Skip to content
Keemiyan II

پہلاباب

سیاسی نظریہ ۔ ایک تعارف


(کاش ہم ان چیزوں کا مطالعہ کرتے جن کا تعلق ہم سے ہے)

( ایک اور کتاب یاد کرنے کے لیے )

( انتظار کیجیے اور دیکھیے ۔ یہ جماعت کچھ مختلف ہوگی۔ ذرا صفحہ آٹھ پر الٹ کر دیکھیے سقراط کے متعلق باکس میں پڑھیے )

(ہمیں نہیں معلوم لیکن اس نے دوسروں کی نظر میں پائی جانے والی بے ربطی اور اختلافات کو جس طریقے سے اجاگر کیا ہے وہ طریقہ کار مجھے پسند ہے)

یہ تو واقعی الگ ہے 
یہ سقراط کون ہے؟

tempsnip

انسان دو اعتبار سے منفرد ہے۔ ایک تو اس کے پاس عقل ہوتی ہے اور دوسرے وہ اپنے عمل پرغور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے پاس قوت گویائی بھی ہے جس سے وہ دوسرں سے بات چیت کر سکتا ہے۔ وہ دیگر مخلوقات کے برخلاف اپنے انتہائی اندرونی خیالات اور خواہشات کا اظہار کر سکتا ہے، نیز ان خیالات و افکار کا اظہار کر سکتا ہے اوراس پر تبادلۂ خیال کر سکتا ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا مطلوب ہے۔ سیاسی نظریہ کی جڑیں دراصل مذکورہ دونوں انسانی پہلووں میں پنہاں ہیں۔ یہ مخصوص بنیادی سوالات کا تجزیہ کرتا ہے‘ جیسے :سماج کو کس طرح منظم کیا جائے؟ ہمیں حکومت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ حکومت کی بہترین شکل کون سی ہے؟ کیا قانون ہماری آزادی کو محدود کرتا ہے؟ شہریوں کے تئیں ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ بحیثیت شہری ایک دوسرے کے تئیں ہماری ذمہ داریاں اور فرائض کیا ہیں ؟ 
سیاسی نظریہ اس نوعیت کے سوالات کا تجزیہ کرتا ہے اورجیسی سیاسی زندگی کی قدروں، آزادی ، مساوات اور انصاف کے بارے میں منظم انداز میں غور و فکر کرتا ہے۔ یہ مذکورہ نظریات اور متعلقہ تصورات کے معنی و مفہوم اور ان کی اہمیت اجاگر کرتاہے۔یہ موجودہ اور ماــضی کے بعض اہم سیاسی مفکّروں کے حوالے سے ان تصورات کی موجودہ تعریفوں کی وضاحت پیش کرتا ہے ۔ ہماری شرکت والے روز مرہ کے اداروں سے جیسے اسکول، دکان، آمدورفت کی سہولیات (بس، ٹرین) اور سرکاری دفاتر وغیرہ میں آزادی یا مساوات کی موجودگی کی سطح کاجائزہ لیتا ہے۔ یہ اعلیٰ سطح پر دیکھتا ہے کہ کیا موجودہ تعبیریں کافی ہیں اور موجودہ اداروں،(حکومت،نوکرشاہی )اوراسکی پالیسیوں کو مزید جمہوری بنانے کے لیے کس طرح کی تبدیلیاں کی جائیں۔ سیاسی نظریے کا مقصد ‘ شہریوں کو سیاسی سوالات کے بارے میں منطقی انداز میں غور و فکر کرنے اور حالیہ سیاسی واقعات کے تجزیہ لینے کی تربیت دیتا ہے۔
اس باب میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ سیاست اورسیاسی نظریہ سے کیا مراد ہے اور ہمیں اس کا مطالعہ کیوں کرنا چاہیے۔

 آئیے اس پربحث کریں سیاست کیا ہے

1.1  سیاست کیا ہے؟ (What is Politics)

آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگ سیاست کے بارے میں مختلف خیالات اور رائے رکھتے ہیں۔ سیاسی قائدین انتخابات لڑنے والے اور سیاسی عہدیداران، یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاست ایک طرح سے عوام کی خدمت ہے۔بعض کے نزدیک سیاست مفادات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے سیاسی داؤ  پینچ اور ریشہ دوانیوں یا سازشوں کا دوسرا نام ہے۔ جبکہ چند لوگوں کی رائے میں سیاست وہی ہے جو سیاست داں کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص‘ سیاستدانوں کو پارٹیاں بدلتے ہوئے‘ جھوٹے وعدے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے ‘ مختلف طبقات سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے سنگ دلی سے ذاتی اور گروہی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اور حدتویہ ہے کہ جرم کا سہارا لیتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ ایسی سیاست کو بدعنوانیوں اور اسکنڈلوں سے موسوم کرتا ہے۔ اس طرح سے سوچنے کا چلن آج اس قدر عام ہوگیاہے کہ جب ہم زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے ہر 
جائز و نا جائز طریقہ اختیار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ جناب سیاست کر رہے ہیں۔اگر ہم کسی کرکٹ کھلاڑی کو ٹیم میں جگہ بنائے رکھنے کے لیے جوڑ توڑ کرتے ہوئے یا کسی ساتھی طالب علم کو اپنے والد کی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یا کسی دفتر میں کام کرنے والے ساتھی کو اپنے افسر کی ہر بات میں جی حضوری کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں وہ ’گندی سیاست‘ کر رہا ہے  یا کر رہی ہے۔ خودغرضی کی اس روش سے بدظن ہو کر ہم سیاست سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ’مجھے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ یا ’میں سیاست سے دور ہی رہوں گا یا رہوں گی‘،سیاست سے صرف عام آدمی ہی نہیں بلکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے اور سیاسی جماعت کو چندہ دینے والے بڑے بڑے تاجر اور صنعت کار حضرات بھی آئے دن اپنی مشکلات کے لیے سیاست کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ فلم اداکار بھی اکثر و بیش تر سیاست کی تنقید کرتے ہیں ‘یہ الگ بات ہے کہ ایک بار اس کھیل میں شامل ہو جانے کے بعد وہ خود کو اس کے عین مطابق ڈھال لیتے ہیں۔
چنانچہ آئے دن ہمیں سیاست کے متنازعہ پہلوؤں کا سامنا ہوتا ہے۔ کیا سیاست ایک نا پسندیدہ سرگرمی ہے جس سے ہمیں دور ہی رہنا چاہیے اور اس سے حتی الامکان پیچھا چھڑانا چاہیے؟ یا یہ کہ سیاست ایک مفید سرگرمی ہے جس میں ہمیں دنیا کومزید بہتربنانےکے لیے شامل ہوجانا چاہیے؟



