Skip to content
Nafsiyat-001

Chapter 4

انسانی نشو و نما

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ

نشو و نما کے معنی اور عمل کابیان

انسان کی نشو و نما پر توارث ارت، ماحول اور سیاق کی تشریح

نشو و نما کی منزل کا تعین اور مختلف ادوار جیسے طفولیت، بچپن کا ابتدائی دور، غفوانِ شباب، جوان اور بڑھاپا وغیرہ کی خصوصیات کا بیان

خود اپنی نشو و نمااور ذاتی تجربے کا بیان

مشمولات

تعارف کلیدی اصطلاحات

نشو و نما کے معنی خلاصہ

نشو و نما حیطۂ حیات کے تناظر میں:بڑھوتری، ترقی، بتدریج تبدیلینظر ثانی کے لئے سوالات

نشو و نما کا آخری یا انتہائی دور (باکس: 4.1) پروجکٹ کا تصور

نشو و نما پر اثر انداز ہونے والے عناصر

انسانی نشو و نما کی منازل یا نشو و نما کے مراحل

نشو و نما کے مختلف ادوار پر ایک نظر

پیدائش سے پہلے یعنی دورانِ حمل

طفولیت

بچپن

(بچے کی جنس کااس کی نشو و نما میں رول) (باکس 4.2:)

غفوانِ شباب کے چیلنج

پختہ عمر اور بڑھاپا


’’میری خواہش ہے کہ میں ایسی راہ پر سفر کروں جو ایک بچے کے ذہن سے ہو کر گزرتی ہو، جس کی کوئی حد نہ ہو، جہاں پیغام بر ایسے شنہشناہوں کے لئے سفر کرتے ہوں جن کی تاریخ کوئی نہیں، جہاں منطق کے اصول پتنگ کی طرح اڑ جائیں اور سچ ہر قسم کی زنجیروں سے آزاد ہو‘‘

رابندر ناتھ ٹیگور

تعارف:

اگرآپ اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ انسان کی زندگی میں پیدائش سے ہی مختلف طرح کی تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں اور یہ عمل لگاتار جاری رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ہم بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ عمر کے مخصوص ادوار میں بچہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا ہے، بات چیت کرنا سیکھتا ہے، چلنا سیکھتا ہے، لکھنا پڑھنا اور صحیح اور غلط کی پہچان کرنے لگتا ہے اور اپنا خاندان بناتا ہے۔ پھر وہ بوڑھا ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات معلوم ہونا ضروری ہے کہ حالانکہ تمام انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے نکات ہیں جن میں تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم لوگ تقریباً سال بھر کی عمر میں چلنا سیکھتے ہیں، دو سال کی عمر میں بولنا یا بات چیت کرنا شروع کرتے ہیں، بچپن سے ہی دوست بنانا اور ان کے ساتھ کھیلنا شروع کرتے ہیں، جوانی کا دور شروع ہوتے ہی کام کی تلاش شروع ہو جاتی ہے اور مستقبل کا تانا بانا بننے لگتے ہیں اور دھیرے دھیرے عمر بڑھتی جاتی ہے اور آخر کار ختم ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ لوگ پیدائش سے لے کر موت تک ایک لگاتار تبدیلی کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ یہ سبق آپ کوانسان کی زندگی کے مختلف ادوار میں ہونے والی تمام تبدیلیوں سے متعارف کرائے گا۔ اسی وقت سے جب سے انسانی زندگی کی شروعات ہوتی ہے تب سے لے کر مختلف مراحل میں مختلف تبدیلیاں کس طرح انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ قبل از پیدائش، دور طفلی، پھر بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ آپ کا یہ سفر خود کو سمجھنے اور خود دریافت کا سفر ہوگا اور جو مستقبل کی ترقی میں آپ کے لئے مددگار ہوگا۔ انسانی نشو و نما کا مطالثہ آپ کو دوسروں کے ساتھ پیش کے آنے میں معاون ہوگا۔

نشو و نما کے معنی (Meaning of Development)

جب ہم نشو و نما کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیشہ ہمارے ذہن میں جسمانی تبدیلیوں کا خیال آتا ہے کیونکہ انسان کے جسم میں باہری طور سے ہونے والی تبدیلیاں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہیں، گھر میں اپنے سے چھوٹے بچوں میں، اسکول کے ساتھیوں میں اور خاندان میں والدین اور بزرگوں کو دیکھ کر بہ آسانی ان تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک ہم صرف جسمانی طورپر ہی نہیں بدلتے بلکہ ہمارے سوچنے سمجھنے کاانداز بھی بدلتا ہے۔ ہماری زبان میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں اور سماج میں ہم نئے نئے رشتے بھی بناتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ یہ تبدیلیاں کسی انسان کی زندگی کے صرف ایک ہی پہلو سے متعلق نہیں ہوتیں وہ انسان کی پوری ذات میں سمائی ہوئی ہوتی ہیں۔ نشو و نما ترقی و تبدیلی کاایساعمل ہے جو درجہ بدرجہ نہایت مربوط انداز میں انسان کی زندگی میں رونما ہوتا ہے اور اس کی پیدائش سے بھی پہلے یعنی جب وہ ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے، اس وقت سے لے کر اس کی پوری زندگی پرمحیط ہوتا ہے اور یہ تبدیلیاں اکثر اوقات طے شدہ ادوار میں رونما ہوتی ہیں۔ تبدیلی و ترقی کا یہ عمل فروغ اور تنزل دونوں صورتوں میں ہوتا ہے جیساکہ بڑھاپے میں دیکھا جاتا ہے۔

نشو و نما بہت سے عناصر کا ملا جلا رد عمل ہوتا ہے اس میں اس کے وقوفی حیاتیاتی (Biological) اور سماجی-جذباتی عناصر کا نمایاں رول ہوتا ہے جو تبدیلیاں ماں باپ سے، یا اپنے خاندان سے انسان حاصل کرتا ہے ان میں قد، وزن، دل و دماغ اور پھیپھڑوں کی نشو نما، وغیرہ شامل ہیں اور یہ تمام چیزیں حیاتیاتی اعمال پر منحصر ہوتی ہیں۔

ارتقائی عمل میں وقوفی اعمال کا ہاتھ بھی ہوتا ہے اور یہ انسان کے سوچنے سمجھنے کے انداز، احساس، توجہ پر منحصر ہوتا ہے اور ہمارے بات چیت، مسائل کو سلمجھانے کے انداز اور ہمارے کام کرنے کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔ سماجی و جذباتی اعمال انسان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ انسان کی جذباتی آغوش میں سمٹ جانا، ایک چھوٹی لڑکی کا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے تئیں پیار و محبت، نوجوانی میں کسی کا ساتھ چھوٹ جانے کا غم، استاد کے ذریعہ بچوں کا دکھ بانٹنا اور دو بڑی عمر کے لوگوں کاآپس میں دکھ درد بانٹنا۔ یہ سب ہی سماجی جذباتی اعمال کا اظہار ہیں اور انسان کے نشو و نما کے عمل میں بہت بڑے حصہ دار بھی ہیں۔

حالانکہ آپ اس کتاب کے مختلف ابواب میں انسانی نشو و نماکے مختلف عمل ان کے عوامل کے بارے میں پڑھیں گے لیکن یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ حیاتیاتی، وقوفی اور سماجی، جذباتی عمل انسانی نشو و نما میں مشترک رول ادا کرتے ہیں اور انسان کی ذات کو ایک مربوط اکائی کی شکل میں پروان چڑھاتے ہیں۔

حیطۂ حیات کے تناظر میں

(Life-Span Perspective on Development)

حیطۂ حیات کے تناظر (LSP) میں انسانی زندگی کامطالعہ مندرجہ ذیل مفروضوں پر مشتمل ہے:

1. نشو و نما پوری زندگی جاری رہتا ہے۔ یعنی یہ عمر کے ہر حصے میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ انسان کی پیدائش سے بھی پہلے سے لے کر اس کے بڑھاپے تک، اس عمل میں انسان حاصل بھی کرتا ہے اور کھوتا بھی ہے جس کی وجہ سے پوری زندگی متاثر ہوتی ہے (ایک پہلو سے ہونے والی تبدیلیاں دوسرے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں)

2. انسانی نشو و نما کے مختلف پہلو، جیسے حیاتیاتی، وقوفی، سماجی اور جذباتی آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور انسان کی زندگی کے ہر دور میں اثر انداز ہوتے ہیں۔

3. نشو و نما ہر سمت میں ہوتا ہے۔ مطلب یہ انسانی زندگی کے اطراف میں پھیلا ہوتا ہے۔ کسی ایک پہلو پر ہونے والی تبدیلیاں زیادہ ہو سکتی ہیں تو دوسری طرف یہ تبدیلیاں کم بھی ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پختہ عمر کا انسان اپنے تجربے کی بنیاد پردانشمندانہ فیصلے کرتا ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ کاموں میں اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ جیسے دوڑ بھاگ کا کام وہ نہیں کر پاتا۔

4. انسانی نشو و نما بالکل پلاسٹک کی طرح ہوتا ہے مطلب یہ کہ انسان کی نفسیات میں تبدیلی کا پہلو مضمر ہوتا ہے حالانکہ یہ پہلو تمام انسانوں میں یکساں نہیں ہوتا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر دور میں انسان کی صلاحیتوں کومزید اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

5. انسانی نشو و نما کے عمل میں تاریخ کا بھی اہم رول ہے۔ مثلاً 20 سال کی عمر کے وہ لوگ جو ہندوستان کی جنگ آزادی کے دور میں تھے، آج کے بیس سالہ عمر والوں سے یکسر مختلف ہوں گے، آج کے طالب علم کا اپنے کیریئر کے تئیں احساس 50 سال پہلے کے بچوں سے بالکل مختلف ہوگا۔

6. نشو و نما مختلف النوع ہے۔ مختلف موضوع جیسے سائیکلوجی سوشیالوجی اور دماغی نشو و نما سے متعلق سائنس نیورولاجی وغیرہ سب ہی موضوع انسانی نشو و نماکی کہانی اپنے انداز سے کہتے ہیں۔

7. کوئی بھی انسان کسی طرح کی بات چیت کرتا ہے یہ اس کی خاندانی عادات و اطوار پر منحصر ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سماجی، تاریخی و تہذیبی حالات میں انسان کے برتاؤ کو متاثر کرتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی زندگی میں رو نما ہونے والے تمام واقعات و حالات یکساں نہیں ہوتے۔ مثلاً والدین میں سے کسی ایک کاانتقال، کوئی حادثہ یاپھر کوئی قدرتی آفت یعنی زلزلے وغیرہ کاانسان کی زندگی پر زبردست اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ مثبت اثرات بھی ہوتے ہیں، جیسے کوئی انعام جیتنا یا پھر کوئی اچھی نوکری مل جانا۔ مقصد یہ کہ لوگ حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

نشو و نما پر اثر انداز ہونے والے عناصر

(Factors Influencing Development)

کیا آپ نے اپنی کلاس میں ملاحظہ کیا ہے کہ آپ میں سے کچھ سانولے ہیں جب کہ کچھ گورے۔ آپ کے بالوں اور آنکھوں کارنگ بھی مختلف ہے۔ آپ میں سے کچھ لمبے ہیں اور کچھ چھوٹے قد کے۔ کچھ بچے خاموش اور رنجیدہ رہتے ہیں جب کہ کچھ ہمیشہ خوش و خرم اور چہکتے رہتے ہیں۔ اسی طرح لوگ، قابلیت، صلاحیت، یادداشت اور دوسرے نفسیاتی پہلوؤںکے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں۔اس سب تفریق کے باوجود ہم سب انسان ہیں، بنی نوع ہیں یا اشرف المخلوقات ہیں۔ ایسی کیا بات ہے جو ہمیں ایک جیسا رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف کرتی ہیں؟ جواب ہمارے ماحول اور خاندانی عناصر میں پوشیدہ ہے۔


باکس4.1

نمو (Growth)، نشو و نما، پختگی؍ بلوغ اور ارتقاء

نمو(Growth) جن تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ بآسانی ناپی جاسکتی ہیں۔ مثلاً قد میں اضافہ، وزن میں تبدیلی وغیرہ۔ نشو و نماایسا عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی جاری رہتا ہے۔اس عمل کے تحت ہونے والی تبدیلیاں ایک طے شدہ سمت میں ہوتی ہیں اور اگلے و پچھلے حالات سے متعلق یا جڑی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بیماری کی وجہ سے ہونے والی کوئی عارضی تبدیلی نشو و نما کا حصہ نہیں ہوتی۔ اس عمل کے تحت ہونے والی تبدیلیاں یکساں بھی نہیں ہوتیں۔ اس طرح انسان کی جسمانی تبدیلیاں قد اور وزن میں اضافہ، بچپن سے جوانی کے دور میں داخلہ، اس کی وضع قطع میں تبدیلی (دودھ کے دانت ٹوٹنا) یا خدو خال میں تبدیلی بالکل مختلف طرح سے ہوتی ہے اور اس کی رفتار بھی مختلف ہوتی ہے۔ نشو و نما کے اضافہ میں نمو ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ پختگی یا بلوغ ان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ایک سلسلہ وار ترتیب میں رو نما ہوتی ہیں اور ان پشتینی عناصر پر منحصر ہوتی ہیں جو ہمارے نشو و نما میں یکساں طور پر مددگار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بچے عام طور سے 7ماہ کی عمر تک بنا سہارے بیٹھنا شروع کرتے ہیں۔ 8ماہ کی عمر میں سہارے سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سال بھر کی عمر تک چلنے لگ جاتے ہیں۔ ایک بار جسمانی ڈھانچہ پوری طرح نشو و نما پا لے تو ان سب عادتوں میں پختگی اور پکاپن تھوڑی سی ٹریننگ سے لایا جاسکتا ہے، لیکن اگر بچہ جسمانی طور سے پختہ نہیں ہوگا تو کسی بھی طرح کی ٹریننگ اس کے برتاؤ میں تبدیلی نہیں لا سکتی۔ یہ تبدیلیاں انسانی جسم میں اندرونی طور سے ہی شروع ہوتی ہیں جو اندرونی طور سے ان عناصر پر منحصر ہوتی ہیں جو ہم اپنے والدین سے قدرتی طور سے حاصل کرتے ہیں۔ ارتقاء (Evolution) مخصوص تبدیلیاں ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو قدرت نے نوعِ انسانی کے لئے مخصوص کردیا ہے اور جس کے ذریعہ انسان زندہ رہتا ہے نیز افزائش نسل بھی کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں نسل در نسل چلتی ہیں اور یہ بہت دھیمی رفتار سے رونما ہوتی ہیں۔ جیسے کہ انسان کی موجودہ شکل و صورت کا آغاز 14 ملین سال پہلے ہوا تھا، بندر کی شکل میں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ 'Homosapiens'بنی نوع یا اشرف المخلوقات صرف 50 ہزار سال پہلے شروع ہوا۔


