Chapter-1
نفسیات کیا ہے؟
اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ
• ذہن اور کردار کو سمجھنے میں علم نفسیات کی نوعیت اور رول کو سمجھ سکیں گے؛
• علم نفسیات کی نشوونما کو بتاسکیں گے؛
• نفسیات کےمختلف میدانوں ، نفسیات کے دیگر علوم اور دوسرے پیشوں کے ساتھ تعلقات کو جان سکیں گے، اور
• روز مرہ کی زندگی میں خود اور دوسروں کو سمجھنے میں نفسیات کی قدر کا اندازہ کرسکیں گے۔
مشمولات
تعارف روز مرہ کی زندگی میں نفسیات
نفسیات کیا ہے؟ کلیدی اصطلاحات
نفسیات بطور ایک علم خلاصہ
نفسیات بطور علم طبیعی نظرِ ثانی کے لیے سوالات
نفسیات بطورسماجی علم پروجکٹ کی تجاویز
ذہن اور کردار کی فہم
نفسیات کے علم کے بارے میں عام نظریہ
نفسیات کا ارتقاء
جدید نفسیات کے ارتقاء میں کچھ دلچسپ
سنگ میل (باکس 1.1)
ہندوستان میں نفسیات کی نشوونما
نفسیات کی شاخیں
تحقیق اور اطلاق کے موضوعات
نفسیات اور دوسرے علوم انسانی ذہن کی نمو اب بھی ایک بلند مہم ہے بلکہ کئی معنوں میں زمین پر یہ بلند ترین مہم ہے۔
—نازمین کزِنس
تعارف
نفسیات کے پہلے گھنٹے میں ہی شاید آپ کے نفسیات کے استاد نے آپ سے یہ سوال پوچھا ہوگا کہ آپ نے دوسرے مضامین کے مقابلہ میں نفسیات کو کیوں چنا؟ اگر آپ سے یہ سوال پوچھا گیا تھا تو آپ کا جواب کیا تھا؟ عام طور سے اس سوال کے جوابات کا دائرہ کلاس میں تعجب خیز حد تک مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ تر طلباء احمقانہ جواب دیتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ کس طرح سے سوچتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسے جوابات بھی سامنے آتے ہیں مثلاً خود کو اور دوسروں کو جاننے کے لئے یا کچھ خاص جوابات جیسے یہ جاننے کے لئے کہ لوگ خواب کیوں دیکھتے ہیں، لوگ دوسروں کی مدد کے لئے حد سے کیوں گزر جاتے ہیں یا ایک دوسرے کو کیوں مارتے ہیں وغیرہ۔ سبھی قدیم روایتوں میں انسانی فطرت کے بارے میں سوالات پائے جاتے ہیں۔ خاص طور سے ہندوستانی فلسفی ایسے متعلقہ سوالات سے بحث کرتے ہیں جیسے کیوں لوگ ایک خاص طرح سے کردار کرتے ہیں؟ عام طور سے لوگ خوش کیوں رہتے ہیں؟ اگر لوگ اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں اپنے آپ میں کیا تبدیلی لانی ہوگی؟ دوسرے علموں کی طرح نفسیات کا علم بھی انسانی فلاح و بہبود چاہتا ہے۔ اگر دنیا پریشانیوں سے پُر ہے تویہ خود لوگوں کی وجہ سے ہے۔ شاید آپ پوچھ سکتے ہیں کہ 9/11 کیوں بپاہوا، یا عراق میں جنگ کیوں ہوئی؟ دہلی، ممبئی، سری نگر یا شمال مشرق میں لوگ بموں اور گولیوں کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں؟ نفسیات داں پوچھتے ہیں کہ نوجوانوں کے وہ کون سے تجربات ہوتے ہیں جو ان کو دہشت گرد بنادیتے ہیں اور وہ بدلہ لینے کے لئے بے چین ہوتے ہیں۔ تا ہم انسانی فطرت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ آپ نے میجر ایچ پی ایس اہلووالیہ کا نام سنا ہوگا جن کا پاکستان کی جنگ میں کمر سے نیچے کا حصہ چوٹ کی وجہ سے مفلوج ہوگیا تھا پھر بھی وہ ماؤنٹ ایورسٹ جیسی بلند چوٹی پر چڑھے۔ کس بات نے انہیں اتنی اونچی چوٹی پر چڑھنے کے لئے متحرک کیا؟ انسانی فطرت سے متعلق صرف یہی سوالات نہیں ہیں جن کے جوابات نفسیات ایک انسانی سائنس کے طور پر دیتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ جدید نفسیات شعور، شور میں اپنی توجہ مرکوز کرنا، یا اپنے پرانے دشمن کو فٹ بال کے میچ میں ہرانے پر کامیاب ٹیم کے حامیوں کے ذریعہ دکانوں کے کامپلکس میں آگ لگایا جانا وغیرہ جیسے کسی حد تک مبہم انتہائی چھوٹی سطح کے مظاہرہ کا علم بھی مہیا کرتی ہے۔ اگر چہ علم نفسیات اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتی ہے کہ اس نے ان پیچیدہ سوالات کے جوابات حتمی طور پر حاصل کر لئے ہیں، پھر بھی اس نے ہماری سمجھ کو یقین بڑھایا اور اس بات کی معلومات مہیا کی ہے کہ ہم ان مظاہر سے کس طرح مطلب نکالتے ہیں۔ دوسرے علوم کے برخلاف نفسیات کا زیادہ دلچسپ پہلو اُن نفسیاتی اعمال کے مطالعہ میں مضمر ہے جو زیادہ تر اندرونی ہیں اور جن کا مشاہدہ انسان خوداپنے اندر کرتا ہے۔
نفسیات کیا ہے؟
علم کی کسی شاخ کی تعریف ایک مشکل کام ہے۔ اوّل، اس لئے کہ اس کی مستقل ارتقا اور نشوونما ہوتی رہتی ہے۔ دوئم، اس لئے کہ اس میں مطالعہ کئے جانے والے مظاہر کی وسعت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انہیں کسی ایک تعریف میں سمیٹ پانا مشکل ہوتا ہے۔ بہت پہلے آپ جیسے طلباء کو بتایا جاتا تھا کہ psychology, psyche, logos لفظ psychology دو یونانی الفاظ psycheاورlogos سے اخذ کیا گیا ہے، جن کا بالترتيب مطلب روح اور سائنس یا کسی مضمون کا مطالعہ ہے۔ اس طرح نفسیات کو روح یا ذہن کا مطالعہ کہا جاتا تھا، لیکن جب سے اب تک نفسیات نمایاں طور پراس مرکوزیت سے کافی دور جا چکی ہے اور اپنے کو ایک سائنسی علم کے طور پر قائم کر چکی ہے۔ اب یہ انسانی تجربات میں مضر اعمال (افعال) اور کردار کا مطالعہ کرتی ہے۔ مظاہر کی جس حد کا مطالعہ یہ کرتی ہے اور جن میں سے کچھ کا ذکر ہم نے اوپر ’تعارف‘ میں کیا ہے وہ متعدد سطحوں پر جیسے فرد، جوڑوں (دوافراد) اورتنظیموں تک پھیلی ہوتی ہے۔ چونکہ مظاہر کی حیاتیاتی اور سماجی بنیادیں بھی ہوتی ہیں، اس لئے فطرتاً ان کے مطالعہ کے لیے مطلوبی طریقے بھی مطالعہ کئے جانے والے مظہر پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کسی علم کی تعریف دونوں طرزوں پر کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی کا مطالعہ کرتی ہے اور کس طرح سے اس کا مطالعہ کرتی ہے۔ درحقیقت زیادہ تر علم کی تعریف کیسے یا اس طریقہ یا طریقوں کی روسے کی جاتی ہے جن کا استعمال وہ علم کرتی ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے نفسیات کی رسمی تعریف ایک ایسی سائنس کے طور پر کی جاتی ہے جو مختلف سیاق و سباق میں ذہنی افعال، تجربات اور کردار کا مطالعہ کرتی ہے۔ ایسا کرنے میں معطيات ( ڈیٹا) کی ترتیب وار حصول یابی کے لئے یہ حیاتیاتی اور سماجی سائنسوں کے طریقوں کا استعال کرتی ہے۔ اُن معطيات (ڈیٹا) کومفہوم عطا کرتی ہے جن سے کہ انہیں معلومات (علم) کے طور پر منظم کیا جا سکے۔ آئیے ہم ان تین اصطلاحات کو یعنی ذہنی افعال، تجربہ اور کردار کو سمجھنے کی کوشش کریں، جن کا استعمال اس تعریف میں کیا گیا ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ تجربات اندرونی ہوتے ہیں جو تجربہ کرنے والے فرد کے اندر رونما ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق شعور یا آگہی یا ذہنی افعال سے ہے۔ ہم ذہنی افعال کا استعال تب کرتے ہیں جب ہم کسی مسئلہ کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک سطح جس پر ذہنی افعال رونما ہوتے ہیں وہ ہے دماغی کارکردگی۔ ہم جب سوچتے یا ریاضی کے کسی مسئلہ کو حل کرتے ہیں تب ہماری دماغی سرگرمیوں کا مشاہدہ دماغ کی شبیہہ پیش کرنے والی مختلف تکنیکوں کے استعمال سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ دماغی کارکردگی اور ذہنی افعال ایک ہیں حالانکہ دونوں ایک دوسرے پر منحصرہیں۔ ذہنی کارکردگی اور علمی کارکردگی باہمی طور پر ملے جلے افعال ہیں لیکن پھر بھی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ دماغ کی طرح ذہن کی کوئی جسمانی ہیئت یا اس کا وقوع نہیں ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے بین تفاعل اور اس دنیا میں ہمارے وہ تجربات جو مختلف ذہنی افعال کے رو پذیر ہونے کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں، متحرک طور پر منظم ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہمارے ذہن کی نشوونما اور ارتقاء ہوتی جاتی ہے۔ دماغ کے افعال ہمارے ذہن کے کام کرنے کے بارے میں اہم سراغ مہیا کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے تجربات کے بارے میں ہمارا شعور اور ذہنی افعال میں اور دماغی کارکردگی سے بہت زیادہ کچھ اور بھی ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم سورہے ہوتے ہیں تب بھی ہماری ذہنی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ سوتے وقت ہم خواب دیکھتے ہیں اور کچھ معلومات جیسے دروازے پر دی جانے والی دستک وغیرہ ہم حاصل کرتے ہیں۔ کچھ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم اپنی نیند میں بھی سیکھتے اور یاد کرتے ہیں۔ ذہنی اعمال جیسے یاد رکھنے، سیکھنے، جاننے، درک کرنے، محسوس کرنے وغیرہ میں ماہرین نفسیات کی دلچسپی ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات ان اعمال کا مطالعہ یہ جانے کے لئے کرتے ہیں کہ ہمارا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ نیز یہ جانکاری ان ذہنی افعال کے اطلاق اور ان کے استعمال کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کرتی ہے۔
ماہرین نفسیات لوگوں کے تجربات کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ تجربات فطرتاً شخصی اور داخلی ہوتے ہیں۔ ہم کسی اور کے تجربہ کو سیدھے طور پر دیکھ اور جان نہیں سکتے ہیں۔ صرف تجربہ کرنے والا شخص ہی اپنے تجربہ کی آگہی کر سکتا ہے اور جان سکتا ہے۔ اس طرح تجربات ہماری آگہی اور شعور میں محیط ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات نے ان تجربات کے علاوہ ان مثبت احساسات، جو رومانی ملاقات میں جنم لیتے ہیں، اس درد پر بھی دھیان دیا ہے اور مطالعہ کیا ہے جس سے کوئی مریض وقتاً فوقتاً گذرتا ہے یا وہ نفسیاتی درد جو کسی حادثہ کے وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب کوئی صوفی شعور کی ایک الگ سطح میں داخل ہونے اور نیا تجربہ حاصل کرنے کے لئے دھیان جماتا ہے یا مراقبہ کرتا ہے یا جب کوئی منشیات کا عادی اڑان محسوس کرنے کے لئے ایک مخصوص قسم کی نشہ آور منشیات لیتا ہے (حالانکہ ایسے ڈرگ (منشیات) بیحد نقصان دہ ہوتے ہیں) تو ان حالات میں عجب تجربات کا جنم ہوتا ہے۔ایسے باطنی تجربات پر بھی ماہرین نفسیات نے دھیان دیا ہے۔ تجربات تجربہ کرنے والے کے اندرونی اور باہری حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں کھچا کھچ بھری ہوئی بس میں سفر کرنے کی پریشانی آپ کو اس وقت محسوس نہیں ہوتی جب آپ اپنے بہت قریبی دوستوں کے ساتھ پکنک پر جارہے ہوتے ہیں۔ اس لئے تجربے کی نوعیت کو صرف اندرونی اور باہری حالات کے پیچیدہ مجموعہ کا تجزیہ کرنے کے ذریعے سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
کردار ہمارے ذریعہ کئے گئے جوابی عمل یا ردّعمل یا وہ سرگرمیاں ہیں جن میں ہم دن رات مشغول رہتے ہیں۔ جب آپ کی طرف کوئی چیز پھینکی جاتی ہے تو آپ کی آنکھ خود بخود اضطراری فعل کے طور پر جھپک جاتی ہے۔ آپ امتحان میں بیٹھتے ہیں تب آپ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ آپ اپنے دوست کے ساتھ مخصوص فلم دیکھنے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کردار آسان یا پیچیدہ ہو سکتے ہیں، کم مدت کے یا زیادہ مدت کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ کردار ظاہری ہوتے ہیں اور وہ باہری طور سے دیکھے یاکسی شاہد کے ذریعہ مشاہدہ میں لائے جا سکتے ہیں۔ کچھ اندرونی یا پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جب شطرنج کا کھیل کھیلتے وقت آپ پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں، آپ اپنے ہاتھ کے عضلہ میں اینٹھن محسوس کرتے ہیں اور پہلو بدل کر تجربہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سبھی کردار چاہے وہ ظاہری ہوں یا اندرونی ماحول میں کسی مہیج یا کچھ اندرونی طور سے رو پذیر تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ آپ چیتے کو دیکھتے ہیں اور بھاگتے ہیں یا آپ سوچتے ہیں کہ وہاں شیر ہے اور آپ وہاں سے بھاگنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کچھ ماہرین نفسیات کردار کا مطالعہ مہیج (S) S, R اور جوابی عمل (R) کے درمیان تعلق کے طور پر کرتے ہیں۔ مہیج اور جوابی عمل دونوں اندرونی یا باہری ہو سکتے ہیں۔