5182-3

کارٹون ۔R. K. Laxman

آپ کو سیاست سے فوراً توبہ کرلینی چاہئے۔آپ کی سرگرمیوں کا اس پر برا اثر مرتب ہو رہا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر وہ صاف بچ سکتا ہے




 بدقسمتی سے کسی بھی طریقے سے ذاتی مفادکے حصول  کا دوسرا نام سیاست قرار دے دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست کسی بھی سماج کا ایک اہم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ مہاتماگاندھی نے بھی ایک موقعے پر کہا تھاکہ ’سیاست نے ہمیں سانپ کی کنڈلی کی طرح سے جکڑلیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کا راستہ صرف یہی ہے کہ اس سے نبرد آزما ہوا جائے۔‘

اخبارکا مطالعہ کریں۔کون سی خبر سرخیوں میں ہے؟کیا آپ کی نظر میں کسی خبر کا تعلق آپ سے ہے؟

کوئی بھی معاشرہ‘ کسی سیاسی تنظیم اور اجتماعی فیصلے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جومعاشرہ اپنے وجود کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی مختلف ضروریات اور مفادات کا خیال رکھے۔ کئی سماجی ادارے جیسے خاندان،قبیلے اور معاشی ادارے وغیرہ لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ایسے ادارے ہمیں مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کے تئیں ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ ان اداروں میں حکومت بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ حکومت کیسے بنتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے‘ یہ سیاست کا اہم محور ہیں۔
سیاست صرف حکومت کے معاملات تک محدود نہیں ہوتی ۔ در حقیقت حکومتیں جو قدم اٹھاتی ہیں ان کی اپنی معنویت ہوتی ہے،کیوںکہ یہ لوگوں کی زندگی کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں ہمارے لیے اقتصادی پالیسی،خارجہ پالیسی اور تعلیمی پالیسی طے کرتی ہیں۔ جہاں یہی پالیسیاں عوام کی زندگی بہتر بنانے میں معاون ہوتی ہیں، وہیں ایک نا اہل یا بدعنوان حکومت لوگوں کی زندگی اور ان کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ اگر بر سر اقتدار حکومت گروہی جھگڑوں کو ہوا دیتی ہے تو بازار اور اسکول بند ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہمارا نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے اور ہم شدید ضرورت کی چیزیں بھی نہیں خریدپاتے، بیمار لوگ ہسپتال نہیں پہنچ سکتے اور یہاں تک کہ اسکول کے نظام الاوقات بھی متاثر ہوجاتے ہیں جس کے وجہ سے نصاب ادھورا رہ جاتا ہے اور ہمیں اس کی تکمیل کے لیے الگ سے ’کوچنگ‘ کا انتظام کرنا پڑتا ہے جس کی اضافی ٹیوشن فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ دوسری طرف حکومت خواندگی اور روزگار میں اضافے کے لیے پالیسیاں بناتی ہے جن کے نفاذ سے ہمیں اچھے اسکول میں جانے اور اچھی ملازمت حاصل کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔ 

اس پر عمل کریں

ہماری روزمرہ کی زندگی پر سیاست کس طرح اثرانداز ہوتی ہے؟ آپ اپنی زندگی میں گزرے کسی ایک دن کے واقعات کا تجزیہ کیجیے؟


آئیے اس پربحث کریں

کیا طلباء کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے؟

چوں کہ حکومت کے اقدامات کا ہم پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس لیے ہم حکومت کے کاموں میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم تنظیمیں قائم کرتے ہیں اور اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے عوامی تحریک چلاتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں دوسروں سے بات چیت کرتے ہیں اور حکومت کے مجوزہ اہداف کو ایک شکل دینے کی کوششیں کرتے ہیں ۔ جب ہم حکومت کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہوتے ہیں تو ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں تاکہ وہ موجودہ قوانین میں تبدیلی کرے۔ ہم اپنے نمائندوں کی کارکردگی پر بڑی گرم جوشی سے گفتگو کرتے ہیں اور اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ’ بدعنوانی (کرپشن) کی شرح گھٹی ہے یا بڑھی ہے۔‘ ہم اس پربات کرتے ہیں کہ کیا کرپشن کو جڑ سے مٹایا جا سکتا ہے؟ کیا بعض مخصوص طبقات کے لیے علاحدہ ریزرویشن دینا جائز ہے یا نہیں؟ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بعض سیاسی جماعتیں اور قائدین انتخابات میں کیوںکر کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ہم موجودہ بحران اور زوال کے اسباب کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بہتر دنیا کی تخلیق کی آرزو کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیاست کا وجود اس حقیقت کا مرہون منت ہے کہ خود ہمارے اور ہمارے سماج کے لیے کیا مناسب اور مطلوب ہے اس کے بارے میں ہم مختلف نقطہ ہاےت نظر رکھتے ہیں۔ اس میں سماج میں مختلف سطحوں پہ ہونے والی بحثیں شامل ہیں جن کے ذریعہ اجتماعی فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ ان ؓحثوں کا تعلق ایک سطح پر ان بحثوں میں حکومت کے کام اور عوام کی آرووں سے ہوتا ہے، جب کہ دوسری سطح پر، فیصلہ سازی کے عمل پر لوگوں کی جد وجہد کے پڑنے والے اثرات سے ہوتا ہے۔ جب بھی ہم کسی ایسے مسئلے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں جن کا مقصد سماج کی بھلائی، ترقی اور عمومی نوعیت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دینا چاہتے ہے، تو کہا جاتا ہے عوام سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس سبق میں شامل کسی ایک سیاسی مفکر پر ایک مختصر مضمون لکھئے (50 لفظوں میں)


1.2 سیاسی نظریہ میں ہم کس چیز کا مطالعہ کرتے ہیں؟

What Do We Study In Political Theory? 

اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہمیں تحریکات،ترقیاں اور تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ تاہم اگر ہم ذرا گہرائی سے صورت حال پر غور کریں گے تو ہمیں بعض قدروں اور اصولوں کی کارفرمائی نظر آئے گی جن سے لوگ تحریک پاتے ہیں اور جو پالیسیوں کو ایک رخ دیتی ہیں۔مثلاً جمہوریت، آزادی یا مساوات وغیرہ ایسے ہی رہنما اصول ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک ان اقدار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انھیں اپنے اپنے آئین میں شامل کر سکتے ہیں جیسا کہ بھارت اور امریکہ کے آئین میں موجود ہے۔


کیا آپ ان سیاسی اصول یا قدر کی شناخت کر سکتے ہیں جن کا استعمال درج ذیل بیانات یا حالات میں ہوا:

الف مجھے اسکول میں کون سا مضمون پڑھنا ہے اس کا انتخاب کرنے کا حق مجھے ملنا چاہیے۔

ب چھواچھوت کی لعنت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

ج قانون کی نظر میں تمام ہندوستانی شہری برابر ہیں۔

د اقلیتوں کو اپنے اسکول اور کالج قائم کرنے کا حق ہے۔

ہ   ہندوستان کی سیاحت پر آئے غیر ملکی شہری ہندوستانی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

و میڈیا یا فلموں پر کوئی سنسرشپ(پابندی) نہیں لگانا چاہیے۔

ز کالج کی سالانہ تقریبات کے انعقاد کی منصوبہ بندی میں طلبا سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور

ح یوم جمہوریہ کی تقریبات میں ہر ہندوستانی کو شریک ہونا چاہیے۔


یہ دستاویز یا آئین راتوں رات وجود میں نہیں آگئے! بلکہ ان کی تشکیل ان افکار اور اصولوں کی بنیاد پر ہوئی جن پر کوٹلیا، ارسطو سے لے کر جین جاکس روسو، کارل مارکس، مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکے دور تک بحث و مباحثہ ہوتا آیا ہے۔ آج سے بہت پہلے یعنی پانچویں صدی قبل مسیح میں افلاطون اور ارسطو نے اپنے شاگردوں سے اس نکتے پر تبادلہ خیال کیا تھا کہ’ بادشاہت بہتر ہے یا جمہوریت۔‘ جدید دور میں سب سے پہلے روسوؔ نے یہ دلیل دی کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ کارل مارکسؔ نے یہ استدلال پیش کیا کہ جتنی آزادی کی یہ دستاویز یا آئین راتوں رات وجود میں نہیں آگئے! بلکہ ان کی تشکیل ان افکار اور اصولوں کی بنیاد پر ہوئی جن پر کوٹلیا، ارسطو سے لے کر جین جاکس روسو، کارل مارکس، مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکے دور تک بحث و مباحثہ ہوتا آیا ہے۔ آج سے بہت پہلے یعنی پانچویں صدی قبل مسیح میں افلاطون اور ارسطو نے اپنے شاگردوں سے اس نکتے پر تبادلہ خیال کیا تھا کہ’ بادشاہت بہتر ہے یا جمہوریت۔‘ جدید دور میں سب سے پہلے روسوؔ نے یہ دلیل دی کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ کارل مارکسؔ نے یہ استدلال پیش کیا کہ جتنی آزادی کی اہمیت ہے اتنی ہی مساوات کی بھی اہمیت ہے۔ خود اپنے ملک میں مہاتما گاندھی نے اپنی کتاب ’ہند سوراج‘ میں اس امر پر بحث کی ہے کہ’ حقیقی آزادی ‘ یا’ سوراج ‘کا کیا مطلب ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے پوری قوت کے ساتھ یہ استدلال پیش کیا تھا کہ درج فہرست ذاتوں کو اقلیت تسلیم کیا جانا چاہیے اور انھیں خصوصی تحفظ ملنا چاہیے۔
یہ افکار و خیالات ہندوستان کے آئین میں شامل ہیں،ہمارے آئین کی تمہید میں آزادی اور مساوات کا ذکر آیا ہے جب کہ آئین میں حقوق کے باب میں ہرطرح کی چھوا چھوت کو ختم کرنے کا ذکر ہے نیز گاندھیائی افکار کو رہنما اصولوں میں شامل کیا گیا ہے۔
سیاسی نظریہ ان اصولوں اور خیالات سے بحث کرتا ہے جن سے ہمارا آئین، حکومتیں اورہماری سماجی زندگی  منظم انداز میں تشکیل پاتی ہے۔ یہ آزادی‘ مساوات‘ انصاف‘ جمہوریت‘ سیکولرزم وغیرہ کے تصورات کے معنی و مفہوم کی وضاحت کا احاطہ کرتا ہے، ساتھ ہی یہ قانون کی حکمرانی‘ اختیارات کی تقسیم‘ اور قانونی جائزہ وغیرہ کے اصولوں کی اہمیت و افادیت کا تجزیہ کرتا ہے۔یہ ان کا مختلف مفکرین اور دانشوروں  ان تصورات کے دفاع میں پیش کردہ دلائل کی روشنی میں تجزیہ کرتا ہے۔ ہر چند کہ روسو ‘ مارکس یا گاندھی سیاستداں نہیں بنے مگر ان کے خیالات وتصورات نے ہر جگہ سیاستدانوں کی ہر نسل کو متاثر کیا ہے۔ علاوہ ازیں معاصر مفکرین بھی آزادی یا جمہوریت کے دفاع کے لیے ان سے تحریک حاصل کرتے ہیں۔ سیاسی مفکرین دلائل اور افکار کا جائزہ لینے کے علاوہ موجودہ سیاسی تجربات کا بھی تجزیہ کرتے ہیں اور مستقبل کے رحجانات اور امکانات کی نشان دہی کرتے ہیں۔
لیکن کیا یہ سب اب ہمارے لیے کوئی معنی رکھتے ہیں؟ کیا ہمیں اب تک آزادی اور جمہوریت حاصل نہیں ہوئی ہے؟ اگرچہ ہندوستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے لیکن آزادی اور مساوات کے حوالے سے سوالات اٹھنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سماجی زندگی کے مختلف شعبوں میں آزادی‘ مساوات اور جمہوریت سے متعلق مختلف معاملے سامنے آئے ہیں نیز مختلف میدانوں میں ان کے نفاذ کی رفتار بھی الگ الگ ہے۔ جیسے سیاسی شعبہ میں مساوی حقوق کی شکل میں’ مساوات‘ موجود ہے لیکن معاشی یا سماجی شعبوں میں یہ’ مساوات‘ اس حد تک موجود نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ لوگوں کو سیاسی طور پر مساوی حقوق حاصل ہیں مگر اس کے باوجود انہیں ان کی سماجی حیثیت‘ یعنی غریبی یا ذات کی بنیاد پر‘ روز مرہ کی زندگی میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے سماج میں کچھ لوگوں کو خصوصی مراعات حاصل ہوں جب کہ دیگر لوگ بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ سماج کے کچھ لو گ اپنا مقررہ ہدف حاصل کر لیتے ہیں اس کے بر خلاف ‘ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اسکول بھی نہیں جا سکتے اور نہ ہی اپنے لیے ایک بہتر روزگار کا انتظام کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے آزادی اب بھی ایک ادھورا خواب ہے۔
دوم! گو کہ ہمارے آئین میں آزادی کے حق کی ـضمانت دی گئی ہے اس کے باوجود ہمیں ہر وقت اس کی نئی نئی تعبیروں سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہ ایک طرح کا کھیل ہے ۔ جیسے کہ شطرنج یا کرکٹ اسی طرح ہم ان قوانین کی تعبیرکا طریقہ سیکھتے ہیں۔اس عمل کے دوران ہم اس کھیل کے نئے اور وسیع تر معنیٰ اخذ کرتے ہیں۔ اسی طرح آئین نے ہمیں جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہے ان کی بھی نئے حالات اور تقاضوں کے پیش نظر نئی نئی تشریحات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر عدالتوں نے ’زندہ رہنے کا حق ‘کی تشریح کرتے ہوئے اس میں ’روزگار کا حق ‘بھی شامل کیا ہے۔ اب ایک نئے قانون کے ذریعے ’سرکاری کام کاج کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا حق ‘دیا گیا ہے ۔سماج کو متواترنئے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں نئی نئی تعبیریں سامنے آتی ہیں۔ ہمارے آئین میں جو بنیادی حقوق دیے گئے ہیں، ان میں وقت کے ساتھ ساتھ عدالتی فیصلوں کے ذریعہ اور حکومت کی ان پالیسیوں کے ذریعہ جن کا مقصد نئے مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے‘ میں ترمیم کی گئی ہے اور ان کے دائرہ کو وسیع کیا گیا ہے۔

