Skip to content
Nafsiyat-001


Chapter-2

نفسیات میں تحقیق کے طریقے

 اس باب کے مطالعہ کے اور آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ آپ 

. نفسیاتی تحقیق کے مقاصد اور نوعیت کی تشریح کرسکیں ۔ 

. ماہرین نفسیات کے ذریعہ استعمال شدہ معطيات کے مختلف اقسام کی تفہیم حاصل کرسکیں

. نفسیاتی تحقیق کے کچھ اہم طریقوں کی وضاحت کرسکیں 

. معطیات کے تجزیہ کرنے کے طریقوں کو سمجھ سکیں، اور

. نفسیاتی تحقیق کے حدود اور اس میں مضمر اخلاقی اُمور کوسیکھ سکیں

مشمولات سروے طریقہ کی مثال (باکس 2.2)

تعارف نفسياتی آزمائش 

نفسيانی تحقیق کے مقاصد مطالعہ معاملہ 

سائنسی تحقیق کے اقدام معطيات کا تجزیہ

تحقیق کے متبادل مثالی خاکے کمیتی طریقہ

نفسیاتی معطيات کی نوعیت کیفی طریقہ

نفسیات کے کچھ اہم طریقے نفسیاتی تحقیق کے حدود

طریقہ مشاہدہ اخلاقی مسائل

ایک اختبار کی مثال (باکس 2.1) کلیدی اصطلاحیں

اختباری طریقہ خلاصہ

ربطی تحقیق نظر ثانی کے لئے سوالات

سروے تحقیق پروجیکٹ کی تجاویز


تعارف

آپ پہلے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ علم نفسیات تجربات، کردار اور ذہنی اعمال کا مطالعہ ہے۔ اب آپ کو یہ جاننے کا تجسس ہو سکتا ہے کہ ماہرین نفسيات ان مظاہر کا مطالعہ کیسے کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کردار اور ذہنی اعمال کے مطالعہ کیلئے کن طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟ تمام سائنس دانوں کی طرح ماہرین نفسیات بھی جس موضوعِ مطالعہ کا مطالعہ کرتے ہیں اس کی وہ تشریح،پیشین گوئی، وضاحت اور کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اس کام کو انجام دینے کیلئے ماہرین نفسیات رسمی، باضابطہ مشاہدہ پر اعتماد کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ہی علم نفسیات کو سائنسی فطرت عطا کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات تحقیق کے لئے بہت سی اقسام کے تحقیق کے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ انسانی کردار کے بارے میں سوالات بے انتہا ہیں اور ان سبھی کا مطالعہ ایک واحد طریقہ سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مشاہدہ، اختبار، ربطی تحقیق، سروے نفسیاتی آزمائش اور مطالعۂ معاملہ جیسے طریقے نفسیات کے مسائل کے مطالعہ کے لئے زیادہ تر استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ باب آپ کو نفسیاتی تحقیق کے مقاصد معلومات یا معطیات کی نوعیت جنہیں ہم نفسیاتی مطالعات میں جمع کرتے ہیں مختلف قسموں کی طریق کاری تدابیر جو ماہرین نفسیات کو دستیاب ہیں، اور نفسیاتی مطالعوں سے متعلق کچھ اہم مسائل سے روشناس کرائے گا۔


نفسیاتی تحقیق کے مقاصد

(Goals of Psychological Enquiry)

کسی بھی سائنسی (سائنٹفک) تحقیق کی طرح نفسیاتی تحقیق کے مندرجہ ذیل مقاصد ہوتے ہیں: کردار کا بیان، پیشین گوئی، تشریح، کنٹرول اور اس سے حاصل علم کا اطلاق۔ آیئے ہم ان اصطلاحات کا مفہوم جانے کی کوشش کریں۔

بیان (Description): نفسیاتی مطالعہ میں ہم کسی کردار یا کسی مظہر کا بیان صحیح طور پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر محقق کی دلچسپی طلباء کے اندر مطالعہ کی عادات کا مشاہدہ کرنے میں ہو سکتی ہے۔ عاداتِ مطالعہ میں مختلف اقسام کے کردار شامل ہو سکتے ہیں جیسے سبھی کلاسوں میں باضابط طور پرحاضر رہنا، دیئے گئے کاموں کو وقت پر جمع کرنا، اپنے مطالعہ کے لئے شیڈول کا منصوبہ بنانا، طے شدہ منصوبہ کے تحت مطالعہ کرنا، اپنے کام کی روزانہ نظرثانی کرنا وغیرہ۔ کسی بھی ایک مخصوص زمرہ کے اندر مزید دقیق یا چھوٹے بیانات ہو سکتے ہیں۔ محقق کو مطالعہ کی عادت کے اپنے مفہوم کا بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیان کا یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ مخصوص کردار جو اس کی صحیح اور مناسب تفہیم میں مدد کرتا ہے کو مندرج کیا جائے۔

پیشین گوئی (Prediction):سائنسی تحقیق کا دوسرا مقصد کردار کی پیشین گوئی ہے۔ اگر آپ کردار کو سمجھ سکے ہیں اور اس کوصحیح بیان کر سکے ہیں تو آپ کسی مخصوص  کردار کا تعلق دیگر کرداروں، وقوعوں یا مظہر کے ساتھ معلوم کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ پیشینگوئی کر سکتے ہیں کہ یہ مخصوص کردار مخصوص حالات کے تحت ہوگا اور اس پیشینگوئی میں غلطی ہونے کا احتمال بھی متعین کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مطالعہ کے نتائج کی بنیاد پر ایک محقق مطالعہ میں صرف کئے گئے وقت اور مختلف معمولوں کے اندر تحصیل کے مابین مثبت تعلق پاتا ہے۔ بعد میں اگر آپ کو یہ علم ہو جاتا ہے کہ کوئی مخصوص بچہ مطالعہ کیلئے زیادہ وقت صرف کرتا ہے تو آپ یہ پیشینگوئی کر سکتے ہیں کہ وہ بچہ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر سکتا ہے۔ پیشینگوئی مطالعہ میں شامل اشخاص یا مشاہدات کی تعداد میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے مشاہدہ کیے جانے والے اشخاص کی تعداد میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ پیشینگوئی بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔

تشریح (Explanation): کردار کے عِلّی عوامل یاتعین نفسیات کی بنیادی طور پر دلچسپی یہ جاننے میں ہوتی ہے کہ وہ مخصوص حالات کیا ہیں جن کے تحت کوئی مخصوص کردار وقوع پذیر ہوتا ہے۔ وہ حالات کیا ہیں جن کے تحت کوئی مخصوص کردار وقوع پذیر نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کلاس (درجہ ) میں بچوں کے زیادہ توجہ دینے کے اسباب کیا ہیں؟ کچھ بچے دوسرے بچوں کے مقابلہ میں مطالعہ کیلئے کم وقت کیوں صرف کرتے ہیں؟ اس طرح سے اس مقصد کا تعلق زیر مطالعہ کردار کے تعین کنندگان یا کردار کے سابقہ حالات (یعنی حالات جو مخصوص کردار کی جانب مائل کرتے ہیں) کی  شناخت سے ہے تا کہ دو متغیرات (اشیاء ) یا وقوعات کے مابین علت معلول ( (Cause-effect تعلق قائم کیا جا سکے۔ 

کنٹرول: کوئی کردار کیوں وقوع پذیر ہوتا ہے اگر آپ اس کی تشریح کے قابل ہو جاتے ہیں تو اس کے سابقہ حالات میں تبدیلی کرنے کے بعد اس کردار کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ کنٹرول سے مراد تین چیزیں ہیں کسی مخصوص کردار کوقوع پذیر کرانا، اسے کم کرنا یا اسے زیادہ کرنا۔ مثال کے طور پر مطالعہ میں لگائے جانے والے گھنٹوں کی تعداد آپ وہی رکھ سکتے ہیں یا اسے کم کر سکتے ہیں یا اسے بڑھا سکتے ہیں۔ طریقِ علاج کی رو سے نفسیاتی علاج کے ذریعہ کردار میں پیدا شدہ تبدیلی کنٹرول کی ایک عمدہ مثال ہے۔ 

اطلاق (Application): سائنسی تحقیق کا آخری مقصد لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ مختلف پس منظر میں مسائل کے حل کیلئے نفسیاتی تحقیق کی جاتی ہے۔ ان کوششوں کی وجہ سے لوگوں کی زندگی کی کیفیت میں ماہرین نفسیات کی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یوگا اور مراقبہ کا اطلاق دباؤ کو کم کرتا ہے اور لیاقت کو بڑاھاتا ہے۔ نئے نظریات یا تصور کی نشوونما کیلئے بھی سائنسی تحقیق کی جاتی ہے، جو کہ مزید تحقیق کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ 

سائنسی تحقیق کے اقدام

 (Steps in Conducting Scientific Research): 

سائنس کی تعریف اس طرح نہیں کی جاتی ہے کہ کس کی تفتیش کرتی ہے بلکہ اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ کیسے تفتیش کرتی ہے؟ سائنٹفک طریقہ کسی مخصوص واقعہ یا مظہر کا مطالعہ ایک معروضی منظم اور قابل  آزمائش ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ معروضیت اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اگر دو یا دو سے زیادہ افراد کسی ایک مخصوص واقعہ کا آزادانہ طور پر مطالعہ کرتے ہیں تو ان دونوں کو بڑی حد تک ایک ہی نتیجہ پر پہنچنا چاہیئے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ اور آپ کا دوست ایک ہی پیمائش والے آلہ سے کسی میز کی پیمائش کریں تو دونوں کو اس کی لمبائی کے بارے میں ایک ہی نتیجہ پر پہنچنے کاامکان ہے۔ 

سائنسی طریقہ کا دوسرا وصف یہ ہے کہ تفتیش کے باضابطہ یاباقاعدہ طریقہ کار کے اقدام کا اتباع کرتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل اقدام شامل ہوتے ہیں: مسئلہ کی تصویرگری، معطیات کا جمع کرنا، نتائج اخذ کرنا، اورتحقیق کے اخذ نتائج کی بنیاد پر نظریہ کی نظر ثانی کرنا۔  (شکل 2.1دیکھئے )۔ آئیے ان اقدام پر ہم تفصیل سے بحث کریں۔  (1) کسی مسئلہ کی تصویرگری: سائنٹفک تحقیق کے عمل کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص مطالعہ کیلئے ایک موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطالعہ کے مرکوز کو گھٹاتا ہے اور مخصوص سوالات کی تشکیل کرتا ہے۔ یہ کام ماضی میں کی گئی تحقیق، مشاہدات اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس سے قبل آپ پڑھ چکے ہیں کہ محقق کی دلچسپی طلباء میں عاداتِ مطالعہ کے مشاہدہ میں تھی۔ اس کے لئے وہ عاداتِ مطالعہ کے مختلف پہلوؤں کی شناخت کر سکتا ؍سکتی ہے اور پھر وہی فیصلہ لے سکتا ؍سکتی ہے کہ اس کی دلچسپی گھر پر یا کلاس میں ظاہر کی جانے والی عاداتِ مطالعہ میں ہے۔

علم نفسیات میں اہم کردار اور تجربات سے متعلق مختلف النوع مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان مسائل کاتعلق مندرجہ ذیل سے ہوسکتا ہے:

(الف) اپنے ذاتی کردار کی تفہیم (مثلاً جب میں خوشی اورغم کی حالت میں ہوتا ہوں تو میں کیسا محسوس کرتا ہوں اور میرا کردار کیا ہوتا ہے؟ ہم خود اپنے تجربات اور کردار کو کیسے ظاہر کرتے ہیں، ہم کیوں بھولتے ہیں؟)؛ (ب) دوسرے فرد کے کردار کی تفہیم (مثلاً کیا زید بکر سے زیادہ ذہین ہے؟ کوئی شخص ہمیشہ اپنا کام وقت پر پورا کرنے کے قابل کیوں نہیں ہوتا ہے؟ کیا تمباکو نوشی کی عادت پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ دائم المرض امراض میں مبتلا کچھ لوگ دوائیں کیوں نہیں لیتے ہیں؟):(ج) گروہ انفرادی کردار کو متاثر کرتا ہے (مثلاً رحیم اپنا کام کرنے کے بجائے لوگوں سے ملنے میں اپنا وقت کیوں صرف کرتا ہے؟ ایک سائیکل سوار کی کارکردگی جب وہ سائیکل اکیلا چلاتا ہے تو اس وقت کے مقابلہ میں جب وہ لوگوں کے ایک گروہ کے سامنے چلاتا ہے تو بہتر کیوں ہوتی ہے؟)؛ (د) گروہی کردار (مثلاً جب کئی لوگ گروہ میں ہوتے ہیں تو اُس وقت لوگوں کے اندر خطرہ مول لینے کے کردار میں اضافہ کیوں ہو جاتا ہے؟) اور (ر) تنظیمی سطح (مثلاً کچھ تنظیمیں دوسری تنظیموں کے مقابلہ میں زیادہ کیوں کامیاب ہوتی ہیں، کوئی نوکری دینے والا اپنے ورکروں کے محرک کو کیسے بڑھا سکتا ہے؟)۔ یہ فہرست لمبی ہے اور آنے والے ابواب میں آپ اس کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرسکیں گے؟ اگر آپ کے اندر تجسس کا مادّہ زیادہ ہے تو آپ اس طرح کے بہت سے مسائل جن کے متعلق آپ جاننا چاہتے ہیں لکھ سکتے ہیں۔

3


شکل 2.1 سائنٹفک تحقیق کے اقدام

مسئلہ کی تصویر گری؍ مطالعہ کے لیے موضوع کا انتخاب

معطیاات کا جمع کرنا؍ شرکاء، طریقے، آلات اور طریقِ کار

نتائج اخذ کرنا؍ شماریاتی طریقوں کا استعمال کر کے

تحقیقی نتائج پر نظر ثانی؍ موجودہ فرضیہ کا دوبارہ بیان؍ نظریہ میں ترمیم یا نئے نظریہ کی تشکیل

مسئلہ کی شناخت کے بعد محقق مسئلہ کا ایک مجوزہ حل یا جواب آگے بڑھتا ہے جو فرضیہ (Hypothesis) کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے سابق ثبوت یا اپنے سابق مشاہدہ کی بنیاد پر ایک فرضیہ بناسکتے ہیں کہ کیا زیادہ دیر تک ’’ٹیلی ویژن پر تشدد کے مناظر دیکھنے کی وجہ سے کچھ بچے زیادہ جارحیت دکھاتے ہیں؟ اپنی تحقیق کے اندر آپ اس بیان کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔

(2) معطیات یا ڈاٹا کا جمع کرنا: سائنٹفک طریقہ میں دوسرا قدم معطیات کو جمع کرنا ہے۔ معطیات جمع کرنے کیلئے ہمیں مکمل مطالعہ کی ایک تحقیقی ڈیزائن یا بلوپرنٹ تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل چار پہلوؤں پرفیصلہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے:

