Skip to content
Keemiyan II


8-1

باب 8

سیکولرزم  


اگر کسی ملک میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے ہیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایک جمہوری ریاست (حکومت) ،عوام میں ہر ایک کے ساتھ مساویانہ سلوک کے امر کو کیسے یقینی بنا سکتی ہے؟ پچھلے باب میں بھی یہ سوال سامنے آیا تھا۔ اس باب میں ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے علاوہ دیکھیں گے کہ اس صورت حال (سیاق) میں سیکولرزم کا کیسے اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ یوں تو ہندوستان میں سیکولرزم کا تصور ہمیشہ عوامی بحث و مباحثہ اور گفتگو کا موضوع رہا ہے۔ اس کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک میں سیکولرزم کے بارے میں ایک ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک طرف، تقریباً تمام ہی سیاستداں اس سے وفاداری کی قسمیں کھاتے ہیں اور ہر سیاسی جماعت سیکولر ہونے کا دم بھرتی ہے، وہیں دوسری طرف ملک میں سیکولرزم کے حوالے سے ہر طرح کے شکوک و شبہات اور تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ سیکولرزم کو نہ صرف مذہبی رہنماوں اور مذہبی قوم پرستوں کی طرف سے بلکہ کچھ سیاستدانوں و سماجی کارکنوں کے علاوہ اہل علم حضرات کی طرف سے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 
اس باب میں ہم مندرجہ دیل موضوعات کے حوالے سے سیکولرزم پر چل رہی بحث کا جائزہ لیں گے۔
سیکولرزم سے کیا مراد ہے؟
کیا سیکولرزم ہندوستان کی سرزمین پر لگایا گیا مغربی پودا ہے؟
کیا یہ تصور ان معاشروں کے لیے موزونیت رکھتا ہے جہاں آج بھی فرد کی انفرادی زندگی میں مذہب کا بہت زیادہ عمل دخل ہے؟ 
کیا سیکولرزم طرفداری کا مظاہرہ کرتا ہے؟ کیا وہ اقلیتوں کی ’نازبرداری‘ کرتا ہے؟
کیا سیکولرزم مذہب مخالف نظریہ ہے؟
اس باب کے مطالعے کے بعد آپ ہندوستان جیسے ایک جمہوری معاشرے میں سیکولرزم کی اہمیت و ضرورت کے بارے میں جانیں گے نیز ہندوستانی سیکولرزم کی انفرادیت سے بھی واقف ہو جائیں گے۔

8.1   سیکولرزم کیا ہے؟

?What Is  Secularism


ہر چند کہ یہودیوں کے ساتھ پورے یورپ میں صدیوں تک امتیازی سلوک روا رکھا گیا،لیکن موجودہ مملکت اسرائیل میں یہودی شہریوں کو سماجی، سیاسی اور معاشی فوائد (یا مراعات) حاصل ہیں۔ وہیں عرب اقلیتوں، عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔ یورپ کے مختلف ملکوں میں بھی غیر عیسائی فرقوں کے خلاف غیرمحسوس اور لطیف شکل میں امتیازات پائے جاتے ہیں۔ ہمسایہ ملک پاکستان،بنگلہ دیش میں بھی اقلیتوں کی صورت حال کے حوالے سے فکر مندی پائی جاتی ہے۔ یہ مثالیں آج دنیا میں انسانی گروہوں اور معاشروں کے لیے سیکولرزم کی اہمیت کا مسلسل احساس دلاتی ہیں۔

بین مذہبی غلبہ 

Inter-religious Domination

خود ہمارے ملک کا آئین یہ اعلان کرتا ہے کہ ہر ہندوستانی شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا کلی طور پرحق حاصل ہے۔ مگرواقعہ یہ ہے کہ آج بھی محرومی اور امتیازات کی مختلف شکلیں ہمارے سماج میں موجود ہیں۔مندرجہ ذیل واضح مثالوں پر غور کریں۔ 

  •  1984 میں دہلی اور ملک کے متعدد مقامات پر 2700سے زائد سکھوں کو قتل کردیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کا احساس ہے کہ مجرموں کو سزا نہیں دی گئی۔

وادی کشمیر سے کئی ہزار کشمیری پنڈتوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا،جو تقریباً دو دہائی کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹے ہیں۔
◊  گجرات میں 2002 میں ما بعد گودھرا دنگوں کے 1000 سے زائد افراد کو قتل کر دیا گیا جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ ان متاثرہ خاندانوں کے بچ جانے والے افراد اپنے اپنے آبائی گاوں واپس نہیں جاسکے اور کیمپوں میں زندگی بسر کرنے کو مجبور ہوئے۔
ان مثالوں میں کون سی چیز مشترک ہے؟ یہ تمام کسی نہ کسی شکل میں امتیاز کے شکار ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک طبقے کے افراد اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے ظلم و زیادتی کا نشانہ بنے ہیں۔ با لفاظ دیگر،شہریوں کے ایک گروہ کو آزادی کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعات مذہبی استبداد (زیادتی) کی مثالیں ہیں اور یہ بین مذہبی غلبہ یا ایک مذہب کے دوسرے مذہب پر غلبہ کو ظاہر کرتے ہیں۔
سیکولرزم پہلا اور اولین ایسا فلسفہ یا نظریہ ہے جو بین مذہبی غلبہ کی تمام شکلوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ہر چند کہ یہ سیکولرزم کے تصور کا صرف ایک اہم پہلو ہے۔ اتنی ہی اہمیت کا حامل پہلویہ بھی ہے کہ وہ ایک ہی مذہب کے اندر کسی مسلکی غلبے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ آئیے ہم اس موضوع کا مطالعہ ذرا گہرائی سے کریں۔

