
باب 2
آزادی
انسانی تاریخ میں ایسے بہت سے لوگوں اور قوموں کی مثالیں ملتی ہیں جن کو ان سے زیادہ طاقت ور گروہوں نے اپنا غلام بنایا ،ان کا استحصال کیا اور ان پر حکمرانی کی لیکن ا س میں بعض ایسے لوگوں کی بھی مثالیں ملتی ہیں جنھوں نے اس ظلم و استبداد کے خلاف ایک مثالی جدو جہد کی اور ایک شاندارمثال قائم کی۔ آخر یہ آزادی ہے کیا،جس کے لیے لوگ قربانی دینے اور جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، (لوگوں نے اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی اور اپنا سب کچھ اس کے حصول میں قربان کر دیا) اگر اس کی تہہ میں جایا جائے تو اس کا مطلب آزادی کے حصول کے لیے ایسی کوشش ہے جو انسان کی خواہشات کی نمائندگی کرے اور انھیں اپنی زندگی، اپنی تقدیر اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں رہنمائی کرے ، اپنی پسند و ناپسند کے انتخاب میں وہ آزاد ہوسکے ،ایسی آزادی کو نہ صرف فرد بلکہ معاشرہ بھی اہمیت دیتا ہے اور اپنی تہذیب و تمدن اور اپنے مستقبل کے تحفظ کاآرزومندہے۔
تاہم لوگوں کے مختلف مفادات و مقاصد اور ان کی خواہشات کو دیکھتے ہوئے کسی بھی سماجی زندگی کو کچھ اصول و ضوابط اور قانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اصول و ضوابط کی روشنی میں ممکن ہے کہ فرد کی آزادی کی کچھ حدیں متعین کی جائیں۔ لیکن ایسا بھی مانا جاتا ہے کہ اس طرح کی حدیں ہمیں عدم تحفظ کے احساس سے آزاد رکھتی ہیں۔ اور ایک ایسا ماحول پیدا کردیتی ہیں جس میں فرد اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے، اسے فروغ دیتا ہے وغیرہ۔ سیاسی نظریہ میں آزادی کے متعلق زیادہ تر بحث و مباحثہ ایسے اصولوں کے فروغ پر مرکوز رہا ہے جو سماجی طور سے لازمی حدبندیوں اوردیگر پابندیوں کے درمیان کے فرق کو واضح کرتی ہوں‘ اس بات پر بھی بحث ہوتی رہی ہے کہ آزادی جس کے نتیجے میں کسی سماج کا معاشی اور سماجی نظام متاثر ہوتا ہے اس کی حد کیا ہونی چاہیے، اس سبق میں ان بحث و مباحثوں پر نظر ڈالیں گے۔
اس سبق کے مطالعے کے بعد آپ:
◊ فرد اور سماج ‘ دونوں کے لئے آزادی کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے
◊ آزادی کے مثبت اور منفی پہلووں کو سمجھنے اور اس کی و ضاحت کرنے کے اہل ہوں گے۔
◊ ’’مضراصول ‘‘(Harm Principle) کی اصطلاح کا کیا مطلب سمجھ سکیں گے۔
2.1 آزادی کے مثالی نمونے The ideal of Freedom
اِن سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ہم ایک لمحہ کے لیے رکیں اور ذرا غور کریں۔ بیسویں صدی کی ایک عظیم شخصیت ’نیلسن منڈیلا‘ نے اپنی خودنوشت سوانح حیات کا عنوان ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ (آزادی کاایک طویل سفر) رکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے رنگ و نسل کی بنا پر امتیاز کرنے والی جنوبی افریقہ کی حکومت کے خلاف اپنی ذاتی جدو جہد اور لوگوں کے احتجاجی رویوں اور جنوبی افریقہ کے کالے لوگوں پر کی گئی ظلم و زیادتیوں، غیر انسانی سلوک اور ان کے مظالم کی داستان بیان کی ہے۔ تفریق کو فروغ دینے والی ان پالیسیوں جیسے شہر میں حد بندی کئے جانے،اپنی ریاست میں آزادنہ طور پر چلنے پھرنے پرپابندیاں،اپنی پسند کی شادی پر پابندی، رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیازانہ سلوک، کالے اور گورے کے فرق کوحکومت کے ذریعے زبردستی وہاں کے نظام میں نافذ کیا گیا تھا۔ نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں نے اس طرح کی زیادتیوں ،نا انصافیوں اور آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھایاجس کا مفصل ذکر ان کی سوانح ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ میں درج ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد صرف کالے لوگوں اور مظلوم طبقات کے لیے ہی نہیں تھیں بلکہ گورے لوگوں کے لیے بھی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ رکھا۔

اسی آزادی کے لیے نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے 28 سال تن تنہا جیل کی کال کوٹھریوں میں گزارے۔ اب ذرا سوچئے کہ آزادی کے لیے اپنے عیش و آرام کو قربان کر دینا یہاں تک کہ اپنے دوستوں سے بات چیت کرنے،اپنے پسندیدہ کھیل، (باکسنگ نیلسن منڈیلا کاپسندیدہ کھیل تھا) اپنے پسند کے کپڑے پہننے، محبوب موسیقی سننے، تہوار منانے (جو ہر کسی کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں) اور دوسری بہت سی آسائشوں کو چھوڑ دینے کا کیا مطلب ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ یہ سارے عیش و آرام چھوڑ کر تنہا ایک کمرہ میں قید ہونے کو ناپسند کرتے ہیں کیوںکہ آپ اپنی قوم کی آزادی کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس آزادی کی خاطر آپ نے جیل میں رہنے کو ترجیح دی ہے اور آپ کو یہ بھی پتہ نہیں کہ آپ کب رہا کئے جائیں گے۔ ان حالات میں اپنے تمام عیش و آرام کو چھوڑ کر نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کی آزادی کی خاطر ذاتی طور پر بھاری قیمت ادا کی۔

کیا صرف عظیم مرداور عورتیں ہی آزادی جیسے اہم اصولوں کے لیے جدوجہد کرتی ہیں، میرے نزدیک اس اصول کی کیا اہمیت ہے ؟
