
باب 10
ترقی
ہم اس سبق کا آغاز ترقیات کے بارے میں عام سمجھ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے کریں گے۔ آگے آنے والے حصوں میں ہم ان طریقوں کی نشان دہی کریں گے جن سے ان مسئلوں کو حل کیا جا سکتا ہے اور ترقیات کے کچھ متبادل طریقوں پر غور کریں گے۔ اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اسکے اہل ہوں گے:
٭ ترقیات کی اصطلاح سے کیا مراد ہے کی وضاحت کیجیے۔
٭ ترقیات کے موجودہ ماڈلوں کی کامیابیوں اور مسائل پر بحث کیجیے۔
٭ ترقیات کے کچھ متابادل ماڈل جو پیش کیے گئے ہیں ان پر گفتگو کیجیے۔
10.1 تعارف
Introduction
فرض کیجئے ایک اسکول میں اضافی نصابی سرگرمیوں کے تحت ہر کلاس (جماعت) کا سالانہ ’کلاس میگزین ‘نکالتی ہے۔ ایک کلاس میں اس کے ٹیچر نے گزشتہ سال کی میگزین کو ایک معیاری نمونہ قرار دیتے ہوئے اس سال کی میگزین کا خاکہ تیا ر جیسے اس میں کن کن موضوعات پر کون سے مضامین‘ شاعری وغیرہ ہونا چاہیے ‘ ان پر لکھنے کے لئے موضوعات طلبا میں تقسیم کئے (اس تقسیم کے نتیجے میں ممکن ہے کل ایک طالب علم کو جو کرکٹ میں دلچسپی رکھتا ہے اسے کوئی اور موضوع لکھنے کے لئے ملا ہوجسے کرکٹ کا عنوان دیا گیا اور وہ ڈرامہ لکھنا چاہتا تھا۔اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ تین طلبا ملکر کارٹون کا سلسلہ تیار کرنا چاہتے ہیں مگر وہ خود کسی اور موضوع کے گروپ میں شامل ہیں۔ جبکہ ایک دوسری کلاس میں میگزین کے متن اور موضوعات کو طے کرنے کے سلسلے میں طلبا کو آزادی دی گئی ہے۔ اس پر ان کے درمیان تبادلہ خیالات اور بحث میں کئی معاملوں میں اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے تاہم میگزین کے ایک خاکہ پر ان کے درمیان ایک اتفاق رائے پیدا ہوجاتی ہے۔
آپ کے خیال میں کس کلاس کی میگزین میں طلبا اپنی اپنی پسند کے موضوعات کو ایک بہترین انداز میں شرمندہ تعبیر کر پائیں گے؟ پہلی کلاس ممکن ہے ایک دیدہ زیب میگزین نکالے لیکن کیا اس کا متن بھی اتنا ہی دلچسپ اور متاثر کن ہوگا؟ ایک طالب علم جو کرکٹ پر لکھنا چاہتا تھا اس نے اتنی ہی دلچسپی سے اپنے مضوضہ موضوع پر لکھا ہوگا؟ ان میں کس میگزین کو منفرد اور کس کو معیاری قرار دیا جائے گا؟ کون سی کلاس یہ محسوس کرے گی کہ میگزین کے لئے کام کرنا ایک دلچسپ مشعلہ تھا اور کونسی کلاس اسے ایک معمول کا ہوم ورک تصور کرے گی؟
ایک معاشرے کے لئے‘ ترقیات کے خد و خال کو طے کرنا ایسا ہی ہے جیسا طلبا کے لیے میگزین کے موضوعات کا انتخاب کرنا کہ وہ کیسا ہونا چاہیے اور انھیں اس پر کیسے عمل کرنا چاہئیے۔ ہمیں مشین کی طرح اس ماڈل پر عمل کرنا چاہیےجسے ہمارے ملک میں یا دوسرے ملکوں میں پہلے عمل کو جائشکل دی گئی یا ہمیں اس کا منصوبہ‘ اپنے معاشرے کی مجموعی بہتری کا خیال کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی خیال رکھتے ہوئے جن کی زندگیاں ان ترقیاتی پراجکٹوں کی وجہ سے راست طور پر متاثر ہو سکتی ہے بنانا چاہئیے۔ لیڈران لوگوں کے احتجاجوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں یا وہ اس معاملہ میں جمہوری طرز عمل اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
ترقیات اپنے وسیع تر مفہوم میں عوام کی بہتری‘ ترقی‘ فلاح اور بہتر زندگی کی خواہش کو پورا کرنے کا تصور ہے۔ ترقیات کے تصور کے ذریعہ ایک معاشرہ اس بات کا منصوبہ بناتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ایک سوسائٹی کی بہتری کے لیے کیا ہونا چاہیے اور اسے حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ تاہم ترقیات کی اصطلاح کو اکثر ایک محدود معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا زیادہ تر حوالہ محدود مقاصد کے حصول جیسے اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ‘ یا سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا وغیرہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ترقیات کا اکثر ذکر پہلے سے مقرر کردہ اہداف ‘ مکمل منصوبے جیسے ڈیم‘ یا کارخانے ‘ ہسپتال وغیرہ کی تعمیر کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا ذکر سوسائٹی کے ترقیات کے بارے میں اس وسیع تر تصور سے کیا جانا چاہئیے جسے وہ شرمندہ تعبیر کرنا چاہتی ہے۔ بہر حال اس طرح کے ترقیاتی عمل میں سوسائٹی کے بعض طبقات کو فائدہ پہنچا ہے جبکہ دیگر لوگوں کو ان کے مکانات یا زمینوں یا بود و باش کا بغیر معاوضے کے محروم ہونا پڑتا ہے۔
کئی ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں کے متعلق کئی سوالات جیسے ترقیاتی منصوبہ پر عمل کے دوران لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا گیا کیا؟‘ کیا اس منصوبہ کے ثمرات منصفانہ طور پر تقسیم کیا گیا یاپھر ترقیات کی ترجیحات کے بارے میں فیصلے جمہوری انداز میں کئے گئے وغیرہ اٹھائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ آج ترقیات کا موضوع بڑی حد تک نزاع کا سبب بن گیا ہے۔ ترقیات کے جو ماڈل مختلف ملکوں نے اختیار کئے ہیں وہ تنقید اور بحث کا موضوع بن گئے ہیں اور ان کے مقابلے میں نئے متبادل ماڈل تجویز پیش کئے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں ترقیات کے بارے میں ایک وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ایک پیمانہ اور معیار ہو جس کے ذریعہ ہر ملک کے ترقیاتی تجربے کا جائزہ لیا جا سکے۔
