Skip to content
Keemiyan II

3-1

باب 3

مساوات

یہ باب مساوات کے تصور کو بیان کرتا ہے ۔ مساوات ایک ایسی قدر ہے جسے ہمارے آئین میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس تصورپر غوروفکر کے دوران درج سوالات کا جائزہ لیا جاتاہے۔
◊   مساوات کیا ہے؟ ہمیں اس اخلاقی اور سیاسی نصب العین سے کیوں سروکار رکھنا چاہیے؟
◊    کیا مساوات کا مقصد ہرشخص کے ساتھ ہر طرح کے حالات میں یکساں سلوک کرنا ہے؟
◊    ہم مساوات کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں عدم مساوات کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟
◊    ہم مساوات کے مختلف پہلووں جیسے سیاسی، معاشی اور سماجی کے درمیان کیسے تفریق کرسکتے ہیں؟
مندرجہ بالا سوالات کو سمجھنے اور ان کے جوابات حاصل کرنے کے دوران آپ کا سامنا عصر حاضر کے کچھ سیاسی تصورات سے ہوگا، مثلاً اشتراکیت،مارکسیت، حریت پسندی اور تحریک آزادی نسواں۔
اس باب میں آپ کی نظروں سے عدم مساوات کے حالات سے متعلق کچھ حقائق اور اعداد و شمار گزریں گے۔ ان حقائق اور اعداد و شمار کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت نہیں  وہ صرف عدم مساوات کی حالت پر آپ کے غور کرنے کے لیے ہیں۔

3.1  مساوات کی اہمیت کیوں ہے؟

?Whay Does Equality Matter

مساوات ایک اعلیٰ اخلاقی اور سیاسی نصب العین ہے جس نے صدیوں تک انسانی معاشرے کو نہ صرف متحرک کیا بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی۔ یہ ان تمام عقیدوں اور مذاہب میں مضمر ہے جو تمام نوع انسانی کے خدا کی مخلوق ہو نے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک سیاسی مقصد کے طور پر مساوات کے تصور میں یہ خیال مضمر ہے کہ تمام انسان یکساں اہمیت کے حامل ہیں خواہ ان کا رنگ، صنف، نسل، قومیت کچھ بھی ہو ،یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ تمام انسان برابر اہمیت اور عزت کا حق رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف ان کی مشترک انسانیت ہے۔ اسی مشترک انسانیت کا تصور عالمی حقوق انسانی یا ’انسانیت کے خلاف جرائم ‘جیسے تصور کے پیچھے کارفرما ہے۔

آئیے اسے کرکے دیکھیں

مختلف مذاہب کی مذہبی کتبوں سے ایسے اقتباسات تلاش کیجیے جو مساوات کی توثیق و تصدیق کرتے ہوں۔ ان کو کلاس میں بہ آواز بلند پڑھیے۔

3-2
ہر وہ شخص جسے میں جانتا ہوں کسی نا کسی مذہب میں اعتقاد رکھتا ہے۔
 ہر وہ مذہب جسے میں جانتا ہوں مساوات کی تبلیغ کرتا ہے۔ پھر اس دنیا 
میں عدم مساوات کیوں ہے۔



دورجدید میں نوع انسانی مساوات کو ان ریاستوں اور سماجی اداروں کے خلاف ایک جوشیلے نعرہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو عہدوں،مالی صورت حال اور خصوصی اختیارات میں عدم مساوات کوجائز ٹھہراتے ہیں۔ 18ویں صدی میں فرانسیسی انقلابیوں نے حریت، مساوات اور اخوت جیسے نعروں کا استعمال زمین دار اور جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والے اشراف اور شہنشاہیت کے خلاف بغاوت کرنے میں کیا تھا ۔ بیسویں صدی میں ایشیا اور افریقہ میں نو آبادیاتی مخالف جدوجہدآزادی کے دوران بھی مساوات کے مطالبے کو اٹھایا گیا تھا ۔ یہ آواز جدوجہد میں شامل کچھ طبقوں جیسے خواتین اور دلتوں کے ذریعہ آج بھی اٹھائی جاتی ہے کیوںکہ انھیں سماج میں حاشیہ پر پہنچا دیے جانے کا احساس ہے۔ آج کی تاریخ میں مساوات وسیع پیمانے پرتسلیم کردہ ایک قدر ہے جو زیادہ تر ممالک کے آئین اوردستور میں شامل ہے ۔
تاہم یہ عدم مساوات ہی ہے ناکہ مساوات،جونہ صرف دنیا میں بلکہ ہمارے اپنے سماج میں بھی نمایاں طورپر موجودہے۔ ہم اپنے ملک میں عالیشان اور فلک بوس عمارتوں کے آس پاس جھگی جھونپڑیوں، عالمی پیمانہ کی سہولتوں اور ایئر کنڈیشنڈ کلاس روم والے اسکولوں کے ساتھ پینے کے پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات سے محروم اسکول، خوردنی اشیا کے فضلے اورفاقہ کشی ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔یہ قانونی وعدے اور اردگرد کے حقائق کے مابین واضح فرق کی مثالیں ہیں۔ 
عالمی عدم مساوات پر مبنی حقائق اور اپنے ملک میں عدم مساوات پرمبنی جدول کو دیکھئے۔

عالمی عدم مساوات پر مبنی حقائق

دنیا کے امیر ترین 50 افراد کی مشترکہ آمدنی مفلوک ترین 40کروڑ لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔
دنیا کی آبادی کے غریب ترین 40 فی صد لوگ عالمی آمدنی کا صرف 5 فی صد حصہ پاتے ہیں،جب کہ دنیا کی آبادی کے 10 فی صد امیر ترین عالمی آمدنی کا 45 فی صد حصہ پاتے ہیں۔
صنعتی طور پر دنیا کے پہلے ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر شمالی امریکہ اور مغربی یورپ، جن کی کل آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا 25 فی صد ہے، دنیا کی صنعت کے 86 فی صد حصہ کے مالک ہیں اور دنیا کی مجموعی توانائی کا 80 فی صد حصہ خرچ کرتے ہیں۔
انفرادی طور پر ترقی یافتہ صنعتی ممالک کا کوئی ایک باشندہ کسی ترقی پذیر ملک جیسے بھارت یا چین کے کسی ایک باشندے کے مقابلے میں اوسطاً 3 گنا پانی، 10 گنا توانائی، 13 گنا لوہا اور14 سگنا کاغذ خرچ کرتاہے۔
حمل کے دوران موت کا خطرہ نائجیریا میں ہر 8 عورتوں میں سے ایک کو ہے جب کہ کناڈا میں ہر 8700 عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو ہے۔
پہلی دنیاکے صنعتی ممالک قدرتی تیل کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عالمی اخراج میں دو تہائی حصہ کے ذمہ دار ہیں۔
وہ تیزابی بارش (Acidic rain)کا سبب بننے والے گندھک (Sulpher) اور نائٹروجن کے آکسائڈوں کے فضا میں تین چوتھائی حصہ کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔اسی وجہ سے اونچے درجہ کی ماحولیاتی کثافت والی صنعتیں ترقی یافتہ ممالک سے غیر ترقی یافتہ یا کم ترقی یافتہ ممالک کو منتقل کی جا رہی ہیں۔
ماخذ: ہیومن ڈولپمنٹ رپورٹ، July 2005 