نفسيات بطور ایک علم
(Psychology as a Discipline)
جیسا کہ ہم نے اوپر بحث کی کہ نفسیات کردار، تجربہ اور ذہنی اعمال کا مطالعہ کرتی ہے۔ نفسیات یہ سمجھنےاور تشریح کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ذہن کس طرح کام کرتا ہے اور کس طرح مختلف ذہنی اعمال مختلف کرداروں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جب ہم ایک عام شخص کے طور پر دوسروں کا مشاہدہ کرتے ہیں تب ہمارا اپنا نظریہ یا دنیا کو سمجھنے کا ہمارا اپنا ڈھنگ ان کے کرداروں اور تجربات کی تشریح پر اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین نفسیات کردار اور تجربہ کی تشریح میں آئی ہوئی ایسی جانب داری کو مختلف طریقوں سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ماہرین نفسیات اپنے تجزیہ کو سائنٹفک اور معروضی بنا کر ایسا کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ کردار کی تشریح ان لوگوں کے نظریہ سے کرتے ہیں جو لوگ اس کا تجربہ کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ موضوعیت (Subjectivity) انسانی تجربہ کا ایک ضروری پہلو ہے جسے دور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی روایت میں مشاہدۂ ذات (Self reflection) اور اپنے شعوری تجربات کا تجزیہ نفسیاتی علم و فہم کا ایک اہم ماخذ مانا جاتا ہے۔ بہت سے مغربی ماہرین نفسیات نے بھی انسانی کردار اور تجربہ کو سمجھنے میں خود مشاہدہ اور خود شناسی کے کردار پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ تجربہ، ذہنی افعال اور تجربات کے مطالعہ کے طریقوں میں ماہرین نفسیات کے مابین اختلافات ہونے کے باوجود وہ ان کی فہم اور تشریح منظم اور قابل تصدیق ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نفسیات اگرچہ علم کی ایک قدیم شاخ ہے پھر بھی اگر ہم نفسیات کی شروعات لیپزگ(Leipzig) میں 1879ء میں پہلی لیبارٹری کے قائم ہونے کے سال سے لیں تو اس طور پر یہ ابھی جدید علم ہے۔ حالانکہ آج بھی یہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ نفسیات کس طرح کی سائنس ہے، خاص طور سے آج کے دور میں نفسیات کی بہت سی نئی نئی جہتیں ابھر رہی ہیں۔ نفسیات کو عام طور پرایک سماجی علم کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ نہ صرف دوسرے ملکوں میں بلکہ اپنے ملک ہندوستان میں بھی انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ دونوں سطحوں پر سائنس فیکلٹی میں بھی یہ مطالعہ کے مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ بہت سے طلباء اس مضمون میں بی۔ ایس سی اور ایم۔ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹیوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ دراصل دوسب سے زیادہ پسندیدہ اُبھرتے ہوئے علم کے شعبے جنہوں نے سائیکالوجی سے مستقل طور پر مستعار لیا ہے وہ ہیں عصبیاتی سائنس (علم الاعصاب) اور کمپیوٹر سائنس۔ ہم میں سے کچھ لوگ تیزی سے اُبھرتی ہوئی دماغ کی تمثالی تکنیک جیسے ایم ۔ آر۔آئی، ای۔ سی۔جی وغیرہ کے بارے میں جانتے ہوں گے جن کی وجہ سے دماغ کے اعمال کا مطالعہ اس وقت کر نا ممکن ہوا ہے جب وہ رو پذیر ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح سے انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں انسان اور کمپیوٹر کے مابین تفاعل اور مصنوعی ذہانت میں ترقی شاید وقوفی اعمال کے نفسیاتی علم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس طرح سے نفسیات میں بطور شعبہ علم آج دو متوازی شاخیں ہیں۔ ایک وہ جو عضویاتی اور حیاتیاتی سائنسوں کے طریقہ کا استعال کرتی ہے اور دوسری وہ جو مختلف نفسیاتی اورسماجی مظاہر کے مطالعہ کے لئے سماجی اور ثقافتی سائنسوں کے طریقہ کو بروئے کارلاتی ہے۔ یہ دو شاخیں صرف الگ ہونے اور اپنی اپنی راہ لینے کے لئے کبھی کبھی ایک ساتھ ملتی ہیں۔ پہلے معاملہ میں نفسیات اپنے آپ کو ایک ایسے علم کا شعبہ مانتی ہے جو انسانی کردار کی تشریح کے لئے خاص طور سے حیاتیاتی اصولوں پر مرکوز ہے۔ یہ فرض کرتی ہے کہ سبھی کرداری مظاہر کی وجوہات ہوتی ہیں اور ان وجوہات کو ہم اُجاگر کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہم کنٹرول حالات میں باقاعدگی سے معلومات اکٹھا کریں۔ یہاں پر تحقیق کرنے والے کا مقصد، سبب اور اثر کے تعلق کو جاننا ہوتا ہے جس سے کرداری مظاہر کی پیش گوئی کی جا سکے اور ضرورت پڑنے پرکردار کو کنٹرول کیا جا سکے۔ دوسری طرف، نفسیات بطور ایک سماجی سائنس اس پر مرکوز ہے کہ کرداری مظاہر کی تشریح اُس تفاعل کے طور پر کیسے کی جائے جو فرداور اس سماج کے ثقافتی سیاق کے مابین ہوتی ہے جس کا وہ خود ایک حصہ ہوتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ہر کرداری مظہر کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں۔ آئیے ہم ان دونوں شاخوں پر الگ الگ بحث کریں۔
نفسیات بطور علمِ طبیعی
(Psychology as a Natural Science)
یہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ سائیکالوی کی بنیادیں علم فلسفہ میں پیوست ہیں۔ تاہم جدید نفسیات کی نشوونما نفسیاتی مظاہر کے مطالعہ کے لئے سائنٹفک طریقہ کو بروئے کار لانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سائنس معروضیت پر بہت زیادہ زور دیتی ہے۔ معروضیت کو ہم تب حاصل کر سکتے ہیں جب تصور کی تعریف اور اس کی رہائش کے طریقۂ کار پر اتفاق رائے ہو۔ نفسیات کی نشوونما ڈیکارٹے (Descarte) کے نظریات سے متاثر ہو کر اور بعد میں علم طبیعات میں ترقی ہونے کی وجہ سے مفروضاتی و ستخراجی (Hypothetico-deductive) ماڈل کی تقلید کر کے ہوئی ہے۔ یہ ماڈل تجویز پیش کرتا ہے کہ سائنسی ترقی تبھی ہوسکتی ہے جب آپ کے پاس مظہر کی تشریح کے لئے نظریہ (theory) ہو۔ مثلاً ماہر طبیعیات کے پاس کائنات کیسے وجود میں آئی، اس سلسلہ میں بِگ بینگ(Big-bang) نظریہ ہے۔ نظریہ ایسے بیانات کا ایک مجموعہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مخصوص پیچیدہ مظہر کی تشریح کس طرح ایسے مفروضات کی مدد سے کی جائے جو آپس میں تعلق رکھتے ہوں۔ سائنس داں نظریہ پرمبنی ایسا فرضیہ اخذ کرتے یا تجویز کرتے ہیں جو اس سوال کی عارضی تشریح پیش کرتا ہے کہ کوئی مظہرکس طرح رونما ہوا۔ اس کے بعد فرضیہ کی جانچ کی جاتی ہے اور اس کو اکٹھا کئے گئے تجربی معطیات (ڈاٹا) کی بنا پر صحیح یا غلط ثابت کیا جاتا ہے۔ اگر اکٹھا کئے گئے معطیات پیش کردہ تجویز کے برعکس سمت کی نشان دہی کرتے ہیں تو نظریہ میں ترمیم کی جاتی ہے۔ حسب بالا طرزِ نظر کا استعمال کر کے ماہر نفسیات نے آموزش، حافظہ، توجہ، ادراک، محرک اور جذبہ وغیرہ کے نظریات کو فروغ دیا ہے اور نتیجہ خیز پیش رفت کی ہے۔ آج کی تاریخ تک نفسیات کی زیادہ تحقیقوں میں اسی طرزِ نظر کو اپنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین نفسیات اس ارتقائی طرزِنظر سے بھی کافی حد تک متاثر ہوئے ہیں جو حیاتیاتی سائنسوں میں نمایاں ہے۔ اس طرزِ نظر کا استعمال بھی انواع و اقسام کے نفسیاتی مظہر جیسے لگاؤ اور جارحیت وغیرہ کی تشریح کے لئے کیا گیا ہے۔
نفسيات بطور سماجی سائنس
(Psychology as a Social Science)
ہم نے اوپر کہا ہے کہ نفسیات زیادہ تر سماجی سائنس کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ یہ انسانوں کا مطالعہ ان کے سماجی و ثقافتی سیاق و سباق میں کرتی ہے۔ انسان نہ صرف اپنے سماجی وثقافتی سیاق وسباق سے متاثر ہوتا ہے بلکہ وہ انہیں بناتا یا ان میں ردو بدل کرتا ہے اور انہیں متاثر بھی کرتا ہے۔ نفسیات سماجی علم کی ایک شاخ کے طور پر انسانوں کا مطالعہ سماجی مخلوق کے طور پر کرتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے آپ حسب ذیل کہانی پر غور کیجئے۔
رنجیتا اور شبنم ایک ہی کلاس میں پڑھتی تھیں۔ دونوں کی جان پہچان حال ہی میں ہوئی تھی اور دونوں کی زندگی ایک دوسرے سے کافی مختلف تھی۔ رنجیتا ایک کسان فیملی کی تھی۔ اس کے دادا، والدین اور بھائی اپنی کھیتی پر کام کرتے تھے۔ گاؤں میں وہ اپنے گھر میں ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ رنجیتا ایک اچھی کھلاڑی تھی اور وہ اپنے اسکول میں لمبی دوری کی سب سے اچھی دوڑنے والی کھلاڑی تھی۔ اُسے لوگوں سے ملنے اور دوست بنانے میں مزہ آتا تھا۔
اس کے برخلاف شبنم اسی گاؤں میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے باپ پاس کے ایک قصبہ میں آفس میں کام کرتے تھے اور چھٹیوں میں گھر آتے تھے۔ شبنم ایک اچھی آرٹسٹ تھی اور اسے گھر پر ٹھہرنے اور اپنے چھوٹے بھائی کی نگہداشت میں دلچسپی تھی۔ وہ شرمیلی تھی اور لوگوں سے ملنا اسے پسندنہیں تھا۔
پچھلے سال کافی زیادہ بارش ہوئی اور پاس کی ندی میں سیلاب آ گیا۔ گاؤں میں نچلےعلاقے کے گھروں میں سیلاب کا پانی گھس گیا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوئے اور پریشان لوگوں کو محفوظ جگہوں پر پہنچایا۔ شبنم کے گھر میں بھی سیلاب کا پانی گھس گیا اور وہ اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رنجیتا کے گھر رہنے کے لئے آئی۔ رنجیتااس پریشان فیملی کی مدد کر کے اور اپنے گھر میں انہیں آرام پہنچا کر خوش ہوئی۔ جب سیلاب کا پانی گھٹ گیاتو رنجیتاکی ماں اور اس کی دادی نے شبنم کی ماں کو ان کا گھر دوبارہ بسانےمیں مدد کی۔ دونوں فیملی ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئیں۔ رنجیتااور شبنم بھی گہری دوست ہوگئیں۔
اس واقعہ میں رنجیتااور شبنم دو نہایت مختلف افراد ہیں۔ دونوں پیچیدہ سماجی اور ثقافتی حالات میں دو مختلف کنبوں میں پلی بڑھی ہیں۔ پھر بھی آپ سماجی اورطبیعی ماحول کے ساتھ ان کی فطرت، تجربہ اور ذہنی عمل کے رشتوں میں کچھ باقاعدگی دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی دونوں کے کرداروں اور تجربات میں اختلاف بھی ملیں گے جن کی پیش گوئی موجو نفسیاتی اصولوں کی بنا پر مشکل ہوگی۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مختلف فرقوں کے لوگ کیوں اور کیسے پریشانیوں میں ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں اور قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جیسا کہ رنجیتااور شبنم کے گاؤں میں ہوا۔ لیکن پھر بھی ایسے واقعہ میں بھی سبھی لوگ یکساں طور پر مددگار نہیں ہوتے ہیں اور یکساں حالات میں بھی فرقے یا کمیونٹی کے لوگ یکساں طور پر مدد کے لئے آگے نہیں آتے ہیں۔ دراصل کبھی کبھی اس کے برخلاف صحیح ہوتا ہے اور یکساں حالات میں رہتے ہوئے بھی لوگ غیر سماجی ہو جاتے ہیں اور نازک حالات میں لوٹ پاٹ اور ڈرانے دھمکانے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نفسیات انسانوں کے کردار اور تجربہ کا مطالعہ ان کے سماجی اور ثقافتی سیاق و سباق میں کرتا ہے۔ اس طرح نفسيات، افراد اور کمیونیٹیز کا ان کے سماجی - ثقافتی اورطبیعی ماحول کے ساتھ تعلق پر زور دیتی ہے۔ اس وجہ سے ایک سماجی سائنس ہے۔
ذہن اور کردار کی فہم
(Understanding Mind and Behaviour)
آپ کو یاد ہوگا کہ ایک وقت تھا جب نفسیات کی تعریف ذہن (mind) کا مطالعہ کرنے والے علم کے طور پر کی گئی تھی۔ کئی دہائیوں تک علم نفسیات میں لفظ ’ذہن‘ ایک ممنوع لفظ بنا رہا کیونکہ ٹھوس کرداری اصطلاح میں اس کی تعریف ممکن نہیں تھی اور اس کے تعینِ مکان کی نشاندہی بھی نہیں کی جاسکی۔ اب اگر ذہن کی اصطلاح نفسیات میں واپس آئی ہے تو اس کے لئے ہمیں اسپیری ((Sperry جیسے ماہرین علم الاعصاب اور پِنروز((Penrose جیسے ماہرین طبیعات کا مرہونِ منت ہونا چاہئے جنہوں نے اس کو وہ قدر اور اہمیت بخشی جو اس کا حق تھا اور جواَب بھی ہے۔ سائنس کی مختلف شاخوں میں بشمول نفسیات کے کئی ایسے سائنس داں ہیں جن کا یہ مانتا ہے کہ ذہن کے ایک متحدہ نظریہ کا امکان ہے اگرچہ ابھی اس سے ہم کافی دور ہیں۔