آئیے اس پر عمل کریں

مختلف اخبارات و میگزینوں سے کارٹون کے تراشے جمع کریں ۔یہ کارٹون کن امورا ور مسائل کی عکاسی کرتے ہیں؟اور کن سیاسی خیالات کواجاگر کرتے ہیں؟



سوم! جیسے جیسے دنیا بدل رہی ہے ویسے ویسے آزادی کے بارے میں نئے نئے زاویہ فکر اور اس کے لئے نئے نئے خطرات سامنے آرہے ہیں۔ مثلاًعالمی مواصلاتی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے ان کارکنوں کے درمیان تال میل کو آسان بنا دیا ہے جو قبائلی تہذیبوں یا جنگلات کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ لیکن اس سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو بھی اپنا نیٹ ورک بنانے میں مددمل رہی ہے مزید بر آں یہ کہ آنے والے دنوں میں انٹر نیٹ کے ذریعہ کاروبار اور تجارت میں اضافہ نا گزیر ہے۔ چنانچہ اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ ہم آن لائن یا انٹر نیٹ کے توسط سے اشیا کی خریداری یا خدمات کے بارے میں جو معلومات فراہم کرتے ہیں ان کا تحفظ کیا جانا ضروری ہے۔حالاں کہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے نے ٹی زنس (Netizens)حکومت کا کو ئی کنٹرول نہیں  چاہتے،تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ فرد کی نجی زندگی اور (پرائیویسی ) سلامتی کے تحفظ کے لیے کوئی نہ کوئی قانون ضروری ہے۔ اس احساس کے نتیجے میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو کس حد تک آزادی ملنی چاہیے؟ 
مثلاً،کیا کسی اجنبی کو بغیر مانگے ای میل بھیجنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟ کیا آپ چیٹ روم میں اپنے موضوعات کی تشہیر کر سکتے ہیں؟ کیا حکومت کو دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ذاتی ای میل دیکھنے کا اختیار دیا جانا چاہیے؟ اور اس سلسلہ میں کس حد تک پابندیاں جائز ہیں نیز ان پابندیوں کے نفاذ کا اختیار حکومت کو یا نجی اداروں کو دیا جانا چاہیے؟ ان سوالات کے ممکنہ جوابات ہم سیاسی نظریہ کے مطالعے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے سیاسی نظریہ ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے۔


