Skip to content
Nafsiyat-001


Chapter 3

انسانی کردار کی بنیادیں

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ آپ

انسانی کردار کی ارتقائی نوعیت کو سمجھ سکیں

نظام عصبی اور انڈوکرینی نظام کے کاموں کا کردار سے تعلق جوڑ سکیں

کردار کے تعین سے متعلق نشائی عوامل کے کردار کی تشریح کرسکیں

کردار کی تشکیل میں تہذیب کے کردار کو سمجھ سکیں

ثقافت کاری، سماجیانا اور ثقافتی منتقلی کی وضاحت کرسکیں اور

انسانی کردار کو سمجھنے کے لئے اسے حیاتیاتی اور سماجی تہذیبی عوامل سے جوڑ سکیں۔

مشمولات

تعارف تہذیبی بنیاد: کردار کی سماجی تشکیل

ارتقائی تناظر تہذیب کاتصور

حیاتیاتی و تہذیبی جڑیں ثقافت کاری

کردار کی حیاتیاتی بنیاد سماجیانا

عصابیہ ثقافتی منتقلی

نظام عصبی کی بناوٹ و کام اور انڈوکرینی نظام اور انسانی کردار و تجربہ کے مابین تعلقکلیدی اصطلاحات

نظام عصبی انڈکرینی نظامی خلاصہ

توارث: جین و کردارنظرثانی کے لئے سوالات

پروجیکٹ


تعارف

انسان جو ہوموسیپین (Homo-sapiens) ہے۔ زمین پر موجود مخلوقات میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ (developed) عضویہ (Organism) ہے۔ ان کی بہتر چلنے کی صلاحیت، جسم کے وزن کے مقابلہ میں نسبتاً بڑا دماغ اور مخصوص دماغی نسیج کے تناسب کی وجہ سے یہ دوسری نسلوں سے مختلف ہوتاہے۔ یہ خصوصیت لاکھوں سال کا سفر طے کرنے کے بعد سامنے آئی ہے جو انہیں کئی پیچیدہ کاموں کو کرنے کے لائق بناتی ہے۔ سائنس دانوں نے پیچیدہ انسانی کردار اور نظام عصبی خاص طور سے دماغ کے مابین کے تعلق کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فکر، احساسات و فعل کے عصبی (Neural) بنیاد کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ انسان کے حیاتیاتی پہلوؤں کو سمجھ لینے کے بعد آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ کس طرح دماغ، ماحولیات اور کردار آپس میں مل کر کردار و عمل کی ایک نئی شکل پیدا کرتے ہیں۔ اس باب کی شروعات ہم نظامِ عصبی (Nervous system) کی عام تفصیل ارتقائی (Evolutionary) پس منظر میں کرتے ہیں۔ آپ عصبی نظام کے احکام اور اس کی بناوٹ کا مطالعہ بھی کریں گے۔ آپ انڈوکرینی نظام (Endocrine system) اور انسانی کردار پر اس کے اثرات کے بارے میں بھی جانیں گے۔ اس بات کے آخری حصہ میں آپ تہذیب کے تصور اور انسانی کردار کو سمجھنے میں اس کے تعلق کا بھی مطالعہ کریں گے۔ اس کے بعد ثقافتی کاری، سماجیانا اور ثقافتی منتقلی کا تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

ارتقائی پس منظر

(Evolutionary Perspective)

آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگ جسمانی اور نفسیاتی خصوصیات کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ لوگوں میں غیر معمولی خاصیت ان کے نشائی ودیعت و ماحولیاتی ضرورتوں کے مابین تعامل کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔

اس دنیا میں مختلف قسم کے جانداروں کی لاکھوں نسلیں ہیں جو آپس میں کئی معنوں میں مختلف ہیں۔ ماہرِ حیاتیات کایہ ماننا ہے کہ یہ نسلیں ہمیشہ سے ایسے ہی نہیں تھیں بلکہ ان کی موجودہ شکل پرانی شکلوں کا نیا چہرہ ہے۔ ایسا اندازہ لگایاگیا ہے کہ آج کے انسانوں کی تبدیل شدہ خصوصیات کی نشو و نما 2,00,000 سال قبل ہوئی تھی جو کہ ان کے ماحول کے ساتھ متواتر تعامل کانتیجہ ہے۔

ارتقاء کا مطلب تدریجی اور بالترتیب حیاتیاتی تبدیلیوں سے ہے جو نسلوں میں ان کے ماحول کے بدلتے تطبیقی تقاضوں کے رد عمل کے نتیجہ میں ان کی پیش وجود شکلوں میں واقع تبدیلی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جسمانی و کرداری تبدیلیاں جو ارتقائی عمل کی وجہ سے ہوتی ہیں، اتنی دھیمی ہوتی ہیں کہ وہ سینکڑوں نسلوں کے بعد نظر آتی ہیں۔ ارتقاء طبعی انتخاب عمل کے ذریعہ ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک نسل کے لوگ بہت حد تک جسمانی ساخت و کردار کی بناء پر مختلف ہوتے ہیں۔ وہ اوصاف یا خصوصیات جن کاتعلق ان نسلوں کی حیات و بارآوری کی اونچی شرح سے ہوتا ہے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی ہیں۔ جب یہ نسل در نسل یہ دہرائی جاتی ہیں تو قدرتی انتخاب کے ذریعہ ایک نئی نسل کے ارتقا کی صورت میں واقع ہوتی ہیں۔ یہ نئی نسل کسی خاص ماحول میں زیادہ موثر طور پر مطابقت حاصل کرتی ہے۔ یہ بہت حد  تک گھوڑوں کی یا دوسرے جانوروں کی منتخب نسل کی طرح ہوتی ہے۔ نسل پیدا کرنے والے (Breeder) گھوڑے کے جھنڈ میں سے سب سے مناسب اور سب سے تیز مذکر اور مونث گھوڑوں کا انتخاب کرتے ہیں اور انہیں سب سے مناسب گھوڑے حاصل ہو سکتے ہیں۔ موزونیت کسی جاندار کے بقا اور اپنے جین کو نسل در نسل منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔

عصر حاضر کے انسانوں کی تین اہم خصوصیات ہیں جو انہیں پرانی نسلوں سے مختلف کرتی ہیں:(1)بڑا اور نمویافتہ دماغ جس میں وقوفی کردار جیسے ادراک (perception) حافظہ (Memory)،استدلال (reasoning) حل مسائل (problem solving)، اور ترسیل (communication) کے لئے زبان کے استعمال کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ (2) دو پیروں پر سیدھا چلنے کی صلاحیت اور (3) الٹے انگوٹھے کے ساتھ کام کرنے کے لائق ایک ہاتھ۔ یہ خصوصیت ہزاروں سال سے ہمارے اندر پائی جاتی ہے۔

ہمارے کردار دوسری نسلوں کے مقابلہ میں زیادہ پیچیدہ اور زیادہ نمویافتہ ہوتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس ایک بڑا اور وسیع دماغ ہے۔ انسانی دماغ کی وسعت کا پتہ دو باتوں سے چلتا ہے۔ پہلے تو اس کے وزن سے جو کہ پورے جسم کے وزن کا 2.35  فیصد ہوتا ہے اور یہ سبھی نسلوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے (ہاتھ میں یہ 0.2 فیصد ہوتا ہے)۔ دوسرے یہ کہ اس کا مغز (Cerebrum) جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلہ میں زیادہ ارتقائی (evolved) ہوتا ہے۔ ایسا ارتقا ماحولیات کی ضرورتوں کے اثرات کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ کچھ کرداروں کا ارتقا میں نمایاں رول ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر خوراک کی تلاش کی صلاحیت، شکار خوروں سے خوف کی حفاظت اور اپنے چھوٹوں کی حفاظت جیسے کچھ مقاصد ایسے ہیں جن کا تعلق جانداروں اور ان کی نسلوں کی بقا سے ہوتا ہے۔ ایسے حیاتیاتی و کرداری اوصاف جو ان مقاصد کو پورا کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، جانداروں میں کئی نسل در نسل اپنے جین (نسلی توریث) کو منتقل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتے ہیں۔ ماحولیاتی ضرورتیں بھی طویل مدت میں حیاتیاتی و کرداری تبدیلیوں کو جنم دیتی ہیں۔

حیاتیاتی و تہذیبی بنیاد

(Biologecal and cultural Roots)

حیاتیاتی ساختیں ہمارے کردار کی اہم تعین کنندہ عوامل ہیں جو ہمیں ایک نمویافتہ جسم و دماغ کی شکل میں ورثہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ ایسے حیاتیاتی بنیاد کی اہمیت ہمیں اس وقت ظاہرہوتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے دماغی خلیے (Cell) کسی بیماری یا دوا کے استعمال سے برباد ہوگئے ہیں۔ اس صورت حال میں مختلف قسم کی جسمانی و کرداری معذوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بہت سارے بچوں میں ذہنی معذوری اور دیگر غیر طبعی علامتیں ورثہ میں حاصل ہوئے ناقص جین (gene) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔

انسان ہونے کے ناطے ہم نہ صرف حیاتیاتی نظام حاصل کرتے بلکہ کچھ مخصوص تہذیبی نظام بھی حاصل کرتے ہیں۔ایسے نظام انسانی آبادیوں کے لحاظ سے کافی مختلف ہوتے ہیں۔ ہم سب اپنی زندگی کے بارے میں اس ثقافت کی بنا پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں جس میں ہماری پیدائش و پرورش ہوتی ہے۔ ثقافت سے ہمیں مختلف تجربات اور سیکھنے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں جو کہ ہمیں مختلف حالات میں رہ کر یا مختلف ضرورتوں کی وجہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان تجربات، مواقع اور ضرورتوں کا اثر ہمارے کردار پر بہت حد تک پڑتا ہے۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے ایسے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح سے حیاتیاتی بنیاد کے علاوہ کردار کی تہذیبی بنیاد بھی ہوتی ہے۔ کردار یا برتاؤ میں تہذیب کے دوران کے بارے میں آپ اس باب میں آگے جان سکیں گے۔

کردار کی حیاتیاتی بنیاد

عصابیہ (Neurons)

عصابیہ (Neurons) ہمارے عصبی نظام کی بنیادی اکائی ہوتی ہیں۔عصابیہ (neurons)ایک خاص قسم کے خلیے (Cells) ہوتے ہیں جن میں مختلف اقسام کی مہیجوں (stimulus) کو ترقی تحریکوں (electrical impulses) کی شکل میں تبدیل کرنے کی مخصوص صلاحیت ہوتی ہیں۔ یہ معلومات کی برقی کیمیائی علامت (Electro chemical signal) کی شکل قبولیت، (reception) ایصال (conduction) اور معلومات کی ترسیل (transmission) کے لئے بھی مختص ہوتی ہیں۔ یہ عضوی حسوں یا دیگر متصل عصابیوں(neurons) سے معلومات حاصل کرتی ہیں اور انہیں مرکزی نظام عصبی اور حرام مغز (brain and spinal cord) تک پہنچاتی ہیں اور مرکزی نظام عصبی سے حرکی معلومات کو حرکی اعضا (عضلات اور غدود) تک لے جاتی ہیں۔

انسانی نظام عصبی میں 12بلین (billion)عصابیے (neurons) پائے جاتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کے ہوتے ہیں اور آپس میں شکل و سائز، کیمیائی بناوٹ و تفاعل میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان تفریقوں کے باوجود ان میں تین عام بنیادی جزو جیسے جسد (Soma)شجریہ (dendrites) محوریہ (axon)یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔

جسد(Soma) یا خلیہ جسم (Cell body) عصبی خلیہ (nerve cell) کا خاص عضو ہوتا ہے۔ اس میں خلیے کے مرکزہ (nucleus) کے ساتھ ساتھ دیگر ساختیں جو سبھی زندہ خلیوں میں یکساں شامل ہوتی ہیں۔ (شکل3.1) عصابیہ کے نشائی مادے مرکزہ کے اندر اکٹھا ہوتے ہیں اور یہ خلیے کی باز تخلیق اور پروٹین تالیف (Protin sinthesis) کے دوران حرکت میں آتے ہیں۔ جسد میں شجریہ کے زیادہ تر خلومایہ (cytoplasm) بھی ہوتے ہیں۔ شجریے (dendrites) شاخوں کی طرح کی مختص شاخیں ہوتی ہیں جو جسد سے نکلتی ہیں۔ یہ عصابیوں کو حاصل کرنے کی حد پر واقع کرتی ہیں۔ ان کا کام پاس کے عصابیوں یا حسی عضو سے سیدھے طور پر آنے والی عصبی اضطراری تحریکوں (neural compluses) کوحاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کے اوپر خاص قسم کے آخذے پائے جاتے ہیں جو برقی کیمیائی یا

4

حیاتیاتی کیمیائی شکل میں حاصل ہونے والی علامت کے وقت فعال ہوتے ہیں۔ یہ حاصل شدہ علامتوں کو جسد تک اور اس کے بعد محوریہ (axon) تک پہنچاتے ہیں تاکہ معلومات دیگر عصائیوں یا عضلات تک نشر ہو سکیں۔ محوریے ان معلومات کو اپنی پوری لمبائی تک پہنچاتے ہیں جو کہ حرام مغز میں کچھ فٹ تک اور دماغ میں ایک ملی میٹر سے کم پیوست ہے۔ آخری حد پر محوریہ کی شاخیں چھوٹے شکل میں ہوتی ہیں جسے ٹرمینل بٹن کہا جاتا ہے۔ ان بٹنوں میں معلومات کے دیگر عصابیے اور عضلات تک ترسیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ عصابیے عام طور پر معلومات کو ایک ہی سمت میں جسد کے محوریہ کے ذریعہ شجریہ سے ٹرمنل بٹن تک بھیجتی رہتی ہیں۔

