
باب 4
سماجی انصاف
ہم لاشعوری طور پریہ جانتے ہیں کہ محبت کے کیا معنیٰ و مفہوم ہیں گرچہ ہم اس کے مختلف پہلووں کی تشریح نہیں کرسکتے ۔ ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ انصاف کے کیا معنیٰ و مفہوم ہیں لیکن ہم اس کی جچی تلی تعریف بیان نہیں کرسکتے ۔اسی طرح، اس معنی میں محبت اور انصاف ایک جیسے ہی ہیں۔ مزید برآں، محبت اور انصاف، دونوں کے بارے میں ان کے حامی بڑی گرم جوشی سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ محبت کی طرح انصاف سے بھی کوئی نفرت نہیں کرتا، ہر فرد خود کے لیے انصاف چاہتا ہے اور کسی حد تک وہ دوسروں کے لیے بھی یہی چاہتا ہے۔ تاہم محبت کے برعکس انصاف ہماری مجموعی معاشرتی زندگی سے سروکار رکھتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ عوامی زندگی کو کس پیمانے تک منظم کیا گیا ہے نیز کن اصولوں کی بنیاد پر معاشرے کے مختلف افراد کو سماجی فرائض و حقوق عطا کیے گئے ہیں۔ جب کہ محبت دراصل چند شناسا لوگوں کے ساتھ تعلقات کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے انصاف سے متعلق سوالات سیاست کے میدان میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس سبق کے مطالعہ سے آپ اس کے اہل ہوجائیں گے کہ:
◊ انصاف کے ان چند اصولوں کی نشان دہی کرسکیں جو مختلف معاشروں نے مختلف ادوار میں وضع کیے ؟
◊ عادلانہ تقسیم کے مطلب کی وضاحت کرسکیں۔
◊ جان رالس (John Rawls) کے اس استدلال پر بحث کرسکیں گے کہ عدل و انصاف پر مبنی سوسائٹی اس کے تمام ارکان کے مفاد میں ہے اورکیا اس کا دلائل و جرح سے دفاع کیا جا سکتا ہے ۔
4.1 انصاف کیا ہے؟
?What Is Justice
تمام تہذیبوں اور روایات کو انصاف کے تقاضوں سے سابقہ پڑا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس کی اپنے اپنے انداز سے تعبیریں اور تشریحات کی ہیں۔ بطور مثال ،بھارت کے قدیم معاشرے میں انصاف کا تعلق دھرم سے تھا اور دھرم کا پالن کر نا یا انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا،راجاوں کا اولین فرض سمجھا جاتا تھا۔ ملک چین میں مشہور فلاسفر ’کنفیوشس‘ (Conficius) نے کہا تھا کہ بادشاہ کو انصاف قائم کرنے کے لیے غلط کام کرنے والوں کو سزا اور اچھے کام کرنے والوں کو انعام و اکرام دینا ضروری ہے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں شہر اتھنیز (یونان) میں افلاطون نے اپنی کتاب ’ریاست‘ یا ’جمہوریہ ‘ (The Republic) میں انصاف کے متعلق موضوعات سے بحث کی۔ سقراط اور اس کے نوجوان دوستوں ایدمنطس اورگلوکون کے درمیان طویل تر مکالمے کے ذریعہ افلاطون نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں انصاف کے سلسلہ میں کیوں فکر مند ہونا چاہیے۔
نوجوان دوستوں نے سقراط سے پوچھا کہ ہمیں کیوں انصاف کا حامل ہونا چاہیے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ برے کام کرنے والے بے انصاف لوگ انصاف کے حاملین کے مقابلے میں مادی اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے مفادات کی خاطر قوانین کو اپنے حق میں موڑا‘ محصول دینے سے بچتے رہے ‘ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے۔ یہی لوگ سچے اور ایماندار (منصف مزاج) لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی چالاک اور زیرک ہے تو وہ غلط کام کرنے کے باوجود قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جاتا ہے چنانچہ ایک غیرمنصف آدمی،انصاف پسند آدمی کے مقابلے میں بہتر نظر آتا ہے۔ آپ نے اس طرح کے تاثرات و احساسات کا ذکر کرتے ہوئے آج بھی لوگوں کو سنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قدرت کی طرف سے نا انصافی ہونا،اچھی بات ہے مگر نا انصافی کا شکار ہونا بری بات ہے۔لیکن برائی اچھائی سے بڑی چیز ہے۔ اور جب افراد ناانصافی کرتے ہیں یا اس کا شکار ہوتے ہیں اور انھیں ان دونوں کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ ایک سے نہ تو بچ سکتے ہیں اورنہ دوسرے کو حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ یہی بات ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہمارے پاس دونوں میں سے کچھ نہ ہو چنانچہ یہی چیز قوانین اور میثاق وضع کرنے کا موجب بنتی ہے۔ اس طرح جو چیز قانون کے ذریعہ جائز اور انصاف پر مبنی قرار دی جاتی ہے (گلوکون کا سقراط سے مکالمہ) ’دی ری پبلک‘ سے ماخوذ۔