آزادی کی جدوجہد سے متعلق ایک اور مثال ہمارے سامنے ہے۔ ملک میانمارکی ’آنگ سان سو کی‘ ایک خاتون ، بابائے قوم مہاتما گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد سے بے حد متاثر ہوئیں۔ آنگ سان سو کی کو اپنے وطن اور اپنے ہی گھر میں نظر بند کر کے رکھا گیا ۔ سوکی کو اپنے بچوں سے بھی جدا رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ جب سو کی کے شوہرکینسر کے مرـض میں مبتلا ہو کر موت سے لڑ رہے تھے تب سوکی کو ڈر لاحق تھاکہ اگر وہ اپنے شوہر سے ملنے برطانیہ گئیں تو پھر میانمار واپس ا ٓنا ممکن نہ ہو گا۔ آنگ سان سوکی اپنی آزادی کو اپنے ملک کے لوگوں کی آزادی سے جوڑ کر دیکھتی تھیں، اپنی کتاب ’’فریڈم فرام فیئر‘‘ (خوف سے آزادی) نامی کتاب میں وہ کہتی ہیں،’’ میرے نزدیک حقیقی آزادی کا مطلب خوف سے آزادی ہے، خوف سے آزاد ہو ئے بغیر آپ باعزت زندگی نہیں گزار سکتے‘‘۔ یہ وہ اہم خیالات ہیں جو ہمیں ایک لمحہ کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ سوکی کا خیال تھا کہ ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں نہ تو دوسرے لوگوں کے افکار و نظریات سے ڈرنے کی ـضرورت ہے اور نہ ہی حکمرانوں کی حکمرانی سے اور نہ ہی دوسرے لوگوں کے طعن و تشنیع سے اندر ہی اندر گھٹنے کی ضرورت ہے۔ ان سب کے باوجود اکثر ہم خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ اس لیے سوکی کہتی تھیں کہ ’ایک باعزت اور با وقار زندگی ‘گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم خوف پر فتح پائیں۔

آنگ سان سو اور نیلسن منڈیلا کی ان دونوں کتابوں سے ہم مثالی آزادی کی اصل طاقت کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں، یہی مثالی تصور ہمارے ملک کی آزادی، برطانیہ، فرانس اور پرتگال کی نو آبادیاتی نظام کے خلاف ایشیا و افریقہ کے لوگوں کی جدوجہد آزادی کا مرکز تھا۔
کچھ مشق کریں
کیا آپ اپنے گاوں، شہر یا ضلع میں کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے اپنی یا دوسروں کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہو؟
اس شخص کے بارے میں ایک مختصر مضمون لکھئے اور آزادی کے ان خاص پہلووں کی طرف اشارہ کیجئے جس کی حفاظت کے لیے اس نے جدو جہد کی۔
2.2 آزادی کیا ہے?
WHAT IS FREEDOM?
آزادی کیا ہے،اس سوال کا سیدھا اور آسان جواب ہے کہ پابندی کا نہ ہونا، آزادی کی اس تعریف کی روشنی میں اگر کسی شخص پر خارجی پابندیاں یا دباو نہ ہو اور وہ اپنے معاملات پر آزادانہ طور سے فیصلہ کر سکتا ہو اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہو تو ایسے شخص کو آزاد تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خارجی پابندیوں اور دباو کا نہ ہونا آزادی کا صرف ایک پہلو ہے ۔ آزادی کا دوسرا پہلو فرد کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اسکے اندر چھپے امکانات کو فروغ دینے کے مواقع کاہے۔ آزادی کے اس پس منظر میں آزادی ان پہلووں کا نام ہے جس میں لوگ اپنے اندر چھپی لیاقتوں و تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے سکیں۔
آزادی کے یہ دونوں پہلو،یعنی باہری دباو یا حدبندیوں کا نہ ہونا دوسرے ایسی شرطوں یا پابندیوں کا ہونا جس میں لوگ اپنی صلاحیتوں کو فروغ دے سکیں بہت اہم سمجھے جاتے ہیں، ایک آزاد معاشرہ وہ ہے جس میں معاشرہ کا ہر فرد اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں خود مختار ہو اور اس راہ میں کم سے کم سماجی پابندیاں اس پرعائد ہوں۔
سوراج (SWARAJ)
ہندوستان کی سیاست میں آزادی کے تصور سے جو چیز سب سے زیادہ مشابہ ہے وہ ’’سوراج‘‘ کا تصور ہے۔ سوراج کا مطلب خود کی حکمرانی ہو سکتا ہے اور خود پر حکمرانی بھی۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے پس منظر میں سوراج سیاسی اور آئینی سطح پر آزادی کا مطالبہ کرنے کا نام ہے اور سماجی و اجتماعی سطح پر اس کی قدر و قیمت خاصی مختلف ہے۔ اسی لیے سوراج تحریک آزادی میں ایک اہم نعرہ بنا اور اس نے بال گنگا دھر تلک کے مشہور قول ’’سوراج ہمارا پیدائشی حق ہے اور ہم اسے حاصل کرکے رہیں گے‘‘ کے نعرہ کو تقویت بخشی۔
سوراج کا مطلب خود پر اپنی حکمرانی ہے۔ سوراج کا یہی مطلب گاندھی جی کی کتاب ’’ہند سوراج‘‘ میں بھی نظر آتا ہے۔ جہاں وہ کہتے ہیں ’’جب ہم خود پر حکمرانی کرنا سیکھتے ہیں تو ہمارے سیکھنے کا یہی عمل سوراج کہلاتا ہے ‘‘۔ سوراج صرف آزادی کا نام نہیں بلکہ اس کا مطلب ایسے اداروں سے نجات پانا بھی ہے جو انسان کو انسانیت سے دور رکھتے ہیں، ساتھ ہی سوراج میں خود کا احترام، خود کی ذمہ داریوں کا احساس اور خود کو محفوظ رکھنے و بنانے کی استطاعت جیسے عمل کا پایا جانا بھی شامل ہے۔
سوراج کے حصول کے منصوبے میں ایمانداری،خود داری اور سماج و قوم سے ان کے رشتوں سے واقفیت و اہمیت بھی ضروری ہے۔گاندھی جی کا اصرار تھا کہ سوراج کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو انصاف کے اصول کی روشنی میں انفرادی و اجتماعی دونوں طریقوں سے فروغ دیا جائے اور انفرادی و اجتماعی دونوں سطحوں پر ان کی بھر پور رہنمائی کی جائے۔ یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ سوراج کی ایسی سمجھ21ویں صدی میں بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی کہ 1909ء میں گاندھی جی کی ہند سوراج نامی کتاب لکھتے وقت تھی۔