آپ نے تیسرے سبق میں پڑھا ہے کہ کس طرح جانداروں میں خاندانی یا پشتینی خصوصیات، نسل بہ نسل منتقل ہوتی ہیں۔ ہم اپنے والدین سے کچھ تناسلی قوانین ورثے میں حاصل کرتے ہیں جو ہمارے جسم کے ہر خلیے میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام قوانین ایک بات میں یکساں ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ انسانی جسم سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ انسانی تناسلی قانون کا ہی حصہ ہے کہ ایک پختہ انڈا ایک انسانی بچے کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے، ہاتھی کا یا چڑیا کا یا چوہے کا بچہ نہیں بنتا۔

تناسلی قوانین یا عاصر کی ترسیل ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ بہت سی عادتیں و خصائل جو ہم انسانوں میں دیکھتے ہیں، بہت سارے قوانین عناصر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آپ اس کااندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ تقریباً 80,000 یا اس سے بھی زیادہ جینس (Genes) انسان کے برتاؤ اور عادات و خصائل کو طے کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم ان تمام خصوصیات یا عادتوں کے مالک ہوں جو ہم نے اپنے تناسلی ڈھانچے سے حاصل کی ہیں۔در حقیقت جو کچھ بھی انسان اپنے جینس (Genes) سے حاصل کرتا ہے اس کو Genotype کہتے ہیں۔ یعنی انسان کی تناسلی وراثت۔ حالانکہ یہ ساری وراثت ہمارے رویوں میں شامل نہیں ہوتی۔ Phenotype ایسا عمل ہے جس سے انسان کی تناسلی وراثت اور اس پر مشتمل اس کی عادتوں اور خصلتوں کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ Phenotype میں انسان کے جسمانی پہلو جیسے کہ قد، وزن، بالوں اور آنکھوں کارنگ اور بہت سے نفسیاتی پہلو جیسے قابلیت، تخلیقی صلاحیت اور شخصیت شامل ہوتے ہیں۔ جو عادت و اطوار انسان اپنے والدین سے ورثہ میں حاصل کرتا ہے، ان میں ایک بچے کی نشو و نما بھی ہے۔ ہمارے Genes ہمارے ارتقاء اور نشو و نما کا خاکہ تیار کرتے ہیں لیکن یہ تمام Genes حالات اور ماحول کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں نہ کہ آزادانہ طور پر اس طرح آپ میں سے ہر ایک، ایک مخصوص شخصیت کا مالک ہو جاتا ہے۔

ماحولیاتی اثرات کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح نشو و نما کو متاثر کرتے ہیں؟ ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچیے جس کے Genes اسے ایسے ماحول میں جانے سے روکتے ہیں جو آزاد اور جہاں زیادہ میل جول ہو۔ اس ماحول کے اثر سے بچہ خود بخود اپنے خول سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح ایک اور مثال ایسے شخص کی جو اپنے تناسلی ورثہ سے پستہ قد تھے۔ اس کو خواہ کتنا ہی قوت بخش ماحول ملے وہ لمبے قد کا نہیں ہو سکتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ Genes ایک حد مقرر کرتے ہیں اور انسان کا ماحول اس حد کے اندر ہی نشو و نما پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اب تک آپ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ والدین بچے کی نشو و نما کے لئےGenes مہیا کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کے لئے ماحول بنانے میں بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ سینڈرا اسکار (1992) کاماننا ہے کہ والدین اپنے بچے کو جو ماحول مہیا کرتے ہیں، وہ بنیادی طور سے خود ان کے اپنے ماحول سے مطابقت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر والدین باصلاحیت اور قابل ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لئے اچھی کتابیں مہیا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچے بھی قابل اور باصلاحیت بنتے ہیں۔ بچے کا تناسلی ورثہ جیسا کہ معاون و مددگار ہونا اور ذمہ دار ہونا اس بات پر منتج ہوتا ہے کہ والدین اور استاد بھی ان بچوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، بہ نسبت ان بچوں کے دو ذمہ دار اور لائق نہیں ہوتے۔ ساتھ ساتھ ہی یہ بچے اپنےGenotype کے حساب سے اپنے لئے موزوں ماحول چن لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے بچے جنہیں علم موسقی یا کھیل کود میں دلچسپی ورثہ میں ملی ہے، اپنے لئے ایسا ماحول منتخب کر لیتے ہیں جو ان کی ان صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے۔ ماحول کے ساتھ یہ میل جول تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں بچپن اور جوانی کے دور بھی اثر اندازہوتے ہیں۔ ماحولیاتی اثرات بھی اسی طرح پیچیدہ ہیں جیسا کہ وہ Genes جو ہم ورثہ میں حاصل کرتے ہیں۔

اگر آپ کی جماعت میں مانیٹر پڑھنے لکھنے میں اچھا ہونے کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے یا اس کا انتخاب اس کی مقبولیت پرہوتا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں یہ اس کے Genes کی وجہ سے ہے یا ماحولیاتی اثر کی وجہ سے؟ اگر کسی دیہی علاقے میں رہنے والا قابل بچہ صرف اس وجہ سے کام حاصل نہیں کر پاتا کہ وہ اپنی بات کو صحیح اور بھرپور طریقے سے نہیں کہہ پاتا یا وہ کمپیوٹر پر ٹھیک طرح کام نہیں کرپاتا تو اس سے آپ کیا سمجھیں گے کہ یہ اس کے Genes کا اثر ہے یا پھر ماحول کا؟

نشو و نما کا سیاق و سباق یا پس منظر

(Context of Development)

نشو و نماخلا میں وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ ایک مخصوص سماجی و تہذیبی سلسلے سے جڑا ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ اس سبق میں آگے پڑھیں گے کہ کس طرح انسان کی زندگی میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ مثلاً اسکول میں داخلہ، بچے سے بڑھ کر ایک بھرپور بالغ انسان بننا، کام کی تلاش کرنا، شادی بیاہ، افزائش نسل اور ریٹائرمنٹ۔ یہ سب انسان کی زندگی میں ہونے والے حیاتیاتی تبدیلیوں اور اس کے ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماحول انسان کی زندگی کے کسی بھی دور میں اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Bronfenbrenner کے نظریے کے مطابق نشو و نما کے پس منظر میں ماحولیاتی عناصر کا زبردست کردار ہوتا ہے۔ اس نظریے کو شکل (4.1) میں زیادہ بہتر طریقے سے دکھایا گیا ہے۔

بنیادی نظام (Microsystem) وہ قریب ترین ماحول ہے جس میں انسان رہتا ہے۔ اس ماحول سے بچہ بلاواسطہ رابطہ قائم کرتا ہے اور سماجی عوامل جیسے خاندان، بزرگ، استاد اور پڑوس سے تعلق بناتا ہے۔

11

اس مرحلے میں فردِ واحد صرف کچھ حاصل ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ان تمام عوامل کو ترتیب دینے میں مددگار بھی ہوتا ہے۔ درمیانی نظام (Mesosystem)  ان تمام سماجی عوامل سے مل کر بنتا ہے جس میں بچہ ملاواسطہ تعلق نہیں رکھتا لیکن یہ عناصر بچے کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً والدین میں کسی ایک کا تبادلہ ان کے بیچ پریشانی کا سبب ہو اور اس پریشانی کااثر بچوں اور والدین کے درمیان رشتوں پر پڑے یا پھر بچے کو ملنے والی سہولیات، جیسے اسکول، لائبریری، طبی سہولیات یا کھیل کود کے ذرائع وغیرہ اسے بھرپور انداز میں نہ مل پائیں۔ طویل یا بڑا نظام (Microsystem) اس تہذیب و تمدن کو بھی اپنے اندر شامل کرتا ہے جس میں فرد رہتا ہے۔ آپ نے تیسرے سبق میں کسی بھی انسان کے نشو و نمامیں اس کے تمدن کے رول کے بارے میں پڑھا ہے۔ تاریخی نظام (Chronosystem) فرد واحد کی زندگی میں ہونے والے واقعات سے جڑا ہوتا ہے اور اس کی زندگی کے سماجی و تہذیبی واقعات جیسے والدین کے بیچ کشیدگی یا طلاق یا معاشی بدحالی اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کل ملا کر Bronfenbrenner کے نظریے کے مطابق ایک بچے کی نشو و نما اس پیچیدہ دنیا سے زبردست انداز میں متاثر ہوتی ہے جو اس کے چاروں طرف پھیلی ہے چاہے وہ اس کا اپنے ساتھیوں کے تئیں رویہ ہو اور خواہ وہ حالات ہوں جن میں وہ پیدا ہوا۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو بچے محرومی کے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں۔ (کتابوں، رسائل، کھلونوں وغیرہ کے بغیر) وہ ایسے تجربات میں پیچھے ہوتے ہیں جیسے لائبری استعمال کرنا یا باہر جانا (چڑیا گھر وغیرہ) یا ان کے والدین بھی ان کے لئے ماڈل یا نمونہ نہیں بنتے یا بھیڑ بھاڑ اور شوروغل والی جگہوں پر رہتے ہیں۔ ان حالات کامنفی اثر بچوں پر پڑتا ہے اور ان کو سیکھنے اور سمجھنے میں پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔

درگا نند سنہا نے 1977ء میں ہندوستانی تناظر میں بچوں کے نشو و نما کو سمجھنے کے لئے ایک Ecological Model نمونہ پیش کیا تھا۔ اس کے مطابق بچے کی نشو و نما سمجھنے کے لئے اسے دو سطحوں میں بانٹ دینا چاہئے۔ ایک تو اوپری سطح اور دوسری ماحولیاتی سطح۔ بچے کا گھر، اسکول اور اس کے دوست اور ساتھ وغیرہ ان سطحوں پر اثر اندازہوتے ہیں۔ (i) بچے پر سب سے زیادہ اثر اس کے گھر کا پڑتا ہے۔ مثلاً گھر کے حالات جیسا کہ گھر میں کتنے افراد ہیں، ہر فرد کی کتنی جگہ ملتی ہے، گھر میں کس قسم کی جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ (ii) اسکول میں مہیا کی جانے والی سہولیات، اور (iii)دوستوں کے ساتھ اس کے تعلقات۔ یہ سب بھی بچپن سے ہی نشو و نماپر اثر اندازہوتے ہیں۔

یہ تمام عناصر آزادانہ طور پر کام نہیں کرتے بلکہ لگاتار ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں اور مشترک انداز میں اثر کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب زیادہ بڑی اور ساری Setting میں نصب ہوتے ہیں تو اس طرح ماحولیاتی سطح، ظاہری سطح کو متاثر کرتی ہے۔ حالانکہ یہ اثر ہمیشہ ہی ہمیں نظر نہیں آتا۔ ماحولیاتی سطح کے عناصر ہیں۔ (i) عام جغرافیائی ماحول اس میں بچے کو گھر سے ملنے والی جگہ، کھیلنے کودنے کی سہولیات اورقرب و جوار کاماحول شامل ہیں۔ (ii)سماجی پس منظر اس میں ذات اور کلاس وغیرہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اور (iii) بچے کو ملنے والی عام سہولیات جیسا کہ پینے کا پانی، بجلی کی فراہمی اور تفریح کے ذرائع وغیرہ۔

یہ تمام عناصر مختلف انسانوں میں مختلف طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ماحول انسان کی زندگی میں کسی بھی وقت اثر کر سکتا ہے۔ اس لئے کسی بھی فرد کے عمل کو سمجھنے کے لئے اس کی زندگی کو تجربات اور حالات کے نظریہ سے سمجھنا چاہئے۔


سرگرمی 4.1

آپ کی زندگی کیسی ہوگی اگر آپ کسی دیہی علاقے میں رہیں اور ان تمام شہری سہولیات سے محروم ہوجائیں، جن کے آپ عادی ہیں؟ (یا پھر اس کی ضد یعنی دیہات کا بچہ شہر میں رہے تو؟) چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر اس بات پر بحث کیجئے اور زندگی کو متاثر کرنے والے عناصر جیسے غریبی، جہالت بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی آلودگی کو مدنظر رکھئے۔

نشو و نما مراحل پر ایک اجمالی نظر

(Overview of Developent Stages)

عام طور سے نشو و نما کو مختلف مراحل میں تقسیم کرکے بیان کیا جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کے چھوٹے بھائی بہن، آپ کے والدین یا پھر آپ خود بھی مختلف رویوں کے حامل ہیں۔ اگر آپ اپنے پڑوسیوں کامطالعہ کریں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ بھی سب لوگ یکساں برتاؤ نہیں کرتے۔ یہ تفریق اس لئے ہے کہ ہر ایک عمر کے ایک الگ دور میں ہے۔ انسانی زندگی ہمیشہ مختلف مراحل سے گزرتی رہتی ہے۔ مثلاً آپ ابھی نوعمری اور نوجوانی کے دور میں ہیں اور کچھ سالوں میں بعد آپ سن بلوغت کو پہنچ جائیں گے۔ ارتقائق مراحل ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں اور کچھ مخصوص عادات و اطوار ہی نشو و نما کے ہر مرحلے کو اپنے آپ میں مخصوص کرتے ہیں۔ ایک مخصوص دور میں انسان کی کسی خاص مقصد کو پانے کی کوشش اتنی ہی پرزور ہوتی ہے جتنی اس سے بڑی عمر کے لوگ کر چکے ہیں اور ان کی رفتار بھی یکساں نہیں ہوتی۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انسان نشو و نماکے کچھ مراحل کو بہ آسانی طے کر لیتا ہے یا کچھ کاموں میں آسانی سے مہارت حاصل کر لیتا ہے اور کچھ جگہ اس کی صلاحیت و قابلیت دھیمی ہو جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے یہ جوہر زندگی کے اس دور کی سماجی ضرورت بن جاتے ہیں۔ اس عمل کو ارتقائی خواخذہ بھی کہا جاتا ہے۔ اب آپ نشو و نما کے مختلف مراحل اور ان کی خصوصیات کے بارے میں پڑھیں گے۔