10.2 ترقی کے چیلنج
The Challenge Of Development
ترقیات کا تصور ۲۰؍ویں صدی کے دوسرے نصف میں اہمیت اختیار کرنے لگا یہ وہ دور تھا جب ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی آزادی نصیب ہوئی۔ ان میں سے زیادہ تر ملک غریب تھے اور انکی آبادیوں کا معیار زندگی پست تھا۔ تعلیم‘ صحت اور دیگر سہولیات و خدمات بڑے خراب حالات میں تھیں۔ ان ملکوں کو ترقی پزیر یا ترقی سے محروم کہا جاتا رہا۔ ان کا موازنہ امریکہ اور مغربی یورپ کے ملکوں سے کیا جاتا تھا۔
1950 اور 1960 کے دہائیوں میں جب ایشیا اور افریقہ کے بیشتر ملکوں نے استعماری اقتدار سے آزادی حاصل کی اس وقت ان کے لیے فوری حل طلب مسائل میں غربت پیدا ہونے والے مسائل‘ ناقص تغزیہ‘ بے روزگاری‘ ناخواندگی اور بنیادی سہولیات و خدمات کا فقدان وغیرہ چیلنج شامل تھے جس کا سامنا ان کی آبادیوں کی ایک بڑی اکثریت کو کرنا پڑ رہا تھا۔ ان ملکوں کا کہنا تھا کہ ان کی پسماندگی اور درماندگی کی وجہ نوآبادیاتی اقتدار کے دوران ان کے وسائل کا استعمال ان کی فلاح و بہبود و ترقی کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ یہ وسائل سامراجی آقاوں کے فائدے کیلئے استعمال کیے گئے۔ اب آزادی کے نتیجے میں وہ اپنے وسائل کو اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کر سکتے تھے۔ اس لئے اب یہ ان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائیں جس کے ذریعہ وہ اپنی پسماندگی کو دور کر سکیں اور اپنے سابقہ استعماری آقاوں کے معیار زندگی کی طرف آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھا سکیں۔ اس خیال نے ان ملکوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی تحریک پیدا کی۔
گزشتہ کئی سالوں میں ترقیات کا تصور کئی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ ابتدائی برسوں میں اس کا مرکزی ہدف مغرب سے اقتصادی نشو نما اور معاشروں کو جدید بنانے کے میدان میں برابری حاصل کرنے کا رہا ہے۔ ترقی پزیر ملکوں نے صنعتکاری‘ زرعی شعبہ کو جدید طرز پر استعوار کرنے‘ تعلیم کو پھیلانے اور جدید بنانے کے ذریعہ تیز رفتاری اقتصادی ترقی حاصل کرنے جیسے نشانے مقرر کئے۔ اس وقت یہ باور کیا جاتا تھا کہ صرف ریاست ہی ایسا اہل ادارہ ہے جو اس نوع کی سماجی اوراستبدادی تبدیلی لاسکتا ہے۔ متعدد ملکوں نے ترقی یافتہ ملکوں سے موثر مدد اور قرضے حاصل کرکے کئی بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔

یہ منصوبہ زیرعمل آتا ہے تو ہمارا وجود ہی مٹ جائیگا
بھارت میں ترقیات کے لیے پنج سالہ منصوبے بنائے گئے جس کا آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا۔ ان میں کئی بڑے بڑے منصوبے جیسے بھاکڑا ننگل ڈیم‘ ملک کے مختلف حصوں میں فولادسازی کے کارخانے لگانا‘ کان کنی‘ کھادوں کی پیداوار اور زراعت کے طریقوں کو ترقی دینا وغیرہ بنائے گئے۔ اسوقت یہ توقع کی گئی کہ ایک ہمہ جہتی حکمت عملی اختیار کرکے اقتصادی ترقی اور ملک کی دولت میں قابل ذکر اضافہ کیا جا سکتاہے۔ اور یہ بھی توقع کی گئی کہ اس سے پیدا ہونے والی ترقی اور خوشحالی کے اثرات بتدریج معاشرے کے غریب ترین طبقات میں پہنچیں گے اور اس سے ناہمواری اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سانئس کی نئی نئی اور تازہ ترین دریافتوں اور ایجادات اور انتہائی جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف بھر پور توجہ دی گئی۔ نئی تعلیمی ادارے جیسے انڈین انسٹی چیوٹ آف ٹکنالوجی وعیرہ قائم کئے گئے اور ترقی یافتہ ملکوں کی علمی دولت سے استفادہ کرنے کے لئے ان سے اشتراک اور تعاون کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہیں۔ اس وقت یہ باور کیا گیا تھا کہ ترقیاتی عمل سے سوسائٹی مزید ماڈرن اور روشن مستقبل کی طرف اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگی۔
البتہ بھارت اور دیگر ملکوں نے ترقیات کا جو ماڈل اپنایا تھا وہ گزشتہ برسوں میں زبردشت تنقید کا نشانہ بنا اور اس کے نتیجہ میں آج ترقیات کے طریقہ کار اور اہداف کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
10.3 ترقیاتی ماڈلوں پر تنقید
Criticism Of Development Models
ترقیات کے ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد ملکوں میں ترقیات کے جن ماڈلوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے اس کے لیے ترقی پذیر ملکوں کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں کی لاگت بے پناہ ہے جس کے نتیجے میں کئی ممالک ایک طویل عرصے کے لیے قرضوں کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ افریقہ آج بھی قرضوں کے باعث مالی بحران کا شکار ہے اور اسے دوسل مند ملکوں سے قرض لے کر اپنے مالی وسائل پورا کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں جس حساب سے خوشحالی اور ترقی ہونا چاہئیے تھی وہ نہیں ہوئی اور آج بھی یہ براعظم غرب’ افلاس‘ بیماریوں اور دیگر مسائل سے دوچار ہے۔
یہ کیجیے