بھارت میں معاشی عدم مساوات

یہاں پر ہندوستان کی 2001کی مردم شماری سے کچھ گھریلو سہولتوں اور اثاثوں کے بارے میں حاصل کردہ معلومات دی جارہی ہیں۔ آپ کو ان اعداد و شمار کو ذہن نشیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ صرف پڑھیئے اور ملک میں شہری اور دیہی زندگی میں فرق کی حد پر غور کیجیے۔ اس میں آ پ کا خاندان کس خانے میں آئے گا؟
دستیاب سہولیات والے خاندان          دیہی خاندان          شہری خاندان               اپنے خاندا ن کے لیے
                      (صحیح√یا غلطΧ کا نشان لگائیں)      
بجلی کی فراہمی                        %44     %8
گھروں میں پانی کی فراہمی                %10    %50
گھروں میں غسل خانے   %23    %70
ٹیلی ویژن               %19                  %64
اسکوٹر یا موپیڈ یا موٹرسائیکل            %7    s %25
کار / جیپ/ وین                    %1       %6


ham kiun.
ہم کیوں عالمی یا قومی عدم مساوات کی بات کرتے ہیں جب کہ ہمارے چاروں طرف ہی عدم مساوات کا عالم ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا؟ صرف یہ دیکھئے کہ میرے والدین کس طرح میرے مقابلہ میں میرے بھائی کی زیادہ تائید کرتے ہیں۔



ہمارے سامنے عجیب گومگوکی کیفیت ہے،لگ بھگ ہر شخص مساوات کی اہمیت تسلیم کرتا ہے، پھر بھی ہم لگ بھگ ہر جگہ عدم مساوات کا سامنا کرتے ہیں،ہم غیر مساوی دولت، مواقع، کام کاج کی صورت حال اور غیر متوازن طاقت کی ایک پیچیدہ دنیا میں رہتے ہیں۔ کیا ہمیں ان تمام اقسام کی عدم مساوات سے کوئی سروکارنہیں ہونا چاہیے ؟ کیا وہ ہماری سماجی زندگی کی ایک مستقل اور ناگزیر خصوصیت بن گئی ہیں جو انسانوں کی قابلیت اور ہنرمیں تفریق کی عکاسی کرتی ہیں اورساتھ ہی سماجی ترقی اور خوشحالی میں ان کی مختلف معاونتوں کی بھی؟ یا یہ عدم مساوات ہماری سماجی حیثیت اور ـــضابطوں کا نتیجہ ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ساری دنیا کے لوگوں کو سالہا سال سے پریشان کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کا ایک سوال مساوات کو سماجی اور سیاسی نظریہ کا مرکزی موضوع بحث بناتا ہے ۔ سیاسی نظریہ کے طالب علم کو مختلف سوالات کی طرف ر جوع کرنا پڑتا ہے، جیسے مساوات کا مفہوم کیاہے؟ کیوںکہ ہم کئی معنوں میں مختلف ہیں تویہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ہم برابر یا مساوی ہیں؟ مساوات کے نصب العین سے ہم کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم آمدنی اور رتبہ کی تمام تفریقوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،با الفاظ دیگرہم کس قسم کی مساوات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کس کے لیے؟ مساوات کے تصور کے سلسلہ میں بعض دیگر سوالات جو اکثر اٹھائے جاتے ہیں اور جن پر ہم یہاں غور کریں گے وہ ہیں: مساوات کو آ گے بڑھانے کے لیے کیا ہمیں تمام افراد سے بالکل یکساں طور پر برتاو کرنا چاہیے؟ کوئی سماج یہ کیسے طے کرے گا کہ برتاو اور انعام کے کون سے اختلافات قابل قبول ہیں اور کون سے نہیں؟ مزید یہ کہ کس قسم کی حکمت عملیاں اپنانی چاہئیں تاکہ کوشش کر کے سماج کو زیادہ مساوات کی طرف مائل بنایا جائے۔

3.2مساوات کیا ہے؟

ان تصاویر پر غور کیجیے





gair safaid

غیر سفید فام لوگوں کا نظم پیچھے ہے
پینے کا پانی
سفید فام
غیر سفید فام
آرام گھر

 
یہ تمام تصاویر رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق کرتی ہیں اور یہ ہم لوگوں میں سے زیادہ تر کو ناقابل قبول محسوس ہوتی ہیں۔ در حقیقت یہ تفریقات ہماری مساوات پر وجدانی غور و فکر کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ یہ غور و فکر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمام نوع انسانی اپنی مشترک انسانیت کے سبب یکساں عزت و احترام اور لحاظ کی حق دار ہے۔  
تاہم لوگوں کے ساتھ یکساں عزت و ا حترام کے ساتھ پیش آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا برتاو کیا جائے۔ کوئی بھی معاشرہ اپنے تمام افراد کے ساتھ ہر طرح کے حالات میں بالکل ایک جیسا سلوک روا نہیں رکھتا۔ معاشرہ میں صحیح سے اپناکام کرتے رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کام اورذمہ داریوں کی تقسیم ہو ، لوگ اسی وجہ سے اکثر مختلف عہدے اور اکرام سے نوازے جاتے ہیں۔ اکثر و بیشتر مختلف طور پر روا رکھے جانے والے سلوک صرف قابل قبول نہیں ہوتے ہیں بلکہ ضروری بھی، مثال کے طور پر ہم بھی وزیراعظم یا فوج کے جرنل کو ایک خصوصی سرکاری عہدہ اور رتبہ دینے میں یہ قطعی محسوس نہیں کرتے کہ یہ مساوات کے تصور کے خلاف ہے بشرط یہ کہ ان مراعات کا بیجا استعمال نہ کیا جائے، لیکن بعض دوسری اقسام کی عدم مساوات غیر منصفانہ لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایسے بچے کو جو کسی جھگی جھونپڑی میں پیدا ہوا ہے، غذائیت سے بھر پور کھانا اور اچھی تعلیم اس کی اپنی کسی طرح کی غلطی نہ ہونے پر بھی نہ ملے تویہ نا مناسب محسوس ہوگا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی تفریقات اور کون سے اختلافات قابل قبول ہیں اور کون سے نہیں؟ جب لوگ صرف اس وجہ سے تفریق کا شکار بنتے ہیں کہ وہ کسی خاص مذہب ، نسل یا ذات یا صنف سے پیدائشی طور پر وابستہ ہیں تو ہم اس کی عدم مساوات کو ناقابل قبول شکل سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن انسان اپنے لیے مختلف آرزووں اورا ہداف طے کرتا ہے اور پھر ان کے لیے سعی کرتا ہے، لیکن سبھی انسان مساوی طور پر کامیاب نہیں ہوتے۔ جب تک وہ کوشش اور ترقی سے بہترین بنتے ہیں،ہم کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ مساوات کی نفی ہوئی ہے۔ ان میں سے بعض لوگ اچھے موسیقار بن سکتے ہیں جب کہ بعض دوسرے ان کے ہم پلہ اعلیٰ درجہ کے نہیں ہو پاتے، بعض لوگ مشہور سائنسداں بن جاتے ہیں جب کہ بعض دوسرے لوگ اپنی محنت، لگن اور فرض شناسی کی وجہ سے ممتاز درجہ حاصل کرتے ہیں۔ مساوات کے تصور کے تئیں عہد بستگی کا مطلب ہر طرح کے اختلافات کو قطعی طورپرختم کر دینا نہیں ہوتا اس سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ جو سلوک ہمارے ساتھ روا رکھا جائے اور جو مواقع ہمیں ملیں وہ پیدائشی یا سماجی حالات کی بناپر پہلے سے ہی طے  نہ کیے جائیں۔

یکساں مواقع کی فراہمی Equality of opportunities 

مساوات کے تصور کا مطلب ہے کہ تمام لوگ،انسان ہونے کے ناتے، اپنے ہنر اور صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اپنی آرزووں اورا ہداف کو حاصل کرنے کے لیے یکساں مواقع اور حقوق رکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں لوگ اپنی پسند اور انتخابات کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں ہنر اور صلاحیتوں کی موجودگی کے سبب بھی فرق ہو سکتا ہے نتیجتاً ان میں سے بعض لوگ اپنے اختیار کردہ پیشہ میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ کچھ لوگ اعلیٰ درجہ کے کرکٹ کھلاڑی بن گئے یا کامیاب وکلاء بن گئے، معاشرہ کو غیر مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ با لفاظ دیگر اس میں عہدے، رتبے، یا دولت یا مراعات کی مساوات کے نا ہونے یا کم ہونے کی اہمیت نہیں ہے بلکہ غیر مساوی طور پر لوگوں کی ان بنیادی ضرورتوں تک رسائی ہے جیسے تعلیم،طبی سہولیات، محفوظ رہائش وغیرہ جو غیر مساوی اورغیر منصفانہ معاشرے کی تعمیر کرتی ہیں۔

