Skip to content
Keemiyan II

5-1


باب 5

حقوق

ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اکثر حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ایک جمہوری ملک کے شہری ہونے کے ناطے رائے دہی کا حق، سیاسی جماعتیں قائم کرنے کا حق، انتخابات میں حصہ لینے کا حق وغیرہ جیسے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
لوگ عمومی طور پرتسلیم شدہ شہری اور سیاسی حقوق کے علاوہ حقوق کے حوالے سے نئے نئے مطالبات کر رہے ہیں ان میں اطلاعات و معلومات کا حق، صاف ہوا یا صاف پینے کے پانی کا حق وغیرہ حقوق شامل ہیں۔ ان حقوق کے مطالبات نہ صرف ہماری سیاسی اور قومی زندگی کے حوالے سے کیے جا رہے ہیں بلکہ یہ ہماری سماجی اور ذاتی رشتوں کی بنیاد پر بھی کیے جا رہے ہیں۔ مزید بر آں یہ کہ حقوق کا مطالبہ صرف بالغ افراد کے لیے ہی نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ چھوٹے بچوں، ر حم مادر میں پل رہے بچوںاور حتیٰ کہ جانوروں کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ حقوق کا تصور اورخیال مختلف افراد مختلف انداز میں پیش کر رہے ہیں۔اس باب میں ہم یہ معلوم کریں گے:
◊  جب ہم حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوتاہے؟
◊ کن بنیادوں پر حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے؟
◊  حقوق کس مقصد کو پورا کرتے ہیں اور اس قدر اہم کیوں ہیں؟

5.1 حقوق کیا ہیں؟

?What Are Rights


حق، بنیادی طور پر استحقاق یا ایک قابل جواز مطالبہ ہے۔ وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم بحیثیت شہری،بحیثیت فرد اوربحیثیت انسان کس چیز کے مستحق ہیں۔ یہ کچھ ایسی چیز ہے جسے ہم اپنا جائز حق سمجھتے ہیں اور یہ کہ پوری سوسائٹی کو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور ایک جائز دعویٰ ہونے کے ناطے اس کا احترام اور تائید کی جانی چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہروہ چیزجس کی میں ضرورت محسوس کرتا ہوں یا خواہش کرتا ہوں وہ ایک حق ہے۔ اگر میں اسکول کے مقررہ یونیفارم کے بجائے اپنی پسند کے کپڑے پہننا چاہتا ہوں اور میں رات دیر گئے تک باہر رہنا چاہتا ہوں تواس کے معنیٰ یہ نہیں ہوئے کہ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اسکول میں جیسا چاہوں ویسا لباس پہن کر آوں یا گھر پر اپنی مرضی کے مطابق واپس جاوں۔ میں کیا چاہتا ہوں اور کس چیز کا مستحق ہوں اور جنھیں حقوق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے،ان کے درمیان فرق ہے۔
حقوق دراصل بنیادی طور پر وہ مطالبات ہیں جن کو میرے علاوہ دوسرے بھی ایک با وقار اور باعزت زندگی گزارنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ در حقیقت،جن بنیادوں پر حقوق کے دعوے کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک بنیاد یہ ہے کہ وہ حالات کی عکاسی کرتے ہیں جسے ہم اجتماعی طور پر فرد کی عزت نفس و عظمت کا سر چشمہ سمجھتے ہیں۔ بطور مثال، روزگار کا حق ،ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے۔مستقل آمدنی کی ملازمت ایک شخص کو معاشی آزادی عطا کرتی ہے اور یہ اس کی عظمت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری بنیادی ضروریات کی تکمیل ہمیں اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو انجام دینے کی آزادی فراہم کرتی ہے۔ یا اس حق کو ہی لیں جو ہمیں اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ یہ حق ہمیں تخلیق اور ایجاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ اب چاہے وہ تصنیف و تالیف کا معاملہ ہو یا رقص و موسیقی یا کوئی دوسری تخلیقی کی سرگرمی۔ ایک جمہوری حکومت کے لیے اظہارخیال کی آزادی نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ نظریات و خیالات اور اعتقادات کو آزادانہ طور پر بیان کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک سماج میں رہنے والے تمام انسانوں کے لیے ہیں اور آفاقی حقوق میں، روزگار کے حق اور آزادانہ اظہار رائے کے حق کوبڑی اہمیت دی گئی ہے۔
ایک اور وجہ جس کی بنیاد پر حقوق کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری فلاح و بہبود کے لیے حقوق لازمی ہیں۔ یہ افراد کو اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔مثلاً تعلیم کا حق ہے ،وہ ہمارے شعور کو بلند کرنے میں مدد کرتا ہے اورہمیں کار آمد مہارت سے لیس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ زندگی میں صحیح انتخاب کی اہلیت فراہم کرتا ہے۔ اس اعتبار سے تعلیم کو ایک آفاقی حق قرار دیا جا تاہے۔ بہر حال اگر کوئی فعل یا کام ہماری صحت یا فلاح کے لیے نقصان دہ ہے تو اسے حق کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر طبی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال سے کسی کی صحت خراب ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ ہمارے دوسروں کے ساتھ تعلقات کو خراب کر سکتے ہیں اس لیے ہم تمباکو نوشی یا ممنوعہ ادویات کے استعمال کو حق قرار دینے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کا معاملہ لیں،اس میں نہ صرف سگریٹ پینے والے کی صحت پر مضر اثر پڑتا ہے بلکہ ساتھی ا فراد بھی اس کے مضر اثرات کی زد میں آجاتے ہیں۔ اسی طرح مضر ادویات نہ صرف ہماری صحت کو خراب کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات ہمارے رویہ کو بھی تبدیل کر دیتی ہیں اور ہم دوسروں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ حقوق کی تعریف کے اعتبار سے سگریٹ نوشی یا ممنوعہ دواوں کے استعمال کو حق کا درجہ دیے جانے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ۔