ذہن کیا ہے؟ کیا یہ دماغ جیسا ہے؟ یہی ہے کہ دماغ کے بغیر ذہن کا وجود نہیں ہوسکتا ہے لیکن ذہن کا ایک الگ وجود ہے۔ بہت سے دلچسپ واقعات جو قلم بند کئے گئے ہیں ان کی بناپراسے سمجھا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسے مریض جن کے بصری قصر جو دیکھنے کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں کو آپریشن کے ذریعہ نکال دیا گیا پھر بھی انہیں بصری اشارات کے وقوع اور تشکّل کے تئیں صحیح جوابی عمل کرتے ہوئے پایا گیا۔ اسی طرح سے ایک غیر پیشہ ور کھلاڑی کا بازو موٹر سائیکل کے ایک ایکسیڈنٹ میں ختم ہو گیا پھر بھی اُسے بازو اور بازو کی حرکت کا احساس ہوتا رہا۔ جب اُسے کافی دی جاتی تھی تو اس کا وہم پر مبنی’’وہی بازو‘‘ کافی کے کپ تک پہنچتا تھا اور جب کپ کو کوئی واپس لے لیتا تھا تو وہ احتجاج کرتا تھا۔ اور بھی بہت سے واقعات ماہرین اعصابیات کے ذریعہ قلم بند کئے گئے ہیں۔ ایک نوجوان کو ایکسیڈنٹ کی وجہ سے دماغ میں چوٹ لگ گئی تھی۔ وہ جب اسپتال سے گھر واپس آیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے گھر میں اس کے اصل والدین کے بدلے نقلی والدین آ گئے ہیں۔ وہ فریبی بہروپیے تھے۔ ان سبھی واقعات میں مختلف افراد کے دماغ کے کسی حصہ کو نقصان پہنچا تھا لیکن ان کا ’ذہن‘ محفوظ رہا۔ پہلے یہ یقین کیا جاتا تھا کہ ذہن اور جسم کے درمیان کسی طرح کا تعلق نہیں ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے متوازی ہیں۔ تاثراتی اعصابیات کی حالیہ ریسرچوں کے نتیجوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہن اور کردار کے درمیان تعلق ہے۔ ایسا پایا گیا ہے کہ مثبت ذہنی نقشہ کی تکنیکوں (Positive visualisation techniques) کا استعمال کرتے ہوئے اور مثبت جذبات کا احساس کر کے جسمانی افعال میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ آرنش (Ornish) نے اپنے کئی مریضوں پر اختیاری مطالعہ کر کے اس بات کو صحیح ثابت کیا ہے۔ ان مطالعوں میں بند شریانوں والے شخص کو تصور کرنے کو کہا گیا کہ ان کے بند شریانوں میں خون دوڑ رہا ہے۔ کئی بار پریکٹس کے بعدان مریضوں کو حیرت انگیز حد تک آرام ملا کیونکہ شریانوں میں خون کی رکاوٹ حیرت انگیز حد تک کم ہوگئی تھی۔ تمثالوں کے استعمال یعنی فرد کے ذریعہ اپنے ذہن میں تمثال بنانے کے استعمال سے مختلف مصنوعی خوفوں (چیزوں اور حالات سے متعلق غیر منطقی خوف) کا کامیاب علاج کیا گیا ہے۔ علم کی ایک نئی شاخ ’’ نفسیاتی اعصابی مامونیت کا علم‘ (Psychoneuroimmunology) کے نام سے وجود میں آئی ہے جو نظامِ مامونیت (Immune system)کو طاقتور بنانے میں ذہن کے ذریعہ ادا کئے گئے رول پر زور دیتی ہے۔
سرگرمی 1.1
آپ تصور کیجئے کہ آپ حسب ذیل حالات میں ہیں:
سبھی حالات میں شامل تین طرح کے نفسیاتی اعمال بتائیے:
1. آپ ایک مقابلہ کے لئے ایک مضمون لکھ رہے ہیں۔
2. آپ اپنے دوست کے ساتھ ایک دلچسپ موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں۔
3. آپ فٹ بال کھیل رہے ہیں۔
4. آپ ٹی وی پر ایک ڈرامہ دیکھ رہے ہیں
5. آپ کے سب سے اچھے دوست نے آپ کو چوٹ پہنچائی ہے۔
6. آپ امتحان دے رہے ہیں۔
7. آپ ایک خاص آدمی کا انتظار کر رہے ہیں۔
8. آپ اپنے ا سکول میں تقریر کرنے کے تیاری کر رہے ہیں۔
9. آپ شطرنج کھیل رہے ہیں۔
10. آپ ریاضی کے ایک مشکل مسئلہ کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں
اپنے جوابات پر اپنے استاد اور ساتھیوں سے بحث کیجئے۔
علم نفسیات کے بارے میں عوامی نظریات
(Popular Notions About the Discipline o Psychology)
ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہم میں سے سبھی لوگ تقریباً ایک نفسیات داں کی طرح کام کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے اس طرح سے برتاؤ کیوں کیا اور اس کی ایک تیار شدہ تشریح دے دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں ہم میں سے بہت سے لوگ انسانی کردار کے بارے میں اپنا نظریہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی مزدور پہلے کے مقابلہ میں زیادہ اچھی کارکردگی کرے تو ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اسے اُکسانا ہوگا۔ شاید ڈنڈے کا استعمال کرنا ہوگا کیونکہ لوگ بنیادی طور پر کام چور ہوتے ہیں۔ فہمِ عامہ پر مبنی دراصل آپ دیکھیں گے کہ انسانی کردار کی یہ عام فہم تشریح عقب بینی (وقوع پذیر کے بعد کی فہم) پر مبنی ہوتی ہے اور بہت کم تشریح فراہم کرتی ہیں۔ مثلا ًآپ کا ایک دوست جسے آپ پیار کرتے ہیں کہیں دور جگہ پر چلا جاتا ہے تو اس کے تئیں آپ کی پسند پر کیا گزرے گی؟ اس سوال کا جواب دینے سے متعلق آپ کو دو مقولے یاد آ سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ’’نظر سے دور تو ذہن سے دور‘‘ دوسرا ہے ’’دوری چاہت کو بڑھا دیتی ہے‘‘۔ دونوں ایک دوسرے سے متضاد بیان ہیں، اس لئے ان میں سے کون سا صحیح ہے۔ ان میں سے آپ جس تشریح کو چنیں گے وہ آپ کی زندگی میں اپنے دوست کو چھوڑنے کے بعد آپ پر جو گزری ہوگی اس پر منحصر ہوگی۔ فرض کیجئے کہ آپ کو ایک دوسرا دوست مل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ’’نظر سے دور ذہن سے دور‘‘ مقولہ خود آپ اور دوسرے لوگ بھی آپ کے کردار کی تشریح کے لئے استعمال کریں گے۔ اگر آپ دوسرا دوست تلاش نہیں کر پاتے ہیں تو آپ کو اپنا پیارا دوست بار بار یاد آئے گا۔ ایسی صورت میں ’’دوری چاہت کو بڑھا دیتی ہے‘‘ آپ کے کردار کی تشریح کرے گا۔ نوٹ کیجئے کہ دونوں صورتوں میں کردار کی تشریح وقوع پذیری پر منحصر کرتی ہے۔ عام مفہوم عام تصور پر منحصر ہوتے ہیں۔ نفسیات بطور سائنس کردار کے ایسے وضع کو تلاش کرتی ہے جن کی تشریح کردار کے وقوع پذیر ہونے کے بعد نہ کی جائے بلکہ جن کی پیش گوئی پہلے ہی کی جا سکے۔
نفسیات کے ذریعہ پیدا شدہ سائنسی علم اکثر عوامی نظریہ کے برخلاف ہوتا ہے۔ ایسی ایک مثال وِک(1975 ,Dweck) کے ذریعہ کیا گیا ایک مطالعہ پیش کرتا ہے۔ ان کی دلچسپی ایسے بچوں میں تھی جو مشکل مسائل پیش آنے یا مسائل پر ناکامی کے بعد آسانی سے چھوڑ دیتے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کی مدد کیسے کی جاسکتی ہے؟ عوامی نظریہ بتاتا ہے کہ ان کی کامیابی کی شرح بڑھانے کے لئے انہیں آسان مسائل دیئے جائیں جس سے ان کے اندر اعتماد بڑھے۔ اس کے بعد ہی انہیں مشکل مسائل حل کرنے کے لئے دیئے جائیں تبھی وہ نئے پیدا شدہ اعتماد کے تحت ان مسائل کو حل کر سکیں گے۔ وِک نے تحقیق کے ذر یعہ اس کی جانچ کی۔ اُنہوں نے بچوں کے دو گروپ حاصل کئے جنہیں پچیس دنوں تک ریاضی کے مسائل حل کرنے کی ٹریننگ دی گئی۔ پہلے گروپ کو آسان مسائل دیئے گئے جنہیں وہ ہمیشہ حل کر لیا کرتے تھے۔ دوسرے گروپ کو آسان اور مشکل مسائل ملا کر دیئے گئے۔ ظاہر ہے مشکل مسائل میں وہ فیل ہوئے۔ جب بھی ایسا ہوتا (فیل ہوتے)وِک یہ کہتیں کہ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ انہوں نے زیادہ کوشش نہیں کی اور قائل کرتیں کہ ان مسائل کو نہ چھوڑیں، بلکہ کوشش کرتے رہیں۔ ٹریننگ ختم ہونے کے بعد دونوں گروپوں کوریاضی کے سوالات کا نیا مجموعہ حل کرنے کو دیا گیا۔ وِک کو جو ملا وہ عوامی عقیدہ کے برخلاف تھا۔ وہ جو آسان سوالات کی وجہ سے ہمیشہ پاس ہوتے تھے ناکامی کا سامنا کرنے پران بچوں کے مقابلہ میں سوالات کو جلدی چھوڑ دیتے تھے جن کو پاس اور فیل دونوں کا تجربہ تھا اور جن کو یہ سکھایا گیا تھا کہ فیل ہونا کوشش کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اور بھی بہت سے عوای فہم کے نظریے ہیں جنہیں آپ صحیح نہیں پائیں گے۔ ابھی بہت عرصہ نہیں گذرا ہے کہ یہ یقین کیا جانے لگا تھا کہ کچھ ثقافتوں میں مرد عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں یا یہ کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ایکسیڈنٹ کرتی ہیں۔ تجربی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ان میں سے دونوں باتیں غلط ہیں۔ عوامی فہم یہ بھی بتاتا ہے کہ اگر کسی کو بہت سے حاضرین کے سامنے کارکردگی کے لئے کہا جائے تو وہ بہت اچھی کارکردگی نہیں کر پاتا ہے۔ نفسیاتی مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ اگر آپ نے خوب اچھی طرح سے مشق کی ہے تو آپ واقعی لوگوں کے سامنے زیادہ اچھا کر سکتے ہیں کیونکہ دوسروں کی موجودگی آپ کی کارکردگی میں مدد پہنچاتی ہے۔
ہمیں امید ہے کہ جیسے جیسے آپ اس کتاب کو پڑھیں گے آپ پائیں گے کہ انسانی کردار سے متعلق آپ کے بہت سے عقائد اور فہم تبدیل ہو گئے ہیں۔ آپ کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ ماہرین نفسیات نجومیوں ، ٹونہ ٹوٹکا کرنے والوں اور ہاتھ کی لکیریں پڑھنے والوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ وہ انسانی کردار اور دوسرے نفسیاتی مظاہرے کے بارے میں اصول وضع کرنے کے لئے معلومات پر منحصر قضیہ کی ترتیب وار جانچ کرتے ہیں۔
سرگرمی 1.2
طلباء کے مختلف گروپوں سے پوچھے کہ ان کے نزدیک نفسیات کیا ہے؟ وہ جو کہتے ہیں اس کا موازنہ اس سے کیجئے جو یہ کتاب بتاتی ہے۔ آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
نفسیات کا ارتقاء
(Evolution of Psychology)
بطور ایک جدید شعبۂ علم نفسيات بہت حد تک مغربی ترقیات سے متاثر ہوئی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی تاریخ ہے۔ یہ اس پرانے فلسفہ سے پروان چڑھی ہے جس کا تعلق نفسیاتی اہمیت کے حامل سوالوں سے تھا۔ ہم نے پہلے کہا ہے کہ جدید نفسیات کے شروع ہونے کا رسمی سال 1879ءہےجب جرمنی کے لِپزگ شہر میں ولہلم وونٹ (Wilhelm Wundt) نے نفسیات کی دنیا کی سب سے پہلی تجر بہ گاہ قائم کی۔ وونٹ کی دلچسپی شعوری تجربہ کے مطالعہ میں تھی اور وہ ذہن کے جزوِ ترکیبی یا ذہن کے تعمیری ٹکڑوں کا تجزیہ مشاہدہ باطن کے ذریعہ (یعنی اپنا مشاہدہ خود) کرتے تھے۔ اس لئے انہیں ہیئت داں کہا جاتا تھا اور ان کے نظریہ کو ہیئتیت (Structuralism) کہا جاتا ہے۔ خود کا مشاہدہ ایک ایسا طریقہ کار تھا جس میں افراد یا نفسیاتی تجربات کے معمول سے خود اپنے ذہنی اعمال یا تجربات کو بیان کرنے کے لئے کہا جاتا تھا۔ لیکن خود مشاہدہ بطور ایک طریقۂ مطالعہ بہت سے نفسیات دانوں کو مطمئن نہیں کر سکا۔ اس کو سائنسی نہیں سمجھا گیا یا کم سائنسی سمجھا گیا کیونکہ خود مشاہدی رپورٹوں کی تصدیق مشاہدہ کار کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی تھی۔ بہرحال اس نے نفسیات میں ایک نئے تناظر کی داغ بیل ڈالی۔
ایک امریکن ماہرِ نفسیات ولیم جیمس (William James) نے لِپزگ میں لیبارٹری قائم ہونے کے فوراً بعد میساچوسٹس (Massa chusets) کی کیمبرج یونیورسٹی میں نفسیاتی لیبارٹری قائم کی۔ انہوں نے انسانی ذہن کے مطالعہ کے لئے تفاعلی طرزِ نظر (Functionalist Approach) کی داغ بیل ڈالی۔ ولیم جیمس کا یقین تھا کہ ذہن کی ہیئت پر مرکوز ہونے کے بجائے نفسیات میں اس کا مطالعہ ہونا چاہئے کہ ذہن کس طرح سے کام کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے ماحول کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے کردار کس طرح کام کرتاہے۔ مثلاً ماہرین تفاعلیت نے اس بات پر دھیان دیا کہ کردار کس طرح لوگوں کو اپنی ضروریات پورا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ولیم جیمس کے مطابق شعور ذہنی افعال کے مستقل جاری جھرنے کے طور پر ماحول کے ساتھ تفاعل کرتے ہوئے نفسیات کا بنیادی نکتہ ہے۔ اس وقت کے ایک بہت بااثر تعلیمی مفکر جان ڈیوی (John Dewey) نے تفاعلیت کا استعمال اس بحث کے لئے کیا کہ انسان اپنے ماحول کے ساتھ مطابقت کر کے موثر ڈھنگ سے کام کرنے کی جستجو کرتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جرمنی میں وونٹ کے ہیئتیت کے ردّعمل میں ایک نیا تناظر اُبھرا جسے گِسٹالٹ نفسیات (Gestalt Psychology) کہا جاتا ہے۔ اس نے بصری تجربات کی تنظیم پر زور دیا۔ ذہن کے اجزاء کو ڈھونڈنے کے بجائے ماہرین گسٹالٹ نفسیات نے دلیل پیش کی کہ جب ہم دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا بصری تجر بہ ادراک کے عناصر کے کل میزان سے زیادہ ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر، جو ہم تجربہ کرتے ہیں وہ ہمارے ذریعہ ماحول سے حاصل کئے گئے مادخل (Inputs) سے زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً جب روشنی کی ایک مسلسل لڑی ہماری آنکھ کی ریٹینا پر گرتی ہے تو ہمیں دراصل روشنی کی حرکت کا تجربہ ہوتا ہے۔ جب ہم فلم دیکھتے ہیں تو دراصل تیزی سے متحرک ساکت تصویروں کے تمثالوں کا سلسلہ ہماری ریٹینا پراس طرح سے گرتا ہے کہ فلم میں تصویریں متحرک دکھائی دیتی ہیں ۔ اس طرح سے ہمارا بصری تجربہ اجزاء یا ٹکڑوں کے میزان سے زیادہ کچھ اور ہوتا ہے۔ تجر بہ مجموعی ہوتا ہے۔ یہ کل کا مجموعہ (گِسٹالٹ)ہے۔ ہم گسٹالٹ نفسیات کے بارے میں اس وقت اور زیادہ معلومات حاصل کریں گے جب ہم باب 5 میں ادراک کی نوعیت کے بارے میں پڑھیں گے۔