فطری اور سماجی عدم مساوات

Ntural And Social Inequalities


سیاسی نظریے میں کبھی کبھی فطری عدم مساوات اور سماج کی پیدا کردہ عدم مساوات کے درمیان فرق کیا جاتاہے فطری عدم مساوات اسے کہا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان ان کی الگ الگ صلاحیتوں اور ان کی ذہانت کے مختلف درجات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس قسم کی عدم مساوات سماج کی پیدا کردہ عدم مساوات سے قطعی مختلف ہیں جومساوی مواقع کی عدم فراہمی کے نتیجے میں یا سماج کے کسی خاص طبقہ کا کسی دوسرے طبقہ کے ذریعہ کیے جانے  والے استحصال سے پیدا ہوتا ہے۔


mard
مرد خواتین سے برتر ہیں۔ یہ ایک فطری عدم مساوات ہے آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔

aaaaa
میں ہر مضمون میں آپ سے زیادہ نمبر لاتی ہوں اور میں گھریلو کاموں میں ماں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہوں‘ پھر کون سی شئے آپ کو برتر بناتی ہے؟


فطری عدم مساوات ان مختلف خاصیتوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ سمجھی جاتی ہیں جو لوگوں میں پیدائشی طور پر پائی جاتی ہیں۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ فطری تفریق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف سماجی عدم مساوات ان کو کہا جاتا ہے جو سماج پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض معاشروں میں دماغی یا ذہنی کام کرنے والوں کو محنت کش اور مزدور طبقے پر فوقیت دی جاتی ہے اور ان کو مختلف انداز میں نوازا جاتا ہے۔ وہ مختلف نسل، رنگ، صنف یا ذات کے لوگوں سے مختلف انداز میں سلوک کرتے ہیں۔ اس طرح کی تفریق ایسے سماجی اقدار کی عکاسی کرتی ہے اور ان میں سے بعض یقینا غیر منصفانہ معلوم ہوتی ہیں۔
یہ تفریق بعض اوقات سماج میں موجود قابل قبول عدم مساوات اور غیر منصفانہ عدم مساوات کے درمیان امتیاز کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے لیکن یہ ہمیشہ صاف طور پر یا اپنے آپ ظاہر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر جب لوگوں کے ساتھ سلوک روا رکھنے میں بعض عدم مساوات ایک عرصہ دراز سے موجود ہو تو ہمیں ظاہری طور پر منصفانہ لگنے لگتی ہیں، کیوںکہ وہ فطری عدم مساوات پر مبنی ہیں‘ یعنی وہ خاصیتیں جن کے ساتھ کوئی انسان پیدا ہوا ہے اور ان کو آسانی سے نہیں بدلا جاسکتا۔ اس کی ایک اور مثال ہے کہ عورتوں کو عرصہ دراز سے صنف نازک کے طور پر جانا جاتا ہے، ان کو ڈرپوک اور شرمیلا اور مرد کے مقابلہ میں ناقص العقل سمجھا جاتا ہے،جسے ایک خاص تحفظ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے یہ محسوس کیا گیا کہ عورتوں کو مساوی حقوق سے محروم کرنا منصفانہ عمل ہو سکتاہے۔ افریقہ کے سیاہ فام لوگوں کو ان کے نو آبادیاتی نظام والے آقاوں نے کمتر درجہ کی عقل و فہم والا، بچکانہ اور صرف محنت کے کام میں بہتر یا کھیلوں اور موسیقی میں ماہر سمجھا۔ اس اعتقاد کااستعمال غلامی جیسے بدنما دستور کو حق بجانب ٹھہرانے میں کیا گیا، یہ تمام تشخیص آ ج کل سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ ان کو آج میں ایسی تفریقات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سماج نے قوموں اور لوگوں کے درمیان طاقت کے توازن  میں فرق کے باعث وضع کیں نہ کہ پیدائشی طور پر موجود خاصیتوں کی بنیاد پر۔ 
ایک اور مسئلہ جو فطری تفریق کے تصور سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کچھ تفریقات جن کو فطری سمجھا جاتا ہے وہ اب ناقابل تبدیل نہیں رہی ہیں۔ مثلاً طبی سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی اور جدید کاری نے بہت سے معذور لوگوں کو سماج میں پراثر طریقہ سے زندگی گزارنے میں مدد دی ہے۔ آج کل کے دور میں کمپیوٹر نابینا افراد کی مدد کر سکتے ہیں،جسمانی طور پر معذور لوگوں کے لیے پہیہ کرسی ،مصنوعی بازو اور ٹانگیں مدد کے لیے موجود ہیں، یہاں تک کہ جراحی برائے زینت سے کسی بھی انسان کا چہرہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مشہور طبعی سائنسداں اسٹیفن ہاکنگس مشکل سے ہی حرکت کر سکتے تھے یا بول سکتے تھے پھر بھی انہوں نے سائنس کی ترقی میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ بات غیر منصفانہ لگے گی اگر معذور لوگوں کو اپنی معذوریت کے اثرات پر قابو پانے کے لیے ضروری مدد نہیں دی جاتی یا ان کے کاموں کا معقول معاوضہ صرف ان ہی اسباب سے نہیں ملتا ہے کہ وہ فطری طور پر کچھ کرنے کے کم اہل ہیں۔
ان تمام پیچیدگیوں کے رہتے فطری یا سماج کے پیدا کردہ امتیاز کو ایک ایسے معیار کے طور پر استعمال کرنا بہت مشکل ہوگا جس سے سماج کے قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اسی وجہ سے بہت سے نظریہ ساز آج ان عدم مساوات کے مابین تفریق کرتے ہیں جو ہمارے اپنے انتخاب کی بنا پر عمل پذیر ہیں اورجس خاندان میں وہ پیدا ہوا ہے اس کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے عمل پذیر ہیں ۔ ان میں سے آخر الذکر مساوات کے علمبرداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے اور اسی کو وہ معاشرے سے کم کرنے اور اس کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہیں۔

3.3  مساوات کے تین پہلو

Three Dimensions Of Equality


اس بات پر غور کرنے کے بعد کہ کس قسم کی سماجی تفریقات ناقابل قبول ہیں ہمیں اس بات پر غور کرناچاہیے کہ مساوات کے وہ مختلف پہلو کیا ہیں جن کے لیے یا سماج میں جن کے حصول کے لیے ہم کوشش کر سکتے ہیں۔ سماج میں موجود مختلف اقسام کی عدم مساوات کی نشاندہی کرتے ہوئے بہت سے مفکروں اور نظریہ سازوں نے مساوات کے تین اہم پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ تین پہلو ہیں ۔سیاسی، سماجی اور معاشی ۔مساوات کے ان تین مختلف پہلووں پر توجہ دینے کے بعد ہم کسی منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔

سیاسی مساوات

Political Equality 

عام طور سے کسی جمہوری معاشرے میں سیاسی مساوات کو بروئے کار لانے کا مطلب ملک کے ہر با شندے کو برابر کا حق شہریت عطا کرنا ہے،جیسا کہ آپ شہریت کے باب میں پڑھیں گے کہ مساوی شہری حقوق کے ساتھ بعض بنیادی حقوق بھی ملتے ہیں جیسے رائے دہندگی کا حق، آزادی رائے کا حق،حرکت اور معاونت اور اعتقاد کی آزادی۔ یہ وہ حقوق ہیں جو شہریوں کی ترقی اور حکومت کے سیاسی معاملات میں شامل ہونے کے لیے انتہائی ضروری تصور کیے جاتے ہیں،لیکن یہ قانونی حقوق ہیں اور ان کی قانون اور آئین کے ذریعہ ضمانت دی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قابل لحاظ عدم مساوات ان ممالک میں بھی موجودہے جو اپنے شہریوں کو برابر کے حقوق دیتے ہیں۔ یہ عدم مساوات اکثر و بیشتر سماجی اور معاشی دائروں میں شہریوں کو دست یاب ذرائع اور مواقع میں تفریق کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر برابر کے ’یکساں میدان عمل‘کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ سیاسی اور قانونی مساوات خود اپنے طور پر ایک منصفانہ اور انسانی مساوات میں عقیدہ رکھنے والے سماج کو بنانے کے لیے کافی نہیں ہیں، لیکن یہ یقینا اس کا ایک بہت ضروری جزوہیں۔

