Skip to content
Keemiyan II

9-1

باب 9

امن

فسادات،دہشت گردوں کے حملے اور جنگوں کے بارے میں گرما گرم خبریں اور سنسنی خیز اخباری رپورٹیں ہمیں بار بار یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہم ایک پرآشوب دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ گرچہ حقیقی امن آج بھی ایک سراب بنا ہوا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح (لفظ) بذات خود بہت مقبول ہو گئی ہے۔فوج کے سربراہان ہوں یا سیاستداں،صحافی ہوں یا کہ صنعت کار ، معلم ہوں یا کہ مفکرین حـضرات ،سبھی کے زبان پر یہ لفظ فوراً آ جاتا ہے۔ نصابی کتابوں، دستوروں‘ منشوروں اور میثاقوں‘ غرض کہ ہر طرح کی دستاویزوں میں بھی اس کا ذکر بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے اور امن کے لیے فوراً ہمارے ہاتھ اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ شاید ہی کسی نے امن قائم کرنے کی خواہش پر کوئی اعتراض کیا ہو۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس تصور کے مفہوم کی مزید وضاحت اور تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر امر واقعہ اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ اس پر ہم آگے بات کریں گے۔آج امن کے تصور کے بارے میں جو اتفاق رائے نظر آتی ہے وہ نسبتاً ایک حالیہ رجحان ہے۔ کچھ برسوں سے امن کے مفہوم اور اس کی قدروقیمت کے بارے میں خاصے مختلف جائزے پیش کیے گئے ۔ امن کے داعیوں کو کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

امن سے حقیقتاً کیا مراد ہے اور آج کی دنیا میں وہ اتنا نازک کیوں ہے؟
◊ قیا م امن کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
◊  کیاقیا م امن کے لیے تشدد کا استعمال کیاجا سکتا ہے؟
◊  ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے اصل اسباب کیا ہیں؟
اس باب میں ہم انھیں سوالات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

9.1 تعارف

Introduction


9-2

امن آج جمہوریت، انصاف اور حقوق انسانی کی طرح ایک مقبول کلمہ بن چکا ہے۔ تاہم ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امن کے قیا م کی خواہش کے بارے میں یہ اتفاق رائے بظاہر نسبتاً ایک نئی بات ہے۔ ماضی کے متعدد مفکرین نے امن کے بارے میں کوئی مثبت اظہار خیال نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اس بابت منفی انداز اختیار کیاہے۔
 نویں صدی کے جرمن فلسفی فریڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche)  ان دانشوروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے جنگ کی عظمت اور بڑائی بیان کی ہے۔ نطشے امن کو کوئی اہمیت نہیں دیتے کیوںکہ ان کا خیال ہے کہ صرف جنگ و جدل ہی تہذیب و تمدن کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اسی طرح دوسرے مفکروں نے بھی امن کو قابل ملامت قرار دیا اور
جنگ وجدل کی تعریف کرتے ہوئے اسے انفرادی شجاعت و بہادری نیز سماجی قوت و حیات کا وسیلہ قرار دیا۔ اطالوی ماہر عمرانیات ولفرید پریتو  (Welfred Pareto 1848-1923) نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ جو لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے، وہی لوگ زیادہ تر معاشروں میں حکمراں طبقے کا حصہ بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس نے شیر مرد (lion) سے تعبیر کیا ہے۔
لیکن اس سے یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہیے کہ امن کے منشا کا کوئی حامی نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تقریباً تمام مذاہب کی تعلیمات میں امن ایک مرکزی اہمیت و حیثیت رکھتا ہے۔ دور جدید میں بھی خواہ وہ مذاہب و روحانیت کا میدان ہو یا سیکولرزم کا، دونوں جگہوں پر امن کے بڑے بڑے پیامبر موجودہیں۔ ان میں مہاتما گاندھی کو سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاہم عہد حاضر میں امن کا احساس ہمارے ذہنوں پر پوری طرح سے حاوی ہے۔ اس کے اسباب 20ویں صدی میں رونما ظلم و زیادتیوں کے واقعات میں تلاش کیے جا سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں انسان لقمہ ٔاجل بن گئے۔ آپ نے تاریخ کی نصابی کتابوں میں ان میں سے چند واقعات کے بارے میں ضرور پڑھا ہوگا۔ فسطائیت (فاشزم)،نازیت (نازژزم)کا رواج اور عالمی جنگیں وغیرہ۔ خود ہمارے وطن (خطہ) ہندوستان اور پاکستان میں ہم تقسیم کے دل دوز ہولناکیوں اور تباہیوں کے شکار رہے ہیں۔
مذکورہ بالا کئی آفتوں اور تباہیوں میں انتہائی جدیدٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا جس نے ناقابل بیان حد تک تباہی مچائی۔ پس دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے برطانیہ پر بموں کی بارش کردی اور اس کے جواب میں برطانیہ نے بھی جرمنی کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہزار بمبار طیارے بھیجے۔ یہ جنگ امریکہ کے ذریعہ جاپان کے شہروں، ہیرو شیما اور ناگاساکی پر جوہری (ایٹمی) بم گرانے کے بعد ختم ہوئی۔ ان جوہری حملوں میں کم سے کم ایک لاکھ بیس ہزار افراد آناً وفاناً ہلاک ہو گئے اور بعد ازاں بم کے تباہ کن اثرات سے بھی مزید بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے۔ ہلاک شدگان میں پنچانوے 95 فیصد تعداد عام معصوم شہریوں کی تھی۔