اس پر عمل کریں

حالیہ اخبارات کا مطالعہ کریں اور ایسے انقلاب جس میں اختیارات و حقوق کی باتیں ہوں ،کے کہنے والوں کی فہرست تیار کریں

5.2 حقوق کا سر چشمہ کیا ہے؟

?Where Do Rights Come From


17ویں اور18ویں صدی کے سیاسی مفکروں نے استدلال کیا کہ ہمیں حقوق فطرت (نیچر) خدا نے عطا کیے ہیں۔ انسانوں کے حقوق قانون ِفطرت سے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ حقوق ہمیں کسی حکمراں یا سوسائٹی نے تفویض نہیں کئے ہیں بلکہ ہم ان حقوق کے ساتھ ہی پیدا ہوئے ہیں۔ لہذا یہ حقوق ہم سے الگ نہیں کئے جا سکتے یا یہ ناقابل تنسیخ ہیں اور انھیں ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے انسان کے تین فطری حقوق کی نشان دہی کی ہے اور وہ ہے زندگی ،آزادی اور ملکیت کا حق۔ دوسرے تمام حقوق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان بنیادی حقوق سے اخذ کیے گئے ہیں۔ یہ خیال کہ ہم بعض حقوق کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یہ ایک بہت طاقتور تصور ہے کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ریاست یا ادارہ ان حقوق کو ہم سے چھین نہیں سکتا ہے جو ہمیں قانون فطرت نے عطا کیے ہیں۔ فطرت کے عطا کردہ حقوق کا یہ نظریہ حکومتوں اور ریاستوں کے آمرانہ اختیارات کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور انفرادی آزادی کو تحفظ فراہم کرنے میں بھی۔
حالیہ برسوں میں فطری حقوق کی جگہ حقوق انسانی کی اصطلاح کا استعمال بہت زیادہ ہونے لگا ہے۔ اس کی وَجہ یہ ہے کہ قانون فطرت یا کچھ حقوق کا مجموعہ موجود ہے جو خدا یا فطرت نے ہمیں ودیعت کیے ہیں،آج ناقابل قبول معلوم ہوتے ہیں۔ حقوق کو آج کم از کم ایک بہتر زندگی گزارنے کی ضمانت قرار دیاجا سکتا ہے۔ 
حقوق انسانی کے پس پردہ یہ مفروضہ کار فرما ہے کہ تمام افراد چونکہ انسان ہیں اس لیے وہ بعض چیزوں کے خود بخودحقدار ہیں۔ بحیثیت انسان ہر شخص منفردہے اور اتنا ہی قابل عزت یعنی تمام اشخاص برابر درجہ رکھتے ہیں اور کوئی دوسروں کی غلامی یا خدمت کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد اپنی ایک فطری صلاحیت رکھتا ہے اس لیے انھیں مساوی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ پوری آزادی کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتوں کو عملی شکل دے سکے۔آزاد اور مساوی ہونے کا یہ تصور نسل، ذات،مذہب اور جنس کی بنیاد پر پائی جانے والی ناہمواریوں اور تفاوت کے خلاف بڑی شد و مد کے ساتھ آج استعمال کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسا نی کے عالمی اعلامیہ کی تفہیم کی بنیاد یہی حقوق ہیں اور یہ ان کوششوں کو تسلیم کرتا ہے جسے عالمی برادری اجتماعی طور پر وقار اور عزت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے اہم تصور کرتی ہے۔ حقوق انسانی کے اس آفاقی تصورکو تمام دنیا کے مظلوم اور دبے کچلے طبقات آج ان قوانین کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو انھیں الگ تھلگ کرتے ہیں اور برابری کے حقوق اور مواقع سے محروم کرتے ہیں۔ درحقیقت، انہی گروپوں کی جدو جہد کے باعث،جن میں محرومی کا احساس پایا جاتا ہے، موجودہ حقوق کی تعبیر کو بعض اوقات تبدیل کیا گیا ہے۔ بطور مثال،غلامی کے رواج کو ختم کردیا گیا ہے تاہم کچھ دیگر تحریکوں کو صرف محدود کامیابی ملی ہے۔ آج بھی کچھ گروہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ انھیں انسانیت کے دائرہ میں شامل کیا جائے۔