پیدائش سے پہلے کا مرحلہ (Prenatal Stage)

حمل سے لے کر پیدائش کا زمانہ Prenatal Stage یا پیدائش سے پہلے کامرحلہ کہلاتا ہے۔ اس کی مدت عموماً 40ہفتہ ہوتی ہے۔ 

اب تک آپ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ہماری نشونما کا خاکہ ہمارے تناسلی خلیے تیار کرتے ہیں خاص طور سے پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں اور پیدائش کے بعد بھی۔ انسان کی پیدائش سے پہلے کے دور میں ہونے والی نشو و نما بھی تناسلی اور ماحولیاتی عناصر سے متاثر ہوتی ہے۔ دورانِ حمل خاص طور سے مادری خصوصیات کا رول نمایاں ہوتا ہے۔ جیسا ماں کی عمر، اس کی غذا سے ماں اور بچے کو ملنے والی قوت اور ماں کی جذباتی حالت وغیرہ۔ اگر ماں کو کوئی بیماری ہے تو وہ اس دور میں بچے کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔ مثلاً روبیلا HIV, (Rubella) اور اعضائے تناسل کی بیماریاں نومولود بچے پر سیدھے طور سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ دورانِ حمل ہونے والی نشو و نما کے لئے ایک اور بہت بڑا خطرہ ہے جنین کا غیر طبعی شکل یا جسامت میں ڈھل جانا، یہ ایسے ماحولیاتی عناصر ہیں جو رحمِ مادر میں پل رہے بچے کی اندر غیرمتوازن نشو و نما پیداکرتے ہیں اور نتیجے میں یا تو عجیب الخلقت بچے پیدا ہوتے ہیں یا ان کی موت ہو جاتی ہے۔ ان کو انگریزی میں Teratogenes کہا جاتا ہے۔ ان میں عموماً نشہ آور مادے یا دوائیں، آلودگی یا پھر چھوت کی بیماریاں شامل ہیں۔ دورانِ حمل عورتوں کا نشہ آور دواؤں (ہیروئن یا کوکین وغیرہ)، شراب یا تمباکو کااستعمال ان کے بچے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور غیر قدرتی نشو و نما کو بڑھاوا دیتا ہے۔ طبیعاتی شعائیں (Radiation) جیسے ایکس رے وغیرہ، یا پھر کارخانوں سے نکلنے والے کیمیائی مادے جو دھوئیں یا فضلہ کی شکل میں آس پاس پھیل جاتے ہیں، اس دور میں بچے کی نشو و نما کو نہ صرف متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے تناسلی خلیوں کو تبدیل بھی کر دیتے ہیں۔کاربن مونو آکسائڈ، پارہ یا پھر دوسرے ماحولیاتی آلودگی کے لئے ذمہ دار مادے رحمِ مادر میں بچے کے لئے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

دورِ شیر خوارگی یا عہد طفلی (Infancy)

انسان کادماغ پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد حیرت ناک رفتار سے نشو و نما پاتا ہے۔ آپ تیسرے سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ دماغ کے کتنے حصے ہوتے ہیں اور مغز (Cerebrum) کس طرح سے انسان کی زبان، اس کی صلاحیت اور اس کے شعور کی نشو و نما میں حصہ دار ہوتا ہے۔ پیدائش سے کچھ پہلے تک دماغ کے تمام خلیے مکمل نہیں ہوتے۔ پیدائش کے بعد ان خلیوں میں اعصابی رابطہ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔

نومولود بچہ اتنا بے یارو مددگار نہیں ہوتا جتنا آپ سوچتے ہیں۔ زندگی کے لئے ضروری اعمال اس بچے کے دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سانس لیتا ہے، چوستا ہے، نگلتا ہے اور جس سے فضلے کو باہر نکالتا ہے۔ اپنی پیدائش کے پہلے ہی ہفتے میں بچہ اندازہ کر سکتا ہے کہ کوئی آواز کس سمت سے آرہی ہے، وہ دوسری عورتوں کے درمیان اپنی ماں کی آواز کو پہچان سکتا ہے اور آپ کی کچھ حرکات کی نقل بھر کرسکتا ہے جیسے منھ کھولنا یا زبان باہر نکالنا وغیرہ۔

حرکات نشو و نما: نو مولود بچے کی حرکات اس اضطراری عمل سے متعین ہوتی ہے جو خود بخود ہی بچے کو حرکت کرنے کے لئے اکساتا ہے۔ یہ عمل بھی تناسلی خلیے ہی طے کرتے ہیں اور یہ بعد میں بچے کی متحرک نشو و نما یعنی (Motor Development) کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ نومولود بچہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرے، اضطراری عوامل ایک مربوط نظام کی شکل میں کام کرنے لگتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے میں پیدائش سے پہلے موجود ہوتے ہیں جیسے کھانسنا، پلکیں جھپکانا یا جماہی لینا وغیرہ اور یہ اعمال پوری زندگی ساتھ رہتے ہیں جب کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دماغ کی نشو و نما کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے جاتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے Table 4.1)

جیسے جیسے دماغ کی نشو و نما ہوتی ہے جسم بھی ساتھ ساتھ بڑھتا ہے۔ بچے جوں جوں بڑا ہوتا ہے اس کے رگ پٹھے اور اعصابی نظام مضبوط ہوتا ہے جو اس کی نشو و نما تو کرتا ہی ہے اس کی وجہ سے بچہ بہت سی چیزیں سیکھتا بھی ہے۔ بنیادی جسمانی حرکات (یعنی Motor Activities) میں پکڑنا،چیزوں تک پہنچنا، بیٹھنا، گھٹنوں کے بل چلنا، پیروں پر کھڑے ہو کر چلنا اور دوڑنا شامل ہیں۔ انسان کی زندگی کایہ دور تقریباً ہر فرد میں یکساں ہوتا ہے سوائے معمولی تبدیلیوں کے۔

ٹیبل 4.1 نوزائیدہ بچے میں موجود اضطراری اعمال
عکس، اضطراریہ بیان نشونما کی راہ
1. بنیادی سر کو گھمانا اور جب گال کو چھوا جائے تو منہ کھولنا
2. Moro تیز آواز کو سن کر بچہ اپنی بانہیں پھیلاتا اور بند کرتا ہے اور پھر دوبارہ بانہوں کو ایسے کھولتا ہے جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو آواز پر ہاتھ پکڑنا جاری رہتا ہے
3. پکڑنا، جھپٹنا (Grasp) اگر بچے کی ہتھیلی پر انگلی یا دوسری کوئی چیز رکھیں تو بچہ اپنی انگلیاں اس کے گرد کس لیتا ہے چار ماہ کی عمر سے غائب ہو جاتا ہے اور
4. Babiniski اگر بچے کے پیر کے تلووٴں کو چھوا جائے تو پیر کی انگلیاں پھیلاتا اور سکوڑتا ہے اس کے بدلے جان بوجھ کر پکڑنے کا عمل در آتا ہے

حسی اہلیت: آپ اب تک سمجھ چکے ہیں کہ نومولود بچے اتنے ناہل نہیں ہوتے جتنا ہم سمجھتے ہیں یا وہ ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی ماں کی آواز کو اپنی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی پہچان سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے اندر دوسری حسی صلاحیتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

چھوٹے بچے کی نظر کتنی صحیح ہوتی ہے؟ نومولود بچے ایسی چیزوں کی طرف دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں جو ان کے لئے محرک ہوتی ہیں، جیسے چہرے وغیرہ۔ حالانکہ ان کا یہ ترجیحی برتاؤ چند مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کی بصارت بالغوں کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے۔ چھ ماہ کی عمر ہوتے ہوتے اس میں بہتری آنے لگتی ہے اور پھر ایک سال کی عمر کو پہنچ کر یہ بالکل بالغ انسان کی بصارت کے مماثل ہو جاتی ہے۔ (یعنی 20/20)

کیا ایک چھوٹا بچہ رنگوں کی پہچان کر سکتا ہے؟ نئی تحقیق کے مطابق بچہ سفید اور لال رنگ میں تمیز کر سکتا ہے اور باقی رنگوں کاامتیاز اس کے لئے مشکل ہوتا ہے،لیکن 3ماہ کی عمر تک پہنچ کر وہ رنگوں کی پہچان بہ آسانی کر سکتا ہے۔ نومولود بچوں میں سماعت کی قوت کیا ہے؟ وہ پیدائش کے فوراً بعد ہی سن سکتے ہیں۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی آواز کی جگہ کو پہچاننے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ نوزائدہ بچے محسوس کرتے ہیں اور ان کو چھوا جائے تو اس کا اثر بھی قبول کرتے ہیں۔ ان کو تکلیف کا احساس بھی ہوتا ہے۔ ان میں سونگھنے اور چکھنے کی قوت بھی موجود ہوتی ہے۔

وقوفی نشو و نما: کیا ایک 3 سال بچہ کی عقل و سمجھ ایک 8 سالہ بچے کے برابر ہوتی ہے؟Jean Piaget اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچے دنیا کو سمجھنے میں اپنے آپ یعنی قدرتی طور پر مثبت رول ادا کرتے ہیں۔ ان کے دماغ کے ادراک میں صرف ماحول ہی اہم رول ادا نہیں کرتا۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ نئی نئی چیزوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور ان کے دماغ میں نئی نئی چیزوں کاادراک ہوتا ہے۔ اس سے ان کو دنیا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ Jean Piaget کے مطابق بچے کا دماغ فہم و ادراک کی مختلف منازل طے کرتا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ٹیبل 4.2)

وقوفی ادراک کا یہ سفر ہر مرحلے میں کچھ خصوصیات کا حامل ہے اور ہر مرحلہ عمر کے مخصوص دور سے متعلق ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انسان کی سوچ کے مختلف انداز ہی ایک دور کو دوسرے سے منفرد کرتے ہیں نہ کہ خود دائرۂ علم۔ یہ اس طرح بھی ظاہر ہے کہ آپ ایک 8سالہ بچے کے مقابلے دوسری طرح سوچتے ہیں۔ بچہ اپنی شیر خواری کے دور میں اور خصوصاً زندگی کے پہلے دو سالوں میں دنیا کا تجربہ اپنے محسوسات اور اپنے رابطوں سے کرتا ہے۔ دوسروں کی طرف دیکھ کر، سن کر، محسوس کرکے، منھ میں لے کر اور پکڑ کر۔ نوزائدہ بچہ صرف حال میں زندہ رہتا ہے جو اس کی بصارت سے دور ہو وہ دماغ سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ مثلاً آپ بچے سے وہ کھلونا لے لیں جس سے وہ کھیل رہا ہے اور اسے اس کے سامنے ہی چھپا دیں تو بچہ ایسا برتاؤ کرے گا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مطلب وہ اس کھلونے کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ Piaget کے مطابق عمر کے اس دور میں بچے اپنی قوتِ احساس سے آگے نہیں جانتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو نہیں معلوم ہوتا کہ جو چیز وہ محسوس نہیں کر پا رہے وہ موجود ہے۔ اس کو شے کے استقلال کا فقدان (Lack of Object Permanence) بھی کہا جاتا ہے۔ 8 ماہ کی عمر تک پہنچ کر بچہ اپنے سامنے موجود چھپی ہوئی چیزوں کو بھی محبوب کرنے لگتا ہے۔

زبانی رابطے کی بنیاد بھی کم عمر بچوں میں مووجود ہوتی ہے۔ آوازوں کا نکلنا بھی بچے کی بڑبڑاہٹ سے ہی شروع ہوتا ہے اور یہ عمل 3 سے 6 ماہ کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے۔ آپ اس کتاب کے آٹھویں سبق میں بچے کی ابتدائی زبان اور اس کی نشو و نما کے بارے میں پڑھیں گے۔

ٹیبل 4.2 وقوفی نشونما کے لیے Piaget کا نظریہ
مرحلہ عمر خصوصیات
حسیات، محرکات (Sensory Motor) 2-5 سال اس عمر میں بچے اپنی حساس قوتوں اور جسمانی حرکتوں کو یکجا کر کے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
غیر قطعی، غیر یقینی (Preoperational) 2-7 سال سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی نشونما ہوتی ہے۔ پوشیدہ چیزوں کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ بچہ کسی چیز کے مختلف پہلووٴں کو یکجا نہیں کر پاتا۔
قطعی، پر یقین (Concrete/ Operational 7-11 سال بچہ اس عمر میں واقعات کی تحقیق کرنے لگتا ہے۔ چیزوں کا درجات میں رکھ سکتا ہے اور چیزوں کو دیکھ کر مختلف طرح سے عمل کرنے لگتا ہے۔
پختہ (Formal Operational) 11-15 سال نوجوان منطق کا استعمال کرنے لگتا ہے اور مفروضے بھی قائم کرنے لگتا ہے


سماجی و جذباتی نشو و نما: بچے پیدائشی طور پر سماجی جاندار ہوتے ہیں۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی بچے کچھ چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے والدین کی توجہ کا جواب دیتے ہیں، طرح طرح کی آوازیں نکال کر 6 سے 8 ماہ کی عمر تک بچے کافی متحرک ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ نیز نئے چیزوں کو دیکھ کر ناراضگی کااظہار بھی کرتے ہیں یا تب بھی ناراض ہو جاتے ہیں جب ماں سے الگ ہونے کاخطرہ نظر آتا ہے۔ ماں باپ سے دوبارہ ملنے پر مسکراہٹ اور لپٹنے جیسے عمل سے اپنی خوشی کااظہار بھی کرتے ہیں۔ پیار و محبت کے یہ جذباتی بندھن جو بچے اور ماں باپ (یا پھر دیکھ بھال کرنے والے آدمی) کے درمیان پنپتا ہے اسے ہی لگاؤ اور انسیت کہا جاتا ہے۔ Harlowنے1944ء میں ایک انوکھی تحقیق کی۔ انہوں نے بندر کے کچھ بچوں کی پیدائش کے تقریباً 8 گھنٹے بعد ان کی ماؤں سے الگ کر لیا۔ تجرباتی طور پر ان بچوں کو عارضی طور سے ایسی ماؤں کے ساتھ رکھا گیا جو زندہ نہیں بلکہ تار اور کپڑے سے بنی تھیں۔ان میں سے آدھے بچوں کو تار سے بنی ماؤں کے ساتھ رکھا گیا اور باقی آدھے کپڑے سے بنی ماؤں کے ساتھ رہے اور ان کو ان عارضی ماؤں کے ذریعہ ہی غذا بنی فراہم کی گئی۔ حیرت کی بات ہے کہ سب ہی بچوں نے کپڑے سے بنی ماؤں کو ترجیح دی خواہ وہ کسی بھی ذریعہ سے دودھ پیتے رہے ہوں۔ یہ مطالعہ صاف طور سے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اُنسیت اور لگاؤ کے لئے ماں کے بچے کو دودھ پلانا ضروری نہیں بلکہ بچہ آرام کا طلب گار ہوتا ہے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ چھوٹے بچے اپنے کسی پسندیدہ کھلونے یا کمبل وغیرہ سے بہت اُنسیت ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ بچہ جانتا ہے کہ یہ چیزیں اس کی ماں نہیں ہیں، لیکن چونکہ یہ چیز اسے راحت اور آرام فراہم کرتی ہے اس لئے وہ اس سے پیار کرتا ہے جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اور اس میں خود اعتمادی آنے لگتی ہے وہ ان چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔

انسان کے بچے بھی اپنے والدین یا اپنی دیکھ بھال کرنے والے ان لوگوں سے انسیت رکھتے ہیں جوان کے احساسات اور پیار کامناسب جواب دیتے ہیں۔ (1962) Erik Erikson  کے مطابق زندگی کا پہلاسال اس ضمن میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ اس دور میں بچہ سمجھتا ہے کہ اسے کس پر بھروسہ کرنا چاہئے اور کس پر نہیں۔ یہ بھروسہ آرام اور راحت کے احساس پر منحصر کرتا ہے اور اس طرح بچے کو امید بندھتی ہے کہ دنیا ایک محفوظ اور اچھی جگہ ہے بچے کے اندر بھروسہ کااحساس والدین کے اس کے ساتھ اچھے اور حساس برتاؤ کی وجہ سے نمو پاتا ہے اگر والدین کا رویہ پیار بھرا اور بچے کے احساس کو سمجھنے والا ہے تو بچے کے اندر اپنے ماحول کو کھوجنے کی اور دنیا کو سر کر لینے کی ایک مضبوط بنیاد تیار ہو جاتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر والدین ہی بے حس اور بد ذوق ہیں اور بچے کے ساتھ غیر مطمئن رہتے ہیں نیز سدا اس کی غلطیاں نکالتے رہتے ہیں تو بچے کے اندر خود اعتمادی کی کمی ہو جاتی ہے۔ جو بچے اپنے والدین کے ساتھ ایک مضبوط رشتے یا تعلق سے جڑے ہوتے ہیں اور دوسروں کو مثبت انداز میں متاثر کرتے ہیں، آزادی سے ادھر ادھر گھومتے ہیں اور کھیلتے جب کہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے والے بچے ماں باپ سے الگ ہونے پر پریشان ہو جاتے ہیں اور رونے لگتے ہیں۔ اپنے بڑوں کے ساتھ ایک محفوظ اور پرجوش انسیت کا رشتہ بچے کی صحت مند نشو و نما کی سمت پہلا قدم ہے۔

بچپن (Childhood)

شیر خواری کے دور کے مقابلے میں اس دور میں بچے کی نشو و نما کی رفتار دھیمی پڑ جاتی ہے۔ بچہ جسمانی طور پر بڑھتا ہے، اس کے قد اور وزن میں اضافہ ہوتاہے، وہ چلنا، دوڑنا اور کودنا سیکھتا ہے اور گیند کھیلنے لگتا ہے۔ سماجی طور سے بچے کی دنیا والدین سے آگے بڑھ کر خاندان تک پھیل جاتی ہے اور دھیرے دھیرے اس میں گھر کے آس پاس اور اسکول کے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ بچے کے ذہن میں اچھے اور برے کی تمیز کرنے کی حس پنپنے لگتی ہے اور اس طرح اس میں اخلاق کااحساس پیدا ہوتا ہے۔ بچپن میں بچے دھیرے دھیرے جسمانی قوت کو بڑھاتے ہیں۔ کاموں کواپنے بل بوتے پر کرنا شروع کرتے ہیں، اپنے مقاصد کوطے کرنا سیکھتے ہیں اور اس طرح اپنے بڑوں کے معیار کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کردیتے ہیں۔ ذہن و دماغ کی بتدریج نشو و نما اوراس کے ساتھ دنیا کودیکھنے سمجھنے کا موقع ملنا۔ یہ دونوں باتیں مل کر بچے کی وقوفی قوتوں کی معمار بنتی ہیں۔

جسمانی نشو و نما: ابتدائی دو اصولوں پر مبنی ہوتی ہے۔(i) نشو و نما ہمیشہ سر سے جسم کے نچلے حصے کی طرف ہوتی ہے(Cephalocaudally)۔بچے اپنے جسم کے اوپری حصے پر پہلے قابو پانا سیکھتے ہیں بہ نسبت نچلے حصوں کے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ چھوٹے بچے کا سر اس کے بقیہ جسم کی مناسبت سے بڑا ہوتا ہے۔ یا جب بچہ گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اسے اپنے ہاتھ پہلے آگے کھسکاتا ہے اور اس کے بعد جسم کاباقی حصہ آگے بڑھاتا ہے۔ (ii)نشو و نما ہمیشہ جسم کے مرکزی حصوں سے شروع ہو کر باہری حصوں کی طرف بڑھتی ہے۔ اسے Proximodistalرجحان بھی کہتے ہیں۔ مثلاً بچے پہلے اپنے جسم کے دھڑ پر کنٹرول کرنا سیکھتے ہیں۔ شروعات میں بچے کسی چیز تک پہنچنے کے لئے اپنے پورے جسم کو پلٹتے ہیں، لیکن دھیرے دھیرے ہاتھ بڑھا کر اپنے مقصد تک پہنچنا سیکھ جاتے ہیں۔ تبدیلیاں اعصابی نظام کی پختگی سے آتی ہیں نہ کہ کسی کمی کی بناء پر۔ اسی لئے جو بچے بینائی سے محروم ہوتے ہیں ان میں بھی یہی حرکات و سکنات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ پتلے لگنے لگتے ہیں کیونکہ ان کے جسم میں سراور ٹانگوں کے بی کاحصہ بڑھتا ہے اور جسم کی چربی گھٹنے لگتی ہے۔ اس عمر میں جسم کے باقی حصوں کی بہ نسبت دماغ حیرت انگیز تیزی سے بڑھتا ہے۔ دماغ کی یہ تیز رفتار نشوو نما بچے کی بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں استعمال کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جیسے آنکھ اور ہاتھ کا ایک ساتھ استعمال، پنسل کو ہاتھ سے پکڑنا یا پھرلکھنے کی کوشش کرنا۔ بچپن کے درمیان اور اختتامی سالوں میں بچے، حجم اور طاقت میں بڑھتے ہیں۔ یعنی ان کا وزن بڑھتا ہے جس کی وجہ ان کے جسمانی ڈھانچے میںتبدیلی ہوتی ہے۔

حرکاتی نشو و نما: بچپن کے ابتدائی حصے میں محرکاتی صلاحیتیں بازوؤں اورٹانگوں کی حرکات پر مبنی ہوتی ہیں؟ بچہ اپنے ماحول میں کس طرح پر اعتماد انداز میں چلتا پھرتا اورکھیلتا ہے۔ یہ اسی بات پر منحصر ہوتا ہے۔ پھرتیلی صلاحیتیں، جیسے انگلیوں سے مہارت کے کام لینا یا آنکھ اور ہاتھ کاایک مقصد کے لئے پھرتی سے کام کرنا،بھی بچپن کے اس دور میں نشو نما پاتی ہیں۔ اسی دوران بچے کے ذہن میں داہنے اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے کا تصور جنم لیتا ہے۔ ٹیل4.3 کی مدد سے آپ حرکاتی نشو و نما کو زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

وقوفی نشو و نما: کسی پسندیدہ چیز کی موجودگی کاتصور بچے کے ذہن میں اس چیز کی نمائندگی کرنے کا طریقہ پیدا کرتا ہے۔ یعنی اپنی پسندیدہ چیز کو بتانے کے لئے بچہ کچھ اشارے استعمال کرنا شروع کرنے لگتا ہے باوجودیکہ اس دور میں بچے کا ذہن اور جسم یکساں طور ر متحرک نہیں ہوتا۔ Piaget کے (تقریباً 2 سے 4 سال کی عمر (دیکھئے ٹیبل 4.2) مطابق بچن کے ابتدائی دور میں بچہ ان چیزوں کی نمائندگی کرنا سیکھتا ہے جو ظاہری طور سے موجود نہیں ہوتیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے انی ڈرائننگ میں پیڑ پودے، جانور، گھر اور انسان بناتے ہیں۔ بچے کی یہ صلاحیت یا اشاراتی تخلیقی قوت اس کی ذہنی نشو و نما میں معاون ہوتی ہے۔ بچے کی یہ تخلیقی قوت اس کی ذہنی نشو و نما میں معاون ہوتی ہے۔ بچے کی یہ تخلیقی قوتیں لگاتار بڑھتی رہتی ہیں۔ عمر کے اس دور کی نشو نما یا ارتقاء کا ایک دلبسپ پہلو خودشناسی ہے۔ بچے دنیا کو صر اپنے لئے اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کو Egocenrism بھی کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہر چیز زندہ ہے، خود ان کی طرح یعنی وہ Animism میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ بے جان چیزوں کے ساتھ جاندار چیزوں کی خصوصیات جوڑنا شروع کردیتے ہیں۔ مثلاً اگر

ٹیبل 4.3 حرکاتی نشونما کی تکمیل
عمر (سالوں میں) عام حرکات و سکنات مخصوص حرکات و سکنات
3 سال کودنا، دوڑنا، اچھلنا بلاک بنانا اور چیزوں کو شہادت کی انگلی اور انگوٹھا ملا کر اٹھانا
4 سال اوپر چڑھنا اور اترنا (سیڑھیاں) خصوصاً ہر سیڑھی پر ایک قدم رکھنا jigsaw کھیلوں کو صحیح انداز میں جوڑنا
5 سال تیز دوڑنا، دوڑ کے کھیلوں کو پسند کرنا آنکھ کی حرکت کے ساتھ ہاتھ، بازو اور پورے جسم کا حرکت میں آنا

ایک بچہ سڑک پر پھسل کر گر جاتا ہے تو وہ کہتا ہے ’’سڑک نے مجھے چوٹ مار دی‘‘ یہ اس کی نسیات کا Animism کا پہلو ہے۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں اور 4 سے 7 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہی اپنے ہر سوال کا جواب چاہئے ہوتا ہے۔ جیسے آسمان نیلا کیوں ہے؟ پیڑ کیسے بڑھتے ہی؟ اور ایسے ہی دوسرے سوالات۔ اس قسم کے سوالات بچے کی سمجھ بوجھ می اضافہ کرتے ہیں اور وہ چیزوں کو جاننے اور سمجھنے لگتا ہے۔ Piaget اس مرحلے کو وجدانی ادراک یعنی Intuitive thought کا نام دیتے ہیں۔ قبل ازیں عمل مرحلہ (Preoperatiaanal Stage) کی ایک اور خاصیت بچوں کے اندر Centraion کے رجحان کا پیدا ہونا ہے۔ اس میں بچے کسیب ایک واقعے کو سمجھنے کے لئے کچھ خاص عناصر پر ہی توجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً ایک بچہ جوس کاایک بڑا گلاس پینے کے لئے ضد کرتا ہے اور وہ ایک چھوٹے اور چوڑے گلاس پر ایک پتلے لمبے گلاس کو ترجیح دیتا ہے حالانکہ دونوں گلاس میں برابر مقدار میں جوس آئے گا۔

جیسے جیسے بچہ بڑھتا ہے اور 7 سے 11 سال کی عمر کو پہنچتا ہے (یہ بچپن کاابتدائی اور درمیانی زمانہ ہے) بچوں کے ذہن کا یہ وجدانی ادارک منطقی سوچ میں بدل جاتا ہے۔ یہ ایک پتہ سوچ اور پختہ طریق عمل ہے۔ اس دور میں بچے کی ذہنی رَو اس کو ان کاموں کو کرنے کے لئے اکساتی ہے جو اس سے پہلے کے لوگ کر چکے ہیں۔ ایک مطالعہ کرنے کے لئے ایک بچے کو مٹی کی ایک جیسی نظر آنے والی دو گیندیں دی گئیں۔ تجربہ کرنے والے شخص نے ایک گیند پر لمبی پتلی پٹی چڑھا دی اور دوسری اپنی اصل حالت میں رہنے دی۔ پھر 7-8 سالہ بچے سے پوچھا گیا کہ کس گیند میں زیادہ مٹی ہے۔ بچے کا جواب تھا کہ ’’دونوں ایک جیسی گیندیں ہیں اور دونوں میں برابر مٹی ہے۔‘‘ اس کا مطلب بچے نے اپے ذہن سے منطق کااستعمال کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک گیند کو مٹی لپیٹ کر مختلف کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن در حقیقت دونوں گیندیں یکساں ہیں، لیکن اگر اس عمر کے بچے کی جگہ چھوٹی عمر کے بچے سے (جو شعوری ادارک کے ابتدائی دور میں ہو) یہ سوال کیا جاتا تو کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں اس کا جواب کیا ہوگا؟ وہ شاید گیند کی باہری جسامت پر ہی اپنا ذہن مرکوز رکھتا۔ اس کا مطلب ایک ٹھوس عمل (Concrete Operations) بچے کو مختلف مراکز پر توجہ دیا سکھاتا ہے۔ ذہ میں اس طرح کی نشو و نما ہونے سے بچے کے دماغ میں پہلے سے موجود خود پسندی و خود شناسی (Egocenrism) کا رویہ بھی دھیرے دھیرے زائل ہونے لگتا ہے۔ اس کی سوچ میں لچیلا پن آجاتا ہے اور مسائل کے حل کے لئے وہ مختلف پہلوؤں پر سوچنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ذریعہ اٹھائے گئے اقدام کا مواخذہ بھی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ Pre-operational Stage یا قبل از عمل کے مرحلے میں بھی بچہ کسی چیز کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالنے لگتا ہے، لیکن وہ موازنہ یا مواجذہ نہیں کر پاتا۔ وہ کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں اندازے قائم نہیں کر پاتا۔جیسے مثال کے طور پر الجبرا کے سوال یا جغرافیائی حالات کو جاننے کے لئے عرض البلد اور طول البلد کا مفروضہ قائم کرنا۔