کیا آپ کے علاقہ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبہ مثلاً ڈیم‘ سڑک’ ریل یا کارخانہ وغیرہ کی تعمیر پر عمل ہورہا ہے؟ کیا اس منصوبہ کے خلاف کوئی احتجاج ہو رہا ہے یا مخالفت کی جارہی ہے؟ احتجاج کرنے والوں نے کون سے سوالات اٹھائے ہیں؟ ان سوالات کے بارے میں حکومت کا کیا موقف ہے؟ کچھ مظاہرین اور سرکاری افسران سے ملاقات کرکے ان کی اس بارے میں رائے حاصل کریں۔
ترقی کی سماجی قیمت
The Social Costs Of Deveplopment
ترقیات کا یہ ماڈل بڑی حد تک سماجی قیمت کا حامل ہے۔ بڑے بڑے ڈیم‘ (تالابوں) کی تعمیر‘ صنعتیں لگانے‘ معدنیات کے لیے کان کنی یا دیگر منصوبوں کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں اور آبادیوں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ ان منصوبوں کی خاطر لوگوں کو ان کے آبائی مقامات سے ہٹانے (اجاڑنے) کے نتیجے میں ان کا ذریعہ معاش ختم ہوگیا ہے اور غریبی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر دیہی علاقوں کی زراعت سے وابستہ آبادیوں کو ان کے روایتی پیشوں اور زمین سے الگ کیا گیا تو یہ لوگ سوسائٹی کے سب سے نچلے درجہ پر پہنچ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں شہری آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا ساتھ ہی وہاں دیہی علاقوں کے غریبوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔وہاں کے باشندے ایک طویل تجربہ کے بعد جو روایتی پیشے اور ہنر سیکھتے تھے وہ بھی ختم ہو جائیں گے اور اس کے نتیجہ میں اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی محروم ہو جائیں گے کیونکہ جب ان بے گھر لوگوں کو دوسرے مقامات پر بسایا جاتا ہے تو وہ اپنی مجموعی معاشرتی زندگی سے محروم ہوجائیں گے۔
بے گھر لوگ اکثر اپنی تقدیر کو خاموشی سے قبول نہیں کرتے ہیں۔ آپ نے ’نرمدا بچاو آندولن‘ کے بارے میں سنا ہوگا جو نرمدا ندی پر تعمیر سردار سروور ڈیم کے خلاف کئی سالوں سے تحریک چلا رہے ہیں۔ اس بڑے ڈیم کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اس سے کچھ کے ریگستانی علاقوں میں زراعت اور سوراشٹر میں پینے کا پانی میسر ہوگا‘ اس سے بجلی پیدا کی جا سکے گی اور ایک بڑے علاقہ کی آب پاشی کی ضروریات پوری کی جا سکے گی۔ لیکن ڈیم کے مخالفین ان دعووں سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس ڈیم کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ لوگ بے گھر ہو کر اجڑ جائیں گے۔ان کی زرعی زمینیں ڈیم کے پانی میں غرقاب یا اس کی تعمیر میں چلی جائیں گی۔ جس سے ان کا ذریعہ معاش ختم ہو جائے گا۔ ان متاثرہ لوگوں میں ایک بڑی تعداد میں وہاں کی آبادی کا تعلق دلت اور قبائلی طبقات سے رہا ہے جن کا شمار ملک کے سب سے زیادہ محرومی کا شکار طبقوں میں ہوتا ہے۔ بعض مخالفین کی یہ بھی دلیل ہے کہ جنگلات کے ایک بڑے علاقے کی قرقاب ہو جانے سے ماحولیاتی توازن بھی بگڑ جائےگا۔
ترقیات کی ماحولیاتی قیمت
Environmental Costs Of Development
بلاشبہ کئی ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں سے ماحولیاتی توازن کو بڑے پیمانے پرنقصان پہنچا ہے اور اس کے اثرات و مضمرات کو نہ صرف بے خانماں لوگ محسوس کر رہے ہیں بلکہ اب پوری آبادی کو بھی اس کا احساس ہونے لگا ہے۔ جب گزشتہ سال ۲۶؍ دسمبر ۲۰۰۵ء کو جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساحلوں پر سمندری طوفان سونامی (Tsunami) کا قہر ساحلی پٹی (بندا آچے سے لے تمل ناڈو اور انڈمان و نیکوبار کے علاقے تک) میں برپا ہوا تھا تو اس سے ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی کا اصل سبب بڑے پیمانے پر تجارتی نوعیت کی تعمیراتی اور ساحلی درختوں کی کٹائی بتایا گیا۔
کین ساروویوا

کین ساروویوا
فرض کیجئے کہ آپ کے مکان کے پچھواڑے میں ایک خزانہ کا پتہ چلتا ہے۔ اگر حکام اس خزانہ کو ترقیات کے نام پر تھوڑا تھوڑا کرکے آپ کے پاس سے لیجاتے ہیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟ اور اس ترقیات سے آپ کے معیار زندگی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے یا آپ جس کالونی میں رہتے ہیں وہاں کی سہولیات میں بھی کچھ بہتری نہیں آئی ہے۔ مزید بر آں یہ کہ آپ کا مکان اس خزانہ کی جائے ہونے کے باعث ان لوگوں کی طرف سے مستقل لوٹ مار اور غار ت گری کا نشانہ بن رہا ہے جو ترقیات کے نام پر اس کے استعمال کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا یہ ان لوگوں کے ساتھ انتہائی درجہ کی ناانصافی نہیں ہوگی جن کے گھر میں یہ خزانہ دریافت ہواہے؟
نائیجریا کے اوگنی علاقہ میں 1950 کی دہائی میں تیل کی موجودگی کا پتہ چلا جس کے نتیجے میں خام تیل کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوا۔ جلد ہی اس خطہ میں اقتصادی ترقی اور بڑا کارو بار ہونے لگا جس نے خطہ کو سیاسی ریشہ دوانیوں‘ ماحولیاتی مسائل اور بدعنوانیوں (کرپشن) میں مبتلا کردیا۔ یہی چیزیں خطہ کی ترقی میں مانع بن گئیں حالانکہ یہاں تیل نکلا تھا۔