کانٹ کا انسانی عظمت کاتصور


’’۔۔۔۔۔۔۔۔ہر چیز کی ایک قیمت یا عظمت ہے۔ وہ قیمت کیا ہے جس کی جگہ کوئی اور چیز متبادل کے طور پر رکھی جا سکتی ہے؟ موازنہ کے طور پرجو تمام قیمت سے اوپر رکھی جا سکتی ہے اور اس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا ہے وہ عظمت ہے۔‘‘


’انسان‘ تمام دیگر مخلوقات کے مقابلے میں عظمت کا حامل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ بذات خود قابل قدر ہے۔18 ویں صدی کے جرمن  فلاسفر امانیول کانٹ کے نزدیک یہ سیدھا سادہ تصور بڑی گہری معنویت رکھتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر فرد عظمت کا حامل ہے اور اس کے ساتھ ایک بشر ہونے کے ناطے مناسب سلوک کیا جانا ضروری ہے۔ ایک شخص غیر تعلیم یافتہ، غریب یا بے حیثیت ہو سکتا ہے۔ وہ ممکن ہے کہ بے ایمان یا بد اخلاق بھی ہو ۔ اس کے باوجود وہ ایک انسان ہی رہتا ہے اس لیے اس کی کم از کم عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ 


کانٹ کے نزدیک لوگوں کے ساتھ وقار سے پیش آنا ان سے اخلاق کے ساتھ پیش آنے کے مترادف ہے۔ یہ خیال ان لوگوں کے لیے اتحادکا مرکز بن گیا جو سماجی درجہ بندی کے خلاف اور حقوق انسانی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔


کانٹ کا جو نقطہ نظر ہے اسے حقوق کا اخلاقی تصور تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ موقف دو دلائل پر مبنی ہے۔ اوّل ہمیں دوسروں کے ساتھ اسی طرح پیش آنا چاہیے جیسا کہ ہم دوسروں سے اس کی توقع کرتے ہیں۔ دوم،ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ کسی دوسرے شخص کو اپنے مقصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہمیں لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش نہیں آنا چاہیے جیسے ہم قلم یا کار یا گھوڑے کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کا احترام کرنا ضروری ہے اس لیے نہیں کہ وہ ہمارے لیے کارآمد اور مفید ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ بھی انسان ہیں۔ چنانچہ ہمیں لوگوں کی عزت اور احترام اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے لیے سود مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ بھی انسان ہیں۔


گزشتہ برسوں کے دوران حقوق انسانی کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے جس کا مطالبہ لوگ کرتے ہیں کیونکہ انسانی معاشرے کو نئے نئے چیلنجوں اور خطرات سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، آج ہم قدرتی ماحول کے تحفظ کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ اور اس فکرمندی نے صاف ہوا، پانی اور پائدار ترقی اور اس جیسے دیگر حقوق کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔ ایک نئی بیداری ان تبدیلیوں کے بارے میں آئی ہے جس کا اکثر لوگوں کو بالخصوص خواتین‘ بچوں یا بیمار افراد کو قدرتی آفت اور جنگ کے زمانے میں سامنا کرنا پڑتا ہے اس نے روزگار کا حق‘ بچوں کے حقوق اور اسی جیسے حقوق کے مطالبات کو وجود بخشا ہے۔ ایسے مطالبات دراصل لوگوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف غم و غصہ کا اظہار ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگوں کو اس امر کے لیے بھی اکساتے ہیں کہ حقوق کے دائرے کو تمام انسانوں تک پھیلایا جانا چاہیے۔ ہمیں اس طرح کے مطالبات کی قوت و اثر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ انھیں اکثر وسیع پیمانے پر حمایت ملتی ہے۔ آپ نے پاپ میوزک اسٹار باب جیلڈاف کی وہ اپیل سنی ہوگی جو اس نے افریقہ سے غریبی ختم کرنے کے لیے مغربی حکومتوں سے کی ہے اور آپ نے ٹی وی رپورٹوں میں دیکھا ہوگا کہ اس اپیل پر کس قدر بڑی تعداد میں عام لوگوں نے حمایت کا اعلان کیا۔