درون مذہبی یا مسلکی غلبہ

Intra-religious Domination 

بعض لوگو ں کا خیال ہے کہ مذہب محض عوام کے لیے عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور ایک دن جب تمام لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی اور وہ ایک مطمئن اور خوش و خرم زندگی گزارنے لگیں گے تو ان کی زندگیوں سے مذہب غائب ہو جائے گا۔ اس طرح کا خیال در اصل انسان کی صلاحیت کے بارے میں بے جا اور مبالغہ آمیز احساس کا نتیجہ ہے۔ یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان کبھی کائنات کو مکمل طور پر جاننے کا اہل ہوگا اور وہ اس پرقادر ہوگا۔ ہم زیادہ سے زیادہ اپنی زندگی کو طول دے سکتے ہیں لیکن اسے لافانی نہیں بنا سکتے نہ ہی بیماریوں کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہم تقدیر اور حادثات کے عنصر کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر کر سکتے ہیں۔مفارقت یا انتقال (Separation) اور نقصان انسانی زندگی کا نہ ختم ہو نے والا حصہ ہے۔ چونکہ زیادہ تر مشکلات و پریشانیاں خود ہماری پیدا کردہ ہوتی ہیں اس لیے انھیں ختم کیا جا سکتا ہے۔ بہر حال ہمارے کچھ مصائب کی وجہ ،انسانی غلطیاں نہیں ہیں۔ اس طرح کے مصائب میں مذہب، فنون لطیفہ اور فلسفہ ہمارے کام آتے ہیں۔ سیکولرزم کا نظریہ بھی ان چیزوں کو تسلیم کرتا ہے چنانچہ یہ تصور مذہب کی مخالفت پر مبنی نہیں ہے۔
بہر حال بعض گہرے نوعیت کے مسائل کے لیے مذہب بھی کچھ حد تک ذمہ دار ہے۔مثلاً شاید ہی کوئی ایسا مذہب ہے جو مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو برابر کا درجہ دیتا ہے۔ مذاہب میں،جیسا کہ ہندو دھرم میں‘ بعض طبقات امتیازات کے مستقل شکار رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دلتوں کے لیے مندروں میں داخلہ ممنوع ہے۔ اسی طرح ملک کے بعض علاقوں میں عورتیں مندروں میں نہیں جا سکتیں۔ جب مذہب ادارہ جاتی یا منظم شکل اختیار کرتا ہے تو وہ اکثر سب سے زیادہ قدامت پرست طبقہ کے زیر اثر آتا ہے جو کسی اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا روادار نہیں ہوتا۔ امریکہ کے کئی حصوں میں مذہبی بنیاد پرستی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے نتیجے میں اندرون ملک اور بیرون ملک امن کو خطرہ لاحق ہے۔ وہ لوگ متعدد مذہبی فرقوں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اکثر مسلکی تشدد کا باعث بنتے ہیں اور اختلاف رائے کرنے والی اقلیتیں ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں۔
چنانچہ مذہبی غلبہ کی پہچان یا شناخت صرف بین مذہبی غلبہ سے نہیں کی جا سکتی۔ اس کی ایک دوسری نمایاں شکل مسلکی یا مذہبی فرقہ کا غلبہ ہے۔ چونکہ سیکولرزم ہرشکل میں ادارہ جاتی مذہبی غلبہ کی مخالفت کرتا ہے اور وہ بین مذہبی ہی نہیں بلکہ وہ مسلکی غلبہ کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ 
 ہمارے پاس سیکولرزم کے بارے میں ایک عمومی تصور موجود ہے۔ یہ ایک معیاری فلسفہ زندگی ہے جو سیکولر معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے۔ ایسا معاشرہ جو بین مذہبی یا بین مسلکی غلبہ سے پاک ہو اور ان کے درمیان سبھی اعتبار سے مفاہمت ہو۔ فی الحقیقت یہ اوصاف مذاہب کے اندر اور ان کے درمیان میں بھی اظہار آزادی اور مساوات جیسی اقدار کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس وسیع تر نظریہ کے اندر اب ہم اس محدود اور خصوصی سوال کا جائزہ لیں گے کہ ان اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے کس طرح کی ریاست درکار ہے۔ بالفاظ دیگر، سیکولرزم کی علم بردار ریاست کو مذہبی فرقوں کے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا چاہیے۔

8.2 سیکولر ریاست

Secular  State

مذہبی تعصبات اور امتیازات کو دور رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم سب مل کر روشن خیالی کو پھیلانے کا کام کریں۔ لوگوں کے ذہن تبدیل کرنے میں تعلیم بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی انفرادی مثالیں بھی طبقوں اور فرقوں کے درمیان شک و شبہات اور عصبیتوں کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔ سنگین فرقہ وارانہ تشدد کے دوران میں ایک ہندو کے ذریعہ ایک مسلمان کی جان بچانے یا ایک مسلمان کے ذریعہ ایک ہندو کی جان بچانے کے مواقع ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس جذبے سے ہمیشہ ہمیں تحریک ملتی ہے۔ تاہم یہ امر ناممکن ہے کہ محض تعلیم یا نیک اور اچھے عمل کے ذریعہ ہی مذہبی تعصبات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ آ ج کے جدید معاشرے میں،ریاست بے پناہ اختیارات کی حامل ہوتی ہیں۔ مذہبی تعصبات اور بین فرقہ جاتی تنازعات سے پاک معاشرے کی تشکیل میں ریاست کا کردار بڑا اہم مانا جاتا ہے۔ ریاست استطاعت رکھتی ہے کہ وہ اس سے کس طرح نبرد آزما ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم دیکھیں گے کہ مذہبی رواداری کو فروغ دینے اور مذہبی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کس طرح کی ریاست تشکیل دینی چاہیے۔ 

اسے کیجیے

کچھ تدبیروں اور طریقوں کی فہرست مرتب کیجیے جو آپ کے خیال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

ریاست ،کسی مذہبی گروہ کو غلبہ حاصل کرنے سے کیسے باز رکھے؟ اس کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ریاست کو چلانے کا اختیار کسی مخصوص مذہب کے پیشواوں کے پاس قطعی نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی ریاست جسے کوئی مذہبی رہنما چلاتا ہے مذہبی ریاست کہلاتی ہے۔ مذہبی ریاستوں میں جیسا کہ قرون وسطیٰ میں یورپ کی متعدد ریاستیں پاپائیت کے زیر تسلط تھیں،یا موجودہ دور میں طالبان کے زیر حکومت ریاستیں ہیں جن میں مذہبی اور سیاسی اداروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں رہا کرتی ،پاپائیت جو اپنے کلیسائی نظام، جبر و استبداد اور دیگر مذہبی گروہوں کو مذہبی آزادی نہ دینے کے حوالے سے مشہور ہیں ۔ اگر ہم امن، آزادی اور مساوات جیسے اصولوں کی قدر کرتے ہیں تو ہمیں مذہبی اداروں کو ریاستی اداروں سے الگ کرنا ہی پڑے گا۔ 
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست اور مذہب کے درمیان علیحدگی ایک سیکولر ریاست کے وجود کے لیے کافی ہے۔ لیکن عملاً ایسا نظر نہیں آتا ہے۔ متعدد ریاستیں غیرمذہبی ہونے کے باوجود ایک مخصوص مذہب سے روابط رکھی ہوئی ہیں۔ بطور مثال، 16ویں صدی میں انگلینڈ کی حکومت کلیسائی نظام کے ہاتھ میں نہیں تھی مگر ریاست کا واضح طور پر جھکاو ’اینگلو چرچ ‘ اور اس کے ارکان کی طرف تھا۔ انگلینڈ میں اینگلو عیسائی مذہب کی ایک مسلمہ حیثیت موجودرہی ہے جو ریاست کا سرکاری مذہب کہلاتا تھا۔ آج پاکستان میں بھی ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ اس طرح کے نظام حکومت میں اندرونی سطح پر اختلاف رائے یا مذہبی مساوات کا دائرہ بڑا تنگ ہوتا ہے۔