سماج میں رہنے والا کوئی بھی فرد کسی قسم کے دباو یا حد بندیوں میں رہ کر ایک خوشحال زندگی کی امید نہیں کر سکتا ہے۔ ایسے میں یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کون سی سماجی پابندیاں ضروری ہیں اور کون سی نہیں، کون سی قابل قبول ہیں اور کون سی نہیں،فرد اور سماج کے بنیادی رشتوں کو سمجھ کر ہی یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کن سماجی پابندیوں پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں سماج کا مطلب ایک جماعت، قوم یا وہ ملک ہوتا ہے جس میں وہ فرد رہتا ہے اس لیے ہمیں فرد اور سماج کے رشتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سماج کا کون سا پہلو ، فرد کوا س کے کام کے انتخاب یا اس پر کام کرنے کے فیصلہ کی آزادی دیتا ہے اور کون سا نہیں، کسے تسلیم کیا جانا چاہیے اور کسے نہیں،آگے چل کر ہمیں یہ طے کرنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ جن اصولوں یا پہلووں کو ہم نے اپنی زندگی کے لیے چنا ہے کیا ان کا یا ان میں سے بعض کا کسی دوسرے فرد، گروہ یا قوموں پر اطلاق و نفاذ کر سکتے ہیں۔
ابھی تک ہم نے آزادی کے اس پہلو پر ہی بحث کی ہے جس میں کوئی دباو یا پابندی نہیں۔ آزاد ہونے کا مطلب یہی ہے کہ ہم ان سماجی پابندیوں یا دباو کو کم سے کم کردیں جو ہماری سوچ و فکر کی آزادی کی راہ میں حائل ہوں اور ہمیں آزادی کے ساتھ کسی کام کو کرنے پر روک لگاتی ہوں۔ البتہ، یہ بھی آزادی کا صرف ایک پہلو ہے،دوسرے الفاظ میں آزادی کا ایک مثبت پہلو اور ہے اور وہ یہ ہے کہ آزاد ہونے کے لیے سماج کے اس دائرہ کو وسیع بنانا چاہیے جس میں فرد، گروہ، قوم اور ملک اپنی تعمیر و تشکیل اور اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کرسکیں۔ اس مفہوم کی روشنی میں آزادی فرد کی تخلیقی صلاحیتوں‘ ذہنی نشو و نما اور قابلیتوں کو مکمل طور سے اجاگر کرنے اور فروغ دینے کا دوسرا نام ہے۔ فروغ آزادی کا تعلق کھیل کود، سائنس، فن، موسیقی یا سیاحت جیسے کسی بھی موضوع سے ہوسکتا ہے۔ ایک آزاد معاشرہ وہی ہے جس میں فرد پر کم سے کم سماجی دباو اور پابندیاں ہوں اور اسے اپنے مفادات کے حصول کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی پوری آزادی ہو۔آزادی کو اس لیے بہت اہم مانا جاتا ہے کیوںکہ اسی کے ذریعہ ہم اپنی پسند ناپسند کا اظہار کرتے ہیں کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ آزادی کی وجہ سے ہی فرد اپنی قوت استدلال اورفیصلہ کی جانچ کرتا ہے۔
آئیے بحث کریں
لڑکے اور لڑکیوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ کس سے شادی کریں گے۔ اس معاملہ میں والدین کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔
پابندیوں کے ذرائع The Sources of Constraints
افراد کی آزادی پر پابندیاں،کسی غلبے یا خارجی کنٹرول کے ذریعہ عائد کی جا سکتی ہیں، یہ پابندیاں کسی قوت یا حکومت کے ایسے قوانین کی مدد سے نافذکی جا سکتی ہیں جو حکمرانوں کے غلبے یا طاقت کی نمائندگی کرتی ہوں،اس قسم کی پابندیوں کی بہترین مثال وہ نو آبادیاتی حکمراں ہیں جنہوں نے اپنی رعایا پر اس قسم کی پابندیاں عائد کیں یا پھر جنوبی افریقہ کی رنگ و نسل کی بنیاد پر قائم وہ حکومتی نظام جس نے اپنے ہی ملک میں لوگوںکو نسلی امتیازات کی بنا پر اپنا غلام بنانے کے لیے اس قسم کی پابندیاں عائد کیں۔ مذکورہ دونوں مثالیں حکومت کی کسی نہ کسی ضرورت کے تحت ہو سکتی ہیں۔ لیکن حکومت اگر جمہوری بنیادوں پر قائم ہوتو ریاست کے عوام اپنے حکمرانوں کے اس من مانے رویے پر کچھ نہ کچھ لگام ضرور لگا سکتے ہیں، اسی لیے جمہوری نظام حکومت کو آزادی کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے ایک مثالی نظام حکومت قرار دیا گیا ہے۔
لیکن آزادی پر پابندی سماجی نا برابری اور معاشی نا انصافی کی بنیاد پر بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ اکثر ذات پات یا رنگ و نسل کی بنیاد پرحکومت کے نظام میں ایسا ہوتا ہے۔ ملک کے عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کا قول ایسی ہی پابندیوں و حدبندیو ں کو دور کرنے اور اس کو ختم کرنے کی ضرورت کی طرف متوجہ کراتا ہے۔
آزادی سے متعلق نیتا جی سبھاش چندر بوس کا نظریہ
’’اگر ہم اپنی سوچ و فکر میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے ایک ایسی مثال اور ایک ایسا تصور ہونا چاہیے جو ہماری زندگی کو جوش و انقلاب سے بھر دے،یہ مثال اور یہ تصور آزادی کا ہے، لیکن آزادی ایک ایسا لفظ ہے جس کے بہت سے معانی ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی آزادی کے تصور نے ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہیں لیکن آزادی سے میری مراد ہر قسم کی آزادی ہے اس میں فرد، سماج،امیر ، غریب، مرد عورت غرض ہر طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ اس آزادی کا مطلب نہ صرف سیاسی غلامی سے چھٹکارا ہے بلکہ ملکی وسائل اور دولت میں سب کی برابر کی حصہ داری بھی شامل ہے ،اس آزادی سے مراد سماجی نابرابریوں،ذات پات،اونچ نیچ، فرقہ واریت و مذہبی تعصبات کا خاتمہ بھی مقصود ہے۔ آزادی کا یہی تصور مرد عورت اور ہر ایک کے لیے مثالی ہے اور آزادی کا صرف یہی تصور ہماری روح کی تسکین کا سامان بن سکتا ہے‘‘
19 اکتوبر1929 میں لاہور میں طلبا کی کانفرنس میں دیاگیا صدارتی خطبہ
2.3 پابندیاں کیوں ضروری ہیں؟
WHY DO WE NEED CONSTRAINTS?