5-2

میرے والد نے ٹیلی فون کنکشن کے لیے ایک درخواست دی ہے۔ اب اس کو دو مہینے سے زیادہ ہورہے ہیں لیکن ابھی تک انھیں یہ فون کنکشن نہیں ملا ہے۔ وہ کیا کر سکتے ہیں؟

آپ کوکیا معلوم ہے؟اب ہمارے پاس معلومات حاصل کرنے کا حق ہے۔ ہم اس کی درخواست کے ذریعہ موجودہ حالت کے ساتھ ساتھ اس میں ہو رہی تاخیر کی وجہ بھی جاننے کا حق رکھتے ہیں۔

5.3 قانونی حقوق اور ریاست

?Legal Rights And The State


حقوق انسانی کے مطالبات ہماری ذات کو اپیل کرتے ہیں لیکن اس طرح کی اپیلوں کو کس حد تک کامیابی ملتی ہے اس کا دارومدار کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ ان میں سے سب سے اہم حکومتوں اور قانون کی طرف سے ملنے والی حمایت ہے۔ اسی لیے حقوق کو قانونی طور پر تسلیم کیے جانے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ 
کئی ملکوں کے آئینوں میں حقوق کا قانون شامل ہے۔ آئین کسی بھی ملک کا اعلیٰ ترین قانون ہوتا ہے چنانچہ بعض حقوق کی دستوری حیثیت انھیں ترجیحی اہمیت عطا کرتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ان حقوق کو بنیادی حقوق سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آئین میں درج دیگر قوانین اور پالیسیوں کو حقوق کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ آئین میں جو حقوق درج کئے گئے ہیں وہ بنیادی اہمیت کے تصور کئے جاتے ہیں۔ کچھ معاملوں میں ان حقوق میں اس لیے اضافہ کرنا پڑا ہے کہ کچھ تاریخی و سماجی عوامل کے وجہ سے ان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جیسے ہمارے ملک بھارت میں‘ چھواچھوت پر پابندی کا قانون ہے جو ملک میں رائج اس سماجی رسم کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ 
ہمارے مطالبات کی قانونی اور دستوری حیثیت اس قدر اہمیت رکھتی ہے کہ کئی مفکرین نے ان مطالبات کو حقوق قرار دیا ہے جنھیں ریاست نے تسلیم بھی کیا ہے۔ بلاشبہ حقوق کی قانونی حیثیت ہمیں سوسائٹی میں ایک خصوصی مقام عطا کرتی ہے لیکن یہ حقوق کا مطالبہ کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ جیسا کہ پہلے ہم نے اس پر بحث کی ہے ۔ حقوق کی فہرست میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی دوبارہ تشریح کرکے محروم طبقات کو اس میں شامل کیا گیا ہے جو ہماری باعزت زندگی گزارنے کے بارے میں ہمارے عہد کے تصور کی عکاسی کرتاہے۔
تاہم زیادہ تر معاملوں میں حقوق کے مطالبات کا رخ ریاست کی طرف ہوتا ہے۔ لوگ ان حقوق کے بل بوتے پر ریاست سے اپنے مطالبات کرتے ہیں۔ جب میں اپنے تعلیم کے حق پر اصرار کرتا ہوں تو میں ریاست سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ میری بنیادی تعلیم کے لیے انتظامات کرے۔ سوسائٹی بھی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور اس کے لیے اپنے طور پر بھی کوشش کرتی ہے۔ مختلف طبقات اسکول قائم کرتے ہیں اور اسکالرشپ دیتے ہیں تاکہ تمام طبقات کے بچے تعلیم کے ثمرات سے فیض اٹھاسکیں۔ لیکن اس سلسلہ میں اولین ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضروری اقدامات کرے تاکہ میری تعلیم کا حق شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