اسے کیجیے

ادتامورس کی لکھی ناول دی ،فلاورس آف ہیرو شیما، پڑھییے۔ اس بات کو نوٹ کیجیے کہ ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے کس طرح آج بھی وہاں کی آبادی پریشان ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی بالادستی کے لیے دونوں بڑی طاقتوں (سپر پاور) یعنی سرمایہ دار ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اشتراکی یونین آف سوشلسٹ سویت روس کے درمیان کئی دہائیوں تک زبردست کشمکش اور سرد جنگ چلتی رہی۔ چونکہ جوہری اسلحہ طاقت اور دبدبہ کی نئی علامت بن گیا تھا اس لیے دونوں ملکوں نے بڑے پیمانے پر جوہری اسلحہ کی تیاری اور ان کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔ اسلحہ کے دوڑ کے اس منظر نامہ کا سب سے تاریک پہلو (واقعہ) اکتوبر1962 میں رونما کیوبا کا میزائیل بحران تھا۔ یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکی جاسوسی طیاروں نے ہمسایہ ملک کیوبا میں سویت روس کے جوہری میزائیلوں کی تنصیب (موجودگی) کا پتہ لگالیا۔ جواباً امریکہ نے کیوبا کی بحری ناکہ بندی کردی اور سویت روس کو یہ دھمکی دی کہ اگر ان میزائیلوں کو نہیں ہٹایا گیا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اس دوبدو محاذآرائی کا خاتمہ اس وقت ہوا جب سویت روس نے یہ میزائیلیں وہاں سے 
ہٹا لیں۔یہ بحران دو ہفتہ تک جاری رہا جس نے ایک خطرناک حد تک دنیائے انسانیت کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیاتھا۔
9-3

 کسی پسماندہ ملک کا ہی معلوم ہوتا ہے۔ وہ روزگار’ تعلیم‘ صحت، مکان کے بارے میں بات کرتا ہے لیکن اس نے ایٹم بم کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا

الغرض آج اگر لوگ امن کے خواہاں و مداح ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ اسے درست خیال تصورکرتے ہیں۔ انسانیت نے امن کی قدر و قیمت جاننے کے لیے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان المناک جنگوں کا عفریت (سایہ) آج بھی ہمارا تعاقب کر رہا ہے۔ آج زندگی جتنی غیر محفوظ ہے اتنی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ کیوںکہ ہر جگہ لوگوں کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرناک حملے کا سامنا ہے۔ امن کی اہمیت و ضرورت ہمیشہ برقرار رہے گی اس کی جزوی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے خطرہ ہر وقت موجود ہے۔

 9.2 امن کا مفہوم

The Meaning Of Peace

 امن سے اکثرجنگ کا نہ ہونا مراد لیا جاتا ہے۔ یہ تعریف ہی ہے لیکن حقیقت پر مبنی نہیں۔ یہ گمراہ کن ہے عموماً جنگ دو ملکوں کے درمیان مسلح لڑائی سے تعبیر کی جاتی ہے۔ لیکن بوسنیا یا روانڈا جیسے ملکوں میں جو کچھ ہوا اسے روایتی طرز کی جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ بہر حال، اس نے امن کو غارت و برباد کردیا۔ ہر چند کہ ہر جنگ کا نتیجہ امن کے خاتمے کی شکل میں برآمد ہوتا ہے لیکن ہر مرتبہ امن کی عدم موجودگی کا باعث ضروری نہیں کہ جنگ ہی ہو۔
امن کا مفہوم متعین کرنے کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہر قسم کے پرتشدد جھگڑے اور لڑائیوں بشمول جنگ، فسادات، قتل عام،سیاسی قتل یا جسمانی حملے وغیرہ سے وہ محفوظ رہے۔ یہ تعریف پہلی تعریف کے مقابلہ میں بہتر اور بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود یہ ہمیں بہت دور منزل تک نہیں لے جاتی ہے۔ تشدد اکثر معاشرہ کی ہیئتی ساخت میں پنہاں ہوتا ہے۔ سماجی ادارے اور سماجی رسوم و رواج جو ذات پات، طبقات اور جنس کی بنیاد پر عدم مساوات اور امتیازات کو تقویت پہنچاتے ہیں،وہ بھی امن کو غیر محسوس و نادیدہ اور مخفی طریقوںسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر ستم رسیدہ اور مظلوم طبقات کی طرف سے مذہبی درجہ بندیوں کے نظاموں اور رواجوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو یہ بھی جھگڑے اور تشدد کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کا ہیئتی تشدد بڑے برے نتائج اور اثرات پیدا کرتا ہے۔ 
آئیے اس قسم کے تشدد کی کچھ ٹھوس مثالوں اور واقعات پر غور کریں جو ذات پات کی اونچ نیچ طبقاتی ناہمواری و عدم مساوات اور پدرسری نظام،نوآبادیات اور نسل پرستی و فرقہ پرستی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔

ہیئتی تشدد کی شکلیں

Forms Of Structural Voilence

ذات پات پر مبنی روایتی نظام میں بعض انسانی گروہوں کے ساتھ ’اسپرش‘ یا چھواچھوت کارویہ اختیار کیا گیا ہے۔ آزاد ہندوستان کے دستور میں اسے خلاف قانون اور ممنوع قرار دیے جانے تک ان طبقات کو بدترین قسم کی سماجی محرومی اور محکومی میں مبتلا رہنا پڑا ۔ آج بھی ملک اس ظالمانہ رسم کے نشانات اور باقیات کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گوکہ طبقات کی بنیاد پر سماجی نظام کی تشکیل زیادہ بہتر اور لچکدار نظر آتی ہے مگر یہ بھی بڑی حد تک ظلم و ستم ، عدم مساوات و ناہمواری پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں محنت کش طبقوں کی ایک بڑی تعداد صرف غیر مروجہ پیشوں اور کاموں سے وابستہ ہے جن میں اجرت اور کام کے حالات بڑے ہی خراب اور افسوسناک ہیں۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کمزور طبقہ کے لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے۔  
عدم مساوات و ناہمواری پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں محنت کش طبقوں کی ایک بڑی تعداد صرف غیر مروجہ پیشوں اور کاموں سے وابستہ ہے جن میں اجرت اور کام کے حالات بڑے ہی خراب اور افسوسناک ہیں۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کمزور طبقہ کے لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے۔  
پدری سری سماجی نظام میں مرد کو ہر طرح کی بالادستی و برتری حاصل ہو تی ہے جو منظم طریقے سے عورتوں کی حیثیت کم سے کم تر کرتا ہے، انھیں محکوم بناتا ہے اور ان کے ساتھ ہر معاملے میں امتیاز برتتا ہے۔ اس کے مظاہر اور مثالوں میں، رحم مادر میں لڑکیوں کو قتل کر دینا ( صرف بچیوںکو) لڑکیوں کو اچھی تعلیم اور اچھی غذا سے محروم رکھنا، کمسنی میں بچیوں کی شادی کردینا، شادی کے بعد بیوی کے ساتھ مار پیٹ کرنا،عصمت دری اور ناموس کی خاطر قتل کردینا وغیرہ شامل ہے۔ ہندوستان میں بچے-بچیوں(6-0 سال)کے جنسی تناسب کی شرح2011کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 1000 مردوں پر 919 عورتیں ہیں جو پدرسری نظام کی خرابیوں اور تباہ کاریوں کا افسوسناک اشاریہ ہے۔ 
استعماریت یا نوآبادیاتی نظام نے ایک طویل عرصہ تک لوگوں کو راست طور پر محکوم بنایا۔ جس کی اب شاید ہی کوئی مثال نہیں ہے۔ لیکن اسرئیلی تسلط کے خلاف فلسطینی عوام کی موجودہ جدوجہد آزادی یہ بتاتی ہے کہ استعماریت کا ابھی تک مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ علاوہ ازیں نوآبادیاتی دور میں جو ممالک و اقوام یورپ کی استعماری طاقتوں اور ملکوں کے زیر نگیں رہیں وہ ابھی تک ان سامراجی قوتوں کے ہمہ جہت استحصال کے اثرات سے آج بھی پوری طرح سے ابھر نہیں سکے ہیں۔
 نسل پرستی اور فرقہ پرستی بھی ایک پورے نسلی گروہ کو ظلم و جبر کا نشانہ بنانے اور اس کی رسوائی اوربدنامی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ یہ نظریہ کہ بنی نوع انسان کو نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے سائنس نے اسے باطل اور غلط ثابت کر دیا ہے اور اس نظریہ کو کئی ملکوں میں رائج ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا گیا، جیسے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 1865 تک سیاہ فام نیگرو لوگوں کو غلام بنانے،ہٹلرکے ذریعے یہودیوں کا جرمنی میں قتل عام،رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیازانہ سلوک کرنے (اس پالیسی پر جنوبی افریقہ کی سفید فام حکومت نے 1992 تک عمل کیا جس نے ملک کی سیاہ فام اکثریت کو عملاً دوسرے درجے کا شہری بنا دیا تھا)کے لیے اس کا استعمال کیا گیا۔ مغربی ملکوں میں آج بھی نسلی امتیازات مخفی انداز میں رائج ہیں اور اکثر اس کا نشانہ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے تارکین وطن بنتے ہیں۔ فرقہ پرستی کو جنوبی ایشیا میں نسل پرستی کا مماثل سمجھا جاتا ہے جس کا اکثر نشانہ مذہبی اقلیتی گروہوں کو بننا پڑتا ہے۔

اس پر غور کیجیے

مندرجہ ذیل میں آپ کن نظریات سے اتفاق کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟

c تمام برائیاں ذہن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔’’اگر ذہن صاف ہوگا تو کیا برائیوں کا گزر ہوگا؟‘‘ 

گوتم بدھ            

میں تشدد کی اس وجہ سے مخالفت کرتا ہوں کہ جب اس کے ذریعہ نیکی اور اچھائی قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ نیکی محض عارضی ہوتی ہے۔ لیکن اس سے جو برائی اور خرابی پیدا ہوتی ہے وہ دائمی شکل اختیار کرلیتی ہے۔                                                                              گاندھی جی

       ◊ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی آنکھیں ہمیشہ دشمنی کے تلاش میں رہتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔وہ امن سے لگاو رکھیں گے جو عنقریب ان کے نزدیک جنگوں کا پیش خیمہ ہوگا۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ عارضی امن سے زیادہ طویل ہوگا۔ میں آپ کو عارضی امن کے بجائے مکمل فتح حاصل کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ آپ کو جنگ کرنا چاہیے اور امن جنگ کا نتیجہ ہونا چاہیے۔                          فریڈرک نطشے

 تشدد کے شکار افراد جو نفسیاتی طور پر مجروح احساس میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اکثر ان رنجشوں اوربغض کو نسل درنسل منتقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات وہ معمولی واقعہ یااس پرتبصرے سے بھی مشتعل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تشدد اور محاذ آرائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیامیں ہمیں اس طرح کی کئی مثالیں مل جائیں گی جہاں مختلف فرقے ایک دوسرے کے تئیں ایک طویل عرصہ سے رنجش اور کدورتیں رکھتے ہیں۔ یہ کدورتیں دراصل 1947 میں برطانوی ہندوستانی تقسیم کے سانحہ کے نتیجے میں برپا تشدد کے سبب پیدا ہوئی ہیں۔
ایک منصفانہ اور دائمی امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب ہم بات چیت اور مذاکرات کے عمل کے ذریعہ تنازعوں اور جھگڑوں کے اسباب اور مخفی اور دبی ہوئی کدورتوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے جو کوششیں کی جارہی ہیں۔اس میں تمام شعبہ ہائے حیات کے لوگوں کے درمیان عوامی رابطہ اور تعلقات بڑھانے کے عمل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
9-4

