
باب 7
قومیت
اس باب میں ہم قومیت اور قوم کے بارے میں تصورات و نظریات کا تعارف کرائیں گے اور ان پر بحث کریں گے۔ ہمارا تعلق اس بات سے بہت زیادہ نہیں ہوگا کہ قومیت کیوں وجود میں آئی یا یہ نظریہ کن امور کی تکمیل کرتا ہے،بلکہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ قومیت کا گہرائی سے جائزہ لیں اور اس کے دعووں اور امنگوں کا تجزیہ کریں۔
اس سبق کے مطالعے کے بعد آپ قابل ہوسکیں گے کہ:
◊ قوم اور قومیت کے تصورات و نظریات کوسمجھ سکیں۔
◊ قومیت کی قوت، استعداد اور اس کی حدود سے متعارف ہوسکیں۔
◊ جمہوریت اور قومیت کے درمیان رابطے کی کڑی کی یقین دہانی کی ضرورت کوسراہ سکیں۔
7.1 قومیت کا تعا رف Introducing Nationalis
اگر ہم قومیت کی اصطلاح کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات جاننے کے لیے رائے عامہ کے ایک جائزہ کا یکایک اہتمام کریں گے تو ہمیں جو ممکنہ جوابات ملیں گے ان میں حب الوطنی، قومی پرچم، ملک کے لیے قربانی اور اسی نوع کے عنوانات شامل ہوں گے۔ یوم جمہوریہ کی دہلی میں ہونے والی تقریبات یا پریڈ، ہندوستانی قومیت کی شاندار یا متاثر کن علامت ہے اور یہ پریڈ ہماری طاقت،قابلیت، استعداد کے ساتھ ساتھ کثرت میں وحدت کے پہلو کو، جسے بہت سے ہندوستانی قومیت کا خاصہ قرار دیتے ہیں،اجاگر کرتی ہے۔ لیکن اگر ہم گہرائی سے اس کا مطالعہ کریں گے تو قومیت کی اصطلاح کی بالکل واضح اور ٹھیک ٹھیک نیز وسیع پیمانے پر مسلمہ تعریف کا تعین کرنا ایک مشکل امر بن جائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کوشش کو درمیان میں ہی ترک کردیں۔ قومیت کا مطالعہ اس لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ عالمی امور و معاملات میں ایک نہایت ہی اہم رول ادا کرتا ہے ۔
گزشتہ دو صدیوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران میں قومیت کا تصور ایک سب سے زیادہ بااثر سیاسی عقیدہ کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس فلسفہ نے جہاں حب الوطنی کے جذبات کو مہمیز کیا ہے وہیں اس نے نفرتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس نے لوگوں کو متحد کیا ہے، وہیں انھیں تقسیم بھی کیا ہے۔ جہاں یہ لوگوں کو استبدادی نظام سے نجات دلانے میں معاون بنا وہیں یہ جنگوں، تلخیوں اورجھگڑوں کا بھی سبب بنا ہے۔ بڑی بڑی سلطنتوں اور ریاستوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے میں بھی اس کا عمل دخل رہا۔ قوم پرستانہ تحریکوں اور جدوجہد کے نتیجے میں بڑی سلطنتوں اور ریاستوں کی سرحدیں از سر نو مقرر کرنی پڑیں۔ آج کرہ ارض کا ایک بڑا حصہ مختلف قومی ریاستوں میں منقسم ہے۔ حالانکہ آج بھی ریاستوں کی سرحدیں متعین کرنے کا عمل جاری ہے اور موجودہ ریاستوں کے اندر بھی علیحدگی پسندی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
قومیت کا نظریہ مختلف ادوار اور مرحلوں سے گزرا ہے۔ مثلاً 19ویں صدی کے یورپ میں اس کے زیر اثر چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کے انضمام سے عظیم تر قو می ریاستیں وجود میں آئیں۔ موجودہ جرمنی اور اطالوی ریاستیں، انضمام اور استحکام کے اسی عمل کے ذریعہ معرض وجود آئیں۔ لاطینی امریکہ میں بھی بڑی تعداد میں نئی ریاستیں قائم ہوئیں۔ ریاست کی سرحدوں میں استحکام آنے کے ساتھ ساتھ مقامی زبانیں اور مقامی وفاداریاں بھی بتدریج ریاست سے وفاداریوں اور ایک مشترک زبان میں تبدیل ہو کر مستحکم ہونے لگیں۔ ان نئی ریاستوں کے لوگوں نے اپنی نئی سیاسی شناخت بنائی جس کی بنیاد‘ نیشن۔اسٹیٹ (قومی ۔ ریاست) کی رکنیت پر ہے۔
قومیت کا نظریہ 20ویں صدی کے اوائل میں یوروپ کی بڑی بڑی شاہی سلطنتوں جیسے آسٹریا،ہنگری اور روسی مملکتوں کو توڑنے اور ان کے حصے کرنے کا موجب بنا۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایشیااور افریقہ میں برطانوی، فرانسیسی‘ ولندیزی اور پرتگیزی سامراجیت کو ختم کرنے کا باعث بنا۔ ہندوستان کی سامراجی اقتدار سے آزادی کی جدوجہد اور دوسری سابقہ غلام ملکوں کی آزادی کی تحریکیں دراصل قومیت کی تحریکیں تھیں جو قومی۔ ریاستوں کے قیام کے جذبہ سے معمور اور مغلوب تھیں کہ وہ بیرونی تسلط سے آزاد ہوں گی۔