ہیئتیت یا نظریہ ہیئت (structuralism) کا ردِّعمل نظریہ کرداریت (Behaviourism) کی شکل میں بھی آیا۔۱۹۱۰ کے آس پاس جان واٹسن (John Watson) نے ذہن اور شعور کو نفسیات کے موضوعِ مطالعہ کے طور پر مسترد کر دیا۔ وہ عضویات دانوں کے کاموں جیسے ایوان پاولاو(Ivan Pavlov) کے التزام پر کئے گئے مطالعات سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان کے نزدیک ذہن کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور خود مشاہدہ موضوعی ہے کیونکہ اس کی تصدیق دوسرے مشاہدہ کار کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق سائنسی نفسیات کو اس پر مرکوز ہونا چاہئے جس کا مشاہدہ کیا جا سکے اور جو قابل تصدیق ہو۔ انہوں نے نفسیات کی تعریف کردار کے مطالعہ کے طور پر یا مہیجوں کے تئیں ان جوابی اعمال کے طور پر کی جن کی پیمائش کی جا سکے اور جن کا مطالعہ معروضی طور پر کیا جا سکے۔ واٹسن کے کرداریت کی نشوونما دیگر بہت سے مؤثر ماہرین نفسیات نے کی جنہیں کرداریت پسند (Behaviourist) کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں اسکینر (Skinner) ہے۔ جس نے کرداریت کا وسیع حالات میں اطلاق کیا اور اس طرز نظر کو عوام الناس میں عام کیا۔ ہم اسکینر کے کام کے بارے میں اس کتاب میں آئندہ بحث کریں گے۔
باکس 1.1 جدید نفسیات کے ارتقاء کے کچھ دلچسپ سنگ میل
1879 میں ولہلم وونٹ (Wilhelm Wundt) نے جرمنی میں لیپزگ یونیورسٹی میں دنیا کی سب سے پہلی نفسیات کے لیبارٹری قائم کی۔
1890 میں ولیم جیمس (William James) نے اپنی کتاب ’نفسیات کے اصول‘ (Principles of Psychology) شائع کی۔
1895 میں تفاعليت(Functionalism) کو نفسیات کے ایک نظام کے طور پر تیار کیا گیا۔
1900 میں سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) تحلیل نفسی کا نظام قائم کیا۔
1904 میں پاولاد(Ivan Pavlov) نے ہاضمہ کے نظام پر اپنے کام کی وجہ سے نوبل پرائز حاصل کیا جس نے جوابی اعمال (Responses) کی نشو و نما کے اصولوں کو سمجھنے کی راہ ہموار کی۔
1913 میں کلکتہ یونیورسٹی میں ہندوستان میں نفسیات کا پہلا شعبہ قائم ہوا۔
1920 میں جرمنی میں گسٹالٹ نفسیات (Gestalt Psychology) شروع ہوئی۔
1922 میں نفسیات کو انڈین سائنس کانگریس ایسوسی ایشن (Indial Science Congress Association) میں شامل کیا گیا۔
1924میں انڈین سائیکالوجیکل ا یسوسی ایشن (Indian Psychological Association) کا قیام عمل میں آیا۔
1924 جان بی. واٹسن نے کرداریت (Behaviourism) کی ایک کتاب شائع کی جس سے نظریہ کرداریت کی بنیاد پڑی۔
1928 این۔ این سین گپتا اور رادھاکمل کھری نے سوشل سائیکالوری کی پہلی نصابی کتاب شائع کی جسے لندن کی ایلن اینڈ انون کمپنی نے شائع کیا تھا۔
1949 میں ڈیفنس سائنس آرگنائزیشن آف انڈیا میں نفسیاتی ریسرچ کےصیغے کا قیام عمل میں آیا۔
1951 میں انسان مرکز ماہر نفسیات کارل روجرس نے معمول مرکز طریقہ علاج (Client-Centred Therapy) کی اشاعت کی۔
1953 میں بی۔ ایف۔ اسکینر نے سائنس اینڈ ہیومن بیہیویر: اسٹرینتھننگ بیہیورزم ایزا اے میجر ایپروچ ٹو سائیکلوجی (Science and Human Behaviour: Strengthening Behaviourism as a major approach to psychology) میں شائع کی۔
1954 میں انسان مرکز ماہر نفسیات ابراہم ماسلو نے محرک اور شخصیت (Motivation and Personality) کی اشاعت کی۔
1954 میں الٰہ آباد میں ’بیورو آف سائیکالوجی‘ قائم ہوا۔
1955 میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس (NIMHANS-National Institute of Mental Health and Neuro Science) جسے نِمہنس (Nimhans)کہا جاتا ہے کا قیام عمل میں آیا۔
1962 میں رانچی میں ذہنی بیماریوں کا اسپتال (Hospital for Mental Disease) قائم ہوا۔
1973 میں نوریڈ لارنیز (KnoradLorenz) اور نیکوٹیبرجن(Niko Tinergen) نے اپنے کام Built in Species-specific animal behaviour patterns that emerge without any prior experience/learning) پر نوبل پرائز حاصل کیا۔
1978 میں ہربرٹ سائمن نے فیصلہ سازی پرنوبل پرائز حاصل کیا۔
1981 میں ڈیویڈ ہوبل اور ٹورسٹن ویزل (David Hubel and Torsten Wiesel) نے اپنی ریسرچ ’دماغ میں بصری خلیات‘ پر کے لئے نوبل پرائز حاصل کیا۔
1981 میں روجر اسپیری (Roger Sperry) نے منقسم دماغ (Split research brain) پر نوبل پرائز حاصل کیا۔
1989 میں نفسیات کی نیشنل اکیڈمی آف انڈیا (Pshychology (NAOP) کا قیام عمل میں آیا۔
1997 میں گڑگاؤں (ہریانہ) میں نیشنل برین ریسرچ سینٹر (NBRC) قائم کیا گیا۔
2002 میں ڈینیّل کانمیں (Daniel Kahneman) نے ’تذبدب کے حالات میں انسانی فیصلہ اور فیصلہ سازی‘ (Human Judgment and Decision Making Under Uncertainty) پر اپنی ریسرچ کے لئے نوبل پرائز حاصل کیا۔
2005 میں تھامس شیلنگ (Thomas Schelling) نے اپنے کام معاشی کردار میں کشاکش اور تعاون کو سمجھنے کے لئے کھیل نظریہ کے اطلاق (Applying Game Theory to Understanding of Conflict and Cooperation in Economic Behaviour) کے لئے نوبل پرائز حاصل کیا۔
اگرچہ واٹسن کے بعد کرداریت پسند نفسیات کے میدان میں کئی دہائیوں تک چھائے رہے لیکن اس وقت نفسیات اور اس کے موضوع مطالعہ کے بارے میں اور بہت سے دوسرے طرز نظر اور زوایۂ نظر پیدا ہوئے۔ ایک شخص جس نے انسانی ذہن کے بارے میں اپنے خیالات سے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا اس کا نام سگمنڈ فرائڈ Sigmund Freud تھا۔ فرائڈ نے انسانی کردار کو لاشعوری خواہشات اور کشاکش کا متحرک ظہور بتایا۔ انہوں نے تحلیل نفسی (Psychoanalysis کے نظام کی بنیاد نفسیاتی امراض کو سمجھنے اور ان کے علاج کے طور پر ڈالی۔ ایک طرف فرائڈ کی تحلیل نفسی نے انسان کولذت حاصل کرنے والی (اکثر جنسی) لاشعوری ضروریات کی تکمیل کے لئے متحرک مانا تو دوسری طرف انسانی مرکزی (Humanistic) تناظر نے انسانی فطرت کا ایک زیادہ مثبت زاویہ پیش کیا۔ معتقدین انسانی مرکز جیسے کارل روجرس(Carl Rogers) اور ابراہم ماسلو (Abraham Maslow) نے انسانوں کے آزادعزم (ارادہ) اور اپنی اندرونی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان کی نمائش کرنے کی قدرتی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ کرداریت ماحولیاتی حالات کے ذریعہ کردار کے تعین پر زور دیتا ہے اور انسانی آزادی اور اس کی عزت کو کمتر سمجھتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ انسانی فطرت کا ایک مشینی زاویہ پیش کرتا ہے۔
ان تمام مختلف طرزِ نظریات سے جدید نفسیات کی تاریخ بھری ہوئی ہے جنہوں نے نفسیات کی نشوونما کو مختلف تناظر عطا کئے۔ ان میں سے ہر تناظر کا اپنا ایک زاویۂ نظر ہے جو ہمارے دھیان کو نفسیاتی اعمال کی پیچیدگیوں کی طرف کھینچتا ہے۔ ان سبھی طرز نظریات کی کچھ خوبیاں اور کچھ کمزوریاں ہیں ان میں سے کچھ طر زنظریات نے نفسیات کے علم کی نشوونما کو اور زیادہ جلا بخشی۔ گسٹالٹ طرزِ نظریااور ہیئتیت (Structuralism) کے کچھ حصوں کو ملا کر یا جوڑ کر وقوفی مناظر (Cognitive Perspective) کا جنم ہوا جو اس پر زور دیتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں سمجھ کس طرح حاصل کرتے ہیں۔ وقوف فہم حاصل کرنے کا عمل ہے۔ اس کے اندر تفکیر ، سمجھ، ادراک، یاد کرنا، مسئلہ حل کرنا اور کئی ایسے ذہنی اعمال شامل ہوتے ہیں جن کے ذریعہ دنیا کے بارے میں ہماری معلومات نشوونما پاتی ہے اور جن کی وجہ سے ہم ماحول کے ساتھ مخصوص ڈھنگ سے مطابقت کرنے کے لائق ہوتے ہیں۔ کچھ وقوفی ماہرینِ نفسیات انسانی ذہن کو کمپیوٹر کی طرح معلومات کے عمل کاری کا نظام مانتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق ذہن ایک کمپیوٹر کی مانند ہے اور یہ معلومات کو موصول کرتا، ان کی عمل کاری کرتا، تبدیل کرتا، اسٹور کرتا اور بعد میں ان کی بازیابی ((Retrieve کرتا ہے۔ جدید وقوفی نفسیات انسان کوطبیعی اور سماجی دنیا میں کھوج (Exploration) کے ذریعہ اپنے ذہن کومستعدی سے تعمیر کرتے رہنے والا فرد تصور کرتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کو کبھی کبھی تعمیریت (Constructivism) بھی کہا جاتا ہے۔ پیاجے(Piaget)کے بچوں کی نشونما سے متعلق نظریہ کو ایک تعمیری نظر یہ مانا جاتا ہے۔ ایک دوسرا روسی ماہرنفسیات ویگو سکی (Vigostsky) اس سے بھی آگے جا کر مشورہ دیتا ہے کہ انسانی ذہن انسانی اور ثقافتی اعمال کے ذریعہ نشوونما پاتا ہے جن میں وہ بڑوں اور بچوں کے ساتھ مشترکہ تفاعل کرتا ہے اور انسانی ذہن ثقافتی طور سے اس ثقافت میں تعمیر ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر پیاجے بچوں کومستعدی سے اپنا ذہن بناتے ہوئے مانتے ہیں جبکہ دیگوسکی کا خیال ہے کہ ذہن ایک مشترکہ ثقافتی تعمیر ہے جو بڑوں اور بچوں کے مابین تفاعل سے بنتا ہے۔
ہندوستان میں نفسیات کی نشوونما
(Development of Psychology in India)
ہندوستانی فلسفہ کے روایت کی ذہنی اعمال اور انسانی شعور خودی (mental reflections)، ذہن اور جسم کے تعلقات اور دوسرے بہت سے ذہنی کام جیسے وقوف، ادراک، التباس، دھیان اور استدلال وغیرہ پر کافی اچھی گرفت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہندوستانی روایت کی فلسفیانہ بنیادوں نے ہندوستان میں جدید نفسیات کی نشوونما کو متاثر نہیں کیا۔ ہندوستان میں اس علم کی نشوونما مغربی نفسیات کے زیراثر رہی، اگرچہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بھی مغربی نفسیات سے جداگانہ نکات کو حاصل کرنے کی بھی کچھ کوششیں ہوئی ہیں۔ اس کوشش میں ہندوستانی فلسفیانہ روایت کے مختلف بیانات کی صداقت کو سائنسی مطالعوں کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہندوستانی نفسیات کا جدید زمانہ کلکتہ یونیورسٹی کے شعبۂ فلسفہ میں شروع ہوا جہاں اختباری نفسیات کا پہلا نصاب شروع کیا گیا اور جہاں نفسیات کی پہلی لیبارٹری 1915ء میں قائم کی گئی۔ کلکتہ یونیورسٹی نے سب سے پہلا شعبہ نفسیات 1916ء میں شروع کیا اور اسی نے دوسرا شعبہ شعبۂ اطلاقی نفسیات Department of Applied Psychology 1938ءمیں شروع کیا۔ کلکتہ یونیورسٹی میں جدید اختباری نفسیات (Modern Experimental Psychology) کی شروعات زیادہ تر ہندوستانی نفسیات داں ڈاکٹر این. این .سین گپتا سے متاثر رہی۔ ڈاکٹر سین گپتا نے یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ میں ووٹ (Wundt) کی اختباری روایت میں ٹریٹنگ حاصل کی تھی۔ پروفیسر جی بوس نے فرائڈ کی تحلیل نفسی میں ٹریٹنگ حاصل کی۔ یہ ایک دوسرا میدان تھا جس نے ہندوستان میں نفسیات کی نشوونما کو متاثر کیا۔ پروفیسر بوس نے 1922ء میں انڈین سائگو إنالیٹکل ایسوی ایشن (Indian Psychoanalytical Association) قائم کی ۔ نفسیات کی تدریس اور ریسرچ کے دیگر مراکز مدراس یونیورسٹی اور پٹنہ یونیورسٹی میں تھے۔ ان چھوٹی چھوٹی شروعات سے شروع ہوکر بڑے پیمانہ پر تدریس،ریسرچ اور اطلاق کے مراکز کے قائم ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں جدیدنفسیات کی نشوونما ایک مضبوط اور زرخیز شعبۂ علم کی شکل میں ہوتی رہی۔ آج نفسیات کے یو جی سی کے ذریعہ کفالت شدہ دو سنٹرس آف ایکسلنس(Centres of Excellence) ہیں۔ ان میں سے ایک اُتکل یونیورسٹی، بھو پنیشور میں اور دوسرا یونیورسٹی آف الہٰ آباد، الہ ٰآباد (یو۔ پی) میں ہے۔ اس وقت تقریباً70 یونیورسٹیوں میں نفسیات کی تدریس ہوتی ہے۔