اس پر بحث کیجیے

دوسرے مذاہب کی تعلیمات سے آگہی حاصل کرنا دراصل دوسرے مذاہب کے اور ان کے پیروکاروں کا احترام کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ تاہم اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم ان بنیادی انسانی قدروں کا احترام کرنے کے قابل ہیں جنھیں ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

صحیح اور حقیقی معنوں میں ایک سیکولر ریاست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مذہبی حکومت کی مکمل طور پر نفی کرے بلکہ وہ کسی بھی مذہب سے کوئی رسمی،قانونی یا کسی بھی طرح کا کوئی واسطہ نہ رکھے۔ بہر حال ایک سیکولر ریاست کے لیے مذہب اور ریاست کے درمیان علیحدگی از حد ضروری ہے۔ تاہم اس کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ ایک سیکولر ریاست کو اپنے مقاصد اور اصولوں کو اختیار کرنا چاہیے جو کم از کم جزوی طور پر غیر مذہبی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہوں ۔ ان مقاصدمیں امن، مذہب کی آزادی، مذہبی جبر سے آزادی، امتیازات اور تعصبات،محرومی و ناکامی نیز بین مذہبی اور درون مذہبی مساوات کو شامل کیا جانا چاہیے۔
 ان مقاصد کے حصول اور فروغ کے لیے ریاست کو کلیسائی نظام سے علیحدہ کیا جانا ضروری ہے ، نیز ان میں سے کچھ امور کے لیے بعض مذہبی اداروں کو بھی الگ کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ علیحدگی کے اس عمل کو کوئی مخصوص شکل دی جائے۔ درحقیقت،فطرت اور علیحدگی کی حد کا انحصار ان مخصوص قدروں پر ہوتا ہے جن کو فروغ دیناچاہتے ہیں اور اس پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ ہم ا ن کا تعین کس طرح کرتے ہیں۔ اب ہم اس نوع کے دوتصورات کا جائزہ لیں گے جس میں ایک مغرب کا غالب تصور ہے جس کی بہترین نمائندہ ریاست امریکہ ہے اور اس کا متبادل دوسرا تصور ہے، ہندوستانی سیکولرزم جس کی بہترین عکاسی ہندوستانی ریاستیں کرتی ہیں۔

8.3   سیکولرزم کا مغربی ماڈل

THE WESTERN MODEL OF SECULARISM

تمام سیکولر ریاستوں میں ایک قدر مشترک بات یہ ہے کہ نہ وہ مذہبی ریاستیں ہیں اور ناہی وہ لوگوںکو کوئی مذہب اختیار کرنے کے لیے مجبور کرتی ہیں ۔با لفاظ دیگر وہ کوئی مذہب قائم نہیں کرتیں۔ بہر کیف، جو سب سے زیادہ رائج الوقت تصورات ہیں وہ بڑی حد تک امریکی ماڈل سے متاثر ہیں۔ جس میں مذہب اور ریاست کے درمیان علیحدگی اور باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہے،یعنی ریاست مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ اور عین اس کے مطابق مذہب بھی ریاست کے معاملات میں کوئی دخل نہیں دے گا۔ ہر ایک کا اپنا اپنا آزادانہ دائرہ اختیار ہوتا ہے۔ ریاست کی پالیسی صرف مذہبی اصول کی بنیاد پر وضع نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری پالیسی کی بنیاد مذہبی درجہ بندی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ریاست میں مذہب کی بے جا اور خلاف قانون مداخلت ہوگی۔ اسی طرح کوئی ریاست کسی مذہبی ادارہ کو مالی امداد نہیں دے سکتی۔ وہ مذہبی فرقوں کے ذریعہ چلائے جا رہے تعلیمی اداروں کو مالی امداد فراہم نہیں کر سکتی۔ نہ ہی وہ مذہبی فرقوں کی سرگرمیوں میں مداخلت کر سکتی ہے ، جب تک کہ وہ اپنی سرگرمیا ںملکی قانون کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے چلا رہی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی مذہبی ادارہ کسی خاتون کو مذہبی پیشوا بننے سے روکتا ہے تو ریاست اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ اگر کوئی مذہبی گروہ اختلاف رائے کرنے والوں کو اپنے مذہب سے باہر نکال دیتا ہے تو اس صورت میں بھی ریاست کا کردار ایک خاموش تماشائی کا ہوگا۔ اگر ایک مخصوص مذہب اپنے بعض پیرو کاروں کوعبادت خانے کے مقدس مقام تک جانے کی اجازت نہیں دیتا ہے تو ریاست کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اس معاملہ کو متعلقہ مذہبی ادارہ پر چھوڑ دے۔ اس نقطہ نظر سے مذہب ایک نجی یا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاست کی پالیسی یا قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیکولرزم کا یہ مقبول عام تصور ’فرد کو عمل کی آزادی اور برابری کا حق کا ‘آئینہ دار ہے۔ آزادی سے مراد فرد کو عمل کی آزادی ہے اور مساوات سے مراد افراد کے درمیان برابری اور مساوات ہے۔اس خیال کے لیے کوئی جگہ نہیں کہ ایک طبقہ کو اپنے من پسند اصول اور رواج پر عمل کرنے کی آزادی ملے۔ اسی طرح فرقہ کی بنیاد پر یا اقلیت کی بنیاد پر حقوق کی بھی بہت ہی کم گنجائش ہے۔ مغربی معاشروں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ تصویر کیوں ابھری۔ سوائے یہودیوں کی موجودگی کے بیشتر مغربی معاشروں میں بڑی حد تک مذہبی یک رنگی اور یکسانیت رہی۔ اس حقیقت کے تناظر میں،یہ بات قدرتی ہے کہ ان کی پوری توجہ اندرون مذہبی غلبہ کی طرف رہی ہے۔ ریاست کو چرچ سے علیحدہ رکھنے پر سخت زور دیا گیا تاکہ دوسری چیزوں کے علاوہ فرد کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے ۔تاہم ا س میں اکثر بین مذہبی مسائل (یعنی اقلیت کے حقوق) مساوات کو نظر انداز کیا گیا۔ انجام کار، سیکولرزم کے اس غالب تصور میں ریاست کی حمایت سے مذہبی اصلاحات کے خیال کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی۔ یہ پہلو در اصل اس سوچ کا راست نتیجہ ہے کہ ریاست او رمذہب کے درمیان کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور یہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ ادارے ہیں۔

سیکولرزم کے بارے میں کمال اتاترکؔ کا نظریہ:

آئیے ہم ایک مختلف نوع کے سیکولرزم کا جائزہ لیں جو ترکی میں 20ویں صدی کے پہلے نصف میں رائج کیا گیا۔ یہ سیکولرزم وہ نہیں ہے جس میں ریاست اور مذہب کے درمیان ایک اصولی حد فاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں مذہب کے معاملات میں بڑی سرگرمی سے مداخلت کی گئی اور اسے دبانے اور کچلنے کی کوشش کی گئی۔ سیکولرزم کے اس نمونہ کو کمال اتاترک نے پیش کیا اور اسے پورے ملک میں رائج کیا۔

وہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برسراقتدار آیا اور وہ ترکی سے خلافت کے نظام کو ہر حال میں ختم کرنا چاہتا تھا۔ اتاترک اس بات کا قائل تھا کہ ترکی کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ عوامی زندگی کا روایتی سوچ سے رشتہ توڑ دیا جائے۔ اس نے ترکی کو جدید سیکولر ریاست بنانے کے لیے جارحانہ انداز اختیار کیا۔ اتاترک نے خود اپنا نام مصطفی کمال پاشا سے بدل کر کمال اتاترک کر دیا ۔ ترکی زبان میں اتاترک کے معنیٰ باپ کے ہیں یعنی وہ ترکی کی عوام کے لیے بابائے ترک کہلایا۔ ترکی کے مسلمان جو روایتی ٹوپی کا استعمال کیا کرتے تھے اس کے استعمال کو ایک قانون کے نفاذ کے ذریعے ممنوع قرار دیا نیز مردوں اور عورتوں میں مغربی لباس اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ترکی کیلنڈر کی جگہ پر مغربی (گری گورین) کلینڈر کو رواج دیا گیا۔ علاو ازیں 1928 میں ترکی زبان کا عربی رسم الخط ختم کرے کے لاطینی رسم الخط رائج کیا گیا۔

کیا آپ ایسے سیکولرزم کا تصور کر سکتے ہیں جو آپ کواپنے تشخص کو برقرار رکھنے،ان لباس کو استعمال کرنے جو آپ پہنا کرتے تھے،اور اس زبان کو جس میں آپ تبادلہ خیال کیا کرتے تھے ،کو برتنے کی آزادی نہیں دیتا؟ آپ کے خیال میں اتاترک کا سیکولرزم کس اعتبار سے ہندوستانی سیکولرزم سے مختلف ہے؟

8.4 سیکولرزم کا بھارتی ماڈل

THE INDIAN MODEL

OF SECULARISM

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم مغربی سیکولرزم کی نقل یا چربہ ہے۔ تاہم ہمارے آئین کا ذرا گہرائی سے مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ ہندوستان کا سیکولرزم بنیادی اعتبار سے مغربی سیکولرزم سے بہت مختلف ہے۔ ہندوستانی سیکولرزم صرف ریاست اورمذہب کے درمیان علیحدگی پر ہی توجہ نہیں دیتا ہے بلکہ بین مذہبی برابری اس کے تصور کا ایک اہم جُز ہے۔ آیئے مزید اس بات کی تشریح کرتے ہیں۔ کون سی چیز ہندوستان کے سیکولرزم کو ممتاز بناتی ہے؟ سب سے پہلے یہ تصور ہندوستان کے اندر مختلف مذاہب اور کثیر مذہبی رنگا رنگی ہے جو مغرب کے جدید تصورات اور قومیت کے نظریات کے منظر عام پر آنے کے بہت پہلے سے موجود ہے۔ ہندوستان میں پہلے ہی سے مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا ایک ماحول رہا ہے۔ بہر حال،ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مذہبی غلبہ کے ساتھ رواداری کیا واقعی قابل عمل ہے۔ یہ ہر ایک فرد کو کچھ گنجائش فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس طرح کی آزادی عموماً محدود نوعیت کی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، رواداری کے باعث آپ کا سابقہ ایسے لوگوں سے بھی پڑتا ہے جنھیں آپ اپنا ہم خیال نہیں بلکہ مخالف پاتے ہیں۔ اگر کوئی معاشرہ ایک بڑی خانہ جنگی سے ابھرکر دوبارہ پٹری پر آ رہا ہے تو یہ چیز اس کے لیے ایک بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن امن کے حالات میں ایسا نہیں جس میں لوگ برابری کا درجہ اور عزت و وقار کا مقام حاصل کرنے کے لیے جدوجہدکر رہے ہوں۔

نہرو کا سیکولرزم

’تمام مذاہب کو ریاست کی طرف سے مساویانہ تحفظ فراہم ہوگا‘ یہ تھا نہرو کا جواب، جب ان سے ایک طالب علم نے یہ پوچھا کہ آزاد بھارت میں سیکولرزم کی کیا حیثیت ہوگی۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک سیکولر ریاست ایسی ہونی چاہیے جو تمام مذاہب کو نظر انداز کرے او رنہ ہی وہ کسی مذہب کو سرکاری یا ریاستی مذہب کی حیثیت سے اختیار کرے۔ 

نہرو، بھارتی سیکولرزم کے فلاسفر تھے۔ نہرو نے نہ کسی مذہب کو اختیار کیا اور اس پر عمل کیا اور نہ ہی و ہ خدا میں یقین رکھتے تھے۔ لیکن ان کے نزدیک سیکولرزم کے معنی مذہب کی مخالفت نہیں تھا۔اس اعتبار سے نہرو کا تصور ترکی کے کمال اتاترک سے بہت مختلف تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ نہرو اس بات کے بھی قائل نہیں تھے کہ ریاست اور مذہب کو مکمل طور سے ایک دوسرے سے الگ کردینا چاہیے۔ ایک سیکولر ریاست سماجی اصلاح کے لیے مذہبی معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے۔ نہرو نے بذات خود ذات پات کے امتیازات،جہیز اور ستی کے خاتمہ کے لیے قانون سازی نیز ہندوستانی خواتین کو سماجی آزادی اور وہ تمام قانونی حقوق عطا کرنے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔

نہرو کئی معاملوں میں نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے آمادہ رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک چیز پر نہایت مضبوطی سے قائم رہے ۔اس پر انھوں نے کوئی مصالحت نہیں کی۔ سیکولرزم ان کے نزدیک ہر طرح کی فرقہ پرستی کو روکنے کا ایک موثر ہتھیار تھا۔ نہرو ، فرقہ پرستی بالخصوص اکثریتی فرقہ کی فرقہ پرستی کے بڑے سخت ناقد تھے جو ان کے خیال میں ملک کی یکجہتی اور وحدت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہو سکتی ہے۔ سیکولرزم ان کے لیے صرف اصولوں کا معاملہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ ہندوستان کی یکجہتی اور وحدت کے تحفظ کی واحدضمانت تھی۔


8-2

کیا آپ کو یاد ہے کہ فرانس میں تعلیمی اداروں میں مذہبی علامتوں جیسے اسکارف اور پگڑی کے استعمال پر پابندی لگانے کا حکومت فرانس کا فیصلہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا تھا۔

ہاں! مجھے یاد ہے۔ کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ ہندوستان اور فرانس دونوں سیکولر ملک ہیں‘ لیکن ہندوستان میں اس طرح کی مذہبی علامتوں کے سرکاری اداروں میں استعمال پر کوئی بندش نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں سیکولرزم کا جو تصور ہے وہ فرانس کے تصور سے مختلف ہے۔