(الف) مطالعہ میں شریک کئے جانے والے شرکاء یا معمول، (ب) معطيات جمع کرنے کے طریقے، (ج) تحقیق میں استعمال ہونے والے آلات اور (د) مطیات جمع کرنے کا طریقہ کار۔ مطالعہ کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محقق کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ مطالعہ میں شرکاء ، یا معمول کون ہوں گے۔ شرکاء بچے، نوبالغ، کالج کے طلباء و اساتذہ منیجر (منتظم) کلینکی مریض صنعتی مزدور یا افراد کا کوئی بھی گروہ جن میں یا جہاں پر تحقیق کئے جانے والے مظاہر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں، ہو سکتے ہیں۔ دوسرے فیصلہ کا تعلق معطيات جمع کرنے کے طریقوں کے استعمال سے ہے۔ جیسے مشاہدہ کا طریقہ، اختبار کا طریقہ، ربطی طریقہ، مطالعۂ معاملہ وغیرہ وغیرہ۔ محقق کو مناسب آلات جیسے ریڈیو، طریقۂ مشاہدہ، سوالنامہ وغیرہ کے بارے میں بھی فیصلہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ محقق کو یہ بھی طے کرنا ہوتا ہے کہ معطيات جمع کرنے کیلئے آلات کا نظم ونسق کیسے کیا جائے گا (یعنی آلات انفرادی ہوں کے یا اجتماعی)۔ اس کے بعد معطيات جمع کرنے کا کام شروع ہوتا۔ 

(3) نتائج اخذ کرنا:اگلا قدم اس طرح سے جمع شدہ معطيات کا شماری طریقہ کار کے ذریعہ تجزیہ کرنا ہوتا ہے تاکہ معطیات کا مطلب سمجھا جا سکے۔ یہ فہم ترسیمی با گرافی نمائندگی (جیسے پائی چارٹ، بار ڈائی گرام (خاکہ) مجموعی تکریر) اور مختلف شماری طریقوں کے استعال کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ تجزیہ کار کا مقصد فرضیہ کی جانچ اور اسی کے مطابق نتائج اخذ کرنا ہوتا ہے۔

(4) تحقیقی نتائج پر نظر ثانی:  محقق اپنا مطالعہ اس مفروضہ کے ساتھ شروع کر سکتا ہے کہ ٹیلی ویژن پر پرُتشدد مناظر دیکھنے اور بچوں کے اندر جارحیت کے مابین تعلق ہوتا ہے۔ اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیاواقعی نتائج اس فرضیہ کی تائید کرتے ہیں۔ اگر وہ کرتے ہیں تو اس سے بنایا ہوا فرضیہ یا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے اور اگر نہیں کرتے ہیں تو اسے ایک متبادل نظریہ دینا ہوگا اور دوبارہ نئے معطیات پر مبنی اس کی جانچ کرنی ہوگی اور ایسے نتائج اخذ کرنے ہوں گے کہ جن کی تفریق مستقبل میں محققین کر سکتے ہیں۔ اس طرح تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ 

تحقیق کے متبادل مثالی خاکے

 (Alternative Paradigms of Research)

ماہرین نفسیات تجویز پیش کرتے ہیں کہ انسانی کردار کا مطالعہ دوسری سائنسوں جیسے علم طبیعات، علم کیمیا، علم حیاتیات میں استعمال کئے جانے والے طریقوں کے طرز پر بنائے گئے طریقوں کے ذریعہ کیا جانا چاہیے۔ اس خیال کا اہم مفروضہ یہ ہے کہ انسانی کردار کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے اور یہ خارجی اور داخلی قوتوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور اس کا مشاہدہ، پیمائش اور انضباط کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے علم نفسیات نے بیسویں صدی کے زیادہ حصوں تک ظاہری کردار یعنی وہ کردار جس کا مشاہدہ اور پیمائش کی جا سکے کے مطالعہ تک خود کو محدود رکھا اور اس نے شخصی احساسات، تجربات، مطالب وغیرہ پر غور نہیں کیا۔

حالیہ برسوں میں ایک مختلف طریقہ جسے توضیحی طریقہ کا نام دیا گیا ہے ظہور میں آیا۔ یہ وضاحت اور پیش گوئی کے مقابلے میں تفہیم پر زور دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ انسانی کردار اور تجربہ کی نوعیت پیچیدہ اور تغیر پذیر ہونے کی وجہ سے اس کی تفتیش کا طریقہ، اصولی طور پر طبیعی دنیا کی تفتیش کے طریقہ سے مختلف ہونی چاہیئے۔ یہ نقطۂ نظر اس اہمیت پر زور دیتا ہے کہ انسان کس طرح سے ان واقعات اور افعال کو جیسا کہ وہ ایک مخصوص سیاق میں واقع ہوتے ہیں کے مطالب نکالتا ہے اور ان کی توضیح کرتا ہے؟ آیئے ہم کچھ ایسے مخصوص تجربات کرلیں جو منفرد سیاق میں رونما ہوتے ہیں جیسے کہ خارجی (مثلاً سنامی زلزلہ، سائیکلون سے متاثر لوگ) یا داخلی (مثلاً لمبی بیماری) عوامل کی وجہ سے لوگ مصیبت کے تجربے سے گزرے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں معروضی پیمائش نہ تو ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی قابل قبول ہوتی ہے۔ ہر شخص حقیقت کی توضیح اپنے طور پر اپنے ماضی کے تجربات اور سیاق کی بنا پر کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں حقیقت کی داخلی توضیح وتشریح کی تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ہمارا مقصد انسانی تجربات اور کردار کے مختلف پہلوؤں کا ان کی فطری روانی کو درہم برہم کئے بغیر گہرائی کے ساتھ عمیق مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک محقق یہ نہیں جانتا ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، اسے کیسے دیکھے اور کیا توقع کرے۔ اس کے بجائے وہ ایک ایسے انجان صحرا کا نقشہ تیارکرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا ماقبل علم اسے بالکل نہیں ہوتا ہے یا بہت کم ہوتا ہے اور اس کا خاص کام یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص سیاق میں جو کچھ پایا گیا اس کو وہ مفصل طور پر بیان کر دے۔

سائنٹفک اور توضیحی دونوں روایات کا تعلق دوسروں کے کردار اور تجربات کے مطالعہ سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے شخصی تجربات اور کردار کے بارے میں کیا کیا جائے؟ علم نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ میں غمگین کیوں ہوں؟ کئی بار آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ اپنی خوراک کو کنٹرول کریں گے یا اپنے مطالعہ میں زیادہ وقت صرف کریں گے لیکن جب کھانے یا مطالعہ کا وقت آتا ہے تو آپ یہ عہد بھول جاتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کردار پر کنٹرول کیوں نہیں رکھ پاتا ہے۔ کیا علم نفسیات کو آپ کے اپنے ذاتی تجربات تفکیری عمل اور کردار کے تجزیہ میں آپ کی مدد نہیں کرنا چاہئیے ؟ اسے یقیناً کرنا چاہئے۔ اس لئے نفسیاتی تفتیش کا مقصد اپنے تجربات اور بصیرتوں کے انعکاس کے ذریعہ خود کی تفہیم حاصل کرنا بھی ہے۔

نفسیاتی معطيات کی نوعیت

(Nature of Psychological Data)

آپ کو یہ جاننے کی خواہش ہوسکتی ہے کہ نفسیاتی معطیات دیگر سائنسوں کے مقابلے میں کیسے مختلف ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات مختلف طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف ذرائع سے انواع و اقسام کی معلومات جمع کرتے ہیں۔ معلومات کو معطيات (واحد = معطیہ ) بھی کہا جاتا ہے۔ معطيات کا تعلق افراد کے باطنی اور ظاہری کردار، ان کے داخلی تجربات اور ذہنی اعمال سے ہوتا ہے۔ معطيات نفسیاتی تفتیش میں ایک اہم مادخل  Input)) کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ دراصل کسی حد تک حقیقت کا تخمینہ مہیا کرتے ہیں اور ہمیں اپنے خیالات مفروضہ اور تصورات وغیرہ کے صحیح یا غلط ہونے کی جانچ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ معطيات خود مختار ہستی نہیں ہیں۔ وہ کسی تناظر میں واقع ہوتے ہیں اور اس طریقہ اور نظریہ سے منسلک ہوتے ہیں جو معطیات کو جمع کرنے کے اعمال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر معطيات طبیعی اور سماجی تناظر میں شامل اشخاص اور کردار کے وقوع پذیر ہونے کے سیاق اور وقت سے علیحدہ اور آزاد نہیں ہوتے ہیں۔ جب ہم تنہا ہوتے ہیں، جب گروہ میں ہوتے ہیں، گھر پر ہوتے ہیں یا دفتر میں ہوتے ہیں تو ہمارا کردار ہر ایک موقع پر الگ الگ ہوتا ہے۔ آپ اپنے والدین اور اساتذہ کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں لیکن جب آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ سبھی لوگ ایک ہی حالت میں بالکل ایک ہی طرح کا کردار نہیں کرتے ہیں۔ معطیات فراہمی کے مستعمل طریقے (سروے، انٹرویو، اختبار وغیرہ) اور جواب دہندہ کی خصوصیات (مثلاً فرد یا گروہ، جوان یا ضعیف، مذکر یا مونث ،شہری یا دیہاتی) بھی معطیات کی خصوصیتوں کا تعین کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ جب آپ کسی طالب علم کا انٹرویولیں تو وہ ایک مخصوص حالت اور مخصوص ڈھنگ سے برتاؤ کرے لیکن جب آپ حقیقی مشاہدہ کیلئے جائیں تو جو کچھ اس نے بتایا ہے اس کے ٹھیک برعکس پائیں۔ معطيات کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے آپ میں حقیقت کو واضح نہیں کرتے ہیں۔ معطیات سے مطلب با معنی اخذ کیا جا تا ہے۔ تحقیق کنندہ اسے اس کو مناسب تناظر میں رکھ کر اس کو مطلب عطا کرتا ہے یا اسے بامعنی بناتا ہے۔

علم نفسیات میں مختلف اقسام کے معطيات يا معلومات جمع کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اقسام کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے۔ 

(1) شخصی معلومات (ڈیموگرافک معلومات): اس طرح کی معلومات کے اندر فرد کا نام عمر جنس، ترتیبِ پیدائش، بھائی بہنوں کی تعداد، تعلیم، پیشہ ،ازدواجی حیثیت، بچوں کی تعداد، رہائش کا علاقہ، مذہب، ذات، والدین کی تعلیم، پیشہ اور کنبہ کی آمدنی وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ 

(ii) طبیعی معلومات : اس زمرہ کے اندر ماحولیاتی حالات (پہاڑی ؍ریگستانی ؍جنگل) معاش کا طریقہ، رہائشی مکان کی حالت، کمروں کی سائز، پڑوس، اسکول میں دستیاب سہولتیں، نقل و حمل کا طریقہ وغیرہ کی معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔ 

(iii)عضویاتی معطيات: کچھ مطالعوں میں جسمانی، عضویاتی اور نفسیاتی معطيات جیسے قد، وزن، دل کی دھڑکن کی شرح، مکان کی سطح، گالو ینک جلدی جوابی عمل(جی۔ ایس۔ آر) الیکٹروانسیفیلوگرافک (ای۔ ای۔ بی) کے ذریعہ پیمائش کی گئی دماغ کی برقی سرگرمی، خون کی آکسیجن کی سطح، ردعمل کا وقفہ، نیند کی مدت، خون کا دباؤ (بلڈ پریشر ) لعاب دہن کی مقدار، دوڑنے اور چھلانگ لگانے کی شرح (مویشیوں کے مطالعہ کی حالت میں) وغیرہ کے بارے میں جسمانی، عضویاتی اور نفسیاتی معطيات اکٹھا کئے جاتے ہیں۔

(iv) نفسیاتی معلومات: اکٹھا کی گئی نفسیاتی معلومات کا تعلق ذہانت، شخصیت، دلچسپی، اقتدار، تخلیقیت ، جذبات، تحریکات، نفسياتی خلل، التباس، واہمہ، وہم ادراک، ادرا کی فیصلہ سازی، تفکیر، عمل شعور داخلی تجربات وغیرہ سے ہوسکتا ہے۔ 

حسب بالا معلومات پیمائش کے نظریہ سے کچھ خام ہوسکتی ہیں۔یہ ایسے پیمانہ پر درجہ بندی کی شکل میں (مثلاً عِلّی ؍ کمتر، ہاں؍نہیں،تعین مقام جو تربیتی معلومات فراہم کرتے ہیں جیسے اوّل، دوئم سوئم، چہارم وغیرہ یا نمبرات جیسے 25, 18, 15, 12, 10 وغیرہ) ہم لفظی رپورٹ مشاہدی ریکارڈ، شخصی ڈائریاں، فیلڈ نوٹس آرکائیول معطيات وغیرہ کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی معلومات کاتجزیہ کیفی طریقوں کا استعمال کر کے کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کچھ معلومات اس باب کے اخیر میں حاصل کریں گے۔

 علم نفسیات کے کچھ اہم طریقے 

(Some Important Methods in Psychology)

اس سے پہلے کے حصہ میں آپ نے نفسیاتی مطالعات میں جمع کئے جانے والے مختلف معطيات کے بارے میں معلومات حاصل کی۔معطيات کے سب اقسام تفتیش کے ایک واحد طریقہ سے دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات معطيات جمع کرنے کے مختلف طریقوں جیسے مشاہدہ، اختبار، سروے، نفسیاتی آزمائش، مطالعہ معاملات وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ کتاب کے اس حصہ کا مقصد مختلف ریسرچ مقاصد کے حصول کیلئے مناسب طریقہ کے انتخاب میں آپ کی رہنمائی کرنا ہے۔ مثلاً:

. آپ کسی فٹبال دیکھنے والے تماشائیوں کے کردار کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 

. یہ دیکھنے کے لئے کہ بچے اگر امتحان اسی کمرہ میں دیں جس میں کہ انہوں نے اپنے مضمون کا مطالعہ کیا ہے تو بہتر کر سکتے ہیں یا پھر امتحان ہال میں امتحان دینے پر وہ بہتر کر سکتے ہیں (علت۔معلول تعلق کا پتہ لگا سکتے ہیں)۔

. آپ ذہانت کا ربط عزت نفس سے (پیشینگوئی مقاصد کیلئے) حاصل کر سکتے ہیں۔

. تعلیم کے پرائیویٹائزیشن کی جانب طلباء کے رویہ کا سروے کر سکتے ہیں۔

. انفرادی فرق معلوم کرنے کیلئے آپ نفسیاتی آزمائشوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ 

. کسی بچہ پر زبان کی نشونما پر ایک مطالعہ معاملہ کر سکتے ہیں۔ 

. ان طریقوں کی اہم خصوصیات کی تشریح مندرجہ ذیل حصہ میں کی گئی ہے:

طریقۂ مشاہدہ

(Observational Method)