نظام عصبی ایک جگہ سے دوسری جگہ معلومات کا ایصال عصابیہ کے ذریعہ ہوتا ہے جو کہ محوریوں کا گچھہ ہوتی ہیں ۔ عصبیں یا نسیں خاص طور سے دو قسموں کی ہوتی ہیں۔ حسی و حرکی (sensory and motor) حسی عصب کو درون رس (afferent) عصب بھی کہا جاتا ہے جو معلومات کو حسی عضو سے مرکزی نظام عصبی تک پہنچاتی ہیں۔دوسری طرف حر کی عصب کو بر آور (Efferent)عصب بھی کہتے ہیں جو معلومات کو مرکزی نظام عصبی سے عضلات یا غدود تک پہنچاتے ہیں۔ حر کی عصب عصبی کمانڈ (حکم) ایصال کرتی ہے جو ہماری حرکتوں و دیگر جوابی اعمال کو حکم دیتا ہے، کنٹرول کرتا ہے اور انصباط کرتا ہے۔ یہ کچھ مرکب نسیں عصب بھی ہوتی ہیں، لیکن ان میں حسی و حر کی ریشے الگ الگ ہوتے ہیں۔

عصبی تحریک (Nerve Impulse)

نظام عصبی کے اندر معلومات کی ترسیل عصبی تحریک کی شکل میں ہوتی ہے۔ جب مہیج توانائی آخذوں سے آتی ہے تب عصب کی طاقتوں میں برقی تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ عصبی قوتیں اچانک عصب کی سطح پر برقی قوتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ جب توانائی نسبتاً کمزور ہوتی ہے تو برقی تبدیلیاں اتنی کم ہوتی ہیں کہ عصبی تحریک پیداہی نہیں ہوتی اور ہمیں اس میچ کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ اگر مہیج توانائی نسبتاً مضبوط ہوتی ہیں تو برقی تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کا مرکزی نظام عصبی کی طرف ایصال ہوتا ہے۔ عصبی تحریک کی قوت بہر حال تحریک پیدا کرنے والے منہج پر منحصر نہیں ہوتی ہیں۔ عصبی ریشے سب کچھ یا کچھ بھی نہیں (all or none principle) کے اصول پر کام کرتے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ وہ جوابی عمل یا تو پوری طرح یا بالکل بھی نہیں کرتے ہیں۔ پورے عصبی ریشے عصبی تحریک کی قوت ہمیشہ ایک جیسی برقرار رہتی ہے۔

اتصالیہ (عصبی)(Synapse)

نظام عصبی کے اندر عصبی تحریک کی شکل میں معلومات کی ترسیل ایک جگہ سے دوسری جگہ تک ہوتی ہے۔ ایک واحد عصابیہ عصبی تحریک کی ترسیل محوریہ کی پوری لمبائی تک کر سکتی ہے جب تحریک کا ایصال جسم کے دور دراز کے حصہ تک کرنا ہوتا ہے تو متعدد عصابیے اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ اس عمل میں ایک عصابیہ پڑوس کے عصابیہ تک معلومات کی ترسیل سچائی سے کرتا ہے۔ محوریہ پچھلے عصابیہ کو شروع کرتا ہے جو اسے دوسرے عصابیہ کے شجریہ کے ساتھ کبھی بھی جسمانی تعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ دو عصابیوں کے بیچ ایک چھوٹا سا خلا ہوتا ہے۔ اس خلا کو اتصالیہ شگاف (Synaptic cleft) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک عصابیہ سے عصبی تحریک کی ترسیل دوسرے عصبیہ تک ایک پیچیدہ عصبی ترسیلی عمل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ محوریہ میں عصبی تحریک کا ارسال برقی- کیمیائی ہوتا ہے جب کہ عصبی ترسیل کی نوعیت کیمیائی ہوتی ہے۔

5

شکل نمبر 3.2: اتصالیہ (عصبی) کے ذریعہ تحریک کی ترسیل


اعصاب کی ساخت و عمل اور انڈوکرائن نظام اور ان کے کردار و تجربہ کے ساتھ تعلقات

(Structure and functions of Nervous system and their Relationship with Behaviour and Experience)

ہماری حیاتیاتی ساختیں یا ہیئتیں ہمارے کردار کو منظم کرنے اور کردار کو عمل میں لانے میں چونکہ اہم رول ادا کرتی ہیں اس لئے ہم ان بناوٹوں کا کچھ تفصیل سے ذکر کریں گے۔ خاص طور سے آپ نظام عصبی اور انڈوکرائنی نظام کے بارے میں پڑھیں گے جو انسانی کردار و تجربہ کو ایک شکل دینے کے لئے ایک ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔


نظام عصبی (Nervous System)

انسانی نظام عصبی سارے مخلوقات میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور وسیع و نمویافتہ ہے۔ اگرچہ نظام عصبی مجموعی طور پر کام انجام دیتے ہیں، لیکن مطالعہ کی آسانی کے لئے ہم اسے مختلف حصوں میں بانٹ سکتے ہیں جو ان کے محل وقوع یا تعین مکان یا کاموں پر منحصر کرتا ہے۔ تعین مکان پر مبنی نظام عصبی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ یہ ہیں مرکزی نظام عصبی (CNS) اور حاشیائی نظام عصبی (PNS)۔ نظام عصبی کا وہ حصہ جو سخت ہڈی کی خولوں کے اندر یعنی cranium and backbone(کھوپڑی اور ہڈی) کے اندر پایاجاتا ہے اسے مرکزی نظام عصبی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ دماغ حرام مغز اس نظام کے اعضاء ہیں۔ نظام عصبی کا وہ حصے جو مرکزی نظام عصبی کے علاوہ ہوتے ہیں وہ حاشیائی نظام عصبی (PNS) کہلاتا ہے۔ حاشیاتی نظام عصبی کو جسدی (Somatic) اور خود اختیاری (Autonomic) نظام عصبی میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جسدی نظام عصبی کا تعلق ارادی عمل (Voluntary) سے ہوتا ہے جب کہ خود اختیاری نظام عصبی ان کاموں کو کرتا ہے جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ نظام عصبی کی بناوٹ ایک خاکہ کی شکل میں تصویر 3.3 پیش کی گئی ہے۔

حاشیائی نظام عصبی

(Peripheral Nervous System)

حاشیائی نظام عصبی (PNS) میں ان سارے اعصاب اور عصبی ریشے

6

شکل 3.3: نظام عصبی کی ترتیبی پیشکش


سے بنا ہوتا ہے جو مرکزی نظام عصبی کو جسم کے دوسرے حصوں سے جوڑتے ہیں۔ حاشیائی نظام عصبی کو جسدی نظام عصبی اور خود اختیاری نظام عصبی میں تقسیم کیا ہے۔ پھر خود اختیاری نظام عصبی کو نظام احساس انگیزی اور ورائے احساس انگیزی (Sympathetic and para Sympathetic) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حاشیائی نظام عصبی مرکزی نظام عصبی کو احساس اعضاء (آنکھ، کان، لمس وغیرہ) کے ذریعہ معلومات فراہم کرتا ہے اور دماغ سے حاصل حرکی علامتوں کو عضلات اور غدود تک واپس بھیجتا ہے۔

جسدی نظام عصبی (Somatic Nervous System)

اس نظام میں دو طرح کے اعصاب ہوتے ہیں جنہیں کھوپڑی یا کاسہ سر سے متعلق اعصاب یا کرینیل اعصاب (Cranial nerves) اور ریڑھ کے اعصاب (Spinal nerves) کہا جاتا ہے۔ کرینیل اعصاب کے بارہ حصے ہوتے ہیں جو یا تو دماغ کے مختلف تعین مکان سے شروع ہوتے ہیں یا وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ کرینیل اعصاب تین قسم کے ہوتے ہیں۔حسی، حرکی اور باہمی مخلوط یا مرکب۔ حسی اعصاب دماغ کے حلقہ سے حاصل حسی معلومات (دیکھنا، سننا، سونگھنا، ذائقہ وغیرہ) کو دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ حرکی اعصاب دماغ سے نکلنے والی حرکی تحریکوں کو دماغی حلقہ کے عضلات تک پہنچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھوں کی پتلی کی حرکتیں حرکی کنٹرول کرتے ہیں۔ مخلوط اعصاب میں حس و حرکی دونوں طرح کے ریشہ ہوتے ہیں جو حسی و حرکی معلومات کو دماغ تک پہنچاتے ہیں اور انہیں وہاں سے واپس لاتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی کے 31 سیٹ ہوتے ہیں جو یا تو ریڑھ کی ہڈی سے نکلتے ہیں یا وہاں تک پہنچتے ہیں۔ ہر ایک سیٹ میں حسی و حرکی دونوں اعصاب ہوتے ہیں۔ ریڑھ کے اعصاب کے دو کام ہوتے ہیں۔ ریڑھ کے اعصاب کے حسی ریشے حسی معلومات کو جسم کے مختلف حصوں سے اکٹھا کرتے ہیں۔ (دماغی حلقہ کو چھوڑ کر) اور انہیں ریڑھ کی ہڈی (spinal cord) تک بھیج دیتے ہیں۔ جہاں سے

7

شکل 3.4: خود اختیاری نظام عصبی کے کام


دماغ کے باہر لے جایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حر کی اضطراری تحریکیں جو دماغ سے نکلتی ہیں انہیں ریڑھ کے اعصاب کی حرکی ریشوں کے ذیعہ عضلات کو بھیجتے ہیں۔

خود اختیاری نظام عصبی

(Autonomic Nervous system)

یہ نظام ان کاموں کو انجام دیتا ہے جن پر عام طور سے ہمارا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔ یہ ایسے اندرونی کاموں کو کنٹرول کرتا ہے جیسے سانس، خون کا دوران، لار کا بننا، پیٹ کا سکڑنا اور جذباتی ردعمل (شکل 3.4)۔ خود اختیاری نظام کا یہ عمل دماغ کے مختلف ساختوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔

خود اختیاری نظام عصبی کے دو حصے ہوتے ہیں۔ احساس انگیزی حصہ اور ورائے احساس انگیزی حصہ اگرچہ ایک حصہ کا اثر دوسرے حصہ کے برعکس ہوتا ہے، پھر بھی دونوں ساتھ مل کر توازن قائم کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ احساس انگیزی حصہ ایسے نازک حالات میں کام کرتا ہے جب ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ بہت تیزی اور مستعدی کے ساتھ کام انجام دینا ضروری ہوتا ہے جیسے جھگڑے یا بھاگنے کی حالت۔ ان مواقع کے دوران ہاضموں کا عمل رک جاتا ہے، خون کا دوران اندرونی اعضاء سے عضلات کی جانب ہو جاتا ہے اور سانسوں کی رفتار، آکسیجن کا لینا، دل کی دھڑکن و خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

ورائے احساس انگیزی حصہ کا تعلق خاص طور سے توانائی کے تحفظ سے ہوتا ہے۔ یہ جسم کے اندرونی نظام کے معمول کے کاموں کی نگرانی کرتا ہے۔جب حالات کی نزاکت ختم ہو جاتی ہے تو ورائے احساس انگیزی حصہ کاموں کو اپنے اختیار میں کر لیتا ہے، یہ احساس انگیزی تحریک فعل کی رفتار کو معمول پر لاتا ہے اور انسان کو پرسکون بنا کر نارمل حالات میں پہنچا دیتا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر جسم کے سارے کام جیسے دل کی دھڑکن، سانس اور خون کی رفتار وغیرہ نارمل سطحوں پر لوٹ آتے ہیں۔

مرکزی نظام عصبی (Central Nervos System)

مرکزی نظام عصبی سبھی عصبی حرکتوں کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ آنے والی سبھی حسی معلومات کو منظم کرتا ہے، ہر طرح کی وقوفی سرگرمیاں انجام دیتا ہے اور عضلات اور غدود کو حرکت کرنے کے احکام دیتا ہے۔ مرکزی نظام عصبی میں (الف) دماغ اور (ب) مغزِ حرام شامل ہوتی ہے۔ اب آپ دماغ کے اہم حصوں اور کس طرح ہر ایک حصہ کن کرداروں کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے، اس کے بارے میں پڑھیں گے۔

دماغ و کردار (Brain and Behaviour)

ایسا مانا جاتا ہے کہ انسانی دماغ کا ارتقا لاکھوں سال میں پستانی حیوانات کے دماغ سے ہوا ہے اور یہ ارتقائی عمل مسلسل جاری ہے۔ ہم دماغ کی سطحوں کی ساختوں کے معاملہ کا تجزیہ اس کے شروعاتی نظام، حرام مغز اور مغزک (Limbic System, brain stem and cerebellum)  دماغ کی سب سے پرانی ساختیں، جب کہ مغزی قشر (cerebaral cortex) ارتقا کے دور کی جدید پیش رفت ہے۔ ایک بالغ انسان کے دماغ کا وزن تقریباً 1.36 کلو گرام ہوتا ہے اور اس میں 100 بلین عصابیے ہوتے ہیں۔ تاہم دماغ سے متعلق سب سے حیرت انگیز بات عصابیوں کی کثیر تعداد نہیں بلکہ انسانی کردار و فکر کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت ہے۔ دماغ ایسی ساختوں اور حصوں میں منظم ہوتا ہے جو مخصوص عمل انجام دیتے ہیں۔ دماغ کا معائنہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ کچھ ذہنی افعال دماغ کے مختلف حصوں میں بٹے ہوتے ہیں پھر بھی بہت سے کام مخصوص حصوں کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وسط دماغ لخنہ (Occipital lobe) بصیرت کے لئے مخصوص حصہ ہے۔


سرگرمی 3.1

کچھ طلبا کو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزے بنانے کے لئے کہیں اور ان پر نظام عصبی کے مختلف حصوں کا نام لکھ کر ان پرزوں کو کسی پیالے میں ایک ساتھ رکھیں اور درجہ کے سبھی طلبہ سے ایک ایک پرزہ اٹھانے کے لئے کہیں۔ چند منٹ کا وقفہ دیں اور پھر اُن پرزے میں لکھے مختلف اعضاء کے کاموں اور مقام کو یاد کرنے کے لئے کہیں۔ اب ان میں سے ہر ایک طالب علم آگے آئے اور خود کا تعارف اس عضو کے طور پر دینے کو کہیں اور اس عضو کے مقام و کام کی وضاحت کرنے کے لئے کہیں۔


دماغ کی ساخت (Structure of the Brain)