سماجی مساوات

Social Equqlity


سیاسی مساوات یا قانون کی نظروں میں برابری، مساوات کے حصول کی جانب یہ پہلا ضروری قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ برابر کے مواقع کی فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اول الذکر ایسی کسی بھی قسم کی قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے جو لوگوں کو حکومت کے معاملات میں اپنی رائے دینے سے الگ کر سکے اور انھیں دست یاب سماجی سہولیات تک رسائی سے محروم کر سکے، جب کہ مساوات کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ مختلف جماعتوں اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی ان سماجی سہولیات اور مواقع کے حصول کی کوششوں میں منصفانہ اور برابر موقع ملے۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ سماجی اور معاشی عدم مساوات کے اثر کو کم سے کم کیا جائے اور سماج کے ہر فرد کو کم سے کم زندگی گزارنے کے لیے خاص سطح کی ضمانت دی جائے۔ ان میں مناسب طبی سہولیات اچھی تعلیم کے مواقع، مناسب غذائیت اور کم سے کم کچھ اجرت، دیگر ضروریات زندگی شامل ہیں۔ ان سہولیات کی غیرموجودگی میں سماج کے ہر فرد کے لیے برابری کی بنیاد پر مقابلہ میں شامل ہونا حد سے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔جب مواقع کی فراہمی میں برابری نہیں ہوتی تو سماج کی قومی صلاحیت کے ایک بہت بڑے ذخیرے کے ضائع ہو جانے کا امکان پیداہو جاتا ہے۔
بھارت کو ایک خاص مسئلہ برابر کے مواقع کی فراہمی کے تعلق سے درپیش ہے جو صرف سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض ان روایات اور رسوم کی وجہ سے جو ملک کے مختلف حصوں میں یا مختلف جماعتوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض سماجی گروہوں میں عورتوں کو وراثت میں مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں یا ان کے بعض اقسام کے کاموں میں عملی حصہ لینے پر سماجی بندشیں ہو سکتی ہیں۔ یا ہو سکتا ہے کہ سب کو ابھی تک مساوی قانونی حقوق ملنے باقی ہوں،ایسی پالیسیاں بنانا باقی ہوں جو عوامی جگہوں یا روزگار کی جگہوں پران کے ساتھ امتیاز برتنے اور انھیں ہراساں کیے جانے سے روک سکیں، تعلیمی ادارے کھولنے اور بعض ماہرانہ پیشے اختیار کرنے پر ان کو مراعات دینے اور ایسے دیگر اقدام کیے جانے باقی ہوں۔ لیکن سماجی گروپوں کو اور انفرادی طور پر لوگوں کو اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ان کی مدد کرنا ہوگی جو اپنے حقوق کو بروئے کارلانا چاہتے ہیں۔

تعلیم میں عدم مساوات

کیادرج ذیل جدول میں بیان کردہ مختلف سماجی طبقوں کی تعلیمی حصولیابیوں میں فرق اہمیت کا حامل ہے؟ کیا یہ فرق اتفاقیہ ہے یا یہ فرق ذات پات پر مبنی نظام کا عملی نتیجہ ہے؟ آپ کے نزدیک ذات پات کے نظام کے علاوہ کون سے عامل اس میں کارفرما ہیں؟
ہندوستانی شہروں میں اعلیٰ تعلیم کے تعلق سے ذات اور برادری پر مبنی عدم مساوات

ذات یا برادری                       گریجویٹس فی ہزار نفوس
 درج فہرست ذات                  47
مسلم 61
ہندو ۔ او بی سی(پس ماندہ طبقہ) 86
درج فہرست قبائل 109
عیسائی 237
سکھ 250
ہندو ۔ اعلیٰ ذات 253
دیگر مذاہب 315
کل ہنداوسط 155
ماخذ: ’نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن‘ 55 وا ں دور  سروے 1999-2000 

آئیے اس پر بحث و مباحثہ کریں

خواتین کو فوج کی جنگجو اکائیوں میں شامل ہونے کی اجازت ہونی چاہیے اور نہیں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے مواقع ملنے چاہیے۔

معاشی مساوات  Economic Equity

آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشی نا برابری سماج میں تبھی وجود میں آتی ہے جب انفرادی اور گروہوں کے درمیان دولت جائداد اور آمدنی میں قابل لحاظ فرق ہوں۔ معاشی نا برابری کی سطح کی پیمائش کا ایک طریقہ مالدار ترین اور غریب ترین گروہوں کے درمیان باہمی فرق کو جانچنا ہو سکتا ہے ۔ دوسرا طریقہ غریبی کی سطح سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد کا تخمینہ لگانا ہو سکتا ہے۔ دراصل مکمل مساوات چاہے دولت کے تعلق سے ہو چاہے آمدنی کے، شاید کبھی بھی کسی بھی سماج میں نہیں رہی ہے۔ آج کل زیادہ تر جمہوری ممالک لوگوں کو مساوی مواقع یہ سوچ کر فراہم کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے کم سے کم ان لوگوں کو اپنی حالت بہتر کرنے کا موقع ملے گا جو صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں۔ برابری کے مواقع ملنے کے باوجود افراد کے درمیان عدم مساوات برقرار رہ سکتی ہیں لیکن پھر بھی اس کا امکان ہے کہ معقول کوشش کرنے سے فرد کی سماجی حیثیت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ 
عدم مساوات جو سماج میں پیوست ہوجاتی ہیں یعنی جو پیڑھی در پیڑھی قائم رہتی ہیں وہ کسی بھی سماج کے لیے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر کسی سماج کے بعض طبقے نسل در نسل قابل لحاظ یا خطیر رقم  دولت کی وجہ سے طاقت اور رسوخ حاصل کر لیتے ہیں تو سماج کا یہ طبقہ،جو نسل در نسل غریب رہنے والے طبقوں میں بٹ کر رہ جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کی سماجی تقسیم، غصہ اور تشدد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ دولت مند طبقے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے سماج کو اعتدال پسند اور مساوات میں یقین رکھنے والے سماج  میں بدلنا بہت مشکل کام ہو سکتا ہے۔

a drem
ریاستہائے متحدہ امریکہ میں نسلی عدم مساوات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں ۔ ہمارے ملک میں کون سی جماعت یا جماعتیں ایسی ہی عدم مساوات کا شکار ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اس قسم کی عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے کون سی پالیسیاں اختیار کی گئیں؟ کیا ان کے تجربات سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے؟ کیا وہ بھی ہمارے تجربات سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

آئیے اس پرعمل کریں

ایسے اسکول کے طلبا میں پائے جانے والے سماجی اور معاشی عدم مساوات کی ایک فہرست بنائیں۔