اس لیے حقوق ریاست پر ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ بعض چیزوں پر عمل کرے اور حقوق یہ بتاتے ہیں کہ ریاست کو اس پر کس طرح عمل کرنا ہے اور کس پر عمل نہیں کرنا ہے۔مثلاً میرا زندہ رہنے کا حق ریاست سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جو مجھے دوسروں کی طرف سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھے۔ وہ ریاست سے تقاضہ کرتا ہے کہ جن لوگوں نے مجھے نقصان پہنچایا یا مجروح کیا ہے انھیں سزا دی جائے۔ اگر کوئی سوسائٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ زندہ رہنے کے حق سے مراد ایک بہتر زندگی ہے تو ریاست سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ان دیگر سہولیات کا بھی انتظام کرے جو ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہاں میرا حق ریاست پر بعض فرائض عائد کرتا ہے کہ وہ اس انداز میں کام کرے۔
حقوق صرف یہ نہیں بتاتے کہ ریاست کو کیا کرنا چاہیے بلکہ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریاست کو کن کاموں سے باز رہنا چاہیے۔ مثلاً بحیثیت ایک فرد آزادی کا میرا حق بتاتا ہے کہ ریاست مجھے محض اپنی مرضی کی بنیاد پر گرفتار نہیں کر سکتی ہے۔ اگر وہ مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہتی ہے تو اسے اس اقدام کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ اسے عدالت کے سامنے میری آزادی کو سلب کرنے کی وجوہات پیش کرنی ہوںگی۔ چنانچہ پولس کو مجھے گرفتار کرنے سے پہلے گرفتاری کا وارنٹ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس میرا حق ریاست کے اختیارات عمل پربعض حدود عائد کرتا ہے۔
اس کو دوسرے انداز میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے حقوق اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ریاست اپنے اختیار کا استعمال کرتے وقت فرد کی آزادی اور زندگی کے تقدس کو پامال نہیں کرسکتی۔ ریاست ایک خود مختار حکومت ہوتی ہے۔ وہ جو قوانین بناتی ہے اس کا نفاذ وہ طاقت کے ذریعہ کر سکتی ہے، لیکن خود مختار ریاست کا وجود خود اس کے لیے نہیں بلکہ فرد کی خاطر ہوتا ہے۔ لوگ جواہم ہوتے ہیں اور برسراقتدار حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔ حکمراں اپنے عمل کے لیے جوابدہ ہوتے ہیں اور انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قانون لوگوں کی بھلائی کے لیے بنائے گئے ہیں۔