بچے کی وقوفی نشو و نمااس کی زبان کو بھی طے کرتی ہے۔ آپ آٹھویں سبق میں پڑھیں گے کہ بچے کس طرح اپنی بول چال کے الفاظ کو جمع کرتے ہیں اور کس طرح گرامر یا صرف و نحو سیکھتے ہیں۔

سماجی؍ جذباتی نشو و نما: بچے کی سماجی اور جذباتی نشو و نما کے تین پہلو ہیں: خود اپنی ذات۔ اس کی جنس اور اخلاقی نشو و نما۔ بچپن کے ابتدائی دور میں بچے کی ذات میں ہی کچھ نمایاں نشو و نما ہوتی ہے۔ بچہ سماج سے متعارف ہوتا ہے اور اس کو سمجھنے لگتا ہے اس کے ساتھ ہی اس کو اپنی ذات کاعلم بھی ہونے لگتا ہے کہ وہ خود کون ہے؟ اور اس کی پہچان کیا ہے؟ آزادی کا احساس بچوں کو اپنے طور سے کام کرنے کے لئے اکساتا ہے۔ Erickson کے مطابق والدین


سرگرمی 4.2:

ایک سائز کے دو شفاف گلاس لیجئے اور ان میں پانی کی یکساں مقدار ڈالئے۔ اپنے اسکول کے کلاس دوئم اور پنجم گلاس کے بچے سے پوچھئے کہ کیا دونوں گلاسوں میں برابر مقدار میں پانی ہے؟ اب الگ سے ایک بڑا اور پتلا گلاس لیجئے اور پہلے دو گلاسوں میں سے ایک کا پانی اس پتلے لمبے گلاس میں پلٹ دیجئے۔ اب بچوں سے پوچھئے کون سے گلاس میں زیادہ پانی ہے؟ کیا ان کے جوابات میں کوئی فرق ہے؟


کا جواب رویہ بچوں کے اندر خود اعتمادی یا حساسِ جرم پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دوڑنے بھاگے، اسکیٹنگ کرنے اور سائیکل چلانے کی آزادی یا بچوں کے سوالات کے مشفقانہ جوابات دینے سے ان کے اندر فیصلہ لینے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر ان سے کہاجائے کہ ان کے سوال بیکار اور بے احمقانہ ہیں یا ان کے کھیل صحیح نہیں ہیں تو بچے میں خود اعتمادی کا فقدان ہوجاتا ہے او وہ مستقل طور پر ایک احساسِ جرم سے گھرا رہتا ہے۔ یہ احساسات اس کی پوری زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ ابتدائی عمر میں خود کو سمجھنے کی صلاحیت اکثر جسمانی بناوٹ و ساخت پر منحصر کرتی ہے، جیسے میں لمبا ہوں، اس لڑکی کے بال کالے ہیں، میں ایک لڑکی ہوں وغیرہ۔ بچپن کے درمیانی اور اختتامی دور میں بچے اپنے آپ کو اپنی خصوصیات کی بناء پر پہچاننے لگتے ہیں جیسے ’’میں اسمارٹ ہوں اور بہت مقبول ہوں‘‘ یا ’’جب اسکول میں ٹیچر مجھے کوئی ذمہ داری سونپتے ہیں تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔‘‘ خود اپنی ذات کی پہچان میں نفسیاتی پہلو بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ بچے اپنی پہچان سماج کے مختلف گروپ سے منسلک ہو کر بھی کرتے ہیں۔ جیسے اسکول میں موسیقی کلب کا ممبر ہونا، ماحولیاتی گروپ کاممبر ہونا یا پھر کسی مذہبی ادارے


باکس 4.2 

(Gender) جنس کا رول

کیا شطرنج مردوں کا کھیل ہے یا عورتوں کا یا پھر دونوں اسے کھیل سکتے ہیں؟ کیا تنور میں کھانا بنانا عورتوں کا کام ہے؟ ڈرائیونگ بحث و مباحثہ یافزکس لیباریٹری میں کام کرنے کے بارے میں کیاخیال ہے؟ یا ان اشیاء کا دھیان کیجئے جو ٹیلیویژن پر عورتوں اور مردوں کے لئے بیچی جاتی ہیں۔ یہ سب ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ لڑکیاں اور لڑکوں کو کیسا ہونا چاہئے؟

ماہری نفسیات نے بہت گہرا مطالعہ اس نہج پر کیا کہ کیا واقعی جنسی طور پر کوئی تفریق کی جا سکتی ہے۔ ان مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی کہ مرد ہمیشہ ہی جھگڑالو ہوتے ہیں۔ وہ عورتوں کے مقابلے دوڑ بھاگ اور لمبی چھلانگ والے کھیل اچھے کھیل سکتے ہیں جب کہ عورتیں مردوں کے مقابلے ایسے کام زیادہ اچھی طرح کر سکتی ہیں جن میں آنکھ اور ہاتھ کے ربط کی ضرورت ہو۔ ان کے اعضاء مردوں کی نسبت زیادہ لچیلے ہوتے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے اس تفریق کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ ضروری ہیں یا پھر دوسرے الفاظ میں عورتیں پیدائشی طور پر کچھ مخصوص زنانہ خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں؟ اور مرد کچھ الگ مردانہ خصوصیات کے مالک؟ یا پھر یہ فرق دنیا کی دین ہے جس میں ہم رہتے ہیں؟

لوگوں کے سماج میں ایک دوسرے گھلنے ملنے میں ان کی جنس بہت بڑا اور اہم رول ادا کرتی ہے۔ اسی کے ذریعے انسان کے یعنی عورت اور مرد کے ایک دوسرے کے تئیں رویوں کی ساخت ہوتی ہے۔ اکثر جنس کا مطلب انسان کی جسمانی ساخت ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جسمانی طور پر وہ عورت ہے یا مرد ہے۔ جب کہ انگریزی لفظ Gender ان کے سماجی کردار کا عکاس ہوتا ہے۔ Gender کے بہت سے پہلو ہیں۔ جس میں سب سے ضروری مذکر اور مونث کی پہچان ہے۔ اس پہچان کو عموماً بچہ تین سال کی عمر میں ہی حاصل کر لیتا ہے اور وہ بالکل ٹھیک ڈھنگ سے سماج میں اپنی پہچان کر سکتا ہے۔ پھر جوں جوں ان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ تفریق اور پہچان ان کے کھیل اور کھلونوں میں جھلکنے لگتی ہے۔

تذکیر و تانیث کا یہ فرق وہ معیار منتخب کرتے ہیں جن کے ذریعہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کو کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ انہیں کیسے سوچنا، سمجھنا اور کام کرنا چاہئے۔ عمر کے ابتدائی دور میں والدین کا رویہ بھی بچہ کا یہ برتاؤ طے کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ والدین اکثر اوقات بچوں میں یہ احساس پیدا کرنے کے لئے کہ وہ لڑکا ہیں یا لڑکی، ان کو مختلف انعامات یا سزائیں دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم عمر ساتھی بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

والدین اکثر اسکول جانے والی لڑکیوں پر اسکول جانے والے لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ سختی کرتے ہیں۔ وہ لڑکے اور لڑکیوں کو مختلف طرح کی ذمہ داریاں سونپتے ہیں۔ روز مرہ میں والدین اکثر اپنی بیٹیوں کو ایسی نصیحت دیتے ہیں کہ وہ ان کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا میں چھپنے والے اشتہارات اور کارٹون بھی اسی معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔ اشتہارات کے بغور مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواہ کوئی بھی تمدن ہو، مرد کو ہمیشہ طاقتور دکھایا جاتا ہے اور عورتوں کو اکثر و بیشتر گھریلو کام کاج کرتے اور مردوں پر انحصار کرتے دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں اکثر جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے والے سامان کے اشتہارات میں نظر آتی ہیں اور مرد کھیل کود والے اشتہارات میں۔ ایک بار بچوں کو جب مذکر اور مونث کا فرق میں سمجھ آجاتا ہے تو وہ اپنی دنیا اسی اصول پر منظم کرتے ہیں۔ بچوں کا رویہ ان کی اندرونی سوچ سے متاثر ہوتا ہے اور یہ سوچ سماج میں پنپ رہی جنسی تفریق پر منحصر معیار سے بنتی ہے۔ بچے بہت تیزی سے اس معیار کو اپناتے ہیں اور وہ دوسروں سے بھی Gender پر منحصر رویوں کی امید کرتے ہیں۔مثال کے طور پر چھوٹی عمر کے لڑکے فینسی ڈریس کے مقابلے میں لڑکیوں کالباس پہننے سے انکار کردیں، تو یہ اسی فطری فعل کا عکاس ہے۔ ’’گھر گھر‘‘ کھیلنے کے دوران لڑکیاں باپ کا رول اداکرنے سے منع کردیں، یہ بھی ان کی اس فطرت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے Gender کے ساتھ رکھنا چاہتی ہیں۔ جب بچے اپنی پہچان اس ضمن میں کر لیتے ہیں تو وہ اپنی ہی جنس کے کسی طاقتور اور مقبول شخص کو اپنا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ اس کو Gender Typing کہا جاتا ہے۔


سے منسلک ہونا۔ بچے اکثر اپنا تقابلی مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اکثر سوچتے ہیں کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’میں نے اتل سے زیادہ نمبر حاصل کئے‘‘ یا ’’میں کلاس کے باقی بچوں کے مقابلے تیز بھاگ سکتا ہوں۔‘‘ اسی طرح وہ اپنے آپ کو دوسروں سے منفرد کرکے دیکھتے ہیں۔

جب بچے اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی سماجی دنیا ان کے خاندان سے آگے پھیلتی ہے۔ وہ زیادہ وقت اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اپنے ہم عمروں کے ساتھ گزارا ہوا یہ وقت بھی ان کی نشو و نما میں اہم حصہ ادا کرتے ہیں۔

اخلاقی نشو و نما: بچے کی نشو و نما کا ایک اور اہم پہلو ہے صحیح اور غلط کی پہچان کرنا ہے۔ کسی بھی طرح بچے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا سیکھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر ندامت محسوس کرتے ہیں یا دوسروں کی پریشانی میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں اخلاقی نشو و نما کے زمرے میں آتی ہیں۔ جب بچے خاندانی اور سماجی طور پر پوری طرح پنپ جاتے ہیں تب باری آتی ہے ان کے اخلاقی نشو و نما کی۔ لارنس کول برگ نے کچھ بچوں پر ایک تجربہ کیا۔ ان بچوں کو کچھ ایسی


سرگرمی 4.3:

اگر آپ لڑکی ہیں تو لڑکے کی طرح ایکٹ کیجئے اور اگر لڑکا ہیں تو لڑکی کی اداکاری کیجئے۔ اپنے والدین اور دوسروں کے سامنے ایسا تقریباً ایک گھنٹے تک کیجئے۔ اپنے اس تجربے کے بارے میں سوچئے اور دوسروں پر اپنے رویے کے ردعمل کو نوٹ کیجئے۔ آپ ان سے اس بارے میں پوچھ بھی سکتے ہیں۔ کیا کسی دوسری جنس کی اداکاری کرنا مشکل کام ہے؟


کہانیاں پڑھنے کو دی گئیں جن کے کردار اخلاقی پس و پیش کی حالت میں مبتلا تھے۔ اس کے بعد ان بچوں کو کچھ کہانیاں پڑھنے کو دی گئیں جن کے کردار اخلاقی پس و پیش و گومگوں کی حالت میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان بچوں سے پوچھا گیا کہ ان کرداروں کو کیا کرنا چاہئے؟ اور کیوں؟ کول برگ کے مطابق بچوں نے صحیح اور غلط کے بارے میں سوچ سمجھ کر جواب دیئے، لیکن عمروں کا فرق ان کی سوچ پر حاوی رہا۔ کم عمر بچے یعنی 9 سال سے کم عمر والے بچوں کی سوچ باہری طاقت و استحکام تک محدود اجزا کے واقعات پر منحصر تھی، لیکن نوجوان لوگوں نے اس سوال کا جواب سماجی معیاروں کے مطابق دیا جیسے اخلاقیات کے اصول یا والدین اور سماج کے بنائے ہوئے قوانین کی روشنی میں۔ یہ تمام قوانین بچوں نے اپنے اصولوں کے طور پر مان کر فیصلہ کیا نہ کہ اس لئے ان قوانین کو نہ ماننے سے کوئی سزا ملے گی۔ بچے ان تمام قوانین کو سختی سے مان کر اس کو اپنا نا چاہتے ہیں۔ عمر کے اس دور میں اخلاقی سوچ میں کوئی لچک نہیں رہتی اور جیسے جیسے عمر اور بڑھتی ہے، ہر انسان اپنا ذاتی اخلاق مرتب کر لیتا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ بچپن کے اختتامی دور تک پہنچتے پہنچتے کس طرح بچہ رابطہ اور توازن برقرار رکھتا ہے اور بچے کے ذہن میں ہر بات کی منطق پیدا ہونے لگتی ہے۔ سماجی نظام جیسے خاندان اور ہم عمر ساتھیوں سے بچہ زیادہ ملنے جلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے اگلے حصے میں سن بلوغت کے قوانین پر بحث ہوگی۔

سرگرمی4.4:

 اگرکوئی مریض بہت زیادہ بیمار ہے اور برسوں سے ہسپتال میں پڑا ہے اور اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں ہورہی ہے تو کیا زندگی کا بچاؤ کرنے والے آلات کو ہٹالینا چاہئے۔ رحمی قتل (Mercy Killing) پر مباحثہ کیجئے کیونکہ بسا اوقات مریض یا اس کے رشتہ داروں کی طرف سے یہ خواہش کی جاتی ہے۔

عنفوانِ شباب میں درپیش چیلنج

(Challenges of Adolescence)

