
سبق 6
شہریت
شہریت سے مرادیہ ہے کہ کسی سیاسی سماج کا مکمل اور برابر کا رکن ہونا، اس باب میں ہم یہ مطالعہ کریں گے کہ آج اس کا صحیح مطلب کیا ہے‘ حصہ 6.2 اور 6.3 میں ہم ان بحث و مباحثوں اور کشاکش پر غور کریں گے جو مکمل اور مساوی رکنیت،جیسی اصطلاح کی تشریح کے سلسلے میں جاری ہیں،حصہ 6.4 میں شہریوں اور قوم (ملک) اور مختلف ممالک میں اختیار کردہ شہریت کے معیار و طریقہ کارکے مابین تعلق کا ذکر کیا جائے گا۔ جمہوری شہریت کے نظریات کا دعویٰ ہے کہ شہریت بین الاقوامی (آفاقی) ہونی چاہیے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آج ہر شخص کو ایک یا دوسرے کسی ملک کارکن( شہری )تسلیم کیا جانا چاہیے؟ تو ہم شہریت سے محروم افراد کی اتنی بڑی تعداد کے بارے میں کون سی توضیح پیش کر سکتے ہیں؟ اس مسئلہ پر حصہ 6.5 میں روشنی ڈالی جائے گی۔ آخری حصہ 6.6 میں عالمگیر شہریت پر غور کیا جائے گا۔ کیا ایسی کوئی شہریت وجود میں ہے اور کیا یہ قومی شہریت کا بدل ہو سکتی ہے؟
اس باب کے غور سے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
◊ شہریت کے مفہوم کی وضاحت کر سکیں اور
◊ کچھ ان نکات پر بات کر سکیں جن میں اس کے معنی کو وسعت دی گئی ہے یا اس پر اعتراض کیا گیا ہے۔
6.1 تعارف
INTRODUCTION
شہریت کی تعریف کسی فرد کی کسی سیاسی معاشرہ کی مکمل اور مساوی رکنیت کے طور پر کی گئی ہے، عصر حاضر میں دنیا میں ریاستیں اپنے تمام باشندوں کو مجموعی سیاسی شناخت فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی انھیں کچھ حقوق بھی عطا کرتی ہیں۔ اسی بنیاد پرہم اپنے آپ کو ہندوستانی، جاپانی یا جرمن سمجھتے ہیں اور اس کا ا نحصار اس بات پر ہے کہ ہم کس ملک کے رہنے والے ہی۔ شہری اپنے ملک سے کچھ حقوق کی توقع کرتے ہیں اور ساتھ ہی مدد اور تحفظ کی بھی جب وہ کہیں سفر کریں۔

کسی بھی ملک کی مکمل شہریت کی اہمیت کا اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب دنیا کے ان ہزاروں افراد کی حالت کے بارے میں سوچیں جن کی بدقسمتی نے انھیں پناہ گزین یا غیر قانونی طریقہ سے کسی ملک میں جا کر رہنے پرمجبور کر دیا ہو اور کوئی بھی ملک ان کو اپنی شہریت دینے کو تیار نہ ہو۔ ان کے لیے ان کی پسند کے کسی ملک کی مکمل رکنیت ایک ایسا ہدف ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کے لیے بھی تیار ہیں، جیسا کہ آج ہم مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے ساتھ دیکھتے ہیں، شہریوں کو دیے گئے حقوق کی نوعیت مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتی ہے لیکن زیادہ ترجمہوری ممالک میں آج کل کچھ سیاسی حقوق جیسے ووٹ دینے کا حق، شہری حقوق جیسے آزادی رائے یا عقیدے کی آزادی اور بعض سماجی و معاشی حقوق جن میں کم سے کم اجرت پر کام کرنے کا حق بھی شامل ہے یا تعلیم کے حصول کا حق،بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ شہریت کے بنیادی حقوق میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ حقوق میں یکسانیت اور برابری ہونی چاہیے۔

آج شہریوں کو حاصل یہ تمام حقوق ایک جدوجہد کے بعد ہی ملے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جدوجہد طاقتور شہنشاہیت کے خلاف لوگوں کی آزادی اور حقوق کی لڑائی میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہوئیں۔ بہت سے یورپی ملکوں میں ایسی جدوجہد دیکھی گئیں، جن میں سے بعض بہت پرتشدد تھیں،جیسے 1789 کا انقلاب فرانس، ایشیا اور افریقہ کی نوآبادیاتیوں میں برابری کی شہریت کے حقوق کی مانگ ،نو آبادیاتی حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد کا ایک حصہ تھیں۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فام آبادی کو سفیدفام حکمراں کے پاس اقلیت کے برابر کی شہریت کے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک طویل جدوجہد کرنی پڑی اور یہ جدوجہد 1990 کے اوائل تک جاری رہی۔

آئیے ذرا سوچیں
سترہویں صدی سے بیسویں صدی کے دوران یورپ کے سفید فام لوگوں نے جنوبی افریقہ کے سیاہ فام لوگوں کے اوپر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ نیچے دیے گئے اقتباس میں 1994 تک جنوبی افریقہ میں نافذپالیسیوں کے بارے میں پڑھیے۔
سفید فام لوگوں کو ووٹ دینے، الیکشن لڑنے اور حکومت منتخب کرنے کا حق تھا، انھیں جائیداد خریدنے اور ملک میں کہیں بھی آنے جانے کی آزادی تھی، سیاہ فاموں کو یہ سب حقوق حاصل نہیں تھے۔ سیاہ فاموں اور سفید فاموں کے لیے الگ الگ کالونیاں بنائی گئی تھیں۔ سفید فاموں کے آس پاس کام کرنے کے لیے سیاہ فاموں کو ’اجازت نامہ‘ لینا پڑتا تھا۔انھیں اپنے خاندان کے افراد کو سفید فام لوگوں کے علاقوں کے آس پاس رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ الگ الگ رنگوں کے لوگوں کے لیے الگ الگ اسکول تھے۔
◊ کیا آپ کی رائے میں جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کو مکمل اور مساوی شہریت حاصل تھی؟ وجوہات بتائیے۔
◊ جنوبی افریقہ میں مختلف طبقات کے باہمی تعلقات کے بارے میں اوپر دیے گئے اقتباس سے ہمیں کیا معلومات ملتی ہیں؟
آئیے اسے کریں
اپنے علاقہ میں بعض شہریوں کی کچھ ایسی سرگرمیوں کے بارے میں سوچئے جو دوسروں کی مدد کے لیے،یا علاقہ کی ترقی کے لیے یا ملک کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں۔ کچھ سرگرمیوں کی فہرست تیار کریں جو آپ کی عمر کے نوجوان طبقہ کو کرنی چاہئیں۔