اسے کیجیے

گزشتہ چند دنوں کے اخبارات کا مطالعہ کریں اور حقوق کی پامالی کے معاملوں کی نشان دہی کریں جس پر ہم نے بحث کی ہے۔ اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کو کیا کرنا چاہیے۔

5.4 حقوق کی قسمیں

Kinds Of Rights


آج زیادہ تر جمہوریتو ں کا آغاز سیاسی حقوق کے منشور (چارٹر) سے ہوتا ہے ۔ سیاسی حقوق شہریوں کو قانون کی نظر میں برابری کا درجہ اور سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق عطا کرتے ہیں۔ اس نوع کے حقوق میں ووٹ کا حق، اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق،الیکشن لڑنے کا حق‘ سیاسی جماعتیں قائم کرنے یا ان میں شامل ہونے کا حق وغیرہ شامل ہیں۔سیاسی حقوق کو شہری آزادیوں کے حقوق تقویت فراہم کرتے ہیں۔ موخرالذکر حقوق میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انداز میں مقدمہ چلانے، کسی نقطہ نظر کا اظہار کرنے کی ، احتجاج اور اختلاف کرنے کی آزادی وغیرہ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر شہری آزادیاں اور سیاسی حقوق ایک جمہوری نظام حکومت کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، حقوق کا مقصد فرد کی فلاح وبہبود کا خیال رکھنا ہے۔ اس سلسلہ میں سیاسی حقوق حکومت کو عوام کے تئیں جواب دہ بناتے ہیںاور وہ حکمرانوں کے بجائے فرد کی ضروریات کو زیادہ اہمیت عطا کرتے ہیں ساتھ ہی اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تمام افراد کو حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع ملے۔
البتہ، ہم اپنے سیاسی حقوق کا پوری طرح سے استعمال اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہماری بنیادی ضروریات جیسے غذا، مکان، لباس، صحت وغیرہ پوری ہوں۔ ایک شخص جو سڑک کی پٹری پر رہ رہا ہے اور اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اس کے لیے سیاسی حقوق بہت کم معنیٰ رکھتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے بعض سہولیات جیسے مناسب اجرت اور معقول نوعیت کا کام فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرسکے۔ چنانچہ اب جمہوری معاشروں نے ان ذمہ داریوں اور معاشی حقوق فراہم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔ بعض ملکوں میں شہریوں ،با لخصوص کم آمدنی والوں کو ریاست کی طرف سے مکان اور صحت کی سہولیات فراہم کی جانے لگی ہیں اور بعض دوسرے ملکوں میں بے روزگار افراد کو بے روزگاری بھتہ مل رہا ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہندوستان میں حکومت نے غریب طبقات کی مدد کے لیے کئی دیگر اقدامات کے علاوہ حال ہی میں دیہی روزگار اسکیم (گرامین روزگار یوجنا) شروع کی ہے۔ 
سیاسی اور معاشی حقوق کے علاوہ آج زیادہ سے زیادہ جمہوری حکومتیں اپنے شہریوں کے ثقافتی حقوق کے مطالبات کو بھی تسلیم کر رہی ہیں۔اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم پانے کا حق انھیں زبان اور ثقافت کی تعلیم،ادارے قائم کرنے کا حق اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے حق کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ جمہوری معاشروں میں حقوق کی فہرست میں متواتر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جب کہ جسے زندہ رہنے کا حق،آزادی، مساویانہ سلوک اور سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق کو بنیادی حقوق قرار دیا جا رہا ہے جن پر ترجیحی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری لوازمات کو بھی جائز مطالبات یا حقوق کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

آئیے اس پر بحث کریں

تہذیبی حق کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو بھی ایسی فلم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو دوسروں کے مذہبی یا ثقافتی عقائد کی توہین کرتاہے۔

آئیے اس پر غور کریں

طبقات یافرقوں کو عطا کیے گئے مندرجہ ذیل حقوق میں سے کون جائز اور درست ہیں ۔ بحث کریں۔
جین فرقہ ایک مقام پر اپنے اسکول قائم کر سکتا ہے اور اس میں صرف اپنے فرقے کے بچوں کو داخلہ دے سکتا ہے۔
ہماچل پردیش میں صرف انھیں لوگوں کو جو اس ریاست کے باشندے ہیں جائداد خریدنے یا رکھنے کی اجازت ہے۔
مخلوط تعلیم والے کالج کے پرنسپل نے یہ سرکولر (حکم نامہ) جاری کیا ہے کہ کوئی لڑکی مغربی لباس پہن نہیں سکتی ۔
ریاست ہریانہ میں ایک پنچائت نے فیصلہ کیا کہ جو لڑکا اور لڑکی مختلف ذاتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود شادی کرتے ہیں انھیں گاو ں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

5.5  حقوق اور فرائض

Rights And Responsibilities


حقوق ریاست پر صرف کچھ کرنے کی ذمہ داریاں عائد نہیں کرتے ہیں۔جیسے پائدار ترقی کی یقین دہانی ۔بلکہ وہ ہم میں سے ہر ایک پر بھی بعض ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ ہمیں نہ صرف ہماری ذاتی ضروریات اور مفادات کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور کرتے ہیں بلکہ وہ ہمیں،سب کی بھلائی کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اوزون پرت (Ozone Layer) کی حفاظت، ہوا اور پانی کی آلودگی کو کم کرنا، شجر کاری کے ذریعہ ہریالی بڑھانا اور جنگلات کی کٹائی روکنا،ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا وغیرہ یہ چیزیں ہم سب کے لیے ضروری ہیں۔ یہ مشترکہ بھلائی کی چیزیں ہمیں خود اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ان کی حفاظت کرنا چاہیے کیونکہ آنے والی نسلیں اس بات کی حقدار ہیں کہ انھیں ایک محفوظ اور صاف ستھری دنیا ورثہ میں ملے تاکہ وہ بڑی حد تک ایک اچھی زندگی جی سکیں۔