دہشت گردی کے پیدا ہونے کے اسباب

تشدد کا خاتمہ کرنا

Eliminating Voilence

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ یونیسکو (UNESCO)کے آئین میں بالکل صحیح صحیح بیان کر دیا گیا ہے ’’چونکہ جنگوں کی ابتدا لوگوں کے دماغوں سے ہوتی ہے، اس لیے امن کے منصوبے بھی لوگوں کے دماغوں میں بننے چاہئیں‘‘ صدیوں پرانے روحانی و مذہبی نظریات و اصول (جیسے صلہ رحمی، انسانی ہمدردی) اور رواج (جیسے دھیان،مراقبہ) کا اصل مقصد اس طرح کی کوشش کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ مجروح جذبات و احساسات کو مندمل کرنے کے لیے جدید (ماڈرن) تکنیکوں اور تھراپیوں (علاج) جیسے تحلیل نفسی وغیرہ سے یہی کام لیا جا تا ہے۔

یہ کیجیے

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے چند شخصیات کی فہرست بنائیے۔ اور ان میں سے کسی ایک شخصیت پر نوٹ لکھیے۔

 بہر حال، ہم نے یہ بات نوٹ کی کہ تشدد محض کسی ایک فرد کے ذہن سے شروع نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کی جڑیں بعض سماجی ڈھانچوں میں پنہاں ہیں۔ اس ہیئتی تشدد کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرہ قائم کرنے کی سعی کی جائے۔ امن جیسا کہ مطمئن اور خوش و خرم لوگوں کے درمیان خوشگوار بقائے باہم کا نام ہے،ایسے ہی معاشرے کی پیداوارہے۔ اسے دائمی طور پر کبھی قائم یا حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف ریاست کا منتہائے مقصود نہیں بلکہ ایک وسیع تر معنیٰ میں ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے اخلاقی اور مادی وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

آئیے غور کریں

کمبوڈیا کا کھمیر روگ حکمراں ٹولہ خصوصی طور پر انقلابی تشدد کے اُلٹے تباہ کن نتائج کی ایک ہولناک مثال ہے۔ یہ حکومت پال پاٹ کی قیادت میں بغاوت کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی جو مظلوم کسان طبقہ کو نجات دلانے کے لیے کمیونسٹ نظام قائم کرنے کی خواہاں تھی۔ 1975-79 کے عرصہ کے دوران میں اس نے تشدد و دہشت کا وہ ماحول برپا کیا تھا جس میں تقریباً 17لاکھ افراد لقمہ اجل بنے (جو ملک کی مجموعی آبادی کا 21 فیصد ہے) یہ گزشتہ صدی کے المناک ترین سانحات (واقعات) میں سے ایک ہے۔

بظاہر جائز اور مطلوبہ مقاصد کے حصول کی خاطر انقلابی اور انتہا پسندتحریکوں کی طرف سے تشدد کے منظم استعمال سے ہمیشہ اس طرح کے سنسنی خیز اور افسوسناک نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم اس پر عمل آوری کے دوران میںاکثر اس نے ادارہ جاتی (حکومتی پالیسی) شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ وہ اس سیاسی نظام کا ایک اٹوٹ حصہ بن گئی۔ اس کی ایک مثال بر اعظم افریقہ کے ملک الجزائر کی نیشنل لبریشن مومنٹ(F.L.N.) ہے جس نے الجزائر کی آزادی کے لیے تشدد کے ذرائع کا استعمال کیا۔ گو اس نے 1962 میں ملک کو فرانسیسی استعماریت سے نجات دلائی لیکن جلد ہیF.L.N. نے مطلق العنان حکومت کی شکل اختیار کرلی اور اس نے اسلامی بنیاد پرستی کی شکل میں انتقامی و جوابی تشدد کو ہوا دینا شروع کردیا۔

9.3 کیا تشدد کبھی امن کو فروغ دے سکتا ہے

?Can Voilence Everpromote Peace

اکثراس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ تشدد جو ایک لعنت ہے،کا سہارا لینا بعض اوقات امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ اس بارے میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ عوام کو ظالم اور جابر حکمراں یا حکومت کو ظلم سے بچانے کے لیے اسے زبردستی اور طاقت کے زور پر ہٹا دینا چاہیے۔ یا مظلوم اقوام کی آزادی کی تحریکوں کو تشدد کا سہارا لینے کے باوجود بھی صحیح ٹھہرایا جاتا ہے۔ بہر حال تشدد کا استعمال کرنا، چاہے یہ کتنا بھی نیک خیال کیوں نہ ہو،یہ شکست خوردگی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اگر اس کا ایک مرتبہ استعمال کردیا جائے تو یہ قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ جو اپنے پیچھے تباہی و بربادی اور قتل و غارت گری کا ایک سلسلہ چھوڑ جاتا ہے۔

9-5

امن کو قائم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ تشدد کے لیے ذمہ دار ہیں، انھیں سزا دی جائے۔

نہیں مُنّی، تشدد کا مقابلہ تشدد سے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم صرف پرامن ذرائع

 ہی سے دائمی امن قائم کر سکتے ہیں۔

آہا! اب آپ امن کے حامی کی طرح بات کررہے ہیں،کیا مجھے بتائیں گے کہ آپ اپنے چھوٹے بھائیوں سے معاملہ کرتے وقت اسی طرح کے پرامن ذرائع کا استعمال کرتے ہیں؟ یا ان کے ساتھ مارنے پیٹنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں؟