ہم ایک ایسی دنیا میں نہیں رہ سکتے جہاں کوئی پابندی یا حدبندی نہ ہو۔ کچھ نہ کچھ پابندیوں کی ضرورت تو پڑتی ہی ہے۔ ورنہ سماج بدنظمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ لوگوں کے درمیان ان کے مختلف افکار و نظریات کی وجہ سے ٹکراو بھی ہوسکتا ہے،ان کے مقاصد ایک دوسرے سے جدا بھی ہو سکتے ہیں۔ اور محدود وسائل کی وجہ سے ان میں مقابلہ آرائی بھی ہوسکتی ہے، سماج میں ناا تفاقیاں اور ٹکراو پیدا ہونے کی کئی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جن کا اظہار بذات خودجھگڑے کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر جانب چھوٹے بڑے اختلافات پر لوگوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مثلاً سڑک پر گاڑی چلاتے وقت معمولی معمولی باتوں پر غصہ دکھانا، گاڑی کھڑی کرنے کے لیے جگہ نہ ملنے پر جھگڑا کرنا، زمین یا دکان کے لیے لڑائی کرنا، کسی خاص فلم کو نہ دکھائے جانے پر تشدد پر آمادہ ہو جانا، جیسے مختلف مسائل کا سامنا ہوتا رہتا ہے، پھر یہی جھگڑے اور تشدد آگے چل کر بڑے جھگڑے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عوامی نقصانات ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ لوگوں کی جانیں بھی چلی جاتی ہیں۔ اس لیے ہر سماج کو تشدد پر قابو پانے اور جھگڑوں کو ختم کرانے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسا اسی وقت ممکن ہوسکتاہے جب ہم ایک دوسرے کے جذبات و خیالات کا احترام کریں اور اپنے افکار و نظریات کو دوسروں پر زبردستی نہ تھوپیں، ہم اپنے حدود میں رہتے ہوئے آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ایک مثالی اور آزاد معاشرہ وہی کہلاتا ہے جس میں ہرفرد اپنے افکار و نظریات پر قائم رہ سکے،زندگی گزارنے کے اپنے طریقوں کو فروغ دے سکے اور اپنی پسند و ناپسند پر عمل کرنے کے لیے وہ خود مختار ہو۔
آزادی پسندیت
جب ہم کہتے ہیں کہ اس کے والدین بڑے مثالی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں صبر و برداشت کا مادہ زیادہ ہے، سیاسی نقطہ نظر سے ’’آزادی پسندیدیت‘‘ کو صبر و تحمل کی ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، آزادی پسندیت کے حامی چاہے کسی شخص سے اتفاق نہ رکھتے ہوں تب بھی وہ اس کے خیالات و عقائد کا اظہار کرنے کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اپنے خیالات و نظریات کے اظہار کرنے کا پورا موقع دیتے ہیں لیکن آزادی پسندیت کے لیے یہی سب کچھ نہیں ہے او نہ ہی آزادی پسندیت کوئی نظریہ ہے جو صبر و تحمل کے بیجا حمایت کرتا ہے۔
جدید آزادی پسندیت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فرد ہی اصل محور و مرکز ہے۔ آزادی پسندیت کے لیے خاندان،سماج یا قوم جیسی اکائیاں اپنی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ ان کے لیے ان اکائیوں کی اہمیت تب ہی ہے جب فرد انھیں اہمیت دینے کے لائق سمجھے۔ مثال کے طور پر آزادی پسندیت کے حامی اس بات کی وکالت کریں گے کہ شادی کرنے کا فیصلہ فرد کو کرنا چاہیے۔ خاندان، ذات برادری یا قوم کو نہیں، آزادی پسند انفرادی آزادی کو ’’مساوات‘‘ جیسے اہم اصولوں سے بھی زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور عموماً وہ سیاسی حکومتوں کو بھی اس معاملہ میں خاطر میں نہیں لاتے اور انھیںشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے آزادی پسندوں نے بنا روک ٹوک کے بازار کی وکالت کی ہے اور اس معاملہ میں ریاست کے کم سے کم کردار کی حمایت کی ہے حالانکہ وہ اب عوامی فلاح و بہبود کی بنیادوں پر قائم حکومتوں کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ اور اس بات کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کہ سماجی اور معاشی نابرابریوں کو کم کیا جائے۔
لیکن اس مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے بھی کچھ حدود متعین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم سے کم حد یہی ہوگئی ہے کہ ہم تمام لوگوں کے جذبات و خیالات کا احترام کریں۔ ان کے مذہبی جذبات و ا عتقاد کا بھی احترام کریں۔ ان سب کے باوجود کبھی کبھی ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے عزائم و مقاصد کی تکمیل میں ان تمام حدبندیوں کی مخالفت کر یں جو ہمارے مقاصد‘ عقیدے اور افکار و نظریات کی راہ میں حائل ہوں اور ہمیں دوسروں کے افکار و نظریات و طرز معاشرت ناپسند اور ناقابل قبول ہوں۔ اس صورت میں کچھ ایسے قوانین اور سیاسی پابندیوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں اس بات پر زور دیا جائے کہ اختلافات کو بات چیت سے ہی دور کیا جائے اور اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ کوئی فرد یا گروہ دوسروں پر اپنی مرضی کو زبردستی نہ تھوپ سکے۔ لیکن حالات سازگار نہ ہونے کی صورت میں ہمیں کسی کے خیالات سے اتفاق کرنے اور اس پر متحد ہونے کے لیے تابع بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں ہمیں اپنی آزادی کو بچانے کے لیے قانونی مدد کی مزید ضرورت ہوتی ہے۔
بہرکیف اہم سوال یہ ہے کہ آزادی پر کون سی پابندی ضروری اور مناسب ہے اور کون سی نہیں؟ کون سی حکومت یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہے کہ کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں؟ کیا ہماری زندگی کے کچھ ایسے پہلو ہیں جنھیں تمام خارجی پابندیوں سے آزاد چھوڑ دیا جانا چاہیے۔