درگانند سنہا نے اپنی کتاب ’تیسری دنیا میں نفسیات : ہندوستانی تجربات(Psychology in a third World Country: The Indian Experience) 1986ءمیں شائع کی جس میں ہندوستان میں جدید نفسیات کو بطور سماجی سائنس کی تاریخ کے چار ادوار (Phases) بتائے ہیں۔ ان کے مطابق پہلا دور ہندوستان کی آزادی حاصل ہونے تک کا ہے۔ اس دَور میں اختباری نفسیات،تحلیل نفسی، اور نفسیاتی آزمائش پر زور دیا گیا۔ یہ مغربی ممالک میں نفسیات کی نشوونما کا عکس تھا۔ دوسرا دور آزادی حاصل ہونے کے بعد سے 1960ء تک کا دَور ہے جس میں ہندوستان میں نفسیات کی مختلف شاخوں کا پھیلاؤ ہوا۔ اس دَور کے درمیان ہندوستانی ماہرینِ نفسیات کے اندر مغربی نفسیات کو ہندوستانی تناظر (سياق) سے جوڑنے کی کوشش کے ذریعہ ہندوستانی تشخص کو قائم رکھنے کی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ہندوستان میں نفسیات، ہندوستانی سماج کے لئے1960ء کی دہائی کے بعد کے دَور میں مربوط ہو پائی۔ اس دور میں ماہرین نفسیات نے ہندوستانی سماج کے مسائل پرزیادہ توجہ دینی شروع کی۔ اس کے علاوہ ہمارے سماجی سیاق و سباق کو سمجھنے کے لئے مغربی نفسیات پر بہت زیادہ انحصار کی کمزوریوں کو پہچانا اور سمجھا گیا۔ اس وقت کے رہنما ماہرین نفسیات نے ایسی گرانقدر ریسر چوں پر زور دیا جو ہمارے خیالات سے مربوط ہوں۔ ہندوستان میں نفسیات کی نئی شناخت کی کھوج نے مقامیت پروری (Indigenisation) کے دَور کی شروعات کی جو 1970ء کی دہائی کے اواخر میں شروع ہوا۔ مغربی تناظر کو نامنظور کرنے کے علاوہ ہندوستانی ماہرین نفسیات نے ایک ایسے تناظر پر منحصر فہم کی نشوونما پر زور دیا جو ثقافتی اور سماجی طور پر بامعنی ہو۔ یہ رجحان روایتی ہندوستانی نفسیات پر مبنی طرزِ نظریات کی نشوونما کی کوششوں میں بھی جھلکتا ہے جو پرانے متن اور کتابوں میں ملتا ہے۔ اس طرح ہندوستان میں جدید نفسیات کی نشوونما کایہ دور ملکی نفسیات کی نشوونما کا دور ہے جو ہندوستانی ثقافتی سیاق سے شروع ہوا اور سماج ان سے متعلق تھا۔ اس میں ہندوستانی نفسیات ہندوستانی روایتی علمی نظام پر مبنی تھا۔ ان ترقیات کے جاری رہنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں نفسیات دنیا کے تناظر میں نفسیات کے میدان میں گرانقدر اشتراک (Contribution) فراہم کر رہی ہے۔ اب نفسيات اُن نفسیاتی اُصولوں کی نشوونما کی ضرورت پر جو خود ہمارے سماجی اور ثقافتی سیاق میں مضمر ہیں زور دینے کی وجہ سے زیادہ سیاقی (Contextual) ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ نئے تحقیقی مطالعات میں عصبی، حیاتیاتی اور ہیلتھ سائنسز کا امتزاج شامل ہے۔
اس وقت ہندوستان میں نفسیات کا اطلاق مختلف پیشہ ورانہ میدانوں میں ہورہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات نہ صرف مخصوص مسائل والے بچوں کے ساتھ کام کررہے ہیں بلکہ اب انہیں اسپتالوں میں کلینکی نفسیات داں کے طور پر، فروغ انسانی وسائل (HRD) کی کارپوریٹ تنظیموں میں اشتہاری شعبوں، کھیل ڈائریکٹریٹس اور نشوونما کے سیکٹر وغیرہ اور آئی. ٹی انڈسٹری میں بھی نوکریاں دی جارہی ہیں۔
نفسیات کی شاخیں
(Branches of Psychology)
پچھلے سالوں میں نفسیات کے بہت سے نقص (Specialization) کے میدان ابھرے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو نیچے بیان کیا گیا ہے۔
وقوفی نفسيات (Cognitive Psychology )
وقوفی نفسیات ماحول سے حاصل کی گئی معلومات کے حصول، ذخیرہ کاری، جوڑتوڑ اور ان کی تبدیلی میں مضمر ذہنی اعمال (افعال)، نیز مواصلات میں اس کے استعمال کی تلاش کرتی ہے۔ دھیان، ادراک، یادداشت (حافظہ)، استدلال، مسائل کاحل، فیصلہ سازی اور زبان وغیرہ اہم وقوفی اعمال ہیں۔ آپ ان کے بارے میں اس کتاب میں آئندہ پڑھیں گے۔ ان وقوفی اعمال کے مطالعہ کے لئے ماہرنفسیات لیبارٹری میں تجربات کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ماحولیاتی طرزِنظر کا استعال کرتے ہیں جس میں قدرتی ماحول میں وقوفی عمل کاریوں کا مطالعہ کرنے کے لئے ماحولیاتی عوامل پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ وقوفی ماہرینِ نفسیات بسا اوقات عصبی سائنس دانوں اور کمپیوٹر سائنس دانوں کے ساتھ اشتراک بھی کرتے ہیں۔
حیاتیاتی نفسیات (Biological Psychology)
نفسیات کی اس شاخ میں کردار اور طبی نظام بشمول دماغ اور دوسرے عصبی نظام جیسے نظام مامونیت (Immune System) اور نشانیات کے مابین تعلق پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
عصبی نفسیات(Neuropsychology)
عصبی نفسیات ریسرچ کی ایک فیلڈ کی شکل میں بھی ابھری ہے جہاں ماہرینِ نفسیات اور عصبی سائنس داں ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ محققین میں ٹرانسمیٹر (ترسیل کار) یا کیمیائی مادوں کے اس رول کا مطالعہ کر رہے ہیں جو دماغ کے مختلف حصوں میں عصبی ترسیل کا کام کرتے ہیں اور اس لئے ان سے متعلق ذہنی کاموں کا مطالعہ بھی اس میں کیا جاتا ہے۔ یہ سائنس داں ترقی یافتہ تکنیکوں جیسے ای۔ ای جی۔(EEG)، پی۔ای۔ ٹی۔ (PET) اور ایم آر آئی۔ (MRI) وغیرہ کا استعمال کر کے ان لوگوں پرتحقیقی کام کر رہے ہیں جن کے دماغ نارمل طور سے کام کر رہے ہیں اور ان لوگوں پر بھی جن کے دماغوں کو ضرر پہنچا ہے۔ آپ ان تکنیکوں کے بارے میں آگے پڑھیں گے۔
نشوونمائی نفسیات (Developmental Psychology)
نشوونما کی نفسیات ان عضویاتی، سماجی اور نفسیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرتی ہے جو مختلف مراحل اور پورے حیطۂ حیات کے دوران پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک کے مراحل میں وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔ نشوونمائی ماہرینِ نفسیات کا ابتدائی تعلق اس سے ہوتا ہے کہ ہم جیسے ہیں ویسے کیسے ہو جاتے ہیں۔ اس میں کئی برسوں تک زیادہ زور بچے اور نوبالغوں کی نشوونما پر ہی رہا۔ تاہم آج نشونمائی ماہرینِ نفسیات کی ایک بڑی تعداد اب بالغوں کی نشوونما اور بڑھتی عمر (بڑھاپا) میں گہری دلچسپی رکھنے لگی ہے۔ ان کی توجہ کا مرکز وہ حیاتیاتی، سماج - ثقافتی اور ماحولیاتی عوامل ہیں جو نفسیاتی خصوصیات جیسے ذہانت، وقوف، جذبہ، مزاج، اخلاقیات اور سماجی رشتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نشوونمائی ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ انسانیات، ماہرینِ عصبيات، سماجی کارکنان، مشورہ کاروں (Consellors اور علم کی ان سبھی شاخوں کے ساتھ اشتراک کرتے ہیں جو انسانوں کی نشوونما سے سروکار رکھتی ہیں۔
سماجی نفسیات (Social Psychology)
سماجی نفسیات اس بات کو تلاش کرتی ہے کہ لوگ کس طرح سے اپنے سماجی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں، لوگ دوسروں کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرتے ہیں۔ سماجی ماہرینِ نفسیات رویّوں، تقلید، اربابِ اختیار کے تئیں فرماں برداری، مددگاری کردار، عصبیت، جارحیت ، سماجی محرک، بین گروہی تعلقات وغیرہ جیسے مضامین میں بھی رکھتے ہیں۔
بین ثقافتی اور ثقافتی نفسیات
(Cross-cultural and cultural Psychology)
نفسیات کی یہ شاخ کردار، تفکیر اور جذبہ کو سمجھنے میں ثقافت کے کردار کا مطالعہ کرتی ہے۔ یہ اس بات کو مانتی ہے کہ انسانی کردار صرف انسان کی حیاتیاتی قوتوں کا ظہور ہی نہیں ہے بلکہ یہ ثقافت کی پیداوار بھی ہے۔ اس لئے کردار کا مطالعہ اس کے سماجی و ثقافتی تناظر میں کیا جانا ضروری ہے۔ آپ اس کتاب کے مختلف ابواب میں پڑھیں گے کہ ثقافت انسانی کردار کو مختلف زاویوں سے مختلف مقدار میں متاثر کرتی ہے۔
ماحولیانی نفسیات(Environmental Psychology)
ماحوليانی نفسیات کے اندر عضویاتی عوامل جیسے درجہ حرارت ، نمی، آلودگی اور انسانی کردار پر قدرتی آفات کے تفاعل اور اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کام کرنے کی جگہ کا صحت، جذباتی حالات اور افراد کے مابین تفاعل پر اثر پڑتا ہے اور ان کا مطالعہ اس میں کیا جاتا ہے۔ اس کے ریسرچ کے حالیہ مضامین کے اندر استعال شدہ چیزوں کو ٹھکانے لگانا، بڑھتی ہوئی آبادی، توانائی کا استعال کمیونٹی وسائل کا بہتر استعمال کس طرح سے انسانی کردار سے تعلق رکھتے ہیں اورکتنی حد تک انسانی کردار کی پیداوار ہیں وغیرہ شامل ہیں۔
صحت نفسيات (Health Psychology)
صحت نفسیات بیماریاں ہونے ، ان کی روک تھام اور ان کے علاج میں نفسیاتی عوال (جیسے دباؤ، تشویش) کے کردار پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ دباؤ اور ان سے چھٹکارا، صحت اور نفسیاتی عوامل کے مابین تعلق، مریض اور معالج کے مابین تعلقات اور صحت کو بہتر بنانے والے عوامل کو بڑھانے کے طریقے ایسے میدان ہیں جن میں ماہرینِ صحت نفسیات کی دلچسپی ہوتی ہے۔
کلینکی اور صلاح کاری نفسیات
(Clinical and Counselling Psychology)
نفسیات کی یہ شاخیں مختلف نفسياتی خلل جیسےتشویش، افسردگی کھانے کے خلل اور نشیلےمشروب کا بے حد اور بے جا استعمال کی وجوہات، ان کے علاج اور روک تھام کا مطالعہ فراہم کرتی ہیں۔ اس سے متعلقہ میدان صلاح کاری کا ہے جس کا مقصد لوگوں کو ان کے روز مرہ کی زندگی کے مسائل کوحل کرنے اور مشکل حالات کا زیادہ موثر طریقہ سے مقابلہ کرنے اور ان سے نمٹنے میں مدد کر کے ان کے روز مرہ کی کارکردگی کو اور زیادہ بہتر بنانا ہے۔ کلینکی ماہرین نفسیات کا کام صلاح کار نفسیات داں کے کام سے مختلف نہیں ہے۔ ویسے صلاح کارنفسیات کا سابقہ کبھی کبھی ایسے لوگوں سے بھی پڑتا ہے جو کم درجہ کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ صلاح کار نفسیات داں طلبا کے ساتھ کام کرنا اور انہیں ان کے اپنے شخصی مسائل اور کیرئیر کی پلاننگ کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ کلینکی ماہر نفسیات کی طرح ماہر علاج امراضِ نفسی معالج Psychiatrist)) بھی نفسیاتی عمل کی وجوہات، ان کے علاج اور روک تھام کا مطالعہ کرتا ہے۔ کلینکی ماہر نفسیات اور ماہر علاج امراضِ نفسی کسی طرح مختلف ہیں؟ کلینکی ماہر نفسیات نفسیات میں ڈگری حاصل کرتا ہے جس کے اندر نفسیاتی بیماریوں کے شکار لوگوں کے علاج کی گہری ٹریننگ شامل ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف ماہر علاج امراضِ نفسی میڈیکل کی ڈگری رکھتا ہے۔جس میں نفسیاتی امراض کے علاج کی برسوں مخصوص ٹرینگ شامل ہوتی ہے۔ ایک اور خاص فرق یہ ہوتا ہے کہ صرف ماہر علاج امراض نفسی ہی دوائیں لکھ سکتا ہے اور بجلی کے جھٹکوں سے علاج ((Electroshock treatment کرسکتا ہے، جب کلینکی ماہرنفسیات یہ کام نہیں کرسکتا ہے۔
صنعتی اور تنظیمی نفسیات
(Industrial and Organisational Psychology)
نفسیات کی اس شاخ میں تنظیم اور اس میں کام کرنے والے ملازمین دونوں پر دھیان دیتے ہوئے کام کی جگہ پر ہونے والے کردار کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ صنعتی؍ تنظیمی ماہر نفسیات کا سروکار ملازمین کی تربیت (ٹریننگ) سے ہوتا ہے جس سے کہ ان کے کام کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور ملازمین کے انتخاب کی کسوٹیاں بنائی جاسکیں۔ مثال کے طور پرتنظیمی ماہر نفسیات کسی کمپنی کو مشورہ دے سکتا ہے کہ منیجرس اور ورکروں کے مابین ترسیل ( مواصلات) کو سدھارنے کے لئے مینجمنٹ کے ایک نئے ڈھانچے کو اپنانا چاہیے۔ صنعتی اور تنظیمی نفسیات دانوں کی ٹریننگ خاص طور سے وقوفی اور سماجی نفسیات میں ہوتی ہے۔
تعلیمی نفسیات (Educational Psychology)
تعلیمی نفسیات اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ مختلف عمر کے لوگ کس طرح سے سیکھتے ہیں۔ تعلیمی نفسیات داں بنیادی طور تعلیم اور کام کی جگہوں پرلوگوں کی ٹریننگ میں استعمال کیے جانے والے تدریسی طریقوں اور موادوں کو تیار کرتے ہیں۔ ان کا سروکار تعلیم سے متعلق مسائل، صلاح کاری اور آموزشی مسائل پر ریسرچ کرنے سے بھی ہوتا ہے۔ اس سے متعلق ایک شاخ اسکولی نفسیات (School Psychology) کا میدان بھی ہے جو ایسے پروگراموں کو تیار کرنے پر مرکوز ہوتی ہے جن کے ذریعے بچوں بشمول مخصوص ضروریات کے بچوں (Children with special needs) کے ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ ماہرین نفسیات نفسیات کے علم کا اطلاق اسکول کے تناظر میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کھیل نفسیات (Sports Psychology)