عنفوانِ شباب یعنی Adolescence لاطینی لفط "Adolescers" سے بنا ہے جس کے معنی ہیں پختگی کی طرف نشو و نما۔ یہ انسان کی زندگی میں بچپن اور بلوغ کے درمیان کا عبوری دور ہے۔ یہ عام طور سے انسان کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو میانے پن سے شروع ہوتا ہے اور اس عمر یمں انسان بلوغت کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے اندر تولیدی اعضاء کی نشو و نماہونے لگتی ہے۔ اس عمر میں انسان میں جسمانی اور نسیاتی دونوں پہلوؤں سے زبردست تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں۔ جسمانی تبدیلیاں تو سب ہی میں یکساں ہوتی ہیں، لیکن سماجی اور نفسیاتی تبدیلیاں انسان کے تمدنی پس منظر سے وابستہ ہوتی ہیں۔ مثلاً جن جگہوں پر سن بلوغت کو پہنچناہ پریشانیوں اور الجھنوں کی نظر سے دیکھاجاتا ہے وہاں نو بالغ کے تجربات مختلف ہوں گے بمقابلہ ان بچوں کے جو ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں بچوں کو اس عمر میں پہنچنے پر ان کے ساتھ ایک سلجھا ہوا اور سمجھ دار رویہ روا رکھا جاتا ہے اور بچوں کو اب بچہ نہیں بلکہ برابر کافرد سمجھا جانے لگتا ہے اور انہیں ذمہ داریاں بھی سونپی جاتی ہیں۔حالانکہ تقریباً سب ہی طرح کے تمدن اور سماج میں سیانے پن کا یہ دور کچھ زیادہ لمبا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی یکساں نہیں ہوتا۔

جسمانی نشو و نما: جب بچہ بالغ ہو جاتا ہے یا اپنی عمر کے سیانے دور میں داخل ہو تا ہے تو اس کے بچپن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت بچے کے جسم میں حیرت ناک تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ اس کے جسم میں بڑنوتری ہوتی ہے اور اندرونی طور پر جنسی خصوصیات میں پیدا ہو جاتی ہیں، لیکن یہ دور انسان کی جسم میں اچانک نہیں آتا بلکہ یہ ایک بہت دھیمی رفتار سے چلنے والا عمل ہے۔ اس عمل میں جسم سے جو ہارمون خارج ہوتے ہیں وہی انسان کی جنسیاتی نشو و نما کرتے ہیں۔ یہ نشو و نمادو پہلوؤں سے ہوتی ہے، ایک بنیادی اور دوسرا ثانوی۔ بنیادی تبدیلیاں بلا واسطہ طور پر تولیدی عمل سے متعلق ہوتی ہیں۔ ثانوی نشو و نما کی وجہ سے جسم میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو انس کے بالغ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لڑکوں میں یہ تبدیلیاں قد میں اضافہ، چہرے پر داڑھی مونچھوں کے بارے آنا، آواز میں بھاری پن پیدا ہونا وغیرہ کی شکل میں سامنے آتی ہیں جب کہ لڑکیوں میں عام طور سے 12سے سال اور لڑکیوں میں 10 سے 11  سال کی عمر سے شروع ہوتی ہیں، لیکن یہ کوئی حتمی عمر نہیں ہے۔ اس میں ہر دو افراد میںجلد یا بدیر یہ عمل شروع ہو سکتا ہے اور اس بات کے لئے تناسلی اور ماحولیاتی دونوں عناصر ذمہ دار ہوتے ہیں۔مثلاً دو جڑواں بہن بھائیوں میں یہ عمل دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت ایک ہی ساتھ شروع ہو سکتا ہے۔ ایسی لڑکیاں جو کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ جلدی سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں بہ نسبت ان بچیوں کے جو غریب یا معاشی طور پرپسماندہ گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاریخ اس بات کی عکاسی ہے کہ ترقی یافتہ اور خوشحال قوموں میں بلوغت کی عمر گھٹ رہی ہے۔ یعنی بچے جلدی ہی زندگی کے اس دور تک پہنچ رہے ہیں۔ اس کا واضح سبب بہتر غذا اور بہتر طبی سہولیات ہیں۔

اس عمر میں جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بہت سی نفسیاتی تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ اس عمر کے افراد مخالف صنف میں دلچسپی لینا شروع کردیتے ہیں اور جنسیاتی حس بھی ان کے اندر انگڑائی لینے لگتی ہے۔ یہ تبدیلی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ جسم میں ہونے والی حیاتیاتی یا شکلی تبدیلیوں کی طرف افراد کا دھیان مرکوز ہونے لگتا ہے اور والدین اورہم عمر ساتھی بھی اس طرف دھیان دینے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے نو عمر بچوں میں یا تو اس سلسلے میں علم کا فقدان ہوتا ہے یا پھر جنسیات کے بارے میں ان کے دماغ میں بے تکے بھرم جمع ہو جاتے ہیں۔ جنسیات ایساموضوع ہے جس پر والدین بچوں سے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں اسی رویہ کی وجہ سے بچے بھی اپنے محسوسات کو راز میں رکھنا چاہتے ہیں اور نتیجتاً واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دماغ میں بھرم اپنی جگہ بنالیتا ہے۔ آج کے دور میں AIDS کے خطرے کی جہ سے یہ موضوع زیادہ نازک ہوگیا ہے۔ بچوں میں جنسیات کے تئیں احساس اور پہچان ان کے جنسی رویے طے کرتی ہیں اور اس طرح نو عمر بچوں میں یہ ایک اہم ارتقائی مرحلہ ہے۔ آپ نے خود اپنے بارے میں کیسامحسوس کیا جب جب آپ عمر کے اس دور میں پہنچے تھے؟ ہو سکتا ہے کہ آپ پریشان ہوگئے ہوں یا پھر جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر آپ نے فخر محسوس کیا ہو؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے اس مسئلے پر دوسری طرح سوچا ہو اور آپ آپ کے ہم عمر ساتھیوں اور والدین کا رویہ بالکل مختلف رہا ہو۔ نو عمر بچے اپنے دماغ میں پہلے سے ہی یہ بٹھالیتے ہیں کہ وہ کیسے لگتے ہیں یا انہیں کیسا دکھنا چاہئے۔ اس عمر کا ایک اور پہلو ہے کہ بچہ اپنی عمر کی پختگی کوخود سمجھے اور مانے۔ ان کے ذہن میں جسم میں ہونے والی ظاہری تبدیلیوں کا صحیح خاکہ ہونا چاہئے جو ان کے نظریے کے بھی مطابق ہو۔ یاد رکھیئے کہ سن بلوغت میں سماجی اور شعوری تبدیلیاں بھی انسان میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔

ادراک و فہم یا شعور میں ہونے والی تبدیلیاں: نو بالغو کی سوچ زیادہ صحیح، منطقی اور معیاری ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے خیالات نیز دوسرو کے خیالات کو پرکھنے کے لائق ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ انہیں اس بات میں بھی دلچسپی ہو جاتی ہے کہ دوسرے لوگ ان کے بارے میں کیاسوچتے ہیں۔ زندگی کا یہ دوران کی فہم و راست کو ایک نیا موڑ دیتا ہے اور وہ سماج کو ایک نئے انداز سے سمجھنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ Piage کے مطابق 11 سے 15سال کی عمر میں انسان کا ذہن قطعی اور حتمی طور سے کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ ظاہری تجربات سے الگ ہٹ کر سوچنے لگتے ہیں اور اس عمر میں وہ منطقی دلائل کااستعمال بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں معیاری خصوصیات ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ تقابلی مطالعہ و موازنہ بھی کرنے لگتے ہیں۔مثلاً وہ اپنے ذہن میں بہترین والدین کی شبیہ تیار کر لیتے ہیں اور پھر اپنے والدین کو اس معیار سے پرکھنے لگتے ہیں۔ اس عمل میں وہ کبھی کبھی حیران و پریشان بھی ہو جاتے ہیں کہ انہیں کون سامعیار اپنا ناچاہئے۔ یعنی وہ جو در حقیقت ان کے سامنے ہے یا جو ان کے دماغ میں ہے، بچپن میں بچہ ہر چیز کو بار بار کوشش کرکے پرکھتا ہے۔ اس کے برخلاف نو بالغ لوگ زیادہ منظم طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔ وہ کسی بھی کام کے لئے دماغ میں اس کا خاکہ سلسلہ وار مرتب کرتے ہیں۔ Piaget کے مطابق بالغ لوگوں کو یہ رویہ مفروضات سے نکلی ہوئی دلیلیں پیش کرنا (Hypothetical Deductive Reasoning) کہلاتا ہے۔ دماغ میں منطق اور فہم کی نشو و نما اخلاقی قدروں کو بھی اجاگر کرتی ہے لوگ سماجی قوانین کو حتمی معیار ماننا بند کردیتے ہیں اور ان کے دماغ میں موجود اخلاقی قدروں کی وجہ سے سوچ میں لچیلا پن آجاتا ہے۔ نو بالغ لوگ مختلف اخلاقی معیار کو پرکھتے ہیں اور اس کے بعد ان کااپنا ایک منفرد اخلاقی معیار منتخب کرتے ہیں۔ مثلاً کیا مجھے سب کی طرح سگریٹ پینی چاہئے؟ کیا امتحان میں نقل کرنا مناسب فعل ہے؟ اس طرح کی سوچ افراد میں ایسا نقطۂ نظر پیداکردیتی ہے کہ اگر وہ ان کے ذاتی معیار سے ٹکراتے ہیں تو وہ اکثر سماجی قوانین کی نفی کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس عمر کے لوگ کسی خاص مقصد کے لئے مظاہرہ کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ کالج کے قوانین کے مطابق چلیں۔ نو بالغ لوگ اپنے ارد گرد ایک خاص قسم کا خود پرستی و خود شناسی کاخول چڑھالیتے ہیں۔ ڈیوڈ الکائنڈ کے مطابق دو عناصر اس رویے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ایک تو یہ سوچ لینا چاہئے کہ دوسرے لوگ بھی ان کے بارے میں اتنا ہی متوجہ اور پرخیال ہیں جتنا وہ خود اپنے لئے سوچتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگ ہر وقت ان کو نوٹس کرتے ہیں اور ان کا ہر رویہ دوسروں کی نظر میں ہے۔ ایسے ایک لڑکے کا تصور کیجئے جس کو لگتا ہے کہ اس کی قمیص پر لگا ہوا سیاہی کا دھبہ سب کی نظروں میں ہے یا کوئی لڑکی اپنے مہاسے کو لے کر اس لئے پریشان ہو کر کہ لوگ سوچیں گے اس کی جلد کتنی خراب ہے۔ ان کا یہ رویہ ہی انہیں تئیں بہت حساس بنا دیتا ہے۔ اس ضمن میں دوسرا عنصر ہے ان کی منفرد سوچ۔ اس عمر میں اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ان کے دوستوں کے نامناسب رویے سے اس کو کتنی تکلیف پہنچی۔ اس کا کسی کو کوئی احساس نہیں ہے۔ اس سے بچنے کے لئے وہ اپنے اردگرد خیالات کا تانابان بن لیتے ہیں جو حقیقت کی دنیا سے بہت دور ہوتا ہے۔ یہ ذاتی خیالی پلاؤ اکثر نو بالغ بچوں کی ڈائری کی زینت بنتے ہیں۔

شخصیت کی تشکیل: آپ نے اکثر اس قسم کے سوالات کے جواب ڈھونڈے ہوں گے کہ میں کون ہوں؟ مجھے کون سا موضوع پڑھنا چاہئے؟ کیا میں خدا کی ذات میں یقین رکھتا ہوں؟ اس قسم کے سوالوں کے جواب انسان کی اپنی ذات کے بارے میں کھول کو ظاہر کرتے ہیں۔ انسان خود اپنی ذات کو پہنچاننا چاہتا ہے۔ اس بات کی پہچان چاہتا ہے کہ خود خورد در اصل کون ہے اور اس کے عقائد و خیالات کیا ہے۔ نو بالغ عمر میں فرد کی سب سے بنیادی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو اپنے والدین سے الگ کرکے اپنی شخصیت بنانا چاہتا ہے۔ یہ خواہش انسان کے دماغ میں کچھ ذاتی اصولوں اور عقائد کو جنم دیتی ہے۔ اس عمل میں اس کے ذہن میں والدین کے اصولوں سے ٹکراؤ بھی پیدا ہو سکتا ہے اور کبھی کبھی انسان خود اپنی سوچ اور ذہنی رجحان سے بھی ٹکراؤ محسوس کرتا ہے۔ جو افراد اس الجھن اور ٹکراؤ سے بخوبی نمٹ لیتے ہیں وہ اپنی ذات کی ایک نئی تشکیل کر پاتے ہیں اور جو اس دور سے بخیر نہیں گزرتے وہ الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو والدین، خاندان اور ہم عمر ساتھیوں سے الگ کر لیتے ہیں یا پھر وہ بھیڑ میں اپنی پہچان بھول جاتے ہیں۔ نوبالغ لوگ ایک طرف آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف اس سے گھبراتے بھی ہیں اور اپنی والدین پر منحصر رہتے ہیں۔ اس عمر میں خود اعتمادی اور عدم اعتمادی کا یہ کھیل بہت زیادہ چلتا ہے۔ ایک طرف ان بچوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ’’أنہیں ایک خورد سال بچے کی طرح سمجھا جارہا ہے‘‘ اور وہ ذمہ داری کاثبوت دینا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وہ والدین پر انحصار کرکے پرسکون ہو جاتے ہیں۔ا پنی شخصیت کی کھوج میں انسان اپنے اندر یکسانیت کی تلاش کرتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور حتمی اور قطعی طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے؟ اور اس سوال کا جواب ہی اس کی اپنی پہچان ہے۔