مارکسیت اور حریت پسندی ہمارے زمانے کے دو اہم سیاسی نظریات ہیں۔مارکس انیسویں صدی کا اہم مفکر تھا جس نے اس دلیل پر بحث کی کہ سماج میں اپنی جڑیں محفوظ کرچکی عدم مساوات کی اصلی وجہ اہم معاشی ذرائع جیسے تیل یا زمین یا جنگل اور اس کے علاوہ دوسری جائدادوںکا نجی ملکیت میں ہونا ہے۔ اس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اس طرح کی نجی ملکیت نے نہ صرف یہ کہ ان مالکان کے طبقہ کو دولت مند بنایا بلکہ اس نے انھیں سیاسی اثر و رسوخ بھی دیا۔ یہ اثر و رسوخ ان کو حکومت کی پالیسیوں اور قوانین کو متاثر کرنے کے قابل بناتا ہے اور یہ جمہوری حکومتوں کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتاہے۔ مارکسی اور اشتراکی یہ محسوس کرتے ہیں کہ معاشی عدم مساوات دیگر قسم کی سماجی عدممساوات کو مدد فراہم کرتی ہیں، جیسے عہدے اور مراعات کی تفریق۔ اس لیے سماج میں مساوات کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ہمیں مساوی مواقع کی فراہمی سے آگے جانے کی ضرورت ہے اور کوشش کرکے یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ضروری ذرائع، وسائل اور تمام قسم کی جائیداد وں پر عوام کا تسلط ہو۔اس طرح کے خیالات موضوع بحث ہو سکتے ہیں لیکن ان کے بیان کردہ اہم مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک مخالف نقطئہ نظر حریت پسندوں کے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ حریت پسند مقابلہ کے اصولوں کو سماج میں ذرائع کی تقسیم اور انعامات کے لیے انتہائی مؤثراور جائز طریقہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر چہ حکومت کی  کوشش ہوتی ہے کہ ہرشخص کو معیاری زندگی اور برابر کے مواقع دست یاب ہوں، لیکن وہ دخل اندازی بھی کر سکتی ہے مگر یہ خود سماج میں مساوات اور انصاف نہیں لا سکتی۔ افراد کے درمیان آزادانہ اور منصفانہ حالات میں مقابلہ آرائی سماج میں انعام اور اکرام کی تقسیم کا انتہائی جائز اورمؤثر طریقہ ہے۔ ان کے مطابق مقابلہ آرائی کا میدان جب تک سب کے لیے کھلا ہے اور آزادانہ ہے، عدم مساوات کا اپنی جڑیں مضبوط کرنا ناممکن ہے اور لوگوں کو ان کی کوششوں اور صلاحیتوں کا معقول معاوضہ و انعام ملے گا۔
حریت پسندوں کے لیے ملازمتوں یا تعلیمی اداروں میں امیدواروں کے انتخاب کے لیے مقابلہ آرائی کا اصول سب سے زیادہ منصفانہ اور مؤثر ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں طلبا کی ایک بڑی تعداد پیشہ ور کورسوں میں داخلہ کی امیدوارہوتی ہے اور ان میں داخلہ کے لیے سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ وقتاً فوقتاً حکومتیں اور عدالتیں، تعلیمی اداروں اور داخلہ کے لیے مقابلہ جاتی امتحانوں کو باضابطہ کرنے کے لیے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہر امیدوار کو منصفانہ اور برابر کا موقع ملے،اقدام کرتی ہیں۔اس کے باوجود بھی بعض لوگوں کو داخلہ نہیں مل پاتا لیکن یہ محدود نشستوں کی تقسیم کا منصفانہ عمل ہے۔
 اشتراکیوں کے برعکس حریت پسند یہ نہیں مانتے تھے کہ سیاسی ،معاشی اور سماجی عدم مساوات کا ایک دوسرے سے تعلق ہونا ضروری ہے ۔ان کا وثوق سے یہ کہنا ہے کہ ان تینوں میدانوں میں عدم مساوات کو مناسب طریقے سے حل کیا جائے۔ پس جمہوریت سیاسی مساوات فراہم کرنے میں مدد کر سکتی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ سماجی اور معاشی مساوات سے نپٹنے کے لیے مختلف قسم کی حکمت عملیوں کو وضع کیا جائے۔ حریت پسندوں کے لیے عدم مساوات مسئلہ نہیں ہے بلکہ غیر منصفانہ اور سماج میں مضبوط جڑیں جمائے عدم مساوات اصل مسئلہ ہیں جو افراد کو اپنی صلاحیتوں کو ترقی دینے سے روکتی ہیں۔ 

 تحریک مساوات نسواں

niswan
تحریک مساوات نسواں یا آزادی نسواں ایک سیاسی فلسفہ ہے جو مرد و خواتین کو برابری کے حقوق دئے جانے کی وکالت کرتا ہے۔ حامیانِ مساوات نسواں وہ مرد و خواتین ہیں جن کا یہ اعتقاد ہے کہ بہت سی وہ عدم مساوات جو ہم سماج میں مردوں اور عورتوں کے مابین دیکھتے ہیں ناتو فطری ہیں اور نا ہی ضروری ان کو تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے جس سے مردا ور عورت دونوں ہی آزادانہ اور برابر کے حقوق والی زندگی گزار سکتے ہیں۔
حامیانِ مساوات نسواں کے نظریہ کے مطابق سماج میں مرد اورعورت کے مابین عدم مساوات، سربراہ خاندان کے مرد (اکثر باپ) ہونے کا نتیجہ ہے، یہ اصطلاح اس سماجی، معاشی اور ثقافتی نظام کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں مردوں کو عورتوں پر زیادہ فوقیت حاصل ہے اور جو مردوں کو خواتین پر غالب کرتاہے۔ خاندان کے سربراہ کا مرد ہونا اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ مرد اورعورت فطری طور پر مختلف ہیں اور یہ تفریق ان کی سماج میں غیرمساوی حیثیت کو جائز ٹھہراتی ہے۔ حامیانِ مساوات نسواں سوچنے کے اس طریقہ پر ہی سوال اٹھاتے ہیں جس میں ’صنف‘ یعنی مرد و خواتین کے مابین حیاتیاتی تفریق اور ’جنس‘ جو مرد و خواتین کے مابین سماج میں مختلف کردار ادا کرنا طے کرتا ہے، کے درمیان امتیاز کر کے۔ مثال کے طور پر یہ حیاتیاتی حقیقت کہ صرف عورت ہی حاملہ ہو سکتی ہے اور بچے پیدا کرتی ہے اس بات کا جواز نہیں ہے کہ صرف عورت ہی بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی دیکھ بھال کرے، حامی ِمساوات نسواں کا کہنا ہے مرد و خواتین کے مابین عدم مساوات سماج کی پیدا کردہ ہے نہ کہ فطرت کی۔
خاندان کے سربراہ کا مرد ہونا ایک ایسا نظام تقسیم پیدا کرتا ہے جس میں خواتین نجی اور گھریلو خانگی معاملات کے لیے ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں جب کہ مردوں کو عوامی سطح کے کاموں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے ۔ حامیانِ مساواتِ نسواں اس تفریق پر بھی سوال کرتے ہوئے اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقت میں بہت سی ’’خواتین عوامی سطح پر‘‘ عمل پیرا ہیں، مطلب یہ کہ بہت سی عورتیں پوری دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں گھر سے باہر کام کرتی ہیں، لیکن پھر بھی وہ خانگی کاموں کے کئے تنہا ہی ذمہ دار مانی جاتی رہی ہیں۔ تاہم اس میں’’ دوہرے بوجھ‘‘ حامیانِ مساوات نسواں کی اصطلاح کے باوجود خواتین کو عوامی سطح پر لیے جانے والے فیصلوں میں رائے دہی کا موقع نہیں دیا جاتا یا اگر دیا جاتا ہے تو بہت کم۔ حامی مساوات نسواں کی جدوجہد یہی ہے کہ اس عوامی یا نجی امتیاز کو اور جملہ اقسام کی جنسی عدم مساوات کو ختم کیا جا ئے اوراسے ختم کیا جاسکتاہے۔