2.4 ناقابل عمل اصول HARM PRINCIPLE
اس سوال کا قابل اطمینان جواب دینے کے لیے ہمیں حدود اور اس کے نفاذ سے متعلق معاملات اور اس کے اثرات پر غور و خوض کرنا ہوگا۔ اس موضوع سے متعلق ہمیں ایک اور مسئلہ پر غور و فکر کرنی ہوگی ۔ معروف ماہرسیاست اسٹیورٹ ملؔنے’’ آزادی‘‘ پر لکھے گئے اپنے مضمون میں جن باتوں کو قلم بند کیا ہے اسے سیاسی نظریہ کی روشنی میں’ ’ناقابل عمل ‘‘اصول کہا جاتا ہے۔ آئیے مل کے قول اور اس کے بیانات کو اسی کے الفاظ میں پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ آخر ناقابل عمل یا مضر اصول کیا ہیں؟

وہ صرف عام انسانوں کے بارے میں ہی بات کیوں کرتا ہے عورتوں کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے؟
’’اصول یہ ہے کہ کسی کام کو انفرادی یا اجتماعی طور سے کرنے کی آزادی میں مداخلت کا واحد مقصد خود کو محفوظ رکھنا ہے‘ مہذب سماج میں فرد کی مرضی کے خلاف طاقت کے استعمال کا مقصد کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے روکنا ہے۔
مل نے یہاں ایک بہت اہم مثال پیش کی ہے، انہوں نے ذاتی اور غیر ذاتی عمل کے درمیانی فرق کو واضح کیا ہے، ذاتی عمل کا تعلق صرف فرد واحد سے ہے اور اسی پر یہ اثر انداز ہوتا ہے جب کہ غیر ذاتی عمل کا تعلق لوگوں سے ہوتا ہے اور یہ ان پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مل کی دلیل یہ ہے کہ، ذاتی عمل اور ذاتی پسند کا تعلق صرف فرد واحد یا اس کے کاموں سے ہے، ایسے معاملات میں ریاست یا کسی خارجی قوت کو اس کی ذاتیات پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے، سیدھے اور آسان لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’یہ میرے ذاتی عمل اور ذاتی پسند کا معاملہ ہے ‘‘ یا ’’میں وہی کروں گا جسے میں پسند کرتا ہوں‘ ‘ ’’اس کا تعلق آپ سے نہیں اور اگر میرے ان کاموں سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے تو آپ کو میرے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے‘ ‘ اس کے برعکس فرد واحد کا وہ عمل جن کا تعلق دوسروں سے ہے یا ان کی آزادی متاثر ہوتی ہے اور اس سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے تو پھر فرد واحد کے ان کاموں پر کچھ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں غیر ذاتی عمل وہ ہے جن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کے ان کاموں یا عمل سے مجھے نقصان ہو گااور میری آزادی متاثر ہوگی توپھر حکومت کو چاہیے کہ وہ مجھے ان نقصانات سے بچائے۔ آزادی سے متعلق حکومت یا ریاست اس معاملے میں بااختیار ہے کہ وہ فرد کو ایسے کاموں سے باز رکھے جس سے دوسروں کی آزادی متاثر ہوتی ہو۔
بہرحال آزادی انسانی معاشرہ کا اصل مرکز ہے، ایک مہذب اور باوقار زندگی کے لیے یہ لازمی حیثیت رکھتی ہے ۔ بہت مخصوص حالات میں فرد کی آزادی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ پابندی عائد کرنے سے پہلے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ اس سے کسی دوسرے کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا ہے۔ چھوٹے موٹے اور معمولی نقصان کے لیے مل قانونی طاقت کا سہارا لینے کے بجائے سماجی اعتراضات و دباو بنائے رکھنے کی صلاح دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مل کے نزدیک کثیر منزلہ عمارت میں اگر کوئی اونچی آواز میں موسیقی بجاتا ہے تو عمارت میں رہ رہے دوسرے لوگوں کا اعتراض کرنا کافی ہوگا۔ ان معاملات میں پولس کی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ جو شخص ان اعتراضات کے باوجود دوسروں کی آزادی کی پروانہیں کرتا اور اونچی آواز میں موسیقی سنتا ہے تو پھر عمارت میں رہنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے شخص کی عزت کرنا بند کردیں اور اس کا سماجی بائیکاٹ کریں کیوں کہ اونچی آوازمیں موسیقی سننا دوسروں کی بات چیت کرنے، سونے اور معتدل آواز میں موسیقی سننے اور ان کی آزادی میں خلل ڈالتا ہے۔ یہ معمولی نقصانات ہیں جن کے لیے صرف سماجی بائیکاٹ یا اعتراضات ہی کافی ہیں، ان معاملات میں قانونی چارہ جوئی نہ کیا جانا ہی مل کے نزدیک بہتر ہے،قانونی چارہ جوئی یا قانونی طاقت کا استعمال تب ہی ہونا چاہیے جب وہ عمارت میں رہ رہے لوگوں کو کوئی بڑا نقصان پہنچائے ورنہ سماج کو آزادی کے تحفظ کی خاطر تھوڑی بہت زحمتوں کو برداشت کر لینا اور انہیں نظر انداز کر دینا ہی بہتر ہے۔
آئیے ہم غور کرتے ہیں؟
ڈریس کوڈ کا مسئلہ (ملبوسات پر پابندی کا مسئلہ)
اگر کپڑے پہننے کا انتخاب کا مسئلہ فرد کی آزادیٔ اظہار کا نام ہے تو پھر نیچے دیے گئے ان حالات کو کس طرح دیکھیں گے جہاں ایک خاص طرح کے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہو۔
◊ ماؤکے عہد اقتدار میں چین میں سبھی لوگوں کو ’’ ماو سوٹ پہننا پڑتا تھا‘‘ دلیل یہ تھی کہ اس سے یکسانیت و مساوات جھلکتی ہے۔
◊ ایک عالم نے ثانیہ مرزا کے خلاف فتویٰ صادر کر دیا کہ اس کا لباس اسلام میں عورتوں کے لباس پہننے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
◊ کرکٹ کے ٹیسٹ میچوں میں یہ لازمی ہے کہ ہر کھلاڑی سفید کپڑے پہنے۔
◊ طلبا و طالبات کو اسکول میں ایک خاص قسم کا کپڑا پہننا لازمی ہوتا ہے۔
آئیے کچھ سوالات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔
◊ من پسند کپڑے پہننے پر پابندی ہر معاملہ میں منصفانہ ہے یا کچھ میں؟ یہ آزادی پر پابندی کا معاملہ کن صورتحال میں بن جاتا ہے؟