5-3

کیا آپ نے کل ٹی وی پر تازہ ترین اسٹنگ آپریشن دیکھا؟

میں مشہوراداکارہ اور افسر کے درمیان شہوت انگیزگفتگو پر یقین نہیں کر سکتا۔


یہ فلم سستی سنسنی خیز ی کے علاوہ

 پرایویسی (نجی زندگی) میں

 دخل اندازی ہے۔

دوسرا یہ کہ وہ اس بات سے بھی غرض رکھتے ہیں کہ میں دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کروں۔ اگر میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے اپنے اظہار خیال کی آزادی ملنا چاہیے تو مجھے یہی حق دوسروں کو دینا چاہیے۔ گرچہ میں نہیں چاہتا کہ میری اپنی پسندیدہ چیزوں میں کوئی مداخلت کرے جیسے میں لباس پہنتا ہوں یا جو موسیقی میں سنتا ہوں وغیرہ۔ اس طرح مجھے بھی دوسروں کی پسندیدہ چیزوں میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔ مجھے ان کی موسیقی اور کپڑوں کے انتخاب کرنے کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دینا چاہیے۔ میں اپنے حق اظہار آزادی کا استعمال ،بھیڑ کو اکسا کر اپنے پڑوسی کو ہلاک کرنے کے لیے نہیں کر سکتا ، میں اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کرسکتا۔ دوسرے الفاظ میں میرے حقوق ، دوسروں کے تمام مساوی حقوق کے پابند ہیں۔
سوم یہ کہ ہمیں اپنے حقوق میں توازن پیدا کرنا چاہیے ۔جب ہمارے حقوق کسی کے ساتھ ٹکراتے ہوں تواظہار آزادی کا حق مجھے تصویریں لینے کی اجازت دیتا ہے، تاہم اگر میں غسل کرتے ہوئے شخص کی ، اس کے غسل خانے کی ،اس کی مرضی کے بغیر، تصویریں لوں اور بعد میں انھیں انٹرنیٹ میں ڈال دوں تو یہ اس شخص کی نجی زندگی کے حق (پرائیوسی) کی خلاف ورزی ہوگی۔
چوتھی بات یہ کہ شہریوں کو ان پابندیوں کے بارے میں با خبر اور مستعد رہنا چاہیے جو ان کے حقوق پر عائد کی جا سکتی ہیں۔ آج یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد پر کئی حکومتیں شہریوں کے شہری حقوق پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کر رہی ہیں۔ قومی سلامتی کے تحفظ کے بارے میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اس کا مقصد شہریوں کے حقوق اور ان کے بہتر مستقبل کی حفاظت کرنا ہے۔ لیکن یہ پابندیاں کس حد تک عائد کرنا ضروری ہیں جو کہیں لوگوں کے حقوق کے لیے خطرہ نہ بن جائیں؟ اگر کسی ملک کو دہشت گردوں کے بم دھماکے سے خطرہ لاحق ہے تو کیا اسے شہری آزادیوں کو کم کرنے کی اجازت دینا چاہیے؟ کیا اسے محض شبہ کی بنیاد پر لوگوں کو حراست میں لینے کی اجازت دینا چاہیے؟ کیا اسے ان کی ڈاک یا ان کے فون سننے کی اجازت دینا چاہیے؟ کیا اسے جرم قبول کرانے کے لیے اذیت دینی چاہیے؟
اس طرح کے حالات میں یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی وہ شخص سوسائٹی کے لیے یقینی خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ گرفتار کیے گئے اشخاص کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور اپنے مقدمہ میں مجسٹریٹ کے سامنے عدالت میں پیش ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ہمیں حکومتوں کو اختیارات دیتے وقت انتہائی محتاط اور ہوشیار رہنا چاہیے جو ان اختیارات کا افراد کی شہری آزادیوں کو کم کرنے کے لیے غلط استعمال کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مطلق العنان بننے نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ ان کی وجہ سے ہی ریاست کے افراد کی فلاح و بہبود ہے۔ چنانچہ حقوق کبھی مطلق نہیں ہوتے ہیں مگر ہمیں اپنے اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہوشیار اور مستعد رہنا چاہیے، کیوںکہ ان ہی حقوق کی بنیاد پر جمہوری سوسائٹی کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔

اس پر بحث کیجیے

ایک فرد کے حقوق کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے دوسرے فرد کی ناک شروع ہوتی ہے۔


 اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰؍ــــــــــدسمبر ۱۹۴۸؁ء کو  یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس (حقوق انسانی کا اعلامیہ) جاری کیا۔ اس تاریخی قدم کے ذریعہ اقوام متحدہ نے تمام رکن ملکوں پر زور دیا کہ وہ اس تاریخی اعلامیہ کے متن کی ترویج و اشاعت کریں اور ’اسے بروئے کار لاکر اس کی عملی شکل میں درسگاہوں اور تعلیمی اداروں میں پھیلائیں‘ آویزاں و اشاعت کریں‘ تدریس کرائیں اور تعبیر و تشریح کریں۔ اس میں کوئی امتیازنہ کریں کہ ملکوں یا علاقوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے۔