کین سارو ویوا جو پیدائشی طور پر ایک اوگنائی باشندہ ہے۔ 1980 کی دہائی میں بحیثیت مصنف صحافی اور پروڈیوسر کے معروف ہوا۔ اس نے اپنی تحریروں میں یہاں ہو رہے استحصال کو منظر عام پر لایا اور بتایا کہ کس طرح آئیل اور گیس کی کمپنیاں اوگونائی کے غریب کسانوں کی زمینوں سے تیل نکال کر مالا مال ہو رہی ہیں اور اس کے عوض انکی زرعی اراضیوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں اور غریب کسانوں کو ان کی ملکیت سے بے دخل کر رہی ہیں۔ سارو ویوا نے 1990 میں اس کے خلاف ’’دی مومنٹ فار کی سرایئول آف اوگونائی پیوپل ‘‘یا اوگونائی لوگوں کی بقاء کی جدوجہد (MOSOP) کے نام سے عدم تشدد پر مبنی تحریک شروع کی۔ یہ ایک کھلی علانیہ اور عوامی نوعیت کی سیاسی تحریک تھی۔ یہ جدوجہد اس قدر موثر اور طاقتور ثابت ہوئی کہ 1993 تک تمام آئیل کمپنیوں کو یہاں سے اپنا بوریا بستر لپیٹنا پڑا۔ لیکن سارو ویوا کو اس کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ نائجیریا کے فوجی حکمرانوں نے اسے قتل کے ایک مقدمہ میں پھنسا دیا اور ایک فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی۔
ساروویوا نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ فوجی حکمرانوں نے انھیں ایک ملٹی نیشنل (کثیر قومی) کمپنی ’شیل‘ Shell کی ایما پر اس مقدمہ میں ماخوذ کیا ہے۔ اس کمپنی کو اوگو نی خطہ سے اپنا کاروبار ختم کرنا پڑا تھا۔ پوری دنیا کی حقوق انسانی تنظیموں نے اس سزا کے خلاف احتجاج کیا تھا اور سارو۔ویوا کو رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔ مگر نائیجیریائی حکمرانوں نے اس کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے 1995 میں سارو۔ویوا کو سزائے موت دے دی تھی۔
آپ نے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ یا دوسرے الفاظ میں کرہ ارض کے گرم ہونے کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ کرہ ارض کے سال بھر منجمد رہنے والے دونوں سرے یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی کی برف گرین ہاوس سے خارج ہونے والی گیسوں کے فضا میں اضافہ سے پگھل رہی ہے۔ اس سے سیلاب آنے کے بھی بہت زیادہ خطرات میں اور نشیبی علاقے مثلاً بنگلہ دیش اور مالدیپ وغیرہ میں عملاً سیلاب آ سکتے ہیں یا زیر آب ہو سکتے ہیں کی خبر ہے۔ ماحولیاتی بحران یا عدم توازن ایک طویل مدت کے دوران ہم سب کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ فضائی آلودگی پہلے ہی ایک مسئلہ بن چکی ہے جو امیر و غریب کے درمیان کوئی امتیاز روا نہیں رکھتی۔ لیکن مختصر مدت کے دوران میں قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال سے سب سے زیادہ کمزور اور محروم طبقات متاثر ہورہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی سے غریب طبقات متاثر ہو رہے ہیں جو جنگلاتی وسائل کو اپنی مختلف بنیادی ضروریات جیسے ایندھن‘ خوراک یا دواوں میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ دریائوں اور چھوٹے تالابوں کا پانی خشک ہونے نیز زیر زمین پانی کی سطح میں کمی واقع ہونے سے لا محالہ ہماری خواتین کو پانی لانے کے ئے دور دور تک جانا پڑے گا۔ ہم ترقیات کے جس ماڈل پر عمل پیرا ہیں اس کا بہت زیادہ انحصار توانائی پر ہے۔ اور اس کے استعمال میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں اس وقت توانائی کی جو ضروریات پوری کی جا رہی ہے وہ بڑی حد تک دوبارہ مصرف نہ آنے والے وسائل جیسے کوئلا اور پٹرول (تیل) وغیرہ سے پورا کیا جارہا ہے۔ بر اعظم جنوبی امریکہ میں ریمزان کے بڑے بڑے خطوں میں واقع برساتی جنگلات کو اشیاء کی بڑھتی ہوئی ضروریات پورا کرنے کے لیے کاٹا جا رہا ہے۔
کیا دنیا میں ایک ہی بار مصرف میں آنے والے قدرتی وسائل اتنے زیادہ ہیں کہ انھیں استعمال کرنے کی نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں کو بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کو اجازت ملنی چاہئیے تاکہ وہ بھی اپنی طرز زندگی کو بہتر اور معیاری بنا سکیں؟ ان قدرتی وسائل کی محدود نوعیت کے پیش نظر اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا؟ کیا ہم ان کے لئے ورثہ میں بے مصرف اور تباہ شدہ زمین اور گوناگوں مسائل و مشکلات چھوڑنا پسند کریں گے؟
ترقی کا جائزہ
Assesssing dwvelopment
بلاشبہ یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ ترقیات کے دنیا پر صرف منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بعض ممالک اس سے کچھ حد تک مستفید ہوئے ہیں انکی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ غریبی کی سطح کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بہر حال مجموعی طور پر عدم مساوات اور ناہمواریوں کو قابل ذکر حد تک کم نہیں کیا جا سکا ہے اور ترقی پزیر ملکوں میں غریبی کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ترقیات کے ثمرات بتدریج سوسائٹی کے انتہائی غریب اور سب سے زیادہ محروم طبقات تک پہنچیں گے اور اس کے نتیجہ میں سب کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ لیکن ساری دنیا میں امیر اور غریب لوگوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی گیا۔ کسی ملک کی اقتصادی عروج کی شرح بہت زیادہ ہو سکتی ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اس کے فیوض میں عملاً سب سی کو برابر کا حصہ مل رہا ہے۔ اگر اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ وسائل کی تقسیم کا اہتمام نہیں کیا جاتا تو ممکن ہے اس سے ہونے والے ثمرات پر وہی لوگ تصفر حاصل کر لیں گے جو پہلے ہی سے مراعات یافتہ ہیں۔