مطالعے کی آسانی کے لئے دماغ کو تین حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ پس دماغ (hindbrain، وسط دماغ (midbrain) اور پیش دماغ (forebrain)  (شکل 3.5)۔

8

شکل 3.5: دماغ کی ساخت


پس دماغ (Hindbrain)

دماغ کا یہ حصہ مندرجہ ذیل ساختوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

(1)راس النخاع (Medulla Oblongata): یہ دماغ کا سب سے نچلا حصہ ہے جس کا وجود حرام مغز کے تسلسل میں ہوتا ہے۔ اس میں عصبی مراکز ہوتے ہیں جو حیات سے متعلق بنیادی کام جیسے سانس لینا، دل کی دھڑکن و خون کے دباوٴ کا انضباط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نخاع (medulls) کو دماغ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس میں خود اختیاری عمل کے مراکز بھی ہوتے ہیں۔

زیریں دماغ مجموعہ اعصاب (Pons): اس کاتعلق ایک طرف نخاع (Medulla) اور دوسری طرف وسط دماغ (mid brain) سے ہوتا ہے۔ زیریں دماغ مجموعہ اعصاب کا ایک مرکزہ عصبی مرکز (neural centre) سننے والی علامتیں حاصل کرتا ہے جو کانوں کے ذریعہ نشر ہوتی ہیں۔ ایسا خیال ہے کہ زیریں دماغ مجموعہ اعصاب نیند کے عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ خاص طور سے ایسی نیند جس میں خواب آتے ہیں۔ اس میں مراکز (nuclei) ہوتے ہیں جو سانسوں کی حرکت و چہرے کے اظہار پر اثر ڈالتے ہیں۔

مغزک (Cerebellum): یہ دماغ کے پچھلے حصہ کا کافی نمویافتہ حصہ ہے جس کی اوپری سطح پر شکن ہونے کی وجہ سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ جسم کی ظاہری کیفیت اور توازن کو برقراررکھتا ہے اور اسے کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا اہم کام عضلی حرکتوں (Musculer Movement) کے بیچ تنسیق (co-ordination) قائم کرنا ہے۔ اگرچہ حرکی احکامات کی شروعات دماغ کے اگلے حصہ سے ہوتی ہے مگر مغزک انہیں وصول کرتا ہے اور ان کی تنسیق کرتا ہے تاکہ انہیں عضلات کو ارسال کر سکے۔ یہ تشکلی محرکات (stimulus pattern) کی یادداشت کو جمع بھی کرتا ہے تاکہ ہمیں ان باتوں پر زیادہ توجہ نہ دینا پڑے کہ ہمیں کس طرح چلنا، تھرکنا یا سائیکل چلانا ہے۔

دماغ کا وسطی حصہ (Midbrain)

دماغ کا یہ حصہ نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے اور یہ دماغ کے پچھلے حصہ کو اگلے حصہ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں کچھ عصبی مراکز (Neural Centres) پائے جاتے ہیں، جن کا تعلق کچھ خاص اضطراریے (Reflexes) اور کچھ دیکھنے اور سننے سے متعلق احساسات شامل ہیں۔ وسط دماغ کا ایک اہم حصہ جسے ریگینگلر ایکٹیویٹک نظام یا آر۔ اے۔ ایس (Reticular Activating System) کے نام سے جانا جاتا ہے اشتعال یا جوش (Arousal) کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ ہمیں حسی مادخل کے ذریعہ چست و چوکس بناتا ہے۔ یہ ہمیں ماحولیات سے معلومات کے انتخاب میں بھی مدد کرتا ہے۔

دماغ کا اگلا حصہ (Forebrain)

اسے دماغ کا سب سے اہم حصہ مانا جاتا ہے کیونکہ یہ سبھی وقوفی،جذباتی و حرکی اعمال کو انجام دیتا ہے۔ ہم یہاں پیش دماغ کے چار اہم حصوں کی باتیں کریں گے۔ زیریں مبدائے اعصاب، تھیلمس، خارجی عضو نظام اور مغز (Hypothalamus, Thalamus, Limbic System and Cerebrum)

زیریں مبدائے اعصاب (Hypothalamus): یہ دماغ کے سب سے چھوٹی ساختوں میں سے ایک ہے لیکن ہمارے کردار میں اس کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ان عضویاتی اعمال کی تعدیل (Regulate) کرتا ہے جو جذباتی و محرکی (motivational) کردار میں شامل ہوتے ہیں۔جیسے کھانا، پینا، سونا، حرارت کی تعدیل و جنسی اشتعال وغیرہ۔ یہ ہمارے جسم کے اندر کے ماحول کی تعدیل کرتا ہے اور اسے کنٹرول کرتا ہے (مثال کے طور پر دل کی دھڑکن، خون کا دباؤ،درجۂ حرارت اور مختلف انڈوکرین غدود سے ہارمونوں کے اخراج کی تعدیل کرتا ہے۔

تھیلمس (Thalamus): اس میں انڈے کی شکل کے عصابیے کے گچھے ہوتے ہیں جو کہ زیریں مبدائے اعصاب (Hypothalamus) کے بطنی جانب (Ventral) (اوپری) جانب قائم ہوتے ہیں۔ یہ ایک ترسیل مقام (Relay Station) کی طرح  ہوتا ہے جو اعضاء سے اندر آنے والے سبھی حسی علامتوں کوحاصل کرتا ہے اور انہیں قشرہ (Cortex) کے مناسب حصوں میں عمل کاری کے لئے بھیج دیتا ہے۔ یہ باہر کی جانب جانے والی سبھی حرکی علامتوں کو بھی وصول کرتا ہے جو قشرہ (Cortex) سے آتی ہیں اور انہیں جسم کے مختلف مناسب حصوں میں بھیجتا ہے۔

خارجی عضو نظام (Limbic system): یہ نظام ساختوں کے ایک گروہ سے بنا ہوتا ہے جو قدیم حیوانات لبون کے دماغ کے حصہ کی تشکیل کرتا ہے۔ جسمانی درجہ حرارت، خون کادباؤ، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ شوگر وغیرہ کی تعدیل کے ذریعہ اندرونی بازتوازن (Homeostasis) کو قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔اس کا زیریں مبدائے اعصاب سے گہرا تعلق ہے۔ زیریں مبدائے اعصاب کے علاوہ خارجی عضو نظام میں ہیپوکیمپس (Hippocampus) اور لوزہ(Amygdala) بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہیپوکیمپس طویل مدتی حافظہ میں اہم رول اداکرتا ہے جب کہ لوزہ جذباتی کردار میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

مغز (Cerebrum): اسے قشر (Cerebral cortex) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ سبھی پیچیدہ وقوفی عملوں جیسے دھان، ادراک، سیکھنا، حافظہ، کرداری زبان، استدلال اور مسئلہ کے حل کی تعدیل کرتا ہے۔ مغز انسانی دماغ کے کل کا دو تہائی حصہ ہوتا ہے۔ اس کی موٹائی 1.5 سے 4mm تک ہوتی ہے جو دماغ کے سبھی باہری حصہ کو ڈھکتا ہے اور اس کے اندر عصابیے، عصبی جال اور محوریوں کے گچھے ہوتے ہیں۔ یہ سبھی مل کر ہمیں منظم کاموں کو کرنے کے لائق بناتے ہیں اور تمثال (Image) علامت (Symbol) اور حافظہ وغیرہ کی تشکیل کرتے ہیں۔

مغز دو متناسب حصوں میں بٹا ہوتا ہے جسے مغزی نصف کرہ (cerebral Hemisphere)کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں نصف ایک جیسے دکھتے ہیں، لیکن فعالی اعتبار سے عام طور پر ایک نصف کرّہ دوسرے نصف کردہ پر غالب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بایاں نصف عام طور پر زبانی کردار کو کنٹرول کرتا ہے۔دایاں نصف کرہ کا عام طور پر تمثال، مکانی تعلق (spatial relation) اور وضع کی پہچان (pattern recognition) سے متعلق مختص رہتا ہے۔ یہ دونوں کرّے چربی زاریشوں (Myelinated fibers) سفید گچھہ جسے کارپس کولازم (Corpus Collosum) کہا جاتا ہے کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں جو دونوں نصف کروں کے درمیان پیغام کو آگے اور پیچھے لے جاتاہے۔

قشریہ (Cerebral Cortex) کوبھی چار حصوں میں تقسیم کیا گیاہے: پیش دماغ لختہ، پست دماغ لختہ، طرفِ دماغ لختہ اور وسط دماغ لختہ (Frontal Lobe, Parietal Lobe, Thmporal Lobe and Occipitial Lobe) کا خاص تعلق وقوف عمل جیسے دھیان، تفکیر، سیکھنا،یادداشت اور استدلال کے کاموں سے ہے، لیکن یہ خود اختیاری و جذباتی رد عمل پر بندشی اثر بھی ڈالتا ہے۔ پس دماغ لختہ (Parietal) کا خاص تعلق جلدی تحسیس اور دیکھنے اور سننے کے تحسیسات کے ساتھ سے ہوتا ہے طرف دماغ لختہ (Temporal Lobe) کا بنیادی تعلق سننے سے متعلق معلومات کی عمل کاری سے ہوتا ہے۔ علامتی آوازوں کی یاد داشت اور الفاظ اس میں موجود ہوتے ہیں۔ گویائی اور تحریری زبان کی سمجھ اس طرف دماغ لختہ پر منحصر کرتی ہے۔ وسط دماغ لختہ (Occipital Lob) کا خاص تعلق بصری معلومات سے ہوتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ بصری تحریکوں، بصری مہیجوں سے متعلق یاد داشت اور رنگوں سے متعلق شناخت رخ کی تشریح وسط دماغ لختہ کا کام ہے۔

ماہرین عضویات و ماہرین نفسیات نے مخصوص دماغی ساختوں سے وابسطہ مخصوص کاموں کی شناخت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے پایا کہ کوئی بھی دماغی عمل قشر (Cerebral Cortex) کے صرف کسی ایک حصہ کے ذریعہ ہی انجام پذیر نہیں ہوتا ہے۔ عام طور سے اس میں دوسرے حصے بھی شامل رہتے ہیں، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ کاموں کی کچھ تحصیر (Localization) بھی ہوتی ہے یعنی کسی کام کے لئے قشر کا ایک حصہ دیگر حصوں کی بنسبت زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ گاڑی چلاتے ہیں تب آپ سڑک و دوسری گاڑیوں کو دیکھنے کا کام وسط دماغ لختہ (Occipital Labe) کے ذریعہ سنتے ہیں۔ کئی حرکی اعمال کو پست دماغ لختہ کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے اور پیش دماغ لختہ (Frontal Lobe) کی مدد سے مختلف فیصلے لیتے ہیں۔ اس طرح سے سارا دماغ ایک ارتباطی یونٹ کی طرح کام کرتا ہے، جس میں مختلف حصے اپنے اپنے کاموں کو الگ الگ انجام دیتے ہیں۔

حرام مغز (Spinal Cord)

حرام مغز ایک رسی کی طرح لمبی عصبی ریشوں کے مجموعے کی ہوتی ہے جو ریڑھ کے اندر اس کی پوری لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔ اس کا ایک حصہ دماغ کے نخاع (medulle) سے جڑا ہوتا ہے اوردم کی طرح آزاد ہوتا ہے۔ اس کی ساخت پوری لمبائی میں یکساں ہوتی ہے۔ تتلی کی شکل حرام مغز کے مرکز میں موجود بھورا مادہ عصابیہ اور دیگر خلیوں کے مابین تعلق قائم رکھتا ہے۔ بھورے مادے کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے سفید مادہ حرام مغز ہوتا ہے جو عروجی اور نزولی عصبی راستوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ راستہ (عصبی ریشوں کے مجموعے) دماغ کو جسم کے باقی حصوں سے جوڑتے ہیں۔ حرام مغز ایک بڑے کیبل کا کام کرتا ہے جو متعدد پیغامات کو مرکزی عصبی نظام (CNS) سے ادل بدل کرتا ہے۔حرام مغز کے دو اہم کام ہیں۔ پہلا یہ کہ ان حسی تحریکوں کو جو کہ جسم کے نچلے حصوں سے حاصل ہوتی ہیں دماغ تک پہنچاتا ہے اور حرکی تحریکوں کو جو کہ دماغ میں پیدا ہوتی ہیں، انہیں پورے جسم کو پہنچاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ کچھ ایسے آسان اضطراریے بھی انجام دیتے ہیں جن میں دماغ شامل نہیں ہوتا ہے۔ ان آسان اضطراریوں میں حسی عصب، حرکی عصب اور حرام مغز کے بھورے مادے کا ایتلافی عصابیے پنہاں ہوتے ہیں۔

اضطراری فعل (Relex Action)

اضطراریہ ایک بے اختیاری عمل ہے جو مخصوص حالت میں بہت تیزی کے ساتھ اپنے مخصوص قسم کے مہیج کے بعد واقع ہوتا ہے۔ اضطراری فعل خود بہ خود دماغ کے شعوری فیصلے کے بغیر ہوتے ہیں۔ اضطراری فعل ہمارے نظام عصبی میں ابتدا سے ارتقائی عمل کے ذریعہ موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھوں کا پھڑکنا، جب کبھی بھی کوئی شے اچانک ہماری آنکھوں کے پاس آتی ہے ہماری پلکیں پھڑکتی ہیں۔ اضطراری فعل ہمیں باہری خطروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور زندگی کو بقا دیتے ہیں۔ کئی اضطراری فعل ہمارے نظام عصبی کے ذریعہ انجام دیے جاتے ہیں لیکن گھٹنوں میں حرکت گرم یا ٹھنڈی چیزوں سے بچنا سانس لینا، پھیلنا اور پتلی کا سکڑنا وغیرہ کچھ جانے پیچانے اضطراریہ ہیں۔ زیادہ تر اضطراریہ میں دماغ شامل نہیں ہوتے بلکہ یہ حرام مغز کے ذریعہ ہوتے ہیں۔

انڈوکرینی نظام (The Endocrine System)