سقراط نے ان نوجوان دوستوں کو باور کرایا کہ اگر ہر فرد بے انصاف بن جائے گا اور ہر کوئی اپنے حصولِ مفادات کی خاطر قوانین کو اپنے لحاظ سے تبدیل کرے گا تو اس بے انصافی سے کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں کر پائے گا، اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اور اس کے نتیجہ میں ہر طبقے کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا قوانین کا احترام کرنا اور انصاف پسند ہونا ہمارے طویل مدتی مفاد میں ہے۔ سقراط نے واضح کیا کہ ہمیں انصاف کے معنیٰ و مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں انصاف پسند یا منصف ہونے کی اہمیت کا احساس ہو سکے۔ اس نے بتایا کہ انصاف سے مراد صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے دوستوں کا بھلا کریں اور دشمنوں کو نقصان پہنچائیں یاصرف اپنے مفادات کو حاصل کریں۔ انصاف کا دراصل مقصد تمام لوگوں کی بھلائی ہے۔ جیسا کہ ایک ڈاکٹر کو اپنے تمام مریضوں کی صحت و تندرستی سے غر ض ہوتی ہے، اسی طرح ایک عاد ل حکمراں یا عادل حکومت کو بھی اپنی تمام رعایا کی فلاح و بہبود کی فکر ہونی چاہیے۔ اس چیز کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد کو اس کا جائز حصہ اور حق دیا جائے۔
انصاف کے بارے میں یہ تصور کہ ہر فردکو اس کا جائز حق دیا جانا چاہیے ،یہ خیال آج بھی ہمارے لیے انصاف کے معنی و مفہوم میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بہر حال افلاطون کے زمانے سے ہی اس خیال میں تبدیلی ہوتی رہی ہے کہ ایک فرد کا جائز حق کیا ہوتا ہے۔ آج عدل و انصاف کے بارے میں ہماری جو سوچ ہے اس کا بڑی حد تک تعلق اس بات سے ہے کہ بحیثیت انسان ایک شخص کا کیا حق ہونا چاہیے۔ جرمن فلاسفر امانیول کانٹ کا کہنا ہے کہ ہر انسان عزت نفس رکھتا ہے۔ اگر ہم تمام افراد کو ان کا مقام و مرتبہ عطا کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں انھیں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اپنے پسندیدہ مقاصد کو حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ جس کا جو جائز حق ہے اسے دیا جائے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
ہم مرتبہ افراد کے ساتھ مساویانہ سلوک
Equal Treatment For Equals
اگرچہ جدید معاشرے میں اس امر پر وسیع تر اتفاق پایا جاتا ہے کہ تمام افراد کی مساویانہ حیثیت ہے، لیکن اس بات کا فیصلہ کرنا کہ کس کو کتنا حصہ ملنا چاہیے، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں متعدد بنیادی اصول و کلیات پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ہم حیثیت و مرتبہ والے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسان ہونے کے ناطے تمام افراد کے اندر چند مشترکہ خصائل پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ مساوی حقوق اور مساویانہ سلوک کے مستحق ہوتے ہیں۔ موجودہ دور کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور روشن خیال جمہوریتوں میں جو چند اہم حقوق عطا کیے گئے ہیں، ان میں سیاسی حقوق: جیسے رائے دہی یا ووٹ ڈالنے کا حق سب سے اہم ہے،یہ لوگوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیںاور بعض سماجی حقوق ہیں جن میں معاشرے کے دیگر افراد کی طرح سب کے لیے یکساں مواقع کا حق شامل ہے۔
برابری کے حقوق کے علاوہ مساویانہ سلوک کے لیے کسی شخص کے ساتھ اس کی ذات،نسل، طبقہ یا جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز روانھیں رکھا جا سکتا ۔ مزید بر آں اس کے تحت افراد کی تمیز اس بنیاد پر نہیں کی جانی چاہیے کہ ان کا تعلق کس گروہ یا طبقہ سے ہے بلکہ اس کی بنیاد ان کا کام و عمل ہونا چاہیے۔ چنانچہ اگر دو مختلف طبقوں کے دو افراد ایک ہی کام کرتے ہوں، جیسے وہ پتھر توڑنے کا کام ہو یا بوجھ اٹھانے کا کام، اس کا انھیں برابر اجرت ا ور درجہ ملنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو ایک کام کرنے کے لیے سو روپے ملتے ہیں جبکہ دوسرے شخص کو محض ایک الگ طبقہ سے تعلق رکھنے کے بنیاد پر اسی کام کے لیے صرف پچھتر روپے ملتے ہیں تو یہ بات انصاف کے خلاف مانی جائے گی۔ اسی طرح اگر ایک اسکول میں ایک مدرس کو ایک خاتون مدرس کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ ملتی ہے تو یہ امتیاز بھی غلط اور انصاف کے تقاضوں کے برخلاف ہوگا۔
متناسب انصاف
Proportionate Justice
مساویانہ سلوک ہی صرف انصاف کا اصول نہیں ہے۔ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں ہم ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کو جائز نہیں سمجھتے۔ مثال کے طور پر ‘ آپ اس فیصلہ کو کس نظر سے دیکھیں گے‘ اگر آپ کے اسکول نے یہ طے کیا ہے کہ ان تمام طلبا کو جنھوں نے امتحان دیے ہیں یکساں نمبر ملیں کیونکہ وہ ایک ہی اسکول کے طالب علم ہیں اور سب نے ایک ہی طرح کاامتحان دیا ہے۔ یہاں آپ غالباً یہ سوچیں گے کہ یہ بات مبنی بر انصاف ہوتی اگر ہر ایک طالب علم کو اس کے جوابی پرچے کے معیار اور اس کی محنت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نمبر دیے جاتے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ سب ہی نے اپنا آغاز مساوی حقوق کی بنیاد پر کیا،لیکن ایسے معاملوں میں انصاف کا تقاضہ ہے کہ افراد کو ان کی محنت اور استعداد وصلاحیت کے اعتبار سے صلہ و انعام دیا جائے۔ اگرچہ زیادہ تر افراد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جیسا کام ہوویسا ہی صلہ ہو۔ مگر یہ بات اس وقت عین انصاف کے مطابق اور جائز ہوگی کہ مختلف قسم کے کاموں کا صلہ الگ الگ اس صورت میں دیا جائے کہ اس میں کس طرح کی صلاحیت و استعداد کی ضرورت ہے اور اس کام میں کس قسم کے خطرات لاحق ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم کا م کو اس بنیاد پر پرکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے معاشرے کے محض محنت کش طبقات کو ان کی محنت کا واقعی مناسب صلہ نہیں مل رہا ہے۔ بطور مثال، کانوں میں کام کرنے والے مزدور یا دستکاری کرنے والے دستکار یا وہ افراد جو بعض اوقات بڑے خطرناک لیکن سماجی لحاظ سے کار آمد پیشوں سے وابستہ ہوتے ہوئے اپنا کام کرتے ہیں جیسے پولس کے اہلکا روغیرہ، ان کو ہمیشہ ان کی محنت کے عین مطابق پورا پورا اجر نہیں ملتا ۔ اگر ان کا موازنہ معاشرے کے دیگر افراد کو ملنے والی شرح سے کیا جائے تویہ درست نہیں ہوگا۔ لہٰذا معاشرہ میں حقیقی معنیٰ میں انصاف کے قیام کے لیے یکساں سلوک کے اصول کو تناسب کے اصول سے جوڑکردیکھنے کی ضرورت ہے۔
خصوصی ضروریات کوتسلیم کرنا
Recognition Of Special Needs
انصاف پر مبنی معاشرہ کے لیے تیسرا اصول یہ ہے کہ انعامات یا حقوق کی تقسیم کرتے وقت لوگوں کی خصوصی ضروریات کا بھی خیا ل رکھا جائے۔ اسے سماجی انصاف کی ترویج کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سوسائٹی کے ارکان کی بنیادی حیثیت اور ان کے حقوق کے لحاظ سے انصاف کا تقاضہ ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھا جائے۔ لیکن لوگوں کے درمیان کوئی امتیاز نہ رکھنے اور ان کے کام کے حساب سے انھیں اجرت (صلہ) دینے کے باوجود سماج میں تمام ہی لوگ مساویانہ حقوق سے مستفید نہیں ہوسکتے ہیں نا ہی ایسے سماج کو مجموعی طور پر انصاف پر مبنی معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال صحیح نہیں کہ لوگوں کی خصوصی ضروریات کو خاطر میں لانے سے یکساں سلوک کے اصول کی خلاف ورزی (نفی) ہوتی ہے کیونکہ خود مساویانہ سلوک کے اصول میں یہ معنیٰ پنہاں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بعض اہم معاملوں میں دوسرے کے ہم پلّہ یا مساوی نہیں ہوتے، اس لیے ان کے ساتھ مختلف رویہ اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔
خصوصی احتیاج والے یا معذورافراد کو بعض اعتبار سے کم تر سمجھا جاتا ہے جب کہ وہی خصوصی مراعات کے مستحق ہوتے ہیں کئی ملکوں میں معذوری کو خصوصی سلوک کی بنیادیں قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن خصوصی مدد فراہم کرنے کے سلسلہ میں یہ بات طے کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی کون سی محرومیوں کو زیرغور لایا جائے۔ کئی ملکوں میں اس خصوصی سلوک کی بنیاد،جسمانی معذوری،زیادہ عمر یا اچھی تعلیم یا اچھے علاج تک عدم رسائی جیسے عوامل کو قرار دیا گیا ہے۔ عام خیال یہ ہیکہ اگر مراعات یافتہ اور محروم افرادکے ساتھ (جو زندگی کی بہت سی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ) تمام معاملوں میں یکساں سلوک کا سماجی اعتبار سے عدم مساوات کی شکل میں بر آمد ہوگا۔ ایسے سماج کو کسی بھی حال میں عادلانہ اور مساوات پر مبنی سماج نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ملک میں بھی اچھی تعلیم اور صحت عامہ کی اچھی سہولت اور دیگر چیزوں کے فقدان کے ساتھ ساتھ ذات کی بنیاد پر امتیازات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے آئین نے درج فہرست ذاتوں اورقبائل (شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب) کو سرکاری ملازمتوں میں اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے کوٹہ مقرر کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس پر غور کریں
درج ذیل حالات پر غور کریں اور بتائیں کیا یہ منصفانہ ہیں۔ ہر معاملہ میں انصاف کے اصولوں سے بحث کریں جو آپ نے ان کے دفاع میں پیش کیا ہے۔
◊سریش ایک نابینا طالب علم ہے۔ اسے علم ریاضی کا پرچہ حل کرنے کے لیے ساڑھے تین گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ جب کہ اس کی جماعت کے باقی تمام طلبا کو تین گھنٹے کا ہی وقت ملا۔
◊ گیتا لنگڑا کر چلتی ہے۔ اس کے استاد نے اسے بھی علم ریاضی کا پرچہ حل کرنے کے لیے ساڑھے تین گھنٹے کا وقت دیا۔
◊ ایک استاد کلاس کے کمزور طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے انھیں گریس مارکس دیتا ہے۔
◊ ایک پروفیسر اپنے شاگردوں کو ان کی استعداد کے مطابق الگ الگ سوالیہ پرچہ تقسیم کرتا ہے۔
◊ پارلیمنٹ کی 33 فی صد نشستیں خواتین کے لیے محفوظ کرنے کی تجویز ہے۔

انصاف کی دیوی کے آنکھوں پر پٹی کیوں بندھی ہوئی ہے۔