مشاہدہ نفسیاتی تحقیق کا ایک کافی طاقتور آلہ ہے۔ یہ کردار کی تشریح کا ایک بہت موثر طریقہ ہے۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں مختلف اشیاء کا مشاہدہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں ہم جو کچھ بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں یا دیکھ چکے ہوتے ہیں ان پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں پر مشاہدہ نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم روز مرہ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں ان میں سے چند ہی چیزوں کے بارے میں واقف ہو پاتے ہیں۔ کیا آپ کے تجربہ میں اس طرح کی بات آئی ہے؟ آپ نے بھی تجر بہ ضرور کیا ہوگا کہ اگر آپ ہوشیاری سے کسی شخص یا واقعہ کا مشاہدہ کچھ دیر تک کریں تو اس شخص یا واقعہ کے بارے میں بہت سی دلچسپ باتیں آپ کے علم میں آتی ہیں۔ ایک سائنٹفک مشاہدہ کئی طرح سے روز مرہ ہونے والے مشاہدہ سے مختلف ہوتا ہے۔ دونوں میں اختلاف مندرجہ ذیل ہیں: ۔

(الف) انتخاب: ماہرین نفسیات اپنے سامنے ہونے والے تمام کردار کا مشاہدہ نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ مشاہدہ کیلئے ایک مخصوص کردار کا انتخاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کی دلچسپی یہ جاننے میں ہوسکتی ہے کہ درجہ گیارہ ( کلاس XI) میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے اسکول میں اپنا وقت کیسےصرف کرتے ہیں۔ اس مرحلہ پر دو چیزیں ممکن ہیں۔ ایک محقق کے طور پر آپ کا خیال یہ ہوسکتا ہے کہ اسکول میں کیا ہوتا ہے اس کے متعلق آپ کافی بہتر طور پر جانتے ہیں۔ آپ سرگرمیوں کی ایک فہرست تیار کریں اور ان سرگرمیوں کی وقوع پذیری کے بارے میں جاننے کیلئے اسکول جائیں۔ دوسرا، متبادل طور پر آپ کا خیال یہ ہوسکتا ہے کہ اسکول میں کیا ہوتا ہے اس کے متعلق آپ نہیں جانتے ہیں اور آپ اپنے مشاہدہ سے اسے جان سکتے ہیں۔ 

(ب) اندراج یا ریکارڈنگ : مشاہدہ کرتے وقت محقق انتخاب شدہ کردار کا اندراج بھی کرتا ہے جیسے پہلے سے شناخت شدہ کردار کے وقوع پذیر ہونے پر ان کیلئے گنتی (ٹیلی) کا نشان لگا سکتا ہے، خط شکستہ (شارٹ ہینڈ) علامات کا استعمال، فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے ہر ایک سرگرمی کی زیادہ تفصیلی وضاحت کیلئے نوٹ لے سکتا ہے۔ 

(ج) معطیات کا تجزیہ: مشاہدہ کر لینے کے بعد ماہرین نفسيات جن چیزوں کو ریکارڈ کرتے ہیں ان سے معنی اخذ کرنے کیلئے ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

قابل غور بات یہ ہے کہ اچھا مشاہدہ کرنا ایک ہنر ہے۔ ایک عمدہ مشاہد جانتا ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے۔ کن لوگوں کا وہ مشاہدہ کرنا چاہتا ہے، کب اور کہاں مشاہدہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ مشاہدہ کسی شکل میں مندرج ریکارڈ کیا جائے گا اور مشاہدہ کئے گئے کردار کے تجزیے کیلئے کیا طریقے استعمال ہوں گے۔ 

مشاہدہ کے اقسام

(Types of Observation)

مشاہدہ کے مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتے ہیں: 

 (الف) فطری بنام کنٹرول شدہ مشاہدہ: جب مشاہدہ فطری یا حقیقی دنیا کے پس منظر میں کیا جاتا ہے (مذکورہ بالا مثال میں مشاہدہ جہاں کیا تھا وہ اسکول تھا) تو یہ فطری مشاہدہ کہلاتا ہے۔ اس طرح کے مشاہدہ میں مشاہدہ حالات کو کنٹرول کرنے یا اس میں جوڑ توڑ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ اس طرح کے مشاہدے اسپتالوں، گھروں، اسکولوں، ڈے کیر(دن میں نگہداشت گھروں) کے مراکز وغیرہ میں کئے جاتے ہیں۔ تاہم کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کردار کوتعین کرنے والے کچھ مخصوص عوامل کو جو کہ آپ کے مطالعہ میں شامل نہیں ہوتے ہیں کوکنٹرول کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

اسی وجہ سے علم نفسیات کے زیادہ تر مطالعے تجربہ گاہ (لیباریٹری) میں کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ باکس 2.1  کو پڑھیں تو آپ کو انکشاف ہوگا کہ دھواں صرف کنٹرول شدہ تجربہ گاہ کے اندر ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا مشاہدہ جو کنٹرول شدہ لیباریٹری مشاہدہ کہلاتا ہے دراصل لیباریٹری میں ہی کیا جاتا ہے۔ 

(ب) عدم شریک بنام شریک مشاہدہ: مشاہدہ دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے: پہلا، آپ شخص یا واقعہ کا مشاہدہ ایک دوری سے کر سکتے ہیں، دوسرا مشاہدہ اس گروہ کا ایک حصہ بن سکتا ہے جس کا مشاہدہ اسے کرنا ہوتا ہے۔ پہلی حالت میں مشاہدہ کئے جانے والا شخص اس بات سے آگاہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ مثلاً کسی مخصوص درجہ میں اساتذہ اور طالب علموں کے مابین آپ تعامل کی وضع کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ کلاس روم (درجہ) کی سرگرمیوں کو مندرج کرنے کیلئے اب ایک ویڈیو کیمرہ لگا سکتے ہیں جسے بعد میں دیکھا اور تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ متبادل طور پرآپ درجہ (کلاس) کے ایک گوشہ میں کلاس کی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مداخلت یا حصہ لئے بغیر بیٹھ کر مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کا مشاہدہ عدم شریک مشاہدہ کہلاتا ہے۔ اس طرح کی حالت میں خطرہ ہوتا ہے کہ یہ حقیقت کہ کوئی شخص (جوگروہ کا حصہ نہ ہو) بیٹھا ہوا ان کا مشاہدہ کر رہا ہے طلبا اور استاد کے کردار میں تبدیلی لا سکتا ہے اور کلاس روم کی فطری حالت کوختم کرسکتا ہے۔

شریک مشاہدہ میں مشاہدہ اسکول کا حصہ بن جاتا ہے یا ان طلبا کا حصہ بن جاتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کررہا ہوتا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں میں وہ حصہ لیتا ہے جو کہ کوئی استاد یا طالب علم کرتا ہے اور گروپ کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ تاہم مشاہد کا مشاہدہ کئے جانے والے گروپ کے ساتھ تعلق کی گہرائی مطالعہ کی مرکوزیت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔

شریک مشاہد ہ کا فائدہ یہ ہے کہ محقق کو اس قابل بنادیتا ہے کہ اشخاص اور ان کے کردار کا مطالعہ فطری پس منظر میں کر سکے۔ تاہم یہ طریقۂ مشاہدہ وقت طلب، زیادہ وقت لینے والا اور مشاہدہ کی جانب جانب داری کیلئے حساس ہوتا ہے۔شحض یا واقعہ کے بارے میں ہمارا یقین اور ہمارے اقتدار ہمارے مشاہدہ کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ اس کہاوت سے آشنا ہوں گے کہ ’ہم چیزوں کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسے کہ ہم ہیں۔ نہ کی جیسی کہ وہ ہیں‘۔ ہماری جانب داری کی وجہ سے ہم چیزوں کی تشریح اس طرح نہ کر کے جو کہ شرکاء کا حقیقی مطلب تھا بالکل مختلف طرح سے کر سکتے ہیں۔ اس لئے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ مشاہدہ کردار کا اندراج (ریکارڈ ) ویسا ہی کرے جیسا کہ وہ واقع ہوتے ہیں اور مشاہدہ کے ہی وقت کردار کی تشریح نہ کرے۔


باکس 2.1ایک اختبارکی مثال 

دو امریکی ماہرین نفسیات بِب لیٹینےاور جان ڈارلے (Bibb Latene and John Darley) 

نے 1970؁ء میں ایک روایتی اختبار منظم کیا۔ اس مطالعہ میں شریک ہونے کیلئے کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم انفرادی طور پر تجربہ گاہ میں پہنچے۔ انہیں یہ تاثر دیا گیا کہ ایک مخصوص موضوع پر ان سے انٹرویو لیا جائے گا۔ کبھی طالب علموں کو ایک ابتدائی سوالنامہ مکمل کرنے کیلئے ایک ویٹنگ روم میں بھیجا گیا۔ ان میں سے کچھ طالب علموں نے ویٹنگ روم میں پایا کہ دو دیگر افراد پہلے ہی سے بیٹھے تھے۔ جبکہ دوسرے طالب علموں نے ویٹنگ روم میں خودکو تنہا پایا۔ طالب علموں نے ابھی سوالنامہ پُرکرنا شروع کیا ہی تھا کہ دیوار کے روشندان سے کمرے میں دھواں بھرنا شروع ہو گیا۔ دھواں زیادہ تھا جسے بمشکل نظر انداز کیا جاسکتا تھا۔ چار منٹ کے اندر کمرہ میں اتنا دھواں بھر گیا کہ دیکھنے اور سانس لینے میں دقت محسوس ہونے گی۔ لیٹینے اور ڈارلے کی دلچسپی بنیادی طور پر یہ جاننے میں تھی کہ طلباء ایمرجنسی (ناگہانی صورتحال) کی رپورٹ کرنے کیلئے کتنی جلدی کھڑے ہو جاتے ہیں اور کمرہ چھوڑ دیتے ہیں۔ زیادہ تر ان طالب علموں (75 فیصد) نے جو کمرہ میں تنہا انتظار کر رہے تھے کمرہ چھوڑ دیا اور دھوئیں کی رپورٹ کی۔ لیکن گروہ میں رپورٹ کرنے والے طالب علم بہت کم تھے۔ تین سادہ لوح طالب علموں کے گروہ نے صرف 38 فیصد بار ہی اس کی رپورٹ کی ۔ جب طالب علم دو مصنوعی فاعلوں (اختبار کنندہ کے دوست) جنہیں پہلے سے ہی محقق نے کچھ نہ کرنے کی ہدایت دے دی تھی، کے ساتھ انتظار کر رہے تھے تو صرف 10 فیصد نے ہی دھوئیں کی رپورٹ کی۔

اختباری طریقہ

 اختبارات عام طور پر ایک کنٹرول شدہ ماحول یا پس منظر میں وقوعوں یا تغیرات کے دو مجموعوں کے مابین علت۔ معلول تعلق معلوم کرنےکیلئے کئے جاتے ہیں۔ یہ محتاط کے ساتھ کنٹرول کیا گیا طریق کارہے جس کے اندر دیگر تمام متعلقہ عوامل کو مستقل کر کے ایک عامل میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور اس کے اثرات کا مطالعہ دوسرے عامل پرکیا جاتا ہے۔ اختبار میں واقعہ یا وقوعہ علت ہوتا ہے جسے تبدیل کیا جاتا ہے اس میں جوڑ توڑ کی جاتی ہے۔ معلول وہ کردار ہوتا ہے جو جوڑ توڑ کی وجہ سے تبدیل ہوتا ہے۔

سرگرمی 2.1

درجہ کے کچھ طلباء اس گھنٹہ میں مشاہدہ کریں جب نفسیات کا استاد درجہ میں تدریس کر رہا ہو۔ طلباء ٹیچر جو کچھ کر رہا ہے طلبا، جو کچھ کررہے ہیں اور استاد اور استاد طالب علموں کے درمیان تعامل کی مکمل وضع کو بالتفصیل نوٹ کریں۔ اپنے مشاہدوں پر دیگر طالب علموں اور استاد سے بحث کریں۔ مشاہدہ میں مماثلت اورتفریق کونوٹ کریں۔ 

متغیرہ کا تصور

اس سے قبل آپ پڑھ چکے ہیں کے اختباری طریقہ کے اندر محقق دو متغیرات کے مابین علت۔ معلول (Cause-effect) تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ متغیرہ کیا ہے؟ اس دنیا میں کوئی مہیج یا وقوعہ جو تغیر پذیر (یا تبدیل) ہوتا ہے یعنی اقدار کی مختلف شکل (یا تبدیلی) اختبار کر سکتا ہے اور اس کی پیمائش کی جا سکتی ہے، متغیرہ کہلاتا ہے۔ کوئی چیز اپنے آپ میں متغیرہ نہیں ہے بلکہ اس کی خصوصیات متغیرہ ہیں۔ مثلاً قلم جس کا استعمال آپ لکھنے میں کرتے ہیں ایک متغیر نہیں ہے۔ لیکن مختلف شکل، سائز اور رنگ میں قلموں کے بہت سے اقسام دستیاب ہیں۔ اس لئے یہ سبھی متغیرہ ہیں۔ کمرہ جس کے اندر آپ بیٹھے ہیں ایک متغیر نہیں لیکن اس کی سائز متغیرہ ہے کیونکہ مختلف سائز کے کمرے ہوتے ہیں۔ افراد کے قد (5 فٹ سے 6 فٹ) ایک دیگر متغیرہ ہے۔ اسی طرح سے مختلف نسل کے لوگوں کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنے بال مختلف رنگوں سے رنگنے لگے ہیں۔ اس لئے بال کا رنگ ایک دوسرا متغیرہ ہے۔ ذہانت ایک متغیر ہے الگ الگ ذہانت کی ، اعلیٰ ، اوسط، ادنیٰ کے لوگ ہوتے ہیں) کمرہ میں لوگوں کی حاضری یا غیر حاضری جیسا کہ باکس 2.1   میں اختبار میں دکھایا گیا متغیرہ ہے۔ تبدیلی چیزوں یا وقوعوں کی صفت با مقدار میں ہوسکتی ہے۔

متغیرات کے کئی اقسام ہیں لیکن ہم آزاد اور منحصر متغیرات پر دھیان دیں گے۔ آزاد متغیرہ وہ متغیرہ ہے جس میں محقق کے ذریعہ جوڑ توڑ یا تبدیلی کی جاتی ہے یا اس کی طاقت میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ یہ وہ متغیرہ ہے جس کا اثر محقق اپنے مطالعہ میں دیکھنا یا نوٹ کرنا چاہتا ہے۔ لیٹینے اور ڈارلے کے ذریعہ انجام دیئے گئے اختبار میں (باکس 2.1)محقق افراد کی موجودگی کے اثر کا جائزہ دھوئیں کے بارے میں ایمرجنسی کی رپورٹ کرنے پر کرنا چاہتا تھا۔ یہاں پر کمرے میں حاضر یا غیر حاضر لوگ آزاد متغیرہ تھے مختصر متغیرہ وہ مغیرہ ہے جس کے اوپر محقق آزاد متغیرہ کے اثر کا مشاہدہ کرنا چاہتا تھا۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ آزاد متغیرہ میں تبدیلی متغیرہ میں تبدیلی لائے گی۔ مذکورہ بالا حالت میں دھوئیں کی رپورٹ کی تکرار منحصر متغیرہ ہے۔ اس طرح سے کسی اختباری حالت میں آزاد متغیرہ علت یا سبب ہوتا ہے اور منحصر متغیرہ معلول ہوتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آزاد اور مختصر متغیرات باہمی طور پر منحصر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی تعریف دوسرے کے بغیر نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ محقق کے ذریعہ منتخب شدہ آزاد متغیرہ ہی صرف ایسا متغیر نہیں ہے جو منحصرمتغیر ہ پر اثر ڈال سکتاہے۔ کسی بھی کرداری وقوعہ کے اندر بہت سے متغیرات شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک سیاق یا تناظر میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آزاد اور منحصر متغیرات اس لئے چنے جاتے ہیں کیونکہ محقق کی اس میں نظریاتی دلچسپی ہوتی ہے۔ تاہم بہت سے دیگر متعلقہ یا غیر متعلقہ متغیرات بھی ہوتے ہیں جو منحصر متغیرہ پر اثر ڈال سکتے ہیں لیکن محقق کی دلچسپی اس وقت ان کے اثرات جاننے میں نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے ایک اختبار میں ان متعلقہ متغیرات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ محقق آزاد اور منحصر متغیروں کے مابین علت اور معلول کے تعلق کو یقینی طور پر بتا سکے۔