اب اس امر کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے کہ ترقیات کا ایک وسیع تر تصور اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اقتصادی ترقی پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں نہ صرف وسیع تر نوعیت کے مسائل پیدا ہو نگے بلکہ اکثر اس سے معاشی نمو کی رفتار بھی اطمینان بخش نہیں ہوگی۔ چنانچہ آج ترقیات کے تصور ات کو ایک وسیع تر معنی و مفہوم میں لیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعہ تمام ہی لوگوں کا معیار زندگی اونچا ہونا چاہیے۔
تحفظ ماحولیات کا نظریہ
آپ نے اکثر یہ اصطلاحیں مثلاً آلودگی،کثافت،پائیدار ترقی، فضلات کے انتظام وانصرام (Waste Management) کا نظام، معدوم ہوتی ہوئی جاندارمخلوقات کا تحفظ اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ وغیرہ ضرور سنی ہوںگی۔ یہ اصطلاحیں ماحولیاتی تحریک میں مقبول عام ہیں جو قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو ماحولیاتی نظام سے مطابقت رکھنی چاہیے اور انھیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے قدرتی وسائل کا اور ماحول کا غلط اوربے جا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا احساس ہے کہ انسانی گروہ قدرتی وسائل کا اس قدر بے جا استعمال اور تباہ کر رہا ہے کہ اس کے نتیجہ میں آئندہ نسلوں کے لیے صرف بنجر اور بے مصرف زمین، کثافت زدہ ندیاں اور سانس لینے کے لیے آلودہ ہوا رہ جائے گی۔
ماحولیات کے تحفظ کی تحریک کی جڑیں 19ویں صدی میں صنعتی انقلاب کے رونما ہونے میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ عہد حاضر میں ماحولیات کی تحریک ایک عالمگیر نوعیت کی تحریک بن چکی ہے جس سے ہزاروں غیر سرکاری یا رضاکارانہ تنظیمیں وابستہ ہیں اور کئی ماحولیات کی پر وردہ یا ’گرین‘ سیاسی جماعتیں بھی اس کاز کی حمایت کررہی ہیں۔ دنیا کی چند مشہور و معروف ماحولیاتی تنظیموں میں گرین پیس اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ہندوستان میں چپکوتحریک ہے جو ہمالیہ کے جنگلات کے تحفظ کے لیے معرض وجود میں آئی ہے۔ اس طرح کی تنظیمیں اور گروپ حکومتوں کی صنعتی اور ترقیاتی پالیسیوں کو ماحولیات کے مطابق بنانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔
اگر ترقی کے عمل کو لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کا مقصد قرار دیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی کامیابی کا پیمانہ صرف اقتصادی ترقی کی شرح نہیں ہو سکتی ہے اور بعض اوقات ترقی کا یہ اشاریہ گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اب ترقیات کی کامیابی کو جانچنے کے لیے متبادل پیمانے وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہیومن ڈولپمنٹ رپورٹ اس نوع کی ایک کوشش ہے جو اقوام متحدہ کا ادارہ یونائیٹیڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام ( United Nation Development Program - UNDP) ہر سال تیار کرتا ہے۔اس رپورٹ میں سماجی شعبہ میں ترقی و کارکردگی کی بنیاد پر جیسے شرح خواندگی، تعلیمی معیار کی شرح، مدت حیات میں متوقع اضافہ، شیرخوار بچوں میں شرح اموات،ذرائع آمدنی کی کوشش میں طبقاتی تفریق کی شرح ، خواتین کے حقوق کی تلفی و اختیارات کی شرح وغیرہ کی روشنی میں ملکوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اس تصور کے مطابق ترقیاتی عمل کچھ اس طرح ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے پسند کا انتخاب کر سکیں۔ اور وہ سب سے پہلے لوگوں کی بنیادی ضروریات مثلاً غذا، تعلیم،صحت اور مکان وغیرہ کو ہر حال میں پورا کریں۔ اسی کو بنیادی تصورات کہتے ہیں۔ عوامی نعرے جیسے ’روٹی کپڑا اور مکان‘ ’غریبی ہٹائو‘ یا’ بجلی سڑک پانی‘ وغیرہ ان جذبات کی غمازی کرتے ہیں کہ ان ضروریات کو پورا کیے بغیر کسی فرد کے لیے ایک باعزت زندگی گزارنا اور اپنی ضروریات و خواہشات کو پورا کرنابڑا مشکل امرہے۔ محتاجی یا محرومی سے آزادی، کسی فرد کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور امنگوں کو پورا کرنے میں اصل اہمیت رکھتی ہیں۔ اس تصور کے مطابق اگر لوگ فاقہ کشی یا سردی و تپش سے مرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان کے پاس کھانے ، رہنے اور بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی مناسب حل نہ ہونے کے سبب ترقی سے محروم ہیں۔
آئیے اس پر غور کریں:
تازہ ترین ہیومن ڈولپمنٹ رپورٹ سے ہیومن ڈولپمنٹ انڈیکس یا انساتی ترقی کا اشاریہ کے بارے میں معلومات اخباری رپورٹوں، مضامین، جدول اور چارٹوں کے ذریعہ یکجا کریں۔ کلاس کے اندر مختلف گروپ بنائیں اور ہر ایک گروپ مندرجہ ذیل کے بارے میں اپنے خیالات پیش کرے۔
◊ ہندوستان کا بدلتا ہوا ایچ ڈی آئی (HDI)درجہ یا انسانی درجہ بندی میں بھارت کا بدلتا ہوا مقام۔