برابری کے حقوق کے لیے دنیا کے بہت سے خطوں میں یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے، آپ نے اپنے ملک میں تحریک نسواں اور دلت تحریک کے بارے میں پڑھا ہوگا۔ ان تحریکوں کا مطلب ان طبقوں کی طرف عوام کا ذہن کھینچ کر ان پر عام رائے بنانا ہے۔ اور ساتھ ہی سرکاری پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر ان کے لیے برابری کے حقوق اور مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم شہریت حکومت وقت اور ملک کے شہریوں کے درمیان باہمی تعلقات سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ایک شہری کے دوسرے شہری سے تعلق کے بارے میں اور شہریوں کے ایک دوسرے کے لیے اور سماج کے لیے بعض فرائض کو بھی شامل کرتی ہے۔ ان میں صرف وہ قانونی پابندیاں ہی نہیں ہیں جو ریاست عائد کرتی ہے بلکہ ایسے اخلاقی فرائض بھی شامل ہیں جو مشترک سماجی زندگی میں شرکت اور تعاون کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ شہریوں کو ملک کی ثقافت اور قدرتی وسائل کا وارث اور متولی بھی سمجھا جاتا ہے۔
کسی سیاسی تصور کو سمجھنے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایسی مثالوں کی تلاش کی جائے جہاں اس کے قابل قبول معنی پر وہ جماعتیں سوالیہ نشان لگارہی ہوں اوروہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ تصور ان کی ضروریات اور خواہشات کا احترام نہیں کرتا۔
6.2 مکمل اور مساوی رکنیت
full and Equal Membership
اگر آپ نے کبھی کسی پر ہجوم ریل گاڑی کے ڈبے یا بس میں سفر کیا ہو تو آپ اس طریقہ سے خوب واقف ہوں گے جس میں لوگ اندر داخل ہونے کے لیے پہلے تو آپس میں لڑ رہے تھے،مگر ایک بار اندر داخل ہونے کے بعد ان کو ایک مشترک مفاد کا پتہ چلتا ہے جس سے وہ باقی لوگوں کو اندر آنے سے روکنے کے لیے ایک ہو جاتے ہیں اور ’اندر موجود لوگوں ‘اور ’باہر والوں ‘کے درمیان جلد ہی ایک تفریق پیدا ہو جاتی ہے‘ جس میں باہر والے ایک خطرہ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

مارٹن لوتھر کنگ
1950کے آس پاس ایک شہری حقوق کی تحریک (Civil Rights Movements) کا ظہور ہوا جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بہت سی جنوبی ریاستوں میں سفید فام اور سیاہ فام لوگوں کے درمیان موجودنا ہمواریوں کے خلاف تھی۔ یہ ناہمواریاں ان ریاستوں میں قوانین کے ایک مجموعے جسے ’علیحدگی قوانین‘(Seregation Laws) کہتے تھے کے ذریعہ عمل میں لائی جاتی تھیں‘ جس کے تحت سیاہ فام لوگوں کو بہت سے شہری اور سیاسی حقوق سے محروم کر دیا تھا۔ ان قوانین نے سیاہ فام اور سفید فام لوگوں کے لیے مختلف شہری سہولیات جیسے ریلو، بسوں، سینما گھروں،تھیئٹروں،رہائش گاہوں،ہوٹلوں، ریسترانوں وغیرہ میں الگ الگ گوشوں کی تشکیل دی تھی۔
مارٹن لوتھر کنگ جو قوانین کے خلاف اس تحریک کا ایک سیاہ فام قائد تھا۔ کنگ نے اس نسلی تفریق کے لیے نافذ قوانین کے خلاف مدلل بحث چھیڑدی۔ پہلے اس نے یہ کام عزت نفس اور خودداری میں کیا اور کہا کہ دنیا کے تمام انسان اپنے رنگ اور اپنی نسل کے باوجود برابر ہیں ، دوسرے، کنگ نے دلیل دی کہ نسلی تفریق سیاسی جسم پر ایک سماجی جذام ہے۔ کیونکہ یہ اس قانون کے نتیجہ میں متاثر افراد پر ایک گہرا نفسیاتی زخم لگاتا ہے۔
کنگ نے ایک دلیل یہ دی کہ نسلی امتیاز کا دستور سفید فام لوگوں کے معیار زندگی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس نے اس نکتہ کی ایک مثال دے کر وضاحت کی، سفید فام کمیونٹی نے ایک عدالتی حکم نامہ کے تحت سیاہ فام لوگوں کو کچھ پارکوںمیں داخلہ دینے کے بجائے ان پارکوں کو ہی ختم کردیا۔ اسی طرح کچھ بیس بال ٹیموں کو بھی ختم کردیا گیا، کیوںکہ ارباب اقتدار سیاہ فام کھلاڑیوں کو ٹیم میں لینا نہیں چاہتے تھے۔ تیسرے نسلی امتیاز کا قانون افراد کے درمیان مصنوعی دیواریں کھڑی کر رہا تھا اور ملک کے مفاد میں ان افراد کے درمیان اشتراک کو روک رہے تھے۔ انہیں اسباب کی بنا پر کنگ کی دلیل تھی یہ قوانین ختم کردینے چاہئیں۔ اس نے نسلی تفریقی قوانین کے خلاف ایک پرامن اور غیر تشدد مزاحمت کا اعلان کیا، اس نے اپنی تقریروں میں سے کسی ایک میں کہا کہ ’’ہمیں اپنے احتجاج کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہیے ۔ ‘‘
اس طرح کی روش وقتاً فوقتاً شہروں، علاقوں اور یہاں تک کہ پورے ملک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔اگر ملازمتیں،سہولتیں جیسے طبی سہولیات اور قدرتی وسائل جیسے زمین اور پانی، محدود ہیں تو باہروالوں کے لیے ان پر پابندی لگانے کی مانگ کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ وہ بھی اسی ملک کے شہری ہو سکتے ہیں، شاید آپ کو وہ نعرہ یاد ہو،’ ممبئی صرف ممبئی والوں کے لیے‘ جو ایسے احساسات کو ظاہر کرتا ہے اس طرح کی بہت سی تحریکیں ہندوستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں ظہور میں آچکی ہیں۔
یہ چیز’مکمل اور مساوی رکنیت‘ کیا معنی رکھتی ہے؟ جیسے سوالات اٹھاتی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کو تمام مساوی حقوق اور مواقع فراہم ہو نے چاہئیں۔ملک میں کہیں بھی رہیں ، تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کا فیصلہ کریں؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام شہریوں کو چاہے وہ امیرہوں یا غریب، بعض بنیادی حقوق اور سہولتیں ملنی چاہئیں؟
اس حصہ میں ہم ان سوالات میں سے پہلے سوال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شہریت کے معنی تلاش کریں گے۔ ہمارے ملک میں اور دیگر بہت سے ممالک میں شہریوں کو دیے گئے حقوق میں سے ایک نقل و حرکت کی آزادی ہے۔ یہ حق محنت کش طبقہ کے لیے خاص اہمیت کاحامل ہے۔ جب روزگار کے مواقع آس پاس نہ ہوں تو مزدور کام کی تلاش میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ بعض لوگ کام کی تلاش میں ملک سے باہر بھی سفر کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں ہنرمند افراد اور غیر ہنرمند افراد کے لیے بازار دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کام کرنے والوں کے لیے بنگلور جیسے شہرمیں کافی مواقع دستیاب ہیں۔ کیرالا سے آئی ہوئی نرسیں پورے ملک میں کہیں بھی مل سکتی ہیں‘ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی عمارت سازی کی صنعت مختلف حصوں سے مزدوروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح تعمیری کاموں کے منصوبے، جیسے سڑکوں کی تعمیر، مزدوروں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ آپ نے اپنے اسکول یا مکان کے پاس ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدور دیکھے ہوں گے۔