ریاست کی سرحدوں کے تعین کا عمل جاری و ساری ہے۔ 1960سے بظاہر پائیدار اور مضبوط قومی۔ ریاستوں کو بھی مختلف علاقوںگروہوں یا گروپوں کے قوم پرستانہ مطالبات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان مطالبات میں علیحدہ ریاست کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے کئی حصوں میں قومیت پر مبنی تحریکیں چل رہی ہیں جس نے موجودہ ریاستوں کے وجود کے لیے خطرات پیدا کردئیے ہیں۔ اس طرح کی علیحدگی پسندی کی تحریکیں کینڈا کے صوبہ کیوبک کے لوگ، شمالی اسپین کے باسق صوبہ کے لوگ‘ ترکی اور عراق کے کرد لوگ اور سری لنکا میں تمل بولنے والے لوگ اور دیگر علاقوں کے لوگ ہیں۔ ہندوستان میں بھی بعض گروہوں گروپوں نے زبان کو بطور قومیت استعمال کیا ہے۔ زبان کی بنیاد پر عرب قوم پرستی سے آج یہ توقع کی جا سکتی ہے وہ خطہ کے عرب ملکوں کو ایک وسیع تر عرب یونین میں متحد کر دے گی مگر علیحدگی کی تحریکیں جیسے کردوں یا باسقوں کی جدوجہد موجود ریاستوں کو منقسم کر سکتی ہیں۔
ہم سب اس بات پر اتفاق کر سکتے ہیں کہ آج بھی قومیت یا قوم پرستی دنیا میں ایک با اثر قوت ہے۔ لیکن قوم یا قوم پرستی جیسی اصطلاحات کی تعریف و توضیح کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔

عالمگیریت کے اس دور میں دنیا سکڑ رہی ہے۔ آج ہم ایک عالمی گاوں میں رہ رہے ہیں۔ قومیت آج بے معنی ہو گئی ہے۔
نہیں یہ معاملہ نہیں ہے۔ قومیت کا نظریہ آج بھی معنویت رکھتا ہے ۔ اس کا نظارہ آپ اس وقت کر سکتے ہیں جب ہندوستانی کرکٹ ٹیم کرکٹ کھیلنے باہر جاتی ہے۔ یا جب آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر ملکوں میں آباد ہندوستانی باشندے اب بھی بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔
قوم کیا ہے؟ لوگ کیوں قوموں کی تشکیل کرتے ہیں اور یہ قومیں کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ کیوں لوگ اپنی قوم کے لیے قربانیاں دیتے ہیں حتیٰ کہ جان نچھاور کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں؟ کیوں اور کیسے قومیت کے دعووں کا تعلق ریاست کے دعووں سے ہے؟کیا قوموں کو ریاست یا قومی خوداختیاری کا حق ملنا چاہیے؟ یا کیا قوم پرستی کے مطالبات کو ایک علیحدہ ریاست تشکیل دیے بغیر پورا کیا جا سکتا ہے؟ اس سبق میں ہم ان میں سے چند سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
7.2 قومیں اور قومیت
Nations And Nationalism
قوم، اتفاقی طور پر جمع ہونے والے لوگوں کے کسی گروہ یا طبقہ کا نام نہیں ہے۔ وہیں یہ انسانی معاشرے میں موجود گروہوں اور طبقوں سے بھی مختلف ہے۔یہ خاندان سے بھی مختلف ہے جس کی بنیاد اس کے ارکان کے درمیان خونی رشتوں سے پڑتی ہے جو ایک دوسرے کی شکل وصورت اور ایک دوسرے کے کردار اور رویے سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ قبیلوں اور گروہوں اور دیگر پشتینی طبقات سے بھی مختلف ہے جن میں نسبی سلسلے اور آپس میں شادی بیاہ جیسی باتیںان قبیلوں کے افراد کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتی ہیں۔ حالانکہ قبیلے کے تمام افراد ایک دوسرے کو ذاتی طور پر جانتے نہیں ہیں لیکن اگر اس کی ضرورت ہو تو ان کے نسب کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ اس کے بر خلاف بحیثیت قوم ہم اپنے ہم قوم افراد کو فرداً فرداً نہیں جانتے ہیں نہ اس کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی ان سے نسبی رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود قومیں اپنا وجود اور حیثیت رکھتی ہیں اور اس کے ارکان اس پر فخر کرتے ہیں۔
یہ ایک عمومی خیال ہے کہ قو موں کی تشکیل ایک ایسے گروہ یا جماعت سے ہوتی ہے جو بعض مشترکہ خصوصیات جیسے نسب یا زبان یا مذہب یا نسل کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن در حقیقت تمام قوموں میں ایک ہی طرح کی مشترکہ خصوصیات نہیں پائی جاتی ہیں۔ کئی قوموں کی کوئی ایک مشترکہ زبان نہیں ہے۔ یہاں کینڈا کی مثال دی جا سکتی ہے۔ کینڈا میں انگریزی بولنے والوں کے ساتھ فرانسیسی زبان بولنے والے بھی رہتے ہیں۔ خود ہندوستان میں بھی متعد دزبانیں ہیں جو مختلف صوبوں میں مختلف گروہوں اور طبقوںمیں بولی جاتی ہیں۔ اسی طرح قومیں ایسی ہیں جن کا کوئی ایک مذہب یا عقیدہ نہیں جو انھیں متحد کرتا ہے۔ یہی بات دوسری خصوصیات جیسے نسل یا نسب کے بارے میں کہی جا سکتی ہے ۔
قوم کیسے تشکیل پاتی ہے؟ قوم دراصل ایک خیالی گروہ ہے جو اس کے ارکان کو اجتماعی عقائد و اعتقادات امنگوں ،آرزووں اور تصورات کے دھاگے میں باندھتا ہے۔ اس کی بنیاد بعض مفروضات پرہے جس میں لوگ اجتماعی طور پر اپنی ایک پہچان بناتے ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ مفروضات کی شناخت اور ان کی تفہیم کریں جن کی بنیاد پر لوگ قوم تشکیل دیتے ہیں۔