انڈوکرین غدود ہمارے کردار اور فروغ میں ایک اہم رول ادا کرتی ہے۔ یہ مخصوص کیمیائی مادہ کو خارج کرتا ہے جسے ہامونس کہا جاتا ہے جو ہمارے کچھ کردار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کو بے نالی غدود در افرازی یا ہارمون غدود(Endocrine Ductless Gland, Glander) کہتے ہیں کیونکہ ان میں (دوسرے غدود کی طرح) خارج کئے گئے مادوں کو مناسب مقام پر پہنچانے کے لئے کوئی نالی نہیں ہوتی ہے۔ہارمونس کا دوران ان میں خون کے ذریعہ ہوتا ہے۔ انڈوکرینی (درافرازی غدود) جسم میں انڈوکرینی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ نظام عصبی کہ مختلف حصوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اس طرح سے اس پورے نظام کو عصبی انڈوکرینی نظام کہا جاتا ہے۔ شکل 3.6 میں جس کے اہم اینڈوکرائن غدود کو دکھایا گیا ہے۔

9

شکل 3.6: اہم اینڈوکرائن غدود


پٹوٹری غدہ (Pituitary Gland)

یہ غدود کرینیم (Cranium) میں زیریں مبدائے اعصاب (Hypothalamus) کے ٹھیک نیچے ہوتا ہے۔ یہ غدہ دو حصوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جسے آگے کا پٹوٹری (بے قناتی غدہ) (Anterior Pituitary) اور عقبی بے قناتی غدہ Posterior Pituitary  کہا جاتا ہے۔ Anterior Pituitary کا سیدھا تعلق زیریں مبدائے اعصاب (Hypothalamus سے ہوتا ہے جو ہارمونس کے اخراجات کی تعدیل کرتا ہے۔ پٹوٹری غذہ (Pituitary Gland) ہارمونس (Growth Hormones) و دیگر ہارمونس کو خارج کرتا ہے جو جسم کے اندر دیگر اینڈوکرینی غدود کے اخراجات کی تعدیل و کنٹرول کرتا ہے۔ اسی وجہ سے پٹوٹری غدود (Pituitary Gland) کو (Master Gland) بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ ہارمونز ساری زندگی آہستہ آہستہ خارج ہوتے رہتے ہیں جب کہ دیگر مخصوص موقع پر زندگی میں خارج ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نمورہارمونس بچپن سے آہستہ آہستہ خارج ہوتے ہیں، جوانی میں یہ کچھ تیزی سے خارج ہوتے ہیں، لیکن تناسلی غدو کو تیز کرنے والے (gonadotropic Hormones سنہ بلوغ پر خارج ہوتے ہیں جو لڑکوں اور لڑکیوں میں موموں ثانوی اور ابتدائی جنسی ہارمون کے خارج کرنے میں تیزی پیدا کرتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر جنسی تبدیلیاں ہواکرتی ہیں۔

غدہ ورقیہ (Thyroid Gland)

یہ غدہ گردن میں واقع ہوتا ہے۔ اس سے تھایراکسین (غدہ ورقی سے رسنے والا ہارمون) (Thyroxin) پیدا ہوتا ہے جو جسم کے استحالی (Metabolic) عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ تھایراکسن معقول مقدار میں خارج ہوتا ہے اور پیش پٹوٹری (Anterior Pituitary) ہارمون کے ذریعہ اس کی تعدیل ہوتی ہے۔ اس ہارمون کے آہستہ آہستہ خارج ہونے پر توانائی کی پیداوار اور آکسیجن کی کھپت و گندی چیزوں کے جسم کے خلیوں سے باہر نکلنے کی رفتار بنی رہتی ہے۔ دوسری طرف تھایئراکسن کے کم پیدا ہونے کے سبب جسمانی و نفسیاتی سستی آتی ہے۔ اگر کسی جانور کے بچے سے غدہ ورقیہ Thyroid Gland) کو نکال دیا جائے تو اس میں جسمانی نمو رک جاتی ہے اور جنسی طور پر نشونما نہیں ہو پاتا۔

ورقی غدہ (Adrenal Gland)

یہ غدہ ہر ایک گردے کے اوپر ہوتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں جسے درقی قشر اور ورقی نخاع Adrenal Cortex اور Medula Adrenal کہتے ہیں۔ ان دونوں سے الگ الگ ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ ورقی قشر کے خارج ہونے کی تعدیل و کنٹرول (ACTH) Adreno Cortic ortophic Hormons   کے ذریعہ ہوتا ہے۔ جو Anterior Pituitary Glands  کے ذریعہ ہوتا ہے۔ جب ورقی قشر کم خارج ہوتا ہے تو Anterior Pititary Glands  کو یہ پیغام مل جاتا ہے اور ACTH کے خارجی عمل بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ورقی قشر حرکت میں آجاتا ہے اور ہارمونز زیادہ مقدار میں خارج کرتا ہے۔

ورقی قشر ہامونز کاایک گروپ خارج کرتا ہے جسے Corticoids  کہتے ہیں جن کااستعمال جسم کے مختلف قسم کے جسمانی کاموں کے لئے ہوتاہے۔ مثال کے طور پر کمیابی مادہ جیسے سوڈیم پوٹاشیم اور کلورائڈ کی تعدیل کرنا ان کے کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ سے نظام عصبی کے کاموں میں رکاوٹ آجاتی ہے۔

ورقی غدہ دو طرح کے ہارمونز خارج کرتے ہیں جسے اپی نفرین(Epinepherire) اورنرپائنی فرین (Norepine phrine) (عصبی مرسل) کہا جاتا ہے اسے بالترتیب Adrenaline اور Noradrenaline بھی کہتے ہیں۔ احساس انگیز تحریک فعل جیسے دل کی دھڑکن کا بڑھنا، آکسیجن کا لینا، استحالی اور عضلاتی حرکت ان دونوں ہارمونز کے خارج ہونے سے ہوتا ہے۔ اپی نفرین اور نرپائنی افرین زیرین مبدائے اعصاب کوابھارتے ہیں، جس سے انسان میں لمبے وقت تک یہاں تک کہ دباؤ بنانے والے چیز کے ہٹ جانے کے بعد بھی جذبات قائم رہتے ہیں۔

لبلبہ (Pancrees)

لبلبہ (Pancreas) معدہ کے قریب ہوتے ہیں، ان کا بنیادی کام کھانے کو پچانا ہے لیکن اس سے ایک ہارمون بھی نکلتا ہے جس کو انسولین (Insulin) کہا جاتا ہے۔ انسولین جگر کو گلوکوز کا ذخیرہ کرنے یا استعمال کے لئے توڑنے میں مدد کرتی ہے۔ جب انسولین مناسب مقدار میں نہیں نکل پاتا ہے تو لوگوں میں ایک قسم کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے جسے ذیابیطس (Diabetes) کہتے ہیں۔

تولیدی غدود(Gonads)

تولیدی غدود کاتعلق مردوں میں بیضہ داں (testes) اور عورتوں میں اُووریز (Ovaries) سے ہے۔ اس طرح کے غدود سے نکلنے والے ہارمون جنسی کاموں اور عورتوں اور مردوں کے تولیدی متعلق کاموں پر قابو تسلسل رکھتے ہیں۔ اس قسم کے غدود سے نکلنے والے ہارمون کی شروعات (Gonado Trophic Hormonss (GTH) سے ہوتی ہے جو پیشیں پٹوٹری سے خارج ہوتے ہیں۔GTH انسانوں میں آغازِ بلوغ کے وقت (14-10 سال) خارج ہوتے ہیں اور تولیدی غدود کو ہارمون خارج کرنے کے لئے اکساتے ہیں، جس کے نتیجے میں بنیادی و ثانوی جنسی خصوصیات کی نشوو نمائی ہوتا ہے۔

عورتوں میں بیضہ داں (Ovary) سے اسٹروجن اور پراجسٹران Estrogens, progestrone  پیدا ہوتے ہیں۔ اسٹروجن سے عورتوں کے جسم میں جنسی نشو و نما کی رہنمائی ہوتی ہے۔ بنیادی جنسی خصوصیات کا تعلق تولید سے ہوتا ہے جسے بیضہ Ovum یا بیض خلیہ کے ہر 28 ویں دن بیض داں میں ایک جنسی طور پر بالغ عورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ثانوی جنس خصوصیات جیسے پستان کا بڑھنا، جسم کا گول ہونا وغیرہ بھی اسی ہارمون پر منحصر کرتے ہیں۔ پراجسٹرون کا جنسی نشو و نما میں کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔ ان کا کام بارور بیضہ کو حاصل کرنے کے لئے رحم (بچہ دانی، Uterus) کو تیار کرنا ہوتا ہے۔

تولیدی کاموں کے لئے نظام ہارمون مردوں میں بہت ہی آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوری وضع (cyclic pattern) نہیں ہوتا۔ مردوں میں فوعوں میں رجلی منی لگاتار پیدا ہوتے رہتے ہیں اور مرد میں جنسی ہارمون خارج کرتے ہیں۔ جسے انڈروجن کہا جاتا ہے۔ مہیج غدود سیال یافوطیرون (Testosterone) ایک اہم رجولیہ (androgene) ہے۔ فوطیرون (Testosterone) ثانوی جنسی تبدیلیوں جیسے جسمانی تبدیلیاں، جسم و چہروں پر بالوں کا اگنا، آواز کا بھاری ہونا و دیگر جنسی رخی برتاؤ میں اضافے کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ غصہ میں اضافہ و دیگر کرداروں کا تعلق بھی 'Testosterone' کے بننے سے ہوتا ہے۔

تمام ہارمون کی حسب معمول کارکردگی کا تعلق ہماری کرداری فلاح بہودگی سے ہے۔ ہارمونس کاغیر توازن اخراج ہونے کی وجہ سے جسم اندرونی توازن قائم رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے وقت اگر ہارمون زیادہ مقدار میں خارج نہ ہوں تو ہم کسی ماحول میں مناسب طریقہ سے اپنا رد عمل نہیں کر پائیں گے۔ آخیر میں اگر ہماری زندگی کے مخصوص وقتوں میں ہارمون خارج نہ ہوں تو ہماری نمو، بالیدگی اور تولیدی ممکن نہیں ہو پائے گی۔

توارث: جین و کردار

(Heredity: Genes and Behaviour)

ہمیں خصوصیات اپنے والدین سے جین کی شکل میں ورثہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ پیدائش کے وقت ایک بچہ میں خاص قسم کی جین ہوتی ہے جسے وہ اپنے ماں باپ سے ورثہ میں حاصل کرتا ہے۔ یہ وراثت فرد کے نشو و نما کے لئے ایک امتیازی قسم کی حیاتیاتی خاکہ و نظام الاوقات کو طے کرتی ہے۔ اپنے ماں باپ سے وراثت میں ملی ان جسمانی و نفسیاتی خصوصیات کو نشانی (Genetics) کہا جاتا ہے۔ بچہ اپنی زندگی کی شروعات واحد زایگوٹ خلیہ (ماں کے بیضی اور باپ کے منی سے مل کر بارآور ہوتا ہے) سے ہوتی ہے۔ زایگوٹ ایک چھوٹا خلیہ جس کے بیچ میں ایک خورد خلیہ (neucleus) ہوتا ہے جس میں لونیہ (ehromosones) شامل ہوتے ہیں۔ جین کے ساتھ یہ لونیہ ماں اور باپ دونوں سے برابر کی تعداد میں حاصل ہوتے ہیں۔

لونیے (Chromosomes)

لونیے جسم میں ارثی عنصر ہیں۔ یہ ہر ایک خلیے کے مرکزہ (nucleus) میں دھاگے کی شکل کا ہوتا ہے جو ہمیشہ جوڑے میں ہوتے ہیں۔ ہر ایک مرکزہ میں اس کی تعداد مختلف ہوتی ہے اور ہر ایک جاندار میں اس کی تعداد متعین ہوتی ہے۔بالغ تولیدی خلیے (Genetic Cell) (منی اور بیضہ) میں 23 لونیہ ہوتے ہیں لیکن جوڑے میں نہیں ہوتے۔ منی خلیے (Sperm cell) اور بیض خلیہ (Egg cell) کے ملنے سے ایک نئی نسل کی پیدائش ہوتی ہے۔

استقرار حمل (conception) کے وقت عضویہ اپنے ماں باپ سے 46 لونیہ حاصل کرتا ہے جس میں سے 23 ماں سے اور 23 باپ سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں سے ہر ایک لونیہ میں ہزاروں کی تعداد میں جینس ہوتے ہیں۔ بہرکیف باپ کا منی خلیہ ماں کے بیضہ خلیہ سے ایک معاملہ میں مختلف ہوتا ہے۔ 23واں لونیہ یا تو بڑے X یا Y کی طرح ہوتے ہیں۔اگر X کی طرح کا منی خلیہ، بیض خلیہ کی زرخیزی کرتا ہے تو زرخیز شدہ انڈوں میں 23واں لونیہ XX کے جوڑے ہوں گے اور پیدا ہونے والی اولاد لڑکی ہوگی۔ دوسری طرف اگر Y قسم کا منی خلیہ بیضے کی بار آوری کرتا ہے تو 23واں جوڑے لونیہ XY کی طرح ہوں گے اور اولاد لڑکا ہوگا۔

لونیہ ایک ایسے شے سے بنے ہوتے ہیں جنہیں DNA یا Deoxyribonucleic Acid کہا جاتا ہے۔ ہمارے جین خاص طور سے DNA کے عناصر سے بنے ہوتے ہیں۔ جین جوہر ایک صفت کو کنٹرول کرتا ہے ایک ہی جگہ واقع ہوتا ہے جو ہر ایک لونیہ کے جوڑے پر ایک کی تعداد میں ہوتا ہے۔ جینسیں لونیہ اس سے مستثنیٰ ہیں مطلب وہ لونیہ کے جوڑے جو کسی شخص کے جنس کو طے کرتے ہیں۔

سرگرمی 3.2

درجہ کو دوگروہوں میں تقسیم کریں اور اس موضوع پر بحث کرائیں کہ ماہر نفسیات کو عصابیوں، اتصالیہ (عامی) اور نظام الاعصاب کا مطالعہ ماہر حیاتیات کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔ ایک گروہ کو اس نقطۂ نظر کے حق میں اور دوسرے کو اس کی مخالفت میں بولنا چاہئے۔