◊ ان پابندیوں کو عائد کرنے کا اختیار کسے حاصل ہے، کیا مذہبی رہنماوں کو کپڑے پہننے کے معاملہ میں فیصلہ یا فتویٰ دینے کا اختیار دیا جانا چاہیے؟ کیا یہ حکومت کو طے کرنا چاہیے کہ کوئی کیا پہنے؟ کیا آئی سی سی کو اس سلسلے میں کچھ قوانین وـضع کرنا چاہیے کہ کرکٹ کھیلنے کے دوران کھلاڑی کیا کپڑے پہنیں؟
◊ کیا پابندیوں کو مورد الزام ٹھہرانا جائز ہے؟ کیا یہ کئی طریقوں سے لوگوں کے حق اظہار آزادی کو کم کرتی ہیں؟
◊ الزامات کو تسلیم کئے جانے کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ کیا ماو کے عہد میں چین میں سبھی لوگوں کے ایک جیسے کپڑے پہننے سے غریبی کم ہو گئی؟
◊ کیا خواتین کو محض کپڑوں کی بنیاد پر کھیل کود سے محروم رکھا جانا چاہیے؟ اگر کرکٹ کھلاڑی رنگین کپڑے پہنے تو کیا اس سے ان کا
کھیل متاثر ہوگا؟
لوگوں کو انسانی زندگی گزارنے کے مختلف طریقوں،افکار و نظریات،مفادات اور دلچسپیوں کو تب تک برداشت کرنا چاہیے جب تک وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں اور دوسروں کی آزادی میں مخل نہ ہوں۔ لیکن اپنے صبر و تحمل اور قوت برداشت کو اس حد تک نہ بڑھنے دیں جس سے دوسروں کی آزادی کو خطرہ پیدا ہو جائے اور معاشرہ میں نفرت و عداوت کا ماحول پنپنے لگے۔
نفرت پھیلانے سے باز رکھنے کی مہم میں زیادہ نقصان دہ کاموں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں لیکن ہمیں یہاں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ یہ پابندیاں اتنی سخت نہ ہوں کہ آزادی کا مطلب ہی فوت ہو جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے کسی کے خلاف نفرت پھیلائی ہے تو ہمیں ایسے شخص کے خلاف عمر قید کی سزا کا مطالبہ نہیں کرناچاہیے، اگر حکومت کی جانب سے متنبہ کئے جانے کے باوجود غیرسماجی کاموںیا نفرت پھیلانے سے باز نہیں آتا ہے تو اس کے حرکات و سکنات اور اس کے دیگر معمولات پر کچھ پابندیاں ضرور لگائی جا سکتی ہیں یا عوامی جلسہ جلوس میں اس کی شرکت پر کچھ پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
ہندوستان کی آئینی بحثوں میں اس قسم کی پابندیوں کے لیے ’مناسب پابندیوں ‘کی اصطلاح کا استعمال کیا گیا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پابندی توہو ،لیکن معقول ہو، اس میں زیادتی نہ ہو کیوںکہ یہ معاشرہ میں آزادی کی عام فضاسے متصادم ہو سکتی ہے۔ ہمیں پابندی لگائے جانے کے رجحان کو زیادہ بڑھاوا نہیں دینا چاہیے کیوں کہ اس قسم کے رجحان آزادی کے تصور کے لیے مضر ہیں۔
2.5 مثبت اور منفی آزادی
NEGATIVE AND POSITIVE LIBERTY
اس سے پہلے ہم نے آزادی کے دو اہم پہلووں پر روشنی ڈالی تھی جن میں سے پہلے کا تعلق کسی قسم کی پابندی کے نہ ہونے سے تھا اور دوسرے کا تعلق آزادی کے اس مفہوم سے تھا جس میں انسان کو اپنی شخصیت کو فروغ دینے اور اس کی نشو و نما کے تمام تر مواقع حاصل ہوتی ہیں۔سیاسی نظریہ کی روشنی میں انھیں منفی اور مثبت آزادی کا نام دیا گیا ہے۔ ’منفی آزادی ‘ کا مطلب ان حدود کی شناخت اور ان کی حفاظت ہے جن کی کوئی بھی فرد خلاف ورزی نہ کرسکے اور انسان اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکے جو کچھ وہ ’بننا یا کرنا ‘ چاہتا ہو وہ بآسانی کر سکے اور اس کی راہ میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ یہ وہ حدود ہیں جن میں کوئی خارجی مداخلت نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک محدود دائرہ ہے جو مقدس ہے اور جس میں انسان دوسروں کی مداخلت کے بغیر اپنا کام کرتاہے۔ اس منفی پہلو کا مطلب یہی ہے کہ انسانی فطرت اور انسانی زندگی ایسی حالت اور ایسی جہت میں ہو جس میں وہ دوسروں کی مداخلت کے بغیر اپنی زندگی گزار سکے اور اس آزادی کی کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہو، اس جہت کا دائرہ کتنا وسیع اور اس میں کیا کیا شامل کیا جانا چاہیے یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے ۔ اس لیے عدم مداخلت کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، فرد کی آزادی کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوگا۔
ہمارے لیے جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ منفی آزادی کا تصور اور اس کی روایت فرد کے لیے ایک ایسے دائرہ کا تعین کرتی ہے جس میں فرد کی آزادی میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہوتی اور وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکتی ہے۔ اگر یہ دائرہ تنگ اور چھوٹا ہے تو انسانی وقار کے ساتھ سمجھوتا ہوگا، مثال کے طور پر اس تنگ دائرہ کے تعین کے لیے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ مختلف حالات و اوقات میں،اسکول، کھیل کے میدان، دفتر یا دیگر مختلف اداروں میں اسے کس طرح کے کپڑے پہننے ہیں، اس کی پسند کیا ہے۔ کیا یہ ایک مختصر دائرہ ہے جس میں کوئی فرد یا خارجی قوت دخل اندازی نہیں کرسکتی ہے ۔ یا یہ ایسے معاملات ہیں جس میں ریاست، مذہبی ادارے،آئی سی سی یا سی بی ایس سی جیسا کوئی بھی ادارہ مداخلت کر سکتا ہے؟ کیا منفی آزادی کا مطلب یہی ہے کہ وہ کون سا دائرہ ہو جس میں وہ خود مختارہوتاہے اور خود کی مرضی کا مالک ہوتا ہے؟ منفی آزادی کا مطالعہ ایسے تمام سوالات کی وضاحت کرتا ہے۔