مختلف عناصر انسان کی شخصیت کی تشکیل میں مددگار ہوتے ہیں۔ خاندان، والدین، سماجی اقدار، نسلی تناظر، معاشی حالات اور اس کا تہذیبی ورثہ! یہ سب عناصر کسی انسان کاسماج میں مقام طے کرتے ہیں۔ نوبالغ عمر میں خاندانی رشتے ماند پڑ جاتے ہیں کیونکہ انسان زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتا ہے اور وہ باہر اپنے ہم عمر ساتھیوں کا تعاون حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھیوں کے ساتھ زیادہ وقت اور تعاون اس کو ایسے مواقع فراہم کرتا ہے کہ وہ سماج میں مختل اقدار کی جانب پائے جانے والے رویوں کو سمجھ سکے۔ دوست اور والدین دونوں ہی نو بالغ لوگوں کی زندگی پر زبردست طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی والدین اور بچوں کے مابین کوئی الجھن ان کو ساتھیوں اور دوستوں کی طرف راغب کر دیتی ہے، لیکن اکثر و بیشتر والدین اور دوست مل کر انسان کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور ان میں معاون ہوتے ہیں۔ انسان کی کسی بھی پیشے کو اپنا نے کی تمنا اور طلب بھی اس کی شخصیت کو تشکیل کرتی ہے۔ یہ سوال کہ ’’بڑے ہو کر آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟‘‘ انسان کو مستقبل کی پلاننگ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں ان مقصائد کی تشکیل کرتا ہے جن کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سماج کے کچھ طبقوں میں بچوں کو اپنا پیشہ یا کام چننے کی آزادی دی جاتی ہے جب کہ کچھ طبقوں میں بچوں کو مجبوراً والدین کا فیصلہ ماننا پڑتا ہے۔ آپ نے جب اپنے موضوعات کا انتخاب کیا تو آپ کا ذاتی تجربہ کیا رہا؟ اسکولوں میں Career Counselling کا چلن اسی لئے ہوگیا ہے کہ طالب علموں کو مختلف مضامین اور تعلیمی مواقع (Courses) کی معلومات دی جا سکے اور ان کی راہنمائی کی جائے کہ وہ اپنی پڑھائی اور پیشے سے متعلق فیصلہ کرسکیں۔

سن بلوغت کے کچھ چیلنج: جب ہم اپنی پتہ عمر میں پہنچ کر بلوغت کے ابتدائی دور کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس دور میں درپیش مسائل جیسے الجھنیں، اکیلاپن، دباؤ وغیرہ کو یاد کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ ایک غیر محفوظ دور تھا۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں کو اس دور میں دوستوں کے دباؤ، نئی نئی آزادی کا احساس اور بہت سے غیر حل شدہ مسائل کا سامناکرنا پڑا ہوگا۔ دوستوں کااثر مثبت اور منفی دونوں ہی طرح کا ہو سکتا ہے۔ نوبالغ اکثر ایسے قوانین کی زد میں آجاتے ہیں۔ جیسے سگریٹ پینا، نشہ آور دوائیں استعمال کرنا اور شراب پینا وغیرہ اور اکثر بیشتر وہ ان معاملات میں والدین کے ذریعہ بنائے گئے قوانین کو توڑتے ہیں اور ان قوانین کو توڑتے وقت وہ ان اعمال کی سنگینی یا اثر سے واقف نہیں ہوتے۔ نوبالغ افراد اکثر بے یقینی، اکیلاپن، غیر یقینی اور اپنے مستقبل کے لئے پریشانی کا شکار کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی وہ خوشی، جوش اور مقابلہ کرنے کی خواہش جیسے احساسات سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ اب آپ ایسے ہی کچھ چیلنج کے بارے میں پڑھیں گے جو نو بالغ اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔

غفلت؍ فروگذاشت: غفلت یا تقصیر ایسے رویوں کی عکاسی کرتی ہے جو سماجی طور سے ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ یہ قانونی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں اور سنگین جرائم بھی۔ مثال کے طور پر گھر سے بھاگ جانا،چوری چکاری کرنا، غنڈہ گردی کرنا یا پھر کاہلی اور سستی میں کام چھوڑ دینا وغیرہ۔ غفلت اور تقصیر کے اس رویے کی وجہ سے نوبالغ افراد میں منی اثرات پنپنے لگتے ہیں اور وہ عدم اعتماد کاشکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا خود پر سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ اکثر غفلت کا یہ رویہ والدین کی نگہداشت میں کمی کانتیجہ ہوتا ہے۔ نامناسب تربیت اور خاندانی جھگڑے بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہیں۔ اکثر معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کے افراد اپنے آپ کو مڈل کلاس میں الگ تصور کرتے ہیں اور توجہ حاصل  کرنے کے لئے اس قسم کی غیر سماجی حرکتیں کرتے ہیں تاکہ اپنے ساتھیوں میں مقبول ہو سکیں، لیکن یہ ہمیشہ ایسے ہی نہیں رہتے۔ ان کی صحبت میں تبدیلی، ان میں ذمہ داری کااحساس کرانا، ان کا خود پربھروسہ اور اعتماد قائم کرنا، منی رویوں کو ختم کرنا اور ان کے اپنے تئیں ذمہ داری کا احساس کرانے سے ان کے ذہن میں تبدیلی ہو سکتی ہے اور وہ اپنی اس غفلت یا غلطیاں کرنے کی روش کو چھوڑ سکتے ہیں۔

ناجائز یا بے جا حرکات: سن بلوغ کاابتدائی دور بہت نازک ہوتا ہے اور اکثر افراد سگریٹ اور شراب نوشی یا نشہ آور دواؤں کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ کچھ افراد اپنا تناؤ اور الجھن کم کرنے کے لئے یہ راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کہ یہ رجحان ان کی قوتِ فیصلہ اور خود اعتمادی کومجروح کرتا ہے۔ سگریٹ نوشی اکثر دوستوں کے دباؤ کانتیجہ ہوتی ہے اور فرد اپنے گروپ میں ملے رہنے کے لئے اس عادت کو اپنا لیتا ہے یا پھر کبھی نوبالغ اپنے بڑوں کی نقل کرنے کے لئے یا اسکول کے کام کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے بھی سگریٹ نوشی شروع کردیتا ہے اور جب انسان نکوٹین کا عادی ہو جاتا ہے تون یہ عادت چھوڑنی مشکل ہو جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اس قسم کی عادتوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ زیادہ جھگڑالو فطرت کے ہو جاتے ہیں۔ ان کا اپنے اوپر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور وہ پریشان رہتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ رہنے کی خواہش ان کو شراب اور نشیلی دواؤں کاتجربہ کرنے پر بھی اکساتی ہے۔ نشیلی دواؤں کا لگاتار استعمال انسان کی زندگی پر نہایت منفی اثر ڈالتا ہے۔ والدین کے ساتھ ایک مضبوط اور مستحکم رشتہ اور دوستوں و بہن بھائیوں کاتعاون دواؤں اور شراب کے غلط استعمال کو روک سکتا ہے۔ہندوستان میں نئی دہلی میں ایک ادارہ Society for Theatre in Education Programme  اسی سمت میں کام کر رہا ہے۔ یہ 13-25 سال کے لوگوں کو نکڑ ناٹکوں کے ذریعہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نشیلی دواؤں کو کس طرح ’’نہ‘‘ کہیں۔ اقوام محدہ کے بین الاقوامی ڈرگ کنٹرول پروگرام نے اس کو غیر سرکاری تنظیموں کے لئے ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

کھانے یا خوردونوش کی بے قاعدگی: نوبالغ لوگوں میں خود پسندی، تصوراتی دنیامیں رہنے کی عادت اور اپنے دوست احباب سے مقابلہ ان کو اکثر ایسے رجحانات کی طرف موڑ دیتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے تئیں بہت زیادہ حساس ہو جاتے ہیں اور بلا وجہ شکوک و شبہات میں گھر جاتے ہیں۔ بھوکے رہ کر پتلا دبلا ہونے کا رجحان اسی عمل کا عکاس ہے۔ انگریزی میں اس کو Anorexia Nervosa کہا جاتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ اس عمر کے لوگ اپنی غذا سے چند چیزیں بالکل ہٹا دیتے ہیں یا پھر صرف دبلا رہنے والی غذائیں کھاتے ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا کا بھی اہم رول ہے۔ اشتہارات اور پروگراموں میں دبلاپن ایک بہتر معیار کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے اور اس فیشن کو اپنانے کے لئے نو عمر لوگ فاقہ کشی کرتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک بے قاعدہ عادت Bulimic ہے۔ یہ تزکیۂ نفس بھی کہلاتا ہے۔ اس طریقے میں لوگ یا تو قے کے ذریعے یا پھر جلاب کے ذریعہ اپنا پیٹ خالی کر لیتے ہیں یا پھر لگاتار بھوکے رہتے ہیں اور اس کو مذہبی رنگ دے دیتے ہیں۔ بہر حال یہ دونوں ہی بے قاعدگیاں خاص طور سے لڑکیوں میں پائی جاتی ہیں اور وہ بھی شہری علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں میں۔

پختہ عمر اور بڑھاپا (Adulthoodand Old Age)

پختہ عمر

 ایک پختہ عمر کا جوان شخص وہ ہوتا ہے جو ذمہ دار ہو، پختہ ہو، خود اعتماد ہو اور سماج میں اچھے طریقے سے گھل مل گیا ہو۔ ہر فرد میں ان عناصر کی نشو و نمایکساں نہیں ہوتی، اس کا مطلب یہ کہ ہر انسان کو پختگی کی عمر تک پہنچنے میں الگ الگ وقت درکار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کالج میں اپنی پڑھائی کے دوران ہی کوئی کام بطور پیشہ اپنالیتے ہیں یا پھر شادی کر لیتے ہیں اور اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ کچھ لوگ شادی کے بعد بھی اور معاشی طور پر خود مختار ہونے پر بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ انسان کا سماجی ذمہ داریاں قبول کرنے کا رجحان سماجی پس منظر پر منحصر کرتا ہے۔ کسی بھی سماج میں زندگی کے مختلف ادوار کے لئے (مثلاً شادی بیاہ، افزائش نسل یا نوکری وغیرہ) مختلف وقت طے ہو جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر قوم میں یہ یکساں ہوں لیکن سیانی اور پختہ عمر کاعمل سب جگہ یکساں ہی ہوتا ہے۔

اس عمر کے ابتدائی عرصے میں دو اہم کام ہوتے ہیں۔ ایک تو مکمل اور مستحکم زندگی جیسے کے لئے ممکنات کی تلاش اور دوسرا ایک مضبوط ڈھانچے کا قیام۔ ابتدائی عرصہ عمر کی دوسری دہائی ہوتی ہے۔ لڑکپن کے دور کا خاتمہ انحصار سے خود مختاری کی طرف تبدیلی ہے۔ دھیرے دھیرے اس دور میں انسان آئندہ زندگی کے خواب دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ خاص طور سے اپنی شادی اور ذریعۂ معاش کے بارے میں۔

ذریعۂ معاش اور کام: زندگی گزارنے کے لئے تلاش معاش اور پیشہ کا انتخاب زندگی کی دوسری اور تیسری دہائی میں انسان کے لئے سب سے اہم کام ہوتے ہیں۔ ملازمت یانوکری کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔ مختلف کاموں میں تناسب رکھنے، سمجھ داری اور ایمانداری سے کام کرنے، ساتھیوں کے ساتھ ہونیوالے مقابلے کو جھیلنے اور اپنی اور آجر یا مالک (Employee) کی امیدوں پر کھرا اترنے کے لئے انسان کے ذہن میں لگاتار جدو جہد اور تشویش رہتی ہے۔ یہ زمانہ نئی ذمہ داریوں کو نبھانے کا آغاز ہوتا ہے۔ بہر حال معاشی و روزگر کی تلاش اور اس سمت میں مثبت اقدام اس عمر کے اہم کام ہیں۔

شادی بیاہ، سلسلۂ نسب اور خاندان: شادی کے بعد دونوں افراد کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول بنتا ہے۔ یہ باہمی میل جول اور ذہنی ربط اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ کیا دونوں افراد شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے اور سمجھتے تھے یانہیں۔ اس کے علاوہ اگر دونوں ہی لوگ ملازمت پیشہ ہیں تو گھریلو کاموں کے لئے بھی ایک دوسرے کی ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں۔

شادی کے ساتھ ساتھ ہی اگر والدین بننے کی ذمہ داری بھی جلدی ہی سر آپڑے تو ان دونوں افراد کے لئے خاصا مشکل ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ ذمہ داری ایسی ہے کہ اس میں بچے کے لئے پیار اور لگاؤ بھی شامل ہوتا ہے۔ ماں اور باپ کا رول نبھانے کے لئے یا بچوں کے تئیں والدین کا رویہ طے کرنے کے پس پشت بہت سے دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں۔مثلاً خاندان میں پہلے سے موجود بچوں کی تعداد، سماجی تعاون اور سب سے اہم بات کہ ان دونوں کی شادی شدہ زندگی کیسی ہے؟ کیا وہ خوش حال اور پرمسرت ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں؟

شریک حیات کی موت، طلاق یا پھر بن بیاہی ماں بن جانے کا عمل ایک ایسے خاندانی ڈھانچے کی بنیاد ڈالتا ہے جس میں صرف ایک ہی شخص (خواہ مرد یا عورت) ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ موجودہ دور میں عورتیں باہر نکل کر ملازمت کر رہی ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ایک بالکل مختلف طرح کا نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے جس میں دونوں والدین گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اس طرح کے خاندانی نظام میں دونوں لوگ اتنے ہی تناؤ کا شکار رہتے ہیں جیسا کہ ایک ہی فرد کی دونوں ذمہ داریاں نبھانے میں ہوتا ہے۔ بچوں کی دیکھ ریکھ، ان کا اسکول کا کامو بیماری وغیرہ اور گھر اور دفتر پر کام کابوجھ وغیرہ۔ یہ سب عوامل اس تناؤ کاسبب ہوتے ہیں، لیکن بہر حال عمر کے اس دور میں تمام تر ذمہ داریوں اور پریشانیوں سے گھرا ہونے کے باوجود بھی انسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کے سامنے اور اپنی نگرانی میں آنے والی نسل کو پروان چڑھا رہا ہے۔