اعتباری اور کنٹرول گروہ 

عام طور پر اختبارات میں ایک یا ایک سے زیادہ اختباری گروہ اور ایک یا ایک سے زائد کنٹرول گروہ شامل ہوتے ہیں۔ اختباری گروہ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کے ارکان یا نمبر کو آزاد متغیرہ دیا جاتا ہے اور اس میں اختبار کنندہ کے ذریعہ جوڑ توڑ کی جاتی ہے۔ کنٹرول گروہ وہ گروہ ہے جس پر آزاد وغیرہ کی تبدیلی کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ کنٹرول ایک موازنہ گروہ ہوتا ہے جس کے ساتھ جوڑ توڑ والے عامل کے علاوہ اختباری گروہ جیسا ہی سلوک مکمل طور پر کیا جاتا ہے۔ اس میں صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ اس میں جوڑ توڑ کیا گیا متغیرہ غیر حاضر ہوتا ہے مثلا لیٹنے اور ڈارلے کے مطالعہ میں دو اختباری گروہ اور ایک کنٹرول گروہ تھے۔ جیسا کہ آپ نے نوٹ کیا ہوگا مطالعہ میں شرکاءکو تین قسم کے کمروں میں بھیجا گیا تھا۔ ایک کمرہ میں کوئی بھی موجود نہیں تھا( کنٹرول گروہ)، دیگر دو کمروں کے اندر دو شخص پہلے سے ہی موجود تھے (اختیاری گروہ)۔ ان دو اختیاری گروہوں میں سے ایک گروہ کو پہلے سے ہی ہدایت دے دی گئی تھی کہ جب کمرہ میں دھواں بھر جائے تو وہ کچھ بھی نہ کریں۔ دوسرے گروہ کو کسی طرح کی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ جب اختباری جوڑ توڑ کیا جا چکا تب کنٹرول گروہ کی کارکردگی کی پیمائش رپورٹ کی شکل میں کی گئی اور اس کاموازنہ اختیاری گروہ سے کیا گیا تھا۔جیسا کہ مطالعہ کے اندر پایا گیا تھا کہ کنٹرول گروہ کے شرکاء نے ناگہانی صورت حال کی رپورٹ زیادہ کی۔ اس کے بعد اختباری گروہ اول پایا گیا جن کے شرکاء کا کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور اختیاری گروہ دوئم (جس میں مصنوعی فاعل شامل تھے) نے دھوئیں کی رپورٹ سب سے کم کیا۔

یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ کسی اختبار کے اندر اختباری جوڑ جوڑ کے علاوہ دیگر حالات اختباری اور کنٹرول دونوں گروہوں کے لئے یکساں رکھے جاتے ہیں۔ اختبار کننندہ ان سبھی متعلقہ متغثرات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے جو منحصر متغیرہ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثلاً دھوئیں کے کمرہ میں داخل ہونے کی رفتار، کمرہ میں دھوئیں کی مجموعی مقدار، کمرہ کی طبیعی اور دیگر سہولیات تینوں گروہوں کے لئے مماثل تھیں۔ اختباری اور کنٹرول گروہ میں شرکاء کی تقسیم بھی بے ترتیب طور پر کی گئی تھی۔ بے ترتیب طریقہ ایک ایسا طریقہ ہے جو یہ یقینی بناتا ہے کہ ہر شخص کو دونوں گروہوں میں سے کسی ایک گروہ میں شامل ہونے کا اتفاق مساوی ہے۔ اگر ایک گروہ میں اختبار کنندہ نے صرف لڑکوں اور دوسرے گروپ میں صرف لڑکیوں کو شامل کیا ہوتا تو وہ نتائج جسے آپ نے مطالعہ میں حاصل کیا ہے وہ اختیاری جوڑ توڑ کی وجہ سے نہ ہو کر صنف کے اثر کی وجہ سے ہو سکتا تھا۔ اختباری مطالعات میں تمام متعلقہ متغیرات (جیسے عمر، صنف، ذہانت، تشویش، شخصیت وغیرہ)، موقوعاتی یا ماحولیاتی متغیرات جو اختبار کو انجام دیتے وقت سرگرم ہوتے ہیں (جیسے شور و غل، حرارت، نمی وغیرہ) اور ترتیبی متغیرات۔ ترتیب سے متعلق متغیرات اس وقت بامعنی ہو جاتے ہیں جب اختبار میں شرکاء کی کئی حالات میں جانچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف حالات کا سامنا کرنے کی وجہ سے تطابق، تھکان یا مشق کے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں جو مطالعہ کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں اور نتائج کی توضیح کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ متغیرات پر قابو حاصل کرنے کے اختبار کنندگان بہت سی تکنیکوں کااستعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کی تفصیل حسب ذیل ہے:

چونکہ کسی اختبار کامقصد یہ ہوتا ہے کہ غیرمتعلقہ متغیرات کو کم کیا جائے، اس لئے اس مسئلہ کو ہینڈل کرنے کا سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ انہیں اختباری پس منظر سے خارج کردیا جائے، اسی لئے اختبار ساؤنڈ پروف اور ایئرکنڈیشن کمروں کے اندر کئے جاتے ہیں تاکہ شورو غل اور حرارت کااثر خارج ہو جائے۔

اخراج ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں مماثل (یکساں)بنائے رکھنے کی کوشش کی جانی چاہئے تاکہ ان کے اثرات پورے اختبار کے دوران یکساں بنے رہیں۔

عضوی متغیرہ (جیسے خوف و تحریک) اور پس منظر سے متعلق تغیرات (جیسے شہری؍ دیہی، ذات، سماجی، اقتصادی حیثیت) کو کنٹرول کرنے کے لئے جوڑ ملانے (میچنگ) کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریق کار میں متعلقہ متغیرات کو دونوں گروپوں میں معمولوں کے مساوی جوڑوں کو رکھ کر کیاجاتا ہے۔

جوابی۔مماثلث کی تکنیک کا استعمال ترتیب کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ مان لیجئے کہ کسی اختبار میں معمولوں سے دو طرح کے کام کرائے جاتے ہیں اور دو الگ الگ گروپوں کو اس ترتیب میں کام دینے کے بجائے اختبار کنندہ کاموں کی ترتیب کو آپس میں بدل دیتا ہے۔ اس طرح کے گروپ کے آدھے کاموں کو A اور B کی ترتیب میں کرتے ہیں۔ دوسرے آدھے معمولB اور A کی ترتیب میں کرتے ہیں یا ایک ہی شخص کو ABBA کی ترتیب میں دیا جا سکتا ہے۔

مختلف گروہوں میں شرکاء کی بے ترتیب تفویض گروہوں کے درمیان پہلے سے موجود کسی بھی طاقتور منظم فرق کو ختم کردیتا ہے۔

ایک بہت عمدہ طور پر ڈیزائن کئے گئے اختبار کی قوت اس بات میں پنہاں ہوتی ہے کہ یہ دو یا دو سے زیادہ متغیرات کے درمیان علت اور معلول (Cause and Effect) کے تعلق کا کتنا یقین بخش ثبوت فراہم کرتا ہے۔ بہرحال اختبارات زیادہ تر ایک بہت ہی اعلیٰ پیمانہ پر منضبط شدہ تجربہ گاہ کے حالات کو تجربہ گاہ میں مصنوعی طور سے پیدا کرتا ہے جو باہر کی دنیا کے حالات ہوتے ہیں، اس لئے ان پر اکثر یہ اعتراض کیا جا تا ہے کہ حقیقی کردار سے ان کا تعلق بہت کم ہوتا ہے۔ اختبارات ایسے نتائج دے سکتے ہیں کہ ان کی اچھی طرح سے تعمیم نہیں ہو سکتی ہے یا ان کا نفاذ حقیقی حالات میں نہیں ہو سکتا ہے بہ الفاظ دیگر ان کے خارجی بھروسہ مندی کم ہوتی ہے۔ اختباری مطالعہ کی ایک دوسری کمی یہ ہے کہ کسی مخصوص مسئلہ کا اختباری طور پر مطالعہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچوں کی ذہانت کی سطح پر تغذیہ کی کمی کے اثر کو جاننے کے لئے اختبار نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ کسی کو بھوکا رکھنا اخلاقی طور پر غلط ہوگا۔ تیسری دقت یہ ہے کہ تمام متغیرات کی معلومات اور ان پر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔

فیلڈ اختبار اور نیم اختبار

(Field Experiments and Quasi Experiments)

اگر کوئی محقق اونچے درجہ کی تعمیم چاہتا ہے یا ایسے مطالعے کرنا چاہتا ہے جو تجربہ گاہ میں ممکن نہ ہوں تو وہ میدان یا ایسے پس منظر میں جاتا ہے جہاں وہ مخصوص مظہر جس کا وہ مطالعہ کرنا چاہتا ہے واقعی موجود ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ فیلڈ اختبار برپا کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک محقق جاننا چاہتا ہے کہ کون سا طریقۂ تدریس طالب علم کے لئے زیادہ بہتر آموزش کے لئے کارگر ہوگا۔ یعنی لکچر یا مطالعہ کا طریقہ۔ فطری طور پر طلباء اسکول میں پائے جاتے ہیں جہاں پر تدریس اور آموزش ہوتی ہے، اس لئے محقق کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے اختبار کو اسکول میں انجام دے۔ اس کے لئے محقق شرکاء کے دو گروہ کا انتخاب کر سکتا ہے: اختباری گروہ جس کو مظاہرہ کے طریقۂ تدریس سے تعلیم دی جائے گی اور دوسرا کنٹرول گروہ جس کو نارمل تدریسی طریقہ سے تعلیم دی جائے گی اور آموزش سیشن کے خاتمہ کے بعد دونوں گروہوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے گا۔ اس طرح کے اختبارات میں متعلقہ متغیرات پر کنٹرول تجربہ گاہ کے اختبارات کے مقابلہ میں کم ہوتا۔ اس میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور تجربہ گاہی اختبار کے مقابلہ مہنگا بھی ہے۔

ایسے بہت سے متغیرات ہوتے ہیں جن کی جوڑ توڑ تجربہ گاہی پس منظر میں ممکن نہیں ہوتی ہے۔ مثلاً اگر آپ زلزلہ کے اثرات کا مطالعہ ان بچوں پر کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے زلزلہ میں اپنے والدین کھودیا ہے تو ایسے حالات تجربہ گاہ میں مصنوعی طور پر پیدا نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں محقق نیم اختبار (Quasi) لیٹن لفظ جس کے معنی ’’جیسا‘‘ یعنی اختبار جیسا) کا استعمال کرتا ہے۔ اس قسم کے اختبارات میں آزاد متغیرہ میں اختبار کنندہ کے ذریعہ تغیر یا جوڑ توڑ کرنے کے بجائے اس کاانتخاب کیا جاتا ہے۔ مثلاً اختباری گروہ میں ہم ایسے بچوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو زلزلہ کے شکار والدین کے بچے ہوں اور کنٹرول گروہ میں ان بچوں کا انتخاب کریں جنہوں نے زلزلوں کا سامنا کیا ہو لیکن ان کے والدین زندہ ہوں۔ اس طرح سے نیم اختبار میں آزاد متغیرہ کی فطری پس منظر میں جوڑ توڑ فطری طور پر وقوع پذیر ہوئے گروہوں اور کنٹرول گروہوں کے استعمال کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔

سرگرمی 2.2

حسب ذیل فرضیوں میں آزاد اور منحصر متغیرات کو پہچانئے:

1. کلاس روم میں ٹیچر کا کردار طلبا کی کارکردگی پر اثر ڈالتا ہے۔

2. والدین اور بچے کے مابین اچھے تعلقات بچے کی جذباتی سازگاری کو آسان بناتے ہیں۔

3. ہم عمر بچوں کے دباؤ کی سطح تشویش کی سطح کو بڑھاتا ہے۔

4. چھوٹے بچوں کے ماحول کو خاص کتابوں اور آزمائشوں سے مالا مال کرنے سے ان کی کارکردگی بڑھتی ہے۔


ربطی تحقیق (Correlational Research)

نفسیاتی تحقیق میں اکثر پیشین گوئی کے مقاصد سے ہم دو متغیروں کے مابین تعلق کو متعین کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو یہ جاننے میں دلچسپی ہو سکتی ہے کہ آیا ’’مطالعہ میں صَرف کئے گئے وقت کی مقدار کا ربط یا تعلق طالب علم کے تحصیل سے ہے یا نہیں۔‘‘ یہ سوال اس سوال سے مختلف ہے جس کا جواب اختباری طریقہ ڈھونڈتا ہے۔ اس معنی میں یہاں پر آپ وقت کی مقدار میں جوڑ توڑ تحصیل پر اس کے اثر کاجائزہ لینے کے لئے نہیں کرتے ہیں بلکہ آپ دو متغیرات کے مابین صرف تعلق یا ربط کو جاننا چاہتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا دونوں کا تعلق ہے یا نہیں یا دونوں ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔ دو متغیرات کے درمیان تعلق کی قوت اور سمت کو ریاضی کے ایک نمبر کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے جسے شرح ربط کہا جاتا ہے۔ شرحِ ربط کا حیطہ +1.0 سے 0.0 گزرتا ہوا -1.0 ہوتا ہے۔

جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ شرحِ ربط تین قسموں کی: مثبت، منفی اور صفر ہوتی ہے۔ مثبت ربط بتاتا ہے کہ کسی متغیرہX کی قدر میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے دوسرے متغیرہ Y کی قدر میں بھی ویسے ویسے اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سے جب متغیرہX کی قدر گھٹتی ہے تو متغیرہ Y میں بھی گراوٹ آتی ہے۔ مثلاً آپ پاتے ہیں کہ طالب علم مطالعہ میں جتنا زیادہ وقت صَرف کرتا ہے اس کی تحصیل بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح سے مطالعہ میں کم وقت صَرف کرنے سے تحصیل بھی کم ہوتی ہے۔ اس قسم کے ربط کو ایک مثبت  عدد کے ذریعہ ظاہر کیاجاتا ہے۔ مطالعہ و تحصیل کے مابین ربط جتنا زیادہ مضبوط ہوگا اتنی ہی زیادہ یہ عدد +1.0 کے قریب تر ہوگی۔ آپ کو +0.85 کا ربط حاصل ہو سکتا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مطالعہ میں دیئے گئے وقت اور تحصیل کے مابین بہت زیادہ مضبوط مثبت ایتلاف یا ربط ہے۔ دوسری جانب ایک منفی ربط ہمیں بتاتا ہے کہ کسی متغیرہ X کی قدر میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے دوسرے متغیرہ Y کی قدر میں ویسے ویسے کمی واقع ہوتی ہے۔ مثلاً آپ یہ فرضیہ بنا سکتے ہیں کہ مطالعہ میں صَرف کئے گئے اوقات میں ویسے ویسے کمی واقع ہوگی۔ یہاں آپ ایک منفی ربط کی توقع کر رہے ہیں جس کا حیطہ 0 اور -1.0 کے درمیان ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ دو متغیرات کے درمیان کوئی ربط نہ ہو۔ یہ صفر ربط کہلاتا ہے۔ عام طور پر صفر ربط حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن صفر کے قریب تر جیسے 02.-یا 03.+، ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دو متغیروں کے مابین بامعنی ربط نہیں ہے یا دو متغیرات غیر ربطی ہیں یعنی دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔

سروے تحقیق

آپ نے اخبارات میں ضرور پڑھا ہوگا یا ٹیلی ویژن پر دیکھا ہوگا کہ الیکشن کے زمانہ میں یہ جاننے کے لئے سروے انجام دیئے جاتے ہیں کہ لوگ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا کنڈیڈیٹ کو اپنا ووٹ دیں گے یا نہیں۔ سروے تحقیق کا جنم لوگوں کی آراء، رویوں اور سماجی حقائق کو جاننے کے لئے ہوا تھا۔ ان کاشروعاتی مقصد موجود حقائق یا بنیادی خط کو جاننے کے لئے کیا جاتا تھا، اس لئے اس کا استعمال ایسے حقائق جیسے مخصوص وقت میں مخصوص گروہ میں خواندگی کی شرح کاتعلق، ان کے مذہب یا آمدنی کی سطح وغیرہ کو جاننے کے لئے کیا جاتا تھا۔ ان کا استعمال فیملی پلاننگ کے تئیں لوگوں کے رویہ کو جاننے کے لئے یا پنچایتی راج کو صحت؍ تعلیم اور صفائی سے متعلق پروگراموں کو جاننے کے لئے بھی کیا گیا ہے۔ تاہم اب مختلف بہتر تکنیکیں ایجاد کرلی گئی ہیں جو علّی تعلقات کو جاننے میں مددگارہوتی ہیں۔ باکس 2.2 سروے طریقہ کی ایک مثال مہیا کرتا ہیز

سروے تحقیق معلومات جمع کرنے کی مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں شامل تکنیکیں یہ ہیں: شخصی انٹرویو، سوالنامہ، ٹیلیفون سروے اور منضبط شدہ مشاہرہ۔ ان تکنیکوں پر کچھ تفصیل سے یہاں بحث کی جائے لی۔

شخصی انٹرویو (Personal Interview)

 طریقۂ انٹرویو لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کاایک سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔ اس کااستعمال مختلف اقسام کی عملی صورتِ حال میں کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے مریضوں سے معلومات حاصل کرنے میں، وکیل اپنے مؤکل سے معلومات حاصل کرنے میں، نوکری دینے والے نوکری حاصل کرنے والوں سے، سیلس مین گھریلوں عورتوں سے یہ پوچھنے کے لئے کہ وہ کیوں ایک مخصوص برانڈ صابن استعمال کرتی ہیں ؍ استعمال کرتے ہیں۔ ٹیلیویژن پر ہم اکثر میڈیا کے لوگوں کو قومی اور بین الاقوامی طور پر اہم مسائل کے بارے میں لوگوں سے انٹرویو لیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انٹرویو میں کیا ہوتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ دو یا دو سے زیادہ افراد آمنے سامنے بیٹھتے ہیں، جن میں ایک شخص (جسے انٹرویو لینے والا کہتے ہیں) دوسرے شخص (جسے انٹرویو دینے والا یا جوابی عمل کرنے والا کہتے ہیں) سے سوالات پوچھتا ہے اور وہ شخص مسئلہ سے متعلق سوالات کے جواب دیتا ہے۔ انٹرویو ایک بامقصد سرگرمی ہے جو واقعاتی معلومات، آراء، رویوں اور جوابی عمل کرنے والوں کے کردار کے اسباب کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ یہ عام طور پر آمنے سامنے انجام پذیر ہوتا ہے لیکن اسے فون کہ ذریعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔


باکس2.2 سروے طریقہ کی مثال

’’آؤٹ لک‘‘ (Outlook) ویکلی رسالہ (10؍ جنوری 2005) نے دسمبر 2004؁ء میں یہ جاننے کے لئے کہ ہندوستان کے لوگ کس چیز سے خوش ہوتے ہیں، ایک سروے کیا۔ سروے آٹھ بڑے شہروں میں کیا گیا جن کے نام ممبئی، دہلی، کولکاتا، بنگلور، حیدرباد، احمدآباد، جے پور، رانچی ہیں۔ 817 اشخاص جن کی عمریں 25 سے 28 سال کے درمیان تھی نے اس سروے میں شرکت کی۔ سوالنامہ میں استعمال کئے گئے سوالات مختلف قسم کے تھے۔ پہلا سوال (کیا آپ خوش ہیں؟) کے لئے جوابی عمل کرنے والوں کواپنے خیالات 5۔ نقطہ پیمانہ (=5بہت زشادہ خوش، =4 تقریباً خوش، =3 نہ ہی خوش اور نہ ہی ناخوش، =2تقریباً ناخوش، =1بہت زیادہ ناخوش) دینے تھے۔ تقریباً 47 فیصد لوگوں نے رپورٹ کیاکہ وہ بہت زیادہ خوش ہیں، 28 فیصد لوگوں نے خود کو تقریباً خوش بتایا، 11 فیصد لوگوں نے بتایا کہ وہ نہ ہی خوش تھے اور نہ ہی ناخوش تھے، 7 فیصد لوگوں کے جوابات آخری دو زمروں یعنی تقریباً ناخوش اور بہت زیادہ ناخوش میں تھے۔دوسرے سوال (کیا آپ دولت سے خوشی خرید سکتے ہیں؟( کے تین متبادل (ہاں، نہیں، معلوم نہیں) تھے۔ تقریباً 80 فیصد لوگوں نے بتایا کہ دولت سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی ہے۔ ایک اور سوال میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’’زیادہ سے زیادہ یا از حد خوشی انہیں کیا چیز دیتی ہے؟‘‘ 50 فیصد سے زیادہ جوابی عمل کرنے والوں نے بتایا کہ ذہنی سکون (52 فیصد)، اور صحت (50فیصد) انہیں از حد خوشی دیتے ہیں۔ ان کے بع آنے والے جوابی عمل کام (43 فیصد) اور کنبہ (40 فیصد) تھے۔ ایک دوسرے سوال میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’’جب وہ ناخوش ہوتے ہیں یا غم زدہ محسوس ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟‘‘ مطالعہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ 36 فیصد لوگوں نے موسیقی سننے کو ترجیح دی۔ 23 فیصد لوگوں نے بتایا کہ وہ دوستوں کا ساتھ تلاش کرتے ہیں اور 15 فیصد لوگوں نے فلم دیکھنے کے لئے رپورٹ کیا۔

انٹرویو دو قسم کے ہوتے ہیں: ساختہ یا معیار بند اور ناساختہ یا غیر معیار بند۔ یہ تفریق کی اس تیاری کی قسم پر مبنی ہے جو ہم انٹرویو لینے سے پہلے کرتے ہیں۔ چونکہ ہمیں  انٹرویو کے درمیان سوالات پوچھنے ہوتے ہیں، اس لئے ہمیں ضرورت ہوتی ہے کہ سوالات کی ایک فہرست ہم پہلے سے ہی تیار کر لیں۔ سوالات کی اس فہرست کو انٹرویو شیڈول کہا جاتا ہے۔ ساختہ انٹرویو وہ ہوتا ہے جس میں شیڈول کے سوالات واضح طور پر اور ایک مخصوص ترتیب میں لکھے ہوتے ہیں۔ انٹرویو لینے والے کو سوالات کے الفاظ یا ان کے پوچھے جانے کی ترتیب کو تبدیل کرنے کی آزادی بہت کم یا بالکل نہیں ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ان سوالات کے جوابات بھی پہلے سے تیار کر لئے جاتے ہیں۔ انہیں متعین یا بند۔ ختم (Closed ended) سوالات کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیر معیار بند انٹرویو میں انٹر ویو لینے والے کو پوچھے جانے والے سوالات طے کرنے، سوالات کے الفاظ کی شکل اور ان کی ترتیب طے کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ چونکہ جوابات پہلے سے طے نہیں ہوتے ہیں، اس لئے جواب دہندگان کے جوابات اپنے ڈھنگ سے دینے میں آزاد ہوتا ہے؍ ہوتی ہے۔ ایسے سوالات کھلے- ختم والے سوالات یا غیر متعین سوالات (open-ended) کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر محقق کسی شخص کی خوشی کی سطح کی جانکاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ پوچھ سکتا؍ سکتی ہے: آپ کتنے خوش ہیں؟ جوابی عمل کرنے والا شخص اس سوال کا جواب جس طرح چاہے دے سکتا؍ سکتی ہے۔ یہ غیر ساختہ انٹرویو کہلائے گا۔ متبادل طور پر انٹرویو لینے والا شخص جوابی عمل کرنے والے شخص سے پوچھ سکتا ہے کہ مندرجہ ذیل تین جوابی عملوں میں سے وہ کس کا انتخاب کرے گا؟ ’’خوش‘‘، ’’معلوم نہیں‘‘ اور ’’ناخوش‘‘۔ یہ ساختہ انٹرویو کی ایک مثال ہے۔

کسی انٹرویو میں انٹرویو کی حالت میں شرکاء کے مندرجہ ذیل مجموعے ہو سکتے ہیں:

الف) فرد سے فرد: یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں ایک انٹرویو لینے والا صرف ایک ہی شخص سے انٹرویو لیتا ہے۔

ب) فرد سے گروہ: اس حالت میں ایک انٹرویو لینے والا شخص اشخاص کے ایک گروہ سے انٹرویو لیتا ہے۔ اس کی ایک قسم فوکس گروہ مباحثہ ہے۔

ج) گروہ سے فرد: یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں انٹرویو لینے والوں کا ایک گروہ ایک شخص کا انٹرویو لیتا ہے۔ آپ اس کا تجربہ اس وقت کریں گے،جب نوکری کے لئے انٹرویو دیں گے۔

د) گروہ سے سے گروہ: ایک ایسی حالت ہے جس میں انٹرویو لینے والوں کا ایک گروہ انٹرویو دینے والوں کے ایک دوسرے گروہ کا انٹرویو لیتا ہے۔

انٹرویو لینا ایک مہارت ہے۔ ایک اچھا انٹریو لینے والا جانتا ہے کہ جواب دہندہ سے زیادہ سے زیادہ جواب حاصل کرنے کے لئے اس کو کس طرح سے سکون دیا جائے۔ انٹرویو لینے والا اس بات کے لئے بہت حساس ہوتا ؍ ہوتی ہے کہ کوئی شخص جوابی عمل کیسے کرتا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تو زیادہ معلومات کے لئے وہ زیادہ گہرائی میں جاتا؍ جاتی ہے۔ گہرائی میں جاکر مسئلہ کی تہہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انٹرویو ناساختہ یا غیر معیار بند ہوتا ہے۔ اگر جوابی عمل کرنے والا شخص مبہم یا غیر واضح جواب دیتا ہے تو انٹرویو لینے والا شخص واضح اور معین جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

انٹرویو کا طریقہ بہت زیادہ گہرائی میں جاکر معلومات حاصل کرنے میں مددکرتا ہے۔ یہ لچکدار اور انفرادی حالات کے مطابق ہو سکتا ہے اور اسے اس وقت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جب دوسرے کسی طریقہ کا استعمال ممکن نہیں ہوتا ہے یا دوسرے طریقے مناسب نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اور ناخواندہ لوگوں کے لئے بھی زیادہ اچھی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انٹرویو لینے والا جان سکتا ہے کہ آیا جوابی عمل کرنے والے سوالات سمجھتے ہیں یا نہیں اور وہ سوالات کو دوبارہ پوچھ سکتا ہے یا سوالات کے الفاظ میں تبدیلی لا سکتا ہے۔تاہم انٹرویو کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اکثر ایک شخص سے معلومات حاصل کرنے میں ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے جو وقت کے اعتبار سے کافی قیمتی ہے۔

سوالنامہ سروے (Questionnaire Survey)

سوالنامہ معلومات جمع کرنے کا سب سے عام، سہل، ہمہ گیر اور کم خرچ والا خود کی رپورٹ دینے کا طریقہ ہے۔ یہ ایک پہلے سے متعین شدہ سوالات کا مجموعہ ہوتا ہے، جو پہلے سے طے شدہ سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں جوابی عمل کرنے والے شخص کو سوالات خود پڑھنا ہوتا ہے اور ان کے جوابات لفظی طورپر انٹرویو لینے والے کو دینے کے بجائے کاغذ پر صرف نشان لگا کر دینا ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی صورت میں ایک اعلیٰ معیار بند انٹرویو کی طرح ہوتے ہیں۔ بیک وقت سوالات ایک گروہ میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں جو سوالات کے جوابات خود لکھتے ہیں اور محقق کو واپس کردیتے ہیں یا انہیں ڈاک سے بھی ارسال کر سکتے ہیں۔ عام طور پرسوالنامہ میں دو طرح کے سوالات استعمال کئے جاتے ہیں۔ غیر متعین سوالات اور عام سوالات اورمتعین سوالات۔ غیرمتعین سوالات کے ساتھ جوابی عمل کرنے والے کو یہ آزادی ہوتی ہے کہ وہ جس جواب کو بھی مناسب سمجھے اسے لکھے۔ متعین قسم میں سوالات اور ان کے ممکنہ جوابات دیئے ہوتے ہیں اور جوابی عمل کرنے والے کو ان میں سے صحیح جوابات منتخب کرنے ہوتے ہیں۔ متعین سوالات والے سوالنامہ میں جوابات ہاں؍ نہیں، صحیح؍ غلط، تعددی انتخاب یا درجہ پیمانہ میں دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ درجہ پیمانہ ہونے کی صورت میں ایک بیان دیا جاتا ہے اور جوابی عمل کرنے والے شخص سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی رائے یا خیال ایک 3 نقطہ (متفق، مذبذب، غیر متفق) یا 5 نقطہ (بہت زیادہ متفق، متفق،مذبذب، غیر متفق) یا 7نقطہ، 9 نقطہ، 11، یا 13 نقطہ پیمانہ پر دے۔ کچھ حالات میں جوابی عمل کرنے والے شخص سے کہا جاتا ہے کہ متعدد اشیاء کے مقامات کا تعین اپنی پسندیدہ ترتیب میں کرے۔ پس منظر اور شخصی معلومات، سابق کردار کے بارے میں معلومات، رویہ، رائے کسی مخصوص موضوع کے بارے میں علم اور اشخاص کی توقعات اور آرزوؤں کو معلوم کرنے کے لئے سوالنامہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی سوالنامہ ڈاک کے ذریعہ ارسال کر کے بھی انجام دیا جاتا ہے۔ ڈاک سے ارسال کئے ہوئے سوالنامہ کاایک خاص مسئلہ یہ ہے کہ اکثر جواب دہندہ ان کو واپس نہیں بھیجتے ہیں۔