اس کے برعکس، مثبت آزادی کاتصورکچھ کرنے کی آزادی کے بارے میں غور و فکر اور اس کی وضاحت سے جڑا ہے۔ مثبت آزادی کا تصور یہ سوال کرتا ہے کہ مجھ پرکس کی حکمرانی ہے؟ اس سوال کا مثالی جواب یہی ہو گا کہ میں خود پر حکمرانی کرتا ہوں اور اپنی مرضی کا مالک ہوں۔ مثبت آزادی کی بحث قدیم ہے، روسو، ہیئکل، مارکس، گاندھی اور اربندو اس کی بہترین مثالیں ہیں جنھوں نے بعد کی آنے والی نسلوں کو بھی خاصا متاثر کیا ہے، اس روایت کا تعلق فرد اور سماج کے فطری رشتوں اور حالات سے ہے،یہ روایت ان رشتوں کی اس طرح اصلاح چاہتی ہے کہ فرد کی شخصیت، اس کی نشو و نما اور اس کی ترقی کی راہ میں کم سے کم رکاوٹیں ہوں، فرد کی مثال ایک پھول کی سی ہے،مٹی ذرخیز ہو،ضرورت کے مطابق سورج کی روشنی اور پانی ہو، پھر اس کی مناسب دیکھ بھال ہو تو وہ کھل اٹھتا ہے۔
انسان کو اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مادی، سیاسی اور سماجی وسائل سے مثبت انداز میں خاطر خواہ فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ غربت اور بے روزگاری سے بچ سکے۔ اپنی خواہشات اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اس کے پاس مادی وسائل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ فیصلہ سازی کے عمل میں ان کو بھی شرکت کا موقع دیا جائے تاکہ قانون سازی کے وقت اس کی پسند و ناپسند اور ضرورتوں کی بھی ملحوظ خاطر رکھا جا سکے۔ ان سب سے بالا تر،انسان کی تعلیم و ذہنی نشو و نما کی غرض سے افراد کی پہنچ ان مواقع تک ہونی چاہیے جس کے ذریعہ وہ ایک معقول زندگی بسر کر سکیں۔

کیا ہمیں اپنے ماحولیا ت کو برباد کرنے کی آزادی ہے؟
مثبت آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف سماج کے اندر ہی آزاد رہ سکتا ہے، سماج کے باہر نہیں۔ اس لیے وہ ایسے سماج کی تشکیل چاہتا ہے جو اس کی ترقی کی راہوں کو زیادہ سے زیادہ ہموار کر سکے۔ جب کہ منفی آزادی کا تعلق عدم مداخلت سے ہے، سماجی حدود ا ور سماجی پابندیوں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ان حالات میں بلاشبہ منفی آزادی اپنے اس مختصر سے دائرہ کو وسیع کرنے کی کوشش کرتی ہے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ سماج کو کچھ تقویت ملے۔ عموماً دونوں قسم کی آزادیاں سماج میں بیک وقت اپنا وجود رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت بھی کرتی ہیں لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک جابر حکمراں مثبت آزادی کا سہارا لے کر اپنے اقتدار کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے۔
اظہار خیال کی آزادی
FREEDOM OF EXPRESSION
اظہار خیال کی آزادی کا مسئلہ عدم مداخلت کے بہت محدود دائرہ سے تعلق رکھتا ہے۔جان اسٹیو رٹ ملؔ نے اس کی کئی اہم وجوہات بیان کی ہیں کہ آخر اظہار خیال کی آزادی پر پابندی کیوں نہیں لگنی چاہیے۔ ہمارے مطالعہ کے لیے یہ ایک اچھی بحث ہے۔
کئی مرتبہ کسی کتاب،ناٹک، فلم یا کسی تحقیقی جریدے پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ کسی کتاب پر پابندی لگائے جانے کے مطالبہ کی بحث کو ایک دلچسپ انداز میں دیکھا جانا چاہیے، ابھی تک ہم نے آزادی کا تجزیہ پسند و ناپسند کی حیثیت سے کیا ہے جس میں ہم نے مثبت اور منفی آزادی کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے اور جس میں آزادی پر جائز حد تک پابندیوں کے لگائے جانے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے لیکن ساتھ ہی ہم نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان پابندیوں کو جائز اور اہم اخلاقی اصولوں اور دلیلوں کے ساتھ لگائے جانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اظہارخیال کی آزادی ایک بنیادی قدرہے ۔ اور جو لوگ اسے محدود کرنا چاہتے ہیں ان سے بچنے کے لیے سماج کو دقتیں برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ذرا والٹیئر کے قول کو یاد کریں،’’تم جو کہتے ہو میں اس کی حمایت نہیں کرتا لیکن میں مرتے دم تک تمہارے کہنے کے حق کی حفاظت کروںگا‘‘ اس قول سے یہ اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ اظہار خیال کی آزادی سے ہمارا کتنا گہرا تعلق ہے۔
چند سال قبل فلم ساز دیپا مہتا نے وارانسی کی بیواوں کی صورت حال پر ایک فلم ’واٹر‘ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ایک سیاسی حلقہ نے اس فلم کی زبردست مخالفت کی، مخالفین نے محسوس کیا کہ یہ فلم غیر ملکی ناظرین کے لیے بنائی جا رہی ہے اس سے ہندوستان اوراس کے قدیم شہر وارانسی کی بدنامی ہوگی۔ نتیجتاً انھوں نے اس فلم کو نہیں بننے دیاجس کے نتیجے میں یہ فلم وارانسی میں نہیں بنی۔ بعد میں یہ فلم کہیں اور بنائی گئی۔ اس طرح سے اوبرائے مینن کی ’’رامائن ری ٹولڈ‘‘ اور سلمان رشدی کی ’’دی سٹانک ورسیز‘‘ نامی کتابوں پر سماج کے کچھ حلقوں کی مخالفت کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی۔ ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ نامی فلم اور ’’می ناتھو رام بولتے‘‘ نامی ناٹک پر بھی زبردست مخالفت کے بعد پابندی لگائی گئی تھی۔