niswan-1

اشتراکیت

اشتراکیت سے ان مختلف سیاسی خیالات کا حوالہ ملتا ہے جو صنعتی سرمایہ داری ،معیشت کی پیداکردہ اور اس نظام میں موجود عدم مساوات کے رد عمل کے طور پر ظہور میں آئے ۔ اشتراکیت کا خاص سروکار اس بات سے ہے کہ موجودہ عدم مساوات کو کیسے کم کیا جائے اور وسائل کو منصفانہ طریقہ سے کیسے تقسیم کیا جائے ۔ حالاںکہ اشتراکیت کے علمبردار بازاری رجحان کے مکمل مخالف نہیں ہیں۔وہ بعض قسم کے حکومت کے عائد کردہ ضابطوں، منصوبہ بندیوں اور بعض کلیدی شعبوں مثلاً تعلیم اور صحت عامہ پر مکمل سرکاری تحویل کے طرف دار ہیں۔
بھارت کے ممتاز اشتراکی مفکر رام منوہر لوہیا نے پانچ اقسام کی عدم مساوات کی نشاندہی کی جن کے خلاف انھوں نے ایک ساتھ جدو جہد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ پانچ عدم مساوات ہیں: مرد و خواتین کے مابین عدم مساوات،جلد کے رنگ پر مبنی نامساوات، ذات برادری پر مبنی عدم مساوات،کچھ ممالک کی دوسرے ممالک پر حکمرانی اور آخری معاشی عدم مساوات ۔ آج کی تاریخ میں یہ اپنے آپ ظاہر ہونے والا خیال لگتا ہے۔لیکن لوہیا کے دور میں اشتراکیوں کے لیے اس بات پر بحث و مباحثہ عام بات تھی کہ صرف طبقہ جاتی عدم مساوات ہی اکلوتی عدم مساوات کی شکل ہے جس کے خلاف جدوجہد ضروری تھی۔ان کے نزدیک دوسری نامساویاں زیادہ اہم نہیں تھیں یا وہ یہ سمجھتے تھے کہ معاشی عدم مساوات کے خاتمہ کے ساتھ ہی دوسری نامساویاں اپنے آپ ختم ہو جائیںگی۔ لوہیا نے دلیل دی کہ ہر ایک عدم مساوات کی اپنی آزادانہ جڑیں ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد الگ الگ مگر بیک وقت ضروری ہے۔ انہوں نے انقلاب کو واحد اکائی کے طور پر نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک ان پانچوں عدم مساوات کے خلاف جدوجہدکے لیے پانچ انقلابات کی تشکیل کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس فہرست میں دو انقلابات کا اضافہ اور کیا: نجی زندگی میں ناجائز دخل اندازی کے خلاف سماجی آزادی کے لیے انقلاب اور عدم تشدد اور’ ستیہ گرہ‘ کے حق میں ہتھیاروں کو خیر بادکہنے سے متعلق انقلاب ۔یہ وہ سات انقلابات یا ’سپت کرانتی‘ تھے جو لوہیا کے لیے اشتراکیت کا نصب العین تھے۔

3.4  ہم مساوات کو کیسے ترقی دے سکتے ہیں؟

?HOW CAN WE PROMOTE EQUALITY

ہم ان بعض بنیادی اختلافات کو نوٹ کر چکے ہیں جو اشتراکیوں اور حریت پسندوں کے درمیان سماج میں مساوات کے ہدف کوحاصل کرنے کے سب سے زیادہ پسندیدہ طریقوں کے بارے میں ہے۔ حالاںکہ ان نظریات کی اضافی خوبیوں اورخامیوں پر آج ساری دنیا میں بحث ہورہی ہے۔ ہمیں پھر بھی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مساوات کے حصول کے لیے کون سے اصولوں اور پالیسیوں کو اپنانا چاہیے۔ خاص طور پر ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مساوات کے حصول کے کے لیے کیا کوئی ایجابی عمل صحیح ہوگا؟ اس پر حالیہ برسوں میں اس مسئلے نے کافی تنازعات کوجنم دیا ہے اور ہم ذیل کے حصوں میں اس پربحث کریں گے۔

 باضابطہ مساوات کا قیام

Establishing Formal Equality


مساوات کے حصول کی طرف پہلا قدم در اصل باضابطہ نظام عدم مساوات اور اعلیٰ طبقہ کو حاصل مراعات کا خاتمہ  ہے۔ ساری دنیا میں سماجی‘ معاشی اور سیاسی عدم مساوات کو رسم و رواج اور قانونی نظام کے ذریعہ محفوظ کیا گیا ہے۔ جس سے سماج کے بعض طبقات کو مختلف قسم کے مواقع اور حصولیابیوں سے محروم کردیا گیا ہے۔کچھ ممالک نے بڑی تعداد میں غریب لوگوں کوووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا تھا۔ خواتین کو بہت سے ماہرانہ پیشوں اور سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ بھارت میں ذات برادری کے نظام نے ادنیٰ ذات کے لوگوں کو محنت و مزدوری کے کاموں کے علاوہ باقی سبھی مواقع سے محروم رکھا۔ بہت سے ممالک میں کچھ مخصوص خاندانوں کے افراد ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا استحقاق رکھتے تھے۔ مساوات کی حصولیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کی تمام پابندیوں یا کسی مخصوص طبقہ کو حاصل مراعات کوختم کیا جائے۔ کیوںکہ ان میں سے بہت سے نظام کو قانون کا تحفظ حاصل تھا ۔ انھیں قانونی منظوری ملی ہوئی تھی۔اس لئے ضروری تھا کہ حکومت اور ملک کا قانون ان غیر مساوی نظاموںکوختم کردے، ہمارا آئین بھی یہی ضمانت دیتا ہے۔یہ آئین  مذہب، نسل،ذات، جنس یا مقام پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازکو روکتا ہے۔جدید دور میں زیادہ تر آئینوں اور جمہوری حکومتوں نے مساوات کے اصول کو باضابطہ طور پر اپنا لیا ہے اور تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب،نسل، ذات یا جنس قانون کے ذریعہ برابری کے سلوک کا حق دار مانا ہے۔

مختلف سلوک کے ذریعہ مساوات کاقیام

Equality Through Differential Treatment

جیسا کہ ہم نے پہلے غور کیا، باضابطہ مساوات یا قانونی مساوات ضروری تو ہے لیکن مساوات کے اصولوں کو حقیقی بنانے کے لیے یہ ناکافی ہے۔ بعض اوقات لوگوں کے ساتھ مختلف انداز میں سلوک کرنا، اس وجہ سے کہ برابری کے حقوق کا فائدہ اٹھا سکیں، بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے لوگوں کے درمیان کچھ تفریقات کو ذہن میں رکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر معذور لوگوں کی یہ مانگ بالکل جائز ہو سکتی ہے کہ عوامی جگہوں پر آمد و رفت کے لیے کچھ مخصوص راستوں کا انتظام کیا جائے تاکہ ان کو عوامی ضروریات کی عمارتوں میں آنے جانے کا برابر کا موقع حاصل ہو یا کال سنٹروں میں رات کو کام کرنے والی خواتین کو اپنے مرکز تک آنے جانے کا سفر طے کرنے کے لیے خصوصی تحفظ کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ ان کے کام کرنے کے برابری کے حق کا تحفظ ہو سکے۔ ان اقدام کو مساوات کے راستے میں رکاوٹ کے کے طور پرنہیں دیکھنا چاہیے بلکہ مساوات کو بڑھاوا دینے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

intekhabi  amal
انتخابی عمل کو منصفانہ بنانے کے لئے یہ ضروری 
ہے کہ آپ سب لوگ ایک ہی آزمائشوں سے
 گزر یں۔آپ سب کو اس پیڑ پر چڑھنا ہوگا

کس قسم کے اختلافات برابری کے مواقع تک رسائی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں  اوران رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کن اقسام کی پالیسیوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل تقریباً ہر معاشرہ میں موضوع بحث ہیں۔بعض ممالک نے مواقع کی مساوی فراہمی کے لیے ایجابی عمل کی پالیسیوں سے استفادہ کیا ہے۔ اپنے ملک میں ہم نے کمزور طبقات کے لیے نشستیں محفوظ کرنے کی پالیسی پر انحصار کیا ہے۔ اگلے سیکشن میں ہم ایجابی عمل کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اس بنیادی وضع کے تحت اختصاصی پالیسیوں کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

آئیے اس کو کریں

ان تمام سہولتوں کی فہرست مرتب کیجیے جو مختلف اقسام کی جسمانی معذوریوں سے متاثر طالب علموں کے لیے دوسرے طالب علموں کے ساتھ تحصیل علم کے لیے ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کون کون سی سہولیات آپ کے اسکول میں دستیاب ہیں۔