جین (Genes)

ہر ایک لونیہ میں جین کی شکل میں ہزاروں کی تعداد میں نشوی احکام کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ یہ جینس اکثر عضویہ کے فروغ کی نشو و نما کی ہدایت انجام دیتے ہیں۔ اس میں خاص قسم کی پروٹین کو پیدا کرنے کے سلسلے میں ہدایات ہوتی ہیں جو جسمانی عمل و فینوٹایپ (ماحولی ٹائپ) امتیازی اوصاف کے مظاہرے کی تعدیل کرتے ہیں۔ جانداروں کی وہ خصوصیات جو نمایا ں یا قابل مشاہدہ ہو ا کرتی ہیں ماحولی ٹائپ خصوصیات کہلاتی ہیں۔ (مثلاً جسمانی بناوٹ، جسم کی طاقت، ذہانت و دیگر کرداری خصوصیات) جو خاصہ (امتیازی وصف) نشائی مادے کے ذریعہ اولاد میں منتقل ہو سکتی ہیں وہ نسلی ٹائپ (Genotype) کہلاتے ہیں۔سبھی قسم کے حیاتیاتی و نفسیاتی خصوصیات جو آج کے انسان میں پائی جاتی ہیں وہ Genotype کی وجہ سے ورثہ میں حاصل خصوصیات ہیں جس میں ماحولی فرق بھی ہوا کرتا ہے۔

جین کئی مختلف شکل میں موجود ہو سکتے ہیں، جنین کے کسی ایک شکل سے دوسری شکل دینے کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔جس کے اس نئے مجموعے کی بناوٹ کو ماحول میں پرکھا جاتا ہے جس کی بنیاد پر ان نسلی ٹائپ کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ماحول کے لئے معقول و موافق ہوتے ہیں۔

تہذیبی بنیاد: کردار کی سماجی، تہذیلی تشکیل

کردار کی حیاتیاتی بنیاد کو پڑھنے کے بعد آپ کو یہ اندازہ ہو چکا ہوگا کہ ہمارے بہت سارے کردار ہارمون سے متاثر ہوتے ہیں اور دیگر بہت سے اضطراری رد عمل سے (reflexive responses) واقع ہوتے ہیں۔ انسان کے جسمانی نظام کی تعدیل میں ہارمون کا اہم رول ہوتا ہے لیکن وہ پوری طرح سے انسانی کرداروں کو کنٹرول نہیں کرتے ہیں۔ مسبوکہ (Stereotype) (مذرہ وضع) جو کہ اضطراریہ کی سب سے زیادہ امتیازی خصوصیت ہے جو بہت سے انسانی جواب عمل میں دکھائی نہیں دیتی ہے۔


باکس 3.1 حیاتیاتی و تہذیبی ترسیل (Biological and Cultural Transmission)

حالیہ سالوں میں ایک منضبط علم جسے سماجی حیاتیات کہتے ہیں سامنے آیا ہے جو حیاتیات و سماج کے درمیان تعامل کامطالعہ کرتا ہے۔ یہ ہمارے سماجی کرداروں کی وضاحت ارتقائی انداز میں کرتا ہے جس کی بنیاد جامعی مناسبت سے ہوتی ہے اس کامطلب یہ ہوا کہ ہر ایک جاندار کا ایک خاص طرزِ عمل ہوتا ہے تاکہ اس کی بار آوری کی کامیابی میں اضافہ ہو سکے۔ تحقیقات کرنے والوں نے جنہوں نے کئی سماجی کرداروں کا مطالعہ کیا (جسے معاشی، بچوں کی پرورش وغیرہ) حیاتیاتی مخلوقات کے فروغ کے تسلسل کے نیچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انسانی کردار کی بنیاد صرف حیاتیاتی عامل نہیں ہیں بلکہ یہ سیکھنے کے ذریعہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک مشہور ماہر نفسیات Heidi Keller نے حال ہی میں بتایا کہ جین و کردار کے بیچ کے تعلق کوہر متعین کرنے والے کی حیثیت سے نہیں سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے ’جینس تیاری‘ کاایک نکتہ پیش کیا جو یہ بتلاتا ہے کہ کسی کردار کو اپنانے جو سیکھنے کے ذریعہ ہوتا ہے، سے ہمیں ماحول کو اپنانے میں مدد ملتی ہے۔ ایسا یقین ہے کہ انسانی ارتقا میں جینی و تہذیبی دونوں کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ ترسیلی عمل کچھ خاص معنوں میں مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی خصوصیات میں یکسانیت ہوتی ہے۔ جینی ترسیل ایک ایسا عمل ہے جو ہر ایک جاندار میں ایک ہی طریقہ سے ہوتا ہے، لیکن تہذیبی ترسیل شامل ہوتا ہے (جو پڑھانے و نقل کے ذریعہ ہوتا ہے) جو اسے حیاتیاتی ترسیل سے مختلف کرتا ہے، تہذیبی ترسیل میں ایک شخص پر دوسرے لوگوں کااثر پڑتا ہے جو کہ ماں باپ کے اثر سے زیادہ ہوتا ہے جب کہ حیاتیاتی ترسیل میں صرف ماں باپ کا ہی اثر ہو سکتا ہے اس طرح سے صرف انسانوں کے لئے ثقافتی اصل یا سرچشمہ (مثلاً توسیقی خاندانوں کے ممبران، اساتذہ اور دیگر ذی اثر لوگ) تہذیبی ارتقائی کے اثرات صرف نسلوں کے بیچ تک ہی محدود نہیں رہتی۔ خیالات کی ترسیل کی ایک نسل کے اندر اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ بزرگ بھی اپنے کردار کو نوجوانوں کی طرح مثالی بنالیں۔

یہ دو عمل ایک معاملات میں یکساں ہیں۔دونوں ماحول کی ضرورت کے مطابق ترسیل کرتے ہیں۔ دونوں میں تبدیلیاں یا تو رک جاتی ہیں یا ختم ہو جاتی ہیں یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنائی جاتی ہیں۔ (یعنی وہ ماحول میں کس طرح سے فٹ ہو جاتی ہیں) اس طرح سے انسانی سطح پر دوہرے وراثت کے اصول کے ثبوت سامنے آئے۔ حیاتیاتی وراثت ہمیں جین کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جب کہ تہذیبی روایت ہمیں memes کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ حیاتیاتی وراثت اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے (یعنی ماں باپ سے بچوں میں) جب کہ تہذیلی وراثت نیچے سے اوپر کی جانب جاتی ہے۔ (یعنی بچوں میں سے ماں باپ میں) دوہری وراثت کے اصول یہ بھی بتاتا ہے جب کہ حیاتیاتی و تہذیبی عوام مخالف عملوں میں شامل ہوتے ہیں وہ ایک یکساں عامل کی طرح کام کرتے ہیں اور انسانی کردار کی وضاحت کے لئے ایک دوسرے سے ترسیل کرتے ہیں۔

زندگی کے مختلف پہلوؤں سے لی گئی مثالوں کی بنا پر ہم یہ بحث کر سکتے ہیں کہ انسانی کردار جانوروں کے کردار سے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اس پیچیدگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انسان کے کردارں کی تعدیل کے لئے ایک تہذیب ہوتی ہے جو جانوروں میں نہیں ہوتی۔ اب ہم بھوک جیسی بنیادی ضرورت کو لیں ہم جانتے ہیں کہ اس کی حیاتیاتی بنیاد ہوتی ہے جو انسان اور جانور دونوں میں پائی جاتی ہے لیکن جس طرح انسان اسے پورا کرتے ہیں وہ کافی پیچیدہ ہے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ کھانے میں سبزیاں لیتے ہیں جب کہ دوسرے گوشت کھاتے ہیں، کس طرح وہ سبزی خور اور کس طرح وہ گوشت خور ہوگئے؟ کچھ سبزی کھانے والے انڈے بھی کھاتے ہیں جب کہ دوسرے نہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ سوچنے کی کوشش کریں کہ کس طرح سے لوگ کھانے کے معاملہ کو لے کر مختلف ہیں۔ آگے جانچ کرنے پر آپ کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ لوگوں کے کھانے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ (مثلاً ہاتھوں سے کھانا یا چمچوں، چھری، کانٹوں سے کھانا)

جنسی کردار کو بھی دیگر مثال کے طور پر لے سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسے عمل میں ہارمون شامل ہوتے ہیں اور انسان و جانور دونوں ہی میں اضطراری فعل (Reflex action) ایک جیسے ہوتے ہیں جب کہ جانوروں میں جنسی عمل، خاصا آسان اور اضطراری ہوتا ہے۔ (سبھی جانوروں میں جنسی عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے ) جب کہ انسانوں میں یہ اتنا پیچیدہ ہوتا ہے کہ اسے اضطراری کہنا مشکل ہے۔ جوڑے کی پسندیدگی انسانی جنسی عمل کی ایک اہم خاصیت ہے۔ ترجیحات کی یہ بنیاد مخالف سماجوں کے درمیان ایک اور سماج کے اندر بھی مختلف ہوا کرتی ہیں۔ انسانی جنسی عمل بھی متعدد اصولوں، معیاروں، اقدار اور قوانین وغیرہ کے تحت انجام دیئے جاتے ہیں۔ بہر حال ایسے طریقے و معیار بھی لگاتار بدلتے رہتے ہیں۔

یہ مثالیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ حیاتیاتی عامل (Biological factor) تنہا ہمیں انسانی کردار کو سمجھنے میں مددگار نہیں ہوتے۔ فطری طور پر ہم ان سے بہت زیادہ مختلف ہیں جیسا کہ ماہر حیاتیات نے ہمارے بارے میں بتایا ہے۔ انسانی فطرت کی ارتقا حیاتیاتی و تہذیبی عوامل کے ملنے سے ہوتی ہے۔ ایسے عوامل کی وجہ سے بہت سے معاملوں میں ہمارے اندر یکسانیت پائی جاتی ہے اور کچھ معاملوں میں اختلاف دیکھنے کو ملتا ہے۔

تہذیب کاتصور (Concept of Culture) 

آپ نے پڑھا ہوگا کہ انسانی کردار کو صرف سماجی تہذیبی سیاق و سباق جس میں یہ واقع ہوتا ہے، سمجھا جاسکتا ہے انسانی برتاؤ بنیادی طور پر سماجی ہوتا ہے۔ اس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق ان کے برتاؤ، پر رد عمل اور بے شمار چیزوں میں مشغول رہناجسے ہم نے اپنے پیشرو(oerdecessirs) سے حاصل کئے ہے شامل ہیں، اگرچہ متعدد و دیگر انواع بھی ہماری طرح سماجی ہیں لیکن انسان ساتھ ہی ساتھ ثقافتی و مہذب بھی ہوتے ہیں۔

اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ تہذیبی ہونے کا کیامطلب ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں تہذیب کا مطلب سمجھنا ہوگا۔ آسان لفظوں میں تہذیب کا تعلق ماحول کے ایک حصے سے ہے جسے انسان نے خود بنایا۔ اس میں لوگوں کے جس میں ہم خود بھی شامل ہیں مختلف کرداروں کے نتیجہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ نتیجہ مادی اشیاء (جیسے اوزار، مجسمہ) تصورات (جیسے زمرات، معیارات) یا سماجی ادارہ (جیسے خاندان، اسکول) بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم انہیں تقریباً ہر جگہ پاتے ہیں۔ یہ ہمارے کردار کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم انہیں تقریباً ہر جگہ پاتے ہیں۔ یہ ہمارے کردار کو متاثر کرتے ہیں اگرچہ ہم اس سے ناواقف ہو سکتے ہیں۔

اب ہم کچھ مثالوں پر غور کریں ایک کمرہ جس میں آپ ہوتے ہیں تہذیبی پیداوار ہے۔ یہ کسی شخص کے تعمیراتی خیالات و عمارتی ہنر کانتیجہ ہے۔ آپ کاکمرہ چوکور ہو سکتا ہے لیکن ایسی بھی بہت سی جگہ ہیں جہاں کمرے چوکور نہیں ہیں۔ (جیسے Eskimos)۔ اس باب کو پڑھتے وقت آپ کسی کرسی پر بیٹھے ہوں گے جسے کچھ لوگوں نے کبھی پہلے بنایا ہوگا۔ جس طرح سے کرسی پر بیٹھنے کے لئے ایک خاص ڈھنگ ہوتا ہے اس ایجاد سے آپ کے کردار کو ایک ترتیب و شکل دی جاتی ہے۔ ایسے بھی سماج میں جہاں کرسیاں نہیں ہیں، آپ غور کریں اس سماج میں لوگ پڑھنے کے لئے کس طرح بیٹھتے ہوں گے۔