تمہید

 تمام انسان پیدائشی عظمت ، برابری اور ناقابل تنسیخ حقوق کے حامل ہیں،ان حقوق کی تصدیق اورتوثیق آج دنیا میں آزادی،انصاف اور امن کی اساس ہے۔

جب کہ حقوق انسانی کا احترام نہ کرنے اور ان کو پامال کرنے سے بہمیانہ حرکتیں سرزد ہوئی ہیں جس نے انسانی ضمیر کو شرمسار کیا ہے ۔ ایک ایسی دنیا ظہور میں آئی ہے جس میں انسان کو عقیدہ اور اظہار خیال کی آزادی ہوگی اور وہ ڈر و خوف اور لاچاری سے آزاد ہوگا۔ ایسی دنیا کو ایک عام آدمی کی بلندترین امنگ و خواہش قرار دیا گیا ہے۔

اس کے ذریعہ یہ بات لازمی ہے کہ اگر کوئی شخص ظلم و استبداد کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی حفاظت کے لیے مخصوص بندوبست کرنے کے لیے مجبور نہیں ہونا پڑے گا بلکہ قانون کی حکمرانی کے ذریعہ اس کے انسانی حقوق کو تحفظ دیا جائے گا۔

اس کے ذریعہ عہد کیا جاتا ہے کہ اس کے لیے قوموں کے درمیان دوستانہ مراسم اور رشتے فروغ پاتے رہیں گے۔

اس کے ذریعہ اقوام متحدہ کے لوگوں نے بنیادی حقوق انسانی کے چارٹر سے اپنی وابستگی کی توثیق کا اظہار کیا ہے۔ انسان کی عظمت ، اس کی قدر اور مرد و عورت کے لیے برابری کے حقوق اور سماجی ترقی اور بہتر معیار زندگی کو فروغ دینے کے لیے عزم اور ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ 

اس کے ذریعہ رکن ملکوں نے یہ عہد کیا کہ وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے‘ اقوام متحدہ سے تعاون و اشتراک کریں گے۔ سب کے لیے احترام اور حقوق انسانی اور بنیادی شہری آزادیوں کا احترام کریں گے۔

 ان حقوق اور آزادیوں کی تمام سمجھ پیدا کی جائے گی اور اس اقرار و عہد کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے بہت اہم قدم اُٹھانے ہوں گے۔ اس لیے اب، جنرل اسمبلی اس حقوق انسانی کے عالمی اعلامیہ (یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس ) کا اعلان کرتی ہے جو تمام لوگوں اور قوموں کے لیے کامیابی کا ایک مشترکہ معیار ہوگا، آخر میں اس غرض سے کہ ہر فرد اور سوسائٹی اس اعلامیہ کو اپنے ذہن میں ہمیشہ رکھے گا، تعلیم و تدریس کے ذریعہ ان حقوق اور آزادیوں کے احترام و لحاظ کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا اور ’ قومی اور بین الاقوامی‘ترقی پسندانہ اقدامات کے ذریعہ ان کی آفاقی اور موثر طور پر اقرار و احترام کی کوشش کرے گااور یہ رکن ملکوں کے لوگوں کے درمیان اور ان کے زیر نگراں علاقوں کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔

مشقیں

حقوق کیا ہیں اوروہ اہم کیوں ہیں؟ وہ کیا بنیادیں ہیں جن کی بنا پر حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے؟

وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کے تحت بعض حقوق کو آفاقی تصور کیا جاتا ہے؟ تین حقوق کی نشان دہی کریں جنھیں آپ آفاقی تصور کرتے ہیں ۔ دلائل کے ساتھ بیان کیجیے۔

ہمارے ملک میں پیش کیے جا رہے حقوق کے نئے مطالبات پر بحث کریں ۔ بطور مثال، قبائلی لوگوں کے حقوق، یعنی کہ ان کی بود و باش اور طرز زندگی کو تحفظ فراہم کرنا یا جبریہ مزدوری (بندھوا مزدوری ) کے خلاف بچوں کے حقوق پر بحث کریں۔

سیاسی،معاشی اور ثقافتی حقوق کے درمیان فرق بیان کیجیے۔ ہر قسم کے حق کے بارے میں مثالیں پیش کیجیے۔

حقوق،ریاست کے اختیارات پر کچھ پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ مثالوں سے وضاحت کیجیے۔