◊ ہندوستان کے مقام کا ہمسایہ ملکوں سے موازنہ۔
◊ ایچ ڈی آئی کے مختلف زمروں میں ہندوستان کی کارکردگی۔
◊ ایچ ڈی آئی کی معلومات کی روشنی میں ہندوستان کی معاشی نمو کا جائزہ۔
10.4 ترقی کا متبادل نظریہ و تصور
10.4 ALTERNATIVE CONCEPTIONS OF DEVELOPMENT
اس سبق کے ابتدائی حصوں میں ہم نے اب تک زیر عمل ترقی کے ماڈل کی بعض خامیوں اور مجبوریوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں اور پالیسیوں کی بڑی بھاری قیمت انسانی اور ماحولیاتی دونوں شکلوں میںادا کرنی پڑ رہی ہے اور ان منصوبوں کی لاگت اور ثمرات کی لوگوں میں تقسیم بھی منصفانہ نہیں رہی ہے۔ مزید بر آں کہ زیادہ تر ملکوں میں ترقی کی جو حکمت عملیاں اور پالیسیاں وضع کی گئی ہیں وہ اوپر سے نیچے (top-down) کی طرف ہیں۔ یعنی ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا تعین، طریقہ کار،عمل دخل اور ان کو عملی شکل دینے کا فیصلہ عموماً اعلیٰ سطحی سیاسی قیادت اور نوکرشاہی (بیوروکریسی) کرتی ہے۔ فیصلے کرتے وقت شاذ و نادر ہی ان لوگوں سے کچھ تھوڑا بہت مشورہ کیا جاتا ہے جن کی زندگی ان ترقیاتی منصوبوں سے راست طور پر متاثر ہونے والی ہے۔ اس سلسلہ میں نہ ان کے صدیوں پرانے تجربات اور معلومات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جمہوری یا آمرانہ طرز کی حکومتوں کے رویہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چنانچہ کسی بھی ملک میں ترقیاتی عمل پر عملاً حکمراں طبقات کا قبضہ ہے جو اس کی منصوبہ سازی کرتے اور اسے عملی جامہ پہناتے ہیں۔ اکثر یہی طبقات ان ترقیاتی منصوبوں سے سب سے زیادہ مستفید بھی ہوتے ہیں۔ اس صورت حال نے ترقی کے متبادل منصوبوں اور طریقوں پر غور کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہے جو برابری کی بنیاد پرٹکے ہوئے اورپائدار نوعیت کے ہوں۔ اس عمل کے دوران حقوق، مساوات، آزادی اور جمہوریت کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس حصہ میں ہم ترقی کے بارے میں چل رہی بحث کے تناظر میں ان متبادل نظریات و تصورات کے نئے نئے معنی و مفہوم کا جائزہ لیں گے۔
یہ کیجیے
ان چیزوں کی فہرست بنائیں جنھیں ہم استعمال کرنے کے بعد ہمیشہ پھینک دیتے ہیں اور اس کے بارے میں غور کیجیے کہ ہم انھیں کیسے دوبارہ استعمال کے لائق بنا کرضر ررساں فضلات کی مقدار کم کر سکتے ہیں۔
جائز مطالبات
Right claims
ہم نے یہ بات نوٹ کی کہ ترقی کے ثمرات سے زیادہ تر فائدہ با اثر طبقات اٹھا لیتے ہیں اور اس ترقیاتی منصوبے کی قیمت غریب ترین اور انتہائی کمزور طبقات کو چکانی پڑتی ہے یہ قیمت چاہے ماحولیاتی تباہی کی شکل میںہو یا اجڑنے کی شکل میں ہو یا کہ ذریعہ معاش سے محروم ہونے کی شکل میں ہو۔ چنانچہ متاثرہ افرادکے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ کیا وہ ریاست اور پوری سوسائٹی سے اس کا معاوضہ طلب کر سکتے ہیں اور کیا جمہوری ملک میں لوگوںکو ان فیصلوں میں شریک کیا جانا چاہیے جن سے ان کی زندگیاں براہ راست متاثر ہونے والی ہیں؟ کیا انھیں ذریعہ معاش یا روزگار کا اس صورت میں مطالبہ کرنے کا حق ملنا چاہیے جب حکومت کے کسی ترقیاتی سرگرمی سے ان کے روزگار اور معاش کے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو؟ دوسرا معاملہ قدرتی وسائل پر حق کے بارے میں ہے۔ کیا معاشرے اور طبقات قدرتی وسائل کے استعمال کے بارے میں اپنے روایتی حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ یہ معاملہ خصوصی طور پر قبائلی اور قدیمی باشندوں سے تعلق رکھتا ہے جن کی اپنی مخصوص بود وباش اور معاشرت ہوتی ہے اور ان کی زندگی کا ماحول اور جنگلات سے ایک خصوصی رشتہ ہو تا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قدرتی وسائل پر کس کی ملکیت ہے؟ کیا وہ مقامی معاشرہ یا متعلقہ ریاست یا پوری بنی نوع کی مشترکہ ملکیت ہے؟ اگر ہم وسائل کو پوری انسانیت کی ملکیت سمجھتے ہیں تو اس میں آنے والی نسلوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ آبادی کے مختلف طبقات کے ایک ہی جیسے مطالبات کو پورا کرنا نیز اس کے ساتھ ساتھ ان کو پورا کرتے وقت عہد حاضر اور مستقبل کے مطالبات کے درمیان توازن رکھنا جمہوری معاشرتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اس پر بحث کیجیے
دریا اور ندیاں عوام کی ملکیت ہوتی ہیں حکومت کی نہیں، چنانچہ دریائی پانی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت حکومت کو لوگوں کی رائے ضرور لینی چاہیے اس لیے کہ اس کے بغیر وہ اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔
جمہوری عمل میں شرکت
Democratic participation