اسکی آنکھوں پر پٹی اس لیے بندھی ہے کہ
اسے غیر جانبدار رہنے کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ اسے غیر جانبدار ہونا چاہیے لیکن مجھے حیرت ہے کہ وہ
لوگوں کے لیے خصوصی ضرورت کا خیال کیسے رکھ پائے گی؟
ہم نے انصاف کے تینوں اصولوں پر بحث کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف کے ان تینوں اصولوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے میں حکومتوں کو اکثر اوقات بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اصول ہیں: تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک، صلہ اور فرائض کی تقسیم، وقت پر کام، صلاحیت اور استعداد کا خیال رکھنا اور ضرورت مندوں کو کم از کم معیاری زندگی اور یکساں مواقع کے لیے قانونی تحفظات فراہم کرنا۔ یکساں یا مساویانہ سلوک کا معاملہ بذات خود بعض اوقات قابلیت، اہلیت یا میرٹ کی بنیاد پر واجبی صلہ ادا کرنے کے خلاف جاتا ہے۔ اگرلیاقت یا میرٹ کی بنیاد پر صلہ دینے کو انصاف کا سب سے اہم اصول مان لیا جائے تو کئی شعبوں میں کمزور اور دبے کچلے طبقات کو ناموافق صورت حال کا سامنا کرنا پڑجائے گا ۔ وہ اچھی تعلیم اور اچھی غذا جیسی سہولیات سے محروم رہ جائیں گے۔ کسی ملک میں،ممکن ہے مختلف طبقات اپنی ضروریات کے مطابق انصاف کے کسی اصول کو نافذ کرنے پر زور دیں۔ ایسے حالات میں اس طرح کے حالات رونما ہونے پر یہ حکومتوں کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ مختلف اصولوں کے درمیان مطابقت پیدا کرکے ایک منصفانہ سوسائٹی کے قیام کی حوصلہ افزائی کریں۔
4.2 منصفانہ تقسیم
Just Distribution
سوسائٹی میں سماجی انصاف پیدا کرنے کے لیے حکومتوں کو قانون اور پا لیسیاں بنانے سے بھی زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہر فرد کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنایا جا سکے۔ سماجی انصاف کا تعلق وسائل اور خدمات کی عادلانہ تقسیم سے بھی ہے۔ خواہ یہ معاملہ دو قوموں کے درمیان ہو یا سوسائٹی کے مختلف طبقات کے درمیان یا کہ افراد کے درمیان ۔ اگر کسی سوسائٹی میں سنگین نوعیت کی معاشی اور سماجی عدم مساوات پائی جائے تو یہ بات ضروری ہو جاتی ہے کہ کچھ اہم وسائل کی دوبارہ تقسیم عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کے اس محروم طبقہ کو بعض مساوی مواقع مل سکیں۔ چنانچہ ملک کے اندر سماجی انصاف کے لیے جہاں قوانین اور پا لیسیاں بنانے کی ضرورت ہے وہیں معیاری زندگی میں تفاوت کو دور کرنے کے لیے کچھ رعایتیں بھی دی جانی ضروری ہیں۔ اسے اس نظر سے دیکھا جانا چاہیے کہ ہر فرد اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا اہل بن سکے اور اپنی شخصیت کا اظہار کر سکے۔ خود ہمارے ملک میں آئین نے سماجی برابری کو فروغ دینے کے لیے چھواچھوت کے رواج کو ختم کیا اور نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مندروں میں داخلے، ملازمتوں اور بنیادی ضروریات جیسے پینے کا پانی تک رسائی وغیرہ کے لیے قوانین بنائے ۔ اس سلسلہ میں مختلف ریاستی حکومتوں نے بھی اہم وسائل کی دوبارہ تقسیم کے حوالے سے کئی اقدامات کیے ۔ ان میں زرعی زمینوں کی دوبارہ تقسیم جیسی اصلاحات شامل ہیں۔
وسائل کی تقسیم کیسے ہو،تعلیم اور ملازمتوں میں سب کو مساوی مواقع فراہم کرنے کو کیسے یقینی بنایا جائے،ایسے معاملات پر معاشرہ کے اندر اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اس پر سخت تند و گرماگرم بحث ہوتی ہے جو کبھی کبھی تشدد کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں خود ان کا اور ان کے افراد و خاندان کا مستقبل داو پر لگ جائے گا۔ ہمیں یہاں پر اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں جب تعلیمی اداروں یا سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن فراہم کرنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے تو بعض اوقات اس کے خلاف جذبات بھڑک اٹھتے ہیں جو تشدد کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم سیاسی نظریہ کے طالب علم ہونے کے ناطے ہمیں انصاف کے اصولوں کے اطلاق کے حوالے سے درپیش مسائل کا ٹھنڈے دماغ سے تجزیہ کرنا چاہیے۔ کیامحروم طبقات کی مدد کے لیے فلاحی اسکیمیں چلانا عدل و انصاف کے نظریہ کے تناظر میں درست اور عدل پر مبنی ہے؟ آئندہ حصہ میں منصفانہ و عادلانہ تقسیم کے نظریہ کا مطالعہ کریں جسے معروف سیاسی مفکر جان رالس نے پیش کیا ہے۔ رالس نے بتایا کہ سوسائٹی کے سب سے زیادہ کمزور افراد کی مدد کی ضرورت کے جواز میں منطقی دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔
4.3 جان رالس کا نظریہ انصاف
John Rawls Theory Of Justice