جدید مغربی افکار و تصورات کے ظہور نے مساوات کے غالب تصور کو بھی متاثر کیا ہے جسے اب تک قابل اعتبار اور قابل توجہ نہیں سمجھا گیا ہے۔ اس سے یہ تصورات مزید نکھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں جس سے فرقوں اور طبقوں کے درمیان بھی مساوات کے تصور کو رو اج دینے میں معاونت حاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح اس نے مذہبی درجہ بندی کے خیال کو تبدیل کرکے اس کی جگہ پر بین فرقہ جاتی مساوات کے شعور کو رائج کیا ہے۔ پس ہندوستانی سیکولرزم نے مغرب سے آنے والے تصورات و افکار اور ہمارے معاشرے میں پہلے ہی سے موجود مذہبی و تہذیبی رنگا رنگی کے ارتباط سے ایک منفرد پہچان بنائی اور اس کے نتیجہ میں بین مذہبی غلبہ اور اندرون مذہبی غلبہ دونوں پر یکساں توجہ دی گئی ہے۔ ایک طرف ہندوستانی سیکولرزم ہندو دھرم میں دلتوں اور عورتوں پر جبر و استبداد کی مخالفت کرتا ہے وہیں دوسری طرف عورتوں کی راہ میں امتیازی رویہ کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ مذہبی اقلیتی فرقوں کے حقوق کو اکثریتی فرقہ کی طرف سے لاحق ممکنہ خطرات کا بھی احساس رکھتا ہے۔یہ پہلا اہم فرق ہے جو اسے سیکولرزم میں مغرب کے غالب تصور سے ممتاز کرتا ہے۔ 
اسی کے ساتھ ہی دوسرا فرق یہ ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم نہ صرف فرد کی مذہبی آزادی کی بات کرتا ہے بلکہ وہ اقلیتی فرقوں کی مذہبی آزادی کا بھی خیال کرتا ہے۔ اس کے تحت ہر فرد کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح مذہبی اقلیتوں کو اپنی شناخت کے ساتھ رہنے، اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنے اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس پر بحث کیجیے

نوجوان نسل کے نزدیک مذہبی شناختیں اور مذہبی اختلافات کوئی معنی و اہمیت نہیں رکھتے۔

تیسرا فرق یہ ہے کہ ایک سیکولر ریاست کو اندرون مذہبی غلبہ کے بارے میں بھی فکر مند ہونا چاہیے، ہندوستانی سیکولرزم میں یہ گنجائش موجود ہے۔ وہ ریاست کی مدد سے مذہبی اصلاح کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ غرض کہ ہندوستانی آئین چھوا چھوت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ ہندوستانی ریاست نے کئی قوانین پاس کیے ہیں جس کے تحت کم سنی کی شادی پر پابندی لگائی گئی اور بین فرقہ جاتی شادیوں کی اجازت دی گئی جن کی ہندو دھرم میں سخت ممانعت ہے۔
ہندوستانی ریاست مذہبی جبر کے تدارک کے لیے اس مذہب کے ساتھ صحیح طریقہ سے پیش آ سکتی ہے۔ چھواچھوت یا ذات پات کی تفریق پر پابندی لگانے کا اقدام اس امر کا عکاس ہے۔ وہیں پر وہ مثبت رویہ بھی اختیار کرتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کا آئین تمام مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انھیں چلانے کا اختیار دیتا ہے جو ریاست سے مالی امداد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ آزادی ، امن اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے ریاست کو ان تمام پیچیدہ حکمت عملیوں کو اختیار کرنا چاہیے۔
اب یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ’’ تمام مذاہب کا مساویانہ احترام‘‘ کے اس فقرہ سے ہندوستانی سیکولرزم کی توضیح نہیں کی جا سکتی۔ اگر اس فقرہ سے مراد تمام مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہم یا رواداری ہے تو یہ بات سیکولرزم کے معنی کو بیان کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی کیوںکہ یہ تصور بقائے باہم یا رواداری سے بہت زیادہ وسیع معنی رکھتا ہے۔ اگر اس فقرہ کے معنی تمام مذاہب کے اور ان کے رسومات کے تئیں مساویانہ احترام کا جذبہ ہے تو اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی سیکولرزم اصولی طور پر ریاست کو کسی مذہب میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اس طرح کی مداخلت سے ہر مذہب کے بعض پہلووں کے تئیں احترام نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر،مذہبی لحاظ سے ذات کی بنیاد پر درجہ بندی کو ہندوستانی سیکولرزم تسلیم نہیں کرتا ہے۔ سیکولر ریاست کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ ہرمذہب کے ہر پہلو کے ساتھ احترام سے پیش آئے۔ وہ ادارہ جاتی یا منظم مذاہب کے بعض پہلوؤں سے مساوی اختلاف کی بھی اجازت دیتا ہے۔

آئیے اس پر غور کریں

کیا مندرجہ ذیل نکات سیکولرزم سے مطابقت رکھتے ہیں؟

٭ اقلیتی فرقہ کو مذہبی سفر کے لیے سبسڈی دینا

٭ سرکاری دفاتر میں مذہبی رسوم کا اہتمام کرنا   

اسے کرئیے

٭ ذیل میں سے کوئی ایک فلم (مثلاً بامبے یا گرم ہوا) دیکھیے۔ان فلموں میں سیکولرزم کے کون سے معیارکیے گئے ہیں؟

٭ اس مختصر کہانی کو پڑھیے۔ ’نیم ان فور سیکنگ پاراڈائز (Name in For Saking Paradise: Stories from Ladakh)‘ مصنف : عبدالغنی شیخ

مطبع کتھا

8.5  ہندوستانی سیکولرزم پر تنقیدیں

ہندوستانی سیکولرزم سخت تنقیدوں کا ہدف بنتاآیا ہے۔آخر وہ تنقیدیں ہیں کیا؟ کیا ہم ان سے سیکولرزم کا دفاع کرسکتے ہیں؟۔

مذہب مخالف (Unti-religious) 

سب سے پہلے یہ موثر دلیل دی جاتی ہے کہ سیکولرزم کانظریہ مذہب کی مخالفت پر مبنی ہے۔ ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیکولرزم ادارہ جاتی مذہبی غلبہ کے خلاف ہے۔ یہ مذہب مخالف جیسے تصور سے میل نہیں کھاتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سیکولرزم سے مذہبی شناخت کو خطرہ لاحق ہے۔ حالانکہ ہم نے ابتدا میں یہ بات نوٹ کی تھی کہ سیکولرزم مذہبی آزادی اور مساوات کی ترویج کرتا ہے۔ اس واسطے بلاشبہ، وہ مذہبی شناخت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کا محافظ ہے۔ ہاں! وہ یقیناً مذہبی شناخت کی ان بعض شکلوں کی جو غیر استدلالی، متشدّد، کٹر پن، کسی گروہ کو محروم کرنے والی حرکات اور مذاہب کے درمیا ن نفرت پھیلانے والی ہیں،پرزور مخالفت کرتا ہے۔