آپ کو ذاتی فائدے کی خاطر کتنی مرتبہ یہ تاکید کی گئی ہوگی کہ والدین یا اساتذہ کی فرماں برداری کرو، کیا آپ نے کبھی یہ سوچا یا محسوس کیا کہ اگر یہ میری بھلائی کے لیے ہے تو برائے مہربانی اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار مجھے دیں۔ جمہوریت اور آمریت کے درمیان یہ واضح فرق ہے کہ جمہوریت میں وسائل یا معیار زندگی کے تصورات کے بارے میں اختلاف رائے کرنے کا موقع ہوتا ہے اور ان اختلافات کو بحث و مباحثہ اور گفتگو کے ذریعہ دور کیا جاتا ہے اور سب کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے نیز ان چیزوں کو اوپر سے تھوپا یا مسلط نہیں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر معاشرہ میں بہتر زندگی کے حصول میں سب کا مشترکہ مفاد شامل ہے تو ترقی کے منصوبے بنانے اور ان کو عملی شکل دینے کے طریقہ کار وضع کرنے میں بھی ہر فرد کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔ دوسروں کے ذریعہ بنائے گئے منصوبے اورخود عملی طور پر شریک ہو کر بنائے گئے منصوبوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ اگر دوسروں نے کتنی ہی اچھی نیت سے یہ منصوبے کیوں نہ بنائے ہوں،لیکن وہ آپ کی مخصوص ضروریات کے بارے میں آپ سے بہتر نہیں جانتے ہوں گے۔ دوئم یہ کہ کسی بھی فیصلہ سازی کے عمل کا سرگرم حصہ بننا لوگوں کوبا اختیار بناتا ہے۔
جمہوریت اور ترقی دونوں کا تعلق سب کی بھلائی کے حصول سے ہے۔ کس طرح مشترکہ بہتری کے عمل کو تعبیر کیا جا ئے؟ جمہوری ملکوں میں فیصلہ سازی کے عمل میں لوگوں کو شامل کیے جانے کے حق پر زور دیا جاتا ہے۔ فیصلہ سازی کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کی اس میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مقامی علاقے کے ترقیاتی منصوبے بنانے کا اختیار اس علاقے کے مقامی اداروں (جیسے پنچایت و بلدیات وغیرہ) کو دے دیا جائے۔ اسی لیے مقامی اداروں کے اختیارات اور وسائل میں اضافہ کیے جانے کی وکالت کی جارہی ہے۔ ایک طرف یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ لوگوں سے ان معاملات میں ہر حال میں مشورہ لیا جانا چاہیے جن سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان منصوبوں کو بھی مسترد کیا جانا چاہیے جو ایک معاشرہ کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کی منصوبہ بندی اور پالیسیاں بنانے میں شمولیت سے وسائل کو ان کی ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ سڑک کہاں بننی چاہیے۔ میٹرو ٹرین یا مقامی بسوں کو کس روٹ پر چلایا جانا چاہیے، کس مقام پر اسکول یا پارک تعمیر کیا جانا چاہیے،گائوں میں پانی سے بچاو کے لیے پشتہ تعمیر کرنے یا انٹرنیٹ کیفے قائم کرنے کی ضرورت، ان تمام کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار لوگوں کے پاس ہونا چاہیے۔
اوپر اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ ترقی کا مروجہ اور غالب ماڈل ٹاپ ڈاون یا اوپر سے نیچے فیصلے کرنے والا ہے اور اس ماڈل میں لوگوں کو محض ترقیات کی جنس تصور کیا جاتا ہے ۔ وہ بزعم خود یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے مسائل کو حل کرنے کا یہی ایک بہترین طریقہ ہے۔ یہ عمل ان لوگوں کے تجربات اور ان کی معلومات کو نظر انداز کردیتا ہے۔ جب کہ ترقی کے بارے میں مرکزی اختیارات کی تقسیم کا رویہ اختیار کرنے سے مختلف ٹیکنالوجیوں (طریقہ کاروں) روایتی اور جدید دونوںکو تخلیقی انداز میں استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس پر غور کیجیے
یہ تصویریں نرمدا وادی کے گاوں ڈوم کھڑی میں ستیہ گرہ کی ہیں۔ سردار سرور ڈیم کی تعمیر سے نرمدا وادی پانی سے لبالب ہو گئی ہے۔ نرمدا بچاؤآندولن کے مظاہرین پانی کی بڑھتی ہوئی سطح میں رہ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ جب پانی کی سطح خطرناک حد تک ان احتجاجی افراد کے کندھوں کو پار کر گئی تو حکومت نے ان کو حراست میں لے لیا۔ اس مسئلہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں اور بڑے باندھ یا تالابوں کے فائدے اور نقصانات پر بحث کریں۔ کیا سردار سروور ڈیم پانی کی قلت کو دور کرنے کا ایک بہتر طریقہ ہے؟ جو کارکن اس سرکاری منصوبہ کی مخالفت اور مزاحمت کر رہے ہیں کیا وہ صحیح ہیں۔ تصویریں بشکریہ ۔ ہری کرشنا اور دیپا جانی۔ ماخذ ۔ www.narmada.org

کارٹون
انّی دیکھو میرے پاس جدید ترین موبائیل فون ہے۔ یہ واقعی جدید ترین ٹیکنالوجی اور سہولیات سے لیس ہے جس میں بلوٹوتھ کھیل اوربہت کچھ ہے۔
یہ واقعی ایک اچھا فون ہے! مگر تم نے چند ماہ پہلے ہی ایک نیا فون خریدا تھا اس کا کیا ہوا۔
اوہو! وہ ایک پرانا ماڈل تھا اسی لیے میں نے اسے ترک کر دیا۔
ارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیا تم نہیں جانتی کہ اس کے نتیجے میں کتنی زیادہ مقدار میں نہ ختم ہونے والے الیکٹرانک فضلات جمع ہو رہے ہیں؟آج ہمارے ماحولیاتی نظام کو اس سے شدیدتر ین مسائل کا سامنا ہے اور صورت حال تشویشناک ہو گئی ہے۔
ترقی اور طرز زندگی
Development snd life style