اگر لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کس طرح کی سوسائٹی میں رہنا پسند کریں گے۔تو ممکن ہے وہ ایسی سوسائٹی کا انتخاب کریں جس کے قوانین اور ضابطے انھیں ایک موقر مقام عطا کرتے ہوں۔ ہم ہر فرد سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو نظرانداز کر کے سماج کی بھلائی کے بارے میں سوچے گا۔ بالخصوص اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اس فیصلے سے اس کا معیار زندگی اور اس کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ ہم والدین سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے بارے میں سوچیں اور انھیں ہر طرح کی مدد فراہم کریں۔ لیکن اس طرح کے نقطہ ہائے نظر، سوسائٹی کے لیے انصاف کے نظریہ کی بنیاد نہیں بن سکتے ہیں۔ تو ہم ایسے کسی نتیجہ پر کیسے پہنچ سکتے ہیں جو انصاف کے مطابق ہو اور جائز بھی ہو۔
جان رالس نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔اس نے دلیل پیش کی کہ ہم صرف اسی صورت حال میں ایک منصفانہ نظام قائم کر سکتے ہیں جب ہم خود کو اس حالت میں تصور کریں کہ ہمیں خود اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طرح کی سوسائٹی تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ خود نہیں جانتے کہ اس سوسائٹی میں ہمارا کیا مقام ہوگا۔ یعنی ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم کس خاندان میں پیدا ہوں گے،کیا ہم اونچی یا نیچی ذات کے خاندان میں پیدا ہوں گے، اسی طرح امیر یا غریب، مراعات یافتہ یا محروم خاندان میں پیدا ہوں گے۔ رالس نے مزید کہا کہ اگر ہم اس پیدائش سے بے خبر ہوں گے تو اس صورت میں ہم سوچیں گے کہ مستقبل کی سوسائٹی میں ہمارا کیا مقام ہوگا اور ہمارے لیے کون سے مواقع دستیاب ہوں گے۔ چنانچہ ہم مستقبل کی اس سوسائٹی کی تشکیل کے لیے ایسے قوانین اور ضابطوں کی حمایت کر سکتے ہیں جو اس کے تمام ارکان کے لیے منصفانہ ہوں گی۔
رالس اس سوچ کو ’لا علمی کے پردے ‘ میں پیدا ہوئی سوچ قرار دیتا ہے۔ وہ توقع کرتا ہے کہ سوسائٹی میں اپنی ممکنہ حیثیت اور مقام کے بارے میں مکمل لاعلمی کی کیفیت میں ہر فرد وہی کرے جیسا کہ عام طور پر ہم سب کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ذاتی مفادات کا خیال کرتے ہوئے فیصلہ کرنا۔ چونکہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا مقام ہوگا اور اسے کس طرح کا فائدہ ملے گا اس لیے مستقبل کی سوسائٹی کی تشکیل میں یہ نقطہ نظر کار فرما رہے گا کہ اسے ہر حال میں بدترین کیفیت سے دوچار نہ ہونے دیا جائے۔ یہ بات اس شخص پر آشکار ہوجائے گی جو اپنی ذات کے تئیں فکر مند اور معقول ہے کہ مالدار اور مراعات یافتہ گھروں میں پیدا ہونے والے افراد بعض خصوصی مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو بدقسمتی سے سماج کے اس طبقہ میں پیدا ہوئے ہیں جو محرومی کا شکار رہے ہیں۔ جہاں ان کے لیے چند ہی مواقع حاصل ہیں؟ لہذا، ہر فرد کو جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے یہ احساس ہوناچاہیے کہ ایسے قوانین و نظم بنانے کی کوشش کی جائے جس سے معاشرے کے کمزور طبقات کو خاطرخواہ مواقع نصیب ہوں۔ اس کے تحت اہم وسائل و سہولیات جیسے تعلیم، صحت اور مکان وغیرہ ان اونچے طبقے سے تعلق نہ رکھنے والی تمام افراد کو بھی مہیا کرانے کی کوششیں کی جائیں گی۔

ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کرنا انصاف سے محروم کرنے کے مترادف ہے؟
کیونکہ اگر کسی مقدمہ کے فیصلہ میں بہت زیادہ تاخیر ہوگی تو اس عدالتی کار روائی سے مدعی شخص کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ اس فیصلہ کا کیا فائدہ اگر مدعی تب تک زندہ ہی نہ رہے
بلاشبہ اپنی شناخت کو ختم کرنا اور خود کو لاعلمی اور بے خبری کی کیفیت میں تصور کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اسی طرح زیادہ تر لوگوں کو دوسروں کے لیے قربانیاں دینا اور اور اپنی کامیابیوں میں غیروں کا شامل کرنا بھی اتنا ہی مشکل کام ہے۔ چنانچہ ہم ایثار و قربانی کے جذبہ کو بہادری اور شجاعت سے تعبیر کردیتے ہیں ۔ کمزوریوں اور مجبوریوں کے پیش نظر ہم ایک ایسے ضابطہ عمل کے بارے میں غور کر سکتے ہیں جس میں غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت نہ ہو۔ ’بے خبری کی کیفیت ‘ کی خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خود کے تئیں عقلی طور پر انصاف پسند ہونے پر آمادہ کر سکتی ہے: یعنی وہ اپنی ذات کے بارے میں سوچیں اور اس کا انتخاب کریں جو انکے مفاد میں ہے تاہم یہاں جو سب سے موزوں اور مناسب چیز ہے وہ یہ کہ جب وہ لاعلمی کی کیفیت میں کسی چیز کا انتخاب کرتے ہیں تو اس چیز کو اپنے مفاد میں پاتے ہیں کہ انھوں نے خود کو ایک بدتر صورت حال سے محفوظ رکھا ہے ۔