طلباء کلاس روم میں کرسیوں پر بیٹھتے ہیں ایسا ہر ایک اسکول میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ گاؤں کے اسکولوں میں طلباء کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں نہیں ہیں، وہ زمین پر بیٹھتے ہیں یا زمین پر بوریوں پر بیٹھتے ہیں۔ کسی سماج میں بچے کمرے میں استاد کے سامنے جمع ہوتے  ہیں یہ دیگر قسم کی تہذیب کا نتیجہ ہے جسے اسکولنگ کہتے ہیں۔ اس طرح اسکولوں کے مادی پہلو ہو سکتے ہیں۔ جیسے عمارتی اور خیالاتی پہلو ہوسکتے ہیں۔ جیسے یہ خیال کہ اسکولنگ ایک خاص مقام اور وقت پر ہونا چاہئے۔ یا یہ خیال کہ بچے جو اسکول آتے ہیں ان کا تجزیہ کیا جانا چاہئے اور کامیابی کے ساتھ تکمیل کرنے پرانہیں سرٹیفیکٹ دیا جانا چاہئے۔ یہ ادارہ اپنے یہاں کے لوگوں کو جو اس میں شریک ہوتے ہیں ان سے کرداری توقع کا بھی لحاظ رکھتا ہے۔ طلبا و اساتذہ دونوں ہی کو مختلف کردار کرنا ہوتا ہے اور ذمہ داریوں کو نبھانا پڑتا ہے۔ اسکولنگ کے بارے میں انفرادی، خاندانی و سماجی طور پر مخالف خیالات ہوتے ہیں، کچھ لوگ مانتے ہیں کہ اسکولی تعلیم ایک قیمتی چیز ہے۔ ان کا یہ یقین ہے کہ اسکول کی پڑھائی لوگوں کو بااثر بنا سکتی ہے اور ان کی قسمت بدل سکتی ہے۔ دوسرے لوگ اسے نہ تو قیمتی چیز سمجھتے ہیں نہ ہی اس کی طاقت کو مانتے ہیں۔ اس طرح سے کچھ سماج لڑکے و لڑکیوں کے لئے برابری کی تعلیم پر زور دیتے ہیں لیکن دوسرے نہیں، کچھ گروپ اسکول کے کاموں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے ہیں جب کہ دوسرا گروپ بہت کم یا نہیں کے برابر۔ مخصوص ضرورتوں والے کچھ لوگ کئی وجہ سے اسکول کی تعلیم سے اکثر محروم رہتے ہیں۔ فرقہ، جنس، ذات، گروپ وغیرہ کے بارے میں لوگوں کے خیالات بھی مخالف سماج میں مختلف ہوتے ہیں۔

جب آپ اپنے ارد گرد دیکھیں گے تو پائیں گے کہ ہماری زندگی مخالف تہذیبی نتائج کے ساتھ بین عمل کرتی ہے اور اس کے مطابق ہی ہم عمل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہذیب ہمارے کرداروں کو ایک خاص انداز میں شکل دیتی ہے۔ بہر حال یہاں ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ جس طرح تہذیب ہمارے کردار کو شکل دیتی ہے ہمارے کردار کو بھی تہذیب کو شکل دیتے ہیں، کئی ماہر انسانیات نے تہذیب و نفس کے درمیان اسی تعلق کو بتایا ہے جو ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان اور اس کے سماج کے بیچ کا رشتہ بین علمی ہوتا ہے جس کے دوران یہ ایک دوسرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ تناظر اس بات پر زوردیتا ہے کہ انسان صرف تہذیبی چیزوں کوحاصل ہی نہیں کرتا بلکہ خود ایک وسیع پس منظر کی تخلیق کرتا ہے جس میں اس کے کرداروں کو شکل دی جاتی ہے۔

سرگرمی 3.3

مختلف ریاستوں کے طلباء سے ان کی غذا، تیوہار، پوشاک، رواج وغیرہ کے بارے میں بات کریں۔

ان میں یکسانیت و فرق کی بنیاد پر ایک فہرست تیار کریں اور اپنے استاد سے تبادہ خیال کریں۔

تہذیب کیا ہے؟ (?What is Culture) 

اس حقیقت کے باوجود کہ تہذیب ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، تہذیب کی تعریف سے متعلق غلط فہمیاں بھی بہت ہیں۔ یہ علم طبیعیات میں ’’توانائی‘‘سماجیات میں ’’گروپ‘‘ کے تصور کی طرح ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ تہذیب واقعتاً ایک معروضی حقیقت ہے اور اسی لحاظ سے افراد کے لئے اس کی اہمیت ہے جب کہ دوسرے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ تہذیب کوئی مادی شے نہیں ہے بلکہ یہ ایک تخلیقی خیال ہے جو لوگوں کے درمیان پایاجاتا ہے۔

تہذیب کی متعدد تقریب اس کی کچھ عام خصوصیات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تہذیب میں ہم سے پہلے کے لوگوں کے کردار کے حاصل نتائج شامل ہوتے ہیں۔ یہ حقیقی و تجریدی دونوں تفصیلات کی جانب اشارہ کرتی ہے جو ہمارے اندر پہلے سے کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی ہے۔ اس طرح تہذیب کا وجود اسی وقت سے قائم ہے جب سے ہمارے زندگی کی شروعات ہوئی ہے۔ یہ اقدار پر مشتمل ہوتی ہے جس کااظہار ہونا ہے اور زبان کے ذریعہ اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرز زندگی ہے جسے ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس ماحول میں اپناتے ہیں جس میں ہم پلتے، بڑھتے ہیں۔ تہذیب کی اس طرح کی تصور گیری اسے فرد کے باہر لے جاتی دکھتی ہے لیکن تہذیب کے طریقہ عمل بھی ہیں جو انہیں انسان کے ذہن میں بٹھاتی ہے۔ اس طرح کے معاملے میں علامتوں میں پنہاں معنی کو تاریخی طور پر ترسیلی طریقوں کے ساتھ تہذیب کی شناخت کی جاتی ہے۔ تہذیب با معنی زمرات جیسے سماجی رواج (مثال کے لئے شادی) اور رولز (مثلاً دولہا) ساتھ ہی ساتھ اقدار، عقائد اور دیگر لوازمات کی تخلیق کرتے ہوئے اس کے معنی فراہم کرتی ہے۔ جیسا کہ ریچرڈ شویڈر نے بتایا کہ یہ سیکھنے کے لئے کہ ’’ماں کی بہن کا شوہر خالو (Uncle) ہوتا ہے۔‘‘ ہمیں ہر حال میں اسے دوسروں کے پس منظر میں سمجھنا ہوگا۔

تہذیب کو کیاموجود حقیقت کے طور لیا گیا ہے یاتجرید (Abstraction) کے طور پر یا دونوں ہی طرح سے یہ سوچ انسانی کرداروں پر زوردار ڈھنگ سے اثر ڈالتی ہے۔ یہ ہمیں انسانی کرداروں میں بہت سارے فرق کو، جسے ہم حیاتیاتی فرق بتاتے تھے کی تشریح و درجہ بندی کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ سماجی و تہذیبی پس منظر میں جس میں انسان کی نشو و نما ہوتی ہے جگہ و وقت کے ساتھ ساتھ وسیع تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج سے قریب20 سال قبل ہندوستان میں بچوں کو ان اشیاء کے بارے میں نہیں معلوم ہوگا جو آج کل ان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، اس طرح ایک قبائلی جو دور دراز کے جنگلوں اور پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے اسے ناشتے کے طور پر ’’پزا‘‘ یا ’’سینڈوچ‘‘ دستیاب نہیں ہوگا۔

گزشتہ پیراگرافوں میں ہم نے لفظ تہذیب اور سماج کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ اکثر انہیں ایک جیسے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اس نقطے پر غور کریں کہ وہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہے۔ سماج لولوں کا ایک گروپ ہے جس کاایک خاص علاقہ ہوتا ہے اور ایک مشترکہ زبان ہوتی ہے جسے دوسرے لوگ نہیں سمجھ پاتے۔ سماج ایک ملک ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، لیکن ہر سماج کی اپنی تہذیب ہوتی ہے اور یہ تہذیب ہی ہے جو انسانی کردار کو ایک سماج در سماج شکلیں فراہم کرتی ہے۔ تہذیب ان مختلف خصوصیات کی شناخت ہے جو ایک سماج سے دوسرے سماج میں مختلف ہوتی ہے۔ سماجی خصوصیات میں اسی اختلاف کی وجہ سے ماہر نفسیات انسانی کرداروں پر اس کے اثر کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کا وہ گروپ جو اپنے ذریعہ معاش جنگلوں میں شکار کے ذریعہ اختیار کرتے ہیں ان کی زندگی کی خصوصیات کچھ الگ طرح کی ہوں گی جب کہ دوسرے سماجی لوگ جو ملازمت یا کاشتکاری پرمنحصر کرتے ہیں ان سے بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔

ثقافتی ترسیل (Cultural Transmission)

 اس سے قبل ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ انسان ہونے کے ناطے ہم حیاتیاتی اور سماجی و تہذیبی تخلیق دونوں ہی میں۔ حیاتیاتی تخلیق کے طور پر ہماری کچھ اہم ضروریات ہوتی ہیں جس کی تکمیل ہماری زندگی کی امیدوں کو بڑھاتی ہے۔ ان ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہم اکثر حاصل مہارتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے تجربوں و دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی ہے۔دوسری کسی مخلوق نے سیکھنے کے ایک منظم ترتیب کی تخلیق نہیں کی ہے جسے ہم تعلیم کہتے ہیں اور اس کائنات میں کوئی بھی اس حد تک سیکھنا نہیں چاہتا جتنا ہم چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہم مختلف قسم کے کرداروں کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کہ منفرد طور پر انسان سے متعلق ہے اور اس کی تخلیقات ہیں جسے تہذیب کہا جاتا ہے۔ ثقافت کاری اور سماج کاری کے اعمال ہمیں ایک ایک ثقافتی جاندار ہیں۔

ثقافت کاری (Enculturation)

ثقافت کاری (Enculturation) کا مطلب سیکھنے کے ان تمام عمل سے ہے جو سیدھے طور پر دانستہ تعلیم حاصل کئے بغیر واقع ہوتے ہیں۔ ہم کچھ خیالات، تصورات و اقدار صرف اس وجہ سے سیکھتے ہیں کیونکہ یہ ہماری تہذیبی پس منظر میں موجود ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ’’سبزی‘‘ کیا ہے؟ اور گھاس پھوس کیا ہے؟ یا اناج کیا ہے؟ اور غیر اناجی شے کیا ہے؟ ان چیزو کی تعریف پہلے سے لوگوں کے ذریعہ کی گئی شناخت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایسے خیالات کی ترسیل بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے ہوتی ہے اور انہیں اچھی طرح سکھایا جاتا ہے، کیونکہ یہ ثقافتی گروپ کے وجود کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے اور اس کے بارے میں کبھی سوال نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ سیکھنے کی ایسی سبھی مثالوں کو ثقافت کاری (Enculturation) کہا جاتا ہے۔

اس طرح سے ثقافت کاری کا مطلب ان تمام چیزوں کے سیکھنے سے ہے جو ہماری زندگی کے سماجی تہذیبی پس منظر میں واقع ہوتی ہیں۔ ثقافت کاری کا اہم عنصر مشاہدہ کے ذریعہ سیکھنا ہے۔ مشاہدہ کے ذریعہ سماج میں جب بھی ہم کسی چیز کو سیکھتے ہیں تو وہ ثقافت کاری ہوتا ہے۔ ان چیزوں کوہماری پرانی نسلوں کے ذریعہ تہذیبی شکل دی جاتی ہے۔ اس طرح ثقافت کاری کا مطلب ان چیزوں کو سیکھنے سے ہے جو پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ ہمارے کردار کاایک بڑا حصہ ثقافت کاری سے حاصل نتیجہ ہے۔ ہندوستانی خاندانوں میں بہت سارے پیبیدہ کام جیسے کھانا بنا وغیرہ مشاہدہ کے ذریعہ سیکھا جاتا ہے۔ ان کاموں کو سیکھنے کے لئے نہ تو کوئی مجوزہ نصاب تعلیم ہے اور نہ کوئی درسی کتاب ہے اور نہ ہی کھانا بنانے کے لئے کوئی خاص ہدایات ہوا کرتے ہیں۔

اگرچہ ثقافت کاری کے اثرات ظاہر ہیں پھر بھی عام طور سے لوگ اس کے اثرات سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ سیکھنے کے لئے سماج میں کیا چیز موجود نہیں ہے۔ اس وجہ سے بظاہر یہ مہمل لگتا ہے کہ لوگ جو پوری طرح ثقافت کاری عمل سے گزرتے ہیں اکثر تہذیبی کردار کے اثرات سے بالکل سے واقف نہیں ہوتے۔

سماجیانا یا سماجت پذیری (Socialisation)

سماجیانا ایک عمل ہے جس کے ذریعہ انسان معلومات، ہنر و میلان طبع (disposition) حاصل کرتا ہے۔ جو اسے سماج کے گروپ کے کاموں میں ایک اثر دار رکن کی حیثیت سے حصہ لینے کے لائق بناتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو تمام زندگی جاری رہتا ہے اور جس کے ذریعہ ہم کسی بھی مرحلہ میں اثر دار ڈھنگ سے کام کرنا سیکھتے ہیں۔ سماجیانا ایک نسل سے دوسری نسل تک سماجی و تہذیبی ترسیل کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کسی سماج میں اس کی ناکامی اس سماج کے وجود کے لئے خطرہ بن جاتی ہے۔

سماجیانا کا تصور یہ بتاتا ہے کہ سبھی انسانوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے بہتر عمل کا ظاہرہ کرے، ہم اپنی زندگی ایک خاص سماجی پس منظر میں شروع کرتے ہیں اور وہاں ہم کچھ خاص جوابی عمل کرنا سیکھتے ہیں اور دوسرا اس کی واضح مثال ہمارا زبانی عمل ہے۔ اگرچہ ہم دنیا کی کوئی بھی زبان بول سکتے ہیں پھر بھی ہم اس زبان کو بولتے ہیں جسے ہمارے آس پاس کے لوگ بولتے ہیں، اس سماجی پس منظر میں ہم دوسری چیزیں بھی سیکھتے ہیں۔ (جیسے کب جذبات کا اظہار کیا جائے اور کب اسے دبا دیا جائے۔)

کسی مخصوص انداز میں ہمارے ممکنہ برتاؤ پر ہم سے متعلق لوگوں کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ کوئی بھی شخص جو ہم سے زیادہ با اثر ہے وہ ہمیں سماجی بنا سکتا ہے، ایسے لوگوں کو سماج کاری عامل (Socialisation agents) کہا جاتا ہے۔ ان عوامل میں ماں باپ، اساتذہ و دیگر بزرگ شامل ہوتے ہیں جو سماج کے معاملوں میں ہم سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ کچھ مخصوص حالات میں ہماری عمر کے لوگ بھی ہمارے سماجیانا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سماجیانا کا عمل کسی فرد یا سماجیانا کے عامل (Socialisation agents) کے بیچ ہمیشہ آسانی سے ہو جانی والی تبدیلی نہیں ہے۔ اس میں کبھی کبھی کشاکش بھی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں نہ صرف جوابی عمل لائق تعزیر ہوتا ہے بلکہ بعض میں موثر طریقوں سے دوسروں کے کردار کے ذریعہ رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ جوابی عمل میں صلہ دیئے جانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زیادہ مضبوطی حاصل کر سکیں۔ اس طرح سے صلہ (Reward) اور سزا (Punishment) سماجیانا کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک بنیادی ذریعہ کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس معانی میں ایسا لگتا ہے کہ ہر طرح کے سماجیانا  میں کردار کو کنٹرول کرنے میں دوسروں کی کوشش شامل ہوتی ہیں۔