سرگرمی 2.3

ایک محقق بہبودی کے پروگراموں کی جانب لوگوں کے رویہ کا مطالعہ کرنے کے لئے انٹرنیٹ کے ذریہ سوالنامہ بھیجتا ہے۔ کیا یہ مطالعہ عام لوگوں کے نظریہ کی صحیح طور پر عکاسی کرے گا؟ کیوں اور کیوں نہیں؟

ٹیلیفون سروے (Telephone Survey)

سروے ٹیلیفون کے ذریعہ بھی انجام دیئے جاتے ہیں اور ان دنوں آپ نے ایسے پروگرام جس میں آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی رائے موبائل فون سے، ایس۔ ایم۔ ایس کے ذریعہ ارسال کریں ضرور دیکھا ہوگا۔ فون سروے سے وقت کی بچت بہت زیادہ ہوتی ہے، تاہم چونکہ جوابی عمل کرنے والا انٹرویو لینے والے کو نہیں جانتا ہے، اس لئے اس تکنیک میں تعاون کا فقدار، ہچکچاہٹ اور جوابی عمل کرنے والے کے سطحی جوابات دینے کے امکانات بہت ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ جو جواب دے رہے ہیں وہ جواب نہ دینے والوں کے مقابلہ میں نفسیاتی خصوصیات کے علاوہ عمر، جنس، آمدنی کی سطح، تعلیم کی سطح میں مختلف ہوں۔ اس لئے اس سے بہت جانب دار نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

مشاہدہ کے طریقہ کی وضاحت پہلے کی جاچکی ہے۔ یہ طریقہ سروے کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر ایک طریقہ کے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں، اس لئے محقق کو کسی مخصوص طریقہ کے انتخاب میں ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سروے طریقہ کے بہت سے فائدے ہیں۔ اول، اس کے ذریعہ ہزاروں اشخاص سے معلومات سرعت اورمؤثر طریقے سے جمع کی جاسکتی ہیں۔دوئم، چونکہ سروے سرعت سے کئے جاتے ہیں اس لئے نئے امور پر رائے عامہ نئے مسئلہ کے اٹھتے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سروے طریقہ کی کچھ حدیں بھی ہیں۔ اول، حافظہ کمزور ہونے یا یادداشت کمزور ہونے کی وجہ سے لوگ صحیح معلومات نہیں دے سکتے ہیں یا خاص مسئلہ کے بارے میں لوگ اپنے خیالات سے محقق کو واقف کرانا نہیں چاہتے ہیں۔ دوئم، لوگ کبھی کبھی وہی جوابی عمل دیتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہوتا ہے کہ محقق اسے پسند کرے گا۔

نفسیاتی آزمائش (Psyclological Testing)

شروعات سے ہی انفرادی فرق کا جائزہ لینا نفسیات کا ایک خاص مقصد رہا ہے۔ ماہرین نفسیات نے انسانی خصوصیات جیسے ذہانت، استعداد، شخصیت، دلچسپی، رویہ، اقتدار، تعلیمی تحصیل وغیرہ کا جائزہ لینے کے لئے مختلف اقسام کی آزمائشیں بنائی ہیں۔ ان آزمائشوں کا استعمال مختلف مقاصد جیسے عملہ کے انتخاب، تعیناتی، تربیت، رہنمائی، تشخیص وغیرہ بہت سے سیاق بشمول تعلیمی ادارے، گائیڈنس کلینک، انڈسٹریز، دفاعی اداروں وغیرہ میں کیاجاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی نفسیاتی آزمائش دی ہیں؟ اگر آپ نے دی ہے تو آپ نے یہ دیکھا ہوگا کہ ایک آزمائش میں بہت سے سوالات جنہیں مدات کہاجاتا ہے اپنے ممکنہ جوابات کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ ان سوالات یا مدات کاتعلق کسی انسانی خصوصیت یا وصف سے ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ جس خصوصیت کے لئے آزمائش بنائی گئی ہے اس کی تعریف صاف اور واضح طور پر ہونی ضروری ہے اور تمام مدات (سوالات) صرف اسی خصوصیت سے متعلق ہونے چاہئیں۔آپ نے یہ بات بھی نوٹ کی ہوگی کہ اکثر ایک آزمائش کسی مخصوص عمر کے لوگوں کے لئے ہوتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی ہے۔

تکنیکی طور پر ایک نفسیاتی آزمائش کس فرد کا دوسرے افراد کے مقابلہ (موازنہ) میں کسی ذہنی یا کرداری خصوصیات کے مقام کے تعین کے لئے استعمال کیاجانے والا ایک معیار بند معروضی آلۂ پیمائش کسی ایک آزمائش لوگوں کے ایک گروہ کو دیتے ہیں تودونوں ہر فرد کے لئے ایک ہی قدر (نمبر) یا کہ مماثل نتائج حاصل کریں گے۔ کسی نفسیاتی آزمائش کو معروضی بنانے کے لئے یہ ضرورت ہے کہ مدات کے الفاظ ایسے ہوں کہ سبھی پڑھنے والوں کے لئے ایک ہی معنی کی ترسیل کریں۔ آزمائش دینے والوں کو یہ ہدایت کہ مدات کے جواب وہ کس طرح دیں پہلے سے ہی طے کر دیئے جاتے ہیں۔ آزمائش کودینے کا طریقِ کار (انفرادی یا گروہی) کو بھی متعین ہونا چاہئے اورشرکاء کے جوابی عملوں کی عمل شماری (Scoring) کے لئے طریق کار کی وضاحت بھی ہونی چاہئے۔ کسی آزمائش کو بنانے کا عمل ایک باضابطہ عمل ہے جس میں اور اس مخصوص اقدامات شامل ہوتے ہیں جس میں عمل مدات کامفصل تجزیہ، معتبری، بھروسہ مندی اور پوری آزمائش کے معیارات (Norms) شامل ہوتے ہیں۔

آزمائش کی معتبری سے مراد ایک آزمائش پر دو مختلف مواقع پر کسی فرد کے ذریعے حاصل کئے گئے نمبروں پر توافق سے ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے طلباء کے ایک گروہ کو آج آزمائش دی اور اسی آزمائش کو انہیں طلباء پر دوبارہ کچھ وقت گزرنے کے بعد دیا، جیسے 20 دنوں کے بعد دوبارہ تو اگر آزمائش معتبر ہے تو طلباء کے ذریعہ دونوں بار کے حاصل کردہ نمبرات میں زیادہ فرق نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ہم باز آزمائش (Test reliability) کا تعین کر سکتے ہیں جو زمانی استحکام (یا وقت کے ساتھ آزمائش کے نمبرات میں استحکام) کو بتاتی ہے۔ اس طرح کی معتبری دو مواقع پر حاصل شدہ نمبرات کے ذریعہ شرح ربط حاصل کرکے طے کی جاتی ہے۔ معتبری کی ایک دوسری قسم تنصیفی معتبری (split-half reliability) کہلاتی ہے۔ یہ کسی آزمائش کے اندرونی استحکام کے ذریعہ کو بتاتی ہے۔ یہ اس مفروضہ پر مبنی ہوتی ہے کہ اگر جانچ کے مدات ایک ہی میدان سے لئے گئے ہیں تو ان میں باہمی ربط ہوگا اور اگر مختلف میدانوں سے لئے گئے ہیں جیسے نارنگی اور سیب ہیں تو ان میں باہمی ربط نہیں ہوگا۔ داخلی استحکام حاصل کرنے کے لئے جفت۔ طاق (odd-even) طریقہ کا استعمال کرنے کے بعد آزمائش کو دو مساوی نصفوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ جیسے مدات1، 3، 5… کو ایک گروہ میں اور مدات 6, 4, 2  کو دوسرے گروہ میں اور طاق اور جفت مدات کے نمبروں کے مابین ربط کا شمال کر لیا جاتا ہے۔

کسی آزمائش کو استعمال کے لائق ہونے کے لئے اسے بھروسہ مند یاصحت مند (Valid) بھی ہونا چاہیئے۔ بھروسہ مندی یا صحت (Validity) ایسے سوالات کی طرف اشارہ کرتی ہے:  کہ ’’ کیا آزمائش جس چیز کی پیمائش کا دعویٰ کر رہی ہے اس کی پیمائش کر رہی ہے۔‘‘ مثلاً اگر آپ نے ریاضی میں تحصیل کی پیمائش کے لئے ایک آزمائش بنائی ہے تو کیا وہ آزمائش ریاضی کی تحصیل کی پیمائش کے لئے ایک آزمائش بنائی ہے، تو کیا وہ آزمائش ریاضی کی تحصیل کی ہی پیمائش کر رہی ہے یا یہ کسی اور چیز جیسے زبان کی مہارت کی پیمائش کر رہی ہے۔

آخر میں آزمائش معیای تب ہوتی ہے جب آزمائش کے لئے معیارات (norms) بنائے جاتے ہیں۔ یہ عمل آزمائش کی معیار بندی کے نام سے مشہور ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ معیار گروہ کی طبعی (نارمل) یا اوسط کارکردگی ہے۔ آزمائش کو طلباء کے ایک بڑے گروہ کو دیا جاتا ہے اور ان کی اوسط کارکردگی یا معیارات کو عمر، جنس، رہائش کی جگہ وغیرہ کے حساب سے طے کیا جاتا ہے۔ معیار ہمیں ہر طالب علم کی فرداً فرداً کارکردگی کا اس گروہ کی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ کسی فرد کے ذریعہ ایک آزمائش پر حاصل کئے گئے نمبروں کی وضاحت کرنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔

آزمائش کے اقسام

نفسیاتی آزمائشیں اپنی زبان، نظم و نسق کے ڈھنگ اور سطح دشواری کی بنیاد پر دو زمروں میں زمرہ بند کئے جا سکتے ہیں۔ زبان کی بنیاد پر آزمائشیں لفظی اور کارگذاری (Performance) ہوتی ہیں۔ لفظی آزمائشیں کے لئے خواندگی کی ضرورت ہوتی ہے اور مدات کسی نہ کسی زبان میں لکھے ہوتے ہیں۔ غیر لفظی آزمائشوں میں مدات علامات اور تصاویر کی شکل میں ہوتے ہیں۔ کارگذاری آزمائشوں میں اشیاء کو ان کے مقامات سے کسی مخصوص ترتیب میں حرکت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نظم و نسق کے ڈھنگ پر انحصار کے اعتبار سے نفسیاتی آزمائشوں کو انفرادی اور گروہی آزمائشوں میں منقسم کیا جاتا ہے۔ انفرادی آزمائشوں میں محقق کو آزمائش دینے والے شخص کے سامنے بیٹھے رہنا پڑتا ہے، اور ان کے جوابی عملوں کو تحریر کرنا پڑتا ہے جب کہ گروہی آزمائشیں ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو دی جا سکتی ہیں۔ انفرادی آزمائش میں محقق آزمائش دہندہ کو اپنے سامنے بیٹھا کر دیتا ہے اور آزمائش دہندہ کے سامنے بیٹھ کر اس کے جوابات خود نوٹ کرتا ہے۔ گروہی آزمائش میں مدات کے جواب دینے سے متعلق ہدایات وغیرہ آزمائش پرہی لکھے ہوتے ہیں جنہیں آزمائش دینے والا خود پڑھتا ہے اور اسی کے مطابق سوالات کے جوابات دیتا ہے۔ آزمائش کو نافذ کرنے والا شخص ہدایات کی تشریح مکمل گروہ کو ایک ساتھ کر سکتا ہے۔ انفرادی آزمائشوں کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ بچوں سے اور ان لوگوں سے جو زبان نہیں جانتے ہیں جوابی عمل حاصل کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ گروہی آزمائشیں نظم و نسق میں سہل ہوتی ہیں اور اس میں کم وقت بھی لگتا ہے، تاہم جوابی عمل کی کچھ خاص حدیں بھی ہوتی ہیں۔اس میں جواب دہندہ سوالات کے جوابات دینے کے لئے زیادہ متحرک بھی نہیں ہو سکتا ہے اور غلط جوابی عمل کر سکتا ہے۔

آزمائشوں کو سرعت اور اہلیت آزمائشوں (Speed and Power tests) کے زمروں میں بھی رکھا گیا ہے۔ سرعت آزمائشوں میں وقت کی مدت کاتعین کردیا جاتا ہے جس کے اندر آزمائش دہندہ کو سارے مدات کے جوابات دینے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی آزمائش مقررہ وقت کے اندر مدات کے صحیح جوابات کی بنا پر فرد کی پیمائش کرتی ہے۔ دوسری طرف اہلیت آزمائش میں فرد کو وافر وقت دے کر اس کی اہلیت یا طاقت کی جانچ کی جاتی ہے۔ یعنی ان آزمائشوں کو مکمل کرنے کے لئے کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ اہلیت پیمائش میں مدات کو عام طور پر بڑھتی ہوئی مشکل کے حساب سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی فرد چھٹی مد کو حل کر پانے میں ناکام ہوتا ہے تو اس کو اس کے بعد کی مدات کا جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ بہر حال ایک خالص سرعت یا خالص اہلیت آزمائش کی تشکیل مشکل ہے، اس لئے زیادہ تر آزمائشیں سرعت اور اہلیت کا مرکب ہوتی ہیں۔

اگرچہ آزمائشوں کازیادہ تر استعمال تحقیق کے اندر لوگوں کے بارے میں فیصلہ لینے کے لئے کیا جاتا ہے، لیکن آزمائش کا انتخاب اور استعمال بہت احتیاط سے کرنا چاہئے۔ آزمائش کے استعمال کرنے والوں یا فیصلہ ساز لوگوں کو کسی ایک واحد آزمائش پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ آزمائش پر حاصل شدہ معطیات کو کسی شخص کے پس منظر، دلچسپیوں اور سابقہ کارگزاریوں کے بارے میں معلومات کے ساتھ یکجا کیا جانا چاہئے۔


سرگرمی 2.4:

آپ ایک آزمائش اس کی راہنما (Manual) کے ساتھ لیجئے اور اس کو دھیان سے پڑھئے اور مندرجہ ذیل کی شناخت کیجئے:

مدات تعداد اور ان کی قسمیں

معتبری، بھروسہ مندی یا صحت اور معیارات کے بارے میں معلومات حاصل کیجئے۔

آزمائش کی قسم: لفظی یا غیر لفظی، انفرادی یا گروہی

آزمائش کی قسم: سرعت، اہلیت، یا مرکب

دیگر کوئی خصوصیت

دیگر طلباء اور اساتذہ کے ساتھ ان پر بحث کیجئے۔

مطالعۂ معاملہ (Case Study)