کھیل نفسیات کھلاڑیوں کی اضافہ تحریک کے ذریعہ ان کی کارکردگی کو اونچا اٹھانے کے لئے نفسیات کے اصولوں کا اطلاق کرتی ہے۔ کھیل نفسیات نسبتاً ایک نئی شاخ ہے لیکن پوری دنیا میں اس کو ماناجاتا ہے۔
نفسیات کی دوسری اُبھرتی ہوئی شاخیں
(Other Emerging Branches of Psychology)
نفسیات کی تحقیق اور اطلاق پر بین الکلیات علمی (Interdisciplinary) رجحان کے اثر کے سبب نفسیات کے مختلف نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ ان نئے میدانوں (شاخوں) میں کچھ اہم ہیں: ہوابازی کی نفسیات (Aviation Psychology)، خلائی نفسیات (Space Psychology)، فوجی نفسیات (Military Psychology) ، عدالتی نفسیات (Forensic Psychology)،دیہی نفسیات (Rural Psychology)، انجینئری نفسیات (Engineering Psychology)، انتظامی نفسیات (Managerial Psychology)، کمیونٹی نفسیات (Community Psychology)، عورتوں کی نفسیات (Psychology of Women)، سیاسی نفسیات (Political Psychology)، وغیرہ۔
سرگرمی 1.3 میں نفسیات کے میدانوں میں اپنی دلچسپی کی عکاسی کیجئے۔
سرگرمی 1.3:
آپ نفسیات کے ان میدانوں (شاخوں) کے بارے میں سوچیے جنہیں آپ نے اپنے نصاب کی اس کتاب میں پڑھا ہے۔ حسب ذیل فہرست کو پڑھیے اور سب سے زیادہ دلچسپ شاخ کو 1 نمبر اور سب سے کم دلچسپ کو 11 نمبر دیجئے۔
وقوفی نفسیات
حیاتیاتی نفسیات
نشو و نمائی نفسیات
سماجی نفسیات
بین ثقافتی اور ثقافتی نفسیات
ماحولیاتی نفسیات
صحت کی نفسیات
کلینکی اور صلاح کاری نفسیات
تعلیمی نفسیات
کھیل نفسیات
اس کتاب کو پڑھنے اور کورس کو ختم کرنے کے بعد آپ اس کام کو دوبارہ پلٹ کر دیکھ سکتے ہیں اور اپنے ذریعہ پہلے دی گئی درجہ بندی میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔
تحقیق اور اطلاق کے موضوعات
(Themes of Research and Application)
کتاب کے پچھلے حصہ میں آپ نے نفسیات کی مختلف شاخوں کےبارے میں کچھ اندازہ کیا ہوگا۔ اب اگر آپ سے ایک سیدھا سا سوال پوچھا جائے کہ ’’ماہرین نفسیات کیا کرتے ہیں؟‘‘ تو عام جواب یہ ہوگا کہ وہ مختلف حالات میں کام کرتے ہوئے بہت سارے کام انجام دیتے ہیں۔ تاہم اگر آپ ان کے کاموں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں تو آپ پائیں گے کہ وہ بنیادی طور پر کام انجام دیتےہیں: پہلا، نفسیات میں تحقیق کرنا اور دوسرا نفسیات کا اطلاق۔
وہ کون سے کچھ اہم موضوعات ہیں جو نفسیات کی تحقیق اور اطلاق کو سمت مہیا کرتے ہیں؟ ایسے بہت سے موضوعات ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ اہم موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔
موضوع نمبر1: دوسری سائنسوں کی طرح نفسیات بھی کردار اور ذہنی اعمال کے اصولوں کو وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ریسرچ میں خاص سرو کار کردار اور ذہنی واقعات اور اعمال کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے سے ہوتا ہے۔ ریسرچ کرنے والے اور اس میں مشغول رہنے والے ماہرین نفسیات زیادہ تر دیگر سائنس دانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ انہیں کی طرح وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں جو معلومات پر منحصر ہوتے ہیں۔ وہ اختباروں کو ڈیزائن کرتےاور انہیں انجام دیتے ہیں یا کنٹرول حالات میں بہت سارے نفسیاتی مظاہر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کا مقصد کردار اور ذہنی اعمال (افعال) کے بارے میں عمومی اصولوں کو وضع کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مطالعوں پر مبنی جو نتیجے اخذ کئے جاتے ہیں ان کا اطلاق سبھی پر ہوتا ہے اس لئے وہ ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ عام طور سے اختباری، تقابلی، عضویاتی، نشوونمائی، سماجی اور تفرقی اور غیرطبی نفسیات Differential and Abnormal Psychology)) کو بنیادی نفسیات‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔
ان میدانوں (شاخوں) میں تحقیق کے موضوع ایک دوسرےسے مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً اختباری نفسیات داں ادراک، آموزش، یادداشت، تفکیر اور محرکات وغیرہ پر اختباری طریقہ کار استعال کر کے اُن کا مطالعہ کرتا ہے جبکہ عضویاتی نفسیات داں ان کرداروں کی عضویاتی بنیادوں کی جانچ کرتا ہے۔ نشوونمائی ماہرین نفسیات کردار میں آئی ہوئی ان کیفیتی اور مقداری تبدیلیوں کا مطالعہ کرتےہیں جو انسانی زندگی کے شروع ہونے سے خاتمہ تک رونما ہوتی ہیں۔ سماجی ماہرینِ نفسیات اپنی توجہ انسان کے اُن تجربات اور کرداروں پر مرکوز کرتے ہیں جو سارے سیاق و سباق (پس منظر) میں رو پذیر ہوتے ہیں۔
موضوع نمبر2: انسانی کردار انسان کے اوصاف اور ماحول کے مابین تفاعل کا نتیجہ ہوتا ہے:
کُرت لیون (Kurt Lewin) نے سب سے پہلے کردار کا مشہور خاکہ B=f (P,E) پیش کیا جو یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ کردار فرد اور اس کے ماحول کے تفاعل کا نتیجہ ہے۔ یہ فارمولہ آسان طریقہ میں یہ بتاتا ہے کہ انسانی کرداروں میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں تفصیلی طور پر انسانوں میں نشائی ودیعت(Genetic) اور مختلف تجربات کی وجہ سے ان کے اوصاف میں آئے ہوئے اختلافات کی وجہ سے اور اس ماحول کی وجہ سے آتے ہیں جس میں اسے رکھا جاتا ہے۔ یہاں پر ماحول کو اس طرح تصور کیا جاتا ہے جس طرح سے فرد اس کا ادراک کرتا ہے اور اس سے معنی اخذ کرتا ہے۔ بہت زمانے سے باہر نفسیات یہ مانتے آئے ہیں کہ اوصاف میں کوئی بھی دو افراد یکساں نہیں ہوتے ہیں۔ وہ ذہانت، دلچسپی، اقدار، استعداد اور بہت سارے دوسرے اوصاف میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ دراصل ان اختلافات کی پیمائش کے لئے ماہر نفسیات نے بہت ہی آزمائشیں (Tests) بنائی ہیں۔ ایک شعبہ علم جسے تفرقی نفسیات (Differential Psychology) کہاجاتا ہے وہ اپنی توجہ انفرادی تفریق پر مرکوز کرتا ہے۔ نفسیات کی اس شاخ کا جنم انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا اور پھلی پھولی۔ اس کا بہت بڑا حصہ اب بھی شخصیت کی نفسیات (Psychology of Personality) کی شکل میں موجود ہے۔ ماہرین نفسیات یقین کرتے ہیں کہ اگر چہ بنیادی نفسیاتی اعمال ہمہ گیر ہیں لیکن پھر بھی شخصی ودیعت کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ انفرادی اختلافات کے علاوہ ماہرین نفسیات اس پر یقین کرتے ہیں کہ کردار میں ایسے اختلافات بھی ہیں جو ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جسے ماہرین نفسیات نے انسانیات (Anthropologists) ، ارتقائی نظریات دانوں (Evolutionary Theorists)اور ماہرین حیاتیات (Biologists) سے حاصل کیاہے۔ ماہرینِ نفسیات مختلف نفسیاتی مظاہر کی تشریح فرد اور ماحول کے مابین تفاعل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات انسانی کردار کی تشریح میں توارث اور ماحول کی تقابلی اہمیت طے کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں، اگر چہ مشکل ہے۔
موضوع نمبر3: انسانی کردار کی وجہ ہوتی ہے:
تقریباً سبھی ماہرین نفسیات یقین کرتے ہیں کہ بھی انسانی کرداروں کی تشریح وجوہات کی بنا پر کی جاسکتی ہے۔ یہ وجوہات اندرونی (جو انسان کے اندر ہوتی ہیں) یا باہری (جو باہر ماحول میں موجود ہوتی ہیں) ہوتی ہیں۔ وجوہاتی تشریح سبھی سائنسوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بغیر وجوہات کو سمجھے ہوئے کوئی بھی پیش گوئی ممکن نہیں ہوگی۔ اگر چہ ماہرنفسیات کردار کی وجوہاتی تشریح کی مدد لیتے ہیں تاہم وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کی سیدھی اور آسان تشریح ممکن نہیں۔ جیسے Xکی وجہ سے Yہے صحیح نہیں ہے کیونکہ کردار کی صرف ایک ہی وجہ نہیں ہوتی ہے بلکہ انسانی کردار کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ اس لئے ماہر نفسیات ایسے وجوہاتی ماڈل کی مدد لیتے ہیں جن میں کردار کی تشریح کیلئے متغیرات کے ایک مجموعہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ کردار کی بہت ساری وجوہات ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کردار کی صرف ایک وجہ کی نشاندہی کرنامشکل ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ از خود کسی دوسرے متغیر کی وجہ سے رونما ہوا ہو جو پلٹ کر کسی اور وجہ سے پیدا ہوا ہو۔
موضوع نمبر4: انسانی کردار کی فہم ثقافتی طور سے وضع ہوتی ہے
یہ ایک ایسا موضوع ہے جو حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔ ایسے بہت سے ماہرین نفسیات ہیں جو یقین کرتے ہیں کہ موجودہ نفسیاتی نظریات اور ماڈلوں کی فطرت یوروپی اور امریکی ہے، اس لئے یہ دوسرے ثقافتی تناظر میں کرداروں کو سمجھنے میں مدد نہیں کرتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ اورلیٹن امریکہ کے ماہرین نفسیات پوری امریکی طرز نظریات جن کی تشہیر کی گئی ہے کہ وہ عالمگیر ہیں کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس طرح کی تنقیدِ حقوق نسواں (Faminists) کے ذریعہ بھی کی گئی ہے۔ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ نفسیات ایک مردانہ تناظر پیش کرتی ہے اور خواتین کے تناظر سے قطع نظر کرتی ہے۔ وہ ایک دو طرفہ تناظر کی دلیل پیش کرتے ہیں یعنی ایک ایسے تناظر کی جو انسانی کردار کو سمجھنے میں مردانہ اور زنانہ دونوں تناظروں کی موافقت کرے۔
موضوع نمبر5: انسانی کردار کو نفسیاتی اُصولوں کے اطلاق کے ذریہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔
سائنس داں اس بات میں دلچسپی کیوں لیتے ہیں کہ طبیعی یا نفسیاتی حادثات کو کس طرح سے کنٹرول کیا جائے۔ ان کا یہ سروکار ان کی انسانی زندگی کی کیفیت کو اوپر اٹھانے کے لئے تکنیکوں اور طریقوں کو ایجاد کرنے کی خواہش سے پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات بھی اپنے ذریعہ پیدا کردہ علم کے اطلاق کے ذریعہ یہی کام کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے لئے انسان کی کچھ ان پریشانیوں اور حالات کو ہٹانے یا ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں وہ اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ماہرین نفسیات ضرورت مند انسانوں کی زندگی میں کچھ مداخلت کی اسکیم بناتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا یہ اطلاقی کردار ایک طرف تو نفسیات کو عموماً لوگوں کی زندگی سے دوسری سماجی سائنسوں کے مقابلے میں زیادہ قریب لایاہے اور اس کے اصولوں کی اطلاقی حیثیت کی کمزوریوں کو جاننے میں مددگار ثابت ہوا ہے اور دوسری طرف ان کے اس رول نے نفسيات کو ایک مضمون کی حیثیت سے مشتہر کیا ہے۔ اس طرح سے نفسیات کی مختلف شاخوں نے جنم لیا ہے جو صنعت اور تنظیموں، کلینکی خدمات، تعلیم، ماحول، صحت اور کمیونٹی کی ترقی کے متعلق مسائل کی تشخیص اور علاج کے لئے نفسیاتی نظریوں، اصولوں اور حقائق کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں صنعتی نفسیات، تنظیمی نفسیات،کلینکی نفسیات،تعلیمی نفسیات، انجینئری نفسیات اور کھیل نفسیات،چندایسے میدان ہیں جن میں ماہرین نفسیات انسانوں، گروپوں اور تنظیموں کو خدمات دینے میں مشغول ہیں۔
بنیادی بنام اطلاقی نفسیات
(Basic Vs. Applied Psychology)