عدم تشدد کے بارے میں گاندھی جی کے خیالات

آپ نے یہ مقولہ سنا ہوگا کہ’’ مجبوری کا نام مہاتما گاندھی‘‘ عدم تشدد کو بے بسی اور لاچاری سے موسوم کرنے اور عدم تشدد کو گاندھی جی سے منسوب کرنے کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے ایسا کہنا شروع کر دیا۔ اس کے ہلکے پھلکے ریمارک میں جو بات پنہاں ہے وہ یہ ہے کہ عدم تشدد دراصل کمزور لوگوں کا طریقہ ہے یہ خیال بہت عام ہے۔ گاندھی جی نے عدم تشدد کے بارے میں اس خیال کی تردید کی اور عدم تشدد کا بالکل مختلف فلسفہ بیان کیا۔ ہم عموماً یہ خیال کرتے ہیں کہ عدم تشدد سے مراد کسی کو نقصان یا ضرر نہیں پہنچانا ہے۔ گاندھی جی نے اس کے مفہوم کو دو بنیادی طریقے سے تبدیل کیا۔ ان کے نزدیک عدم تشدد کے معنیٰ صرف یہ نہیں کہ کسی کو جسمانی ضرر پہنچانے سے یا ذہنی کوفت یا روزگار سے محروم کرنے سے باز رکھا جائے۔ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال بھی دل میں نہ لایا جائے۔ ان کے مطابق ’بروئے کار، کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خود کو نقصان پہنچے۔ بقول ان کے ’’میں تشدد کا گنہ گار ہوں اگر میں نے کسی کو نقصان پہنچانے میں مدد کی یا کسی کے نقصان دہ عمل سے فائدہ اٹھایا۔ ‘‘ اس اعتبار سے گاندھی جی کا تشدد کے بارے میں نظریہ ہیئتی تشدد سے قریب ہے۔ 

گاندھی جی نے عدم تشدد کے مفہوم میں جو دوسری بڑی تبدیلی کی وہ ہے عدم تشدد کے نظریہ کو مثبت مفہوم عطا کرنا۔ صرف نقصان پہنچانے سے باز رہنا ہی کافی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا جذبہ ہونا بھی ضروری ہے۔ گاندھی جی مجہول و انفعالی روحانیت کے مخالف تھے۔ ان کے نزدیک عدم تشدد کے معنی ایک مثبت فکر اور نیکی و بھلائی کے لیے سرگرم اورمتحرک ہونا تھا۔ اس لیے جو لوگ عدم تشدد کے فلسفہ پر کاربند ہیں انھیں انتہائی زبردست اشتعال انگیزی کے باوجود جسمانی اور دماغی تحمل سے کام لینا چاہیے۔ (یا صبر و برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہیے) عدم تشدد ایک انتہائی متحرک قوت ہے جس میں بزدلی یا کمزوری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ در حقیقت گاندھی جی اس معاملہ میں اس حد تک آگے گئے ہیں کہ اگر عدم تشدد خود کے دفاع کے لیے ناکافی ثابت ہو ا تو عدم تشدد کے نام پر غیر متحرک اور خاموش ہو جانے کے بجائے اس کے لیے تشدد کا سہارا لینا بہتر ہوگا۔ کچھ گاندھیائی افراد کہتے ہیں کہ آغاز میں جس مقولہ کا تذکرہ کیا گیا ہے اسے گاندھی گری کے انداز میں تبدیل کرکے یہ کہنا چاہیے ’’مضبوطی کا نام مہاتما گاندھی‘‘

اس پر بحث کریں:

کیا آپ کے خیال میں بعض اوقات تشدد کا سہارا لینا ضروری ہو جاتا ہے؟

بالآخر جرمنی کی نازی حکومت کو بھی بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے ہی اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ مخالف اور عدم تشدد کے حامی حضرات، جو امن کو ایک بیش قیمت شئے قرار دیتے ہیں، تشدد کے خلاف یہ اخلاقی موقف اختیار کرتے ہیں کہ مقاصد چاہے کتنے بھی جائز اور درست کیوں نہ ہوں اس کو حاصل کرنے کے لیے تشدد کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ عدم تشدد کے حامی حضرات بھی ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبت اور سچائی کے ذریعہ ظالموں کے دل و دماغ جیتے جا سکتے ہیں۔
اس کا مقصود عدم تشدد کی شکل میں مزاحمت کی اہمیت کو کم کرنا نہیں ہے بلکہ انتہا پسندی کے موثر و کارگر ہونے کو کم کرنا ہے۔ سول نافرمانی تحریک اس طرح کی جدوجہد کا ایک بڑا اور موثر طریقہ ہے اور اسے ظلم و جبر کے ڈھانچے (ہاتھوں) کو کمزور کرنے کے لیے بڑے ہی کامیاب اور موثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ اس کی نمایاں مثال گاندھی کے ذریعہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران ستیہ گرہ ہے۔ گاندھی نے انصاف کے حصول کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا اور انگریزحکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ اگراس سے بھی کوئی اثر نہیں پڑا تو انہوں نے ان پر اخلاقی اور سیاسی دبائو ڈالنے کے لیے بڑے پیمانے پر عدم تشددپر مبنی عوامی تحریک چھیڑ دی تاکہ غیر منصفانہ قوانین کو انگریزی حکمرانوں کو واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے۔ امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ نے بھی اسی سے متاثر ہو کر چھٹی دہائی میں سیاہ فام قوم کے تئیں نسلی امتیاز کے رویہ کے خلاف تحریک چلائی۔

بین الاقوامی سطح پر اپنے اہداف و مقاصد بالخصوص علاقہ یا قدرتی وسائل پر تصرف حاصل کرنے کے لیے کئی ریاستوں کی طرف سے پرتشدد ذرائع کو بروئے کار لانے کے نتیجے میں یہ افسوسناک صورت حال پیدا ہوتی ہے۔اس محاذآرائی کا نتیجہ ایک مکمل جنگ کی صورت میں بر آمد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ 1990میں عراق نے اپنے چھوٹے لیکن تیل کی دولت سے مالامال ہمسایہ ملک کویت پر حملہ کیا۔ عراق نے قبضہ کو جائز ٹھہراتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ کویت اسی کا ایک صوبہ ہے جسے استعماری طاقتوں نے من مانے طریقے سے اس سے الگ کر دیا تھا اور کویت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس کے تیل کے کنووں سے تیل نکال رہا ہے۔ بہر حال کویت کو امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے اس قبضے سے آزاد کرایا۔ عالمی نظام میں ایک مؤثر عالمی حکومت کے فقدان کے باعث اس طرح کے جھگڑے اور تنازعوں کے پیدا ہونے کے امکانات بہر حال موجود رہتے ہیں۔ اس طرح کے تنازعات کو مفاد عامہ کے عناصر جیسے اسلحہ سازی کی صنعت، ہوا دیتے ہیں کیونکہ جنگ ان کے لیے ایک منفعت بخش کاروبار ہے۔