تاہم اکثر مقامی لوگوں میں اور کبھی کبھی کم اجرت پر بھی کثیر تعداد میں ملازمتیں علاقے کے باہر کے لوگوں کو مل جانے سے مزاحمت کا عمل بیدار ہو جاتا ہے۔ تب یہ مطالبہ زور پکڑ جاتا ہے کہ بعض ملازمتوں کو صرف انھیں لوگوں کے لیے مخصوص کر دیا جائے جو اس ریاست کے شہری ہیں یا ان لوگوں کے لیے جو مقامی زبان سے واقف ہیں۔ سیاسی جماعت اس مسئلہ میں دخل انداز ہو سکتی ہے۔ مزاحمت ’باہری لوگوں‘کے خلاف ایک باقاعدہ تشدد کی شکل لے سکتی ہے۔ ہندوستان کے تقریباً ہر خطہ میں لوگوں کو اس طرح کی تحریکات کا تجربہ ہوا ہے۔ کیا اس طرح کی تحریکوں کے لیے کبھی کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگرہندوستانی کارکنوں کے ساتھ دوسرے ممالک میں مقامی لوگوں کے ذریعہ غلط سلوک کیا جاتا ہے تو ہم سب طیش میں آجاتے ہیں، ہم میں سے بعض لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ تکنیکی ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کو کام کے لیے ہجرت کرنے کا حق ہے۔ ریاستیں ان کارکنوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت پر فخر بھی کر سکتی ہیں۔ لیکن کسی علاقہ میں ملازمتوں کے مواقع کم ہوں تو مقامی شہری ’باہر کے افراد‘ کی مقابلہ میں شرکت کو نامنظور کر دیتے ہیں۔ کیا نقل و حرکت کے حق کو ملک کے کسی بھی حصہ میں رہنے یا کام کرنے کے حق میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
ایک اور پہلوجس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوقات ہم غریب تارکین وطن اور ہنرمندتارکین وطن کے درمیان اپنے ردعمل سے تفریق کرتے ہیں۔ ہم غریب مہاجروں کو ہمیشہ اسی انداز میں خوش آمدید نہیں کہتے جیسا کہ ہنر مند اور صاحب ثروت تارکین وطن کا کرتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاغریب اور غیر ہنر مند کاریگروں کو بھی اسی طرح پورے ملک میں کام کرنے کے اور رہنے کے حقوق ملنے چاہئیں جیسا کہ ہنر مند کاریگروں کو حاصل ہیں؟یہ وہ بعض مسائل ہیں جن پر ملک کے تمام شہریوں کے لیے مکمل اور برابر کی رکنیت کے تعلق سے پورے ملک میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔
اوسط طبقہ کے ہندوستانی شہری کی زندگی میں ایک دن جو مہاجر کام گار کے بغیر گزرے
تاہم، بعض اوقات جمہوری معاشروں میں بھی تنازعہ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے جھگڑے کیسے حل کیے جا سکتے ہیں؟ احتجاج کرنے کا حق، آزادی رائے کا ایک ایسا پہلو ہے جس کی ضمانت ہمارے آئین میں دی گئی ہے،شرط یہ ہے کہ احتجاج سے دوسرے افراد کی زندگی یا ملکیت یا ریاست کی ملکیت کو نقصان نہ پہنچے۔ شہریوں کو یہ آزادی ہے کہ وہ جماعتیں تشکیل کر کے مظاہروں کے ذریعہ،ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے سیاسی جماعتوں سے درخواست کر کے یا عدالتوں کے فیصلے سے رائے عامہ اور حکومتوں کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ عدالت اس معاملہ پر فیصلہ سنا سکتی ہے، یا وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے سرکارپر زور ڈال سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ عمل دھیرے دھیرے ہو، لیکن مختلف درجات کی کامیابیاں بسا اوقات ممکن ہیں۔ اگر تمام شہریوں کو مکمل اور برابر کی رکنیت فراہم کرنے کے رہنما اصول کو ذہن میں رکھا جائے تو سماج میں وقتاً فوقتاً اٹھ کھڑے ہونے والے کسی مسئلہ کے قابل قبول حل تک پر پہنچنا ممکن ہے۔ جمہوریت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ تنازعات کوگفت و شنید اور بحث و مباحثہ کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے نہ کہ طاقت سے ۔ یہ شہریت کا لازمی جز وہے۔
آئیے ذرا سوچیں
ہمارے ملک کے شہریوں کی نقل وحرکت اور پیشہ کی آزادی کی موافقت اور مخالفت میں دلیلوں کا جائزہ لیجیے،کیا کسی خطہ میں طویل عرصہ سے رہتے چلے آ رہے لوگوں کو ملازمتوں اور سہولتوں میں ترجیح ملنی چاہیے؟
یا ریاستوں کو یہ اختیار دے دیاجائے کہ وہ ریاست سے باہر کے طالب علموں کے لیے پیشہ ور کالجوں میں داخلے کے لیے نشستوں کی تعداد مخصوص کردیں؟
6.3 مساوی حقوق
Equal Rights
اس حصہ میں ہم شہریت کے ایک دوسرے پہلو کا مطالعہ کریں گے کہ کیا مکمل اور برابر کی رکنیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام شہریوں، چاہے وہ امیرہوں یا غریب ،کو بعض بنیادی حقوق اور کم سے کم معیاری زندگی کے حق کی ضمانت ریاست کی طرف سے دی جائے۔ اس موضوع پر بحث کے لیے ہم ایک زمرے کے کچھ افراد پر غور کریں گے، یعنی شہری غریب لوگ، شہر میں رہنے والے غریب لوگوں کے مسئلہ پر غور کرنا سرکار کو درپیش فوری نوعیت کے مسائل میں سے ایک ہے۔
شہریت،مساوات اور حقوق
شہریت صرف ایک قانونی تصور ہی نہیں ہے۔ اسکا بہت قریبی ربط مساوات اور حقوق جیسے بہت اہم نظریہ سے بھی ہے‘ اس تعلق کی ایک وسیع طور پرقابل قبول دستور سازی برطانوی ماہر سماجیات ٹی۔ایچ ۔مارشل (T.H. Marshall 1893-1981)نے کی تھی، اپنی کتاب شہریت اور سماجی طبقہ (Citizenship and Social Class 1950) میں مارشل نے شہریت کی تعریف حیثیت کے معنی میں کی جو ان لوگوں کو عطا کی گئی جو کسی سماج کے مکمل رکن ہیں۔ وہ تمام افراد جن کو یہ حیثیت حاصل ہے،ان حقوق اور فرائض کے اعتبار سے جواس عہدہ سے منسلک ہیں، برابر ہیں۔ مارشل کے نظریہ میں شہریت کا کلیدی تصور ’مساوات‘ ہے۔ اس کے دو مفہوم ہیں۔ پہلا، دیے گئے حقوق اور فرائض کے معیار میں بہتری ہوتی ہے دوسرے ان لوگوں کی تعداد میں جن کو یہ عطا کیے گئے ہیں،اضافہ ہوتا ہے ۔ مارشل کے بقول شہریت تین اقسام کے حقوق پر مشتمل ہے۔ شہری، سیاسی اور سماجی۔