مغرب سے درآمد شدہ 

Western Import

دوسری تنقید یہ کی جاتی ہے کہ سیکولرزم کا تعلق مذہب عیسائیت سے ہے چنانچہ یہ مغرب کا نظریہ ہے اور اس بنا پریہ ہندوستان کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ بظاہر یہ عجیب و غریب شکوہ ہے ۔جبکہ آج ہندوستان میں پتلون سے لے کر انٹرنیٹ اور پارلیامانی جمہوریت وغیرہ ایسی ہزاروں نہیں لاکھوں چیزیں ہیں جن کی ایجاد مغرب میں ہوئی ہے۔ اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو کیا ہوا؟ کیا آپ نے کبھی کسی یورپی شخص کو یہ شکایت کرتے سنا ‘ صفر کا موجدہندوستان ہے اس لیے وہ اس سے کام نہیں کرسکتے؟  
بہر حال یہ ایک سطحی قسم کا جواب ہے۔ حقیقی معنیٰ میں ایک سیکولرریاست کے قیام کے لیے جو بات سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اپنے مقاصد ہونے چاہئیں۔ مغرب میں سیکولر ریاستیں اس وقت وجود میں آئیں جب انہوں نے سیاسی اور سماجی زندگی پر پوری طرح سے حاوی مذہبی طبقہ کی حکمرانی کو چیلنج کیا۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیکولرزم کا مغربی ماڈل عیسائی دنیا کی پیداوار نہیں ہے۔ آخر اس کے مغربی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
ریاست اور مذہب کے درمیان باہمی رـضامندی سے علیحدگی ہے،جس کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ مغرب کے سیکولر معاشروں کے لیے ایک آئیڈیل یا مثالی حیثیت رکھتا ہے،یہ تمام سیکولر ریاستوں کا حتمی وصف نہیں ہے۔ مختلف سیکولر معاشروں نے علیحدگی کے نظریہ کی اپنے اپنے طور پر تعبیر اور تشریح کی ہے یعنی یہ پہلو ہر معاشرہ میں جدا جدا ہے۔ ایک سیکولر ریاست مختلف طبقوں کے مابین امن اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے مذہب سے ایک اصولی فاصلہ بنائے رکھتی ہے اوروہیں وہ بعض مخصوص طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے مذہب میں مداخلت بھی کرتی ہے۔
بالکل یہی بات ہندوستان میں ہوتی ہے۔ ہندوستان نے سیکولرزم کا ایک ایسا ماڈل پیش کیا ہے جسے صرف ہندوستانی سرزمین پر مغربی پودے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم کے ماخذ مغربی اور غیر مغربی دونوں تصورات میںموجود ہیں۔ جس طرح مغربیت میں چرچ ریاست کے درمیان علیحدہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح ہندوستان جیسے ملکوں میں مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان پر امن بقائے باہم مضبوط طور سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

اقلیت نوازی (Minortism)  

سیکولرزم پر تیسرا لزام یہ ہے کہ وہ اقلیتوں کا خصوصی خیال رکھتا ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ اس لیے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی درست ہے؟ آئیے ! اس مثال پرذرا غور کریں۔ ایک انتہائی برق رفتاری سے جا رہی ٹرین کے ایک ڈبے میں چار افراد سفر کر رہے ہیں ۔ دوران سفر ان چاروں میں سے ایک سگریٹ پینے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ اس پر ان میں سے دوسرا مسافر کہتا ہے کہ وہ سگریٹ کا دھواں برداشت نہیں کر سکتا جبکہ دیگر دونوں مسافر بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں لیکن وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں۔ آخر کار اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک تجویز پیش کی جاتی ہے کہ اس پر رائے (ووٹ) ہو۔ دونوں کبھی کبھار سگریٹ نوشی کرنے والے عادی سگریٹ نوش کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس طرح سگریٹ نہ پینے والے مسافر کو دو ووٹوں کے فرق سے شکست ہوتی جاتی ہے۔ ووٹنگ کا یہ نتیجہ درست معلوم ہوتا ہے۔کیوں کہ باہم رضامندی کے بعد ایک صحیح جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔
8-3

میرے خیال میں ہر ایک کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوسکتا۔

اب ذرا اس مسئلہ کو قدرے تبدیل کر کے دیکھیں۔ فرض کیجیے کہ سگریٹ نہ پینے والا دمہ کا مریض ہے۔ سگریٹ کے دھویں سے اس پر دمہ کا جان لیوا دورہ پڑ سکتا ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ دوسرے مسافر سگریٹ نہ پیئں اس بات کی غمازی کرتا ہے۔ اس معاملہ سے اس کا بنیادی اور نہایت اہم مفاد وابستہ ہے۔ اس تناظر میں معاملہ کو سلجھانے کے لیے پہلے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا کیا وہ صحیح ہے؟ کیا آپ کے خیال میں عادی سگریٹ نوش کو ٹرین کے اپنے منزل مقصود تک پہنچنے تک سگریٹ پینے سے باز رہنا چاہیے؟ اب آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب معاملہ بنیادی مفادات کا ہو تو ووٹنگ یا رائے دہی کا جمہوری طریقہ کار نامناسب ہے۔ کیاایک فرد کو اپنے انتہائی اہم مفاد کے تحفظ کا ترجیحی حق حاصل ہے۔ کیاجو بات افراد کے لیے ضروری اور صحیح ہے وہی بات طبقات کے لیے بھی صحیح ہے اور کیا اقلیتوں کے انتہائی بنیادی مفادات کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اور ان کا دستوری قوانین کے ذریعہ تحفظ کیا جانا چاہیے۔ بالکل یہی چیز ہندوستان کے آئین میں درج ہے۔ اقلیت کے ان حقوق کو اس وقت تک درست اور صحیح قرار دیا جا سکتا ہے جب تک کہ یہ ان کے بنیادی مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
 اس مرحلہ پر کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق خصوصی مراعات کا درجہ کیوں رکھتے ہیں جو دوسروں کے مفادات کو نظرانداز کر کے بنائے گئے ہیں۔لہذا اس طرح کے خصوصی مراعات دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سوال کا مثبت جواب ایک دوسری مثال سے بہتر طور پر دیا جا سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ پہلی منزل پر بنے ایک آڈیٹوریم میں ایک فلم کی نمائش کی جا رہی ہے۔ آڈیٹوریم میں صرف سیڑھیوں کے ذریعہ پہنچا جا سکتا ہے۔ ہر کسی کو ٹکٹ خریدنے اور سیڑھیوں سے اوپر آڈیٹوریم میں جا کر فلم دیکھنے کی آزادی حاصل ہے۔ کیا واقعی ہر ایک شخص اس آزادی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ تصور کیجئے! دیرینہ شائقین میں کچھ ضعیف لوگ شامل ہیں اور کچھ ایسے ہیں جنکی ٹانگیں حال ہی میں ٹوٹی ہیں جب کہ کچھ لوگ جسمانی طور پر معذور ہیں ۔ ان میں سے کوئی سیڑھیاں چڑھنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیا آپ کے خیال میں ایسے لوگوں کے لیے لفٹ یا وہیل چیئر کی سہولت فراہم کرنا ایک غلط قدم ہوگا؟ اس طرح کی سہولت فراہم کرنے سے وہ لوگ بھی آڈیٹوریم میں پہنچ سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے سیڑھیوں کی مدد سے پہنچ سکتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ اقلیت میں ہیں اس لیے انہیں سیڑھیاں طے کرنے کے لیے ایک مختلف ذریعہ کی ضرورت ہے۔ اگر اس طرح کے مقامات پر پہنچنے کے لیے صرف نوجوانوں اور تندرست لوگوں کی ضروریات کا خیال کرتے ہوئے بنائے جائیں گے تو بعض طبقوں کے لوگ فلم دیکھنے جیسی چیزوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے خصوصی انتظام کرنے کے یہ معنی نہیں ہوئے کہ ان کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک کیا جا رہا ہے۔ جو رویہ سب کے ساتھ اختیار کیا جا رہا ہے وہی رویہ ان کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔ اس میں یہ سبق موجود ہے کہ اقلیت کے حقوق کوئی خصوصی مراعات نہیں ہیں اور انھیں اس نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

