالعہ کا آئین ساز اسمبلی میں ہوئے مباحثوں کے تجربہ سے باہمی رشتہ کیا ہے؟ اسی سوال پر موجودہ باب میں بحث ہوگی۔دوسرے یہ سوال پوچھنا بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم نے خود کو کس قسم کا آئین دیا ہے؟ اس کے ذریعہ ہم کون سے مقاصد حاصل کرنے کی توقع رکھتے تھے؟ کیا ان مقاصد کا کوئی اخلاقی مفہوم ہے؟ اگر ہے تو وہ بعینہ کیا ہے؟ اس سیاسی وژن کی مضبوطی اور کمیاں کیا ہیں اور ضمناً آئین کی کامیابیاں اورکمزوریاں کیا ہیں؟
ایسا کرنے میں ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئین کا فلسفہ کیا ہے۔
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ سمجھنے کے قابل ہوں گے:
- فلسفۂ آئین کا مطالعہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؛
- آئین ہند کی اصل خصوصیات کیا ہیں؛
- آئین پر کیا تنقیدیں ہوئی ہیں؛ اور
- آئین کی خامیاں کیا ہیں۔
فلسفہ ٔآئین کے کیا معنی ہیں؟
- اول ہمیں آئین کے نظریاتی ڈھانچہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟اس کے معنی ہیں کہ ہمیں اس طرح کے سوال پوچھنے چاہئیں: جیسے۔آئین میں استعمال کیے گئے الفاظ ’’حقوق‘‘، ’’شہریت‘‘، ’’اقلیت‘‘ کے ممکنہ معنی کیا ہیں؟
- مزید یہ کہ، ہمیں آئین کے بنیادی نظریات کی تشریح پر بنے معاشرہ اور مملکت کے ایک جامع تصور کا خاکہ تیار کرنا چاہیے۔ آئین میں مضبوطی سے جمے ہوئے معیاروں کے مجموعہ پر ہماری بہتر گرفت ہونی چاہیے۔
- ہمارا آخری نکتہ ہے آئین ہند کا مطالعہ آئین ساز اسمبلی میں ہوئے مباحثوں کے تناظر میں کرنا چاہیے تاکہ ایک اعلی وارفع نظریاتی سطح تک پہونچا جاسکے اور آئین میں مضبوطی سے جمی ہوئی اقدار کو حق بجانب قرار دیا جاسکے۔ کسی قدر(Value) کی فلسفیانہ اساس اس وقت تک نا مکمل ہے جب تک اس کا تفصیلی جوازپیش نہ کیا جائے۔
1947کا جاپانی آئین، ’’آئین‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے۔ اس کی تمہید کہتی ہے کہ ’’ہم جاپانی عوام ہر دور میں امن کے خواہاں ہیں اور انسانی رشتوں کو گرفت میں رکھنے والے اعلیٰ معیاروں کے تئیں گہرا شعور رکھتے ہیں۔‘‘
گویا جاپانی آئین کے فلسفہ کی بنیاد امن کے معیار پر قائم ہے۔جاپانی آئین کی دفعہ9کہتی ہے:
(1) امن وانصاف پر بنی بین الاقوامی امن کے تئیں سنجیدگی سے خواہاں،جاپانی عوام ، ہمیشہ کےلیے، جنگ کو کسی قوم کے مقتدرانہ حق یا بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کےلیے طاقت کی دھمکی یا استعمال سے دست بردار ہوتے ہیں۔
(2) مذکورہ بالا مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے، بری، بحری اور ہوائی فوجیں کبھی قائم نہیں کی جا ئیں گی۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئین سازی کا پس منظر کس طرح ٰآئین سازوں کے ذہن پر حاوی ہے۔
آئین بحیثیت جمہوری تبدیلی کا ذریعہ
ہمیں آئین ساز اسمبلی میں پھر واپسی کی ضرورت کیوں ہے؟
سر گرمی
آئین ساز اسمبلی سے اخذ کیے گئے مقولوں (CAD)کا دوبارہ مطالعہ کیجیے یہ مقولے درج ذیل ابواب میں دیے گئے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ان مقولوں میں دی گئی دلیلیں ہمارے موجودہ دور کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں؟ کیوں؟
(i)۔باب دوئم میں مقولے
(ii)۔باب ہفتم میں مقولے
ایک کارٹون پڑھیے
ہمارے آئین کاسیاسی فلسفہ کیا ہے؟