قدیم یونان کے ایتھنز شہر میں سقراط کو سب سے زیادہ دانا شخص قراد دیا گیا تھا۔ وہ سماج‘ مذہب اور سیاست کے بارے میں مروجہ افکار پر سوال قائم کرنے اور چیلنج کرنے کے لئے مشہور تھا۔ اس ’جرم‘ کی پاداش میں یونان کے بادشاہ نے اسے سزائے موت کا حکم صادر کیاتھا۔
اس کے شاگرد افلاطون (پلیٹو) نے اسکے افکار اور زندگی کے بارے میں بہت ہی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس نے اپنی کتاب’ریاست یا جمہوریہ‘ (ری پبلک) میں ’سقراط‘ کے نام سے ایک کردار تخلیق کیا اور اس کردار کے حوالے سے اس سوال کا جائزہ لیا کہ ’عدل و انصاف‘ کیا ہے؟
کتاب کا آغاز سقراط اور سیفالس کے درمیان مکالمہ سے ہوتا ہے۔ اس مکالمہ کے دوران  سیفالس  اور اس کے ساتھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عدل کے بارے میں ان کی سوچ ادھوری اور ناقابل قبول ہے۔ اس مکالمہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ سقراط استدلال کے ذریعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عدل و انصاف کے بارے میں جو مروجہ نقطہ نظر ہے وہ محدود اور متضاد بیانیوں سے عبارت ہے۔ اس کے مخالفین  بالآخر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے خیالات  جن میں وہ جیتے تھے وہ قائم رہنے والے نہیں ہیں۔

1.3 سیاسی نظریہ کو عملی جامہ پہنانا

PUTTING POLITICAL THEORY TO PRACTICE
اس نصابی کتاب میں، ہم نے خود کو سیاسی نظریہ کے صرف ایک پہلو تک محدود رکھا ہے۔ جس میں آزادی، مساوات، شہریت، انصاف، ترقی، قومیت،سیکولرزم وغیرہ جیسے سیاسی تصورات کی اہمیت ، افادیت ،ان کی معنویت اور ارتقا کے بارے میں بحث کی گئی ہے جن سے ہم مانوس ہیں۔ جب ہم کسی موضوع پہ بحث یا استدلال کرتے ہیں تب ہم عموماً یہ سوال کرتے ہیں کہ ’اس سے کیا مراد ہے‘؟۔ اور یہ کس طرح ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے؟ سیاسی مفکرین نے سوالات اٹھائے کہ آزادی یا مساوات کیا ہیں اور انھوں نے اس کی مختلف تعریفیں پیش کیں۔ریاضی کے برعکس جہاں مربع یا مثلث کی صرف ایک ہی تعریف ہو سکتی ہے،سیاسی نظریہ میں آزادی ، مساوات، یا عدل کے بارے میں متعدد تعریفوں سے سابقہ پڑتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مساوات جیسی اصطلاحوں کا تعلق کسی مادّی چیز کے بجائے انسانوں کے باہمی رشتوں سے ہے۔ مادّی چیزوں کے بر خلاف مساوات جیسے معاملوں پر انسان مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں اور ان کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان کے درمیان یگانگت پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہ کام کس طرح انجام دے سکتے ہیں، اس کی ابتدا ہم مختلف مقامات پر پیش آنے والے مساوات کے عام تجربوں سے کرتے ہیں۔ 


پڑھیئے اور دیکھئے کہ سقراط نے اسے کیسے حاصل کیا۔
سیفالس! تم نے صحیح کہا۔ میں نے جواب دیا لیکن جہاں تک عدل و انصاف کی بات ہے یہ کیا ہے؟ سچ بولنا اور اپنا فرض ادا کرنا۔
بس اس سے زیادہ کچھ نہیں؟۔
اور اس کے بعد استثنات (Exceptions)نہیں ہوتے؟
فرض کیجیے، ایک دوست عام حالت میں اپنے ہتھیا ر میرے حوالے بطور امانت رکھتا ہے اور وہ اس امانت کا مطالبہ اس صورت میں کرتا ہے جب اس کا دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ کیا مجھے ان ہتھیاروں کو اسے واپس کر دینا چاہیے؟۔۔۔۔۔۔
آپ بالکل صحیح ہیں، اس نے کہا۔لیکن تب،سچ بولنا اور قرض چکانا،انصاف کی صحیح تعریف نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے ہم نے سیدھے طور پر کہا تھا کہ ’’اپنے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرنا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ برائی کرنا انصاف ہے۔ اس کے بجائے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ دوست اچھے ہوں تب ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور دشمن جب نقصان پہنچانے پر آمادہ ہو تو اس کے ساتھ برا سلوک کرناانصاف ہے؟
ہاں! مجھے یہ بات درست لگتی ہے۔

آپ نے غور کیا ہوگا کہ لوگ اکثر سرکاری دفاتر،مطب کے انتظارگاہ یا دکانوں میں لگی قطاروں کو توڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جب ایسا کرنے والوں کو واپس اپنی جگہ پر چلے جانے کے لیے کہا جاتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم پر دھوکہ کھا جانے کا احساس طاری ہو نے لگتا ہے۔ ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ جن چیزوں یا سروسیز (خدمات) کے لیے ہم قیمت ادا کرتے ہیں ان کے حصول کا سب کو برابر کا موقع ملے ۔ جب ہم اپنے تجربہ پر غور کرتے ہیں، تو ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مساوات سے مراد سب کو برابر مواقع کی فراہمی ہے۔ اگر بزرگوں اور معذور افراد کے لیے علیحدہ انتظام موجود ہوں تو ہم اس خصوصی برتا و پر اعتراض نہیں کرتے ہیں اور اسے جائز قرار دیتے ہیں۔

لیکن کیا کسی کو نقصان پہچانا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟
بلا شبہ جو دشمن اور ظالم ہیں۔ انھیں نقصان پہنچایا جانا چاہیے
جب گھوڑے زخمی ہوتے ہیں، کیا ان کی حالت پہلے سے بہتر یا خراب ہوتی ہے؟
یقینا پہلے سے خراب ہوتی ہے۔
کہنے کا مطلب ہے کہ جب ان کی حالت خراب ہوتی ہے ان میں گھوڑے کی صفات کم ہوتی ہیں، کتوں کی صفات نہیں؟
ہاں!بالکل صحیح۔
لیکن جب کتوں کی حالت خراب ہوتی ہے تب ان میں کتے کی صفات کم ہوتی ہیں،گھوڑے کی صفات نہیں؟
بالکل صحیح۔
اور جب انسان زخمی ہوتا ہے،کیا اس میں انسانیت کا مادہ کم ہوگا؟
 بالکل نہیں۔
اور یہی انسانی صفت، انصاف ہے؟
یقینی طور پر۔