خود پر لاعلمی کی کیفیت طاری کرنا ہی ایک منصفانہ قوانین اور پالیسیوں پر مبنی نظام کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہے۔ یہ اس بات کی تشریح ہوگی کہ معقول افراد صرف بدتر حالات سے بچنے کے نقطہ نظر ہی سے نہیں بلکہ وہ اس بات کی بھی کوشش کریں کہ ایسی پالیسیاں بنیں جس سے پوری سوسائٹی فائدہ اٹھا سکے۔ دونوں چیزوں میں باہمی مطابقت ہو۔ چونکہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ مستقبل کی سوسائٹی میں اسے کون سا مقام ملے گا اس لیے وہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ بدتر حالات پیدا ہونے کی صورت میں اس کے پیشگی تحفظ کا انتظام کیا جا سکے۔ تاہم یہ بات قابل فہم ہے کہ اگر وہ اپنی من پسند پالیسی کے ذریعہ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ یہ پالیسی انھیں بہتر حالت سے کمزور حالات میں نہ پہنچا دے کیونکہ یہ بات ممکن ہے کہ وہ مستقبل کی سوسائٹی میں ایک مالدار گھر میں آنکھ کھولے۔ لہٰذا یہ بات ہر فرد کے مفاد میں ہوگی کہ ایسے قوانین اور پالیسیاں بنائی جائیں جس سے سوسائٹی کے کسی ایک طبقہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچے۔ اس طرح کا منصفانہ طرز عمل کسی فراخدلی یا مہربانی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ عقلی اقدام کا سبب ہوگا۔
اس لیے رالس دعویٰ کرتا ہے کہ اخلاقیات کے بجائے استدلالی سوچ ہی ہمیں سوسائٹی کے اندر منصفانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے آمادہ کرسکتی ہے کہ ثمرات، فوائد اور فرائض کی مناسب اور جائز تقسیم کیسے کی جائے ۔ یہ اخلاقیات کے اصول نہیں ہیں جو ہم کو یہ طے کرنے کے لیے آزاد چھوڑتے ہیں کہ ہمارے حق میں کون سی چیز بہتر ہے۔ یہی خیال ہے جو رالس کے نظریے کو انصاف اور راستی کے سوال کو حل کرنے میں ایک اہم اور واحد ذریعہ بناتا ہے۔
4.4 سماجی انصاف کا حصول
Pursuing Socail Justice
اگر کسی سوسائٹی میں طبقاتی تقسیم گہری اور مستقل ہوتو ایک طرف وہ طبقات ہیں جو مال و دولت کے باعث اقتدار حاصل کر لیتے ہیں دوسری طرف وہ طبقات ہیں جو ان چیزوں سے محروم ر ہتے ہیں، تو ہم ایسی سوسائٹی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس میں سماجی انصاف کا فقدان ہے۔ ہم یہاں پر صرف مختلف معیار زندگی کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں جس سے سوسائٹی کے مختلف افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔
انصاف کے لیے مطلق مساوات ، یکسانیت اور یک رنگی کی ضرورت نہیں ہے جس میں لوگ رہتے ہیں۔ لیکن ایک سوسائٹی کو اس صور ت میں غیر منصفانہ کہا جائے گا اگر اس کے امیر اور غریب طبقات کے درمیان فرق اتنا زیادہ ہو اور ایسا لگنے لگے کہ یہ دونوں طبقات مکمل طور پر اپنی الگ الگ دنیا میں رہ رہے ہیں۔ نیز نسبتاً محروم طبقات کو سخت محنت کے بعد بھی اپنے حالات کو بہتر کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہو۔با لفاظ دیگر، ایک منصفانہ سوسائٹی اپنے ارکان کو کم از کم بنیادی ضروریات مہیا کراتی ہے جس کے ذریعہ وہ ایک صحت مند اور محفوظ زندگی گزار سکیں اور وہ اپنی استعداد اور صلاحیتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مساوی مواقع کے ذریعہ اپنے پسندیدہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
یہ کیجیے
حکومت اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے پانی،غذا، آمدنی اور اس طرح کی سہولیات کی جو کم از کم ضرورت ہوتی ہے اس بارے میں مختلف اندازے پیش کئے ہیں۔ اس نوع کے کسی تخمینہ کا اپنے اسکول کی لائبریری یا انٹرنیٹ سے پتہ لگائیں۔
لوگوں کی زندگی گزارنے کے لیے کم از کم ضروریات کا اندازہ ہم کیسے لگا سکتے ہیں؟لوگوں کی بنیادی ضروریات معلوم کرنے کے لیے مختلف حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(عالمی تنظیم صحت ) (World Health Organization) وغیرہ نے کئی طریقہ کار وضع کیے ہیں۔ لیکن اس سلسلہ میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ علاج و معالجہ کی سہولت، مکان، صاف پینے کا پانی کی فراہمی، تعلیم کی سہولت اور کم ازکم اجرت، ان بنیادی شرائط کا ایک اہم جزو ہیں جو ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے کم از کم ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ لوگوں کی ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنا جمہوری حکومت کی ذمہ داریوں اور فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن اس طرح کی بنیادی سہولیات تمام شہریوں کو فراہم کرنا حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج اور بوجھ ہو سکتا ہے۔ بالخصوص بھارت جیسے ملک میں جہاں غریبوں کی ایک کثیر تعدادموجود ہے۔