9.4 امن اور ریاست

Peace And The State

اکثر یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ دنیا کی خود مختار اور آزادریاستوں میں تقسیم ہی دراصل امن کے قیام میں رکاوٹ ہے کیوںکہ ہر ریاست خود کو ایک آزاد اور برتر ہستی تصور کرتی ہے اور اپنے مفروضہ ذاتی مفاد کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ ریاستیں عموماً لوگوں کے درمیان تفریق پیدا کرتی ہیں ۔ حالاںکہ ہمیں امن کے قیام کے لیے خود کو ایک وسیع تر انسانی خاندان کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ ریاستیں عوام کے مفادات کو حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے میں کوئی تردد نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ آج دنیا کی ہر ریاست (ملک) نے جبر و طاقت کے تمام کارپردازوں اور وسائل کو مستحکم و مضبوط کرلیا ہے۔ بہر حال ریاست سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت،فوج یا پولس کا استعمال اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کرے گی ۔ مگر ریاستیں عملاً ان طاقتوں کا استعمال اپنے ہی ان شہریوں کے خلاف کیا کرتی ہیں جو ریاست سے انحراف یا اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ امر فوجی حکمرانوں یا مطلق العنان حکومتوں میں صاف نظر آتاہے اور اس کی ایک مثال مینمار (برما ) ہے جہاں فوجی آمریت ہے۔ اس طرح کے مسائل کا دیرپا حل یہی ہے کہ ریاست کو مزید جواب دہ بنانے کے لیے اسے ایک بامعنی جمہوریہ بنایا جائے اور اس کے اختیارات پر قدغن لگانے کے لیے شہری آزادیوں کا ایک موثر نظام بنایا جائے۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیازات کے خاتمے کے بعد وہاں کی حکومت نے ایسے ہی طریقہ کار پر عمل کیا ہے جو حالیہ برسوں میں سیاسی کامیابی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پس ، جمہوریت اور حقوق انسانی کی جدوجہد کا قریبی تعلق امن کے تحفظ سے ہے۔

یہ کیجیے

گاندھی جی کے جنوبی افریقہ،چمپارن،ڈانڈی مارچ، نمک ستیہ گرہ وغیرہ تحریکوں کے مختلف طریقوں کو یکجا کیجیے۔اگرہوسکے تو گری راج کشور کی کتاب ’پہلاگِرمٹیا‘ کا مطالعہ کیجیے۔

مارٹن لوتھر کنگ کی شہری حقوق کی تحریک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔ گاندھی جی نے انھیں کس طرح متاثر کیا؟

9.5 قیام امن کے لیے مختلف طریقے 

Different Approaches To The Pursuit Of Peace

امن قائم رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اور طریقے بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ ان میں تین طریقہ کار اپنی جدا جدا حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے رویہ میں ریاستوں کی مرکزی حیثیت، ان کی خود مختاری ، آزادی کا احترام اور ان کے درمیان مسابقت کو زندگی کی حقیقت تسلیم کرنا شامل ہیں۔ اس طریقۂ کار میں مسابقت کے جذبہ کو صحت مند بنانے کے لیے ایک معقول نظام وضع کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جس میں بین ریاستی (ملکی) سمجھوتوں اور انتظامات جیسے طاقت کا توازن وغیرہ کے ذریعہ لڑائی اور جھگڑوں کے امکانات کو کم کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ19 ویں صدی میں یورپ کے بڑے ملکوں کے درمیان اس نوع کا طاقت کا توازن پایا جاتارہا ہے، جنھوں نے طاقتور بننے کے لیے باہمی اتحاد پیدا کیا جس کے نتیجے میں جارحانہ طاقتوں کو ان پر حملے کرنے کی ہمت نہیں ہوئی اور اس نے بڑے پیمانے پر جنگ پھوٹنے کو بھی روکے رکھا۔
دوسرا طریقہ ریاستوں کے مابین سخت مقابلہ آرائی کو تسلیم کرنا ہے یہ امر مثبت اور ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے امکانات کی ضرورت پرزور دیتا ہے۔ملکوں اور اقوام کے درمیان بڑھتے ہوئے سماجی اور اقتصادی تعلقات اوراشتراک اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس طرح کے مشترک تعاون سے ریاستیں اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں اور اس سے بین الاقوامی سطح پر افہام و تفہیم کو فروغ ملا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تنازعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور امن کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کے حامی دوسری جنگ عظیم کے بعد کے یورپ کی مثال بار بار پیش کرتے ہیں جس نے اقتصادی تعلقات و اشتراک کے فروغ کے ذریعہ بتدریج سیاسی ارتباط پیدا کیا اور اس کے باعث آج وہاں پائیدار امن قائم ہے۔ 