یہاں پر یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ نفسیات کے مختلف میدانوں کو ’بنیادی‘‘ اور ’’اطلاقی‘‘ نفسیات کے اندر صرف اُن کے کچھ مخصوص موضوع مطالعہ اور پھیلے ہوئے سروکار کی بنا پر تقسیم کیا گیا ہے ورنہ نفسیات کی تحقیق اور اس کے اطلاق کے درمیان کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ مثلاً بنیادی نفسیات ہم کو ایسے نظریے اور اصول مہیا کرتی ہے جونفسیات کے اطلاق کی بنیادکا کام کرتے ہیں اور اطلاقی نفسیات ہم کو وہ مختلف سیاق و پس منظر مہیا کرتی ہے جن میں حقیقی سے حاصل شدہ نظریات اور اُصولوں کا بامعنی ڈھنگ سے اطلاق کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف تحقیق نفسیات کے ان میدانوں کا بھی لازمی حصہ ہے جنہیں خاص طور سے اطلاق کی صفت سے نوازا جاتا ہے یا جنہیں صاف طور سے اطلاق کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ مختلف سیاق میں نفسیات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بموجب نفسیات کے بہت سے میدان جو پہلے کی دہائیوں میں ’’تحقیق رُخی‘‘ Research oriented)) کہے جاتے تھے وہ بتدریح ’’اطلاق رُخی‘‘ Application oriented)) ہوتے جارہے ہیں۔ اطلاقی اختباری نفسیات، اطلاقی سماجی نفسیات اور اطلاقی نشوونمائی نفسیات جیسے نئے ابھرتے ہوئے شعبے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دراصل سبھی طرح کی نفسیات کے اندر اطلاق کا مادّہ ہے اور وہ بنیادی طور پر فطرتاً اطلاقی ہیں۔
اس طرح بظاہر نفسیات کی تحقیق اور اطلاق میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں کام حد درجہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں اور ایک دوسرے کو باہمی طور پر تقویت پہنچاتے ہیں۔ ان کے باہمی تفاعلات اور ایک دوسرے پر ان کے پھیلے ہوئے اثرات اتنے نمایاں ہیں کہ حال کے سالوں میں اپنے موضوع مطالعہ پر بہت مخصوص زور دینے کی وجہ سے ان کی کئی مخصوص چھوٹی چھوٹی شاخیں پیدا ہوگئی ہیں۔ اس طرح ماحولیاتی نفسیات Ecological Psychology) ) حیاتیاتی نفسیات (Biology Psychology)، ماحولی نفسیات (Environmental Psychology)، بین ثقافتی نفسیات ( Cross-cultural Psychology)، فضائی نفسيات Space Psychology)) اور وقوفی نفسیات ((Cognitive Psychology ایسی چھوٹی شاخیں ہیں جو پہلے دوسری بڑی شاخوں کی حصہ تھیں۔ ان نئی شاخوں میں پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ حصوں میں تحقیقی مہارتیں اور تربیت درکار ہوتی ہیں۔
نفسیات اور دیگر علوم
(Psychology and Other Disciplines)
کوئی بھی وہ علم جولوگوں کا مطالعہ کرتا ہے وہ نفسیات کے علم کی معنویت کو یقیناً تسلیم کرے گا۔ اسی طرح سے ماہرینِ نفسیات بھی انسانی کردار کو سمجھنے کے لئے دوسرے علوم کی معنویت کو مانتے ہیں۔ نفسیات کے میدان میں اس رجحان کے سبب بین الکلیات علمی (Interdisciplinary) طرزنظر کا ظہور ہوا ہے۔ سائنس، سماجی سائنس اور علوم انسانی (Humanities) نے نفسیات کو بطور ایک شعبۂ علم تسلیم کیا ہے۔ شکل 1.1 نفسیات کے دوسری سائنسوں کے ساتھ تعلق کو بہت صاف طور سے بتاتی ہے۔ دماغ اور کردار کا مطالعہ کرنے میں نفسیات اپنے علم کا اشتراک نشائیات، عضویات، حیاتیات، ادویات اور کمپیوٹر کے ساتھ کرتی ہے۔ اسی طرح انسانی کردار کا سماجی ثقافتی سياق (اس کے معنی، نمو اور نشوونما) میں مطالعہ کرنے کے لئے نفسیات اپنے علم کا اشتراک بشریات، سماجیات، سماجی کام (Social Work)، سیاسیات اور معاشیات کے ساتھ کرتی ہے۔ کسی ادبی نصاب کو تیار کرنے اور میوزک اور ڈرامہ تیار کرنے میں پنہاں ذہنی افعال کا مطالعہ کرنے میں نفسیات اپنے علم کا اشتراک، ادب، آرٹ اور میوزک سے کرتی ہے۔ کچھ خاص علوم جن کا تعلق نفسیات کے میدان سے ہے ان کی بحث نیچے دی گئی ہے۔
فلسفہ (Philosophy):
انیسویں صدی کے اخیر تک کچھ موضوعات جو اَب نفسیات کا حصہ بن گئے ہیں جیسے ذہن کی کیا فطرت ہے؟ لوگ کیسے اپنے محرکات اور جذبات کے بارے میں جان پاتے ہیں وہ غیر فلسفیوں سے متعلق موضوعات تھے۔ انیسویں صدی کے آخری حصہ میں وونٹ اور دیگر ماہرین نفسیات نے ان سوالات کے جوابات کے لئے اختباری طرز نظر کو اپنایا اور ہم عصری نفسیات کا جنم ہوا۔ نفسیات ایک سائنس کے طور پر اُبھرنے کے باوجود بڑی حد تک فلسفہ سے مدد لیتی ہے خاص طور سے فہم کے طریقوں اور انسانی فطرت کے مختلف میدانوں میں لیتی ہے۔
طب: (Medicine)
ڈاکٹروں نے اس کہاوت کو مان لیا ہے کہ ’صحت مند بدن کوصحت مند ذہن‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات دراصل صحیح ہے۔ اب بڑی تعداد میں اسپتالوں میں ماہر نفسیات کو نوکریاں دی جارہی ہیں۔ لوگوں کو صحت کے لئے مضر کرداروں سے بچانا اور ڈاکٹروں کے ذریعہ بتائے گئے پر ہیزوں کو ماننا وغیرہ کچھ ایسے اہم میدان ہیں جہاں دونوں علم ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ کینسر اور ایڈس کے مریضوں اور جسمانی طور سے معذور لوگوں کے علاج یا مریضوں کو انتہائی نگہداشت اکائی Intensive Care Unit)) میں رکھنے اور ان کے ہی رکھ رکھاؤ کے لئے اور مریضوں کو آپریشن کی مدت کے دوران ٹھیک دیکھ بھال میں ڈاکٹروں نے نفسیاتی صلاح کاری کی ضرورت کو بھی محسوس کیا ہے۔ ایک کامیاب ڈاکٹر مریض کی نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح کی بہبود کا خیال رکھتا ہے۔
معاشات، سیاسیات اور سماجیات
(Economics, Political Science and Sociology):
معاون سماجی علوم کے طور پر معاشیات، سیاسیات اور سماجیات نے نفسیات سے کافی کچھ لیا ہے اور ساتھ ہی ان مضامین کے ذریعہ بھی نفسیات کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ نفسیات نے اقلی یا خوردسطح Micro level)) کے معاشی کردار کے مطالعہ خاص طور سے خریدارکے کردار کا مطالعہ، بچت کے کردار اور فیصلہ سازی وغیرہ کے مطالعات میں نفسیات نے بہت زیادہ مدد مہیا کی ہے۔ امریکی معاشیات دانوں نے خریداروں کے جذبات پر معطیات کا استعمال کر کے معاشیاتی ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔ تین عالموں ایچ ۔ سائمن، ڈی۔ کہن مین اور ٹی۔ شیلنگ (H.Simon, D. Kahneman and T. Schelling) نے ایسے ہی مسائل پر کام کر کے نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔ معاشیات کی طرح سیاسیات نے نفسیات سے کافی کچھ لیا ہے۔ خاص طور سے طاقت اور اختیار(اقتدار) کا استعمال، سیاسی جھگڑوں اور ان کے نبٹارے کوختم کرنے کی فطرت، اور وونٹ کے کردار سے متعلق مسائل کو سمجھنے میں سیاسیات نے نفسیات سے کافی کچھ حاصل کیا ہے۔ مختلف سماجی ثقافتی سیاق میں افراد کے کردار کو سمجھنے اور اس کی تشریح کے لئے سماجیات اور نفسیات ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں ۔ سماجیانے، گروپ اور اجتماعی کردار اور بین گروپ کشمکش جیسے مسائل کا فہم حاصل کرنے کے لئے علم کی دونوں شاخوں نے ایک دوسرے سے استفادہ حاصل کیا ہے۔
کمپیوٹر سائنس Computer science:
شروع سے ہی کمپیوٹر کے سائنسداں انسانی ذہن کی شبیہہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص کمپیوٹرکی کی ساخت ہے اس کا حافظہ کیسے منظم ہوتا ہے۔ اطلاعات کی سلسلہ وار اور ہم رفتی Sequential and simultaneous)) عمل کاری کے نظریہ سے اسے دیکھ سکتا ہے۔ کمپیوٹر کے سائنس داں اورانجینئر کمپیوٹر کونہ صرف ذہن سے ذہین تر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ ایسی مشینوں کی ایجاد بھی کر رہے ہیں جو سمجھ سکیں اور محسوس کرسکیں علم کی ان دونوں شاخوں میں ترقی نے وقوفی سائنسوں کے میدان کو اہم پیش روی عطا کی ہے۔
قانون اور جُرمیات(Law and Criminology):
ایک ہنرمند وکیل اور ماہر جرمیات کو ایسے سوالات سے جوابات کے لئے نفسیات کے علم کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ کوئی گواہ حادثہ، بھگدڑ یا قتل کو کتنی اچھی طرح سے یاد رکھتا ہے۔ وہ وِٹنس باکس میں گواہ کے موقف کو کس خوبی سے رپورٹ کرسکتا ہے۔ ججوں کے ذریعہ لئے گئے فیصلہ کو کون کون سے عوامل متاثر کرتے ہیں؟ گناہ اور جرم کی کون سی اطمینان بخش نشانیاں ہیں؟ مجرم کو جرم کا مرتکب ٹھہرانے میں کون سے عوامل خاص ہیں؟ کسی جرم کے لئے کتنی سزا کو انصاف مانا جائے؟ ماہرنفسیات ان سبھی سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہت سے ماہرین نفسیات ایسے مسائل کی تحقیقات میں لگے ہوئے ہیں جن کے جوابات مستقبل میں ملک کی عدلیہ کو مدد بہم پہنچائیں گے۔
ماس کمیونیکیشن (Mass Communication)
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بہت حد تک ہماری زندگی میں سمٹ کر آ گئے ہیں۔ ہماری تفکیر،رویوں اور جذبات کو انہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایک طرف اگر وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائے ہیں تو دوسری طرف ثقافتی اختلافات کو بھی انہوں نے کم کیاہے۔ بچوں کے رویوں کو بنانے اور ان کے کردار پر میڈیا کے اثرات کا مطالعہ ایسامیدان ہے جہاں پرنفسیات اور ماس کمیونیکیشن قریب آئے ہیں۔ اس کے علاوہ معلومات کی اچھی اور کامیاب ترسیل کے لئے تراکیب کی ایجاد میں بھی نفسیات نے اسے مدد بہم پہنچائی ہے۔ کسی صحافی کو خبروں کو رپورٹ کرتے وقت کہانی میں پڑھنے والے کی دلچسپی کو جاننا ضروری ہے۔ چونکہ زیادہ تر کہانیوں کا تعلق انسانی واقعات سے ہوتا ہے اس لئے ان میں شامل انسانوں کے محرکات اور جذبات کو جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کوئی بھی کہانی اگر نفسیاتی علم کے پس منظر اور بصیرت پر مبنی ہوگی تو زیادہ مؤثر ہوگی۔
موسیقی اور فنون لطیفہ (Music and Fine Art):
موسیقی اور نفسیات کا ملن کئی میدانوں میں ہوا ہے۔ سائنس دانوں نے کام کی کارکردگی کو بڑھانے کے لئے موسیقی کا سہارا لیا ہے۔ موسیقی اور جذبات دیگر میدانات ہیں جہاں پر بہت سے نفسیاتی مطالعے ہوئے ہیں۔ حال میں ہندوستان کے موسیقی کاروں نے موسیقی کے ذریعہ طریقۂ علاج (Music Therapy) پر اختباری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس طریقۂ علاج میں جسمانی بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف راگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم موسیقی طریقۂ علاج کی سچائی کا پرکھا جانا ابھی باقی ہے۔
شکل 1.1 نفسیات اور دیگر علوم
تعلیم
معاشیات
موسیقی اور فنون لطیفہ
قانون؍جرمیات
ماس کمیونیکیشن
سماجیات
فن تعمیر اور انجینئرنگ
طب؍علاج امراض انسانی
کمپیوٹر سائنس
فلسفہ
سیاسیات
فن تعمیر اور انجینئرنگ:
(Architecture and Engineering)
پہلی نظر میں نفسیات اور فن تعمیر کے مابین تعلق قیاس کے باہر جان پڑتا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ فنّ تعمیر کے کسی بھی ماہر سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ اُسے اپنی ڈیزائن کے ذریعہ اپنے گاہک کو ذہنی اورایسی طبیعی جگہ مہیا کر کے اُسے جمالیاتی طور سے مطمئن کرنا ہوتا ہے۔ انجینئروں کو بھی اپنے پلان میں جیسے سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگوں کی عادتوں کو دھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ نفسياتی علم ہر طرح کی میکینکل تدبیروں کو بنانے اور ان کو دکھانے میں بہت زیادہ مدد کرتا ہے۔تلخیص کے طور پر نفسیات انسانی کاموں سے متعلق علم کے بہت سے میدانوں کے مقام اتصال پر قائم ہے۔
کام پر نفسیات
(Psychology at Work)
آج ماہرین نفسیات مختلف پس منظر میں کام کر رہے ہیں جہاں وہ لوگوں کو اپنی زندگی کے مسائل سے کامیاب طریقہ پر نپٹنے کے لئے پڑھانے اور تربیت دینے میں نفسیانی اصولوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ انہیں اکثر ’’انسانی خدمت کے میدان‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان کے اند کلینکی صلاح، کمیونٹی اسکول اور تنظیمی نفسیات آتے ہیں۔
کلینکی ماہرین نفسیات (Clinical Psychologists)
کلینکی ماہر نفسیات کرداری مسائل سے دوچار لوگوں کو جو مختلف ذہنی بدنظمی اور تشویش و خوف کے شکار ہوتے ہیں یا گھر اور کام کی جگہ پر رنجیدگی کے معاملات میں الجھے ہوئے لوگوں کو نفسیاتی طریقہ علاج (Therapy) مہیا کر کے مدد بہم پہنچانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ وہ پرائیویٹ پریکٹشنر کے طور پر یا اسپتالوں میں، ذہنی تنظیموں یا سماجی ایجنسیوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ مریضوں کے مسائل کی تشخیص کے لئے ان کے انٹرویو لیتے ہیں اور نفسیاتی آزمائشیں دیتے ہیں۔ ان کے علاج اور بازآبادکاری کے لئے نفسیاتی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کلینکی نفسیات پیشہ کے طور پر بھی کچھ لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔
صلاح کار ماہرین نفسیات
Counselling Psychologists
صلاح کار نفسیات داں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو محرکاتی اور جذباتی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کے مریضوں کے مسائل کلینکی ماہرینِ نفسیات کے مریضوں کے مسائل سے کم تر ہوتے ہیں۔ صلاح کار ماہر نفسیات پیشہ ورانہ بازآبادکاری کے پروگراموں میں شامل ہوتا ہے یا لوگوں کو پیشہ کے انتخاب یا زندگی کے نئے اور مشکل حالات سے سازگاری میں مدد کرتا ہے۔ صلاح کار نفسیات داں پبلک ایجنسیوں جیسے ذہنی صحت کے مراکز، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کام کرتے ہیں۔
کمیونٹی ماہرین نفسیات (Community Psychologists
کمیونٹی ماہرین نفسیات عام طور سے کمیونٹی کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ ذہنی صحت کی ایجنسیوں، پرائیویٹ تنظیموں اور ریاستی حکومتوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ کمیونٹی اور اس کی تنظیموں کو ان کے طبی اور ذہنی مسائل کوحل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ گاؤں کے علاقوں میں وہ ذہنی صحت کے مراکز قائم کر سکتے ہیں۔ شہری علاقوں میں وہ منشیات بازآبادکاری پروگرام چلا سکتے ہیں۔ بہت سے کمیونٹی نفسیات داں مخصوص لوگوں جیسے بوڑھوں اور جسمانی و دماغی طور سے معذور لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ مختلف پروگراموں اور پلانوں کو شروع کرنے اور ان کی پیمائش قدر کے علاوہ کمیونٹی پر مختصر بازآبادکاری (سی. بی.آر) کمیونٹی ماہر نفسیات کی خاص دلچسپی کا موضوع ہے۔
اسکولی ماہرین نفسیات (School Psychologists)
اسکولی ماہرین نفسیات تعلیمی تنظیموں میں کام کرتے ہیں اور ان کے کام ان کی ٹریننگ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ اسکولی ماہرین نفسیات صرف نفسیاتی آزمائشیں دیتے ہیں جبکہ بعض دوسرے اسکولی ماہرین نفسیاتی مسائل سے دوچار طالب علموں کی مدد کرنے کے لئے نفسیاتی آزمائشوں کے نتیجوں کی تشریح بھی کرتے ہیں۔ وہ اسکول کی پالیسیوں کو بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ وہ والدین، اساتذہ اور ایڈمنسٹریشن کے مابین مراسلوں کو آسان بناتے ہیں اور اساتذہ اور والدین کو طلباء کی علمی ترقی کے بارے میں بھی معلومات مہیا کرتے ہیں۔
تنظیمی ماہرین نفسیات
(Organisational Psychologists)
تنظیمی ماہرینِ نفسیات کسی تنظیم کے حکام اور کام کرنے والوں کو اُن مسائل کو حل کرنے میں اپنے گرانقدر مشورے دیتے ہیں جن کا وہ اپنے اپنے کاموں میں سامنا کررہے ہوتے ہیں۔ وہ تنظیموں کو صلاح کاری خدمات فراہم کرتے ہیں اور ان کی استعداد و کارکردگی کو بڑھانے کے لئے مہارتی تربیتی پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں۔ کچھ تنظیمی ماہرینِ نفسیات انسانی وسائل کی ترقی (HRD) میں مہارت رکھتے ہیں تو دوسرے تنظیمی ترقی اور تبدیل مینجمنٹ کے پروگراموں (Change Management Programmes) میں ماہر ہوتے ہیں۔
روز مرہ کی زندگی میں نفسیات
(Psychology in Everyday Life)
حسب بالاتشریح سے یہ ظاہر ہو گیا ہوگا کہ نفسیات ایسا مضمون نہیں ہے جو صرف انسانی فطرت سے متعلق ہمارے ذہن کو مطمئن کرتا ہے بلکہ ایک ایسا مضمون بھی ہے جو مختلف مسائل کے حل مہیا کرتا ہے۔ ان مسائل کی وسعت ذاتی مسائل (جیسے کسی بیٹی کا باپ شراب کا عادی ہے یا ایک ماں کا بچہ معذور ہے) سے لے کر ان مسائل تک پھیلی ہوئی ہے جن کی بنیاد فیملی کے اندر پیوست ہیں (جیسے فیملی کے ارکان کے مابین ترسیل اور تفاعل کی کمی یا پھر سماجی طور سے الگ تھلک پڑی کمیونٹی) یا ان کی قومی اور بین الاقوامی جہتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ تعلیم، صحت، ماحول، سماجی انصاف، عورتوں کی ترقی ، گروپوں کے مابین تعلق وغیرہ سے متعلق مسائل بھرے پڑے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاح کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن تبدیلی کے لئے فرد کی سطح پر بھی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مسائل کی نوعیت بڑی حد تک نفسیاتی ہوتی ہے اور یہ ہماری غلط تفکیر لوگوں کے اور اپنے تئیں منفی رویوں اور کردار کی ناپسندیدہ وضع کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے نفسیاتی تجزیے ان کی گہری سمجھ اور ان کے کارآمد حل دونوں فراہم کرتے ہیں۔
روز مرہ کی زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں نفسیات کی طاقت روز بروز نمایاں تر ہوتی جارہی ہے۔ میڈیا نے اس سمت میں بڑااہم رول ادا کیا ہے۔ آپ نے ٹیلی ویژن پر صلاح کاروں اور نفسیاتی معالجین کو بچوں، نوجوانوں، بڑوں اور ضعیفوں سے متعلق مختلف قسموں کے مسائل کے حل کے بارے میں مشورہ دیتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ آپ نے انہیں سماجی تبدیلی اور ترقی، آبادی، غربت، بین افرادی اور بین گروہی جارحیت اور ماحولیاتی خرابی سے متعلق بھی تجزیہ کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ بہت سے ماہرین نفسیات اب لوگوں کو کیفیتِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مداخلت کے پروگراموں کو بنانے اور انہیں نافذ کرنے کے لئے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ہم ماہرین نفسیات کو مختلف تنظیموں جیسے اسکولوں، اسپتالوں، صنعتوں، جیلوں، کاروباری تنظیموں، دفاعی اداروں اور پرائیویٹ پریکٹس اور مشیروں کے طور پر اداروں میں مسائل کے حل کے لئے لوگوں کو ان کے کام کی جگہوں پر مدد پہنچاتے ہوئے دیکھے ہیں۔
لوگوں کو سماجی خدمات دینے کے علاوہ نفسیات کا علم خودآپ کی روز مرہ کی زندگی میں بھی آپ کے لئے مفید ہے۔ نفسیات کے جن اصولوں اور نظریات کو آپ نے اس کورس میں پڑھا ہوگا، خوددوسرے لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کے تجزیہ میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے بارے میں کچھ سوچتے ہی نہیں ہیں۔ لیکن ہم میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ سمجھتے ہیں اور کسی بھی بازرسانی کو جو خود ہمارے بارے میں ہماری رائے کے خلاف ہوتی ہے اسے مسترد کر دیتے ہیں کیونکہ ہم خود کو دفاعی کردار میں مشغول رکھتے ہیں۔ کچھ دوسرے معاملات میں لوگ اپنے آپ کو کم تر سمجھنے کی عادت بنا لیتے ہیں۔ دونوں حالات ہماری ترقی میں حائل ہوتے ہیں۔ ہمیں خود کے بارے میں مثبت اور متوازن علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اپنی آموزش اور یادداشت کو بڑھانے اور مطالعہ کی عادتیں بہتر بنانے کے لئے نفسیاتی اصولوں کا مثبت طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ ان اصولوں کا استعمال اپنے ذاتی اور بین شخصی مسائل کے حل کے لئے فیصلہ سازی کی صحیح تراکیب استعمال کر کے بھی کر سکتے ہیں۔ آپ اسے امتحان کے دباؤ کو کم کرنے یا اسے ختم کرنے میں بھی معاون پائیں گے۔ اس طرح نفسیات کاعلم ہماری روز مرہ کی زندگی میں کافی کار آمد اور ذاتی و سماجی نقطہ نظر سے منفعت بخش ہے۔
کلیدی اصلاحات
کردار، کرداریت، وقوف، وقوفی طرزِنظر، شعور، تعمیریت، نشوونمائی نفسیات، فعالیت، گسٹالٹ، گسٹالٹ نفسیات، انسانی مرکوز طرزِ نظر، خود کا مشاہدہ، ذہن، عصبی نفسیات، عضویاتی نفسيات، تحلیل نفسی، سماجیات ،مہیج، ہیئتیت۔
خلاصہ
. نفسیات ایک جدید شعبۂ علم ہے جس کا مقصد مختلف سیاق و سباق میں انسانوں کے پیچیدہ ذہنی افعال، تجربات، اور کردارکو سمجھنا ہے۔ اسے طبیعی اور سماجی سائنس دونوں شکلوں میں لیا جاتا ہے۔
. نفسیاتی افکار کے اہم مکاتب فکر ہئیت (Structuralism)، تفاعلیت ، کرداریت، گسٹالٹ اسکول تحلیل نفسی،انسان مرکوز نفسیات اور وقوفی نفسیات ہیں۔
. ہم عصری نفسیات مختلف المعانی (کئی مفہوم والی) ہے کیونکہ اس کے بہت سے طرز نظریات یا مختلف نظریے ہیں جوکردار کی تشریح مختلف سطحوں پر کرتے ہیں۔ یہ طرز نظریات ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انسانی کار گذاریوں کی پیچیدگیوں کی گرانقدر بصیرت مہیا کرتا ہے۔ وقوفی طرز نظر نفسیاتی کارگزاریوں کے لئے ادراک کے اعمال (افعال) کوکلیدی مانتاہے۔ انسان مرکوز طرز نظر انسانی کارگزاریوں کو ترقی، پیدا کرنے اور انسانی اہلیت کو مکمل کرنے کی خواہش کے طور پر دیکھتا ہے۔
. آج ماہرین نفسیات بہت سے مختص میدان جن کے اپنے نظریے اور طریقے ہیں میں کام کرتے ہیں۔ نفسیات کے کچھ خاص میدان یا شاخیں ہیں : وقوفی نفسيات، حیاتیاتی نفسیات صحت نفسیات، نشونمائی نفسیات، سماجی نفسیات، تعلیمی اور اسکولی نفسیات، کلینکی اور صلاح کاری نفسیات، ماحولیاتی نفسیات، کھیل نفسیات وغیرہ۔
. ابھی حال میں اصلیت کی بہتر سمجھ کے لئے کثیر علومی/ بین الکلیات علمی پیش قدمی کی ضرورت کومحسوس کیا گیا ہے۔ اس نے بین علومی اشتراکیت کو پیدا کیا ہے۔ نفسیات کی دلچسپیاں دوسرے سماجی علوم (جیسے معاشیات، سیاسیات، سماجیات)، حیاتیاتی سائنسوں (جیسے عصبیات، عضویات، طب) ماس کمیونیکیشن اور موسیقی و فنون لطیفہ سے مشترک ہیں۔ ایسی کوششوں نے بامعنی ریسرچ اور اطلاق کی راہیں ہموار کی ہے۔
. نفسیات نہ صرف انسانی کردار کے بارے میں نظریاتی علم کی نشوونما سے سروکار رکھتی ہے بلکہ مختلف سطحوں پر مسائل کے حل کے لئے بھی وسیلہ فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین نفسیات کی تقرریاں مختلف تنظیموں جیسے اسکولوں، اسپتالوں ، صنعتوں، تربیتی تنظیموں ، فوج اور سرکاری اداروں میں مدد پہنچانے کے لئے کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں سے بہت سے پرائیویٹ پریکٹس کررہے ہیں اور مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
نظر ثانی کے لئے سوالات
.1 کردار کیا ہے؟ ظاہری اور باطنی کرداروں کی مثالیں دیجئے۔
.2 آپ سائنسی نفسیات اور نفسیات کے بارے میں عمومی خیال کے مابین کیسے فرق کریں گے؟
.3 نفسیات کے ارتقاء کا ایک محاسبہ پیش کئے۔
.4 وہ کون سے مسائل ہیں جن میں ماہرنفسیات دوسرے علوم سے اشتراک کر سکتے ہیں؟ تشریح کے لئے کوئی بھی دومسائل لیجئے۔
.5 ماہرنفسیات اور ماہر علاج امراض نفسی اور (ب) صلاح کاری و کلینکی ماہرنفسیات کے مابین فرق بتایئے۔
.6 روز مرہ کی زندگی کے کچھ ایسے میدانات بتایئے جن میں نفسیات کے نام کو پیش کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟
.7 ماحول کے دوستانہ کردار کو بڑھاوا دینے کے لئے ماحولیاتی نفسیات کے علم کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
.8 اہم سماجی مسئلہ مثلاً جرم کے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرنے کے لحاظ سے آپ نفسیات کی کس شاخ کوسب سے زیادہ مناسب سمجھتے ہیں؟ آپ نفسیات کے اس میدان یا شاخ کو بتایئے اور اس میں کام کر رہے ماہرینِ نفسیات کے کاموں پر بحث کیجئے۔
پروجیکٹ کی تجاویز
.1 یہ باب آپ کونفسیات کے میدان کے بہت سے پیشہ وروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ آپ نے ایسے ماہر نفسیات سے ملاقات کی ہے جو ان میں سے کسی زمرہ میں موزوں ہوتا ہو اور اس کا انٹرویو لیجئے۔ پہلے سے سوالات کی ایک فہرست بنا لیجیے۔ ممکنہ سوالات اس طرح سے ہو سکتے ہیں: (i) آپ کے پیشہ کے لئے کس طرح کی تعلیم ضروری ہے؟ (ii) اس مضمون کے مطالعہ کے لئے آپ کس کالج یا یونیورسٹی کی سفارش کریں گے؟ (iii) کیا آج کل آپ کے میدان میں بہت سی نوکریاں مہیا ہیں؟ (iv) کام کے دنوں میں آپ کس طرح کے مثالی کام کرتے ہیں؟ یا کیا آپ کے کام میں کچھ مثالی کام جیسا کوئی کام نہیں ہے؟ (v) آپ کو اس کام میں آنے کے لئے کس بات نے متحرک کیا؟
آپ اپنے انٹرویوکی ایک رپورٹ تیار کیجئے
اس میں اپنے مخصوص ردّ اعمال بھی بتایئے۔
.2 آپ کی لائبریری، بک اسٹور اور انٹرنیٹ پر کچھ ایسی کتابوں (افسانہ؍غیر افسانہ یا فلموں سے متعلق) کے نام تلاش کیجئےجن میں نفسیات کے اطلاق کے حوالہ جات ہوں۔ مختصر خلاصہ دیتے ہوئے آپ ایک رپورٹ تیارکیجئے۔