اسے کیجیے
اپنی زبان میں حب الوطنی کے نغمہ کو منتخب کریں۔ اس نغمہ میں وطن پرستی کو کس طرح پیش کیا گیا ہے؟
اسی طرح اپنی زبان میں حب الوطنی پر مبنی کوئی فلم منتخب کر کے اسے دیکھیں کہ اس میں قومیت اور اس کی تہہ داریوں کو کس انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مشترکہ عقائد
Shared Beliefs
اول یہ کہ قوم اعتقاد سے وجود میں آتی ہے۔ قومیں، پہاڑوں ،دریاؤں یا عمارتوں سے نہیں بنتی ہیں جنھیں دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ ان کا وجود اعتقادات کے بغیر ہو جن سے لوگ وابستہ ہوتے ہیں۔ قوم انسانی گروہ کے معنیٰ میں ہوتی ہے۔ جب ہم بات کرتے ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں کہ ہم اس گروہ کی جسمانی خوبیوں اور خصوصیات اور ان کے رویوں کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم اس گروہ کی اجتماعی پہچان اور اس کے مستقبل کی ویژن (تصور) پر بات کرتے ہیں جو ایک آزاد سیاسی وجود یا ہستی کا خواہاں ہے۔ اس لحاظ سے ہم قوموں کا موازنہ کسی ٹیم یا جماعت سے کر سکتے ہیں۔ جب ہم ٹیم کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد لوگوں کی ایک ایسی جماعت سے ہوتی ہے جو مل کر کام کرتے ہیں یا کھیل میں حصہ لیتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ وہ خودکو ایک اجتماعی گروہ یا جماعت تصور کرتے ہیں۔ اگر وہ اس انداز سے نہیں سوچیں گے اور اس پر عمل نہیں کریں گے تو وہ ایک ٹیم کی حیثیت کھو دیں گے اور سادے طور پر وہ فرد واحد کی حیثیت سے کوئی کھیل کھیلیں گے یا کوئی کام انجام دیں گے۔ ایک قوم کا وجود اسی وقت تک برقرار رہتا ہے جب اس کے ارکان ایک دوسرے کو اپنا سمجھ کر متحد رہتے ہیں۔

آپ ہماری ٹیم کی ہمت افزائی! کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ کے اندر قومیت کا جذبہ موجزن نہیں ہے۔
میں بھی اتنی ہی قوم پرست ہوں جتنا کوئی دوسرا۔ میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال ووٹ ڈال کر کرتی ہوں، میں اپنا ٹیکس ادا کرتی ہوں اور ملک کے قوانین کا احترام کرتی ہوں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اس ملک کی باشندہ ہوں۔
تاریخ
History
دوم، جو لوگ خود کو ایک قوم تصور کرتے ہیں وہ اپنی تاریخی شناخت کو بھی برقرار رکھنے کا شعور و احساس رکھتے ہیں۔ اسی لیے قومیں نہ صرف ماضی میں جھانکتی ہیں بلکہ وہ اپنے مستقبل کے بھی منصوبے بناتی ہیں۔ وہ اپنی تاریخ کے مختلف گوشوں جیسے تاریخی واقعات، اجتماعی یادگاروں اور عظیم داستانوں کے حوالے سے اپنی قوم کی شناخت کو پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں قوم پرست عناصر اس کی قدیم تہذیب اور ثقافتی ورثہ کے علاوہ دوسرے کارناموں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ دعویٰ پیش کیا جا سکے کہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے ہندوستان کی ایک مسلسل اور طویل تر تاریخ ہے اور یہی تہذیبی تسلسل اور یکجہتی، ہندوستانی قومیت کی اساس ہے۔ جواہر لال نہرو نے مثال کے طور پر اپنی کتاب ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں لکھا ہے ’’اگرچہ بظاہر لوگوں کے درمیان گونا گوں اور ہر قسم کا لا محدود تنوع پایا جاتا ہے اس کے با وصف ملک کے ہرگوشے میں کثرت میں وحدت اور یکجہتی کا متاثر کن منظر نظر آتا ہے‘‘ یہی چیزیں صدیوں سے ہم سب کو متحد رکھے ہوئے ہیں چاہے ہم پر سیاسی اعتبار سے کتنا ہی برا وقت یا کوئی آفت کیوں نہ آئی ہو ۔
علاقہ
Territory
سوم، قوم کی پہچان ایک مخصوص جغرافیائی علاقے سے ہوتی ہے۔ ایک مخصوص علاقہ میں ایک طویل عرصہ سے ساتھ رہنے اور مشترکہ تاریخ لوگوں کو ایک اجتماعی شناخت کا شعور عطا کرتی ہیں۔ یہ انھیں ایک ہی انسانی گروہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ اس لیے یہ بات باعث حیرت نہیں کہ جو لوگ خود کو ایک قوم گردانتے ہیں وہ اپنے لیے ایک علیحدہ وطن یا ریاست کی بات کرتے ہیں۔ جس علاقہ پر وہ قبضہ کرتے ہیں اور وہ جس سرزمین پر رہتے ہیں وہ علاقہ ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس پر اپنا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن قومیں اپنے اپنے علاقوں یا ہوم لینڈ کی تعبیر وتشریح اپنے اپنے انداز میں کرتی ہیں جسے مقدس سرزمین (holy land) ، مدرلینڈ یا مادر وطن، فادر لینڈ یا پدر وطن وغیرہ القاب سے دہراتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہودی دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر اور تتر بتر ہو جانے کے باوجود ہمیشہ سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کا اصل جائے وطن ارض موعود (Promised Land) یعنی فلسطین ہے۔ ہندوستانی قوم اپنی پہچان بر صغیر ہند کے علاقوں، دریاوں اور پہاڑوں سے وابستہ کرتی ہے۔ لیکن ہوم لینڈ یا آزاد مملکت کی تمنا آرزو دنیا میں جھگڑوں اور تنازعوں کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ ایک سے زیادہ گروہ کے لوگ ایک ہی علاقہ پر اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔
مشترکہ سیاسی تصورات
Shared Political Ideals
چہارم،گوکہ علاقہ اور تاریخی شناخت قوموں میں وحدت و یکجہتی کا احساس و شعور پیدا کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن مستقبل کے بارے میں ایک مشترکہ تصور (ویژن) اور ایک آزاد سیاسی وجود کی اجتماعی خواہش قوموں کو انسانی جماعتوں میں ممتاز کرتی ہیں۔ ایک قوم کے افراد اس بات پر مشورہ کرتے ہیںکہ انھیں کس طرح ریاست تعمیر کرنی ہے۔ وہ دوسری چیزوں کے علاوہ ان اقدار اور اصولوں کا مجموعہ،جیسے جمہوریت،سیکولرزم اور روشن خیالی وغیرہ پر اتفاق رائے کرتے ہیں۔ یہی وہ تصورات اور اصول ہیں جن کے تحت وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور مل جل کر رہنے کے خواہاں ہوتے ہیں با الفاظ دیگر یہی چیز بحیثیت قوم ان کی سیاسی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔
جمہوریت میں کسی سیاسی گروہ یا قوم۔ ریاست کے لیے جو سب سے زیادہ مطلوب بنیاد ہے وہ ہے ایک مقررہ سیاسی اصولوں اور قدروں سے انکا وابستہ ہونا ۔ اس ڈھانچے کے اندر سیاسی گروہ کے افراد کو ان مقررہ تقاضوں اور ضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ یہ تقاضے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہم ایک دوسرے کے حقوق بحیثیت شہری کے تسلیم کرتے ہیں۔ ایک قوم اسی وقت طاقتور ہو سکتی ہے جب اس کے افراد دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس رکھتے ہوں اور اسے انجام دیتے ہوں۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فرائض اور ذمہ داریوں کا یہ لائحہ عمل قوم سے وفاداری اور وابستگی کو جانچنے کا سب سے زیادہ سخت امتحان ہے۔
مشترکہ سیاسی شناخت
Common Political
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست اور معاشر ے کے متعلق ایک مشترکہ سیاسی تصور (ویژن) جسے ہم تخلیق کرنا چاہتے ہیں، افراد کو ایک لڑی میں پرو کر ایک قوم بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہ ایک مشترکہ ثقافتی پہچان جیسے ایک مشترکہ زبان،یا مشترکہ نسب کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ہی زبان کے استعمال سے ہم با آسانی ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں اور ایک ہی مذہب سے وابستہ ہونے سے ہمارے اعتقادات اور سماجی رسم و رواج میں یک رنگی ابھرتی ہے۔ تہواروں،عام تعطیلات اور مذہبی علامتوں میں یہ یک رنگی لوگوں کو ایک لڑی میں پرونے یا ان میں وحدت پیدا کرنے میں تو کام آسکتے ہیں لیکن یہ چیزیں ان قدروں کے لیے خطرہ کا باعث بھی ہیں جنھیں ہم جمہوریت میں عزیز رکھتے ہیں۔
اس کی دو وجوہات ہیں۔سب سے پہلے یہ کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب داخلی طور پر الگ الگ ہیں۔ ان کا ارتقا اور وجود ان کے پیروکاروں کے درمیان تبادلہ خیالات کا مرہون منت ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک ہی مذہب کے اندر کئی مکاتب فکر اور مسلک کے پیروکارپائے جاتے ہیں جن کے درمیان مذہبی کتابوں اور مذہبی اصول و قوانین کی توضیح و تعبیر کے حوالے سے نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر ہم ان اختلافات کو نظر انداز کرکے ایک مشترکہ مذہب کی اساس پر کوئی شناخت قائم کرنے کی سعی کریں گے تو اس کے نتیجے میں ممکن ہے ایک انتہائی تحکمانہ اور استبدادی معاشرہ وجود میں آجائے ۔