امن پسندی کا نظریہ

امن پسندی کا نظریہ تنازعات کے حل میں جنگ یا تشدد کے ذرائع کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے سلسلہ میں سفارت کاری کو ترجیح دینے سے لے کرتشدد کے استعمال کا سخت اور کلی طور پر مخالف ہے حتیٰ کہ کسی بھی حالت میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کے کئی نقطہ ہائے نظر کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ امن پسندی کا نظریہ اصول پسندی یا حقیقت پسندی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ اصولی امن پسندی کا نظریہ اس عقیدہ کا حامل ہے کہ جنگ، مہلک اسلحہ کا دانستہ استعمال‘ تشدد یا کسی بھی شکل میں زبردستی اور جبر کرنا اخلاقی طور پر غلط بات ہے۔ تاہم حقیقت پر مبنی امن پسندی کا نظریہ اس طرح کے اصولوں کی سختی سے پابندی نہیں کرتا لیکن وہ خیال کرتا ہے کہ تنازعات کے تصفیہ کے لیے جنگ سے زیادہ بہتر طریقے موجود ہیں یا وہ اس امر کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے کہ جنگ سے ہونے والے فائدوں کو اس کے لیے ادا کی گئی قیمت سے تولا جائے۔ جو لوگ جنگ کے مخالف ہوتے ہیں انھیں غیر رسمی اصطلاح میں امن پسند یا امن کا فاختہ یا پیامبر کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح دراصل فاختہ پرندہ کی متحمل ، حلیم فطرت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امن پسند ہونے سے یہ مراد نہیں لینا چاہیے کہ وہ جنگ کا کلی طور پر مخالف ہے کیوںکہ ان کے نزدیک بھی بعض حالات میں جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ لفظ فاختہ یا امن پسند کا متضاد لفظ جنگ کا حامی ہے۔ جنگ کا نقّارچی ہے (انگریزی میں اس کے لیے ہاک (Hawk) کی اصطلاح رائج ہے جو شاہین پرندہ کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس پرندہ کی فطرت سے یہ اصطلاح وضع کی گئی ہے) ۔ کچھ امن پسند حضرات، جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے وہ لوگوں کے خلاف یا جائداد و املاک کی بربادی میں طاقت کا استعمال کرنے کے مخالف نہیں ہیں۔ فوجی غلبہ کے مخالفین خصوصی طور پر جدید قومی ریاستوں کی فوجی اداروں سے وابستگی کے سخت خلاف ہیں لیکن وہ اس کے مقابلے میں تشدد کو برداشت کرنے کے قائل ہیں۔ جب کہ دوسرے امن پسند سختی سے عدم تشدد کے اصولوں پر کاربند ہیں اور وہ صرف عدم تشدد پر مبنی کارروائی کو صحیح سمجھتے ہیں۔ 

Wikipedia سے اخذ کیا گیا ۔ دی فری انسائیکلوپیڈیاwww.http>//en.wikipedia.org/wiki/.

مذکورہ دونوں طریقہ کار کے بر خلاف تیسرا طریقہ ریاست کے نظام کو انسانی تاریخ کا ایک گزرتا ہوا موڑ قرار دیتا ہے۔ وہ ایک وسیع و عریض قومی نظام کا تصور کرتا ہے اور عالمی برادری کی تشکیل کو قیام امن کی حتمی ضمانت قرار دیتا ہے۔ اس طرح کی عالمی برادری کے مظاہر پوری دنیا میں مختلف ملکوں کے مابین بڑھتے ہوئے میل جول، تعلقات و روابط، اتحاد و یکجہتی ، مراسل و ترسیل اور مختلف غیر سرکاری ادارے جیسے کثیر قومی صنعتی ادارے اور کمپنیوں اور عوامی تحریک کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس نظریہ کے مؤیدین کہتے ہیں کہ عالم گیریت کا عمل ریاست کی خود مختاری اور حیثیت کو بہت تیزی سے ختم کر رہا ہے چنانچہ اس کے نتیجہ میں عالمی امن کے قیام کے لیے سازگار حالات پیدا ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان تینوں طریقوں کے اجزا اور عناصر کی عملی شکل ہے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل جو پانچ طاقتور ریاستوں کی مستقل رکنیت اور ویٹو کا حق (حق استرداد یعنی کسی تجویز کو مسترد کرنے یا منوا لینے کا حق رکھتی ہے، اگر دیگر ارکان تائیدکریں یا نہ کریں) بین الاقوامی درجہ بندی کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی اور سماجی کونسل مختلف میدانوں میں ریاستوں کے درمیان تعاون و اشتراک کو فروغ دیتی ہے اور ہیومن رائٹس کمیشن بین قومی نوعیت کے اصول وضع کرتا ہے اور ان کے نفاذ کی کوشش کرتا ہے۔

9.6 عہد حاضر کے چیلنجز

Contemporay Challenges

گو کہ اقوام متحدہ (UNO)نے کئی قابل ذکر کارنامے اور خدمات انجام دی ہیں لیکن وہ امن کے لیے خطرات کے تدارک میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ درحقیقت طاقتور ریاستیں اپنے تصورات و ترجیحات کے مطابق عالمی نظام کی تشکیل پر مصر ہیں اور وہ علاقائی طاقتوں کے نظام کو بھی اپنی مرضی کے مطابق بنانا چاہتی ہیں حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی ملکوں میں راست فوجی مداخلت بھی کی ہے اور ان پر قبضہ بھی کیا ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ کی حالیہ جارحانہ مداخلت اس طرز عمل کی واضح اور روشن مثال ہے۔ اس فوجی مداخلت کے نتیجے میں بے شمار انسانی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں۔
دہشت گردی میں اضافے کی ایک جزوی وجہ جارحانہ ریاستوں کا سطحی طرز عمل اور ان کی خود غرضانہ پالیسیاں ہیں۔ دہشت گردوں سے آج امن کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے جو جدید ہتھیاروں کا استعمال بڑی مہارت، بیدردی اور عمومی طور پرنئے ٹیکنالوجی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ 11 ستمبر2001 کوورلڈ ٹریڈ سنٹر، نیو یارک، امریکہ پر دہشت گردانہ حملہ (جس میں پوری عمارت منہدم ہوگئی) اس منحوس حقیقت کی ایک خوفناک مثال ہے۔ ان قوتوں کی طرف سے حیاتیاتی،کیمیائی، جوہری جیسے خطرناک تباہی پھیلانے والے اسلحوںک ے استعمال کا شدید خطرہ ہے۔
عالمی برادری دہشت گردوں کی چھاپہ مار کارروائیوں اور بڑی طاقتوں کی لوٹ مار کو بند کرانے میں ناکام ہے ۔وہ اکثر نسل کشی کے واقعات میں خاموش تماشائی بنی رہتی ہے جس میں ایک نسلی گروہ کے تمام لوگوں کو بڑے منظم انداز میں قتل کیا جاتا ہے۔ یہ بات خصوصی طور پر بر اعظم افریقہ کے ملک روانڈا، میں رونما نسل کشی کے واقعہ کے وقت دیکھنے میں آئی۔جہاں 1996 میں ہوتو قبیلہ کے لوگوں نے تتسی قبیلہ کے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ قتل عام کا واقعہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس بارے میں خفیہ اطلاعات مل گئی تھیں۔ بعد ازاں عالمی ذرائع ابلاغ نے نسل کشی کے اس واقعہ کو منظر عام پر لایا لیکن عالمی برادری نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی کوئی مداخلت کی۔ اقوام متحدہ نے روانڈا میں قتل عام کو روکنے کے لیے امن فوج روانہ کرنے سے انکار کردیا۔
ان سب کے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ امن ایک گم شدہ مقصد ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی ملکوں‘ جیسے جاپان اور کوسٹاریکا نے فوج نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جوہری اسلحہ سے پاک خطوں کا وجود عمل میں آیا۔ جہاں جوہری اسلحہ کی تیاری یا ان کے استعمال پر بین لاقوامی طور پر تسلیم شدہ میثاق کے ذریعہ پابندی لگائی گئی۔ سردست اس طرح کے چھ خطے ہیں جہاں ان پر عمل ہو رہا ہے یا وہ اس سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ان میں انٹارئیکا کا علاقہ،لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ، سائوتھ پسفک اور منگولیا شامل ہیں۔ بہر حال 1991 میں سویت روس کے انتشار سے سپر پاور امریکہ اور روس کے درمیان جوہری محاذ آرائی کا دور ختم ہوا اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ختم ہوگیا ہے ۔