لیکن ہم روز مرہ کی زندگی میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بہت سے غریب لوگ دکان یا ڈاکٹر کے پاس اس لیے نہیں پہنچ سکتے کہ ان کے پاس ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے اور سامان خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ ان میں سے کچھ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہوتے ہیں جو پتھر توڑنے ‘ یا گھنٹوں تک اینٹیں ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہم حساس ہیں تو یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ بات غیر مناسب اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے کہ سماج کے کچھ طبقات اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتے۔ تب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ صحیح معنی میں مساوات وہی ہو سکتی ہے جس میں کسی نہ کسی شکل میں انصاف کے تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہو تاکہ معاشی اعتبار سے محروم لوگ استحصال کا شکار نہ بنیں۔

کیا ز خمی انسان کوضرورت غیرانصاف پسند بنادیتی ہے؟
ہاں! اس کا نتیجہ تو یہی ہے۔
لیکن کیا ایک موسیقار اپنے فن سے کسی کو موسیقی سے دور کر سکتا ہے؟
بالکل نہیں۔
کیا ایک گھڑسوار اپنے فن سے انھیں ایک خراب گھڑسوار بناسکتا ہے؟
نا ممکن۔
اور کیا کوئی انصاف پسند شخص انصاف کے ذریعہ لوگوں کو ظالم بنا سکتا ہے۔ عام الفاظ میں کیا نیک آدمی نیکی کے ذریعے کسی کوبرا بنا سکتا ہے۔
یقینا نہیں…
اورکیا اچھا آدمی کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟
یہ بھی ناممکن ہے۔
اور انصاف پسند شخص اچھا آدمی ہوتا ہے۔یقینا۔ 

ذرا اس حقیقت پر غور کریں کہ بہت سے بچے ایسے ہیں جو اسکول نہیں جا پاتے ہیں۔ کیوںکہ انھیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح زیادہ تر غریب گھروں کی لڑکیوں کو پڑھائی کے دوران ہی اسکول چھوڑ دینا پڑتا ہے فقط اس لیے کہ والدین کے کام پر چلے جانے کے بعد انھیں اپنے چھوٹے بھائی بہن کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ حالاںکہ بھارت کا آئین سب کو پرائمری اسکول تک کی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے لیکن یہ حق محض ایک رسم بن کر رہ گیا ہے۔ پھر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کو ایسے بچوں کے لیے اور ان کے والدین کے لیے مزید اقدام کرنا چاہیے تاکہ وہ بچے اسکول جانے سے محروم نہ رہ جائیں۔

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ مساوات کے بارے میں ہمارا تصور کافی پیچیدہ ہے۔ جب ہم قطار میں کھڑے رہتے ہیں یا کھیل کے میدان میں ہوتے ہیں تو ہم برابر کا موقع چاہتے ہیں۔ جب ہم کسی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کچھ خصوصی مراعات دیے جائیں۔ جب ہماری بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو پاتیں ۔ توصرف مساوی مواقع کی فراہمی کافی نہیں ہوتی ہے،ہمیں اسکول جانے یا سرکاری چیزوں سے (روزگار،اچھی تنخواہیں، رعایتی ہسپتال وغیرہ) حقیقی طور پر مستفید ہونے کے لیے وسائل کی مساوی تقسیم کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی ادارہ کو اس کا ذمہ دار بنایا جائے جو انصاف کے تقاضے کی تکمیل کو یقینی بنائے۔


جب کسی دوست یا کسی اور شخص کو نقصان پہنچانا ایک انصاف پسند شخص کا فعل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے برعکس یہ کام کوئی برا آدمی ہی کر سکتا ہے؟
سقراط‘ میرا خیال ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ بالکل صحیح ہے۔
اور وہ جوکسی بیماری سے بچنے اور دوررہنے میں سب سے زیادہ اہل ہوتا ہے وہ اسے پیدا کرنے کا بھی سب سے زیادہ اہل ہوتا ہے۔
یہ صحیح ہے۔
اورجو دشمن پہ فتح پاتا ہے وہی قلعہ کا سب سے اچھا محافظ ہوتا ہے۔یقینی طور پر۔
جو کسی چیز کا اچھا محافظ ہوتا ہے‘ وہی اچھا چور بھی ہوتا ہے؟
ہاں! اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
 اگر انصاف پسند آدمی دولت کا اچھا محافظ ہے تو وہ غبن کرنے میں بھی ماہر ہوگا۔
اس دلیل سے یہی مطلب نکلتا ہے۔