اگرچہ سماجیانا میں بنیادی طور پر قابل قبول کردار پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی تعلیم شامل ہوتی ہے۔ پھر بھی یہ عمل یک رخی نہیں ہوتا۔ انسان نہ صرف اپنے سماجی ماحول سے متاثر ہوتا ہے بلکہ وہ انہیں متاثر بھی کرتا ہے جو سماج کئی سماجی گروپ پر مشتمل ہوتا ہے تو انسان انہیں ہی اپناتا ہے جس میں وہ خود رہنا پسند کرتا ہے۔ ہجرت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ انسان نہ صرف ایک مرتبہ سماجی بنتا ہے بلکہ اپنی پوری زندگی میں کئی طرح سے مکرر سماجی بنتا رہتا ہے۔ اس عمل کو اخذ تہذیب (acculturation) کہا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں ہم اس باب میں بعد میں بحث کریں گے۔

سماجیانہ اور ثقافت کاری کے عمل کی وجہ سے ہمیں سماج کے اندر کردار میں یکسانیت و سماج کے باہر کردار میں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ دونوں ہی عملوں میں دوسرے لوگوں سے سیکھنے کا کام ہوتا ہے۔ سماجیانا میں سیکھنے کا کام سوچی سمجھی تعلیم کے تحت ہوتا ہے۔ جب کہ ثقافت کاری میں سیکھنے کے لئے منظم تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 'enculturation' کا مطلب لوگوں کا  اپنی تہذیب میں مصروف رہنا، چونکہ زیادہ تر سیکھنے کا کام تہذیب میں ہماری مصروفیت کی بنیاد پر ہوتا ہے اس لئے سماجیانے کو آسانی سے ہم ثقافت کاری کے عمل کے تحت رکھ سکتے ہیں۔

ہمارے سیکھنے کے ایک بڑے حصے میں سماج کاری اور ثقافت کاری دونوں ہی شامل رہتے ہیں۔ زبان سیکھنے کا بہت کچھ کام خود بخود ہوتا ہے۔ پھر بھی اس میں براہ راست تعلیم کسی حد تک ہوتی ہے جسے بنیادی اسکولوں میں گرامر کی پڑھائی، دوسری طرف مادری زبان کے علاوہ کسی زبان کو سیکھنا جسے یوروپین بچوں کا ہندی سیکھنا، ہندوستانی بچوں کا فرنچ سیکھنا وغیرہ میں پوری سوچی سمجھی تعلیمی عمل شامل ہوتے ہیں۔

سماجیانا کی عامل یا وافل (Socialisation Agents)

ہمارے تعلقات میں کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں ہمیں سماجی بنانے کی قوت ہوتی ہے ایسے لوگوں کو سماجیانا کہ وافل کہا جاتا ہے۔ ماں باپ اور خاندان کے فرد سماجیانا کے لئے سب سے اثر دار عامل ہوتے ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کی قانونی ذمہ داری بھی ماں باپ کی ہوتی ہے۔ ان کا کام بچوں کی اس طرح پرورش کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کی قدرتی صلاحیت میں اضافہ ہو اور منفی کاموں کو کنٹرول یا اس میں کمی لائی جاسکے۔ چونکہ ہر ایک بچہ کسی بڑے سماج کاایک حصہ ہوتا ہے، مختلف دیگر اثر انداز عامل (مثلاً اساتذہ، ہم عمر گروپ) بھی ان کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں، ہم ان میں سے کچھ اثرات پر یہاں بحث کریں گے۔

والدین (Parents)

والدین کا بچوں کے نشو و نما پر سب سے زیادہ اور براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ وہ ماں باپ کے ساتھ مختلف حالات میں مختلف انداز سے پیش آتے ہیں۔ ماں یا باپ ان کے کچھ کرداروں کی زبانی ستائش کے ذریعہ دوسرے طریقے سے (جسے انہیں چاکلیٹ یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی  دوسری چیز دلاکر) ہمت افزائی کرتے ہیں۔ وہ کچھ کرداروں کی مذمت کرکے انہیں روکتے بھی ہیں۔ ماں باپ بچوں کو مختلف صورت حال کا سامنا کر سکنے کا انتظام بھی کرتے ہیں تاکہ انہیں مختلف تعمیری تجربات، سیکھنے و مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم ہوسکے بچوں کے ساتھ تعامل (interaction) کرنے میں مختلف حکمت عملی اپناتے ہیں۔ جسے عام طور پر والدینی اسلوب کہا جاتا ہے۔ تحکمانہ، تحکم پسندی اور جمہوری، فراخدلانہ کے بیچ و امتیاز کیا جاتا ہے۔ مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اپنے بچوں کواپنانے اور انہیں کنٹرول کرنے کے لئے ماں باپ مختلف طریقہ سے اپنے بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں، جن حالات میں ماں باپ رہتے ہیں (غریبی، بیماری، بے روزگاری، خاندان کی نوعیت وغیرہ) اس کا بھی اثر ان کے بچوں کے سماجیانے سے متعلق اپنائے جانے والے انداز پر پڑتی ہے۔ دادا دادی یا نانا نانی کی قربت اور دیگر رشتہ داروں کا کردار براہِ راست یا والدینی اثرات کے ذریعہ بچوں کو سماجیانا پر موقر طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اسکول (School)

اسکول سماجیانا کا ایک دوسرا اہم وافل ہے چونکہ بچے ایک طویل وقت اسکول میں گزارتے ہیں جو انہیں اساتذہ ہمجولیوں کے ساتھ تعامل کرنے کے لئے کافی منظم حالات فراہم کرتا ہے۔ آج کل اسکول کو ماں باپ و خاندان سے زیادہ اہم سماج کاری عامل سمجھا جاتاہے۔ یہاں بچے صرف وقوفی ہنر ہی نہیں سیکھتے (جیسے پڑھنا لکھنا، حساب وغیرہ)بلکہ وہ سماجی ہنر (جیسے بڑوں اور ہمجولیوں کے ساتھ برتاؤ کرنا، ذمہ داریوں کو پورا کرناوغیرہ) بھی سیکھتے ہیں۔ وہ سماجی معیارات اور اصولوں کو سیکھتے و اپناتے بھی ہیں۔ دیگر مختلف مثبت خصوصیات جیسے خود اختیاری، ذمہ داری، تخلیق وغیرہ سیکھنے میں بھی اسکول و ہمت افزائی کرتا ہے۔ یہ خصوصیات بچوں کے خود اعتماد بناتی ہے۔اگر معاملات میں کامیابی ملی تو بچہ اپنی اسکول میں سیکھی ہوئی معلومات خواہ درسی کتابوں سے حاصل ہوتی ہو یا اپنے ہم عمر گروپوں کے بین عمل کے ذریعہ وہ اسے زندگی کے دوسرے میدانوں میں بھی منتقل کرتے ہیں۔ بہت سے محققین یہ مانتے ہیں کہ اچھا اسکول بچوں کی شخصیت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ غریب والدین اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں بھیجنا چاہتے ہیں۔

ہم سر گروپ (Peer Group)

بچوں کے درمیان مرحلہ کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ اس دور میں بچے گھر سے باہر اپنا تعلق قائم کرتے ہیں۔ یہاں دوستی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بچوں کو نہ صرف دوسرے کے درمیان رہنے کا بلکہ مختلف قسم کے کاموں (جیسے کھیل) کو اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ مل جل کر انجام دینے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔ اپنی سمجھ داری، بھروسہ، ذمہ داری قبول کرنا جیسی خصوصیات بھی ہم عمر کے لوگوں کے ساتھ تعامل سے پیدا ہوتی ہے۔ بچے اپنے نظریہ پر قائم رہنا اور دوسروں کے نظریہ کو اپنانا بھی سیکھتے ہیں۔ اپنی پہچان کی تکمیل میں بھی بہت حد تک ہم سر گروپ مددگار ہوتے ہیں، چونکہ بچوں کی ہم سر لوگوں سے براہ راست ترسیل ہوتی ہے، اس لئے سماجیانا کا عمل یہاں آسان ہو جاتا ہے۔

میڈیا کے اثرات (Media Influences)

حال کے سالوں میں میڈیا نے بھی سماجیانا کے عامل کی خاصیت حال کرلی ہے۔ ٹیلی ویژن، کتابوں، اخبارات، سنیما وغیرہ کے ذریعہ باہری دنیا ہمارے گھر و ہماری زندگی تک پہنچ چکی ہے۔ بچے ان کے ذریعہ بہت کچھ سیکھتے ہیں، نوجوان و بالغان اکثر اپنا ماڈل انہیں بناتے ہیں۔ خاص طور سے ٹیلی ویژن و سنیما کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن پر تشدد کا دیکھنا، آج بحث کا اہم مدعا ہے۔ چونکہ مطالعہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ ٹیلیوفون پر تشدد دیکھنے سے بچوں کے اندر جارحیت بڑھتی ہے۔ سماجیانا کے اس عامل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بچوں کے غیر مطلوبہ کرداروں کو روک سکیں۔

سرگرمی 3.4

مختلف تہذیبی و سماجی اقتصادی پس منظر کے خاندان کے 4 یا 5 خاندان کو صنح و شام آدھے گھنٹے پانچ روز تک دیکھیں کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ کیا آپ نے لڑکے و کڑکیوں کے ساتھ والدین کے تعامل میں کوئی فرق پایا؟ ان کے برتاوٴ میں اس قسم کے فرق کو نوٹ کریں اور اس پر اپنے اساتذہ کے ساتھ بحث کریں۔

ثقافتی منتقلی(Acculturation)

'Acculturation' کا مطلب ویسی تہذیبی نفسیاتی تبدیلیوں سے ہے جو دوسری تہذیبوں سے رابطہ قائم رکھنے سے آتی ہے۔ رابطہ براہِ راست بھی ہو سکتا ہے (مثال کے طور پر اگر کوئی نئی تہذیب میں بس جاتا ہے) یا بلا واسطہ بھی ہو سکتا ہے (مثلاً میڈیا یا دوسرے ذرائع ( یہ اپنی مرضی سے بھی ہو ستا ہے۔ (مثلاً اگر کوئی بیرونی ملک پڑھنے، تربیت، تجارت یا نوکری کی تلاش میں جاتا ہے) یا غیر رضاکارانہ (مثال کے طور پر نو آبادیاتی تجربے، لشکر کشی، سیاسی پناہ گزیری) طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ ان دونوں حالات میں لوگوں کو اکثر کچھ نئی چیزوں کو سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے (اور وہ سیکھتے بھی ہیں) تاکہ وہ دوسرے تہذیبی گروپ کے ساتھ زندگی گزارنے سے متعلق ہنر سیکھ سکیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں برطانوی حکمرانی کے دوران کئی لوگوں و گروپوں نے برطانوی طرزِ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنا لیا تھا۔ انہوں نے انگریزی اسکولوں میں پڑھنا تنخواہ یافتہ جاب کرنے، انگریزوں جیسے کپڑے پہننے، انگریزی زبان بولنے کو ترجیح دینی شروع کی اور اپنا مذہب بدلنے لگے۔ 'Acculturation'  کسی شخص کی زندگی میں کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ جب کبھی بھی یہ ہوتا ہے اس معیارات، اقدار، میلان اور برتاؤ کے طریقوں کو دوبارہ سیکھنا پڑتا ہے۔ ان چیزوں میں تبدیلی کی وجہ سے دوبارہ سماجیانا کی ضرورت پڑتی ہے کبھی کبھی لوگوں کو ان نئی چیزوں کو سیکھنا آسان لگتا ہے اور اگر ان کی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کا کردار نئے گروپ جہاں سے ثقافتی منتقلی ہوئی ہے اس کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔ ان حالات میں نئی زندگی میں عبور آسانی سے بغیر کسی مسئلہ کے ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف کئی حالات میں لوگوں کو کافی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ایک کشمکش میں پڑ جاتے ہیں۔ حالات تکلیف دینے والے ہوتے ہیں اور انسان دباؤ محسوس کرنے لگتا ہے اور دیگر ثقافتی منتقلی سے جڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نفسیات نے اس بات کو بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے کہ ثقافتی منتقلی کے دوران کس طرح کی نفسیاتی تبدیلی آتی ہے۔ کسی بھی ثقافتی منتقلی کے لئے دوسرے تہذیبی گروپ کے ساتھ رابطہ کا ہونا ضروری ہے۔ اس وجہ سے بھی اکثر کشمکش پیدا ہوجاتی ہے۔ چونکہ لوگ لمبے وقت تک کشمکش کی حالت میں نہیں رہ سکتے، وہ اسے حل کرنے کے لئے کچھ تدبیریں بھی نکالتے ہیں۔ بہت پہلے سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ سماجی و تہذیبی تبدیلیوں کا رجحان جدیدیت (modernity) کی طرف ہوتا ہے جو کہ ایک ہی سمت میں ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سبھی لوگ جنہیں تبدیلیوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہ روایتی حالات سے جدیدیت کی طرف بڑھیں گے۔ بہر حال مغربی ممالک میں منتقل ہوئے لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے باشندوں اور قبائلی لوگوں پر کئے گئے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ثقافتی تبدیلیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے لوگوں کے پاس مختلف انتخاب ہوتے ہیں۔ اس طرح ثقافتی تبدیلی کثیر رخی ہوتی ہے۔

سرگرمی 3.5

ان لوگوں کو دریافت کرنے کی کوشش کریں جنہوں نے ایک لمبا عرصہ مختلف تہذیبوں میں رہ کر گزارا ہے، ان کا انٹرویو لیں اور مختلف تہذیبوں کے اقدار، ضابطہ، رویہ میں فرقہ اور یکسانیت کے بارے میں ان سے پوچھیں۔