اس طریقہ میں مخصوص معاملہ(Case) کے گہرے مطالعہ پر زور دیا  جاتا ہے۔اس میں محقق ایسے معاملات (Cases) پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کم سمجھے گئے مظاہر کے بارے میں اہم معلومات یانئی فہم مہیا کرتے ہیں۔ معاملہ امتیازی خصوصیات کا حامل ( مثلاً نفسیاتی خلل کامظاہرہ کرنے والا ایک مریض) ایک فرد ہو سکتا ہے یا اپنے اندر عمومیت رکھتے ہوئے افراد کا کاایک چھوٹا گروہ بھی ہو سکتا ہے (مثلاً تخلیق کار ادیب جیسے رویندر ناتھ ٹیگور،مہادیوی ورما، غالب وغیرہ)، ادارے (مثلاً کامیابی سے چلائے جارہے اسکول یا بہت بڑے کارپوریٹ آفس) اور مخصوص واقعات یا حادثات (مثلاً سونامی، سے دو چار بچے)۔ جنہیں ہم مطالعہ کے لئے منتخب کرتے ہیں، اپنے میدان میں بے مثل اور غیر معمولی ہوتے ہیں  اس لئے معلومات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ کسی معاملہٴ مطالعہ میں معلومات جمع کرنے کے بہت سے طریقے اپنائے جاتے ہیں جیسے کہ انٹرویو، مشاہدہ اورنفسیاتی آزمائشیں۔ان کے ذریعہ مختلف اقسام کے جوابی عمل کرنے والے اشخاص جو کسی نہ کسی طرح سے معاملہ کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں، ان سے مفید معلومات مہیا کی جاتی ہے۔ مطالعۂ معاملہ کی مدد سے ماہرین نفسیات نے واہموں، توقعات، خوف، صدماتی، تجربات، والدین کے ذریعہ تربیت یا کوئی بھی چیز جو کسی شخص کے ذہن اور کردار کوسمجھنے میں مدد کرتی ہے، پر بڑی اہم تحقیقات کی ہیں۔ مطالعۂ معاملہ ان واقعات کی جو کسی شخص کی زندگی میں واقع ہوتے ہیں ان کی بیانیہ یا مفصل تشریح مہیا کرتے ہیں۔

مطالعۂ معاملہ کلینکی نفسیات اور انسانی نشوونما کے میدان میں ایک قابل قدر تحقیق کا آلہ ہے۔ فرائڈ کی بصیرت جس نے اسے تحلیل نفسی کے نظریہ کی نشوونما کی جانب رہنمائی کی ان کے مشاہدات سے ہی پیدا ہوئی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انفرادی معاملات کے بارے میں باریک بین ریکارڈ ضروری طور پر محفوظ کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح سے پیاجے نے اپنے تین بچوں کے مشاہدہ کی بنیاد پر وقوفی نشوونما کا نظریہ دیا۔ کسی مخصوص کمیونٹی میں بچوں کے سماجیانے کی وضع کی تفہیم کے لئے بھی مطالعہٴ معاملات کئے گئے ہیں۔ مثلاً منٹرن اور ہچکاک (Minturn and Hitchcock) نے کھالا پور کے راجپوتوں کے بچوں کے سماجیانے کا مطالعہ معاملہ کیا تھا۔ ایس ۔ آنند لکشمی نے وارانسی میں بنکر کمیونٹی میں طفولیت کے پہلوؤں پر مطالعہ کیا۔

مطالعۂ معاملہ لوگوں کی زندگی کی مفصل اور گہری تصویر کشی کرتی ہے، تاہم ایک فرد کے معاملات کی بنا پر تعمیم کرتے وقت ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک معاملہ کے مطالعہ کی بھروسہ مندی بھی (صحت) بہت مذبذب ہوتی ہے۔ اس لئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ بہت سے تفتیش کاروں کے ذریعہ مختلف ذرائع سے مختلف حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے معلومات جمع کرنی چاہئے۔ معطیات جمع کرنے کی محتاط پلاننگ (منصوبہ بندی) بھی اشد ضروری ہے۔ معطیات جمع کرنے کے پورے عمل کے دوران ضروری ہے کہ محقق معطیات کے ذرائع کو گواہی کی ایک کڑی کی مانند دیکھے۔

سرگرمی 2.5

حسب ذیل تحقیقی مسائل کے لئے موزوں طریقوں کی شناخت کیجئے۔

کیا شورلوگوں کے مسئلہ کے حل کرنے کی صلاحیت پر اثر ڈالتا ہے؟

ایک کالج کے طلبا کے لئے ایک جیسی پوشاک کوڈ ہونا چاہئے؟

ہوم ورک کے تئیں طلباء، اساتذہ اور والدین کے رویوں کا مطالعہ۔

کھیل کے گروہ اور کلاس روم میں کسی طالب علم کے کردار کامطالعہ۔

اپنے پسندیدہ لیڈر کی زندگی کے اہم واقعات کی چھان بین۔

اپنے اسکول کے کلاس XI کے طالب علموں کی تشویش کی سطح کی پیمائش قدر۔

جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ ہر ایک طریقہ کی اپنی حدود اور فائدے ہیں، اس لئے یہ بہتر ہوتا ہے کہ محقق کو صرف کسی ایک طریقہ پر انحصار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ حقیقی تصویر حاصل کرنے کے لئے دو یا تین طریقوں کے مجموعوں کا استعمال کرناچاہئے۔ اگر طریقوں کی وسعت یعنی سبھی طریقے یکساں نتیجہ فراہم کرتے ہیں تو یقینا زیادہ پر اعتماد ہوسکتے ہیں۔

معطیات کاتجزیہ (Analysis of Data)

اس سے پہلے کے حصہ میں ہم معطیات جمع کرنے کے مختلف طریقوں کی تشریح کر چکے ہیں۔ معطیات جمع کرنے کے بعد محقق کا اگلا کام نتائج اخذ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے معطیات کے تجزیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم عام طور پر معطیات کے تجزیہ کے لئے دو طریق کاری طرز نظریات کا استعمال کرتے ہیں۔ انہیں کمیتی اور کیفی طریقے کہتے ہیں۔ اس حصہ میں ہم ان طریقوں کی مختصر تشریح کریں گے۔

کمیتی طریقہ (Quantitative Method)

جیسا کہ آپ اب تک واقفیت حاصل کرچکے ہیں کہ نفسیاتی آزمائشیں، سوالنامے، ساخت انٹرویو وغیرہ میں متعین جواب (Close-ended) کے سوالات ہوتے ہیں۔ یعنی سوالات اور ان کے ممکنہ جوابی عمل ان پیمائشوں میں دیئے ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ جوابی عمل پیمائش شدہ شکل میں دیئے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جوابی عمل کی طاقت ار مقدار کو بتاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ ایک (کم) سے کم لے کر پانچ، سات یا گیارہ (زیادہ) تک پھیلے ہوتے ہیں۔ شرکاء کا کام سب سے مناسب جوابی عمل کو منتخب کرنا ہوتا ہے، کبھی کبھی صحیح اور غلط جوابات ہوتے ہیں۔ محقق ہر ایک جواب کے لئے کوئی عدد (عام طور پر صحیح جواب کے لئے ’’1‘‘ اور غلط جواب کے لئے ’’0‘‘ تفویض کرتا ہے۔ آخر میں محقق ان اعداد کا میزان معلوم کرکے اور ایک مجموعہ میزان حاصل کرتا ہے، جو کہ اس مخصوص میدمان میں شرکاء کی مخصوص صفت کی سطح کے بارے میں بتاتا ہے (مثال کے طور پر ذہانت کی سطح، تعلیمی ذہانت وغیرہ)۔ ایسا کرتے وقت محقق نفسیاتی صفت کو ایک کمیت یا مقدار (عام طور پر اعدادج یا ہندسہ) میں بدلتا ہے۔

نتیجہ اخذ کرنے کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے محقق ایک فرد کے نمبر کا موازنہ گروہ کے نمبر سے کر سکتا ہے یا دو گروہوں کے نمبروں کا موازنہ کر سکتا ہے۔ اسے انجام دینے کے لئے مخصوص شماریاتی طریقے کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے جن کے بارے میں آپ بعد میں پڑھیں گے۔ آپ درجہ 10 میں ریاضی میں مرکزی رجحان (اوسط، وسطانیہ، اکسریہ)، غیر یکسانیت (حیطہ، ربع انحراف، معیاری انحراف)، شرح ربط وغیرہ کے طریقوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ اور کچھ دیگر ارفع شماریاتی طریقے محقق کو معطیات سے معنی یا مطلب اخذ کرنے کا اہل بناتے ہیں۔

کیفی طریقہ (Qualitative Method)

انسانی تجربات بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ یہ پیچیدگی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب کوئی شخص جواب دہندہ سے سوالات کی بنیاد پر معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بچے کی موت پر ماں کو کیسا غم ہوتا ہے تو آپ کو یہ سمجھنے کے لئے اس نے اپنے تجربہ کو کیسے منظم کیا ہے اور اپنے دکھ کو اس نے کیا معنی پہنایا ہے آپ کو اس کی کہانی سننی ہوگی۔ اس تجربہ کے کمیت بند کرنے کی کوئی بھی کوشش ایسے تجربات کو منظم کرنے کے اصولوں کو حاصل کرنے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ معطیات ہمیشہ نمبروں یا اعداد کی شکل میں دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے معطیات کے تجربہ کے لئے ماہرینِ نفسیات نے کیفی طریقوں کی نشوونما کی ہے۔ ان میں سے ایک طریقہ کہانی کا طریقہ (Narrative Method) ہے۔ اس کے علاوہ معطیات ہمیشہ نمبروں کی شکل میں حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ جب محقق شریک مشاہدۂ طریقہ یا ناساختہ انٹرویو کا استعمال کرتا ہے تو معطیات عام طور پر ممبروں کی شکل میں نہ ہو کر بیان کی شکل میں حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اکثر شرکاء کے اپنے خود کے الفاظ میں محققین کے ذریعہ لئے گئے ساختی نوٹ،فوٹو گراف، محقق کے ذریعہ مندرج کئے ہوئے انٹرویو کے جوابی عملوں یا ٹیپ کئے گئے؍ویڈیو سے ریکارڈ شدہ غیر رسمی گفتگو وغیرہ کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ اس قسم کے معطیات کو نمبروں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے یا ان پر شماریاتی تجزیہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کی جگہ پر محقق تجزیہ مواد (Content Analysis)  کی تکنیک کا استعمال موضوعافی زمروں (ٹھیمیٹک زمروں) کو حاصل کرنے اور ان کو بنانے کے لئے کرتا ہے۔ یہ فطرتاً زیادہ توضیحی ہوتے ہیں۔

 یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کمیتی اور کیفی طریقے ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں۔ کسی مظہر کے مجموعی تفہیم کے لئے دونوں طریقوں کا ایک موزوں مجموعہ یا مرکب درکار ہوتا ہے۔

نفسیاتی مطالعہ کی حدود

(Limitations of Pychological Enquiry)

نفسیاتی تحقیق کے فوائد اور حدود کی تشریح پہلے ہی کی جاچکی ہے۔ اس حصہ میں آپ کچھ ایسے عمومی مسائل پڑھیں گے جن کا سامنا نفسیاتی پیمائش کو کرنا پڑتا ہے۔

1. نقطۂ مطلق صفر کی کمی: طبیعی سائنسوں کی پیمائش ضروری طور پر صفر سے شروع نہیں ہے۔ مثلاً اگر آپ ایک میز کی لمبائی کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں تو آپ صفر سے شروع کرتے ہوئے اس کی لمبائی کی پیمائش کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ یہ 3 فٹ لمبی ہے، لیکن اس طرح کی سہولت نفسیات میں دستیاب نہیں ہے۔ مثلاً اس دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کی ذہانت صفر ہو، ہم سبھی کے پاس کچھ نہ کچھ ذہانت ضرور ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات اپنی مرضی سے ایک نقطہ (پوائنٹ) صفر کی حیثیت سے طے کر لیتے ہیں اور پھر اس سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں نفسیاتی مطالعہ کے اندر جو بھی شماریات یا اسکور ہم حاصل کرتے ہیں وہ نوعیت میں قطعی نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ تناسبی قدر رکھتے ہیں۔

کچھ نفسیاتی مطالعات میں درجہ (رینک) کا استعمال شمارات کی حیثیت سے کیاجاتا ہے۔ مثلاً کچھ آزمائشوں میں حاصل ہوئے نمبر کی بنیاد پر استاذ طالب علموں کو 1، 2، 3، 4… وغیرہ کی ترتیب میں رکھ سکتا ہے۔ اس طرح کے جائزہ میں یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ اول اور دوئم مقام حاصل کرنے والوں میں فرق ویسا ہی یا اتنا نہیں ہو سکتا ہے جیسا کہ دوئم اور سوئم مقام حاصل کرنے والوں کے درمیان ہے۔ 50 میں سے اول مقام حاصل کرنے والے کا اسکور 48 ہو سکتا ہے، دوئم کا 47 اور سوئم کا 40 ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اول اور دوئم مقام کے درمیان کی دوری دوئم اور سوئم مقام حاصل کرنے والوں کی دوری کے مماثل نہیں ہے۔ اس سے نفسیاتی آزمائش کی تناسبی نوعیت کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔

2. نفسیاتی آلات کی تناسبی نوعیت: کسی مخصوص پس منظر کی نمایاں خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے نفسیاتی آزمائشوں کی نشو و نما ہوتی ہے۔ مثلاً ایک آزمائش جو شہری طالب علموں کے لئے وضع کی گئی ہے اس کے اندر ایسے مدات شامل ہونے چاہئیں جو شہری پس منظر میں دستیاب مہیجات جیسے کثیرالمنزلی عمارات، ہوائی جہاز، میٹرو ریلوے وغیرہ سے متعلق ہوں۔ ایسی کوئی آزمائش قبائلی علاقوں میں آباد بچوں کے لئے موزوں نہیں ہوگی کیونکہ ایسے لوگوں کو ان مدات میں دی گئی سہولت حاصل نہ ہوگی۔ اس لئے ان کے لئے ایسے مدات زیادہ موزوں ہوں گے جو وہاں کے باغ و بہار کو بیان کرتے ہوں۔ اسی طرح سے مغربی ممالک میں بنائی گئی آزمائش کا اطلاق ہندوستانی تناظر میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسی آزمائشوں میں جس تناظر میں انہیں استعمال کرنا ہوتا ہے اس کی خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب تصحیح یا ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے۔

3. کیفی معطیات کی موضوعی تشریح: کیفی مطالعات کے اندر معطیات زیادہ موضوع ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں محقق اور معطیات فراہم کرنے والے کے ذریعہ تشریح کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ تشریح ایک فرد سے دوسرے فرد میں مختلف ہو سکتی ہے، اس لئے اکثر ایسا تجویز کیاجاتا ہے کہ کیفی معاملہ کے مطالعے میں فیلی ورک ایک سے زیادہ محققوں کے ذریعہ کئے جائیں۔ سبھی محققوں کو متفق ہونے اور حتمی معنی پہنانے سے پہلے شام میں انہیں اپنے مشاہدات پر بحث کرنی ضروری ہوتی ہے۔ در اصل اور بہتر ہوگا اگر جواب دہندوں کو بھی معنی پہنانے کے عمل میں شامل کر لیا جائے۔