دوسرے یہ کہ زیادہ تر معاشرے ثقافتی بو قلمونیوں اور رنگا رنگی کے حامل ہیں۔ گو وہ ایک ہی علاقہ میں مل جل کر رہتے ہیں مگر ان کا تعلق مختلف مذہبوں اور زبانوں سے پڑتاہے۔ اگر کسی ایک مخصوص ریاست سے وابستگی کے لیے واحد مذہبی یا لسانی شناخت کی شرط پر زور زبردستی عائد کی جائے گی تو اس کے نتیجے میں بعض طبقات اور گروہوں کو اس سے محروم یا الگ کر دینا پڑے گا۔ یہ چیز ان محروم طبقات کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائے گی یا ان لوگوں کے لیے ناموافق حالات پیدا کردے گی جو قومی زبان نہیں بولتے ہیں۔ ہم جمہوریت میں جن چیزوں کو بہت زیادہ عزیز رکھتے ہیں یعنی مساویانہ سلوک، اور ہر ایک کے لیے اظہار و عمل کی آزادی وغیرہ کا آئیڈل،ہر حالت میں بری طرح متاثر اور محدود ہو جائے گا۔ ان دونوں وجوہات کی روشنی میں قوم کا فروغ ثقافتی پیرائے کے بجائے سیاسی پیرائے میں کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ اسی وجہ سے جمہوریتوں میں ایک مجموعہ اقدار پر زور دیا جاتا ہے اور اس سے وفاداری اور وابستگی کی توقع کی جاتی ہے جو کہ اس ملک کے آئین میں درج ہے۔ نہ کہ ان میں ایک مخصوص مذہب، نسل یا زبان سے وابستگی کی اہمیت ہوتی ہے۔
ہم نے اوپر کی سطر میں چند طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے ۔جس کے ذریعے قومیں اپنی اجتماعی شناخت کا اظہار کرتی ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جمہوری ریاستوں کو کیوں کر اپنی شناخت ، مشترکہ سیاسی تصورات کے اساس پر قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اس اہم سوال پر غور نہیں کیا ہے کہ ایک انسانی گروہ خود کو کیوں ایک قوم تسلیم کرتاہے؟ مختلف قوموں کی آرزویں اور امنگیں کیاہیں؟ آنے والے دونوں حصوں میں ہم اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔
7.3 قومی خود مختاری یا حق خودداریت
National Self- Determination
قومیں، سماجی طبقاتی گروہوں کے بر خلاف،خود مختاری اور اپنا مستقبل خود طے کرنا چاہتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے لیے حق خودداریت کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہ یہ دعویٰ پیش کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ بین الاقوامی برادری اس کی جداگانہ سیاسی حیثیت یا ریاست کو تسلیم کرے اور اسے قبول عام بخشے۔ اس طرح کے بیشتر مطالبات اور دعوے ان افراد کی طرف سے کیے جاتے ہیں جو ایک طویل عرصہ سے ایک علاقہ میں آباد ہیں اور انھیں اپنی مشترکہ شناخت کا شعور و احساس ہے۔تاہم حق خودداریت کے مطالبات کا تعلق اس خواہش سے ہوتا ہے کہ کوئی گروہ اپنے کلچر کے تحفظ کے لیے علیحدہ ریاست کی تشکیل چاہتا ہے۔
یورپ میں 19ویں صدی کے دوران موخرالذکر نوعیت کے مطالبات بڑی کثرت سے پیش کیے جا رہے تھے۔ اس زمانہ میں ایک کلچر اور ایک ریاست کا خیال قبول عام کا درجہ حاصل کرچکا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ میں نئے ملکوں کی سرحدوں کا تعین، ایک کلچراور ایک ریاست کے خیال کے تحت عمل میں آیا۔ معاہدہ ورسیلیز کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی آزادا ریاستیں معرض وجود میں آئیں لیکن اس وقت اس معاہدے کی رو سے حق خودداریت کے تمام مطالبات کے تحت ریاست کی سرحدوں کے از سر نو تعین کی وجہ سے تمام ریاستوں میں وسیع پیمانے پر انسانی آبادیوں کا انخلاہوا۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اور خاندان بے گھر ہوگئے اور انھیں ان علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا جہاں وہ کئی نسلوں سے آباد تھے۔ بہت سے افراد یا قوم فرقہ وارانہ تشدد کا شکار بنے۔
جداگانہ کلچر یا ثقافت کی بنیاد پرمختلف طبقات کے لیے ریاستوں کی تشکیل نو کی خاطر انسانیت کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ تاہم اس کاوش کے باوجود بھی جو نئی ریاستیں وجود میں آئیں ان میں بھی اس امر کو یقینی بنانا ممکن نہیں تھا کہ اس میں صرف ایک ہی نسلی گروہ کے لوگ آباد ہوں۔
بلا شبہ بیشتر ریاستوں کی سرحدوں کے اندر ایک سے زائد نسلی اور ثقافتی گروہ آبادہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گروہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور ان ریاستوں کے اندر ان کی حیثیت اقلیتی طبقے یاگروہ کی ہے اور انھیں اکثر محرومی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ اقلیتوں کو برابر کے شہریوں کا درجہ دینے کا مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔ بہر حال ان تبدیلیوں کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ لوگوں کے ان متعدد گروہوں کی سیاسی حیثیت تسلیم کر لی گئی ہے جو خود کوایک جداگانہ قوم قرار دیتے ہیں اور انھیں اپنے امور و معاملات کو خود چلانے اور اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے میں اتفاق رکھتے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں استعماری اقتدار و غلبہ کے خلاف چھیڑی گئی قومی آزادی کی تحریکیوں نے بھی قومی خودداریت کے حق پر اصرار کیا تھا۔ قومیت پر مبنی تحریکوں کا خیال تھا کہ سیاسی آزادی سے غلام قوموں کو عزت و وقار کامقام ملے گا،اور اپنے اجتماعی مفادات کا تحفظ کر سکیں گے۔ بیشتر قومی آزادی کی تحریکیں انصاف، حقوق، اورخوش حالی کے نعروں سے متاثر تھیں۔ لیکن یہاں بھی ایک ثقافتی گروہ جن میں سے بعض جداگانہ قوم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کے لیے سیاسی آزادی اور علیحدہ ریاست قائم کرنا تقریباًناممکن بات تھی۔ اس کا نتیجہ آبادیوں کے انخلا، سرحدی جنگوں،اور تشدد کی شکل میں سامنے آیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جس نے اس خطہ کے متعدد ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔پس ہمارے سامنے قومیت پر مبنی ریاستوں کی ایک ایسی متناقص (عجیب و غریب) صورت حال کا سامنا ہے جنھوں نے خود استعماری طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرکے آزادی حاصل کی لیکن آج وہ اپنی ریاستوں میں آباد ان اقلیتوں سے برسرپیکار ہیں جو حق خودد اریت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
آج دنیا میں عملاً ہر ریاست ا س کیفیت میں مبتلاہے کہ حق خودداریت کی تحریکوں سے کس طرح نمٹا جائے اور اس امر نے خودداریت کے حق پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ لوگ اس حقیقت کے قائل ہو رہے ہیں کہ مسئلے کا حل نئی ریاستوں کی تشکیل میں نہیں ہے بلکہ موجودہ ریاستوں کو مزید جمہوری اور مساوات کا علم بردار بنانے میں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ملک میں آباد مختلف ثقافتی اور نسلی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی اور بقائے باہم کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے انھیں برابر کے شہریوں کا درجہ دیا جا ئے۔ یہ چیزیں نہ صرف حق خودداریت کے نئے مطالبات سے پیدا ہونے والے مسائل کوحل کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ ایک طاقتوراور متحدہ ریاست کی تعمیر کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ان سب کے باوجود،اگر کوئی قومی ریاست اقلیتوں کے حقوق اور ان کی ثقافتی شناخت کا احترام نہیں کرتی تو اس ریاست کو اپنے تمام شہریوں کی وفاداریاں حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
باسق میں حق خود داریت کا مطالبہ

دنیا کے مختلف حصوں میں قومی خود مختاری یا حق خود داریت دیے جانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ آئیے ہم ایک ایسے ہی معاملہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
باسق ،اسپین کا ایک خوش حال اور پہاڑی صوبہ ہے۔ اس صوبہ کو اسپینی وفاق کے اندر حکومت اسپین نے ایک خود مختار صوبہ کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ مگر باسق نشلسٹ مومنٹ (باسق قوم پرست تحریک) کے قائدین اس خود مختاری سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس تحریک کے حامیوں اور کارکنوں نے اپنے مطالبہ کو منوانے کے لیے آئینی سہارے کے علاوہ حال ہی میں پر تشدد ذرائع کا استعمال بھی شروع کیا ہے۔
باسق قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ ان کی تہذیب ، اسپینی تہذیب سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی اپنی زبان ہے جو اسپینی زبان سے کوئی میل نہیں کھاتی۔ اور باسق علاقہ کی محض ایک تہائی آبادی ہی اسپینی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔
باسق کا پہاڑوں اور نشیب و فراز والا علاقہ ملک کے بقیہ حصوں کے مقابلے میں ایک جداگانہ جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
رومی سلطنت کے زمانے سے باسق کبھی اپنی خود مختاری سے دستبردار نہیں ہوا نہ ہی اس نے یہ حق اسپینی حکمرانوں کے حوالے کیا۔ باسق کا اپنا منفرد نظام عدل، انتظامیہ اور مالیات کا نظام ہے جو وہ خود چلاتے ہیں۔ موجودہ باسق نشلسٹ تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب 19 ویں صدی کے اختتام پر اسپینی حکمرانوں نے اس کے منفرد سیاسی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ 20ویں صدی میں اسپینی ڈکٹیٹر (آمر) فرانکو نے اس خود مختاری کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی۔ وہ اس حد تک آگے بڑھا کہ اس نے عوامی مقامات کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی باسق زبان کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ بہر حال اب ان جابرانہ اقدامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔ مگرباسق تحریک کے قائدین، اسپینی حکومت کے اقدامات کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انھیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ان کے صوبہ میں باہری لوگوں کو بسایا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ باسق کے علیحدگی پسند عناصر اس مسئلہ کے ذریعہ جو پہلے ہی طے کر دیا گیا ہے، سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ باسق قوم پرستوں کا ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ جائز ہے؟ کیا باسق ایک قوم ہیں؟ اس سوال کاجواب دینے سے پہلے مزید آپ کیا جاننا چاہیں گے؟ کیا آپ کو دنیا کے مختلف حصوں سے اس طرح کی تحریکوں کی مثالیں مل سکتی ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے اندر بھی کچھ خطوں اور طبقوں نے اس طرح کے مطالبات پیش کیے ہیں؟
ماخوذ: www.wikipedia.org
7.4 قومیت اورتکثیریت (مذہبی و تہذیبی رنگا رنگی)
NATIONALISM AND PLURALISM
جیسے ہی ہم ایک کلچر ۔ ایک ریاست کے تصور کو ترک کر دیں گے تو یہ امر ضروری ہو جائے گا کہ ایک ہی ملک کے اندر مختلف ثقافتوں اور طبقوں کی بقا اور ترقی کے لیے نئے طریقے اپنائے جائیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر کئی جمہوری معاشروں نے آج اپنے یہاں موجودہ اقلیتی گروہوں کی ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کرنے کا جواز پیش کیا ہے۔ ہندوستان کے آئین میں بھی مذہبی، لسانی،اور ثقافتی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ مختلف ملکوں میں اقلیتی فرقوں اور ان کے افراد کے لیے جو دستوری حقوق فراہم کیے گئے ہیں ان میں زبان، ثقافت اور مذہب کے تحفظ کا قانون شامل ہے۔ بعض ملکوں میں مسلمہ اقلیتی گروہوں کو قانون ساز اور ریاست کے دیگر اداروں میں نمائندگی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ ان حقوق کو اس لیے درست اور جائز قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہ اقلیتی گروہوں کو یکساں سلوک اور تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافتی و تہذیبی شناخت کا بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اسی سمت میں مختلف اقلیتی گروہوں کو بھی قومیت کا حصہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ قومی شناخت کی تشکیل میں سب کو شامل کرنے کاایسا طریقہ کار اپنایا جائے جو ریاست کے اندر تمام ثقافتی گروہوں کی اہمیت اور ملک کی تعمیر میں ان کی منفرد خدمات کے اعتراف کا قائل ہو۔
اسے کیجیے
ہندوستان اور بیرون ملکوں میں مختلف گروہوں کی طرف حق خودداریت کے بارے میں جو مطالبات کیے جارہے ہیں‘ ان کے بارے میں اخبارات اور رسائل میں چھپنے والے مواد کو یکجا کیجیے۔ اور اس حوالے سے مندرجہ ذیل نکات کی روشنی میں رائے قائم کیجیے۔
◊ ان مطالبات کی پشت پر کون سے عوامل کار فرما ہیں؟
◊ انہوں نے اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے کون سی حکمت عملی اور طریقہ اختیار کیے ہیں؟
◊ کیا ان کے مطالبات برحق ہیں؟
◊ آپ کے خیال میں ان کا کیا معقول حل ہو سکتا ہے؟


ٹیگور کا قومیت پر تبصرہ
’’حب الوطنی ہماری آخری روحانی پناہ گاہ نہیں ہو سکتی ہے : انسانیت میری پناہ گاہ ہے میں ہیروں کی قیمت کے عوض گلاس نہیں خریدوںگا اور میں جب تک زندہ ہوں تب تک حب الوطنی کو انسانیت پر غالب آنے نہیں دوں گا۔‘‘
یہ قول ربندرناتھ ٹیگور کا ہے۔ وہ سامراجی اقتدار کے خلاف تھے اور ہندوستان کی آزادی چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ برطانوی سامراجی اقتدار میں ’’انسانی رشتوں کے تقدس و عظمت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حالانکہ یہی چیز برطانوی تہذیب میں متاع عزیز سمجھی جاتی ہے۔ ٹیگور نے مغربی سامراجیت کی مخالفت اور مغربی تہذیب کو مسترد کیے جانے کے درمیان ایک خطِ فاصل کھینچا تھا۔ ٹیگور کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں کو اپنی تہذیبی اور ثقافتی جڑوں سے وابستہ رہنا چاہیے وہیں انھیں بیرون ملک سے اچھی باتیں سیکھنے میں کوئی تامل و تردد نہیں ہونا چاہیے۔