ایجابی عمل

Affirmative Action


ایجابی عمل اس نظریہ پر مبنی ہے کہ صرف قانون کے ذریعہ ہی با ضابطہ مساوات کو قائم نہیں کیا جا سکتا ۔ جب ہم معاشرہ میں مستحکم ہو چکی عدم مساوات کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں ان مستحکم سماجی عدم مساوات کو کم کرنے یا جڑ سے مٹانے کے لیے کچھ زیادہ مثبت اقدام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایجابی عمل کی زیادہ تر پالیسیاں کچھ اس طرح وضع کی جاتی ہیں کہ جس سے ماضی کی عدم مساوات کے مجموعی اثر کو صحیح کیا جا سکے۔
تاہم ایجابی عمل کی کئی شکلیں ہیں۔محروم طبقوں کی سہولیات کے لیے ترجیحی بنیاد پر رقم خرچ کرنا، جیسے وظیفہ دینا اور اقامت گاہیں تعمیر کرا نے سے لے کر تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں تک کے لیے خصوصی رعایت دینا وغیرہ اس کی مختلف شکلیں ہیں ۔ ہم نے اپنے ملک میں ایک پالیسی وضع کرکے محروم گروپوں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں میں ان کی نشستیں محفوظ کرکے ان کا حصہ مقرر کردیا ہے اور یہ قابل لحاظ بحث و مباحثوں اور اختلافات کا موضوع بھی بنا ہوا ہے۔ اس پالیسی کا بچاو اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ بعض سماجی گروپ دوسرے اعلیٰ گروپوں کے ہاتھوں سماج سے اخراج اور علیحدگی کی شکل میں تعصب اور امتیاز کا شکار رہے ہیں۔ ان کمیونٹیوں‘ جنہیں ماضی میں برابری کے مواقع فراہم کیے جانے سے محروم رکھا گیا ہے،سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ دوسری کمیونٹیوں سے برابری کی بنیاد پر مقابلہ کرسکیں گے اس لیے ایک مساوی اور منصفانہ سماج کی تشکیل کے لیے انھیں خصوصی تحفظ اور مدد دینے کی ضرورت ہے۔
ایجابی عمل کی شکل میں مخصوص اعانت کو عارضی اور وقتی اقدام ہی مانا جا سکتا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ خصوصی اعانت ان کمیونٹیوں کو موجودہ محرومیوں پر غالب آنے میں مدد دے گی اور پھر وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ برابر کی مقابلہ آرائی کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ایجابی عمل کی پا لیسیاں سماج کو مساوی بنانے کے لیے وضع کی گئی ہیں، بہت سے نظریہ ساز  اس کے خلاف دلیل پیش کرتے ہیں ۔ ان کا سوال یہ ہے کہ کیا کچھ لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک بہتر مساوات کا سبب بن سکتا ہے۔
مثبت امتیاز خاص طور پر نشستوں کو محفوظ کرنے والی پا لیسیوں کے ناقدین اس طرح مساوات کے اصول کو اس طرح کی پا لیسیوں کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ محروم لوگوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں میں نشستوں اور ان کی تعداد کو محفوظ کرنے کا کوئی بھی قدم غیر منصفانہ ہے کیوں کہ یہ سماج کے دوسرے طبقوں کو من مانے طریقے سے ان کے جائز حقوق سے محروم کرتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ نشستوں کا تحفظ ایک دوسری طرح کا امتیاز ہے ۔ یہ مساوات کے اصولوں پر سوال اٹھاتے اوراسے اس کے تصور کورد کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔

آئیے ہم بحث و مباحثہ کریں

درج فہرست ذاتوں اور قبائیلوں کے لئے وضع کی گئی ایجابی عمل کی پالیسیوں کو نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے وسعت دی جائے۔

 مساوات کے لیے ضروری ہے کہ تمام افراد کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور جب ہم افراد کے درمیان ان کی ذات یا رنگت کی بنیاد پر تفریق کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ذات اور نسلی تعصب کو ہم تقویت ہی پہنچا رہے ہوں۔ان نظریہ سازوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس سماجی تفریق کو ختم کر دیا جائے جو ہمارے سماج کو بانٹتی ہے۔
یہاں اس بحث و مباحثہ کے سیاق میںمساوات کا حکومت کی پالیسی کے رہنما اصول کے طور پر اور افراد کے مساوی حقوق کے درمیان موازنہ کرنا بر محل ہوگا۔ تمام افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں میں ان کے داخلے اور سرکاری ملازمتوں میں ان کے یکساں حقوق پر غور کیا جائے لیکن مقابلہ بالکل منصفانہ ہونا چاہیے۔ لیکن بعض اوقات سماج کے محروم طبقہ کے لوگ ایسی حالت میں جب ملازمت کے لیے محدود نشستیں ہی دستیاب ہوں، ایک ناموافق صورتحال میں ہوتے ہیں۔ ایک ایسی پہلی نسل کے پڑھنے والے افراد،جن کے والدین اور آبا و اجداد پڑھے لکھے نہ ہوں ،ان کی ضروریات اور حالات ان افراد سے بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں جو تعلیم یافتہ خاندانوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ محروم گروپوں کے افراد چاہے وہ دلت ہوں، خواتین یا کوئی اورزمرہ، کچھ خصوصی مدد اور ضرورت کا استحقاق رکھتے ہیں۔اس کو فراہم کرنے کے لیے حکومت کو ایسی سماجی پا لیسیاں وضع کرنی چاہئیں جو ان لوگوں کو مساوی بنانے میں مدد کریں اور ان کو دوسروں کے ساتھ مقابلہ میں شامل ہونے کا منصفانہ موقع فراہم کرے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان نے تعلیم اورطبی سہولیات کے شعبوں میں اپنی آبادی کے محروم طبقہ کے لیے ان کے جائز حق کے مقابلہ میں بہت کم کام کیا ہے۔ اسکولی تعلیم میں تو یہ عدم مساوات بہت نمایاں ہے۔ بہت سے غریب بچے جو دیہی علاقوں میں یا شہری جھگی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں، اسکول جانے کے بہت کم مواقع پاتے ہیں اور اگر انہیں ایسا موقع ملتا بھی ہے تو ان کے اسکولوں میں وہ تمام سہولتیں نہیں ہوتی ہیں جو ان کے مساوی اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کے اسکولوں میں ہوتی ہیں۔یہ تمام عدم مساوات، جن کے ساتھ بچے اسکول میں داخل ہوتے ہیں، انھیں اپنے تعلیمی کوائف کو بہتر بنانے یا اچھی ملازمت حاصل کرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ ان طلبا کو اعلیٰ معیاری ماہرانہ پیشہ والے کورسز میں داخلہ لینے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے کیوںکہ ان کے پاس مخصوص کوچنگ حاصل کرنے کے ذرائع نہیں ہوتے۔ ان ماہرانہ پیشوں کے کورسز کی فیس بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی دسترس سے باہر ہوتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ اپنے سے زیادہ مراعات پانے والے طلبا سے برابر ی کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اس قسم کی سماجی اور معاشی عدم مساوات برابری کے مواقع کے حصول میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ آج زیادہ تر نظریہ سازوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔ انھیں جس بات پر اعتراض ہے وہ مساوی مواقع کی فراہمی کا ہدف نہیں بلکہ حکومت کی وہ پا لیسیاں ہیں جو اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وہ تیا ر کرتی ہے۔ کیا حکومت کو محروم سماج کے لیے کچھ نشستیں محفوظ کرنی چاہئیں یا اس کو وہ مخصوص سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں جو ابتدائی عمر سے ان طبقوں میں ذہانت اور صلاحیت پیدا کریں؟ ہم یہ کیسے وضاحت کریں کہ کون محروم ہے؟ کیا ہم محرومیت کی نشاندہی کرنے کے لیے معاشی پیمانہ استعمال کریں یا ہم سماجی عدم مساوات کو جو ہمارے ملک میں ذات برادری کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں،محروم طبقوں کی نشاندہی کی بنیاد بنائیں؟ یہ سماجی پالیسی کے کچھ پہلو ہیں جو آ ج کل موضوع بحث ہیں۔ بہرحال ہم جن پا لیسیوں کو اپناتے ہیں ان کو سب کے لئے منصفانہ اور ایک مساوی سماج کی تشکیل کی کامیابی کے لیے درست سمجھنا پڑے گا۔
مساوات کے مسئلہ پرغوروفکرکرتے ہوئے ہر فرد سے یکساں برتاو اور ہر فرد کو برابر سمجھنے کے مابین امتیاز کرنا بھی ضروری ہے۔ موخر الذکر کو اکثر مواقع پر ایک مختلف سلوک کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن ان تمام معاملات میں غورو فکر کی بنیادی بات مساوات کو آگے بڑھانا ہے۔مختلف یا خصوصی سلوک کو مساوات کے ہدف کے حصول کے لیے غور کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے جواز پیش کرنے اور محتاط انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ مختلف کمیونٹیوں کے لیے مختلف سلوک کا روا رکھنا ذات برادری کے نظام کا لازمی حصہ تھا اورکچھ دستور جیسے نسلی امتیازات، حریت پسند یکساں سلوک کے اصول سے انحراف میں محتاط رہتے ہیں۔
ان میں سے بہت سے مسائل جو مساوات کے حصول سے متعلق ہیں تحریک نسواں نے بھی اٹھائے ہیں۔ انیسویں صدی میں خواتین نے برابری کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ،انہوں نے کچھ مانگیں رکھیں،مثال کے طور پر ووٹ دینے کا حق، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ڈگری حاصل کرنے کا حق اور کام کرنے کا حق۔ یعنی وہ حقوق جو سماج میں مردوں کو حاصل تھے۔ تاہم جیسے ہی وہ ملازمت کے بازار میں شامل ہوئیں انھیں احساس ہوا کہ انھیں ان حقوق کے استعمال کے لیے خصوصی سہولیات درکار ہیں،مثلاً دوران حمل اور بعد میں چھٹی، کام کرنے کی جگہوں کے آس پاس کریچ جیسی بعض سہولتوں کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی مخصوص سہولتوں کے بغیر وہ ملازمت کے لیے مقابلہ میں سنجیدگی سے شامل نہیں ہو سکتیں یا ایک کامیاب پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کا مزہ نہیں لے سکتیں باالفاظ دیگر انھیں بعض اوقات مردوں کی طرح برابر کے حقوق کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف انداز کے سلوک کی ضرورت محسوس ہوئی۔
جب ہم مساوات کے مسئلہ پر غور و خوض کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا مختلف سلوک کسی مخصوص معاملہ میں ضروری ہے ہمیں اپنے آپ سے لگاتار یہ سوال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ کیا مختلف قسم کا سلوک یہ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا ایک طبقہ باقی سماج کی طرح تمام حقوق سے فائدہ اٹھائے۔ تاہم یہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کہ سکہیں یہ مختلف سلوک غلبہ اور ظلم کے کسی نئے ڈھانچے کی تشکیل تو نہیں کررہا ہے۔ یا کسی غالب گروپ کے لیے ایسا ذریعہ تونہیں بن رہا ہے جو خصوصی مراعات اور طاقت کو سماج پر اپنے تسلط قائم کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کردے۔ مختلف سلوک کو سماج میں صرف منصفانہ اور مساوات کے علمبردار معاشرہ کی تشکیل کے ایک ذریعہ کے طور پرجائز ٹھہرایا جانا چاہیے۔