شہری حقوق کسی فرد کی زندگی،آزادی اور ملکیت کا تحفظ کرتے ہیں۔ سیاسی حقوق کسی فرد کو حکومت کرنے کے عمل میں شرکت کرنے کا اہل بناتے ہیں۔ سماجی حقوق کسی فرد کو تعلیم اور روزگار تک رسائی فراہم کرتے ہیں،مجموعی طور پر یہ حقوق کسی شہری کے لیے ایک عزت دار زندگی گزارنا ممکن بناتے ہیں۔
مارشل نے سماجی طبقہ کو ایک عدم مساوات کے نظام (system of inequality) کے طور پر دیکھا۔ شہریت طبقہ جاتی نظام مراعات کے پھوٹ ڈالنے والے اثرات کو زائل کرکے مساوات کو یقینی بناتی ہے۔ اس طرح یہ ایک بہتر مدغم اور ہم آہنگ انسانی برادری کی تشکیل کو آسان بناتی ہے۔
ہندوستان کے ہر شہر میں جھگیوں میں رہنے والوں اور بلا استحقاق زمین پر قبضہ کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ اگرچہ وہ کچھ ضروری اور کارآمد کام انجام دیتے ہیں، پھر بھی اکثر کم اجرت پر شہر کی باقی آبادی ان کو اکثر باہر سے آئے ناپسندیدہ لوگوں کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان پر شہر کے وسائل پر بوجھ پڑنے اور بیماریوں کے پھیلانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
جھگیوں کے حالات اکثر دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں چھوٹے کمروں میں بہت سے لوگ کھچاکھچ بھرے ہوتے ہیں اور ان کے لیے نجی بیت الخلاء، تازہ پانی، یا صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا‘ کسی جھگی بستی میں زندگی اور ملکیت غیر محفوظ ہوتی ہی، تاہم جھگیوں میں رہنے والے اپنی محنت کے ذریعہ معیشت میں قابل لحاظ تعاون کرتے ہیں، وہ پھیری لگانے والے ہو سکتے ہیں،معمولی دکاندار، کوڑا کچرا جمع کرکے صاف کرنے والے یا گھریلو نوکر، نل کی مرمّت کرنے والے، میکینک اور کچھ دوسرے پیشوں سے وابستہ ہو سکتے ہیں، بعض دوسرے پیشے جیسے سرکنڈو ں کا فرنیچر بنانا، کپڑوں کی رنگائی یا درزی جیسے پیشے جھگیوں میں پنپتے ہیں۔ شہر ی انتظامیہ ،ان جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کو خدمات کی فراہمی جیسے پانی اور حفظان صحت پر شاید قدرے کچھ کم ہی خرچ کرتی ہے۔
شہریت مساوات اور حقوق
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ ممبئی کے جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کے حقوق کے سلسلہ میں 1985 میں دیا جو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے خلاف ایک سماجی کارکن،اولگا ٹیلس (Olga Tellis) کے ذریعہ دائرمفاد عامہ کے مقدمہ (Public Interest Litigation,/PIL)کا رد عمل تھا۔ اس مقدمہ میں لوگوں کے سڑک کے کنارے یا جھگی جھونپڑیوں میں رہنے کے حق کا دعویٰ کیا گیا تھا کیوںکہ ان کی کام کی جگہ کے آس پاس کوئی متبادل جائے رہائش دستیاب نہیں تھی۔ اگر ان کو وہاں سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ اپنی روزی سے محروم ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا’ آئین کی دفعہ21 جینے کے حق کی ضمانت دیتی ہے اس میں روزی حاصل کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ اس لیے اگر سڑک کی پٹری پر رہنے والے لوگوں کوہٹایا جاتا ہے تو انہیں پہلے پناہ گاہ حاصل کرنے کے حق کے تحت متبادل رہائش فراہم کی جانی چاہیے۔
شہر کے ان غریب لوگوں کے حالات کے بارے میں سرکاری، غیرسرکاری اداروں(NGO)،اور دوسری ایجنسیوں کو اور خود جھگی جھونپڑی میں رہنے والے کی جانکاری بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر شہر کی گلیوں میں پھیری لگانے والوں کے بارے میں ایک قومی پالیسی جنوری 2004 میں وضع کی گئی تھی۔ بڑے شہروں میں ان پھیری لگانے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ اکثر پولس اور شہر کے افسران کے ذریعہ پریشان کیے جاتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ان پھیری والوں کو ایک شناخت دینا اور ایک ضابطہ کے تحت لانا تھا تاکہ وہ اپنے پیشہ کو بغیر کسی پریشانی کا سامنا کیے جاری رکھ سکیں تا وقت کہ وہ حکومت کے ضابطوں کے پابند رہتے ہیں۔
جھگی جھونپڑی کے ساکنوں میں بھی اب اپنے حقوق کے لیے بیداری پیدا ہورہی ہے اور وہ اپنے مطالبہ کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بعض اوقات عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایاہے۔ ایک بنیادی سیاسی حق جیسے کہ ووٹ دینے کے حق کا استعمال ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کیونکہ بہت سے رائے دہندگان کی فہرست میں ان کی شمولیت کے لیے ایک مستقل پتہ کی ضرورت ہوتی ہے اورا ن غیر مستحق قابضوں اور سڑک کے کنارے رہنے والوں کے لیے پتہ فراہم کرنا بہت مشکل امر ہے۔
ہمارے سماج کے وہ دوسرے لوگ جو حاشیہ پر پہونچتے جا رہے ہیں ان میں قبائلی اور جنگلات میں رہنے والے لوگ بھی ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے طرز زندگی برقرار رکھنے کے لیے جنگلوں اور دیگر قدرتی وسائل تک رسائی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بود و باش اور ذریعہ معاش کو خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور زمین کی تلاش اور انھیں برقراررکھنے کے لیے وسائل کا دباو ہے۔ ان تجارتی اداروں کا دباو جو جنگلوں اور سمندر کے کنارے موجود وسائل کے خزانہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جنگلات میں رہنے والوں اور قبائلی لوگوں کی معاشرت اور روزگار کے لیے ایک خطرہ ہیں اور اسی طرح کا خطرہ سیاحت کے شعبہ سے ہے۔ ریاستیں ان لوگوں اور ان کے رہنے کی قدرتی جگہوں کی حفاظت کرنے کے مسئلہ سے نپٹنے کی جدوجہد کررہی ہیں اور بیک وقت ملک کی ترقی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی بچانا چاہتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر شہری کو متاثر کر رہا ہے، صرف قبائلی لوگوں کو ہی نہیں ۔ تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرنا اور یقینی بنانا کسی بھی حکومت کے لیے آسان معاملہ نہیں ہو سکتا۔ انسانوں کے مختلف گروہوں کی ضروریات اور ان کے مسائل مختلف ہو سکتے ہیں اور ایک گروہ کے حقوق دوسرے گروہ کے حقوق سے ٹکراسکتے ہیں۔ شہریوں کے لیے مساوی حقوق کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام لوگوں پر یکساں پالیسیوں کا اطلاق کیا جائے کیوںکہ مختلف لوگوں کی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں۔ مقصد صرف یہی نہیں ہے کہ ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جن کا اطلاق تمام لوگوں پر ایک ہی انداز میں ہو بلکہ لوگوں کو زیادہ مساوی بنانے کے لیے پالیسی بناتے وقت لوگوں کی مختلف ضروریات او ران کے دعووں کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔
اس بحث سے یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ دنیا کے حالات معیشت اور معاشرے میں تبدیلیوں کو، شہریت کے معنی اور حقوق کی نئی وضاحتوں اور ترجمانیوں کی ضرورت ہے۔ شہریت سے متعلق باضابطہ قانون صرف نقطۂ آغاز کی تشکیل کرتے ہیں اور ان قوانین کی وضاحت ہمیشہ ایک ترقی پذیر عمل ہے۔ اگرچہ بعض مسائل جو درپیش آسکتے ہیں ان کے حل کی تلاش آسان نہیں ہے، مساوی شہریت کے تصور کا مطلب تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے اسے سرکاری پالیسیوں کا ایک رہنما اصول ہونا چاہیے۔
آئیے اسے کر کے دیکھیں
آپ کے گھر ،اسکول یا آس پاس میں کام کرنے والے تین مزدوروں کے گھروں کا جائزہ لیجیے۔ ان کے طرز زندگی کی تفصیلات معلوم کیجیے۔ ان کا آبائی گھر کہاں ہے؟ وہ یہاں کب اور کیوں آئے؟ وہ کہاں رہتے ہیں؟ ان کے گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ کون کون سی سہولتیں ان کو دستیاب ہیں؟ کیا ان کے بچے اسکول جاتے ہیں؟
آئیے اسے کر کے دیکھیں
اسٹریٹ ونڈرس ایکٹ(روزگار کا تحفظ اور خوانچہ فروشی ریگولیٹری)ایکٹ کے بارے میں معلوم کریں۔
آئیے ذرا سوچیں
زمبابوے کے ایک سرکاری جائزے کے مطابق زرعی اراضی کی تقسیم کے تعلق سے شائع اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ تقریباً 4,400 سفید فام خاندان کل زرعی اراضی کے 32فیصدی حصے کے مالک تھے یعنی تقریباً ۱۰ ملین ہیکٹیئر زمین ۔ تقریباً ایک ملین سیاہ فام مزدور خاندانوں کے پاس صرف 16 ملین ہیکٹئر زمین تھی یعنی 38 فیصدی زمین ، جب کہ سفید فام لوگوں کی ملکیت والی زمین زرخیز اور پانی کی فراہمی سے بھر پور تھی وہیں سیاہ فام لوگوں کی ملکیت والی زمین کم زرخیز تھی اور وہاں پانی کی بھی کمی تھی۔ زمین کی ملکیت کی تاریخ تلاش کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ایک صدی پہلے ان سفید فام لوگوں نے مقامی سیاہ فام لوگوں سے یہ زرخیززمینیں حاصل کی تھیں۔ سفیدفام لوگ زمبابوے میں کئی پشتوں سے رہتے چلے آرہے ہیں اور اپنے آپ کو زمبابوے کا باشندہ تسلیم کرتے ہیں۔ زمبابوے میں سفید فام لوگوں کی آبادی کل آبادی صرف 0.06 فیصدی ہے سال 1997 میں زمبابوے کے صدر‘رابرٹ مغابے نے تقریباً 1500 زرعی فارم کو سرکاری قبضہ میں لینے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
شہریت کے کن تصورات کو آپ زمبابوے کے سیاہ فام اور سفید فام باشندوں کے دعووں کی موافقت یا مخالفت کرنے کے لیے استعمال کریں گے؟
6.4 شہری اور قوم
Citizen And Nation
قومی ریاست کا تصور جدید زمانے کی دین ہے۔ قومی ریاست کی خود مختاری اور شہریوں کے جمہوری حقوق کے سلسلے میں سب سے پہلے کچھ دعووں میں سے ایک فرانس میں انقلابیوں نے 1978 میں کیے تھے۔ قومی ریاست یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ان کی حدود صرف ان کے علاقائی رقبہ کی نشان دہی نہیں کرتے بلکہ ایک منفرد ثقافت اور ایک مشترک تاریخ کی بھی ضامن ہیں۔ قومی شناخت بعض علامتوں جیسے جھنڈا،قومی ترانہ، قومی گیت یا بعض سرکاری رسومات، وغیرہ سے ظاہر کی جا سکتی ہیں۔
آج کل کی بہت سی ریاستیں مختلف مذاہب،زبانوں اور ثقافتی روایات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن کسی جمہوری ریاست کی قومی شناخت سے شہریوں کو سیاسی شناخت جو اس ریاست کے تمام شہریوں کے لیے مشترک ہو،ملنے کی توقع کی جاتی ہے۔ جمہوری ریاست عام طور پر اپنی شناخت کی تعریف کی کوشش میں جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی کوشش کرتی ہے۔ تاکہ تمام شہریوں کو اپنی قومی نشان دہی کرنے میں آسانی ہو۔ مگر عملی طور پر، زیادہ تر ملکوں میں قومی شناخت کی تشکیل کچھ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ ریاست سے وابستگی حاصل کرنا کچھ شہریوں کا دوسروں کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو شہریت دینے اور کچھ کو نہ دینے کے معاملہ بھی میں ریاست کو وسیع تر اختیار عطا کرتا ہے۔ اس کی عملی مثال‘ کسی اور ملک کی طرح ریاستہائے متحدہ امریکہ پر بھی پوری طرح سے صادق آتی ہے جسے خود تارکین وطن کا ملک ہونے پر ناز ہے۔