Acculturation کی وجہ سے آئی تبدیلیوں کی جانچ بھی داخلی و معروضی سطحوں پر کر سکتے ہیں۔ داخلی سطح پر تبدیلیاں تبدیلی کے بارے میں اکثر لوگوں کا رویہ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ انہیں ثقافتی منتقلی رویہ کہاجاتا ہے۔ معروضی سطح پر تبدیلیاں لوگوں کے روز مرہ کے عمل و کرداروں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ انہیں ثقافتی منتقلی تدبیر کہا جاتا ہے۔ ثقافتی منتقلی کو سمجھنے کے لئے انہیں دونوں سطحوں پر جانچنا ضروری ہے۔ معروضی سطح پر ثقافتی منتقلی کے تحت لوگوں کی طرزِ زندگی میں مختلف تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ زبان، پوشاک، ذریعہ معاش، گھر و گھر کے سامان، زیورات و فرنیچر کے ذرائع، ٹکنالوجی کا استعمال، سفری تجربہ وغیرہ لوگوں کے ذریعہ اپنائے گئے تبدیلیوں کی صاف طور پر نشاندہی کرتا ہے۔ اس میں صرف یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ یہ نشاندہی ہمیشہ اس بات کو نہیں بتاتی کہ لوگوں نے یہ تبدیلیاں جان بوجھ کر اختیار کیں، لوگ اسے اخیتار کر لیتے ہیں، کیونکہ وہ آسانی سے دستیاب اور کفایتی بھی ہوتی ہیں۔ اس طرح سے کچھ معاملات میں یہ اشارات دھوکہ لگتا ہے۔

جان بوجھ کر اختیار کی گئی تبدیلیوں پر غور کرنے کے لئے ہمیں اسے داخلی سطح پر تجربہ کی ضرورت ہے۔نفسیاتی ثقافتی تبدیلی سے متعلق مطالعہ کرنے والوں میں جان بیری (John Berry) کا نام مشہور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی تہذیبی ربط کی حالت میں دو اہم امور ہیں جن کا سبھی افراد یا گروپوں کو نفسیاتی ثقافتی تبدیلی کی وجہ سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے ایک کاتعلق اپنی تہذیب کی بقا و شناخت قائم رکھنے کی خواہش سے ہے اور دوسرے کا تعلق اس درجے سے ہے جو تہذیبی گروپ یا گروپوں کے لوگوں کے ساتھ یومیہ تفاعل میں مصروف رہنے کی خواہش سے منسوب ہے۔

اس مدعے پر لوگوں کے مثبت اور منفی جوبات پر مبنی ثقافتی منتقلی سے متعلق مندرجہ ذیل چار حکمت عملی ہیں۔

انضمام (Integration): اس کا مطلب ویسے رویے سے ہے جس میں اپنی اصل تہذیبی و پہچان دونوں کو ہی دوسری تہذیب کے ساتھ روز مرہ کے تفاعل کے ساتھ برقرار رکھنے سے ہے۔ اس حالت میں کچھ حد تک تہذیبی انضمام کو بھی اس وقت برقرار رکھا جاتا ہے۔ جب تک دوسرے تہذیبی گروپ کے ساتھ بین عمل کیاجاتا ہے۔

انجذاب یا اپنانا (Assimilation): اس کا مطلب اس رویہ سے ہے جس میں لوگ اپنی تہذیبی پہچان کو براقر رکھنا نہیں چاہتے اور وہ دوسری تہذیب کے اہم حصہ بن جانا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ان کی اپنی تہذیب و پہچان ختم ہو جاتی ہے۔

علاحدگی (Separation): اس کا مطلب اس طرح کے رویہ سے ہے جس میں لوگ جواپنی تہذیب پر قائم رہتے ہیں ان کی قدر کی جاتی ہے اور دوسرے تہذیبی گروپ کے ساتھ تفاعل نہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس صورت میں لوگ اپنی تہذیبی پہچان کو روشن کرنا چاہتے ہیں۔

حاشیہ پر رکھنا (Marginalisation): اس کا مطلب ویسے رویہ سے ہے جس میں اپنی تہذیب کو قائم رکھنے میں دلچسپی اور امکانات کم رہتے ہیں اور دوسرے تہذیبی گروپ کے ساتھ تعلق بنانے میں بھی دلچسپی کم رہتی ہے۔ اس حالت میں لوگ عام طور سے یہ فیصلہ نہیں لے پاتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور لگاتار دباؤ میں رہتے ہیں۔

آپ نے اس باب میں یہ پڑھا کہ انسانی کردار پوری طرح سے صرف حیاتیاتی عوامل کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، سماجی تہذیبی عوامل حیاتیاتی میلان کے ساتھ تفاعل کرتے ہیں اور مل کر ہمارے کردار کو کسی بھی سماج میں ایک شکل دیتے ہیں۔ چونکہ دنیا کے سارے سماج و تہذیبیں یکساں نہیں ہوتیں اس لئے انسانی کردار بھی ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیاتیاتی جڑوں کے علاوہ انسانی کردارکی تقافتی جڑیں بھی ہوتی ہیں۔جین ہمارے حیاتیاتی ترسیل کو طے کرتے ہیں اور اسی طرح مہیج ہماری تہذیبی ترسیل کو طے کرتی ہیں۔ یہ دونوں مل کر ہمارے کردار کو کسی بھی سماج کے اندر یا باہر کچھ تو ایک جیسے اور کچھ مختلف طرح سے پیش کرتے ہیں۔کردار کے تہذیبی بنیاد کو سمجھنے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کسی گروپ یا فرد کے کردار میں فرق صرف ان کے حیاتیاتی نظام کی بناوٹ اور کاموں کے اوصاف کی وجہ سے نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی فرد یا گروپ یا گروپ کی تہذیبی خصوصیت بھی کرداروں میں فرق پیدا کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

کلیدی اصطلاحات

ثقافتی منتقلی، سب کچھ یا کچھ بھی نہیں کا اصول، اشتعال یا جوش، محوریہ، حرام مغر، مرکزی نظام عصبی، مغزک، مغزی قشر، لونیے، قشرہ، ثقافت، ڈیوکسریبو نیوکلک ایسڈ (ڈی۔ این۔ اے)، ثقافت کاری، در افرازی غدود، ماحول، ارتقا، جین، نصف کرہ، توارث، ہوموسیپین، بازتوازن، زیریں مبدائے اعصاب، نخاع، مہیج، عصبی تحریک، عصابیے، مرکزہ، ریٹیکلر ایکٹیو ٹیک نظام (آر۔ اے۔ ایس)، ریشوں والے عضلات،سماجت پذیری، جسد (خلیہ جسم)، جسدی نظام عصبی، انواع، اتصالیہ، کیسک۔

خلاصہ

انسانی نظام عصبی میں لاکھوں کی تعداد میں آپس میں جڑے ہوئے خصوصی خلیے ہوتے ہیں جنہیں عصابیے کہا جاتا ہے۔ عصابیے یا عصبی خلیے انسانی کردار کو مربوط (coordinate) و کنٹرول کرتے ہیں۔

مرکزی نظام عصبی میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ حاشیاتی نظام عصبی کی شاخیں مرکزی نظام عصبی سے نکل کر جسم کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہیں۔ اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ جسدی نظام عصبی (جس کا تعلق انقباضی ریشوں والے عضلات (Skeleton Muscles) کو کنٹرول کرنے سے ہے) اور خود اختیاری نظام عصبی (جس کا تعلق اندرونی اعضاء کے کنٹرول سے ہے) خود اختیاری نظام تحریک کو بھی دو حصوں میں بانٹا گیا ہے جسے احساس انگیزی اور ورائے احساس انگیزی کہا جاتا ہے۔

عصابیوں میں شجریے ہوتے ہیں جو تحریک حاصل کرتے ہیں اور محوریہ ہوتے ہیں جو تحریک کی ترسیل خلیہ جسم سے دیگر عصابیوں یا عضلاتی نسیجوں کو کرتے ہیں۔ اضطراری حصہ سب سے آسان عصبی تعلق ہے۔

ہر ایک محوریہ کے درمیان خلا کو اتصالیہ عصبی (Synapse) کہتے ہیں۔ محوریہ کے اختتامی سرے ایکسن کے جھور سے ایک کیمیکل خارج ہوتا ہے جسے neurotransmitter کہتے ہیں جو پیغام کو دوسرے نیورون تک پہنچاتے ہیں۔

انسانی دماغ کے مرکز کے پچھلا حصہ (جس میں عقبی، زیریں دماغ مجموعہ اعصاب، شبکی ساخت، مغزک شامل ہے) بیچ کا حصہ، تھیلمس (مبدائے اعصاب) اور زیریں مبدائے اعصاب (ہائپوتھیلمس) ہوتے ہیں۔ مرکزی حصہ کے اوپر اگلا حصہ اور مغزی نصف ہوتے ہیں۔

نظام اینڈوکیرین میں بغیر ہڈی والے غدود ہوتے ہیں: پٹوٹری غدود، تھائرائڈ غدود، درقی غدود لبلبہ، (pancres) تولیدی غدود۔ ان سے خارج ہوئے ہارمونس ہمارے کردار و نشو و نما میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

حیاتیاتی عوامل کے علاوہ تہذیب کو انسانی کردار کاایک اہم فیصلہ کن عامل سمجھا جاتا ہے۔ اس کاتعلق ماحول کے اس حصہ سے ہے جسے انسان تیار کرتا ہے، اس کے دو پہلو ہوتے ہیں مادی و داخلی۔ اس کا تعلق لوگوں کے گروپ کی طرزِزندگی سے ہے۔ جس کے ذریعہ وہ اپنے کردار کے معانی اخذ کرتے ہیں اور ان کے عمل انہیں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ معنی رد عمل ایک نسل سے دوسری نسلوں میں ترسیل ہوتی ہے۔

اگرچہ حیاتیاتی عوامل عام طور سے ایک بنیاد فراہم کرتی ہیں کسی ہنر کی ترقی اور اہلیت تہذیبی عوامل اور عمل کاریوں پر منحصر کرتی ہے۔

ہم کسی تہذیب کو ثقافت کاری اور سماجیانا کے عمل کے ذریعہ سیکھتے ہیں۔ ثقافت کاری کا مطلب اس طرح کے سیکھنے سے ہے جو بغیر سوچے سمجھے اور بلاواسطہ بڑھائی سے ہے۔

سماجیاناایک عمل ہے جس کے ذریعہ انسان معلومات، مہارت اور میلان وغیرہ حاصل کرتا ہے جو اسے سماج و گروپ کے ایک اثر دار رکن بنانے میں مدد کرتا ہے۔ سماجیانہ کے سب سے زیادہ اہم عامل قوتیں والدین، اسکول، ہم عمر دوست، میڈیا وغیرہ ہوتے ہیں۔

ثقافتی تبدیلی کا مطلب تہذیبی و نفسیاتی تبدیلیاں ہیں جو دوسری تہذیب سے رابطہ قائم کرنے سے آتی ہیں۔ انضمام، انجذاب علیحدگی وغیرہ کچھ ایسے ہنر ہیں جسے انسان ثقافتی تبدیلی کے لئے اپناتا ہے۔

نظرثانی کے لئے سوالات

1. ارتقائی پس منظر کس طرح سے کردار کی حیاتیاتی بنیاد کی وضاحت کرتا ہے؟

2. بیان کریں کس طرح سے عصبیے معلومات کی ترسیل کرتا ہے؟

3. مغزی قشر کے چار تختہ ہائے کے نام بتایئے اور بتائیں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں؟

4. مختلف انڈوکرینی غدود کے نام اور ان سے خارج ہارمونز کے بارے میں بتائیں۔ کس طرح سے انڈوکرینی نظام ہمارے کردار کو متاثر کرتے ہیں؟

5. خود اختیاری نظام عصبی کس طرح سے ہنگامی حالات سے نپٹنے میں ہماری مدد کرتا ہے؟

6. تہذیب کامطلب سمجھائیں اور ان کی خصوصیات بیان کریں۔

7. کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ حیاتیات کا بنیادی رول ہوتا ہے جب کہ کردار کے مخصوص پہلوؤں کا تعلق تہذیبی عامل سے ہے؟ اپنے جواب کے حق میں وجہ بتائیں۔

8. سماجیانہ کے اہم عوامل کے بارے میں بیان کریں؟

9. کس طرح سے ہم سماجیانے کو ثقافت کاری سے مختلف کر سکتے ہیں؟ وضاحت کریں؟

10. Acculration کا کیامطلب ہے؟ کیا ثقافتی منتقلی "Acculturation" ایک آسان عمل ہے؟ بحث کریں۔

11. ثقافتی منتقلی کے دوران انسانوں کے ذریعہ اس کے لئے اپنائے گئے فن کے بارے میں بحث کریں۔

پروجیکٹ تجاویز

1. دماغی طور پر مفلوج انسان کے بارے میں معلومات اکٹھا کریں۔ آپ اس کے لئے ڈاکٹر کی مدد لے سکتے ہیں، کتاب بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس کا موازنہ عام انسان کے دماغ سے کرنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کریں۔

2. آپ اپنی روز مرہ کی مصروفیت کو لکھیں۔ اس میں کئے گئے کاموں کے ساتھ اس میں لگائے گئے وقت بھی شامل ہونے چاہئیں۔ مثال کے طور پر آپ 7-8 گھنٹے روز ٹیلیویژن پر دیکھتے ہیں۔ ہفتہ کے دنوں و آخری دن کے لئے الگ الگ فہرست بنائیں۔ درجہ کی جانچ روز معمولات میں ہو سکتی ہیں اور یہ دیکھیں کہ مطالعہ میں کون سی سرگرمی سب سے زیادہ عام ہے۔ کیا تہذیبی انعقاد طلبہ میں زیادہ عام ہے؟ (مثال کے طور پر سبھی بچے روزکئی گھنٹے اسکول میں گزارتے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچے جس تہذیب سے آتے ہیں وہ اسکولی تعلیم کی قدرکرتی ہے)