آئیے ذرا سوچیں

مندرجہ ذیل حالات پر غور کیجیے۔ کیا ان میں سے کسی بھی حالت میں خصوصی اور مختلف سلوک منصفانہ ہے؟
ایک دفتر میں کام کرنے والی عورت کوبچے کی پیدائش کے وقت چھٹی ملنی چاہیے۔
کسی اسکول کوآنکھوں سے دو معذور طلباکے لیے خصوصی آلہ خریدنے کے لیے پیسہ خرچ کرنا چاہیے۔
گیتا بہت اچھا باسکٹ بال کھیلتی ہے تو کیا اسکول کو اس کے لیے باسکٹ بال کورٹ بنوانا چاہیے تاکہ وہ اپنا کھیل اور معیاری بنا سکے؟
جیت کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ اسکول میں پگڑی پہن کر جائے اور عرفان کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ جمعہ کی نمازوقت پر ادا کرے تو کیا اسکول کو چاہیے کہ وہ جیت کو کرکٹ کھیلنے کے دوران ہیلمیٹ پہننے پر زور نہ دے اور عرفان کے استاد کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے دن اضافی کلاس کے لیے اسے نہ روکے۔

مشق

کچھ لوگوں کی یہ دلیل ہے کہ عدم مساوات فطری ہے جب کہ دوسرے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مساوات ہی فطری ہے اور جو عدم مساوات ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں وہ سماج کی پیدا کردہ ہے۔ آپ کس خیال کی تائید کریں گے؟ اسباب بیان کیجیے۔
ایک نظریہ ہے کہ مطلق معاشی مساوات نا تو ممکن ہے اور نا ہی پسند یدہ ہے۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کوئی بھی سماج کوشش کرکے امیر ترین اور غریب ترین لوگوں کے درمیان فاصلہ کو کم کر سکتا ہے ۔ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں۔

مندرجہ ذیل تصورات کاموزوں مثالوں سے جوڑلگائیے۔
(a) ایجابی عمل (i)  ہر بالغ شہری کو ووٹ دہی کا حق ہے۔
(b) مواقع کی یکساں فراہمی (ii)  بینک عمر رسیدہ شہریوں کو زیادہ شرح سود دیتاہے۔
(c) مساوی حقوق (iii)  تمام بچوں کو مفت تعلیم ملنی چاہیے۔

کسانوں کے مسائل پر ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے اور حاشیہ پرکھڑے کسانوں کو بازار سے اپنی فصل پرمعقول معاوضہ نہیں ملتا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکار کو مداخلت کر کے چھوٹے اور کمزور کسانوں کو ان کی فصل پرمعقول معاوضہ یقینی بنانا چاہیے۔ کیا یہ سفارش مساوات کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے؟

مندرجہ ذیل میں سے کون ساعمل مساوات کے اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے؛ اور کیوں؟
(a) کلاس میں ہر بچہ ڈرامہ کا متن باری باری سے پڑھے گا۔
(b) حکومت کناڈا نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعدسے 1960 تک سفید فام یورپیوں کو یورپ سے ہجرت کرکے کناڈا آنے کے لیے ہمت افزائی کی۔
(c) عمر رسیدہ شہریوں کے لیے ایک الگ ریلوے ریزرویشن کاونٹر ہے۔
(d) جنگلات کے کچھ علاقوں میں رسائی بعض درج فہرست قبائلی ذاتوں کے لیے مخصوص کر دی گئی ہے۔

یہاں عورتوں کے حق رائے دہی کی موافقت میں کچھ دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے کون سی دلیلیں مساوات کے تصور سے ہم آہنگ ہیں؟ ان کی وجوہات بتائیں۔
(a) خواتین ہماری مائیں ہیں، ہمیں اپنی ماوں کوحق رائے دہی سے محروم کرکے بے عزت نہیں کرنا چاہیے۔
(b) حکومت کے فیصلے مرد و خواتین دونوں کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے ان کا حکمرانوں کے انتخاب میں عملی حصہ ہونا چاہیے۔
(c) خواتین کو ووٹ کا حق نہ دینے سے خاندان میں ہم آہنگی پیدانہیں ہوسکتی ہے۔
(d) انسانیت کا آدھا حصہ خواتین ہیں۔ آپ انھیں کو زیادہ دنوں تک ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتے۔