ترقی کا متبادل ماڈل بہت زیادہ لاگت،ماحولیاتی تباہی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے خیال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ترقی کا معیارا ور پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کے ایک ملک میں سیل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد کتنی زیادہ ہے یا اس کے پاس جدید ترین اسلحہ کتنا ہے یا کتنے لوگوں کے پاس کاریں ہیں بلکہ اس کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ لوگ کس معیار کی خوش حال اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہے یا نہیں اور وہ باہم شیر و شکر ہو کر رہ رہے ہیں یا نہیں۔ ایک سطح پر قدرتی وسائل کی حفاظت اور جہاں تک ممکن ہو سکے توانائی کے لیے قابل تجدید ذرائع کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اس جہت میں جن مثالوں پر عمل کیا جا سکتا ہے ان میں برساتی پانی سے کاشت کاری، توانائی کے لیے شمسی یا بائیو گیس کے پلانٹ لگانا، چھوٹے پیمانے پر پن بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبے، کھادوں کی تیاری کے لیے فضلات کے ڈھیر کو گڈھے کھود کر اس میں جمع کرنے کی کوشش وغیرہ کی سرگرمیاں ہونی چاہئیں۔ اس طرح کے منصوبے مقامی سطح پر عمل میں لائے جا ئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں دل چسپی کے ساتھ شریک ہوں۔ صرف بڑے ڈیم (باندھ) کے ذریعہ ترقی کی منزل تیزی سے طے نہیں کی جاسکتی ۔ بڑے ڈیم کے ناقدین اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بند اور پشتے تعمیر کرنے چاہئیں جن کی تعمیر میں لاگت بھی کم آتی ہے۔ اس سے معمولی پیمانے پرنقل مکانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے مقامی آبادی بھی فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔
دوسری بات! ہم اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لائیں تاکہ دوبارہ استعمال کے لائق نہ رہنے والے وسائل اور ذرائع پر دباو کم کیا جا سکے۔ مگر یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیوںکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو ایک کم تر معیار زندگی اختیار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اسے لوگوں کی اپنی مرضی اور پسند کے مطابق کوئی چیز حاصل کرنے کی آزادی میں مداخلت تصور کیا جارہا ہے۔ بہر حال متبادل طرز زندگی کے امکان پر غور کرنے کے نتیجے میں بہتر زندگی گزارنے کے متبادل تصورات کے رونما ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اوریہ آزادی اور تخلیقی کام میں اضافے کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی کوئی بھی پالیسی اختیار کرنے کے لیے تمام حکومتوں اور تمام ملکوں کے عوام کے درمیان بڑے پیمانے پر تعاون و اشتراک کی ضرورت ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس طرح کے امور و معاملات میں فیصلہ سازی کے لیے جمہوری طریقہ کار اپنائے جائیں۔اگر ہم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ترقی کسی فرد کی آزادیوں میں اضافہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور لوگوں کو محض صارفین کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کو طے کرنے میں شامل فعال افراد تصور کرتے ہیں تو ان معاملات میں ایسے امور پر اتفاق پیدا ہو سکتا ہے۔ ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں حقوق، آزادی اور انصاف کے بارے میں ہمارے تصورات کا دائرہ وسیع ہوگا۔
ماحصل
Conclusion
ترقی کے نظریہ سے مراد ایک بہتر زندگی کی خواہش ہے۔ یہ خواہش بڑی شدید ہوتی ہے اور ترقی کی امید ہی دراصل انسان کو عمل کی دعوت دیتی ہے۔ اس باب میں ہم نے ترقی کے وسیع پیمانے پر مسلمہ ماڈل اور تصورات کی ناقدانہ جانچ پڑتال کی ہیں۔ ترقی کے ایک ایسے ماڈل کی مختلف سطحوں پر تلاش کی جارہی ہے جو زیادہ پائیدار، جمہوری اور برابری والا ہو۔ اس دوران سیاسی نظریہ کے متعدد تصورات مثلاً مساوات، جمہوریت اور حقوق کی نئی تشریحات سامنے آئی ہیں۔
ترقیاتی منصوبے کو عملی جامہ پہناتے وقت جو مسائل اور سوالات ابھرے ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے جن چیزوں کو منتخب کرتے ہیں ان کے اثرات دوسروں پر یعنی دنیا کے دوسرے انسانوںاور دوسری مخلوقات پرکافی حد تک مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں خود کو اس وسیع تر کائنات کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے کیوںکہ ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں ہماری سرگرمیوں سے نہ صرف دوسروں کو فائدہ پہنچنا چاہیے بلکہ اس کا اثر ہمارے اپنے مستقبل کے امکانات پر بھی پڑنا چاہیے۔ اس لیے ہمیں اپنے انتخاب میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی فوری ضروریات کا ہی نہیں بلکہ طویل مدتی مفادات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
مشقیں
(1) ترقی کی اصطلاح سے کیا مراد ہے؟ کیا اس طرح کی تعریف سے معاشرے کے تمام طبقات فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
(2) ترقیاتی منصوبوں سے بحث کریں جن میں سماجی اور ماحولیاتی قیمت بہت زیادہ ہے اور جن پر زیادہ تر ملکوں میں عمل ہورہا ہے۔
(3) ترقی کا عمل شروع ہونے کے نتیجے میں کو ن سے نئے حقوق کے مطالبات سامنے آئے ہیں؟
(4) اگر سب کی بھلائی ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو توجمہوری طرز حکومت دیگر طرز کی حکومتوں کے مقابلے میں کس لحاظ سے بہتر ہے ؟
(5) آپ کے خیال میں سماجی اور ماحولیات کی قیمت پر چلائے جا رہے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف ریاست کو حساس اور جوا ب دہ بنانے کی عوامی تحریکیں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہیں؟ مثالوں کے ساتھ وضاحت کریں۔