مداخلت پسند

Interventionist

چوتھی تنقید یہ ہے کہ سیکولرزم ایک استبدادی تصور ہے اور وہ مختلف طبقوں کی مذہبی آزادی میں بے جا مداخلت کرتا ہے۔ یہ ہندوستانی سیکولرزم کے بارے میں غلط تجزیہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم باہمی رضامندی سے علیحدگی کے خیال کو مسترد کرتا ہے چنانچہ وہ مذہب میں عد م مداخلت کے تصور کو بھی رد کرتا ہے۔ تاہم وہ بے جا دخل اندازی کی روش کو اختیار نہیں کرتا۔ بھارتی سیکولرزم ایک اصولی فاصلہ رکھنے کے فلسفہ پر عمل کرتا ہے جو مذہب میں مداخلت کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتا۔ علاوہ ازیں‘ دخل اندازی کے یہ معنی نہیں کہ وہ جبری مداخلت یا زور زبردستی پر مبنی ہو۔ 
بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم ریاست کو مذہبی اصلاح کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اس کو اوپر سے مسلّط کردہ اصلاحات کے زمرے میں میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا وہ اصلاح کا کام مستقل مزاجی سے انجام دے رہی ہے؟ تمام مذہبی فرقوں کے ذاتی قوانین (Personal Laws) میں اب تک کیوں اصلاح نہیں کی گئی ہے۔ یہ معاملہ ہندوستانی ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کی حالت فارسی کے اس مقولہ ’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘ کے مصداق ہے۔ ایک سیکولر شخص (سیکولرسٹ) پرسنل لا (شادی بیاہ اور دیگر عائلی و خاندانی معاملات کے متعلق مختلف مذاہب کے قوانین) کو فرقہ وارانہ نوعیت کے حقوق قرار دے سکتا ہے جن کو آئین نے تحفظ کی ـضمانت دی۔ یا وہ ان عائلی قوانین کو سیکولرزم کے بنیادی اصولوں کی توہین اس بنیاد پر قرار دیتا ہے کہ یہ قوانین خواتین کو برابری کا درجہ نہیں دیتے اس لیے انہیں منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عائلی قوانین یا پرسنل لاز کو دراصل بین مذہبی غلبہ سے آزادی یا اندرون مذہبی تسلط سے آزادی کے مظاہر ہیں۔ ان کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ 
اس طرح کے فکری نوعیت کے داخلی تضادات کسی بھی تہہ دار فلسفہ عمل کے جزو ہوتے ہیں لیکن یہ چیز ایسی نہیں کہ اس کے ساتھ ایسے ہی ہمیشہ رہا جائے۔ چنانچہ پرسنل لاز کی اس طرح اصلاح کی جانی چاہیے کہ ان سے اقلیت کے حقوق بھی محفوظ رہیں اور مرد اور عورت کے درمیان عدم مساوات بھی ختم ہو۔ مگر اس طرح کی تبدیلی ریاست یا گروہی جبر سے نہیں لائی جا سکتی ہے۔ نہ ہی ریاست اس معاملہ میں مکمل طور پر الگ تھلگ رہنے کی پالیسی اختیار کر سکتی ہے۔ ریاست اس سلسلہ میں ہر مذہب کے اندر موجود روشن خیال اور جمہوریت پسند افراد کے لیے سہولت کا فریضہ انجام دے سکتی ہے۔
8-4

ایک ریاست کس طرح تمام مذاہب کو مساویانہ اور برابر کا درجہ دے سکتی ہے؟ کیا ہر مذہب کے ماننے والوں کو سب کے برابر چھٹیاں دے کر ایسا کیا جا سکتا ہے؟ یا سرکاری تقریبات کے موقع پر کسی مذہبی رسم کی ادائیگی پر پابندی لگا کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے؟

ووٹ بینک کی سیاست 

Vote Bank Politics


پانچواں استدلال یہ ہے کہ سیکولرزم ووٹ بنک کی سیاست کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پرکیا گیا ہے مگر ہمیں اس معاملے کو پورے تناظر میںرکھ کر دیکھنا چاہیے۔ اول یہ کہ جمہوریت میں سیاستدانوں کو ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ان کے پیشہ کا ایک حصہ ہے۔جمہوری سیاست بڑی حد تک اسی کا نام ہے۔ ایک سیاستدان کو اس کے لیے موردالزام ٹھہرانا غلط ہے ۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ ووٹ کس بنیاد پر مانگ رہا ہے۔ کیا وہ اپنے ذاتی مفاد یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے یا وہ اس گروہ کی فلاح و بہبود کے لیے ووٹ مانگ رہا ہے جس سے وہ جڑا ہے۔ اگر اس گروپ یا گروہ کو اس سیاستداں سے کوئی فیض نہیں پہنچتا ہے جس کو انہوں نے اس کے وعدے کی بنیاد پر ووٹ دیا تھا تو اس صورت میں بلا شبہ اس سیاستداں کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اگر سیکولر سیاستدان جو اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتا ہے او ران کے وہ مطالبات پورے کرنے میں بھی کامیاب ہو تا ہے جو اقلیتیں چاہتی ہیں تو یہ دراصل سیکولرمنصوبہ کی کامیابی ہے۔ یہی سیکولرزم کے مقاصد ہیں جس میں اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ شامل ہے۔
 لیکن اگر زیر بحث گروپ کی فلاح دوسرے گروپوں کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز کرکے کی جائے تو کیا یہ صحیح ہوگا؟ اگر یہ سیکولر سیاستداں اکثریتی گروہ کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں تو کیا یہ درست ہوگا؟ تب تو اس سے نا انصافی کا ایک نیا دور وجود میں آئے گا۔ کیا آپ اس طرح کی مثالوں کا تصور کر سکتے ہیں، ایک دو نہیں بلکہ پورا گروہ اس طرح کی سوچ کا دعویٰ کرسکتا ہے کہ پورا نظام اقلیتوں کے حق میں جھکا ہوا ہے؟ مگر ذرا گہرائی سے غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہندوستان میں ایسا کچھ ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ اس طرح کی ووٹ بینک سیاست کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن یہ اس شکل میں غلط ہوتی جب انصاف کا موجب نہ بنے۔ یہ حقیقت ہے کہ سیکولر جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہیں‘ کوئی تشویش کی بات نہیں ۔ تمام سیاسی جماعتیں بعض سماجی گروہوں کے تئیں یہی رویہ اختیار کرتی ہیں۔