اگر ہم سب اس بات پر متفق بھی ہوتے ہیں کہ ریاست کو سوسائٹی کے سب سے زیادہ محروم افراد کو دوسروں کے ساتھ کچھ حد تک برابری کا مقام حاصل کرنے کے لیے سہولیات اور مراعات دینا چاہئیں اس کے باوجود اس مقصد کو حاصل کرنے کے پیش کردہ طریقہ کار پر اختلافات ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلہ میں آج ہمارے معاشرے میں اوردنیا کے مختلف حصوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا کمزور طبقات کو اوپر اٹھانے کے لیے آزادمنڈیوں کے حوالے سے کھلی مسابقت کو فروغ دینا ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے جس میں مالی اعتبار سے بہتر افراد کے مفاد پر کوئی ضرب نہ پڑتی ہو۔ یا غریبوں کو کم از کم سہولیات بہم کرانے کا ذمہ حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہیے اور اگر اس کے لیے ضروری ہے تو وسائل کی دوبارہ تقسیم عمل میں لائی جائے۔ ہمارے ملک میں اس سلسلہ میں یہی مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں جنھیں مختلف سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہے اور جو آبادی کے کمزور طبقات جیسے شہری یا دیہی غریبوں کو اوپر اٹھانے کے لیے بنائی گئی اسکیموں کے فوائد اور امکانات پر بحث کرتے ہیں۔ ہم اس بحث کا مختصر جائزہ لیں گے۔

ایک منصفانہ سوسائٹی وہ ہے جس میں ذات کی درجہ بندی کے لحاظ سے برتری کا احساس اور اسی بنیاد پر کمتری اور تحقیر کا احساس تحلیل ہو کر ایک ایسی سوسائٹی کی تخلیق کرے جس میں انسانی ہمدردی کا جذبہ موجود ہو۔
بی آر امبیڈکر
آزاد معیشت بنام ریاستی مداخلت
Free Markets versus State Intervention
آزاد معیشت یا منڈیوں کے مؤیدین کاکہنا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے، فرد کو انفرادی طور پر ملکیت و جائیداد رکھنے نیز قیمتیں، اجرتیں اور منافع کی شرح طے کرنے اور اس کے لیے معاہدے کرنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انھیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی بھی آزادی ملنی چاہیے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اور نفع حاصل کر سکیں۔ یہ آزاد منڈی کی سیدھی سادھی تعریف ہے۔
آزاد معیشت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست،معیشت کی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کریں تو اس کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی سے سماج میں وسائل اور حقوق کے تقسیم کے عادلانہ نظام کو قائم کیا جا سکتا ہے۔ جس کی جتنی صلاحیت اور اہلیت ہوگی اس کو اس کے مطابق صلہ ملے گا اور جو کم استعداد کے مالک ہوں گے انھیں کم صلہ اور اجر ملے گا۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے جو بھی نتائج سامنے آتے ہیں وہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں گے۔
بہر کیف، آج کھلے بازار کے تمام حامی اس بات کے قائل ہیں کہ منڈیوں کو مطلق آزادی دے دینی چاہیے۔ان میں سے اب بہت سے لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں بعض پابندیاں لگانا ـضروری ہیں۔ مثال کے طور پر تمام لوگوں کو کم از کم ایک معیاری زندگی فراہم کرنے کے لیے ریاست کو عملی میدان میں آنا چاہیے تاکہ وہ بھی برابری کی بنیاد پر مقابلہ کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔ لیکن وہ یہاں بھی یہ دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ لوگوں کو بنیادی سہولیات پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ مارکیٹ کو تعلیم‘ علاج و معالجہ اور اس طرح کی خدمات کے میدان میں بھی پھلنے پھولنے کی اجازت دی جائے۔ دوسرے الفاظ میں نجی کمپنیوں کی اس میدان میں حوصلہ افزائی کی جائے جب کہ ریاست اس طرح کی پالیسیاں بنائیں کہ لوگ ان خدمات سے استفادہ کرنے کے مالی طور پر اہل بنیں۔ ریاست کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عمر رسیدہ (بزرگ) اور بیمار لوگوں کی خصوصی مدد کرے جو مقابلہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس سے قطع نظر ریاست کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ قوانین و ضوابط پر عمل آوری کو یقینی بنائے تاکہ افراد کے درمیان مقابلہ آرائی میں کوئی جبر نہ ہو اور اس طرح کوئی دوسری رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کھلا بازار (فری مارکیٹ) ایک منصفانہ سوسائٹی کی بنیاد ہے۔ مارکیٹ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ فرد کی ذات یا مذہب کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی وہ دیکھتا ہے کہ وہ مرد ہے یا عورت۔وہ اس معاملہ میں غیر جانبدار ہے اور صرف فرد کی صلاحیتوں اور مہارت سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اہلیت ہے تو باقی چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