ادھیڑ عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان کے جس میں بھی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور یہ تبدیلیاں عمر کی پختگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں بھی ہر ایک میں یکساں یا آفاقی نہیں ہوتیں، نیز ان کی رفتار بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ عموماً ادھیر عمر کے لوگ جسمانی اعضاء کے کام کرنے کی قوت میں کمی محسوس کرنا شروع کرتے ہیں۔ جیسے بینائی کا کمزور ہو جانا، سماعت کا کمزر ہو جانا، دھوپ کی چمک یا چکاچوند سے الرجی ہو جانایا بال جھڑنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ جس میں ظاہری طور پر بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ جیسے جھریاں پڑنا، بال سفید ہو جانا، موٹا ہو جانا وغیرہ۔ کیا اس عمر میں انسان کی شعوری صلاحیتیں بھی تبدیل ہوتی ہیں؟ ایسا یقین کیا جاتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ کچھ قوتوں میں کمی آجاتی ہے اور کچھ میں نہیں۔ جیسے لمبے عرصے تک یاد داشت برقرار نہیں رہتی لیکن کوئی بھی واقعہ کم مدت میں ذہن سے محو نہیں ہوتا۔ مثلاً کوئی شخص اگر کوئی ٹیلی فون نمبر سنے تو کچھ دیر تک تو اسے یاد رہتا ہے لیکن کچھ دن کے بعد وہ بھول جاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یاد داشت کی قوت گھٹتی ہے لیکن فہم و فراست میں اضافہ ہو تا ہے، لیکن یہ یاد رکھئے کہ عمر کے ہر دور میں انسان کی قابلیت اور صلاحیت یکساں نہیں ہوتی۔ جس طرح دو بچے ایک جیسی عقل و دانش نہیں رکھتے اسی طرح دو بڑے لوگ بھی یکساں عقل و سمجھ کے مالک نہیں ہوتے۔

بڑھاپایا ضعیفی: بڑھاپا زندگی میں کب شروع ہوتا ہے اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ پہلے زمانے میں ریٹائرمنٹ کو بڑھاپے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اب جب کہ اوسط عمر بڑھ گئی ہے اور ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو زندگی میں بڑھاپے کی آمد بھی ریٹائرمنٹ کی عمر کی طرح بڑھ رہی ہے۔ ملازمت سے فراغت کے علاوہ بڑھاپے میں انسان کو کچھ اور مشکلوں کابھی سامناکرنا پڑتا ہے، جیسے بیوگی، بیماری یاخاندان میں کسی فرد کی موت۔ آج کل بڑھاپے کاتصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ آج کل ایسے لوگ جو زندگی کے ستر سال پورے کر چکے ہیں وہ بھی پوری طرح چاق و چوبند اور چست دکھائی دیتے ہیں۔ وہ عمر کے اس دور میں بھی اپنا تمام صلاحیتیں برقرار رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے سماج میں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک اہم مقام حاصل کرتے ہیں۔ خصوصاً سیاسیات، ادب، تجارت اور سائنس جیسے شعبہ جات میں ہمیں اس عمر کے لوگ زیادہ نظر آتے ہیں۔ ’’بڑھاپے میں انسان کی تمام قوت جواب دے جاتی ہے اور یہ زندگی کا ایک خوفناک تجربہ ہے۔‘‘ یہ مقولہ اب قابل قبول نہیں رہا۔

انسان کی زندگی میں بڑھاپے کاتجربہ بھی سماجی و معاشی حالات، صحت عامہ سے متعلق سہولیات، دوسرے انسانوں کا اپنے تئیں رویہ، سماج کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریاں اور تعاون سے ہی منسلک ہوتا ہے۔ جوانی کے دور میں خصوصاً ابتدائی دور میں کام بہت اہم ہوتا ہے۔ اس کے بعد خاندان کی اہمیت ہوتی ہے اور تیسرا نمبر انسان اپنی صحت کو دیتا ہے۔ ہمارا بڑھاپا بھی اسی بات پر منحصر کرتا ہے کہ ہم اپنے کام میں کتنے موثر تھے اور ہمارے رشتے ہمارے خاندان کے ساتھ کیسے رہے ہیں؟ جوانی کے دور میں ہم دوست احباب میں کتنا مقبول تھے اور ہماری صحت کیسی تھی نیز یہ کہ ہم شعوری طور پر کتنے چاق و چوبند تھے۔

ریٹائرمنٹ: پیشہ راوانہ زندگی سے رخصت یعنی ریٹائرمنٹ انسانی زندگی کا خاص اور اہم پہلو ہے۔ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ کو بالکل منفی انداز میں قبول کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ مطمئن اور پراعتماد زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جب کہ کچھ لوگ اس دور کو بالکل مثبت انداز سے قبول کرلیتے ہیں۔ وہ اسے اپنے ذوق کی تسکین کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یعنی جن کاموں کو کرنے کاشوق تھا اور جوانی میں نہیں کر سکے اب وہ شوق پورے کرنے کا وقت مل رہا ہے۔ اس دور میں انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کر سکتا ہے۔ عموماً جو لوگ ذہن کے دریچے کھلے رکھتے ہیں اور نئے مشاہدات و تجربات میں دلچسپی لیتے ہیں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ بہتر طریقے سے خود کو سماج کے مطابق ڈھال لیتے۔

اس عمر میں خاندانی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور خاندان میں فرد کا رول بدل جاتا ہے۔ اب اسے والدین کے بجائے دادا-دادی کا رول نبھانا پڑتا ہے۔ بچے اکثر اپنی دلچسپیوں اور کاموں میں الجھے ہوتے ہیں، اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور کبھی کبھی الگ گھر بھی بسا لیتے ہیں۔ ایسے میں اکثر بوڑھے لوگ معاشی طور سے اپنے ببوں پر ہی منحصر ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے ادھر ادھر الگ گھر بسا لینے سے بزرگوں میں اکیلے پن اور الجھن کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک ساتھی کاانتقال ہو جانا یا جسمانی بیماری یا اکیلاپن وغیرہ سے رنج و ملال کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اولاد، ان کے بچے اور اپنے دوست احباب کاتعاون ان کو زندگی کی طرف راغب کرتے ہیں۔

موت: بزرگی کے ایام میں قوت کی کمی، صحت میں گراوٹ اور مالی حالات میں کمی افراد میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیتی ہیں اور وہ مزید اپنے بچوں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کی طرف توجہ دیں اور ان کی دیکھ ریکھ کریں۔ ہندوستانی تہذیب میں بزرگوں کا اپنے بچوں پر انحصار ایک قدرتی عمل مانا جاتا ہے۔ در حقیقت ایشیائی ممالک میں لوگ اپنی اولاد کی تربیت اس امید سے کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گی۔ بزرگوں کو تحفظ کااحساس دلانا اور ان کو یہ محسوس کرانا کہ آپ ان سے وابستہ ہیں اور ان کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، انتہائی ضروری امر ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو بوڑھا ہونا ہے۔

سرگرمی 4.5:

لوگوں کو تین زمروں میں بانٹ کر ان سے بات چیت کیجئے۔ 20 سے 35 سال عمر والے۔ 35 سے 60 سال سے زیادہ عمر والے۔ ان سے ان کی زندگی کے بارے میں سوالات کیجئے۔ مثلاً

a ان کی زندگی میں اہم عبوری دوراور تبدیلیاں کب کب واقع ہوئیں؟

b ان تبدیلیوں نے ان کی زندگی کو کیسے متاثر کیا؟

ہر زمرے سے ملنے والے جوابات کاتقابلی مطالعہ کیجئے۔


یہ ٹھیک ہے کہ اکثر اوقات بزرگی کیآخری ایام میں موت واقع ہوتی ہے، لیکن یہ ہماری زندگی کی ایسی حقیقت ہے کہ یہ عمر کے کسی بھی دور میں واقع ہو سکتی ہے۔ بچوں اور جوان لوگوں کی موت کو زیادہ اندوہناک مانا جاتا ہے بہ نسبت بہت ضعیف لوگوں کے۔ بچوں اور جوان لوگوں میں موت اکثر حادثاتی ہوتی ہے لیکن بزرگوں میں یہ لگاتار لمبی بیماری کانتیجہ ہوتی ہے۔

زوجین میں سے کسی ایک کی موت بہت بڑا نقصان ہوتا ہے جو انسان زندہ رہ جاتا ہے وہ بری طرح غم وپریشانی اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اکثر مالی پریشانیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور صحت و تندرستی سے متعلق مسائل بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تحقیقات و تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے زیادہ دن زندہ رہتی ہیں اور اسی لئے وہ چاہتی ہیں کہ اپنی عمر سے بڑے مردوں سے شادی کریں۔ ایسے موقعوں پر بچوں اور دوستوں کاتعاون انسان کو اپنے ساتھی کی موت سے پہنچنے والے نقصان کی تلافی کر سکتا ہے۔

مختلف اقوام میں موت کاتصور مختلف شکل میں ہے جیسے ہمارے ملک میں گونڈ قبیلے کے لوگ مانتے ہیں کہ موت جادو ٹونے اور شیطانی طاقتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے وہ رد عمل کے طور پر غصہ دکھاتے ہیں کہ جب مدغاسکر کے تانالا قبیلے کے لوگ موت کی قدرتی عمل مانتے ہیں اور بہت پرسکون انداز سیہ اس پر رد عمل کرتے ہیں۔

اس طرح آپ نے اس باب میں پڑھا کہ کس طرح انسانی ارتقاء مختلف عناصر سے اثر انداز ہوتا ہے اور انسان کی زندگی میں رو نما ہونے والے واقعات کس طرح اس کو متاثر کرتے ہیں۔

کلیدی اصلاحات

غفوانِ شباب، مظاہر پرستی، انسیت، مرکزیت، قطعیت، استخراجی یا قیاسی سوچ، نشو و نما، ارتقاء، خود پرستی، تکمیل یا پختگی کا فرضی احساس، بلوغت، محرکاتی نشو و نما، اشیاء کی موجودگی، طریق عمل، دورانِ حمل، غیر قطعی عمل، بنیادی جنسی خصوصیات، ثانوی جنسی خصوصیات اور حسی حرکاتی۔

خلاصہ

دوانِ حمل نشو و نما کے کئی دور ہوتے ہیں، ایک جرثومہ، دوسریہ کچا حمل اور تیسرے پختہ بچہ۔ اس دوران یہ نشو و نماماں کی غذائی عادتوں سے متاثر ہوتی ہے۔ ماں کے ذریعہ لی گئی دوائیں اور ماں کی بیماری کا بھی بچہ پر اثر ہوتا ہے۔

بچے کی محرکاتی نشو و نما سیکھنے کی عادت اور پختگی پر منحصر کرتی ہے۔ یہ عمل بچے میں Cephalocaudal Trend یا تصوراتی رجحان کے بعد شروع ہوتا ہے۔

سماج میں بچے کی تربیت سے متعلق رائج رسوم و طریقے اس کے والدین سے انسیت اور لگاؤ کو متاثر کرتے ہیں۔

Piaget کی تھیوری کے مطابق بچے میں دماغی یا شعوری نشو و نما تب سے شروع ہوتی ہے جب وہ چیزوں کو پہچاننے اورانہیں سمجھنے لگتا ہے۔ نشو و نما کے دوران ایک غیر قطعی رویہ بہت سے عناصر کے مل کر کام کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

عمر کے ایک دور میں بچہ کے اندر قطعیت کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ زیادہ فیصلہ کن اور منطقی سوچ کا ہے۔

کول برگ کے مطابق اخلاقی اقدار کی تین سطحیں ہیں جو عمر کے ادوار سے متعلق ہیں اور بچے کی شعوری نشو و نما سے متاثر ہوتی ہیں۔

سن بلوغت کے آغاز پر تیز جسمانی نشو و نما جسم میں ثانوی جنسی عوامی کو کار فرما کرتی ہے اور افزائش نسل یا تولیدی عمل کو بھی فعال بناتی ہے۔Erikson کے مطابق اس دور میں سب سے بڑا چیلنج اپنی شخصیت کی پہچان کرنا ہوتا ہے۔

بالغ عمر میں انسان کی شخصیت میں استحکام آتا ہے۔ اس دور کی اہم تبدیلیوں میں خاندانی رشتوں میں بدلاؤ، ازدواجی زندگی کاتوازن، بچوں کی پیدائش کاسلسلہ وغیرہ شامل ہیں۔

پختہ یا پکی عمر میں جسم میں ظاہری تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ ہی یاد داشت اور کام کرنے کی قوت میں کمی آ جاتی ہے لیکن کچھ لوگ عمر کے اس دور میں بھی چاق وچوبند اور چست رہتے ہیں۔

نظر ثانی کے لئے سوالات

1. نشو و نما کیاہے؟ یہ کس طرح ظاہری جسمانی فروغ اور بلوغت سے مختلف ہے؟

2. حیطۂ حیات کے تناظر میں نشو و نما کا کیا رول ہے؟ بیان کیجئے۔

3. نشو و نما یا ارتقاء کے کیا کام ہیں؟ اپنے جواب کو دلائل سے واضح کیجئے۔

4. ’’بچے کا ماحول اس کی نشو و نما میں اہم رول ادا کرتا ہے۔‘‘ اپنے جواب کو دلائل سے واضح کیجئے۔

5. سماجی اور تہذیبی عناصر کس طرح نشو و نما پر اثر ڈالتے ہیں؟

6. بچے کی نشو و نما کے دوران ہونے والی وقوفی تبدیلیوں کو بیان کیجئے۔

7. بچپن میں بننے والے پیار محبت کے رشتے زندگی میں دیرپا اثر رکھتے ہیں۔ یہ بات اپنی روز مرہ زندگی کی مثال سے سمجھایئے۔

8. سن بلوغت کیا ہے؟ خودی یا خود پرستی کا تصور بیان کیجئے؟

9. غفوانِ شباب میں دوستوں کا ساتھ کس طرح انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے؟ اپنے جوناب میں دلیل کے طور پر کوئی مثال دیجئے۔

10. پختہ عمر میں داخل ہونے پر نوبالغ لوگوں کو کس قسم کے چیلنج کا سامنا کرنا ہوتا ہے؟

پروجیکٹ کی تجاویز

1. اپنے دو تین سال کے تجربات کی بنیاد پر جواب دیں؟ کیاکبھی آپ کے والدین سے آپ کی جھڑپ ہوئی ہے؟ کون سی اہم مشکلیں آپ کو درپیش تھیں؟ آپ نے کیسے ان مسائل کو حل کیا؟ اور کس کا تعاون آپ کو حاصل تھا؟ اپنی فہرست کو اپنے ساتھ کی فہرست میں ملا کر موازنہ کیجئے کہ کیاان میں مماثلث ہے؟ کیا اب آپ سوچتے ہیں کہ آپ اپنے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر سکتے تھے۔

2. غیر قطعی رجحان والے چھوٹے بچے کے نقطۂ نظر سے دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لئے ایک تحریر بنایئے اور اسی طرح کی تحریر ایک بالغ عمر کے فرد کے لئے بنائے۔ اب دیکھئے کس طرح دو الگ الگ مناظر آپ کے سامنے آتے ہیں۔ یہ بھی بتایئے کہ آپ کے دوست کا رول کس طرح مختلف تھا۔