ناقابل عمل منصوبہ

Impossible Project


آخری اورسخت تنقیدیہ ہو سکتی ہے کہ سیکولرزم قابل عمل نہیں ہے کیوںکہ اسے ایک پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بہت زیادہ کاوش کی ضرورت پڑتی ہے۔آخر یہ مسئلہ کیا ہے؟ اگر لوگوں میں بہت زیادہ گہرے مذہبی اختلافات ہوں گے تو ان کا ایک ساتھ مل جل کر رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ لیکن عملاً ایک غلط دعویٰ ہے۔ ہندوستانی تہذیب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کثرت میں وحدت کا فلسفہ قابل عمل ہے۔ اس کے نمونے دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ملتے ہیں۔ عثمانیہ سلطنت کی ایک روشن مثال موجود ہے۔ تاہم اب ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ عدم مساوات اور ناہمواری کے حالات میں بقائے باہم کا وجود ممکن ہے۔ ہر ایک کو اس طرح کی درجہ بندی کے نظام میں رہنے کا حق مل سکتاہے۔ مگر لوگ یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ آج کی دنیا میں یہ قابل عمل اس لیے نہیں ہو سکتا کیوںکہ آج مساوات ہمارے کلچر کا ایک اہم اور غالب پہلو بن گیا ہے۔
اس تنقید کا جواب ایک دوسرے طریقہ سے دیا جا سکتا ہے۔ ناقابل عمل مقصد کو حاصل کرنے سے قطع نظر‘  ہندوستانی سیکولرزم مستقبل کی دنیا کے لیے ایک آئینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستانی میں جس عظیم تجربہ پر عمل ہو رہا ہے اسے پوری دنیا میں بڑی گہرائی اور بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ سابقہ نو آبادیاتی ملکوں کے لوگ مغرب کا رخ کر رہے ہیں نیز عالم کاری یا گلوبلائزیشن کے عمل میں تیزی آنے کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ یورپ اور امریکہ نیز مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں میں بھی ہندوستان کی طرح تہذیبی و مذہبی کثرت اور رنگا رنگی پیدا ہونے لگی ہیں جو آج ان کے معاشروں میں شامل ہو گئی ہیں۔ یہ معاشرے ہندوستانی تجربہ کے مستقبل میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں۔

ہندوستان میں سرکاری تعطیلات کی فہرست کا مطالعہ کریں۔ کیا یہ بھارت میں سیکولرزم کے دعویٰ کی ترجمانی کرتی ہیں؟ دلائل پیش کریں۔

شمار نمبر تعطیل کا نام تاریخ (2018عیسوی)

1 یوم جمہوریہ 26 ؍جنوری

2 مہاشوراتری 02؍فروری

3 ہولی 02؍مارچ

4 مہاویر جینتی 29؍مارچ

5 گڈ فرائی ڈے 30؍مارچ

6 بودھ پورنیما 30؍ اپریل

7 عیدالفطر 6 1؍جون

8 یوم آزادی 15؍ اگست

9 عیدالاضحی (بقرعید) 22؍اگست

10 جنم اشٹمی 03؍ستمبر

11 محرم 21؍ستمبر

12 مہاتماگاندھی جینتی 02؍اکتوبر

13 دسہرہ(وجے دشمی) 19؍اکتوبر

14 دیوالی(دیپاولی) 07؍ نومبر

15 میلاد النبی (محمدﷺکی یوم پیدائش) 21؍ نومبر

16 گرونانک جینتی 23؍نومبر

17 کرسمس ڈے 25؍ دسمبر


مشقیں 

(1) آپ کی رائے میں مندرجہ ذیل کون سے خیالات سیکولرزم سے مطابقت رکھتے ہیں؟ وجوہات پیش کیجیے۔
(a) ایک مذہبی گروہ کا دوسرے گروہ کے غلبہ کو ختم کرنا
(b) ریاستی مذہب کو منظور کرنا
(c) تمام مذاہب کی ریاست کی مساویانہ سرپرستی
(d) اسکولوں میں لازمی مناجات
(e) کسی اقلیتی فرقہ کوعلاحدہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دینا
(f) حکومت کے ذریعہ مندروں کی منتظمہ کمیٹیاں تشکیل دینا
(g) مندروں میں دلتوں کے داخلے کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کا مداخلت کرنا
(2) مغربی اور ہندوستانی سیکولرزم کے ماڈل کی چند خصوصیات ایک دوسرے میں خلط ملط ہو گئی ہیں۔ انھیں علیحدہ کرکے نیا جدول (ٹیبل) بنائیں:

ہندوستانی سیکولرزم  

ریاست کو مذہبی اصلاحات کی اجازت 

ایک ہی مذہب کے مختلف طبقوں کے درمیان مساوات پیدا کرنے پر زور  

فرقہ وارانہ بنیاد پر حقوق کی طرف کم توجہ  

فرد اور مذہبی گروہ، دونوں کے حقوق کا تحفظ   

مغربی سیکولرزم  

ایک دوسرے کے امور و معاملات میں مذہب اور ریاست دونوں کا مداخلت نہ کرنے کے اصول پر سختی سے کاربند رہنا  

مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مساوات پیدا کرنا اصل تشویش

اقلیتوں کے حقوق پر توجہ 

فرد اور اس کے حقوق کو مرکزی حیثیت  

(3) سیکولرزم سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟ کیا اسے مذہبی رواداری سے جوڑا جا سکتا ہے؟

(4) کیا آپ مندرجہ ذیل بیانات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں؟ مخالفت یا موافقت کے بارے میں اپنے دلائل پیش کریں؟
(a) سیکولرزم ہمیں اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا
(b) سیکولرزم ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے درمیان یا مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان عدم مساوات کا مخالف ہے۔
(c) سیکولرزم کا تصور مغرب سے آیا ۔ یہ ہندوستان کے لیے موزوں نہیں ہے۔

(5) ہندوستانی سیکولرزم صرف ریاست اور مذہب کو علیحدہ کرنے پر ہی زور نہیں دیتا بلکہ دوسری چیزوں پر بھی  توجہ دیتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔

(6) منضبط دوری کے تصور کی تشریح کیجیے۔