مثال کے طور پر فرانس،ایک ایسا ملک ہے جو سیکولر اور شمولیتی(Inclusive) دونوں امتیازات کادعویٰ کرتا ہے۔ اس کے شہریوں میں نہ صرف یورپی نژاد کے لوگ ہیں بلکہ وہ شہری بھی شامل ہیں جو دیگر خطوں جیسے شمالی افریقہ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ کلچر اور زبان اس کی قومی شناخت کے اہم اجزائے ترکیبی ہیں اور وہ تمام شہریوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو قومی خصوصیات میں جذب کردیں گے۔ بہر حال وہ اپنے ذاتی عقائد اور روایات پر اپنی نجی زندگیوں میں عمل کر سکتے ہیں۔ یہ بظاہر ایک معقول پالیسی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ طے کرنا اکثر آسان نہیں ہوتا ہے کہ کس چیز کو سرکاری اور کس کو نجی قرار دیا جائے، جس کے نتیجے میں کچھ تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ مذہبی عقائد و رسوم کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق شہریوں کی نجی زندگی سے ہے مگر بعض اوقات ان کی مذہبی علامتیں اوررسمیں ان کی قومی (سرکاری) زندگی میں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ شاید آپ نے اس مطالبہ کے بارے میں سنا ہوگا کہ فرانس میں سکھ اسکولی طلبہ پگڑی پہن کراور مسلم لڑکیاں اسکولی یونیفارم کے ساتھ اسکارف اوڑھ کر اسکول آنا چاہتی ہیں۔ یہ اجازت بعض اسکولوں نے اس بنیاد پر نہیں دی کہ اس سے سرکاری نظام تعلیم کے دائرہ میں مذہبی علامتیں نظرآئیں گی۔ ان مذاہب کے پیروکاروں کے لیے جو اس طرح کی مذہبی پابندیوں کا تقاضہ نہیں کرتے ہیں یہ بات فطری ہے کہ انھیں ایسے کسی مسئلہ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ بعض طبقوں اور گروہوں کو دوسروں کی بہ نسبت قومی کلچر میں ضم ہونے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔
نئے درخواست دہندگان کو شہریت عطا کرنے کا طریقہ ہر ملک میں الگ الگ ہے۔ اسرائیل یا جرمنی جیسے ملکوں میں شہریت دیتے وقت مذہب یا نسل جیسے عوامل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جرمنی میں آباد ترک باشندوں (کارکنوں ) کی طرف سے، جن کی ایک وقت جرمنی آنے اور وہاں پر کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی تھی، یہ مطالبہ مسلسل کیاجا رہا ہے کہ ان کے بچوں کو جو یہاں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں‘ ازخود شہریت مل جانی چاہیے۔
اس سوال پر اب بھی بحث جاری ہے۔ یہ اس قسم کی پابندیوں کی چند مثالیں ہیں جو شہریت عطا کرنے کے سلسلہ میں حتیٰ کہ جمہوری ملکوں میں بھی عائد کی جاتی ہیں جو اور شمولیتی معاشرہ ہونے پر بڑا فخر کرتے ہیں۔
ہندوستان خود کو ایک سیکولر،جمہوری اور قومی ریاست قرار دیتا ہے۔ آزادی کی تحریک ایک وسیع البنیاد تحریک تھی اور مختلف مذاہب ، خطوں اور تہذیبوں کے لوگوں کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے سوچی سمجھی کوشش کی گئی تھیں۔ یہ سچ ہے کہ 1947 میں ملک کی تقسیم عمل میں آئی جب مسلم لیگ کے ساتھ اختلافات کو دور نہیں کیا جا سکا لیکن اس نے ہندوستانی کے قومی رہنماوں کے اس عزم کو مضبوط کیا کہ وہ ہندوستانی قومی ریاست کے سیکولر اور شمولیتی کردار کو برقرار رکھیں گے جس کی تعمیر کا وہ عہد کیے ہوئے تھے۔ اس عزم کا عملی اظہار ہمارا آئین ہے۔
ہندوستانی آئین نے انتہائی مختلف النوع گوناگوں معاشرے میں وحدت اور مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس گوناگونی کی یہاں محض چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ آئین نے ان گروہوں کو جودرج فہرست قبائل (ایس سی اور ایس ٹی) اوردرج فہرست ذاتوں سے بھی مختلف ہیں، مکمل اور مساویانہ شہریت کا حق عطا کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اسی طرح اس نے ان خواتین کو جنھیں پہلے مساویانہ حقوق حاصل نہیں تھے،انڈومان و نکوبار جزائر کے دور افتادہ گروہوں کو جن کا جدیدتہذیب سے بہت تھوڑا واسطہ ہے اور کئی دوسرے گروہوں کو شہریت کا درجہ عطا کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس نے ملک کے مختلف حصوں میں پائی جانے والی مختلف زبانوں،عقائد اور رسوم و رواج کو بھی برابر کا درجہ دینے کوشش کی ہے۔ آئین نے تمام شہریوں کو ان کے ذاتی عقائد، زبانیں یاثقافتی روایتوں کو چھوڑے بغیر تمام مساوی حقوق عطا کیے ہیں۔ چنانچہ یہ اپنے آپ میں ایک منفردتجربہ ہے جو آئین کے ذریعہ روبہ عمل لایا گیا۔ دہلی میں ہونے والی یوم جمہوریہ کی پریڈملک کے تمام مذاہب،تہذیبوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کی شمولیت کے بارے میں اس کے عہدوپیماں کی عکاسی کرتی ہے۔
اس پر بحث کریں
یہ بات کسی اسکول یا کسی اور سرکاری محکمہ و ادارہ مثلاً فوج کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشترکہ یونیفارم پر اصرار کرے اور مذہبی علامتوں جیسے پگڑی کے استعمال پر پابندی عائد کرے۔
آئین کے تیسرے حصہ میں شہریت کے متعلق دفعات درج کی گئی ہیں اور اس کے بعد پارلیمنٹ کے منظورکردہ قوانین ہیں۔بنیادی طور پر آئین نے شہریت کی ایک جمہوری اور تمام مذاہب کے عوام کو شامل کرنے کی تعریف متعین کی ہے۔ ہندوستان میں شہریت پیدائش،نسب،رجسٹریشن نیچرالائزیشن یا کسی علاقہ کے الحاق کی بنیاد پر حاصل کی جا سکتی ہے۔آئین میں شہریوں کے حقوق اور فرائض بھی درج کیے گئے ہیں۔ ایک اور دفعہ بھی ہے کہ ریاست،نسل،ذات، جنس، مقام پیدائش یا ان میں سے کسی ایک کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں کر سکتی۔ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اس طرح کے شمولیتی گیر نوعیت کے قوانین ہونے کے باوجودیہ تنازعات اور کشمکش کا باعث بنتے ہیں۔ خواتین کی جدوجہد،دلتوں کی جدوجہد یا ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں اجڑنے والے لوگوں کی جدوجہد، وغیرہ یہ چند تحریکیں ہیں جنھیں ان لوگوں نے شروع کیا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شہریت کے پورے حقوق نہیں دئے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ کسی ملک میں جمہوری شہریت کا معاملہ ایک مثالی تصور و منصوبہ ہوتاہے جس پرعلمی و تحقیقی کام کیاجا سکتاہے۔تغیر پذیر معاشروں میں نئے نئے مسائل اور سوالات مسلسل اٹھ رہے ہیں اور ان گروہوں کی طرف سے نئے مطالبات کیے جا رہے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں حاشیہ پر دھکیلا جارہاہے۔ جمہوری ریاست میں ان مطالبات کو بات چیت کے ذریعہ ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