اخلاقی مسائل (Ethical Issues)

جیسا کہ آپ واقف ہیں، نفسیاتی تحقیق کا تعلق انسانی کردار سے ہوتا ہے، اس لئے محقق سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص اخلاقیات (اخلاقی اصول) کا اتباع کرے گا۔ یہ اصول ہیں: شخصی پرائیویسی اور مطالعہ میں شرکت کے لئے شرکاء کی پسند یا مرضی کا احترام، احسان مند ہونا یا شرکاء کو مطالعہ میں کسی تکلیف یا ضرر سے محفوظ رکھنا، انصاف یا تحقق کے فوائد کو تمام شرکاء کو بتانا۔ ان اخلاقی اصولوں کے کچھ اہم پہلوؤں کی تشریح درج ذیل ہے:

1. رضاکارانہ شمولیت: یہ اصول بتاتا ہے کہ ان اشخاص کو جن پر آپ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں مطالعہ میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے فیصلہ کی آزادی ہونی چاہئے۔ بالفاظ دیگر شرکاء کو کسی زبردستی یا تحریص و ترغیب کی زیادتی کے بغیر اپنی شرکت کے بارے میں فیصلہ لینے کی آزادی ہونی چاہئے اور وہ یہ فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہوں کہ مطالعہ شروع ہو جانے کے بعد کوئی جرمانہ دیئے بغیر مطالعہ سے ہٹ سکتے ہیں۔

2. اطلاع شدہ رضا مندی: یہ ضروری ہے کہ کسی مطالعہ کے شرکاء کو اس بات کی تفہیم ہونی چاہئے کہ مطالعہ کے دوران ان پر کیا گزرے گی۔ اطلاع شدہ رضامندی کا اصول یہ بتاتا ہے کہ امکانی شرکاء کو یہ معلومات ان سے معطیات جمع کئے جانے سے قبل حاصل ہوں تاکہ وہ مطالہ میں اپنی شرکت کے بارے میں فیصلہ اطلاع ملنے کے بعد لیں۔ کچھ نفسیاتی اختبارات میں شرکاء کو اختبار کے دوران برقی جھٹکے (الیکٹرانک شاک) دیئے جاتے ہیں۔ شرکاء کو کبھی کبھی پرائیویٹ معلومات جنہیں عام طور پر وہ دوسروں کو بتانا نہیں چاہتے ہیں، کو دینے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ کچھ مطالعات میں فریب کی تکنیک کا استعمال ہوتا ہے جس میں شرکاء کو مخصوص طرح سے تفکیر یا تصور کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں اور ان کی کارگزاری کے بارے میں غلط اطلاع یا دخل دیا جاتا ہے۔ (جیسے آپ بہت ذہین ہیں، آپ نااہل ہیں وغیرہ) اس لئے یہ ضرروی ہو جاتا ہے کہ شرکاء کو مطالعہ کے حقیقی آغاز سے قبل مطالعہ کی نوعیت کے بارے میں وضاحت کردی جائے۔

3. مختصر آگاہی: جب مطالعہ ختم ہو جاتا ہے تو شرکاء کو تحقیق کی تفہیم حاصل کرنے کے لئے ضروری معلومات مہیا کی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر اس وقت زیادہ اہم ہو جاتاہے جب مطالعہ میں فریب کا استعمال ہوا ہو۔ مختصر آگاہی اس بات کویقین بناتی ہے کہ شرکاء مطالعہ کے خاتمہ کے بعد اسی جسمانی اور ذہنی حالت میں واپس جائیں گے جس حالت میں وہ شرکت کے لئے آئے تھے۔ محقق کو اس بات کی کوشش بھی کرنی چاہئے کہ مطالعہ کے دوران فریب دئے جانے کی صورت میں شرکاء کو اگر کسی طرح کی تشویش یا برخلاف اثر کا احساس ہو تو اسے ختم کیا جائے۔

4. مطالعہ کے نتائج میں شرکت: نفسیاتی تحقیق میں شرکاء سے معلومات جمع کرنے کے بعد ہم اپنے کام کی جگہ واپس آتے ہیں، معطیات کا تجزیہ کرتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں۔ محقق کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شرکاء کے پاس واپس جائے اور مطالعہ کے نتائج کو انہیں بتائیں۔ جب آپ معطیات جمع کرنے جاتے ہیں تو وہ آپ سے کچھ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، ان توقعات میں سے ایک توقع یہ ہو سکتی ہے کہ آپ ان کے اس کردار کے بارے میں جس کی تفتیش آپ نے مطالعہ میں کی ہے، انہیں بتائیں گے، اس لئے ایک محقق کی حقیقت سے آپ کا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ آپ شرکاء کے پاس واپس جائیں اور انہیں نتائج سے آگاہ کریں۔ اس عمل کے دو فائدے ہیں: اول، آپ نے شرکاء کی توقعات کو پورا کیا۔ دوئم: شرکاء آپ کو نتائج کے بارے میں اپنی رائے بتا سکتے ہیں جو کبھی کبھی آپ کے اندر نئی بصیرت پیدا کر سکتی ہے۔

5.معطیات کے ماخذ کا اخفاء: کسی مطالعہ کے شرکاء کو پرائیویسی کا حق حاصل ہے اور اس لئے محقق کو ان کی پرائیویسی کی حفاظت ان کے ذریعہ مہیا شدہ معلومات کو مخفی رکھ کر کرنا چاہئے۔

معلومات کا استعمال صرف تحقیقی مقاصد کے لئے ہی ہونا چاہئے۔ کسی بھی حالت میں انہیں دیگر غرض مند جماعتوں یا لوگوں تک نہیں پہنچایا جانا چاہئے۔ شرکاء کے اعتماد کو محفوظ رکھنے کا سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ انکی شناخت کا اندراج ہی نہ ہو، تاہم کچھ قسم کی تحقیقات کے اندر یہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔ ان حالات میں معطیات شیٹ پر خفیہ نمبر (کوڈ) دے دیئے جائیں اور نام کے ساتھ کوڈ علیحدہ رکھے جائیں اور تحقیق جیسے ہی ختم ہو جائے شناختی فہرست فوراً ضائع کردی جائیں۔


کلیدی اصلاحات

معاملۂ مطالعہ، رازداری، کنٹرول گروہ، ربطی، تحقیق، معطیات، مختصر آگاہی، منحصر متغیرہ، اختباری گروہ، اختباری طریقہ، فرضیہ، آزاد متغیرہ، انفرادی، آزمائش، انٹرویو، منفی ربط، معیارات، معروضیت، مشاہدہ، کارکردگی کی پیمائش، مثبت ربط، اہلیت کی پیمائش، نفسیاتی پیمائش، کیفی طریقہ،کمیتی طریقہ، سوالنامہ، معتبری، رفتار پیمائش، تعین شدہ انٹرویو سروے، غیرتعین شدہ انٹرویو، بھروسہ مندی یا صحت متغیرہ۔

خلاصہ

کوئی بھی نفسیاتی تحقیق وضاحت، پیشن گوئی ، تشریح، کردار کے کنٹرول اور ایک معروضی طریقہ سے حاصل شدہ معلومات کے اطلاق کیلئے انجام دی جاتی ہے۔ اس کے اندر مندرجہ ذیل چار اقدام شامل ہوتے ہیں: کسی مسئلہ کی تصویرگری، معطیات جمع کرتا، معطیات کا تجزیہ نتائج اخذ کرنا اور اخذ نتائج پرنظر ثانی۔ شخصی وقوعات ایک مخصوص تناظر میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اسلئے وہ لوگوں کے کردار اور تجربات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ انہیں کی تفہیم کے لئے نفسیاتی تحقیقات انجام دی جاتی ہیں۔ 

نفسیاتی مطالعات میں ہم مختلف اقسام کے معطيات بشمول آبادیاتی، ماحولیاتی شخصی طبیعی عضویاتی اور نفسیاتی معلومات جمع کرتے ہیں۔ تاہم نفسیاتی مطالعات میں معطيات سیاق و سباق میں وقوع پذیر ہوتے ہیں معطيات کے جمع کرنے کے طریقے اور نظریہ سے منسلک ہوتے ہیں۔ 

معلومات جمع کرنے کیلئے مختلف طریقے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ کردار کی وضاحت کیلئے مشاہدہ کے طریقہ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کی توصیف کسی مخصوص کردار کے انتخاب، اس کے اندراج اور تجزیہ سے ہوتی ہے۔ مشاہدہ فطری اور منضبط شدہ (کنٹرول) تجربہ گاہی حالات میں کیا جاسکتا ہے۔ یہ دوقسم کے ہو سکتے ہیں: شریک یاعدم شریک مشاہدے۔

اختباری طریقہ علت و معلول تعلق کو قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اختیاری اور کنٹرول گروہوں کا استعمال کرتےہوئے آزاد وغیرہ کی موجودگی کا اثر منحصر متغیرہ پر معلوم کیا جاتا ہے۔ 

ربطی تحقیق کا مقصد متغیرات کے مابین ربط کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ہی ساتھ پیشینگوئی کرنا بھی ہوتا ہے۔ دو متغیرات کے مابین تعلق ثبت صفر یا منفی ہوسکتا ہے اور ایتلاف کی قوت 1.0+سے لے کر 0.0 سے ہوتی ہوئی1.0- تک تبدیل ہو سکتی ہے۔

سروے تحقیق کا فوکس موجودہ حقیقت کے بارے میں مطلع ہوتا ہے۔ سروے انجام دینے میں ساختہ اور نا ساختہ انٹرویو، ڈاک سے ارسال سوالنامہ اورٹیلیفون کا استعمال ہوتا ہے۔ 

نفسیاتی آزمائشیں معیار بند اور معرونی آلات ہیں جو دیگر اشخاص کے مقابلہ میں کسی شخص کے مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ معتبر اور صحت کا بھروسہ مند والے آلات ہوتے ہیں۔ آزمائشیں لفظی، غیرلفظی اور کارگذاری قسم کی ہوتی ہیں جس کا نظم ونسق انفرادی طور پر یا ایک ہی وقت میں مکمل گروہ پر کیا جاسکتا ہے۔

مطالعۂ معاملہ کا طریقہ کسی مخصوص معاملہ کے بارے میں مفصل اورعمیق معلومات دیتا ہے۔

ان طریقوں کے استعمال سے جمع ہوئی معطیات کا تجزیہ کمیتی اور کیفی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ کمیتی طریقوں میں نتائج اخذ کرنے کیلئے شماریاتی طریق کار استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا طریقہ اور مواد کے تجزیہ کا طریقہ کچھ ایسے طریقے ہیں جن کا استعمال کسی تحقیق میں کیا جاتا ہے۔ 

نقطۂ مطلق صفرکی کی نفسیاتی آلات کا تناسبی نوعیت اور نفسیاتی معطیات کی معروضی تشریح وغیرہ نفسیاتی تحقیق کے چند حدود ہیں۔ معمول کی رضا کارانہ شمولیت، ان سے اجازت لینا اور شرکا کو نتائج کے بارے میں بتانا وغیرہ کچھ ایسے اخلاقی راہنما اصول ہیں جن کی پیروی محقق کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ 

نظر ثانی کے لئے سوالات

1. سائنسی تحقیق کے کیا مقاصد ہیں؟ 

2. کسی سائنسی تحقیق کو انجام دینے کیلئے اس میں شامل مختلف اقدام کی وضاحت کیجئے۔

3. نفسیاتی معطیات کے نوعیت کی تشریح کیجئے۔ 

4. اختیاری اور کنٹرول گروہ کیسے مختلف ہوتے ہیں؟ ایک مثال کی مدد سے تشریح کیجئے۔ 

5. ایک محقق سائیکل چلانے کی رفتار اور لوگوں کی موجودگی کے میں تعلق کا مطالعہ کر رہا ہے۔ ایک موزوں فرضیہ بنائیے اور آزاد شخص تغیرات کی شناخت کیجئے۔

6. اختباری طریقہ کی ایک تحقیق کے طریقہ کے طور پرقوت اور کمزوریوں کی وضاحت کیجئے۔ 

7. ڈاکٹر کر شنا ایک نرسری اسکول میں بچوں کے کھیل کے کردار کا مشاہدہ اور ان کے کردار کو متاثر یا منضبط کرنے کی کوشش کے بغیر کرنے جارہے ہیں۔ تحقیق کا کون سا طریقہ اس میں شامل ہے؟ اس کے عمل اور اس کے فائدے اور نقصانات کی تشریح کریں۔ 

8. ان حالات کی دو مثالیں دیکھے جن میں سروے طریقہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کی حدود کیا ہیں؟ 

9. انٹرویو اور سوالنامہ کے مابین فرق کیجئے۔

10. ایک معیار بند آزمائش کی خصوصیات کی تشریح کیجئے۔ 

11. نفسیاتی تحقیق کی حدودکی وضاحت کیجئے۔ 

12. نفسیاتی مطالعات کے وہ اخلاقی راہنما اصول کیا ہیں جن کی پابندی کرنا نفسیاتی مطالعہ کو کرتے وقت ماہرین نفسیات کے لئے ضروری ہوتی ہے؟

پروجیکٹ تجاویز 

1. درجہ 5 اور درجہ 9کے طالب علموں کی اسکول کے بعد کی سرگرمیوں پر ہر ایک کلاس سے 10 طالب علموں کا ایک نمونہ لے کر، ایک سروے انجام دیئے۔ ان کے ذریہ مطالعہ کھیل، ٹیلی ویژن دیکھنے کے مختلف کاموں میں صرف کئے گئے اوقات اور ان کے مشاغل اور شوق کے بارے میں معلومات حاصل ہے۔ کیا آپ کو کوئی فرق حاصل ہوا؟ آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا اور کیا آپ مشورہ دینا چاہتے ہیں؟ 

2. اپنے گروہ میں نظم کی آموزش پر زبانی سنانے کے اثر کو دیکھنے کے لئے ایک مطالعہ کیجئے۔ چھ برس کے 10 بچوں کو لیجئے اور انہیں دو گروپوں میں بانٹیے ۔ ایک گروہ کو ایک نئی نظم یاد کرنے کے لئے دیجئے اور انہیں بآواز بلند 15 منٹ تک پڑھنے کی ہدایت دیجئے۔ اب دوسرے گروہ کو لیجئے اور انہیں بھی وہی نظم یاد کرنے کو دیجئے اور انہیں بآواز بلند نہ پڑھنے کے لئے کہئے۔ 15 منٹ کے بعد دونوں گروہوں سے بازیافت کے لئے کہیے۔ اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ دونوں گروہوں کو الگ الگ کیا جائے۔ بازیافت کے بعد اپنے مشاہدہ کو نوٹ کیجئے۔ شناخت کیجئے کہ آپ نے تحقیق کے کون سے طریقہ، فرضیہ متغیرات اور اختیاری ڈیزائن کا استعمال کیا۔ اپنے نوٹس کا طلباء کے دوسرے گروہوں سے موازنہ کیجئے اور کلاس میں اپنے استاد سے اپنے نتیجہ کو بتایئے۔