یہ کیجیے

مختلف علامتوں کی مدد سے امن کا ایک ایوراڈ ڈیژائن کیجیے۔ آپ کے خیال میں کونسی علامت یا علامتیں امن کے بارے میں آپ کی سمجھ کو زیادہ بہتر طور پر ظاہر کرتی ہیں۔ آپ یہ ایوارڈ کسے دینا پسند کریں گے اور کن بنیادوں پر اس کا انتخاب کریں گے۔

مزید بر آں یہ کہ عہد حاضر میں امن کے قیام کے لیے عوامی سطح پر کاوشیں ہو رہی ہیں اوربے شمار تنظیمیں اور تحریکیں وجود میں آئی ہیں۔ ان تنظیموں کو اجتماعی طور پر امن کی تحریک کہا جاتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ سے مچی تباہی نے اس جدو جہد کو تحریک کی شکل دی۔ اس کے بعد سے اس تحریک نے بہت قوت حاصل کی۔ آج اس کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

اس پربحث کیجیے

آج دنیا میں نیوکلیا ئی یا جوہری اسلحہ کی موجودگی جنگ کو روکنے کا موجب بن رہی ہے۔


اس تحریک کو مختلف شعبہ ہائے حیات کے لوگوں نے تقویت پہنچائی ہے۔ ان میں مدبر و مفکر، مذہبی رہنما، صحافی، قلم کار،اساتذہ، کارکن غرض کہ ہر شعبہ کے افراد شامل ہیں۔ اس تحریک نے دیگر تحریکوں اور جدوجہد جیسے عورتوں کو با اختیار بنانے اور ماحولیات کے تحفظ وغیرہ سے تعلق قائم کرکے اپنا دائرہ وسیع کیا جو دونوں کے مفاد میں ہے۔ اس تحریک نے امن کے مطالعے کے لیے ایک اہم تحریری موادچھوڑا ہے جسے مطالعات امن کہا جاتا ہے اور اپنے نظریات کی ترویج اور ترسیل کے لیے جدید ذرائع جیسے انٹرنیٹ وغیرہ کا موثر استعمال کیا ہے۔
اس باب میں ہم نے امن کے مختلف زاویوں کااختصار سے جائزہ لیا ان میں اس کا مفہوم ،اسے درپیش علمی اور عملی چیلنجز اور اس کے امکانات بھی شامل ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ امن قائم کرنے کے لیے مستقل سعی کی ضرورت ہے۔ جن کے تحت خوش گوار سماجی تعلیمات پیدا کرنا اورا نھیں برقرار رکھنا ہے تاکہ انسان کی فلاح و بہتری کے لیے سازگار ماحول تیارہوسکے۔
امن کے قیام کی راہ میں کئی رکاوٹیں جیسے ناانصافی سے لے کر استعماریت تک آسکتی ہیں۔ لیکن ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تشدد کا بے دریغ استعمال کرنا غیر اخلاقی اور انتہائی خطرناک امر ہے۔ آج کے دور میں جہاں نسل کشی،دہشت گردی اور مکمل جنگ نے عام شہریوں اورجنگ جووں کے درمیان خطِ امتیاز مٹا دیا ہے۔ امن کے لیے جدوجہد کرتے وقت ہمیں سیاسی عمل کے مقاصد اور ذرائع دونوں کو بتانا چاہیے۔


مشقیں


(1) کیا آپ کے خیال میں ایک پرامن دنیا کے قیام کے لیے لوگوں کے سوچنے کے ا نداز میں بھی تبدیلی آنی ضروری ہے؟ 
کیا انسانی ذہن امن کو فروغ دیتا ہے اورکیا صرف انسانی ذہن پر توجہ دینا کافی ہے؟

(2) ریاست کو اپنے شہریوں کی جان و مال اور حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ بہر حال بعض موقعوں پر اس کے خود بعض اقدامات اس کے اپنے کچھ شہریوں کے خلاف تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ اس پر مثالوں کی مدد سے تبصرہ کیجیے۔
(3) امن اسی وقت عملی شکل اختیار کرتا ہے جب آزادی، مساوات اور انصاف کا دور دورہ ہو۔ کیا آپ اس سے اتفاق رکھتے ہیں؟

(4) جائز مقاصد کے حصول میں تشدد کا استعمال دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔ اس خیال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

(5) دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے جن تین بڑے طریقوں کا اس باب میں ذکر کیا گیا ہے ان میں فرق واضح کیجیے۔