ہمارے پاس  مساوات کی کئی تعریفیں موجود ہیں کیوں کہ اس کے معنیٰ کسی سیاق پرمنحصر ہوتے ہیں۔ہم نے بات وہاں سے شروع کی تھی کہ مساوات ہمارے لیے کیا ہے پھر دوسروں (یعنی غریب، محروم اور لاچار و بزرگوں وغیرہ) کے معنیٰ مراد کا ذکرکیا گیا ہے ۔ ہم نے معنیٰ کی کئی پرتیں کھولیں۔ ہم سیاسی نظریہ کو پوری طرح سے سمجھے بغیر اس پر عمل کرتے رہے۔ 
سیاسی تصورات کے مفہوم کو سیاسی مفکرین نے اس معنیٰ میں واضح کیا کہ عام زبان میں اس کو کیسے سمجھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ اس حوالے سے مختلف مفہوم اورنقطہ نظر کا منظم طریقے سے جائزہ لیتے ہیں اور اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ مساوی مواقع کب کافی ہوتے ہیں؟ کب لوگوں کی خصوصی مراعات کی ضرورت ہوتی ہے؟ اس طرح کی خصوصی مراعات کس حد تک اور کب دی جانی چاہیے؟ کیا غریب بچوں کو اسکول میں رکے رہنے کی ترغیب کے لیے انھیں دوپہر کا کھانا دیا جانا چاہیے؟ یہ چند سوالات ہیں جن کا جواب مفکرین تلاش کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مسئلے با لکل عملی نوعیت کے ہیں اور یہ تعلیم اور روزگار کے متعلق سرکاری پالیسیاں بنانے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
جیسا کہ مساوات کے معاملے میں ہے ویسا ہی دیگر تصورات کے معاملوں میں بھی ہے۔ سیاسی نظریہ ساز یا مفکرین روزانہ سامنے آنے والی آراء کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے مناسب مفہوم دریافت کرنے کے لیے بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور پالیسی سازی کے لیے متبادل راہیں فراہم کرتے ہیں۔ ہم اگلے باب میں آزادی’ شہریت ‘ حقوق، ترقی، انصاف، مساوات، قومیت اور سیکولرزم وغیرہ کے تصورات کا مطالعہ کریں گے۔

اور جب اچھا اور انصاف پسند آدمی چوربن جائے۔۔۔۔
تو تم یہ کہو گے کہ اچھے ہمارے دوست ہیں اور برے ہمارے دشمن؟
ہاں!پہلے ہم نے سیدھے طور پر کہا تھا کہ ’اپنے دوستوں کے ساتھ اچھابرتاو اور دشمنوں کے ساتھ برا برتائو انصافی ہے‘بجائے اس کے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ دوست اچھا ہو تو تب اس کے ساتھ اچھا برتاو اور جب دشمن برا ہو تو اس کے ساتھ برا برتاو ،انصاف ہے۔
ہاں! مجھے اس میں سچائی نظر آتی ہے۔
لیکن کیا کسی کو بھی نقصان پہنچانا انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے؟
بلا شبہ جو ظالم اور دشمن ہیں‘ انھیں نقصان پہنچانا چاہیے۔جب گھوڑے زخمی ہوتے ہیں، تب ان کی حالت پہلے سے نسبتاً بہتر ہوتی ہے یا خراب؟
یقینا پہلے سے خراب ہوتی ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ان کی حالت خراب ہوتی ہے تو ان میں گھوڑوں کی صفات کی کمی ہے۔کتوں کی صفات کی نہیں۔
ہاں البتہ گھوڑے کی خصلت کم ہوتی ہے۔
اور جب کتوں کی حالت بری ہوتی ہے تو ان کی نہ کہ گھوڑوں کی اچھی خصلتیں کم ہوتی ہیں ۔


اور جب کوئی انسان زخمی ہوتا ہے تو اس میں انسانی اوصاف کم نہیں ہوتے؟
بلا شبہ ۔
اور وہ انسانی وصف کیا انصاف ہے؟
یقینی طور پر۔ 
تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مجروح آدمی ظالم بن جاتا ہے۔
یہی اس کا نتیجہ ہے۔
لیکن کیا ایک موسیقار اپنے فن سے انسان کو موسیقی سے دور کر سکتا ہے۔
بالکل نہیں۔
یا کیا گھڑسوار اپنے فن سے دوسروں کو خراب خراب گھڑسوار بنا سکتا ہے۔
ناممکن؟
اور کیا ایک انصاف پسند شخص اپنے انصاف سے لوگوں کو ظالم بنا سکتا ہے یا عام زبان میں نیک آدمی نیکی کے ذریعے انہیں برا بناتا ہے؟
یقینی طور پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1.4 ہمیں سیاسی نظریہ کا مطالعہ کیوں کرنا چاہیے؟

Why Should We Study Political Theory?