بازار کی تقسیم کے حق میں ایک دلیل یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ وہ ہمیں اپنی پسند اور انتخاب کے کئی مواقع فراہم کرتا ہے۔ بلا شبہ مارکیٹ سسٹم بحیثیت صارفین کے ہمیں اشیائے مصرف کے انتخاب میں ایک سے زائد چیزیں فراہم کرتا ہے۔ اگر ہماری قوت خرید اجازت دیتی ہے تو ہم اپنے پسند کے چاول کھا سکتے ہیں یا اپنی پسند کے اسکول میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک بنیادی اشیا ،اور سروسیز یا خدمات کا معاملہ ہے اس میں اہمیت کا پہلو یہ ہے کہ اچھے معیار کی اشیا اور خدمات دستیاب ہونی چاہئیں اور وہ بھی ان قیمتوں پر کہ لوگ اسے خریدنے کے لائق ہو سکیں۔ اگر پرائیوٹ کمپنیاں اس کو منافع بخش میدان نہیں سمجھیں گی تو ممکن ہے وہ دوسرے مارکیٹ کی طرف رخ کر لیں یا وہ ہلکی اور غیر معیاری سروسیز فراہم کرنے لگیں۔ در اصل یہی وجہ ہے کہ دور دراز کے دیہی علاقوں میں بہت کم پرائیوٹ اسکول ہوتے ہیں اور جو چند اسکول قائم کیے گئے ہیں وہ معیاری نہیں ہیں۔ یہی بات صحت عامہ یا رہائش (مکانات) کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ ان حالات میں حکومت کو میدان میں آنا چاہیے۔
ایک اور دلیل جو کھلے بازار اور نجی کمپنیوں کے دفاع میں پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جو سہولیات و خدمات فراہم کرتے ہیں ان کا معیار حکومت کے اداروں سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ لیکن ان خدمات اور سہولیات کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ وہ غریبوں کے دسترس سے باہر ہے۔ پرائیوٹ بزنس وہیں کیا جاتا ہے جہاں اسے سب سے زیادہ منافعہ ملتا ہے چنانچہ کھلا بازار انھیں لوگوں کے مفاد میں کام کرتا ہے جو مالدار، ذی حیثیت اور بااثر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ نسبتاً کمزور اور محروم لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچانے کے بجائے انھیں ان مواقع سے دور کیا جائے، اس بحث میں دونوں جانب سے دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن فری مارکیٹ کا اکثر رحجان وہاں کام کرنے کا ہوتا ہے جہاں پہلے سے ہی مراعات یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست مداخلت کرے اور یہ دیکھے کہ سوسائٹی کے تمام ارکان کے لیے بنیادی سہولیات میسر ہیں یا نہیں۔
ایک جمہوری معاشرہ یا سوسائٹی میں انصاف اور تقسیم کے اموراور و سائل کے حوالے سے اختلافات پیدا ہونا ناگزیرہے اور صحت مند بھی ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ہمیں مختلف نقطہ نظر کا تجزیہ کرنے اور اپنے نقطہ نظر کا عقلی طور پر دفاع کرنے کا موقع ملتا ہے۔ سیاست در اصل اس طرح کے اختلافات کو بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال سے حل کرنے کا نام ہے۔ خود ہمارے ملک میں سماجی اور معاشی میدان میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔اگر ہم اس تفریق کو کم کرنا چاہتے ہیں۔انصاف کے مختلف اصولوں اور کلیات کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اس سے متعلق موضوعات پر بحث کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ انصاف کے حصول کا بہترین طریقہ کون سا ہے۔
( انصاف سے مراد غالباً یہ ہے کہ آپ کو اچھا کام کرنے کا تو حق ہے لیکن غلط کام کا نہیں! لیکن اس بارے میں ہم میں سے کوئی شخص یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ یہ اس کا اخلاقی حق ہے۔
جے ایس مل )
مشقیں
1 کسی شخص کوچاہے وہ مرد ہویا عورت اس کو اس کا جائز حق دینے سے کیا مراد ہے؟ وقت کے ساتھ ساتھ ہر ایک کو اس کا جائز حق دینے کے مفہوم میں کس طرح کی تبدیلی آئی ہے؟
2 انصاف کی تین اصولوں پر مختصر نو ٹ تحریر کریں جن کا تذکرہ اس باب میں کیا گیا ہے؟ ہر ایک کی وضاحت مثالوں سے کیجیے۔
3 کیا لوگوں کی خصوصی ضروریات کا خیال رکھنے کا اصول سب کے ساتھ مساویانہ سلوک کے اصول سے ٹکراتا ہے؟
4 رالس نے لاعلمی کی کیفیت کے تصور کو دلیل کے طور پر کیسے استعمال کیا ہے کہ انصاف پر مبنی تقسیم کے نظام کا عقلی بنیادوں پر دفاع کیا جا سکتا ہے ؟
5 کن چیزوں کو عموماً کم از کم بنیادی ضروریات قرار دیا جاتا ہے جو ایک با مصرف اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں؟ اور اس سلسلہ میں حکومتوں کی کیا ذمہ داری ہے کہ اس کو سب افراد کے لیے یقینی بنائے؟
6 مندرجہ ذیل دلائل جو شہریوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے سلسلہ میں ریاست کی مداخلت کے جواز کو صحیح ٹھہرانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں،ان میں سے کون سے صحیح ہیں؟
(a) غریب اور ضرورت مند لوگوں کو مفت خدمات فراہم کرنے کو خدمت خلق قرار دیا جا سکتا ہے۔
(b) تمام شہریوں کو کم سے کم معیار زندگی کی بنیادی سہولیات بہم پہنچانا ،برابری کا موقع دینے کا ایک طریقہ ہے۔
(c) بعض لوگ فطرتاً کاہل اور سست ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ کرنا چاہیے۔
(d) سب کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور کم سے کم معیار زندگی کو یقینی بنانا ہماری انسانی ہمدردی کے مشترکہ ورثہ کا اور حقوق انسانی کا اعتراف ہے۔