اس قسم کی پابندیاں کچھ وقت کے لیے ایک آسان حل ہوتی ہیں ،لیکن معاشرہ میں آزادی کے نقطۂ نظر سے آگے چل کر یہ کافی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں،کیوںکہ جب ہم کسی مسئلہ پر پابندی عائد کرتے ہیں تو معاشرہ میں پابندیاں لگائے جانے کا رجحان مزید فروغ پانے لگتا ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پابندی کبھی لگائی ہی نہیں جانی چاہیے؟ آخر کار فلموں کی سنسرشپ بھی توہوتی ہے، فلم کے ایک حصہ پر پابندی لگائی جاتی ہے پوری فلم پر نہیں، جن سوالات پر اکثر اختلافات ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ کن حالات میں پابندی عائد کی جانی چاہیے اور کن حالات میں نہیں؟ یا کبھی پابندی ہی نہیں لگنی چاہیے ؟ اسی سے جڑی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں جو بھی حکمرانوں کے لیے کام کرتا ہے وہ قصرِشاہی کی اندرونی باتوں کو منظر عام پر نہ لانے کے لیے ایک سیاسی معاہدہ سے بندھا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قصرشاہی کی ملازمت چھوڑنے کے بعد محل کی اندرونی سیاست پر کوئی انٹرویو دینا چاہے یا کوئی مضمون یا کوئی کتاب لکھنا چاہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ کیا یہ فرد کی اظہار خیال کی آزادی پر ایک غیر منصفانہ پابندی نہیں ہے؟
مختلف قسم کی پابندیاں معاشرہ میں پائی جاتی ہیں اور مختلف حالات میں وہ ہم پر عائد ہوتی ہیں۔ ان پابندیوں کے بارے میں سوچتے وقت ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب یہ پابندی کسی سماجی تنظیم ، مذہبی، تہذیبی، سیاسی یا حکومتی ادارے کی جانب سے طاقت کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے تو یہ ہماری آزادی کو اس طرح محدود کرتی ہے کہ ان کے خلاف لڑنا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر ہم اپنی خواہشات ا ور مقاصد کے حصول کے لیے ان پابندیوں کو قبول کر لیتے ہیں تو ہماری آزادی بہت زیادہ محدود نہیں ہوتی ہے لیکن اگر ہمیں ان پابندیوں یا شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے مجبور کیا جائے تب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری آزادی کو محدود کیا جا رہا ہے۔
ہم نے یہ کہتے ہوئے اس سبق کی شروعات کی تھی کہ آزادی خارجی پابندیوں کی عدم موجودگی کا نام ہے اور اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آزادی ہماری صلاحیتوں و قابلیتوں کے پسند ونا پسند میں چھپی ہوتی ہے ۔ جب ہم اپنی پسند و نا پسند کا انتخاب کرتے ہیں تو ہمیں اپنے کاموں اور اس کے نتائج کی ذمہ داریوں کو بھی قبول کرنا ہوتا ہے اسی لیے آزادی کے زیادہ تر حامی اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ بچوں کی پرورش ان کے والدین کی ہی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ صحیح فیصلہ کرنے،دست یاب مواقع کو اچھی طرح جانچنے اور اپنے کاموں کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کا دارومدار جتنا ہماری تعلیم، تربیت اور شعور پر ہے،اتنا ہی انھیں فروغ دینے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری سماجی اورسرکاری تنظیموں کی بھی ہے۔
اظہارخیال کی آزادی
انیسویں صدی میں برطانیہ کے ایک سیاسی مفکر جان اسٹیورٹ ملؔ نے اظہار خیال کی آزادی پر اپنے نظریات بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کئے ہیں۔ اپنی کتاب ’’آن لبرٹی‘‘ میں مل ؔنے چار وجوہات پیش کی ہیں کہ اظہار خیال کی آزادی انہیں بھی ہونی چاہیے جن کے خیالات موجودہ حالات میں غلط یا گمراہ کن ہیں؟
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی خیال پوری طرح سے غلط نہیں ہوتا۔ جو ہمیں غلط لگتا ہے اس میں سچائی کا عنصر بھی ہوتا ہے اگر ہم غلط یا گمراہ کن خیال پر پابندی عائد کردیں گے تو اس میں چھپے سچائی کے عنصر کو بھی ہم کھو دیں گے۔
دوسری وجہ پہلی وجہ سے جڑی ہے۔ سچائی اپنے آپ پیدا نہیں ہوتی کسی خیال کی مخالفت یا تنازعہ کی صورت میں سچائی نکل کرسامنے آتی ہے ۔ جو خیالات آج غلط لگتے ہیں وہ سچے خیالات کے پیدا ہونے یا ابھرنے میں بے حد قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں۔
تیسری وجہ خیالات کا ٹکراو صرف ماضی میں ہی اہم اور قیمتی نہیں تھا بلکہ ہر دور میں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ سچائی کے بارے میں یہ خطرہ ہمیشہ رہتا ہے کہ وہ ایک ناموافق حالات میں کم ہو جائے یا بدل جائے۔ جب ہم اسے مخالف نظریہ کے سامنے رکھتے ہیں تو ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ خیال سچ ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ ہم یہ یقین نہیں کرسکتے کہ جو کچھ ہم سچ سمجھ رہے ہیں وہی سچ ہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ جن خیالات کو کسی دور میں پورے سماج نے غلط ٹھہرایااور انہیں دبا دیا بعد میں ان کی سچائی کھل کر سامنے آئی۔ کچھ سماج ایسے خیالات کو پوری طرح دبا دیتے ہیں جو آج قابل قبول نہیں ہیں، لیکن ایسے خیالات مستقبل میں بہت اہم اور قیمتی معلومات میں بدل سکتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان خیالات کو دبانے والا سماج ایسے قیمتی علوم اور فوائد سے محروم رہ جاتا ہے۔
مشقیں (Exercise)
1۔ آزادی کے کیا معنٰی ہیں ؟ کیا فرد اور ملک کی آزادی کے درمیان کوئی رشتہ ہے؟
2۔ منفی اور مثبت آزادی کے تصور میں کیا فرق ہے؟
3۔ سماجی پابندیوں کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہر طرح کی پابندیاں آزادی کے لیے ضروری ہیں؟
4۔ ریاست اپنے شہریوں کی آزادی کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
5۔ اظہار خیال کی آزادی کا کیا مطلب ہے؟ آپ کے خیال میںاس آزادی پر کس حد تک پابندی جائز ہے؟ مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجئے۔