ہمارے اپنے سیاسی اصول اور خیالات ہو تے ہیں لیکن کیا سیاسی نظریہ کا مطالعہ ضروری ہے؟ کیا یہ سیاسی نظریہ سیاسی میدان میں سرگرم سیا ستدانوں کے لیے ہے؟ پالیسی بنانے والے نوکرشاہوں کے لیے ہے؟ یا سیاسیات پڑھانے والے اساتذہ کے لیے زیادہ کارآمد نہیں ہے؟ اسی طرح ان وکلاء اور ججوں کے لیے ہے جو دستور اور قانون کی تعبیر و توضیح کرتے ہیں یا ان کارکنوں اور صحافیوں کے لیے ہے جو استحصال کا پردہ فاش کرتے ہیں اور نئے حقوق کے مطالبات پیش کرتے ہیں؟ ان کے لیے اس کا پڑھنا ضروری نہیں ہے؟ ہمیں(ہائی اسکول کے طلبا کو) آزادی یا مساوات کا مفہوم جاننے سے کیا حاصل ہوگا؟
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سیاسی نظریہ مذکورہ تمام طبقات و پیشوں کے لیے اپنی معنویت رکھتا ہے۔ اور ہم مستقبل میں ان میں سے کسی پیشہ کوا ختیار کر سکتے ہیں اس لیے بالواسطہ طور پر یہ (بحیثیت طالب علم) ہمارے لیے بھی معنویت رکھتاہے۔ کیا ہم ریاضی نہیں پڑھتے، اگرچہ ہم میں سے سب انجینئر یا ریاضی دان نہیں بنتے ؟ کیاعلم ہندسہ کی بنیادی باتیں ہماری روزمرہ کی زندگی میں کام نہیں آتیں؟  
دوسری بات یہ ہے کہ ہم سبھی ذمہ دار شہری بننے جا رہے ہیں جنھیں ووٹ دینے اور دیگر مسئلوں پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں ان سیاسی تصورات اور اداروں کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل ہوں جو ہماری دنیا کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہم ایک باخبر سماج میں رہتے ہیں اس لیے اگر ہمیں گرام سبھا میں حصہ لینا ہے یا ویب سائٹ اور انتخابات کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنی ہے تو ہمیں باخبر ہونا اور استدلالی موقف اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔اگر ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی ترجیحات کا اظہار کرنے لگیں گے تو ہم موثر ثابت نہیں ہوں گے۔ اور اگر ہم غور و فکر اور مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں آتے ہیں تو ہم اپنے مشترکہ مفادات کو فروغ دینے کے لیے نئے ذرائع ابلاغ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
بحیثیت شہری، ہماری حقیقت موسیقی کے پروگرام کے ان سامعین کی طرح ہوتی ہے جن کا گیت اور موسیقی کی دھنوں کو پیش کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا وہ اس کے اصل فنکار نہیں ہوتے۔ تاہم ہم پروگرام طے کرتے ہیں اور فنکاروں کو ان کے مظاہرے کی داد دیتے ہیں اور ان سے نئی نئی فرمائش کرتے ہیں۔ کیا آپ نے اس بات پر غور کیا ہے کہ موسیقار اس وقت تک اپنے فن کا بہتر مظاہرہ کرتے ہیں جب سامعین موسیقی کے رموز سے باخبر ہوتے ہیں اور اچھی کارکردگی پر داد سے نوازتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم یافتہ اور باخبر شہری بھی سیاستدانوں کو ‘ اپنی سیاست  عوامی مفادات کے تابع کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ آزادی‘ مساوات اور سیکولرزم وغیرہ ہماری زندگی سے الگ تھلگ مسئلے نہیں ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ہمیں خاندانوں‘ اسکولوں‘ کالجوں‘ تجارتی مراکز(Malls) وغیرہ میں مختلف طرح کے امتیازات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ہم خود ان لوگوں کے تئیں عصبیت رکھتے ہیں جو ہم سے ذات یا مذہب‘ جنس یا کلاس کی بنیاد پر مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ہم خود کو مظلوم محسوس کرتے ہیں تو اس ظلم و زیادتی سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور اگر اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ہوتی ہے تو ہم پرتشدد انقلاب کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ اگر ہم مراعات یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں تو عزت و وقار کے لیے جدوجہد کرنے والے اپنے گھریلو خادماوں اور ملازموں کے خلاف کوئی بھی ظلم و ستم ڈھانے سے انکارنہیں کرتے ہیں ۔ کئی موقعوں پر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ملازم ایسے ہی برتاو کےمستحق ہیں۔ سیاسی نظریہ ہمیں سیاسی چیزوں کے بارے میں اپنے خیالات و احساسات کو پرکھنے کی تحریک فراہم کرتا ہے۔ان پر غوروفکر کرنے کے نتیجے میں ہمارے خیالات اور احساسات میں اعتدال پیدا ہوجاتاہے۔ 
آخری بات یہ کہ ہم طلباکی حیثیت سے بحث ومباحثے اور تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اور کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘ کیا مناسب کیا نامناسب‘ اس بارے میں ہم اپنی آراء پیش کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ باتیں عقلی اعتبار سے درست ہیں یا نہیں۔ جب ہم دوسروں سے بحث کرتے ہیں ہمیں اپنے خیالات کے دفاع کے لیے دلائل اورشواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی نظریہ ہمیں انصاف یا مساوات کے بارے میں سائنٹفک انداز میں سوچنے اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ ہم مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے اپنے خیالات اور دلائل کو بہتر اور منجھے ہوئے انداز میں پیش کر سکیں۔ آج عالمی اطلاعاتی نظام میں دلائل وشواہد کے ساتھ بحث کرنے اور مؤثر انداز میں اپنی بات پہنچانے کی صلاحیت ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اور نا ہی اچھا آدمی کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟
یہ تو ممکن نہیں۔
اور انصاف پسند آدمی ہی اچھا شخص ہوتا ہے؟
یقینی طور پر۔
تب کسی دوست یا کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانا ایک انصاف پسند شخص کا فعل نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس یہ کام کوئی برا آدمی ہی کر سکتا ہے؟
سقراط! میرا خیال ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ بالکل صحیح ہے۔
تب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ انصاف‘ قرض ادا کرنے میں ہے اور اچھا قرض وہ ہے جو اس کے دوستوں کو چکانا ہے اور برا وہ جو دشمنوں کو چکانا ہے۔ یہ کہنا عقلمندی کی بات نہیں ۔
کیا یہ سچ نہیں ہے جیسا کہ اس کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ کسی کو بھی نقصان پہنچانا،کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہو سکتا۔
پولی مارکس  (Pole Marchus) نے کہا’’میں آپ سے متفق ہوں‘‘

مشق 

 1۔ سیاسی نظریہ کے بارے میں مندرجہ ذیل کون سے بیانات صحیح / غلط ہیں۔
(a) یہ ان خیالات سے بحث کرتا ہے جن کی بنیاد پر سیاسی ادارے تشکیل ہوتے ہیں۔
(b ) یہ مختلف مذاہب کے درمیان باہمی رشتوں کی تشریح کرتا ہے؟
(c) یہ مساوات اور آزادی  جیسے تصورات کے مفہوم کی وضاحت کرتا ہے۔
(d) یہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہے۔

سیاست صرف یہ نہیں کہ جو سیاستداں کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔
کیا آپ اس بیا ن سے متفق ہیں؟ مثالیں دیجیے۔
جمہوریت کی کامیابی کے لیے باخبرشہری ضروری ہے۔ اس پر تبصرہ کیجیے۔

سیاسی نظریہ کا مطالعہ کن کن طریقوں سے ہمارے لیے کار آمد ثابت ہو سکتا ہے؟
چار ایسے میدانوں کی نشاندہی کر کے بتائیں جن میں سیاسی نظریہ ہمارے لیے سودمند ثابت ہو؟

آپ کی رائے میں کیا اچھا/مؤثر استدلال دوسروں کو آپ کی بات سننے کے لیے مجبور کر سکتا ہے؟

آپ کے خیال میں کیاسیاسی نظریہ کا مطالعہ علم ہندسہ کے مطالعے جیسا ہے؟ 
اپنا جواب دلائل کے ساتھ دیجئے۔