ان کی تحریروں میں حب الوطنی مستقل ایک موضوع رہا ہے۔ وہ قومیت کی کوتاہ اور تنگ نظری پر مبنی تعبیروں کے سخت ناقد تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں چل رہی تحریک آزادی کے دوران کیا تھا۔ خصوصاً، انھیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ مغرب کوہندوستانی جیسی لگنے والی روایات کے حق میں مسترد کر دینے کے نتیجے میں نہ صرف ہم اپنے آپ کومحدود کر دیں گے بلکہ یہ چیزیں بیرونی اثرات کے تئیں مخالفت کے جذبے میں تبدیل ہو جائیں گی، ان اثرات میں عیسائیت، یہودیت،زرتشت مذہب اور اسلام شامل ہیں جو اب ہمارے ملک کا حصہ ہیں۔
اگرچہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ اقلیتی گروہوں کی حیثیت تسلیم کرکے اور انھیں تحفظ فراہم کرکے ان کی خواہشات کی تکمیل ہو گی لیکن اس کے باوجود بعض گروہ اب بھی علیحدہ یاست کامطالبہ کر سکتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں، جب کہ عالمگیریت کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہےیہ بات بڑی عجیب و غریب نظر آتی ہے لیکن آج بھی قوم پرستانہ جذبات گروہوں اور طبقوں کو متحرک کر رہے ہیں اور علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے تحریکیں چلارہے ہیں۔ اس طرح کے مطالبات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کے لیے آج ان ملکوں کو حکمت و تدبر اور کشادہ دلی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اکثر حق خودداریت سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ قوموں کو ایک آزاد علیحدہ ریاست قائم کرنے کا حق ہے۔ ہر ایک گروہ کو جو خود ایک مختلف کلچرل گروپ یا قوم گردانتا ہے، آزاد ریاست فراہم کرنا نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ یہ ایک نا پسندیدہ چیز بھی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسی چھوٹی چھوٹی ریاستیں معرض وجود میں آجائیں گی جو اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے پائدار نہیں ہوں گی اور اس سے اقلیتوں کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اب اس حق کی نئی تعبیر و تشریح کی جا رہی ہے کہ اس سے مراد ایک ریاست کے اندر موجود کسی قومی فرقہ کو بعض جمہوری حقوق عطا کرنا ہے۔
آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس میں شناختوں کو تسلیم کیے جانے کی اہمیت کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ کئی گروپ اپنی شناخت کو تسلیم کرانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ اپنے اس ادعا کے لیے قومیت کی زبان استعمال کررہے ہیں۔ بہر حال ہمیں شناخت کے حوالے سے ان مطالبات کی پزیرائی کرنی چاہیے لیکن اس معاملہ میں بڑی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ مطالبات معاشرے میں تشدد اور انتشار کا سبب نہ بن جائیں۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر فرد کی ایک سے زاید شناختیں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی شناخت کی بنیاد جنس،ذات، مذہب، زبان یا علاقہ پر ہو سکتی ہے اور ممکن ہے وہ ان سب پر فخر کرے۔ جب کسی شخص کو یہ احساس ہو کہ وہ اپنی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو پوری آزادی کے ساتھ بیان کر سکتا ہے تو اسے یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی کسی ایک شناخت کے لیے رعایت اور سیاسی حیثیت منوانے کا مطالبہ کرے۔ جمہوریت میں فرد کی سیاسی شناخت میں مختلف شناختوں کو جو اس کی ہیں، شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ بات خطرناک ثابت ہوگی اگر رواداری ،یکسانیت اور یک رنگی کی شکل میں شناخت اور قومیت کی تشکیل کو پروان چڑھنے کا موقع دیا گیا۔
مشقیں
1۔ ایک قوم کس معنی میں دوسری اجتماعی شکلوں سے مختلف ہوتی ہے؟
2۔ قومی خودداریت کے حق سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟یہ تصور قوم۔ریاست کی تشکیل میں کس طرح سے کارفرما رہا اور اس نے کون سے چیلنج کھڑے کیے ہیں؟
3۔ ہم نے دیکھا کہ قومیت لوگوں کو جوڑتی بھی ہے اور توڑتی بھی ۔ آزادی بھی دلاتی ہے اور ساتھ ساتھ تلخیاں اور تنازعا ت بھی پیدا کرتی ہے۔مثالوں سے جواب دیں؟
4۔ حسب نسب، زبان، مذہب اور نہ نسل یورپی دنیا میں قومیت کا مشترکہ عنصر ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔
5۔ ان عوامل کی وضاحت مثالوں کے ساتھ کیجیے جن کے نتیجے میں قوم پرستی کے جذبات و احساسات کا ظہور ہوا۔
6۔ قوم پرستانہ مطالبات سے نمٹنے میں کس طرح آمرانہ حکومتوں کے مقابلے میں جمہوری حکومتیں زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہیں؟
7۔ آپ کی رائے میں قومیت کی مجبوریاں کیا ہیں؟