6.5 آفاقی شہریت
Universal Citizenship
جب ہم پناہ گزینوں یا غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کئی تصویریں ابھرتی ہیں۔ ایک تصویر ایشیا یا افریقہ کے لوگوں کی ہے جنہیں غیر قانونی طور پر یورپ یا امریکہ پہنچانے کے لیے پیسہ لے کر بھیجنے والے ایجنٹ موجود ہیں۔ اس طرح اس غیر قانونی نقل مکانی میں بہت زیادہ خطرات ہیں۔ اس کے باوجود لوگ اس طرح جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایک دوسری تصویر جنگ یا قحط سالی سے بے خانماں لوگوں کی ہے۔ ایسی تصویریں اکثر ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتی ہیں۔ سوڈان کے ’دارفر‘ علاقہ کے پناہ گزین، فلسطینی،برمی یا بنگلہ دیشی پناہ گزین، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جنھیں اپنے ہی ملک یا ہمسایہ ملکوں میں پناہ گزین بننے کے لیے مجبور کر دیا گیا۔
ہم اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ریاست کی مکمل شہریت ان سب کو ملنی چاہیے جو اس ملک میں عام حالات میں رہتے اور کام کرتے ہیں اور ان کو بھی جنھوں نے اس کے لیے درخواست دی ہے۔ اگرچہ کہ متعدد ریاستیں آفاقی اور سب کی شمولیت والی شہریت کے تصور کی حامی ہیں۔ لیکن ہر ریاست نے شہریت عطا کرنے کا اپنا الگ الگ طریقہ کار وضع کر رکھا ہے ۔اس سے متعلق دفعات عموماً آئین میں اور اس ملک کے قوانین میں درج ہوتی ہیں۔ ریاستیں غیر پسندیدہ اور غیر مطلوب افراد( پردیسیوں) کو باہر کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرتی ہیں۔
آئیے اسے کیجیے
بھارت میں رہ رہے ان غریب الوطنوں کی فہرست ترتیب کیجیے جو شہریت سے محروم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پر نوٹ تحریر کیجیے۔
ہر چند کہ ان پابندیوں،حتیٰ کہ فصیلیں تعمیر کرنے یا خاردار تاروں کی باڑھ لگانے کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک قابل ذکر تعداد میں لوگوں کا ترک وطن کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگ جنگوں یا ظلم استبداد، خشک سالی یا دیگر وجوہات و عوامل کی بنا پر بے خانماں برباد ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ریاست انھیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور وہ اپنے آبائی وطن واپس نہیں لوٹ سکتے ۔ اس صورت میں وہ غریب الوطن یا پناہ گزین بن جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے یا غیر قانونی تارکین وطن (مہاجرین) کے طور پر رہنا پڑتا ہے۔ اکثر وہ قانونی طور پر کوئی کام یا پیشہ اختیار نہیں کر سکتے یا اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلاسکتے یا جائداد نہیں خریدسکتے۔ یہ مسئلہ بڑا سنگین ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ (UNO)نے ان کے مسائل اوران کی مدد کے لیے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کا عہدہ قائم کیا ہے۔
کسی ایک ملک میں لوگوں کی کتنی بڑی تعداد کوبحیثیت شہری شامل کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت کئی ریاستوں کوانسانی اور سیاسی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی ملکوں میں جنگ یا ظلم و جبر کی وجہ سے ملک چھوڑکر بھاگ جانے والے لوگوں کو پناہ دینے کی پالیسی پر عمل کیا جاتاہے۔ لیکن وہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں چاہتے کہ جن پر قابو پایا نہ جا سکے یا جو ملک کی اخوت وحدت اور سلامتی کو خطرہ سے دوچار کردیں۔ ہندوستان کو ناز ہے کہ اس نے استبداد کے شکار لوگوں کو پناہ دی۔ 1958میں اس نے دلائی لامہ اور ان کے پیروکاروں کو یہاں پناہ دی۔ 1971 میں بنگلہ دیش سے آئے پناہ گزینوں کی ایک بہت بڑی تعدا ہندوستان میں آکر رہنے لگی۔ تاریخ کی روشنی میں،ملکوں کے لوگ ہندوستانی ریاست کی تمام سرحدوں سے ملک میں داخل ہوتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد شہریت یا وطن سے محروم عوام کی ہے جو برسوں سےنسل درنسل کیمپوں میں رہ رہے ہیں یاغیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف ایک مختصر تعداد کو ہی شہریت کا حق دیا گیا ہے۔ اس طرح کے مسائل جمہوری شہریت دینے کے
قول وقرار پرسوال کھڑا کرتے ہیں کیوں کہ عہد حاضر کی دنیا میں شہریت کی پہچان اور حقوق تمام افراد کو میسر ہیں ۔ آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی پسند کے ملک کی شہریت حاصل نہیں کر سکتی اور ان کے پاس اس کا کوئی متبادل راستہ بھی نہیں ہے۔
بے وطن یا شہریت سے محروم افراد کا معاملہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا آج پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی تنازعات یا جنگ کے ذریعہ آج بھی ریاست کی سرحدیں دوبارہ طے کی جارہی ہیں ۔ان افراد کے لیے جو اس طرح کے تنازعات سے دو چار ہو جاتے ہیں، اس کے عواقب و مضمرات کی سنگینیت سے دو چار ہیں۔ وہ اپنے گھروں سے، سیاسی شناختوں سے اور سلامتی سے محروم ہو سکتے ہیں یا پھر وطن چھوڑنے پر مجبور کیے جا سکتے ہیں۔ کیا ایسے افراد کے مسائل کو شہریت فراہم کر کے حل نہیں کیا جا سکتا ہے؟ اگر اس کا جواب نہ ہے تو اس کی متبادل شناخت پیش کی جائے؟ کیا ہمیں قومی شہریت کے مقابلے میں ایک مزید حقیقی نوعیت کی آفاقی شناخت تشکیل دینے کی ضرورت ہے؟ اکثر عالمگیر شہریت کے تصور کے بارے میں تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ آنے والے حصہ میں اس کے امکانات پر غورکریں گے۔
6.6 عالمگیر شہریت
Global Citizenship
مندرجہ ذیل بیانات پر غور کیجیے:
◊ سونامی(Tsunami) جس نے 2004میں جنوبی ایشیا کے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا،کے شکار افراد یا متاثرین کے لیے ہر طرف سے زبردست مدد فراہم کی گئی اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا
◊ آج بین الاقوامی نیٹ ورک نے دہشت گردوں کے درمیان رابطہ قائم کیا ہے۔
◊ اقوام متحدہ برڈفلو اور انسانی وائرل ،وباکے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مختلف ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
متذکرہ بیانات میں کون سی باتیں مشترک ہیں؟ آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کے بارے میں یہ بیانات کیا کہتے ہیں۔
آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو ایک دوسرے سے باہم مربوط ہے۔ مواصلات کے نئے وسائل ذرائع مثلاً انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن،موبائل فون وغیرہ نے ہماری دنیا کے بارے میں سوچ اور سمجھ کو بڑی تبدیلیوں سے دوچار کیا ہے۔ ماضی میں دنیا کے کسی ایک حصہ میں چل رہی ترقیاتی سرگرمیوں کی خبر اورمعلومات ملک کے کسی دوسرے حصوں تک پہنچنے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ لیکن مواصلات، ترسیل اور جدید ترین ذرائع کی وجہ سے ہم کرہ ارض کے مختلف حصوں میں ہو رہی ترقیاتی سرگرمیوں سے فوراً واقف ہو جاتے ہیں۔ آج ہم اپنے ٹیلی ویژن پر جنگوں اور آفات کو وقوع پذیر ہوتے ہوئے براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے باعث دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی ،مسائل اور دکھ درد بانٹنے کا جذبہ پیدا کرنے میں ہمیں مدد ملی ہے۔
عالمگیر شہریت کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ عالمی برادری اور ایک عالمی معاشرے کا وجود نہیں ہے پھر بھی قومی سرحدوں سے قطع نظر لوگوں کے درمیان پہلے سے ہی ایک دوسرے کے تئیں قربت کا احساس موجود ہے۔ متاثرین یہ کہتے ہیں کہ ایشیائی سونامی اور دوسری بڑی سماجی آفات کے موقع پر دنیا کے تمام حصوں سے بڑے پیمانے پر امداد فراہم کرنا اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا ایک عالمگیر معاشرے (سوسائٹی) کے ظہور کی علامت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمیں اس جذبہ و احساس کو تقویت پہنچانے اور عالمگیر شہریت کے تصور کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ قومی شہریت کے تصور میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ ہماری ریاست ہمارے لیے تحفظ اور حقوق فراہم کرے گی، جس کی ہمیں آج کی دنیا میں ایک با عزت زندگی گزارنے کے لیے ضرورت ہے۔ لیکن آج ریاستیں متعدد مسائل سے دوچار ہیں جو اپنے طور پر اکیلے حل نہیں کر سکتی ہے ۔ اس تناظر میں،انفرادی حقوق، جس کی ضمانت ریاست نے فراہم کی ہے،کیا آج لوگوں کی آزادی کے تحفظ کے لیے کافی ہیں؟ یا اب وقت آگیا ہے کہ حقوق انسانی اور عالمگیر شہریت کے تصور کی طرف قدم بڑھایا جائے؟
عالم گیر شہریت کے تصور کا ایک قابل رشک پہلو یہ ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتا ہے جس سے قومی سرحدوں سے بالاتر سبھی ریاستیں دوچار ہیں۔ چنانچہ اس پر عمل درآمد کے لیے ملک کی حکومتوں اور عوام کے درمیان باہمی اشتراک و تعاون پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً،اس کے ذریعہ مہاجرین اور شہریت سے محروم لوگوں کے مسئلہ کا ایک قابل قبول حل تلاش کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی یا کم از کم ان لوگوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہ،اس سے قطع نظر کہ وہ کس ملک میں رہ رہے ہیں۔
پچھلے حصے میں ہم نے پڑھا اور یہ دیکھا کہ کسی ملک میں مساویانہ شہریت کے حقوق کو سماجی اور معاشی عدم مساوات اور ناہمواریوں یا دیگر مسائل سے کس قدر خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح کے مسائل کو صرف حکومتیں اور اس مخصوص معاشرہ کے افراد ہی حل کر سکتے ہیں۔ اس لیے آج لوگوں کے لیے ریاست کی مکمل اور برابر کی رکنیت ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم عالمگیر شہریت کا تصور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی شہریت کے تصور میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جسے آگہی کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتاہے۔ آج ہم ایک باہم مربوط دنیا میں رہتے ہیں ۔ دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کے درمیان رشتوں کو مضبوط کرنے اور قومی سرحدوں سے پرے حکومتوں اور عوام کے ساتھ مل کر کا م کرنے کے لیے آمادہ بھی رہیں۔
مشقیں
1۔ کسی سیاسی گروہ کی مکمل اور مساویانہ رکنیت کی بحیثیت سے شہریت میں حقوق اور فرائض دونوں شامل ہیں۔ شہریوں کوآج سب سے زیادہ جمہوری ریاست میں کن حقوق کی توقع رکھنی چاہیے؟ اہل ریاست کی اپنے ہم وطن شہریوں کے تئیں ان کی کیا ذمہ داریاں اور فرائض ہونے چاہئیں؟
2۔ تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیے جا سکتے ہیں لیکن وہ سب ان حقوق کو پورے طور پر استعمال کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وضاحت کیجیے؟
3۔ ہندوستان میں حالیہ برسوں میں مکمل شہری حقوق کے حصول کے لیے سرگرم کوئی دو تحریکوں پر مختصر نوٹ لکھیے۔ ان تحریکوں میں سے ہر ایک نے کن سے حقوق کا مطالبہ کیا تھا؟
4۔ پناہ گزینوں کو کون کون سے مسائل و مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے؟ عالمگیر شہریت کا تصور ان کے لیے کس طرح سود مند ہو سکتا ہے؟
5۔ ایک ہی ملک کے اندر اکثر مقامی باشندے مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کی مخالفت و مزاحمت کرتے ہیں ۔ مہاجر افراد مقامی معیشت کو بہتربنانے میں کس طرح کی کاوشیں کر سکتے ہیں؟
6۔ جمہوری شہریت ایک مکمل و حتمی تصور ہونے کے بجائے ابھی تک ایک تغیر پذیر خیال ہے حتیٰ کہ یہ ہندوستان جیسے ملک میں بھی جو مساوی شہریت عطا کرتا ہے؟ آج ہندوستان میں شہریت کے حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان پر بحث کیجیے۔