انفرادی آزادی
معاشرتی انصاف
اپنی معلومات چیک کیجیے
بتائیے درج ذیل میں سے کون سے حقوق انفرادی آزادی کا حصہ ہیں:
- آزادی اظہار
- آزادی مذہب
- اقلیتوں کے ثقافتی تعلیمی حقوق
- عام مقامات تک مساوی رسائی
ہندوستانی حریت پسندی کے دو سرچشمے ہیں۔ ایک سرچشمہ راجہ رام موہن رائے سے شروع ہوا۔ انہوں نے انفرادی حقوق اور خاص طور پر خواتین کے حقوق پر زور دیا۔ دوسرے سرچشمہ میں کے۔سی۔سین، جسٹس راناڈے اور وویکا نند جیسے مفکرین شامل تھے ۔انہوں نے قدامت پرست ہندومت میں معاشرتی انصاف کی روح پھونکی۔ ہندومعاشرہ کی ایسی تعمیرحریت پسندانہ اصولوں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔کے۔ایم۔پانیکر ’’حریت پسندی کے دفاع میں‘‘ بمبئی، ایشیا پبلشنگ ہاؤس،1962
تنوع اور اقلیتی حقوق کے تئیں احترام
سیکولرزم
- اول ہمارا آئین حریت پسند انفرادیت (Liberal Individualism) کی شکلوں کو مستحکم اور ان کی از سر نو تخلیق کرتا ہے۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے کیوں کہ یہ اسے معاشرہ کے پس منظر میں حاصل کی گئی ہے جہاں سماجوں کی اقدار اکثر انفرادی آزادی کے تئیں مختلف اور مخالفانہ بھی ہیں۔
- دوسرے ہمارا آئین انفرادی آزادی سے کوئی سمجھوتہ کیے بغیرسماجی یا معاشرتی انصاف کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ذات کی بنیاد پر مثبت قسم کے عملی منصوبہ کے تئیں آئینی پابندی ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان دوسری قوموں کے مقابلہ میں کس قدر آگے تھا۔ کیا کوئی فراموش کرسکتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ(U.S.A) میں 1964 کی شہری حقوق کی تحریک کے بعد ہی مثبت عملی منصوبے شروع کیے گئے یعنی ٹھیک بیس سال بعد جب ہندوستان کے آئین میں ان کو شامل کیا جا چکا تھا۔
- تیسرے بین مذہبی تنازعات کے پس منظر میں ہمارا آئین گروہی حقوق کا پابند ہے۔(ثقافتی خصوصیات کے اظہار کا حق)۔ اس سے نشاند ہی ہوتی ہے کہ چالیس سال بعد منظر عام پر آنے والے نظریہ۔ کثیر ثقافیت (Multiculturalism) سے بہت پہلے ہمارے آئین ساز ان حالات کا سامنا کرنے کے اہل اور اس کے خواہاں تھے۔
حق رائے دہی
الادی کرشنا سوامی ایئر
.835. CAD,Vol,XI.p
وفاقیت
قومی شناخت
ضابطہ کے حصول
تنقید
بندشیں
- اول آئین میں قومی اتحاد کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
- دوسرے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئین نے جنسی انصاف کے بعض اہم مسائل خاص طور سے خاندان کے اندرونی انصاف کواجاگر کیا ہے۔
- تیسرے یہ واضح نہیں ہے کہ ایک غیرترقی پذیر ملک میں بعض بنیادی اور نہایت اہم معاشرتی اور اقتصادی حقوق کو بنیادی حقوق کامستقل حصہ بنانے کے بجائے مملکت کے رہنما اصولوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
اختتام
مشق
6۔ درج ذیل کو ملائیے
| (a) بیواؤں کے ساتھ سلوک پر تنقید کرنے کی آزادی | (i) مستقل کامیابی |
| (b) آئین ساز اسمبلی میں فیصلے لینا ذاتی مفاد کی بنا پر نہیں بلکہ دلیل کی بنا | (ii) ضابطہ کی کامیابی |
| (c) فرد کی زندگی میں سماج کی اہمیت قبول کرنا | (iii) جنسی انصاف سے انکار |
| (d) دفعہ370اور 371 | (iv) حریت پسند انفرادیت |
| (e) خاندانی جائداد اور بچوں سے متعلق خواتین کو مساوی حقوق نہ دینا | (v) کسی مخصوص علاقہ کی ضرورتوں پر توجہ |